قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

میرے بہت سارے مسلمان دوست ہیں ۔ اور چونکہ میں بھی اللہ تعالیٰ اور انجیل مقدس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اس لئے روزانہ مسلمان دوستوں کے ساتھ مسیحی ایمان کے بارے میں بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ حقیقی معنوں میں ہمارے درمیان بہت ساری چیزیں مشترک ہیں ۔ اسکی نسبت سیکولر (مادہ پرست)دنیا میں ایسا نہیں ہے۔ سیکولر لوگ اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے۔ ابھی تک ہماری بات چیت میں یہ اعتراض کیا گیا ہے۔ کہ انجیل مقدس ( بائیبل مقدس) میں تحریف یا تبدیلی ہوچکی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر کتاب مقدس نازل کی تھی آج اُس کے الہام کی وہ حالت نہیں رہی۔ بلکہ کتاب مقدس نے الہامی حیثیت کھو دی ہے۔ اس میں بہت سی غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔ اب یہ ایک عام سا دعوی نہیں ہے۔ اسکا مطلب یہ ہو گا۔ بائیبل مقدس جو کچھ ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاتی ہے ہم اس پر بھروسا نہیں رکھ سکتے۔

میں نے دونوں کتابوں قرآن شریف اور بائیبل مقدس اور سُنت کامطالعہ کیا ہے۔ میں نے حیرت انگیز بات دیکھی۔ آج جو باتیں بائیبل مقدس کے بارے میں شک میں ڈالی جا رہی ہیں ۔ اس کے بر عکس حیرت کی بات یہ تھی کہ نہ تو قرآن شریف میں ایسی بات دیکھی بلکہ قرآن شریف ، بائیبل مقدس کے بارے میں بڑی سنجیدگی اور بڑے واضح انداز میں بات کرتا ہے۔

قرآن شریف الکتاب کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

( سورة المائدہ 5:68 )

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔

( اورسورة النساء آیت 136 )

( سورة یونس آیت 94 )
اگر تم کو اِس (کتاب کے ) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہر گز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

جب میں نے ان آیات پر غور کیا تو مجھ پر ظاہر ہوا کہ یہ الہام اللہ تعالی کی طرف سے (اہل کتاب) کو دیاگیا ہے یعنی (عیسائیوں اور اسرائیلیوں) اب میرے مسلمان دوست کہتے ہیں کہ یہ آیات اُس وقت کی ہیں۔ جب کتاب مقدس اپنی اصلی حالت میں تھی۔ جب اس کی اصلی حالت میں تحریف ہو چکی ہے تو آج یہ اس قابل نہیں رہی کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا کلام کہاجائے۔ لیکن دوسرا حوالہ اس بات کے بارے میں تصدیق کرتا ہے۔ جو لوگ اُس وقت کتابِ مقدس پڑھتے تھے۔ ( یہاں فعل حال استعمال ہوا ہے نہ کہ ماضی) یہ حوالہ اُس وقت کی بات نہیں کررہا جب کتاب مقدس نازل ہوئی بلکہ یہ اُس وقت کی بات کررہا ہے جب قرآن شریف نازل ہوا۔ کتاب مقدس حضرت محمد ﷺ سے600 سال پہلے نازل ہوئی تھی ۔ تاہم یہ حوالہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ تورات شریف ، قرآن شریف سے600 سال پہلے نازل ہوئی تھی۔

دوسرے حوالہ جات بھی اس طرح کے ہیں ۔ غور کریں

سورة النحل 16:43

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔

سورة الانبیاء21:7

اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر ) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں اُن سے پوچھ لو۔

یہ حوالہ جات حضرت محمد سے پہلے رسولوں اور پیغمبروں کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے۔ کہ یہ حوالہ جات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ذریعے جو پیغام 600 سال پہلے دیا تھا۔ اُن کے پیروکار اُس وقت بھی اُس پیغام پر عمل پیرا تھے۔ حضرت محمد کے دُور میں کتاب مقدس میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی تھی۔

قرآن شریف فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام تبدیل نہیں ہوسکتا

