قیامت کا پہلا پھل: آپ کے لیے زندگی

ہم نے حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی کے آخری ہفتے کے ہر ایک روز کے واقعات کو باغور مطالعہ کیا ہے۔ جو کہ انجیل شریف میں درج ہے۔اُن کو ہفتے کے آخری دن جو کہ فسح کا دن تھا۔ اُسی روز صلیب پر مصلوب کردیا جاتا ہے۔ فسح یہودیوں کا ایک خاص تہوار ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ المسیح نے سبت والے دن قبر میں آرام کیا۔ جو کہ ہفتے کاساتواں اور پاک دن ماننا جاتا ہے۔  

یہ مقدس تہوار کے بارے حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے تورات شریف میں حکم دے دیا تھا۔ آئیں یہاں پر ان ہدایات کو پڑھتے ہیں

‘اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ۔ بنی اِسرائیل سے کہہ کہ خُداوند کی عِیدیں جِن کا تُم کو مُقدّس مجمعوں کے لِئے اِعلان دینا ہو گا میری وہ عِیدیں یہ ہیں۔

سبت

چھ دِن کام کاج کِیا جائے پر ساتواں دِن خاص آرام کا اور مُقدّس مجمع کا سبت ہے ۔ اُس روز کِسی طرح کا کام نہ کرنا ۔ وہ تُمہاری سب سکُونت گاہوں میں خُداوند کا سبت ہے۔

فسح اور عیدیں

خُداوند کی عِیدیں جِن کا اِعلان تُم کو مُقدّس مجمعوں کے لِئے وقتِ مُعیّن پر کرنا ہو گا سو یہ ہیں۔ پہلے مہِینے کی چَودھوِیں تارِیخ کو شام کے وقت خُداوند کی فَسح ہُؤا کرے۔ ‘ احبار 23: 1-5

کیا یہ دلچسپی اور اتفاق کی بات نہیں ہے؟ کہ حضرت عیسیٰ المسیح کی مصلوبیت اور سبت (آرام) دونوں ایک ہی ساتھ واقع ہوئے۔ جس کے بارے میں ۱۵۰۰ پہلے نبوت کردی گئی تھی۔ جس کو ٹائم لائن میں دیکھایا گیا ہے۔ یہ ایسا کیوں ہے؟

حضرت عیسیٰ المسیح کی موت فسح کے تہوار پر واقع ہوئی جو چھٹا 6 دن تھا۔ اور آرام یعنی سبت 7 ساتویں دن واقع ہوئی

حضرت عیسیٰ المسیح کا یہ تعلق تورات شریف کے تہواروں کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ مندرجہ بالا تورات شریف کے حوالے کا تعلق صرف پہلے دو تہواروں کے ساتھ ہے۔ اگلے تہوار کو پہلے پھلوں کا تہوار کہا گیا ہے اور اس کے بارے میں تورات شریف میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

‘اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا۔ بنی اِسرائیل سے کہہ کہ جب تُم اُس مُلک میں جو مَیں تُم کو دیتا ہوں داخِل ہو جاؤ اور اُس کی فصل کاٹو تو تُم اپنی فصل کے پہلے پَھلوں کا ایک پُولا کاہِن کے پاس لانا۔ اور وہ اُسے خُداوند کے حضُور ہِلائے تاکہ وہ تُمہاری طرف سے قبُول ہو اور کاہِن اُسے سبت کے دُوسرے دِن صُبح کو ہِلائے۔ ‘ احبار 23: 9-11

‘اور جب تک تُم اپنے خُدا کے لِئے یہ چڑھاوا نہ لے آؤ اُس دِن تک نئی فصل کی روٹی یا بُھنا ہُؤا اناج یا ہری بالیں ہرگِز نہ کھانا ۔ تُمہاری سب سکُونت گاہوں میں پُشت در پُشت ہمیشہ یِہی آئِین رہے گا۔ ‘ احبار 23: 14

لہذا سبت کے بعد اور فسح کے تہوار کے بعد تیسرا تہوار تھا۔ ہر سال اس دن سردار کاہن ہیکل  میں داخل ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حضور موسم بہار کی پہلی فصل کے پھل کو ہلاتے ہوئے پیش کرتا ہے۔ یہ اس بات سے تشبی دی جاتی تھی کہ موسمِ سرما جو کہ موت کی علامت کے طور پر جاننا جاتا ہے۔ موسم بہار کو زندگی کے طور پرپیش کیا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ موت کے بعد نئی زندگی کا آغاز۔ اور لوگ ایک شاندار فصل کی اُمید لگاتے تھے تاکہ اُن کے سال بھر کے کھانے کے لیے اناج ہوسکے اور وہ اطمینان کی زندگی بسر کرسکیں۔

یہ بلکل وہی دن تھا جب حضرت عیسیٰ المسیح سبت کے دن موت کی حالت میں قبر میں آرام کررہے تھے۔ اتوار کا دن نسان 16 کو نئے ہفتے کا آغاز ہوا۔ انجیل شریف میں بیان اس طرح درج کیا گیا۔ کہ سردار کاہن ہیکل میں اس نئے ہفتے کے پہلے دن .پہلے پھلوں. کے نذرانے کو چڑھانے گیا تھا۔ جس کو نئی زندگی سے تشبی دی جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل میں یہ بیان درج ہے۔ 

حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں جی اُٹھتے ہیں

یسوع کا دوبارہ جی اٹھنا

24 ہفتہ کے پہلے دن کی صبح جبکہ اندھیرا ہی تھا۔وہ عورتیں جوخوشبو کی چیزیں تیار کی تھیں قبر پر گئیں جہاں یسوع کی میت رکھی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے قبر کے داخلہ پر جو پتھر ڈ ھکا تھا اسکو لڑھکا ہوا پایاوہ اندر گئیں۔ لیکن وہ خداوند یسوع کے جسم کو نہ دیکھ سکیں۔ عورتوں کو یہ بات سمجھ میں نہ آئی تھی اور تعجب کی بات یہ تھی کہ چمکدار لباس میں ملبوس دو فرشتے انکے پاس کھڑے ہو گئے۔ وہ عورتیں بہت گھبرا ئیں اور اپنے چہروں کو زمین کی طرف جھکا کر کھڑی ہو گئیں۔ ان آدمیوں نے کہا، “تم زندہ آدمی کو یہاں کیوں تلاش کر تے ہو ؟ جب کہ یہ تو مُر دوں کو دفنانے کی جگہ ہے! یسوع یہاں نہیں ہے۔ وہ تو دوبارہ جی اٹھا ہے اس نے تم کو گلیل میں جو بات بتا ئی تھی کیا وہ یاد نہیں ہے ؟ کیا یسوع نے تم سے نہیں کہا تھا کہ ابن آدم برے آدمیوں کے حوالے کیا جائیگا اور مصلوب ہوگا پھر تیسرے ہی دن دوبارہ جی اٹھیگا؟” تب ان عورتوں نے یسوع کی باتوں کو یاد کیا۔

جب وہ عورتیں قبرستان سے نکل کر گیارہ رسولوں اور تمام دوسرے ساتھ چلنے والوں کے پاس گئیں تو وہ عورتیں قبر کے پاس پیش آئے سارے واقعات کو ان سے بیان کئے۔ 10 یہ عورتیں مریم مگدینی اور یوانّہ، یعقوب کی ماں مریم ان کے علاوہ دوسری چند عورتیں تھیں۔ ان عورتوں نے پیش آئے ہو ئے ان تمام واقعات کو رسولوں سے بیان کیا۔ 11 لیکن رسولوں نے یقین نہ کیا۔ اور انکو یہ تمام چیزیں دیوانگی کی بات معلوم ہوئی۔12 لیکن پطرس اٹھا دوڑتے ہوئے قبر کی طرف چلا ، جب وہ اندر جا کر جھانک کر دیکھا کہ صرف کفن ہی کفن ہے جس سے یسوع کو لپیٹا گیا تھا۔ پطرس تعجب کرتے ہو ئے وہاں سے چلا گیا۔

اماؤس کے راستے میں

13 اسی دن یسوع کے شاگردوں میں سے دو شاگرد اما ؤس نام کے شہر کو جا رہے تھے اور وہ یروشلم سے تقریباً سات میل کی دوری پر تھا۔ 14 پیش آئے ہوئے ہر واقعہ کے بارے میں وہ باتیں کر رہے تھے۔ 15 جب یہ باتیں کر رہے تھے تو یسوع خود ان کے قریب آئے اور خود انکے ساتھ ہو لئے۔ 16 لیکن کچھ چیزیں ان کو ان کی شناخت کر نے میں رکاوٹ بنیں۔ 17 یسوع نے ان سے پو چھا ، “تم چلتے ہوئے کن واقعات کے بارے باتیں کر رہے ہو؟”وہ دونوں وہیں پر ٹھہر گئے۔ اور انکے چہرے غمزدہ تھے۔ 18 ان میں کلیپاس نامی ایک آدمی نے جواب دیا۔ ہو سکتا ہے “صرف تم ہی وہ آدمی ہو جو یروشلم میں تھے اور نہیں جانتے کہ ان واقعات کو جو کہ گزشتہ چند دنوں میں پیش آئے۔”

19 یسوع نے ان سے پو چھا ، “تم کن چیزوں کے بارے میں آپس میں باتیں کر رہے تھے؟”

انہوں نے اس سے کہا ، یسوع کے بارے میں جو کہ ناصرت کا ہے اور جو خدا کی اور لوگوں کی نظر میں ایک عظیم نبی تھا۔ انہوں نے کئی عجیب و غریب اور طاقتور معجزے دکھا ئے۔ 20 ہمارے قائدین اور کاہنوں کے رہنما اس کو موت کی سزا دلوانے کے لئے اس کو پکڑوایا اور صلیب پر چڑھا دیا۔ 21 ہم اس امید میں تھے کہ یسوع ہی بنی اسرائیلیوں کو چھٹکا رہ دلا ئے گا تمام واقعات پیش آئے

مگر اب ایک اور واقعہ پیش آیاہے اب جب کہ انکو انتقال کئے تین دن ہو ئے ہیں۔ 22 آج ہی ہماری چند عورتیں بڑی ہی عجیب و غریب واقعات سنائے ہیں۔ صبح کے وقت یسوع کی میت رکھی گئی قبر کے پاس دو عورتیں گئیں۔ 23 لیکن وہاں پر اس کی لاش کو نہ پا سکے اور وہ عورتیں واپس ہو گئیں اور کہنے لگیں کہ انہوں نے رویا میں دو فرشتوں کو دیکھا اور ان فرشتوں نے ان سے کہا کہ یسوع زندہ ہے۔ 24 ہمارے گروہ میں سے چند لوگ بھی قبر پر گئے جھانک کر دیکھا اور قبر خالی تھی جیسا کہ عورتوں نے کہا تھا۔”

25 تب یسوع نے ان دو آدمیوں سے کہا “تم احمق ہو اور صداقت قبول کر نے میں تمہارے قلب سست ہیں نبی کی کہی ہوئی ہر بات پر تمہیں ایمان لا نا ہی ہوگا۔ 26 نبیوں نے کہا ہے کہ مسیح کو اس کے جلال میں داخل ہونے سے پہلے تکالیف کو برداشت کر نا ہوگا۔” 27 تب یسوع نے خود کے بارے میں صحیفوں میں لکھی گئی بات پر وضاحت کی اور موسٰی کی شریعت سے شروع کرکے کہ نبیوں نے اس کے بارے میں جو کہا تھا۔ اس نے انکو تفصیل سے سمجھایا۔

28 جب وہ اماوس گاؤں کے قریب پہنچے تو وہ خود اسطرح ظاہر کرنے لگے کہ وہ وہاں ٹھہر نے کے لئے نہیں جا رہے ہیں۔ 29 تب انہوں نے اس سے لگا تار گزارش کی کہ “اب چونکہ وقت ہو چکا ہے اور رات کا اندھیرا چھا جانے کو ہے اسلئے تم ہمارے ساتھ رہو۔” اسلئے وہ انکے ساتھ رہنے کے لئے گاؤں میں چلے گئے۔

30 یسوع ان کے ساتھ کھا نے کے لئے دستر خوان پر بیٹھ گئے۔ اور اس نے تھوڑی سی رو ٹی نکالی۔ اور وہ غذا کے لئے خدا کا شکر ادا کرتا ہوا اس کو توڑ کر انکو دیا۔ 31 تب انہوں نے یسوع کو پہچان لیا کچھ دیر بعد وہ جان گئے کہ یہی یسوع ہیں اور وہ انکی نطروں سے اوجھل ہو گئے۔ 32 وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کر نے لگے کہ “جب راستے میں یسوع ہمارے ساتھ باتیں کر رہے تھے اور صحیفوں کوسمجھا رہے تھے تو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ہم میں آ گ جل رہی ہے۔

33 اس کے فوراً بعد وہ دونوں اٹھے اور یروشلم کو واپس ہو ئے۔ یروشلم میں یسوع کے شاگرد جمع ہو ئے۔ گیارہ رسول اور دوسرے لوگ ان کے ساتھ ا کٹھے ہو ئے۔ 34 انہوں نے کہا ، “خدا وند سچ مچ موت سے دوبارہ جی اٹھے ہیں! وہ شمعون کو نظر آیا ہے۔”

35 تب یہ دونوں راستے میں پیش آئے ہو ئے واقعات کو سنانے لگے اور کہا جب اس نے روٹی کو توڑا تو انہوں نے اسے پہچان لیا۔

یسوع اپنے شاگردوں کو دکھا ئی دیا

36 جب وہ دونوں ان واقعات کو سنا رہے تھے تو تب یسوع شاگردوں کے گروہ کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر ان سے کہا ، “تمہیں سلا متی نصیب ہو۔”

37 تب ساگرد چونک اٹھے۔ اور ان کو خوف ہوا۔ اور وہ خیال کر نے لگے کہ وہ جو دیکھ رہے ہیں شاید کو ئی بھوت ہو۔ 38 لیکن یسوع نے کہا تم کیوں پس وپیش کر رہے ہو؟ اور تم جو کچھ دیکھ سکتے ہو اس پر شک کیوں کرتے ہو؟ 39 تم ہاتھوں اور پیروں کو دیکھو میں تو وہی ہوں! مجھے چھو ؤ۔ اور میرے اس زندہ جسم کو دیکھو۔اور کہا کہ بھوت کا ایسا جسم نہیں ہوتا جیسا کہ میرا ہے۔”

40 یسوع ان سے کہنے کے بعد اپنے ہاتھوں اور پیروں میں واقع ز خموں کے نشان بتا نے لگے۔ 41 شاگرد بہت زیادہ حیرت زدہ ہوئے اور یسوع کو زندہ دیکھ کر بیحد خوش ہو ئے۔ اسکے بعد بھی ان کو کامل یقین نہ آیا۔۔ تب یسوع نے ان سے پوچھا ، “کیا اب تمہارے پاس یہاں کھا نے کو کچھ ہے ؟” 42 تو انہوں نے پکائی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا د یا۔ 43 شاگردوں کے سامنے یسوع نے اس مچھلی کو لیا اور کھا لیا۔

44 یسوع نے ان سے کہا ، “میں اس سے پہلے جب تمہارے ساتھ تھا تو اسوقت کو یاد کرو میرے تعلق سے موسٰی کی شریعت میں اور نبیوں کی کتاب میں زبور میں جو کچھ لکھا ہے اس کو پورا ہونا ہے۔”

45 پھر کتاب مقدس کو سمجھنے کے لئے اس نے انکی عقل کا دروازہ کھول دیا۔ 46 پھر یسوع نے ان سے کہا یہ لکھا گیا ہے کہ مسیح کے مصلوب ہو نے کے تیسرے دن موت سے وہ دوبارہ جی اٹھے گا۔ 47-48 ان واقعات کو پورا ہو تے ہوئے تم نے دیکھا ہے اور تم ہی اس پر گواہ ہو اور کہا تم لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو اپنے گناہوں پر تو بہ کر کے جو کوئی اپنی توجہ خدا کی طرف کر لیتا ہے تو اسکے گناہ معاف ہو نگے تم اس تبلیغ کو یروشلم میں میرے نام سے شروع کرو اور یہ خوشخبری دنیا کے تمام لوگوں میں پھیلاؤ۔

لوقا 24: 1-48

حضرت عیسیٰ المسیح کی فتح

حضرت عیسیٰ المسیح اُس مبارک دن یعنی "پہلے پھلوں” کے تہوار والے دن دشمن پر ایسی فتح حاصل کی۔ کہ اُن کے حواری بھی اس بات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ وہ موت پر فتح پاکر زندہ ہوگے ۔ جیسا کہ انجیل شریف میں رقم ہے۔    

اور جب یہ فانی جِسم بقا کا جامہ پہن چُکے گا اور یہ مَرنے والا جِسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چُکے گا تو وہ قَول پُورا ہو گا جو لِکھا ہے کہ مَوت فتح کا لُقمہ ہو گئی۔ اَے مَوت تیری فتح کہاں رہی؟ اَے مَوت تیرا ڈنک کہاں رہا؟۔ مَوت کا ڈنک گُناہ ہے اور گُناہ کا زور شرِیعت ہے۔ ۱-کُرِنتھِیوں 15: 54-56

لیکن یہ صرف حضرت عیسیٰ المسیح کی ہی فتح نہیں ہے۔ یہ فتح تمہاری اور میرے لیے بھی ہے، جس کو ہمیں پہلے پھلوں کے تہوار پر بخش دیا گیا تھا۔ انجیل شریف اس کو اس طرح بیان کرتی ہے۔

لیکن فی الواقِع مسِیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں اُن میں پہلا پَھل ہُؤا۔ کیونکہ جب آدمی کے سبب سے مَوت آئی تو آدمی ہی کے سبب سے مُردوں کی قِیامت بھی آئی۔ اور جَیسے آدم میں سب مَرتے ہیں وَیسے ہی مسِیح میں سب زِندہ کِئے جائیں گے۔ لیکن ہر ایک اپنی اپنی باری سے ۔ پہلا پَھل مسِیح ۔ پِھر مسِیح کے آنے پر اُس کے لوگ۔ اِس کے بعد آخِرت ہو گی ۔ اُس وقت وہ ساری حُکومت اور سارا اِختیار اور قُدرت نیست کر کے بادشاہی کو خُدا یعنی باپ کے حوالہ کر دے گا۔ کیونکہ جب تک کہ وہ سب دُشمنوں کو اپنے پاؤں تلے نہ لے آئے اُس کو بادشاہی کرنا ضرُور ہے۔ سب سے پِچھلا دُشمن جو نیست کِیا جائے گا وہ مَوت ہے۔ ۱-کُرِنتھِیوں 15: 20-26

حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے "پہلے پھلوں” کے تہوار کو زندہ ہوگئے تھے۔ تاکہ ہم اس بات کو جان سکیں کہ ہم بھی قیامت کے روز موت میں سے جی اُٹھے گے۔ بلکل اسی طرح پہلے پھلوں کے تہوار پر نئی زندگی کا نذرانہ اس بات کی توقع کے ساتھ چڑھایا جاتا تھا۔ کہ بہار کے بعد ایک اچھی خاصی فصل حاصل ہوسکے۔ انجیل شریف ہمیں بتاتی ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے جی اُٹھنے والے پہلے پھل ہیں۔ اس سے یہ توقع کی جاتی ہے۔ کہ جو کوئی اُن پر ایمان لئے آئے گا۔ وہ بھی قیامت کے روز حضرت عیسیٰ المسیح کے بہت سارے پیروں کاروں کے ساتھ مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔  ہم نے تورات شریف اور قرآن شریف میں اس بات کو جانا کہ موت حضرت آدم کے وسیلے دنیا میں آئی۔ انجیل شریف ہمیں بتاتی ہے کہ اسی طرح سب پہلے مُردوں میں جی اُٹھنے کا پہلا وسیلہ حضرت عیسیٰ المسیح بنے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نئی زندگی کا پہلا پھل ہیں۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو مدعو کیا ہے۔

ایسڑ: عیدِ قیامت المسیح کا اتوار

آج اکثر حضرت عیسیٰ المسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے دن کا ایسٹر کے ساتھ حوالہ دیا جاتا ہے، اور جس اتوار کو حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے جی اُٹھے اُس کو ایسٹر کے اتوار سے یاد کیا جاتا ہے۔ دراصل جن الفاظ سے حضرت عیسیٰ المسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کو یاد رکھا جاتا ہے وہ الفاظ اہم نہیں ہیں۔

بلکہ حضرت عیسیٰ المسیح کا پہلے پھلوں کے تہوار والے دن مُردوں میں سے جی اٹھنا اور اس کی پیشن گوئی کی تکمیل اہمیت رکھتی ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے ہی جی نہیں اُٹھتے تو تہواروں کے نام سے کیا فائدہ ملتا؟ جس کو سینکڑوں سال پہلے حضرت موسیٰ نے بتا دیا تھا۔ اور اس میں سے تمہارے اور میرے لیے کیا مطلب نکلتا ہے؟

ٹائم لائن میں نئے ہفتے کے پہلے دن کو اتوار لئے دیکھایا گیا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے پہلے پھلوں کے یہوار والے دن جی اُٹھے کر۔ تمہیں اور مجھ کو موت کے بعد ایک نئی زندگی کی پیشکش کرتے ہیں۔

مبارک جمعہ اور مبارک جمعہ کیوں کہتے ہیں؟

مبارک جمعہ کے حوالے سے یہ ہمارے ایک سوال کا جواب ہے۔ جیسا کہ انجیل شریف میں بیان کیا گیا ہے۔

البتّہ اُس کو دیکھتے ہیں جو فرِشتوں سے کُچھ ہی کم کِیا گیا یعنی یِسُوع کو کہ مَوت کا دُکھ سہنے کے سبب سے جلال اور عِزّت کا تاج اُسے پہنایا گیا ہے تاکہ خُدا کے فضل سے وہ ہر ایک آدمی کے لِئے مَوت کا مزہ چکھّے۔ عِبرانیوں 2:9

جب حضرت عیسیٰ المسیح نے جمعہ کے روز موت کا مزہ چھکا تو اُنہوں نے تمہارے، میرے اور ہر ایک کے لیے اس کو برداشت کیا۔ مبارک جمعہ کا نام اس لیے مبارک ہے کیونکہ یہ ہمارے لیے مبارک ہے۔ اب جب حضرت عیسیٰ المسیح مرُدوں میں سے جی اُٹھے ہیں۔ تو حضرت عیسیٰ المسیح سب کو نئی زندگی کی پیشکش کرتے ہیں۔

قیامت المسیح اور اطمینان قرآن شریف میں

قرآن شریف مختصرً حضرت عیسیٰ المسیح کی قیامت کے بارے میں بات تو کرتا ہےاور بتاتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم دن ہے۔ سورة المریم میں اس کا یوں ذکر ہے۔ لیکن سورة النحرف ۶۱ آیت میں حضرت عیسیٰ المسیح کو قیامت کی نشانی بتا کر اس بات کو اور زیادہ واضح کردیا ہے۔ یہ آیات درج ذیل رقم ہیں۔

اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن مجھے جنم دیا گیا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں زندہ کرکے مبعوث کیا جاؤں گا۔سورة المریم 19: 33

اور وہ (عیسیٰ) قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو یہی سیدھا رستہ ہے۔ سورة الزخرف 43: 61

چونکہ آپ کا مرُدوں میں سے جی اُٹھنا "پہلا پھل” ہے۔ وہ اطمینان حضرت عیسیٰ المسیح کے مُردوں میں جی اُٹھنے کے وسیلے سے اب تمہارے اور میرے لیے موجود ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اس اطمینان کو اپنے خواریوں کو دیا جب آپ نے اُن کو جی اُٹھ کر سلام کیا۔

‘پِھر اُسی دِن جو ہفتہ کا پہلا دِن تھا شام کے وقت جب وہاں کے دروازے جہاں شاگِرد تھے یہُودِیوں کے ڈر سے بند تھے یِسُو ع آ کر بِیچ میں کھڑا ہُؤا اور اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو!۔ اور یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھوں اور پسلی کو اُنہیں دِکھایا ۔ پس شاگِرد خُداوند کو دیکھ کر خُوش ہُوئے۔

یِسُو ع نے پِھر اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو! جِس طرح باپ نے مُجھے بھیجا ہے اُسی طرح مَیں بھی تُمہیں بھیجتا ہُوں۔ اور یہ کہہ کر اُن پر پُھونکا اور اُن سے کہا رُوحُ القُدس لو۔ ‘ یُوحنّا 20:19-22

آج جو سلام مسلمان ایک دوسرے کو کرتے ہیں۔ (اسلام و علیکم) یہ سلام سب سے پہلے حضرت عیسیٰ المسیح نے قیامت یعنی مرُدوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد استعمال کی۔ اور جب ہم آج اسلام و علیکم کہتے ہیں تو دراصل یہ حضرت عیسیٰ المسیح کی سُنت ہے۔
اس وقت حواری بہت زیادہ پریشان حال تھے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے یہ اسلام و علیکم کہہ کر اُن کو یہ بتانے کی کوشش کی۔ کہ میں مُردوں میں جی اُٹھا ہوں اب پریشان ہونے کی بات نہیں تو مجھ پر ایمان لاوں اور تمہاری سلامتی ہوگی۔
ہم کو اس وعدہ کو جس کو حضرت عیسیٰ المسیح نے بتایا تھا۔ اس کو ہر وقت یاد رکھنا چایئے۔ خاص کر ملتے ہیں اور روح القدس کے پھلوں کے بارے بھی سوچتے رہنا چاہیے۔

حضرت عیسیٰ المیسح اور قیامت تفہیم

حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد چالیس دن تک اپنے حواریوں کو نظر آتے رہے۔ یہ قواقعات انجیل شریف میں سے درج کئے گے ہیں۔

لیکن یہ ایک حیرانگیز بات ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح جب پہلی بار اپنے حواریوں میں ظاہر ہوئے تو اُن کا ردعمل بہت مختلف تھا:

مگر یہ باتیں اُنہیں کہانی سی معلُوم ہُوئِیں اور اُنہوں نے اُن کا یقِین نہ کِیا لُوقا 24: 11

حضرت عیسیٰ المسیح کو خود کہنا پڑا۔

پِھر مُوسیٰ سے اور سب نبِیوں سے شرُوع کر کے سب نوِشتوں میں جِتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئی ہیں وہ اُن کو سمجھا دِیں لُوقا 24: 27

 اور بعد میں دوبار یاد کروانا پڑا

پِھر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہیں جو مَیں نے تُم سے اُس وقت کہی تِھیں جب تُمہارے ساتھ تھا کہ ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی تَورَیت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں لُوقا 24: 44

 ہم اس بات پر کیسے یقین کرسکتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہے کہ وہ ہمیں موت سے زندگی بخشنے کا سیدھا راستہ بتا رہا ہے؟ تو پھر ہمیں معلوم ہونا چائے کہ صرف اللہ تعالیٰ کو مستقبیل کا حقیقی علم ہے، تاہم تورات شریف اور زبور شریف میں اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں سینکڑوں سال پہلے نشان دے دیے تھے۔ اور یہ تمام نشان حضرت عیسیٰ المسیح کے وسیلے سے تکمیل کو پہنچے۔ یہ یقین دلانے کے لیے لکھے گے تھے۔

تاکہ جِن باتوں کی تُونے تعلِیم پائی ہے اُن کی پُختگی تُجھے معلُوم ہو جائے لُوقا 1: 4

لہذا ہم آپ کو حضرت عیسیٰ المسیح کی قربانی اور قیامت کے اس اہم موضوع کے بارے میں مزید آگاہ کرسکتے ہیں۔ جس کے لیے نیچے چار مختلف مضامیں کے لنک دستیاب ہیں 

اس مضمون میں تورات (موسیٰ کی شریعت) میں حضرت عیسیٰ المسیح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیئے گئے نشانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس مضمون میں ‘انبیاء اکرام اور زبور شریف’ میں موجود نشانات (پیشنگوئیوں) کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان دو مضامین کا ہدف یہ ہے کہ ہمیں اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائے کہ آیا واقعی ہی ان میں یہ لکھا گیا تھا کہ "مسِیح مصیبت میں مبتلا ہوگا اور تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا” (لوقا 24:46) یعنی ان کتابوں میں۔

یہ مضمون ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ عیسیٰ المسیح سے قیامتِ حیات کے اس تحفہ کو کیسے حاصل کریں۔

اس مضمون میں حضرت عیسیٰ المسیح کے مصلوب ہونے کے بارے میں کچھ الجھنوں کا ازالہ کیا گیا ہے ، جس میں جائزہ لیا گیا ہے کہ قرآن شریف اور مختلف اسلامی علماء نے اس کے بارے میں کیا لکھا ہے۔

ساتوں دن – سبت کا آرام

حضرت عیسیٰ المسیح کے ایک حواری نے اُن کے ساتھ غرداری کی اور اُن کو یہودیوں نے فسح کے تہوار پر مصلوب کر دیا تھا۔ اب اس کو مبارک جمعہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ فسح کا سبت (تہوار) جمعرات کی شام کو شروع ہوا اور جمعہ کو یعنی کے 6 چٹھے دن کی شام کو اختتام پر پہنچا۔ اس دن کا آخری تقریب یہ تھی کہ اُسی دن حضرت عیسیٰ المسیح کی بدن کو دفن کردیا گیا تھا۔ انجیل شریف میں اُن خواتین کے بیان کو درج کیا گیا جو حضرت عیسیٰ المسیح کی پیروکار تھی۔

‘اور اُن عَورتوں نے جو اُس کے ساتھ گلِیل سے آئی تِھیں پِیچھے پِیچھے جا کر اُس قَبر کو دیکھا اور یہ بھی کہ اُس کی لاش کِس طرح رکھّی گئی۔  اور لَوٹ کر خُوشبُودار چِیزیں اور عِطر تیّار کِیا’

لُوقا 23: 55-56

خواتین حضرت عیسیٰ المسیح کے بدن کو خوشبو لگا کر تیار کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن سبت کا دن شروع ہوچکا تھا۔ کیونکہ جمعہ کا سورج غروب ہونا شروع ہوگیا تھا۔ یہ ہفتے کا ساتوں دن ہوتا ہے جس کو یہودی سبت کا دن کہتے ہیں اور یہودیوں کو اس دن کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ حکم تورات شریف میں موجود تخلیقِ کائنات سے تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا تھا۔

اور تورات شریف میں اس طرح درج ہے۔

‘سو آسمان اور زمِین اور اُن کے کُل لشکر کا بنانا ختم ہُؤا۔ اور خُدا نے اپنے کام کو جِسے وہ کرتا تھا ساتویں دِن ختم کِیا اور اپنے سارے کام سے جِسے وہ کر رہا تھا ساتویں دِن فارِغ ہُؤا۔ ‘پَیدایش 2: 1-2

تاہم خواتین جب حضرت عیسیٰ المسیح کے بدن کو خوشبو سے تیار کرنا چاہتی تھیں تو دراصل وہ تورات شریف کے فرمان کو بھجا لارہیں تھیں۔

لیکن خیرانگی کی یہ بات ہے۔ کہ سردار کاہن اور دوسرے کاہنوں نے سبت والے دن بھی کام کرنا نہ چھوڑا۔ اس کے بارے میں انجیل شریف نے بیان کیا ہے کہ وہ گورنر کے ساتھ ملاقات کررہے تھے۔

‘دُوسرے دِن جو تیّاری کے بعد کا دِن تھا سردار کاہِنوں اورفرِیسیِوں نے پِیلا طُس کے پاس جمع ہو کر کہا۔ خُداوند! ہمیں یاد ہے کہ اُس دھوکے باز نے جِیتے جی کہا تھا مَیں تِین دِن کے بعد جی اُٹُھوں گا۔ پس حُکم دے کہ تِیسرے دِن تک قبر کی نِگہبانی کی جائے ۔ کہِیں اَیسا نہ ہو کہ اُس کے شاگِرد آ کر اُسے چُرا لے جائیں اور لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا اور یہ پِچھلا دھوکا پہلے سے بھی بُرا ہو۔ پِیلا طُس نے اُن سے کہا تُمہارے پاس پہرے والے ہیں ۔ جاؤ جہاں تک تُم سے ہو سکے اُس کی نِگہبانی کرو۔ پس وہ پہرے والوں کو ساتھ لے کر گئے اور پتّھرپر مُہرکر کے قبر کی نِگہبانی کی۔’متّی 27: 62-66

اس طرح سبت والے دن سردار کاہنوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کی قبر کو محفوظ بنانے کے لیے محافظوں کو وہاں پر کام کرنے کے لیے مقرر کیا۔
جب کہ حضرت عیسیٰ المسیح کا بدن قبر میں سبت والے دن آرام کررہا تھا اور خواتین مقدس ہفتے کے سبت کو آرام کروہیں تھیں کیونکہ یہ حکم تھا۔

ٹائم لائن اس بات کو دیکھا گیا ہے۔ کہ کس طرح اُن کا سبت والے دن آرام کرنا درصل اللہ تعالیٰ کی پیروی کرنا ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ کائنات کے بعد ۷ ساتویں دن آرام کیا۔

اگلے دن خیران کردینے والی فتح کا منظر پیش ہوا۔ جس کا ہم یہاں پر مطالعہ کرتے ہیں۔

چھٹا 6 دن – عیسیٰ المسیح اور مبارک جمعہ

ہمارا ازلی دشمن شیطان یہوداہ اسکریوتی میں پانچویں 5 دن داخل ہوگیا تاکہ وہ حضرت عیسیٰ المسیح کے ساتھ  غداری کرے۔ اگلے  چھٹے 6 دن کی شام کو حضرت عیسیٰ المسیح نے اپنے حواریوں (حواری جن کو شاگرد بھی کہا جاتا ہے)  کے ساتھ آخری کھانا کھایا۔ کھانے کی میز پر آپ نے اپنے حواریوں کو تعلیم دی کہ ایک دوسرے سے محبت رکھیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی عظیم محبت کے بارے میں تعلیم دی۔ آپ نے جس طرح اپنے حواریوں کو تعلیم دی وہ یہاں انجیل شریف میں بالکل اُسی طرح درج ہے۔ انجیل مقدس بیان کرتی ہے کہ اس کے بعد کیا واقعہ ہوا۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی باغ میں گرفتاری

‘یِسُو ع یہ باتیں کہہ کر اپنے شاگِردوں کے ساتھ قِدرو ن کے نالے کے پار گیا ۔وہاں ایک باغ تھا ۔ اُس میں وہ اور اُس کے شاگِرد داخِل ہُوئے۔ اور اُس کا پکڑوانے والا یہُودا ہ بھی اُس جگہ کو جانتا تھا کیونکہ یِسُو ع اکثر اپنے شاگِردوں کے ساتھ وہاں جایا کرتا تھا۔ پس یہُودا ہ سِپاہِیوں کی پلٹن اور سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں سے پیادے لے کر مشعلوں اور چراغوں اور ہتھیاروں کے ساتھ وہاں آیا۔ یِسُو ع اُن سب باتوں کو جو اُس کے ساتھ ہونے والی تِھیں جان کر باہر نِکلا اور اُن سے کہنے لگا کہ کِسے ڈُھونڈتے ہو؟۔ اُنہوں نے اُسے جواب دِیا یِسُوع ناصری کو ۔ یِسُوع نے اُن سے کہا مَیں ہی ہُوں اور اُسکا پکڑوانے والا یہُودا ہ بھی اُن کے ساتھ کھڑا تھا۔ اُس کے یہ کہتے ہی کہ مَیں ہی ہُوں وہ پِیچھے ہٹ کر زمِین پر گِرپڑے۔ پس اُس نے اُن سے پِھر پُوچھا کہ تُم کِسے ڈُھونڈتے ہو؟ اُنہوں نے کہا یِسُو ع ناصری کو۔ یِسُوع نے جواب دِیا کہ مَیں تُم سے کہہ تو چُکا کہ مَیں ہی ہُوں ۔ پس اگر مُجھے ڈُھونڈتے ہو تو اِنہیں جانے دو۔ یہ اُس نے اِس لِئے کہا کہ اُس کا وہ قَول پُورا ہو کہ جِنہیں تُو نے مُجھے دِیا مَیں نے اُن میں سے کِسی کو بھی نہ کھویا۔ پس شمعُو ن پطرس نے تلوار جو اُس کے پاس تھی کھینچی اور سردار کاہِن کے نَوکر پر چلا کر اُس کا دہنا کان اُڑا دِیا ۔ اُس نَوکر کا نام ملخُس تھا۔ یِسُوع نے پطر س سے کہا تلوار کو مِیان میں رکھ ۔ جو پیالہ باپ نے مُجھ کو دِیا کیا مَیں اُسے نہ پِیُوں؟۔ تب سِپاہِیوں اور اُن کے صُوبہ دار اور یہُودِیوں کے پیادوں نے یِسُوع کو پکڑ کر باندھ لِیا۔ اور پہلے اُسے حنّا کے پاس لے گئے کیونکہ وہ اُس برس کے سردار کاہِن کائِفا کا سُسر تھا۔ ‘

یُوحنّا 18: 1-13

حضرت عیسیٰ المسیح یروشلیم سے باہر صرف دعاکرنے کے لیے گئےتھے۔ یہوداہ اسکریوتی سپاہیوں کو لے آیا تاکہ آپ کو گرفتار کریں۔ اگر ہم اس طرح کی بےانصافی کا سامنا کریں تو شاید ہم اس کےخلاف لڑنا شروع کردیں ۔ یا پھر ڈر کے مارے بھاگ جائیں یا پھر چُھپ جائیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ المسیح نے نہ تو اس سے ڈر کے بھاگے اور نہ ہی اُن کے ساتھ لڑنا شروع کردیا۔ آپ نے بڑی دلیری سے اس بات کا اقرار کیا کہ آپ وہی نبی ہیں جس کی تلاش میں وہ سپاہی تھے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے واضع اعتراف ("میں ہوں”) کی وجہ سے سپاہی اور اُن کے ساتھ گرپڑے اور اُن کے ساتھی وہاں سے بھاگ گئے۔ آپ نے اپنے آپ کو گرفتار ہونے کے حوالے کردیا اور وہ تحقیقات کرنے کے لیے آپ کو حنّا کے گھر لیے گے۔

پہلی تفتیش

انجیل شریف بیان کرتی ہے کہ کس طرح اُنہوں نے حضرت عیسیٰ الممسیح کی تحقیق کی:

‘پِھرسردار کاہِن نے یِسُو ع سے اُس کے شاگِردوں اور اُس کی تعلِیم کی بابت پُوچھا۔ یِسُو ع نے اُسے جواب دِیا کہ مَیں نے دُنیا سے عِلانِیہ باتیں کی ہیں ۔ مَیں نے ہمیشہ عِبادت خانوں اور ہَیکل میں جہاں سب یہُودی جمع ہوتے ہیں تعلِیم دی اور پوشِیدہ کُچھ نہیں کہا۔ تُو مُجھ سے کیوں پُوچھتا ہے؟ سُننے والوں سے پُوچھ کہ مَیں نے اُن سے کیا کہا ۔ دیکھ اُن کو معلُوم ہے کہ مَیں نے کیا کیا کہا۔ جب اُس نے یہ کہا تو پیادوں میں سے ایک شخص نے جو پاس کھڑا تھا یِسُو ع کے طمانچہ مار کر کہا تُو سردار کاہِن کو اَیسا جواب دیتا ہے؟۔ یِسُو ع نے اُسے جواب دِیا کہ اگر مَیں نے بُرا کہا تو اُس بُرائی پر گواہی دے اور اگر اچھّا کہا تو مُجھے مارتا کیوں ہے؟۔ پس حنّا نے اُسے بندھا ہُؤا سردار کاہِن کائِفا کے پاس بھیج دِیا۔ ‘

یُوحنّا 18: 19-24ا

حضرت عیسیٰ المسیح سابقہ سردار کاہین کی عدالت سے اُس سال کے سردار کاہین کی عدالت میں دوسری تحیق کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔

دوسری تفتیش

وہاں پر آپ کو تمام یہودی راہنماوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ انجیل شریف اس کے بارے میں یوں پیش کرتی ہے۔

‘پِھر وہ یِسُو ع کو سردار کاہِن کے پاس لے گئے اور سب سردار کاہِن اور بزُرگ اور فقِیہہ اُس کے ہاں جمع ہو گئے۔ اور پطر س فاصِلہ پر اُس کے پِیچھے پِیچھے سردار کاہِن کے دِیوان خانہ کے اندر تک گیا اور پیادوں کے ساتھ بَیٹھ کر آگ تاپنے لگا۔ اور سردار کاہِن اور سب صدرِعدالت والے یِسُو ع کو مار ڈالنے کے لِئے اُس کے خِلاف گواہی ڈُھونڈنے لگے مگر نہ پائی۔ کیونکہ بُہتیروں نے اُس پر جُھوٹی گواہِیاں تو دِیں لیکن اُن کی گواہِیاں مُتفِق نہ تِھیں۔ پِھربعض نے اُٹھ کراُس پر یہ جُھوٹی گواہی دی کہ۔ ہم نے اُسے یہ کہتے سُنا ہے کہ مَیں اِس مَقدِس کو جو ہاتھ سے بنا ہے ڈھاؤں گا اور تِین دِن میں دُوسرا بناؤں گا جو ہاتھ سے نہ بنا ہو۔ لیکن اِس پر بھی اُن کی گواہی مُتّفِق نہ نِکلی۔ پِھر سردار کاہِن نے بِیچ میں کھڑے ہو کر یِسُو ع سے پُوچھا کہ تُو کُچھ جواب نہیں دیتا؟یہ تیرے خِلاف کیا گواہی دیتے ہیں؟۔ مگر وہ خاموش ہی رہا اور کُچھ جواب نہ دِیا ۔ سردار کاہِن نے اُس سے پِھر سوال کِیا اور کہا کیا تُو اُس ستُودہ کا بیٹا مسِیح ہے؟۔ یِسُو ع نے کہا ہاں مَیں ہُوں اور تُم اِبنِ آدم کو قادِرِ مُطلق کی دہنی طرف بَیٹھے اور آسمان کے بادلوں کے ساتھ آتے دیکھو گے۔ سردار کاہِن نے اپنے کپڑے پھاڑ کر کہا اب ہمیں گواہوں کی کیا حاجت رہی؟۔ تُم نے یہ کُفر سُنا ۔ تُمہاری کیا رائے ہے؟ اُن سب نے فتوےٰ دِیا کہ وہ قتل کے لائِق ہے۔ تب بعض اُس پر تُھوکنے اور اُس کا مُنہ ڈھانپنے اور اُس کے مُکّے مارنے اور اُس سے کہنے لگے نبُوّت کی باتیں سُنا!اور پیادوں نے اُسے طمانچے مار مار کر اپنے قبضہ میں لِیا۔ ‘

مرقس 14: 53-65

یہودی راہنماوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کی موت کی سزا سنادی۔ لیکن اُن وقت یروشلیم رومی حکومت کے ماتحت تھا۔ اس لیے رومن گورنر کے علاوہ کوئی سزائے موت کو جاری نہیں کرسکتا تھا۔ لہذا وہ حضرت عیسیٰ المسیح کو رومی گورنر پینتس پلاطس کے پاس لے آئے۔ انجیل مقدس میں اس بات کے بارے میں بتایا گیا کہ اُس وقت یہوداہ اسکریوتی جس نے اللہ کے نبی سے غداری کی تھی اُس کے ساتھ کیا ہوا۔

غدار یہوداہ اسکریوتی کے ساتھ کیا ہوا؟

‘جب صُبح ہُوئی تو سب سردار کاہِنوں اور قَوم کے بُزُرگوں نے یِسُو ع کے خِلاف مشورَہ کِیا کہ اُسے مار ڈالیں۔ اور اُسے باندھ کر لے گئے اور پِیلا طُس حاکِم کے حوالہ کِیا۔ جب اُس کے پکڑوانے والے یہُودا ہ نے یہ دیکھا کہ وہ مُجرِم ٹھہرایا گیا تو پچھتایا اور وہ تِیس رُوپَے سردار کاہِنوں اور بُزُرگوں کے پاس واپس لا کر کہا۔ مَیں نے گُناہ کِیا کہ بے قُصُور کو قتل کے لِئے پکڑوایا اُنہوں نے کہا ہمیں کیا؟ تُو جان۔ اور وہ رُوپَیوں کو مَقدِس میں پَھینک کر چلا گیا اور جا کر اپنے آپ کو پھانسی دی۔ سردار کاہِنوں نے رُوپَے لے کر کہا اِن کو ہَیکل کے خزانہ میں ڈالنا روا نہیں کیونکہ یہ خُون کی قِیمت ہے۔ پس اُنہوں نے مشورَہ کر کے اُن رُوپَیوں سے کُمہار کا کھیت پردیسِیوں کے دفن کرنے کے لِئے خرِیدا۔ اِس سبب سے وہ کھیت آج تک خُون کا کھیت کہلاتا ہے۔ ‘

متّی 27: 1-8

حضرت عیسیٰ المسیح کی تفتیش رومی گورنر کرتا ہے۔

‘یِسُو ع حاکم کے سامنے کھڑا تھا اور حاکِم نے اُس سے یہ پُوچھا کہ کیا تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے؟ یِسُو ع نے اُس سے کہا تُو خُود کہتا ہے۔ اور جب سردار کاہِن اور بُزُرگ اُس پر اِلزام لگا رہے تھے اُس نے کُچھ جواب نہ دِیا۔ اِس پر پِیلا طُس نے اُس سے کہا کیا تُو نہیں سُنتا یہ تیرے خِلاف کِتنی گواہیاں دیتے ہیں؟۔ اُس نے ایک بات کا بھی اُس کو جواب نہ دِیا ۔ یہاں تک کہ حاکِم نے بُہت تَعجُّب کِیا۔ اور حاکِم کا دستُور تھا کہ عِید پر لوگوں کی خاطِر ایک قَیدی جِسے وہ چاہتے تھے چھوڑ دیتا تھا۔ اُس وقت برا بّا نام اُن کا ایک مشہُور قَیدی تھا۔ پس جب وہ اِکٹّھے ہُوئے تو پِیلا طُس نے اُن سے کہا تُم کِسے چاہتے ہو کہ مَیں تُمہاری خاطِر چھوڑ دُوں؟برا بّا کو یا یِسُو ع کو جو مسِیح کہلاتا ہے؟۔ کیونکہ اُسے معلُوم تھا کہ اُنہوں نے اِس کو حسد سے پکڑوایا ہے۔ اور جب وہ تختِ عدالت پر بَیٹھا تھا تو اُس کی بِیوی نے اُسے کہلا بھیجا کہ تُو اِس راستباز سے کُچھ کام نہ رکھ کیونکہ مَیں نے آج خواب میں اِس کے سبب سے بُہت دُکھ اُٹھایا ہے۔ لیکن سردار کاہِنوں اور بُزُرگوں نے لوگوں کو اُبھارا کہ برا بّا کو مانگ لیں اور یِسُو ع کو ہلاک کرائیں۔ حاکِم نے اُن سے کہا کہ اِن دونوں میں سے کِس کو چاہتے ہو کہ تُمہاری خاطِر چھوڑ دُوں؟ اُنہوں نے کہا برا بّا کو۔ پِیلا طُس نے اُن سے کہا پِھریِسُو ع کو جو مسِیح کہلاتا ہے کیا کرُوں؟ سب نے کہا وہ مصلُوب ہو۔ اُس نے کہا کیوں اُس نے کیا بُرائی کی ہے ؟ مگر وہ اَور بھی چِلاّ چِلاّ کر کہنے لگے وہ مصلُوب ہو۔ جب پِیلا طُس نے دیکھا کہ کُچھ بَن نہیں پڑتا بلکہ اُلٹا بلوا ہوتا جاتا ہے تو پانی لے کرلوگوں کے رُوبرُو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا مَیں اِس راستباز کے خُون سے بری ہُوں۔ تُم جانو۔ سب لوگوں نے جواب میں کہا اِس کا خُون ہماری اور ہماری اَولاد کی گردن پر!۔ اِس پر اُس نے برا بّا کو اُن کی خاطِر چھوڑ دِیا اور یِسُو ع کو کوڑے لگوا کر حوالہ کِیا کہ مصلُوب ہو۔ ‘

متّی 27:11-26

حضرت عیسیٰ المسیح کی مصلوبیت، انتقال اور تدفین

انجیل شریف بیان کرتی ہے کہ کیسے حضرت عیسیٰ المسیح کو مصلوب کیا گیا تھا۔ اس کے بارے میں یہاں درج ہے۔

‘اِس پر حاکِم کے سِپاہِیوں نے یِسُو ع کو قلعہ میں لے جا کر ساری پلٹن اُس کے گِرد جمع کی۔ اور اُس کے کپڑے اُتار کر اُسے قِرمزی چوغہ پہنایا۔ اور کانٹوں کا تاج بنا کر اُس کے سر پر رکھّا اور ایک سرکنڈا اُس کے دہنے ہاتھ میں دِیا اور اُس کے آگے گُھٹنے ٹیک کر اُسے ٹھٹّھوں میں اُڑانے لگے کہ اَے یہُودِیوں کے بادشاہ آداب!۔ اور اُس پر تُھوکا اور وُہی سرکنڈا لے کر اُس کے سر پر مارنے لگے۔ اور جب اُس کاٹھٹّھا کر چُکے تو چوغہ کو اُس پر سے اُتار کر پِھراُسی کے کپڑے اُسے پہنائے اور مصلُوب کرنے کو لے گئے۔ جب باہر آئے تو اُنہوں نے شمعُو ن نام ایک کُرینی آدمی کو پا کر اُسے بیگار میں پکڑا کہ اُس کی صلِیب اُٹھائے۔ اور اُس جگہ جو گُلگُتا یعنی کھوپڑی کی جگہ کہلاتی ہے پُہنچ کر۔ پِت مِلی ہُوئی مَے اُسے پِینے کو دی مگر اُس نے چکھ کر پِینا نہ چاہا۔ اور اُنہوں نے اُسے مصلُوب کیا اور اُس کے کپڑے قُرعہ ڈال کر بانٹ لِئے۔ اور وہاں بَیٹھ کر اُس کی نِگہبانی کرنے لگے۔ اور اُس کا اِلزام لِکھ کر اُس کے سر سے اُوپر لگا دِیا کہ یہ یہُودِیوں کا بادشاہ یِسُو ع ہے۔ اُس وقت اُس کے ساتھ دو ڈاکُو مصلُوب ہُوئے ۔ ایک دہنے اور ایک بائیں۔ اور راہ چلنے والے سر ہِلا ہِلا کر اُس کولَعن طَعن کرتے اور کہتے تھے۔ اَے مَقدِس کے ڈھانے والے اور تِین دِن میں بنانے والے اپنے تئِیں بچا ۔ اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو صلِیب پر سے اُتر آ۔ اِسی طرح سردار کاہِن بھی فقِیہوں اور بُزُرگوں کے ساتھ مِل کر ٹھٹّھے سے کہتے تھے۔ اِس نے اَوروں کو بچایا ۔ اپنے تئِیں نہیں بچا سکتا ۔ یہ تو اِسرا ئیل کا بادشاہ ہے ۔ اب صلِیب پر سے اُتر آئے تو ہم اِس پر اِیمان لائیں۔ اِس نے خُدا پر بھروسا کِیا ہے اگر وہ اِسے چاہتا ہے تو اب اِس کو چُھڑا لے کیونکہ اِس نے کہا تھا مَیں خُدا کا بیٹا ہُوں۔ اِسی طرح ڈاکُو بھی جو اُس کے ساتھ مصلُوب ہُوئے تھے اُس پر لَعن طَعن کرتے تھے۔ اور دوپہر سے لے کرتِیسرے پہر تک تمام مُلک میں اندھیرا چھایا رہا۔ اور تِیسرے پہر کے قرِیب یِسُو ع نے بڑی آواز سے چِلاّ کر کہا ایلی ۔ ایلی ۔ لَما شَبقتَنِی؟ یعنی اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دِیا؟۔ جو وہاں کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے سُن کر کہا یہ ایلیّاہ کو پُکارتا ہے۔ اور فوراً اُن میں سے ایک شخص دَوڑا اور سپنج لے کر سِرکہ میں ڈبویا اور سرکنڈے پر رکھ کر اُسے چُسایا۔ مگر باقِیوں نے کہا ٹھہر جاؤ ۔ دیکھیں تو ایلیّاہ اُسے بچانے آتا ہے یا نہیں۔ یِسُو ع نے پِھر بڑی آواز سے چِلاّ کر جان دے دی۔ اور مَقدِس کا پردہ اُوپر سے نِیچے تک پھٹ کر دو ٹُکڑے ہو گیا اور زمِین لرزی اور چٹانیں تڑک گئِیں۔ اور قبریں کُھل گئِیں اور بُہت سے جِسم اُن مُقدّسوں کے جو سو گئے تھے جی اُٹھے۔ اور اُس کے جی اُٹھنے کے بعد قبروں سے نِکل کر مُقدّس شہر میں گئے اور بُہتوں کو دِکھائی دِئے۔ پس صُوبہ دار اور جو اُس کے ساتھ یِسُو ع کی نِگہبانی کرتے تھے بَھونچال اور تمام ماجرا دیکھ کر بُہت ہی ڈر کر کہنے لگے کہ بیشک یہ خُدا کا بیٹا تھا۔ اور وہاں بُہت سی عَورتیں جو گلِیل سے یِسُو ع کی خِدمت کرتی ہُوئی اُس کے پِیچھے پِیچھے آئی تِھیں دُور سے دیکھ رہی تِھیں۔ اُن میں مریم مگدلِینی تھی اور یعقو ب اور یوسیس کی ماں مریم اور زبد ی کے بیٹوں کی ماں۔ ‘

متّی 27:27-56

حضرت عیسیٰ المسیح کے پہلو کو چھیدا

یوحنا کی انجیل میں اس واقعہ کی دلچسپ تفصیلات درج ہیں۔ جو اس طرح ہیں۔

‘پس چُونکہ تیّاری کا دِن تھا یہُودِیوں نے پِیلا طُس سے درخواست کی کہ اُن کی ٹانگیں توڑ دی جائیں اور لاشیں اُتار لی جائیں تاکہ سبت کے دِن صلِیب پر نہ رہیں کیونکہ وہ سبت ایک خاص دِن تھا۔ پس سِپاہِیوں نے آ کر پہلے اور دُوسرے شخص کی ٹانگیں توڑِیں جو اُس کے ساتھ مصلُوب ہُوئے تھے۔ لیکن جب اُنہوں نے یِسُو ع کے پاس آ کر دیکھا کہ وہ مَر چُکا ہے تو اُس کی ٹانگیں نہ توڑِیں۔ مگر اُن میں سے ایک سِپاہی نے بھالے سے اُس کی پَسلی چھیدی اور فی الفَور اُس سے خُون اور پانی بَہہ نِکلا۔ جِس نے یہ دیکھا ہے اُسی نے گواہی دی ہے اور اُس کی گواہی سچّی ہے اور وہ جانتا ہے کہ سچ کہتا ہے تاکہ تُم بھی اِیمان لاؤ۔ یہ باتیں اِس لِئے ہُوئِیں کہ یہ نوِشتہ پُورا ہو کہ اُس کی کوئی ہڈّی نہ توڑی جائے گی۔ پِھر ایک اَور نوِشتہ کہتا ہے کہ جِسے اُنہوں نے چھیدا اُس پر نظر کریں گے۔ ‘

یُوحنّا 19: 31-37

حضرت یوحنا جو کہ آپ کے حواری تھے اُنہوں نے دیکھا کہ رومی فوجی نے آپ کے پہلو میں نیزے سے چھید کیا۔ اس کے بعد اُس جگہ سے خون اور پانی بہہ نکلا جس کا مطلب ہے۔ کہ آپ کی موت دل کے کام نہ کرنے کی وجہ سے ہوئی۔

انجیل شریف چھٹے 6 دن کے آخری واقعہ دفن کرنا تھا۔

‘جب شام ہُوئی تو یُوسُف نام ارِمَتِیا ہ کا ایک دَولتمند آدمی آیا جو خُود بھی یِسُو ع کا شاگِرد تھا۔ اُس نے پِیلا طُس کے پاس جا کر یِسُو ع کی لاش مانگی اور پِیلا طُس نے دے دینے کا حُکم دِیا۔ اور یُوسُف نے لاش کو لے کر صاف مہِین چادر میں لپیٹا۔ اور اپنی نئی قبر میں جو اُس نے چٹان میں کُھدوائی تھی رکھّا ۔پِھر وہ ایک بڑا پتّھر قبر کے مُنہ پر لُڑھکا کر چلا گیا۔ اور مریم مگدلِینی اور دُوسری مریم وہاں قبر کے سامنے بَیٹھی تِھیں۔ ‘

متّی 27: 57-61

چھٹا 6 دن- مبارک جمعہ

یہودی کیلنڈر کے مطابق پر روز غروبِ آفتاب پر شروع ہوتا ہے۔ لہذاہفتے کا چھٹا 6 دن کی شام کو شروع ہوا جب حضرت عیسیٰ المسیح اپنے حواریوں کےساتھ آخری کھانا کھا رہے تھے۔ اور اس دن کے اختتام تک آپ کو گرفتار کیا گیا، کئی بار تفتیش کی گئی، مصلوب کیاگیا اور پسلی کو چیھدا گیا اور دفن کردیا گیا۔ اس دن کو اکثر مبارک جمعہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے: کیسے ایک نبی کی گرفتاری، آزمائش، مصیبت، مصلوبیت اور دفن ہونے والا دن مبارک دن ہوسکتا ہے؟ کیوں مبارک جعمہ بُرا جمعہ نہیں ہے؟  

یہ ایک بہت ہی اہم سوال ہے جس کا ہم جواب انجیل مقدس میں سے اگلے دنوں  کے حوالوں میں سے دیں گے۔ یہ ایک بہت ہی ایم سوال ہے۔ اس کا جواب ہم اگلے دن کےحوالاجات میں سے دیں گے۔ لیکن اس سلسلے میں اس ٹائم لائن میں ایک اشارہ دیا گیا ہے۔ اگر ہم اس جمعہ کو جو نسان کی 14 پر غور کرنے سے ملتا ہے۔ اس فسح کے دن پر یہودی برہ کی قربانی دیتے تھے جو کہ 1500 سال پہلے مصر کی غلامی سے نجات والے دن کی گئی تھی۔

چھٹا 6 دن – جمعہ – حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی کا آخری ہفتہ اور یہودی تورات کے قواعد و ضوابط کے ساتھ موازنہ

زیادہ تر اکاونٹس لوگوں کی موت پر ختم ہوجاتے ہیں۔ لیکن انجیل مقدس اس بات کو جاری رکھتی ہے۔ اس لیے ہم اس بات کو جان سکتے ہیں کیوں اس دن کو مبارک جمعہ کے طور پر یاد کرسکتے ہیں۔ اگلے دن سبت تھا جو کہ ہفتے کا 7ساتوں دن ہے۔

دن 5 – شیطان حضرت عیسیٰ المسیح پرحملہ کرتا ہے

حضرت عیسیٰ المسیح نے آخری ہفتے کے چوتھے دن اپنی زمین پر واپسی کے بارے میں پیشنگوئی۔ انجیل مقدس میں مرقوم ہے کہ کس طرح یہودی راہنماآپ کو گرفتار کرنا چاہتے تھے۔ شیطان نے یہودی راہنماوں کو آپ پر حملہ کے لیے استعمال کیا۔ یہاں پر یہ واقعہ درج ہے۔

‘اور عِیدِ فطِیر جِس کو عِیدِ فَسح کہتے ہیں نزدِیک تھی اور سردار کاہِن اور فقِیہہ موقع ڈُھونڈ رہے تھے کہ اُسے کِس طرح مار ڈالیں کیونکہ لوگوں سے ڈرتے تھے اور شَیطان یہُودا ہ میں سمایا جو اِسکریوتی کہلاتا اور اُن بارہ میں شُمار کِیا جاتا تھا اُس نے جا کر سردار کاہِنوں اور سِپاہیوں کے سرداروں سے مشورَہ کِیا کہ اُس کو کِس طرح اُن کے حوالہ کرے وہ خُوش ہُوئے اور اُسے رُوپَے دینے کا اِقرار کِیا اُس نے مان لِیا اور مَوقع ڈُھونڈنے لگا کہ اُسے بغَیر ہنگامہ اُن کے حوالہ کر دے۔

لُوقا 22: 1-6

ہم اس میں سے دیکھ سکتے ہیں۔ کہ شیطان نے اس بات سے فائدہ اُٹھایا اور یہوداہ میں داخل ہوگیا تاکہ وہ حضرت عیسیٰ المسیح پر حملہ کرسکے۔ ہمیں اس پر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ قران شریف میں شیطان کے بارے میں یوں بیان کرتا ہے۔

اور کہہ دے میرے بندوں کہ بات وہی کہیں جو بہتر ہو شیطان جھڑپ کرواتا ہے ان میں شیطان ہے انسان کا دشمن صریح

                                                                                                            نبی اسرائیل 17: 53

اور مزید حوالہ جات (الزخرف 43: 62، یس 36: 60، البقرہ 2: 168)

انجیل شریف کے اختتام میں شیطان کے بارے میں بیان کیا گیا۔

‘پِھر آسمان پر لڑائی ہُوئی ۔ مِیکائیل اور اُس کے فرِشتے اژدہا سے لڑنے کو نِکلے اور اژدہا اور اُس کے فرِشتے اُن سے لڑے۔ لیکن غالِب نہ آئے اور اِس کے بعد آسمان پر اُن کے لِئے جگہ نہ رہی۔ اور وہ بڑا اژدہا یعنی وُہی پُرانا سانپ جو اِبلِیس اور شَیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گُمراہ کر دیتا ہے زمِین پر گِرا دِیا گیا اور اُس کے فرِشتے بھی اُس کے ساتھ گِرا دِئے گئے۔ ‘

مُکاشفہ 12 :7-9

شیطان تمہارا ازلی دشمن ہے۔ یہاں پر ڈریگن کی حیران کردینے والی تصویر دکھائی گئی ہے۔ جس سے وہ دنیا کو گمراہ کرتا ہے۔ اس نے ماضی میں حضرت عیسیٰ المسیح کو ٓازمایا لیکن کامیاب نہ ہوا۔ اب اس دشمن نے یہوداہ اسکریوتی کو اپنے کنٹرول میں کرکے حضرت عیسیٰ المسیح کوہلاک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس طرح انجیل شریف میں درج ہے۔

‘اور وہ اُس وقت سے اُس کے پکڑوانے کا موقع ڈُھونڈنے لگا۔ ‘   متّی 26:16

اگلے دن جو کہ 6 چھٹا دن تھا۔ یہ وہ فسح کا تہوار تھا جس کو حضرت موسیٰ نے 1500 سال پہلے شروع کیا تھا۔ کس طرح شیطان نے یہوداہ اسکریوتی کے زریعے اس پاک دن کو موقع ڈھونڈا؟ ہم اس کے بارے میں اگلے مضمون میں پڑھتے ہیں۔

پانچویں 5 دن کا خلاصہ

اس ٹائم لائن میں دکھایا گیا ہے۔ کہ ہفتے کے پانچویں 5 دن ، عظیم ڈریگن جو شیطان کیسے اپنے سب سے بڑے دشمن پر حملہ کرتا ہے۔ جو کہ حضرت عیسیٰ المسیح پر حملہ تھا۔

شیطان، عظیم ڈریگن یہوداہ اسکریوتی میں داخل ہوتا ہے اور حضرت عیسیٰ المسیح پر حملہ کرتا ہے۔