حضرت موسیٰ کی تورات نے عیسیٰ ال مسیح کی بابت کسطرح نبوت کی ؟

انجیل شریف اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت اور قیامت یہ دونوں اللہ کے مرکزی منصوبوں میں سے تھا — نبی کی قیامت کے ٹھیک 50 دنوں کے بعد پطرس جو شاگردوں کا رہنما تھا ،عیسیٰ ال مسیح کی بابت اس اعلان کو سرعام لوگوں کی بھیڑ میں اٹھایا :   

 

۲۳ جب وہ خُدا کے مُقررّہ اِنتظام اور عِلِم سِابق کے مُوافِق پکڑوایا گیا تو تُم نے بے شرع لوگوں کے ساتھ سے اُسے مصلُوب کروا کر مار ڈالا ۔ ۲۴ لیکن خُدا نے مَوت کے بندکھول کر اُسے جِلایا کیونکہ مُمکن نہ تھا کہ وہ اُس کے قبضہ میں رہتا ۔

2:23-24 اعمال

پطرس کے پیغام کے بعد ہزاروں لوگ مسیح پر ایمان لے آ ے  اور اس زمانے کی دنیا کے چاروں طرف کے لوگوں نے کلام کو قبول کیا – ان سب پر کسی طرح کا دباؤ یا زبردستی نہیں تھی – اتنی زیادہ تعداد میں کلام کے پھیلنے کا سبب تورات اور زبور کے نبیوں کی کتابیں تھیں جو صدیوں سال پہلے لکھی گیئ تھیں – لوگوں نے ان صحیفوں کی جانچ پڑتال کی کہ نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی آمد ، موت اور قیامت کیا سچ مچ کلام کے مطابق تھے کہ نہیں – یہی لا تبدیل صحیفے (کلام کے حصّے اج بھی دستیاب ہیں تاکہ ہم بھی انکی تحقیقات کریں اور دیکھیں کہ کیا یہ چیزیں خدا کے آزاد منصوبہ اور خدا کے علم پشین کے مطابق تھیں جس طرح پطرس نے        اعلان کیا تھا-–  یہاں ہم ان باتوں کا خلاصہ پیش کر تے ہیں جو انجیل کے پہلے سامعین تورات سے غور طلب فرمایا تھا ، جس میں پیچھے کا بیان حضرت آدم اور چھے دن کی تخلیق شامل تھی ،

      "… وہ  ہر دن کتاب مقدّس میں تحقیق کرتے تھے …    

اعمال 11 :17

وہ بڑ ی ہوشیاری سے کتاب مقدّس کی تحقیق کرتے تھے کیونکہ رسولوں کی طرف سے د یا گیا  پیغام انکے لئے عجیب اور نیا تھا – مگر دوسری طرف وہ لوگ تھے جو مخالف تھے – انہوں نے کہا –ہمارے لئے یہ تعصّب پیدا کرتا ہے کہ ہم اس پیغام کا انکار کریں جو ہمارے کانوں کے لئے نیا اور عجیب ہے – ہم یہ سب کرتے ہیں ، پر اگر یہ پیغام الله کی طرف سے تھا ہوتا ،اور اگر وہ اسکا انکار کرتے تو سورہ ال – غاشیہ (سورہ 8 8 بے پناہ ) کی چتونی ان کے اوپر  آ یگی –      

 مگر جو رُوگردانی کرے اور کفر کرےo

 تو اسے اللہ سب سے بڑا عذاب دے گاo

 بیشک (بالآخر) ہماری ہی طرف ان کا پلٹنا ہےo

 پھر یقیناً ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب (لینا) ہےo

 88:23-26سورہ ال –غاشیہ

 فیصل کرنےکا یقینی راستہ وہ جانتے تھے کہ اگر یہ غیر معروف پیغام اللہ کی جانب سے تھا یا نہیں تھا تاکہ جانچیں کہ پیغام نبیوں کی تحریروں کے خلاف تو نہیں – یہ انھیں الله کی طرف سے پیغام کو انکار کرنے  کے خمیازے سے محفوظ رکھےگا – ہمارے لئے یہ عقلمندی ہوگی کہ انکے نمونے کا پیچھا کریں تاکہ کتاب مقدّس کی جانچ کریں یہ دیکھنے کے لئے کہ اگر نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی موت اور قیامت کا پیغام پہلے کی صحیفوں میں پہلے سے مقرّر تھا کہ  نہیں—ہم تورات کے ساتھ شرو ع کرتے ہیں –   

 الله کی علم پیشین تورات شریف کے شرو ع سے اور قرآ ن شریف میں ظاہر کردی گیئ تھی 

تورات شریف کے پہلے صفحے سے ہی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عیسیٰ ال مسیح کے ایّام اور انکی قربانی الله کے ذرئیے پہلے ہی سے واقفیت میں تھی – تمام مقدّس کتابوں (تورات شریف ، زبور شریف ، انجیل شریف اور قران شریف میں صرف دو ہفتوں کا ذ کر پایا جاتا ہے جس میں ہفتے کے ہر ایک دن کے واقعیات کو مسلسل طریقے سے بیان کیا گیا ہے – ایسا پہلے ہفتے کا بیان کہ کس طرح الله نے ہر ایک چیزکو چھ دنوں میں بنایا اسکو تورات شریف کے پہلے دو ابواب میں پیش کیا گیا ہے – غور کریں کی قران شریف بھی تخلیق کے چھ دنوں کی بابت زور دیتا ہے –   

. بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی کائنات) کو چھ مدتوں (یعنی چھ اَدوار) میں پیدا فرمایا پھ(اپنی شان کے مطابق) عرش پر استواء (یعنی اس کائنات میں اپنے حکم و اقتدار کے نظام کا اجراء) فرمایا۔ وہی رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے (درآنحالیکہ دن رات میں سے) ہر ایک دوسرے کے تعاقب میں تیزی سے لگا رہتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے (سب) اسی کے حکم (سے ایک نظام) کے پابند بنا دیئے گئے ہیں۔ خبردار! (ہر چیز کی) تخلیق اور حکم و تدبیر کا نظام چلانا اسی کا کام ہے۔ اللہ بڑی برکت والا ہے جو تمام جہانوں کی (تدریجاً) پرورش فرمانے والا ہےo

7:54سورہ ال – اعراف

. جس نے آسمانی کرّوں اور زمین کو اور اس (کائنات) کو جو ان دونوں کے درمیان ہے چھ اَدوار میں پیدا فرمایا پھر وہ (حسبِ شان) عرش پر جلوہ افروز ہوا (وہ) رحمان ہے، (اے معرفتِ حق کے طالب!) تو اس کے بارے میں کسی باخبر سے پوچھ (بے خبر اس کا حال نہیں جانتے)o

25:59سورہ ال – فرقان

. اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (اسے) چھ دنوں (یعنی چھ مدتوں) میں پیدا فرمایا پھر (نظام کائنات کے) عرش (اقتدار) پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ افروز ہوا، تمہارے لئے اسے چھوڑ کر نہ کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی سفارشی، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتےo

32:4سورہ اس – سجدہ

. اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور اُس (کائنات) کو جو دونوں کے درمیان ہے چھ زمانوں میں تخلیق کیا ہے، اور ہمیں کوئی تکان نہیں پہنچیo

50:38سورہ قاف

. وہی ہے جِس نے آسمانوں اور زمین کو چھ اَدوار میں پیدا فرمایا پھر کائنات کی مسند اقتدار پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ افروز ہوا (یعنی پوری کائنات کو اپنے امر کے ساتھ منظم فرمایا)، وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں سے خارج ہوتا ہے اور جو کچھ آسمانی کرّوں سے اترتا (یا نکلتا) ہے یا جو کچھ ان میں چڑھتا (یا داخل ہوتا) ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو (اسے) خوب دیکھنے والا ہےo

57:4سورہ ال – حدید

روزانہ کے واقعیات کے ساتھ جو دوسرے  ہفتہ کا بیان ہے وہ ہے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی زندگی کا آخری ہفتہ – کوئی دوسرا نبی چاہے وہ حضرت ابراہیم ہو ، حضرت داؤد ہو یا حضرت محمّد صلّم – ان میں سے کسی کا بھی  روزانہ کے سرگرمیوں کا ایک مکمّل ہفتے کے لئے بیان نہیں کیا گیا ہے – مکمّل تخلیقی کا بیان جو تورات کے شرو ع میں ہے اسے یہاں پیش کیا گیا ہے –حضرت عیسیٰ ال مسیح کی زندگی کے آخری ہفتے کے واقعیات کی بابت ہم نے پڑھا اور دیکھا ہے – یہ فہرست  ان دو ہفتوں کے ہر دن کے واقعیات کو ساتھ ساتھ موازنے کے لئے رکھتا ہے – 

ہفتے کا د نتخلیق کا ہفتہعیسیٰ ال مسیح کا آخری ہفتہ
دن 1وہاں پر تاریکی ہے اور اللہ کہتا ہے ، ‘روشنی ہوجا’  اورروشنی ہو گیئ –تاریکی میں روشنی ہے مسیح یروشلیم میں داخل ہوتے اور کہتے ہیں "…میں دنیا میں ایک روشنی بطور ہوکر آیا ہوں…”وہاں تاریکی میں روشنی ہے 
دِن 2الله آسمانوں کو زمیں سے جد ا کرتا ہےعیسیٰ زمیں کی ان چیزوں کو آسمان کی چیزوں سے مقدس کی صفائی کرتے ہوئے الگ کرتے ہیں
دن 3الله کلام کرتا ہے اور سمندر میں سسوکھی زمین نکل آتی ہے – عیسیٰ ایمان کی بات کرتے ہیں کہ  وہ پہاڑوں کو ہلا سکتا اور انھیں سمندر میں ڈبوسکتا ہے –
الله پھر سے کلام کرتا ہے ‘کہ زمینن  پیڑ پودوں کو اگاے’ اور وہ ویسا ہی ہوا عیسیٰ کلام کرتے ہیں اور انجیر کا درخت زمیں سے سوکھ جاتا ہے
دن 4الله کلام کرتا ہے ‘ آسمان میں نیّر ہوں ‘ تب سورج چاند اور ستارے آسمان میں جگمگانے لگتے ہیں –عیسیٰ ہونے زمیں پر لوٹنے کے نشانات کی بات کرتے ہیں کی ان دنوں سورج چاند اور ستارے بے نور ہو جاینگے –
دن 5الله تمام اڑنے والے پرندوں کو بناتا ہے اور رینگنے والے ڈائنا سور = اشدھاؤں کو بھی –    شیطان ، وہ بڑا اشدھا ، یہود ا اسکریوت میں سماتا ہے تاکہ مسیح کو مارے –  
دن 6الله کلام کرتا ہے اور زمیں کے جاندار وجود میں آتے ہیں –فسح کے برے اور دیگر جانور مقدس میں زبح کئے جاتے ہیں –  
 ‘خداوند خدا … نے آدم کے نتھنوں میں دم پھونکا’- اور آدم جیتی جان ہوا  –ایک اونچی آواز کے ساتھ یسوع چللاۓ اور اپنا آخری دم دے دیا ” (مرقس37 :15)
الله آدم کو باغ عدن میں رکھتا ہےعیسیٰ اپنی آزاد مرضی سے گتھسمنی کے باغ  میں داخل ہوتے ہیں –  
آدم کو ایک لعنت کے ساتھ نیک و بد کی پہچان کے درخت سے دور رہنے کے لئے خبردار کیا گیا –  عیسیٰ کو ایک درخت کے تنے پر میخوں سے جڑ دیا گیا –(گلتیوں 13 :3 )
کوئی بھی جانور آدم کے لایق نہیں  پایا گیا کہ اسکا ساتھی بنے –    اسکودوسرے شخص کی ضرورت تھی  –فسح کے جانوروں کی قربانیاں کافی نہیں تھے –ایک شخص کی ضرورت تھی – (عبرانیوں 5-4 :10
الله نے آد م  کو ایک گہری نیند میں سلا دیا –  عیسیٰ موت کی گہری نیند میں سو جاتے ہیں –
الله آدم کی پسلی میں ایک زخم کرتا ہے اور اس سے حوا کو بناتا ہے –اسطرح آدم کی دلہن تییار ہوتی ہے –عیسیٰ کی پسلی میں ایک زخم دیا گیا – اس کی قربانی سے عیسیٰ ایک دلہن کو جیت لیتے ہیں – یعنی کہ اس کے اپنے لوگ – (مکاشفہ 9 :21 )
دن 7الله اپنے کاموں سے فرصت پاکر آرام کرتا ہے – اس دن  کے پاک ہونے کا اعلان کرتا ہے  عیسیٰ ال مسیح موت کی حالت میں آرام فرماتے ہیں –

ان دو ہفتوں کے لئے ہر دن کے واقعیات ایک دوسرے کے آئینے کی عکس کی طرح ہیں – ان میں مناسبت پایا جاتا ہے – ان دونوں ہفتوں کے آخر میں ، نی زندگی کے پہلے پھل پھٹنے اور ایک نیا مخلوق بن کر پھلنے پھولنے کے لئے تییار ہیں – حضرت آدم اور عیسیٰ ال مسیح ایک دوسرے کی برعکس تصویریں ہیں – قران شریف حضرت عیسیٰ ال مسیح اوراور حضرت آدم کی بابت کہتا ہے :

. بیشک عیسٰی (علیہ السلام) کی مثال اللہ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی سی ہے، جسے اس نے مٹی سے بنایا پھر (اسے) فرمایا ’ہو جا‘ وہ ہو گیاo

انجیل شریف آدم کی بابت کہتی ہے

… آد م جو آنے والے کا مثیل تھا –

رومیوں 14 :5

اور —

 

۲۱ کیونکہ جب آدمی کے سبب سے مَوت آئی تو آدمی ہی کے سبب سے مُردوں کی قیامت بھی آئی۔ ۲۲ اور جیسے آدم میں سب مرتے ہیں وَیسے ہی مسِیح میں سب زِندہ کِئے جائیں گے۔

15:21-22 1 کرنتھیوں

ان دو ہفتوں کا موازنہ کرنے کے ذرئیے ہم دیکھتے ہیں کہ آدم حضرت عیسیٰ ال مسیح کا ایک برعکس نمونہ تھا – ا کائنات کی تخلیق کے لئے الله کو چھ دنوں کی ضرورت تھی ؟ کیا وہ ان سب کی تخلیق ایک ہی حکم کے ساتھ نہیں کر سکتا تھا ؟ اسنے اس طریقے سے تخلیق کیوں کی جس طریقے سے ہم کتاب مقدّس میں پڑھتے ہیں ؟ الله نے ساتویں دن آرام کیوں کیا جبکہ وہ تھکا ہوا نہیں تھا ؟ وہ تخلیق کے کاموں کو اس بطور تنظیم و ترتیب سے انجام دیتا ہے کہ نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے آخری ہفتے کی سرگرمیاں تخلیقی ہفتے کے روزانہ کے کاموں میں استعمال میں لایا جا سکے – یہ خاص طور سے چھ دن کے لئے سچ ہے  – ہم نمونے کو براہ راست کلام میں دیکھ سکتے ہیں – مثال کے طور پر یہ کہنا کہ ‘عیسیٰ ال مسیح مر گئے ‘ ، انجیل شریف کہتی ہے ، ‘انہوں نے آخری دم لیا’ – یہ تھا ایک براہ راست حضرت آدم کے برعکس نمونہ جسنے زندگی کا دم حاصل کیا تھا – اس طرح کا نمونہ جو زمانے کے شرو ع سے تھا یہ ‘علم پیشین’ کو ظاہر کرتا ہے  جس طرح سے پطرس نے عیسیٰ ال مسیح کی قیامت کے بعد اپنے خط میں تحریر کیا –      

تورات میں بعد کے واقعیات کی تمثیلیں 

تو پھر تورات شریف خاص واقعیات کا بیان کرتی ہے اور دستوریں قائم کرتی ہے جو تصوّر بطور جونبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی آنے والی قربانی کی تصویر پیش کرتی ہے – یہ اس لئے پیش کیں گئے کہ الله کے منصوبہ کے علم پیشین کو سمجھنے میں ہماری مدد ہو سکے – ہم نے ان میں سے کچھ میل کے پتھروں کو دیکھا –ذیل کی فہرست ان کا خلاصہ کرتی ہے جو ان بڑی نشانیوں کو جوڑتی ہے جن کو نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح سے  ایک ہزار سال پہلے لکھا گیا تھا –

تورات سے نشانیآنے والی عیسیٰ ال مسیح کی قربانی کو یہ کس طرح ظاہر کرتی ہے
آدم کی نشانیجب الله نے آدم کی نا فرمانی کے بعد اسکا سامنا کیا تو اسنے ایک نسل مرد کی بات کہی جو (صرف) ایک عورت سے آنے والا تھا (یعنی ایک کنواری سے جنما) یہ نسل شیطان کو کچلیگا مگر وہ خود بھی اس طریق عمل میں مارا جاےگا –  
قابیل اور ہابیل کی نشانیایک موت کی قربانی کی ضرورت تھی – مگرقابیل نے سبزی ترکاریوں کا ہدیہ پیش کیا (جن میں جان نہیں تھی مگر ہابیل ننے ایک جانور کی زندگی کا ہدیہ پیش کیا – اس کو الله نے قبول کیا –یہ نبی عیسیٰ ال مسیح کی قربانی کے لئے ایک منصوبے کی مثال پیش کرتی ہے –  
  حضرت ابراہیم کی قربانی کی نشانی یہ تصویر اور تفصیل کو بتوڑتی ہے جس طرح سے ایک مقرّرہ مقام جہاں نبی حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی دی تھی وہ ہو بہو وہی مقام تھا جہاں ہزاروں سال بعد عیسیٰ ال مسیح قربان ہونے جا رہے تھے  اور حضرت ابراہیم نے اس مستقبل کی قربانی کی بابت پیش بینی کی تھی – حضرت ابراہیم کے بیٹے کو مرنا چاہئے تھا مگر آخری لمحے میں ایک مینڈھا اسکی جگہ پر قربان ہوا تاکی بیٹا زندہ رہ سکے –یہ تصویر پیش کرتی ہے کہ کس طرح عیسیٰ ال مسیح خدا کا برّہ بطور خود کو قربان کیا تاکہ ہم زندہ رہ سکیں    
موسیٰ کے ف سح کی نشانی   الله کے منصوبے کو آگے کی تفصیل میں اس طرح ظاہر کیا گیا ہے جب کسی خاص دن – فسح پر برروں کو قربان کیا جاتا ہے –مصر کے فرعون نے برہ  کی قربانی نہیں دی اور اسنے موت کا تجربہ کیا –مگر بنی اسرائیل جنہوں نے برّہ کی قربانی دی وہ موت سے بچ گئے – صدیوں سال بعد عیسیٰ ال مسیح اسی دن یعنی کلنڈ ر کے مطابق – فسح کے دن کے موقع پر –     
  ہارون کی قربانی کی نشانیحضرت ہارون جانوروں کی ایک خاص رسمی قربانی کو انجام دیتے ہیں –بنی اسرائیل جنہوں نے گناہ کیا تھا وہ اپنے گناہ کے کفا رے کے لئےقربانی کو انجام دیتے تھے کیونکہ اس کے لئے موت کی قربانی کی ضرورت تھی –ان قربانیوں کو صرف سردار کاہن ہی لوگوں کی خاطر انجام دیتا تھا – یہ توقع  صرف عیسیٰ ال مسیح سےکیا جا سکتا تھا کیونکہ وہ اپنے کردار میں کاہن بطور ہوکر ہمارے لئے اپنی جان کی قربانی دی –  

اسلئے کی حضرت موسیٰ نبی کی تورات صاف طور سے حضرت عیسیٰ ال مسیح کے آنے کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ :

 ۱ کیونکہ شرِیعت جِس میں آیندہ کی اچھّی چِیزوں کا عکس ہے اور اُن چِیزوں کی اصلی صُورت نہیں اُن ایک ہی طرح کی قُربانیوں سے جو ہر سال بِلاناغہ گُذرانی جاتی ہیں پاس آنے والوں کو ہرگِز کامِل

نہیں کرسکتی(10:1عبرانیوں

اور حضرت عیسیٰ ال مسیح نے انھیں چتونی دی جنہوں نے انکے آنے کے مقصد پر اعتقاد نہیں کیا –

 

۴۳ میَں اپنے باپ کے نام سے آیا ہُوں اور تُم مجُھے قبُول نہیں کرتے-اگر کوئی اَور اپنے ہی نام سے آئے تو اُسے قبُول کر لو گے- ۴۴ تُم جو ایک دُوسرے سے عِزّت چاہتے ہو اور وہ عِزّت جو خُدایِ واحِد کی طرف سے ہوتی ہے نہیں چاہتے کیونکر اِیمان لاسکتے ہو؟- ۴۵ یہ نہ سمجھو کہ میَں باپ سے تُمہاری شکایت کُرونگا-تُمہاری شکایت کرنے والا تو ہے یعنی مُوسٰی جِس پر تُم نے اُمید لگا رکھّی ہے- ۴۶ کیونکہ اگر تُم مُوسٰی کا یقِین کرتے تو میرا بھی یقِین کرتے-اِس لِئے کہ اُس نے میرے حق میں لِکھّا ہے- ۴۷ لیکن جب تُم اُس کے نِوشتوں کا یقِین نہیں کرتے تو میری باتوں کا کیونکر یقِین کرو گے؟

5:43-47 یوحّنا

عیسیٰ ال مسیح نے اپنے شاگردوں سے یہ بھی کہا کی لوگوں کی مدد کریں کہ وہ انکے مشن کو سمجھیں –