شائد یہ ایک مضبوط اور عقلی دلیل ہو سکتی ہے کہ کتاب مقدس میں تبدیلی ہوئی ہو۔ لیکن قرآن شریف ، کتاب مقدس میں تحریف کی حمایت نہیں کرتا۔ سورة المائدہ کی یہ آیت زہین میں رکھیں ۔

سورة المائدہ 5:68

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرنا۔

اور درج ذیل پر غور کریں۔

سورة انعام 6:34

اور تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے۔ تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ اُن کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی۔ اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں ۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال ) کی خبریں پہنچ چکی ہیں ( تو تم بھی صبر سے کام لو)۔

سورة انعام 6:115

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے۔

( سورة یونس 10:64 )

اُن کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں ۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

سورة الکہف 18:27

اور اپنے پروردگار کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اُس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاﺅ گے۔

لہذا اگر ہم اس بات میں متفق ہیں کہ حضرت محمد سے پہلے نبیوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام نازل ہوا۔

 جس طرح سورة المائدہ 5 :68-69 اور یہ حوالہ جات کئی بار واضع الفاظ میں کہہ چکے ہیں۔ کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کو تبدیل نہیں کرسکتاہے۔ تو پھر ہم کس طرح مان لیں کہ کسی آدمی نے تورات شریف، زبور شریف اور انجیل شریف میں تبدیلی یا تحریف کر دی ہے؟ تو یہ کہنے کے لیے کہ بائبل مقدس میں تحریف یا تبدیلی ہو چکی ہے ۔ پہلے اُس شخص کو قرآن شریف کا انکار کرنا پڑے گا۔

سورة البقرہ 2:136

مسلمانو) کہوکہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اُتری اُس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ اور اسحاق ؑاور یعقوب ؑ اور انکی اولاد پر نازل ہوئے اُن پر اور جو (کتابیں) موسیٰ ؑ اور عیسٰی ؑ کو عطا ہوئیں اُن پر اور جو اور پیغمبروں کو اُنکے پروردگار کی طرف سے ملیں اُن پر (سب پر ایمان لائے ) ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اُسی (خدائے واحد ) کے فرمانبردار ہیں۔

(اور دیکھیں ( سورة البقرہ 2:285

تاہم ہمیں الہام کے بارے میں کسی قسم کا فرق نہیں رکھنا چاہے۔ ہمیں ان کا مطالعہ کرنا ہے یا دوسرے الفاظ میں ہمیں تمام آسمانی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہے۔ دراصل میں قرآن شریف کے مطالعہ کے لیے عیسائی دوستوں سے درخواست کرتا ہوں اسی طرح میں مسلمان دوستوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ کتاب مقدس کا مطالعہ کریں۔

ان کتابوں کا مطالعہ کرنے کے لیے وقت اور اہمیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوران مطالعہ بہت سارے سوال اُٹھتے ہیں۔ یقینا اگرچہ ان تمام تر نازل کی ہو ئی کتابوں کو سیکھنے کے لیے زمین پر ہمارے پاس قابلِ قدر وقت ہے۔ میں جانتا ہو ں کے ان کتابوں کا مطالعہ میرے لیے کافی ہمت والا اور مشکل کام تھا۔ اس مطالعہ کے باعث بہت سارے سوال میرے ذہین میں آئے۔ یہ ایک فائدہ مند تجربہ تھا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی برکت کو حاصل کیا۔ میں اُمید کرتا ہو ں کہاآپ اس ویب سائیڈ پر بہت سے مختلف سبق اور مضمون پڑھ سکتے ہیں۔ شائد اس مضمون سے آپکے لیے شروع کرنا اچھا ہوگا۔ کہ حضرت محمد اور احادیث ، تورات شریف، زبور شریف، اور انجیل شریف (ان کتابوں کو الکتاب کہتے ہیں)کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اگر آپ سائنٹیفک مطالعہ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کہ سائنسی نقطہ نظر کے مطابق بائیبل مقدس تحریف شدہ ہے یا غیر تحریف شدہ ہے ؟ اس مضمون کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

“قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟” پر 20 تبصرے

  1. گزارش ہے کہ ،جناب مسیح پہ انجیل نازل ہوئی ،اب جس نے مسیح کا انکار کیا اس نے کتاب انجیل کا انکار کیا ،اسی طرح محمد رسول اللہ پہ قران نازل ہوا ،اور ایک خاص بات یہ کہ یہ آخری کتاب اللہ ہے اور محمد خاتم النبین ہیں ،آس لئیے یہ کتاب اپنے آپ کو میزان،فرقان،مھیمن کہتی ہے کہ اب اس کتاب پہ ہی سابقہ کتب سماوی و آحادیث،سنت کو پرکھنا ہے قران میزان ہے،اب جو بھی اس کا انکار کرے گا وہ محمد رسول اللہ کا انکار اور سب سے بڑھ کر کلام اللہ کا انکار کرے گا

    1. شکیل صاحب شکریہ آپ کے میسج کا۔

      بلکل آپ نے ٹھیک فرمایا۔۔۔ جس نے حضرت عیسیٰ المسیح کا انکار کیا اُس نے انجیل کا انکار کیا۔

      میرے ذہین میں ایک سوال آگیا تھا۔

      کیا کبھی آپ نے انجیل پاک کا مطالعہ فرمایا ہے؟

      اگر نہیں فرمایا تو میں آپ کو یہاں پر تورات، زبور، صحائف انبیا اور انجیل پاک کی ایپ کا لنک بھیج رہا ہوں۔ آپ اس لنک سے اپنے فون میں ڈونلوڈ کرکے مطالعہ کرسکتے ہیں

      https://play.google.com/store/apps/details?id=lksd.kalaam.i.muqaddas

  2. اللہ تعالی کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے
    ماشاء اللہ آپ نے بڑی محنت سے مطالعہ کر کے قرآن پاک سے تلاش کر کے انجیل مقدس، تورات شریف اور زپور شریف کے متعلق بتایا ہے اور آپ قرآن پاک سے ان گزشتہ الہامی کتب کی تصدیق کر رہے ہیں۔ میں بس آپ سے یہی کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ اس معاملے میں قرآن پاک سے رہنمائی لے رہے ہیں تو قرآن پاک تو ہے ہی حق اس مبارک کتاب کا ہر حرف سچا ہے یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، تو میں آپ سے کہوں گا کہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں قرآن پاک سے رہنمائی لیں۔
    میرا آپ سے مخلصانہ مشورہ ہے کہ قرآن پاک پر مکمل ایمان لائیں اور جس خداۓ واحد جس نے یہ کلام نازل فرمایا اس پر بھی ایمان لائیں اور جو صاحب قرآن ہیں جن پر یہ کتاب نازل ہوئی ان پر بھی ایمان لائیں۔ اللہ تعالی آپ کو حق سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرماۓ، آمین

    1. بھائی سیمی

      شکریہ آپ کے خوبصورت میسج کے لیے۔ میں اس بات کے لیے شکر گزار ہوں کہ آپ اس بات کے بارے میں جانتے ہیں کہ پرانی کتابوں کے بارے میں ایمان لانے کے لیے میری حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ کیا میں آپ سے ایک سوال کرسکتا ہوں۔

      کبھی آپ نے پرانی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے؟ اگر نہیں کیا تو ضرور آپ بڑھی آسانی سے کرسکتے ہیں۔ میں آپ کو ایپ کا لنک یہاں شیر کررہا ہوں۔

      https://play.google.com/store/apps/details?id=lksd.kalaam.i.muqaddas

      میں ایک بات کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اور آپ نے بھی بتادیا کہ کہ قرآن شریف میں بھی ہر ایک سوال کا جواب ہے۔ میں سوچ رہا تھا۔ کہ قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ المسیح کون ہیں۔ قرآن شریف مسیح کے بارے میں کیا بتاتا ہے۔

      مثال کے طور پر آپ کو ایسے القاب سے نوازا گیا جن میں سے آج تک کسی کو بھی نہیں عطا کئے گے۔ ان تمام القاب سے کیا مراد ہے۔ شکریہ

  3. مین اس ویب کو پارھکے اس بات سے مئتفق ھون کھ آسمانی کتابون پر ایمان لانا ایمان کا لازمی جزو ھے ۔۔۔۔ اسکے معنی یے ھے کھ ھر الکتاب کو سمجھنے کے لیے اللاھ کی کی ھار کتاب کو سمجھنا لازمی ھے

    1. سعید زیدی صاحب

      آپ کے میسج کا شکریہ اور آپ نے بلکل ٹھیک بات فرمائی۔

      کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ تورات، زبور، صحائف انبیاہ کا مطالعہ کریں؟ اگر جواب ہاں کے ساتھ ہے تو یہاں آپ کے لیے لنک موجود ہے۔

      https://play.google.com/store/apps/details?id=lksd.kalaam.i.muqaddas
      برائے کرم اگر آپ کا کوئی سوال ہے تو ضرور بتائیں شکریہ

  4. JazakAllah

    Boht maza aya apki research dekh k

    Me sb kitabon pe emaan rkhta hu

    Mera ap se ek sawal ha agr ap bura na manen to mjhy jawab dy dain kindly

    Kya aap iss baat pe eman rkhty hain k Allah ek ha uski koi wife ni koi children ni?
    Essa AS usky nabi hain betay ni?

    1. Rukham, Mara payar dost. Thank you very much for your question.
      ap ka sawal bohat acha ha. Main na hargiz bora nahe panaya.

      ap ye question kun kar rahain hain?

      ap ka es swal sa ek swal mara zhain main aya ha. kaya mara es sawal ka jawab dain ga kaya?

      ap ko kis na bataya ha ka Allah tallah na kisi sa marrage ki ha aur unn sa children pada huaie hain?

      Thanks please

      May Allah bless you

  5. Main ye mazboon parhya achi research hai

    Rukham k sawal py apka tafsili jawab
    Allhamdullilah Hum muslaman han or hum holy books py eman rakhty han or jasy jasy wakt k sat Allah ny prophets bhjy tu books ko Summarize kiya tu Quran whole menkind k li aya jisny humhy btya k Allah lashariq hai wo akla hai uska na koi betha hai na wo kisi sy hai wo humshah sy hai or humsha rahyga is py humra eman hai or Allah k sat shirq krna ghumhy azim hai jiski mafi ni jbi jb Allah prophet Muhammad ko apna Nabi bana kr bhaja wo ye hi waja ti k phichli qoamu k pas pagrambar bhajy gy or wo unky bad un phr ghumrahi ki traf chalyg or Nabion k sat zulum kiya. Hazrat isa hazrat musah sab nabi Allah ki "wadihaniyat (Only One)” ka pagam lakr duniya mai aye.

    1. Mara Payara Dost Owais!

      Ap kaa reply parr kar bohat acha laga!
      Allhamdullilah, Allah ki tarif ho jo tamam jahano ka malik ha.

      Ap kafi malomati lagtain hain. jo ka achi baat ha. Dost! joob eman ki baat ati ha tu waha par koch nahe kaha jata. kun ka har kise ko os ki azadi ha ka jo os ko samajh ata ha. os ka mutabiq eman rakh sakta ha. "ese leya kaha gaya ha. ka deen mian koi jabar nahe”
      yea such ha ka "Allah lashariq ha” os ka koi shariq nahe. jo log os ka shariq banata hain. wo darasle galti (ghumh) par hain.
      main ap sa itfaq karta ho "Hazrat isa hazrat musah sab nabi Allah ki “wadihaniyat (Only One)” ka pagam lakr duniya mai aye.”

      laken ap sa ek sawal bi karta ho. jub ap na kaha ka "k phichli qoamu k pas pagrambar bhajy gy or wo unky bad un phr ghumrahi ki traf chalyg or Nabion k sat zulum kiya”
      tu kaya Jews aur Christians ko bi esi dayra main samjhta hain? ka wo ghumrahi main chala gaie tha?
      Ghumrahi ka kaya matlab ha ap ki nazar mian.

      Shokariea

      Allah hafiz

        1. Dear Friend Danish,

          Thank you very much for asking me about the ‘Surah e Ikhlas’ It is chapter 112 and it has 4 verses. It talks about "Allah is One” which is Monotheistic belief. No one created Allah and neither HE born by anyone. So, Allah does not have a biological relationship with anyone. No one is like HIM.

          I hope I have answered your question. Thanks for asking the question. Please feel free and ask any question. I hope I will try to give you the answer if I know the answer.

  6. ap zhr kha k q ni dekha de te TV p wo bh to hazrt esa ne frmaya ha jo isaai sacha ho ga wo agr zhr bh khy ga to us ko koi frk ni pre ga
    or dosre bat ap ayat ka hwala to de dete hn bewaqoof to acha bna te hn logo ko but un se agli or pichli ayaat bh pr k sna dia kre mhrbani ho gi ap ki ya shetan ki chaly to na chlen

    1. محمد عمر صاحب، مجھے آپ کے میسج سے معلوم نہیں ہوا کہ آپ کا سوال ہے یا آپ غصے کی وجہ سے یہ میسج لکھا ہے۔ چلیں کوئی بات نہیں آپ کی بات کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔

      جس طرح آپ نے فرمایا کہ زہر کھا لیں۔ جانب ہم مسیحیوں کو اور کتنا زہر کاکھانے کو کہیں گے۔ آج جب کورونا وائرس کی وبا پوری دنیا میں ہے۔ اور یہاں پاکستان میں اب بھی مسیحیوں کو آٹا دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔ یہ زہر نہیں تو اور کیا ہے۔ اس کے علاوہ اور کئی قسم کا زہر دیا جارہا ہے۔ لیکن مزئے کی بات ہے کہ مسیحی آج بھی آپ کے درمیان ہیں۔

      ویسے آپ مجھے آیت بتائیں گے جہاں لکھا کہ زہر کھاو۔

      ایک دفعہ کا واقع ہے کہ شیطان نے بھی کچھ آپ کی طرح کے سوال حضرت عیسیٰ المسیح سے کئے۔ اُن کے بارے میں حضرت عیسیٰ المسیح نے انجیل پاک میں جواب دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اُن کے جواب سے آگے میرا جواب کچھ بھی نہیں ۔ انجیل پاک میں سے آپ کے سوال کا جواب درج ہے۔

      ‘پھر روح القدس عیسیٰ کو ریگستان میں لے گیا تاکہ اُسے ابلیس سے آزمایا جائے۔ چالیس دن اور چالیس رات روزہ رکھنے کے بعد اُسے آخرکار بھوک لگی۔ پھر آزمانے والا اُس کے پاس آ کر کہنے لگا، ”اگر تُو اللہ کا فرزند ہے تو اِن پتھروں کو حکم دے کہ روٹی بن جائیں۔“ لیکن عیسیٰ نے انکار کر کے کہا، ”ہرگز نہیں، کیونکہ کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے کہ انسان کی زندگی صرف روٹی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ ہر اُس بات پر جو رب کے منہ سے نکلتی ہے۔“ اِس پر ابلیس نے اُسے مُقدّس شہر یروشلم لے جا کر بیت المُقدّس کی سب سے اونچی جگہ پر کھڑا کیا اور کہا، ”اگر تُو اللہ کا فرزند ہے تو یہاں سے چھلانگ لگا دے۔ کیونکہ کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے، ’وہ تیری خاطر اپنے فرشتوں کو حکم دے گا، اور وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے تاکہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس نہ لگے‘۔“ لیکن عیسیٰ نے جواب دیا، ”کلامِ مُقدّس یہ بھی فرماتا ہے، ’رب اپنے خدا کو نہ آزمانا‘۔“ پھر ابلیس نے اُسے ایک نہایت اونچے پہاڑ پر لے جا کر اُسے دنیا کے تمام ممالک اور اُن کی شان و شوکت دکھائی۔ وہ بولا، ”یہ سب کچھ مَیں تجھے دے دوں گا، شرط یہ ہے کہ تُو گر کر مجھے سجدہ کرے۔“ لیکن عیسیٰ نے تیسری بار انکار کیا اور کہا، ”ابلیس، دفع ہو جا! کیونکہ کلامِ مُقدّس میں یوں لکھا ہے، ’رب اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اُسی کی عبادت کر‘۔“ اِس پر ابلیس اُسے چھوڑ کر چلا گیا اور فرشتے آ کر اُس کی خدمت کرنے لگے۔ ‘

      متی 4:1-11
      https://my.bible.com/bible/187/MAT.4.1-11

      دوسری رہی بات آپ نے اطراز کیا تھا کہ اُس کے آگے پیھے کی آیات کی تو جناب۔ بتائیں کونسی آیت کی غلط سیاق و سباق بیان کیا ہے؟

  7. hello this is abbas . Do you believe in your bible that Harazat Eisa A.S worship the whole night and obsever fast the whole day in the morning , if yes , It is an act of ABDUL ALLAH not Ibe-ALLAH

    1. Dear Abbas,

      Thank you very much for your question. I really appreciate that you are willing to ask this important question.

      First, I think your question need to be clear. I did not understand it completely. As i much i did understand. I am trying to reply you in that understanding

      You asked this question did Jesus Christ or "Hazrat Isa Al-Maish” did worship and observe the fast? If yes he did then it is an act of Abdul Allah or Ibe-Allah.

      Well, The Gospel is very open and did tell us that Jesus Christ did pray and observe the Fast. He went to the Temple to pray as well.

      About your objection of being not Ibn Allah.

      We Christian believe and I hope you too believe that Isa al-Maish born without Father, Allah did sent his angel to Saint Mary "Hazrat Marriam” So that angel will give the good news to her. Here i am giving you little more information in Urdu. If you will have more question please feel free to ask. thanks

      میرا باپ” حضرت عیسئ نے فرمایا کیا مطلب ہے اسکا؟

      اس کا مطلب روحانی ہے جسما نی نہیں ہے یعنی حضرت عیسیٰ المسیح کوئی جسمانی طور پر اللہ تعالیٰ سے پیدا نہیں ہوئے۔

      بیٹے اور باپ کا مفہومی معنوں میں یہ ہے۔

      بیٹے کا مطلب جس میں سے نکلا
      باپ کا مطلب جس سے نکلا۔۔۔

      اب میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ حضرت عیسیٰ المسیح کے القاب سے تو واقف ہونگے۔

      عیسیٰ پاک روح اللہ۔

      عیسیٰ پاک کلمة اللہ۔۔

      اب ان دونوں القاب کو کسی صرف حضرت عیسیٰ المسیح کو ہی دیا گیا۔ کسی نبی رسول یا پیغیبر میں سے کسی کو یہ القاب نہیں ملے۔

      اب جب حضرت عیسیٰ المسیح نے کہا کہ خدا میرا باپ ہے۔۔۔۔۔

      باپ تو اس کا مطلب ہے کہ عیسیٰ المسیح اس بات کا اظہار کررہے ہیں وہ خدا باپ میں سے یعنی روح اور کلمہ کے طور پر نکلے ہیں ۔۔۔

  8. Asalamualikum….kindly tell me one thing please yh sawal aksr meray mind mein ata h …..k Bible mein likha h k Jesus is the son of God lykin Qur’an mein is bt sy inkar h tou Allah ki kitabon mein kasy ikhtlaaf ho skta h ? Please meri is confusion ko door krien

    1. حضرت عیسیٰ المسیح کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کیوں مانتے ہیں اور کن معنوں میں مانتے ہیں۔ اس کی وضاحت درج ذیل ہے۔

      1) یہ سوال کس طرف سے ہے؟ میرا مطلب یہ سوال اسلام کے طرف سے ہے یا مسیحیت کے طرف سے ہے؟ جس کے بارے میں آپ تحقیق کر رہے ہیں۔
      اگر یہ سوال مسیحیت کی طرف سے ہے تو ضرور اس کے بارے میں انجیل شریف میں کوئی بحث ہونی چاہیے۔

      کیا انجیل مقدس میں کوئی حوالہ پایا جاتا ہے کہ "عیسیٰ المسیح اللہ تعالیٰ کی بیوی سے پیدا” ہوئے ہیں؟

      2) اب آئی بات قرآن شریف میں مختلف خیال پائے جاتے ہیں۔
      مثال کے طور پر

      112:3 لم يلد ولم يولد

      لد اور ولد دونوں جسمانی رشتے کو پیش کرتے ہیں۔
      میں اُمید کرتا ہوں کہ تم اس کے ساتھ ۱۰۰فیصد متفیق ہو۔ میں یہ بھی اُمید کرتا ہوں ہر ایک مسیحیٰ جو انجیل شریف ایمان رکھتا ہے وہ تمہارے ساتھ متفیق ہے اور وہ یہ تم سے کہے گا۔ جناب اگر تم کسی ایسے مسیحی کو جانتے ہو جو کہتا ہے۔ عیسیٰ ولد اللہ (توبہ) تو مجھے اُس کے بارے میں بتاو اور میں تمہارے ساتھ مل کر اُس پر گستاخی کا فتویٰ جاری کروگا۔

      اب ایک اور سوال نظر آتا ہے۔

      اس نے کہا اے میرے ربّ! میرے کیسے بیٹا ہو گا جبکہ کسی بشر نے مجھے نہیں چھؤا۔ اس نے کہا اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ”ہو جا“ تو وہ ہونے لگتا ہے اور ہو کر رہتا ہے۔
      3:47
      وہ آسمانوں اور زمین کا عدم سے پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی کوئی اولاد کہاں سے ہوگئی جبکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔
      6:101

      اگر تم تھوڑا سا ان دونوں آیت پر غور کرو تو تم کو معلوم ہوگا۔ کہ دونوں آیت میں سوال ایک ہی ہے۔ کہ میرے بیٹا کیسے ہوگا۔ لیکن دونوں آیت میں جواب بلکل مختلف پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ بھی مشکل نہیں۔ لیکن دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کو بیوی درکار ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ یہاں ہر اللہ تعالیٰ کو مشکل ہے۔

      اب سوال یہاں پر اُٹھتا ہے۔ کیا انجیل شریف کبھی کسی نے کہاں ہے اللہ تعالیٰ کی بیوی ہے اور اُس سے بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عیسیٰ ولد اللہ ہے؟

      اس کے لوقا کی انجیل اُس کا پہلا باب پڑھو۔

      لوقا 1:30-33 Urdu Bible: Easy-to-Read Version (ERV-UR)
      فرشتے نے اس سے کہا، “اے مریم خوفزدہ مت ہو خدا تجھ پر بہت زیادہ فضل کرے گا۔
      سن لے! توحاملہ ہو کر ایک لڑ کے کو جنم دے گی تجھے اس کا نام “یسوع” رکھنا ہو گا۔
      وہ ایک عظیم آدمی بنے گا اور لوگ اس کو خدا ئے تعالیٰ کا بیٹا کہیں گے خداوند خدا ان کو انکے اجداد داؤد کا اختیار دے گا۔
      یسوع بادشاہ کی طرح یعقوب کی رعایا پر ہمیشہ حکمرانی کریں گے۔ اور اس کی بادشاہت کبھی ختم ہو نے والی نہ ہو گی۔
      لوقا ۱: ۳۰أ۳۴

      https://www.biblegateway.com/passage/?search=Luke+1%3A30-33&version=ERV-UR

      اگر انجیل شریف میں ایسا ایمان نہیں پایا جاتا تو۔ اب سوال کرنے والے پر سوال اُٹھتا ہے۔ کہ قرآن شریف کو ایسی غلط معلومات دینے والا کون ہے؟

      مثال:
      اب اگر ایسی حالت میں آپ کسی جج سے اس قسم کا واقعہ لے کر جائے۔ جس میں بتایا یہ جائے کہ الف نے جرم کیا ہے۔ لیکن تحقیق کرنے پر معلوم یہ ہو کہ جرم کا الزام لگانے والے جس کا نام ب ہے۔ اس کی معلومات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ تو تمہارے نزدیک جج اس مقدمے کا کیا فیصلہ دے گا؟

      رہی بات بیٹے کی کہ انجیل شریف کیوں حضرت عیسیٰ المسیح کو خدا کا بیٹا (بغیر بیوی) کہتی ہے۔ اس کی مثال روحانی ہے جنسی نہیں۔ اگر اُوپر دیا گیا انجیل کا حوالہ غور سے پڑھو تو تم کو جواب مل جائے گا لیکن مزید جواب بعد میں بتاو گا۔

      پہلے ہم اس کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ کہ تم اُوپر کی گئی بات کے بارے کیا کہتے ہو؟

      آپ کے جواب کا منتظر

      اگر آپ مجھے سے ای میل پر رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔ تو برائے کرم مجھے سے میسج کریں تو پھر میں آپ کو ای میل بھیج دونگا۔ شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے