حضرت عیسیٰ المسیح کی تمثلوں کے زریعے تعلیم

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے لاثانی اختیار کے ساتھ تعلیم دی۔ اُنہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں کے زریعے تعلیم دی جوزندگی کے سچے اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ہم نے دیکھا کہ کیسے اُنہوں نے ایک عظیم ضیافت کی تمثیل سےاللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ اور کیسے اُنہوں نے معافی کے تعلیم دیتے ہوئے ایک ظالم نوکر کی تمثیل سے سیکھایا۔ ان کہانیوں کو تمثیل کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح انبیاء اکرام کے درمیان لاثانی نبی ہیں اور اُنہوں نے سیکھاتے ہوئے بہت زیادہ تمثیل کا استعمال کیا۔ اور کس قدر وہ اہم تھیں۔ آپ کے حواریوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ کیوںکہ لوگوں کو تمثیلوں میں لوگوں کو سیکھاتے ہیں۔ انجیل شریف میں سوال کا جواب اس طرح لکھا ہوا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے لاثانی اختیار کے ساتھ تعلیم دی۔ اُنہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں کے زریعے تعلیم دی جوزندگی کے سچے اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ہم نے دیکھا کہ کیسے اُنہوں نے ایک عظیم ضیافت کی تمثیل سےاللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ اور کیسے اُنہوں نے معافی کے تعلیم دیتے ہوئے ایک ظالم نوکر کی تمثیل سے سیکھایا۔ ان کہانیوں کو تمثیل کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح انبیاء اکرام کے درمیان لاثانی نبی ہیں اور اُنہوں نے سیکھاتے ہوئے بہت زیادہ تمثیل کا استعمال کیا۔ اور کس قدر وہ اہم تھیں۔ آپ کے حواریوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ کیوںکہ لوگوں کو تمثیلوں میں لوگوں کو سیکھاتے ہیں۔ انجیل شریف میں سوال کا جواب اس طرح لکھا ہوا ہے۔

یسوع نے تمثیلوں کا استعمال کیوں کیا ؟

10 تب شاگرد یسوع کے پا س آکر پوچھنے لگے“آپ تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو کیوں تعلیم دیتے ہیں؟”۔
11 یسوع نے کہا، “خدا کی بادشاہت کی پو شیدہ سچا ئی کو سمجھنے کی صرف تم میں صلا حیت ہے۔ اور ان پوشیدہ سچا ئی کو دیگر لوگ سمجھ نہیں پاتے 12 جس کو تھوڑا علم و حکمت دی گئی ہے وہ مزید علم حا صل کر کے علم و حکمت وا لا بنے گا۔ لیکن جو علم وحکمت سے عا ری ہو گا۔ وہ اپنے پاس کا معمو لی نام علم بھی کھو دے گا۔ 13 اسی لئے میں ان تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو تعلیم دیتا ہوں۔ ان لوگوں کا حا ل یہ ہے کہ یہ دیکھ کر بھی نہیں دیکھنے کے برا بر اور سن کر بھی نہ سننے کے برا بر ہیں۔ متّی 13:10-13

آپ کے آخری الفاظ حضرت یسعیاہ نبی ؑ کے تھے۔ جو 700 ق م میں اپنی قوم پر نازل ہوئے۔ حضرت یسعیاہ نبی ؑ دل کی سختی کے خلاف خبردار کیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں کئی بار ہم کسی چیز کو ٹھیک طور پر نہیں جان پاتے اور کیونکہ ہم نے اُس کی وضاحت یا پھر وہ بہت ہی زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں ایک واضح وضاحت پیچیدگی کو ختم کردیتی ہے۔ لیکن اس علاہ کئی بار ہم بات کو نہیں سمجھ پاتے۔ کیونکہ ہم دلی گہرائیوں سے اُس بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم چاہیے اس بات کا اقرار نہ کریں۔ لہذا ہم سوالات پوچھتے جاتے ہیں۔ شاید دماغی فہم کی کمی ہمارے شاید ہمارے اندر دماغی فہم کی کمی ہے۔ لیکن اگر الجھن ہمارے دلوں میں ہے اور ہمارے دماغ میں نہیں تو کوئی بھی وضاحت کافی نہیں ہوگی۔ یہاں پر مسئلہ یہ ہے۔ کہ یم سمجھنے کے لیے راضی نہیں نہ کہ ہم ذہینی طور پر سمجھ نہیں سکتے۔
جب بھی حضرت عیسیٰ المسیح تمثیلوں کے زریعے سکھاتے تو اس بات کا اثر بھیڑ پر بڑے ڈرامائی انداز میں ہوا۔ جو لوگ آسانی سے کہانی کو سمجھ نہ پاتے۔ وہ اس کے بارے متجسس ہوجاتے اور اس کو سمجھنے کے لیے دوسروں سے کہتے۔ جبکہ وہ لوگ جو کہانی کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ وہ اس کو ناپسندیدہ اور نظرانداز کرتے۔ وہ اس کے بارے میں مزید سوچنا پسند بھی نہ کرتے۔ تمثیلوں کا استعمال ماہر استاد کرتے۔ تاکہ وہ لوگوں کا جدا کرسکیں۔ جیسے کسان گندم کو بھوسے سے لگ کرتا ہے۔ جو لوگ کہانی کو سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ الجھن کا شکار ہوگے۔ کیونکہ اُنہوں نے اپنی دلی مرضی سے سچائی کو قبول کرنا نہ چاہا۔ اگرچہ وہ دیکھتے تو تھے لیکن وہ اس بات کی گہرائی کو سمجھتے نہیں تھے۔

بیج بونے والا اور چار مختلف اقسام کی زمین

جب حضرت عیسیٰ کے حواریوں نےکہانیوں کے انداز میں تعلیم دینے کے بارے میں سوال کیا۔ تو وہ آپ اُس وقت اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں ایک گروہ کو کہانیوں کے زریعے سیکھا رہے تھے۔ یہاں پر پہلی کہانی ہے۔

تب یسوع نے تمثیلوں کے ذریعہ کئی چیزیں انہیں سکھا ئیں۔ اور یسوع انکو یہ تمثیل دینے لگے کہایک کسان بیج بونے کے لئے گیا۔ “جب وہ تخم ریزی کررہا تھا تو چند بیج راستے کے کنارے پر گرے۔ اور پرندے آکر ان تمام بیجوں کو چگ گئے۔ چند بیج پتھریلی زمین میں گر گئے۔ اس زمین میں زیا دہ مٹی نہ ہو نے کے وجہ سے بیج بہت جلد اگ آئے۔ لیکن جب سورج ابھرا، اس نے پودوں کو جھلسا دیا۔ تو وہ اُگے ہوئے پو دے سوکھ گئے۔ اس لئے ان کی جڑیں گہرا ئی تک نہ جا سکیں۔ دیگر چند بیج خا ر دار جھا ڑیوں میں گر گئے۔اور وہ خا ر دار جھا ڑیوں نے ان کو دبا کر ان اچھے بیجوں کی فصل کو آگے بڑ ھنے سے روک دیا۔ دوسرے چند بیج اچھی زر خیز زمین میں گر گئے۔ اور وہ نشو نما پا کر ثمر آور ہوئے بعض پودے صد فیصد بیج دیئے ،اور بعض پودے ساٹھ فیصد سے زیادہ اور بعض نے تیس فیصد سے زائد بیج دئیے۔ میری باتوں پر کان دھر نے والے لوگوں نے ہی غور سے سنا۔”  متّی 13:3-9

تو اس تمثیل کا کیا مطلب تھا؟ ہمیں اندازہ نہیں لگانا چاہئے، وہاں پر ایسے لوگ تھے جو دلی طور پر اس کہانی کو سمجھنا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے اس کے بارے میں پوچھا اور یہاں آپ نے بیان کردیا تھا۔

18 “ایسی صورت میں کسان کے متعلق کہی گئی تمثیل کے معنی سنو۔

19 سڑک کے کنارے میں گر نے والے بیج سے مرا د کیا ہے ؟راستے کے کنارے گرے بیج اس آدمی کی مانند ہیں جو آسمانی بادشاہت کے متعلق تعلیمات کو سن رہا ہے لیکن سمجھ نہیں رہا ہے۔ اسکو نہ سمجھنے والا انسان ہی راستے کے کنارے گرے ہو ئے بیج کی طرح ہے۔ برا شخص آکر اس آدمی کے دل میں بوئے گئے بیجوں کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔

20 اور پتھریلی زمین میں گرے ہو ئے بیج سے مراد کیا ہے ؟ وہ بیج اس شخص کی مانند ہے جو بخوشی تعلیمات کو سنتا ہے اور ان تعلیمات کو بخوشی فوراً قبول کر لیتا ہے۔ 21 لیکن وہ آدمی جو کلام کو اپنی زندگی میں مستحکم نہیں بنا تا اور وہ اس کلام پر ایک مختصر وقت کے لئے عمل کرتا ہے۔ اور اس کلام کو قبول کر نے کی وجہ سے خود پر کو ئی تکلیف یا مصیبت آتی ہے تو وہ اسکو جلد ہی چھوڑ دیتا ہے۔

22 “خار دار جھا ڑیوں کے بیچ میں گر نے والے بیج سے کیا مراد ہے تعلیم کو سننے کے بعد زندگی کے تفکّرات میں اور دولت کی محبت میں تعلیم کو اپنے میں پر وان نہ چڑھا نے والا ہی خار دار زمین میں بیج کے گرنے کی طرح ہے۔یہی وجہ ہے کہ تعلیم اس آدمی کی زندگی میں کچھ پھل نہ دیگی۔

23 اور کہا کہ اچھی زمین میں گرنے والے بیج سے کیا مراد ہے ؟تعلیم کو سن کر اور اسکو سمجھ کر جاننے والا شخص ہی اچھی زمین پر گرے ہو ئے بیج کی طرح ہو گا۔ وہ آدمی پر وان چڑھکر بعض اوقات سو فیصد اور بعض اوقات ساٹھ فیصد اور بعض اوقات تیس فیصد پھل دیگا۔”

 متّی 13:18-23

ہم دیکھ سکتے ہیں یہاں پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں چار مختلف جوابات ہیں۔ پہلے وہ ہیں جن کو کلام اللہ کی ‘سمجھ ‘ نہیں آئی اور ابلیس آیا اور اُن کے دلوں میں سے پیغام کو چرا کر لے گیا۔ باقی رہ گے تین۔ اںہوں نے کلام اللہ کو بڑی خوشی سے قبول کرلیا۔ لیکن اس پیغام کو ہمارے دلوں میں پروان چڑھنے میں مشکل پیش آئی۔ یہ صرف ہمارے ذہنوں میں تسلیم کرنے کی ہی بات نہیں تھی۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں تھا کہ ہم جیسا چاہیں ویسے رہیں۔ تاہم ان تین میں سے دو نے ابتدا میں قبول تو کرلیا تھا لیکن اس پیغام کو اپنے دلوں میں پروان چڑھنے نہ دیا۔ صرف ان میں سے چوتھا دل ہی ایسا تھا۔ جس نے اس پیغام پر پوری توجہ سے سُن اور اُس پر ایمان لایا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لیے تیار بھی ہوگیا جیسے اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی۔

اس کہانی کے میں ایک نقطہ جس کے بارے میں ہم سوال کرنا چاہتے ہیں؟ ‘اس کہانی میں چار اشخاص میں سے میں کون ہوں؟’ صرف وہی اچھی فصل ثابت ہوئے جنہوں نے اُس پیغام کو سمجھا۔ ایک فہم اور تفہیم کے لیے ضروری یہ ہے کہ ہم حضرت آدمؑ سے شروع کرکے انبیاءاکرام تک اللہ تعالیٰ کے منصوبہ کو تورات اور زبور شریف میں سے جانیں۔ حضر ت آدمؑ کے نشان کے بعد اہم نشانات تورات شریف میں حضرت ابراہیم ؑ سے وعدے اور قربانی میں سے آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کے دس احکامات، اور حضرت ہارونؑ۔ زبور شریف میں "مسیح” کی ابتداء کی سمجھنے کے بعد، حضرت یسعیاہ ؑ، زکریاہؑ، دانیال، اور ملاکی ؑ کی کتابوں میں سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے پیغام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس تمثیل کی وضاحت کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح گھاس کی مثال کے زریعے سیکھاتے ہیں۔

گیہوں اور گھاس پھوس کی تمثی

24 تب یسوع انکو ایک اور تمثیل کے ذریعہ تعلیم دینے لگے۔ وہ یہ کہ“ آسمان کی بادشاہت سے مراد ایک اچھے بیج کو اپنے کھیت میں بونے والے ایک کسان کی طرح ہے۔ 25 اس رات جب کہ سب لوگ سو رہے تھے تو اسکا ایک دشمن آیا اور گیہوں میں گھاس پھوس کو بودیا۔ 26 جب گیہوں کا پو دا نشو نما پا کر دانہ دار بن گیا تو اسکے ساتھ گھا س پھوس کے پو دے بھی بڑھنے لگے۔ 27 تب اس کسان کے خادم نے اسکے پاس آکر دریافت کیا کہ تو اپنے کھیت میں اچھے دانوں کو بویا۔ مگر وہ گھاس پھوس کا پو دا کہاں سے آ گیا ؟

28 اس نے جواب دیا، “یہ دشمن کا کام ہے تب ان خادموں نے پو چھا کہ کیا ہم جاکر اس گھاس پھوس کے پو دے کو اکھاڑ پھینکیں۔

29 “اس آدمی نے کہا کہ ایسا مت کرو کیوں کہ تم گھاس پھوس کو نکالتے وقت گیہوں کو بھی نکال پھینکو گے۔  متّی 13:24-29

یہاں پر اُنہوں نے وضاحت بیان کی ہے۔

36 تب یسوع لوگوں کو چھوڑ کر گھرچلے گئے۔ انکے شاگرد انکے قریب گئے اور ا ن سے کہا،” گو کھر و بیجوں سے متعلق تمثیل ہم کو سمجھا ؤ۔”

37 یسوع نے جواب دیا ، اس طرح کھیت میں اچھے قسم کے بیجوں کی تخم ریزی کر نے وا لا ہی ابن آدم ہے۔ 38 کھیت یہ دنیا ہے۔ اچھے بیج ہی آسما نی بادشاہت میں شا مل ہو نے وا لے خدا کے بچے ہیں اور بر ے وبد کا روں سے رشتے رکھنے وا لے ہی وہ گو کھر وکے بیج ہیں۔ 39 کڑ وے بیج کو بو نے وا لا دشمن ہی وہ شیطا ن ہے۔ فصل کی کٹا ئی کا مو سم ہی دنیا کا اختتام ہے اور اس کو جمع کر نے وا لے مز دور ہی خدا کے فرشتے ہیں۔

40 “کڑ وے دانوں کے پودوں کو اکھا ڑ کر اس کو آ گ میں جلا دیتے ہیں اور دنیا کے اختتا م پر ہو نے وا لا یہی کام ہے۔ 41 ابن آدم اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔اور اس کے فرشتے گنا ہوں میں ملوث برے اور شر پسند لو گوں کو جمع کریں گے۔ اور وہ انکو اس کی بادشاہت سے باہر نکال دیں گے۔ 42 فرشتے ان لوگوں کو آ گ میں پھینک دیں گے۔اور وہاں وہ تکلیف سے رو تے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے رہیں گے۔ 43 تب اچھے لوگ سورج کی مانند چمکیں گے۔ وہ اپنے باپ کی بادشا ہی میں ہو ں گے۔ میری باتوں پر توجہ دینے والے لوگو غور سے سنو ۔   متّی3:36-43

بیج اور خمیر کی مثال

حضرت عیسیٰ المسیح نے کچھ مختصر تمثیلوں کے ساتھ سیکھایا تھا۔

31 تب یسوع نے ایک اور تمثیل لوگوں سے کہی “آسما نی باد شاہت را ئی کے دا نے کے مشا بہ ہے۔ کسی نے اپنے کھیت میں اس کی تخم ریزی کی۔ 32 وہ ہر قسم کے دانوں میں بہت چھو ٹا دانہ ہے۔ اور جب وہ نشو نما پا کر بڑھتا ہے تو کھیت کے دوسرے درختوں سے لمبا ہو تا ہے۔ جب وہ درخت ہو تا ہے تو پرندے آکر اس کی شاخوں میں گھونسلے بناتے ہیں۔”

33 پھر یسوع نے لوگوں سے ایک اور تمثیل کہی “آسما نی بادشاہت خمیر کی مانند ہے جسے ایک عورت نے روٹی پکا نے کے لئے ایک بڑے برتن جسمیں آٹا ہے اور اس میں خمیر ملا دی ہے۔ گو یا وہ پورا آٹا خمیر کی طرح ہو گیا ہے۔”  متّی 13:31-33

دوسرے الفاظ میں، اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اس دنیا میں بہت ہی چھوٹی اور غیرمعمولی انداز سے شروع ہوگی۔ لیکن بعد میں وہ خمیر کی طرح پھیل گئی۔ جیسے ایک چھوٹا سا بیج بڑھ کر ایک بڑا درخت بن جاتا ہے۔ یہ کسی قوت کے ساتھ نہیں ہوا یا ایک دم سے نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی پوشیدگی میں ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن یہ ہر جگہ پر اور بن روکے ہورہی ہے۔

پوشیدہ خزانے اور قیمتی موتی کی مثال

44 “آسما نی بادشاہت کھیت میں گڑے ہو ئے خزا نے کی مانند ہے۔ایک دن کسی نے اس خزا نے کو پا لیا۔ او ربے انتہا مسر ّت وخوشی سے اس کو کھیت ہی میں چھپا کر رکھ دیا۔ تب پھر اس آدمی نے اپنی سا ری جا ئیداد کو بیچ کر اس کھیت کو خرید لیا۔

45 “آسما نی بادشاہت عمدہ اور اصلی موتیوں کو ڈھونڈ نے وا لے ا یک سوداگر کی طرح ہے جو قیمتی موتیوں کی تلا ش کر تا ہے۔ 46 ایک دن اس تا جر کو بہت ہی قیمتی ایک مو تی ملا۔تب وہ گیا اور اپنی تمام جائیداد کو فروخت کر کے اس موتی کو خرید لیا۔    متّی 13:44-46

ان تمثیلوں کی بنیادی توجہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی قدر کو بیان کرتیں ہیں۔ ایک ایسے خزانے کی سوچ جو ایک کیھت میں پوشیدہ ہے۔ چونکہ یہ خزانہ اُس کیھت میں پوشیدہ ہے اور ہر کوئی اس کیھت کے پاس سے گزر جاتا ہے اور اُن میں سے کسی کے دل میں اس کیھت کے بارے میں کوئی بھی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ کیونکہ وہ خزانہ پوشیدہ ہے۔ لیکن پھر کسی کو اس کیھت کے بارے میں یہ خیال آتا ہے۔ کہ اس کیھت میں کوئی خزانہ ہے۔ جس کی وجہ سے اُس کیھت کی قدر بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ وہ اس کیھت میں پوشیدہ خزانے کو حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ بیچ دیتا ہے۔ لہذا یہ اللہ تعالیٰ لی بادشاہی کا حال ہے۔ جو لوگ توجہ نہیں دیتے اُن کے لیے کوئی چیز قدر نہیں رکھتی۔ لیکن لیکن وہ جو توجہ دیتے اور اُس چیز کی قدر کو جانتے ہیں۔ وہ اُس کو حاصل کرنے لیے سب کچھ دیتے ہیں۔

جھال کی مثال

47 “آسما نی بادشاہت سمندر میں ڈالے گئے اس مچھلی کے جال کی طرح ہےجس میں مختلف قسم کی مچھلیاں پھنس گئیں۔ 48 تب وہ جال مچھلیوں سے بھر گیا۔ مچھیرے اس جال کو جھیل کے کنا رے لائے اور اس سے اچھی مچھلیاں ٹوکریوں میں ڈال لیں اور خراب مچھلیوں کو پھینک دئیے۔ 49 اس دنیا کے اختتا م پر بھی ویسا ہی ہوگا۔فرشتے آئیں گے اور نیک کا روں کو بد کاروں سے الگ کریں گے۔ 50 فرشتے برے لوگوں کو آ گ کی بھٹی میں پھنک دیں گے۔ اس جگہ لوگ روئیں گے۔درد وتکلیف میں اپنے دانتوں کو پیسیں گے۔”   متّی 13:47-50

اللہ تعالیٰ کی بادشاہی انسانوں کو جدا کرے گی۔ یہ جدائی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کرے گا۔ جب سب دلوں کو ظاہر کردیا جائے گا۔

ہم دیکھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی پراسرار طریقے سے پروان چڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جس طرح آٹا میں خمیر ، اس کی پوشیدہ حزانہ جس کی بڑھی قدروقیمت ہے۔ جو سب سے چھُپی ہوئی ہے۔ اور اس سے لوگوں کے درمیان مختلف ردعمل ںظر آتا ہے۔ اس سے لوگوں کے درمیان یہ تمیز کی جاسکتی ہے۔ جواس کو سمجھ سکے اور جو اس کو نہ سمجھ سکے۔ ان مثالوں کے زریعے تعلیم دینے کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح لوگوں سے ایک سوال پوچھتے ہیں۔

51 یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا، “کیا تم ان تمام باتوں کو سمجھ گئے ہو؟” شاگردوں نے جواب دیا “ہم سمجھ گئے ہیں”   متّی 13:51

آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

حضرت عیسیٰ المیسح کی معافی کے بارے میں تعلیم

جیسا میں انٹرنیشنل خبریں دیکھتا اور پڑھتا ہوں۔ تو اس سب کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے۔ کہ ہماری دنیا خون اور تشدد اور خوف میں ڈوبی ہوئی ہے۔ افغانستان میں بمباری، لبنان، شام، اور عراق میں جنگ وجدل ، پاکستان میں قتلِ عام ، ترکی میں فسادات، نئجیریا میں سکول کے بچے اغوا، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگی صورتِ حال، کنیا میں قتل عام، یہ سب خبریں میں نے بغیر کسی تلاش کے سُنی۔ دوسرے الفاظ میں یہ ساری خبریں عام ہیں اور ہر کوئی ان خبروں کو آسانی سے پڑھ اور سُن سکتا ہے۔اس کے ساتھ کئی ایسی خبریں ہیں۔ مثال کے طور پر گناہوں کی کثرت، دکھ، اور غم جیسی باتوں کو ہیڈلائن نہیں بنایا جاتا۔ ہیڈلائن نہ بننے کے باوجود یہ ہمیں نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس دور میں جہاں درد، جنگوں جدل اور لڑائی جھگڑا عام ہے وہاں حضرت عیسیٰ المسیح کی معاف کرنے کی تعلیم بہت ہی اہمیت کی رکھتی ہے۔ ایک دن آپ کے حواری نے سوال کیا۔ کہ مجھے کتنی بار معاف کرنا ہے۔ یہاں پر انجیل شریف میں اس سوال کا جواب یوں لکھا ہے۔

غیر متفق خدمتگار کی کہانی – میتھیو 18: 21-35

معافی سے متعلق کہانی
21 پطرس یسوع کے پاس آیا اور “پوچھا اے خدا وند میرا بھا ئی میرے ساتھ کسی نہ کسی قسم کی برائی
کرتا ہی رہا تو میں اسے کتنی مرتبہ معاف کروں ؟ کیا میں اسے سات مرتبہ معاف کروں ؟”
22 یسوع نے اس سے کہا، “تمہیں اس کو سات مرتبہ سے زیادہ معاف کرنا چاہئے۔ اگر چہ کہ وہ تجھ سے ستر مرتبہ برائی نہ کرے اسکو معاف کرتا ہی رہ۔”
23 “آسمانی بادشاہت کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک بادشاہ نے اپنے خادموں کو دیئے گئے قرض کی رقم وصول کر نے کا فیصلہ کیا۔ 24 بادشاہ نے اپنی رقم کی وصولی کا سلسلہ شروع کیا۔ جبکہ ایک خادم کو دس ہزار چاندی کے سکّے بادشاہ کو بطور قرض دینا تھا۔ 25 وہ خا دم بادشاہ کو قرض کی رقم دینے کے قابل نہ تھا۔ جس کی وجہ سے باد شا ہ نے حکم دیا کہ خا دم اور اس کے پاس کی ہر چیز کو اور اس کی بیوی کو ان کے بچوں سمیت فروخت کیا جا ئے اور اس سے حا صل ہو نے والی رقم کو قرض میں ادا کیا جا ئے۔
26 “تب خادم باد شاہ کے قد موں پر گرا اور اس سے عاجزی کر نے لگا۔ ذرا صبر و برداشت سے کام لے میں اپنی طرف سے سا را قرض ادا کروں گا۔ 27 باد شا ہ نے اپنے خادم کے بارے میں افسوس کیا اور کہا، “تمہیں قرض ادا کر نے کی ضرورت نہیں باد شاہ نے خادم کو آزادا نہ جانے دیا۔
28 “پھر اس کے بعد وہی خادم دوسرے ایک اور خادم کو جو اس سے چاندی کے سو سکے لئے تھے اس کو دیکھا اور اس کی گردن پکڑ لی اور اس سے کہا کہ تو نے مجھ سے جو لیا تھا وہ دیدے۔
29 وہ خا دم اس کے پیروں پر گر پڑا اور منت و سما جت کر تے ہوئے کہنے لگا کہ ذرا صبر سے کام لے۔ تجھے جو قرض دینا ہے وہ میں پورا ادا کروں گا۔
30 “لیکن پہلے خادم نے انکار کیا۔ اور اس خادم کے با رے میں جو اس کو قرض دینا ہے عدا لت میں لے گیا اور اس کی شکا یت کی اور اس کو قید میں ڈلوا دیا اور اس خادم کو قرض کی ادائیگی تک جیل میں رہنا پڑا۔ 31 اس واقعہ کو دیکھنے وا لے دوسرے خادموں نے بہت افسوس کر تے ہو ئے پیش آئے ہوئے حادثہ اپنے ما لک کو سنائے۔
32 “تب مالک نے اس کو اندر بلا یا اور کہا، “تم برے خادم نے مجھ سے بہت زیادہ رقم لی تھی لیکن تم نے مجھ سے قرض کی معا فی کے لئے منت وسماجت کی۔” جس کی وجہ سے میں نے تیرا پورا قرض معا ف کر دیا۔ 33 اور کہا کہ ایسی صورت میں جس طرح میں نے تیرے ساتھ رحم و کرم کا سلوک کیا اسی طرح دوسرے نو کر سے تجھے بھی چاہئے تھا کہ ہمدر دی کا بر تاؤ کرے۔ 34 ما لک نہایت غضبناک ہوا۔اور اس نے سزا کے لئے خادم کو قید میں ڈال دیا۔ اور اس وقت تک خادم کو قید خا نہ میں رہنا پڑا جب تک کہ وہ پورا قرض نہ ادا کر دیا۔
35 “آسما نوں میں رہنے وا لا میرا با پ تمہا رے ساتھ جس طرح سلوک کرتا ہے۔ اسی طرح اس بادشا ہ نے کیا ہے۔تم کو بھی چا ہئے کہ اپنے بھا ئیوں اور اپنی بہنوں سے حقیقت میں در گذر سے کام لو۔ ورنہ میرا باپ جو آسمانوں میں ہے تم کو کبھی بھی معاف نہ کریگا۔”

اس حوالے میں کہانی کا نقطہ یہ ہے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ (بادشاہ) کی رحمت کو قبول کرلیں تو وہ ہم کو معاف فرما دیتا ہے۔ یہاں دس ہزار سونے کے تھیلے اُس بادشاہ کے ایک نوکر کو دیئے گے تھے۔ اور بادشاہ اُن تھیلوں کو اپنے نوکر سے طلب کرتا ہے۔ اُس کا نوکر کچھ وقت مانگتا ہے۔ تاکہ وہ اُن تھیلوں کو بادشاہ کو واپس کرسکے۔ لیکن یہ اتنی زیادہ رقم تھی کہ نوکر بادشاہ کو کبھی بھی واپس نہیں کرسکتا تھا۔ لہذا بادشاہ نے اُس کو سارا قرض معاف کردیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کرتا ہے۔ اگر ہم اُس کی رحمت کو قبول کرلیں۔

لیکن جس کو معاف کردیا گیا تھا۔ اُس نے ایک اور نوکر کو پکڑا جس سے اُس کے ایک سو چاندی کے سکے آتے تھے۔ اُس نے اُس سے اپنے سکوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا اور اُس نوکر نے دوسرے نوکر کو وقت بھی نہ دیا۔ جب ہم ایک دوسرے کا گناہ کرتے ہیں۔ تو اس سے ہم ایک دوسرے کو غمگین کرتے اور نقصان پہنچاتے ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے اس بات کا موازنہ کیا ہے۔ کہ ہمارے گناہ کسطرح اللہ تعالیٰ کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ یہ اس طرح ہے کہ ایک سو چاندے کے سکوں کا مقابلہ دس ہزار سونے کے تھیلوں سے کیا جائے۔
تاہم بادشاہ نے اپنے نوکر کے اس رویہ کو دوسرے نوکر کے ساتھ دیکھ کر اُس ناشکر نوکر کو جیل میں ڈال دیا۔ اور کہا تم اُس وقت تک یہاں سے نکل نہیں سکتے جب تک تم میری پائی پائی ادا نہیں کردیتے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی اس تعلیم کے مطابق اگر ہم اُن تمام گناہوں کو جن کو لوگوں نے ہمارے خلاف کیا معاف نہ کریں گے تو یہ رویہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کے خلاف ہے جو وہ ہم سے کرتا ہے۔ اس رویے سے جہنم ہمارا مقدر بن جائے گی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا سنگین ہوسکتا ہے۔
ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ ہمیں معافی کی اس روح کو برقرار رکھنا ہے۔ جب کبھی کوئی ہم کو تکلیف دیتا ہے۔ تو اُس شخص کے بارے میں عذاب اور غصہ ہعروج پر ہوتا ہے۔ تو پھر ہم معافی کی اس روح کو کس طرح برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیےمیں انجیل شریف میں سے مزید جاننے کی ضرورت ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح باطن کی پاکیزگی کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المیسح کے الفاظ میں کیسا اختیار تھا کہ بیمار شفا پاتے اور فطرت اُن کا کہا مانتی۔ اُنہوں نے اپنے الفاظ سے برائے راست ہمارے دلوں کی حالت کو بھی بے نقاب کردیا۔ ہمیں اس بات پر مجبور کردیا کہ ہم اپنے باطن اور ظاہری حالت کی جانچ پڑتال کرسکیں۔ ہم سب اپنی ظاہر پاکیزگی کو تو جانتے ہیں۔ اس لیے ہم نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرتے ہیں اور اس لیے ہم حلال کھانا کھاتے ہیں۔ حضرت محمدؐ نے حدیث مبارک میں یوں ارشاد فرمایا ہے۔

صفائی نصف ایمان ہے . . . حدیث مسلم کتاب 002، باب 1، حدیث 0432

حضرت عیسیٰ المیسح چاہتے ہیں۔ ہم دوسرے نصف حصے کے بارے میں سوچیں۔ جو ہمارا باطن کا حصہ ہے۔ یہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم انسان دوسرے انسانوں کی ظاہری پاکیزگی اور ناپاکی کو دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہم سے مختلف ہے۔ اللہ باطن کو دیکھتا ہے۔ جب یہوداہ کے بادشاہوں میں سے ایک جو مذہبی طور پر راستباز نظر آتا تھا لیکن اُس کے باطن میں جو دل تھا وہ پاک نہیں تھا۔ تو اُس وقت ایک نبی اُس بادشاہ کے پاس یہ پیغام لیکر آیا۔

 خدا وند کی آنکھیں ساری زمین پر چاروں طرف ان لوگوں کو ڈھونڈتی رہتی ہیں جو انکا فرمانبردار ہے ، تا کہ وہ ان لوگوں کے ذریعہ اپنی قوت دکھا سکے۔ آسا ! تم نے بیوقوفی کی اس لئے اب سے آئندہ تم جنگیں لڑ تے رہو گے۔”             دوم تواریخ  16:9

جس طرح یہ پیغام بتایا گیا تھا۔ کہ باطنی پاکیزگی سے مراد ‘دل’  ہے۔ جس سے آپ سوچتے ہیں، محسوس کرتے ہیں، فیصلہ کرتے فرمانبرداری کرتے یا نافرمانی، اور اسی سے آپ اپنی زبان کو کنڑول کرتے ہیں۔ زبور شریف میں انبیاءاکرام نے بتایا تھا کہ یہ ہمارے دل کی پیاس تھی۔ جس سے گناہ پیدا ہوا۔ ہمارے دلوں (باطن) کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے ظاہری زندگی کے تنازعہ ہمارے باطن کے بارے میں تعلیم دی ہے۔ حضرت عیسیٰ المیسح کی تعلیم یہاں پر درج ہے۔

باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کی بھی صافی

(مندرجہ ذیل الفاظ میں ‘فریسیوں’ کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ یہودیوں کے مذہبی استاد تھے۔ جس طرح آج امام/ مولوی ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اللہ تعالیٰ کو اپنی آمدن کا "دسواں حصہ” دینے کی تعلیم دی۔ یہ دراصل یہودیوں کو فرضی زکوۃ ادا کرنی ہوتی تھی)۔

37 جب یسوع نے اپنی تقریر کو ختم کی تو ایک فریسی نے یسوع کو اپنے گھر پر کھا نا کھا نے کیلئے بلایا اسلئے یسوع اس کے گھر جا کر کھا نا کھا نے بیٹھ گئے۔ 38 اس نے یسوع کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ دھو ئے بغیر ہی کھا نا کھا نے بیٹھ گئے توفریسی کو تعجب ہوا۔ 39 خداوند نے اس سے جو کہا وہ یہ ہے کہ “تم فریسیو! تم تو برتن اور کٹورے کے اوپر کے حصہ کو تو صاف ستھرا رکھتے ہو جبکہ تمہارا باطن لا لچ اور برائیوں سے بھرا ہواہے۔ 40 تم بے وقوف ہو اسلئے کہ جس خدا نے تمہا رے ظا ہر کو بنایا ہے۔ وہی باطن کو بھی بنایا ہے۔ 41 اسی لئے بر تن اور کٹوروں کے اندر کی چیزیں غریبوں کو دیا کرو تب کہیں تم پوری طرح پاک ہو جا ؤگے۔

42 اے فریسیو! افسوس ہے تم پر! کیوں کہ اپنے پاس کی تمام چیزوں میں سے دسواں حصہ خدا کی راہ میں دیتے ہو تمہا رے باغ کی پیدا وار میں پو دینہ ، سداب جیسے چھو ٹے پو دوں والی فصل میں سے بھی دیتے ہو لیکن دوسروں کو انصاف بتا نے کے لئے اور خدا سے محبت کر نا بھلا بیٹھے ہو۔ پہلے تمہیں ان تمام باتوں کو کر نا ہے اور بچی ہوئی چیزوں کو نظر اندا ز کر نا ہے۔

43 اے فریسیو! تم پر بڑا ہی افسوس ہے! کہ تم یہو دی عبادت گاہوں میں تو اعلیٰ واونچی نشستوں کے اور بازاروں میں لوگوں سے عزت کے خوا ہشمند ہوتے ہو۔ 44 افسوس ہے تم پر کہ تم تو بس ا ن پوشیدہ قبروں کی طرح ہو جس پر سے لوگ بغیر سمجھے ان پر سے گذرتے ہیں۔” لوقا 11:37-44

یہودی شریعت کے مطابق اگر کوئی مردہ کو چھولیتا۔ تو وہ ناپاک ہو جاتا۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح نے ‘قبروں’ کا ذکر کیا تھا۔ تو اُن کے مطلب تھا۔ کہ وہ قبریں بھی ناپاک ہیں۔ اس بات کو وہ جانتے تھے لیکن پھر بھی وہ اُن قبروں کے درمیان چلتے تھے۔ جس سے مراد تھا کہ وہ باطن کی پاکیزگی کو نظرانداز کررہے تھے۔ کیونکہ قبریں اندر سے تو ناپاک تھیں۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں۔ تو ہم پھر اس ناپاکی کی وجہ سے غیرایماندار کی حالت میں ہوتے ہیں۔ جن کو کسی قسم کی پاکیزگی کی تمیز نہیں ہوتی۔

دل مذہبی شخص کو بھی ناپاک کردیتا ہے

اس مندرجہ ذٰیل دی جانے والی تعلیم میں حضرت عیسیٰ المسیح حضرت یسعیاہ نبی کی ایک اقتباس کو پیش کرتے ہیں۔ جو 750 ق م میں ناذل ہوئے اور اُن کی کتاب زبور شریف میں شامل ہے۔

(یہاں پر حضرت یسعیاہ نبی کے بارے میں معلومات موجود ہے)

خدا کا حکم اور لوگوں کے اصول

15 تب چند فریسی اور معلمین شریعت یروشلم سے یسوع کے پاس آئے اور کہا، “تمہا رے ماننے وا لے ہما رے اجداد کے اصول وروا یات کی اطاعت کیوں نہیں کرتے ؟ اور پوچھا کہ تیرے شاگرد کھا نا کھانے سے قبل ہاتھ کیوں نہیں دھوتے ؟”-

یسوع نے کہا، “تم اپنے اصولوں پر عمل کر نے کے لئے خدا کے احکام کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہو ؟۔ خدا کا حکم ہے کہ تم اپنے ماں باپ کی تعظیم کرو۔ [a] دوسرا حکم خدا کا یہ ہے کہ اگر کو ئی اپنے باپ یا ا پنی ماں کو ذلیل و رسوا کرے تو اسے قتل کر دیا جا ئے۔ [b] لیکن اگر ایک آدمی اپنے ماں باپ کو یہ کہے کہ تمہا ری مدد کر نا میرے لئے ممکن نہیں کیوں کہ میرے پاس ہر چیز خدا کی بڑا ئی کے لئے ہے تو پھر ماں باپ کی عزت کر نے کی کو ئی ضرورت نہیں۔ تم اس بات کی تعلیم دیتے ہو کہ وہ اپنے ماں باپ کی عزت نہ کرے اس صورت میں تمہا ری روایت ہی نے خدا کے حکم کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ تم سب ریا کار ہو۔یسعیاہ نے تمہارے بارے میں صحیح کہا ہے وہ یہ کہ:

“یہ لوگ تو صرف زبانی میری عزت کرتے ہیں۔

    لیکن ان کے دل مجھ سے دور ہیں۔
اور انکا میری بندگی کرنا بھی بے سود ہے۔
    انکی تعلیمات انسانی اصولوں ہی کی تعلیم دیتے ہیں۔ [c]

10 یسوع نے لوگوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “میری باتوں پر غور کرو اور انہیں سمجھو۔ 11 کوئی آدمی اپنے کھا نے پینے والی چیزوں سے نا پاک و گندا نہیں ہو تا بلکہ اس نے کہا کہ اس کے منھ سے جو بھی جھوٹے کلمات نکلے وہی اس کو ناپاک کر دیتے ہیں۔”

12 تب شاگرد یسوع کے قریب آکر اس سے کہنے لگے، “کیا تم جانتے ہو کہ تمہاری کہی ہو ئی بات کو فریسی نے سن کر کتنا برا ما نا ہے ؟”

13 یسوع نے جواب دیا، “آسمانوں میں رہنے والے میرے باپ نے جن پودوں کو نہیں لگا یا وہ سب جڑ سمیت اکھاڑ دیئے جائیں گے۔ 14 اور کہا کہ فریسی کو پریشان نہ کرو اسے اکیلا رہنے دو وہ خود اندھے ہیں اور دوسروں کو راستہ دکھا نا چاہتے ہیں۔ اسلئے کہ اگر اندھا اندھے کی رہنمائی کرے تب تو دونوں گڑھے میں گر جائیں گے۔”

15 تب پطرس نے کہا، “جو تو نے پہلے لوگوں سے کہا ہے اس بات کی ہم سے وضاحت کر۔

16 یسوع نے ان سے کہا، “کیا تمہیں اب بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ؟”۔ 17 ایک آدمی کے منھ سے غذا پیٹ میں داخل ہو تی ہے۔ اور جسم کی ایک نالی سے وہ باہر جاتی ہے۔ اور یہ بات تم سب کو معلوم ہے۔ 18 لیکن جو ایک آدمی کے منھ سے بری باتیں نکلتی ہیں وہی چیزیں ہیں جو آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔ 19 اور آدمی کے دل سے برے خیالات قتل زناکاری اور حرامکاری ،چوری ،جھوٹ اور گالیاں نکل آتی ہیں۔ 20 یہ تمام باتیں آدمی کو ناپاک بنا دیتی ہیں۔ اور کہا، “کھا نا کھا نے سے پہلے اگر ہاتھ نہ دھو یا جائے تو اس سے آدمی ناپاک نہیں ہوتا۔

متّی 15:1-20

یہودیوں کے استادوں کے اس آمنے سامنے میں حضرت عیسیٰ المسیح نے بیان کی ہم "انسانوں کی روایات” کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے زیادہ ترجی دیتے ہیں۔ آپ کے دور میں یہودی راہنما اپنے والدین کے فرائض کو نظرانداز کردیتے تھے اور کہتے تھے ہم آپ لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے کیونکہ ہم مذہبی فرائض ادا کرنے ہیں۔

آج ہم باطنی صافی کے بارے میں بھی اس ایک مسئلہ کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں سے پیدا ہونے والی ناپاکی/برائی سے بہت زیادہ پریشان ہے۔ یہ ناپاکی روزِ حشر والے دن ہماری بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر اس کو اپنے دلوں سے صاف نہ کیا گیا۔

 ظاہری خوبصورت لیکن باطن میں بدکار

25 “اے معلمین شریعت ،اے فریسیو! یہ تمہا رے لئے براہے۔تم ریا کا ر ہو۔ تم اپنے بر تن و کٹوروں کے با ہری حصے کو دھو کر صاف ستھرا تو کر تے ہو لیکن انکا اندرونی حصہ لا لچ سے اور تم کو مطمئن کر نے کی چیزوں سے بھرا ہے۔ 26 اے فریسیو تم اندھے ہو پہلے کٹو رے کے اندرونی حصہ کو اچھی طرح صاف کر لو۔ تب کہیں جا کر کٹو رے کے با ہری حصہ حقیقت میں صاف ستھرا ہوگا۔

27 “اے معلمین شریعت اے فریسیو!یہ تمہا رے لئے بہت برا ہے! تم ریا کا ر ہو۔تم سفیدی پھرائی ہو ئی قبروں کی ما نند ہو۔ ان قبروں کا بیرونی حصہ تو بڑا خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔لیکن اندرونی حصہ مردوں کی ہڈیوں اور ہر قسم کی غلاظتوں سے بھرا ہو تا ہے۔ 28 تم اسی قسم کے ہو۔ تم کو دیکھنے والے لوگ تمہیں اچھا اور نیک تصور کرتے ہیں۔ لیکن تمہارا باطن ریا کاری اور بد اعمالی سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔  متّی 23:25-28

اس گفتگو میں حضرت عیسیٰ المسیح سب کچھ بیان کردیتے ہیں۔ جس کو ہم نے خود دیکھا ہے۔ مندرجہ ذیل صافی کو ہم عام ایمانداروں میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت سے ایماندار آج بھی لالچ اور حوس سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں تک مذہبی اہم شخصیات کا یہ حال ہے۔ باطن کی پاکیزگی بہت زیادہ لازمی ہے۔ لیکن یہ بہت زیادہ مشکل کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے باطن کے بارے میں بڑی احتیاط کے ساتھ عدالت کرے گا۔ لہذا مسئلہ خود ہی کھڑا ہوجاتا ہے۔ ہم اپنے دلوں کو کیسے صاف/پاک کرسکتے ہیں تک ہم روز عدالت والے دن اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں داخل ہوسکیں؟ ہم انجیل شریف میں سے اس سوال کے جواب کو پانے کے لیے مطالعہ جاری رکھیں گے۔

اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں بہتوں کو مدعو کیا گیا لیکن ۔ ۔ ۔

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے الفاظ میں کیسی قدرت پائی جاتی تھی۔ کہ اُن کے حکم سے بیماری چلی جاتی اور یہاں تک کہ فطرت اُن کا حکم مانتی تھی۔ اُنہوں نے خدا کی بادشاہت کے بارے میں بھی تعلیم دی تھی۔ یاد رکھیں کہ زبور شریف کے بہت سے حصوں میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کی آمد کا ذکر ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اُن پیش گوئیوں کی طرف اشارہ کرکے تعلیم دی کہ وہ بادشاہی ‘نزدیک’ ہے۔

سب سے پہلے اُنہوں نے اپنے پہاڑی خطبہ میں یہ سیکھایا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی باردشاہی کے شہری کو دوسروں کے ساتھ کیسا رویہ اور سلوک رکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے ایک بہت ہی بنیادی اُصول سیکھایا کہ اپنے ‘دشمن’ سے محبت رکھو۔ ذرا اس بات کے بارے میں سوچیں کہ آج کے اس دور میں کتنی مصیبت، ناانصافی ، موت، اور خوف کا ہم کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (صرف یاد دلانے کے لیے خبرنامہ”نیوذ” ہی کافی ہے) اسکی خاص وجہ ہے کہ بہتوں نے آپ کی محبت کی تعلیم کو نہیں سُنا اور اُس پر عمل نہیں کرتے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ہماری زندگی یہاں کی زندگی سے مختلف ہے۔ تو ہمیں محبت سے ایک دوسرے کے ساتھ رویہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

عظیم ضیافت کی تمثیل

چونکہ حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم پر عمل کرنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ تو آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں بھی تھوڑے لوگ ہی مدعوں کئے گے ہونگے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ایک  ضیافت کی تمثیل دے کر سیکھایا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں دعوت کس قدر وسیع ہے۔ انجیل شریف میں اس طرح درج ہے۔

15 یسوع کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے ان تفصیلات کو سنکر کہا، “خدا کی بادشاہت میں کھانا کھانے والے ہی با فضل ہیں۔

16 تب یسوع نے اس سے کہا کہ کسی نے کھانے کی ایک بہت بڑی دعوت کی اس آدمی نے بے شمار لوگوں کو مدعو کیا۔ 17 جب کھانا کھانے کا وقت آیا تو اس نے اپنے خادم کو بھجواکر مہمانوں کو اطلاع دی اور کہا کہ کھانا تیّار ہے۔ 18 لیکن تمام مہمانوں نے کہا کہ وہ نہیں آسکتے ان میں سے ہر ایک نے نیا بہا نہ تلا شا۔ ان میں سے ایک نے کہا ، “میں نے ابھی ایک کھیت کو خرید لیا ہے۔ اسلئے مجھے جا کر دیکھنا ہے مجھے معاف کر دیں۔ 19 دوسرے نے کہا، “میں نے ابھی پانچ جوڑی بیل خریدا ہے اور مجھے جا کر انکو دیکھنا ہے۔ برائے کرم مجھے معاف کریں۔ 20 تیسرے نے کہا، “میں نے ابھی شادی کی ہے اس لئے میں نہیں آسکتا۔

21 تب وہ نو کر واپس ہوا اور اپنے مالک سے تمام چیزیں بیان کر نے لگا پھر اسکا مالک بہت غضب ناک ہوا اور نوکر سے کہا، “راستوں ، میں گلیوں اور کوچوں میں جا کر غریبوں کو اور معذوروں کو اندھوں کو لنگڑوں کو یہاں بلا کر لے آؤ۔

22 تب اس نو کر نے آکر کہا کہ اے میرے خداوند! میں نے وہی کیا جیسا کہ تم نے کہا تھا لیکن ابھی اور بھی لوگوں کی جگہ کی گنجائش ہے۔ 23 تب اس مالک نے اپنے نوکر سے کہا کہ شاہراہوں پر اور دیگر راستوں پر چلا جا اور وہاں کے رہنے والے تمام لوگوں کو بلا لا اور میری یہ آرزو ہے کہ میرا گھر لوگوں سے بھر جا ئے۔ 24 لیکن میں تجھ سے کہتا ہوں کہ میں نے پہلی مرتبہ جن لوگوں کو کھا نے پر مدعو کیا تھا ان میں سے کو ئی ایک بھی میری دعوت میں کھانا چکھ نے نہ پا ئے گا۔

(لوقا14:15-24)

اس تدریسی عمل میں ہماری عقل کئی بار دہنگ رہ گئی۔ پہلے آپ شاید یہ سوچتے ہونگے۔ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی ضیاف میں مدعو نہیں کرگا(جو کہ ایک گھر میں ضیافت تھی) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس قابل لوگوں کو نہیں پایا کہ وہ مدعو کئے جائیں۔ لیکن ایسا خیال غلط تھا۔ ضیافت میں شامل ہونے کی دعوت بہت سارے لوگوں کو دی گئی۔ ضیافت کا مالک (جو اللہ تعالیٰ اس مثال میں ہے) چاہتا تھا کہ اُسکی ضیافت لوگوں سے بھری ہونی چاہیے۔ جو کہ ایک حوصلہ افزائی کی بات تھی۔

لیکن ہم جلد ہی اس بات کو جانتے ہیں کہ ایک اور غیر متوقع موڑ آتا ہے۔ بہت تھوڑے مدعو کئے ہوئے لوگ اس ضیافت میں آنا چاہتے ہیں۔ اور زیادہ لوگوں نے کئی بہانے بنائے۔ کہ وہ کیوں نہیں آنا چاہتے۔آئیں ان ناقابلِ یقین عذر کو ملاخظہ فرمائیں۔ ایک نے کہا کون سا ایسا شخص ہے جو بیل خریدنے سے پہلے اُس کو آزمائے نہ؟ کون سا ایسا شخص ہے جو کیھت دیکھنے کے بغیر خریدے؟ نہیں، ان تمام بہانوں سے اُن تمام بلائے ہوئے مہمانوں کے دلوں کے حقیقی ارادے کو جانا جاسکتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں شامل ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ دنیاداری کے کاموں میں دلچسپی رکھتے تھے۔

جب ہم سوچتے ہیں کہ شاید مالک کسی کے آنے یا چند مہمانوں کی وجہ سے مایوس نہیں ہوتا۔ بلکہ ہم یہاں ایک اور موڑ کو دیکھتے ہیں۔ ۔ اب ایسے لوگوں کو ضیافت میں بلایا جاتا ہے۔ جن کو ہم اپنے ذہین میں بھی نہیں لاتے کہ وہ ضیافت میں آنے کے قابل ہونگے۔ وہ جو گلیوں کے موڑوں پربیٹھے، غریب، معذور، اندھے، اور لنگڑے۔ بلکل ایسے لوگ جن سے ہم اکثر دور ہی رکھنا پسند کرتے ہیں۔ اُن سب کو اس ضیافت میں آںے کی دعوت دی گئی۔ اس ضیافت کا دعوت نامہ اس قدر وسیع تھا کہ اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ ضیافت کے مالک کی یہ چاہت تھی کہ لوگ اس کی ضیافت میں آئیں۔ مالک نے ایسے لوگوں کو بلانے سے نہ ڈرا جن کو ہم اپنے گھروں میں دعوت دینے سے ڈرتے ہیں۔

اور یہ بلائے ہوئے لوگ آتے ہیں۔ ان کی دوسرے لوگوں کی طرح کسی اورچیز میں دلچسپی نہیں تھی۔ جیسے دوسرے لوگوں کی دلچسپی کھیتوں یا بیلوں میں تھی۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت بھرگئی اور مالک کی مرضی پوری ہوئی گئی۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا اس مثال کو دینے کا مقصد یہ تھا۔ کہ وہ ہم سے سوال پوچھ سکیں۔ "اگر مجھے اللہ تعالیٰ کی بارشاہت کی دعوت دی گئی تو اُس کو کیا میں قبول کرونگا؟” یا پھر آپ اس دعوت کو اپنی کسی اور دلچسپی کی وجہ سے رد کردیں گے؟

حقیقت تو یہ ہے۔ کہ آپ اس ضیافت میں شامل ہونے کے لیے بلائے گے ہیں، لیکن سادہ سی حقیقت یہ ہے۔ کہ ہم اپنی دلچسپیوں اور بہانوں کی وجہ سے اس دعوت کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ ہم کبھی بھی براہ راست "نہیں/نہ” نہیں کریں گے۔ لیکن ہمارے بہانوں میں ہماری ‘نہ’ چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ اس مثال میں دعوت کو در کرنے کی وجہ دوسری چیزوں میں زیادہ دلچسپی تھی۔ وہ لوگ جو پہلے بلائے گے تھے۔ اُن کی دلچسپی اس دنیا کی چیزوں میں تھی۔ (جن کو کیھتوں اور بیل سے تشبی دی گئی ہے) اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں دلچسپی ہوتی۔

ایک مذہبی اُستاد کی مثال

ہم میں سے کئی ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی بجائے اس دنیا کی چیزوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لیے دعوت کو مسترد کردیتے ہیں۔ اس طرح کئی ایسے ہیں جو اپنی راستبازی پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اسی بات کو ایک اور تمثیل دے کر سیکھایا۔

وہاں پر چند لوگ اپنے آپ کو شریف سمجھتے تھے۔اور یہ لو گ د وسروں کے مقابلے میں اپنے آپ اچھے ہو نے کا ثبوت دینے کی کوشش کر رہے تھے۔یسوع اس کہا نی کے ذریعے انکو تعلیم دینے لگے:10 “ایک مرتبہ دو آدمی جن میں ایک فریسی اور ایک محصول وصول کر نے والا تھا اور دعا کر نے کے لئے ہیکل کو گئے۔ 11 فریسی محصول وصول کر نے والے کو دیکھ کر دور کھڑا ہو گیااور اس طرح فریسی دعا کر نے لگا۔اے میرے خدا میں شکر ادا کرتا ہوں کہ میں دوسروں کی طرح لا لچی نہیں ، بے ایمان نہیں اور نہ ہی محصول وصول کر نے والے کی طرح ہوں۔ 12 میں ہفتہ میں دو مرتبہ روزہ بھی رکھتا ہوں اور کہا کہ جو میں کما تا ہوں اور اس میں سے دسواں حصہ دیتا ہوں،

13 محصول وصول کر نے والا وہاں پر تنہا ہی کھڑا ہوا تھا۔اس نے آسمان کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا بلکہ خدا کے سامنے بہت ہی عاجز ی وانکساری کے ساتھ دعا کر نے لگا اے میرے خدا میرے حال پر رحم فرما ا س لئے کہ میں گنہگار ہوں۔ 14 میں تم سے کہتا ہوں کہ بحیثیت راستباز کے اپنے گھر کو لوٹا۔لیکن وہ فریسی راستباز نہ کہلا سکا ہر ایک جو اپنے آپ کو بڑا اور اونچا تصور کرتا ہے وہ گرا دیا جاتاہے اور جو اپنے آپ کو حقیر و کمتر جانتاہے وہ اونچا اور باعزت کر دیا جا ئے گا۔”

(لوقا18: 9-14)

یہاں ہم ایک فریسی سے ملاقات کرتے ہیں ( فریسی ایک امام کی طرح ایک مذہبی استاد ہوتا ہے) جو اپنی مذہبی معاملات میں کامل نظرآتا ہے۔ وہ روزے اور زکوۃ فرض کئے ہوئے سے زیادہ ادا کرتا تھا۔ لیکن وہ اپنی راستبازی پر بھروسہ رکھتا تھا۔ حضرت ابراہیم نے ایسی کوئی مثال اپنی زندگی میں سے کر کے نہیں دیکھائی تھی۔ کہ اللہ تعالیٰ اُن کو اُن کے کاموں کی وجہ سے راستباز ٹھہراتا۔ بلکہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو راستباز ٹھہرایا تو اُنہوں نے سادہ سے طریقے سے اللہ کے وعدہ پرایمان لایا تھا۔ یہ اُن کے لیے راستبازی گنا گیا۔ دراصل موصول لینے والے نے (موصول لینا اُس وقت ایک غیر اخلاقی پیشہ سمجھا جاتا تھا) بڑی عاجزی سے رحم کے لیے دعا کی۔ اور وہ اس بات پر ایمان لایا کہ اُس کو وہ رحم جس کی اُس نے دعا کی ہے مل گیا ہے۔ اور وہ اپنے گھر اللہ سے "راستباز” ٹھہرکر چلا گیا۔ جبکہ فریسی جو بظاہر راستباز نظر آتا ہے۔ اُس کی دعا کرنے کا رویہ اُس کے لیے گناہ شمار کیا گیا۔

لہذا حضرت عیسیٰ المسیح پھر اخیتار سے آپ سے اور مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔ کیا ہم واقعی اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کو چاہتے ہیں۔ یا پھر ہماری دوسری اور بہت سی چیزوں میں دلچسپی ہے؟ آپ ہم سے پوچھتے ہیں۔ کہ ہم کس چیز پر بھروسہ رکھتے ہیں اپنی راستبازی کے کاموں پر یا اللہ تعالیٰ کی رحمت پر۔

اس لیے ہمیں بڑی ایمانداری سے اپنے آپ کو یہ سوالات پوچھنے ہیں۔ کیونکہ دوسری صورت میں ہم اُس کی تعلیم کو جان نہیں سکیں گے۔ جس کو ہم اگلے اسباق میں سیکھنے جارہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے باطن کی صفائی کی ضرورت ہے۔

موسیٰ کا دوسرا نشان : شریعت

حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی "شریعت”

ہم نے حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی ” فسح ” میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ مصر کے تمام پہلوٹھے مارجائیں گے۔ لیکن جن گھروں میں مینڈھوں کو ذبح کیا جائے گا وہ پہلوٹھے بچ جائیں گے۔ اور اُن گھروں کے دروازے کی چوکھٹوں پر خون لگایا جائے گا۔ فرعون نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی کی۔  اور اس طرح اُس کا پہلوٹھا بیٹا مارا گیا۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرئیل کی مصر سے خروج میں راہنمائی کی اور جب فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کررہا تھا۔ وہ بحیرہ احمر (قلزم) میں غرق ہوگیا تھا۔

لیکن حضرت موسیٰ کا بنی اسرئلیوں کو مصر کی غلامی سے نکلانے کا ہی کردار نہیں تھا۔ بلکہ زندگی کے ایک نئے راستے پر انکی قیادت کرنا تھی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے ایک نئی شریعت قائم کی ۔ چنانچہ مصر سے نکلنے کے تھوڑے عرصے بعد اسرئیلی کوہ سینا کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں سے حضرت موسیٰ 40 دن کے لیے کوہ سینا پر شریعت لینے کے لیے چلا گیا۔ قرآن شریف میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح آیا ہے۔

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر طور کو اونچا کیا لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔             سورۃ البقرہ 2: 63

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے بائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا۔    سورۃ اعراف 7: 142

چنانچہ حضرت موسیٰ نے کون سی شریعت کو حاصل کیا؟ اگرچہ پوری شریعت کافی لمبی تھی (جن میں 613 ایسے قانون تھے۔ جن میں کچھ چیزوں کی اجازت ملی اور کئی کی نہیں۔ اور بتایا گیا کہ کون سی چیز حلال ہے اور کون سی چیز حرام ہے) یہ تمام احکامات مل کر تورات شریف بناتے ہیں۔ سب سے پہلے حضرت موسیٰ نے پتھر کی بنی تختیاں لیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پاتھوں سے مخصوص احکام لکھے۔ جن کو ہم دس احکام کہتے ہیں۔ جو تمام دوسرے قواعد و ضوابط کی بنیاد بنے۔ یہ دس احکام شریعت کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ جو تمام دوسرے قوانین کے لیے لازمی شرط تھی۔ قرآن شریف اس آیت میں حوالہ دیتا ہے۔

اور ہم نے ان کے لئے (تورات کی) تختیوں میں ہر ایک چیز کی نصیحت اور ہر ایک چیز کی تفصیل لکھ دی (ہے) ، تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو اور اپنی قوم کو (بھی) حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں کو اختیار کرلیں۔ میں عنقریب تمہیں نافرمانوں کا مقام دکھاؤں گا

    میں اپنی آیتوں (کے سمجھنے اور قبول کرنے) سے ان لوگوں کو باز رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں (تب بھی) اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھ لیں (پھر بھی) اسے (اپنا) راستہ نہیں بنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھ لیں (تو) اسے اپنی راہ کے طور پر اپنالیں گے، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل بنے رہے

           ( 145-146: 7     سورۃ الاعراف)

دس احکام

                        قرآن شریف ہمیں بتاتا ہے۔ کہ ان دس احکام کو اللہ تعالیٰ نے خود پتھر کی تختیوں پر لکھا تھا۔ جو ہمارے لیے ایک نشان تھا۔ لیکن یہ تمام احکام کیا تھے؟ یہ تمام احکام یہاں پر خروج کی کتاب میں سے دیئے گے ہیں۔ جن کو حضرت موسیٰ نے پتھر کی تختیوں سے خود نقل کیا تھا۔ جو درج ذیل ہیں۔

1اور خُدا نے یہ سب باتیں فرمائیں کہ ۔
2 خُداوندتیرا خُدا جو تُجھے مُلِک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہُوں۔
3 میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا ۔
4 تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مُورت نہ بنا نا ۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔
5 تو اُنکے آگے سجدہ نہ  کرنا اور نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیرا خُدا غیور خُدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں انکی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں ۔
6 اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں ۔
7 تو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اسکا نام بے فائدہ لیتا ہے خُداوند اسے بے گناہ نہ ٹھہرائیگا۔
8 یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا ۔
9 چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا ۔
10  لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرابیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔
11 کیونکہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اسلئے خُداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔
12 تو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اس مُلِک میں جو خُداوند تیرا خُدا تُجھے دیتا ہے دراز ہو ۔
13 تو خُون نہ کر ۔
14 تُو زِنانہ نہ کر۔ّ
15 ) تُو چوری نہ کر۔
16 تو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا ۔
17  تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا ۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اسکے غلام اور اسکی لونڈی اور اسکے بیل اور اسکے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا ۔
18 اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔

                                                                                                     خروج 20: 1-18

اکثر ایسا لگتا ہے ہم جو مختلف ممالک میں رہتے ہیں۔ ان احکامات کو بھول گے ہیں۔ کو ئی اُن کا مشورہ نہیں دیتا، ان کی کوئی سفارش نہیں کرتا، اور نہ ہی کوئی ان کو سمجھتا تھا۔ یہ احکام اس لیے دئیےگئے تھے۔ کہ ان کی فرنبرداری کی جائے۔ یہ شریعت تھی اور بنی اسرائیل کو خدا کا خوف اور اُسکی شریعت کو ماننا تھا۔

اطاعت کا معیار

                        لیکن یہ ایک اہم سوال ہے۔ اُن کو کتنے زیادہ احکامات کی ضرورت تھی؟ درجہ ذیل آیت دس احکام کے دئیے جانے سے پہلے کی ہے۔

2   اور جب وہ رفیدیم سے روانہ ہو کر سِینا کے بیابان میں آئے تو بیا بان ہی میں ڈیرے لگالئے ۔ سو وہیں پہاڑ کے سامنے اِسرائیلیوں کے ڈیرے لگے ۔
3  اور مُوسیٰ اُس پر چڑھکر خُدا کے پاس گیا اور خُداوند نے اُسے پہاڑ پر سے پُکار کر کہا کہ تو یعقوب کے خاندان سے یوں کہہ اور بنی اِسرائیل کو سُنا دے ۔
4  کہ تُم نے دیکھا کہ میں نے مصریوں سے کیا کیا کیا اور تُم کو گویا عُقاب کے پروں بیٹھاکر اپنے پاس لے آیا ۔
5  سو اب اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میرےمیری خاص مِلکیت ٹھہرو گے کیو نکہ ساری زمیں میری ہے ۔                      خروج 19: 2-5

اور یہ آیت دس احکام کے دئیے جانے کے فوراً بعد دی گئی۔

پھر اُس نے عہد نامہ لیا اور لو گوں کو پڑھکر سُنا یا ۔ اُنہوں نے کہا کہ جو کُچھ خُداوند نے فرما یا ہے اُس سب کو ہم کر یں گے اور تا بع رہں گے ۔                                          خروج 24: 7

تورات شریف کی آخری کتاب (استثنا) میں حضرت موسیٰ نےآخری پیغام دیا۔ اُس نے اس میں شریعت کی فرمانبرداری کا خلاصہ بیان کیا۔

24  سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔                                               استثنا 6: 24-25

راستبازی کو حاصل کرنا

                                    یہاں پر یہ لفظ "راستبازی” دوبارہ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت اہم لفظ ہے۔ ہم نے اس کو پہلے حضرت آدم کے نشان میں سیکھا تھا۔ جب اللہ تعالٰی نے ہمیں حضرت آدم کی اولاد کہا تھا۔

اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اور (اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک باطنی لباس بھی اتارا ہے اور وہی) تقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں  سورۃ اعراف 7: 26

پھر ہم نے حضرت ابراہیم کے نشان میں سیکھا جب اللہ تعالیٰ نے بیٹا دینے کا وعدہ کیا۔ اور حضرت ابراہیم نے اس وعدہ پر بھروسہ کیا اور پھر یہ کہا گیا۔

 اور وہ خُداوند پر ایمان لایا اور اِسے اُس نے اُسکے حق میں راستبازی شمار کیا ۔

                                                                                                 پیدائش 15: 6

(برائے مہربانی راستبازی کو مکمل طور پر جاننے کے لیے "حضرت ابراہیم کی دوسری نشانی” کا مطالعہ کریں)

  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔     استثنا 6: 25

مگر راستبازی حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔  اس کے لیے ہمیں بتایا جاتا ہے۔ کہ ہمیں شریعت کی کُلی طور پر اطاعت کرنا ہے اور پھر ہم راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے ہمیں حضرت آدم کی نشانی یاد آجاتی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالٰی کی ایک بات کی نافرمانی سے وہ جنت سے نکلا دیئے گے تھے۔ اللہ تعالیٰ اور مختلف نافرمان کاموں کا انتظار نہیں کرتا۔ اسطرح کا کام حضرت لوط کی نشانی میں اُس کی بیوی کے ساتھ ہوا۔ ہمیں یہ ساری صورت حال تورات شریف کی عظمت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ میں یہاں پربہت ساری توارت شریف کی آیت رکھی ہیں (یہاں کلک کریں) جن سے ہم جان سکیں گے کہ راستبازی کو حاصل کرنے کاکیسا معیار ہونا چایئے۔

اب آئیں چند لمحوں کے لیے اس کے مطلب کے بارے میں سوچیں۔ کئی بار یونیورسٹی کے کورس میں ایسا ہوتا ہے۔ پروفیسر ہمیں امتخان میں بہت سے سوال دیتے ہیں۔ (مثال کے طور پر 25 سوالات) اور اُن سے کچھ سوالات جن کو ہم چن لیتے ہیں اُن کا جواب تحریر کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور جسطرح ہم 25 سوالات میں سے 20 کو چن کر اُن کا امتخان میں جواب لکھ دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی ایک طالب علم کو ایک سوال مشکل لگتا ہو اور وہ اُس کو چھوڑ کر دوسرا سوال چُن لے۔ اس طرح دوسرا طالب علم اُس چھوڑے ہوئے کو آسان سمجھ کر اُس کا جواب لکھ دے۔ حقیقت میں ہمیں 25 میں سے 20 سوالوں کا چناو کرنا ہے۔ اس طرح سے پروفیسر امتخان کو ہمارے لیے آسان بنا رہا ہوتا ہے۔

بہت سارے لوگ شریعت کے ان دس احکام کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ دس احکام دیئے۔ تو اسکا مطلب تھا کہ ان دس احکام میں سے کوئی سے پانچ احکام کو چن لیں۔ لیکن یہ ہمیں اس لیے نہیں دئیے گے تھے کہ کچھ کو چن لیں اور کچھ کو چھوڑ دیں۔ یہ ہمیں اس لیے دئیے گے کہ ہمیں ان سب کی فرمانبرداری کرنی ہے اور ان سب حکموں کو تھامے رکھنا ہے۔ ان میں ہم کسی کو چن اور کسی کو  چھوڑ نہیں سکتے۔ صرف شریف کی فرمانبرداری کُلی طور کرنے کی وجہ سے راستباز بن سکتے ہیں۔

لیکن پھر کیوں کچھ لوگ شریعت کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ؟ کیونکہ شریعت پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ خاص طور پر یہ ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ساری زندگی اسکی پیروی کرنا پٹرتی ہے۔ یہ تو بٹرھا آسان ہے کہ یم اپنے آپ کو دھوکہ دیں اور اس معیار پر نہ پہنچ سکیں۔ پرائے مہربانی ان احکامات کو دوبارہ سے دیکھیں اور اپنے آپ سے پوچھیں۔ کیا میں ان احکامات کی فرمانبرداری کر سکوگا؟ تمام کی ؟ ہر روز ؟ بغیر کسی حکم کو توڑے ؟ ہمیں بت پرستی سے، ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، زناکاری ، چوری ، قتل ، جھوٹ بولنا ، وغیرہ سے نمٹنا پٹرتا ہے۔ یہ تمام احکام سدا بہار ہیں اور ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان کی اطاعت کر سکتے ہیں؟ کوئی بھی ان سوالوں کا جواب دوسرے کو نہیں دے سکتا۔ وہ صرف اپنے آپ کو ہی جواب دے سکتا ہے۔ اور وہ پھر ان کا جواب روزِ مخشر والے دن اللہ تعالیٰ کو دینا پڑے گا۔

اللہ تعالٰی کے حضور تمام اہم سوالات

                        میں یہاں پر ایک سوال پوچھونگا۔ جس کو استثنا 6 : 25 میں سے لیا گیا ہے۔ یہ ذاتی سوال ہے اور آپ اس کا جواب اپنے آپ کو دیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کا جواب شریعت میں سے کیسے دیتے ہیں۔ شریعت مختلف طریقوں سے لاگو ہوتی ہے۔ لہذا احتیاط کے ساتھ وہ جواب سوچو جو آپ کے بارے میں ٹھیک ہو۔ اُس جواب پر کلیک کریں جو آپ کا جواب ہے۔

24  سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔                       استثنا 6: 24-25

 جواب نمبر 1 :             جی ہاں! میں نے سب حکموں کی فرمانبرداری کی ہے یہ میری حقیقت ہے

 جواب نمبر 2 :          جی نہیں! میں نےکسی حکم کی فرمانبرداری نہیں کی اور یہ میری حقیقت ہے۔

موسیٰ کا نشان نمبر 1: فسح

"حضرت موسٰی کی پہلی نشانی "فسح

تقریباً 500 سال حضرت ابراہیم کو گزرے چکے تھے اور 1500 سال مسیح سے پہلے حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی۔ اب اُن کی نسل جو حضرت اسحاق سے ہوئی تھی اسرائیلی کہلائے جاتے تھے۔ جو ایک بڑی قوم بن چکی تھی۔ لیکن وہ مصر میں غلامی کی زندگی گزار رہے تھے۔ یہ اس لیے ہوا کہ حضرت ابراہیم کا پڑپوتا حضرت یوسف غلام کے طور پر مصر میں فروخت کیا گیا تھا۔ پھر کئی سالوں بعد اس کے خاندان نے اُسکی پیروی کرکے مصر میں ہجرت کی۔ جسکا بیان تورات شریف کی پہلی کتاب پیدائش کے ابواب 45-46 میں زکر پایا جاتا ہے۔

تاہم اب ہم ایک اور عظیم نبی کی نشانی پرہیں۔ جسکا ذکر تورات شریف کی دوسری کتاب خروج میں ملتا ہے۔ اس میں بیان ہے کہ کیسے حضرت موسیٰ نے اسرائیلیوں کو مصرکی غلامی سے رہائی میں راہنمائی کی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو حکم تھا کہ وہ مصر کے فرعون سے ملاقات کرے۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان ایک مقابلہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا۔ کہ اس مقابلے سے نو(9) آفات آئیں۔ جو فرعون کے لیے ایک نشان تھا۔ لیکن فرعون اللہ تعالٰی کی مرضی کے آگے نہ جھکا اور اِن نشانوں کی بھی نافرمانی کرتا رہا۔

دسویں آفت

                                                تاہم اللہ تعالٰی دسویں آفت جو سب سے  زیادہ خطرناک اور ڈراونی لانے والا تھا۔ اس سے پہلے 10 دسویں آفت آتی۔ اس  کے بارے میں تورات شریف ہمیں تیار کرتی اور بتاتی ہے۔ اور قرآن شریف بھی ہمیں ذیل کی آیت میں بتا تا ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل 101 – 102: 17

اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں دیں تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھیئے جب (موسٰی علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا: میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے موسٰی! تم سحر زدہ ہو تمہیں جادو کر دیا گیا ہے

موسٰی (علیہ السلام) نے فرمایا: تو (دل سے) جانتا ہے کہ ان نشانیوں کو کسی اور نے نہیں اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے عبرت و بصیرت بنا کر، اور میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے فرعون! تو ہلاکت زدہ ہو تو جلدی ہلاک ہوا چاہتا ہے

تاہم فرعون پر تباہی اور بربادی آتی ہے۔ لیکن یہ کیسے آئیں؟ اللہ تعالیٰ نے آفات کو ماضی میں مختلف طرح سے بھیجا تھا۔ مثال کے طور پر حضرت نوح کے دنوں میں پوری دنیا پر سیلاب لایا۔ حضرت لوط کی بیوی کو نمک کا ستون بن گئی۔ لیک یہ آفت فرق ہے تاکہ سارے لوگوں کے لیے یہ نشان ہو۔ ایک عظیم نشان جیسے قرآن شریف نے فرمایا ہے۔

سورۃ النازعات 79:20

پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اسے بڑی نشانی دکھائی

آپ دسویں آفت کے بارے میں توریت شریف کی دوسری کتاب "خروج” میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہاں کلیک کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس کو یہاں اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہاں پر بہت اچھی طرح اور تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ ذیل کی وضاحت کو سمجھنے میں مدد بھی دے گا۔

منڈھے کی فسح موت سے بچاتی ہے

                                                کلام اللہ ہمیں یہ بتاتا ہے۔ کہ تباہی کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوچکا تھا۔ کہ پہلوٹھا بیٹا اُس رات مارا جائے گا۔ سوائے اُن لوگوں کے جن کے گھروں میں منڈھے کی قربانی کی جائے گی اور اس کا خون اُس گھر کی چوکھٹوں پر لگایا جائے گا۔ اگر فرعون بھی اس حکم کی تابعداری نہیں کرتا تو اُس کا پہلوٹھا اور اُسکے تخت کا وارث بھی مارا جائے گا۔ اور مصر میں ہر ایک گھر کا پہلوٹھا بیٹا مار دیا جائے گا۔ اگر وہ اس حکم کی تابعداری نہیں کرینگے۔ کہ ایک برّہ کو قربان کرکے اُس کے خون کو اپنے گھر کی چوکھٹوں پر نہ لگائیں گے۔ چنانچہ مصر نے ایک قومی آفت کا سامنا کیا۔

لیکن وہ گھر جس میں برّہ قربان کیا اور اسکا خون گھر کے دروازے کی چوکھٹوں پر لگیا جا چکا تھا۔ اُن سے وعدہ تھا کہ وہ بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی آفت اُس گھر کو چھوڑ جائے گی۔ لہذا وہ دن اور نشان "فسح” کہلایا۔ (تاہم موت ان تمام گھروں کو چھوڑتی گئی جن پر برّے کا خون لگا تھا) لیکن جن دروازوں پر خون کا نشان تھا؟ توریت شریف ہمیں بتاتی ہے۔

خروج 12:27

تو ان سے یہ کہو یہ فسح کی قربانی ہے۔ جو ہم رب کو پیش کرتے ہیں کیونکہ جب رب مصریوں کو ہلاک کررہا تھا تو اُس نے ہمارے گھروں کو چھوڑدیا۔ یہ سُن کر اسرائیلیوں نے اللہ کو سجدہ کیا۔

یہودی کیلنڈرفسح سے شروع ہوتا ہے

 چنایچہ بنی اسرائیل کو حکم تھا وہ ہر سال اُسی دن فسح کی عید منائیں۔ یہودی کیلنڈر عیسوی کیلنڈر سے تھوڑا مختلف ہے۔ کیونکہ اس میں ہر سال دن تھوڑا بدل جاتا ہے۔ اگر عیسوی کیلنڈر پر غور کریں۔ تو یہ ماہ رمضان کے ساتھ بہت ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ اس میں سال کی مختلف لمبئی پائی جاتی ہے۔ جو عیسوی کیلنڈر میں ہر سال چلتی ہے۔ لیکن اُس دن (فسح) سے آج تک 3500 سال گزر گے چکے ہیں۔ یہودی لوگ فسح کو ہر سال مناتے ہیں۔ جو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں واقعہ ہوئی تھی۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے تورات شریف میں اُن کو تابعداری کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہاں پر ایک جدید زمانے کی تصویر ہے۔ جس میں یہودی عید فسح پر برّے قربان کر رہے ہیں۔ یہ بالکل عیدالضحی سے ملتی جلتی ہے۔

اگر ہم اس عید پر تاریخی طور پر غور کریں تو یہ ہمیں بہت ہی غیر معمولی بات کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ آپ اس کو انجیل شریف میں پڑھ سکتے ہیں۔ جہاں حضرت عیسیٰ مسیح کی گرفتاری، مقدمے کی سماعت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

یوحنا 18:28

پھر وہ عیسیٰ کو کائفا کے پاس سے قلعہ کو لے گئے اور صبح کا وقت تھا اور وہ خود قلعہ میں نہ گئے تاکہ ناپاک نہ ہوں بلکہ فسح کھا سکیں۔

یوحنا 18: 39-40

مگر تمہارا دستور ہے کہ میں فسح پر تمہاری خاطر ایک آدمی چھوڑدیا کرتا ہوں۔ پس کیا تم کو منظور ہے کہ میں تمہاری خاطر یہودیوں کے بادشاہ کو چھوڑدوں؟۔

اُنہوں نے چلا کر پھر کہا کہ اِس کو نہیں لیکن برابا کو۔ اور برابا ایک ڈاکو تھا۔

دوسرے الفاظ میں حضرت عیسیٰ مسیح کو صحیح یہودی کیلنڈر کے مطابق فسح کے دن گرفتار کیا گیا اور عمل درآمد کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ اب اگر آپ کو یاد ہو حضرت ابراہیم کی تیسری نشانی اور حضرت یحییٰ نے حضرت عیسیٰ کو ایک لقب دیا تھا۔

یوحنا 1: 29-30

دوسرے دن اُس نے عیسیٰ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھویہ "اللہ کا برّہ” ہے جو دنیا کے گناہ اُٹھالے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔

عیسیٰ مسیح نے فسح پر مذمت کرتے ہیں

یہاں ہم اس نشان کی لاثانیت دیکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح ” اللہ کا برّہ” اُسی دن قربانی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ جس دن تمام یہودی ایک برّہ کی قربانی  کرتے ہیں۔ جو عیسیٰ مسیح سے 1500 سال پہلے واقعہ ہوا جس میں فسح کی قربانی ہر ایک منڈھا قربان ہوا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ یہودی ہرسال عام طور پر اُسی ہفتے میں مناتے ہیں۔ جس ہفتے میں ایسٹر منایا جاتا ہے۔ کیونکہ عیسیٰ مسیح بھی اُسی دن قربان ہونے کے لیے بھجیے گئے تھے۔ (ایسٹر اور فسح ایک ہی دن نہیں منائی جاتے۔ کیونکہ عیسوی اور یہودی کیلنڈر کے سال کی لمبائی کی مختلف ترتیب ہے۔ لیکن دونوں عام طور پرایک ہی ہفتے میں آتے ہیں

اب تھوڑی دیر کے لیے  ہر نشان پرغور کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کچھ ذیل کی تصویر میں نشان دیکھے ہیں؟

جب ہم کھوپڑی اور ہڈیوں کے نشان کو دیکھتے ہیں تو اس سے مراد ہوتی ہے موت اور خطرے کی۔ جب ہم سنہری مہراب دیکھتے ہیں تو میکڈونلڈ کا خیال آتا ہے۔ جب ہم ٹینس کے کھلاڑی کے سر پر گوڈ کا نشان دیکھتے ہیں۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نائیکی کا نشان ہے۔ جب ہم کسی نشان کو دیکھیں تو اس کے بارے میں سوچتیں ہیں۔ دوسرے الفاظ میں نشان ہمارے زہین اشارہ دیتے ہیں ایک خاص چیز کے بارے میں سوچنے کے لیے۔ حضرت موسیٰ کا یہ نشان اللہ تعالیٰ نے ہم کو دیا۔ اللہ تعالٰی نے یہ نشان کیوں دیا؟ ٹھیک اُسی دن جب منڈھوں کی قربانی ہوئی، اُسی دن عیسیٰ مسیح کی قربانی ہمارے لیے ایک اشارہ ہے۔

یہ اُسی طرح نظر آتا ہے جس طرح ہم نے اُوپر تصویر میں دیکھا۔ یہاں پر نشان حضرت عیسیٰ مسیح کی طرف اشارہ دلاتا ہے۔ پہلی فسح میں برّوں کو قربان اور خون بہایا گیا تاکہ لوگ بچ جائیں۔ اسی طرح حضرت عیسٰی مسیح کا نشان ہمیں اس طرف اشارہ دیتا ہے۔ "اللہ تعالیٰ کا برّہ” قربان ہوا تاکہ ہم زندگی پائیں۔

ہم نے حضرت ابراہم کے تیسرے نشان میں دیکھا۔ کہ جہاں حضرت ابراہیم کے اپنے بیٹے کی قربانی کے لیے آزمایا گیا وہ موریا پہاڑتھا۔ لیکن ایک منڈھا اُس کے بیٹے کی جگہ مہیا کیاگیا تھا۔ ایک برّہ مرگیا تاکہ ابراہیم کا بیٹا بچ جائے۔ موریا کا پہاڑ بالکل وہی پہاڑ ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانی دی گئی۔ یہ ایک نشان تھا کہ ہم حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانی پر اُس جگہ کی طرف اشارہ کے بارے میں سوچ سکیں۔ حضرت موسیٰ کے اس نشان میں ہم نے ایک اور اسس طرح کے واقعہ کی تلاش کی ہے۔ حضرت عیسیٰ مسیح کو قربانی کے لیے چھوڑدینا۔ ہمیں کیلنڈر میں موجود اُسی دن ہمیں فسح کی قربانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ برّہ کی قربانی ایک بار پھر اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کیوں؟ ہم اس کو جاری رکھیں گے۔ تاکہ ہم
حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی سے مذید افہام و تہفیم حاصل کرسکیں۔ یہ نشان کوہ سیناہ پر دیا گیا تھا۔

لیکن اس نشان کے آخر پر فرعون کے ساتھ کیا ہوا؟ جس طرح ہم نے تورات شریف میں پڑھا کے اُس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تابعداری نہ کی اور اُس کا پہلوٹھا بیٹا (یعنی اُسکا وارث) اُسی رات مارا گیا۔ اس طرح اُس نے آخر کار اسرائیلیوں کو مصر چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔ لیکن فرعون نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اسرائیلیوں کا تعاقب کرنے کے لیے بحرقلزم کی طرف چڑھ دیا۔ اللہ تعالٰی کے نزدیک سمندر پار کرنے کا مقصد تھا کہ فرعون اپنی فوج کے ساتھ سمندر میں غرق ہوجائے۔ نوآفات کے بعد، فسح پراموات ، مصری فوج کا غرق ہونا، مصر کے لیے ایک ایسی عظیم ابری لے کر آیا کہ مصر دوبارہ پھر کھبی دنیا میں سپرپاور کے طور سے نمایاں نہ ہوسکا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے اُن کا انصاف کردیا۔

متنی تنقید کے علم کے مطابق کیا بائبل مقدس تبدیل ہو چکی ہے یا نہیں؟

"مجھے کیوں بائبل مقدس کی کتابوں پر غور کرنا چاہیے؟  جبکہ یہ بہت عرصہ پہلے لکھی گئیں اور اس کے بہت سارے تراجم اور ورژن بن چکے ہیں۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اس کے اصل پیغام کو وقت کے ساتھ تبدیل کردیا گیا تھا”میں نے کئی بار اس قسم کے سوالات اور بیانات سنیں ہیں۔ کہ تورات ، زبور اور انجیل مل کر اس کو بائبل مقدس بناتی ہیں۔

یہ سوال بہت ہی اہم ہے اور یہ اس سب  کی بنیاد پر ہے۔ جو کچھ ہم نے بائبل مقدس کے بارے میں سنا ہے۔ بہر حال یہ کتاب دو ہزار سال پہلے لکھی گئی تھی۔ اُن وقتوں میں پرنٹنگ پریس، فوٹوکاپی مشین، یا کوئی اشاعتی ادارہ موجود نہیں تھا۔ تو اصل مسودات نسل در نسل ہاتھ سے نقل کئے جاتے تھے۔ جس طرح زبانیں ختم ہوتی گئیں اور نئی وجود میں آتی گئیں، سلطنتیں دم توڑتی گئیں اور نئی وجود میں آتی گئیں۔ اب چونکہ اصل مسودات کا وجود نہیں ہے۔ پھر ہم کس طرح جانتے ہیں، کہ موجودہ بائبل (کتاب مقدس) جسکا مطالعہ ہم کرتے ہیں۔ اُسی طرح  ہےجس طرح انبیاءاکرام پر کافی عرصہ پہلےنازل ہوئی تھی؟ مذہب سے ہٹکر کیا کوئی اور بھی سائنسی علم یا منطقی علم موجود ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ جو بائبل مقدس ہم آج پڑھتے ہیں کیا وہ تبدیل ہوچکی ہے یا نہیں؟

متنی تنقید کے بنیادی اصول

بہت سارے جو اس طرح کے سوال پوچھتے ہیں۔ وہ اس بات کا احساس نہیں رکھتے کہ ایک سائنسی نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ جس کو ہم متنی تنقید کہتے ہیں۔ جس کے زریعے  ہم ان سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں۔ یہ ایک سائنسی نظم و ضبط ہے جو ہر ایک قدیمی تحریر پر لاگو ہوسکتا ہے۔ اس مضمون میں ہم متنی تنقید کے دو اہم اصول استعمال کریں گے۔ اور پھر ان کا اطلاق بائبل مقدس پر کریں گے۔ ایسا کرنے کے لیے ہم اس تصویر سے شروع کریں گے۔ جو اس عمل کی وضاحت کرتی ہے۔ جس کے ذریعے ہم کسی بھی قدیمی تحریر کو آج  پڑھ سکتے ہیں۔

time 1
یہ ٹائم لائن ہمیں دیکھتی ہے کہ کس طرح قدیم کتابیں آج ہمارے پاس ہیں

یہ تصویر ہمیں ایک کتاب کی مشال دیتی ہے۔ جو 500 سال قبل از مسیح لکھی گئی۔ اصل کبھی بھی آخر تک نہیں رہتا۔ اس سے پہلے یہ بوسیدہ ہوجائے یا کھو جائے یا تباہ ہوجائے اس اصل سے اس کی ایک نقل بنالی جاتی ہے۔ اس کو پیشہ ورانہ لوگ جن کو کاتب کہتے ہیں انہوں نے اس کو نقل کیا۔ سالوں پہلے نقل کی گئی نقلیں تیار کی گئی۔ (دوسری نقل سے تیسری نقل) اس طرح محفوط نقل سے ایک تیسری نقل بنائی گئی۔ جس کا مطلب ہے کہ اس کتاب کی حالت (500 AD ) تک معلوم کی جاسکتی ہے۔ لہذا 500 BC  سے 500  AD تک کے عرصہ میں ہم کوئی نقل چیک نہیں کرسکتے۔ جب تک تمام مسودات اس عرصہ میں غائب نہ ہو گے ہوں۔ مثال کے طور پراگر تبدیلی اس وقت ہوئی جب اصل سے دوسری نقل ہو رہی تھی۔ ان دستاویزات میں سے ہم اس کی تبدیلی کا پتہ لگا سکیں گے۔ چاہے اس جیسے مسودات موجود ہوں۔ یہ وقت موجودہ نقول ہونے سے پہلے (مدت x  ) ہے۔ لیکن اس متن کا وقفہ غیر یقینی ہے۔ جہاں پر تبدیلی ہو سکتی ہے۔ لہذا متنی تنقید کے پہلا اصول کا دورانیہ x چھوٹا اور زیادہ اعتماد کے قابل ہے ۔ ہم ان دستاویزات کو ہمارے وقت میں صحیح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ چونکہ غیر یقینی صورتحال کی مدت کم ہے۔

                        بے شک آج ایک سے زیادہ نسحہ جات کی نقل موجود ہیں۔ فرض کریں ہمارے پاس دو مسودات کی نقل موجود ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک کے اسی حصے میں مندرجہ زیل فقرہ ہے۔ (بےشک یہ فارسی میں نہیں ہوگا۔ لیکن میں نے اس کی فارسی میں وضاحت کرنے کے لیے استعمال کیا ہے)

error 2

اب ہمارے پاس چار نسحہ جات موجود ہیں۔ اس سے آسانی سے معلوم کرسکتے ہیں کہ کس میں غلطی پائی جاتی ہے۔ اب ہم آسانی سے فصیلہ کرسکیں گے کہ کس نسحہ میں غلطی ہے۔ یہ زیادہ امکان ہے کہ غلطی ایک بار ہوئی ہو۔ جبکہ ایک ہی غلطی تین بار دوہرائی جائے۔ لہذا اس بات کا امکان ہے کہ MSSs  میں نقل کی خامی کا امکان ہے اور مصنف نے اس کو یوان لکھا تھا نہ کہ جان( جان پھر غلطی ہے) یہ سادہ سی مثال متنی نتقید کے دوسرے اصول کی وضاحت کرتی ہے۔ جس طرح آج جتنے زیادہ نسحہ جات موجود ہیں ۔ ان سے اتنا ہی آسان ہے غلطی کو معلوم کرنا اور اس کو ٹھیک کرنا اور یہ جاننا کہ اصل متن کیا ہے۔

MSS3

تاریخی کتابوں کہ متنی تنقید

            اب ہمارے پاس سائنسی متنی تنقید کے 2 اصول موجود ہیں۔ جن سے ہم کسی بھی پرانی کتاب کے متن کی معتبریت کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ 1) اصل تحریر اور قدیم ترین موجود قلمی نسحوں کی نقل کے درمیانی وقت کی پیمائش  2) موجود قلمی نسحوں کی نقل کی تعداد کا حساب۔ جس طرح ہم یہ اصول قدیم کتابوں پر لاگوکرتے ہیں۔ ہم ان اصولوں کو قدیم کتابوں اور بائبل مقدس کے لیے  بھی لاگو کرسکتے ہیں ۔ جس طرح ذیل کے ٹیبل میں کیا گیا ہے۔

(مصنف جوش میکڈول کتاب کا نام منصفانہ فیصلے کے متقاضی)

اس میں تمام لکھاری قدیم دور کی اہم کلاسیکل تصنیفات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تحریروں نے جدید تہذیب کی ترقی میں تشکیل دی ہے۔ اوسطاً یہ ہمیں 10 – 100 مسودات دے کر گزر گے ہیں۔ تقریباً یہ  1000  سال محفوظ رہیں ہیں جو کہ اصل کے بعد  نقل کی گیئں تھیں۔

بائبل مقدس کے متن کی تنقید

                                    مندرجہ ذیل ٹیبل میں بائبلیکل کتابوں میں اوپر دیئے گے، نقاط کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ خاص کر انجیل شریف کا۔ یہ ٹیبل کتاب The Origin of The Bible سے لیا گیا ہے

MSS

تحریری جب

MSS کی تاریخ

وقت کی مدت
John Rylan

90 AD

130 AD

40 yrs

Bodmer Papyrus

90 AD

150-200 AD

110 yrs

Chester Beatty

60 AD

200 AD

140 yrs

Codex Vaticanus

60-90 AD

325 AD

265 yrs

Codex Sinaiticus

60-90 AD

350 AD

290 yrs

بائبل مقدس کے متن کی تنقید کا خلاصہ

     انجیل شریف کے مسودات کی تعداد بہت ہی وسیع ہے۔ اس لیے اس کو ٹیبل کی فہرست میں رکھنا ناممکن ہے۔

"” آج ہمارے پاس انجیل شریف کے 24000 سے ذائد  MSS  کی نقول موجود ہیں۔ ۔۔ قدیم دور کے کسی بھی دستاویزات کے اس قدر زائد نسحوں کی تعداد اور تصدیق حاصل نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں “ILIAD” قدیم ہومر نامی مصنف کی ایک کتاب کی 643 MSS  کی نقل موجود ہیں۔  (مصنف جوش میکڈول کتاب کا نام منصفانہ فیصلے کے متقاضی)

برطانیہ کے میوزیم کےایک معروف عالم اس بات پر متفق ہیں۔

” علمااکرام رومن اور یونانی مصنفین کے متن کے حقیقی اصولوں پر کافی حد تک مطمین ہیں۔ جب کہ ہمارا علم ان کی مٹھی بار تحریرات کی MSS   کی نقول پر ہے۔ جب کہ انجیل شریف کے MSS    کی تعداد ہزاروں میں ہے”

(کینیون ایف جی، برٹش میوذیم کے سابق ڈائریکٹر، کتاب: ہماری بائبل اور قدیم مسودات)

میرے پاس ایک کتاب ہے جو ابتدائی نسخہ جات کے بارے میں ہے۔ یہ کتاب اس طرح شروع ہوتی ہے۔

” یہ کتاب انجیل شریف کے ابتدائی 69 مسودات کی نقل فراہم کرتی ہے۔۔۔ اس کی تاریخ 2 دوسری صدی کے شروع سے 4 چوتھی صدی تک ہے۔ ( 100-300 AD  ) جو 2 سے 3 انجیل شریف کے نسخوں تک محدود ہے۔ "

(مصنف P. Comfort   کتاب "قدیم ترین انجیل شریف کے یونانی نسخہ جات”

دوسرے الفاظ میں یہ مسودات جو موجود ہیں اتنے قدیم ہیں کہ ان میں سے کئی 100 سال کے قریب یا پھر انجیل شریف کی اصل کے پہلی نقل میں سے ہیں۔ یہ مسودات بادشاہ کانسٹنٹائن کی حکومت اور رومی کلیسا کے وجود میں آنے سے پہلے ہیں۔ یہ بحیرہ روم اور اس کے اردگرد کی دنیا میں پھیل چکے تھے۔ اگر ایک علاقے کے نسخے میں تبدیلی ہوئی ہوتی تو دوسرے علاقے کے نسخے سے اس کی تصدیق کی جاسکتی تھی۔ لیکن یہ تما م ایک جیسے ہیں۔

ہم یہاں سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔ یقنی طور پر انجیل شریف کے جتنے نسخہ جات پائے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کسی دوسرے قدیم نسخے کے نہیں ہیں۔ ( موجود MSSs کی تعداد اور اصل قدیم ترین نسخہ جات کے درمیان کے وقت تک پھیلا ہوا ہے) یہ فیصلہ کن ثبوت ہمیں اس درج ذیل خلاصہ تک لے آتے ہیں۔

” انجیل شریف کے متن پر شک کا نتیجہ ہمیں قدیم دور کی تمام پرانی داستاویزات پر ابہام کی طرف لے آتا ہے۔ لیکن قدیم تحریرات میں سے ہمیں کوئی ایسی قابل اعتماد کتابیات نہیں ملتی جیسی انجیل شریف کی ہے۔ ( منٹگمری،  کتاب ، تاریخ اور مسحیت)

جو کچھ اس نے کہا اس کو جاری رکھیں گے۔ اگر ہم بائبل مقدس کے معتبر ہونے پر سوال کرتے ہیں ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس کو تمام قدیم تاریخی علوم سے جدا کر رہے ہیں۔ جو ایسا آج تک کسی مورخ  یا  تاریخ دان نے نہیں کیا۔ ہیروڈوٹس (Herodotus) کی تحریرات کو کوئی تبدیل شدہ نہیں سمجھتا۔ جب کہ ان مسودات کی کل تعداد 8 آٹھ ہے۔ اور ان کی نقل کا وقفہ اصل سے 1300 سال کا ہے۔ اس طرح ہم کیسے سوچ سکتے ہیں کی بائبل مقدس کے متن میں تبدیلی ہوگئی ہے؟ جبکہ اس کے مسودات کی کل تعداد 24000 مسودات ہیں اور ان کی اصل سے نقل کے وقت کا وقفہ 100 سال ہے۔ اس بات کی کوئی سمجھ نہیں آتی کے یہ کیسے لوگوں کہہ دیتے ہیں کہ بائبل مقدس تبدیل ہوگئ ہے۔

            ہم جانتے ہیں کہ زمانے بدلے، زبونیں بدلیں، اور سلطنتیں کو زوال آیا لیکن بائبل مقدس کے متن میں کھبی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان تمام واقعات و حالات میں سے قدیم ترین MSSs ابھی بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کسی پوپ نے اور نہ ہی رومن بادشاہ کانسٹنٹائن نے بائبل مقدس میں تبیلی نہیں کی ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس موجود مسودات پوپ اور بادشاہ کانسٹنٹائن سے پرانے ہیں۔ یہ تمام مسودات آج کی موجودہ بائبل مقدس کے ساتھ بالکل یکساں ہیں۔

درج ذیل ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے۔ کن مسودات سے موجودہ بائبل مقدس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔

slide4
موجودہ دور کی بائبل مقدس کا ترجمہ قدیم ترین یا ابتدائی مسودات سے کیا جاتا ہے۔ جن کا دورانیہ 300- 100 AD ہے ۔ یہ تمام مسودات بادشاہ کانسٹنٹائن اور دوسری مذہبی طاقتوں سے پہلے کے موجود ہیں۔

مختصراً یہ ہے کہ نہ تو وقت نے نہ ہی مسیحی راہنماوں نے اُس پیغام کو تبدیل کیا۔ جو سب سے پہلے بائبل مقدس میں لکھا گیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہزاروں سال پہلے مصنفین نے لکھا تھا ہم اُس کو آج اُسی طرح پڑھتے ہیں جسطرح لکھا گیا تھا۔ متنی تنقید کی یہ سائنس بائبل مقدس کے متن کی تصدیق کرتی ہے۔ کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

یونیورسٹی میں متنی تنقید پر ایک لیکچر

ہے University of Western Ontarioمجھے اس موضوع پر ایک یونیورسٹی جسکا نام

لیکچر دینے کا استحقاق ہوا۔ ذیل میں 17 منٹ کی ویڈیو ہے جس میں اس سوال کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح اب تک ہم نے انجیل شریف کے متن کی تنقید کے بارے میں جانا ہے۔ لیکن زبور شریف، تورات شریف، جن سے پرانہ عہد نامہ بنتا ہے۔ اس کے بارے کیا جانتے ہیں۔ ذیل میں 7 منٹ کی ویڈیو میں اس سوال پر بات کی گئی ہے۔

انجیل بدل چُکی ہے! سنُت کیا فرماتی ہے؟

میری گزشتہ اشاعت میں دیکھ چُکا ہوں کہ قرآن توریت ، زبُور اور انجیل مقُدس کے مکاشفات اور نزول کے بارے کیا کہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ قرآن میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ جو پیغام اللہ کی طرف سے حضرت مُحمد پر 600 قبل از مسیح نازل ہوا، جو کہ انجیل مقُدس کے پیروکار ہیں(وہ تاریخ کے ساتھ تبدیل یا بدل نہیں سکتے)، اسی طرح قرآن میں اِس بات کی تصدیق بھی ملتی ہے کہ انجیل مقُدس اُس کے الفاظ ہیں، اور وہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتے۔ اِن دونوں بیانات سے یہ بات یقین دہانی ہے کہ خُدا کا کلام کبھی بھی تبدل نہیں سکتے جن میں توریت، زبُور اور اناجیل شامل ہیں۔

میں اِس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ مطالعہ کو جاری رکھنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی کتاب سنُت اِن موضوعات پر کیا کہتی ہے۔ حدیث اِس کی بات کی تصدیق کرتی ہے کہ توریت اور انجیل کا اِستعمال  حضرت محمد ؑ کے دور میں ہو چکا ہے۔

خدیجہ (اُس کی بیوی)جوکہ (حضرت محمدؑ کی بیوی ہے)  اُس کا رشتہ دار ورقہ جو کہ اسلام کے پھیلانے سے پہلے مسیحیت کو قبول کر چکا تھا ؛ اُس نے عبرانی زبان میں خط لکھتا ہو تا تھا۔ وہ انجیل میں سے عبرانی زبان میں لکھ سکتا تھا جیسے کہ خُدا اُس سے چاہتا تھا۔  امام بخاری (البخاری) والیم 1 ، کتابچہ 1  ؛ نمبر 3

ابوہریرہ نے بیان کیا: کہ وہ لوگ توریت کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور پھر اُس کو مسلمانوں کو عربی زبان میں سمجھاتے تھے۔ تب اللہ کے رسول نے کہا، ‘‘لوگوں کے کلام پر یقین مت کرو، اور نہ ہی اُن کو اِس پر ایمان لانے سے رکھو، لیکن کہو، کہ ہم اللہ کی طرف سے جو نازل ہوچُکا ایما ن رکھتے ہیں۔۔۔۔۔’’ امام بخاری (البخاری) والیم 9 ، کتابچہ 93 ؛ نمبر632

یہودی اللہ کے رسول کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر مرد اور عورت غیر شرعی طور پر آپس میں مبشارت کرتے ہیں ۔ اللہ کے رسول نے اُن سے کہا، ‘‘تمہیں توریت میں اِس جرم کی کیاقانونی سزا ملتی ہے (سنگساری)؟’’ اُنہوں نے جواب میں اُس نے کہا، ‘‘(لیکن) ہم اُن کے جرم کا اعلان کرتے اور اُن کو قید میں ڈالنے کا حکم دیتے ہیں۔’’ تب عبداللہ بن سلام نے کہا، ‘‘تم جھوٹ بول رہے ہو؛ توریت تو کہتی ہے کہ اُن کو سنگسار کرو۔’’۔۔۔۔۔۔۔۔سنگسارکا حوالہ وہاں (توریت) میں موجود ہے۔  اُنہوں نے کہا حضرت محمدؑ (اللہ کا رسول) سچا فرماتا ہے؛ توریت میں سنگسار کرنے کا حوالہ درج ہے۔  امام بخاری (البخاری) والیم 4، کتابچہ  56؛ نمبر 829

عبداللہ ابن ِ عمر بیان فرماتے ہیں۔۔۔۔۔یہودی کا لشکر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ ولی وسلم حضرت محمد کوف کے لئے دعوت دی۔۔۔۔۔ اُنہوں نے کہا،‘ابو القاسم ، کہ اُس نے ایک عورت کے ساتھ زناکاری کی ؛ سو اُس پر بھی عدالت ہوگی۔ اُنہوں نے اللہ کے رسول کے لئے تکیہ دیا اور وہ اُس سے بیٹھے اور کہا؛‘‘ توریت لے کر آؤ’’۔ تب وہ توریت لے کر آئے۔پھر آپ نے تکیہ نکلا اور توریت کو رکھا اور یہ کہا؛‘‘میں اِس پر ایمان رکھتا ہوں اور اُس پر بھی جس نے اِس کا نازل فرمایا۔’’ سنُت ابودادؤ  کتابچہ 38، نمبر 4434

کابیان: اللہ کے رسول فرماتے ہیں؛ جمعہ کے دِن جب سورج طلوع ہوتا ہے وہ مبارک دِن ہے، اِس دِن آدم تخلیق کیا گیا تھا۔۔۔۔۔کیتب نے فرمایا: ہر  ابوہریرہ…سال میں ایک دِن ہوتا ہے۔ تب میں نے کہا: یہ ہر جمعہ ۃ المبارک پر ہوتا ہے۔ کیتب نے توریت کو پڑھا اور کہا: کہ اللہ کے رسول محمدؑ نے  سچافرمایا۔ سنُہ ابو داؤد کتاب 3 نمبر 1041

یہ احمقانہ احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ رسول محمدؑکا رویہ کہ بائبل میںجو اُس دِن کے بارے میں پہلے سے نشاندہی کی جا چُکی ہے۔ پہلی حدیث بیان کرتی ہے کہ انجیل پہلے سے موجود تھی جب اِس نے پہلی آواز کر سُنا۔ دوسری حدیث بتاتی ہے کہ یہودی توریت کو عبرانی زبان میں اُس وقت کے مسلمانوں کے لئے پڑھتے تھے۔ حضرت محمد اُن کے کسی بھی بیان کردہ مجموعے کو رد نہیں کرتا تھا، لیکن فرق  کو ظاہر کرتا تھا  عربی وضاحت اُن کی کرتا تھا۔ اگلی دو احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ محمدؑ نے توریت کو اپنے اُس دِن کے لئے استعمال کی ہے۔ اور آخری حدیث سے نظر آتا ہے کہ توریت، اِس بات کی گواہ ہے کہ جب انسان کو پیدا کیا گیا تب جمعہ کا دِن تھا۔ اِن احدیث میں سے کوئی بھی اِس بات کو ثابت نہیں کر پائی کہ بائبل(کلام ِ مقدس) تبدیل اور اِس میں کوئی ردوبدل ہوا ہے۔ یہ اہم کام کے لئے استعمال ہوئی ہے۔

عہد جدید (انجیل کی اصل کتابیں)

میرے پاس عہدجدید کی اصل کتب جو موجود ہے جو کہ اِس سے شروع ہوتی ہے:

2 عہدجدید /‘‘عہد جدید شروع میں 69 کا مجموعہ پیش کر تا ہے کہ بتاریخ دوسری صدی کے آغاز سے لے کر چوتھی صدی تک (100تا 300 اے ڈی)۔۔۔۔۔3

کا حصہ مشتمل ہے (پی پرُسکون،‘‘آغاز میں عہدجدید یونانی زبان میں موجود ہے’’۔ تعارف پی 17۔2001)۔

یہ اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ تحریریں رومی حکومت کے آنے سے پہلے (325 اے ڈی)۔ اگر اِس میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو ہمیں اِس کی تحقیق کرنی ہے کہ اِس میں محمد کے آنے سے پہلے تبدیل ہوئی ہے کہ اُس کے آنے کے بعد۔ ہمارے پاس مختلف زبانوں میں ترجمہ کی گئی جو کہ آج بھی مکمل طور پر اپنی اصل حالت میں موجود ہے جو کہ محمدؑ کے آنے سے پہلے سے موجود تھی۔ سب سے زیادہ مشہور کوڈ یہ ہیں، سینی ٹیکس(سی اے 350 اے ڈی) اور یہ کوڈ، ویٹی نیکس(سی اے 325 اے ڈی)۔ یہ اور اِس کے علاوہ بہت سارے دوسرے مجموعے جو کہ 600اے ڈی سے پہلے دُنیا کے دوسرے علاقوں میں سے آئے۔ یہ مسیحی خیال اور مسیحی نخسہ جات میں تبدیلی کوئی بھی سمجھ نہیں رکھتا۔ یہ بالکل ناممکن کہ اِس ٹیکٹ میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔ یہاں تک کہ اگر یہ عربی میں ترجمہ کی گئی تو بھی یہ اصل حالت میں موجود ہے اور ایسے ہی ہمیں کہنا چاہیے کہ یورپ اور سیریا میں بھی کوئی تبدیل نہیں آئی، اور یہ یقیناً ایسا ہی ہے۔ پر قرآن اور احدیث دونوں واضع طور پر تصدیق کرتے ہیں کہ بائبل 600 اے ڈی سے پہلے موجود تھی اور بائبل مقدس کے تمام نخسہ جات پہلے سے رقم ہیں، اور اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ نیچے دی گئی ٹائم لائن اِس چیز کی وضاحت کرتا ہے کہ بائبل مقدس 600 اے ڈی کی بنیاد پر ہے۔

آغاز ہی سے توریت اور زبور کی کاپی موجود ہے۔ سکلرولز کا مجموعہ بحرہ ِمردار سے جانا جاتا ہے، یہ بحرہ مردار 1948 کو دریافت کیا گیا۔ یہ سکلرولز توریت اور زبور 200تا100 عیسوی سےلکھی جا چُکی تھی۔ اِس کا مطلب ، مثال کے طور پر حضرت موسیٰ نے توریت تقریباً(1500 عیسوی) کو دے دی تھی، ہمارے پاس توریت کی کاپیاں عیسیٰ المسیح اور محمدؑ کے آنے سے پہلے کی موجود تھیں۔ ہم اِس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ پہلی کتابیں جو رسولوں پر نازل ہوئی اِن کللک کریںمیں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ میں اِس کو واضح طور دیکھا کہ یہ یقینی ہے اگر آپ اِس کو سائنسی نظر سے دیکھنا ہے تو اِس آرٹیکل پر

اِس بات کو شہادت ملتی ہے کہ حضرت محمدؑ نے جو کچھ احدیث میں فرمایا کہ کلام ِ مقدس (بائبل) تمام نخسے آج بھی ویسے کے ویسے ہیں اور قرآن بھی اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بائبل تبدیل نہیں ہوئی۔

آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات - بہت پہلے سے
آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات – بہت پہلے سے

(حضرت ابراہیم ؑ کی دوسری نشانی (راستباز

یہ کیا ہے جسکی ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرورت ہے؟ ہم اس سوال کے بہت سارے جواب سوچ سکتے ہیں۔ لیکن حضرت آدم ؑ کی نشانی یاددلاتی ہے۔ کہ سب سے اوّل اور عظیم ترین ضرورت راستبازی کی ہے۔ قرآن شریف میں یہ الفاظ برائے راست ہمارے ساتھ مخاطب ہیں( آدم ؑ کی اولاد

اے آدم کی اولاد ! بیشک ہم نے رتمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔

 (سورة الاعراف 7:26 )

تو پھر راستبازی کیا ہے؟ (تورات شریف کی پانچویں کتاب استثنا 32:3-4 ) ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاتی ہے۔

کیونکہ میں خداوند کے نام کا اشتہار دوں گا۔ تم ہمارے خدا کی تعظیم کرو۔´ وہ ہی چٹان ہے۔ اُس کی صنعت کامِل ہے کیونکہ اُس کی سب راہیں انصاف کی ہیں۔ وہ وفادار خدا اور بدی سے مُبّرا ہے۔ وہ منصف اور بر حق ہے۔ استثنا 32 :3-4

راستبازی کی یہ تصویر اللہ تعالیٰ نے ہمیں تورات شریف میں دی ہے۔ راستبازی کا مطلب ہے وہ جو کامِل ہے۔ وہ جو سب راہوں میں سچا ہے۔ تورات شریف اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس طرح بیان کرتی ہے۔ لیکن ہمیں کیوں ضرورت ہے کہ ہم راستبازی کے بارے میںجانیں ؟ ہم اس کا زبور شریف میںجواب دیکھتے ہیں

زبور 15
۱)اے خداوند تیرے خیمہ میں کون رہے گا؟
تیرے کوہ مقدس پر کون سکونت کرے گا؟
۲) وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔
۳) وہ جو اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سُنتا۔
۴) وہ جس کی نظر میں رذیل آدمی حقیر ہے پر جو خداوند سے ڈرتے ہیں اُن کی عزت کرتا ہے۔ وہ جو قسم کھا کر بدلتا نہیں خواہ نقصان ہی اُٹھائے۔
۵) وہ جو اپنا روپیہ سُود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھا ئے گا۔

جب وہ یہ پوچھتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے پہاڑ پر کون رہے گا۔ تو دوسرے معنوں میں وہ یہ پوچھ رہا ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی جنت میں کون رہے گا۔ تو ہم اس کا جواب اس طرح پڑھتے ہیں۔ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دِل سے سچ بولتا ہے۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی جنت میں اُس کے ساتھ رہے گا۔ اس طرح کی راستبازی کی ہمیں ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنت میں رہنے کے لیے راستبازی ضروری ہے۔

حضرت ابراہیم کے بارے میں سوچو. وہ کس طرح راستبازی حاصل کی بارے مقدس کتابوں میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.

حضرت آدم ؑکی نشانی بھی ہمیں یہی سیکھاتی ہیں کہ ہمیں راستبازی کی ضرورت ہے۔ تاہم یہاں پر سوال یہ ہے۔ کہ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ سب کیسے حاصل کیا؟

اکثر میں سوچتا ہوں کہ میں دو میں سے ایک راستہ پر چل کر راستبازی حاصل کرسکتا ہوں۔
پہلا راستہ: میں راستبازی ا س طرح حاصل کر سکتا ہوں ۔ کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاوں اور یقین رکھوں۔ کہ اللہ تعالیٰ وجود رکھتاہے۔ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ کیایہ سوچ اس بات کی حمایت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور وہ راستباز ٹھہرے ۔ لیکن غور و حوض کرنے کے بعد میں اس حقیقت کو جان سکا ۔کہ اس کا صرف یہ مطلب نہیں تھا۔ کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لائے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ سچا وعدہ کیا۔ کہ تیرے ایک بیٹا پیدا ہوگا ۔ اور یہ وہ وعدہ تھا جس پر ابراہیم ؑ کو ایمان لاناتھا ےا ایمان نہیںلانا تھا۔ اسی طرح سوچیں تو ہم جانتے ہیں ۔ کہ ابلیس بھی ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ لیکن اس کے باعث وہ راستباز نہیں ہے۔ اس طرح صرف یہ ایمان رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ یہ کافی نہیں ہے۔
دوسراراستہ:میں کئی بار سوچتا ہوں کہ میں نیک کام کرکے راستبازی حاصل کرسکتا ہوں۔ بُرے کاموں کی نسبت زیادہ اچھے کام کرنے سے یا کوئی خاص نیک کام کرنے سے یا کسی حد تک نیک کام کرنے سے راستبازی حاصل کرسکتا ہوں یا کماسکتاہوں۔ لیکن ےاد رکھیں ۔ تورات شریف کا حوالہ کیا کہتا ہے؟ میں نے یہاں تورات شریف کی آیت پھر سے لکھی ہے۔ تاکہ ہم پھر سے اس آیت کو دیکھ سکیں۔

اور وہ (حضرت ابراہیم ؑ ) خداوند پر ایمان لایا اور اسے اُس نے اُس کے حق میں راستبازی شمار کیا۔´  پیدایش 15:6

حضرت ابراہیم ؑ نے راستبازی نیک کاموں کے وسیلے کمائی نہیں تھی ۔ بلکہ یہ اُن کے لیے شمار کیاگیا۔ اس کا کیا فرق ہے؟ ٹھیک اسی طرح! اگر آپ کچھ کماتے ہیں۔ تو اُس کے لیے آپ کو کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ آپ کوئی کام کرتے ہیں اور اُس کی اُجرت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن جب کوئی چیز آپ کو مفت دی جائے ۔ تو اُس کے لیے آپ کو کچھ کمانا یا کام نہیں کرنا پڑتا۔
حضرت ابراہیم ؑ ایک آدمی تھا۔ جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر گہرا ایمان رکھتاتھا۔وہ ایک مردِ دعا، دیندار اور دوسرے لوگوں کی مدد کرتا تھا۔البتہ ہم ان باتوں کو رد نہیں کررہے۔لیکن جو طریقہ یہاں پر بتایا گیا ہے ہم اُس کو آسانی سے نظر انداز کرسکتے ہیں ۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ ابراہیم ؑ راستباز ٹھہرا کیونکہ اُس وعدہ پر ایمان رکھا جو اللہ تعالیٰ نے اُس سے کیا تھا۔ یہ عام فہم بات کے اُلٹ ہے۔ کہ ہم راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ صرف اس سوچ اور ایمان سے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ یا پھر نیک کام کرنے سے ہم راستبازی کے معیار کو حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس طریقہ کو نہیں اپنایا تھا۔ بلکہ اُس نے بڑے سادہ انداز میں اُس وعدہ پر ایمان رکھا۔
اب اس بات کا انتخاب کرنا اور یقین رکھناکہ میں تم کو بیٹا دوں گا۔ شاید یہ سادہ ہے لیکن یہ یقینی طور پر آسان نہیں تھا۔ ابراہیم ؑ آسانی سے اس وعدہ کو نظرانداز کرسکتا تھااس وجہ کو بیان کرکے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ واقعی مجھے بیٹا عطا کرنا چاہتا ہے تو وہ مجھے اس وقت اس کے لیے طاقت بھی عطا فرمائیں۔ کیونکہ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ اور اُس کی بیوی حضرت سارہ ؑ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ وہ بچے پیدا کرنے کی عمر میں سے گزر چکے تھے۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی میں وہ 75 سال کی عمر کے تھے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا گھر، رشتے دار اور ملک چھوڑ کر ملکِ کنعان کو ہجرت کی۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اُس کو ایک بڑی قوم بنائے گا۔ اور اب کئی سال گزرگئے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ اور اُس کی بیوی بوڑھے ہو چکے تھے اور پہلے ہی بہت زےادہ انتظار کر چکے تھے۔ اُن کا نہ تو کوئی بچہ تھا اور نہ ہی کوئی قوم۔ وہ اس بات سے حیران ہو سکتاتھا۔ اگر اللہ تعالیٰ بیٹا دے سکتا تھا تو اس نے ابھی تک کیوں نہیں دیا؟ لیکن دوسرے الفاظ میں اُس نے آنے والے بیٹے کے وعدے کا یقین کیا۔ تاہم اُن کو اُس وعدہ کے بارے میں مکمل سمجھ نہیں تھی۔ اس و عدے پر یقین کرناکہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ اور اس کی بیوی کو بیٹا دے گا یہ ایک معجزاہ کے مترادف تھا ۔ اورو عدے پر یقین کرناانتظار کرنے کا مطالبہ تھا۔ وعدہ کئے ہوئے بیٹے کے انتظار میں اور اس کے احساس میں اُس کی ساری عمر ملکِ کنعان کے خیموں میں گزر گئی۔ اُس کے لیے بڑھا آسان تھا کہ وہ اس وعدے کو رد کرے اور واپس اپنے آبائی ملک( جو اس وقت کا ترقی یافتہ ملک تھا) مسوپتامیہ میں چلا جائے۔ جس کو اس نے بہت سال پہلے چھوڑ دیا تھا۔ جہاں اُس کے بھائی اور خاندان رہتا تھا۔ لیکن ابراہیم ؑ وہاں تمام تر مشکلات اور وعدے پر یقین رکھتا رہا۔ ہرایک دن اور بہت سارے سال اس نے وعدہ پورا ہونے کے انتظار میں گزار دئیے۔ اُس نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو اپنی عام زندگی کے کاموں سے بڑھ کر ترجیع دی اور اس میں مطمن تھا۔ حقیقی معنوں میں پورے ہونے والے وعدے پر مکمل طور پر بھروسہ کرنے سے مراد معمول کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ وعدے پر بھروسے سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ۔ حضرت ابراہیم ؑ کا اللہ تعالیٰ پر ایمان اور محبت کس قدر تھی۔
چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ کا وعدے پر ایمان اس کے جذبات اور ذہنی احساسات سے بڑھ کر تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اپنی زندگی، اپنی شہرت، حفاظت اور اس وعدے کے بارے میں حال کی اور مستقبل کی امید وں کو بلکہ سب کچھ داﺅ پر لگانا پڑا۔ کیونکہ اس کو یقین تھاکہ وہ فرمانیرداری کے ساتھ انتظار کر رہا ہے۔ تاہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ہمیں بتاتی ہے۔ کیسے اس نے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر بھروسہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اُسکو ایک بیٹا دے گا۔ اور ایسا کرنے سے حضرت ابراہیم ؑ راستباز قرار دیا گیا۔ حقیقی معنوں میں حضرت ابراہیم ؑ نے وعدے کی مکمل اطاعت کی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس کا انتخاب نہ کیا ۔کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کا انکار کر دیںاور اپنے آبائی ملک واپس چلیں جائیں۔ لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان رکھا۔ نماز پڑھتے اور دوسرے لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ اس صورت حال میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی مذہبی فرائض کو جاری رکھالیکن یہ کام راستبازی کمانے کے لیے نہیں کرتے تھے۔ جس طرح قرآن شریف حضرت آدم ؑ کی اولاد سے ارشاد فرماتا ہے۔

سب سے بہترین لباس راستبازی کا ہے

یہ حضرت ابراہیم ؑ کا طریقہ کار ہے۔
اب تک ہم بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے۔ کہ ہم اپنے نیک کاموں سے جنت کما نہیں سکتے۔ بلکہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کرنے سے مل جاتی ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ہم تیسری نشانی جاری رہیں گے۔

(حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی (برکات

حضرت ابراہیم ؑ ! آپ ابراہیم اور ابرام کے نامو ں سے جانے جاتے ہیں۔ تینوں وحدانی مذاہب ، یہودیت، عیسائیت اور اسلام آپ کے نمونہ کی پیروی کرتے ہیں۔ عرب اور یہودی اپنے جسمانی نسب نامے کو حضرت اسمعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ کے ساتھ ملاتے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ نبیوں کی فہرست میں اہم ترین نبی ہیں۔ کیونکہ ان کی نشانی تمام انبیاءکے لیے بنیاد ہے۔لہذا ! انہوں نے ایسا کیا کیا جو اُن کے کردار کو تمام انبیاءاکرام کے لیے اہم کردار بنا دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب انتہای اہم ہے۔ اس کو جاننے کے لیے ہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانیوں میں سے چند ایک پر غور کریں گے۔
یہاں پر کلک کریں۔ قرآن شریف اور تورات شریف میں سے حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی کو پڑھنے کے لیے۔
ہم نے قرآن شریف کی آیات میں سے دیکھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے ’قبائل ‘ آئے ہیں۔ اور ان لوگوں نے بعد میں ایک عظیم بادشاہت حاصل کی تھی۔ لیکن ایک شخص کے پاس ایک بیٹا ہوناضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ اُس کے پاس قبیلے ہوں۔ اس سے پہلے کہ لوگ ایک عظیم بادشاہی قائم کریں۔ اور اُن کے پاس جگہ ہو نابھی ضروری ہے۔

 یہ حوالہ تورات شریف میںسے لیا گیا ہے۔ تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش 12 :2-3 ۔ اس میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ سے آنے  والے ’قبائل اور ایک عظیم بادشاہت کی دوہری تکمیل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ وعدہ کرتا ہے۔کہ جو آنے والے مستقبیل کے لیے بنیاد ہے۔ آیئں ہم اسکو تفصیل سے دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑسے فرماتا ہے۔

اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناﺅ نگا اور برکت دونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔ سو تو باعث برکت ہو!۔´ جو تجھے مبارک کہیں اُنکو میں برکت دونگا اور جو تجھ پر لعنت کرے اُس پر میں لعنت کرونگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائینگے۔´ پیدایش 12  :2-3

حضرت ابراہیم ؑ کی عظمت

آج مغرب میں بہت سے لوگ جہاں میں رہتا ہوں تعجب میں رہتے ہیں۔ کہ اگر خدا ہے ۔ تو ایک شخص کیسے جان سکتا ہے ۔ کہ اس نے خود کا انکشاف حقیقی طور پر تورات شریف میں کیا ہے۔ اب ہمارے پاس ایک وعدہ ہے۔ جس کے حصوں کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے برائے راست وعدہ کیا ہے۔ ’میں تیرانام سرفراز کرونگا۔ ‘ آج ہم اکیسو یں صدی میں موجود ہیں اور حضرت ابراہیم ؑابراہامابرام واحد نام ہے جو تاریخی طور پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ یہ وعدہ تاریخی اور لفظی طور پر پورا ہوچکا ہے۔ آج جو تورات شریف کا قدیم ترین نسخہ بخرہ مردار سے ملا جس کی تاریخ 100-200 ق م ہے۔(دیکھیں ہمارا مضمون ”کیا سنت ِرسول اس کی تصدیق کرتی ہے کہ تورات شریف، انجیل شریف اور زبور شریف لاتبدیل ہیں یا نہیں“) اس کا مطلب ہے کہ یہ وعدہ تقریباً تھوڑے ہی عرصے بعد تحریری ہوگیا۔ اُس وقت تک حضرت ابراہیم ؑ کی شخصیت اور نام بہت زیادہ مشہور نہیں ہوا تھا۔ صرف چند یہودی اُس کو جانتے تھے۔ جو توریت کے پیروکار تھے۔ لیکن آج ہم حضرت ابراہیم ؑکے نام کی عظمت جانتے ہیں۔ ہم یہاں دیکھ سکتے ہیںکہ یہ تمام وعدے لکھے جانے سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں پورے ہوئے۔ حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ یہ وعدہ یقینی طور پر پورا ہوا۔ یہ غیر ایمانداروں کے لیے بھی واضح ہے۔ اور اس سے ہمیں وعدے کے باقی حصّے کو سمجھنے میں زےادہ اعتماد ملتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ کیا تھا۔ آئےں ہم مطالعہ کو جاری رکھیں۔

ہمارے لیے برکات

ہم ایک بار پھر وعدہ کو دیکھے سکتے ہیں۔ ابراہیم ؑ سے ایک بڑی قوم بناو نگا اور اور اس کو برکت دونگا۔ لیکن یہاں ایک اور خاص بات پائی جاتی ہے۔ کہ یہ برکات صرف ابراہیم ؑ کے لیے نہیں تھی۔ بلکہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ © ’ ’ زمین کے سب قبیلے (لوگ) تیرے وسیلے سے برکت پائینگے“۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کون سے مذہب سے ہیں، ہمارا کون سا نسلی پس منظرہے، کہاں ہم رہتے ہیں، ہماری معاشرے میں کیا حیثیت ہے اور کون سی ہم زبان بولتے ہیں۔ یہ وعدہ آج ہم سب کو اِس میں شامل کرتا ہے۔ اگرچہ ہمارا مذہب، نسلی پس منظر، اور زبان مختلف ہیں۔ لیکن اکثر لوگ تنازعات کی وجہ سے اس کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ یہ ایک وعدہ ہے جسکو ہمیں ان تمام تر تنازعات سے بالا تر ہو کر دیکھنا چاہیے۔
کیسے، کب اور کس قسم کی برکات؟ یہ واضح طور پر ظاہر نہیں ہوئی لیکن یہ وعدہ حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعے ایک نشانی کو ظاہر کرتا ہے جو تمہارے اور میرے لیے معنی خیز ہے۔ہم جانتے ہیں کہ وعدہ کا ایک حصہ پورا ہوگیا ہے۔ ہم اعتماد کر سکتے ہیں کہ وعدے کا اگلا حصّہ جس میں ہم شامل ہیں واضح اور لفظی طور پر پورا ہوگیاہے ۔ صرف اس کو کھولنے کے لیے ہمیں چابی کی ضرورت ہے۔
لیکن یہاں توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہ وعدہ ملا اُس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی ۔
”سو ابراہیم ؑ خداوند کے کہنے کے مطابق چل پڑا (آیت ۴)

map-of-abrahams-trek
حضرت ابراہیم علیہ السلامکے سفر کا نقشہ

ملکِ موعودہ تک یہ کتنی دیر کا سفر تھا؟ یہ نقشہ ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کے سفربارے میں دکھاتا ہے۔کہ حضرت ابراہیم ؑ اُور کا رہنے والا تھا۔ ( آج کا جنوبی عراق) اور پھر حاران چلے آئے(آج کا شمالی عراق) پھر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا سفراُس وقت جو ملکِ کعنان کہلاتاتھاکی طرف کیا ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ ایک لمبا سفر تھا ۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اونٹ پر یا گھوڑے یا پھر گدھوں پر سفر کرنا تھا۔ اس میں کئی ماہ لگ گے۔ ابراہیم ؑ نے اپنے خاندان کو چھوڑا ، اپنی آرام دہ اور پُر سکون زندگی کو چھوڑا ( میسوپوٹا میا = مسوپتامیہ اُس وقت تہذیب کا مرکز تھا۔ جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے چھوڑدیا) اپنے محفوظ ملک کو چھوڑ کر وہ ایک ایسے ملک کے لیے سفر شروع کردیا جس سے وہ واقف نہیں تھا۔ یہ سب کچھ ہم کو تورات شریف بتاتی ہے۔ جب وہ 75 سال کا تھا۔

گذشتہ انبیاءکی طرح جانوروں کی قربانیاںکا طریقہ کار:
تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کی جب حضرت ابراہیم ؑ ملکِ کعنان خیریت سے پہنچ گئے۔ تو
آیت 17 (اُس نے وہاں خداوند کے لیے ایک قربان گاہ بنائی)
حضرت ابراہیم ؑ نے ایک قربان گاہ بنائی ۔ جیسی پہلے حضرت قائن ؑ نے اور بعد میں حضرت نوح ؑ نے بنائی۔ وہاں اُس نے قربان گا ہ پر جا نوروں کی قربانیاں پیش کی۔ ہم یہاں پر ایک نمونہ کو دیکھ سکتے ہیں۔کہ کس طرح انبیاءاکرام نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور عبادت کی۔
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ایک نئی سر زمین پر چلے گے۔ لیکن ایسی فرمانبرداری کرنے کے باعث اللہ تعالیٰ نے دو برکات کا وعدہ کیا۔ اُس کو برکت دی اور دنیا کے قبیلے حضرت ابراہیم ؑ کے وسیلے برکت حاصل کریں گے۔ اسلئے یہ ہمارے لیے بہت زیادہ اہم ہے۔
لیکن ہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی کو جاری رکھیں گے۔ ہماری اگلی پوسٹ دیکھیں۔