 ۴۴ پھِر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہے جو مَیں نے تُم سے اُس وقت کہِیں تھِیں جب تُمہارے ساتھ تھا کہ ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی توریت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں۔

24:44 لوقا

نبی نے صفائی سے کہا کہ نا صرف تورات بلکہ زبور کے انبیاء نے بھی اسکی بابت بہت کچھ لکھ چکے ہیں – اسکو ہمم یہاں دیکھتے ہیں – جس بطور تورات واقعیات کا استعمال کیا جو مسیح کے آنے کی مثالیں تھیں ، ان بعد کے نبیوں نے انکے آنے والی موت اور قیامت کا ذ کرمزامیر بطور کیا –   

یہاں ہم سمجھتے ہیں کہ کسطرح سے ابدی زندگی انعام کو حاصل کیا جاۓ جو نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے ذرئیے ہمارے لئے پیش کیا گیا ہے –

حضرت عیسیٰ المسیح کو جاننے کے وسیلے سے زندگی کا تحفہ حاصل کریں

ہم نے حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی کے آخری ہفتے کا جائزہ لیا۔ اس کے بارے انجیل مقدس میں درج ہے کہ وہ ہفتے کے چھٹے دن صلیب پر مصلوب ہوئے۔ اور وہ دن مبارک جمعہ کہلاتا ہے۔ اور آپ اتوار والے دن وہ مُردوں میں سے جی اُٹھے۔ اِس کے بارے میں تورات، زبور اور صحائف انبیاہ میں پیشگوئی پہلے سے نبیوں نے درج کردی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ کیوں واقعہ ہوا اور آج یہ تمہارے اور میرے زندگی کے لیے کیوں اتنا اہم ہے؟ اور یہاں ہم اس بات کو سمجھنے کے کوشش کریں گے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے لیے کیا پیش کیا۔ اور کیسے ہم اللہ تعالیٰ کے رحم اور معافی کو حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ ہمیں سورة الفاتح کو بھی سمجھنے میں مدد دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جاتی ہے کہ "ہمیں سیدھا راستہ دیکھا” اور "مسلم” کا مطلب ہے "جو اطاعت یا تعاعب” ہوگیا ہو۔ اور کس طرح یہ سب مذہبی رسمیں وضو، زکوة، اور ہلال کھانا سب اچھا ہے لیکن پھر بھی قیامت والے دن یہ سب ناکافی ہیں؟

بری خبر: انبیاہ اکرام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتے کے بارے میں کیا کہا ہے؟

یوں اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا، اللہ کی صورت پر۔ اُس نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا۔ پیدائش 1:27

یہاں پر "صورت” سے مراد جسمانی معنی نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے معنی ہیں کہ ہم جذباتی ، ذہنی ، معاشرتی اور روحانی طور پر کام کرنے کے انداز میں اللہ تعالیٰ کی عکاسی کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق یا رشتہ قائم کرنے کے لیے پیدا کئے گے تھے۔ ہم اس رشتے یا تعلق کو اس سلائیڈ میں دیکھ سکتےہیں۔ اس سلائیڈ میں خالق جو کہ لامحدود حاکم ہے اس کو اُوپر لکھا گیا ہے۔ اس طرح مرد اور عورت کو سلائیڈ کے نیچے رکھا گیا ہے۔ کیونکہ ہم محدود مخلوق ہیں۔ اور اس میں رشتے کو تیر کے ذریعے دیکھایا گیا ہے۔

جب ہم اللہ تعالیٰ کی صورت پر پیدا کئے گے تھے۔ لوگوں کو اپنے خالق کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔

اللہ تعالیٰ کا کردار کامل ہے۔ وہ پاک ہے۔ اس لیے زبور شریف میں کہا گیا ہے

کیونکہ تُو ایسا خدا نہیں ہے جو بےدینی سے خوش ہو۔ جو بُرا ہے وہ تیرے حضور نہیں ٹھہر سکتا۔ مغرور تیرے حضور کھڑے نہیں ہو سکتے، بدکار سے تُو نفرت کرتا ہے۔     

    زبور 5: 4-5

حضرت آدم نے صرف ایک نافرمانی کی۔ صرف ایک۔ اور اللہ تعالیٰ کی تقدیس نے حضرت آدم کو انصاف کے لیے طلب کیا ہے۔ تورات شریف اور قرآن شریف میں لکھا ہے کہ اس کے نافرمانی کی وجہ سے حضرت آدم فانی ہوگے اور اللہ تعالیٰ کی پاک حضوری میں نکال دیا۔ جب کبھی ہم گناہ کرتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے نافرمانی جس طرح ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی صورت پر بنا اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ تو دراصل ہم اس رشتے کو توڑ دیتے ہیں۔ اس لیے یہ نافرمانی ایک سخت چٹان کی مانند ہمارے اور خدا (خالق) کے درمیان ایک دیوار بن جاتی ہے۔  

ہمارے گناہ ہمارے اورہمارے پاک خدا کے درمیان ایک ٹھوس رکاوٹ پیدا کرتے ہیں

گناہوں کی دیوار کو نیکیوں کے ساتھ گرانا

ہم میں سے بہت سے لوگ مذہبی نیک کاموں کے ذریعے اس بڑی دیوار کو گرانا چاہتے ہیں۔ یا پھر ایسے نیک کام کرتے ہیں کے اُن کے بدلے اللہ تعالیٰ اور انسان کے درمیان جدائی ختم ہوجائے۔ نماز، روزہ، زکوة، حج، صدقہ دینا اور مسجد جانا ان سب کاموں کے وسیلے ہم اس گناہوں کی دیوار کو گرانا چاہتے ہیں۔ اُمید یہ ہوتی ہے کہ ہمارے مذہبی نیک کاموں کے وسیلے ہمارے گناہ کام ہوجائیں گے؟ اگر ہم اتنے نیک کام کمالیں کے ہمارے سارے گناہوں کو منسوخ کردیا جائے اور پھر یہ اُمید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور مغفرت عطا فرمائے۔

ہم اللہ اور ہمارے درمیان گناہ کی دیوار کو کے نیک اعمال وسیلے چھیدنے کی کوشش کرتے ہیں

لیکن ہمیں گناہوں کو معاف کروانے کے لیے کتنی زیادہ نیک کام کمانے ہونگے؟ اس بات کا کیا یقین ہے کہ ہماری نیکیاں کافی ہونگی تماتر گناہوں کو معاف کروانے کے لیے اور اُس دیوار کو گرا دے جو ہمارے اور حالق کے درمیان کھڑی ہے؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ ہم نیک کوشش جو ہم کرتے ہیں وہ کافی ہے؟ دراصل ہم کو ان تمام تر باتوں میں کوئی یقین نہیں ہے۔ ہم اس لیے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ قیامت روز ہمارے لیے کافی ہوں۔

ان تمام تر نیک نیت اور نیک کاموں کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ ہم پاک بھی رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نماز سے پہلے جاںفشانی کے ساتھ وضو کرتے ہیں۔ ہم ہر طرح سے کوشش کرتے ہیں کہ ہم لوگوں، اور اُن چیزوں سے دور رہیں جن سے ہم ناپاک ہوسکتے ہیں۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے ایک بات کا ہم پر یہ انکشاف کیا کہ۔

ہم سب ناپاک ہو گئے ہیں، ہمارے تمام نام نہاد راست کام گندے چیتھڑوں کی مانند ہیں۔ ہم سب پتوں کی طرح مُرجھا گئے ہیں، اور ہمارے گناہ ہمیں ہَوا کے جھونکوں کی طرح اُڑا کر لے جا رہے ہیں۔  یسعیا 64: 6

یہاں نبی ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم سب چیزوں سے پرہیز کریں تو بھی ہم ناپاک ہوجاتے ہیں۔ ہمارے گناہوں ہمارے تمام تر "نیک یا راستی” کے کاموں کو ناپاک بنادیتے ہیں جس طرح ایک گندا کپڑا خون سے لت ہو۔ یہ ایک بُری خبر ہے۔ لیکن اور بھی خراب ہوجاتی ہے۔

بدترین خبر: گناہ اور موت کی طاقت

حضرت موسیٰ  نے شریعت کا واضع قانون متعارف کروایا۔ کہ احکام کی کامل اطاعت کرنی ہوگی۔ شریعت میں کہیں بھی ایسا نہیں لکھا کہ تم "بیشتر احکام” پر عمل کرسکتے ہو اور باقی جو چُھوٹ جائیں اُن کو رہنے دو۔ درحقیقت شریعت میں بار بار کہا ہے کہ واحد نیک کام ہمارے گناہ کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی اور وہ موت ہے۔ ہم نے حضرت نوح کے زمانے میں اور حتیٰ کہ حضرت لوط کی بیوی کے ساتھ بھی دیکھا تھا کہ گناہ کا نتیجہ موت ہے۔

انجیل شریف اس سچائی کا خلاصہ ذیل میں بیان کرتی ہے۔

کیونکہ گناہ کا اجر موت ہے ۔ ۔ ۔  رومیوں 6: 23

موت کے لفظی معنی ہیں "علیحدگی”۔ جب ہماری روح ہمارے جسم سے الگ ہوجاتی ہے تو ہم جسمانی طور پر مر جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم اب بھی روحانی طور پر خدا سے جدا ہوگئے ہیں اور اس کی نظر میں مردہ اور ناپاک ہیں۔

اس سے گناہ سے مغفرت حاصل کرنے میں مسلئہ پیدا ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سخت کوششیں ، قابلیت ، اچھے ارادے اور نیک اعمال ، اگرچہ غلط نہیں ہیں ، لیکن ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے ناکافی ہیں کیوںکہ ہمارے گناہوں کی ادائیگی ("اجرت”) کی ضرورت ‘موت’ ہے۔ اس لیے صرف موت ہی اس گناہ کی دیوار کو گرا سکتی ہے۔  کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ عادل منصف ہے اور اُس کا انصاف اس سے مطمئن ہوتا ہے۔ نیکیوں کوحاصل کرنے کے لئے ہماری کوششیں ایسی ہیں جیسے ہم حلال کھانا کھا کر کینسر سے علاج حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہوں۔ حلال کھانا بُرا نہیں ہے بلکہ اچھا ہے۔ اور ہر کسی کو حلال کھانا کھانا چاہئے۔ لیکن اس سے کینسر کا علاج نہیں ہوتا۔ بلکہ کینسر کا علاج بالکل مختلف ہے۔ اس علاج میں کینسر والے خلیوں کو موت دی جاتی ہے۔ تاکہ انسان کو بچا لیا جائے۔

لہذا ہماری مذہبی نیک کوششوں اور نیک ارادوں میں بھی ہم اپنے خالق کی نظر میں ایک لاش کی طرح دراصل مردہ اور ناپاک ہیں۔

