کنواری کے بیٹے کی نشانی

زبور شریف کے تعارف میں یہ بیان کیا تھا کہ حضرت داود بادشاہ اور نبی ہیں۔ اُن پرزبور شریف کی ابتدائی کتاب کو الہام کی قدرت سے نازل ہوئی۔ اس کے بعد دوسرے انبیاء اکرام اس میں مزید الہامی کتابوں کو اپنے اپنے وقت کے ساتھ شامل کرتے گئے۔ حضرت یسعیاہ نبی جو اہم انبیاء اکرام میں سے ایک ہیں۔ (ان پر ایک بڑی کتاب نازل ہوئی) 750 قبل از مسیح میں اُن کی آمد ہوئی۔ اس ٹائم لائن میں اس کے بارے میں واضع کیا گیا ہے۔ کہ حضرت یسعیاہ زبور شریف کے دوسرے انبیاء اکرام کے ہم اثر تھے۔

حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

اگرچہ حضرت یسعیاہ نبی بہت عرصہ پہلے آئے۔ (تقریباً  آج سے2800 سال پہلے آئے) اُنہوں نے بہت ساری نبوتیں کیں۔ جن کا تعلق مستقبل میں ہونے والے واقعات سے تھا۔ جس طرح حضرت موسیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ کہ ایک نبی برپا ہوگا۔ ہم پہلے زبور شریف کے تعارف میں بیان کرچکے ہیں۔ حضرت سلیمان کے بعد آنے والے بادشاہ زیادہ تر شریر تھے۔ یہ حضرت یسعیاہ کے دور کے بادشاہ تھے۔ اسی لیے حضرت یسعیاہ نبی کے صحیفہ میں آنے والی عدالت کے بارے میں زیادہ تر خبردار کیا گیا ہے۔ ( یہ عدالت تقریباً 150 سال بعد واقع ہوئی، جب شاہ بابل نے یروشلیم کو برباد کردیا تھا۔تاریخی ثبوت کے لیے  یہاں کلک کریں) تاہم اُنہوں نے بہت سی پیشن گوئیاں کی اور مستقبیل کی بارے میں بتایا۔ کہ اللہ تعالیٰ ہم کو نشان بخشے گا۔ جو پہلے کبھی بھی انسانیت کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا۔ حضرت یسعیاہ اسرائیل کے بادشاہ سے کہتے ہیں۔ کہ وہ حضرت داود کی نسل سے ہوگا۔ اس لیے یہ نشان حضرت داود کے گھرانے سے منسوب کیا جاتا ہے۔

حضرت یسعیاہ بیان کرتے ہیں۔

13 تب اُن نے کہا اے داؤد کے خاندان اب سنو ! کیا تمہارا انسان کو بیزار کرنا کوئی ہلکی بات ہے کہ میرے خدا کو بھی بیزار کروگے؟۔
14  لیکن خداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور وہ اُس کا نام عمانوائیل رکھے گی۔
15 وہ دہی اورشہد کھائے گا جب تک کہ وہ نیکی اور بدی کےرد و قبول کے قابل نہ ہو جائے۔

                                                                                                یسعیاہ 7: 13-15

یہ یقینی طور پر ایک واضع پیشن گوئی تھی! کیا کبھی ایسا سُنا تھا کہ ایک کنواری حاملہ ہوگی؟ لوگ اس پیشن گوئی کے بارے میں حیران تھے۔ اور کئی سمجھتے تھے کہ شاید اس میں کوئی غلط فہمی پائی جاتی تھی۔  یقینی طور پر ایک آدمی مستقبیل کے بارے میں اندازہ لگاتا ہے جو ابھی واقع نہیں ہوا۔ اور آنے والی نسلوں کے لیے لکھ دیتا ہے تاکہ وہ اُن کو پڑھیں۔ جو بظاہر نامکمن پیشن گوئی لگتی تھی۔ لیکن یہ اُن صحیفوں میں بھی لکھی ہوئی تھی۔ جو بحرہ مردار میں سے برآمد ہوئے تھے۔ جو آج بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس لیے ہم جانتے ہیں کہ یہ پیشن گوئی بہت عرصے پہلے لکھی گئی تھی۔ جو کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے سینکڑوں سال پہلے لکھی گئی تھی۔

حضرت عیسیٰ مسیح کا ایک کنواری سے پیدا ہونے کی پیشن گوئی

آج ہم حضرت عیسیٰ مسیح کے بعد کے وقت میں رہتے ہیں۔ ہم اس بات کو جان سکتے ہیں۔ کہ یہ پیشن گوئی دراصل پوری ہوئی۔ کوئی دوسرا نبی یعنی حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت محمد ﷺ میں کوئی بھی کنواری سے پیدا نہیں ہوا۔ صرف حضرت عیسیٰ دنیا میں واحد ایسی ہستی ہیں جو کنواری کے وسیلے اس دنیا میں آئے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش کے سینکڑوں سال پہلے نشانی دیتا ہے۔ تاکہ ہم کنواری سے پیداہونے والے بیٹے کے لیے تیار ہوسکیں۔(ہم خاص طور پر دو چیزوں کو سکھیں گے

اُس کی ماں کے وسیلے اُسکو “عمانوایل” کہا گیا

سب سے پہلے کنواری سے پیدا ہونے والا بیٹا “عمانوایل” کہلائے گا۔ اس نام کا لفظی مطلب ہے “خدا ہمارے ساتھ” لیکن اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کے شاید کئی مطلب ہیں۔ لیکن جب سے یہ پیشن گوئی کی گئی کہ اللہ تعالیٰ جلدہی شریر بادشاہوں کی عدالت کرنے والا تھا۔ لیکن ایک اہم مطلب یہ بھی ہے۔ کہ جب یہ بیٹا پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ اُن کے خلاف نہیں رہا۔ اب وہ “اُن کے ساتھ” ہے۔ جب حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش ہوئی۔ تو اُس سے پہلے ایسا تھا۔ کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو چھوڑ دیا ہوا تھا۔ اور اس لیے اُن کے دشمن اُن پر حکمران تھے۔ کنواری سے پیدا ہونے والے بچے کے نشان سے مراد تھا۔ کہ خدا اُن کے ساتھ تھا نہ کہ اُن کے خلاف تھا۔ انجیل شریف کی کتاب “لوقا کی انجیل” میں لکھا ہے۔ کہ جب حضرت جبرایل نے حضرت مریم کو اُس آنے والے بچے کے بارے میں بتایا۔ تو حضرت مریم نے ایک پاک گیت کہا۔ یہ گیت مندرجہ ذیل ہے۔

46 پھِر مریم نے کہا کہ میری جان خُداوند کی بڑائی کرتی ہے۔
47 اور میری رُوح میرے مُنّجی خُدا سے خُوش ہُوئی۔
48 کِیُونکہ اُس نے اپنی بندی کی پست حالی پر نظر کی اور دیکھ اَب سے لے کر ہر زمانہ کے لوگ مُجھ کو مُبارک کہیں گے۔
49 کِیُونکہ اُس قادِر نے میرے لِئے بڑے بڑے کام کِئے ہیں اور اُس کا نام پاک ہے۔
50 اور اُس کا رحم اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں پُشت در پُشت رہتا ہے۔
51 اُس نے اپنے بازُو سے زور دِکھایا اور جو اپنے تِئیں بڑا سَمَجھتے تھے اُن کو پراگندہ کِیا۔
52 اُس نے اِختیّار والوں کو تخت سے گِرا دِیا اور پست حالوں کو بُلند کِیا۔
53 اُس نے بھُوکوں کو اچھّی چِیزوں سے سیر کردِیا اور دَولتمندوں کو خالی ہاتھ لَوٹا دِیا۔
54 اُس نے اپنے خادِم اِسرائیل کو سنبھال لِیا تاکہ اپنی اُس رحمت کو یاد فرمائے۔
55 جو ابرہام اور اُس کی نسل پر ابد تک رہے گی جَیسا اُس نے ہمارے باپ دادا سے کہا تھا۔

                                                                             لوقا 1: 46-55

جب حضرت مریم کو بتایا گیا تھا کہ اُن کو ایک بیٹا بخشا گیا ہے۔ تو وہ اُس وقت کنواری تھیں۔ تو اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے۔ کہ خدا حضرت ابراہیم اور اُسکی نسل پر اپنی رحمت کو یاد رکھتا ہے۔ عدالت کا مطلب یہ نہیں تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ہمیشہ کے لیے بھول جائے گا۔

کنواری کا بیٹا “بدی کو رد اور نیکی کو چن لیے گا”۔

حضرت یسعیاہ کے بارے میں حیرت انگیز پیشن گوئی یہ ہے۔ کہ وہ بیٹا “دہی اور شہد کھائے گا جب تک کہ وہ نیکی اورر بدی کے رد قبول کرنے کے قابل نہ ہو”۔ یہ حضرت یسعیاہ نبی کے کہنے کا مطلب ہے۔ کہ جب یہ بیٹا فیصلہ کرنے کے قابل ہوگا۔ تو وہ ” برائی کو رد اور نیکی کو چن لے کا” میرا ایک چھوٹا بیٹا ہے۔ میں اُس سے بڑی محبت رکھتا ہوں ۔ لیکن یقینی طور پر اُس نے کبھی بھی برائی کو رد اور نیکی کو چنا نہیں۔ اس کے لیے میں اور میری بیوی کام کرتے ہیں۔ اُس کو سکھاتے ہیں۔ نصحیت کرتے ہیں، اُس کے لیے مثال قائم کرتے ہیں۔ اُس کو نظم و ضبط بتاتے ہیں۔ اور اُس کے لیے اچھے دوستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اور کوشش کرتے ہیں۔ کہ وہ ایک ٹھیک ماڈل اپنی زندگی میں لے سکے۔ اُس کو ہم اس لیے سکھاتے ہیں۔ تاکہ وہ غلط کو چھوڑ کر درست کا انتخاب کرے۔ ہماری اتنی محنت کے باوجود بھی کوئی گارنٹٰی نہیں ہے۔ ایک باپ ہونے کی وجہ جب میں اپنے بیٹے کو سکھاتا ہوں۔ تو مجھے اپنے والدین یاد آجاتے ہیں۔ کہ جب میں چھوٹا تھا۔ تو میرے بچپن میں میرے والدین بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ کہ وہ مجھے سکھاتے کہ غلط چیز کو نہیں بلکہ درست کو چننا ہے۔ اگر والدین یہ سارا کام نہ کریں۔ بلکہ اس کو فطرتی عمل پو چھوڑ دیں۔ تو بچہ ایسا نہیں کرے گا۔ کہ وہ “بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کو تھام لے”۔ یہ اسی طرح ہے۔ اگر ہم “کششِ ثقل” کے خلاف جدوجہد کرنا چھوڑ دیں۔ تو ہم فوراً سے پہلے اس زمین سے نیچے گر جائیں گے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ہم کیوں اپنے گھروں کے دروازوں کو تالا لگاتے ہیں۔ کیوں ہر ایک ملک میں پولیس کی ضرورت ہے۔ کیوں ہم کو بنک میں خفیہ پاس ورڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ ہمیں ایک دوسرے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ “جب تک ہم” برائی کو ترک اور نیکی کو چن نہیں لیتے۔

انبیا بھی ہمیشہ ایسا نہیں کرتے کہ غلط مسترد اور صحیح کا انتخاب کریں

انبیاءاکرام کے بارے میں درست ہے۔ کہ تورات شریف نے دوجگہ پر ہمیں بتایا ہے۔ کہ حضرت ابراہیم نے دو دفعہ یہ جھوٹ بولا ہے کہ اُنکی بیوی صرف اُنکی بہن ہے۔ (پیدائش 12: 18-13 ، 20: 1-2) یہ بھی لکھا ہے۔ کہ حضرت موسیٰ نے ایک مصری کو قتل کیا۔ (خروج 2: 12) ایک بار تو اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرمانبرداری نہ کی جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ (گنتی 20: 6-12) حضرت محمدﷺ سے حکم کیا گیا کہ وہ اپنے گناہوں کے لیے معافی کی دعا کریں۔(سُورة مُحَمَّد 47: 19

 پس جان لیجیے کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ (اظہارِ عبودیت اور تعلیمِ امت کی خاطر ﷲ سے) معافی مانگتے رہا کریں کہ کہیں آپ سے (اپنی شان اقدس اور خصوصی عظمت و رِفعت کے تناظر میں) خلافِ اَولیٰ فعل صادر نہ ہو جائے* اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی طلبِ مغفرت (یعنی ان کی شفاعت) فرماتے رہا کریں (یہی ان کا سامان بخشش ہے)، اور (اے لوگو!) ﷲ (دنیا میں) تمہارے چلنے پھرنے کے ٹھکانے اور (آخرت میں) تمہارے ٹھہرنے کی منزلیں (سب) جانتا ہےo (سُورة مُحَمَّد 47: 19)

اس درج ذیل حدیث میں دیکھا گیا ہے کہ کیسے اُنہوں نے اپنے گناہوں کی مغفرت کے لیے دل سوزی کے ساتھ دعا کی۔

ابو موسی اشعری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان الفاظ میں دعا کیا کرتے تھے

  اے اللہ مجھے میرے گناہ بخش دے،میری جہالت،میرے خدشات میں میری غير معتدل.اورتو نے اپنے آپ مجھ سے کہیں (میرے معاملات کی) بہتر آگاہ ہو.اے اللہ مجھے بخش دے،سنجیدگی سے یا دوسری صورت میں (جو گناہ میں نے ارتکاب کیا) (اور میں نادانستہ طور پر اور جان بوجھ کر مصروف عمل ہیں. یہ تمام (ناکامی) مجھ میں ہیں۔ اے اللہ تمام غلطیاں جن کو میں نے جلد بازی میں کیا مجھے بخش دے۔ جن کو رازداری میں یا لوگوں کے سامنے کیا تو (ان) سے بہتر آگاہ ہے. اے اللہ تو پہلی اور آخری اور ہر چیز پر تو ہی غالب ہو.  مسلم 35: 6563

حضرت داود کی یہ دعا بہت زیادہ مشاہبت رکھتی ہے۔ جب اُنہوں نے اپنے گناہوں کی مغفرت کے کے لیے دعا کی۔

1 اَے خُدا! اپنی شفقت کے ُمُطابق مجھ پر رحم کر۔اپنی رحمت کی کژت کے مطُابق میر ی خطائیں مِٹادے
2 میری بدی کو مجھُ سے دھو ڈال اور میرے گُنا ہ سے مجھُے پاک کر۔
3 کیونکہ مَیں اپنی خطاؤںکو مانتا ہُوں ۔ اور میر ا گُناہ ہمیشہ میر ے سا منے ہے ۔
4 مِیں نے فقط تیر ا ہی گنا ہ کیا ہے ۔ اور وہ کا م کیا ہے جو تیر ی نظر میں برُا ہے ۔ تاکہ تُو اپنی با تو ں میں راست ٹھہرے ۔ اور اپنی عدالت میں بے عیَب رہے ۔
5 دیکھ ! میں نے بدی میں کی صُورت پکڑی اور گناُ ہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا ۔
6 دیکھ تُو باطنِ کی سچائی پسند کرتا ہے ۔ اور باطِن میں مجھے ہی دانائی سکھاِ ئے گا۔
7 زُوفے سے مُجھے صاف کر تُو مُیں ہو نگا۔ مجھے دھو اور بر ف سے زیادہ سفید ہُو گا ۔
8 مُجھے خوشی اور خُر می کی خبر سُنا تاکہ وہ ہڈیاں جو تونے توڑڈالی ہیں شادمان ہو ں ۔
9 میر ے گناہو ں کی طرف سے اپنا منہ پھیر ے ۔ اور میر ی سب بدکاریاں مِٹا ڈال ۔

                                                                                                         زبور 15: 1-9

ہم ان مقدس ہستیوں کو دیکھتے ہیں۔ جو بے شک انبیاء اکرام بھی تھے؛ لیکن اس کے ساتھ وہ انسان بھی تھے۔ جو حضرت آدم سے پیدا ہوئے تھے۔ اسی لیے اُن کو گناہ کے ساتھ جدوجہد کرنی پڑی اور اُن کو معافی کی ضرروت تھی۔ اس کو ہم نسلِ آدم کی عالمگیر حالت کہتے ہیں۔

مقدسہ کنواری کا پاک بیٹا

لیکن اس بیٹے کے بارے میں یسعیاہ نبی نے پیشن گوئی کی تھی۔ کہ وہ قدرتی طور پر اپنی ابتدائی زندگی سے برائی کو رد اور نیکی کو چن لے گا۔ یہ اُس کی جبلت میں ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اُس کا نسب نامہ مختلف ہو۔ دیگر تمام نبیوں کا نسب نامہ اُن کے آباواجداد کے زریعے حضرت آدم سے جاملتا ہے۔ اور ہم نے دیکھا کہ اُنہوں نے “برائی کو در اور نیکی کو نہیں چنا ہے۔ بلکہ جس طرح حضرت آدم کی نسل بڑھ گئی ہے۔ اُسی طرح اُن کی اولاد میں باغی فطرت بھی بڑھتی گئی اور ہم اب اسی کی لِپیٹ میں ہیں۔ اگرچہ انبیاء اکرام بھی اسی کی زد میں آگے۔ لیکن جو بیٹا کنواری سے پیدا ہوا۔ وہ اس خاصیت سے پیدا ہوا ہے۔ کہ اُس کا نسب نامہ اس سے فرق ہوگا۔ جسکی وجہ سے وہ پاک ٹھہرے گا۔ اسی لیے قرآن شریف میں جب فرشتہ حضرت مریم کو پیغام دیتا ہے۔ تو وہ اُس کو ایک “پاک بچے” کی بشارت دیتا ہے۔

  1. (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: میں تو فقط تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروںo

  2. (مریم علیہا السلام نے) کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوںo

  3. (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: (تعجب نہ کر) ایسے ہی ہوگا، تیرے رب نے فرمایا ہے: یہ (کام) مجھ پر آسان ہے، اور (یہ اس لئے ہوگا) تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنادیں، اور یہ امر (پہلے سے) طے شدہ ہےo

  4. پس مریم نے اسے پیٹ میں لے لیا اور (آبادی سے) الگ ہوکر دور ایک مقام پر جا بیٹھیںo

                                                                                      سورۃ مریم 19: 19-22

حضرت یسعیاہ کی پیشن گوئی بہت زیادہ واضع تھی۔ اور بعد میں دوسری کتابوں نے بھی اس پیشن گوئی سے اتفاق کیا۔ کہ ایک کنواری سے بیٹا پیدا ہوگا۔ جسکا کوئی دنیاوی باپ نہ ہوگا جس طرح ہمارے ہیں۔ اور اُس میں گناہ کی فطرت نہیں ہوگی۔ اس لیے وہ “پاک” ہوگا۔

جنت کے باغ میں بازگشت

لیکن یہ ہی بات نہیں کے بعد میں آنے والی کتابوں نے اتفاق کیا۔ کہ ایک کنواری سے بیٹا پیدا ہوگا۔ بلکہ اس بات کے بارے میں ابتداء میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اہم اس کو حضرت آدم کی نشانی میں پڑھ سکتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ایک وعدہ دیا تھا۔ میں اس کو یہاں دوہرا دیتا ہوں۔

اور میں (اللہ تعالیٰ) تیرے (شیطان) اور عورت (حوا) کے درمیان تیری نسل (شیطان کی نسل) اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تو اُس (عورت کی نسل) کی ایڑی پر کاٹے گا۔                                                                 پیدائش 3: 15

اللہ تعالیٰ شیطان کی نسل اور عورت کی نسل کو تربیت دے گا اور عورت اور ابلیس کی نسل کے درمیان دسشمنی پائی جائے گی۔ شیطان کی نسل ایڑی پر کاٹے گی۔ اور عورت کی نسل اُسکے سر کو کچلے گی۔ اس تعلقات کو یہاں تصویر میں دیکھایا گیا ہے۔

جنت میں اولاد کے لیے دیا گیا وعدہ

برائے مہربانی اس بات پر غور کریں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی یہ نہیں کہا تھا۔ کہ مرد کی نسل بلکہ یہ کہا تھا کہ عورت کی نسل سے۔ یہ بات بہت غیر معمولی ہے۔ خاص طور پر تورات شریف، زبور شریف اور انجیل شریف میں تو بیٹوں پر زور دیا جاتا ہے۔ جو اپنے باپ دادا سے ظاہر کئے جاتے ہیں۔ حقیقت میں جدید مغربی تنقید نگار ان کتابوں کے بارے میں تنقید کرتے ہیں۔ کہ اِن میں خون کے تعلق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ جو عورت کی طرف سے ملتا ہے۔ یہ جنسی امتیاز ہے۔ کیوں کہ اولاد مرد سے پہچانی جاتی ہے۔ لیکن یہ ایک مختلف معاملہ ہے۔ لیکن یہاں یہ وعدہ نہیں ہے کہ وہ نسل (وہ، HE) مرد سے آئے گی۔ یہاں صرف یہ ہی وعدہ کیا جا رہا ہے کہ یہ عورت کی نسل سے آئے گی۔ اور یہاں مرد کا ذکر نہیں کیا گیا۔

حضرت یسعیاہ کی پیشن گوئی “کنواری کا بیٹا” وہ “عورت کی نسل” سے ہے

ابھی کنواری سے ایک بیٹے کی پیشن گوئی بہت زیادہ واضع ہے۔ باغ جنت میں کہی جانے والی پیشن گوئی بڑی واضع تھی کہ نسل (بیٹا) ایک عورت سے آئے گا (کنواری) میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ واپس جائیں اور حضرت آدم کے نشان میں ہونے والی بات چیت کو پڑھیں۔ آپ اس پیشن گوئی کواُس واقع میں درست دیکھیں گے۔ تمام بنی آدم کی تاریخ کے شروع سے لیکر سب ایک ہی مسلے کا شکار ہیں۔ کہ “برائی کو رد اور نیکی کو چن” نہ سکے۔ جس طرح ہمارے جداِامجد نے نافرمانی کو چن لیا۔ اس لیے جب گناہ دنیا میں آیا اور اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ ایک پاک ہستی آئے گی۔ جوآدم کی نسل میں سے نہیں ہوگا۔ وہ شیطان کے سر کو کچلے گا۔

لیکن یہ پاک بیٹا کیسے ایسا کرے گا؟ اگریہ ایک پیغام دینے کا کام ہوتا تو حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ نے پہلے سے بڑی ایمانداری اور کامل طریقے سے پیغام پہنچا دیا تھا۔ لیکن پاکیزہ بیٹے کا کردار مختلف ہوگا۔ لیکن اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہم زبور شریف کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *