قدیم منطقہ ال بروج میں برج اسد

آج کے زائچہ میں اگر آپ کی پیدایش جولائی 24 اور اگست 23 کے درمیان ہوئی ہے تو آپ برج اسد کے ہیں –یہ ببر شیر کے لئے لاطینی لفظ ہے- اس موجودہ زائچہ  میں نجومی منطقہ البروج کی تشریح میں برج جدی کے لئے آپ سائچہ کی صلاح کا پیچھا کرتے ہیں کہ آپ اپنی  شخصیت  کے  لئے محبّت ، خوش قسمت ،دولت اور بصیرت کی تلاش کرتے ہیں –-

مگر قدیم لوگوں نے برج جیمینی کو کیسے پڑھا ؟ ان کے لئے اسکے کیا معنی رکھتے تھے ؟

ہوشیار ہو جایں ! اس کا جواب دیتے ہوئے آپکو ایک فرق سفر کے منصوبے لے جاتے ہوئے آپ کے ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) غیر واضح طور سے کھلیگا –پھر آپ اپنے زائچہ کی نشانی کو جانچتے ہوئے ارادہ کیۓ جاؤگے

برج اسد کے تاروں کا مجمع (مجموعہ ت النجوم)

یہاں تاروں کے  مجمع کی ایک تصویر جو برج اسد کی شکل بناتا ہے –کیا آپ تاروں کی اس تصویر میں ایسی کوئی چیز دیکھ سکتے ہیں جو ایک ببر شیر کی شکل بناتا ہو ؟

 برج اسد کے تاروں کے مجمع کی تصویر –کیا آپ ایک ببر شیر کودیکھ سکتے ہیں ؟ 

برج اسد کے تاروں کے مجمع کی تصویر –کیا آپ ایک ببر شیر کودیکھ سکتے ہیں ؟ 

یہاں تک کہ اگر ہم برج اسد میں تاروں کو ان کی لکیروں سے جوڑتے ہیں تو بھی ایک ببر شیر کی تصویر کو ‘دیکھنا’ مشکل ہے

تاروں کے ساتھ برج اسد کے تاروں کا مجمع لکیروں سے جڑے ہوئے جن کے نام رکھے گئے ہیں

یہاں ایک قومی جغرافیہ کا منطقہ البروج کے تاروں کا نقشہ ہے جسے برج اسد کے ساتھ شمالی حصّے کے نصف کرّہ میں دکھایا گیا ہے – 

  قومی جغرافیہ کے تاروں کا نقشہ برج اسد کے ساتھ سرخ رنگ میں دائرہ کھینچا ہوا

اس نقشے سے کس طرح لوگوں نے ایک ببر شیر کی تصویر کو پہچانا ؟ مگر جہاں تک ہم جانتے ہیں برج اسد انسانی تاریخ میں پیچھے کو جاتا ہے –

جس طرح دیگر منطقہ البروج ستاروں  کے مجمع کے ساتھ کی تصویر ہے اسی طرح یہ  برج اسد  کی تصویر خود ہی ستاروں کے مجمع کے ساتھ ضروری نہیں ہے – یہ ستاروں کے مجمع کے اندر تخلیقی (پیدائشی) نہیں ہے – بلکہ  برج اسد کا  خیال ستاروں  کے علاوہ کسی اور چیز سے پہلے آیا – پہلے کے نجومیوں نے بعد میں اس خیال کو ستاروں پر بچھایا تاکہ ایک متواتر نشان بطور ہو-

کیوں ؟

قدیم ہونے کا کیا مطلب تھا ؟ 

منطقہ ال بروج میں برج اسد

یہاں برج اسد کے کچھ عام نجومی تصویریں ہیں  

تاروں میں برج اسد
.ر  برج  اسد پنجہ مارنے کے لئے تیا

مصر کے ڈ ینڈ را مندر میں برج اسد کے ساتھ ایک منطقہ البروج کی تصویر پر غور کریں – برج اسد کو سرخ رنگ سے دائرہ کھینچا گیا ہے –

مصر  کے ڈ  ینڈ را مندر کے قدیم منطقہ بروج میں برج اسد 

. مصر  کے ڈ  ینڈ را مندر کے قدیم منطقہ بروج میں برج اسد   

قدیم منطقہ البروج کی کہانی میں برج اسد

برج کنیا کے ساتھ ہم نے دیکھا کہ قران شریف اور بائبل (کتاب مقدّس) بیانکڑتے ہیں کہ الله تعا لی نے ستاروں کا مجمع (مجموعه النجوم) کو بنایا  – اسنے انکو بنی انسان کی رہنمائی کرتے ہوئے ایک کہانی کی نشانی دی جب تک کہ ایک لکھا ہوا مکاشفہ نہیں دیا گیا تھا –اس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور انکے بیٹوں نے اپنے بچوں کو الله تعا لی کے منصوبے کی بابت نصیحت دی تھی-

برج اسد کہانی کو ختم کرتا ہے – سویہاں تک کہ اگر آپ ایک برج اسد کے ‘نہیں’  بھی ہیں تو بھی موجودہ زائچہ کے ذہن میں برج اسد کی قدیم نجومی کہانی معلوم کرنے کے قابل ہے –

برج اسد کے اصلی معنی

 توریت شریف میں حضرت یعقوب نے یہود ا کے قبیلے کی بابت نبوت کی –

یہُوداؔہ شیرِ بَبر کا بچّہ ہے۔ اَے میرے بیٹے! تُو شِکار مار کر چل دِیا ہے۔ وہ شیرِ بَبر بلکہ شیرنی کی طرح دَبک کر بَیٹھ گیا۔ کَون اُسے چھیڑے؟ 10یہُوداؔہ سے سلطنت نہیں چھُوٹے گی اور نہ اُس کی نسل سے حُکُومت کا عصا موقُوف ہو گا۔  جب تک شِیلوؔہ نہ آئے اور قَومیں اُس کی مُطِیع ہوں گی

٩ ٤ :٩ -٠ ١ پیدائش

  حضرت یعقوب نے اعلان کیا کہ ایک حکومت کرنے والا آ ئیگا  اور ‘وہ’ ایک ببر شیر کی شکل کا ہوگا – وہ ‘قوموں’ کو اپنی حکومت میں شامل کریگا اور وہ بنی اسرائیل کے یہود ا  کے قبیلہ سے ہوگا – حضرت عیسیٰ ال مسیح یہود ا کے قبیلہ سے آئے اور مسیحا بطور مسح کئے گیئے – مگر اس آمد پر اس نے حکومت کا باگ ڈ ور نہیں سمبھالا –وہ ابھی لوگوں کو بچا رہا ہے اپنی دوسری آمد کے لئے –اورجب وہ آییگا ایک ببر شیر کی مانند حکومت کرنے کے لئے آییگا –یہی وہ بات ہے جسکی برج اسد نے تصویر کشی کی تھی –

 ڈ ینڈ را کے قدیم منطقہ البروج میں برج اسد کا شیرسانپ کو روندتے ہوئے   

قرون وسطی کے نقاشی (رنگ سازی) میں برج اسد حا یڈ را پر پنجہ مارتے ہوئے 

تب میں نے اس کے دہنے ہاتھ میں دیکھا جو تخت پر بیٹھا تھا اور اس کتاب کو دونوں طرف لکھنے والی کتاب تھی اور سات مہروں پر مہر لگا دی تھی۔ 2 اور میں نے ایک طاقتور فرشتہ کو اونچی آواز میں یہ اعلان کرتے ہوئے دیکھا ، "مہروں کو توڑنے اور اس کتاب کو کھولنے کے قابل کون ہے؟” 3 لیکن آسمان میں یا زمین میں یا زمین کے نیچے کوئی بھی کتاب نہیں کھول سکتا تھا اور نہ ہی اس کے اندر دیکھ سکتا تھا۔ 4 میں نے روتے ہو we رویا کیوں کہ کوئی نہیں ملا کہ کون اس کتاب کو کھولنے یا اندر دیکھنے کا اہل تھا۔ 5 تب ایک بزرگ نے مجھ سے کہا ، "رو مت! دیکھو ، یہوداہ کے قبیلے کا شیر ، داؤد کی جڑ ، فاتح ہوگیا ہے۔ وہ کتاب اور اس کی سات مہریں کھول سکتا ہے۔

مکاشفہ 5: 1-5

اپنے پہلے آنے پر شیر نے اپنے دشمن پر فتح حاصل کی اور اسی طرح وہ مہریں کھولنے کے قابل ہے جو آخر میں آتے ہیں۔ یہ بات ہم قدیم رقم میں لیو کو اپنے دشمن ہائیڈرا ناگ پر نوٹ کر کے دیکھتے ہیں۔

تاروں کے مجمع کا نقشہ – برج اسد سانپ کے سر کو پکڑنے جا رہا ہے


تاروں کی مجلس کا نقشہ – برج اسد سانپ کے سر کو پکڑنے والا ہے

فتح مند ببرشیر

اس آمد کو دیکھتے ہوئے عبارت بیان کرتی ہے کی یہودا کا ببر شیر ہی اس پوشیدہ مہر کئے ہوئے طومار کو کھولنے لایق تھا –

اور جو تخت پر بَیٹھا تھا مَیں نے اُس کے دہنے ہاتھ میں ایک کِتاب دیکھی جو اندر سے اور باہِر سے لِکھی ہُوئی تھی اور اُسے سات مُہریں لگا کر بند کِیا گیا تھا۔ 2پِھر مَیں نے ایک زورآور فرِشتہ کو بُلند آواز سے یہ مُنادی کرتے دیکھا کہ کَون اِس کِتاب کو کھولنے اور اُس کی مُہریں توڑنے کے لائِق ہے؟ 3اور کوئی شخص آسمان پر یا زمِین پر یا زمِین کے نِیچے اُس کِتاب کو کھولنے یا اُس پر نظر کرنے کے قابِل نہ نِکلا۔ 4اور مَیں اِس بات پر زار زار رونے لگا کہ کوئی اُس کِتاب کو کھولنے یا اُس پر نظر کرنے کے لائِق نہ نِکلا۔ 5تب اُن بزُرگوں میں سے ایک نے مُجھ سے کہا کہ مَت رو۔ دیکھ۔ یہُوداؔہ کے قبِیلہ کا وہ بَبر جو داؤُد کی اصل ہے اُس کِتاب اور اُس کی ساتوں مُہروں کو کھولنے کے لِئے غالِب آیا۔

٥ :١ -٣ مکاشفہ  

ببر شیر اپنی پہلی آمد  پر دشمنوں پر فتحمند ہوا تھا ، اور اس لئے اب وہ زمانے کے آخر میں مہریں  کھولنے لایق  ہے –اسکو ہم قدیم منطقہ البروج میں برج اسد کو اپنے دشمن پر حاوی ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں –اس سانپ کا نام حآ ئڈ را ہے (پنیا یا بہت سروں والا سانپ) –اسے یونانی دیو مالا بھی کہتے ہیں –

منطقہ البروج کی کہانی کا خاتمہ

سانپ کے ساتھ ببر شیر کی لڑائی کا ارادہ صرف یہ نہیں تھا کہ اسکو شکست دے ، بلکہ یہ کہ اس پر حکومت بھی کرے – ذیل کی عبارت کے ساتھ ببر شیرکی حکومت کی تصویر پیش کی گیئ ہے –

1پِھر مَیں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمِین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمِین جاتی رہی تھی اور سمُندر بھی نہ رہا۔ 2پِھر مَیں نے شہرِ مُقدّس نئے یروشلِیم کو آسمان پر سے خُدا کے پاس سے اُترتے دیکھا اور وہ اُس دُلہن کی مانِند آراستہ تھا جِس نے اپنے شَوہر کے لِئے سِنگار کِیا ہو۔ 3پِھر مَیں نے تخت میں سے کِسی کو بُلند آواز سے یہ کہتے سُنا کہ دیکھ خُدا کا خَیمہ آدمِیوں کے درمِیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکُونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خُدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خُدا ہو گا۔ 4اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسُو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ مَوت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چِیزیں جاتی رہیِں۔ 5اور جو تخت پر بَیٹھا ہُؤا تھا اُس نے کہا دیکھ مَیں سب چِیزوں کو نیا بنا دیتا ہُوں۔ پِھر اُس نے کہا لِکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔ 6پِھر اُس نے مُجھ سے کہا یہ باتیں پُوری ہو گئِیں۔ مَیں الفا اور اومیگا یعنی اِبتدا اور اِنتِہا ہُوں۔ مَیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مُفت پِلاؤُں گا۔ 7جو غالِب آئے وُہی اِن چِیزوں کا وارِث ہو گا اور مَیں اُس کا خُدا ہُوں گا اور وہ میرا بیٹا ہو گا۔

١ ٢ :١ -٧   مکاشفہ  

اور مَیں نے اُس میں کوئی مَقدِس نہ دیکھا اِس لِئے کہ خُداوند خُدا قادِرِ مُطلِق اور برّہ اُس کا مَقدِس ہیں۔ 23اور اُس شہر میں سُورج یا چاند کی رَوشنی کی کُچھ حاجت نہیں کیونکہ خُدا کے جلال نے اُسے رَوشن کر رکھّا ہے اور برّہ اُس کا چراغ ہے۔ 24اور قَومیں اُس کی رَوشنی میں چلیں پِھریں گی اور زمِین کے بادشاہ اپنی شان و شَوکت کا سامان اُس میں لائیں گے۔ 25اور اُس کے دروازے دِن کو ہرگِز بند نہ ہوں گے (اور رات وہاں نہ ہو گی)۔ 26اور لوگ قَوموں کی شان و شَوکت اور عِزّت کا سامان اُس میں لائیں گے۔ 27اور اُس میں کوئی ناپاک چِیز یا کوئی شخص جو گِھنَونے کام کرتا یا جُھوٹی باتیں گھڑتا ہے ہرگِز داخِل نہ ہو گا مگر وُہی جِن کے نام برّہ کی کِتابِ حیات میں لِکھے ہُوئے ہیں۔

١ ٢ :٢  ٢ -٧ ٢ مکاشفہ  

اس رویے میں ہم منطقہ البروج کی تکمیل اور اتمام کو دیکھتے ہیں ہم دلہن اور اسکے شوہر کو دیکھتے ہیں ؛ خدا اور اسکے فرزند وں کو دیکھتے ہیں – برج جیمینی میں میں دو طرفہ تصویر کو دیکھتے ہیں –ہم ندی کے پانی کو دیکھتے ہے جو برج دلو میں وعد ہ کیا گیا ہے –پرانے موت کا حکم دیکھتے ہیں برج حرت کے چاروں طرف بندھن کے ذرئیعے تصویر کشی کیا گیا کی وہ وہاں آگے کو نہیں ہے –بھیڑ وہاں رہتی ہے –جو برج میگھ کی تصویر کشی کرتا ہے –اور مر د وں میں سے زندہ ہوئے لوگ ، برج سرطان کی تصویر کشی کرتا ہے – اس کے ساتھ جیو –برج میزان کا ترازو ، اب توازن یہ کہتا ہے کہ جو نا پاک ہیں وہ کبھی بھی خدا کی بادشا ہی میں داخل نہیں ہونگے – ہم دیکھتے ہیں کہ تمام قوموں کے بادشاہ ، با دشاہوں کے بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند ال- مسیح کے اختیار کے ماتحت میں حکومت کرتے ہیں –جس کی شروعات برج کنیا کے بیج سے ہوتا ہے اور اس کا خاتمہ اس ببر شیر کے ظہور کے ساتھ ہوتا ہے

منطقہ البروج کی کہانی کے ضمانتی 

ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ببر شیر نے شروعات میں ہی سانپ جو شیطان ہے اسکو برباد کیوں نہیں کیا ؟ اسکو تمام منطقہ البروج کے ابواب سے ہوکر کیوں جانا پڑا ؟ جب حضرت عیسیٰ ال مسیح نے اسکے دشمن برج عقرب کا سامنا کیا تو اس وقت کے ساتھ اسنے علامت دی –

اب دُنیا کی عدالت کی جاتی ہے۔ اب دُنیا کا سردار نِکال دِیا جائے گا۔ 

یوحنا ٢ ١ :١ ٣

اس دنیا کا حکمران ، شیطان ، ہمکو انسانی سپروں (ڈھالوں) کی طرح استعمال کر رہا تھا – جب ایک زورآ ور (زبردست) فوجی طاقت ہوتی ہے تو دہشت گرد اکثر عام شہریوں کےپیچھے ہوجاتے ہیں –ایسے حالات میں پولیس کے لئے دونوں طرف سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کی دہشت گردوں کو مارتے وقت کہیں عام لوگ مارے نہ جایں – جب شیطان حضرت آدم اور حضرت حوا کو آزمانے میں کامیاب ہوا تب اس نے خود کے لئے ایک انسانی سپر کا ایجاد کیا – شیطان جانتا تھا کہ خالق ہر طرح سے سچا منصف ہے اور اگر وہ گناہ کی سزا دیتا ہے تو وہ اپنی عدالت میں راستباز ہے ، اور اسکو تمام گناہوں کی سزا د ینا ضروری ہے –اگر خدا شیطان کو برباد کردیتا توپھر شیطان (جس کے معنی ہیں تہمت  لگانے والا) وہ ہم پر یونہیں ہماری غلطیوں (خطاؤں) پر الزام لگاتا جو ہمارے انصاف کے لئے اسکے ساتھ ضروری تھا –

دوسرے طریقے سے دیکھنے پر ، ہماری نا فرمانی نے ہمکو شیطان کے قانونی قابو کے تحت لے آیا ہے – اگر الله اسکواسی وقت  برباد کر دیتا تو اسکو ہمیں بھی برباد کر دینا تھا کیونکہ ہم بھی شیطان کی نافرمانی میں پکڑے گئے تھے (شامل تھے) –      

عدالت سے پہلے خلاصی کی ضرورت

          سو شیطان  کی ما نگ کے مطابق ہمکو خلاصی کی ضرورت تھی تاکہ اس پر کا کوئی بھی  انصاف ہم پر بھی عاید ہو – اس لئے ہمکو اپنے گناہوں سے چھٹکارے کی ضرورت ہے –انجیل شریف اس کو اس طرح سے سمجھاتی ہے :

ور اُس نے تُمہیں بھی زِندہ کِیا جب اپنے قصُوروں اور گُناہوں کے سبب سے مُردہ تھے۔ 2جِن میں تُم پیشتر دُنیا کی روِش پر چلتے تھے اور ہوا کی عمل داری کے حاکِم یعنی اُس رُوح کی پَیروی کرتے تھے جو اَب نافرمانی کے فرزندوں میں تاثِیر کرتی ہے۔ 3اِن میں ہم بھی سب کے سب پہلے اپنے جِسم کی خواہِشوں میں زِندگی گُذارتے اور جِسم اور عقل کے اِرادے پُورے کرتے تھے اور دُوسروں کی مانِند طبعی طَور پر غضب کے فرزند تھے۔

٢ :١ -٣ افسیوں      

ہمارا فدیہ اب دے دیا گیا ہے

اس کی قربانی میں جس طرح برج مکر میں تصویر کشی کی گیئ ہے حضرت عیسیٰ ال مسیح نے خدا کے غضب کو اپنے اوپر لے لیا – اسنے ہمارے لئے فدیہ ادا کیا تاکہ ہم آزاد ہو ہو جایں –

مگر خُدا نے اپنے رَحم کی دَولت سے اُس بڑی مُحبّت کے سبب سے جو اُس نے ہم سے کی۔ 5جب قصُوروں کے سبب سے مُردہ ہی تھے تو ہم کو مسِیح کے ساتھ زِندہ کِیا۔ (تُم کو فضل ہی سے نجات مِلی ہے)۔ 6اور مسِیح یِسُوعؔ میں شامِل کر کے اُس کے ساتھ جِلایا اور آسمانی مقاموں پر اُس کے ساتھ بِٹھایا۔ 7تاکہ وہ اپنی اُس مِہربانی سے جو مسِیح یِسُوعؔ میں ہم پر ہے آنے والے زمانوں میں اپنے فضل کی بے نِہایت دَولت دِکھائے۔ 8کیونکہ تُم کو اِیمان کے وسِیلہ سے فضل ہی سے نجات مِلی ہے اور یہ تُمہاری طرف سے نہیں۔ خُدا کی بخشِش ہے۔ 9اور نہ اَعمال کے سبب سے ہے تاکہ کوئی فخر نہ کرے۔ 

٢ :٤ -٩ افسیوں

الله کا ارادہ لوگوں کے انصاف کے لئے کبھی بھی یہ نہیں تھا کہ انھیں جہنّم میں بھیجا جاۓ – بلکہ اس نے جہنّم کو شیطان کے لئے بنایا تھا –پر اگر وہ شیطان (ابلیس) پر اسکی بغاوت کے لئے انصاف کرتا ہےتو اسکو انکے لئے بھی وہی کرنا پڑیگا جن کا فدیہ نہیں ہوا ہے –

پِھر وہ بائیں طرف والوں سے کہے گا اَے ملعُونو میرے سامنے سے اُس ہمیشہ کی آگ میں چلے جاؤ جو اِبلِیس اور اُس کے فرِشتوں کے لِئے تیّار کی گئی ہے۔ 

٥ ٢ :١ ٤ متی

ہمارے طریقے کا بچاؤ اب کر د یا گیا ہے

یہی وجہ تھی کہ حضرت عیسیٰ ال مسیح نے صلیب پر بڑی فاتح حاصل کی – اس نے ہمکو قانونی حق سے آزاد کیا جو شیطان نے ہم پر نافذ کردیا تھا –اب اس سے پہلے کہ شیطان ہم کو مارے عیسیٰ ال مسیح شیطان کو مار سکتا ہے – مگر ہمکو شیطان کی حکومت سے بچاؤ کا چناؤ کرنا پڑیگا – برج اسد فی الحال کے لئے پیچھے سے سانپ کے حملے سے روکے ہوئے ہے کہ لوگ اسکے اس انصاف سے بچے رہیں –

9خُداوند اپنے وعدہ میں دیر نہیں کرتا جَیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تُمہارے بارے میں تحمُّل کرتا ہے اِس لِئے کہ کِسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی تَوبہ تک نَوبت پُہنچے۔

2 پطرس٣ :٩  

یہی وجہ ہے کہ آج ہم خود کو ابھی بھی اس آخری حملے کا جو شیطان کے خلاف ہے انتظار کر رہے ہیں جسے برج قوس میں تصویر کشی کی گیئ ہے اور ابھی بھی آخری عدالت کے انتظار میں ہے جیسے برج ٹور دکھایا گیا ہے –مگر اسکی جو تحریر ہے وہ ہمکو خبردار کرتی ہے –

10لیکن خُداوند کا دِن چور کی طرح آ جائے گا۔ اُس دِن آسمان بڑے شور و غُل کے ساتھ برباد ہو جائیں گے اور اَجرامِ فلک حرارت کی شِدّت سے پِگھل جائیں گے اور زمِین اَور اُس پر کے کام جَل جائیں گے۔

2 پطرس٣ :٠ ١   

 قدیم تحریروں میں برج اسد کا زائچہ

ہوروسکوپ (زا ئچہ) کا یہ لفظ یونانی کے ‘حورو‘ (وقت)سے نکلا ہے اور اس طرح سے اس کے معنی ہیں خاص گھڑیوں یا اوقات کی طرف نشان دہی کرنا- تحریریں برج اسد کے وقت (حورو) ذیل کے مطابق نشان دھی کرتا ہے –

اور وقت کو پہچان کر اَیسا ہی کرو۔ اِس لِئے کہ اب وہ گھڑی آ پُہنچی کہ تُم نِیند سے جاگو کیونکہ جِس وقت ہم اِیمان لائے تھے اُس وقت کی نِسبت اب ہماری نجات نزدِیک ہے۔ 

٣ ١ :٠ ١ رومیوں

یہ ا علا ن کرتا ہے کہ ہم ان لوگوں جیسے ہیں جو ایک عمارت میں سو رہے ہوں اور اس عمارت میں آگ لگی ہوئی ہے – ہم کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے ! یہی وہ وقت (حورو) ہے کہ جاگ جایں کیونکہ برج اسد آ رہا ہے –گرجنے والا شیر شیطان کو ماریگا اور اسے برباد کریگا جبکہ ساری قانونی حکومت اس کے ہاتھ میں ہے –   

آپ کے برج اسد کے زائچہ کی عبارت

آپ برج اسد کے زائچہ کی عبارت کو اسطرح سے استعمال کر سکتے ہیں

برج اسد آپ سے کہتا ہے اخیر دنوں میں ایسے ہنسی ٹھٹھا  کرنے والے آ ینگے جو اپنی بری خواہشوں کے موافق چلیںگے ، اورکہیںگے کہ "اسکے آنے کا وعدہ  کہاں گیا ؟ کیونکہ  جب سے باپ دادا سوئے ہیں اس وقت سے اب تک سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا کھلخت کے شرو سے تھا "- وہ تو جان بوجھ کر یہ بھول گئے کہ خدا کے پاس انصاف ہے اور وہ انصاف کریگا اور پھر جو کچھ دنیا میں ہے وہ برباد ہو جایگا –

جب یہ سب چیزیں اس طرح سے برباد ہونے والی ہیں تو آپ کو کس طرح کا شخص ہونا چاہئے ؟ تمہیں پاک چال چلن اور دینداری میں کیسا کچھ ہونا چاہئے ؟ اور خدا کے اس دن کے آنے کا کیسا کچھ منتظراورمشتاق رہنا چاہئے – اس دن آسمان آ گ سے پگھل جاینگے اور اجرام فلک حرارت کی شدّت سے گل جاینگے –لیکن اسکے وعدے کے موافق ہم نے آسمان اور نیئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی –

پس جب تم ان باتوں کے منتظر ہواس لئے اسکے سامنے اطمینان کی حالت میں بے داغ اور بے عیب  نکلنے کی کوشش کرو – اور ہمارے خداوند کے تہممل کو اپنے لئے اور جو تمھارے آس پاس ہیں انکے لئے نجات سمجھو-اور چونکہ تم پہلے سے آگاہ ہو اس لئے ہوشیار رہو تاکہ بے دینوں کی گمراہی کی طرف کھنچ کر اپنی مضبوطی کو چھوڑ نہ دو –  

قدیم منطقہ البروج کی کہانی برج کنیا سے شرو ع ہوئی – برج  اسد  کی گہرائی میں جانے کے لئے دیکھیں 

قدیم منطقہ البروج میں برج سرطان

سرطان عام طور پرایک کیکڑا بطور تصویر کھینچتا ہے اور کیکڑے کیلئے لاطینی لفظ سرطان ہے – اورآ ج  کے زائچہ میں اگر آپ کی پیدایش 22 جون سے لیکر 23 جولائی کےدرمیان ہے تو آپ برج سرطان کے ہیں –منطقہ البروج کے اس مجودہ نجومی زائچہ کی تحریرمیں برج سرطان کے لئے  آپ زائچہ کی نصیحت کا پیچھا کرتے ہیں  کہ آپ اس میں محبّت ، خوش قسمتی ، تندرستی اور بصیرت کو اپنی شخصیت میں تلاش کر سکیں –    

مگر قدیم لوگوں نے برج سرطان کو کیسے پڑھا ؟ ان کے لئے اسکے کیا معنی رکھتے تھے ؟ 

ہوشیار ہو جایں ! اس کا جواب دیتے ہوئے آپکو ایک فرق سفر کے منصوبے لے جاتے ہوئے آپ کے ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) غیر واضح طور سے کھلیگا –پھر آپ اپنے زائچہ کی نشانی کو جانچتے ہوئے ارادہ کیۓ جاؤگے —

برج سرطا ن کے نجومی ستاروں کا مجمع (مجموعہ ت النجوم)

یہاں برج سرطانکے ستاروں کے مجمع کی ایک تصویر ہے – کیا آپ ان ستاروں میں ایک کیکڑے کی شکل بناتے ہوئے کوئی چیز دیکھ سکتے ہیں ؟

برج سرطان کے ستاروں کے مجمع کی تصویر– کیا آپ ایک کیکڑے کو اس تصویر میں دیکھ سکتے  ہیں ؟

یہاں تک کہ اگر ہم برج سرطان میں ستاروں کو ان کی لکیروں سے جوڑتے ہیں تو بھی ایک کیکڑے کی کی تصویر کو دیکھنا مشکل ہوگا – یہ ایسا دکھائی دیتا ہے جیسا کہ انگریزی حرف y کا الٹا ہو –

ستاروں کے ساتھ برج سرطان لکیروں  سے جڑے ہوئے

یہاں پرمنطقہ البروج کا  ایک  قومی جغرافیہ کا اشتہار ہے جو برج سرطان کو دکھا رہا ہے جس طرح سے جنوبی نصف کررہ میں دکھائی دیتا ہے –

قومی جغرافیہ کا منطقہ البروج کے تاروں کا نقشہ برج سرطان کے ساتھ گولائی میں

اس نقشے کے ذریعے سے ابتدائی لوگوں نے ان ستاروں سےا یک کیکڑے کی بابت کیسے سوچا ہوگا ؟ مگر جس طرح سے ہم انسا نی تاریخ کو جانتے ہیں یہ برج سرطان کی نشانی پیچھے کو جاتی ہے –

جس طرح دیگر منطقہ البروج ستاروں  کے مجمع کے ساتھ پانی لے جانے والے کی تصویر ہے اسی طرح یہ  خود ہی ستاروں کے مجمع کے ساتھ ضروری نہیں ہے – یہ ستاروں کے مجمع کے اندر تخلیقی (پیدائشی) نہیں ہے – بلکہ  پانی لے جانے والے کا  خیال ستاروں  کے علاوہ کسی اور چیز سے پہلے آیا – پہلے کے نجومیوں نے بعد میں اس خیال کو ستاروں پر بچھایا تاکہ ایک متواتر نشان بطور ہو –

مگر کیوں ؟ قدیم ہونے سے اسکا کیا مطلب ہے ؟

برج سرطان کی نجومی تصویر ایک کیکڑے کے ساتھ

قدیم منطقہ البروج میں برج سرطا ن

یھاں پر برج سرطا ن کے کچھ عام نجومی تصاویر پیش کئے گئے ہیں  
برج سرطان کے منطقہ البروج کی تصویر جھینگا مچھلی کے ساتھ ، نہ کہ کیکڑا ،اور برج سرطان 69 کی نشانی

مصر کے ڈ ینڈ را مندر میں منطقہ البروج کی تصویر جو 2000 سال سے زیادہ پرانا ہے –اس میں برج سرطان کو لال رنگ کی گولائی میں دکھایا گیا ہے –  

مصر کے ڈ ینڈ را مندر کا قدیم منطقہ البروج برج سرطان کو سرخ نشان سے دائرہ کھینچا ہوا 

حا لا نکہ خاکہ ‘کیکڑے’ کی تصویر کو چپکاتا ہے یہ بھنورا  جیسا نظر آتا ہے – مصری قلم بندی کے مطابق لگ بھگ  4000 سال پہلے برج سرطان کا بیان کرتا ہے وہ قدیم مصری جواہر (بہوترا)  بھنورا  کی شکل کا تھا –جو کہ بے دینی کی   پاک نشانی  ہے –

قدیم مصر میں مصری جواہر کو نیا جنم دینے یا لینے کی نشانی تھی – مصری لوگ اکثر اپنے دیوتا کھیپری ،اگتا ہوے  سورج کی لفظی تصویر بناتے تھے ایک بہوترے  کی شکل کا جواہر کی تصویر بطور یا ایک آدمی جس کا چہرہ بھوترے بھنورے  کی شکل کا ہو – 

کھیپری ایک قدیم مصری دیوتا جسکا سربھوترے کی شکل کا ہے دوبارہ سے پیش کیا گیا ہے – یہ نیو کنگڈ م ٹومب پینٹنگ کی بنیاد پر ہے [1]

قدیم کہانی میں برج سرطان

برج کنیا میں ہم نے دیکھا کہ قران شریف اور بائبل مقدّس بیانکرتا ہے کہ الله تعالی نے انسانی تخلیق کی ابتدا سے نشانیوں بطور منطقہ البروج ستاروں کے مجمع (مجموعتالنجوم)  کو بنایا اسنے انکو بنی انسان کی رہنمائی کرتے ہوئے ایک کہانی کی نشانی دی جب تک کہ ایک لکھا ہوا مکاشفہ نہیں دیا گیا تھا –اس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور انکے بیٹوں نے اپنے بچوں کو الله تعا لی کے منصوبے کی بابت نصیحت دی تھی–برج کنیا نے کہانی کو شروع کیا اور آنے والے کنواری کے بیج کی بابت پیش بنی کی –

برج سرطان کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں –اگر آپ موجودہ زائچہ کے ادراک میں برج سرطان کے نہیں  بھی ہیں تو بھی آپ برج سرطان کی قدیم نجومی کہانی کو معلوم کرنے کے قابل ہیں –

برج سرطان کی اصلی کہانی

قدیم مصری لوگ اس زمانے کے بہت ہی قریب تھے جب کہ سب سے پہلے منطقہ البروج کی طرف متوججہ ہوئے ، سو بھوترے کا پان کسی قدر موجودہ نجومی زائچے کا کیکڑا ہی اہمیت رکھتا ہے کہ برج سرطان کے قدیم منطقہ البروج کو سمجھے –ماہر مصریات سر و یلیس بڈج کھپیرا کی بابت اور قدیم مصریوں کے بھو ترے کے پان کی بابت کہتے ہیں –

    کھپپیرا – دنیا کے دوراولین کا ایک قدیم دیوتا تھا ، اورنشانی ہونے کو بات کریں تو وہ اپنے اندر زندگی کا جنین رکھتا ہو –جنین وہ حصّہ ہے جو بڑھ کر اپنے آپ میں ایک نیا جسم بن جانیکی صلاحیت  رکھتا ہے –اسطرح اسنے مردہ جسم کا اظہار کیا جس سے کہ روحانی جسم نمودار ہونے کی صورت اختیار کی – اس کو الفاظ میں آدمی کی شکل کا تصویر کھینچا گیا ہے جس کا سر ایک بھنورا ہے اور یہ کیڑا اسکا نشان بن گیا اس لئے کہ وہ مانو اسکی خود کی پیدا کی گیئ اور خود کی پیش کی ہوئی ہو-

سر ڈبلو –ے –بڈ ج  مصری مذہب   صفحہ 99

بھوترا بھنورا : قدیم حشر (زندہ ہونے) کی نشانی

 بھوترا بھنورا زندگی کے کئی ایک مرحلوں سے ہوکر گزرتا ہے اس سے پہلے کی وہ ایک بالغ بھنورے میں تبدیل نہ  ہو جاۓ –انڈے سے  باہر نکلنے کے بعد سے  بھوترے کیڑے سے بن جاتے ہیں جنہیں لاروا  کہتے ہیں (ابتدائی شکل)اس مرحلے میں وہ ا پنے  وجود کو زمین میں رہتے ہوئے گزارتے ہیں –تحلیلی معاملے میں خود کو کھلا تے ہوئے ، جیسے لید ، سانپ کی  چھتری ، پودوں کی جڑ یں یا گلے سڑے  گوشت وغیرہ –

لاروا کی حالت میں رینگنے کے بعد وہ کویا کی شکل اختیار کر لیتے ہیں –اس حالت میں سارے کام کاج بند ہو جاتے ہیں –وہ ابھی کھانا نہیں کھاتے –انکا سارا حواس بند ہو جاتا ہے –زندگی کے سار ے کام کاج موندے جاتے ہیں اور بھوترا بے حس و حرکت کوے کے اندر پڑا رہتا ہے – یھاں لا روا کا کا یا پلٹہوتا ہے  -جس میں اسکا جسم تحلیل ہونے اور دوبارہ سے جڑنے لگتا ہے –مقرّرہ وقت میں بالغ بھوترا کوے کے اندر سے باہر نکل آتا ہے –اس کا بالغ بھنورا کی شکل کیڑے کی شکل کا نہیں دکھتا جس میں وہ صرف زمین پر رینگ  سکتا تھا –اب یہ بھنورا کوے کو پھاڑ کر باہر نکلتا اور ا ڑ جاتا ہے اور ہوا میں سورج کی روشنی میں جہاں چاہے منڈلاتا اور بلند پرمزی کرتا ہے –

قدیم مصری لوگ بھوترا ببھنورے کی عزت کرتے تھے کیونکہ وہ وعدہ کئے ہوئے قیامت (زندہ ہونے) کی نشانی ہے      

برج سرطان — بھوترا بھنورے کی طرح

برج سرطان اعلان کرتا ہے کہ ہماری زندگیاں بھی اسی طرح کے نمونہ کا پیچھا کرتی ہیں – ابھی ہم زمین پر جیتے ہیں ، سخت محنت اور د کھ   مصیبت کے غلام ہیں ، تاریکیاں اور شک و شبہات ہیں ، غالباً ناقابلیتوں اور پریشانیوں کے گانٹھ جیسے زمینی پیدایش کے  اور گندے لید کے کھانے والے ، حلانکہ ہم اپنے اندر بیج رکھتے ہیں اور واقع  ہونے والے جلال کی شروعات ہے –

پھر ہماری زمینی زندگی موت مے جاکر ختم ہو جاتی اور مردہ لاش بنکر رہ جاتی ہے – ہماری حالت جس میں ہماری باطنی شخصیت موت میں سو جاتی ہے اور قیا مت کا انتظار کرتی ہے تاکیہم قبروں کو پھاڑ کر بہار نکل جاتیں –یھی برج سرطان کا مطلب اور نشانی تھی –جسم کا زندہ ہونے پر تب روک لگتی ہے جب چھٹکارہ دینے والا بلاتا ہے –        

برج سرطان: قیامت کی زندگی

جس طرح بھوترا اپنے بے حس و حرکت پڑے رہنے کی حالت سے ابھر کر باہر آتا ہے اسی  طرح مرے ہوئے لوگ بھی جی اٹھیںگے (زندہ ہونگے) –

اور جو خاک میں سو رہے ہیں اُن میں سے بُہتیرے جاگ اُٹھیں گے۔ بعض حیاتِ ابدی کے لِئے اور بعض رُسوائی اور ذِلّتِ ابدی کے لِئے۔ 3اور اہلِ دانِش نُورِ فلک کی مانِند چمکیں گے اور جِن کی کوشِش سے بُہتیرے صادِق ہو گئے سِتاروں کی مانِند ابدُالآباد تک رَوشن ہوں گے۔

٢ ١ :٢ -٣ د انی ا یل  

یہ تب ہوگا جب مسیح – یسوع – ہمکو اپنے قیامت کے راستے کے پیچھے چلنے کے لئے بلاتا ہے –

١لیکن مسیح واقعی مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے ، جو سو گئے ہیں ان میں پہلا پھل ہے۔ 21 چونکہ موت ایک آدمی کے وسیلے سے ہوئی ہے ، اس لئے مردے سے جی اٹھنے کا کام بھی ایک آدمی کے وسیلے سے ہوتا ہے۔ 22 کیونکہ جیسا آدم میں سب مرتے ہیں اسی طرح مسیح میں ہی سب کو زندہ کیا جائے گا۔ 23 لیکن ہر ایک کے بدلے میں: مسیح ، پہلا پھل۔ پھر ، جب وہ آئے گا تو ، جو اس سے تعلق رکھتے ہیں۔ 24 تب خاتمہ ہوگا جب اس نے بادشاہی خدا باپ کے سپرد کر کے تمام سلطنت ، اختیار اور طاقت کو ختم کردیا ہے25 کیونکہ جب تک وہ اپنے تمام دشمنوں کو اپنے پیروں تلے نہ رکھے اسے بادشاہی کرنا ہوگی۔ 26 تباہ ہونے والا آخری دشمن موت ہے۔ 27 کیونکہ اس نے "سب کچھ اپنے پیروں تلے رکھ لیا ہے۔” اب جب یہ کہتا ہے کہ "ہر چیز” کو اس کے ماتحت کردیا گیا ہے ، تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس میں خود خدا بھی شامل نہیں ہے ، جس نے سب کچھ مسیح کے ماتحت کیا۔ 28 جب اس نے یہ کیا ، تو بیٹا خود بھی اس کے تابع ہو جائے گا جس نے سب کچھ اس کے ماتحت کیا ، تاکہ خدا سب پر راضی ہو۔

کرنتھیوں  ٥ ١ :٠ ٢ -٨ ٢

برج سرطان :انوکھا ماہیت رکھنے والے قیامت کے جسم کی تصویر کھینچتے ہوئے

جس طرح بالغ بھوترا شکل صورت اور رنگ روپ کے ساتھ  اور نا قابل تصوّر قابلیتوں کے ساتھ زیا  دہ فرق قسم کی ماہیت رکھنے  والا کیڑا  جو زندہ ہوا ، اسی طرح ہمارا جسم جو زندہ ہوا ہوگا وہ بھی فرق ماہیت رکھنے والا ہوگا اس جسم کی با نسبت جو آج موجود ہے –

مگر ہمارا وطن آسمان پر ہے اور ہم ایک مُنّجی یعنی خُداوند یِسُوعؔ مسِیح کے وہاں سے آنے کے اِنتظار میں ہیں۔ 21وہ اپنی اُس قُوّت کی تاثِیر کے مُوافِق جِس سے سب چِیزیں اپنے تابِع کر سکتا ہے ہماری پَست حالی کے بدن کی شکل بدل کر اپنے جلال کے بدن کی صُورت پر بنائے گا۔

٣ :٠ ٢ -١ ٢ فلپپیوں  

اب کوئی یہ کہے گا کہ مُردے کِس طرح جی اُٹھتے ہیں اور کَیسے جِسم کے ساتھ آتے ہیں؟ 36اَے نادان! تُو خُود جو کُچھ بوتا ہے جب تک وہ نہ مَرے زِندہ نہیں کِیا جاتا۔ 37اور جو تُو بوتا ہے یہ وہ جِسم نہیں جو پَیدا ہونے والا ہے بلکہ صِرف دانہ ہے۔ خَواہ گیہُوں کا خَواہ کِسی اَور چِیز کا۔ 38مگر خُدا نے جَیسا اِرادہ کر لِیا وَیسا ہی اُس کو جِسم دیتا ہے اور ہر ایک بِیج کو اُس کا خاص جِسم۔

39سب گوشت یکساں گوشت نہیں بلکہ آدمِیوں کا گوشت اَور ہے۔ چَوپایوں کا گوشت اَور۔ پرِندوں کا گوشت اَور ہے مچھلِیوں کا گوشت اَور۔

40آسمانی بھی جِسم ہیں اور زمِینی بھی مگر آسمانِیوں کا جلال اَور ہے زمِینِیوں کا اَور۔ 41آفتاب کا جلال اَور ہے مہتاب کا جلال اَور۔ سِتاروں کا جلال اَور کیونکہ سِتارے سِتارے کے جلال میں فرق ہے۔

42مُردوں کی قِیامت بھی اَیسی ہی ہے۔ جِسم فنا کی حالت میں بویا جاتا ہے اور بقا کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ 43بے حُرمتی کی حالت میں بویا جاتا ہے اور جلال کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ کمزوری کی حالت میں بویا جاتا ہے اور قُوّت کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ 44نفسانی جِسم بویا جاتا ہے اور رُوحانی جِسم جی اُٹھتا ہے۔ جب نفسانی جِسم ہے تو رُوحانی جِسم بھی ہے۔ 45چُنانچہ لِکھا بھی ہے کہ پہلا آدمی یعنی آدمؔ زِندہ نفس بنا۔ پِچھلا آدمؔ زِندگی بخشنے والی رُوح بنا۔ 46لیکن رُوحانی پہلے نہ تھا بلکہ نفسانی تھا۔ اِس کے بعد رُوحانی ہُؤا۔ 47پہلا آدمی زمِین سے یعنی خاکی تھا۔ دُوسرا آدمی آسمانی ہے۔ 48جَیسا وہ خاکی تھا وَیسے ہی اَور خاکی بھی ہیں اور جَیسا وہ آسمانی ہے وَیسے ہی اَور آسمانی بھی ہیں۔ 49اور جِس طرح ہم اِس خاکی کی صُورت پر ہُوئے اُسی طرح اُس آسمانی کی صُورت پر بھی ہوں گے۔

١ کرنتھیوں ٥ ١ :٥ ٣ -٩  ٤

برج سرطان کا کایا پلٹ ہوتا ہے : ا س  کے لوٹنے پر

یہ مسیح کے لوٹنے پر جب اس طرح واقع  ہوگا –

اَے بھائِیو! ہم نہیں چاہتے کہ جو سوتے ہیں اُن کی بابت تُم ناواقِف رہو تاکہ اَوروں کی مانِند جو نااُمّید ہیں غم نہ کرو۔ 14کیونکہ جب ہمیں یہ یقِین ہے کہ یِسُوع مَر گیا اور جی اُٹھا تو اُسی طرح خُدا اُن کو بھی جو سو گئے ہیں یِسُوع کے وسِیلہ سے اُسی کے ساتھ لے آئے گا۔ 15چُنانچہ ہم تُم سے خُداوند کے کلام کے مُطابِق کہتے ہیں کہ ہم جو زِندہ ہیں اور خُداوند کے آنے تک باقی رہیں گے سوئے ہُوؤں سے ہرگِز آگے نہ بڑھیں گے۔ 16کیونکہ خُداوند خُود آسمان سے للکار اور مُقرّب فرِشتہ کی آواز اور خُدا کے نرسِنگے کے ساتھ اُتر آئے گا اور پہلے تو وہ جو مسِیح میں مُوئے جی اُٹھیں گے۔ 17پِھر ہم جو زِندہ باقی ہوں گے اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھائے جائیں گے تاکہ ہوا میں خُداوند کا اِستِقبال کریں اور اِس طرح ہمیشہ خُداوند کے ساتھ رہیں گے۔ 18پس تُم اِن باتوں سے ایک دُوسرے کو تسلّی دِیا کرو۔

١ تھسلنیکیوں  ٤ :٣ ١ -٨ ١

برج سرطان عبارت سے (تحریرسے)

ہوروسکوپ (زائچہ) کا یہ لفظ یونانی کے’ھورو'(وقت) سے نکلا ہے اور اس طرح سے اس کے معنی ہیں خاص اوقات کی طرف (نشان دہی) کرنا –برج سرطان کےوقت  (ہورو) کے لئے نبی حضرت عیسی ال مسیح نے اس طرح سے نشان دہی کی ہے –

مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو میرا کلام سُنتا اور میرے بھیجنے والے کا یقِین کرتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے اور اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا بلکہ وہ مَوت سے نِکل کر زِندگی میں داخِل ہو گیا ہے۔ 25مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے کہ مُردے خُدا کے بیٹے کی آواز سُنیں گے اور جو سُنیں گے وہ جِئیں گے۔ 26کیونکہ جِس طرح باپ اپنے آپ میں زِندگی رکھتا ہے اُسی طرح اُس نے بیٹے کو بھی یہ بخشا کہ اپنے آپ میں زِندگی رکھّے۔ 

٥ :٤ ٢ -٦ ٢ یوحنا  

ایک خاص وقت ہوتا ہے جب کسی نے اپنے وجود میں دنیا سے بات کی اور وہ دوبارہ سے بات کریگا –جو اسکی سنینگے وہ مردوں میں سے زندہ ہونگے –برج سرطان آ نے والے اس زندہ ہونے کے وقت کی نشانی تھی جس کی عبارت کو قدیم نجومیوں کے ذریعے ستاروں سے پڑھا گیا تھا –

آپ کے برج سرطان کی عبارت

آپ اور میں برج سرطان کے ز ائچہ کو آج کی تاریخ میں ذیل میں لکھی باتوں کو پڑھتے ہوئے استعمال کر سکتےہیں –

برج سرطان آپ سے کہتا ہے کہ لگاتار آپ کے قیامت کے وقت کو تاکتے رہیں – کچھ  لوگ کہتےہیں کہ قیامت نہیں ہوگی  مگر بیوقوف مت بنیں –اگر آپ دنیا میں صرف کھانے پینے کے لئے جیتے ہیں تو آپ کا وقت ا چھا جا سکتا ہے اور آپ آ سا نی سے بیوقوف بھی بناۓ جا سکتے ہیں –اگر آپ ساری دنیا کو حاصل کریں اور اس میں اپنے پیار کرنے والوں کو بھر دیں ، خوشیوں اور مشتعل  کرنے والی چیزوں کو بھی شامل کردیں اور اپنی جان کا نقصان اٹھا یں تو آپکو کیا فائدہ ہوگا ؟ اس لئے مضبوطی سے کھڑ ے رہیں –آپ کو کوئی چیز نہیں ہلا یگا – جوکچھ آ پکو د کھتا ہے اسپر اپنی نظریں نہ جما ییں بلکہ جو چیزیں آپکواپکو نہیں د کھتیں انپر جما ییں –کیونکہ جوچیزیں دکھائی دیتی ہیں وہ عا رضی ہیں مگر جو  دکھائی نہیں دیتی ہیں وہ ا بدی ہیں –

جوپوشیدہ ہے اسکے ساتھ سویے ہوو وں ایک بڑی بھیڑ آپکے ساتھ ہے اس آواز کو سننے کے لئے جب وہ ا نھیں بلایگا –اس ہر ایک چیز کو پھینک دیں جوپوشیدہ چیزیں دیکھنے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں اور اپنے ہر ایک گناہ کو بھی پھینک دیں جو آپکو آسانی سے الجھاتا یا دشواری پیدا  کرتا ہے – اورجو نشانہ آپکے لئے رکھا گیا ہے اس میں اپنی آنکھوں کو زندہ بررے پر لگاتے ہوئے اس دوڑ میں  آپ صبر سے دوڑیں – اور ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کو تکتے رہیں جس نے اس خوشی کے لئے جواس کی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پرواہ نہ  کرکے صلیب کا دکھ سہہ لیا ،اور خدا کے تخت کی دھنی طرف جا بیٹھا –پس اس پرغور کرو جس نے اپنے حق میں برائی کرنے والے گناہ گاروں کی اس قدر مخالفت کی برداشت کی تاکہ تم بے دل ہوکر ہمّت نہ ہارو –                  

برج سرطان میں گہرائی سے اور منطقہ البروج کی کہانی کے  ذریعے سے

برج سرطان کی نشا نی اصلیت میں تندرستی ، پیار محبّت اور بحالی کے لئے فیصلہ کے واسطے رہنمائی نہیں کیا تھا بلکہ برج سرطان نے ستاروں سے ظاہر کیا تھا کہ چھٹکارہ دینے والا اپنے چھٹکارے کو قیامت میں پورا کریگا –

قدیم منطقہ البروج کی کہانی کوشروع  کرنے کے لئے اسکی شروعات برج کنیا کو دیکھیں – منطقہ البروج کی کہانی برج اسد کے ساتھ ختم ہوتی ہے – برج سرطان کی گہرائی میں جانے کے لئے دیکھیں :

قدیم منطقہ البروج میں برج جیمینی

جیمینی جڑوے کے لئے لاطینی لفظ ہے –آج کے زائچے میں اگر آپ کی پیدایش مئی 22 اور جون 21 کے درمیان ہوئی ہے تو اپ ایک برج جیمینی ہیں – جیمینی دو اشخاص کی شکل بناتا ہے ، عام طور پر (مگر ہمیشہ نہیں) یعنی کہ وہ لوگ جوجڑوے ہیں – اس موجودہ زائچہ  میں نجومی منطقہ البروج کی تشریح میں برج جدی کے لئے آپ سائچہ کی صلاح کا پیچھا کرتے ہیں کہ آپ اپنی  شخصیت  کے  لئے محبّت ، خوش قسمت ،دولت اور بصیرت کی تلاش کرتے ہیں –

تاروں کی دنیا میں برج جیمینی کے تاروں کا مجموعہ

مگر قدیم لوگوں نے برج جیمینی کو کیسے پڑھا ؟ ان کے لئے اسکے کیا معنی رکھتے تھے ؟

ہوشیار ہو جایں ! اس کا جواب دیتے ہوئے آپکو ایک فرق سفر کے منصوبے لے جاتے ہوئے آپ کے ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) غیر واضح طور سے کھلیگا –پھر آپ اپنے زائچہ کی نشانی کو جانچتے ہوئے ارادہ کیۓ جاؤگے –  

یہاں یہ  ستاروں کے مجمع کی تصویر ہے جوبرج جیمینی کی شکل بناتے ہیں –کیا آپ ان تاروں میں ایک جڑوے کی شکل بناتے ہوئے کچھ دیکھ سکتے ہیں ؟  

 برج جیمینی کے تاروں کے مجمع کی تصویر –کیا آپ جڑوے کو دیکھ سکتے ہیں ؟

یہاں تک که برج جیمینی میں تاروں کو لکیروں سے جوڑنے کے با وجود بھی جڑوے کو ‘دیکھنا ‘ مشکل ہے-یہاں پر ہم دو اشخاص کو دیکھ  تو سکتے ہیں ،مگر یہ ‘جڑوا’ کیسے بنا ؟  

یہاں پرمنطقہ البروج کا  ایک  قومی جغرافیہ کا اشتہار ہے جو برج جیمینی  کو دکھا رہا ہے جس طرح سے جنوبی نصف کررہ میں دکھائی دیتا ہے –. 
 قومی جغرافیہ کا منطقہ البروج کے تاروں کا نقشہ برج جیمینی کے ساتھ گولائی میں

یہاں تک کہ برج جیمینی میں تاروں کولکیروں سے جوڑنے کے باوجود بھی سچ مچ میں جڑوے کو دیکھنا مشکل ہے –مگر جس طرح سے ہم انسانی تاریخ کو جانتے ہیں یہ نشانی پیچھے کو جاتی ہے –  

بہت عرصہ پہلے کیسٹراور پولکس

  جیمینی کے لئے انجیل کے حوالہ جا ت جب پولس اور اسکے ساتھی روم کے لئے جہاز سے سفر کر رہے تھے اور انہوں نے غور کیا

تِین مہِینے کے بعد ہم اِسکندرِؔیہ کے ایک جہاز پر روانہ ہُوئے جو جاڑے بھر اُس ٹاپُو میں رہا تھا اور جِس کا نِشان دِیُسکُورؔی تھا۔

٨ ٢ :١ ١ اعمال

کیسٹر اور پولکس برج جیمینی میں دو جڑوے کے روایاتی نام ہیں – یہ بتاتا ہے که الہی جڑوے کا خیال لگ بھگ دو ہزار 2000 سال پہلے عا م  تھا –

 جس طرح دیگر منطقہ البروج ستاروں  کے مجمع کے ساتھ کی تصویر ہے اسی طرح یہ  دو جڑووں کی تصویر خود ہی ستاروں کے مجمع کے ساتھ ضروری نہیں ہے – یہ ستاروں کے مجمع کے اندر تخلیقی (پیدائشی) نہیں ہے – بلکہ   دو جڑووں کا  خیال ستاروں  کے علاوہ کسی اور چیز سے پہلے آیا – پہلے کے نجومیوں نے بعد میں اس خیال کو ستاروں پر بچھایا تاکہ ایک متواتر نشان بطور ہو 

منطقہ ال بروج میں برج جیمینی

ذیل میں برج جیمینی کی تصویر کو لالرنگ سے دائرہ کھینچا گیا ہے –یہ منطقہ البروج مصر کے ڈ ینڈ را مندر کی ہے – یہاں آپ کنارے پر کے خاکے میں دو شخص کو بھی دیکھ سکتے ہیں –

ڈ ینڈرا مند ر کا قدیم مصری منطقہ البروج برججمینی کے ساتھ سرخ رنگ سے دائرہ کھینچا ہوا 

قدیم ڈ ینڈ را منطقہ البروج میں دو لوگون میں  سے ایک عورت ہے – بجاۓ اس کے کہ دو نر جڑو ے ہوں یہ منطقہ البروج ایک آدمی اور عورت کے جوڑے کو بطور برج جیمینی دکھاتا ہے –

یہاں برج جیمینی کے عام نجومی تصویریں دکھائی گیئ ہیں –

برج جیمینی کی نجومی تصویر – ہمیشہ ایک جوڑا مگر کبھی کبھی آدمی عورت کے جوڑے کی تصویر یہاں تک کہ  آ ج بھی  

نجومی لوگ کیوں قدیم زمانے سے ہمیشہ – عام طور،  پر ایک جوڑے کے ساتھ برج جیمینی سے جڑ ے  رہے مگر ہمیشہ نر جوڑے کے ساتھ نہیں ؟   

قدیم کہانی میں برج جیمینی

برج کنیا میں ہم نے دیکھا کہ قران شریف اور بائبل مقدّس بیان کرتا ہے کہ الله تعالی نے انسانی تخلیق کی ابتدا سے نشانیوں بطور منطقہ البروج ستاروں کے مجمع (مجموعتالنجوم)  کو بنایا اسنے انھیں ایک کہانی کی نشانی بطور دی تاکہ لکھے  ہوے مکاشفے سے پہلے بنی انسان کی رہنمائی کر سکے   – اس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور انکے بیٹوں نے اپنے بچوں کو الله تعا لی کے منصوبے کی بابت نصیحت دی تھی – برج کنیا کی بابت پیش بینی کی گیئ تھی یہ کنواری کا بیٹا آنے والا نبی حضرت عیسی ال مسیح ہے –

برج جیمینی اس کہانی کو جاری رکھتا ہے – سویھاں تک کہ اگر آپ موجودہ زائچہ کے ادراک میں برج  جیمینی  کے نہیں بھی ہیں تو بھی برج جیمینی کی قدیم نجومی کہانی کو معلوم کرنے کے قابل ہیں-

برج جیمینی کے اصلی معنی

ہم اس کے اصلی معنی کی بابت برج جیمینی کے ناموں سے سمجھ  سکتے ہیں ، جو یو نا نی اور رومی غیر قوم کے دیوتاؤں کی کہانی سے جڑی ہے – جو اب برج جیمینی کے ساتھ شریک ہوئے ہیں غلط بیان کیا گیا ہے –

تاریخ کے درمیا نی زمانہ عربی نجومیوں نے ان تاروں کے مجمع (مجموعہ ت النجوم) کو قدیم زمانہ سے حاصل کیا –کیسٹر  تارے کے عربی  نام ہیں ال – راس ، ال – تاوم ، ا ل مقدم یا "حیثیت میں سب سے بڑھا ہوا سردار جڑوا "-   کیسٹر میں مشہور و معروف وہ تارا ہے جس کا نام تیجت پوسٹرئر ہے جس کے معنی ہیں "پچھلا قدم” یہ کیسٹر کے قدم کا حوالہ دیتا ہے – یہ کبھی کبھی کلیکس  کے نام سے بھی کہلاتا ہے –جس کے معنی ہیں ” ا یڑھی "- دوسرا مشہور و معروف تارا ایک روایاتی نام رکھتا ہے ،”میبسوتاہ ” جو قدیم عربی نام "مبسوتاہ "سے ہے جس کے معنی ہیں "باہر نکلا ہوا پنجہ”- مبسوتا ہ عربی تہذیب میں ببر شیر کے پنجوں کو ظاہر کرتا ہے

پولکس کو دوسرے جڑوے کا سردار بطور جانا گیا ہے – یہ بھی عربی کے ا ل – راس ، ال –توام ،ال موء خرسے ہے –اسکے معنی یہ ظاہر نہیں کرتے کہ دونوں کی پیدایش ایک ہی وقت میں ہوئی ہو بلکی دونوں ملکر تکمیل یا جڑے ہوئے بن جاتے ہیں –توریت شریف اسی لفظ کا استعمال کرتی ہے جہاں ذکر ہے عہد کے صندوق کا دوہرا حصہ جو دو تختیوں سے جڑا تھا –

یہ نِیچے سے دُہرے ہوں اور اِسی طرح اُوپر کے سِرے تک آ کر ایک حلقہ میں مِلائے جائیں۔ دونوں تختے اِسی ڈھب کے ہوں۔ یہ تختے دونوں کونوں کے لِئے ہوں گے۔

٦ ٢ :٤ ٢ خروج

جس طرح عہد کا صندوق دو یختوں سے جڑ کر دوہرا کر دیتا ہے اسی طرح جیمینی دو کو لاکر ملا دیتا ہے یا جوڑ دیتا ہے ، پیدائشی وقت کے ذریعے  سے نہیں بلکی ایک جڑے رہنے کے ذریعے سے – جبکہ کیسٹر”ایڑھی” (برج عقرب) اور ‘ببر شیر کے قدم ‘ (برج اسد) کے ساتھ پہچانا گیا ہے جوکہ حضرت عیسی ال مسیح علیہ اسّلام کی نبوتیں ہیں ، پھر کیسٹرعیسیٰ ال مسیح اسکی واپسی کے لئے نجومی تصویر ہے –

مگر وہ کون ہے جو ا سکے  ساتھ جڑا تھا ؟

عبارت دو تصویریں پیش کرتی ہیں جو برج جیمینی کے دو تصویروں کو سمجھا تی ہے اس بطور کہ  (1 – متحد بھائی  (2 – ایک آدمی اور عورت کا جوڑا –

برج جیمینی – پہلوٹھا اور گود لئے ہوئے بھائی  

مقدّس انجیل سمجھاتی ہے حضرت عیسیٰ ال مسیح علیہ السلام

وہ اَن دیکھے خُدا کی صُورت اور تمام مخلُوقات سے پہلے مَولُود ہے۔

کلسسیوں  ١ :٥ ١

‘ پہلوٹھا ‘ نافذ کرتا ہے که دیگر بچچے بعد میں آ ینگے  – یہ بلکل توثیق کیا ہوا (پککا) ہے  –

کیونکہ جِن کو اُس نے پہلے سے جانا اُن کو پہلے سے مُقرّر بھی کِیا کہ اُس کے بیٹے کے ہم شکل ہوں تاکہ وہ بُہت سے بھائِیوں میں پہلوٹھا ٹھہرے۔

٨ :٩ ٢ رومیو ں

یہ تصویر پیچھے تخلیق کی طرف جاتی ہے جب خدا نے حضرت آدم اور حضرت حوا کو بنایا –

اور خُدا نے اِنسان کو اپنی صُورت پر پَیدا کِیا۔ خُدا کی صُورت پر اُس کو پَیدا کِیا۔ نر و ناری اُن کو پَیدا کِیا۔

١ :٧ ٢ پیدایش  

الله نے حضرت آدم اور حضرت حوا کو اپنی خاص روحانی شبیہ میں بنایا –اسطرح حضرت آدم کہلاتے ہیں

اور وہ انُوس کا اور وہ سیتؔ کا اور وہ آدؔم کا اور وہ خُدا کا تھا۔

لوقا ٣ :٨ ٣

اصلی تصویر بگا ڑی گیئ — اور بحال کی گیئ

جب حضرت آدم  اور حضرت حوا نے خدا کی  نا فرمانی کی انہوں نے اس شبیہ کو فرزندگی سے منسوخ کرتے ہوئے بگاڑ د یا تھا –مگر جب حضرت عیسیٰ ال مسیح ‘ پہلوٹھا بیٹا’ بنکر آئے (یہاں دیکھیں کہ ‘بیٹا’ ہونا (پسریت کیا معنی رکھتا ہے) اس نے اس شبیہ کو بحال کیا – سو اب حضرت عیسیٰ ال مسیح کے وسیلے سے :

لیکن جِتنوں نے اُسے قبُول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔ 13وہ نہ خُون سے نہ جِسم کی خواہِش سے نہ اِنسان کے اِرادہ سے بلکہ خُدا سے پَیدا ہُوئے۔

١ :٢ ١ -٣ ١ یوحنا

انعام جو ہمارے لئے پیش کی گیئ ہے وہ ہے ‘خدا کے فرزند بننے کا حق ‘ – ہم پیدائشی خدا کے فرزند نہیں تھے مگر حضرت عیسیٰ المسیح کے وسیلے سے لے پالک کے ذریعے سے اسکے فرزند  بنے –

لیکن جب وقت پُورا ہو گیا تو خُدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عَورت سے پَیدا ہُؤا اور شرِیعت کے ماتحت پَیدا ہُؤا۔ 

گلتیوں٤ :٤  

یہ برج میزان کے زائچہ کی عبارت تھی –حضرت عیسیٰ ال مسیح کے وسیلے سے اللہ ہمکو اپنا فرزند بطور لے پالک کا درجہ دیتا ہے –وہ اسے انجام دیتا ہے حضرت عیسیٰ ال مسیح   کے انعام کے وسیلے سے  جو کہ پہلوٹھا ہے –

اسکی دوسری آمد پر حضرت عیسیٰ ال مسیح بادشاہ بطور پوری دنیا پر حکومت کرینگے –(مسیح کے معنی کودیکھیں) وہ لوگ جنہیں چھوٹا بھائی بطور لے پالک کا درجہ دیا گیا تھا انکے کردار کے رویا کے ساتھ بائبل ختم ہوتا ہے –

اور پِھر رات نہ ہو گی اور وہ چراغ اور سُورج کی روشنی کے مُحتاج نہ ہوں گے کیونکہ خُداوند خُدا اُن کو رَوشن کرے گا اور وہ ابدُالآباد بادشاہی کریں گے۔

٢ ٢ :٥   مکاشفہ

یہ بائبل میں قریب قریب آخری جملہ ایسا لگتا ہے کہ یہ تمام چیزوں کی تکمیل ہے – وہاں یہ نظر آتا ہے کہ لے پالک (گود لئے ہوئے) بھائی لوگ پہلوٹھے  کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں – قدیم لوگوں نے بہت عرصہ پہلے ہی برج جیمینی میں تصور کر لیا تھا ،حیثیت میں سب سے بڑھا ہوا بطور اور دوسرا ان بھائیوں بطور آسمان  میں حکومت کرتے ہوئے –   

برج جیمینی – آدمی اورعورت متحد

نبیوں نے بھی ایک آدمی اور عورت کی شادی کی یگانگت میں اداکاری نبھائی تاکہ اس رشتے کی تصویر کشی کرے جو مسیح اور اسکے لوگوں کے بیچ پائی جاتی ہے – حوا کے تخلیق کی تفصیلیں اورتخلیق کے ہفتہ میں جمعہ کے  دن آدم کے ساتھ شادی کیا جانا ، یہ ساری باتیں ایک خاص غرض سے تجویز کی گیئ تھی تاکہ مسیح کے ساتھ اس یگانگت کا احساس پہلے سے ہی ہو سکے –اسمیں  روت اور بوعزکی محبّت کی کہانی کی بھی تصویر کشی کی گیئ ہے – انجیل شریف  کا اختتام برّہ (برج میگھ ) اور اسکی دلہن کے بیچ شادی کی تصویر کے ساتھ ہوتا ہے –

آؤ ہم خُوشی کریں اور نِہایت شادمان ہوں اور اُس کی تمجِید کریں۔ اِس لِئے کہ برّہ کی شادی آ پُہنچی اور اُس کی بِیوی نے اپنے آپ کو تیّار کر لِیا۔ 

٩ ١ :٧ مکاشفہ

اختتامی باب ذیل کی دعوت کو دیتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ برّہ اور اسکی دلہن کے بیچ کائناتی یگانگت ہے –

اور رُوح اور دُلہن کہتی ہیں آ اور سُننے والا بھی کہے آ۔ اور جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبِ حیات مُفت لے۔

٢ ٢ :٧ ١ مکاشفہ

برج دلو شادی کریگا او وہ ہمکو دعوت دیتا ہے کہ ہم اسکی وہ دلہن بن جایں –برج جمینی نے بہت پہلے اس کی تصویر کی تھی – برّہ اور اسکی دلہن کا کائناتی یگانگت –

برج جیمینی تحریر میں

   ہوروسکوپ (زا ئچہ) کا یہ لفظ یونانی کے ‘حورو‘ (وقت)سے نکلا ہے اور اس طرح سے اس کے معنی ہیں خاص اوقات کی طرف نشان دہی کرنا –پیغمبرانہ تحریریں برج جیمینی ‘حورو’ کی نشان دہی کرتا ہے –برج جیمینی  وقت (حورو) کے لئے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے اپنی شادی کی ضیافت کی کہانی میں اس طرح سے نشان دہی کی – ٥١

اُس وقت آسمان کی بادشاہی اُن دس کُنوارِیوں کی مانِند ہو گی جو اپنی مشعلیں لے کر دُلہا کے اِستِقبال کو نِکلِیں۔ 2اُن میں پانچ بیوُقُوف اور پانچ عقل مند تِھیں۔ 3جو بیوُقُوف تِھیں اُنہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لِیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لِیا۔ 4مگر عقل مندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کُپِّیوں میں تیل بھی لے لِیا۔ 5اور جب دُلہا نے دیر لگائی تو سب اُونگھنے لگِیں اور سو گئِیں۔ 6آدھی رات کو دُھوم مچی کہ دیکھو دُلہا آ گیا! اُس کے اِستقبال کو نِکلو۔ 7اُس وقت وہ سب کُنوارِیاں اُٹھ کر اپنی اپنی مشعل دُرُست کرنے لگِیں۔ 8اور بیوُقُوفوں نے عقل مندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کُچھ ہم کو بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بُجھی جاتی ہیں۔ 9عقل مندوں نے جواب دِیا کہ شاید ہمارے تُمہارے دونوں کے لِئے کافی نہ ہو۔ بِہتر یہ کہ بیچنے والوں کے پاس جا کر اپنے واسطے مول لے لو۔ 10جب وہ مول لینے جا رہی تِھیں تو دُلہا آ پُہنچا اور جو تیّار تِھیں وہ اُس کے ساتھ شادی کے جشن میں اندر چلی گئِیں اور دروازہ بند ہو گیا۔ 11پِھر وہ باقی کُنوارِیاں بھی آئِیں اور کہنے لگِیں اَے خُداوند! اَے خُداوند! ہمارے لِئے دروازہ کھول دے۔ 12اُس نے جواب میں کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ مَیں تُم کو نہیں جانتا۔ 13پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہ اُس دِن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو۔

متی ٥ ٢ :١ -٣ ١

جب اُس نے دیکھا کہ مِہمان صدر جگہ کِس طرح پسند کرتے ہیں تو اُن سے ایک تمثِیل کہی کہ 

لوقا ٤ ١ :٧

برج جیمینی کے دو اوقات

برج جیمینی کے دو اوقات ہیں –حضرت عیسیٰ ال مسیح نے تعلیم دی کہ یہ یقینی ہے مگر اس وقت کو کوئی نہیں جانتا کہ یہ شادی کب ہوگی اور بہت سے لوگ اس سے چوک جاینگے – یہ ایک اہم بات ہے جو دس کنواریوں کی تمثیل سے لیا گیا ہے – انمیں سے کچھ اس مقرّرہ وقت کے لئے تیار نہیں تھیں – اور اس لئے وہ  چوک گیئیں –مگر وقت کھلے طور سے ٹھہرا رہتا ہے اور د لہا سب کو لگاتار دعوت دئے جا رہا  ہے کہ شادی کی ضیافت میں آ یئں – یہ وہی وقت ہے  جس میں ابھی ہم رہ رہے ہیں – ہم کو صرف اس کے پاس آنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس نے ضیافت کسری تیاریاں کر لی ہے –  

آپکے برج جیمینی کی عبارت

آج برج جیمینی کے زائچہ کو آپ اور میں ذیل کے طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں –

برج جیمینی اعلان کرتا ہے کہ آپ کی سب سے زیادہ اہم رشتے کی دعوت ابھی بھی کھلی ہوئی ہے –آپکو صرف اسی رشتے کے اندر دعوت دی جاتی ہے جو تارے کہیںگے کہ ساری تلا ش کوگہن لگ جاتا ہے کائینات  کے شاہی خاندان میں گود لیا جانا (شریک ہونا) آسمانی شادی میں شامل ہونے بطور ہے – کیونکہ اس میں کبھی کوئی نہ ہلاک ہوگا ، نہ کوئی برباد ہوگا اور نہ کوئی خشک ہوگا (رنگ اتر جانا)- مگر یہ دولہا ہمیشہ کے لئے انتظار نہیں کریگا – اسلئے چوکننے ہوکر ، پر سکون طریقے سے خدا کے فضل پر امید رکھیں جب یہ دولہا اپنی آمد پر ظاہر ہوگا تب  تمھیں دیاجایگا – اپنے آسمانی باپ کے فرمان بردار فرزند کی طرح اپنی زندگی جیئیں –بری خواہشات کے تابع  مت رہو جس طرح  جہا لت  کے زمانے میں جب  آپ جی رہے تھے ان خواہشا ت  کے پابند تھے –

جبکہ آپ خدا باپ کے زریعے بلاۓ گئے ہو جو ہر ایک شخص کا انصاف بغیر طرفداری کے کرتا ہے – الہی خوف میں ہوکر پردیسی اور مسافر کی طرح زندگی گزارو – سب طرح کی دھوکہ بازی سے خود کو پیچھا چھڑاؤ – کینہ ، بغض ، ہرطرح کا فریب ، ریاکاری ، مکاری اس طرح کی تمام برایییوں  سے دور رہو –اور تمہارا سنگارظاہری نا ہو یعنی سر گوندھنا  اور سونے کے زیور اور طرح طرح کے کپڑے پہننا –بلکہ تمھاری باطنی اور پوشیدہ انسانیت ہلم اور مزاج کی غربت کی غیر فانی آرائش سے آراستہ رہے ، کیونکہ  آنے والے دولہے کے نزدیک اسکی بڑی  قدرہے –آخر میں جولوگ آ پ کے آس پاس ہیں انکے ساتھ ہمدرد ، محببتی ، رحمدل اور حلیم بنو – جب یہ باتیں تم میں ہونگی تو جو لوگ آپکے اس پاس ہونگے وہ آپ سے متاثر ہونگے اور وہ بھی اسی شاہی شادی کی ضیافت میں دعوت د ئے جاینگے –                  

برج جیمینی میں گہرائی سے اور منطقہ البروج کی کہانی کے ذریعے

اصلیت میں برج جیمینی تندرستی ، محبّت اور بحالی کے لئے رہنمائی کے فیصلے نہیں لیتا تھا –بلکہ برج جیمینی نے بتایا کہ چھڑانے والا کس طرح سے اپن چھٹکارے کے کام کو پورا کریگا –برج جیمینی بتاتا ہے کہ ہمارا آنے والا لے پالک پن ایک پہلوٹھے  بھائی اور آسمانی شادی کی ضیافت کے لئے ہے

قدیم منطقہ البروج کی کہانی کو اسکے آغاز میں شرو ع کرنے کے لئے برج کنیا کو دیکھیں –منطقہ البروج کی کہانی برج سرطان کے ساتھ جاری رہتی ہے – برج جیمنی  کے گہرائی میں جانے کے لئے دیکھیں

قدیم منطقہ البروج میں برج ٹور

برج ٹورایک سرگرم ہونے یا غضب ناک ہونے کی تصویر ہے ، طاقتور سینگوں کے ساتھ بیل کا مطالبہ کرتے ہوئے- آج کے زائچے میں کسی بھی شخص کی پیدایش اگر اپریل 21 اور مئی 21 کے درمیان ہوئی ہے تو وہ ایک برج ٹور کا ہے – منطقہ البروج کی عبارت کے اس موجودہ زائچے کے مطابق آپکی شخصیت میں محبّت ، خوش قسمتی ، صحت و تندرستی اور بصیرت حاصل کرنے کے لئے برج ٹورمیں زائچے کی نصیحت اور صلاح کی تلاش کرتے ہیں –

مگر یہ بیل کہاں سے آیا ؟ اس کے کیا معنی ہیں ؟                                                                 

      ہوشیار ہو جایں ! اس کا جواب دیتے ہوئے آپکو ایک فرق سفر کے منصوبے لے جاتے ہوئے آپ کے ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) غیر واضح طور سے کھلیگا –پھر آپ اپنے زائچہ کی نشانی کو جانچتے ہوئے ارادہ کیۓ جاؤگے

قدیم منطقہ البروج میں برج ٹو ر بارہ میں سے نواں نجومی تاروں کا مجمع تھا جو ملکر ایک بڑی کہانی بناتے ہیں –برج کنیا سے برج قوس تک بڑے چھٹکارا دینے والے کی بابت ایک نجومی اکائی کی شکل اختیار ہوئی اور اسکے دشمن کے ساتھ ایک فنا پزیر لڑائی کی شروعات ہوئی – برج مکر جدی سے برج میگھ تک ایک دوسری اکائی بنی جو ہمارے لئے اس چھٹکارا دینے والے پر خاص دھیان دیا گیا – برج ٹورچھٹکارا دینے والے کی واپسی پر اور اسکے کامل فتح پر دھیان دیتے ہوئے تیسری اور آخری اکائی کو کھولتا ہے – اور اب یہ اکائی بیل کے ساتھ شرو ع  ہوتا ہے اور ایک ببر شیر ( برج اسد) پر ختم ہوتا ہے –سو یہ طاقت اور اختیار سے متعلق ہے –

قدیم منطقہ البروج میں برج ٹورسب لوگوں کے لئے تھا جب سے کہ پیش بینی کئے ہوئے فوائد ہر ایک کے لئے د ستیاب تھا –اگر آپ موجودہ سائچہ کے ادراک میں برج ٹورکے نہیں بھی ہیں تو بھی برج ٹورکی قدیم نجومی کہانی معلوم کرنے کے لائق ہے –

نجومی فلکیات میں برج ٹو ر کے تاروں کا مجمع

برج ٹورتاروں کا ایک مجمع ہے جو نمایاں سینگوں کے ساتھ ایک بیل کی شکل بناتا ہے – یہاں برج ٹور کے تاروں کا جھنڈ ہے –کیا آپ اس تصویر میں ایسا کچھ دیکھتے ہیں جس میں سینگوں کے ساتھ ایک بیل کی تصویر دکھائی دیتی ہو ؟  

   برج ٹو ر کے تار ے  

یھاں برج ٹورکے قومی جغرافیہ کی تصویر دیگر نجومی منطق البروج کی تصویروں کے ساتھ – کیا کوئی بیل کی تصویر صاف دکھائی دیتی ہے ؟

 قومی جغرافیہ میں برج ٹو ر

برج ٹور کے تاروں پر غور کریں جو لکیروں کے ساتھ جڑا ہے – کیا آپ سینگوں  کے ساتھ  ایک بیل کی یصویر کو اس سے بہتر بنا سکتے ہیں ؟ ایک حد ّد تک یہ کائناتی حرف’ k ‘ سے زیادہ دکھائی دیتا ہے –

تاروں  کے ساتھ لکیروں سے جڑے برج ٹو ر کے تاروں کا مجمع 

مگر یہ نشانی جیسا کہ ہم جانتے ہیں انسانی تاریخ میں پیچھے کی طرف جاتی ہے – یہاں مصر کے ڈ ینڈ را مندر میں رکھی ہوئی منطقہ البروج کی تصویر ہے جو 2000  سال سے بھی زیادہ پرانا ہے ، اس میں برج ٹور کو سرخ رنگ سے دائرہ کھینچا گیا ہے –  

  ڈ ینڈ را مندر کے متطقہ البروج میں برج ٹور

جس طرح دیگر منطقہ البروج ستاروں  کے مجمع کے ساتھ برج ٹو ر کی تصویر ہے اسی طرح یہ  خود ہی ستاروں کے مجمع کے ساتھ ضروری نہیں ہے – یہ ستاروں کے مجمع کے اندر تخلیقی (پیدائشی) نہیں ہے – بلکہ بیل کی تصویر کا  خیال ستاروں  کے علاوہ کسی اور چیز سے پہلے آیا – پہلے کے نجومیوں نے بعد میں اس خیال کو ستاروں پر بچھایا تاکہ ایک متواتر نشان بطور ہو –

برج ٹور ایک بیل

برج ٹورکی نجومی تصویر اگے کو نکلے ہوئے سینگوں کے ساتھ ایک بیل کو د کھاتا ہے ، اس کا سر جھکا ہوا ہے بوجھ سے لد ا ہوا ہے – جس طرح  ا گرچہ کہ بیل کو شدید طیش و غضب میں دکھایا گیا ہے –راستے میں کسی کو بھونکنے (سینگ مارنے کو) تیار، پھرتی کے ساتھ آگے کو دھکّا دیتے ہوئے اور بے پایاں طاقت کا شا ہکار-     

 برج ٹور نجومی تصویر بطور – سات سہیلیوں کے جھمکے کے ساتھ ، سرخ رنگ سے دائرہ کھینچا ہوا –

سرخ رنگ سے دائرہ کھینچا ہوا یہ تاروں کا جھنڈ (جماعت) ہے جسے سات بہنوں (سہیلیوں)  کا جھمکا یا عقد ثرّیا کہا جاتا ہے جو برج ٹو ر کے گردن کے بیچوں بیچ ہے – اس ثرّیا کا براہے راست حوالہ بائبل مقدّس کے ایوب کی کتاب سے آتا ہے – حضرت ایوب علیہ السلام لگ بھگ 4000 سال پہلے حضرت ابراہیم کے زمانے کے آس پاس رہتے تھے – وہاں ہم اس طرح پڑھتے ہیں :

9اُس نے بناتُ النّعش اور جبّار اور ثُریّا اور جنُوب کے بُرجوں کو بنایا۔

ایوب ٩ :٩  

تاروں کا مجمع ثرّیا کو شامل کرتے ہوئے اور اسی طرح برج ٹو ر کو بھی ، ان سب کو خالق نے خود ہی بنایا ہے – اصل میں منطقہ البروج اسکی کہانی تھی جو قدیم لوگوں کو مکا شفے کے لکھے  جانے سے پہلے اس کہانی کے مرکز میں دی گیئ تھی اور یہ کہانی آنے والے عیسیٰ ال مسیح کی تھی جو (برج کنیا – کنواری  سے ہے) – برج ٹور  کہانی کو جاری رکھتا ہے مگر اس کی وسعت  کو کھول کر بیان کرتا ہے – برج ٹو ر کے سینگ  اور زبور شریف کی نبوت یں سمجھنے کے لئے کنجی ثابت ہوتےہیں – مسیح کو (حضرت داؤد کی نسل سے آنا ضروری تھا – لقب ‘ مسیح ‘ = ‘مسح کیا ہوا’ = ‘ یسوع ‘) بیان کئے گئے آنے والے مسیح کی تصویروں کے بیچ وہی ‘سینگ’ تھا –      

برج ٹور اور سینگ

17وہِیں مَیں داؤُد کے لِئے ایک سِینگ نِکالُوں گا۔ مَیں نے اپنے ممسُوح کے لِئے چراغ تیّار

کِیا ہے۔

زبور٢ ٣ ١ :٧ ١

10لیکن تُو نے میرے سِینگ کو جنگلی سانڈ کے سِینگ کی مانِند بُلند کِیا ہے۔ مُجھ پر تازہ تیل ملا گیا ہے۔

زبور ٢ ٩ :٠ ١

‘سینگ ‘ طاقت اور اختیار کو ظاہر کرتا ہے – مسح کیا ہوا (مسیح) حضرت داود کا سینگ تھا – اس کی پہلی آمد میں اس نے اپنے سینگ کو قبضے میں نہیں رکھا تھا کیونکہ وہ ایک خادم بطور دنیا میں آیا تھا مگرغور کریں کہ اس کی دوسری آمد کیسی ہوگی –

1اَے قَومو! نزدِیک آ کر سُنو۔ اَے اُمّتو! کان لگاؤ۔ زمِین اور اُس کی معمُوری۔ دُنیا اور سب چِیزیں جو اُس میں ہیں سُنیں۔ 2کیونکہ خُداوند کا قہر تمام قَوموں پر اور اُس کا غضب اُن کی سب فَوجوں پر ہے۔ اُس نے اُن کو ہلاک کر دِیا۔ اُس نے اُن کو ذبح ہونے کے لِئے حوالہ کِیا۔ 3اور اُن کے مقتُول پھینک دِئے جائیں گے بلکہ اُن کی لاشوں سے بدبُو اُٹھے گی اور پہاڑ اُن کے لہُو سے بہہ جائیں گے۔ 4اور تمام اجرامِ فلک گُداز ہو جائیں گے اور آسمان طُومار کی مانِند لپیٹے جائیں گے اور اُن کی تمام افواج تاک اور انجِیر کے مُرجھائے ہُوئے پتّوں کی مانِند گِر جائیں گی۔

5کیونکہ میری تلوار آسمان میں مست ہو گئی ہے۔ دیکھو وہ ادُوؔم پر اور اُن لوگوں پر جِن کو مَیں نے ملعُون کِیا ہے سزا دینے کو نازِل ہو گی۔ 6خُداوند کی تلوار خُون آلُودہ ہے۔ وہ چربی اور برّوں اور بکروں کے لہُو سے اور مینڈھوں کے گُردوں کی چربی سے چِکنا گئی کیونکہ خُداوند کے لِئے بُصراؔہ میں ایک قُربانی اور ادُوؔم کے مُلک میں بڑی خُون ریزی ہے۔ 7اور اُن کے ساتھ جنگلی سانڈ اور بچھڑے اور بَیل ذبح ہوں گے اور اُن کا مُلک خُون سے سیراب ہو جائے گا اور اُن کی گرد چربی سے چِکنا جائے گی۔ 8کیونکہ یہ خُداوند کا اِنتقام لینے کا دِن اور بدلہ لینے کا سال ہے جِس میں وہ صِیُّون کا اِنصاف کرے گا۔

یسعیا ہ ٤ ٣ :١ -٨   

تاروں کا غائب ہوجاجانا سچ مچ میں وہ چیز ہے جو حضرت عیسیٰ ال مسیح نے کہا اسکے آنے کے نشان ہونگے –نبی یسعیا ہ (700 قبل مسیح) اسی واقعہ کی نبوت کرتا ہے – : سو وہ مسیح کے آنے کے وقت کی پیشین گوئی کرتا ہے کہ وہ راست بازی کے ساتھ دنیا کا انصاف کرنے کو آئے گا – آنے والا انصاف کا وقت : برج ٹو ر کے ساتھ آسمان میں تصویر کشی کی گیئ اور یہ کتاب میں لکھی گیئ ہے – وہ منصف  بطور آ رہا ہے –       

عبارت میں برج ٹو ر کا زائچہ

پیغمبرانا عبارت  برج ٹور کے ‘ہورو’ (وقت) کی اس طرح سے نشان دہی کرتا ہے :  

6پِھر مَیں نے ایک اَور فرِشتہ کو آسمان کے بِیچ میں اُڑتے ہُوئے دیکھا جِس کے پاس زمِین کے رہنے والوں کی ہر قَوم اور قبِیلہ اور اہلِ زُبان اور اُمّت کے سُنانے کے لِئے اَبدی خُوشخبری تھی۔ 7اور اُس نے بڑی آواز سے کہا کہ خُدا سے ڈرو اور اُس کی تمجِید کرو کیونکہ اُس کی عدالت کا وقت آ پُہنچا ہے اور اُسی کی عِبادت کرو جِس نے آسمان اور زمِین اور سمُندر اور پانی کے چشمے پَیدا کِئے۔

مکاشفہ ٤ ١ :٦ -٧  

ہوروسکوپ (زا ئچہ) کا یہ لفظ یونانی کے ‘حورو‘ (وقت)سے نکلا ہے اور یہ انصاف کے وقت کے لئے ہے اس طرح سے اس کے معنی ہیں خاص اوقات کی طرف نشان دہی کرنا –پیغمبرانہ تحریریں کہتی ہیں کہ وہ وقت آ یگا برج ٹو ر‘حورو’ کی نشان دہی کرتا ہے –برج ٹو ر  قدیم نجومی زائچہ میں ہے  –

آپکے برج ٹورکے زائچے کی عبارت

 آج آپ اور میں برج ٹورکے زائچے کی عبارت کا استعمال کر سکتے ہیں –

برج ٹور آپ سے کہتا ہے کہ دنیا کا خاتمہ اتنے بڑے دھماکے کے ساتھ آئیگا کہ آسمان کی تمام روشنیاں جاتی رہینگی – کوئی بھی سیارہ  آس پاس نظر نہیں آ یگا کہ کسی تارے کے ساتھ قطار بندی ہو – سب سے اچھی بات یہ ہوگی کہ  اپنے وقت کا سہی استعمال کریں جبکہ آسمان کے سا رے انوار اب تک روشن ہیں – شروعات کے لئے اچھی جگہ ہے اپنی حلیمی کی خصو صیت پر کام کرنا ، کیونکہ خدا گھمنڈ یوں کا مقابلہ کرتا ہے اور حلیموں پر اپنا فضل عطا کرتا ہے – دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ تمھارے درمیان خدا اور گھمنڈ یوں کے بیچ کوئی مناسبت نہیں ہے –اوراسکے آوازکے ذریعے  سے اس وقت زیادہ فضل کا توقع کرینگے  ان خصو صیتوں کی بنا پر اسوقت کے لئے وہ آپ کو آزما یگا کہ آپ اس سے محبّت کرتے ہیں کہ نہیں -؟ اسکی نظر کے مطابق اگر آپ اسکے احکام کے پابند ہیں تو اپ اس سے محبّت کرتے ہیں – اس کے احکام کے پابند ہونے کا کام سے کام مطلب یہ ہے کہ اسکوجاننا اور اس ک مطا بق ان پر عمل کرنا

ایک دوسرے سے محبّت کرنا ایک دوسری خاصیت ہے کہ وہ  آپکی  بڑی  قد ر کرتا ہے – یہ بات ضرور ہے کہ محبّت کی با بت آپکے خیال اور اسکے خیال میں فرق ہو سوآپ ضرور سے  جانناچاہیںگے کہ حقیقی محبّت کیا ہے – محبّت کی بابت اسکا خیال آپکو کسی بھی رشتے  کی لے چلیگا – یعنی عشق کی  راہ پرآ پ کے کام کرنے کی جگہ پر یا گھر پر – اسنے تھو ڑا بتایا کہ محبّت آپ کو کیسا محسوس کراتا ہے – اور یہ کہ محبّت آپکو کیا کرنے کے لئے کہتا ہے اور کیا نہیں کرنے کے لئے کہتا ہے –اسنے کہا کہ محبّت صابر ہے اور مہربان – محبّت حسد نہیں کرتی – محبّت شیخی نہیں مارتی اور پھولتی نہیں –ان خصو صیتوں کو اپنی زندگی میں عمل کرتے ہوئے آپ وہاں جانے کو تیار ہونگے جہاں برج ٹو ر کا وقت پایا جاتا ہے-  آخری سوچ بطورسیکھنے کیلئے وہ چیزیں کھو لی جا ینگی جسے ‘  ابدی خوش خبری’ کہا جا تا ہے –اسکی تمام قوموں میں منادی کرنیکے لئے ایک فرشتہ کو مقرّر کیا گیا ہے –

منطقہ البروج میں آگے اور برج ٹو ر میں گہرائی سے

برج ٹورعدالت کا تصوّر کراتا ہے – جیمینی تصوّر کرایگا کہ ان کا کیا حشر ہوگا جو عدالت سے گزر جاینگے – منطقہ البروج کی شروعات کی کہانی کے لئے برج کنیا کو دیکھیں- 

  لکھی ہوئی کہانی میں گہرائی سے جانے کے لئے دیکھیں برج ٹو ر کو

–                

.