ہمارے گناہ کا اجر موت ہے۔ ہم اللہ کے حضور ناپاک لاشوں کی مانند ہیں

حضرت ابراہیم : سیدھا راستہ دیکھا رہے ہیں

حضرت ابراہیم کے ساتھ کچھ مختلف ہوا۔ اُن کو نیک کاموں یا راست بازی کے کاموں کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر ایمان لائے اس لیے اُن کو راست باز گنا گیا۔ اُنہوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا نہ کہ اپنے نیک کاموں پر۔ ہم نے اس عظیم قربانی کے واقع میں دیکھا کہ موت (گناہ کی ادائیگی) ادا کی گئی۔ لیکن حضرت ابراہیم کے بیٹے کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بکرہ عطا کیاگیا۔

ابراہیم کو سیدھا راستہ دکھایا گیا تھا – اس نے سیدھے خدا کے وعدے پر بھروسہ کیا اور خدا نے گناہ کے لئے موت کی ادائیگی کی

قرآن شریف کی سورة الصَّافات اس طرح بیان کیا گیا ہے

اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا ﴿۱۰۷﴾  اور پیچھے آنے والوں میں ابراہیم کا (ذکر خیر باقی) چھوڑ دیا ﴿۱۰۸﴾  کہ ابراہیم پر سلام ہو ﴿۱۰۹  

            سورة الصَّافات ۳۷: ۱۰۷ تا ۱۰۹                                                                                                    

                                                                                                                                                          اللہ تعالیٰ نے ‘فدیہ’ دیا (قیمت ادا کی) اور ابراہیم کو برکت ، رحمت اور مغفرت ملی ، جس میں ’’ امن ‘‘ شامل تھا۔

خوشخبری: حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے ایک عظیم کام کیا

نبی کی مثال بالکل ایسی ہے جس طرح سورة فاتحہ میں دوخواست کی گئی کہ ہمیں سیدھا راستہ دیکھا۔ (سورة الفاتحہ

سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے ﴿۱﴾  بڑا مہربان نہایت رحم والا ﴿۲﴾  انصاف کے دن کا حاکم ﴿۳﴾  (اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ﴿۴﴾

سورة الفاتحہ ۱: ۱ تا ۴

انجیل شریف میں اس بات کی وضاحت کی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ اللہ کس طرح ہمارے گناہ کی قیمت ادا کرے گا اور سادہ اور حیرت انگیز طریقے سے موت اور ناپاکی کا علاج مہیا کرے گا۔

کیونکہ گناہ کا اجر موت ہے جبکہ اللہ ہمارے خداوند مسیح عیسیٰ کے وسیلے سے ہمیں ابدی زندگی کی مفت نعمت عطا کرتا ہے۔

رومیوں 6:23

اب تک ہم’بری خبرکی بات کر رہے تھے ۔ لیکن جب انجیل شریف کے معنی کو لیتے ہیں تو ‘انجیل’ کے لغوی معنی ہیں ’خوشخبری‘ اور انجیل یہ اعلان کرتی ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ کی موت کی قربانی ہمارے اور خدا کے مابین اس گناہ کی دیوار یا رکاوٹ کو چھیدنے کے لئے کافی ہے ہم دیکھ سکتے ہیں کیوں کہ یہ خوشخبری ہے جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی قربانی – خدا کا بکرہ – ہمارے گناہوں کے واسطے موت کی ادائیگی اُسی طرح ادا کی۔ جیسے ابراہیم کے بکرے کو قربان کیا تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح  قربان ہوئے اور پھر پہلے پھلوں کے طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھے تو وہ اب ہمیں نئی زندگی (ہیمشہ کی زندگی) کی پیش کش کرتے ہیں۔ اب ہمیں گناہ کی وجہ سے موت کے قید میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی مُردوں میں سے قیامت ‘پہلا پھل’ تھا۔ ہم موت سے آزاد ہوسکتے ہیں اور حضرت عیسیٰ المسیح کی طرح قیامت جس کا مطلب جی اُٹھنے والی زندگی حاصل کرسکتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح (کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا) قیامت پہلا پھل’ تھے۔ ہم موت سے آزاد ہوسکتے ہیں اور قیامت میں ہیمشہ کی زندگی حاصل کرسکتے ہیں۔

اس کی قربانی اور (مُردوں میں سے جی اُٹھ کر) قیامت میں حضرت عیسیٰ المسیح گناہ کی راہ میں رکاوٹ کا دروازہ بن گیا جو ہمیں اللہ تعالیٰ سے جدا کرتا ہے۔ اسی لئے پیغمبر نے فرمایا

‘مَیں ہی دروازہ ہوں۔ جو بھی میرے ذریعے اندر آئے اُسے نجات ملے گی۔ وہ آتا جاتا اور ہری چراگاہیں پاتا رہے گا۔ چور تو صرف چوری کرنے، ذبح کرنے اور تباہ کرنے آتا ہے۔ لیکن مَیں اِس لئے آیا ہوں کہ وہ زندگی پائیں، بلکہ کثرت کی زندگی پائیں۔      یوحنا 10: 9-10

حضرت عیسیٰ المسیح ایسا دروازہ ہے جو گناہ اور موت کی راہ میں رکاوٹ ہے

اس دروازے (حضرت عیسیٰ المسیح) کی وجہ سے ، اب ہم اپنے خالق کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ اس سے پہلے  ہمارا گناہ ایک رکاوٹ تھا ۔ اس دروازے کے وسیلے ہمیں رحمت اور اپنے گناہوں کی معافی کی یقین دلایا جاسکتا ہے۔

کھلے دروازے کے ساتھ اب ہم اپنے خالق کے ساتھ تعلقات میں بحال ہوگئے ہیں

جس طرح انجیل پاک میں لکھا ہے۔

کیونکہ ایک ہی خدا ہے اور اللہ اور انسان کے بیچ میں ایک ہی درمیانی ہے یعنی مسیح عیسیٰ، وہ انسان جس نے اپنے آپ کو فدیہ کے طور پر سب کے لئے دے دیا تاکہ وہ مخلصی پائیں۔ یوں اُس نے مقررہ وقت پر گواہی دی

پہلا تیمتھیس 2: 5-6

حضرت عیسیٰ المسیح  نے ‘خود کو’ تمام لوگوں کے لئے ‘دیا۔ لہذا اس میں آپ  کو اپنے آپ کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ اپنی موت اور قیامت کے ذریعے اہمارا ایک ’ثالث‘ ہونے کی قیمت ادا کردی ہے اور ہمیں ہمیشہ زندگی کی پیش کش کی ہے۔ یہ زندگی ہمیں کیسے دی جاتی ہے؟

‘کیونکہ گناہ کا اجر موت ہے جبکہ اللہ ہمارے خداوند مسیح عیسیٰ کے وسیلے سے ہمیں ابدی زندگی کی مفت نعمت عطا کرتا ہے۔’

رومیوں 6: 23

غور کریں کہ یہ زندگی ہمیں کس طرح دیا گیا ہے۔ یہ بطور…  ’ہم کو تحفہ‘ کے پیش کی جاتا ہے۔ زرا آپ تحفوں کے بارے میں سوچیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تحفہ کیسا ہے ، اگر واقع یہ ایک تحفہ ہے تو یہ ایسی چیز ہے جس کے لیے آپ کام نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی  اس کے لیے کوئی قیمت یا نیک کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ نے اسے کمایا تو یہ تحفہ اب کوئی تحفہ نہیں ہوگا – یہ آپ کے کام کی اجرت ہوگی! اسی طرح آپ عیسیٰ المسیح کی قربانی کا تقاضا نہیں لگا سکتے اور نہ ہی اپنے نیک کاموں سے کما سکتے ہیں۔ یہ بطور تحفہ جو آپ کو دیا گیا ہے۔ یہ اتنا آسان اور سادہ ہے۔

اور تحفہ کیا ہے؟ یہ ‘ہمیشہ زندگی’ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس گناہ سے موت آپ اور مجھے پر آئی وہ اب اس کی ادائگی  چکا ہے۔ کیونکہ خدا تم سے اور مجھ سے محبت رکھتا ہے۔  اور اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔

اب آپ اور میں ہیمشہ کی زندگی کیسے حاصل کرسکتے؟ ایک بار پھر ، تحائف کے بارے میں سوچیں. اگر کوئی آپ کو کوئی تحفہ دینا چاہتا ہے تو آپ کو اسے ضرور ‘وصول’ کرنا ہوگا۔ جب بھی تحفہ پیش کیا جاتا ہے تو صرف دو ہی متبادل ہوتے ہیں۔ یا تو تحفہ سے انکار کردیا جاتا ہے ("نہیں آپ کا شکریہ”) یا قبول کرلیا جات ہے ("آپ کے تحفے کا شکریہ۔ میں اسے لے کر جاؤں گا”)۔ تو بھی یہ تحفہ موصول ہونا ضروری ہے. اس تحفے کو صرف آپ کو قبول ہی کرنا بلکہ اس پر ذہنی طور پر یقین کرنا ، پڑھا یا سمجھنا چاہئے۔ اچھی بات ہے جب آپ کو تحفہ پیش کیا جائے تو اس کو قبول کرنا چاہئے۔

‘توبھی کچھ اُسے قبول کر کے اُس کے نام پر ایمان لائے۔ اُنہیں اُس نے اللہ کے فرزند بننے کا حق بخش دیا، ایسے فرزند جو نہ فطری طور پر، نہ کسی انسان کے منصوبے کے تحت پیدا ہوئے بلکہ اللہ سے۔ ‘

یوحنا 1: 12-13

در حقیقت ، انجیل خدا کے بارے میں بتاتی ہے۔

‘یہ اچھا اور ہمارے نجات دہندہ اللہ کو پسندیدہ ہے۔ ہاں، وہ چاہتا ہے کہ تمام انسان نجات پا کر سچائی کو جان لیں۔ ‘

۱۔تیمتھیس 2: 3-4

حضرت عیسیٰ المسیح نجات دہندہ ہیں اور آپ کی خواہش ہے کہ ‘تمام لوگ’ اس کا تحفہ قبول کریں اور گناہ اور موت سے بچ جائیں۔ اگر آپ حضرت عیسیٰ المسیح کی مرضی قبول کرنا چاہتے ہیں۔ تو اس  تحفے کو قبول کرنا محض آپ کی مرضی کے تابع ہونا ہوگا – جس طرح لفظ ‘مسلم’ کے معنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے فرمانبردار کردینا ہے۔ اس طرح ہم کو اللہ تعالیٰ کے اس تحفے کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں قبول کرلینا چاہئے۔

تو ہم یہ تحفہ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ انجیل شریف میں درج ہے۔

‘اِس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو یا غیریہودی۔ کیونکہ سب کا ایک ہی خداوند ہے، جو فیاضی سے ہر ایک کو دیتا ہے جو اُسے پکارتا ہے۔ ‘

رومیوں 10: 12

غور کرنے کی بات ہے کہ یہ وعدہ ‘سب کے لئے’ ہے۔ چونکہ آپ مردوں میں سے جی اُٹھے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح اب بھی زندہ ہیں۔ لہذا اگر آپ ان کو پکاریں گے تو وہ سن لے گے اور آپ کو اپنا تحفہ عطا کریں گے۔

آپ ان کو پکاریں اوران سے کہیں۔ شاید آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا ہوگا۔ ذیل میں ایک گائیڈ ہے جو آپ کی مدد کرسکتی ہے۔ یہ کوئی جادومنتر نہیں ہے۔ اور نہ یی یہ مخصوص الفاظ نہیں جو  قوت دیتے ہیں۔ یہ بھروسہ ہے جیسا ابراہیم کا تھا کہ ہم حضرت عیسیٰ المسیح میں پر اپنا یقین لائیں تاکہ وہ یہ تحفہ ہمیں دیں۔ جب ہم ان پر بھروسہ کرتے ہیں تو وہ ہماری سن لے گے اور جواب دے گے۔ انجیل پاک میں قوت ہے ، اور پھر بھی بہت سادہ ہے۔ اگر آپ کو یہ مددگار ثابت ہوتا ہے تو اس رہنمائی پر عمل کرنے کے لئے آزادی محسوس کریں۔

پیارے حضرت عیسیٰ المسیح۔ میں سمجھتا ہوں کہ اپنے گناہوں کی وجہ ہی سے میں اپنے خالق اللہ تعالیٰ سے جدا ہوں۔ اگرچہ میں پوری کوشش کرسکتا ہوں ، لیکن میری کوششیں اس رکاوٹ کو جو میرے گناہ کی وجہ سے دیوار کی ماندد ہیں گرا نہیں سکتیں۔  لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی موت میرے تمام گناہوں کو دھو ڈالنے اور مجھے پاک کرنے کے لئے آپ قربان ہوئے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اپنی قربانی کے بعد مردوں میں سے جی اُٹھے ہیں لہذا مجھے یقین ہے کہ آپ کی قربانی کافی ہے اور اسی لئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم مجھے میرے گناہوں سے پاک کردیں اور اپنے خالق کے ساتھ صلح کروائیں تاکہ میں ابدی زندگی پاسکوں۔ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، حضرت عیسیٰ المسیح ، آپ نے میرے لئے یہ سب کیا۔  اور آپ اب بھی میری زندگی میں میری رہنمائی کرتے رہیں  تاکہ میں آپ کو اپنے خداوند کی حیثیت سے پیروی کرتا رہوں۔

اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان ہے

قیامت کا پہلا پھل: آپ کے لیے زندگی

سورہ ار – رعد (سورہ 13 – بجلی )غیر ایماندا روں کی طرف سے ایک عام چنوتی یا نکتہ چینی کی بابت بیان – – کرتا  ہے

اور اگر آپ (کفار کے انکار پر) تعجب کریں تو ان کا (یہ) کہنا عجیب (تر) ہے کہ کیا جب ہم (مر کر) خاک ہو جائیں گے تو کیا ہم اَز سرِ نو تخلیق کئے جائیں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا، اور انہی لوگوں کی گردنوں میں طوق (پڑے) ہوں گے اور یہی لوگ اہلِ جہنم ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیںo

 اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (رسول) پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ (اے رسولِ مکرّم!) آپ تو فقط (نافرمانوں کو انجامِ بد سے) ڈرانے والے اور (دنیا کی) ہر قوم کے لئے ہدایت بہم پہنچانے والے ہیںo

13:5,7سورہ ار-رعد

یہ دو حصّوں میں تقسیم ہوتا ہے –غیر ایماندار سورہ ار– رعد کی پانچویں آیت میں پوچھتے ہیں کی کیا کبھی قیامت ہوگی ؟ انکے نظریے سے جبکہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تو مستقبل میں بھی نہیں ہوگا – پھر وہ پوچھتے ہیں کی کیوں کوئی موجزانہ نشانی نہیں دی گیئ ہے ایک قیامت کے ہونے کو جایز قرار دیا جاۓ –حقیقی معنی میں وہ  یہ کہتے ہیں کہ ثبوت "پیش کرو!” –

سورہ ال — فرقان سورہ 25 – اصول کچھ چنوتیوں کے بارے مے بتاتا ہے جس میں تھوڑا ہلکا سا فرق پایا جاتا ہے —

اور بیشک یہ (کفار) اس بستی پر سے گزرے ہیں جس پر بری طرح (پتھروں کی) بارش برسائی گئی تھی، تو کیا یہ اس (تباہ شدہ بستی) کو دیکھتے نہ تھے بلکہ یہ تو (مرنے کے بعد) اٹھائے جانے کی امید ہی نہیں رکھتےo

 اور (اے حبیبِ مکرّم!) جب (بھی) وہ آپ کو دیکھتے ہیں آپ کا مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں کرتے (اور کہتے ہیں:) کیا یہی وہ (شخص) ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہےo

25:40—41سورہ ال – فرقان

آنے والے قیامت کا کوئی خوف نہیں ، نا ہی نبی حضرت محمّد صلّم کا- انہوں نے قیامت کو دکھانے کی پیش کش کی کہ  دکھاؤ –

 سورہ ال – فرقان بھی انکشاف کرتا ہے الله غیر ایمانداروں پر نظر رکھتا ہے –

اور ان (مشرکین) نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے لئے کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے اور نہ وہ موت کے مالک ہیں اور نہ حیات کے اور نہ (ہی مرنے کے بعد) اٹھا کر جمع کرنے کا (اختیار رکھتے ہیں)o

25:3سورہ ال – فرقان

سورہ ال – فرقان ظاہر کرتا ہے کہ لوگ اکثر جھوٹے معبودوں کو لیتے ہیں – ایک  شخص سچچے  اور جھوٹے معبود میں فرق کیسے کر سکتا ہے ؟ ال –  فرقان کی یہ آیت اسکا جواب دیتا ہے – جھوٹے معبود ‘نہ موت ، نہ زندگی اور نہ قیامت پر قابو رکھ سکتے ہیں’ – ایک قیامت پر قابو رکھنا — یہی  ہے جو جھوٹے اور سچچے کو جدا کرتا ہے — 

چاہے یہ چنوتی غیر ایمان داروں کی طرف سے الله اور اسکے رسول کے لئے دیے گئے ہو یہ ثابت کرنے کے لئے کہ جو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اس سے خوف کیسا یا الله کی جانب سے غیر ایمان داروں کو خبر دار کیا گیا ہو کہ سچچے معبود کی پرستش کریں نہ کہ جھوٹے معبودوں کی ، ان سب کے لئے ناپ کی چھڑی ایک ہی ہے اور وہ ہے – قیامت    

قیامت کو آخرکار اختیار اور قدرت کی ضرورت ہے – نبی حضرت ابراہیم ،نبی حضرت موسیٰ ،نبی حضرت داؤد اور نبی حضرت محمّد صلّم- ان میں سے کوئی بھی مردوں میں سے زندہ نہیں ہوئے – لوگوں میں سب سے زیادہ دانشمند لوگ –سقراط ،عینس ٹین ،نیوٹن اور سلیمان –ان میں سے بھی کوئی مردوں میں سے زندہ نہیں ہوا – کوئی بھی شہنشاہ جو کسی تخت پر کبھی سلطنت کیا ہو یونان کو شامل کرتے ہوئے روم ،بزن ٹاین ،عمما یا د ،عببا سد ، مملوک اور اوٹٹومن کی سلطنتیں بھی موت سے زندہ نہیں ہو پائیں- یہ سب سے آخری چنوتی ہے  – مگر یہ وہ چنوتی ہے جسے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے سامنا کرنا چاہا – 

عیسیٰ نبی نے اپنی فتح اتوا ر کے دن فجر سے پہلے حاصل کی – فجر کے وقت انکی موت پر فتح آپکے لئے اور میرے لئے بھی ہے – موت پر فتح حاصل کرنا مانو گناہوں سے چھٹکارہ پانا ہے – اب آگے کو ہمیں دنیا کے گناہوں سے جکڑے جاکر غلام ہونے کی ضرورت نہیں ہے – جس طرح سورہ ال – فلق  (سورہ  113  — پو پھٹنا) درخواست کرتا ہے —

آپ عرض کیجئے کہ میں (ایک) دھماکے سے انتہائی تیزی کے ساتھ (کائنات کو) وجود میں

 لانے والے رب کی پناہ مانگتا ہوںo

 ہر اس چیز کے شر (اور نقصان) سے جو اس نے پیدا فرمائی ہےo

 اور (بالخصوص) اندھیری رات کے شر سے جب (اس کی) ظلمت چھا جائےo 

113:1-3سورہ ال— فلق

یہاں ہم غور کرینگے کہ ایک خاص پو فتنے کی بابت صد یوں سال پہلے تورات کے پہلے پھلوں کی عید سے متعلق پیش بینی ہو ہو چکی تھی اور کس طرح طلوع صبح کا خداوند ہمکو اس دنیا کے گناہوں سے چھٹکارہ دیتا ہے – 

عیسیٰ ال مسیح اور تورات میں عید یں

ہم نے حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی کے آخری ہفتے کے ہر ایک روز کے واقعات کو باغور مطالعہ کیا ہے۔ جو کہ انجیل شریف میں درج ہے۔اُن کو ہفتے کے آخری دن جو کہ فسح کا دن تھا۔ اُسی روز صلیب پر مصلوب کردیا جاتا ہے۔ فسح یہودیوں کا ایک خاص تہوار ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ المسیح نے سبت والے دن قبر میں آرام کیا۔ جو کہ ہفتے کاساتواں اور پاک دن ماننا جاتا ہے۔  

یہ مقدس تہوار کے بارے حضرت موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے تورات شریف میں حکم دے دیا تھا۔ آئیں یہاں پر ان ہدایات کو پڑھتے ہیں

‘اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ۔ بنی اِسرائیل سے کہہ کہ خُداوند کی عِیدیں جِن کا تُم کو مُقدّس مجمعوں کے لِئے اِعلان دینا ہو گا میری وہ عِیدیں یہ ہیں۔

سبت

چھ دِن کام کاج کِیا جائے پر ساتواں دِن خاص آرام کا اور مُقدّس مجمع کا سبت ہے ۔ اُس روز کِسی طرح کا کام نہ کرنا ۔ وہ تُمہاری سب سکُونت گاہوں میں خُداوند کا سبت ہے۔

فسح اور عیدیں

خُداوند کی عِیدیں جِن کا اِعلان تُم کو مُقدّس مجمعوں کے لِئے وقتِ مُعیّن پر کرنا ہو گا سو یہ ہیں۔ پہلے مہِینے کی چَودھوِیں تارِیخ کو شام کے وقت خُداوند کی فَسح ہُؤا کرے۔ ‘ احبار 23: 1-5

یہ زیادہ انوکھا نہیں ہے کہ نبی عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت اور آرام دونوں سچ مچ میں ان دو مقدّس عیدوں کے ساتھ متفق ہو رہا تھا جو 1500 سال پہلے پیش گوئی کی گیئ تھی جس طرح سے وقت کی لکیر میں بتایا گیا ہے ؟ یہ کیوں ہے ؟ اس کا جواب ہم سب تک پہنچتا ہے یہاں تک کہ جب ہم روزانہ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح کی موت فسح کے تہوار پر واقع ہوئی جو چھٹا 6 دن تھا۔ اور آرام یعنی سبت 7 ساتویں دن واقع ہوئی

حضرت عیسیٰ المسیح کا یہ تعلق تورات شریف کے تہواروں کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ مندرجہ بالا تورات شریف کے حوالے کا تعلق صرف پہلے دو تہواروں کے ساتھ ہے۔ اگلے تہوار کو پہلے پھلوں کا تہوار کہا گیا ہے اور اس کے بارے میں تورات شریف میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

‘اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا۔ بنی اِسرائیل سے کہہ کہ جب تُم اُس مُلک میں جو مَیں تُم کو دیتا ہوں داخِل ہو جاؤ اور اُس کی فصل کاٹو تو تُم اپنی فصل کے پہلے پَھلوں کا ایک پُولا کاہِن کے پاس لانا۔ اور وہ اُسے خُداوند کے حضُور ہِلائے تاکہ وہ تُمہاری طرف سے قبُول ہو اور کاہِن اُسے سبت کے دُوسرے دِن صُبح کو ہِلائے۔ ‘ احبار 23: 9-11

‘اور جب تک تُم اپنے خُدا کے لِئے یہ چڑھاوا نہ لے آؤ اُس دِن تک نئی فصل کی روٹی یا بُھنا ہُؤا اناج یا ہری بالیں ہرگِز نہ کھانا ۔ تُمہاری سب سکُونت گاہوں میں پُشت در پُشت ہمیشہ یِہی آئِین رہے گا۔ ‘ احبار 23: 14

لہذا سبت کے بعد اور فسح کے تہوار کے بعد تیسرا تہوار تھا۔ ہر سال اس دن سردار کاہن ہیکل  میں داخل ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حضور موسم بہار کی پہلی فصل کے پھل کو ہلاتے ہوئے پیش کرتا ہے۔ یہ اس بات سے تشبی دی جاتی تھی کہ موسمِ سرما جو کہ موت کی علامت کے طور پر جاننا جاتا ہے۔ موسم بہار کو زندگی کے طور پرپیش کیا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ موت کے بعد نئی زندگی کا آغاز۔ اور لوگ ایک شاندار فصل کی اُمید لگاتے تھے تاکہ اُن کے سال بھر کے کھانے کے لیے اناج ہوسکے اور وہ اطمینان کی زندگی بسر کرسکیں۔

یہ بلکل وہی دن تھا جب حضرت عیسیٰ المسیح سبت کے دن موت کی حالت میں قبر میں آرام کررہے تھے۔ اتوار کا دن نسان 16 کو نئے ہفتے کا آغاز ہوا۔ انجیل شریف میں بیان اس طرح درج کیا گیا۔ کہ سردار کاہن ہیکل میں اس نئے ہفتے کے پہلے دن .پہلے پھلوں. کے نذرانے کو چڑھانے گیا تھا۔ جس کو نئی زندگی سے تشبی دی جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل میں یہ بیان درج ہے۔ 

حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں جی اُٹھتے ہیں

یسوع کا دوبارہ جی اٹھنا

24 ہفتہ کے پہلے دن کی صبح جبکہ اندھیرا ہی تھا۔وہ عورتیں جوخوشبو کی چیزیں تیار کی تھیں قبر پر گئیں جہاں یسوع کی میت رکھی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے قبر کے داخلہ پر جو پتھر ڈ ھکا تھا اسکو لڑھکا ہوا پایاوہ اندر گئیں۔ لیکن وہ خداوند یسوع کے جسم کو نہ دیکھ سکیں۔ عورتوں کو یہ بات سمجھ میں نہ آئی تھی اور تعجب کی بات یہ تھی کہ چمکدار لباس میں ملبوس دو فرشتے انکے پاس کھڑے ہو گئے۔ وہ عورتیں بہت گھبرا ئیں اور اپنے چہروں کو زمین کی طرف جھکا کر کھڑی ہو گئیں۔ ان آدمیوں نے کہا، “تم زندہ آدمی کو یہاں کیوں تلاش کر تے ہو ؟ جب کہ یہ تو مُر دوں کو دفنانے کی جگہ ہے! یسوع یہاں نہیں ہے۔ وہ تو دوبارہ جی اٹھا ہے اس نے تم کو گلیل میں جو بات بتا ئی تھی کیا وہ یاد نہیں ہے ؟ کیا یسوع نے تم سے نہیں کہا تھا کہ ابن آدم برے آدمیوں کے حوالے کیا جائیگا اور مصلوب ہوگا پھر تیسرے ہی دن دوبارہ جی اٹھیگا؟” تب ان عورتوں نے یسوع کی باتوں کو یاد کیا۔

جب وہ عورتیں قبرستان سے نکل کر گیارہ رسولوں اور تمام دوسرے ساتھ چلنے والوں کے پاس گئیں تو وہ عورتیں قبر کے پاس پیش آئے سارے واقعات کو ان سے بیان کئے۔ 10 یہ عورتیں مریم مگدینی اور یوانّہ، یعقوب کی ماں مریم ان کے علاوہ دوسری چند عورتیں تھیں۔ ان عورتوں نے پیش آئے ہو ئے ان تمام واقعات کو رسولوں سے بیان کیا۔ 11 لیکن رسولوں نے یقین نہ کیا۔ اور انکو یہ تمام چیزیں دیوانگی کی بات معلوم ہوئی۔12 لیکن پطرس اٹھا دوڑتے ہوئے قبر کی طرف چلا ، جب وہ اندر جا کر جھانک کر دیکھا کہ صرف کفن ہی کفن ہے جس سے یسوع کو لپیٹا گیا تھا۔ پطرس تعجب کرتے ہو ئے وہاں سے چلا گیا۔

اماؤس کے راستے میں

13 اسی دن یسوع کے شاگردوں میں سے دو شاگرد اما ؤس نام کے شہر کو جا رہے تھے اور وہ یروشلم سے تقریباً سات میل کی دوری پر تھا۔ 14 پیش آئے ہوئے ہر واقعہ کے بارے میں وہ باتیں کر رہے تھے۔ 15 جب یہ باتیں کر رہے تھے تو یسوع خود ان کے قریب آئے اور خود انکے ساتھ ہو لئے۔ 16 لیکن کچھ چیزیں ان کو ان کی شناخت کر نے میں رکاوٹ بنیں۔ 17 یسوع نے ان سے پو چھا ، “تم چلتے ہوئے کن واقعات کے بارے باتیں کر رہے ہو؟”وہ دونوں وہیں پر ٹھہر گئے۔ اور انکے چہرے غمزدہ تھے۔ 18 ان میں کلیپاس نامی ایک آدمی نے جواب دیا۔ ہو سکتا ہے “صرف تم ہی وہ آدمی ہو جو یروشلم میں تھے اور نہیں جانتے کہ ان واقعات کو جو کہ گزشتہ چند دنوں میں پیش آئے۔”

19 یسوع نے ان سے پو چھا ، “تم کن چیزوں کے بارے میں آپس میں باتیں کر رہے تھے؟”

انہوں نے اس سے کہا ، یسوع کے بارے میں جو کہ ناصرت کا ہے اور جو خدا کی اور لوگوں کی نظر میں ایک عظیم نبی تھا۔ انہوں نے کئی عجیب و غریب اور طاقتور معجزے دکھا ئے۔ 20 ہمارے قائدین اور کاہنوں کے رہنما اس کو موت کی سزا دلوانے کے لئے اس کو پکڑوایا اور صلیب پر چڑھا دیا۔ 21 ہم اس امید میں تھے کہ یسوع ہی بنی اسرائیلیوں کو چھٹکا رہ دلا ئے گا تمام واقعات پیش آئے

مگر اب ایک اور واقعہ پیش آیاہے اب جب کہ انکو انتقال کئے تین دن ہو ئے ہیں۔ 22 آج ہی ہماری چند عورتیں بڑی ہی عجیب و غریب واقعات سنائے ہیں۔ صبح کے وقت یسوع کی میت رکھی گئی قبر کے پاس دو عورتیں گئیں۔ 23 لیکن وہاں پر اس کی لاش کو نہ پا سکے اور وہ عورتیں واپس ہو گئیں اور کہنے لگیں کہ انہوں نے رویا میں دو فرشتوں کو دیکھا اور ان فرشتوں نے ان سے کہا کہ یسوع زندہ ہے۔ 24 ہمارے گروہ میں سے چند لوگ بھی قبر پر گئے جھانک کر دیکھا اور قبر خالی تھی جیسا کہ عورتوں نے کہا تھا۔”

25 تب یسوع نے ان دو آدمیوں سے کہا “تم احمق ہو اور صداقت قبول کر نے میں تمہارے قلب سست ہیں نبی کی کہی ہوئی ہر بات پر تمہیں ایمان لا نا ہی ہوگا۔ 26 نبیوں نے کہا ہے کہ مسیح کو اس کے جلال میں داخل ہونے سے پہلے تکالیف کو برداشت کر نا ہوگا۔” 27 تب یسوع نے خود کے بارے میں صحیفوں میں لکھی گئی بات پر وضاحت کی اور موسٰی کی شریعت سے شروع کرکے کہ نبیوں نے اس کے بارے میں جو کہا تھا۔ اس نے انکو تفصیل سے سمجھایا۔

28 جب وہ اماوس گاؤں کے قریب پہنچے تو وہ خود اسطرح ظاہر کرنے لگے کہ وہ وہاں ٹھہر نے کے لئے نہیں جا رہے ہیں۔ 29 تب انہوں نے اس سے لگا تار گزارش کی کہ “اب چونکہ وقت ہو چکا ہے اور رات کا اندھیرا چھا جانے کو ہے اسلئے تم ہمارے ساتھ رہو۔” اسلئے وہ انکے ساتھ رہنے کے لئے گاؤں میں چلے گئے۔

30 یسوع ان کے ساتھ کھا نے کے لئے دستر خوان پر بیٹھ گئے۔ اور اس نے تھوڑی سی رو ٹی نکالی۔ اور وہ غذا کے لئے خدا کا شکر ادا کرتا ہوا اس کو توڑ کر انکو دیا۔ 31 تب انہوں نے یسوع کو پہچان لیا کچھ دیر بعد وہ جان گئے کہ یہی یسوع ہیں اور وہ انکی نطروں سے اوجھل ہو گئے۔ 32 وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کر نے لگے کہ “جب راستے میں یسوع ہمارے ساتھ باتیں کر رہے تھے اور صحیفوں کوسمجھا رہے تھے تو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ہم میں آ گ جل رہی ہے۔

33 اس کے فوراً بعد وہ دونوں اٹھے اور یروشلم کو واپس ہو ئے۔ یروشلم میں یسوع کے شاگرد جمع ہو ئے۔ گیارہ رسول اور دوسرے لوگ ان کے ساتھ ا کٹھے ہو ئے۔ 34 انہوں نے کہا ، “خدا وند سچ مچ موت سے دوبارہ جی اٹھے ہیں! وہ شمعون کو نظر آیا ہے۔”

35 تب یہ دونوں راستے میں پیش آئے ہو ئے واقعات کو سنانے لگے اور کہا جب اس نے روٹی کو توڑا تو انہوں نے اسے پہچان لیا۔

یسوع اپنے شاگردوں کو دکھا ئی دیا

36 جب وہ دونوں ان واقعات کو سنا رہے تھے تو تب یسوع شاگردوں کے گروہ کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر ان سے کہا ، “تمہیں سلا متی نصیب ہو۔”

37 تب ساگرد چونک اٹھے۔ اور ان کو خوف ہوا۔ اور وہ خیال کر نے لگے کہ وہ جو دیکھ رہے ہیں شاید کو ئی بھوت ہو۔ 38 لیکن یسوع نے کہا تم کیوں پس وپیش کر رہے ہو؟ اور تم جو کچھ دیکھ سکتے ہو اس پر شک کیوں کرتے ہو؟ 39 تم ہاتھوں اور پیروں کو دیکھو میں تو وہی ہوں! مجھے چھو ؤ۔ اور میرے اس زندہ جسم کو دیکھو۔اور کہا کہ بھوت کا ایسا جسم نہیں ہوتا جیسا کہ میرا ہے۔”

40 یسوع ان سے کہنے کے بعد اپنے ہاتھوں اور پیروں میں واقع ز خموں کے نشان بتا نے لگے۔ 41 شاگرد بہت زیادہ حیرت زدہ ہوئے اور یسوع کو زندہ دیکھ کر بیحد خوش ہو ئے۔ اسکے بعد بھی ان کو کامل یقین نہ آیا۔۔ تب یسوع نے ان سے پوچھا ، “کیا اب تمہارے پاس یہاں کھا نے کو کچھ ہے ؟” 42 تو انہوں نے پکائی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا د یا۔ 43 شاگردوں کے سامنے یسوع نے اس مچھلی کو لیا اور کھا لیا۔

44 یسوع نے ان سے کہا ، “میں اس سے پہلے جب تمہارے ساتھ تھا تو اسوقت کو یاد کرو میرے تعلق سے موسٰی کی شریعت میں اور نبیوں کی کتاب میں زبور میں جو کچھ لکھا ہے اس کو پورا ہونا ہے۔”

45 پھر کتاب مقدس کو سمجھنے کے لئے اس نے انکی عقل کا دروازہ کھول دیا۔ 46 پھر یسوع نے ان سے کہا یہ لکھا گیا ہے کہ مسیح کے مصلوب ہو نے کے تیسرے دن موت سے وہ دوبارہ جی اٹھے گا۔ 47-48 ان واقعات کو پورا ہو تے ہوئے تم نے دیکھا ہے اور تم ہی اس پر گواہ ہو اور کہا تم لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو اپنے گناہوں پر تو بہ کر کے جو کوئی اپنی توجہ خدا کی طرف کر لیتا ہے تو اسکے گناہ معاف ہو نگے تم اس تبلیغ کو یروشلم میں میرے نام سے شروع کرو اور یہ خوشخبری دنیا کے تمام لوگوں میں پھیلاؤ۔

لوقا 24: 1-48

حضرت عیسیٰ المسیح کی فتح

حضرت عیسیٰ المسیح اُس مبارک دن یعنی "پہلے پھلوں” کے تہوار والے دن دشمن پر ایسی فتح حاصل کی۔ کہ اُن کے حواری بھی اس بات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ وہ موت پر فتح پاکر زندہ ہوگے ۔ جیسا کہ انجیل شریف میں رقم ہے۔    

اور جب یہ فانی جِسم بقا کا جامہ پہن چُکے گا اور یہ مَرنے والا جِسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چُکے گا تو وہ قَول پُورا ہو گا جو لِکھا ہے کہ مَوت فتح کا لُقمہ ہو گئی۔ اَے مَوت تیری فتح کہاں رہی؟ اَے مَوت تیرا ڈنک کہاں رہا؟۔ مَوت کا ڈنک گُناہ ہے اور گُناہ کا زور شرِیعت ہے۔ ۱-کُرِنتھِیوں 15: 54-56

لیکن یہ صرف حضرت عیسیٰ المسیح کی ہی فتح نہیں ہے۔ یہ فتح تمہاری اور میرے لیے بھی ہے، جس کو ہمیں پہلے پھلوں کے تہوار پر بخش دیا گیا تھا۔ انجیل شریف اس کو اس طرح بیان کرتی ہے۔

لیکن فی الواقِع مسِیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں اُن میں پہلا پَھل ہُؤا۔ کیونکہ جب آدمی کے سبب سے مَوت آئی تو آدمی ہی کے سبب سے مُردوں کی قِیامت بھی آئی۔ اور جَیسے آدم میں سب مَرتے ہیں وَیسے ہی مسِیح میں سب زِندہ کِئے جائیں گے۔ لیکن ہر ایک اپنی اپنی باری سے ۔ پہلا پَھل مسِیح ۔ پِھر مسِیح کے آنے پر اُس کے لوگ۔ اِس کے بعد آخِرت ہو گی ۔ اُس وقت وہ ساری حُکومت اور سارا اِختیار اور قُدرت نیست کر کے بادشاہی کو خُدا یعنی باپ کے حوالہ کر دے گا۔ کیونکہ جب تک کہ وہ سب دُشمنوں کو اپنے پاؤں تلے نہ لے آئے اُس کو بادشاہی کرنا ضرُور ہے۔ سب سے پِچھلا دُشمن جو نیست کِیا جائے گا وہ مَوت ہے۔ ۱-کُرِنتھِیوں 15: 20-26

حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے "پہلے پھلوں” کے تہوار کو زندہ ہوگئے تھے۔ تاکہ ہم اس بات کو جان سکیں کہ ہم بھی قیامت کے روز موت میں سے جی اُٹھے گے۔ بلکل اسی طرح پہلے پھلوں کے تہوار پر نئی زندگی کا نذرانہ اس بات کی توقع کے ساتھ چڑھایا جاتا تھا۔ کہ بہار کے بعد ایک اچھی خاصی فصل حاصل ہوسکے۔ انجیل شریف ہمیں بتاتی ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے جی اُٹھنے والے پہلے پھل ہیں۔ اس سے یہ توقع کی جاتی ہے۔ کہ جو کوئی اُن پر ایمان لئے آئے گا۔ وہ بھی قیامت کے روز حضرت عیسیٰ المسیح کے بہت سارے پیروں کاروں کے ساتھ مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔  ہم نے تورات شریف اور قرآن شریف میں اس بات کو جانا کہ موت حضرت آدم کے وسیلے دنیا میں آئی۔ انجیل شریف ہمیں بتاتی ہے کہ اسی طرح سب پہلے مُردوں میں جی اُٹھنے کا پہلا وسیلہ حضرت عیسیٰ المسیح بنے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نئی زندگی کا پہلا پھل ہیں۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو مدعو کیا ہے۔

ایسڑ: عیدِ قیامت المسیح کا اتوار

آج اکثر حضرت عیسیٰ المسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے دن کا ایسٹر کے ساتھ حوالہ دیا جاتا ہے، اور جس اتوار کو حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے جی اُٹھے اُس کو ایسٹر کے اتوار سے یاد کیا جاتا ہے۔ دراصل جن الفاظ سے حضرت عیسیٰ المسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کو یاد رکھا جاتا ہے وہ الفاظ اہم نہیں ہیں۔

بلکہ حضرت عیسیٰ المسیح کا پہلے پھلوں کے تہوار والے دن مُردوں میں سے جی اٹھنا اور اس کی پیشن گوئی کی تکمیل اہمیت رکھتی ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے ہی جی نہیں اُٹھتے تو تہواروں کے نام سے کیا فائدہ ملتا؟ جس کو سینکڑوں سال پہلے حضرت موسیٰ نے بتا دیا تھا۔ اور اس میں سے تمہارے اور میرے لیے کیا مطلب نکلتا ہے؟

ٹائم لائن میں نئے ہفتے کے پہلے دن کو اتوار لئے دیکھایا گیا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے پہلے پھلوں کے یہوار والے دن جی اُٹھے کر۔ تمہیں اور مجھ کو موت کے بعد ایک نئی زندگی کی پیشکش کرتے ہیں۔

مبارک جمعہ اور مبارک جمعہ کیوں کہتے ہیں؟

مبارک جمعہ کے حوالے سے یہ ہمارے ایک سوال کا جواب ہے۔ جیسا کہ انجیل شریف میں بیان کیا گیا ہے۔

البتّہ اُس کو دیکھتے ہیں جو فرِشتوں سے کُچھ ہی کم کِیا گیا یعنی یِسُوع کو کہ مَوت کا دُکھ سہنے کے سبب سے جلال اور عِزّت کا تاج اُسے پہنایا گیا ہے تاکہ خُدا کے فضل سے وہ ہر ایک آدمی کے لِئے مَوت کا مزہ چکھّے۔

عِبرانیوں 2:9

جب حضرت عیسیٰ المسیح نے جمعہ کے روز موت کا مزہ چھکا تو اُنہوں نے تمہارے، میرے اور ہر ایک کے لیے اس کو برداشت کیا۔ مبارک جمعہ کا نام اس لیے مبارک ہے کیونکہ یہ ہمارے لیے مبارک ہے۔ اب جب حضرت عیسیٰ المسیح مرُدوں میں سے جی اُٹھے ہیں۔ تو حضرت عیسیٰ المسیح سب کو نئی زندگی کی پیشکش کرتے ہیں۔

قیامت المسیح اور اطمینان قرآن شریف میں

قرآن شریف مختصرً حضرت عیسیٰ المسیح کی قیامت کے بارے میں بات تو کرتا ہےاور بتاتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم دن ہے۔ سورة المریم میں اس کا یوں ذکر ہے۔ لیکن سورة النحرف ۶۱ آیت میں حضرت عیسیٰ المسیح کو قیامت کی نشانی بتا کر اس بات کو اور زیادہ واضح کردیا ہے۔ یہ آیات درج ذیل رقم ہیں۔

اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن مجھے جنم دیا گیا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں زندہ کرکے مبعوث کیا جاؤں گا۔سورة المریم 19: 33

اور وہ (عیسیٰ) قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو یہی سیدھا رستہ ہے۔ سورة الزخرف 43: 61

چونکہ آپ کا مرُدوں میں سے جی اُٹھنا "پہلا پھل” ہے۔ وہ اطمینان حضرت عیسیٰ المسیح کے مُردوں میں جی اُٹھنے کے وسیلے سے اب تمہارے اور میرے لیے موجود ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اس اطمینان کو اپنے خواریوں کو دیا جب آپ نے اُن کو جی اُٹھ کر سلام کیا۔

‘پِھر اُسی دِن جو ہفتہ کا پہلا دِن تھا شام کے وقت جب وہاں کے دروازے جہاں شاگِرد تھے یہُودِیوں کے ڈر سے بند تھے یِسُو ع آ کر بِیچ میں کھڑا ہُؤا اور اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو!۔ اور یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھوں اور پسلی کو اُنہیں دِکھایا ۔ پس شاگِرد خُداوند کو دیکھ کر خُوش ہُوئے۔

یِسُو ع نے پِھر اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو! جِس طرح باپ نے مُجھے بھیجا ہے اُسی طرح مَیں بھی تُمہیں بھیجتا ہُوں۔ اور یہ کہہ کر اُن پر پُھونکا اور اُن سے کہا رُوحُ القُدس لو۔ ‘ یُوحنّا 20:19-22

آج جو سلام مسلمان ایک دوسرے کو کرتے ہیں۔ (اسلام و علیکم) یہ سلام سب سے پہلے حضرت عیسیٰ المسیح نے قیامت یعنی مرُدوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد استعمال کی۔ اور جب ہم آج اسلام و علیکم کہتے ہیں تو دراصل یہ حضرت عیسیٰ المسیح کی سُنت ہے۔
اس وقت حواری بہت زیادہ پریشان حال تھے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے یہ اسلام و علیکم کہہ کر اُن کو یہ بتانے کی کوشش کی۔ کہ میں مُردوں میں جی اُٹھا ہوں اب پریشان ہونے کی بات نہیں تو مجھ پر ایمان لاوں اور تمہاری سلامتی ہوگی۔
ہم کو اس وعدہ کو جس کو حضرت عیسیٰ المسیح نے بتایا تھا۔ اس کو ہر وقت یاد رکھنا چایئے۔ خاص کر ملتے ہیں اور روح القدس کے پھلوں کے بارے بھی سوچتے رہنا چاہیے۔

حضرت عیسیٰ المیسح اور قیامت تفہیم

حضرت عیسیٰ المسیح مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد چالیس دن تک اپنے حواریوں کو نظر آتے رہے۔ یہ قواقعات انجیل شریف میں سے درج کئے گے ہیں۔

لیکن یہ ایک حیرانگیز بات ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح جب پہلی بار اپنے حواریوں میں ظاہر ہوئے تو اُن کا ردعمل بہت مختلف تھا:

مگر یہ باتیں اُنہیں کہانی سی معلُوم ہُوئِیں اور اُنہوں نے اُن کا یقِین نہ کِیا لُوقا 24: 11

حضرت عیسیٰ المسیح کو خود کہنا پڑا۔

پِھر مُوسیٰ سے اور سب نبِیوں سے شرُوع کر کے سب نوِشتوں میں جِتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئی ہیں وہ اُن کو سمجھا دِیں لُوقا 24: 27

 اور بعد میں دوبار یاد کروانا پڑا

پِھر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہیں جو مَیں نے تُم سے اُس وقت کہی تِھیں جب تُمہارے ساتھ تھا کہ ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی تَورَیت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں لُوقا 24: 44

 ہم اس بات پر کیسے یقین کرسکتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہے کہ وہ ہمیں موت سے زندگی بخشنے کا سیدھا راستہ بتا رہا ہے؟ تو پھر ہمیں معلوم ہونا چائے کہ صرف اللہ تعالیٰ کو مستقبیل کا حقیقی علم ہے، تاہم تورات شریف اور زبور شریف میں اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں سینکڑوں سال پہلے نشان دے دیے تھے۔ اور یہ تمام نشان حضرت عیسیٰ المسیح کے وسیلے سے تکمیل کو پہنچے۔ یہ یقین دلانے کے لیے لکھے گے تھے۔

تاکہ جِن باتوں کی تُونے تعلِیم پائی ہے اُن کی پُختگی تُجھے معلُوم ہو جائے لُوقا 1: 4

لہذا ہم آپ کو حضرت عیسیٰ المسیح کی قربانی اور قیامت کے اس اہم موضوع کے بارے میں مزید آگاہ کرسکتے ہیں۔ جس کے لیے نیچے چار مختلف مضامیں کے لنک دستیاب ہیں 

اس مضمون میں تورات (موسیٰ کی شریعت) میں حضرت عیسیٰ المسیح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیئے گئے نشانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس مضمون میں ‘انبیاء اکرام اور زبور شریف’ میں موجود نشانات (پیشنگوئیوں) کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان دو مضامین کا ہدف یہ ہے کہ ہمیں اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائے کہ آیا واقعی ہی ان میں یہ لکھا گیا تھا کہ "مسِیح مصیبت میں مبتلا ہوگا اور تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا” (لوقا 24:46) یعنی ان کتابوں میں۔

یہ مضمون ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ عیسیٰ المسیح سے قیامتِ حیات کے اس تحفہ کو کیسے حاصل کریں۔

اس مضمون میں حضرت عیسیٰ المسیح کے مصلوب ہونے کے بارے میں کچھ الجھنوں کا ازالہ کیا گیا ہے ، جس میں جائزہ لیا گیا ہے کہ قرآن شریف اور مختلف اسلامی علماء نے اس کے بارے میں کیا لکھا ہے۔

ساتوں دن – سبت کا آرام

حضرت عیسیٰ المسیح کے ایک حواری نے اُن کے ساتھ غرداری کی اور اُن کو یہودیوں نے فسح کے تہوار پر مصلوب کر دیا تھا۔ اب اس کو مبارک جمعہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ فسح کا سبت (تہوار) جمعرات کی شام کو شروع ہوا اور جمعہ کو یعنی کے 6 چٹھے دن کی شام کو اختتام پر پہنچا۔ اس دن کا آخری تقریب یہ تھی کہ اُسی دن حضرت عیسیٰ المسیح کی بدن کو دفن کردیا گیا تھا۔ انجیل شریف میں اُن خواتین کے بیان کو درج کیا گیا جو حضرت عیسیٰ المسیح کی پیروکار تھی۔

‘اور اُن عَورتوں نے جو اُس کے ساتھ گلِیل سے آئی تِھیں پِیچھے پِیچھے جا کر اُس قَبر کو دیکھا اور یہ بھی کہ اُس کی لاش کِس طرح رکھّی گئی۔  اور لَوٹ کر خُوشبُودار چِیزیں اور عِطر تیّار کِیا’

لُوقا 23: 55-56

خواتین حضرت عیسیٰ المسیح کے بدن کو خوشبو لگا کر تیار کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن سبت کا دن شروع ہوچکا تھا۔ کیونکہ جمعہ کا سورج غروب ہونا شروع ہوگیا تھا۔ یہ ہفتے کا ساتوں دن ہوتا ہے جس کو یہودی سبت کا دن کہتے ہیں اور یہودیوں کو اس دن کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ حکم تورات شریف میں موجود تخلیقِ کائنات سے تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا تھا۔

اور تورات شریف میں اس طرح درج ہے۔

‘سو آسمان اور زمِین اور اُن کے کُل لشکر کا بنانا ختم ہُؤا۔ اور خُدا نے اپنے کام کو جِسے وہ کرتا تھا ساتویں دِن ختم کِیا اور اپنے سارے کام سے جِسے وہ کر رہا تھا ساتویں دِن فارِغ ہُؤا۔ ‘پَیدایش 2: 1-2

تاہم خواتین جب حضرت عیسیٰ المسیح کے بدن کو خوشبو سے تیار کرنا چاہتی تھیں تو دراصل وہ تورات شریف کے فرمان کو بھجا لارہیں تھیں۔

لیکن خیرانگی کی یہ بات ہے۔ کہ سردار کاہن اور دوسرے کاہنوں نے سبت والے دن بھی کام کرنا نہ چھوڑا۔ اس کے بارے میں انجیل شریف نے بیان کیا ہے کہ وہ گورنر کے ساتھ ملاقات کررہے تھے۔

‘دُوسرے دِن جو تیّاری کے بعد کا دِن تھا سردار کاہِنوں اورفرِیسیِوں نے پِیلا طُس کے پاس جمع ہو کر کہا۔ خُداوند! ہمیں یاد ہے کہ اُس دھوکے باز نے جِیتے جی کہا تھا مَیں تِین دِن کے بعد جی اُٹُھوں گا۔ پس حُکم دے کہ تِیسرے دِن تک قبر کی نِگہبانی کی جائے ۔ کہِیں اَیسا نہ ہو کہ اُس کے شاگِرد آ کر اُسے چُرا لے جائیں اور لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا اور یہ پِچھلا دھوکا پہلے سے بھی بُرا ہو۔ پِیلا طُس نے اُن سے کہا تُمہارے پاس پہرے والے ہیں ۔ جاؤ جہاں تک تُم سے ہو سکے اُس کی نِگہبانی کرو۔ پس وہ پہرے والوں کو ساتھ لے کر گئے اور پتّھرپر مُہرکر کے قبر کی نِگہبانی کی۔’متّی 27: 62-66

اس طرح سبت والے دن سردار کاہنوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کی قبر کو محفوظ بنانے کے لیے محافظوں کو وہاں پر کام کرنے کے لیے مقرر کیا۔
جب کہ حضرت عیسیٰ المسیح کا بدن قبر میں سبت والے دن آرام کررہا تھا اور خواتین مقدس ہفتے کے سبت کو آرام کروہیں تھیں کیونکہ یہ حکم تھا۔

ٹائم لائن اس بات کو دیکھا گیا ہے۔ کہ کس طرح اُن کا سبت والے دن آرام کرنا درصل اللہ تعالیٰ کی پیروی کرنا ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ کائنات کے بعد ۷ ساتویں دن آرام کیا۔

اگلے دن خیران کردینے والی فتح کا منظر پیش ہوا۔ جس کا ہم یہاں پر مطالعہ کرتے ہیں۔

مگر یہ قدرت کا کرشمہ دکھانے سے پہلے کا آرام تھا – سوره ال – فجر (سورہ 89 – پو پھٹنا ) ہم کو یاد دلاتا ہے ایک تاریک رات کے بعد فجر کا ہونا کتنا اہم ہو سکتا تھا – پو پھٹنا عجیب چیزوں کا انکشاف کر سکتا ہے ‘انکے لئے جو سمجھتے ہیں’ – 

الاضحٰی کی صبح۔ اس سے مراد سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی بھی ہے جن کی بعثت سے شبِ ظلمت کا خاتمہ ہوا اور صبحِ ایمان پھوٹی۔

.اور دس (مبارک) راتوں کی قَسمo

.اور جفت کی قَسم اور طاق کی قَسo

. اور رات کی قسم جب گزر چلے (مراد ہر شب ہے یا بطورِ خاص شبِ مزدلفہ یا شبِ قدر)o

. بیشک ان میں عقل مند کے لئے بڑی قسم ہےo

89:1-5سورہ ال – فجر

— دوسرے دن ایک حیرت انگیز فتح واقع ہوتی ہے جیسے ہم یہاں دیکھتے ہیں

-دوسرے دن کا پو کا پھٹنا کیا انکشاف کرتا ہے اسے ہم دیکھتے ہیں