حضرت یحیٰی کے آمد کی پیش گوئی

ہم نے "خادم کی نشانی” میں مطالعہ کیا اور یہ جانا کہ خادم کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن اُس کے آںے کا وعدہ کو ایک خاص سوال سے معلوم کیا جاتا ہے۔ جب اُس نے یسعاہ 53 باب کے شروع میں ایک سوال کیا جاتا ہے۔

ہمارے پیغام پر کون ایمان لایا؟   ( یسعیاہ 53: 1 الف)

حضرت یسعیاہ اس بات کی پیش گوئی کررہا تھا کہ آنے والے خادم پر لوگ اتنی جلدی ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں پر مسئلہ یہ نہیں کہ پیغام میں یا پیش گوئی یا نشانی ٹھیک طور پر بیان نہیں ہوئیں۔ اور وہ اُس کے نام کے ساتھ اُس کے وقت  کے"سات چکر” کی بھی بات کرتا ہے کہ اُس کو زندوں کی زمین پر سے کاٹ ڈالا جائے گا۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ بہت زیادہ پیشن گوئیاں نہیں تھیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کہ لوگوں کے دل سخت ہوچکے تھے۔ لہذا کسی شخص کو خادم کی آمد سے پہلے آنے کی ضرورت تھی۔ تاکہ وہ لوگوں کو اُس کی آمد کے لیے تیار کرے۔ اس لیے حضرت یسعیاہ نے یہ پیغام دیا کہ خادم کے آنے سے پہلے ایک شخص آئے گا۔ اُس نے یہ پیش گوئی کو زبور کی کتاب میں لکھ ہوئی ہے۔ جو درج ذیل ہے۔

3پُکارنے والے کی آواز!

بیابان میں خُداوند کی راہ درُست کرو ۔

صحرا (بیابان) میں ہمارے خُدا کے لِئے شاہراہ ہموار کرو۔

4ہر ایک نشیب اُونچا کِیا جائے

اور ہر ایک پہاڑ اورٹِیلا پست کِیا جائے

اور ہر ایک ٹیڑھی چِیز سِیدھی اورہر ایک ناہموار

جگہ ہموار کی جائے۔

5اور خُداوند کا جلال آشکارا ہو گا

اور تمام بشر اُس کودیکھے گا

کیونکہ خُداوند نے اپنے مُنہ سے فرمایا ہے۔              یسعیاہ 40: 3-5

حضرت یسعیاہ نے کسی ایک کے آنے کی پیش گوئی کی۔ جو بیابان (صحرا) میں خداوند کی راہ تیار کرے گا۔ وہ ایک رکاوٹ کو ختم کرے گا۔ تاکہ خداتعالیٰ کا جلال نازل ہو۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ کس طرح ہوگا۔

 حضرت یسعیاہ، حضرت ملاکی، اور حضرت حزقی ایل کا اور کچھ دوسرے انبیاءاکرام کا تاریخی ٹائم لائن

زبور شریف کی کتاب کا آخری نبی حضرت ملاکی ہے۔

حضرت یسعیاہ نبی کے 300 سال بعد حضرت ملاکی نبی آیا۔ جس نے زبور شریف کی آخری کتاب لکھی۔ اُنہوں نے حضرت یسعیاہ نبی کی پیشن گوئی کی وضاحت اپنی کتاب میں بیان کی۔ وہ اس طرح لکھتے ہیں۔

دیکھو مَیں اپنے رسُول کو بھیجُوں گا اور وہ میرے آگے راہ درُست کرے گا اور خُداوند جِس کے تُم طالِب ہو ناگہان اپنی ہَیکل میں آ مَوجُود ہو گا ۔ ہاں عہد کا رسُول جِس کے تُم آرزُومند ہو آئے گا ربُّ الافواج فرماتا ہے۔                                                              ملاکی 3: 1

یہاں پھر خداوند کی راہ تیار کرنے والے کی پیش گوئی ہورہی ہے۔ جب وہ راہ تیار کرچکے گا۔عہد کا رسول (خادم) آموجود ہوگا۔ حضرت ملاکی کس عہد کی یہاں بات کر رہیں ہیں؟ آپ کو یاد ہوگا کہ حضرت یرمیاہ نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ایک نیا عہد باندھے گا، جو تمہارے دلوں پر لکھا جائے گا۔ صرف اُس وقت ہم اپنی پیاس بجھانے کے قابل ہوجائیں گے۔ جو ہمیں ہمیشہ گناہ کی طرف کھیچتی ہے۔ اس عہد کی بات حضرت ملاکی بات کررہا تھا جب وہ آنےوالے کی راہ کی تیاری کی بات کرتا ہے۔ حضرت ملاکی پھر اس کی کتاب کے آخری پیراگراف کو زبور شریف کی کتاب کا اختتام کردیتا ہے۔ اس آخری پیراگراف میں وہ مستقبیل کے بارے میں یوں لکھتا ہے۔

5دیکھو خُداوند کے بزُرگ اور ہَولناک دِن کے آنے سے پیشتر مَیں ایلیّاہ نبی کو تُمہارے پاس بھیجُوں گا۔ 6اور وہ باپ کا دِل بیٹے کی طرف اور بیٹے کا باپ کی طرف مائِل کرے گا ۔ مبادا مَیں آؤُں اور زمِین کو ملعُون کرُوں۔                                                                ملاکی 4: 5-6

حضرت ملاکی کا کیا مطلب تھا کہ  خداوند کے روزِعظیم آنے سے پہلے "ایلیاہ ” آئے گا۔ حضرت ایلیاہ کون ہے؟

حضرت ایلیاہ زبور شریف کی کتاب کا ایک اور نبی ہے جس کے بارے میں ہم نے مطالعہ نہیں کیا۔ ( ہم زبور شریف کے تمام انبیاءاکرام کا مطالعہ نہیں کرسکتے۔ اس طرح یہ حصہ بہت لمبا ہوجائے گا۔ لیکن آپ اس ٹائم لائن میں دیکھ سکتے ہیں) حضرت ایلیاہ 850 ق م کے دور میں نازل ہوئے تھے۔ وہ بیابان میں رہتے اور جانوروں کے چمڑے کا لباس اور جنگلی خوراک کھانے میں مشہور تھا۔ شاید آپ کو تھوڑا عجیب سا لگے۔ حضرت ملاکی نے کچھ اس طرح لکھا کہ جو شخص نئے عہد کی راہ تیار کرے گا۔ وہ حضرت ایلیاہ کی طرح کا ہوگا۔ اور اس بیان کے بعد زبور شریف مکمل ہوجاتا ہے۔ یہ زبور شریف کا آخری حوالہ ہے جو 450 ق م میں لکھا گیا۔ تورات شریف اور زبور شریف آنے والی شخصیت کے ساتھ بھرے پڑے ہیں۔ آئیں ہم اس بات کا جائزہ لیں۔

تورات شریف اور زبور شریف کے وعدوں کا جائزہ

  • حضرت ابراہیم کے ساتھ "قربانی کی نشانی” میں یہ بیان کیا گیا تھا۔ کہ موریاہ کے پہاڑ اُن سے وعدہ کیا گیا تھا۔ "مہیا کیا جائے گا” یہودی زبور شریف کے اختتام تک اس وعدے کی تکمیل کا انتظار کر رہے تھے۔
  • حضرت موسیٰ سے کہا گیا تھا۔ کہ یہ ‘فسح” اسرائیلیوں کے لیے ایک نشانی تھی۔ اسرائیلی اس فسح کو اپنی ساری تاریخ میں مناتے آئے تھے۔ لیکن وہ یہ بھول گے تھے۔ کہ یہ ایک نشانی تھی۔ یہ اُس کی طرف اشارہ تھا جو ابھی تک پورا نہ ہوا تھا۔
  • حضرت موسیٰ نے تورات شریف میں بتایا تھا۔ کہ ایک نبی آئے گا۔ جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ "میں اپنا کلام اُس کے منہ میں رکھو گا” اللہ تعالیٰ نے اُس آنے والے بنی کے بارے میں ایک وعدہ میں بیان کیا تھا۔ "اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جِن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سُنے تو مَیں اُن کا حِساب اُس سے لُوں گا۔”
  • حضرت داود نے آنے والے مسیح کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔ یہودیوں کی طویل تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے۔ کہ آںے والا مسیح کس طرح کا ہوگا۔
  • حضرت یسعیاہ نے پیش گوئی کی ایک کنواری ایک بیٹے کو جنم دے گی۔ اور زبور شریف اختتام تک یہودی اس حیرت انگیز واقع کے رونما ہونے کے منتظر تھے۔
  • حضرت یرمیاہ نے نئے عہد کی پیش گوئی کی تھی۔ جو ہمارے دلوں پر لکھا جانا تھا۔
  • حضرت زکریاہ پیش گوئی کی تھی۔ کہ اُس کا نام "مسیح” ہو گا۔
  • حضرت دانیال پیش گوئی کی تھی۔ کہ جب مسیح آئے گا تو اس کی بجائے وہ بادشاہی کرے وہ قتل کردیا جائے گا۔
  • حضرت یسعیاہ نے پیش گوئی کی کہ وہ”خادم” آئے گا۔ اُس پر بہت زیادہ تشددید کیا جائے گا۔ لیکن وہ "زندوں کی زمین پر سے کاٹ ڈالا جائے گا”۔
  • حضرت ملاکی نے مسیح کے آنے سے پہلے راہ تیار کرنے والے کے بارے میں پیش گوئی کی۔ جو آئے گا اور لوگوں کے دلوں کو تیار کرے گا اور تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بات کو دل سے قبول کریں۔

لہذا 450 ق م میں جب زبور شریف کا اختتام ہو گیا تھا۔ اُس وقت بھی یہودی ان وعدوں کے پورا ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ اور وہ مسلسل نسل در نسل انتظار کررہے تھے۔ کہ کب یہ وعدے پورے ہونگے۔

زبور شریف کے مکمل ہونے کے بعد کیا ہوا

جیسا کہ ہم نے اسرائیلیوں کی تاریخ میں دیکھا، اسکندرِاعظیم نے 330 ق.م. میں دنیا کا زیادہ تر معروف حصہ  فتح کرلیا تھا اور لوگوں نے یونانی تہذیب کو اور یونانی زبان کو اپنا لیا تھا۔ جس طرح آج انگریزی زبان دنیا کی معروف ترین زبان ہے۔ اُسی طرح اُس وقت یونانی دنیا کی غالب ترین زبان تھی۔ یہودی ربیوں نے 250 ق م میں تورات شریف اور زبور شریف کا ترجمہ عبرانی سے یونانی زبان میں کیا تھا۔ اس ترجمہ کو سپٹواجنٹ کا نام دیا گیا تھا۔ جس طرح ہم نے اس بات کا مطالعہ کیا کہ لفظ مسیح اور یسوع بھی اس ترجمہ سے برآمد ہوئے ہیں۔

 حضرت یسعیاہ، حضرت ملاکی، اور حضرت حزقی ایل کا اور کچھ دوسرے انبیاءاکرام کا تاریخی ٹائم لائن

اس عرصے میں (300 ق م کو نیلے رنگ میں دیکھایا گیا ہے) شام اور مصر کے درمیان جنگی کشمکش جاری تھی۔ اور اسرائیلی ان دنوں ریاستوں کے درمیان رہ رہے تھے۔ کئی بار شامی بادشاہ اسرائیلوں پر اپنے یونانی مذہب چسپاں کرنے کی کوشش کرتے۔ تو اُسی وقت کوئی یہودی لیڈر اپنے مذہبی اعقائد کا مقابلہ کرتا اور اسرائیل کی مذہبی روایت کو بحال کرتا۔ جس کو حضرت موسیٰ نے اُن کو دیا تھا۔ کیا ان مذہبی راہنماوں نے اُن تمام وعدوں کو پورا کیا جن کا یہودی بڑی شدید سے انتظار کررہے تھے۔ یہ راہنما بے شک بہت اچھے مذہبی لوگ تھے لیکن وہ زبور شریف اور تورات شریف میں موجود وعدوں اور نشانوں کو پورا نہیں کرسکے۔ دراصل اُنہوں نے خود اس بات کا کبھی دعوہ بھی نہ کیا کہ وہ نبی ہیں۔ اُنہوں نے صرف یہودیوں کو یونانی خداوں کی عبادت کرنے سے بچایا تھا۔

اس عرصے کے بارے میں موجود تاریخی کتابیں بیان کرتی ہیں۔ کہ کیسے یہودیوں نے اپنی مذہبی روایات کو زندہ رکھا۔ یہ کتابیں مذہبی اور تاریخی بصرت فراہم کرتی ہیں اور بہت زیادہ قمیتی ہیں۔

لیکن یہودی لوگ ان کتابوں کو الہامی تصور نہیں کرتے۔ وہ بہت اچھی کتابیں ہیں جن کو مذہبی راہنماوں نے لکھا تھا۔ لیکن ان کو انبیاء اکرام نے نہیں لکھا تھا۔ یہ کتابیں اپاکرفا کے طور پر پہچانی جاتی ہیں ۔

لیکن یہ کتابیں قابلِ استعمال تھیں کیونکہ اکثر ان کو زبور اور تورات کی تاریخوں کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ مسیح پر انجیل شریف کے نازل ہونے کے بعد تورات، زبور اور انجیل شریف کو ایک کتاب کے طور سامنے آئی۔ جس کو ہم الکتاب یا بائبل مقدس کہتے ہیں۔ آج بھی کتھولک فرقہ ان اپاکرفا کتابوں کو اپنی بائبل میں شمار کرتا ہے۔ لیکن یہ تورات اور زبور شریف کا حصہ نہیں ہیں۔

لیکن تورات اور زبور شریف میں موجود وعدے پورے ہورہے تھے۔ کہ رومی حکومت نے یہودیوں پر حملہ کرکے اُن کے ملک پر قبضہ کرلیا اور وہاں پر یونانی زبان کا راج شروع ہوگیا۔ (ٹائم لائن میں اس عرصۓ کو پیلے رنگ میں دیکھایا گیا ہے) رومیوں نے بڑے موثر لیکن سخت طریقے سے حکومت کی۔ ٹیکس بہت زیادہ ادا کرنا پڑتا اور رومی کسی کی برداشت نہیں کرتے تھے۔ یہودی تورات اور زبور شریف میں موجود وعدوں کی تکمیل کا بڑھی شدید کے ساتھ انتظار کرنے لگے۔ اُن کے اس لمبے عرصے کے انتظار کے دوران اُن کی عبادت کے اصول بہت سخت ہوتے گے۔ اور اُنہوں نے انبیاء اکرام کی روایات سے بڑھ کر خود سے کئی رسومات بنالیں۔ یہ اضافی ‘حکم’ اچھے نظریات کی طرح محسوس ہوتے تھے۔ لیکن انہوں نے یہودیوں کے استادوں کے دلوں اور دماغوں میں فوری طور پر تورات اور زبور کے اصل حکموں کو بھولا دیا تھا.

اور پھر آخر کار جب لوگ یہ سمجھنے لگے کہ شاید اللہ تعالیٰ اپنے وعد وں کو  بھول گیا۔ تو اُنہی دنوں میں ایک فرشتہ جبرائیل ایک طویل انتظار کے بعد ایک رسول جو تیاری کے لیے نازل ہونے والا تھا۔ اُس کی پیدائش کی خبر لے کر نازل ہوا۔ آج ہم اُس کو حضرت یحٰیی کے طور پر جانتے ہیں۔ لیکن یہ انجیل شریف کا ابتدائی واقعہ ہے۔ ہم اگلے مضمون میں اس کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔

آنے والے خادم کی نشانی

ہماری گزشتہ پوسٹ میں ہم بات کررہے تھے۔ کہ حضرت دانیال نبی نے پیشن گوئی کی تھی۔ کہ مسیح آئے گا۔ اور اُس کو شہید کردیا جائے گا۔ اس طرح ایسا لگتا ہے۔ کہ حضرت دانیال کا یہ بیان دوسرے انبیاءاکرام سے اختلاف رکھتا ہے۔ کیونکہ اُن کا کہنا ہے کہ مسیح آئے گا اور دنیا پر حکومت کرے گا۔

لیکن یہ اختلاف اُس وقت ختم ہوجاتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں۔ کہ انبیاءاکرام دو مختلف مسیح کے بارے میں بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک مسیح شہید ہونے کے لیے آرہا ہے اور دوسرا بادشاہی کرنے کے لیے۔ یہودی قوم نے کلام مقدس کے ایک حصے کو نظرانداز کردیا ۔ جس کی وجہ سے وہ سارے صحیفوں کو بہتر طور پر نہیں جانتے۔ یہ ہمارے لیے ایک انتباہ بھی ہے۔ کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا ہے۔

ہمارے لیے ذبور شریف کا مطالعہ بہت مفید رہا ہے۔ لیکن ہمیں مزید جاننا ہوگا۔ کہ حضرت یسعیاہ نے مسیح کے بارے میں بھی پیشن گوئی کی ہے۔

 حضرت یسعیاہ اور کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

حضرت یسعاہ نبی نے آنے والے مسیح کے لیے‘شاخ” کی مثال استعمال کی ہے۔ لیکن اُس نے  آنے والے ایک شخص کے بارے میں ایک طویل حوالہ لکھا ہے۔ جس میں وہ ایک آنے والے خادم کی بات کرتا ہے۔ یہ خادم کون ہے؟ یہ کیا کام کرے گا؟ ہم اس کے بارے میں حوالے میں مزید تفصیل دیکھ سکتے ہیں۔ میں اس کو ذیل میں پیش کرتا ہوں اور اس کی وضاحت کے لیے کچھ تبصرے بھی پیش کردیتا ہوں۔

حضرت یسعیاہ آنے والے خادم کے بارے میں پیشگوئی کرتے ہیں

مکمل حوالہ یسعیاہ 52:13-53:12

13دیکھو میرا خادِم اِقبال مند ہو گا ۔

وہ اعلیٰ و برتراور نِہایت بُلند ہو گا۔

14جِس طرح بُہتیرے تُجھ کو دیکھ کر دنگ ہو گئے

(اُس کا چِہرہ ہر ایک بشر سے زائِد اور اُس کا جِسم

بنی آدم سے زِیادہ بِگڑ گیا تھا)۔

15اُسی طرح وہ بُہت سی قَوموں کو پاک (اپنے خون کے چھڑکے جانے سے) کرے گا ۔

اور بادشاہ اُس کے سامنے خاموش ہوں گے

کیونکہ جو کُچھ اُن سے کہا نہ گیا تھا وہ دیکھیں گے

اور جو کُچھ اُنہوں نے سُنا نہ تھاوہ سمجھیں

گے۔                                        یسعیاہ 52: 13-15

ہم جانتے ہیں کہ یہ خادم ایک انسان ہوگا۔ کیونکہ حضرت یسعیاہ نے اُس کے بارے میں "وہ” اُس کا” اور "اُن کا” جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ جب حضرت ہارون بنی اسرائیل کے لیے قربانی گزرانتا تھا۔ تو اُس قربانی کا خون لوگوں کے اُوپر چھڑکتا تھا۔ تاکہ اُن کے گناہ اُن کے خلاف نہ گنے جائیں ۔ جب یہ کہا گیا کہ خادم چھڑکے گا۔ تو حضرت یسعیاہ کا کہنا تھا۔ کہ جس طرح حضرت ہارون لوگوں کے اُوپر خون چھڑکتا تھا۔ اُسی طرح یہ خادم اپنی قربانی کا خون لوگوں پر چھڑکے گا۔ لیکن یہ خادم اپنا خون بہت سی قوموں پر چھڑکے گا۔ اس لیے یہ خادم یہودی قوم کے لیے ہی نہیں آرہا۔ بلکہ ساری قوموں کہ لیے آرہا ہے۔ اس سے ہمیں ایک اہم بات یاد آجاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ( نشانی 1 اور نشانی 2)  حضرت ابراہیم کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ تجھ سے ساری قومیں برکت پائیں گی۔ لیکن اس خون کے چھڑکنے نے والے خادم کی "ظاہری شکل” اور خدوخال ظلم و ستم کی وجہ سے بگاڑ دی جائے گی۔

اگرچہ یہ واضع نہیں ہے کہ کس طرح اس خادم پر ظلم کیا جائے گا۔ لیکن ایک دن قومیں اس بات کو جان جائیں گی۔

1ہمارے پَیغام پر کَون اِیمان لایا؟

اور خُداوند کابازُو کِس پر ظاہِر ہُؤا؟۔

2پر وہ اُس کے آگے کونپل کی طرح اور خُشک زمِین

سے جڑکی مانِند پُھوٹ نِکلا ہے ۔

نہ اُس کی کوئی شکل و صُورت ہے نہ خُوب صُورتی

اور جب ہم اُس پر نِگاہ کریں

تو کُچھ حُسن و جمال نہیں کہ ہم اُس کے مُشتاق

ہوں۔

3وہ آدمِیوں میں حقِیر و مردُود ۔

مَردِ غم ناک اور رنج کا آشنا تھا ۔

لوگ اُس سے گویا رُوپوش تھے

اُس کی تحقِیرکی گئی اور ہم نے اُس کی کُچھ قدر نہ

جانی۔                                                یسیعیاۃ 53 : 1-3

اگرچہ خادم بہت سی قوموں پر چھڑکے گا۔ لیکن وہ بھی ناپشندیدہ اور مسترد کیا دیا جائے گا۔ اور تکلیف اور درد سے بے حال ہوجائے گا۔

4تَو بھی اُس نے ہماری مشقّتیں اُٹھا لِیں

اور ہمارے غموں کو برداشت کِیا ۔

پر ہم نے اُسے خُدا کا مارا کُوٹااور ستایا ہُؤا سمجھا۔

5حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا

اور ہماری بدکرداری کے باعِث کُچلا گیا ۔

ہماری ہی سلامتی کے لِئے اُس پر سیاست ہُوئی

تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شِفا پائیں۔       یسیعیاۃ 53 : 5-4

یہ خادم ہماری "درد” کو اپنے اُوپر لے لیے گا۔ اس خادم پر غذاب، اور سزائیں لائیں جائیں گی اور اس کو کچلا جائے گا۔ اُس کے مار کھانے (بہت سی قومیں) اطمینان اور شفا پائیں گی۔

ہم سب بھیڑوں کی مانِند بھٹک گئے ۔

ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پِھرا

پر خُداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لادی۔       یسیعیاۃ 53 : 6

ہم نے پیاس کی نشانی میں مطالعہ کیا ہے۔ کہ ہم کیسے اپنے شکستہ حالت میں اطمینان پانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کی بجائے دوسرے راستوں پر چلے جاتے ہیں۔

ہم نے ایک دوسرے کو گمراہ کیا اور اپنے راستوں سے بھٹک گئے۔ دراصل یہ گناہ ہے۔

وہ ستایا گیا تَو بھی اُس نے برداشت کی

اور مُنہ نہ کھولا ۔

جِس طرح برّہ جِسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں

اورجِس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں

کے سامنے بے زُبان ہے

اُسی طرح وہ خاموش رہا۔          یسعیاہ 53: 7

انبیاءاکرام نے یعنی حضرت  ہابیل، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور ہارون نے بکروں کی قربانی دیتے تھے۔ لیکن یہ خادم خود ہی اپنی قربانی دے گا اور یہ اس کے بارے احتجاج نہیں کرے گا یہاں تک کہ اپنا منہ بھی نہ کھولے گا۔

وہ ظُلم کر کے اور فتویٰ لگا کر اُسے لے گئے

پر اُس کے زمانہ کے لوگوں میں سے کِس نے

خیال کِیا

کہ وہ زِندوں کی زمِین سے کاٹ ڈالا گیا؟

میرے لوگوں کی خطاؤں کے سبب سے اُس پر

مار پڑی۔                                  یسعیاہ 53: 8

اس خادم کو زندوں کی زمین پر سے کاٹ ڈالا گیا۔ کیا حضرت دانیال کا یہ مطلب تھا۔ جب اُس نے مسیح کے بارے میں پیشگوئی کی تھی؟ بلکل وہی لفظ یہاں پر استعمال ہوا ہے۔ زندوں کی زمیں سے کاٹ ڈالے جانے سے کیا مطلب ہے؟ اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ شخص مارا جائے گا۔

اُس کی قبر بھی شرِیروں کے درمِیان ٹھہرائی گئی

اوروہ اپنی مَوت میں دَولت مندوں کے ساتھ مُؤا

حالانکہ اُس نے کِسی طرح کا ظُلم نہ کِیا

اور اُس کے مُنہ میں ہرگِزچھل نہ تھا۔     یسعیاۃ 53: 9

اگر اس خادم کو قبر میں اُتار جائے گا تو اس سے پہلے اُس کو مرنا ہوگا۔

اس کو ایک بدکار انسان کی حثیت سے مارا گیا۔ اگرچہ اُس نے کسی پر تشدد نہ کیا اور نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا۔

لیکن خُداوند کو پسند آیا کہ اُسے کُچلے ۔ اُس نے

اُسے غمگِین کِیا ۔

جب اُس کی جان گُناہ کی قُربانی کے لِئے گُذرانی

جائے گی

تو وہ اپنی نسل کو دیکھے گا ۔

اُس کی عُمر دراز ہو گی اور خُداوند کی مرضی اُس

کے ہاتھ کے وسِیلہ سے پُوری ہو گی۔           یسیعاۃ 53: 10

یہ ظالمانہ اورخوفناک موت کوئی حادثہ یا بدقسمتی نہیں تھی۔ یہ واضع طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی کہ "اُسے کچلے” لیکن کیوں؟ حضرت ہارون کی طرح جیسے وہ "گناہ کی قربانی” گزرنتا تھا۔ تاکہ وہ شخص جس کے لیے وہ قربانی چڑھائی گئی۔ اُس کے گناہ معاف ہوجائیں۔ یہاں اس خادم کی "زندگی” بھی گناہ کی خاطر قربان کی جارہی ہے۔ کس کے گناہ کے لیے؟ جس طرح ہم اُوپر بات کرآئیں ہیں۔ کہ "بہت سی قوموں” پر خون چھڑکا جائےگا۔ تو یہ "بہت سی قوموں” کے لوگوں کے گناہوں کے لیے خون چھڑکا جائے گا۔

اپنی جان ہی کا دُکھ اُٹھا کر وہ اُسے دیکھے گا اور

سیر ہو گا ۔

اپنے ہی عِرفان سے میرا صادِق خادِم بُہتوں کو

راست باز ٹھہرائے گا

کیونکہ وہ اُن کی بدکرداری خُوداُٹھا لے گا۔      یسعیاۃ 53: 11

اگرچہ خادم کی پیشن گوئئ لرزہ خیز ہے۔ لیکن یہ پیشگوئی یہاں آکر ایک نیا رخ لیتی ہے اور بہت خوشگوار اور فاتح بن جاتی ہے۔ اس خوفناک "مصیبت” کے بعد (زندوں کی زمین سے کاٹ جانے اور قبر میں اُتر جانے کے بعد) خادم زندگی کا نور دیکھے گا۔ وہ دوبارہ زندہ ہوجائے گا اور بہتوں کو راستباز قرار دے گا۔ یاد رکھیں۔ حضرت موسیٰ کی شریعت کے مطابق آپ اُس وقت راستباز ٹھہرسکتے ہیں۔ جب آپ شریعت کے تمام احکامات پر مکمل طور پر اور ہر وقت عمل کریں گے۔ لیکن حضرت ابراہیم (دوسری نشانی) کو راستباز قرار یا گیا۔ یہ حضرت ابراہیم کو بڑے سادہ سا عمل کرنے کی وجہ سے راستباز قراردیے دیا گیا تھا کہ اُس نے خدا پر ایمان لایا۔ یہ اُس کے لیے راستبازی گنا گیا۔ بلکل اسی طرح یہ خادم بھی بہتوں کو راستباز ٹھہرائے گا۔ کیا راستبازی کی ہم دونوں کو ضرورت نہہں؟

اِس لِئے مَیں اُسے بزُرگوں کے ساتھ حِصّہ دُوں گا

اوروہ لُوٹ کا مال زورآوروں کے ساتھ بانٹ

لے گا

کیونکہ اُس نے اپنی جان مَوت کے لِئے اُنڈیل دی

اور وہ خطاکاروں کے ساتھ شُمار کِیا گیا

تَو بھی اُس نے بُہتوں کے گُناہ اُٹھا لِئے اور

خطاکاروں کی شفاعت کی۔                                 یسعیاہ 53: 12

اس خادم کو بہت سر بلند کیا جائے گا۔ کیونکہ اُس نے اپنی جان بہتوں کے لیے رضاکارانہ طور پر دے دی۔ اور ایک بدکار کے طور پر مارا گیا۔ اس نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ بہت سے بدکاروں کے لیے شفاعت کرسکے۔  ایک شفاعت کار دو لوگوں کا درمیانی ہوتا ہے۔ اور یہاں پر دو لوگوں سے مراد "بہت سی قومیں” اور اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ "خادم” اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری شفاعت کرنے کے لیے کافی ہے۔

یہ خادم کون ہے؟ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا؟ کیا یہ خادم اللہ تعالیٰ کے سامنے ہمارا اور بہت سی قوموں کی شفاعت کرسکتا ہے؟ ہم زبور شریف کی اختتامی پیشگوئی پر غور کریں گے اور پھر ہم انجیل شریف کی طرف بڑھیں گے۔

مسیح حکمرانی کرنے یا مصلوب ہونے آ تھا؟

  • ہمارے پچھلے مضامین میں ہم نے دیکھا ہے کہ نبیوں نےمسیح کے نام اور ان کے نازل ہونے کے وقت کے بارے پیشن گوئیاں کیں۔ یہ حیرت انگیز طور پر مخصوص پیشن گوئیاں ہیں، جو حضرت عیسیٰ مسیح کی آمد کے سینکڑوں سال پہلے لکھی گئیں اور  نبیوں نے اس کے بارے صحیح پیش گوئی کی. یہ پیشن گوئیاں یہودیوں کی مقدس کتاب (تورات شریف + زبور شریف) میں لکھی ہوئی ہیں، لیکن یہ قرآن شریف اور انجیل شریف میں موجود نہیں ہیں. لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں یہودیوں نے ابھی تک حضرت عیسیٰ کو مسیح (مسیح) کے  طور پر قبول نہیں کیا؟ جبکہ ان ہی کی کتابوں میں یہ تمام پیشن گوئیاں لکھی ہوئی ہیں۔

اس سے پہلے ہم اس سوال پر غور کریں۔ مجھے یہاں اس بات کو واضح کرنا ہو گا۔ کہ میں یہ سوال کیوں پوچھ رہا ہوں۔  یوں تو حضرت عیسیٰ مسیح کی زندگی میں بہت سے یہودیوں نے اُنہیں مسیح کے طور پر قبول کرلیا تھا۔ اور آج بھی بہت سے یہودیوں نے انہیں مسیح کے طور پر قبول کرلیا ہے۔ لیکن ایک حقیقت پھر بھی موجود ہے کہ یہودیوں نے عیسیٰ مسیح کو بطور قوم قبول نہیں کیا، کیوں؟

کیوں یہودی حضرت عیسیٰ کو مسیح کے طور پر  قبول نہیں کرتے؟

متی رسول کے مطابق انجیل میں حضرت عیسیٰ کا یہودیوں کے مذہبی اساتذہ (فریسیوں اور صدوسیوں، یہ آج کے امام کا درجہ رکھتے تھے) کے ساتھ آمنا سامنا ہوتا ہے. انہوں نے حضرت عیسیٰ مسیح سے ایک مکر کے ساتھ سوال کیا اور ذیل میں حضرت عیسیٰ کا جواب ہے۔

یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ تُم گُمراہ ہو اِس لِئے کہ نہ کِتابِ مُقدّس کو جانتے ہو نہ خُدا کی قُدرت کو۔  (متی 22: 29

یہ تبادلہ ہمیں ایک اہم بات کی طرف اشارہ دیتا ہے. اگرچہ وہ کتابِ مقدس کے اُستاد تھے۔ اُنہوں نے تورات شریف اور زبور شریف کی تعلیم لوگوں کو دیتے تھے۔ لیکن حضرت عیسیٰ مسیح نے ان کو کہا۔ کہ وہ نہ تو کتابِ مقدس کو جانتے ہیں اور نہ ہی خدا کی قدرت کو۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کتابِ مقدس کے ماہرین اس کو سمجھتے نہ تھے؟

یہودی تمام صحیفوں کو نہیں جانتے تھے

جب آپ اس بات کے لیے مطالعہ کرتے ہیں کہ مذہبی رہنماؤں کی بات چیت کو زبور شریف اور تورات شریف میں سے تلاوت کرتے ہیں۔ تو پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف بعض مخصوص پیشن گوئیوں سے بہت زیادہ واقف تھے لیکن دوسری پیشن گوئیوں کو اُنہوں نے نظرانداز کردیا۔ لہذا ہم مثال کے طور پر دیکھتے ہیں، ، کنواری کے بیٹے کی نشانی میں،کتابِ مقدس کے ماہرین جانتے تھے کہ پیشن گوئیوں کے مطابق "مسیح” بیت لحم میں پیدا ہوگا۔ یہاں وہ آیت درج ہے جس آیت کو کتابِ مقدس کے ماہرین نے بیان کیا۔ جب ہیرودیس بادشاہ کے عہد میں حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش ہوئی۔

لیکن اے بیت لحم افراتاہ

 اگرچہ تو یہُوداہ کے ہزاروں میں شامل ہونے کے لئے چُھوٹا ہے

 تو بھی تجھ میں سے ایک شخص نکلے گا

 اور میرے حُضور اسرائیل کا حاکم ہوگا

 اور اس کا مصدر زمانہ سابق ہاں قدیم الایّام سے ہے۔                  میکاہ 5: 2

آپ اس آیت میں سے یہ جانیں گے کہ یہ آیت مسیح کے بارے میں بیان کرتی ہے۔ جو مسیح (= مسیح کی اصطلاح کے بارے میں یہاں آپ جان سکتے ہیں) اور یہ آیت اُن کو ‘حکمران’ کے طور پر بیان کرتی ہے. یہودی ماہرین کے لیے ایک اور جانا پہچانا حوالہ ہے۔ جو زبور شریف کے دوسرے (2)باب میں حضرت داود نبی پر نازل ہوا۔ جس میں پہلے مسیح کے طور پر تعارف کروایا گیا اور پھر بتایا کہ مسیح یروشلیم (صیون) میں بادشاہی کرے گا۔ جس طرح ہم نے حوالے میں دیکھا۔

خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔ ۔ ۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔ ۔ ۔ میں تو اپنے بادشاہ کو اپنے کوہ ِمقدس صِیون پر بٹھا چُکا ہوں۔ (زبور شریف باب 2

یہودی اساتذہ زربور کی مندرجہ ذیل آیات سے اچھی طرح سے واقف تھے

 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے ممسوح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔ خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا، ۔ ۔ ۔ وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے.                          زبور 132: 10-18

یہودیوں نے خدا تعالیٰ کی قدرت کو اپنی منطقی عقل سے نہ جانا۔

چنانچہ وہ کئی ایسی پشین گوئیوں کو جانتے تھے، جن میں سب ایک طرف اشارہ کرتیں تھی – کہ مسیح اقتدارکے ساتھ حکمرانی کرے گا۔ حضرت عیسیٰ مسیح کے دور میں یہودی رومی حکومت کی غلام تھی۔  اس طرح رومی اسرائیلی ملک پر قبضہ کے تحت رہتے تھے (یہودیوں کی تاریخ کے لئے یہاں ملاحظہ کریں) یہودی صرف اسی قسم کے مسیح کے منتظر تھے۔ کہ مسیح آئے اور آکر رومی حکومت کو تباہ و برباد کردے اور اُسی حکومت کو قائم کردے۔ جس کو حضرت دواد نے 1000 سال پہلے قائم کیا تھا۔ (یہاں حضرت دواد کا پس منظر دیکھیں)۔ وہ اللہ تعالی کی منصوبہ بندی کے بجائے اپنی خواہشات سے مسیح کو ڈھونڈ رہے تھے۔

  اس طرح انہوں نے خدا کی طاقت کو اپنی انسانی سوچ کی وجہ سے محدود کردیا۔ کیونکہ وہ ایسی ہی پیشن گوئیوں کو جاننا پسند کرتے تھے جن میں مسیح یروشلیم پر حکمرانی کرے گا۔ اور حضرت عیسیٰ نے یروشلیم ہر حکمرانی نہ کی۔ اس لیے یہودیوں کے نزدیک وہ مسیح نہ ہوا۔ یہ ایک سادہ سی منطقی بات تھی۔ اُنہوں نے خدا کی طاقت کو اپنی انسانی سوچ، محدود علم اور منطقی عقل کے باعث محدود کردیا۔

اُس وقت یہودی زبور شریف کی پیشن گوئیوں کو بہت زیادہ نہیں جانتے تھے اگرچہ وہ اپنی ساری معلومات کے لیے تناخ = (تورات شریف + زبور شریف) میں سے راہنمائی لیتے تھے جس کو وہ تناخ کہتے ہیں. لیکن وہ کسی بھی راہنمائی کے لیے زیادہ تورات شریف کا ہی مطالعہ کرتے تھے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو جو زبور شریف میں موجود تھا اُس کو نظرانداز کررہے تھے۔ اس طرح پیشن گوئیوں کا زیادہ تر حصہ نظرانداز ہوگیا۔ اور اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طاقت کو اپنی انسانی علم اور منطق کے باعث محدود کردیا۔ اس لیے اُن کے مطابق حضرت عیسیٰ مسیح نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اُنہوں نے حکمرانی نہیں کی تھی۔ اس کہانی کا آخر یہ ہوا کہ یہودی نے حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے میں مذید تحقیق کرنی چھوڑدی۔ اور اب بھی وہ مسیح کا انتظار کررہے ہیں۔

مسیح : قربان ہونے کے لیے آئے

لیکن اگر یہودی صحائف کا جائزہ لیں تو وہ جس بات کو ہم سکھنے جارہیں ہیں اُس کو وہ بھی سکھیں سکیں جائیں گے۔ پچھلے مضمون میں ہم نے دیکھا کہ حضرت دانیال نے مسیح کے آنے کے بارے میں ٹھیک پیش گوئی کی تھی۔ لیکن اس بات پر غور کریں۔ کہ اُس نے مسیح کے بارے میں کیا کہا ہے۔ (مسموح = مسیح= کرائسٹ/مسیح

 پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔  اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔                            (دانی ایل 9: 25-26

غور کریں کہ حضرت دانیال نے کیا کہا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو اُس کے ساتھ کیا ہوگا.کیا حضرت دانیال نے کہا کہ مسیح حکمرانی کرے گا؟ کہ وہ اپنے باپ دادا کے تخت پر قنضہ کرے گا اور رومی حکومت کو تباہ و برباد کردے گا؟نہیں! بلکہ حقیقت میں یہ بڑا واضح لکھا ہوا ہے۔ کہ وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا ۔پھر یہ لکھا ہوا ہےکہ غیر قومیں ہیکل مقدس (جو یہودیوں کے لیے پاک مقام ہے) اور یروشلیم شہر کو تباہ کردیں گی۔ اگر آپ یہودیوں کی تاریخ پر نظر لگائے تو آپ جانیں گے کہ تاریخ میں ایسا ہی ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰ مسیح کے چالیس سال بعد رومیوں نے یروشلیم پر حملہ کیا اور ہیکل مقدس اور یروشلیم شہر کو تباہ و برباد کردیا بلکہ حضرت عیسیٰ نے اس کے بارے کہا تھا۔ کہ اس پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا۔ یہ اسی طرح ہوا۔ جیسے حضرت دانیال نے پیش گوئی کی تھی۔ اور یہودیوں کو پوری دنیا میں جلاوطن کردیا گیا۔ تقریبات 70 عیسوی میں ویسے ہی واقع ہوا۔ جیسے  537 ق.م. حضرت دانیال نے پیش گوئی کی  تھی،اور اس کا حضرت موسیٰ نے لعنت کرتے ہوئے پہلے ذکر کیا تھا۔

لہذا حضرت دانیال نے پیشن گوئی کی تھی کہ مسیح حکمرانی نہیں کرنے آرہا بلکہ وہ قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا۔ یہودی راہنماوں نے اس پیشن گوئی کو اپنی ضرورت کے تحت ںظرانداز کردیا۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ نظر آتا ہے۔ کیا حضرت دانیال کی پیشن گوئیوں اور جن پیشن گوئیوں کو یہودی راہنما جانتے تھے۔ ان کے درمیان تضاد پایا جاتا ہے؟اگر تمام پغامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں تو ان کو سچائی کے ساتھ پورا بھی ہونا چاہیے۔ جیسے حضرت موسی کی طرف سے تورات میں لکھا ہے.یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ مسیح قتل بھی کیا جائے اور پھر حکمرانی بھی کرے۔ یہاں اس بات سے ایسا لگتا ہے کہ انسانی منطق نے "خدا کی قدرت” کو ختم کردیا تھا۔

قتل ہونے اور حکمرانی کے تضاد کی وضاحت

لیکن یقینا ان کی منطقی عقل خدا کی قدرت سے زیادہ مستحکم نہیں تھی۔ وہ ہماری طرح کے انسان تھے۔ وہ خود اُن مفروضوں کو نہیں جانتے تھے جن کو وہ بنا رہے تھے۔ اُنہوں نے مفروضہ لگایا تھا کہ شاید مسیح ایک ہی بار آئے گا۔ اگر یہ معاملہ تھا تو اس کی وجہ سے حکمرانی کرنے والی اور قتل ہونے والی پیشن گوئیوں میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس طرح اُنہوں نے اپنی عقل کے باعث اللہ تعالیٰ کی قدرت کو محدود کردیا تھا۔ لیکن یہ انسانی منطق تھا جو کہ ناقص ہے۔ مسیح کو دوبار آنا تھا۔ پہلی دفعہ وہ آیا تاکہ قربان ہونے والی پیشن گوئیوں کو پورا کرسکے۔ اور دوسری بار وہ حکمرانی والی پیشن گوئیوں کو پورا کرنے آرہا ہے۔ اس نکتہ نظر سے ‘تضاد’ والا مسئلہ آسانی سے حل ہو جاتا ہے.

کیا ہم نے خدا کی قدرت کو محدود اور صحیفوں کو بھلا دیا ہے؟

لیکن اس کا کیا مطلب ہے کہ مسیح قتل کیا جائے گا اور اُ س کا کچھ نہیں رہے گا؟ اس سوال کے بارے میں بعد میں بات کریں گے۔ لیکن اب ہم اس بات کے بارے میں بات کریں گے کہ یہودی کیسے ان نشانیوں کو چھوڑ گے۔ ہم پہلے ہی دو وجوہات کا ذکر کرچکے ہیں کہ یہودیوں نے کیوں مسیح کے نشانوں کو نظرانداز کردیا۔ یہاں ہمارے پاس تیسری وجہ حضرت یوحنا کی معرفت لکھی گئی انجیل میں موجود ہے۔ یہاں پر حضرت عیسیٰ اور یہودیوں کے مذہبی راہنماوں کے درمیان بات چیت ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ مسیح نے فرمایا۔

 تُم کِتابِ مُقدّس میں ڈھُونڈتے ہو کِیُونکہ سَمَجھتے ہو کہ اُس میں ہمیشہ کی زِندگی تُمہیں مِلتی ہے اور یہ وہ ہے جو میری گواہی دیتی ہے۔  پِھر بھی تُم زِندگی پانے کے لِئے میرے پاس آنا نہِیں چاہتے۔  مَیں آدمِیوں سے عِزّت نہِیں چاہتا۔  لیکِن مَیں تُم کو جانتا ہُوں کہ تُم میں خُدا کی محبّت نہِیں۔
مَیں اپنے باپ کے نام سے آیا ہُوں اور تُم مُجھے قُبُول نہِیں کرتے۔ اگر کوئی اَور اپنے ہی نام سے آئے تو اُسے قُبُول کر لو گے۔  تُم جو ایک دُوسرے سے عِزّت چاہتے ہو اور وہ عِزّت جو خُدایِ واحِد کی طرف سے ہوتی ہے نہِیں چاہتے کیونکر اِیمان لاسکتے ہو؟۔                  یوحنا 5: 39-44

دوسرے الفاظ میں تیسری وجہ میں یہودیوں نے مسیح کے نشان کو نظرانداز کردیا کیونکہ اُنہوں نے صرف سادہ سے انداز میں اس کو قبول نہ کیا۔ وہ خدا کی مرضی کو پورا کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی مرضی کو قبول کرنے کی دلچسپی رکھتے تھے۔

یہودی دوسرے لوگوں کی نسبت  غلط  اور گمراہ  نہیں تھے.لیکن یہ آسان ہے کے ہم اُن پر اس بات کے بارے میں الزام لگاسکتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت عیسیٰ کو مسیح ثابت کرنے والی پیشن گوئیوں کو نظرانداز کردیا۔لیکن اس سے پہلے ہم اُن پر اُنگلیاں اُٹھائیں ہمیں اپنے گریبان میں جانکنے کی ضرورت ہے۔کیا ہم ایمانداری کے ساتھ کہا سکتے ہیں کہ ہم کلام مقدس کو مکمل طور پر جانتے ہیں؟کیا ہم یہودیوں کی طرح رویہ نہیں رکھتے ہیں کہ ہم صرف اُن حوالہ جات کو ہی جانتے ہیں جو زیادہ آسان اور آسانی سے سمجھ میں آسکتے ہیں۔ یا کئی بار ہم کلامِ الہی میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کو قبول نہیں کرتے۔ صرف یہ سوچ کر کے دوسرے کیا سوچیں گے؟

یہودیوں کا مسیح کے نشان کو یاد نہ رکھنا ہمارے لیےایک انتباہ ہونا چاہئے. ہمیں صرف اُنہیں آیات تک محدود نہیں رہنا چاہئے جن آیات کو ہم پہلے سے جانتے ہیں۔ ہمیں اپنی عقلی منطقی دللائل کے زریعے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو محدود نہیں کرنا چاہئے۔ اور جب ہمیں کلامِ الہی سکھارہا ہو توہمیں اُس کو رد نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں ان تمام تر انتباہ کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیے تاکہ ہم یہودیوں کی طرح کلامِ الہی کو نظرانداز نہ کردیں ۔ جس طرح اُنہوں نے کیا تھا۔ اب ہم ایک اہم آدمی کے بارے میں بات چیت کرنے جارہے ہیں۔ جس کو ہم "خادم” کے طور پر جانیں گے۔

آنے والے مسیح کا سات کا نشان

 جیسا کہ ہم انبیاء اکرام کے بارے میں سیکھ رہے ہیں۔ اور ہم نے اس بات کو جانا ہے کہ ان کے درمیان سینکڑوں سال کے عرصے کا فرق موجود ہے۔ لہذا اس طرح انسان ہوتے ہوئے وہ اپنی پیشن گوئیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا نہیں سکتے تھے۔ لیکن پھر بھی اُن کی یہ پیشن گوئیاں ایک ہی مرکزی موضوع کی طرف بڑھتی گئی کہ "مسیح (کرائسٹ) آرہا ہے”۔ ہم نے دیکھ کہ حضرت یسعیاہ نبی درخت کے ٹنڈ سے شاخ کی نشانی پیش کرتے ہیں۔ اور پھر حضرت یرمیاہ نبی نے اس شاخ کے بارے میں پیشن گوئی کی۔ کہ اس کا نام عبرانی زبان میں یشوع ہوگا۔ جس کا یونانی میں یسوس (Iesous) اور انگلش میں یسوع (Jesus) اور عربی میں عیسیٰ ہے۔ جی ہاں، حضرت عیسیٰ مسیح کے نازل ہونے سے 500 سال پہلے اُن کے نام کی پیشن گوئی ہوچکی تھی۔ یہ پیشن گوئیاں آج بھی یہودیوں کی کتاب عہدِ عتیق میں (انجیل میں نہیں) لکھی ہوئی ہیں۔ جو آج بھی قابلِ قبول ہیں لیکن یہودی اس کو ٹھیک طریقے سے سمجھنے سے قاصر ہیں۔

حضرت دانیال

اب ہم حضرت دانیال کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں۔ وہ ایک اسرائیلی ہونے کی وجہ سے بابل کی جلاوطنی میں رہا اور بابلی اور فارسی حکومتوں کا بڑا خاص ہدے پر فائض رہا۔ نیچھے دیے گے ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے۔ کہ حضرت دانیال تاریخ کے کس دور میں نازل ہوئے۔

حضرت دانیال اور حضرت نحمیاہ ٹائم لائن میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ دکھائے گے ہیں۔

حضرت دانیال اپنی کتاب ( جو اُن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی) میں حضرت جبرایل سے ایک پیغام موصول کرتے ہیں۔ حضرت دانیال اور حضرت مریم یہ دو واحد ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے حضرت جبرایل کے وسیلے پیغامات کو موصول کیا۔ لہذا ہمیں اس پیغام پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ حضرت جبرایل فرماتا ہے۔

 جبرائیل ۔ ۔ ۔ آیا اور شام کی قربانی گُزراننے کے وقت کے قریب مُجھے چُھوا۔  اور اُس نے مُجھے سمجھایا اور مُجھ سے باتیں کیں اور کہا ۔ ۔ ۔  تیرے لوگوں اور تیرے مُقدس شہر کے لے سترّ ہفتے مُقرر کے گے کہ خطا کاری اور گُناہ کا خاتمہ ہو جائے ۔ بدکردای کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راست بازی قائم ہو۔ رویا نبُوت پر مُہر ہو اور پاکترین مقام ممسُوح کیا جائے۔
 پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔  اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔

دانی ایل 9: 21-26

ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں پر ایک "ممسوح” (مسیح) کے بارے میں پیشن گوئی کی گئی ہے۔

حضرت جبرایل نے مسیح کے آںے کے بارے میں ایک ٹائم ٹیبل دیا تھا۔ حضرت جبرایل نے بتایا کہ "اُس دور میں یروشلیم کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کا حکم جاری ہوگا۔ اگرچہ حضرت دانیال کو یہ پیشن گوئی (537 ق م کے قریب دی گئی) کے شروع ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکا۔

یروشلیم کی دوبارہ تعمیر اور بحال کرنے کا حکم جاری

دراصل یہ حضرت نحمیاہ ہی تھا جو حضرت دانیال کے ایک سو سال بعد نازل ہوئے اور اُنہوں نے اس پیشن گوئی کے ابتدا کا وقت دیکھا۔ وہ شہنشاہ فارس کا ساقی تھا اور قصرِ سوسن میں رہتا تھا جو آج کا ایران ہے۔ ملاحظہ کریں جس ٹائم لائن میں رہتا تھا۔ وہ ہمیں اس کتاب میں بتاتا ہے۔

 ارتخششتابادشاہ کے بیسویں برس نیسان کے مہینے میں۔ ۔ ۔ بادشاہ نے مجھ سے فرمایا کِس بات کے لئے تیری درخواست ہے ؟تب میں نے آسمان کے خدا سے دُعا کی ۔  پھِر میں نے بادشاہ سے کہا کہ اگر بادشاہ کی مرضی ہو اور اگر تیرے خادم پر تیرے کرم کی نظر ہے تو تومجھے یہوداہ میں میرے باپ دادا کی قبروں کے شہر کو بھیج دے تاکہ میں اُسے تعمیر کروُ ں ۔

میں نے بادشاہ سے یہ بھی کہا اگر۔ ۔ ۔ ایک شاہی خط ملے کہ وہ ہیکل کے قلعہ کے پھاٹکوں کے لئے اور شہر پناہ اور اُس گھر کے لئے جس میں میں رہونگا کڑیا ں بنانے کومجھے لکڑی دے اور چونکہ میرے خدا کی شفقت کا ہاتھ مجھ پر تھا بادشاہ نے میری عرض قبول کی۔
تب میں نے دریا پار کے حاکموں کے پاس پہنچا کر بادشاہ کے پروانے اُنکو دِئے ۔ ۔ ۔نحمیاہ 2: 1-11

مندرجہ بالا حوالہ "یروشلیم کی تعمیر اور بحالی کے فیصلے کو جاری ” ہونے کے بارے میں بتاتا ہے۔ جس کے بارے حضرت دانیال نے پیشن گوئی کی تھی کہ ایک دن ایسا آئے گا۔ جس میں تعمیر اور بحالی کا کام دوبارہ کیا جائے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شہنشاہ ارتختششتا کی حکومت کے 20 ویں برس واقعہ ہوا۔ اور یہ تاریخ مشہور ہے۔ جس کا آغاز 465 ق م میں ہوا۔اس طرح اُس کے عہد کے 20 ویں سال (44 ق م) میں یہ فرمان جاری ہوا۔ حضرت جبرایل نے حضرت دانیال کو اس پیشن گوئی کے شروع ہونے کے بارے میں کی نشان دیا تھا۔ اس طرح 100 سال بعد شہنشاہ ایران نے حضرت دانیال کی پیشن گوئی کو بغیر جانے اس بات کا فیصلہ دے دیا۔ اس طرح ممسوح فرماروا (مسیح) کے بارے میں پیشن گوئی کا آغاز ہوگیا۔

پراسرار سات

جو پیشن گوئی حضرت دانیال نبی کو حضرت جبرایل نے دی تھی۔ اُس سے یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کہ  7 ہفتے اور 62 ہفتے پھر مسیح نازل ہوگا۔ تو پھر سات سے کیا مراد ہے؟ حضرت موسیٰ کی تورات شریف میں ساتھ سالوں کا ایک چکر ہے۔ جس میں ہر 7 سال بعد کھیتی باڈٰی سے آرام کرنا تھا۔ تاکہ کھیت اپنی مٹی کی قدرتی اجزاء کو بحال کرسکیں۔ اس طرح سے 7 سے مراد ایک چکر ہے۔ اس طرح ہم  کہ اس بحالی کے پروگرام کو دو حصوں میں دیکھتے ہیں۔ پہلا حصہ سات بار سات یا پھر سات سال کی مدت تھی۔ یہ سات٭ سات 7٭7ٓ 49 سال تھا۔ یہ یروشلیم کو دوبارہ تعمیر کرنے کا وقت تھا۔ یہ 62 بار سات کے مطابق بنتا تھا۔ اور کل گنتی اس طرح ہوئی۔ 7٭7 + 7٭ 62=483 سال بنتی تھی۔ دوسرے الفاظ میں شہنشاہ ارتختششتا سے لیکر میں کے آنے تک 483 سال بنتے تھے۔

360 دن کا سال

ہمیں ایڈجسٹمنٹ کے لیے ایک چھوٹا سا کیلنڈر  بنانا ہوگا۔ جس طرح قدیم زمانے میں بہت سی قوموں نے کیا۔ اور نبیوں نے ایک سال کی مدت کو 360 دنوں تک استعمال کیا۔ ایک سال کی مدت کو تعین کرنے کے لیے مختلف طریقے ہیں۔ مغربی طرز کا کیلنڈر (شمسی نظام ہر مبنی) ہے۔ جس میں 365۔24 دن ہوتے ہیں۔ اور اسلامی کیلنڈر( یہ کیلنڈرچاند کے چکر پر مبنی ہے۔) 354 دنوں کا ہوتا ہے۔ اور حضرت دانیال نے 360 دنوں والا کیلنڈر استعمال کیا۔ اس طرح 483 سال اور 360 دن، 483٭360/365۔24= 476 شمسی سالوں کے برابر ہے۔

مسیح کی آمد کا متوقع سال

اس معلومات کے مطابق ہم اس بات کا حساب لگاسکتے ہیں کہ مسیح کب آںے والے تھے۔

ہم "BC” کے دور سے ‘AD” کے دور تک جائیں گے۔ اس حساب کے مطابق 1 سال BC اور 1AD کے درمیان موجود ہے۔ (وہاں "صفر” سال نہیں ہے) اس حساب کی معلومات نیچے دیئے گے ٹیبل میں موجود ہے۔

شروع سال 20th اتختششتا بادشاہ کا سال     444 BC
وقت کی لمبائی 476 شمسی سال
مغربی کیلنڈر میں متوقع آمد (-444 + 476 + 1) (‘+1’ because there is no 0 AD) = 33
متوقع سال 33 AD

حضرت عیسیٰ (یسوع ناصری) یروشلیم میں گدھے کے بچے پر سوار داخل ہوئے۔ اور اس شاندار داخلے کا نام کھجوروں کا اتوار مشہور ہوگیا۔ اُس روز اُنہوں نے خود اعلان کیا اور یروشلیم میں اُنہوں نے مسیح کی حثیت سے مارچ کیا۔ یہ 33 AD کا سال تھا۔

حضرت دانیال اور حضرت نحمیاہ دونوں کا آپس میں ایک سو سال کا فرق ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ لیکن دونوں نے اللہ تعالیٰ سے پیشن گوئیوں کو حاصل کیا اور مسیح کے ظاہر ہونے کے وقت کوظاہر کیا۔ اور تقریباً حضرت دانیال نے ان پیشن گوئیوں کو حضرت جبرایل سے 570 سال پہلے حاصل کیا تھا۔کہ حضرت عیسیٰ ایک مسیح کے طور پر یروشلیم میں داخل ہونے گے۔ یہ ایک انتہائی قابلِ ذکر اور عین مطابق تکمیل ہونے والی پیشن گوئی تھی۔ اس کے ساتھ حضرت زکریا نے مسیح کے نام کی پینش گوئی کی تھی۔ وہ پیشن گوئی بھی اُسی روز تکمیل ہوئی۔ ان انبیاء اکرام نے پیشن گوئیوں کا ایک حقیقی گروہ تشکیل دیا تاکہ اُن سب کو معلوم ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کے منصوبے کو جاننا چاہتے ہیں۔

لیکن اگر یہ پیشن گوئیاں نہائیت قابلِ ذکر ہیں ۔ اور یہ تمام یہودیوں کی مقدس تورات شریف اور زبور شریف میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ تو پھر یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو مسیح کے طور پر قبول کیوں نہیں کیا؟ یہ اُن کی کتاب میں موجود ہے! جو کچھ ہم سوچتے ہیں اُس کو واضع ہونا چاہیے، خاص طور پر اُن قابلِ ذکر اور عین وقت پر پوری ہونے والی پیشن گوئیوں کو۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ یہودی کیوں حضرت عیسیٰ کو بطور مسیح کے قبول نہیں کرتے۔ اس بات کے لیے ہم مزید اگلے سبق میں انبیاء اکرام کی پیشن گوئیوں کو جانیں گے۔

گے۔