پنتیکست — مددگار قوت د ینے اور رہنمائی کرنے آتا ہے

سوره ال – بلد (سوره 90 – شہر)ایک چوڑے شہر کا حوالہ دیتاہے اور گواہی دیتا ہے اور سورہ ان – نصر (سورہ 110 – الہی مدد)لوگوں کی بھیڑ کا رویا پیش کرتا ہے جو خدا کی سچچی عبادت کے لئے آ رہے ہیں –  

 میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوں

90:1-2سورہ ال بلد

 (اے حبیبِ مکرّم!) اس لئے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں

 جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے

 اور آپ لوگوں کو دیکھ لیں (کہ) وہ اللہ کے دین میں جوق دَر جوق داخل ہو رہے ہیںo

 تو آپ (تشکراً) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح فرمائیں اور (تواضعاً) اس سے استغفار کریں، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا (اور مزید رحمت کے ساتھ رجوع فرمانے والا) ہے

 110: 1-3سورہ ان – نصر

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی قیامت کے ٹھیک 50 دن بعد سورہ ال –بلد میں رویا دکھایا اور سورہ ان – نصر میں یہ واقع ہوا – وہ شہر یروشلیم تھا ، اور عیسیٰ ال مسیح کے شاگرد آزاد لوگ تھے جو اس شہر کے لئے گواہ تھے ، مگر وہ خداوند کی روح تھی جو اس شہر میں بھیڑ کے بیچوں بیچ حرکت کر رہی تھی ،جو کہ جشن کا ،حمد و ستائش کا اقرار گناہ اور معافی کی التجا کا سبب بنا تھا – یہ اس دن کا تجربہ تھا جسے آج بھی تجربہ کیا جا سکتا ہے – اسے ہم تب سیکھتے ہیں جب ہم تاریخ کی بے مثل دن کو سمجھ لینگے –  

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح فسح کے دن مصلوب ہوئے تھے اور اسی ہفتے اتوار کے دن مردوں میں سے زندہ ہوئے تھے – موت پر اس فتح کے ساتھ اب وہ ہر کسی کو زندگی کا انعام پیش کرتے ہین جو انکو اپنا شخصی خداوند اور منجی بطور قبول کرتا ہے – نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح 40 دن اپنے شاگردوں کے ساتھ رہے تھے تاکہ انھیں یقین ہوجاۓ کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھے ہیں پھر اسکے بعد وہ آسمان پر صعود فرما گئے – مگر اس سے پہلے کہ وہ صعود فرماتے انہوں نے یہ ہدایتیں اپنے شاگردوں کو دیں –

 

(19)پس تُم جا کر سب قَوموں کو شاگِرد بناؤ اور اُن کوباپ اور بیٹے اور رُوحُ القُدس کے نام سے بپتِسمہ دو۔
(20)اور اُن کو یہ تعلِیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جِن کا مَیں نے تُم کو حُکم دِیا اور دیکھو مَیں دُنیا کے آخِر تک ہمیشہ تُمہارے ساتھ ہُوں۔

28:19-20متی

انہوں نے انکے ساتھ ہمیشہ تک رہنے کا وعدہ کیا اس کے باوجود بھی وہ کچھ در بعد انھیں چھوڑ کر آسمان پر صعود فرما گئے – انکے صعود  فرمانے کے بعد وہ ابھی بھی انکے ساتھ کیسے ساتھ رہ سکتے تھے اور موجودہ دور میں ہمارے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں ؟

اسکا جواب کچھ دن بعد ہوئے واقعے سے حاصل ہوتا ہے – انکی گرفتاری سے کچھ ہی دیر پہلے شام کے کھانے پر انہوں نے مددگار کے آنے کا وعدہ کیا تھا – انکے جی اٹھنے کے پچاس دن بعد (انکے صعود فرمانے کے دس دن بعد) یہ وعدہ پورا ہوا تھا – یہ دن پنتیکست کا دن یا پنتیکست کا اتوار کہلاتا ہے – اس دن بڑے شاندار طریقے سے جشن منایا جاتا ہے – یہ صرف اس لئے نہیں کہ اس دن کیا ہوا تھا بلکہ کب اور کیوں واقع ہوا تھا جو الله کے نشان کو ظاہر کرتا ہے ، اور آپ کے لئے ایک زبردست انعام ہے –     

پنتیکست کے دن کیا ہوا تھا     

مکمّل واقعیات کا ذکر بائبل کے اعمال کی کتاب کے دوسرے باب میں پایا جاتا ہے – اس دن خدا کا روح ال قدوس نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے پہلے شاگردوں پر نازل ہوا تھا – اور وہ بہت ہی اونچی آواز میں ، دنیا کے کئی مختلف زبانوں میں بولنا شروع کر دیا تھا – (مطلب یہ کہ شاگرد دوسری دوسری زبانوں میں یسوع  کی منادی کرنے  لگے تھے -) اس واقعے نے ایک ایسا ماحول اور ہلچل پیدا کردی تھی کہ ہزاروں لوگ جو اس وقت یروشلیم میں موجود تھے باہر آگیئے تھے اور اس جگہ پر جمع ہو گئے تھے یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہو رہا تھا – جہاں بھیڑ جمع ہو گیئ تھی وہاں پطرس نے کھڑے ہوکر پہلی بار انجیل کی منادی کی اور ‘ 3000  لوگ اسکے پیغام کو قبول کرکے یسوع پرایمان لے آئے اور ان میں شامل ہو گئے ‘ ( اعمال 2:41 )- انجیل کے پیچھے چلنے والوں کی تعداد اس پنتیکست کی اتوار سے لیکر آج  تک بڑھتی ہی جا رہی ہے –  

پنتیکست کا یہ خلاصہ پورا نہیں ہے – اسلئے کہ نبیوں کی دیگر واقعیات کی طرح ہی پنتیکست کا واقعہ بھی اسی دن ایک تہوار کی طرح ہوا تھا جو تورات شریف میں نبی حضرت موسیٰ کے ساتھ شروع  ہوا تھا –  

موسیٰ کی تورات سے پنتیکست       

نبی حضرت موسیٰ جو 1500 سال قبل مسیح میں تھے انہوں نے کئی ایک تہواریں قائم کیں کہ پورے سال بھر میں منائی جاۓ – فسح یہودی کیلنڈر کا پہلا عید تھا – نبی حضرت عیسیٰ کو فسح کے دن عید پر صلیب دی گیئ تھی – فسح کے برروں کی قربانیوں کے عین وقت میں ان کی موت کا وقت تھا جو ہمارے لئے ایک نشانی بطور ہے –

دوسری عید پہلے پھلوں کی عید تھی اور ہم نے دیکھا تھا کہ کس طرح نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح اس عید کے دن مردوں میں سے جی اٹھے تھے – جبکہ ان کی قیامت پہلے پھلوں کی عید کے موقعے پر ہوئی تو یہ ہمارے لئے وعدہ تھا کہ ان سب کے لئے جو عیسیٰ ال مسیح پر لاتے ہیں وہ مرنے کے بعد ان ہی کی طرح جی اٹھیںگے –انکا مردوں میں سے جی اٹھنا پہلا پھل تھا جس بطور عید کے نام کی نبوت ہوئی تھی –

ٹھیک اسی طرح 50 دنوں کے بعد پہلے پھلوں کی عید جو اتوار کو تورات کے مطابق یہودیوں کو پنتیکست کی عید منانے کی ضرورت تھی – (پینتی 50 کے لئے کہا گیا ہے) اس سے پہلے یہ ہفتوں کی عید سے جانا جاتا تھا جس میں سات ہفتوں کا حساب لگایا جاتا تھا –یہودی لوگ لگ بھگ 1500 سالوں سے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح تک ہفتوں کی عید کے نام سے منا رہے تھے – یہی سبب تھا کہ اس پنتیکست کے دن تمام دنیا سے یہودی لوگ موجود تھے کہ اس دن پطرس کے پیغام کو سنیں ،اور اسی دن جب یروشلیم میں روح ال قدوس نازل ہوا تھا وہ سہی اور صاف طور پر ظاہر تھا اسلئے کہ انھیں تورات کے پنتیکست کی عید کو منانا ضروری تھا – آج بھی یہودی لوگ پنتیکست کو منانا جاری رکھے ہوئے ہیں مگر اسکا نام انہوں نے بدل دیا ہے – وہ اسے شاووت کہتے ہیں –   

ہم تورات میں پڑھتے ہیں کہ کس طرح ہفتوں کی عید کو منانا ضروری تھا –

(16)اور ساتویں سبت کے دُوسرے دِن تک پچاس دِن گِن لینا ۔ تب تُم خُداوند کے لِئے نذر کی نئی قُربانی گُذراننا۔
(17)تُم اپنے گھروں میں سے اَیفہ کے دو دہائی حِصّہ کے وزن کے مَیدہ کے دو گِردے ہِلانے کی قُربانی کے لِئے لے آنا ۔ وہ خمِیر کے ساتھ پکائے جائیں تاکہ خُداوند کے لِئے پہلے پَھل ٹھہریں

۔23:16-17احبار

پینتیکست کا درست ہونا :الله کی طرف سے نشانی 

پنتیکست کا ایک ٹھیک وقت تھا جب لوگوں پر روح القددوس نازل ہوا تھا جبکہ یہ اسی دن واقع ہوا جس دن ہفتوں کی عید تھی یا تورات کا پنتیکست کا دن تھا –نبی عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت فسح کی عید پر واقع ہوتی ہے اور انکی قیامت پہلے پھلوں کی عید کے دن ، اور آنے والا اس  روح ال قدوس کا نازل ہونا ہفتوں کی عید پر واقع ہوا  یہ سب کچھ الله کی جانب سے ہمارے لئے صاف نشانیاں ہیں – ایک سال کے کی دنوں کے ساتھ کیوں عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت ، قیامت  اور پھر روح ال قددوس کا نزول یہ سب ایک ساتھ درستگی سے واقع ہوئے وہ بھی ہر ایک دن موسم بہار کے تین عیدوں کے ساتھ جنکا تورات شریف میں ذکر پایا جاتا ہے – ایسا کیوں ہوا ؟ یہ الله کے پاک منصوبہ کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا جو وہ ہمکو دکھانا چاہتا تھا –       

انجیل شریف کے واقعیات جو درستگی سے تورات شریف کے تین موسم بہار کے موقعوں  پر واقع ہوئے

پنتیکست : مد د گار نیئ قوت دیتا ہے       

روح ال قددوس کے آنے کے نشانات کو سمجھانے کے لئے پطرس نے یوئیل نبی کی ایک نبوت کی طرف اشارہ کیا ، یہ پیش بینی کرتے ہوئے کہ خداوند فرماتا ہے کہ "میں ہر فرد بشر پر اپنی روح نازل کرونگا "- پنتیکست کے دن اس واقعے کے ساتھ یہ نبوت پوری ہوئی –

ہم نے دیکھا کہ کس طرح نبیوں نے ہم پر ظاہر کیا کہ ہماری روحانی پیاس کی خصلت ہی ہمکو گناہ کی طرف لے جاتی ہے – نبیوں نے یہ بھی پیش نظر کی کہ ایک نئے عہد کا آنا جہاں شریعت ہمارے دلوں کے اندر ہوگا نہ کی پتھر کی تختیوں یا کتابوں میں بلکہ شریعت ہمارے دلوں کے اندر لکھ جانے سے ہی اسکے پیچھے چلنے کی طاقت اور قابلیت ہم میں ہوگی – اس پنتیکست کے دن ہی روح ال قددوس کے نازل ہونے کا مطلب تھا کہ وہ ایمانداروں میں سکونت کرے اور اس وعدے کی بھی تکمیل ہو جاۓ –

انجیل کو خوش خبری کہنے کا ایک سبب یہ ہے کہ یہ ایک بہتر زندگی جینے کی طاقت عطا کرتا ہے – اب زندگی اللہ اور اسکے لوگوںکے بیچ اتحاد کے ساتھ ہے –یہ اتحاد تب شروع ہوتا ہے جب سے کہ خدا کا روح ایک ایماندار کے اندر سکونت کرنے لگتا ہے جو اعمال 2 کے مطابق پنتیکست کے اتوار کے دن سے شروع ہوا تھا – یہ خوش خبری اسلئے بھی ہے کہ اب یہ زندگی فرق طریقے سے گزاری جا سکتی ہے خدا کے روح کے وسیلے سے اسکے عجیب رشتے کے ساتھ – خدا کا روح ہمکو باطنی اور سچچی رہنمائی عطا کرتا ہے یعنی خدا کی طرف سے رہنمائی – اسکو بائبل اس طرح سے سمجھاتی ہے :  

 

(13)اور اُسی میں تُم پر بھی جب تُم نے کلامِ حق کو سُنا جو تُمہاری نجات کی خُوشخبری ہے اور اُس پر اِیمان لائے پاک مَوعُودہ رُوح کی مُہر لگی۔
(14)وُہی خُدا کی مِلکِیّت کی مخلصی کے لِئے ہماری مِیراث کا بَیعانہ ہے تاکہ اُس کے جلال کی سِتایش ہو۔

1:13-14افسیوں

(11)اور اگر اُسی کا رُوح تُم میں بسا ہُؤا ہے جِس نے یِسُو ع کو مُردوں میں سے جِلایا تو جِس نے مسِیح یِسُو ع کو مُردوں میں سے جِلایا وہ تُمہارے فانی بَدنوں کو بھی اپنے اُس رُوح کے وسِیلہ سے زِندہ کرے گا جو تُم میں بسا ہُؤا ہے۔ 

8:11رومیوں

 (23)اور نہ فقط وُہی بلکہ ہم بھی جِنہیں رُوح کے پہلے پَھل مِلے ہیں آپ اپنے باطِن میں کراہتے ہیں اور لے پالک ہونے یعنی اپنے بدن کی مُخلصی کی راہ دیکھتے ہیں۔

8:23رومیوں

خدا کے روح کی سکونت ایک دوسرا پہلا پھل ہے ، روح کیونکہ پہلے سے چکھا ہوا ہے ،’خدا کے فرزند’ بننے کی ہماری تبدیلی کے پورا ہونے کا ایک ضامن بھی ہے –

خوش خبری ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے ، کوشش کے زریعے سے نہیں – بلکہ – شریعت کے ماننے سے انکار کے زریعے –نہ ہی کثرت کی زندگی ملکیت ،عہدہ دولت اور دیگر اس دنیا کی عیش و عشرت سے حاصل ہوتی ہے جنہیں حضرت سلیمان نے تجربہ کیا تھا اسکے باوجود بھی انہوں نے ایک خالی پن کا احساس کیا تھا –اسکے برعکس انجیل ایک نی کثرت کی زندگی ہمارے دلوں میں خدا کے روح کے سکونت کئے جانے کے زریعے حاصل ہوتی ہے اگر الله سکونت کرنے دے ،اور ہمکو قوت اور رہنمائی عطا کرے تو یہ ہمارے لئے خوش خبری ہونی چاہئے – تورات کے پنتیکست کی عید کے مطابق اسکا جشن خمیرے آٹے سے بنی اور پکی عمدہ اور ذائقے دار روٹیوں سے منائی جاتی ہے یہ درستگی نئے اور پرانے پنتیکست کے بیچ ہمارے لئے بھی صاف نشانی ہے کہ یہ  ہمارے لئے اللہ کی طرف سے اسکا پاک منصوبہ ہے کہ ہم ایک کثرت کی زندگی رکھیں –  

‘ال کتاب’- کتاب مقدّ س کا پیغام کیا ہے ؟

ال کتاب (بائبل) کے لفظی معنی ہیں ایک ‘خاص کتاب’– تاریخ میں سب سے پہلے بائبل کی تحریر تھی جسکی کتاب کی شکل میں اشاعت ہوئی جو آج ہم دیکھتے ہیں – بائبل دنیا کے اونچے درجے کی کتاب ہے جسکی وسعت میں تمام لوگ اور زمیں کے قبیلے شامل ہیں – د نیا  کے کئی ایک اقوام پر بائبل کا ایک گہرا تا ثر شروع سے ہی رہا ہے – اسلئے کہ اسکو موجودہ زمانے کے زیادہ سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے اور یہ کررہ زمیں پر سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے – مگر یہ کتاب بھی دیگر کتابوں کی طرح ایک پیچیدہ کہانی کے ساتھ لمبی کتاب ہے – اسلئے ہم میں سے بہت ہیں اس کتاب کے موضوع کو نہ  جانتے اور نہ سمجھتے ہیں یہ تحریر بائبل کی ایک کتاب سے ایک جملے کو لیگا تاکہ اس اونچے درجے کی کتاب سے کہانی کو سمجھاۓ – نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے کام –         

بائبل اس لئے دی گئی تھی کہ ہمارے مستقبل میں ایک حقیقی پریشانی سے مخاطب کراۓ – اس پریشانی کو سورہ ال مجادلہ (سورہ 58 — حججتی  عورت) میں آنے والے اس انصاف کے دن کی بابت بتاتے ہوئے سمجھایا گیا ہے –

 جس دن اللہ ان سب لوگوں کو (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے گا پھر انہیں اُن کے اعمال سے آگاہ فرمائے گا، اللہ نے (ان کے) ہر عمل کو شمار کر رکھا ہے حالانکہ وہ اسے بھول (بھی) چکے ہیں، اور اللہ ہر چیز پر مطّلع (اور آگاہ) ہےo

58:6-7سورہ ال – مجادلہ

 (اے انسان!) کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ اُن سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، کہیں بھی تین (آدمیوں) کی کوئی سرگوشی نہیں ہوتی مگر یہ کہ وہ (اللہ اپنے محیط علم و آگہی کے ساتھ) اُن کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی پانچ (آدمیوں) کی سرگوشی ہوتی ہے مگر وہ (اپنے علمِ محیط کے ساتھ) اُن کا چھٹا ہوتا ہے، اور نہ اس سے کم (لوگوں) کی اور نہ زیادہ کی مگر وہ (ہمیشہ) اُن کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوتے ہیں، پھر وہ قیامت کے دن انہیں اُن کاموں سے خبردار کر دے گا جو وہ کرتے رہے تھے، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہےo

سورہ ال – مجادلہ ہم سے کہتا ہے کہ ہمارے بارےمیں کوئی ایسی پوشیدہ بات نہیں ہے جسے الله نہ جانتا ہو ، اور وہ اس حکمت کو ہم پر انصاف کرنے کے لئے استعمال کریگا –   

سورہ ال قیامہ (سورہ 75 قیامت )اس دن کو (موت سے زندہ ہونے) کا دن کہلاتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ بنی انسان کو الله کے حضور زندگی میں جو کام اس نے کئے تھے اس کی بابت سوال جواب کے لئے پیش کیا جائے گا – 

 اُس وقت انسان پکار اٹھے گا کہ بھاگ جانے کا ٹھکانا کہاں ہےo

 ہرگز نہیں! کوئی جائے پناہ نہیں ہےo

 اُس دن آپ کے رب ہی کے پاس قرارگاہ ہوگیo

 اُس دن اِنسان اُن (اَعمال) سے خبردار کیا جائے گا جو اُس نے آگے بھیجے تھے اور جو (اَثرات اپنی موت کے بعد) پیچھے چھوڑے تھےo

 بلکہ اِنسان اپنے (اَحوالِ) نفس پر (خود ہی) آگاہ ہوگاo

 اگرچہ وہ اپنے تمام عذر پیش کرے گاo

75:10-15سورہ ال – قیامہ

سو ہم کیا کرتے ہیں اگر ہماری زندگیوں میں ایسے ارادے اور برے کام سرزد  ہو جاتے ہیں جن سے ہم شرمندہ ہو جاتے ہیں ؟ بائبل کا پیغام ان لوگوں کے لئے ہے جو ان باتوں کا احساس رکھتے ہیں یا جن کو اس بات کی پرواہ ہے –

کتاب کا پیغام     


ہم نے حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی کے آخری ہفتے کا جائزہ لیا۔ اس کے بارے انجیل مقدس میں درج ہے کہ وہ ہفتے کے چھٹے دن صلیب پر مصلوب ہوئے۔ اور وہ دن مبارک جمعہ کہلاتا ہے۔ اور آپ اتوار والے دن وہ مُردوں میں سے جی اُٹھے۔ اِس کے بارے میں تورات، زبور اور صحائف انبیاہ میں پیشگوئی پہلے سے نبیوں نے درج کردی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ کیوں واقعہ ہوا اور آج یہ تمہارے اور میرے زندگی کے لیے کیوں اتنا اہم ہے؟ اور یہاں ہم اس بات کو سمجھنے کے کوشش کریں گے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے لیے کیا پیش کیا۔ اور کیسے ہم اللہ تعالیٰ کے رحم اور معافی کو حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ ہمیں سورة الفاتح کو بھی سمجھنے میں مدد دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جاتی ہے کہ "ہمیں سیدھا راستہ دیکھا” اور "مسلم” کا مطلب ہے "جو اطاعت یا تعاعب” ہوگیا ہو۔ اور کس طرح یہ سب مذہبی رسمیں وضو، زکوة، اور ہلال کھانا سب اچھا ہے لیکن پھر بھی قیامت والے دن یہ سب ناکافی ہیں؟

بری خبر: انبیاہ اکرام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتے کے بارے میں کیا کہا ہے؟

یوں اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا، اللہ کی صورت پر۔ اُس نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا۔ پیدائش 1:27

یہاں پر "صورت” سے مراد جسمانی معنی نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے معنی ہیں کہ ہم جذباتی ، ذہنی ، معاشرتی اور روحانی طور پر کام کرنے کے انداز میں اللہ تعالیٰ کی عکاسی کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق یا رشتہ قائم کرنے کے لیے پیدا کئے گے تھے۔ ہم اس رشتے یا تعلق کو اس سلائیڈ میں دیکھ سکتےہیں۔ اس سلائیڈ میں خالق جو کہ لامحدود حاکم ہے اس کو اُوپر لکھا گیا ہے۔ اس طرح مرد اور عورت کو سلائیڈ کے نیچے رکھا گیا ہے۔ کیونکہ ہم محدود مخلوق ہیں۔ اور اس میں رشتے کو تیر کے ذریعے دیکھایا گیا ہے۔

جب ہم اللہ تعالیٰ کی صورت پر پیدا کئے گے تھے۔ لوگوں کو اپنے خالق کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔

اللہ تعالیٰ کا کردار کامل ہے۔ وہ پاک ہے۔ اس لیے زبور شریف میں کہا گیا ہے

کیونکہ تُو ایسا خدا نہیں ہے جو بےدینی سے خوش ہو۔ جو بُرا ہے وہ تیرے حضور نہیں ٹھہر سکتا۔ مغرور تیرے حضور کھڑے نہیں ہو سکتے، بدکار سے تُو نفرت کرتا ہے۔     

    زبور 5: 4-5

حضرت آدم نے صرف ایک نافرمانی کی۔ صرف ایک۔ اور اللہ تعالیٰ کی تقدیس نے حضرت آدم کو انصاف کے لیے طلب کیا ہے۔ تورات شریف اور قرآن شریف میں لکھا ہے کہ اس کے نافرمانی کی وجہ سے حضرت آدم فانی ہوگے اور اللہ تعالیٰ کی پاک حضوری میں نکال دیا۔ جب کبھی ہم گناہ کرتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے نافرمانی جس طرح ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی صورت پر بنا اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ تو دراصل ہم اس رشتے کو توڑ دیتے ہیں۔ اس لیے یہ نافرمانی ایک سخت چٹان کی مانند ہمارے اور خدا (خالق) کے درمیان ایک دیوار بن جاتی ہے۔  

ہمارے گناہ ہمارے اورہمارے پاک خدا کے درمیان ایک ٹھوس رکاوٹ پیدا کرتے ہیں

گناہوں کی دیوار کو نیکیوں کے ساتھ گرانا

ہم میں سے بہت سے لوگ مذہبی نیک کاموں کے ذریعے اس بڑی دیوار کو گرانا چاہتے ہیں۔ یا پھر ایسے نیک کام کرتے ہیں کے اُن کے بدلے اللہ تعالیٰ اور انسان کے درمیان جدائی ختم ہوجائے۔ نماز، روزہ، زکوة، حج، صدقہ دینا اور مسجد جانا ان سب کاموں کے وسیلے ہم اس گناہوں کی دیوار کو گرانا چاہتے ہیں۔ اُمید یہ ہوتی ہے کہ ہمارے مذہبی نیک کاموں کے وسیلے ہمارے گناہ کام ہوجائیں گے؟ اگر ہم اتنے نیک کام کمالیں کے ہمارے سارے گناہوں کو منسوخ کردیا جائے اور پھر یہ اُمید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور مغفرت عطا فرمائے۔

ہم اللہ اور ہمارے درمیان گناہ کی دیوار کو کے نیک اعمال وسیلے چھیدنے کی کوشش کرتے ہیں

لیکن ہمیں گناہوں کو معاف کروانے کے لیے کتنی زیادہ نیک کام کمانے ہونگے؟ اس بات کا کیا یقین ہے کہ ہماری نیکیاں کافی ہونگی تماتر گناہوں کو معاف کروانے کے لیے اور اُس دیوار کو گرا دے جو ہمارے اور حالق کے درمیان کھڑی ہے؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ ہم نیک کوشش جو ہم کرتے ہیں وہ کافی ہے؟ دراصل ہم کو ان تمام تر باتوں میں کوئی یقین نہیں ہے۔ ہم اس لیے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ قیامت روز ہمارے لیے کافی ہوں۔

ان تمام تر نیک نیت اور نیک کاموں کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ ہم پاک بھی رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نماز سے پہلے جاںفشانی کے ساتھ وضو کرتے ہیں۔ ہم ہر طرح سے کوشش کرتے ہیں کہ ہم لوگوں، اور اُن چیزوں سے دور رہیں جن سے ہم ناپاک ہوسکتے ہیں۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے ایک بات کا ہم پر یہ انکشاف کیا کہ۔

ہم سب ناپاک ہو گئے ہیں، ہمارے تمام نام نہاد راست کام گندے چیتھڑوں کی مانند ہیں۔ ہم سب پتوں کی طرح مُرجھا گئے ہیں، اور ہمارے گناہ ہمیں ہَوا کے جھونکوں کی طرح اُڑا کر لے جا رہے ہیں۔  یسعیا 64: 6

یہاں نبی ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم سب چیزوں سے پرہیز کریں تو بھی ہم ناپاک ہوجاتے ہیں۔ ہمارے گناہوں ہمارے تمام تر "نیک یا راستی” کے کاموں کو ناپاک بنادیتے ہیں جس طرح ایک گندا کپڑا خون سے لت ہو۔ یہ ایک بُری خبر ہے۔ لیکن اور بھی خراب ہوجاتی ہے۔

بدترین خبر: گناہ اور موت کی طاقت

حضرت موسیٰ  نے شریعت کا واضع قانون متعارف کروایا۔ کہ احکام کی کامل اطاعت کرنی ہوگی۔ شریعت میں کہیں بھی ایسا نہیں لکھا کہ تم "بیشتر احکام” پر عمل کرسکتے ہو اور باقی جو چُھوٹ جائیں اُن کو رہنے دو۔ درحقیقت شریعت میں بار بار کہا ہے کہ واحد نیک کام ہمارے گناہ کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی اور وہ موت ہے۔ ہم نے حضرت نوح کے زمانے میں اور حتیٰ کہ حضرت لوط کی بیوی کے ساتھ بھی دیکھا تھا کہ گناہ کا نتیجہ موت ہے۔

انجیل شریف اس سچائی کا خلاصہ ذیل میں بیان کرتی ہے۔

کیونکہ گناہ کا اجر موت ہے ۔ ۔ ۔  رومیوں 6: 23

موت کے لفظی معنی ہیں "علیحدگی”۔ جب ہماری روح ہمارے جسم سے الگ ہوجاتی ہے تو ہم جسمانی طور پر مر جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم اب بھی روحانی طور پر خدا سے جدا ہوگئے ہیں اور اس کی نظر میں مردہ اور ناپاک ہیں۔

اس سے گناہ سے مغفرت حاصل کرنے میں مسلئہ پیدا ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سخت کوششیں ، قابلیت ، اچھے ارادے اور نیک اعمال ، اگرچہ غلط نہیں ہیں ، لیکن ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے ناکافی ہیں کیوںکہ ہمارے گناہوں کی ادائیگی ("اجرت”) کی ضرورت ‘موت’ ہے۔ اس لیے صرف موت ہی اس گناہ کی دیوار کو گرا سکتی ہے۔  کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ عادل منصف ہے اور اُس کا انصاف اس سے مطمئن ہوتا ہے۔ نیکیوں کوحاصل کرنے کے لئے ہماری کوششیں ایسی ہیں جیسے ہم حلال کھانا کھا کر کینسر سے علاج حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہوں۔ حلال کھانا بُرا نہیں ہے بلکہ اچھا ہے۔ اور ہر کسی کو حلال کھانا کھانا چاہئے۔ لیکن اس سے کینسر کا علاج نہیں ہوتا۔ بلکہ کینسر کا علاج بالکل مختلف ہے۔ اس علاج میں کینسر والے خلیوں کو موت دی جاتی ہے۔ تاکہ انسان کو بچا لیا جائے۔

لہذا ہماری مذہبی نیک کوششوں اور نیک ارادوں میں بھی ہم اپنے خالق کی نظر میں ایک لاش کی طرح دراصل مردہ اور ناپاک ہیں۔

ہمارے گناہ کا اجر موت ہے۔ ہم اللہ کے حضور ناپاک لاشوں کی مانند ہیں

حضرت ابراہیم : سیدھا راستہ دیکھا رہے ہیں

حضرت ابراہیم کے ساتھ کچھ مختلف ہوا۔ اُن کو نیک کاموں یا راست بازی کے کاموں کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر ایمان لائے اس لیے اُن کو راست باز گنا گیا۔ اُنہوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا نہ کہ اپنے نیک کاموں پر۔ ہم نے اس عظیم قربانی کے واقع میں دیکھا کہ موت (گناہ کی ادائیگی) ادا کی گئی۔ لیکن حضرت ابراہیم کے بیٹے کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بکرہ عطا کیاگیا۔

ابراہیم کو سیدھا راستہ دکھایا گیا تھا – اس نے سیدھے خدا کے وعدے پر بھروسہ کیا اور خدا نے گناہ کے لئے موت کی ادائیگی کی

قرآن شریف کی سورة الصَّافات اس طرح بیان کیا گیا ہے

اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا ﴿۱۰۷﴾  اور پیچھے آنے والوں میں ابراہیم کا (ذکر خیر باقی) چھوڑ دیا ﴿۱۰۸﴾  کہ ابراہیم پر سلام ہو ﴿۱۰۹  

            سورة الصَّافات ۳۷: ۱۰۷ تا ۱۰۹                                                                                                    

                                                                                                                                                          اللہ تعالیٰ نے ‘فدیہ’ دیا (قیمت ادا کی) اور ابراہیم کو برکت ، رحمت اور مغفرت ملی ، جس میں ’’ امن ‘‘ شامل تھا۔

خوشخبری: حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے ایک عظیم کام کیا

نبی کی مثال بالکل ایسی ہے جس طرح سورة فاتحہ میں دوخواست کی گئی کہ ہمیں سیدھا راستہ دیکھا۔ (سورة الفاتحہ

سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے ﴿۱﴾  بڑا مہربان نہایت رحم والا ﴿۲﴾  انصاف کے دن کا حاکم ﴿۳﴾  (اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ﴿۴﴾

سورة الفاتحہ ۱: ۱ تا ۴

انجیل شریف میں اس بات کی وضاحت کی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ اللہ کس طرح ہمارے گناہ کی قیمت ادا کرے گا اور سادہ اور حیرت انگیز طریقے سے موت اور ناپاکی کا علاج مہیا کرے گا۔

کیونکہ گناہ کا اجر موت ہے جبکہ اللہ ہمارے خداوند مسیح عیسیٰ کے وسیلے سے ہمیں ابدی زندگی کی مفت نعمت عطا کرتا ہے۔

رومیوں 6:23

اب تک ہم’بری خبرکی بات کر رہے تھے ۔ لیکن جب انجیل شریف کے معنی کو لیتے ہیں تو ‘انجیل’ کے لغوی معنی ہیں ’خوشخبری‘ اور انجیل یہ اعلان کرتی ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ کی موت کی قربانی ہمارے اور خدا کے مابین اس گناہ کی دیوار یا رکاوٹ کو چھیدنے کے لئے کافی ہے ہم دیکھ سکتے ہیں کیوں کہ یہ خوشخبری ہے جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی قربانی – خدا کا بکرہ – ہمارے گناہوں کے واسطے موت کی ادائیگی اُسی طرح ادا کی۔ جیسے ابراہیم کے بکرے کو قربان کیا تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح  قربان ہوئے اور پھر پہلے پھلوں کے طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھے تو وہ اب ہمیں نئی زندگی (ہیمشہ کی زندگی) کی پیش کش کرتے ہیں۔ اب ہمیں گناہ کی وجہ سے موت کے قید میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی مُردوں میں سے قیامت ‘پہلا پھل’ تھا۔ ہم موت سے آزاد ہوسکتے ہیں اور حضرت عیسیٰ المسیح کی طرح قیامت جس کا مطلب جی اُٹھنے والی زندگی حاصل کرسکتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح (کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا) قیامت پہلا پھل’ تھے۔ ہم موت سے آزاد ہوسکتے ہیں اور قیامت میں ہیمشہ کی زندگی حاصل کرسکتے ہیں۔

اس کی قربانی اور (مُردوں میں سے جی اُٹھ کر) قیامت میں حضرت عیسیٰ المسیح گناہ کی راہ میں رکاوٹ کا دروازہ بن گیا جو ہمیں اللہ تعالیٰ سے جدا کرتا ہے۔ اسی لئے پیغمبر نے فرمایا

‘مَیں ہی دروازہ ہوں۔ جو بھی میرے ذریعے اندر آئے اُسے نجات ملے گی۔ وہ آتا جاتا اور ہری چراگاہیں پاتا رہے گا۔ چور تو صرف چوری کرنے، ذبح کرنے اور تباہ کرنے آتا ہے۔ لیکن مَیں اِس لئے آیا ہوں کہ وہ زندگی پائیں، بلکہ کثرت کی زندگی پائیں۔      یوحنا 10: 9-10

حضرت عیسیٰ المسیح ایسا دروازہ ہے جو گناہ اور موت کی راہ میں رکاوٹ ہے

اس دروازے (حضرت عیسیٰ المسیح) کی وجہ سے ، اب ہم اپنے خالق کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ اس سے پہلے  ہمارا گناہ ایک رکاوٹ تھا ۔ اس دروازے کے وسیلے ہمیں رحمت اور اپنے گناہوں کی معافی کی یقین دلایا جاسکتا ہے۔

کھلے دروازے کے ساتھ اب ہم اپنے خالق کے ساتھ تعلقات میں بحال ہوگئے ہیں

جس طرح انجیل پاک میں لکھا ہے۔

کیونکہ ایک ہی خدا ہے اور اللہ اور انسان کے بیچ میں ایک ہی درمیانی ہے یعنی مسیح عیسیٰ، وہ انسان جس نے اپنے آپ کو فدیہ کے طور پر سب کے لئے دے دیا تاکہ وہ مخلصی پائیں۔ یوں اُس نے مقررہ وقت پر گواہی دی

پہلا تیمتھیس 2: 5-6

حضرت عیسیٰ المسیح  نے ‘خود کو’ تمام لوگوں کے لئے ‘دیا۔ لہذا اس میں آپ  کو اپنے آپ کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ اپنی موت اور قیامت کے ذریعے اہمارا ایک ’ثالث‘ ہونے کی قیمت ادا کردی ہے اور ہمیں ہمیشہ زندگی کی پیش کش کی ہے۔ یہ زندگی ہمیں کیسے دی جاتی ہے؟

‘کیونکہ گناہ کا اجر موت ہے جبکہ اللہ ہمارے خداوند مسیح عیسیٰ کے وسیلے سے ہمیں ابدی زندگی کی مفت نعمت عطا کرتا ہے۔’

رومیوں 6: 23

غور کریں کہ یہ زندگی ہمیں کس طرح دیا گیا ہے۔ یہ بطور…  ’ہم کو تحفہ‘ کے پیش کی جاتا ہے۔ زرا آپ تحفوں کے بارے میں سوچیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تحفہ کیسا ہے ، اگر واقع یہ ایک تحفہ ہے تو یہ ایسی چیز ہے جس کے لیے آپ کام نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی  اس کے لیے کوئی قیمت یا نیک کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ نے اسے کمایا تو یہ تحفہ اب کوئی تحفہ نہیں ہوگا – یہ آپ کے کام کی اجرت ہوگی! اسی طرح آپ عیسیٰ المسیح کی قربانی کا تقاضا نہیں لگا سکتے اور نہ ہی اپنے نیک کاموں سے کما سکتے ہیں۔ یہ بطور تحفہ جو آپ کو دیا گیا ہے۔ یہ اتنا آسان اور سادہ ہے۔

اور تحفہ کیا ہے؟ یہ ‘ہمیشہ زندگی’ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس گناہ سے موت آپ اور مجھے پر آئی وہ اب اس کی ادائگی  چکا ہے۔ کیونکہ خدا تم سے اور مجھ سے محبت رکھتا ہے۔  اور اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔

اب آپ اور میں ہیمشہ کی زندگی کیسے حاصل کرسکتے؟ ایک بار پھر ، تحائف کے بارے میں سوچیں. اگر کوئی آپ کو کوئی تحفہ دینا چاہتا ہے تو آپ کو اسے ضرور ‘وصول’ کرنا ہوگا۔ جب بھی تحفہ پیش کیا جاتا ہے تو صرف دو ہی متبادل ہوتے ہیں۔ یا تو تحفہ سے انکار کردیا جاتا ہے ("نہیں آپ کا شکریہ”) یا قبول کرلیا جات ہے ("آپ کے تحفے کا شکریہ۔ میں اسے لے کر جاؤں گا”)۔ تو بھی یہ تحفہ موصول ہونا ضروری ہے. اس تحفے کو صرف آپ کو قبول ہی کرنا بلکہ اس پر ذہنی طور پر یقین کرنا ، پڑھا یا سمجھنا چاہئے۔ اچھی بات ہے جب آپ کو تحفہ پیش کیا جائے تو اس کو قبول کرنا چاہئے۔

‘توبھی کچھ اُسے قبول کر کے اُس کے نام پر ایمان لائے۔ اُنہیں اُس نے اللہ کے فرزند بننے کا حق بخش دیا، ایسے فرزند جو نہ فطری طور پر، نہ کسی انسان کے منصوبے کے تحت پیدا ہوئے بلکہ اللہ سے۔ ‘

یوحنا 1: 12-13

در حقیقت ، انجیل خدا کے بارے میں بتاتی ہے۔

‘یہ اچھا اور ہمارے نجات دہندہ اللہ کو پسندیدہ ہے۔ ہاں، وہ چاہتا ہے کہ تمام انسان نجات پا کر سچائی کو جان لیں۔ ‘

۱۔تیمتھیس 2: 3-4

حضرت عیسیٰ المسیح نجات دہندہ ہیں اور آپ کی خواہش ہے کہ ‘تمام لوگ’ اس کا تحفہ قبول کریں اور گناہ اور موت سے بچ جائیں۔ اگر آپ حضرت عیسیٰ المسیح کی مرضی قبول کرنا چاہتے ہیں۔ تو اس  تحفے کو قبول کرنا محض آپ کی مرضی کے تابع ہونا ہوگا – جس طرح لفظ ‘مسلم’ کے معنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے فرمانبردار کردینا ہے۔ اس طرح ہم کو اللہ تعالیٰ کے اس تحفے کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں قبول کرلینا چاہئے۔

تو ہم یہ تحفہ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ انجیل شریف میں درج ہے۔

‘اِس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو یا غیریہودی۔ کیونکہ سب کا ایک ہی خداوند ہے، جو فیاضی سے ہر ایک کو دیتا ہے جو اُسے پکارتا ہے۔ ‘

رومیوں 10: 12

غور کرنے کی بات ہے کہ یہ وعدہ ‘سب کے لئے’ ہے۔ چونکہ آپ مردوں میں سے جی اُٹھے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح اب بھی زندہ ہیں۔ لہذا اگر آپ ان کو پکاریں گے تو وہ سن لے گے اور آپ کو اپنا تحفہ عطا کریں گے۔

آپ ان کو پکاریں اوران سے کہیں۔ شاید آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا ہوگا۔ ذیل میں ایک گائیڈ ہے جو آپ کی مدد کرسکتی ہے۔ یہ کوئی جادومنتر نہیں ہے۔ اور نہ یی یہ مخصوص الفاظ نہیں جو  قوت دیتے ہیں۔ یہ بھروسہ ہے جیسا ابراہیم کا تھا کہ ہم حضرت عیسیٰ المسیح میں پر اپنا یقین لائیں تاکہ وہ یہ تحفہ ہمیں دیں۔ جب ہم ان پر بھروسہ کرتے ہیں تو وہ ہماری سن لے گے اور جواب دے گے۔ انجیل پاک میں قوت ہے ، اور پھر بھی بہت سادہ ہے۔ اگر آپ کو یہ مددگار ثابت ہوتا ہے تو اس رہنمائی پر عمل کرنے کے لئے آزادی محسوس کریں۔

پیارے حضرت عیسیٰ المسیح۔ میں سمجھتا ہوں کہ اپنے گناہوں کی وجہ ہی سے میں اپنے خالق اللہ تعالیٰ سے جدا ہوں۔ اگرچہ میں پوری کوشش کرسکتا ہوں ، لیکن میری کوششیں اس رکاوٹ کو جو میرے گناہ کی وجہ سے دیوار کی ماندد ہیں گرا نہیں سکتیں۔  لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی موت میرے تمام گناہوں کو دھو ڈالنے اور مجھے پاک کرنے کے لئے آپ قربان ہوئے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اپنی قربانی کے بعد مردوں میں سے جی اُٹھے ہیں لہذا مجھے یقین ہے کہ آپ کی قربانی کافی ہے اور اسی لئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم مجھے میرے گناہوں سے پاک کردیں اور اپنے خالق کے ساتھ صلح کروائیں تاکہ میں ابدی زندگی پاسکوں۔ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، حضرت عیسیٰ المسیح ، آپ نے میرے لئے یہ سب کیا۔  اور آپ اب بھی میری زندگی میں میری رہنمائی کرتے رہیں  تاکہ میں آپ کو اپنے خداوند کی حیثیت سے پیروی کرتا رہوں۔

اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان ہے

   

کیا دائیں طرف کے اور بائیں طرف کے فرشتے انصاف کے دن ہماری مدد کرینگے ؟

سورہ ال – حاقہ سورہ — 69 حقیقت ) بیان کرتا ہے کہ کس طرح ایک صور کے پھونکے جانے سے انصاف کا انصاف کا دن ظاہر ہوگا –  

 پھر جب صور میں ایک مرتبہ پھونک ماری جائے گے

اور زمین اور پہاڑ (اپنی جگہوں سے) اٹھا لئے جائیں گے، پھر وہ ایک ہی بار ٹکرا کر ریزہ ریزہ کر دیے جا ئینگے

 سو اُس وقت واقع ہونے والی (قیامت) برپا ہو جائے گےo

 اور (سب) آسمانی کرّے پھٹ جائیں گے اور یہ کائنات (ایک نظام میں مربوط اور حرکت میں رکھنے والی قوت کے ذریعے سیاہ) شگافوں پر مشتمل ہو جائے گیo

 اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے، اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن ان کے اوپر آٹھ (فرشتے یا فرشتوں کے طبقات) اٹھائے ہوئے ہوں گےo

 اُس دن تم (حساب کے لئے) پیش کیے جاؤ گے، تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گیo

69:13-18سورہ ال حاقہ  

سورہ قاف (سورہ 50 بھی ایک دن کی بابت بیان کرتا ہے کہ اللہ کی جانب سے صور پھونکی جاےگی اور محافظ فرشتے جو ہمارے دائیں اور بائیں غیبی طور سے موجود ہیں الله کے حضور ہمارے نیک و بد  اعمال کی فہرست پیش کرینگے – یہ آیتیں اس طرح کہتی ہیں –  

 اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اُن وسوسوں کو (بھی) جانتے ہیں جو اس کا نفس (اس کے دل و دماغ میں) ڈالتا ہے۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیںo

 جب دو لینے والے (فرشتے اس کے ہر قول و فعل کو تحریر میں) لے لیتے ہیں (جو) دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیںo

 وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہےo

 اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آپہنچی۔ (اے انسان!) یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھاo

 اور صُور پھونکا جائے گا، یہی (عذاب ہی) وعید کا دن ہےo

 اور ہر جان (ہمارے حضور اس طرح) آئے گی کہ اُس کا ایک ہانکنے والا (فرشتہ) اور (دوسرا اعمال پر) گواہ ہوگاo

 حقیقت میں تُو اِس (دن) سے غفلت میں پڑا رہا سو ہم نے تیرا پردۂ (غفلت) ہٹا دیا پس آج تیری نگاہ تیز ہےo

 اور اس کے ساتھ رہنے والا (فرشتہ) کہے گا: یہ ہے جو کچھ میرے پاس تیار ہے

 50:16-23سورہ قاف

آیت 20 کہتا ہے کی صور کے پھونکے جانے کی چتونی پہلے ہی سے دی جا چکی تھی (اس سے پہلے کہ قران شریف کا مکاشفہ ہوا تھا)- یہ کب دیا گیا تھا ؟ یہ نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی طرف سے اس وقت دیا گیا تھا جب انجیل میں انہوں نے پیش بینی کی تھی کہ انکے دوبارہ لوٹنے وقت آسمان سے  زمیں پر نرسنگا پھونکا جاےگا :

 (31)اور وہ نرسِنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرِشتوں کو بھیجے گا اور وہ اُس کے برگُزِیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اِس کنارے سے اُس کنارے تک جمع کریں گے

24:31متی

اسکے بعد کیا ہوتا ہے ؟ سوره قاف بیان کرتا ہے کہ ایک فرشتہ ہمارے دائیں کندھے پر اور دوسرا فرشتہ ہمارے بائیں کندھے پر غیبی طور سے بیٹھے ہمارے نیک و بد اعمال کا حساب کتاب لکھتے ہیں –  جبکہ الله ہمارے گردن کے رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ، انجیل شریف ہم سے کہتی ہے کہ یہ اعمال کی فہرست اتنی لمبی ہیں کی وہ دراصل ‘کتابیں’  ہیں – اسکو ایک رویا میں بیان کیا گیا تھا کہ یوحننا ، عیسیٰ ال مسیح کے ایک شاگرد اس رویا کو حاصل کیا تھا اور انجیل شریف کی آخری کتاب میں اس طرح لکھا تھا :  

 

(11)پِھر مَیں نے ایک بڑا سفید تخت اور اُس کو جو اُس پر بَیٹھا ہُؤا تھا دیکھا جِس کے سامنے سے زمِین اور آسمان بھاگ گئے اور اُنہیں کہِیں جگہ نہ مِلی۔
(12)پِھر مَیں نے چھوٹے بڑے سب مُردوں کو اُس تخت کے سامنے کھڑے ہُوئے دیکھا اور کِتابیں کھولی گئِیں ۔ پِھر ایک اَور کِتاب کھولی گئی یعنی کِتابِ حیات اور جِس طرح اُن کِتابوں میں لِکھا ہُؤا تھا اُن کے اَعمال کے مُطابِق مُردوں کا اِنصاف کِیا گیا۔
(13)اور سمُندر نے اپنے اندر کے مُردوں کو دے دِیا اور مَوت اور عالَمِ ارواح نے اپنے اندر کے مُردوں کو دے دِیا اور اُن میں سے ہر ایک کے اَعمال کے مُوافِق اُس کا اِنصاف کِیا گیا۔
(14)پِھر مَوت اور عالَمِ ارواح آگ کی جِھیل میں ڈالے گئے ۔ یہ آگ کی جِھیل دُوسری مَوت ہے۔
(15)اور جِس کِسی کا نام کِتابِ حیات میں لِکھا ہُؤا نہ مِلا وہ آگ کی جِھیل میں ڈالا گیا۔

20:11-15مکاشفہ

یہ آیت اعلا ن کرتا ہے کہ جو کچھ بنی انسان نے اچھا برا کیا ہے اس کے مطابق سب کا انصاف کیا جاےگا جس طرح کتابوں میں لکھا ہوگا – اسلئے ہم نماز کے بعد ان فرشتوں کو جو دائیں اور بائیں مجود ہیں انھیں سلام کرتے ہیں ، یہ امید کرتے ہوئے کہ ہمارے اعمال کے حساب کتاب میں ہمارا کچھ فائدہ کر دینگے – مگر یہ صرف ایک تصوّر ہے ،حقیقت کچھ اور ہے —    

زندگی کی کتاب     

مگر غور کریں کہ ایک اور کتاب ہے جس کا نام ‘کتاب حیات’ ہے ، جو بنی انسان کے نیک و بد اعمال کی حقیقت حال بیان کرنے والی کتاب سے بلکل فرق ہے – یہ بیان کرتا ہے کی ‘جس کسی کا نام’ اس کتاب حیات میں لکھا ہوا نہیں ملیگا اسکو سیدھے آگ کی جھیل میں ڈال دیا جاےگا – یہ’ آگ کی جھیل’ دوزخ کا دوسرا نام ہے – سو یہاں تک کہ ہمارے نیک اعمال کی فہرست جسے فرشتے نے بنائی ہے بہت لمبی ہےاور ہمارے برے اعمال کی فہرست جسے دوسرے فرشتے نے بنائی ہے بہت چھوٹی ہے — اس کے با وجود بھی –اگر ہمارے نام اس ‘زندگی کی کتاب’ میں نہیں ہے تو ہم ابھی بھی دوزخ کے سزاوار ہیں – مگر یہ ‘زندگی کی کتاب’ کیا ہے ؟ اور اس کتاب میں ہمارے نام کیسے لکھے  جاینگے ؟

تورات شریف اور قران شریف شریف دونوں بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت آدم نے گناہ کیا تھا تو اللہ نے انکو باغ عدن سے نکال دیا تھا اور اسے فانی قرار دے دیا تھا – اس کا مطلب یہ تھا کہ (ہم سب جو اسکی اولاد ہیں) وہ زندگی کے سر چشمہ سے الگ کر دے گئے ہیں – یہی سبب ہے کہ تمام ببنی آدم فانی ہیں اور ایک دن مر جاینگے – نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح دنیا میں اسلئے آ ئے کہ ہمارے لئے اس زندگی کو بحال کرے تاکہ زندگی کی اس کتاب میں ہمارے نام لکھے جائیں جس طرح اسنے ا علا ن کیا :      

 (24)مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو میرا کلام سُنتا اور میرے بھیجنے والے کا یقِین کرتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے اور اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا بلکہ وہ مَوت سے نِکل کر زِندگی میں داخِل ہو گیا ہے۔(

5:24یوحنا

کس طرح نبی حضرت ابراہیم نے اس زندگی کے انعام کو دیکھا اور کیوں عیسیٰ ال مسیح ہی ہمکو زندگی دے سکتے ہیں یہاں تفصیل کے ساتھ سمجھایا گیا ہے – سورہ قاف ہمکو چتونی دیتا ہے کہ :

 (حکم ہوگا): پس تم دونوں (ایسے) ہر ناشکرگزار سرکش کو دوزخ میں ڈال دوo

50:24سورہ قاف

سو جبکہ ہمیشہ کی زندگی کی پیش کش کی گیئ ہے تو کیوں اس کی بابت مطلع نہیں کیا گیا ؟

کس طرح زبور اور نبیوں نے عیسیٰ ال مسیح کی نبوت کی ؟

نبی حضرت موسیٰ کی تورات نے حضرت عیسیٰ ال مسیح کی علم پیشین نشانات کے زریعے ظاہر کیا ہے جو نبی کے آنے کےعین مطابق تھے – انبیا جو موسیٰ نبی کا پیچھا کر رہے تھے ، انہوں نے الله کے منصوبے کو ترتیب سے بیان کرنے کے زریعے بتایا – حضرت داؤد خدا کے زریعے الہام شدہ تھے اورزبور 2 میں  مسیح کے آنے کی بابت دیگر زبوروں میں جو انہوں نے پہلی بار نبوت کی تھی وہ 1000 قبل مسیح میں ہوئی تھی – پھرزبور 22 میں انہوں نے کسی کے بارے میں ایک پیغام حاصل کیا جسکے ہاتھ اور پاؤں چھیدے جاکر ستایا گیا تھا ،اور پھر اسکو موت کی مٹی میں سلا دیا گیا تھا ، مگر اسکے بعد ایک بڑی فتح حاصل کرنے کے ساتھ ‘زمیں کے خاندانوں کو متا ثر کریگا ‘- کیا یہ نبوت نبی عیسیٰ ال مسیح کے آنے والی مصلوبیت اور قیامت کی بابت ہے ؟ اسکے لئے ہم دو سوروں پر غور کرینگے کہ وہ کیا کہتے ہیں ،سورہ سبا (سورہ 34) اورسورہ ان نمل (سورہ 27) ہم سے کہتے ہیں کہ کس طرح الله نےزبور شریف میں  حضرت داود کو الہام دی (مثال بطور زبور 22) –

زبور 22 کی نبوت         

پورے زبور 22  کا مطالعہ یھاں آپ کر سکتے – ذیل کی فہرست میں زبور 22 کے ساتھ ساتھ عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت کا بھی بیان ہے جو انجیل میں انکے شاگردوں (ساتھیوں) کے زریعے پیش کی گیئ ہے – آیتوں کو رنگوں سے ملایا گیا ہے تاکہ موازنات کو آسانی سے نوٹ کیا جا سکے –

  زبور 22 –1000 قبل مسیح میں لکھا گیا
 (متی -48 -31 :27 ) اور وہ اسے (عیسیٰ )کو مصلوب کرنے لے گئے… 39 راہ چلنے والے سر ہلا ہلا کر اسکو لعن طعن  کرتے تھے اور کہتے تھے "…اپنے آپ کو بچا – اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو صلیب پر سے اتر آ ! "41 اسی طرح سردار کاہن بھی فقیہوں اور بزرگوں کے ساتھ ملکر ٹھٹھے سے کہتے تھے 42 اسنے اوروں کو بچایا –مگر اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا ! یہ تو اسرائیل کا بادشاہ ہے – اب صلیب پر سے اتر آے تو ہم اسپر ایمان لاییں– 43 اسنے خدا پر بھروسہ کیا ہے ، اگر وہ اسے چاہتا تو اب اسکو چھڑا لے – اور تیسرے پھر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چللاکر کہا ایلی  – ایلی – لما شبقتنی ؟ "یعنی "اے میرے خدا !اے میرے خدا تونے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟48 اور فورا انمیں سے ایک شخص دوڑا  اور سپنج لیکر سرکہ میں ڈبویا اور سرکنڈے پر رکھکر اسے چسایا –           (15:16-20,37(مرقس 16 اور سپاہی اسکو اس صحن میں لے گئے جو پری ٹورین کہلاتا ہے اور ساری پلٹن کو بلا لاۓ –اور انہوں نے اسے ارغوانی چوغہ پہنایا اور کانٹوں کا تاج بنا کر اسکے سر پر رکھا -18 اور اسے سلام کرنے لگے کہ "اے یہودیوں کے بادشاہ آداب –"19 وہ بار بار اسکے سر پر سرکنڈا  مارتے اور اس پر تھوکتے اور گھٹنے ٹیک ٹیک کر سجدہ کرتے رہے -20 اور جب اسے ٹھٹھوں میں اڑا چکے تو اسپر سے ارغوانی چوغہ اتار کر اسی کے کپڑے اسکو پہناۓ پھر اسے صلیب دینے کو باہر لے گئے … 37 پھر یسوع نے بڑ ی آواز سے چللاکر دم دے دیا –                               (19:34(یوحنّا لیکن جب انہوں نے یسوع کے پاس آکر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اسکی ٹانگیں نہ توڑیں ،ایک سپاہی نے نیزے سے اسکی پسلی چھیدی اور فی ا لفو ر اس سے خون اور پانی بہ نکلا….انہوں نے اسے مصلوب کیا …                                                (20:25(یوحنا       [توما]جب تک میں میں اسکے ہاتھوں میں میخوں کے سوراخ نہ دیکھ لوں                                              (20:23-24 (یوحنا 24 جب سپاہی یسوع کو مصلوب کر چکے تب اسکےکپڑے لیکر چار حصّے کئے – ہرسپاہی کے لئے ایک حصّہ اور اسکا کرتا بھی بچے ہوئے کپڑوں کے ساتھ لیا یہ کرتہ بن سلا سراسر بنا ہوا تھا ، اسلئے کہا کہ اسے پھاڑیں نہیں بلکہ آؤ ہم اسپر قرعہ ڈالیں ”     1 – اے میرے خدا ! اے میرے خدا ! تونے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ تو میری مد د اور میرے نالہ اور فریاد کیوں دور رہتا ہے ؟  
2 اے خدا میں دن کو پکارتا ہوں ، پر تو جواب نہیں دیتا اور رات کو بھی خاموش نہیں ہوتا …7 وہ سب جو مجھے دیکھتے ہیں میرا مضحکہ ا ڑا تے ہیں ؛ وہ مجھے چڑاتے – وہ سر ہلا ہلا کر کہتے ہیں – جبکہ وہ اس سے خوش ہے تو وہی اسے چھڑا ے "اپنے کو خداوند کے سپرد کردے – وہی اسے چھڑاے- -9 پر تو ہی نے مجھے پیٹ سے با ہر لایا – جب میں شیرخوار ہی تھا تونے مجھے توکّل کرنا سکھایا – 
10 – میں پیدایش ہی سے تجھ پر چھوڑا گیا – میری ماں کے پیٹ ہی سے تو میرا خدا ہے- 12 –بہت سے سانڈوں نے مجھے گھیر لیا ہے بسن کے زوراور سانڈ مجھے گھیرے ہوئے ہیں-
13 وہ پھاڑنے اور گرجنے والے ببر کی طرح مجھپر – اپنا منہ پسارے ہوئے ہیں –
14 – میں پانی کی طرح بہ گیا – میری سب ہڈ یا ں اکھڑ گئیں – میرا دل موم کی مانند ہو گیا – وہ میرے سینے میں پگھل گیا –  
15 میری  قوت ٹھیکرے کی مانند خشک ہوگئی اور میری زبان تالو سے چپک گیئ – اور تونے مجھے موت کی خاک مے ملا دیا -16 کیونکہ کتوں نے مجھے گھیر لیا ہے – بدکاروں کی گروہ مجھے گھیرے ہوئے ہے
17 – میں اپنی سب ہڈ یا ں گن سکتا ہوں – وہ مجھے تاکتے اور گھورتے ہیں – 18 – وہ میرے کپڑے آپس میں بانٹتے ہیں – اور میری پوشا(ک پر قرعہ ڈالتے ہیں –   

انجیل شریف کو چشم دید گواہوں کے ظاہری تناسب سے لکھا گیا ہے جنہوں نے مصلوبیت کو از حد غور سے دیکھا تھا – مگر زبور 22 کسی کے ایسے ظاہری تناسب سے لکھا گیا جو اسکا تجربہ کر رہا تھا – اب سوال یہ ہے کہ زبور 22 اور عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت کے بیچ موازنہ کو کیسے سمجھایا جاۓ ؟ یہ مطابقت ضرور ہے کہ تفصیل ہو بہو ملتے جلتے ہیں جس طرح یہ شامل کرنے کے لئے کی کپڑے بانٹے گئے تھے (سلے ہوئے کپڑوں کو پھاڑا گیا تھا اور بن سلے کو سپاہیوں میں دے دیا گیا تھا ) اور (بہت کچھ بن سلے کپڑے رہ جاتے اور برباد ہوجاتے سو انہوں نے انکا قرعہ ڈالا) – زبور 22 جو کہ  مصلوبیت سے پہلے لکھی گی تھی اسکی کھوج کی گیئ تھی مگر اسکی خاص تفصیلیں جیسے (ہاتھوں اور پاؤں چھیدا جانا ، اور اسکی ہڈ یوں کا جوڑوں سے اکھڑ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسکے دونوں ہاتھ لمبے کئے گئے تھے جس طرح دیگر مجرموں کے ہاتھ پھیلا کر انکے ہاتھ (ہتھیلی) کو کاٹھ پر ٹہوک دیا جاتا ہے )اسکے علاوہ یوحننا کی انجیل بیان کرتی ہے کہ جب مسیح کی پسلی میں نیزے سے چھیدا گیا تھا تو خون اور پانی بہ نکلا تھا جو اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ دل کے آس پاس سیال جزووں کا جمع ہوجانا یہ دل کے دھڑکن کے رکنے کی نشانی ہے – اسطرح عیسیٰ ال مسیح کی موت دل کی دھڑکن رک جانے کے سبب سے ہوئی تھی – یہ زبور22 کے بیان سے میل کھاتا ہے کہ "میرا دل موم میں تبدیل ہو گیا – چھیدے جانے کے لئے جو عبرانی کا لفظ ہے اسکے سہی معنے ہیں جیسے ببر شیر کے حملے سے انسان کا جسم چھد جاتا ہے – دوسرے معنوں میں ہاتھ اور پاؤں کو کٹ ڈالنا (بیکار کردینا) یا ببر شیر کے زریعے بری طرح مار کر زخمی کر دینا ،خراب کردینا وغیرہ ہے – جب کسی کے ہاتھ پیر چھیدے جاتے ہیں تو ایسی ہی حالت ہو جاتی ہے –

غیرایماندارجواب دیتے ہیں کہ زبور 22 کی یکسانییت چشم دید گواہوں کے ساتھ جو انجیل میں بیان کیا گیا ہے وہ شاید اس وجہ سے کیونکہ عیسیٰ ال مسیح کے شاگردوں نے واقعے کو نبوت کے طور بطور بنایا کیا وہ یکسانیت کو سمجھا سکتی ہے ؟

زبور 22 اور عیسیٰ ال مسیح کی وراثت        

مگر زبور 22 مذکور بالا فہرست کے مطابق 18 آیت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ جاری رہتی ہے – یہاں نوٹ کریں کہ اسکے خاتمہ پر – موت کے بعد کتنی شاندار فتح ہوتی ہے !

 

(26)حلِیم کھائیں گے اور سیر ہوں گے ۔ خُداوند کے طالِب اُس کی سِتایش کریں گے ۔ تُمہارا دِل ابد تک زِندہ رہے!
(27)ساری دُنیا خُداوند کو یاد کرے گی اور اُس کی طرف رجُوع لائے گی اور قَوموں کے سب گھرانے تیرے حضُور سِجدہ کریں گے۔
(28)کیونکہ سلطنت خُداوند کی ہے۔ وُہی قَوموں پر حاکِم ہے۔
(29)دُنیا کے سب آسُودہ حال لوگ کھائیں گے اور سِجدہ کریں گے۔ وہ سب جو خاک میں مِل جاتے ہیں اُس کے حضُور جُھکیں گے ۔ بلکہ وہ بھی جو اپنی جان کوجِیتا نہیں رکھ سکتا۔
(30)ایک نسل اُس کی بندگی کرے گی۔ دُوسری پُشت کو خُداوند کی خبر دی جائے گی۔
(31)وہ آئیں گے اور اُس کی صداقت کو ایک قَوم پر جو پَیدا ہو گی یہ کہہ کر ظاہِر کریں گے کہ اُس نے یہ کام کِیا ہے۔

22:26-31زبور

یہ اس شخص کی موت کی تفصیل کی بابت بات نہیں کرتا – وہ  زبور کے شروع میں سلوک یا برتاؤ کا کیا جانا تھا –اب نبی حضرت داؤد آگے مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں – اور اس شخص کی موت کے تا ثر کی طرف اور آیندہ کی مستقبل کی نسلوں کی طرف مخاطب ہوتے ہیں (آیت 30) –یعنی کہ ہم جو عیسیٰ ال مسیح کے 2000 سال بعد رہ رہے ہیں – حضرت داؤد ہمسے کہتے ہیں کہ آیندہ کی نسلیں جو اس شخص کا پیچھا کرتی ہیں اس شخص کے ‘ہاتھ اور پاؤں چھدے ہونگے’ ، وہ ایسی شدّت ناک موت مرتا ہے جسکی خدمت کی جاےگی اور اسکی چرچا ہوگی –آیت 27 ترقی (پھیلاؤ) کی بابت پیش بینی کرتا ہے – یہ پھیلاؤ دنیا کے آخر تک ‘ تمام قوموں کے خاندانوں تک ‘ پہنچےگا اور یہ انکے لئے خداوند کی طرف پھرنے کا سبب بنےگا – آیت 29 اشارہ کرتی ہے ہے کہ کس طرح ‘وہ لوگ جو خود کو زندہ نہیں رکھ سکتے ہیں’ (یعنی ہم سب کے سب) ایک دن اسکے سامنے گھٹنے ٹیکنگے – اس شخص کی راستبازی کی بابت لوگوں میں منادی کی جاےگی جن کا وجود اس زمانے تک نہیں ہوا تھا جس زمانے میں اسکی موت ہوئی تھی –

اسکا اس زمانے کی انتہا سے کچھ لینا دینا نہیں تھا چاہے انجیل سہریف زبور 22 سے میل کھاتا تھا یا نہیں تھا –کیونکہ یہ ابھی اس کا برتاؤ بعد کے واقعیات سے ہے – جو ہمارے زمانے کے لوگ ہیں –انجیل شریف کے مصننف جو پہلی صدی میں تھے وہ عیسیٰ ال مسیح کی موت کا تا ثر ہمارے زمانے میں نہ دے سکے تھے –غیر ایمانداروں کی عقلیت کا رنگ چڑھنا ایک لمبے دور کو نہیں سمجھاتا ، عیسیٰ ال مسیح کی عالمگیر وراثت کا جسکا زبور 22 میں مناسب طور سے جو پیش بینی کی گیئ ہے وہ 30oo  سال پہلے کی گیئ تھی –   

قران شریف کے مطابق –حضرت داؤد کو علم پیشین اللہ کی جانب سے دی گیئ تھی

زبور 22 کے آخر میں فاتحانہ حمد و تعریف بلکل ویسا ہی ہے جو قرآن شریف کے سورہ سبا اور ان – نمل (سورہ 34 شیبا اور سورہ 27 چیونٹی)میں ذکر کیا گیا ہے کی حضرت داؤد کو زبور لکھنے کے لئے الہام دیا گیا تھا –

اور بیشک ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی بارگاہ سے بڑا فضل عطا فرمایا، (اور حکم فرمایا:) اے پہاڑو! تم اِن کے ساتھ مل کر خوش اِلحانی سے (تسبیح) پڑھا کرو، اور پرندوں کو بھی (مسخّر کر کے یہی حکم دیا)، اور ہم نے اُن کے لئے لوہا نرم کر دیاo

34:10سورہ سبا

اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو (غیر معمولی) علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہےo

 27:15سورہ ان نمل

جس طرح سے یہ دونوں سورہ جات کہتے ہیں کی الله نے حضرت داؤد کو حکمت اور فضل عطا کی کی اس حکمت اور الہام کے زریعے انہوں نے زبور 22 میں حمد وتعریف کے گیت گائے –

اب اس سوال پر غور کریں جو سورہ ال – واقعہ  میں پیش کیا گیا ہے (سورہ 56 – نا گزیر واقعہ) –

 پھر کیوں نہیں (روح کو واپس لوٹا لیتے) جب وہ (پرواز کرنے کے لئے) حلق تک آپہنچتی ہےo

 اور تم اس وقت دیکھتے ہی رہ جاتے ہوo

 اور ہم اس (مرنے والے) سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم (ہمیں) دیکھتے نہیں ہوo

 پھر کیوں نہیں (ایسا کر سکتے) اگر تم کسی کی مِلک و اختیار میں نہیں ہوo

 کہ اس (رُوح) کو واپس پھیر لو اگر تم سچّے ہوo

 56:83-87سورہ ال – واقعہ

کون موت سے اپنی جان کو واپس بلا سکتا ہے ؟ یہ دعوی اس بطور ہے کہ انسان کے کام کو الله کے کام سے الگ کر دے –اس کے باوجود بھی سورہ ال واقعہ وہی بات پیش کر رہا ہے جو زبور 22 میں بیان کیا گیا ہے –حضرت داؤد نے جو حضرت عیسیٰ ال مسیح کی بابت جو بیان دی اسکو انہوں نے پیش بینی یا نبوت کے زریعے دی –

جس طرح سے زبور  22 میں نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت کو ایک بہتر پشبنی کا اثر بطور پیش کیا گیا ہے اس بطور بہتر طریقے سے کوئی اور شخص پیش بینی نہیں کر سکتا – دنیا کی تاریخ میں ایسا کون شخص ہے جو انکی موت کی تفصیلات پیش کرنے کا دعوی کرے جس بطور اسکی زندگی کی وراثت متقبل کی دوری میں چلی جاۓ اور دنیا میں اسکے وجود کے 1000  سال پہلے پیش بینی کی جاۓ ؟ جبکہ کوئی بھی انسان دور مستقبل کی باتوں کا اتنی تفصیل سے پیش گوئی کرے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ ال مسیح کی قربانی خدا کے آزاد منصوبےاورعلم پیشین کے زریعے ہی ممکن تھی –

دیگر انبیاء عیسیٰ ال مسیح کی قربانی کی بابت پیش بینی کرتے ہیں

جس طرح تورات شریف نے آئینے کی تصویر کے ساتھ عیسیٰ ال مسیح کے آخری دنوں کے واقعا ت کے ساتھ شروع کیا تھا اور پھر تصور کو اور زیادہ صفائی سے آگے کی تفصیل پیش کی تھی اسی طرح دیگر انبیاء جنہوں نے حضرت داؤد کا پیچھا کیا انہوں نے بھی عیسیٰ ال مسیح کی موت اور قیامت کو اور زیادہ صفائی کے ساتھ تفصیل پیش کی – ذیل کی فہرست ان باتوں کا خلاصہ پیش کرتی ہے جن پر ہم نے غور کرکے مطالعہ کیا ہے –

انبیاء کلام کرتے ہیںوہ کس طرح آنے والے مسیح کے منصوبے کو ظاہر کیا   
کنواری سے پیدا ہونے کی نشانی‘ایک کنواری بیٹا جنیگی’ اسکی پیشین گوئی نبی حضرت یسعیا ہ 700  سال قبل مسیح میں کی تھی اور یہ بھی کہ وہ بغیر گناہ کے جیئیگا – جسکی کامل زندگی ہو وہی دوسروں کے لئے قربانی دے سکتا ہے – اسی سوچ کے ماتحت ہی اس نبوت کی تعمیل میں ہوکر عیسیٰ ال مسیح پیدا ہوئے اور ایک پاک زنگی گزاری –  
آنےوالے’شاخ ‘ کی نبوت ہوئی حضرت عیسیٰ کے نام سے جو ہمارے گناہوں کی موقوفی ہے نبی یسعیا ہ ، یرمیاہ اور زکریا ہ نے اس آنے والے کی بابت نبوتوں کا ایک سلسلہ پیش کیا جسکو نبی زکریا ہ نے حضرت عیسیٰ نبی کی پیدائش کے  500 سال پہلے ہی عیسیٰ کرکے سہی نام دیا –انہوں نے نبوت کی کہ ‘ایک دن ‘انکے ایمانداروں  کے گناہ موقوف کئے جاینگے – ان تمام نبوتوں کو پورا کرتے ہوئے عیسیٰ نبی نے خود کی قربانی پیش کی تاکی ایک دن انپر ایمان لانے والوں کے گناہوں کا کفارہ ہو سکے –
نبی دانی ا یل اور آنے والے مسیح کا وقتنبی دانی ا یل نے نبوت کی اور مسیح کے آنے کا ٹھیک 480 سالوں کا ایک نقشہ اوقات پیش کیا –عیسیٰ ال مسیح کی آمد نبوت کے عین مطابق ہوئی –
نبی دانی ا یل نے یہ بھی نبوت کی کہ مسیح ‘کاٹ ڈالا’ جاےگامسیح کے آنے کے بعد ، دانی ا یل نبی نے لکھا کہ وہ ‘کا ٹ ڈالا جائے گا اور اسکا کچھ بھی باقی نہ رہیگا – عیسیٰ ال مسیح کے آنے والی موت کی بابت یہ ایک نبوت تھی کہ وہ زندگی سے کاٹ ڈا لا جانے والا تھا –  
نبی یسعیا ہ آنے والے خادم کی موت اور قیامت کی بابت پیشین گوئی کرتے ہیں  نبی یسعیا ہ نے بڑی تفصیل کے ساتھ  پیشین گوئی کی کہ کس طرح مسیح ‘زندوں کی زمیں سے کاٹ ڈالا جائیگا ‘  اسکے ساتھ ہی یہ بھی پیشین گوئی کی کہ وہ ستایا جائیگا ، ردد کیا جائیگا ، ہمارے گناہوں کی خاطر زخمی کیا جائیگا ، بررے کی طرح زبح کرنے کو لے جایا جائیگا  ، اسکی زندگی گناہوں کی قربانی ثابت ہوگی ، مگر اسکے بعد وہ اپنی زندگی دوبارہ دیکھ گا اور فتحیاب ہوگا – یہ تمام مفصل پیش بینیاں تب پوری ہوئیں جب عیسیٰ ال مسیح مصلوب ہوئے اور مردوں میں سے جی اٹھے- اسطرح کی تفصیلیں جن کی پیشین گوئی 700  سال پہلے ہوئی تھی ایک بڑی نشانی ہے جسکا الله نے منصوبہ کیا تھا –   
نبی حضرت یونس اور حضرت عیسیٰ ال مسیح کی موتنبی حضرت یونس نے قبر کا تجربہ ایسے وقت میں کیا جب وہ ایک بڑی مچھلی کے پیٹ میں تھے –یہ ایک تصویر تھی کہ عیسیٰ ال مسیح نے سمجھایا کہ اسی طریقے سے وہ خود بھی موت کا تجربہ کرینگے –
نبی حضرت زکریا ہ اور موت کی اسیری سے آزاد کیا جاناعیسیٰ ال مسیح نبی زکریا ہ کی ایک نبوت کا حوالہ پیش پیش کرتے ہیں کہ وہ ‘موت کے اسیروں’ کو آزاد کرینگے (یعنی وہ جو پہلے ہی سے مردے پڑے ہیں)-ان کی خدمت یہ ہوگی کہ وہ موت میں داخل ہونگے اور جو جو قید میں پھنسے ہیں انھیں آزاد کرینگے جس طرح نبیوں کے زریعے پیش کی گیئ تھی –  

                                                             ان بہت سی نبوتوں کے ساتھ نبیوں سے جنہوں نے خود صدیوں سال پہلے مختلف ملکوں میں رہتے ہوئے ،مختلف گوشہ گمنامی کے ہوتے ہوئے بھی ان سب نے عیسیٰ ال مسیح کی بڑ ی فتح کچھ حصّوں کی بابت پیش بینی کی جو انکی موت اور قیامت کے وسیلے سے تھی – یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ الله کے منصوبے کے مطابق تھا –اسی سبب سے پطرس جو حضرت عیسیٰ ال مسیح کے شاگردوں کا رہنما تھا ، اپنے سامعین سے کہا :

 (18)مگر جِن باتوں کی خُدا نے سب نبِیوں کی زُبانی پیشتر خبر دی تھی کہ اُس کا مسِیح دُکھ اُٹھائے گا وہ اُس نے اِسی طرح پُوری کِیں

3:18اعمال

پطرس کے اس بات کے کہنے کے فورا بعد اسنے اعلان کیا :

 (19)پس تَوبہ کرو اور رجُوع لاؤ تاکہ تُمہارے گُناہ مِٹائے جائیں اور اِس طرح خُداوند کے حضُور سے تازِگی کے دِن آئیں۔

3:19 اعمال

ہمارے لئے ایک برکت کا وعدہ ہے کہ اب ہم اپنے گناہوں کو مٹا سکتے ، دھو سکتے ہیں – اسکے کیا معنے ہیں اسے ہم یہاں دیکھتے ہیں –