حضرت آدم ؑ کا نشان

حضرت آدم ؑ اور اُس کی بیوی حضرت حواؑ منفرد(ان دونوں کی مانند کوئی نہ تھا) تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنے ہاتھوں سے خود بنایا تھا اور وہ باغ جنت میں رہتے تھے۔ اصل عبرانی زبان میں آدم کا مطلب ہے ”مٹی“اس کا مظہر یا اظہار ہے کہ وہ زمین یا مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ باقی تمام تر انسانیت حضرت آدم ؑ اور حواؑ سے ہے۔ وہ انسانی نسل کے ’سر یا جدااِمجد‘ ہیں اور ہمارے لیے ایک اہم نشان ہیں۔ میں نے حضر ت آدم ؑ کے بارے میں دو متوازی حوالہ جات پر غور کیا جو قرآن شریف میں سے ہیں اور ایک پیدائش کی کتاب میں سے جو حضرت موسیٰ کی کتاب تورات شریف کی پہلی کتاب ہے۔

(یہاں پر اِن حوالہ جات کو کھولنے کے لیے کلک کریں)

جب میں نے اِن حوالہ جات کا مطالعہ کیا۔ جو پہلا مشاہدہ میں نے کیا وہ یہ تھا کہ اِ ن حوالہ جات میں مماثلت پائی جاتی تھی۔ اِن دونوں حوالہ جات میں کردار یکساں تھے ( اللہ تعالیٰ ، حضرت آدم ؑ، حواؑ اور شیطان) دونوں حوالہ جات میں (جنت کا باغ) کی جگہ بھی ایک ہی تھی۔ دونوں حوالہ جات میں شیطان نے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ سے جھوٹ بولا اور اُنہیں دھوکا دیا۔ اِن دونوں حوالہ جات میں آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ نے اپنی برہنگی کو چھُپانے کے لیے زیتون کے پتوں سے ڈھانکا۔ اِن دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ نے اِن سے با ت کی اور اُن کی عدالت کر کے فیصلہ سُنایا ۔ اِن دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ اور حواؑ پر کرم کی نظر کرتا ہے اور اُن کو کپڑے فراہم کرتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی برہنگی چھوپا لیں ۔

قرآن شریف ہمیں حضرت آدم ؑ کی اولاد ( جسکا مطلب ہے ہم) کہہ کر متعارف کرواتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ صرف ماضی کے مقدس واقعات کی تاریخ کا سبق نہیں ۔ بلکہ ہمیں غور کرنا چاہیے ۔ کیونکہ یہ حوالہ واضع طور پر بتاتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ہے اور ہمیں پوچھنا اور دریافت کرنا چاہے کہ یہ ہمارے لیے کس طرح نشانی ہے۔ 

(حضرت آدم ؑ ہمیں انتباہ کرتے ہیں)

ہمیں واقعی اس بات کو بڑی سنجیدگی سے لینا چاہے۔ کہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ نے صرف ایک (1)ہی بار سرکشی کی اور اُن کو اللہ تعالیٰ سے اُس کی سزا ملی۔ مثال کے طور پر اُن کے پاس موقعہ نہیں تھا کہ وہ نو (9) بار نافرمانی کرتے اور دسویں(10) بار اللہ تعالیٰ اُن کو سزا دیتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو صرف ایک ہی نافرمانی پر فیصلہ کن سزا دی۔ مغرب میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والو ں کا خیال ہے، کہ اللہ تعالیٰ اُن کو سزا دے گا جب وہ بہت زیادہ گناہ کرلیں گے۔ اس کے لیے وہ یہ وجہ بیان کرتے ہیں۔ کہ اگر اُن کے گناہ دوسروں کی نسبت کم ہوئے یا پھر اُن کے زیادہ کام اچھے ہوئے تو شائد اللہ تعالیٰ اُن کی عدالت نہیں کرے گا۔

لیکن حضرت آدم ؑ اور حواؑ کے معاملے میں ہمارے لیے ایک انتباہ(خبردار کرنا) ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایک ہی گناہ کے بعض عدالت کرے گا۔ اس مثال سے سمجھیں ۔ ہم ایک مُلک کے قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا موازنہ کرتے ہیں ۔میں جس ملک میں رہتا ہوں ۔ اگر میں اس ملک کا قانون توڑوں ۔ (جس طرح اگر میں ٹیکس کی ادائیگی میں دھوکہ دوں ) تو پھر قانون کے پاس یہ کافی وجہ ہوگی کہ وہ میری عدالت کریں ۔ میں یہ دراخواست نہں کرسکتا کہ میں نے صرف ایک قانون کو توڑا ہے اور میں نے قتل، ڈکیتی یا اغوا کے قوانین کو نہیں توڑا ۔ میرے لیے ایک ہی قانون توڑنا کافی ہے کہ میں اپنے ملک کی عدالت کا سامنا کرو۔ یہ ہی حال اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ہے۔

                                حضرت آدمؑ اور حواؑ کی نافرمانی میں ہمارے لیے ایک نشانی ہے۔ اور اِس کے اگلے اقدامات میں انہوں نے شرمندگی کا تجربہ کیا اور اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے اُنہوں نے زیتون کے پتوں سے اپنے آپ کو چھپایا۔ اس طرح جب میں کوئی نافرمانی کا کام کرتا ہوں تو میں شرمندگی محسوس کرتا ہوں اور اس کو دوسرں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہوں۔ حضرت آدم ؑ اور احو ؑ نے بھی کوشش کی لیکن اُن کی کوشش بےکار گئی۔ اللہ تعالیٰ اُن کی ناکامی کو دیکھا سکتا تھا اور اس کے بعد اُن دونوں نے کیا کام کیا اورکیا بولے۔ آئیں دیکھیں!

(اللہ تعالیٰ کی عدالت اور رحمت)

اگر ہم غور سے مطالعہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا ہے تو ہم کو تین چیزیں ملتی ہیں۔

  1.                  اللہ تعالیٰ نے اُن کو فانی بنایا۔ اب وہ مر جائیں گے
  2. اللہ تعالیٰ نے اُن کو جنت کے باغ سے نکال دیا۔ اب اُن کو زمین پر ایک بہت مشکل جگہ پر رہنا پڑے گا
  3.             اللہ تعالیٰ نے اُن کو چمڑے کے کپڑے فراہم کیے

ان تین عوامل کے بارے میں کیا بات اہم ہے۔ یہ تمام تر چیزیں ہمارے لیے ہیں ۔ یہاں تک کہ آج بھی ہم اِن چیزوں سےمتاثر ہو رہے ہیں ۔ ہر کوئی مرتا ہے، کوئی بھی ابھی تک جنت کے باغ میں واپس نہیں گیا ،یہاں تک  کہ کوئی نبی بھی نہیں گیا۔ سب ابھی بھی کپڑے پہنتے ہیں ۔ درحقیقت تینوں باتیں سب کے لے عام ہیں ۔ ہم نے تقریباً اس حقیقت کو بھولا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےحضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کے ساتھ کیا کیا اور یہ کہ آج بھی ہم کئی ہزاروں سال سے اس کو محسوس کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سے اُس دِن جو ہوا اُس کے نتائج سے ہم آج بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

                            ایک اور بات یہاں پر قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لباس رحمت تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی عدالت کی لیکن اُن پر اپنی رحمت بھی نازل کی۔ اللہ تعالیٰ کو ضرورت نہیں تھی کہ اُن کو یہ چیزیں دیں ۔ یہ کپڑے اُن کو  راستباز کردار کی وجہ سے نہیں ملے  تھے۔ بلکہ اُنہوں نے یہ کپڑے نافرمانی کرنے کی وجہ سے حاصل کیے تھے۔( در حقیقت اُن کا راستبازی کا معیار قرآن شریف اور تورات شریف کے مطابق نہیں تھا)

 یہ راستبازی کا معیارحضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کو اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے مل سکتا تھا ۔ نہ تواُ سکے وہ مستحق تھے اور نہ ہی اُسکے لائق تھے۔ لیکن کسی نے اُن کی قمیت کو ادا کیا تھا۔ یہاں تک کسی کی موت ہوئی تھی ۔ لیکن اب کسی جانور نے ( شاید وہ بھیڑ ، بکری یا کسی بھی صورت میں وہ جانور جس کی کھال موزوں تھی کہ اُس کا لباس بنایا جائے) ا پنی زندگی کی قمیت ادا کی۔ ایک جانور مر گیا تاکہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کر سکیں ۔ قرآن شریف ہمیں اس کے بارے میں مزید بتاتا ہے کہ کپڑے بھی اُن کی شرمندگی کو ڈھانپ نہ سکے۔ لیکن حقیقت میں اُن کو راستبازی کے کپڑوں کی ضرورت تھی۔ یہ لباس رستبازی کی نشانی تھی یہ ہمارے لیے بھی نشانی ہے۔ اس آیت سے جو مشاہدہ میں نے کیا ہے اُسکو میں نے لکھ دیا ہے۔

سورہ الاعراف26:7

اے بنی آدم ہم نے تم پر پوشاک اُتاری کے تمہارا سر ڈھانکے اور( تمہارے بدن کو) زینت دے اور (جو ) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں ۔ تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔

شاید یہ ایک اہم اور اچھا سوال ہے جس کو ہم اپنے ذہین میں رکھ سکتے ہیں ۔ کہ ہم کو کس طرح سے راستبازی کا لباس مل سکتا ہے؟ بعد میں انبیاء اکرام اس اہم سوال کا جواب دیں گے۔

(کلام اللہ قیامت اور رحمت کے بارے میں)

لیکن یہ نشانی جاری رہتی ہے۔ نہ صرف اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ ، حوا ؑ اور ہمارے ساتھ اِن تین باتوں کو جاری رکھتا ہے بلکہ وہ اپنے کلام میں فرماتا ہے۔ ان دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ اُن (سانپ اور عورت) کے درمیان عداوت کی بات کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن تورات میں اللہ تعالیٰ اور واضع طور پر کہتا ہے ۔ کہ یہ عداوت شیطان (سانپ) اور عورت کے درمیان ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لفظ کو دو ہرایا گیا ہے۔  درج آیت میں اس کو بریکٹ میں رکھا ہے۔

پیدائش کی کتاب 3:15

اور میں (اللہ تعالیٰ) تیرے (شیطان) اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا ۔ وہ(عورت کی نسل) تیرے سر کو کُچلے گا اور تُو(شیطان) اُسکی ایڑی پر کاٹیگا۔

یہ ایک پہیلی ہے لیکن سمجھ میں آتی ہے۔ اگر ہم غور سے مطالعہ کریں تو یہاں ہمیں پانچ مختلف کردار ملے گے۔ یہ ایک پیشن گوئی ہے جو مستقبل کے بارے میں بات کرتی ہے۔ لفظ” گا“ بار بار استعمال ہوا ہے جو مستقبل کے زمانے کی بات کرتا ہے

کردار یہ ہیں

  1.             اللہ تعالیٰ
  2.               (شیطان (ابلیس
  3.                عورت
  4.              عورت کی نسل
  5.             شیطان کی نسل

یہ پہیلی کا نقشہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں کس طرح یہ کردار ایک دوسرے سے منسلک ہو نگے۔ ذیل میں تصویر میں دیکھایا گیا ہے۔

SIng of Adam Picture
جنت میں اولاد کے لیے دیا گیا وعدہ

 یہ نہیں بتاتا کہ عورت کون ہے۔ آپ متوجہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ شیطان کی نسل اور عورت کی نسل کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ پُر اسرار بھید ہے

لیکن ہم عورت کی نسل کے بارے میں جانتے ہیں ۔

  (مذکر- وہ-He)کیونکہ جب نسل کا حوالہ دیا جاتا ہے تو اس کے لیے لفظ کو جانتے ہیں کہ یہ واحد مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے (His- اور ( اس – مذکر

اپنے علم کے ساتھ ہم یہاں کچھ ممکنہ مطلب لے سکتے ہیں ۔جیسا کہ نسل کے ساتھ لفظ (وہ ۔ مذکر) استعمال ہوا ہے نہ کہ(وہ۔ مونث) اسی طرح یہ نسل عورت نہیں ہوسکتی ۔لیکن وہ عورت کی نسل سے پیدا ہوگا۔ اسی طرح نسل کے ساتھ لفظ( وہ۔ مذکر) نہ کہ( انہوں ۔ جمع) ہے لہذا لفظ نسل نہ تو کسی خاص لوگوں کے گرُوہ کو ظاہر کرتا ہے نہ ہی یہ کسی قوم یا مذہب کو ظاہر کرتاہے۔ اسی طرح نسل کے ساتھ لفظ( وہ۔ مذکر) استعمال ہوا ہے
نہ کہ ( یہ -لفظ استعمال نہیں ہوا ) نسل ایک شخص ہے‘ یہ واضع کرتا اور اس امکان کو بھی ختم  کردیتا ہے کہ نسل نہ تو کوئی خاص فلسفہ ، تعلیم یا کوئی مذہب ہے۔اسی لیے نسل نہ تو عیسائیت ہے اور نہ ہی اسلام اگر ایسا ہوتا تو پھر لفظ ( یہ ) کا استعمال ہوتا۔
نہ ہی یہ یہودیت ، عیسائیوں اور مسلمانوں کا کوئی گروہ ہے۔اگر ایسا ہوتا تو لفظ ( اُنہیں) استعمال ہوتا۔
اگرچہ نسل کے بارے میں بھید رہتا ہے ۔ لیکن ہم نے تمام ایسی باتوں کوختم کردیا ہے۔ جو قدرتی طور پر ہمارے ذہین میں آسکتی ہیں۔

ہم آگے چل کر اللہ تعالیٰ کے کلا م کو دیکھ سکتے ہیں ( یہ کلام زمانہ مستقبیل میں ہے اور بار بار”گا” لفظ استعمال ہوا ہے)جوکہ اللہ تعا لیٰ کے ذہین میں ایک الٰہی منصوبے کو بیان کرتا ہے۔ یہ نسل (عورت کی نسل)سانپ (شیطان) کا سر کچلے گی اورسانپ اس کی ایڈی پر کاٹے گا۔اس نقطے پر اس بھید کا کیا مطلب ہے یہ واضع نہیں ہوتا ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک الٰہی منصوبہ ہے جس کو کھولا جارہا ہے۔

یہاں ایک اور دلچسپ اور قابلِ غور بات سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کون سی بات حضرت آدم ؑ سے نہیں کہی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ ؑکے ساتھ کسی مخصوص نسل کا وعدہ نہیں کیا جیسے اللہ تعالیٰ نے عورت کے ساتھ وعدہ کیا۔ تورات شریف، زبور شریف اور انجیل شریف میں بڑی غیر معمولی طور پر باپ دادا سے بچوں کے آنے کے ذکر (نسب نامہ) پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔ کینیڈا میں جدت پسند لوگوں کی طرف سے کتاب ِمقدس پر تنقید کی جاتی ہے۔ کہ عورتوں کے ذریعے ملنے والے خونی رشتے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تورات شریف میں دئیے گئے نسب نامہ تقریباً خصوصی طور پر باپ دادا سے بچوں کے آنے کا  ذکرکرتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ ، حضرت حو ؑا سے اور شیطان سے کون سے مختلف وعدے کئے تھے۔ یہاں پریہ وعدہ نہیں کیا گیا کہ وہ نسل (وہ شخص )کسی آدمی سے ہوگی۔ تورات شریف میں لکھا ہے کہ وہ نسل عورت میں سے ہوگی۔

اب تک جتنے بھی انسان پیدا ہوئے اُن میں سے (دو 2) ایسے انسان ہیں جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے ۔ پہلا حضرت آدم ؑ جو اللہ تعالیٰ سے برائے راست خلق ہوئے اور دوسرے حضرت عیٰسی ؑ جو ایک کنواری سے پیدا ہوئے۔ ان کا کوئی انسانی باپ نہ تھا۔ یہ مشاہدہ اس طرح ٹھیک ثابت ہوتا ہے۔ کہ یہ نسل ”وہ شخص“ ہے۔ نہ وہ ایک ”عورت“ یا”زیادہ لوگ“اور نہ ہی”یہ“ہے۔ اس نقطہ نظر میں آپ اس پہیلی کو پڑھیں تو یہ سب جگہوں میں بات ثابت آ جاتی ہے۔ کہ حضرت عیسٰی ؑ ہی وہ نسل ہے جو عورت سے ہے۔ لیکن اُسکے دشمن اور شیطان کی نسل کون ہے؟

اگرچہ ہمارے پاس یہاں وقت نہیں کہ اس کے بارے میں تفصیل سے بات کریں ۔ لیکن کتابیں ایک (تباہی کے فرزند، یا شیطان کے فرزند) کی بات کرتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے القاب کہ وہ ایک ایسے آنے والے انسانی حکمران کا (مسیحا) یعنی مسیح کی مخالفت کرے گا۔

بعد میں کتابیں ایک مستقبیل میں ہونے والے تصادم کی بات کرتی ہیں ۔ جو مسیح (مسیحا) اور مخالفِ مسیح کے درمیان ہوگا۔ دنیا کی ابتدائی تاریخ میں پہلی بار اس بات کا ذکر کیا گیا ۔ لیکن یہاں پرمکمل بات نہیں ہے۔

تاریخ کے عروج میں شیطان اور خدا کے درمیان ایک مقابلے کا اختتام (پیشن گوئی)پہلے سے جس کا ذکر باغِ جنت میں ہوا اور جسکا ذکر قدیم ترین کتاب میں بھی ہے۔ انسانی تاریخ کے آغاز ہی میں خدا نے یکے بعد دیگرے اپنے پیغمبروں کے ذریعے آگاہ کروایا۔ تاکہ ہم بہتر طور پر آنے والے وقت کو سمجھ سکیں ۔ جب ہم حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے بارے میں اُن کے نشانوں پر غور کرتے ہیں تو ہم بہت کچھ سمجھ جاتے ہیں ۔ قرآن شریف اور تورات شریف میں ہمیں بہت سے سراغ ملتے ہیں ۔ تاہم کئی سوال ابھی بھی موجود ہیں اور کئی سوال ہونگے ۔لیکن اس کو ہم اب جاری رکھیں گے انبیاء اکرام کی تعلیمات میں کہ وہ ہمیں کیا سکھاتے ہیں ۔

قراآن شریف میں آدم کا نشان

تورات شریف میں آدم کا نشان

سورة الاعراف7 :19-26

اور (ہم نے )آدم ؑ ( سے کہا کہ ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چا ہو ) نوش جان کرو اس درخت کے پاس نہ جانا ۔ ورنہ گنہگار جاﺅ گے۔19

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ اُن کے ستر کی چیزیں جو اُن سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاﺅ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔ 20

اور اُن سے قسم کھاکر کہا کہ میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔ 21

غرض (مردُود نے ) دھوکا دے کر اُنکو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب اُنہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھالیا تو اُنکے ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے ) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے (اور ستر چھپانے ) لگے تب اُن کے پروردگا ر نے اُن کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور بتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ 22

دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردِگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کےا اور اگر تُو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔ 23

(خدانے ) فرمایا (تم سب بہشت سے )اُتر جاﺅ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانا (زندگی کا) سامان (کردیا گیا)ہے۔ 24

(یعنی ) فرمایا کہ اُسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کرکے) نکالے جاﺅ گے۔ 25

اے بنی آدم ؑ ہم نے تم پر پوشاک اُتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت دے اور (جو) پرہیزگار ی کا لباس (ہے) وہ سب اچھاہے یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔ 26

سورة طٰہٰ 20 :121-123

تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو اُن پر اُن کی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں اور وہ اپنے (بدنوں ) پر بہشت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردِگا ر کے حکم کے خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بے راہ ہوگئے۔ 121

پھر اُن کے پروردِگار نے ان کو نوازا تو ا تو اُن پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی۔ 122

فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اُترجاﺅ ۔ تم میں بعض بعض کے دشمن (ہونگے) پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ تکلیف میں پڑے گا۔ 123

پیدائش 2 :15-17

اور خداوند خدا نے آدم کو لیکر باغ عدن میں رکھا کہ اُسکی باغبانی اور نگہبانی کرے۔15

اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے ۔16

لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جِس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔ 17

پیدائش3 :1-23

اور سانپ کُل دشتی جانورں سے جِنکو خُداوند نے بنایا تھا چالاک تھا اور اُس نے عَورت سے کہا کیا واقعی خُدا نے کہا ہے کہ باغ کے کِسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟ ۔1

عَورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں ۔2

پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُسکے پھل کی بابت خُدا نے کہا ہے کہ تم نہ تو اُسے کھانا اور نہ چھونا ورنہ مر جاوگے ۔3

تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ مروگے ۔ 4

بلکہ خُدا جانتا ہے کہ جس دن تم اُسے کھاو گے تمہاری آنکھیں کُھل جائینگی اور تم خُدا کی مانِند نیک و بد کے ناننے والے بن جاوگے ۔ 5

عورت نے جو دِیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لیے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُسکے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اُس نے کھاےا ۔6

تب دونوں کی آنکھیں کُھل گئیں اور اُنکو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں اور اُنہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لُنگیاں بنائےں۔7

اور اُنہوں نے خداوند کی آواز جو ٹھنڈ ے وقت میں باغ میں پھرتا تھا سُنی اور آدم اور اُس کی بیوی نے آپ کو خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درخت میں چھپایا۔ 8

تب خداوند خدا نے آدم کو پُکارا اور اُس سے کہاں کہ تُو کہاں ہے؟ ۔ 9

اُس نے کہاں میں نے باغ میں تیری آواز سُنی اور میں ڈرا کیونکہ میں ننگا تھا اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا۔ 10

اُس نے کہا تجھے کس نے بتایا کہ تو ننگا ہے؟ کیا تو نے اُس درخت کا پھل کھایا جِسکی بابت میں نے تجھکو حکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا؟۔ 11

آدم نے کہا کہ جس عورت کو تُو نے میرے ساتھ کیا ہے اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل دیا اور مےں نے کھاےا۔ 12

تب خداوند خدا نے اُس عورت سے کہا کہ تُو نے یہ کیا کِیا؟ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھکو بہکایا تو میں نے کھایا۔ 13

اور خداوند خدا نے سانپ سے کہا اِسلئے کہ تُو نے یہ کیا تُو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعُون ٹھہرا ۔ تُو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور اپنی عمر بھر خاک چاٹےگا۔14

اور میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کُچلےگا اور تُو اُسکی ایڑی پر کاٹےگا۔ 15

پھر اُس نے عورت سے کہا کہ میں تیرے دردِ حمل کو بہت بڑھاونگا ۔ تُو درد کے ساتھ بچے جنیگی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کریگا۔ 16

اور آدم سے اُس نے کہا چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اُس درخت کو پھل کھایا جِسکی بابت میں نے تجھے حُکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا اِسلئے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی ۔ مشقت کے ساتھ تُو اپنی عُمر بھر اُسکی پیداوار کھائےگا۔17

اور وہ تیرے لئے کانٹے اور اُونٹکٹارے اُگائے گی اور تُو کھیت کی سبزی کھائےگا۔18

تُو اپنے منُہ کو پسینے کی روٹی کھائے گا جب تک کہ زمین میں تُو پھر لَوٹ نہ جائے اسلئے کہ تُو خاک ہے اور خاک میں پھر لَوٹ جائےگا۔19

اور آدم نے اپنی بیوی کا نام حوا رکھا اِسلئے کہ وہ سب زندوں کی ماں ہے۔ 20

اور خداوند خدا نے آدم اور اُسکی بیوی کے واسطے چمڑے کے کُرتے بنا کر اُنکو پہنائے۔21

اور خداوند خدا نے کہا دیکھو اِنسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہوگیا ۔ اب کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کُچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے۔ 22

اِسلئے خداوند خدا نے اُسکو باغ عدن سے باہر کردیا تاکہ وہ اُس زمین کی جس میں سے وہ لیا گیا تھا کھیتی کرے۔23

چنانچہ اُس نے آدم کو نکال دیا اور باغ عدن کے مشرق کی طرف کروبیوں کو اور چوگرد گھومنے والی شعلہ زن تلوار کو رکھا کہ وہ زندگی کے درخت کی راہ کی حفاظت کریں۔ 24

 

2 thoughts on “حضرت آدم ؑ کا نشان”

  1. Bhai ye baibal hai aur aap to jante hain ki baibal me kafi rado kadal hua hai isliye jis baat ka quraan ne koi ishara nahi kiya ki aisa hi hua tha use q karna quraan ne to ibleesh ki traf ishara kiya hai aap mujhe reply dekar apni ray jarur de sukriy

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *