قدیم منطقہ البروج میں برج جیمینی

جیمینی جڑوے کے لئے لاطینی لفظ ہے –آج کے زائچے میں اگر آپ کی پیدایش مئی 22 اور جون 21 کے درمیان ہوئی ہے تو اپ ایک برج جیمینی ہیں – جیمینی دو اشخاص کی شکل بناتا ہے ، عام طور پر (مگر ہمیشہ نہیں) یعنی کہ وہ لوگ جوجڑوے ہیں – اس موجودہ زائچہ  میں نجومی منطقہ البروج کی تشریح میں برج جدی کے لئے آپ سائچہ کی صلاح کا پیچھا کرتے ہیں کہ آپ اپنی  شخصیت  کے  لئے محبّت ، خوش قسمت ،دولت اور بصیرت کی تلاش کرتے ہیں –

تاروں کی دنیا میں برج جیمینی کے تاروں کا مجموعہ

مگر قدیم لوگوں نے برج جیمینی کو کیسے پڑھا ؟ ان کے لئے اسکے کیا معنی رکھتے تھے ؟

ہوشیار ہو جایں ! اس کا جواب دیتے ہوئے آپکو ایک فرق سفر کے منصوبے لے جاتے ہوئے آپ کے ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) غیر واضح طور سے کھلیگا –پھر آپ اپنے زائچہ کی نشانی کو جانچتے ہوئے ارادہ کیۓ جاؤگے –  

یہاں یہ  ستاروں کے مجمع کی تصویر ہے جوبرج جیمینی کی شکل بناتے ہیں –کیا آپ ان تاروں میں ایک جڑوے کی شکل بناتے ہوئے کچھ دیکھ سکتے ہیں ؟  

 برج جیمینی کے تاروں کے مجمع کی تصویر –کیا آپ جڑوے کو دیکھ سکتے ہیں ؟

یہاں تک که برج جیمینی میں تاروں کو لکیروں سے جوڑنے کے با وجود بھی جڑوے کو ‘دیکھنا ‘ مشکل ہے-یہاں پر ہم دو اشخاص کو دیکھ  تو سکتے ہیں ،مگر یہ ‘جڑوا’ کیسے بنا ؟  

یہاں پرمنطقہ البروج کا  ایک  قومی جغرافیہ کا اشتہار ہے جو برج جیمینی  کو دکھا رہا ہے جس طرح سے جنوبی نصف کررہ میں دکھائی دیتا ہے –. 
 قومی جغرافیہ کا منطقہ البروج کے تاروں کا نقشہ برج جیمینی کے ساتھ گولائی میں

یہاں تک کہ برج جیمینی میں تاروں کولکیروں سے جوڑنے کے باوجود بھی سچ مچ میں جڑوے کو دیکھنا مشکل ہے –مگر جس طرح سے ہم انسانی تاریخ کو جانتے ہیں یہ نشانی پیچھے کو جاتی ہے –  

بہت عرصہ پہلے کیسٹراور پولکس

  جیمینی کے لئے انجیل کے حوالہ جا ت جب پولس اور اسکے ساتھی روم کے لئے جہاز سے سفر کر رہے تھے اور انہوں نے غور کیا

تِین مہِینے کے بعد ہم اِسکندرِؔیہ کے ایک جہاز پر روانہ ہُوئے جو جاڑے بھر اُس ٹاپُو میں رہا تھا اور جِس کا نِشان دِیُسکُورؔی تھا۔

٨ ٢ :١ ١ اعمال

کیسٹر اور پولکس برج جیمینی میں دو جڑوے کے روایاتی نام ہیں – یہ بتاتا ہے که الہی جڑوے کا خیال لگ بھگ دو ہزار 2000 سال پہلے عا م  تھا –

 جس طرح دیگر منطقہ البروج ستاروں  کے مجمع کے ساتھ کی تصویر ہے اسی طرح یہ  دو جڑووں کی تصویر خود ہی ستاروں کے مجمع کے ساتھ ضروری نہیں ہے – یہ ستاروں کے مجمع کے اندر تخلیقی (پیدائشی) نہیں ہے – بلکہ   دو جڑووں کا  خیال ستاروں  کے علاوہ کسی اور چیز سے پہلے آیا – پہلے کے نجومیوں نے بعد میں اس خیال کو ستاروں پر بچھایا تاکہ ایک متواتر نشان بطور ہو 

منطقہ ال بروج میں برج جیمینی

ذیل میں برج جیمینی کی تصویر کو لالرنگ سے دائرہ کھینچا گیا ہے –یہ منطقہ البروج مصر کے ڈ ینڈ را مندر کی ہے – یہاں آپ کنارے پر کے خاکے میں دو شخص کو بھی دیکھ سکتے ہیں –

ڈ ینڈرا مند ر کا قدیم مصری منطقہ البروج برججمینی کے ساتھ سرخ رنگ سے دائرہ کھینچا ہوا 

قدیم ڈ ینڈ را منطقہ البروج میں دو لوگون میں  سے ایک عورت ہے – بجاۓ اس کے کہ دو نر جڑو ے ہوں یہ منطقہ البروج ایک آدمی اور عورت کے جوڑے کو بطور برج جیمینی دکھاتا ہے –

یہاں برج جیمینی کے عام نجومی تصویریں دکھائی گیئ ہیں –

برج جیمینی کی نجومی تصویر – ہمیشہ ایک جوڑا مگر کبھی کبھی آدمی عورت کے جوڑے کی تصویر یہاں تک کہ  آ ج بھی  

نجومی لوگ کیوں قدیم زمانے سے ہمیشہ – عام طور،  پر ایک جوڑے کے ساتھ برج جیمینی سے جڑ ے  رہے مگر ہمیشہ نر جوڑے کے ساتھ نہیں ؟   

قدیم کہانی میں برج جیمینی

برج کنیا میں ہم نے دیکھا کہ قران شریف اور بائبل مقدّس بیان کرتا ہے کہ الله تعالی نے انسانی تخلیق کی ابتدا سے نشانیوں بطور منطقہ البروج ستاروں کے مجمع (مجموعتالنجوم)  کو بنایا اسنے انھیں ایک کہانی کی نشانی بطور دی تاکہ لکھے  ہوے مکاشفے سے پہلے بنی انسان کی رہنمائی کر سکے   – اس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور انکے بیٹوں نے اپنے بچوں کو الله تعا لی کے منصوبے کی بابت نصیحت دی تھی – برج کنیا کی بابت پیش بینی کی گیئ تھی یہ کنواری کا بیٹا آنے والا نبی حضرت عیسی ال مسیح ہے –

برج جیمینی اس کہانی کو جاری رکھتا ہے – سویھاں تک کہ اگر آپ موجودہ زائچہ کے ادراک میں برج  جیمینی  کے نہیں بھی ہیں تو بھی برج جیمینی کی قدیم نجومی کہانی کو معلوم کرنے کے قابل ہیں-

برج جیمینی کے اصلی معنی

ہم اس کے اصلی معنی کی بابت برج جیمینی کے ناموں سے سمجھ  سکتے ہیں ، جو یو نا نی اور رومی غیر قوم کے دیوتاؤں کی کہانی سے جڑی ہے – جو اب برج جیمینی کے ساتھ شریک ہوئے ہیں غلط بیان کیا گیا ہے –

تاریخ کے درمیا نی زمانہ عربی نجومیوں نے ان تاروں کے مجمع (مجموعہ ت النجوم) کو قدیم زمانہ سے حاصل کیا –کیسٹر  تارے کے عربی  نام ہیں ال – راس ، ال – تاوم ، ا ل مقدم یا "حیثیت میں سب سے بڑھا ہوا سردار جڑوا "-   کیسٹر میں مشہور و معروف وہ تارا ہے جس کا نام تیجت پوسٹرئر ہے جس کے معنی ہیں "پچھلا قدم” یہ کیسٹر کے قدم کا حوالہ دیتا ہے – یہ کبھی کبھی کلیکس  کے نام سے بھی کہلاتا ہے –جس کے معنی ہیں ” ا یڑھی "- دوسرا مشہور و معروف تارا ایک روایاتی نام رکھتا ہے ،”میبسوتاہ ” جو قدیم عربی نام "مبسوتاہ "سے ہے جس کے معنی ہیں "باہر نکلا ہوا پنجہ”- مبسوتا ہ عربی تہذیب میں ببر شیر کے پنجوں کو ظاہر کرتا ہے

پولکس کو دوسرے جڑوے کا سردار بطور جانا گیا ہے – یہ بھی عربی کے ا ل – راس ، ال –توام ،ال موء خرسے ہے –اسکے معنی یہ ظاہر نہیں کرتے کہ دونوں کی پیدایش ایک ہی وقت میں ہوئی ہو بلکی دونوں ملکر تکمیل یا جڑے ہوئے بن جاتے ہیں –توریت شریف اسی لفظ کا استعمال کرتی ہے جہاں ذکر ہے عہد کے صندوق کا دوہرا حصہ جو دو تختیوں سے جڑا تھا –

یہ نِیچے سے دُہرے ہوں اور اِسی طرح اُوپر کے سِرے تک آ کر ایک حلقہ میں مِلائے جائیں۔ دونوں تختے اِسی ڈھب کے ہوں۔ یہ تختے دونوں کونوں کے لِئے ہوں گے۔

٦ ٢ :٤ ٢ خروج

جس طرح عہد کا صندوق دو یختوں سے جڑ کر دوہرا کر دیتا ہے اسی طرح جیمینی دو کو لاکر ملا دیتا ہے یا جوڑ دیتا ہے ، پیدائشی وقت کے ذریعے  سے نہیں بلکی ایک جڑے رہنے کے ذریعے سے – جبکہ کیسٹر”ایڑھی” (برج عقرب) اور ‘ببر شیر کے قدم ‘ (برج اسد) کے ساتھ پہچانا گیا ہے جوکہ حضرت عیسی ال مسیح علیہ اسّلام کی نبوتیں ہیں ، پھر کیسٹرعیسیٰ ال مسیح اسکی واپسی کے لئے نجومی تصویر ہے –

مگر وہ کون ہے جو ا سکے  ساتھ جڑا تھا ؟

عبارت دو تصویریں پیش کرتی ہیں جو برج جیمینی کے دو تصویروں کو سمجھا تی ہے اس بطور کہ  (1 – متحد بھائی  (2 – ایک آدمی اور عورت کا جوڑا –

برج جیمینی – پہلوٹھا اور گود لئے ہوئے بھائی  

مقدّس انجیل سمجھاتی ہے حضرت عیسیٰ ال مسیح علیہ السلام

وہ اَن دیکھے خُدا کی صُورت اور تمام مخلُوقات سے پہلے مَولُود ہے۔

کلسسیوں  ١ :٥ ١

‘ پہلوٹھا ‘ نافذ کرتا ہے که دیگر بچچے بعد میں آ ینگے  – یہ بلکل توثیق کیا ہوا (پککا) ہے  –

کیونکہ جِن کو اُس نے پہلے سے جانا اُن کو پہلے سے مُقرّر بھی کِیا کہ اُس کے بیٹے کے ہم شکل ہوں تاکہ وہ بُہت سے بھائِیوں میں پہلوٹھا ٹھہرے۔

٨ :٩ ٢ رومیو ں

یہ تصویر پیچھے تخلیق کی طرف جاتی ہے جب خدا نے حضرت آدم اور حضرت حوا کو بنایا –

اور خُدا نے اِنسان کو اپنی صُورت پر پَیدا کِیا۔ خُدا کی صُورت پر اُس کو پَیدا کِیا۔ نر و ناری اُن کو پَیدا کِیا۔

١ :٧ ٢ پیدایش  

الله نے حضرت آدم اور حضرت حوا کو اپنی خاص روحانی شبیہ میں بنایا –اسطرح حضرت آدم کہلاتے ہیں

اور وہ انُوس کا اور وہ سیتؔ کا اور وہ آدؔم کا اور وہ خُدا کا تھا۔

لوقا ٣ :٨ ٣

اصلی تصویر بگا ڑی گیئ — اور بحال کی گیئ

جب حضرت آدم  اور حضرت حوا نے خدا کی  نا فرمانی کی انہوں نے اس شبیہ کو فرزندگی سے منسوخ کرتے ہوئے بگاڑ د یا تھا –مگر جب حضرت عیسیٰ ال مسیح ‘ پہلوٹھا بیٹا’ بنکر آئے (یہاں دیکھیں کہ ‘بیٹا’ ہونا (پسریت کیا معنی رکھتا ہے) اس نے اس شبیہ کو بحال کیا – سو اب حضرت عیسیٰ ال مسیح کے وسیلے سے :

لیکن جِتنوں نے اُسے قبُول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔ 13وہ نہ خُون سے نہ جِسم کی خواہِش سے نہ اِنسان کے اِرادہ سے بلکہ خُدا سے پَیدا ہُوئے۔

١ :٢ ١ -٣ ١ یوحنا

انعام جو ہمارے لئے پیش کی گیئ ہے وہ ہے ‘خدا کے فرزند بننے کا حق ‘ – ہم پیدائشی خدا کے فرزند نہیں تھے مگر حضرت عیسیٰ المسیح کے وسیلے سے لے پالک کے ذریعے سے اسکے فرزند  بنے –

لیکن جب وقت پُورا ہو گیا تو خُدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عَورت سے پَیدا ہُؤا اور شرِیعت کے ماتحت پَیدا ہُؤا۔ 

گلتیوں٤ :٤  

یہ برج میزان کے زائچہ کی عبارت تھی –حضرت عیسیٰ ال مسیح کے وسیلے سے اللہ ہمکو اپنا فرزند بطور لے پالک کا درجہ دیتا ہے –وہ اسے انجام دیتا ہے حضرت عیسیٰ ال مسیح   کے انعام کے وسیلے سے  جو کہ پہلوٹھا ہے –

اسکی دوسری آمد پر حضرت عیسیٰ ال مسیح بادشاہ بطور پوری دنیا پر حکومت کرینگے –(مسیح کے معنی کودیکھیں) وہ لوگ جنہیں چھوٹا بھائی بطور لے پالک کا درجہ دیا گیا تھا انکے کردار کے رویا کے ساتھ بائبل ختم ہوتا ہے –

اور پِھر رات نہ ہو گی اور وہ چراغ اور سُورج کی روشنی کے مُحتاج نہ ہوں گے کیونکہ خُداوند خُدا اُن کو رَوشن کرے گا اور وہ ابدُالآباد بادشاہی کریں گے۔

٢ ٢ :٥   مکاشفہ

یہ بائبل میں قریب قریب آخری جملہ ایسا لگتا ہے کہ یہ تمام چیزوں کی تکمیل ہے – وہاں یہ نظر آتا ہے کہ لے پالک (گود لئے ہوئے) بھائی لوگ پہلوٹھے  کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں – قدیم لوگوں نے بہت عرصہ پہلے ہی برج جیمینی میں تصور کر لیا تھا ،حیثیت میں سب سے بڑھا ہوا بطور اور دوسرا ان بھائیوں بطور آسمان  میں حکومت کرتے ہوئے –   

برج جیمینی – آدمی اورعورت متحد

نبیوں نے بھی ایک آدمی اور عورت کی شادی کی یگانگت میں اداکاری نبھائی تاکہ اس رشتے کی تصویر کشی کرے جو مسیح اور اسکے لوگوں کے بیچ پائی جاتی ہے – حوا کے تخلیق کی تفصیلیں اورتخلیق کے ہفتہ میں جمعہ کے  دن آدم کے ساتھ شادی کیا جانا ، یہ ساری باتیں ایک خاص غرض سے تجویز کی گیئ تھی تاکہ مسیح کے ساتھ اس یگانگت کا احساس پہلے سے ہی ہو سکے –اسمیں  روت اور بوعزکی محبّت کی کہانی کی بھی تصویر کشی کی گیئ ہے – انجیل شریف  کا اختتام برّہ (برج میگھ ) اور اسکی دلہن کے بیچ شادی کی تصویر کے ساتھ ہوتا ہے –

آؤ ہم خُوشی کریں اور نِہایت شادمان ہوں اور اُس کی تمجِید کریں۔ اِس لِئے کہ برّہ کی شادی آ پُہنچی اور اُس کی بِیوی نے اپنے آپ کو تیّار کر لِیا۔ 

٩ ١ :٧ مکاشفہ

اختتامی باب ذیل کی دعوت کو دیتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ برّہ اور اسکی دلہن کے بیچ کائناتی یگانگت ہے –

اور رُوح اور دُلہن کہتی ہیں آ اور سُننے والا بھی کہے آ۔ اور جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبِ حیات مُفت لے۔

٢ ٢ :٧ ١ مکاشفہ

برج دلو شادی کریگا او وہ ہمکو دعوت دیتا ہے کہ ہم اسکی وہ دلہن بن جایں –برج جمینی نے بہت پہلے اس کی تصویر کی تھی – برّہ اور اسکی دلہن کا کائناتی یگانگت –

برج جیمینی تحریر میں

   ہوروسکوپ (زا ئچہ) کا یہ لفظ یونانی کے ‘حورو‘ (وقت)سے نکلا ہے اور اس طرح سے اس کے معنی ہیں خاص اوقات کی طرف نشان دہی کرنا –پیغمبرانہ تحریریں برج جیمینی ‘حورو’ کی نشان دہی کرتا ہے –برج جیمینی  وقت (حورو) کے لئے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے اپنی شادی کی ضیافت کی کہانی میں اس طرح سے نشان دہی کی – ٥١

اُس وقت آسمان کی بادشاہی اُن دس کُنوارِیوں کی مانِند ہو گی جو اپنی مشعلیں لے کر دُلہا کے اِستِقبال کو نِکلِیں۔ 2اُن میں پانچ بیوُقُوف اور پانچ عقل مند تِھیں۔ 3جو بیوُقُوف تِھیں اُنہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لِیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لِیا۔ 4مگر عقل مندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کُپِّیوں میں تیل بھی لے لِیا۔ 5اور جب دُلہا نے دیر لگائی تو سب اُونگھنے لگِیں اور سو گئِیں۔ 6آدھی رات کو دُھوم مچی کہ دیکھو دُلہا آ گیا! اُس کے اِستقبال کو نِکلو۔ 7اُس وقت وہ سب کُنوارِیاں اُٹھ کر اپنی اپنی مشعل دُرُست کرنے لگِیں۔ 8اور بیوُقُوفوں نے عقل مندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کُچھ ہم کو بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بُجھی جاتی ہیں۔ 9عقل مندوں نے جواب دِیا کہ شاید ہمارے تُمہارے دونوں کے لِئے کافی نہ ہو۔ بِہتر یہ کہ بیچنے والوں کے پاس جا کر اپنے واسطے مول لے لو۔ 10جب وہ مول لینے جا رہی تِھیں تو دُلہا آ پُہنچا اور جو تیّار تِھیں وہ اُس کے ساتھ شادی کے جشن میں اندر چلی گئِیں اور دروازہ بند ہو گیا۔ 11پِھر وہ باقی کُنوارِیاں بھی آئِیں اور کہنے لگِیں اَے خُداوند! اَے خُداوند! ہمارے لِئے دروازہ کھول دے۔ 12اُس نے جواب میں کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ مَیں تُم کو نہیں جانتا۔ 13پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہ اُس دِن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو۔

متی ٥ ٢ :١ -٣ ١

جب اُس نے دیکھا کہ مِہمان صدر جگہ کِس طرح پسند کرتے ہیں تو اُن سے ایک تمثِیل کہی کہ 

لوقا ٤ ١ :٧

برج جیمینی کے دو اوقات

برج جیمینی کے دو اوقات ہیں –حضرت عیسیٰ ال مسیح نے تعلیم دی کہ یہ یقینی ہے مگر اس وقت کو کوئی نہیں جانتا کہ یہ شادی کب ہوگی اور بہت سے لوگ اس سے چوک جاینگے – یہ ایک اہم بات ہے جو دس کنواریوں کی تمثیل سے لیا گیا ہے – انمیں سے کچھ اس مقرّرہ وقت کے لئے تیار نہیں تھیں – اور اس لئے وہ  چوک گیئیں –مگر وقت کھلے طور سے ٹھہرا رہتا ہے اور د لہا سب کو لگاتار دعوت دئے جا رہا  ہے کہ شادی کی ضیافت میں آ یئں – یہ وہی وقت ہے  جس میں ابھی ہم رہ رہے ہیں – ہم کو صرف اس کے پاس آنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس نے ضیافت کسری تیاریاں کر لی ہے –  

آپکے برج جیمینی کی عبارت

آج برج جیمینی کے زائچہ کو آپ اور میں ذیل کے طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں –

برج جیمینی اعلان کرتا ہے کہ آپ کی سب سے زیادہ اہم رشتے کی دعوت ابھی بھی کھلی ہوئی ہے –آپکو صرف اسی رشتے کے اندر دعوت دی جاتی ہے جو تارے کہیںگے کہ ساری تلا ش کوگہن لگ جاتا ہے کائینات  کے شاہی خاندان میں گود لیا جانا (شریک ہونا) آسمانی شادی میں شامل ہونے بطور ہے – کیونکہ اس میں کبھی کوئی نہ ہلاک ہوگا ، نہ کوئی برباد ہوگا اور نہ کوئی خشک ہوگا (رنگ اتر جانا)- مگر یہ دولہا ہمیشہ کے لئے انتظار نہیں کریگا – اسلئے چوکننے ہوکر ، پر سکون طریقے سے خدا کے فضل پر امید رکھیں جب یہ دولہا اپنی آمد پر ظاہر ہوگا تب  تمھیں دیاجایگا – اپنے آسمانی باپ کے فرمان بردار فرزند کی طرح اپنی زندگی جیئیں –بری خواہشات کے تابع  مت رہو جس طرح  جہا لت  کے زمانے میں جب  آپ جی رہے تھے ان خواہشا ت  کے پابند تھے –

جبکہ آپ خدا باپ کے زریعے بلاۓ گئے ہو جو ہر ایک شخص کا انصاف بغیر طرفداری کے کرتا ہے – الہی خوف میں ہوکر پردیسی اور مسافر کی طرح زندگی گزارو – سب طرح کی دھوکہ بازی سے خود کو پیچھا چھڑاؤ – کینہ ، بغض ، ہرطرح کا فریب ، ریاکاری ، مکاری اس طرح کی تمام برایییوں  سے دور رہو –اور تمہارا سنگارظاہری نا ہو یعنی سر گوندھنا  اور سونے کے زیور اور طرح طرح کے کپڑے پہننا –بلکہ تمھاری باطنی اور پوشیدہ انسانیت ہلم اور مزاج کی غربت کی غیر فانی آرائش سے آراستہ رہے ، کیونکہ  آنے والے دولہے کے نزدیک اسکی بڑی  قدرہے –آخر میں جولوگ آ پ کے آس پاس ہیں انکے ساتھ ہمدرد ، محببتی ، رحمدل اور حلیم بنو – جب یہ باتیں تم میں ہونگی تو جو لوگ آپکے اس پاس ہونگے وہ آپ سے متاثر ہونگے اور وہ بھی اسی شاہی شادی کی ضیافت میں دعوت د ئے جاینگے –                  

برج جیمینی میں گہرائی سے اور منطقہ البروج کی کہانی کے ذریعے

اصلیت میں برج جیمینی تندرستی ، محبّت اور بحالی کے لئے رہنمائی کے فیصلے نہیں لیتا تھا –بلکہ برج جیمینی نے بتایا کہ چھڑانے والا کس طرح سے اپن چھٹکارے کے کام کو پورا کریگا –برج جیمینی بتاتا ہے کہ ہمارا آنے والا لے پالک پن ایک پہلوٹھے  بھائی اور آسمانی شادی کی ضیافت کے لئے ہے

قدیم منطقہ البروج کی کہانی کو اسکے آغاز میں شرو ع کرنے کے لئے برج کنیا کو دیکھیں –منطقہ البروج کی کہانی برج سرطان کے ساتھ جاری رہتی ہے – برج جیمنی  کے گہرائی میں جانے کے لئے دیکھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے