حضرت عیسیٰ المسیح: قوموں کے لے نور

حضرت عیسیٰ المسیح ایک شاہانہ جلوس کے ساتھ گدھے پر بیٹھ کر یروشلیم میں داخل ہوئے بلکل جیسے حضرت زکریا نے 500 سال پہلے نبوت کی تھی، بلکل اُس دن یروشلیم میں داخل ہوئے جیسا حضرت دانیال نے 550 سال پہلے نبوت کی تھی۔ یہودی مختلف ممالک سے یروشلیم عیدِفسح منانے کے لیے آرہے تھے۔ اس لیے یروشلیم حج کی وجہ سے لوگوں کی آمد پر بھرا ہوا تھا۔ (جس طرح لوگ مکہ میں حج جاتے ہیں۔ ) تاہم حضرت عیسیٰ المسیح کی اس آمد کی وجہ سے یہودیوں کے درمیان ایک ہلچل پیدا ہوگی تھی۔ لیکن یہ صرف یہودی ہی نہیں تھے۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کی آمد کو نوٹس میں لیا تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی یروشلیم میں آمد کے بعد کیا ہوا۔ انجیل مقدس میں یوں درج ہے۔

‘جو لوگ عِید میں پرستِش کرنے آئے تھے اُن میں بعض یُونانی تھے۔ پس اُنہوں نے فِلِپُّس کے پاس جو بَیت صَیدایِ گلِیل کا تھا آ کر اُس سے درخواست کی کہ جناب ہم یِسُو ع کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ فِلِپُّس نے آ کر اندر یاس سے کہا ۔ پِھر اندر یاس اور فِلِپُّس نے آ کر یِسُو ع کو خبر دی۔ ‘ یُوحنّا 12:20-22

حضرت عیسیٰ المسیح کے دور میں یہودیوں اور یونانیوں کے درمیان رکاوٹ

یہ ایک نہایت غیر معمولی بات تھی کہ یہودیوں کے تہوار پر یونانی (غیر ملکی/غیر یہودی) شرکت کریں۔ یہودی اور رومی چونکہ بت پرست تھے۔ اس لیے یہودی اُن کو ناپاک اوراُن سے تعلق رکھنے سے پرہیز رکھتے تھے۔  اور یونانی یہودی مذہب کے بارے میں سوچتے تھے کہ وہ ایک ہی اللہ (جونظر بھی نہیں آتا) کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ یہودیوں کے تہوار کو بے وقوفی سمجھتے تھے۔ اُس وقت صرف یہودی ہی واحد ایسی قوم تھی۔ جو واحد خدا کی عبادت کرتی تھی۔ اس لیے یہ لوگوں ایک دوسرے سے الگ رہنا پسند کرتے تھے۔ غیر یہودی معاشرہ یہودی معاشرے سے تعداد میں بڑا تھا۔ یہودی دوسری دنیا سے الگ تھلگ رہتے تھے۔ یہودی حلال غذا کھاتے، اپنے انبیاء اکرام کی کتاب (تورات شریف) کو پڑھتے، ان سب باتوں کی وجہ سے یہودی دوسری قوموں سے الگ تھلگ رہتے۔

ہمارے اس دور میں، بت پرستی کو پوری دنیا میں مسترد کردیا گیا ہے۔ اس لیے ہم اس بات کو آسانی سے بھول سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے دور میں یہ کتنا مختلف تھا۔ اصل میں حضرت ابراہیم کے دور میں اُن کے علاوہ سب بت پرست مذہب کے پیروکار تھے۔ حضرت موسیٰ کے دور میں تمام قومیں بتوں کی پوجا کرتیں تھیں۔ فرعوں اپنے آپ کو خدا ہونے کا دعوہ کرتا تھا۔ اس طرح اسرائیل چھوٹا سا جزیرہ تھا خداِ واحد کی عبادت کرتا تھا جو ایک بہت بڑے بت پرست سمندر میں گھیرا ہوا تھا۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے (750 ق م) )مستقبیل میں سب قوموں میں ہونے والی تبدیلی کو دیکھا۔ اُنہوں نے اس کو یوں لکھا۔

‘اَے جزِیرو میری سُنو! اَے اُمّتو جو دُور ہو کان لگاؤ! خُداوند نے مُجھے رَحِم ہی سے بُلایا ۔ بطنِ مادر ہی سے اُس نے میرے نام کا ذِکر کِیا۔

چُونکہ مَیں خُداوند کی نظر میں جلِیلُ القدر ہُوں اور وہ میری توانائی ہے اِس لِئے وہ جِس نے مُجھے رَحِم ہی سے بنایا تاکہ اُس کا خادِم ہو کر یعقُو ب کو اُس کے پاس واپس لاؤُں اور اِسرائیل کو اُس کے پاس جمع کرُوں یُوں فرماتا ہے۔ ہاں خُداوند فرماتا ہے کہ یہ تو ہلکی سی بات ہے کہ تُو یعقُو ب کے قبائِل کو برپا کرنے اور محفُوظ اِسرائیلِیوں کو واپس لانے کے لِئے میرا خادِم ہو بلکہ مَیں تُجھ کوقَوموں کے لِئے نُور بناؤُں گا کہ تُجھ سے میری نجات زمِین کے کناروں تک پُہنچے۔ ‘ یسعیاہ 49 : 1, 5-6

‘خَوف نہ کر کیونکہ تُو پِھر پشیمان نہ ہو گی ۔ تُونہ گھبرا کیونکہ تُو پِھر رُسوا نہ ہو گی اور اپنی جوانی کا ننگ بُھول جائے گی اور اپنی بیوگی کی عار کو پِھر یادنہ کرے گی۔ ‘ یسعیاہ 54 :4

‘اُٹھ مُنوّر ہو کیونکہ تیرا نُور آ گیا اور خُداوندکا جلال تُجھ پر ظاہِر ہُؤا۔ کیونکہ دیکھ تارِیکی زمِین پر چھا جائے گی اور تِیرگی اُمّتوں پر لیکن خُداوند تُجھ پر طالِع ہو گا اور اُس کاجلال تُجھ پر نُمایاں ہو گا۔ اور قَومیں تیری رَوشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطِین تیرے طلُوع کی تجلّی میں چلیں گے۔ ‘ یسعیاہ  60 :1-3

لہذا حضرت یسعیاہ نبی نے بتایا کہ ایک اللہ تعالیٰ کا ‘خادم’ آئے گا۔ اُس کا تعلق یہودہ (حضرت یقعوب کا ایک قبیلہ) کے قبیلہ سے ہوگا۔ وہ غیر یہودیوں کےلیے نور ہوگا۔ (تمام غیراسرائیلیوں کے لیے) اور یہ نور دنیا کے ہر کونے میں چمکے گی۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوگا، جب کہ یہودیوں اور دوسری قوموں کے درمیان سینکڑوں سال کی دور پائی جاتی تھی اور ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے۔

جس دن حضرت عیسیٰ المسیح یروشلیم میں داخل ہوئے تو ہم دیکھ سکتے ہیں اُسی دن غیر قوموں پر نور چمکنا شروع ہوگیا تھا۔ یہاں یہودی تہوار پر یونانی ایک لمبا سفر کرکے آئے تاکہ وہ حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے میں جان سکیں۔ لیکن کیا یہودیوں کی طرف سے اس کو حرام سمجھا گیا کہ وہ ایک نبی کو دیکھنے آئے ہیں؟ اُنہوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کے حواریوں سے درخواست کی جس کو آپ کے حضور پیش کیا گیا۔ آپ نے اُن سے کیا کہا تھا؟ کیا اُن کو آپ سے ملنے کی اجازت دے دی گئی ج لوگو درست مذہب کے بارے میں بہت کم جانتے تھے؟ انجیل مقدس میں اس بارے میں یوں بیان آیا ہے۔

23یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا وہ وقت آ گیا کہ اِبنِ آدم جلال پائے۔ 24مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک گیہُوں کا دانہ زمِین میں گِر کر مَر نہیں جاتا اکیلا رہتا ہے لیکن جب مَر جاتا ہے تو بُہت سا پَھل لاتا ہے۔ 25جو اپنی جان کو عزِیز رکھتا ہے وہ اُسے کھو دیتا ہے اور جو دُنیا میں اپنی جان سے عداوت رکھتا ہے وہ اُسے ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے محفُوظ رکھّے گا۔ 26اگر کوئی شخص میری خِدمت کرے تو میرے پِیچھے ہو لے اور جہاں مَیں ہُوں وہاں میرا خادِم بھی ہو گا ۔ اگر کوئی میری خِدمت کرے تو باپ اُس کی عِزّت کرے گا۔ یِسُوع اپنی مَوت کا ذکر کرتاہے
27اب میری جان گھبراتی ہے ۔ پس مَیں کیا کہُوں؟ اَے باپ! مُجھے اِس گھڑی سے بچا لیکن مَیں اِسی سبب سے تو اِس گھڑی کو پُہنچا ہُوں۔ 28اَے باپ! اپنے نام کو جلال دے ۔
پس آسمان سے آواز آئی کہ مَیں نے اُس کو جلال دِیا ہے اور پِھر بھی دُوں گا۔
29جو لوگ کھڑے سُن رہے تھے اُنہوں نے کہا کہ بادِل گرجا ۔ اَوروں نے کہا کہ فرِشتہ اُس سے ہم کلام ہُؤا۔
30یِسُو ع نے جواب میں کہا کہ یہ آواز میرے لِئے نہیں بلکہ تُمہارے لِئے آئی ہے۔31اب دُنیا کی عدالت کی جاتی ہے ۔ اب دُنیا کا سردار نِکال دِیا جائے گا۔ 32اور مَیں اگر زمِین سے اُونچے پر چڑھایا جاؤں گا تو سب کو اپنے پاس کھینچُوں گا۔ 33اُس نے اِس بات سے اِشارہ کِیا کہ مَیں کِس مَوت سے مَرنے کو ہُوں۔
34لوگوں نے اُس کو جواب دِیا کہ ہم نے شرِیعت کی یہ بات سُنی ہے کہ مسِیح ابد تک رہے گا ۔ پِھر تُو کیوں کر کہتا ہے کہ اِبنِ آدم کا اُونچے پر چڑھایا جانا ضرُور ہے؟ یہ اِبنِ آدم کَون ہے؟۔
35پس یِسُو ع نے اُن سے کہا کہ اور تھوڑی دیر تک نُور تُمہارے درمِیان ہے ۔ جب تک نُور تُمہارے ساتھ ہے چلے چلو ۔ اَیسا نہ ہو کہ تارِیکی تُمہیں آ پکڑے اور جو تارِیکی میں چلتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کِدھر جاتا ہے۔ 36جب تک نُور تُمہارے ساتھ ہے نُور پر اِیمان لاؤ تاکہ نُور کے فرزند بنو ۔
لوگوں کی بے اِعتقادی یِسُو ع یہ باتیں کہہ کر چلا گیا اور اُن سے اپنے آپ کو چُھپایا۔37اور اگرچہ اُس نے اُن کے سامنے اِتنے مُعجِزے دِکھائے تَو بھی وہ اُس پر اِیمان نہ لائے۔38تاکہ یسعیا ہ نبی کا کلام پُورا ہو جو اُس نے کہا کہ اَے خُداوند ہمارے پَیغام کا کِس نے یقِین کِیا ہے ؟
اور خُداوند کا ہاتھ کِس پر ظاہِر ہُؤا ہے؟۔
39اِس سبب سے وہ اِیمان نہ لا سکے کہ یسعیا ہ نے پِھر کہا۔
40اُس نے اُن کی آنکھوں کو اندھا
اور اُن کے دِل کو سخت کر دِیا ۔
اَیسا نہ ہو کہ وہ آنکھوں سے دیکھیں
اور دِل سے سمجھیں
اور رجُوع کریں اور مَیں اُنہیں شِفا بخشُوں۔
41یسعیا ہ نے یہ باتیں اِس لِئے کہِیں کہ اُس نے اُس کا جلال دیکھا اور اُس نے اُسی کے بارے میں کلام کِیا۔
42تَو بھی سرداروں میں سے بھی بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے مگر فرِیسِیوں کے سبب سے اِقرار نہ کرتے تھے تا اَیسا نہ ہو کہ عِبادت خانہ سے خارِج کِئے جائیں۔ 43کیونکہ وہ خُدا سے عِزّت حاصِل کرنے کی نِسبت اِنسان سے عِزّت حاصِل کرنا زِیادہ چاہتے تھے۔
یِسُوع کی باتیں مُجرِم ٹھہراتی ہیں
44یِسُو ع نے پُکار کر کہا کہ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ مُجھ پر نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے پر اِیمان لاتا ہے۔ 45اور جو مُجھے دیکھتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو دیکھتا ہے۔ 46مَیں نُور ہو کر دُنیا میں آیا ہُوں تاکہ جو کوئی مُجھ پر اِیمان لائے اندھیرے میں نہ رہے۔ 47اگر کوئی میری باتیں سُن کر اُن پر عمل نہ کرے تو مَیں اُس کو مُجرِم نہیں ٹھہراتا کیونکہ مَیں دُنیا کو مُجرِم ٹھہرانے نہیں بلکہ دُنیا کو نجات دینے آیا ہُوں۔ 48جو مُجھے نہیں مانتا اور میری باتوں کو قبُول نہیں کرتا اُس کا ایک مُجرِم ٹھہرانے والا ہے یعنی جو کلام مَیں نے کِیا ہے آخِری دِن وُہی اُسے مُجرِم ٹھہرائے گا۔ 49کیونکہ مَیں نے کُچھ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ باپ جِس نے مُجھے بھیجا اُسی نے مُجھ کو حُکم دِیا ہے کہ کیا کہُوں اور کیا بولُوں۔ 50اور مَیں جانتا ہُوں کہ اُس کا حُکم ہمیشہ کی زِندگی ہے ۔ پس جو کُچھ مَیں کہتا ہُوں جِس طرح باپ نے مُجھ سے فرمایا ہے اُسی طرح کہتا ہُوں۔

یوحنا 12: 23-50

اس بیان میں حضرت عیسیٰ المسیح نے فرمایا کہ میں اُونچے پر چڑھایا جاوں گا تاکہ سب لوگوں کو اپنی طرف کھیچ لوں۔ اس میں نہ صرف یہودی شامل ہیں بلکہ ساری قومیں۔ یہودی صرف ایک خدا کی عبادت کرتے تھے۔ لیکن وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ آپ کیا فرماتے ہیں۔ حضرت یسعیاہ نے فرمایا کہ یہ اُنہوں کے سخت دلی کی وجہ سے وہ سمجھ نہ سکے۔ اور اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو جاننا پسند نہ کیا۔ لیکن کئی لوگوں نے خاموشی سے اس بات کو قبول کر لیا تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے بڑی دلیری سے اس بات کا دعوی کیا۔ کہ’وہ اس دنیا میں نور ہیں’ (آیت 46) جس کے بارے میں سابقہ انبیاءاکرام نے نبوت فرما دی تھی۔ کہ یہ نور تمام قوموں میں چمکے گا۔ اُس دن جب آپ یروشلیم میں داخل ہوئے تو یہ نور غیر قوموں پر چمکا۔ کیا یہ نور تمام قوموں تک پھیل چکا ہے؟ حضرت عیسیٰ المسیح کی اُونچے پر چڑھائے جانے سے کیا مراد تھی؟ ہم اس آخری ہفتے کو سمجھنے کے لیے اس کو جاری رکھیں گے۔

درج ذیل چارٹ اس ہفتے کے ہر دن کو بیان کرتا ہے۔ اتوار والے دن جو کہ ہفتے کا پہلا دن تھا۔ اُن میں سابقہ انبیاء اکرام کی تین مختلف نبوتیں پوری ہوئیں۔ پہلی یہ کہ آپ یروشلیم میں ایک جلوس کے ساتھ گدھے پر بیٹھ کر داخل ہوئے۔ جو کہ حضرت زکریا نبوت کی تھی۔ دوسری، حضرت دانیال نے نبوت کی تھی۔ تیسری نبوت حضرت یسعیاہ نے جس میں یہ بیان کیا گیا تھا۔ کہ غیرقوموں پر روشنی چمکے گی۔ جو تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔

آخری ہفتے کے واقعات-اتوار 1 دن

حضرت عیسیٰ المسیح ایک چونکا دینے والے دشمن کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح نے لعزر کو مردوں میں سے زندہ کرکےاپنے مشن کو لوگوں کے درمیان اُجاگر کیا اور اب وہ یروشلیم (اقدوس) کی راہ پر تھے۔ آپ کواسی راستے سے وہاں پہنچنا تھا۔ اِس کے بارے سینکڑوں سال پہلے نبوت کردی گئی تھی۔ انجیل مقدس میں یوں بیان آیا ہے۔

‘دُوسرے دِن بُہت سے لوگوں نے جو عِید میں آئے تھے یہ سُن کر کہ یِسُوع یروشلِیم میں آتا ہے۔ کھجُور کی ڈالِیاں لِیں اور اُس کے اِستِقبال کو نِکل کر پُکارنے لگے کہ

!ہوشعنا

مُبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام پر آتا ہے اور اِسرا ئیل کا بادشاہ ہے۔

جب یِسُو ع کو گدھے کا بچّہ مِلا تو اُس پر سوار ہُؤا جَیسا کہ لِکھا ہے کہ۔

اَے صِیُّو ن کی بیٹی مت ڈر ۔ دیکھ تیرا بادشاہ گدھے کے بچّہ پر سوار ہُؤا آتا ہے۔

اُس کے شاگِرد پہلے تو یہ باتیں نہ سمجھے لیکن جب یِسُو ع اپنے جلال کو پُہنچا تو اُن کو یاد آیا کہ یہ باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئی تِھیں اور لوگوں نے اُس کے ساتھ یہ سلُوک کِیا تھا۔

پس اُن لوگوں نے گواہی دی جو اُس وقت اُس کے ساتھ تھے جب اُس نے لعزر کو قبر سے باہر بُلایا اور مُردوں میں سے جِلایا تھا۔ اِسی سبب سے لوگ اُس کے اِستِقبال کو نِکلے کہ اُنہوں نے سُنا تھا کہ اُس نے یہ مُعجِزہ دِکھایا ہے۔ پس فرِیسِیوں نے آپس میں کہا سوچو تو! تُم سے کُچھ نہیں بَن پڑتا ۔ دیکھو جہان اُسکا پیرَو ہو چلا۔ ‘ یُوحنّا 12:12-19

حضرت عیسیٰ المسیح کی یروشلیم میں آمد ــ بمطابق حضرت داود

اس بات کو ہم حضرت داود کے ساتھ شروع کرتے ہیں۔ قدیم ایام میں یہودی بادشاہ ہر سال اپنے گھوڑوں کو پہاڑ پر لے جاتے اور لوگوں کے ساتھ ایک جلوس کی شکل میں یروشلیم میں داخل ہوتے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اس روایت کو دوبارہ مرتب کیا اور آپ کجھوروں کے اتوار والے دن یروشلیم میں ایک گدھے پر بیٹھ کر داخل ہوئے۔ لوگوں نے زبور شریف میں سے وہی زبور گایا جو پہلے لوگ بادشاہ حضرت داود کے گاتے تھے۔

‘آہ! اَے خُداوند! بچا لے۔

آہ! اَے خُداوند! خُوش حالی بخش۔

مُبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے۔

ہم نے تُم کو خُداوند کے گھر سے دُعا دی ہے۔ یہوواہ ہی خُدا ہے اور اُسی نے ہم کو نُور بخشا ہے۔ قُربانی کو مذبح کے سِینگوں سے رسِّیوں سے باندھو۔ ‘ زبُور 118: 25-27

لوگوں نے یہ قدیم زبورجو بادشاہوں کے لیے لکھا گیا تھا اس لیے گایا کیونکہ وہ جانتے تھے۔ کہ حضرت عیسیٰ المیسح  نے لعزر کو زندہ کیا ہے اور وہ آپ کی یرشلیم آمد پر بہت خوش تھے۔ اس زبور کے الفاظ کچھ اس طرح تھے۔ ‘ہوشعنا’ جس کا مطلب ہے ‘بچا لے/نجات دے’ – یہ بلکل وہی الفاظ تھے جو زبور 118:25 میں لکھے تھے۔ وہ کیا تھا جس سے لوگ آپ کو ‘بچانے’ کے لیے کہا رہےتھے؟ اس کے بارے میں ہمیں حضرت زکریا کیا بتاتے ہیں۔

حضرت زکریا نے یروشلیم میں آمد کی نبوت کی تھی۔

اگرچہ حضرت عیسیٰ المسیح اُسی روایت کو دوہراتے ہیں۔ جس کو قدیم بادشاہ سینکڑوں سال پہلے کرتے رہے۔ لیکن آپ نے اس کو بلکل مختلف طور سے عملی جامہ پہنایا۔ حضرت زکریا وہ نبی ہیں جنہوں نے آنے والے مسیح کے نام کی نبوت کی تھی۔ اور آپ نے ہی نے یہ نبوت بھی کی تھی کہ مسیح جلوس کی صورت میں گدھے پر سوار ہوکر یروشلیم میں داخل ہونگے۔ تاریخ کے ٹائم لائن میں حضرت زکریا کے دور کو دیکھایا گیا ہے۔ اُن انبیاءاکرام کے ساتھ جنہوں نے کجھوروں کے اتوار کے بارے میں نبوت کی تھی۔

نبوت کا ایک حصہ حضرت یوحنا رسول کی انجیل شریف میں(نیلے متن میں)لکھا ہوا ہے۔ حضرت زکریا کی مکمل نبوت یہاں ہے۔

‘اَے بِنتِ صِیُّون تُو نِہایت شادمان ہو ۔ اَے دُخترِ یروشلیِم خُوب للکار کیونکہ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے ۔ وہ صادِق ہے اور نجات اُس کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ حلِیم ہے اور گدھے پر بلکہ جوان گدھے پر سوار ہے۔ اور مَیں افرائِیم سے رتھ اور یروشلیِم سے گھوڑے کاٹ ڈالُوں گا اور جنگی کمان توڑ ڈالی جائے گی اور وہ قَوموں کو صُلح کا مُژدہ دے گا اور اُس کی سلطنت سمُندر سے سمُندر تک اور دریایِ فرات سے اِنتہایِ زمِین تک ہو گی۔ اور تیری بابت یُوں ہے کہ تیرے عہد کے خُون کے سبب سے مَیں تیرے اسِیروں کو اندھے کنُوئیں سے نِکال لایا۔ ‘ زکریاہ 9:9-11

حضرت زکریا نے اس بادشاہ کے بارے میں نبوت کی۔ کہ بادشاہ دوسرے بادشاہوں سے مختلف ہوگا۔ یہ بادشاہ رتھوں، جنگجووں اورتیر کمان کا استعمال کرکے بادشاہ نہیں بنے گا۔ دراصل یہ بادشاہ ان سب ہتھیاروں کو توڑے گا اور ‘قوموں کے درمیان امن کی تبلیغ کرے گا۔ پھر بھی اس بادشاہ کو اپنے ایک دوشمن کو شکست دینے ہوگی۔ اس بادشاہ کو ایک بڑے جہاد کے طور پر جدوجہد کرنا پڑے گی۔

نبوت کے مطابق یہ بہت واضع ہے کہ جب ہم دشمن کو پہچان جائیں گے تو اس بادشاہ کو اُس کا سامنا کرنا تھا۔ عام طور پر ایک مخالف بادشاہ، یا ایک فوج، یا باغی لوگ، یا وہ لوگ جو بادشاہ کے خلاف ہوں۔ بادشاہ کے دشمن ہوسکتے ہیں۔ لیکن حضرت زکریا اس بادشاہ کے بارے میں لکھتا ہے۔ کہ وہ ایک گدھے پر سوار ہوکر آئے گا۔ اور سلامتی کی تبلیغ کرے گا۔ اور وہ گڑھے میں قید قیدیوں کو آزاد کروائے گا۔ یہاں پر گڑھے سے مراد عبرانی میں قبر یا موت سے ہے۔ یہ بادشاہ اُن لوگوں کو رہائی دلانے نہیں جارہا۔ جو ڈیکڑوں، بدعنوان سیاستدانوں یا انسانوں کی بنائی ہوئی جیل میں قید تھے۔ بلکہ وہ جو موت کے قید میں تھے اُن کو آزاد کروانے آیا تھا۔

جب ہم لوگوں کو موت سے بچانے کی بات کرتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی کو بچانا تاکہ وہ حقیقی موت (حقیقی موت سے مراد ہمیشہ کی موت) سے بچ جائے۔ ہم شاید مثال کے طور پر کسی کو ڈوبنے سے بچالیں، یا کسی کو دوائی دے کر اُس کی زندگی بچالیں۔ اس قسم کے بچانے سے مراد ہے کہ موت کو ٹال دینا۔ لیکن اصل میں وہ شخص ایک دن ضرور مرے گا۔ لیکن یہاں پر حضرت زکریا اس بات کی نبوت نہیں کررہے تھے۔ وہ بادشاہ لوگوں کو ‘اس مجازی موت سے’ بچائے گا۔ بلکہ یہ بادشاہ اُن لوگوں کو  حقیقی موت’ سے بچائے گا جو اُس کی قید میں ہیں۔’ وہ جو پہلے سے مرچکے ہیں۔ حضرت زکریا نبوت کرتے ہیں کہ بادشاہ گدھے پر سوار کر آرہا ہے۔ اور وہ موت کو شکست دے گا۔ قیدیوں کو رہائی بخشے گا۔ اس کے لیے بہت بڑی جدوجہد کی ضرورت تھی۔ ایک ایسے جہاد کی ضرورت تھی جو پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ بعض اوقات علماء اکرام ہمیں ‘باطن کے جہاد’ اور ‘ظاہری جہاد’ کی تعلیم دیتے ہیں۔ گڑھے (موت) کا سامنا کرنے کے لیے اس بادشاہ کو دونوں باطنی اور ظاہری جہاد کا سامنا کرنا پڑنا تھا۔

اس جہاد کی جدوجہد میں بادشاہ کون سے ہتھیادوں کو استعمال کرنے جارہا تھا؟ حضرت زکریا نے بتایا تھا۔ کہ یہ بادشاہ گڑھے (موت) کی اس جنگ میں صرف” عہد کا خون لے کر جائے” اُس کا اپنا خون ہی ہتھیار ہوگا جس کے لیے اُسے موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے گدھے پر سوار ہو کر یروشلیم میں داخل ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ آپ ہی وہ بادشاہ ہیں۔ ــ السمیح

حضرت عیسیٰ السمیح غم کی وجہ سے روتے ہیں

کجھوروں کے اتوار والے دن جب حضرت عیسیٰ السمٰح یروشلیم (فتح کا جلوس) میں داخل ہوئے تو مذہبی راہنماوں نے آپ کو روکنا چاہا۔ لوقا کی معرفت انجیل شریف میں حضرت عیسیٰ المسیح کا بیان درج ہے کہ آپ نے اُن کو کیا جواب دیا۔

‘جب نزدِیک آ کر شہر کو دیکھا تو اُس پر رویا اور کہا کاش کہ تُو اپنے اِسی دِن میں سلامتی کی باتیں جانتا! مگر اب وہ تیری آنکھوں سے چُھپ گئی ہیں کیونکہ وہ دِن تُجھ پر آئیں گے کہ تیرے دُشمن تیرے گِرد مورچہ باندھ کر تُجھے گھیر لیں گے اور ہر طرف سے تنگ کریں گے اور تُجھ کو اور تیرے بچّوں کو جو تُجھ میں ہیں زمِین پر دے پٹکیں گے اور تُجھ میں کِسی پتّھر پر پتّھر باقی نہ چھوڑیں گے اِس لِئے کہ تُو نے اُس وقت کو نہ پہچانا جب تُجھ پر نِگاہ کی گئی ‘ لُوقا 19 :41-44

حضرت عیسیٰ المسیح نے یہاں پر خاص طور پر راہنماوں سے کہا”کاش کہ وہ اُس وقت جان جاتے” جو آج اُن کی زندگی میں آیا ہے۔ آپ کا یہاں کیا مطلب تھا؟ وہ کس بات کو نہیں سمجھ پائے تھے؟

انبیاءاکرام نے "دن” کے بارے میں نبوت کی تھی

صدیوں پہلے حضرت دانیال نے نبوت کی تھی۔ کہ یروشلیم کے دوبارہ تعمیر ہونے کے 483 سال بعد مسیح آئے گے۔ ہم حضرت دانیال کے مطابق حساب لگا چکے ہیں کہ 33 سن عیسوی متوقع سال تھا۔ یہ وہی سال تھا جب حضرت عیسیٰ المسیح گدھے پر سوار ہوکر یروشلیم میں داخل ہوئے۔ جس سال حضرت عیسیٰ المسیح نے یروشلیم میں داخل ہونا تھا اُس کی نبوت سینکڑوں سال پہلے ہوچکی تھی۔ لیکن آج ہم اس وقت کا دوبارہ حساب لگا سکتے ہیں۔ (برائے مہربانی یہاں پہلے جائزہ لیں

حضرت دانیال نے 483 سالوں کی نبوت کی اوراُس وقت ایک سال 360 دنوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ دور حضرت عیسیٰ المسیح کے آمد سے پہلے کا تھا۔ اس کے مطابق ان دنوں کی تعداد یہ ہے۔

483 سال * 360 دن / سال = 173880 دن

جدید بین اقوامی کیلنڈر کے مطابق 365.2422 دن/سال اس کے مطابق 476 سال اور 25 اضافی دن ہوئے۔ (173 880/365.24219879 = 476 یاد رکھیں 25)

جب یروشلیم کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تو وہاں سے اُلٹی گنتی گننا شروع کریں۔ اس سال کے بارے درج ذیل میں حوالہ دیا گیا ہے۔

ارتخششتا بادشاہ کے بِیسویں برس نَیسا ن کے مہِینے میں ۔ ۔ ۔ نحمیاہ 2: 1

نسان کا کونسا دن تھا (‘نسان’ یہودی کیلنڈر کا ایک مہنہ) اس کے بارے میں بتایا گیا لیکن امکان یہ ہی ہے کہ وہ نسان کے مہنے کی 1 پہلی تاریخ تھی کیونکہ نسان یہودی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اور یہودیوں کا نیاسال یہاں ہی سے شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ قمری مہینوں والا سال ہے۔ (جس طرح اسلامی کیلنڈر ہے) اسلامی روایت کے مطابق نیا چاند کو چند چُنے ہوئے افراد کے ساتھ مشاہدہ کیا جاتا ہے اور نئے چاند (ہلال) کو پہچان کر نیا سال قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن جدید آسڑانومی کے وسیلے ہم جانتے ہیں کہ کب نیا چاند کا نشان ظاہر ہوتا ہے۔ نسان کی 1،444 ق م میں پہلا نشان بنا۔ اس میں مشکل کی بات یہ ہے۔ کہ مشاہدہ کرنے والی ٹیم نے ہلال کا نشان اُس دن دیکھا یا اگلے دن اُنہوں نے دیکھا۔ اگر اُنہوں نے اگلے دن دیکھا تو اس کا مطلب ہے کہ نسان کا مہنہ شروع ہونے میں ایک دن کا وقفہ پڑگیا۔ فلکیات کے حساب کے ارتختشتا بادشاہ کے 20 سال میں 1 یکم نسان کو ہلال کا چاند رات کو 10 بجے مارچ 4، 444 ق م کو جدید کیلنڈر کے مطابق نظرآیا۔ اگر اُس رات نیا چاند نظر نہیں آیا، تو نسان کی پہلی تاریخ پھر اگلے دن ہوگی یعنی مارچ 5، 444 ق م۔ کسی بھی طرح سے یروشلیم کی بحالی کی تاریخ کی شروعات مارچ 4، یا 5، 444 ق م ہے۔

جب ہم حضرت دانیال کے دیئے ہوئے 476 سال کو شامل کرتے ہیں۔ تو یہ ہمیں مارچ 4 یا 5، 33سن عیسوی تک لیے آتا ہے۔ (یہاں پر کوئی 0 سال نہیں ہے۔ جدید کیلنڈر 1 BC سے 1سن عیسوی اس ایک سال ریاضی کے مطابق -444 + 476 +1= 33)۔ حضرت دانیال کی نبوت کے مطابق 25 دن مزید جمع کرنے سے مارچ 4 یا 5، 33سن عیسوی سے ہم مارچ 29 یا 30 33 سن عیسوی جس کے بارے میں ہم نے ٹائم لائن میں بیان کردیا ہے۔ مارچ 29، 33سن عیسوی اتوار کا دن تھا۔ اس لئے اس کو کھجوروں کا اتوار کہتے ہیں۔ یہ وہی دن تھا جس دن حضرت عیسیٰ المسیح گدھے پر بیٹھ کر بطور مسیح کے یروشلیم میں داخل ہوئے تھے۔ ہم اس لیے جانتے ہیں کیونکہ آںے والے جمعہ فسح تھی۔ اور فسح ہمیشہ نسان کی 14 تاریخ کو ہوتی ہے۔ نسان 14 33سن عیسوی اپریل 3 والے دن تھی۔ 3 اپریل جمعہ والے دن کے 5 دن پہلےمارچ 29 کو کجھوروں کا اتوار تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے 29 مارچ 33 AD کو گدھے پر بیٹھ کر یروشلیم میں داخل ہو کر حضرت زکریا اور حضرت دانیال کی نبوت دونوں کو پورا کردیا۔ اس کو درج ذیل ٹائم لائن میں بیان کردیا گیا ہے۔

حضرت دانیال نے ‘مسیح’ کے بارے میں 173880 دن پہلے نبوت کردی تھی۔

(حضرت نحمیاہ کا وقت شروع ہوگیا۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح اتوار والے دن مارچ 29، 33 AD کو یروشلیم میں داخل ہوئے۔)

ایک دن میں بہت ساری نبوتوں کے پورے ہونے سے صاف اور واضع اللہ تعالیٰ کے مشن کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن بعد میں اُسی دن حضرت عیسیٰ المسیح نے حضرت موسیٰ کی بتائی ہوئی ایک اور نبوت کو پورا کیا۔ ایسا کرنے سے اُنہوں نے جہاد کی کاروائی  گڑھے میں لے کر جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ المسیح کی دشمن موت ہے۔ ہم اس کے بارے میں اگلے مضمون میں جانے گے۔

‘لیکن تُو پاتال میں گڑھے کی تہہ میں اُتارا جائے گا۔ ‘ یسعیاہ 14 :15

‘اِس لِئے کہ پاتال تیری سِتایش نہیں کر سکتا اور مَوت سے تیری حمد نہیں ہو سکتی۔ وہ جو گور میں اُترنے والے ہیں تیری سچّائی کے اُمّیدوار نہیں ہو سکتے۔ ‘ یسعیاہ 38 :18

‘بلکہ اُس کی جان گڑھے کے قرِیب پُہنچتی ہے اور اُس کی زِندگی ہلاک کرنے والوں کے نزدِیک۔ ‘ ایُّوب 33 :22

‘وہ تُجھے پاتال میں اُتاریں گے اور تُو اُن کی مَوت مَرے گا جوسمُندر کے وسط میں قتل ہوتے ہیں۔ ‘ حِزقی ایل 28 :8

‘جِن کی قبریں پاتال کی تہ میں ہیں اور اُس کی تمام جمعِیّت اُس کی قبر کے گِردا گِرد ہے ۔ سب کے سب تلوار سے قتل ہُوئے جو زِندوں کی زمِین میں ہَیبت کا باعِث تھے۔ ‘ حِزقی ایل 32 :23

‘اَے خُداوند! تُو میری جان کو پاتال سے نِکال لایاہے ۔ تُو نے مُجھے زِندہ رکھّا ہے کہ گور میں نہ جاؤُں۔ ‘ زبُو 30 :3

حضرت عیسیٰ المسیح ‘کھوئے’ غدار کو بچاتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح نے لعزر کو دوبارہ زندہ کیا۔ اس طرح آپ نے اپنے مشن کو لوگوں کے سامنے اُجاگر کیا۔ اب آپ یروشلیم کی راہ پر تھے۔ تاکہ اپنے مشن کو پورا کرسکیں۔ اس سفر کے دوران آپ کا گزر یریحو(جو ابھی بھی فلسطین کے مغربی کنارے پر واقع ہے) کے شہر سے ہو۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے معجزات اور تعلیمات کے بارے اس شہر کے لوگوں نے سُن رکھا تھا۔ جب اُنہیں پتہ چلا کہ آپ یہاں سے گزر رہے ہیں۔ تو ایک بڑی بھیڑ اُن کا دیدار کرنے آئی۔ اس بیھڑ میں ایک امیر شخص بھی موجود تھا جس کا نام زکائی تھا لیکن لوگ اُس کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ امیر اس لیے تھا کیونکہ وہ رومی حکومت کے لیے ٹیکس وصول کرتا تھا۔ یہودیہ پر رومی حکومت نے ذبردستی قبضہ کر رہ تھا۔ وہ رومی حکومت جاری کردہ ٹیکس سے زیادہ ٹیکس وصول کرتا تھا۔ یہودی نے اس کام کی وجہ سے حقیر جانتے تھے۔ کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا۔ اُس کو لوگ ایک غدار کے طور پر جانتے تھے۔

‘وہ یریحُو میں داخِل ہو کر جا رہا تھا اور دیکھو زکّا ئی نام ایک آدمی تھا جو محصُول لینے والوں کا سردار اور دَولت مند تھا وہ یِسُو ع کو دیکھنے کی کوشِش کرتا تھا کہ کَون سا ہے لیکن بِھیڑ کے سبب سے دیکھ نہ سکتا تھا  اِس لِئے کہ اُس کا قَد چھوٹا تھا پس اُسے دیکھنے کے لِئے آگے دَوڑ کر ایک گُولر کے پیڑ پر چڑھ گیا کیونکہ وہ اُسی راہ سے جانے کو تھا جب یِسُو ع اُس جگہ پُہنچا تو اُوپر نِگاہ کر کے اُس سے کہا اَے زکّا ئی جلد اُتر آ کیونکہ آج مُجھے تیرے گھر رہنا ضرُور ہے وہ جلد اُتر کر اُس کو خُوشی سے اپنے گھر لے گیا جب لوگوں نے یہ دیکھا تو سب بُڑبُڑا کر کہنے لگے کہ وہ تو ایک گُنہگار شخص کے ہاں جا اُترا اور زکّا ئی نے کھڑے ہو کر خُداوند سے کہا اَے خُداوند دیکھ مَیں اپنا آدھا مال غرِیبوں کو دیتا ہُوں اور اگر کِسی کا کُچھ ناحق لے لِیا ہے تو اُس کو چَوگُنا ادا کرتا ہُوں یِسُو ع نے اُس سے کہا آج اِس گھر میں نجات آئی ہے  اِس لِئے کہ یہ بھی ابرہا م کا بیٹا ہے کیونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے   لُوقا 19:1-10

چنانچہ زکائی قد میں چھوٹا تھا۔ اس لیے وہ حضرت عیسیٰ المسیح کو بھیڑ میں دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اور کوئی بھی وہاں اُس کی مدد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انجیل شریف میں رقم ہے کہ کس طرح اُس کی ملاقات آپ سے ہوئی اور کیا گفتگو ہوئی۔

لوگوں کو آپ کی یہ بات اچھی نہ لگی۔ کہ آپ نے خود کو زکائی کے گھر میں مدعو کیا۔ زکائی ایک بُرا شخص تھا اور ہر کوئی یہ جانتا تھا۔ لیکن زکائی نے اپنے بارے میں نشاندہی کہ وہ ایک گنہگار ہے۔ ہم میں سے اکثر اپنے گناہ ہو چھپاتے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ ہم نے کبھی بھی گناہ نہیں کیا۔ لیکن زکائی نے ایسا نہیں کیا تھا۔ وہ جانتا تھا جوکچھ وہ کررہا ہے وہ بُرا ہے بلکہ اپنے لوگوں کے ساتھ غداری ہے۔ پھر بھی اُس نے حضرت عیسیٰ المسیح سے ملنے کی دلیری کی۔ حضرت عیسیٰ المسیح کا ردعمل اتنا سرگرم تھا کہ سب لوگ حیران ہوگے۔

حضرت عیسیٰ المسیح چاہتے تھے کہ زکائی توبہ کرئے۔ اپنے اس گناہ سے باز آئے۔ اور آپ کو مسیح کے طور پر قبول کرلے۔ جب زکائی نے ایسا کیا تو حضرت عیسیٰ المسیح نے اُس کو معاف کردیا۔ آپ نے اعلان کیا کی وہ ‘کھویا ہوا’ تھا لیکن اب بچ گیا /ملا ہے۔

آپ کا میرے اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم نے شاید ایسے ہی کام کیے ہوں جیسے اس زکائی نے شرما دینے والے کیے تھے۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں۔ کہ شاید میں بُرے نہیں ہیں۔ اس لیے ہم اپنی غلطیوں کو چھپاتے ہیں۔ جس طرح حضرت آدم نے اپنی غلطی چھپائی تھی۔ ہم اُمید کرتے ہیں۔ کہ ہم بہت سارے اچھے اعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم اپنے بُرے اعمال کا جرمانہ بھرسکتے ہیں۔ یہ خیال اُس بھیڑ کا تھا۔ جو حضرت عیسیٰ المسیح کو دیکھنے آئی۔ اسلیے حضرت عیسیٰ المسیح نے اُن میں کسی کے گھر جانا پسند نہ کیا اور نہ ہی اُن میں سے کسی کو یہ کہا کہ وہ نجات پاگیا ہے۔ صرف یہ شرف زکائی ہی کو حاصل ہوا۔ یہ ہمارے لیے انتہائی بہتر ہے۔ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کریں۔ اور ان کو نہ چھپائیں۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کو لینے کے حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس جائیں گے۔ تو ہم کو معلوم ہوگا۔ کہ نہ صرف ہم کو معافی مل چکی ہے بلکہ ہمارے اندازے سے بھی بڑھ کر ہم کو بخش دیا گیا ہے۔

لیکن کس طرح زکائی کو قیامت کاانتظار کئے بغیر بد عمل کی معافی کا اُسی لحمے یقین ہوگیا؟ ہم حضرت عیسیٰ المسیح کے یروشلیم کے سفر کے بارے میں مطالعہ جاری رکھیں گے تاکہ ہم اُن کے مشن کے تکمیل اور اپنے سوال کا جواب حاصل کرسکیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا لعزر کو زندہ کرنے کا مشن

حضرت عیسیٰ المسیح نے لوگوں کو تعلیم اور شفا دی اور اس کے ساتھ اُنہوں نے بہت سارے معجزات بھی کئے۔ لیکن ایک سوال اُن کے حواریوں کے ذہین میں رہا۔ اس کے علاوہ آپ کے دشمن یہ سوچتے رہے کہ آپ کیوں اس دنیا میں آئے؟۔ بہت سے انبیاءاکرام نے معجزات کئے اور حضرت موسیٰ نے حیرت انگیز معجزات فرمائے۔ تاہم حضرت موسیٰ کو پیشتر سے ہی شریعت مل چکی تھی، اور حضرت عیسیٰ المسیح نے فرمایا تھا کہ "میں شریعت کو منسوخ کرنے نہیں آیا”۔ تو پھر آپ کو اللہ تعالیٰ نے کیس کام کے لیے بھیجا تھا؟

حضرت عیسیٰ المسیح کا دوست بیمار پڑگیا۔ آپ کے شاگرد توقع کرتے تھے۔ کہ اپنے دوست کو شفا فرما دیئے گے۔ جیسا کہ آپ نے بہت سارے لوگوں کو شفا دی تھی۔ لیکن حضرت عیسیٰ المسیح نے جان بوجھ کر اپنے دوست کو شفا نہ دی۔ اور آپ نے اس طرح اپنے مشن کو لوگوں پرظاہر کیا۔ انجیل مقدس میں اس کے بارے میں اس طرح لکھا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا موت کے ساتھ آمنا سامنا

‘مریم اور اُس کی بہن مر تھا کے گاؤں بَیت عَنِیّا ہ کا لعزر نام ایک آدمی بِیمار تھا۔ یہ وُہی مر یم تھی جِس نے خُداوند پر عِطر ڈال کر اپنے بالوں سے اُس کے پاؤں پونچھے ۔ اِسی کا بھائی لعزر بِیمار تھا۔ پس اُس کی بہنوں نے اُسے یہ کہلا بھیجا کہ اَے خُداوند ! دیکھ جِسے تُو عزِیز رکھتا ہے وہ بِیمار ہے۔ یِسُو ع نے سُن کر کہا کہ یہ بِیماری مَوت کی نہیں بلکہ خُدا کے جلال کے لِئے ہے تاکہ اُس کے وسِیلہ سے خُدا کے بیٹے کا جلال ظاہِر ہو۔ اور یِسُو ع مرتھا اور اُس کی بہن اور لعزر سے مُحبّت رکھتا تھا۔ پس جب اُس نے سُنا کہ وہ بِیمار ہے تو جِس جگہ تھا وہِیں دو دِن اَور رہا۔ پِھر اُس کے بعد شاگِردوں سے کہا آؤ پِھر یہُودیہ کو چلیں۔ شاگِردوں نے اُس سے کہا اَے ربیّ! ابھی تو یہُودی تُجھے سنگسار کرنا چاہتے تھے اور تُو پِھر وہاں جاتا ہے؟۔ یِسُو ع نے جواب دِیا کیا دِن کے بارہ گھنٹے نہیں ہوتے؟ اگر کوئی دِن کو چلے تو ٹھوکر نہیں کھاتا کیونکہ وہ دُنیا کی رَوشنی دیکھتا ہے۔ لیکن اگر کوئی رات کو چلے تو ٹھوکر کھاتا ہے کیونکہ اُس میں رَوشنی نہیں۔ اُس نے یہ باتیں کہِیں اور اِس کے بعد اُن سے کہنے لگا کہ ہمارا دوست لعزر سو گیا ہے لیکن مَیں اُسے جگانے جاتا ہُوں۔ پس شاگِردوں نے اُس سے کہا اَے خُداوند! اگر سو گیا ہے تو بچ جائے گا۔ یِسُو ع نے تو اُس کی مَوت کی بابت کہا تھا مگر وہ سمجھے کہ آرام کی نِیند کی بابت کہا۔ تب یِسُو ع نے اُن سے صاف کہہ دِیا کہ لعزر مَر گیا۔ اور مَیں تُمہارے سبب سے خُوش ہُوں کہ وہاں نہ تھا تاکہ تُم اِیمان لاؤ لیکن آؤ ہم اُس کے پاس چلیں۔ پس توما نے جِسے توام کہتے تھے اپنے ساتھ کے شاگِردوں سے کہا کہ آؤ ہم بھی چلیں تاکہ اُس کے ساتھ مَریں۔ پس یِسُو ع کو آ کر معلُوم ہُؤا کہ اُسے قَبر میں رکھّے چار دِن ہُوئے۔ بَیت عَنِیّا ہ یروشلِیم کے نزدِیک قرِیباً دو مِیل کے فاصِلہ پر تھا۔ اور بُہت سے یہُودی مرتھا اور مریم کو اُن کے بھائی کے بارے میں تسلّی دینے آئے تھے۔ پس مر تھا یِسُو ع کے آنے کی خبر سُن کر اُس سے مِلنے کو گئی لیکن مر یم گھر میں بَیٹھی رہی۔ مر تھا نے یِسُو ع سے کہا اَے خُداوند! اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مَرتا۔ اور اب بھی مَیں جانتی ہُوں کہ جو کُچھ تُو خُدا سے مانگے گا وہ تُجھے دے گا۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا تیرا بھائی جی اُٹھے گا۔ مر تھا نے اُس سے کہا مَیں جانتی ہُوں کہ قِیامت میں آخِری دِن جی اُٹھے گا۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا قِیامت اور زِندگی تو مَیں ہُوں ۔ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے گو وہ مَر جائے تَو بھی زِندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زِندہ ہے اور مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مَرے گا ۔ کیا تُو اِس پر اِیمان رکھتی ہے؟۔ اُس نے اُس سے کہا ہاں اَے خُداوند مَیں اِیمان لا چُکی ہُوں کہ خُدا کا بیٹا مسِیح جو دُنیا میں آنے والا تھا تُو ہی ہے۔ یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور چُپکے سے اپنی بہن مریم کو بُلا کر کہا کہ اُستاد یہِیں ہے اور تُجھے بُلاتا ہے۔ وہ سُنتے ہی جلد اُٹھ کر اُس کے پاس آئی۔ (یِسُو ع ابھی گاؤں میں نہیں پُہنچا تھا بلکہ اُسی جگہ تھا جہاں مر تھا اُس سے مِلی تھی)۔ پس جو یہُودی گھر میں اُس کے پاس تھے اور اُسے تسلّی دے رہے تھے یہ دیکھ کر کہ مریم جلد اُٹھ کر باہر گئی ۔ اِس خیال سے اُس کے پِیچھے ہو لِئے کہ وہ قبر پر رونے جاتی ہے۔ جب مر یم اُس جگہ پُہنچی جہاں یِسُو ع تھا اور اُسے دیکھا تو اُس کے قَدموں پر گِر کر اُس سے کہا اَے خُداوند اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مَرتا۔ جب یِسُو ع نے اُسے اور اُن یہُودِیوں کو جو اُس کے ساتھ آئے تھے روتے دیکھا تو دِل میں نِہایت رنجِیدہ ہُؤا اور گھبرا کر کہا۔ تُم نے اُسے کہاں رکھّا ہے؟ اُنہوں نے کہا اَے خُداوند! چل کر دیکھ لے۔ یِسُو ع کے آنسُو بہنے لگے۔ پس یہُودِیوں نے کہا دیکھو وہ اُس کو کَیسا عزِیز تھا۔ لیکن اُن میں سے بعض نے کہا کیا یہ شخص جِس نے اندھے کی آنکھیں کھولِیں اِتنا نہ کر سکا کہ یہ آدمی نہ مَرتا؟۔ یِسُو ع پِھر اپنے دِل میں نِہایت رنجِیدہ ہو کر قبر پر آیا ۔ وہ ایک غار تھا اور اُس پر پتّھر دَھراتھا۔ یِسُو ع نے کہا پتّھر کو ہٹاؤ ۔ اُس مَرے ہُوئے شخص کی بہن مر تھا نے اُس سے کہا ۔ اَے خُداوند! اُس میں سے تو اب بدبُو آتی ہے کیونکہ اُسے چار دِن ہو گئے۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا کیا مَیں نے تُجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تُو اِیمان لائے گی تو خُدا کا جلال دیکھے گی؟۔ پس اُنہوں نے اُس پتّھر کو ہٹا دِیا ۔ پِھر یِسُو ع نے آنکھیں اُٹھا کر کہا اَے باپ مَیں تیرا شُکر کرتا ہُوں کہ تُو نے میری سُن لی۔ اور مُجھے تو معلُوم تھا کہ تُو ہمیشہ میری سُنتاہے مگر اِن لوگوں کے باعِث جو آس پاس کھڑے ہیں مَیں نے یہ کہا تاکہ وہ اِیمان لائیں کہ تُو ہی نے مُجھے بھیجا ہے۔ اور یہ کہہ کر اُس نے بُلند آواز سے پُکارا کہ اَے لعزر نِکل آ۔ جو مَر گیا تھا وہ کفَن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہُوئے نِکل آیا اور اُس کا چِہرہ رُومال سے لِپٹا ہُؤا تھا ۔ یِسُو ع نے اُن سے کہا اُسے کھول کر جانے دو۔ ‘ یُوحنّا 11:1-44

آپ کے دوست کی بہنیں یہ توقع کررہیں تھیں۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح جلدی آئیں گے اور اُن کے بھائی کواچھا کردیں گے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے جان بوجھ کر دیر لگا آئی اور لعزر کو مرنے دیا۔ اورکوئی نہیں یہ جانتا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ لیکن اس واقعہ میں ہم یہ دیکھ سکتے ہیں۔ کہ آپ کا دل اس سے اداس تھا اور آپ غصے میں تھے۔ لیکن آپ کا غصہ کس پر تھا؟ اپنے دوست کی بہنوں پر؟ یا ہجوم پر؟ شاگردوں پر؟ یا پھر اپنے دوست لعزر پر؟ نہیں، بلکہ آپ کا غصہ موت پر تھا۔ انجیل شریف میں صرف دو بار آیا ہے۔ کہ آپ روئے۔ آپ کیوں روئے؟ کیونکہ یہ کہ آپ کا دوست موت کے قبضہ میں تھا۔ آپ کا موت پر غصہ اور پھر دوست کی جدائی نے آپ کے جذبات کو ہلادیا۔ آپ کی آنکھوں میں آنسوانسان کی بے بسی دیکھ کرآئے۔

بیماری سے شفا پانے کا مطلب ہے۔ کہ موت کو ملتوی کرنا۔ صحت مند ہو یا بیمار موت آخرکار سب کو آئے گی۔ چاہے لوگ اچھے ہو یا بُرے، عورت ہو یا مرد، بوڑھا ہو یا جوان، مذہبی ہو یا نہ سب موت کا مزہ چکھیں گے۔ یہ سچ ہے جب سے حضرت آدم نے قرآن شریف اور تورات شریف کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو اس کی وجہ سے آدم فانی بن گیا۔ اس کے تمام بیٹے بیٹیاں اس میں آپ اور میں بھی شامل ہیں۔ سب کے اُوپر اُس کے دشمن نے قبضہ کررکھا ہے۔ جو کہ موت ہے۔ موت کے خلاف ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اور ہم نااُمید ہے۔ جب کوئی بیمار پڑجاتا ہے۔ تو اُس وقت ہمارے پاس اُمید ہوتی ہے۔ اس لیے لعزر کی بہنیں اُمید کرتی تھیں کہ اُن کا بھائی شاید شفاپا جاتا۔ لیکن جب وہ مر گیا تو وہ نااُمید ہوگئیں۔ یہ ہمارے لیے بھی حقیقت ہے۔ ہسپتال میں لوگ شفا کی اُمید کرتے ہیں لیکن جنازہ واالے دن کوئی شفا کی اُمید نہیں کرتا۔ موت ہماری دشمن ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح اس لیے آئے تاکہ موت کو شکست دیئے سکیں۔ اور اسلئے حضرت عیسیٰ المسیح نے اُسکی بہنیوں کو یہ بیان سُنا دیا تھا۔

قیامت اور زندگی میں ہوں. یوحنا 11: 25

حضرت عیسیٰ المسیح موت کو شکست/تباہ کرنے آئے تھے۔ اور اُن سب کو زندگی دینے آئے تھے جو اُنکے وسیلے زندگی چاہتے تھے۔ آپ کا مشن تھا کہ عام لوگوں کے سامنے لعزر کو زندہ کرکے اپنے اس اختیار کو ظاہر کریں۔ آپ نے ہراُس کو زندگی کی پیشکش کی ہے۔ ہر جو موت کی بجائے زندگی چاہتا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا جواب

اگرچہ موت ہماری حتمی دشمن ہے۔ لیکن ہم میں سے بہت سے چھوٹے دشمنوں کے جال میں پھنسے ہوتے ہیں۔ جس کا نتیجہ (سیاست، مذاہبی، اور نسلی وغیرہ) ہماری پوری زندگی میں ایک تنازعہ سا رہتا ہے۔ یہ سچائی حضرت عیسیٰ المسیح کے وقت بھی تھا۔ ان معجزات کی گواہیوں میں سے ہم اس بات کو جان سکتے ہیں۔ کہ اُس وقت لوگوں کی بنیادی تشویش کیا تھی۔ یہاں اس کے بارے میں مختلف ردعمل درج ہیں۔

‘پس بُہتیرے یہُودی جو مر یم کے پاس آئے تھے اور جِنہوں نے یِسُو ع کا یہ کام دیکھا اُس پر اِیمان لائے۔ مگر اُن میں سے بعض نے فرِیسِیوں کے پاس جا کر اُنہیں یِسُو ع کے کاموں کی خبر دی۔ پس سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں نے صَدرعدالت کے لوگوں کو جمع کر کے کہا ہم کرتے کیا ہیں؟ یہ آدمی تو بُہت مُعجِزے دِکھاتا ہے۔ اگر ہم اُسے یُوں ہی چھوڑ دیں تو سب اُس پر اِیمان لے آئیں گے اوررومی آ کر ہماری جگہ اور قَوم دونوں پر قبضہ کر لیں گے۔ اور اُن میں سے کائِفا نام ایک شخص نے جو اُس سال سردار کاہِن تھا اُن سے کہا تُم کُچھ نہیں جانتے۔ اور نہ سوچتے ہو کہ تُمہارے لِئے یِہی بِہتر ہے کہ ایک آدمی اُمّت کے واسطے مَرے نہ کہ ساری قَوم ہلاک ہو۔ مگر اُس نے یہ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ اُس سال سردار کاہِن ہو کر نبُوّت کی کہ یِسُو ع اُس قَوم کے واسطے مَرے گا۔ اور نہ صِرف اُس قَوم کے واسطے بلکہ اِس واسطے بھی کہ خُدا کے پراگندہ فرزندوں کو جمع کر کے ایک کر دے۔ پس وہ اُسی روز سے اُسے قتل کرنے کا مشوَرہ کرنے لگے۔ پس اُس وقت سے یِسُو ع یہُودِیوں میں عِلانِیہ نہیں پِھرابلکہ وہاں سے جنگل کے نزدِیک کے عِلاقہ میں اِفرائِیم نام ایک شہر کو چلا گیا اور اپنے شاگِردوں کے ساتھ وہِیں رہنے لگا۔ اور یہُودِیوں کی عِید ِفَسح نزدِیک تھی اور بُہت لوگ فسح سے پہلے دِیہات سے یروشلِیم کو گئے تاکہ اپنے آپ کو پاک کریں۔ پس وہ یِسُو ع کو ڈُھونڈنے اور ہَیکل میں کھڑے ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ تُمہارا کیا خیال ہے؟ کیا وہ عِید میں نہیں آئے گا؟۔ اور سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں نے حُکم دے رکھّا تھا کہ اگر کِسی کو معلُوم ہو کہ وہ کہاں ہے تو اِطلاع دے تاکہ اُسے پکڑ لیں۔’ یُوحنّا 11: 45-57

کشیدگی اُس وقت پیدا ہوئی۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح نے اس بات کا اعلان کیا۔ کہ "قیامت” اور "زندگی” میں ہوں اور اُنہوں نے موت کو وہ خود شکست دی ۔ جب مذہبی راہنماوں نے یہ سُنا تو آپ کو مار دینے کی سازش شروع کردی۔ اس واقع کے دوان ہی بہت سے لوگوں آپ پر ایمان لیے آئے۔ لیکن بہت سارے اس کشمکش میں پڑگے کے ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ اس موقع پر اگر ہم بھی وہاں ہوتے اور لعزر کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھتے تو یقیناً یہ سوال ضرور کرتے کہ ہمیں کس بات کا چُناو کرنا ہے۔ کیا ہم فریسیوں (مذہبی لیڈروں) جیسا برتاو کرتے اور ہماری توجہ تنازعات پر مرکوز ہوتی اور بعد میں اس تاریخ واقعہ کو بول جاتے ۔ اور زندگی کی پیشکش کو کھودیتے؟ یا پھر ہم حضرت عیسیٰ المسیح پر ایمان لیے آتے اور اُن (قیامت) زندہ کردینے والی قدرت پر اُمید رکھتے۔ اگرچہ ہم اس کے بارے پوری سمجھ نہیں رکھتے۔ انجیل مقدس میں اس کے ردعمل کے مختلف بیانات درج ہیں۔ اور آج بھی بلکل اُسی طرح کا ردعمل پایا جاتا ہے۔

اس طرح کے متنازعات فسح کے موقع کے قریب بڑھ رہیں تھے۔ یہ ایک ایسا تہوار تھا۔ جس کو حضرت موسیٰ نے 1500 پہلے ایک نشان کے طور پر شروع کیا جس کا مطلب "موت سےبچ جانا” تھا۔ انجیل مقدس میں اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ کس طرح حضرت عیسیٰ المسیح نے اپنے اس مشن کو پورا کیا اور موت کو اُسکی حدود میں جاکر شکست دی