حضرت عیسیٰ المسیح ‘کھوئے’ غدار کو بچاتے ہیں

سورہ اش- شورا(سورہ 42 – صلاح) ہم سے کہتا ہے

یہ وہ (انعام) ہے جس کی خوشخبری اللہ ایسے بندوں کو سناتا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، فرما دیجئے: میں اِس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا مگر (میری) قرابت (اور اللہ کی قربت) سے محبت (چاہتا ہوں) اور جو شخص نیکی کمائے گا ہم اس کے لئے اس میں اُخروی ثواب اور بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا قدر دان ہےo

42:23 سورہ اش – شورا

اور اُن لوگوں کی دعا قبول فرماتا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور اپنے فضل سے انہیں (اُن کی دعا سے بھی) زیادہ دیتا ہے، اور جو کافر ہیں اُن کے لئے سخت عذاب ہےo

42:26سورہ اش – شورا

اسی طرح سوره ال – قصص(سورہ 28 –کہانیاں) بیان کرتا ہے

لیکن جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یقیناً وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگاo

28:67سورہ ال – قصص

مگر کیا ہوگا جب ہم نے ‘راستی کے کام’ نہیں کئےجس طرح سے ایک راستباز کے کام ہوتے ہیں اور اچھے کام سے محروم ہوتے ہیں – حضرت موسیٰ کی شریعت نے سمجھایا ہے کہ کامل فرمان برداری کی ضرورت ہے اور جو اس سے محروم ہوگا اس کے لئے ایک نہایت ‘شدید خمیازہ’ دینا پڑیگا – یہی باتیں ہیں جو سورہ اش- شورا اور سورہ ال – قصص کی آیتیں توثیق کرتی ہیں –نبی حضرت عیسی ال مسیح کی خوش خبری ان لوگوں کے لئے تھی جو راستبازی کے کاموں سے چوک جاتے ہیں جس طرح سے ان آیتوں میں بیان کیا گیا ہے – کیا آپ ان میں سے ہیں جس نے کامل طور سے راستی کے کام نہیں کئے ؟ تو پھر اس ایک شخص کے ساتھ ملاقات کی بابت پڑھئے جسنے راستبازی کے کوئی کام نہیں کئے تھے – یہاں تک کہ وہ شخص ایک بغاوتی بھی تھا –   

حضرت عیسیٰ المسیح نے لعزر کو دوبارہ زندہ کیا۔ اس طرح آپ نے اپنے مشن کو لوگوں کے سامنے اُجاگر کیا۔ اب آپ یروشلیم کی راہ پر تھے۔ تاکہ اپنے مشن کو پورا کرسکیں۔ اس سفر کے دوران آپ کا گزر یریحو(جو ابھی بھی فلسطین کے مغربی کنارے پر واقع ہے) کے شہر سے ہو۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے معجزات اور تعلیمات کے بارے اس شہر کے لوگوں نے سُن رکھا تھا۔ جب اُنہیں پتہ چلا کہ آپ یہاں سے گزر رہے ہیں۔ تو ایک بڑی بھیڑ اُن کا دیدار کرنے آئی۔ اس بیھڑ میں ایک امیر شخص بھی موجود تھا جس کا نام زکائی تھا لیکن لوگ اُس کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ امیر اس لیے تھا کیونکہ وہ رومی حکومت کے لیے ٹیکس وصول کرتا تھا۔ یہودیہ پر رومی حکومت نے ذبردستی قبضہ کر رہ تھا۔ وہ رومی حکومت جاری کردہ ٹیکس سے زیادہ ٹیکس وصول کرتا تھا۔ یہودی نے اس کام کی وجہ سے حقیر جانتے تھے۔ کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا۔ اُس کو لوگ ایک غدار کے طور پر جانتے تھے۔

‘وہ یریحُو میں داخِل ہو کر جا رہا تھا اور دیکھو زکّا ئی نام ایک آدمی تھا جو محصُول لینے والوں کا سردار اور دَولت مند تھا وہ یِسُو ع کو دیکھنے کی کوشِش کرتا تھا کہ کَون سا ہے لیکن بِھیڑ کے سبب سے دیکھ نہ سکتا تھا  اِس لِئے کہ اُس کا قَد چھوٹا تھا پس اُسے دیکھنے کے لِئے آگے دَوڑ کر ایک گُولر کے پیڑ پر چڑھ گیا کیونکہ وہ اُسی راہ سے جانے کو تھا جب یِسُو ع اُس جگہ پُہنچا تو اُوپر نِگاہ کر کے اُس سے کہا اَے زکّا ئی جلد اُتر آ کیونکہ آج مُجھے تیرے گھر رہنا ضرُور ہے وہ جلد اُتر کر اُس کو خُوشی سے اپنے گھر لے گیا جب لوگوں نے یہ دیکھا تو سب بُڑبُڑا کر کہنے لگے کہ وہ تو ایک گُنہگار شخص کے ہاں جا اُترا اور زکّا ئی نے کھڑے ہو کر خُداوند سے کہا اَے خُداوند دیکھ مَیں اپنا آدھا مال غرِیبوں کو دیتا ہُوں اور اگر کِسی کا کُچھ ناحق لے لِیا ہے تو اُس کو چَوگُنا ادا کرتا ہُوں یِسُو ع نے اُس سے کہا آج اِس گھر میں نجات آئی ہے  اِس لِئے کہ یہ بھی ابرہا م کا بیٹا ہے کیونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے   لُوقا 19:1-10

چنانچہ زکائی قد میں چھوٹا تھا۔ اس لیے وہ حضرت عیسیٰ المسیح کو بھیڑ میں دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اور کوئی بھی وہاں اُس کی مدد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انجیل شریف میں رقم ہے کہ کس طرح اُس کی ملاقات آپ سے ہوئی اور کیا گفتگو ہوئی۔

لوگوں کو آپ کی یہ بات اچھی نہ لگی۔ کہ آپ نے خود کو زکائی کے گھر میں مدعو کیا۔ زکائی ایک بُرا شخص تھا اور ہر کوئی یہ جانتا تھا۔ لیکن زکائی نے اپنے بارے میں نشاندہی کہ وہ ایک گنہگار ہے۔ ہم میں سے اکثر اپنے گناہ ہو چھپاتے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ ہم نے کبھی بھی گناہ نہیں کیا۔ لیکن زکائی نے ایسا نہیں کیا تھا۔ وہ جانتا تھا جوکچھ وہ کررہا ہے وہ بُرا ہے بلکہ اپنے لوگوں کے ساتھ غداری ہے۔ پھر بھی اُس نے حضرت عیسیٰ المسیح سے ملنے کی دلیری کی۔ حضرت عیسیٰ المسیح کا ردعمل اتنا سرگرم تھا کہ سب لوگ حیران ہوگے۔

حضرت عیسیٰ المسیح چاہتے تھے کہ زکائی توبہ کرئے۔ اپنے اس گناہ سے باز آئے۔ اور آپ کو مسیح کے طور پر قبول کرلے۔ جب زکائی نے ایسا کیا تو حضرت عیسیٰ المسیح نے اُس کو معاف کردیا۔ آپ نے اعلان کیا کی وہ ‘کھویا ہوا’ تھا لیکن اب بچ گیا /ملا ہے۔

آپ کا میرے اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم نے شاید ایسے ہی کام کیے ہوں جیسے اس زکائی نے شرما دینے والے کیے تھے۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں۔ کہ شاید میں بُرے نہیں ہیں۔ اس لیے ہم اپنی غلطیوں کو چھپاتے ہیں۔ جس طرح حضرت آدم نے اپنی غلطی چھپائی تھی۔ ہم اُمید کرتے ہیں۔ کہ ہم بہت سارے اچھے اعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم اپنے بُرے اعمال کا جرمانہ بھرسکتے ہیں۔ یہ خیال اُس بھیڑ کا تھا۔ جو حضرت عیسیٰ المسیح کو دیکھنے آئی۔ اسلیے حضرت عیسیٰ المسیح نے اُن میں کسی کے گھر جانا پسند نہ کیا اور نہ ہی اُن میں سے کسی کو یہ کہا کہ وہ نجات پاگیا ہے۔ صرف یہ شرف زکائی ہی کو حاصل ہوا۔ یہ ہمارے لیے انتہائی بہتر ہے۔ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کریں۔ اور ان کو نہ چھپائیں۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کو لینے کے حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس جائیں گے۔ تو ہم کو معلوم ہوگا۔ کہ نہ صرف ہم کو معافی مل چکی ہے بلکہ ہمارے اندازے سے بھی بڑھ کر ہم کو بخش دیا گیا ہے۔

لیکن کس طرح زکائی کو قیامت کاانتظار کئے بغیر بد عمل کی معافی کا اُسی لحمے یقین ہوگیا؟ ہم حضرت عیسیٰ المسیح کے یروشلیم کے سفر کے بارے میں مطالعہ جاری رکھیں گے تاکہ ہم اُن کے مشن کے تکمیل اور اپنے سوال کا جواب حاصل کرسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے