موسیٰ کا دوسرا نشان : شریعت

حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی “شریعت”

ہم نے حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی ” فسح ” میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ مصر کے تمام پہلوٹھے مارجائیں گے۔ لیکن جن گھروں میں مینڈھوں کو ذبح کیا جائے گا وہ پہلوٹھے بچ جائیں گے۔ اور اُن گھروں کے دروازے کی چوکھٹوں پر خون لگایا جائے گا۔ فرعون نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی کی۔  اور اس طرح اُس کا پہلوٹھا بیٹا مارا گیا۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرئیل کی مصر سے خروج میں راہنمائی کی اور جب فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کررہا تھا۔ وہ بحیرہ احمر (قلزم) میں غرق ہوگیا تھا۔

لیکن حضرت موسیٰ کا بنی اسرئلیوں کو مصر کی غلامی سے نکلانے کا ہی کردار نہیں تھا۔ بلکہ زندگی کے ایک نئے راستے پر انکی قیادت کرنا تھی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے ایک نئی شریعت قائم کی ۔ چنانچہ مصر سے نکلنے کے تھوڑے عرصے بعد اسرئیلی کوہ سینا کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں سے حضرت موسیٰ 40 دن کے لیے کوہ سینا پر شریعت لینے کے لیے چلا گیا۔ قرآن شریف میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح آیا ہے۔

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر طور کو اونچا کیا لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔             سورۃ البقرہ 2: 63

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے بائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا۔    سورۃ اعراف 7: 142

چنانچہ حضرت موسیٰ نے کون سی شریعت کو حاصل کیا؟ اگرچہ پوری شریعت کافی لمبی تھی (جن میں 613 ایسے قانون تھے۔ جن میں کچھ چیزوں کی اجازت ملی اور کئی کی نہیں۔ اور بتایا گیا کہ کون سی چیز حلال ہے اور کون سی چیز حرام ہے) یہ تمام احکامات مل کر تورات شریف بناتے ہیں۔ سب سے پہلے حضرت موسیٰ نے پتھر کی بنی تختیاں لیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پاتھوں سے مخصوص احکام لکھے۔ جن کو ہم دس احکام کہتے ہیں۔ جو تمام دوسرے قواعد و ضوابط کی بنیاد بنے۔ یہ دس احکام شریعت کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ جو تمام دوسرے قوانین کے لیے لازمی شرط تھی۔ قرآن شریف اس آیت میں حوالہ دیتا ہے۔

اور ہم نے ان کے لئے (تورات کی) تختیوں میں ہر ایک چیز کی نصیحت اور ہر ایک چیز کی تفصیل لکھ دی (ہے) ، تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو اور اپنی قوم کو (بھی) حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں کو اختیار کرلیں۔ میں عنقریب تمہیں نافرمانوں کا مقام دکھاؤں گا

    میں اپنی آیتوں (کے سمجھنے اور قبول کرنے) سے ان لوگوں کو باز رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں (تب بھی) اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھ لیں (پھر بھی) اسے (اپنا) راستہ نہیں بنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھ لیں (تو) اسے اپنی راہ کے طور پر اپنالیں گے، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل بنے رہے

           ( 145-146: 7     سورۃ الاعراف)

دس احکام

                        قرآن شریف ہمیں بتاتا ہے۔ کہ ان دس احکام کو اللہ تعالیٰ نے خود پتھر کی تختیوں پر لکھا تھا۔ جو ہمارے لیے ایک نشان تھا۔ لیکن یہ تمام احکام کیا تھے؟ یہ تمام احکام یہاں پر خروج کی کتاب میں سے دیئے گے ہیں۔ جن کو حضرت موسیٰ نے پتھر کی تختیوں سے خود نقل کیا تھا۔ جو درج ذیل ہیں۔

1اور خُدا نے یہ سب باتیں فرمائیں کہ ۔
2 خُداوندتیرا خُدا جو تُجھے مُلِک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہُوں۔
3 میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا ۔
4 تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مُورت نہ بنا نا ۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔
5 تو اُنکے آگے سجدہ نہ  کرنا اور نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیرا خُدا غیور خُدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں انکی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں ۔
6 اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں ۔
7 تو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اسکا نام بے فائدہ لیتا ہے خُداوند اسے بے گناہ نہ ٹھہرائیگا۔
8 یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا ۔
9 چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا ۔
10  لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرابیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔
11 کیونکہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اسلئے خُداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔
12 تو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اس مُلِک میں جو خُداوند تیرا خُدا تُجھے دیتا ہے دراز ہو ۔
13 تو خُون نہ کر ۔
14 تُو زِنانہ نہ کر۔ّ
15 ) تُو چوری نہ کر۔
16 تو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا ۔
17  تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا ۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اسکے غلام اور اسکی لونڈی اور اسکے بیل اور اسکے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا ۔
18 اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔

                                                                                                     خروج 20: 1-18

اکثر ایسا لگتا ہے ہم جو مختلف ممالک میں رہتے ہیں۔ ان احکامات کو بھول گے ہیں۔ کو ئی اُن کا مشورہ نہیں دیتا، ان کی کوئی سفارش نہیں کرتا، اور نہ ہی کوئی ان کو سمجھتا تھا۔ یہ احکام اس لیے دئیےگئے تھے۔ کہ ان کی فرنبرداری کی جائے۔ یہ شریعت تھی اور بنی اسرائیل کو خدا کا خوف اور اُسکی شریعت کو ماننا تھا۔

اطاعت کا معیار

                        لیکن یہ ایک اہم سوال ہے۔ اُن کو کتنے زیادہ احکامات کی ضرورت تھی؟ درجہ ذیل آیت دس احکام کے دئیے جانے سے پہلے کی ہے۔

2   اور جب وہ رفیدیم سے روانہ ہو کر سِینا کے بیابان میں آئے تو بیا بان ہی میں ڈیرے لگالئے ۔ سو وہیں پہاڑ کے سامنے اِسرائیلیوں کے ڈیرے لگے ۔
3  اور مُوسیٰ اُس پر چڑھکر خُدا کے پاس گیا اور خُداوند نے اُسے پہاڑ پر سے پُکار کر کہا کہ تو یعقوب کے خاندان سے یوں کہہ اور بنی اِسرائیل کو سُنا دے ۔
4  کہ تُم نے دیکھا کہ میں نے مصریوں سے کیا کیا کیا اور تُم کو گویا عُقاب کے پروں بیٹھاکر اپنے پاس لے آیا ۔
5  سو اب اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میرےمیری خاص مِلکیت ٹھہرو گے کیو نکہ ساری زمیں میری ہے ۔                      خروج 19: 2-5

اور یہ آیت دس احکام کے دئیے جانے کے فوراً بعد دی گئی۔

پھر اُس نے عہد نامہ لیا اور لو گوں کو پڑھکر سُنا یا ۔ اُنہوں نے کہا کہ جو کُچھ خُداوند نے فرما یا ہے اُس سب کو ہم کر یں گے اور تا بع رہں گے ۔                                          خروج 24: 7

تورات شریف کی آخری کتاب (استثنا) میں حضرت موسیٰ نےآخری پیغام دیا۔ اُس نے اس میں شریعت کی فرمانبرداری کا خلاصہ بیان کیا۔

24  سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔                                               استثنا 6: 24-25

راستبازی کو حاصل کرنا

                                    یہاں پر یہ لفظ “راستبازی” دوبارہ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت اہم لفظ ہے۔ ہم نے اس کو پہلے حضرت آدم کے نشان میں سیکھا تھا۔ جب اللہ تعالٰی نے ہمیں حضرت آدم کی اولاد کہا تھا۔

اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اور (اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک باطنی لباس بھی اتارا ہے اور وہی) تقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں  سورۃ اعراف 7: 26

پھر ہم نے حضرت ابراہیم کے نشان میں سیکھا جب اللہ تعالیٰ نے بیٹا دینے کا وعدہ کیا۔ اور حضرت ابراہیم نے اس وعدہ پر بھروسہ کیا اور پھر یہ کہا گیا۔

 اور وہ خُداوند پر ایمان لایا اور اِسے اُس نے اُسکے حق میں راستبازی شمار کیا ۔

                                                                                                 پیدائش 15: 6

(برائے مہربانی راستبازی کو مکمل طور پر جاننے کے لیے “حضرت ابراہیم کی دوسری نشانی” کا مطالعہ کریں)

  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔     استثنا 6: 25

مگر راستبازی حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔  اس کے لیے ہمیں بتایا جاتا ہے۔ کہ ہمیں شریعت کی کُلی طور پر اطاعت کرنا ہے اور پھر ہم راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے ہمیں حضرت آدم کی نشانی یاد آجاتی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالٰی کی ایک بات کی نافرمانی سے وہ جنت سے نکلا دیئے گے تھے۔ اللہ تعالیٰ اور مختلف نافرمان کاموں کا انتظار نہیں کرتا۔ اسطرح کا کام حضرت لوط کی نشانی میں اُس کی بیوی کے ساتھ ہوا۔ ہمیں یہ ساری صورت حال تورات شریف کی عظمت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ میں یہاں پربہت ساری توارت شریف کی آیت رکھی ہیں (یہاں کلک کریں) جن سے ہم جان سکیں گے کہ راستبازی کو حاصل کرنے کاکیسا معیار ہونا چایئے۔

اب آئیں چند لمحوں کے لیے اس کے مطلب کے بارے میں سوچیں۔ کئی بار یونیورسٹی کے کورس میں ایسا ہوتا ہے۔ پروفیسر ہمیں امتخان میں بہت سے سوال دیتے ہیں۔ (مثال کے طور پر 25 سوالات) اور اُن سے کچھ سوالات جن کو ہم چن لیتے ہیں اُن کا جواب تحریر کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور جسطرح ہم 25 سوالات میں سے 20 کو چن کر اُن کا امتخان میں جواب لکھ دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی ایک طالب علم کو ایک سوال مشکل لگتا ہو اور وہ اُس کو چھوڑ کر دوسرا سوال چُن لے۔ اس طرح دوسرا طالب علم اُس چھوڑے ہوئے کو آسان سمجھ کر اُس کا جواب لکھ دے۔ حقیقت میں ہمیں 25 میں سے 20 سوالوں کا چناو کرنا ہے۔ اس طرح سے پروفیسر امتخان کو ہمارے لیے آسان بنا رہا ہوتا ہے۔

بہت سارے لوگ شریعت کے ان دس احکام کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ دس احکام دیئے۔ تو اسکا مطلب تھا کہ ان دس احکام میں سے کوئی سے پانچ احکام کو چن لیں۔ لیکن یہ ہمیں اس لیے نہیں دئیے گے تھے کہ کچھ کو چن لیں اور کچھ کو چھوڑ دیں۔ یہ ہمیں اس لیے دئیے گے کہ ہمیں ان سب کی فرمانبرداری کرنی ہے اور ان سب حکموں کو تھامے رکھنا ہے۔ ان میں ہم کسی کو چن اور کسی کو  چھوڑ نہیں سکتے۔ صرف شریف کی فرمانبرداری کُلی طور کرنے کی وجہ سے راستباز بن سکتے ہیں۔

لیکن پھر کیوں کچھ لوگ شریعت کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ؟ کیونکہ شریعت پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ خاص طور پر یہ ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ساری زندگی اسکی پیروی کرنا پٹرتی ہے۔ یہ تو بٹرھا آسان ہے کہ یم اپنے آپ کو دھوکہ دیں اور اس معیار پر نہ پہنچ سکیں۔ پرائے مہربانی ان احکامات کو دوبارہ سے دیکھیں اور اپنے آپ سے پوچھیں۔ کیا میں ان احکامات کی فرمانبرداری کر سکوگا؟ تمام کی ؟ ہر روز ؟ بغیر کسی حکم کو توڑے ؟ ہمیں بت پرستی سے، ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، زناکاری ، چوری ، قتل ، جھوٹ بولنا ، وغیرہ سے نمٹنا پٹرتا ہے۔ یہ تمام احکام سدا بہار ہیں اور ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان کی اطاعت کر سکتے ہیں؟ کوئی بھی ان سوالوں کا جواب دوسرے کو نہیں دے سکتا۔ وہ صرف اپنے آپ کو ہی جواب دے سکتا ہے۔ اور وہ پھر ان کا جواب روزِ مخشر والے دن اللہ تعالیٰ کو دینا پڑے گا۔

اللہ تعالٰی کے حضور تمام اہم سوالات

                        میں یہاں پر ایک سوال پوچھونگا۔ جس کو استثنا 6 : 25 میں سے لیا گیا ہے۔ یہ ذاتی سوال ہے اور آپ اس کا جواب اپنے آپ کو دیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کا جواب شریعت میں سے کیسے دیتے ہیں۔ شریعت مختلف طریقوں سے لاگو ہوتی ہے۔ لہذا احتیاط کے ساتھ وہ جواب سوچو جو آپ کے بارے میں ٹھیک ہو۔ اُس جواب پر کلیک کریں جو آپ کا جواب ہے۔

24  سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔                       استثنا 6: 24-25

 جواب نمبر 1 :             جی ہاں! میں نے سب حکموں کی فرمانبرداری کی ہے یہ میری حقیقت ہے

 جواب نمبر 2 :          جی نہیں! میں نےکسی حکم کی فرمانبرداری نہیں کی اور یہ میری حقیقت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *