ہماری پیاس کا نشان

ہم نے اسرائیلیوں کی تاریخ میں دیکھا کہ اگرچہ ان کو شریعت کا قانون بائبل(الکتاب) کے ذریعہ دیا گیا۔ لیکن ان کی تاریخ اس شریعت کے خلاف نافرمانی اور گناہوں سے بھری پڑی ہے۔ میں زبور کے تعارف میں ذکر کیا تھا کہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے بعد جن بادشاہوں نے ان کی نسل میں سے اسرائیل پر حکومت کی اُن میں سے زیادہ شریر اور بدکار بادشاہ ہی تھے۔ لہذا اللہ نے زبور شریف میں کئی نبیوں کو ان بادشاہوں کو ڈرانے کے لئے بھیجا.

یرمیاہ – انتباہ کا رسول

 تاریخی ٹائم لائن حضرت یرمیاہ
تاریخی ٹائم لائن حضرت یرمیاہ

حضرت یرمیاہ نبی (نبیوں کے ٹائم لائن میں دیکھیں) بادشاہوں کے اُس دور میں برپا ہوئے جن دنوں میں گناہ اور برائی بہت بڑھ چکی تھی۔ جن گناہوں کی فہرست حضرت یرمیاہ نبی نے دی ہے۔ وہ آج ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے۔ یعنی زنا، شراب نوشی، جنسی غیر اخلاقی حرکات، جادو، فساد، لڑائی، ظلم، بے ایمانی، غریب کا استحصال وغیرہ۔ لیکن حضرت یرمیاہ اپنی کتا ب میں ان تمام گناہوں کو دوحصوں میں تقسیم کرکے بیان کرتا ہے۔

کیونکہ میرے لوگوں نے دو برائیاں کیں ۔ اُنہوں نے مجھ آبِ حیات کے چشمہ کو ترک کر دیا اور اپنے لئے حوض کھودے ہیں ۔ شکستہ حوض جن میں پانی نہیں ٹھہر سکتا۔                              یرمیاہ 2: 13

حضرت یرمیاہ نبی نے ہمیں گناہ کی حالت کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد کرنے کے لیے ایک اشارہ استعمال کیا ہے. اللہ تعالیٰ (نبی کی وسیلے) کہہ رہا ہے کہ وہ لوگوں پیاسے تھے. پیاسا ہونا کوئی برائی نہیں ہے۔ لیکن اُنہیں اچھے پانی میں سے پینے کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ خود ایک اچھا  اور صحت مند پانی ہے جو ان کی پیاس کو پورا کر سکتا تھا.تاہم اسرائیلی اس پیاس کو بجھانے کے لیے اللہ تعالٰی کے پاس آتے جب کہ اُنہوں نے اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر غیروں کے خوض پر اپنی پیاس بجھانے کے لیے چلے گئے۔ یہ حوض گندگی سے بھرے اور ایسے تھے جن میں پانی جمع نہیں ہو سکتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں، ان کے گناہ کے مختلف روپ ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہی ہے کی ان کی بدولت اُن نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے زریعے سے اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن دوسرے حوض نے ان کی پیاس کو بجھانے میں مدد نہ کی۔آخر میں اسرائیلی تمام تر گناہ کرنے کے باوجود اطمینان اور اور اپنی پیاس بجھا نہ سکے۔ لیکن اب وہ اللہ تعالیٰ کے بغیر اپنے شکستہ حوض کے ساتھ کھڑے تھے۔ یعنی وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے تمام مسائل اور مشکلات کا شکار ہوچکے تھے۔

حضرت سلیمان کی حکمت ہمارے “ٹوٹے ہوئے حوضوں” میں ظاہر ہوتی ہے

در حقیقت اس تجربہ کی وضاحت خود  حضرت سلیمان نے پیش کی تھی۔ جیساکہ میں نے بیان کیا تھا۔ جو حکمت میں نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے سے حاصل کی تھی۔ یہ حضرت سلیمان کی کی تحریر کردہ صحفے تھے جن کا میری زندگی میں گہرا اثر پڑا۔ اُنہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں بیان کیا تھا۔ کہ اُنہوں نے اپنی زندگی میں وہ سب کچھ حاصل کیا جس کی اُن کو تمنا تھی۔ لیکن پھر بھی زندگی میں پیاسا موجود تھی۔یہاں اُنہوں نے ٹوٹے ہوئے حوض کے بارے میں بیان کیا جو ہمارے چوگرد ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔

 میں ایک واعظ، یروشلم میں اسرائیل کا بادشا ہ تھا۔ 13 اور میں نے اپنا دل لگا کر جو کچھ آسمان کے نیچے کیا جا تا ہے ان سب کی تفتیش و تحقیق کروں۔ خدا نے بنی آدم کو سخت دُکھ دیا ہے وہ مشقت میں مبتلا رہیں۔ 14 میں نے زمین پر ہو نے وا لی سب چیزوں پر نظر ڈا لی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ساری چیزیں بے معنی ہیں۔یہ اتنا ہی نا امید ہے جیسے ہوا کو پکڑنے کی کوشش کر نا۔ 15 اگر کو ئی چیز ٹیڑھی ہے تو اسے سیدھی نہیں کی جا سکتی۔ اور اگر کو ئی چیز غائب ہے تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ چیز وہاں ہے۔

16 میں نے اپنے آپ سے کہا ، “میں بہت دانشمند ہوں مجھ سے پہلے یروشلم میں جن بادشا ہوں نے سلطنت کی ہے ،میں ان سب سے زیادہ دانشمند ہوں اور میں جانتا ہوں کہ اصل میں دانش اور حکمت کیا ہے ؟”

17 لیکن جب میں نے حکمت کے جاننے اور حماقت و جہالت کے سمجھنے پر دل لگایا تو معلوم کیا کہ یہ بھی ہوا کو پکڑنے کے جیسا ہے۔ 18 کیوں کہ زیادہ حکمت کے ساتھ غم بھی بہت آتا ہے۔ وہ شخص جو زیادہ حکمت حاصل کر تا ہے وہ زیادہ غم بھی حاصل کر تا ہے۔

میں نے اپنے آپ سے کہا ، “آؤ مجھے مسرت اور خوشی کا جا ئزہ لے نے دو۔” لیکن میں نے جانا کہ یہ بھی بیکار ہے۔ ہر وقت ہنستے رہنا بھی حماقت ہے ہنسی دل لگی سے میرا کو ئی بھلا نہیں ہو سکا۔

اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے جسم کو مئے سے اور اپنے دماغ کو حکمت سے بھر لو ں۔ میں نے اس بے وقوفی کی کو شش کی کیوں کہ میں خوش ہو نے کا راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا۔میں دیکھنا چا ہتا تھا کہ لوگو ں کی زندگی کے چنددنوں کے دوران اچھا کیا ہے۔

کیا کڑی محنت سے سچی خوشی ملتی ہے ؟

پھر میں نے بڑے بڑے کام کرنے شروع کئے میں نے اپنے لئے عمارتیں بنا ئیں اور تاکستان لگا ئے۔ میں نے با غیچے لگوائے اور باغ تیار کئے۔ اور میں نے ہر قسم کے میویدار درخت لگوائے۔ میں نے اپنے لئے تالاب بنوا ئے کہ ان میں سے باغ کے درختو ں کا ذخیرہ سینچوں۔ میں نے غلاموں اور لونڈیوں کو خریدا غلام میرے گھر میں پیدا ہو ئے۔ اور جتنے مجھ سے پہلے یروشلم میں تھے میں ان سے کہیں زیادہ مال، مویشی اور بھیڑ دونوں کا مالک تھا۔

میں نے سونا اور چاندی اور بادشا ہوں اور صوبو ں کا خزانہ اپنے لئے جمع کیا میں نے دونوں مرد اور عورت شاعروں اور گلو کا رو ں کو رکھا اور ہر طرح کی عیش وعشرت کو حاصل کیا۔ میرے پاس وہ ساری چیزیں تھی جو کو ئی بھی لینا نہیں چا ہتے تھے۔

میں بہت دولتمند اور معروف ہو گیا۔ مجھ سے پہلے یروشلم میں جو کو ئی بھی رہتا تھا میں نے اس سے زیادہ شوکت حاصل کی۔ میری دانشمندی ہمیشہ میری مدد کیا کر تی تھی۔ 10 میری آنکھوں نے جو کچھ دیکھا اور چا ہا اسے میں نے اپنے لئے حاصل کیا۔میں نے ہمیشہ اپنے دل کی ساری خوشی کو پو را کیا۔ میں جو کچھ بھی کر تا میرا دل ہمیشہ ا س سے خوش رہا کر تا اور یہ شادمانی میری محنت کا صلہ تھی۔

11 پھر میں نے ان سب کا موں پر جو میرے ہا تھو ں نے کئے تھے اورا س مشقت پر جو میں نے کام کر نے میں اٹھا ئی تھی تو میں سمجھ گیا کہ میں نے جو کیا وہ بیکا ر اور وقت کی بر بادی ہے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے ہوا کو پکڑنے کی کوشش کر نا۔ ان ساری چیزوں سے حاصل کر نے کے لئے کچھ بھی نہیں جسے ہم لوگ زندگی میں کر تے ہیں۔

سلیمان کی حکمت اور یرمیاہ کی انتباہ آج ہمارے لئے لکھی گئی تھی. یہ خاص طور پر ہمارے لیے ہے کیونکہ آج دور میں ہم رہ رہے ہیں۔ وہ فلموں، موسیقی اور تفریح کا ہے۔ہمارے جدید معاشرہ پچھلی تمام تر نسلوں سے کہیں زیادہ امیر ترین، بہترین تعلیم یافتہ، سب سے زیادہ سفر، تفریح، اپنی مرضی میں خوش رہنے والے ، اور کسی بھی دور کی تکنیکی طور سے زیادہ جدید ترین ترقی یافتہ ہے۔ لہذا ہم آسانی سے ان چیزوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں – اور جو ہماری زندگی میں آتی ہیں. جیسا کہ فحش فلمیں، غیر اخلاقی تعلقات، منشیات، شراب، لالچ، پیسہ، غصہ، حسد – اس سے ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ  یہ چیزیں ہماری پیاس کو پورا کریں گییں۔ لیکن ہم تمام نبیوں کے قانون سے واقف ہیں کہ یہ چیزیں (گناہ) غلط ہیں، لیکن یہ ہم سوچتے ہیں کہ یہ چیزیں ہمارے دلوں میں لگی پیاس کو بجھادیں گی۔ اسی لیے ہم اس کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ یہ حضرت سلیمان کے دنوں کی، یرمیاہ کے دنوں، دوسرے نبیوں کے دور، اور ہمارے دور کی سچائی ہے۔

حضرت یرمیاہ اور سلیمان کی انتباہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی تاکہ ہم اپنے آپ سے کچھ دیانتدار سوالات پوچھ سکیں۔

  • ہماری جدید دور کی نسل کیوں ڈپریشن، خودکش، موٹاپا، طلاق، حسد، حسد، نفرت، فحشی کا شکار ہے؟
  • آپ اپنی پیاس کو بجھانے کے لیے کون سے حوض کا استعمال کرتے ہیں؟ کیا وہ ‘پانی’ کو جمع رکھتے ہیں؟
  • کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ حضرت سلیمان سے کہیں زیادہ حکمت، محبت، دولت کی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں؟ اگر وہ اپنی کامیابیوں سے مطمئن نہ ہو سکا تو کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ ان چیزوں کے ذریعہ اپنی پیاس کو پورا کر سکتے ہیں؟

گناہ احکامِ الہٰی کی فرمانبرداری نہیں کرتا لیکن یہ بھی کچھ ہے اس کو جاننے کی ضرورت ہے۔ جو ہماری پیاس کا نشان ہے۔ ایک بار جب ہم اس پیاس کے بارے میں جان جاتے ہیں۔ تو ہم دراصل حکمت کو حاصل کرلیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے زبور شریف میں اس کو شامل کیا کیونکہ وہ ہماری پیاس سے پوری طرح واقف ہے – اور وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی اس سے واقف ہوں. کیونکہ وہ ہماری پیاس کو ختم کردے گا۔اُس نے اس کام کو کرنے کے لیے اپنے نبیوں کے وسیلے وعدہ کیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی پیاس کوبجھا کر اطمینان حاصل کریں۔ اور ہم حضرت یرمیاہ کے بارے میں اپنے اگلی پوسٹ میں جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *