قدیم منطقہ البروج میں برج سرطان

سرطان عام طور پرایک کیکڑا بطور تصویر کھینچتا ہے اور کیکڑے کیلئے لاطینی لفظ سرطان ہے – اورآ ج  کے زائچہ میں اگر آپ کی پیدایش 22 جون سے لیکر 23 جولائی کےدرمیان ہے تو آپ برج سرطان کے ہیں –منطقہ البروج کے اس مجودہ نجومی زائچہ کی تحریرمیں برج سرطان کے لئے  آپ زائچہ کی نصیحت کا پیچھا کرتے ہیں  کہ آپ اس میں محبّت ، خوش قسمتی ، تندرستی اور بصیرت کو اپنی شخصیت میں تلاش کر سکیں –    

مگر قدیم لوگوں نے برج سرطان کو کیسے پڑھا ؟ ان کے لئے اسکے کیا معنی رکھتے تھے ؟ 

ہوشیار ہو جایں ! اس کا جواب دیتے ہوئے آپکو ایک فرق سفر کے منصوبے لے جاتے ہوئے آپ کے ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) غیر واضح طور سے کھلیگا –پھر آپ اپنے زائچہ کی نشانی کو جانچتے ہوئے ارادہ کیۓ جاؤگے —

برج سرطا ن کے نجومی ستاروں کا مجمع (مجموعہ ت النجوم)

یہاں برج سرطانکے ستاروں کے مجمع کی ایک تصویر ہے – کیا آپ ان ستاروں میں ایک کیکڑے کی شکل بناتے ہوئے کوئی چیز دیکھ سکتے ہیں ؟

برج سرطان کے ستاروں کے مجمع کی تصویر– کیا آپ ایک کیکڑے کو اس تصویر میں دیکھ سکتے  ہیں ؟

یہاں تک کہ اگر ہم برج سرطان میں ستاروں کو ان کی لکیروں سے جوڑتے ہیں تو بھی ایک کیکڑے کی کی تصویر کو دیکھنا مشکل ہوگا – یہ ایسا دکھائی دیتا ہے جیسا کہ انگریزی حرف y کا الٹا ہو –

ستاروں کے ساتھ برج سرطان لکیروں  سے جڑے ہوئے

یہاں پرمنطقہ البروج کا  ایک  قومی جغرافیہ کا اشتہار ہے جو برج سرطان کو دکھا رہا ہے جس طرح سے جنوبی نصف کررہ میں دکھائی دیتا ہے –

قومی جغرافیہ کا منطقہ البروج کے تاروں کا نقشہ برج سرطان کے ساتھ گولائی میں

اس نقشے کے ذریعے سے ابتدائی لوگوں نے ان ستاروں سےا یک کیکڑے کی بابت کیسے سوچا ہوگا ؟ مگر جس طرح سے ہم انسا نی تاریخ کو جانتے ہیں یہ برج سرطان کی نشانی پیچھے کو جاتی ہے –

جس طرح دیگر منطقہ البروج ستاروں  کے مجمع کے ساتھ پانی لے جانے والے کی تصویر ہے اسی طرح یہ  خود ہی ستاروں کے مجمع کے ساتھ ضروری نہیں ہے – یہ ستاروں کے مجمع کے اندر تخلیقی (پیدائشی) نہیں ہے – بلکہ  پانی لے جانے والے کا  خیال ستاروں  کے علاوہ کسی اور چیز سے پہلے آیا – پہلے کے نجومیوں نے بعد میں اس خیال کو ستاروں پر بچھایا تاکہ ایک متواتر نشان بطور ہو –

مگر کیوں ؟ قدیم ہونے سے اسکا کیا مطلب ہے ؟

برج سرطان کی نجومی تصویر ایک کیکڑے کے ساتھ

قدیم منطقہ البروج میں برج سرطا ن

یھاں پر برج سرطا ن کے کچھ عام نجومی تصاویر پیش کئے گئے ہیں  
برج سرطان کے منطقہ البروج کی تصویر جھینگا مچھلی کے ساتھ ، نہ کہ کیکڑا ،اور برج سرطان 69 کی نشانی

مصر کے ڈ ینڈ را مندر میں منطقہ البروج کی تصویر جو 2000 سال سے زیادہ پرانا ہے –اس میں برج سرطان کو لال رنگ کی گولائی میں دکھایا گیا ہے –  

مصر کے ڈ ینڈ را مندر کا قدیم منطقہ البروج برج سرطان کو سرخ نشان سے دائرہ کھینچا ہوا 

حا لا نکہ خاکہ ‘کیکڑے’ کی تصویر کو چپکاتا ہے یہ بھنورا  جیسا نظر آتا ہے – مصری قلم بندی کے مطابق لگ بھگ  4000 سال پہلے برج سرطان کا بیان کرتا ہے وہ قدیم مصری جواہر (بہوترا)  بھنورا  کی شکل کا تھا –جو کہ بے دینی کی   پاک نشانی  ہے –

قدیم مصر میں مصری جواہر کو نیا جنم دینے یا لینے کی نشانی تھی – مصری لوگ اکثر اپنے دیوتا کھیپری ،اگتا ہوے  سورج کی لفظی تصویر بناتے تھے ایک بہوترے  کی شکل کا جواہر کی تصویر بطور یا ایک آدمی جس کا چہرہ بھوترے بھنورے  کی شکل کا ہو – 

کھیپری ایک قدیم مصری دیوتا جسکا سربھوترے کی شکل کا ہے دوبارہ سے پیش کیا گیا ہے – یہ نیو کنگڈ م ٹومب پینٹنگ کی بنیاد پر ہے [1]

قدیم کہانی میں برج سرطان

برج کنیا میں ہم نے دیکھا کہ قران شریف اور بائبل مقدّس بیانکرتا ہے کہ الله تعالی نے انسانی تخلیق کی ابتدا سے نشانیوں بطور منطقہ البروج ستاروں کے مجمع (مجموعتالنجوم)  کو بنایا اسنے انکو بنی انسان کی رہنمائی کرتے ہوئے ایک کہانی کی نشانی دی جب تک کہ ایک لکھا ہوا مکاشفہ نہیں دیا گیا تھا –اس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور انکے بیٹوں نے اپنے بچوں کو الله تعا لی کے منصوبے کی بابت نصیحت دی تھی–برج کنیا نے کہانی کو شروع کیا اور آنے والے کنواری کے بیج کی بابت پیش بنی کی –

برج سرطان کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں –اگر آپ موجودہ زائچہ کے ادراک میں برج سرطان کے نہیں  بھی ہیں تو بھی آپ برج سرطان کی قدیم نجومی کہانی کو معلوم کرنے کے قابل ہیں –

برج سرطان کی اصلی کہانی

قدیم مصری لوگ اس زمانے کے بہت ہی قریب تھے جب کہ سب سے پہلے منطقہ البروج کی طرف متوججہ ہوئے ، سو بھوترے کا پان کسی قدر موجودہ نجومی زائچے کا کیکڑا ہی اہمیت رکھتا ہے کہ برج سرطان کے قدیم منطقہ البروج کو سمجھے –ماہر مصریات سر و یلیس بڈج کھپیرا کی بابت اور قدیم مصریوں کے بھو ترے کے پان کی بابت کہتے ہیں –

    کھپپیرا – دنیا کے دوراولین کا ایک قدیم دیوتا تھا ، اورنشانی ہونے کو بات کریں تو وہ اپنے اندر زندگی کا جنین رکھتا ہو –جنین وہ حصّہ ہے جو بڑھ کر اپنے آپ میں ایک نیا جسم بن جانیکی صلاحیت  رکھتا ہے –اسطرح اسنے مردہ جسم کا اظہار کیا جس سے کہ روحانی جسم نمودار ہونے کی صورت اختیار کی – اس کو الفاظ میں آدمی کی شکل کا تصویر کھینچا گیا ہے جس کا سر ایک بھنورا ہے اور یہ کیڑا اسکا نشان بن گیا اس لئے کہ وہ مانو اسکی خود کی پیدا کی گیئ اور خود کی پیش کی ہوئی ہو-

سر ڈبلو –ے –بڈ ج  مصری مذہب   صفحہ 99

بھوترا بھنورا : قدیم حشر (زندہ ہونے) کی نشانی

 بھوترا بھنورا زندگی کے کئی ایک مرحلوں سے ہوکر گزرتا ہے اس سے پہلے کی وہ ایک بالغ بھنورے میں تبدیل نہ  ہو جاۓ –انڈے سے  باہر نکلنے کے بعد سے  بھوترے کیڑے سے بن جاتے ہیں جنہیں لاروا  کہتے ہیں (ابتدائی شکل)اس مرحلے میں وہ ا پنے  وجود کو زمین میں رہتے ہوئے گزارتے ہیں –تحلیلی معاملے میں خود کو کھلا تے ہوئے ، جیسے لید ، سانپ کی  چھتری ، پودوں کی جڑ یں یا گلے سڑے  گوشت وغیرہ –

لاروا کی حالت میں رینگنے کے بعد وہ کویا کی شکل اختیار کر لیتے ہیں –اس حالت میں سارے کام کاج بند ہو جاتے ہیں –وہ ابھی کھانا نہیں کھاتے –انکا سارا حواس بند ہو جاتا ہے –زندگی کے سار ے کام کاج موندے جاتے ہیں اور بھوترا بے حس و حرکت کوے کے اندر پڑا رہتا ہے – یھاں لا روا کا کا یا پلٹہوتا ہے  -جس میں اسکا جسم تحلیل ہونے اور دوبارہ سے جڑنے لگتا ہے –مقرّرہ وقت میں بالغ بھوترا کوے کے اندر سے باہر نکل آتا ہے –اس کا بالغ بھنورا کی شکل کیڑے کی شکل کا نہیں دکھتا جس میں وہ صرف زمین پر رینگ  سکتا تھا –اب یہ بھنورا کوے کو پھاڑ کر باہر نکلتا اور ا ڑ جاتا ہے اور ہوا میں سورج کی روشنی میں جہاں چاہے منڈلاتا اور بلند پرمزی کرتا ہے –

قدیم مصری لوگ بھوترا ببھنورے کی عزت کرتے تھے کیونکہ وہ وعدہ کئے ہوئے قیامت (زندہ ہونے) کی نشانی ہے      

برج سرطان — بھوترا بھنورے کی طرح

برج سرطان اعلان کرتا ہے کہ ہماری زندگیاں بھی اسی طرح کے نمونہ کا پیچھا کرتی ہیں – ابھی ہم زمین پر جیتے ہیں ، سخت محنت اور د کھ   مصیبت کے غلام ہیں ، تاریکیاں اور شک و شبہات ہیں ، غالباً ناقابلیتوں اور پریشانیوں کے گانٹھ جیسے زمینی پیدایش کے  اور گندے لید کے کھانے والے ، حلانکہ ہم اپنے اندر بیج رکھتے ہیں اور واقع  ہونے والے جلال کی شروعات ہے –

پھر ہماری زمینی زندگی موت مے جاکر ختم ہو جاتی اور مردہ لاش بنکر رہ جاتی ہے – ہماری حالت جس میں ہماری باطنی شخصیت موت میں سو جاتی ہے اور قیا مت کا انتظار کرتی ہے تاکیہم قبروں کو پھاڑ کر بہار نکل جاتیں –یھی برج سرطان کا مطلب اور نشانی تھی –جسم کا زندہ ہونے پر تب روک لگتی ہے جب چھٹکارہ دینے والا بلاتا ہے –        

برج سرطان: قیامت کی زندگی

جس طرح بھوترا اپنے بے حس و حرکت پڑے رہنے کی حالت سے ابھر کر باہر آتا ہے اسی  طرح مرے ہوئے لوگ بھی جی اٹھیںگے (زندہ ہونگے) –

اور جو خاک میں سو رہے ہیں اُن میں سے بُہتیرے جاگ اُٹھیں گے۔ بعض حیاتِ ابدی کے لِئے اور بعض رُسوائی اور ذِلّتِ ابدی کے لِئے۔ 3اور اہلِ دانِش نُورِ فلک کی مانِند چمکیں گے اور جِن کی کوشِش سے بُہتیرے صادِق ہو گئے سِتاروں کی مانِند ابدُالآباد تک رَوشن ہوں گے۔

٢ ١ :٢ -٣ د انی ا یل  

یہ تب ہوگا جب مسیح – یسوع – ہمکو اپنے قیامت کے راستے کے پیچھے چلنے کے لئے بلاتا ہے –

١لیکن مسیح واقعی مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے ، جو سو گئے ہیں ان میں پہلا پھل ہے۔ 21 چونکہ موت ایک آدمی کے وسیلے سے ہوئی ہے ، اس لئے مردے سے جی اٹھنے کا کام بھی ایک آدمی کے وسیلے سے ہوتا ہے۔ 22 کیونکہ جیسا آدم میں سب مرتے ہیں اسی طرح مسیح میں ہی سب کو زندہ کیا جائے گا۔ 23 لیکن ہر ایک کے بدلے میں: مسیح ، پہلا پھل۔ پھر ، جب وہ آئے گا تو ، جو اس سے تعلق رکھتے ہیں۔ 24 تب خاتمہ ہوگا جب اس نے بادشاہی خدا باپ کے سپرد کر کے تمام سلطنت ، اختیار اور طاقت کو ختم کردیا ہے25 کیونکہ جب تک وہ اپنے تمام دشمنوں کو اپنے پیروں تلے نہ رکھے اسے بادشاہی کرنا ہوگی۔ 26 تباہ ہونے والا آخری دشمن موت ہے۔ 27 کیونکہ اس نے "سب کچھ اپنے پیروں تلے رکھ لیا ہے۔” اب جب یہ کہتا ہے کہ "ہر چیز” کو اس کے ماتحت کردیا گیا ہے ، تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس میں خود خدا بھی شامل نہیں ہے ، جس نے سب کچھ مسیح کے ماتحت کیا۔ 28 جب اس نے یہ کیا ، تو بیٹا خود بھی اس کے تابع ہو جائے گا جس نے سب کچھ اس کے ماتحت کیا ، تاکہ خدا سب پر راضی ہو۔

کرنتھیوں  ٥ ١ :٠ ٢ -٨ ٢

برج سرطان :انوکھا ماہیت رکھنے والے قیامت کے جسم کی تصویر کھینچتے ہوئے

جس طرح بالغ بھوترا شکل صورت اور رنگ روپ کے ساتھ  اور نا قابل تصوّر قابلیتوں کے ساتھ زیا  دہ فرق قسم کی ماہیت رکھنے  والا کیڑا  جو زندہ ہوا ، اسی طرح ہمارا جسم جو زندہ ہوا ہوگا وہ بھی فرق ماہیت رکھنے والا ہوگا اس جسم کی با نسبت جو آج موجود ہے –

مگر ہمارا وطن آسمان پر ہے اور ہم ایک مُنّجی یعنی خُداوند یِسُوعؔ مسِیح کے وہاں سے آنے کے اِنتظار میں ہیں۔ 21وہ اپنی اُس قُوّت کی تاثِیر کے مُوافِق جِس سے سب چِیزیں اپنے تابِع کر سکتا ہے ہماری پَست حالی کے بدن کی شکل بدل کر اپنے جلال کے بدن کی صُورت پر بنائے گا۔

٣ :٠ ٢ -١ ٢ فلپپیوں  

اب کوئی یہ کہے گا کہ مُردے کِس طرح جی اُٹھتے ہیں اور کَیسے جِسم کے ساتھ آتے ہیں؟ 36اَے نادان! تُو خُود جو کُچھ بوتا ہے جب تک وہ نہ مَرے زِندہ نہیں کِیا جاتا۔ 37اور جو تُو بوتا ہے یہ وہ جِسم نہیں جو پَیدا ہونے والا ہے بلکہ صِرف دانہ ہے۔ خَواہ گیہُوں کا خَواہ کِسی اَور چِیز کا۔ 38مگر خُدا نے جَیسا اِرادہ کر لِیا وَیسا ہی اُس کو جِسم دیتا ہے اور ہر ایک بِیج کو اُس کا خاص جِسم۔

39سب گوشت یکساں گوشت نہیں بلکہ آدمِیوں کا گوشت اَور ہے۔ چَوپایوں کا گوشت اَور۔ پرِندوں کا گوشت اَور ہے مچھلِیوں کا گوشت اَور۔

40آسمانی بھی جِسم ہیں اور زمِینی بھی مگر آسمانِیوں کا جلال اَور ہے زمِینِیوں کا اَور۔ 41آفتاب کا جلال اَور ہے مہتاب کا جلال اَور۔ سِتاروں کا جلال اَور کیونکہ سِتارے سِتارے کے جلال میں فرق ہے۔

42مُردوں کی قِیامت بھی اَیسی ہی ہے۔ جِسم فنا کی حالت میں بویا جاتا ہے اور بقا کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ 43بے حُرمتی کی حالت میں بویا جاتا ہے اور جلال کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ کمزوری کی حالت میں بویا جاتا ہے اور قُوّت کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ 44نفسانی جِسم بویا جاتا ہے اور رُوحانی جِسم جی اُٹھتا ہے۔ جب نفسانی جِسم ہے تو رُوحانی جِسم بھی ہے۔ 45چُنانچہ لِکھا بھی ہے کہ پہلا آدمی یعنی آدمؔ زِندہ نفس بنا۔ پِچھلا آدمؔ زِندگی بخشنے والی رُوح بنا۔ 46لیکن رُوحانی پہلے نہ تھا بلکہ نفسانی تھا۔ اِس کے بعد رُوحانی ہُؤا۔ 47پہلا آدمی زمِین سے یعنی خاکی تھا۔ دُوسرا آدمی آسمانی ہے۔ 48جَیسا وہ خاکی تھا وَیسے ہی اَور خاکی بھی ہیں اور جَیسا وہ آسمانی ہے وَیسے ہی اَور آسمانی بھی ہیں۔ 49اور جِس طرح ہم اِس خاکی کی صُورت پر ہُوئے اُسی طرح اُس آسمانی کی صُورت پر بھی ہوں گے۔

١ کرنتھیوں ٥ ١ :٥ ٣ -٩  ٤

برج سرطان کا کایا پلٹ ہوتا ہے : ا س  کے لوٹنے پر

یہ مسیح کے لوٹنے پر جب اس طرح واقع  ہوگا –

اَے بھائِیو! ہم نہیں چاہتے کہ جو سوتے ہیں اُن کی بابت تُم ناواقِف رہو تاکہ اَوروں کی مانِند جو نااُمّید ہیں غم نہ کرو۔ 14کیونکہ جب ہمیں یہ یقِین ہے کہ یِسُوع مَر گیا اور جی اُٹھا تو اُسی طرح خُدا اُن کو بھی جو سو گئے ہیں یِسُوع کے وسِیلہ سے اُسی کے ساتھ لے آئے گا۔ 15چُنانچہ ہم تُم سے خُداوند کے کلام کے مُطابِق کہتے ہیں کہ ہم جو زِندہ ہیں اور خُداوند کے آنے تک باقی رہیں گے سوئے ہُوؤں سے ہرگِز آگے نہ بڑھیں گے۔ 16کیونکہ خُداوند خُود آسمان سے للکار اور مُقرّب فرِشتہ کی آواز اور خُدا کے نرسِنگے کے ساتھ اُتر آئے گا اور پہلے تو وہ جو مسِیح میں مُوئے جی اُٹھیں گے۔ 17پِھر ہم جو زِندہ باقی ہوں گے اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھائے جائیں گے تاکہ ہوا میں خُداوند کا اِستِقبال کریں اور اِس طرح ہمیشہ خُداوند کے ساتھ رہیں گے۔ 18پس تُم اِن باتوں سے ایک دُوسرے کو تسلّی دِیا کرو۔

١ تھسلنیکیوں  ٤ :٣ ١ -٨ ١

برج سرطان عبارت سے (تحریرسے)

ہوروسکوپ (زائچہ) کا یہ لفظ یونانی کے’ھورو'(وقت) سے نکلا ہے اور اس طرح سے اس کے معنی ہیں خاص اوقات کی طرف (نشان دہی) کرنا –برج سرطان کےوقت  (ہورو) کے لئے نبی حضرت عیسی ال مسیح نے اس طرح سے نشان دہی کی ہے –

مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو میرا کلام سُنتا اور میرے بھیجنے والے کا یقِین کرتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے اور اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا بلکہ وہ مَوت سے نِکل کر زِندگی میں داخِل ہو گیا ہے۔ 25مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے کہ مُردے خُدا کے بیٹے کی آواز سُنیں گے اور جو سُنیں گے وہ جِئیں گے۔ 26کیونکہ جِس طرح باپ اپنے آپ میں زِندگی رکھتا ہے اُسی طرح اُس نے بیٹے کو بھی یہ بخشا کہ اپنے آپ میں زِندگی رکھّے۔ 

٥ :٤ ٢ -٦ ٢ یوحنا  

ایک خاص وقت ہوتا ہے جب کسی نے اپنے وجود میں دنیا سے بات کی اور وہ دوبارہ سے بات کریگا –جو اسکی سنینگے وہ مردوں میں سے زندہ ہونگے –برج سرطان آ نے والے اس زندہ ہونے کے وقت کی نشانی تھی جس کی عبارت کو قدیم نجومیوں کے ذریعے ستاروں سے پڑھا گیا تھا –

آپ کے برج سرطان کی عبارت

آپ اور میں برج سرطان کے ز ائچہ کو آج کی تاریخ میں ذیل میں لکھی باتوں کو پڑھتے ہوئے استعمال کر سکتےہیں –

برج سرطان آپ سے کہتا ہے کہ لگاتار آپ کے قیامت کے وقت کو تاکتے رہیں – کچھ  لوگ کہتےہیں کہ قیامت نہیں ہوگی  مگر بیوقوف مت بنیں –اگر آپ دنیا میں صرف کھانے پینے کے لئے جیتے ہیں تو آپ کا وقت ا چھا جا سکتا ہے اور آپ آ سا نی سے بیوقوف بھی بناۓ جا سکتے ہیں –اگر آپ ساری دنیا کو حاصل کریں اور اس میں اپنے پیار کرنے والوں کو بھر دیں ، خوشیوں اور مشتعل  کرنے والی چیزوں کو بھی شامل کردیں اور اپنی جان کا نقصان اٹھا یں تو آپکو کیا فائدہ ہوگا ؟ اس لئے مضبوطی سے کھڑ ے رہیں –آپ کو کوئی چیز نہیں ہلا یگا – جوکچھ آ پکو د کھتا ہے اسپر اپنی نظریں نہ جما ییں بلکہ جو چیزیں آپکواپکو نہیں د کھتیں انپر جما ییں –کیونکہ جوچیزیں دکھائی دیتی ہیں وہ عا رضی ہیں مگر جو  دکھائی نہیں دیتی ہیں وہ ا بدی ہیں –

جوپوشیدہ ہے اسکے ساتھ سویے ہوو وں ایک بڑی بھیڑ آپکے ساتھ ہے اس آواز کو سننے کے لئے جب وہ ا نھیں بلایگا –اس ہر ایک چیز کو پھینک دیں جوپوشیدہ چیزیں دیکھنے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں اور اپنے ہر ایک گناہ کو بھی پھینک دیں جو آپکو آسانی سے الجھاتا یا دشواری پیدا  کرتا ہے – اورجو نشانہ آپکے لئے رکھا گیا ہے اس میں اپنی آنکھوں کو زندہ بررے پر لگاتے ہوئے اس دوڑ میں  آپ صبر سے دوڑیں – اور ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کو تکتے رہیں جس نے اس خوشی کے لئے جواس کی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پرواہ نہ  کرکے صلیب کا دکھ سہہ لیا ،اور خدا کے تخت کی دھنی طرف جا بیٹھا –پس اس پرغور کرو جس نے اپنے حق میں برائی کرنے والے گناہ گاروں کی اس قدر مخالفت کی برداشت کی تاکہ تم بے دل ہوکر ہمّت نہ ہارو –                  

برج سرطان میں گہرائی سے اور منطقہ البروج کی کہانی کے  ذریعے سے

برج سرطان کی نشا نی اصلیت میں تندرستی ، پیار محبّت اور بحالی کے لئے فیصلہ کے واسطے رہنمائی نہیں کیا تھا بلکہ برج سرطان نے ستاروں سے ظاہر کیا تھا کہ چھٹکارہ دینے والا اپنے چھٹکارے کو قیامت میں پورا کریگا –

قدیم منطقہ البروج کی کہانی کوشروع  کرنے کے لئے اسکی شروعات برج کنیا کو دیکھیں – منطقہ البروج کی کہانی برج اسد کے ساتھ ختم ہوتی ہے – برج سرطان کی گہرائی میں جانے کے لئے دیکھیں :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے