حضرت یحیٰی کے آمد کی پیش گوئی

ہم نے "خادم کی نشانی” میں مطالعہ کیا اور یہ جانا کہ خادم کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن اُس کے آںے کا وعدہ کو ایک خاص سوال سے معلوم کیا جاتا ہے۔ جب اُس نے یسعاہ 53 باب کے شروع میں ایک سوال کیا جاتا ہے۔

ہمارے پیغام پر کون ایمان لایا؟   ( یسعیاہ 53: 1 الف)

حضرت یسعیاہ اس بات کی پیش گوئی کررہا تھا کہ آنے والے خادم پر لوگ اتنی جلدی ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں پر مسئلہ یہ نہیں کہ پیغام میں یا پیش گوئی یا نشانی ٹھیک طور پر بیان نہیں ہوئیں۔ اور وہ اُس کے نام کے ساتھ اُس کے وقت  کے"سات چکر” کی بھی بات کرتا ہے کہ اُس کو زندوں کی زمین پر سے کاٹ ڈالا جائے گا۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ بہت زیادہ پیشن گوئیاں نہیں تھیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کہ لوگوں کے دل سخت ہوچکے تھے۔ لہذا کسی شخص کو خادم کی آمد سے پہلے آنے کی ضرورت تھی۔ تاکہ وہ لوگوں کو اُس کی آمد کے لیے تیار کرے۔ اس لیے حضرت یسعیاہ نے یہ پیغام دیا کہ خادم کے آنے سے پہلے ایک شخص آئے گا۔ اُس نے یہ پیش گوئی کو زبور کی کتاب میں لکھ ہوئی ہے۔ جو درج ذیل ہے۔

3پُکارنے والے کی آواز!

بیابان میں خُداوند کی راہ درُست کرو ۔

صحرا (بیابان) میں ہمارے خُدا کے لِئے شاہراہ ہموار کرو۔

4ہر ایک نشیب اُونچا کِیا جائے

اور ہر ایک پہاڑ اورٹِیلا پست کِیا جائے

اور ہر ایک ٹیڑھی چِیز سِیدھی اورہر ایک ناہموار

جگہ ہموار کی جائے۔

5اور خُداوند کا جلال آشکارا ہو گا

اور تمام بشر اُس کودیکھے گا

کیونکہ خُداوند نے اپنے مُنہ سے فرمایا ہے۔              یسعیاہ 40: 3-5

حضرت یسعیاہ نے کسی ایک کے آنے کی پیش گوئی کی۔ جو بیابان (صحرا) میں خداوند کی راہ تیار کرے گا۔ وہ ایک رکاوٹ کو ختم کرے گا۔ تاکہ خداتعالیٰ کا جلال نازل ہو۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ کس طرح ہوگا۔

 حضرت یسعیاہ، حضرت ملاکی، اور حضرت حزقی ایل کا اور کچھ دوسرے انبیاءاکرام کا تاریخی ٹائم لائن

زبور شریف کی کتاب کا آخری نبی حضرت ملاکی ہے۔

حضرت یسعیاہ نبی کے 300 سال بعد حضرت ملاکی نبی آیا۔ جس نے زبور شریف کی آخری کتاب لکھی۔ اُنہوں نے حضرت یسعیاہ نبی کی پیشن گوئی کی وضاحت اپنی کتاب میں بیان کی۔ وہ اس طرح لکھتے ہیں۔

دیکھو مَیں اپنے رسُول کو بھیجُوں گا اور وہ میرے آگے راہ درُست کرے گا اور خُداوند جِس کے تُم طالِب ہو ناگہان اپنی ہَیکل میں آ مَوجُود ہو گا ۔ ہاں عہد کا رسُول جِس کے تُم آرزُومند ہو آئے گا ربُّ الافواج فرماتا ہے۔                                                              ملاکی 3: 1

یہاں پھر خداوند کی راہ تیار کرنے والے کی پیش گوئی ہورہی ہے۔ جب وہ راہ تیار کرچکے گا۔عہد کا رسول (خادم) آموجود ہوگا۔ حضرت ملاکی کس عہد کی یہاں بات کر رہیں ہیں؟ آپ کو یاد ہوگا کہ حضرت یرمیاہ نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ایک نیا عہد باندھے گا، جو تمہارے دلوں پر لکھا جائے گا۔ صرف اُس وقت ہم اپنی پیاس بجھانے کے قابل ہوجائیں گے۔ جو ہمیں ہمیشہ گناہ کی طرف کھیچتی ہے۔ اس عہد کی بات حضرت ملاکی بات کررہا تھا جب وہ آنےوالے کی راہ کی تیاری کی بات کرتا ہے۔ حضرت ملاکی پھر اس کی کتاب کے آخری پیراگراف کو زبور شریف کی کتاب کا اختتام کردیتا ہے۔ اس آخری پیراگراف میں وہ مستقبیل کے بارے میں یوں لکھتا ہے۔

5دیکھو خُداوند کے بزُرگ اور ہَولناک دِن کے آنے سے پیشتر مَیں ایلیّاہ نبی کو تُمہارے پاس بھیجُوں گا۔ 6اور وہ باپ کا دِل بیٹے کی طرف اور بیٹے کا باپ کی طرف مائِل کرے گا ۔ مبادا مَیں آؤُں اور زمِین کو ملعُون کرُوں۔                                                                ملاکی 4: 5-6

حضرت ملاکی کا کیا مطلب تھا کہ  خداوند کے روزِعظیم آنے سے پہلے "ایلیاہ ” آئے گا۔ حضرت ایلیاہ کون ہے؟

حضرت ایلیاہ زبور شریف کی کتاب کا ایک اور نبی ہے جس کے بارے میں ہم نے مطالعہ نہیں کیا۔ ( ہم زبور شریف کے تمام انبیاءاکرام کا مطالعہ نہیں کرسکتے۔ اس طرح یہ حصہ بہت لمبا ہوجائے گا۔ لیکن آپ اس ٹائم لائن میں دیکھ سکتے ہیں) حضرت ایلیاہ 850 ق م کے دور میں نازل ہوئے تھے۔ وہ بیابان میں رہتے اور جانوروں کے چمڑے کا لباس اور جنگلی خوراک کھانے میں مشہور تھا۔ شاید آپ کو تھوڑا عجیب سا لگے۔ حضرت ملاکی نے کچھ اس طرح لکھا کہ جو شخص نئے عہد کی راہ تیار کرے گا۔ وہ حضرت ایلیاہ کی طرح کا ہوگا۔ اور اس بیان کے بعد زبور شریف مکمل ہوجاتا ہے۔ یہ زبور شریف کا آخری حوالہ ہے جو 450 ق م میں لکھا گیا۔ تورات شریف اور زبور شریف آنے والی شخصیت کے ساتھ بھرے پڑے ہیں۔ آئیں ہم اس بات کا جائزہ لیں۔

تورات شریف اور زبور شریف کے وعدوں کا جائزہ

  • حضرت ابراہیم کے ساتھ "قربانی کی نشانی” میں یہ بیان کیا گیا تھا۔ کہ موریاہ کے پہاڑ اُن سے وعدہ کیا گیا تھا۔ "مہیا کیا جائے گا” یہودی زبور شریف کے اختتام تک اس وعدے کی تکمیل کا انتظار کر رہے تھے۔
  • حضرت موسیٰ سے کہا گیا تھا۔ کہ یہ ‘فسح” اسرائیلیوں کے لیے ایک نشانی تھی۔ اسرائیلی اس فسح کو اپنی ساری تاریخ میں مناتے آئے تھے۔ لیکن وہ یہ بھول گے تھے۔ کہ یہ ایک نشانی تھی۔ یہ اُس کی طرف اشارہ تھا جو ابھی تک پورا نہ ہوا تھا۔
  • حضرت موسیٰ نے تورات شریف میں بتایا تھا۔ کہ ایک نبی آئے گا۔ جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ "میں اپنا کلام اُس کے منہ میں رکھو گا” اللہ تعالیٰ نے اُس آنے والے بنی کے بارے میں ایک وعدہ میں بیان کیا تھا۔ "اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جِن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سُنے تو مَیں اُن کا حِساب اُس سے لُوں گا۔”
  • حضرت داود نے آنے والے مسیح کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔ یہودیوں کی طویل تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے۔ کہ آںے والا مسیح کس طرح کا ہوگا۔
  • حضرت یسعیاہ نے پیش گوئی کی ایک کنواری ایک بیٹے کو جنم دے گی۔ اور زبور شریف اختتام تک یہودی اس حیرت انگیز واقع کے رونما ہونے کے منتظر تھے۔
  • حضرت یرمیاہ نے نئے عہد کی پیش گوئی کی تھی۔ جو ہمارے دلوں پر لکھا جانا تھا۔
  • حضرت زکریاہ پیش گوئی کی تھی۔ کہ اُس کا نام "مسیح” ہو گا۔
  • حضرت دانیال پیش گوئی کی تھی۔ کہ جب مسیح آئے گا تو اس کی بجائے وہ بادشاہی کرے وہ قتل کردیا جائے گا۔
  • حضرت یسعیاہ نے پیش گوئی کی کہ وہ”خادم” آئے گا۔ اُس پر بہت زیادہ تشددید کیا جائے گا۔ لیکن وہ "زندوں کی زمین پر سے کاٹ ڈالا جائے گا”۔
  • حضرت ملاکی نے مسیح کے آنے سے پہلے راہ تیار کرنے والے کے بارے میں پیش گوئی کی۔ جو آئے گا اور لوگوں کے دلوں کو تیار کرے گا اور تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بات کو دل سے قبول کریں۔

لہذا 450 ق م میں جب زبور شریف کا اختتام ہو گیا تھا۔ اُس وقت بھی یہودی ان وعدوں کے پورا ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ اور وہ مسلسل نسل در نسل انتظار کررہے تھے۔ کہ کب یہ وعدے پورے ہونگے۔

زبور شریف کے مکمل ہونے کے بعد کیا ہوا

جیسا کہ ہم نے اسرائیلیوں کی تاریخ میں دیکھا، اسکندرِاعظیم نے 330 ق.م. میں دنیا کا زیادہ تر معروف حصہ  فتح کرلیا تھا اور لوگوں نے یونانی تہذیب کو اور یونانی زبان کو اپنا لیا تھا۔ جس طرح آج انگریزی زبان دنیا کی معروف ترین زبان ہے۔ اُسی طرح اُس وقت یونانی دنیا کی غالب ترین زبان تھی۔ یہودی ربیوں نے 250 ق م میں تورات شریف اور زبور شریف کا ترجمہ عبرانی سے یونانی زبان میں کیا تھا۔ اس ترجمہ کو سپٹواجنٹ کا نام دیا گیا تھا۔ جس طرح ہم نے اس بات کا مطالعہ کیا کہ لفظ مسیح اور یسوع بھی اس ترجمہ سے برآمد ہوئے ہیں۔

 حضرت یسعیاہ، حضرت ملاکی، اور حضرت حزقی ایل کا اور کچھ دوسرے انبیاءاکرام کا تاریخی ٹائم لائن

اس عرصے میں (300 ق م کو نیلے رنگ میں دیکھایا گیا ہے) شام اور مصر کے درمیان جنگی کشمکش جاری تھی۔ اور اسرائیلی ان دنوں ریاستوں کے درمیان رہ رہے تھے۔ کئی بار شامی بادشاہ اسرائیلوں پر اپنے یونانی مذہب چسپاں کرنے کی کوشش کرتے۔ تو اُسی وقت کوئی یہودی لیڈر اپنے مذہبی اعقائد کا مقابلہ کرتا اور اسرائیل کی مذہبی روایت کو بحال کرتا۔ جس کو حضرت موسیٰ نے اُن کو دیا تھا۔ کیا ان مذہبی راہنماوں نے اُن تمام وعدوں کو پورا کیا جن کا یہودی بڑی شدید سے انتظار کررہے تھے۔ یہ راہنما بے شک بہت اچھے مذہبی لوگ تھے لیکن وہ زبور شریف اور تورات شریف میں موجود وعدوں اور نشانوں کو پورا نہیں کرسکے۔ دراصل اُنہوں نے خود اس بات کا کبھی دعوہ بھی نہ کیا کہ وہ نبی ہیں۔ اُنہوں نے صرف یہودیوں کو یونانی خداوں کی عبادت کرنے سے بچایا تھا۔

اس عرصے کے بارے میں موجود تاریخی کتابیں بیان کرتی ہیں۔ کہ کیسے یہودیوں نے اپنی مذہبی روایات کو زندہ رکھا۔ یہ کتابیں مذہبی اور تاریخی بصرت فراہم کرتی ہیں اور بہت زیادہ قمیتی ہیں۔

لیکن یہودی لوگ ان کتابوں کو الہامی تصور نہیں کرتے۔ وہ بہت اچھی کتابیں ہیں جن کو مذہبی راہنماوں نے لکھا تھا۔ لیکن ان کو انبیاء اکرام نے نہیں لکھا تھا۔ یہ کتابیں اپاکرفا کے طور پر پہچانی جاتی ہیں ۔

لیکن یہ کتابیں قابلِ استعمال تھیں کیونکہ اکثر ان کو زبور اور تورات کی تاریخوں کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ مسیح پر انجیل شریف کے نازل ہونے کے بعد تورات، زبور اور انجیل شریف کو ایک کتاب کے طور سامنے آئی۔ جس کو ہم الکتاب یا بائبل مقدس کہتے ہیں۔ آج بھی کتھولک فرقہ ان اپاکرفا کتابوں کو اپنی بائبل میں شمار کرتا ہے۔ لیکن یہ تورات اور زبور شریف کا حصہ نہیں ہیں۔

لیکن تورات اور زبور شریف میں موجود وعدے پورے ہورہے تھے۔ کہ رومی حکومت نے یہودیوں پر حملہ کرکے اُن کے ملک پر قبضہ کرلیا اور وہاں پر یونانی زبان کا راج شروع ہوگیا۔ (ٹائم لائن میں اس عرصۓ کو پیلے رنگ میں دیکھایا گیا ہے) رومیوں نے بڑے موثر لیکن سخت طریقے سے حکومت کی۔ ٹیکس بہت زیادہ ادا کرنا پڑتا اور رومی کسی کی برداشت نہیں کرتے تھے۔ یہودی تورات اور زبور شریف میں موجود وعدوں کی تکمیل کا بڑھی شدید کے ساتھ انتظار کرنے لگے۔ اُن کے اس لمبے عرصے کے انتظار کے دوران اُن کی عبادت کے اصول بہت سخت ہوتے گے۔ اور اُنہوں نے انبیاء اکرام کی روایات سے بڑھ کر خود سے کئی رسومات بنالیں۔ یہ اضافی ‘حکم’ اچھے نظریات کی طرح محسوس ہوتے تھے۔ لیکن انہوں نے یہودیوں کے استادوں کے دلوں اور دماغوں میں فوری طور پر تورات اور زبور کے اصل حکموں کو بھولا دیا تھا.

اور پھر آخر کار جب لوگ یہ سمجھنے لگے کہ شاید اللہ تعالیٰ اپنے وعد وں کو  بھول گیا۔ تو اُنہی دنوں میں ایک فرشتہ جبرائیل ایک طویل انتظار کے بعد ایک رسول جو تیاری کے لیے نازل ہونے والا تھا۔ اُس کی پیدائش کی خبر لے کر نازل ہوا۔ آج ہم اُس کو حضرت یحٰیی کے طور پر جانتے ہیں۔ لیکن یہ انجیل شریف کا ابتدائی واقعہ ہے۔ ہم اگلے مضمون میں اس کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔

آنے والے خادم کی نشانی

ہماری گزشتہ پوسٹ میں ہم بات کررہے تھے۔ کہ حضرت دانیال نبی نے پیشن گوئی کی تھی۔ کہ مسیح آئے گا۔ اور اُس کو شہید کردیا جائے گا۔ اس طرح ایسا لگتا ہے۔ کہ حضرت دانیال کا یہ بیان دوسرے انبیاءاکرام سے اختلاف رکھتا ہے۔ کیونکہ اُن کا کہنا ہے کہ مسیح آئے گا اور دنیا پر حکومت کرے گا۔

لیکن یہ اختلاف اُس وقت ختم ہوجاتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں۔ کہ انبیاءاکرام دو مختلف مسیح کے بارے میں بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک مسیح شہید ہونے کے لیے آرہا ہے اور دوسرا بادشاہی کرنے کے لیے۔ یہودی قوم نے کلام مقدس کے ایک حصے کو نظرانداز کردیا ۔ جس کی وجہ سے وہ سارے صحیفوں کو بہتر طور پر نہیں جانتے۔ یہ ہمارے لیے ایک انتباہ بھی ہے۔ کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا ہے۔

ہمارے لیے ذبور شریف کا مطالعہ بہت مفید رہا ہے۔ لیکن ہمیں مزید جاننا ہوگا۔ کہ حضرت یسعیاہ نے مسیح کے بارے میں بھی پیشن گوئی کی ہے۔

 حضرت یسعیاہ اور کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

حضرت یسعاہ نبی نے آنے والے مسیح کے لیے‘شاخ” کی مثال استعمال کی ہے۔ لیکن اُس نے  آنے والے ایک شخص کے بارے میں ایک طویل حوالہ لکھا ہے۔ جس میں وہ ایک آنے والے خادم کی بات کرتا ہے۔ یہ خادم کون ہے؟ یہ کیا کام کرے گا؟ ہم اس کے بارے میں حوالے میں مزید تفصیل دیکھ سکتے ہیں۔ میں اس کو ذیل میں پیش کرتا ہوں اور اس کی وضاحت کے لیے کچھ تبصرے بھی پیش کردیتا ہوں۔

حضرت یسعیاہ آنے والے خادم کے بارے میں پیشگوئی کرتے ہیں

مکمل حوالہ یسعیاہ 52:13-53:12

13دیکھو میرا خادِم اِقبال مند ہو گا ۔

وہ اعلیٰ و برتراور نِہایت بُلند ہو گا۔

14جِس طرح بُہتیرے تُجھ کو دیکھ کر دنگ ہو گئے

(اُس کا چِہرہ ہر ایک بشر سے زائِد اور اُس کا جِسم

بنی آدم سے زِیادہ بِگڑ گیا تھا)۔

15اُسی طرح وہ بُہت سی قَوموں کو پاک (اپنے خون کے چھڑکے جانے سے) کرے گا ۔

اور بادشاہ اُس کے سامنے خاموش ہوں گے

کیونکہ جو کُچھ اُن سے کہا نہ گیا تھا وہ دیکھیں گے

اور جو کُچھ اُنہوں نے سُنا نہ تھاوہ سمجھیں

گے۔                                        یسعیاہ 52: 13-15

ہم جانتے ہیں کہ یہ خادم ایک انسان ہوگا۔ کیونکہ حضرت یسعیاہ نے اُس کے بارے میں "وہ” اُس کا” اور "اُن کا” جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ جب حضرت ہارون بنی اسرائیل کے لیے قربانی گزرانتا تھا۔ تو اُس قربانی کا خون لوگوں کے اُوپر چھڑکتا تھا۔ تاکہ اُن کے گناہ اُن کے خلاف نہ گنے جائیں ۔ جب یہ کہا گیا کہ خادم چھڑکے گا۔ تو حضرت یسعیاہ کا کہنا تھا۔ کہ جس طرح حضرت ہارون لوگوں کے اُوپر خون چھڑکتا تھا۔ اُسی طرح یہ خادم اپنی قربانی کا خون لوگوں پر چھڑکے گا۔ لیکن یہ خادم اپنا خون بہت سی قوموں پر چھڑکے گا۔ اس لیے یہ خادم یہودی قوم کے لیے ہی نہیں آرہا۔ بلکہ ساری قوموں کہ لیے آرہا ہے۔ اس سے ہمیں ایک اہم بات یاد آجاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ( نشانی 1 اور نشانی 2)  حضرت ابراہیم کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ تجھ سے ساری قومیں برکت پائیں گی۔ لیکن اس خون کے چھڑکنے نے والے خادم کی "ظاہری شکل” اور خدوخال ظلم و ستم کی وجہ سے بگاڑ دی جائے گی۔

اگرچہ یہ واضع نہیں ہے کہ کس طرح اس خادم پر ظلم کیا جائے گا۔ لیکن ایک دن قومیں اس بات کو جان جائیں گی۔

1ہمارے پَیغام پر کَون اِیمان لایا؟

اور خُداوند کابازُو کِس پر ظاہِر ہُؤا؟۔

2پر وہ اُس کے آگے کونپل کی طرح اور خُشک زمِین

سے جڑکی مانِند پُھوٹ نِکلا ہے ۔

نہ اُس کی کوئی شکل و صُورت ہے نہ خُوب صُورتی

اور جب ہم اُس پر نِگاہ کریں

تو کُچھ حُسن و جمال نہیں کہ ہم اُس کے مُشتاق

ہوں۔

3وہ آدمِیوں میں حقِیر و مردُود ۔

مَردِ غم ناک اور رنج کا آشنا تھا ۔

لوگ اُس سے گویا رُوپوش تھے

اُس کی تحقِیرکی گئی اور ہم نے اُس کی کُچھ قدر نہ

جانی۔                                                یسیعیاۃ 53 : 1-3

اگرچہ خادم بہت سی قوموں پر چھڑکے گا۔ لیکن وہ بھی ناپشندیدہ اور مسترد کیا دیا جائے گا۔ اور تکلیف اور درد سے بے حال ہوجائے گا۔

4تَو بھی اُس نے ہماری مشقّتیں اُٹھا لِیں

اور ہمارے غموں کو برداشت کِیا ۔

پر ہم نے اُسے خُدا کا مارا کُوٹااور ستایا ہُؤا سمجھا۔

5حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا

اور ہماری بدکرداری کے باعِث کُچلا گیا ۔

ہماری ہی سلامتی کے لِئے اُس پر سیاست ہُوئی

تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شِفا پائیں۔       یسیعیاۃ 53 : 5-4

یہ خادم ہماری "درد” کو اپنے اُوپر لے لیے گا۔ اس خادم پر غذاب، اور سزائیں لائیں جائیں گی اور اس کو کچلا جائے گا۔ اُس کے مار کھانے (بہت سی قومیں) اطمینان اور شفا پائیں گی۔

ہم سب بھیڑوں کی مانِند بھٹک گئے ۔

ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پِھرا

پر خُداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لادی۔       یسیعیاۃ 53 : 6

ہم نے پیاس کی نشانی میں مطالعہ کیا ہے۔ کہ ہم کیسے اپنے شکستہ حالت میں اطمینان پانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کی بجائے دوسرے راستوں پر چلے جاتے ہیں۔

ہم نے ایک دوسرے کو گمراہ کیا اور اپنے راستوں سے بھٹک گئے۔ دراصل یہ گناہ ہے۔

وہ ستایا گیا تَو بھی اُس نے برداشت کی

اور مُنہ نہ کھولا ۔

جِس طرح برّہ جِسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں

اورجِس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں

کے سامنے بے زُبان ہے

اُسی طرح وہ خاموش رہا۔          یسعیاہ 53: 7

انبیاءاکرام نے یعنی حضرت  ہابیل، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور ہارون نے بکروں کی قربانی دیتے تھے۔ لیکن یہ خادم خود ہی اپنی قربانی دے گا اور یہ اس کے بارے احتجاج نہیں کرے گا یہاں تک کہ اپنا منہ بھی نہ کھولے گا۔

وہ ظُلم کر کے اور فتویٰ لگا کر اُسے لے گئے

پر اُس کے زمانہ کے لوگوں میں سے کِس نے

خیال کِیا

کہ وہ زِندوں کی زمِین سے کاٹ ڈالا گیا؟

میرے لوگوں کی خطاؤں کے سبب سے اُس پر

مار پڑی۔                                  یسعیاہ 53: 8

اس خادم کو زندوں کی زمین پر سے کاٹ ڈالا گیا۔ کیا حضرت دانیال کا یہ مطلب تھا۔ جب اُس نے مسیح کے بارے میں پیشگوئی کی تھی؟ بلکل وہی لفظ یہاں پر استعمال ہوا ہے۔ زندوں کی زمیں سے کاٹ ڈالے جانے سے کیا مطلب ہے؟ اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ شخص مارا جائے گا۔

اُس کی قبر بھی شرِیروں کے درمِیان ٹھہرائی گئی

اوروہ اپنی مَوت میں دَولت مندوں کے ساتھ مُؤا

حالانکہ اُس نے کِسی طرح کا ظُلم نہ کِیا

اور اُس کے مُنہ میں ہرگِزچھل نہ تھا۔     یسعیاۃ 53: 9

اگر اس خادم کو قبر میں اُتار جائے گا تو اس سے پہلے اُس کو مرنا ہوگا۔

اس کو ایک بدکار انسان کی حثیت سے مارا گیا۔ اگرچہ اُس نے کسی پر تشدد نہ کیا اور نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا۔

لیکن خُداوند کو پسند آیا کہ اُسے کُچلے ۔ اُس نے

اُسے غمگِین کِیا ۔

جب اُس کی جان گُناہ کی قُربانی کے لِئے گُذرانی

جائے گی

تو وہ اپنی نسل کو دیکھے گا ۔

اُس کی عُمر دراز ہو گی اور خُداوند کی مرضی اُس

کے ہاتھ کے وسِیلہ سے پُوری ہو گی۔           یسیعاۃ 53: 10

یہ ظالمانہ اورخوفناک موت کوئی حادثہ یا بدقسمتی نہیں تھی۔ یہ واضع طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی کہ "اُسے کچلے” لیکن کیوں؟ حضرت ہارون کی طرح جیسے وہ "گناہ کی قربانی” گزرنتا تھا۔ تاکہ وہ شخص جس کے لیے وہ قربانی چڑھائی گئی۔ اُس کے گناہ معاف ہوجائیں۔ یہاں اس خادم کی "زندگی” بھی گناہ کی خاطر قربان کی جارہی ہے۔ کس کے گناہ کے لیے؟ جس طرح ہم اُوپر بات کرآئیں ہیں۔ کہ "بہت سی قوموں” پر خون چھڑکا جائےگا۔ تو یہ "بہت سی قوموں” کے لوگوں کے گناہوں کے لیے خون چھڑکا جائے گا۔

اپنی جان ہی کا دُکھ اُٹھا کر وہ اُسے دیکھے گا اور

سیر ہو گا ۔

اپنے ہی عِرفان سے میرا صادِق خادِم بُہتوں کو

راست باز ٹھہرائے گا

کیونکہ وہ اُن کی بدکرداری خُوداُٹھا لے گا۔      یسعیاۃ 53: 11

اگرچہ خادم کی پیشن گوئئ لرزہ خیز ہے۔ لیکن یہ پیشگوئی یہاں آکر ایک نیا رخ لیتی ہے اور بہت خوشگوار اور فاتح بن جاتی ہے۔ اس خوفناک "مصیبت” کے بعد (زندوں کی زمین سے کاٹ جانے اور قبر میں اُتر جانے کے بعد) خادم زندگی کا نور دیکھے گا۔ وہ دوبارہ زندہ ہوجائے گا اور بہتوں کو راستباز قرار دے گا۔ یاد رکھیں۔ حضرت موسیٰ کی شریعت کے مطابق آپ اُس وقت راستباز ٹھہرسکتے ہیں۔ جب آپ شریعت کے تمام احکامات پر مکمل طور پر اور ہر وقت عمل کریں گے۔ لیکن حضرت ابراہیم (دوسری نشانی) کو راستباز قرار یا گیا۔ یہ حضرت ابراہیم کو بڑے سادہ سا عمل کرنے کی وجہ سے راستباز قراردیے دیا گیا تھا کہ اُس نے خدا پر ایمان لایا۔ یہ اُس کے لیے راستبازی گنا گیا۔ بلکل اسی طرح یہ خادم بھی بہتوں کو راستباز ٹھہرائے گا۔ کیا راستبازی کی ہم دونوں کو ضرورت نہہں؟

اِس لِئے مَیں اُسے بزُرگوں کے ساتھ حِصّہ دُوں گا

اوروہ لُوٹ کا مال زورآوروں کے ساتھ بانٹ

لے گا

کیونکہ اُس نے اپنی جان مَوت کے لِئے اُنڈیل دی

اور وہ خطاکاروں کے ساتھ شُمار کِیا گیا

تَو بھی اُس نے بُہتوں کے گُناہ اُٹھا لِئے اور

خطاکاروں کی شفاعت کی۔                                 یسعیاہ 53: 12

اس خادم کو بہت سر بلند کیا جائے گا۔ کیونکہ اُس نے اپنی جان بہتوں کے لیے رضاکارانہ طور پر دے دی۔ اور ایک بدکار کے طور پر مارا گیا۔ اس نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ بہت سے بدکاروں کے لیے شفاعت کرسکے۔  ایک شفاعت کار دو لوگوں کا درمیانی ہوتا ہے۔ اور یہاں پر دو لوگوں سے مراد "بہت سی قومیں” اور اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ "خادم” اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری شفاعت کرنے کے لیے کافی ہے۔

یہ خادم کون ہے؟ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا؟ کیا یہ خادم اللہ تعالیٰ کے سامنے ہمارا اور بہت سی قوموں کی شفاعت کرسکتا ہے؟ ہم زبور شریف کی اختتامی پیشگوئی پر غور کریں گے اور پھر ہم انجیل شریف کی طرف بڑھیں گے۔

مسیح حکمرانی کرنے یا مصلوب ہونے آ تھا؟

  • ہمارے پچھلے مضامین میں ہم نے دیکھا ہے کہ نبیوں نےمسیح کے نام اور ان کے نازل ہونے کے وقت کے بارے پیشن گوئیاں کیں۔ یہ حیرت انگیز طور پر مخصوص پیشن گوئیاں ہیں، جو حضرت عیسیٰ مسیح کی آمد کے سینکڑوں سال پہلے لکھی گئیں اور  نبیوں نے اس کے بارے صحیح پیش گوئی کی. یہ پیشن گوئیاں یہودیوں کی مقدس کتاب (تورات شریف + زبور شریف) میں لکھی ہوئی ہیں، لیکن یہ قرآن شریف اور انجیل شریف میں موجود نہیں ہیں. لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں یہودیوں نے ابھی تک حضرت عیسیٰ کو مسیح (مسیح) کے  طور پر قبول نہیں کیا؟ جبکہ ان ہی کی کتابوں میں یہ تمام پیشن گوئیاں لکھی ہوئی ہیں۔

اس سے پہلے ہم اس سوال پر غور کریں۔ مجھے یہاں اس بات کو واضح کرنا ہو گا۔ کہ میں یہ سوال کیوں پوچھ رہا ہوں۔  یوں تو حضرت عیسیٰ مسیح کی زندگی میں بہت سے یہودیوں نے اُنہیں مسیح کے طور پر قبول کرلیا تھا۔ اور آج بھی بہت سے یہودیوں نے انہیں مسیح کے طور پر قبول کرلیا ہے۔ لیکن ایک حقیقت پھر بھی موجود ہے کہ یہودیوں نے عیسیٰ مسیح کو بطور قوم قبول نہیں کیا، کیوں؟

کیوں یہودی حضرت عیسیٰ کو مسیح کے طور پر  قبول نہیں کرتے؟

متی رسول کے مطابق انجیل میں حضرت عیسیٰ کا یہودیوں کے مذہبی اساتذہ (فریسیوں اور صدوسیوں، یہ آج کے امام کا درجہ رکھتے تھے) کے ساتھ آمنا سامنا ہوتا ہے. انہوں نے حضرت عیسیٰ مسیح سے ایک مکر کے ساتھ سوال کیا اور ذیل میں حضرت عیسیٰ کا جواب ہے۔

یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ تُم گُمراہ ہو اِس لِئے کہ نہ کِتابِ مُقدّس کو جانتے ہو نہ خُدا کی قُدرت کو۔  (متی 22: 29

یہ تبادلہ ہمیں ایک اہم بات کی طرف اشارہ دیتا ہے. اگرچہ وہ کتابِ مقدس کے اُستاد تھے۔ اُنہوں نے تورات شریف اور زبور شریف کی تعلیم لوگوں کو دیتے تھے۔ لیکن حضرت عیسیٰ مسیح نے ان کو کہا۔ کہ وہ نہ تو کتابِ مقدس کو جانتے ہیں اور نہ ہی خدا کی قدرت کو۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کتابِ مقدس کے ماہرین اس کو سمجھتے نہ تھے؟

یہودی تمام صحیفوں کو نہیں جانتے تھے

جب آپ اس بات کے لیے مطالعہ کرتے ہیں کہ مذہبی رہنماؤں کی بات چیت کو زبور شریف اور تورات شریف میں سے تلاوت کرتے ہیں۔ تو پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف بعض مخصوص پیشن گوئیوں سے بہت زیادہ واقف تھے لیکن دوسری پیشن گوئیوں کو اُنہوں نے نظرانداز کردیا۔ لہذا ہم مثال کے طور پر دیکھتے ہیں، ، کنواری کے بیٹے کی نشانی میں،کتابِ مقدس کے ماہرین جانتے تھے کہ پیشن گوئیوں کے مطابق "مسیح” بیت لحم میں پیدا ہوگا۔ یہاں وہ آیت درج ہے جس آیت کو کتابِ مقدس کے ماہرین نے بیان کیا۔ جب ہیرودیس بادشاہ کے عہد میں حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش ہوئی۔

لیکن اے بیت لحم افراتاہ

 اگرچہ تو یہُوداہ کے ہزاروں میں شامل ہونے کے لئے چُھوٹا ہے

 تو بھی تجھ میں سے ایک شخص نکلے گا

 اور میرے حُضور اسرائیل کا حاکم ہوگا

 اور اس کا مصدر زمانہ سابق ہاں قدیم الایّام سے ہے۔                  میکاہ 5: 2

آپ اس آیت میں سے یہ جانیں گے کہ یہ آیت مسیح کے بارے میں بیان کرتی ہے۔ جو مسیح (= مسیح کی اصطلاح کے بارے میں یہاں آپ جان سکتے ہیں) اور یہ آیت اُن کو ‘حکمران’ کے طور پر بیان کرتی ہے. یہودی ماہرین کے لیے ایک اور جانا پہچانا حوالہ ہے۔ جو زبور شریف کے دوسرے (2)باب میں حضرت داود نبی پر نازل ہوا۔ جس میں پہلے مسیح کے طور پر تعارف کروایا گیا اور پھر بتایا کہ مسیح یروشلیم (صیون) میں بادشاہی کرے گا۔ جس طرح ہم نے حوالے میں دیکھا۔

خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔ ۔ ۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔ ۔ ۔ میں تو اپنے بادشاہ کو اپنے کوہ ِمقدس صِیون پر بٹھا چُکا ہوں۔ (زبور شریف باب 2

یہودی اساتذہ زربور کی مندرجہ ذیل آیات سے اچھی طرح سے واقف تھے

 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے ممسوح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔ خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا، ۔ ۔ ۔ وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے.                          زبور 132: 10-18

یہودیوں نے خدا تعالیٰ کی قدرت کو اپنی منطقی عقل سے نہ جانا۔

چنانچہ وہ کئی ایسی پشین گوئیوں کو جانتے تھے، جن میں سب ایک طرف اشارہ کرتیں تھی – کہ مسیح اقتدارکے ساتھ حکمرانی کرے گا۔ حضرت عیسیٰ مسیح کے دور میں یہودی رومی حکومت کی غلام تھی۔  اس طرح رومی اسرائیلی ملک پر قبضہ کے تحت رہتے تھے (یہودیوں کی تاریخ کے لئے یہاں ملاحظہ کریں) یہودی صرف اسی قسم کے مسیح کے منتظر تھے۔ کہ مسیح آئے اور آکر رومی حکومت کو تباہ و برباد کردے اور اُسی حکومت کو قائم کردے۔ جس کو حضرت دواد نے 1000 سال پہلے قائم کیا تھا۔ (یہاں حضرت دواد کا پس منظر دیکھیں)۔ وہ اللہ تعالی کی منصوبہ بندی کے بجائے اپنی خواہشات سے مسیح کو ڈھونڈ رہے تھے۔

  اس طرح انہوں نے خدا کی طاقت کو اپنی انسانی سوچ کی وجہ سے محدود کردیا۔ کیونکہ وہ ایسی ہی پیشن گوئیوں کو جاننا پسند کرتے تھے جن میں مسیح یروشلیم پر حکمرانی کرے گا۔ اور حضرت عیسیٰ نے یروشلیم ہر حکمرانی نہ کی۔ اس لیے یہودیوں کے نزدیک وہ مسیح نہ ہوا۔ یہ ایک سادہ سی منطقی بات تھی۔ اُنہوں نے خدا کی طاقت کو اپنی انسانی سوچ، محدود علم اور منطقی عقل کے باعث محدود کردیا۔

اُس وقت یہودی زبور شریف کی پیشن گوئیوں کو بہت زیادہ نہیں جانتے تھے اگرچہ وہ اپنی ساری معلومات کے لیے تناخ = (تورات شریف + زبور شریف) میں سے راہنمائی لیتے تھے جس کو وہ تناخ کہتے ہیں. لیکن وہ کسی بھی راہنمائی کے لیے زیادہ تورات شریف کا ہی مطالعہ کرتے تھے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو جو زبور شریف میں موجود تھا اُس کو نظرانداز کررہے تھے۔ اس طرح پیشن گوئیوں کا زیادہ تر حصہ نظرانداز ہوگیا۔ اور اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طاقت کو اپنی انسانی علم اور منطق کے باعث محدود کردیا۔ اس لیے اُن کے مطابق حضرت عیسیٰ مسیح نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اُنہوں نے حکمرانی نہیں کی تھی۔ اس کہانی کا آخر یہ ہوا کہ یہودی نے حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے میں مذید تحقیق کرنی چھوڑدی۔ اور اب بھی وہ مسیح کا انتظار کررہے ہیں۔

مسیح : قربان ہونے کے لیے آئے

لیکن اگر یہودی صحائف کا جائزہ لیں تو وہ جس بات کو ہم سکھنے جارہیں ہیں اُس کو وہ بھی سکھیں سکیں جائیں گے۔ پچھلے مضمون میں ہم نے دیکھا کہ حضرت دانیال نے مسیح کے آنے کے بارے میں ٹھیک پیش گوئی کی تھی۔ لیکن اس بات پر غور کریں۔ کہ اُس نے مسیح کے بارے میں کیا کہا ہے۔ (مسموح = مسیح= کرائسٹ/مسیح

 پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔  اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔                            (دانی ایل 9: 25-26

غور کریں کہ حضرت دانیال نے کیا کہا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو اُس کے ساتھ کیا ہوگا.کیا حضرت دانیال نے کہا کہ مسیح حکمرانی کرے گا؟ کہ وہ اپنے باپ دادا کے تخت پر قنضہ کرے گا اور رومی حکومت کو تباہ و برباد کردے گا؟نہیں! بلکہ حقیقت میں یہ بڑا واضح لکھا ہوا ہے۔ کہ وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا ۔پھر یہ لکھا ہوا ہےکہ غیر قومیں ہیکل مقدس (جو یہودیوں کے لیے پاک مقام ہے) اور یروشلیم شہر کو تباہ کردیں گی۔ اگر آپ یہودیوں کی تاریخ پر نظر لگائے تو آپ جانیں گے کہ تاریخ میں ایسا ہی ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰ مسیح کے چالیس سال بعد رومیوں نے یروشلیم پر حملہ کیا اور ہیکل مقدس اور یروشلیم شہر کو تباہ و برباد کردیا بلکہ حضرت عیسیٰ نے اس کے بارے کہا تھا۔ کہ اس پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا۔ یہ اسی طرح ہوا۔ جیسے حضرت دانیال نے پیش گوئی کی تھی۔ اور یہودیوں کو پوری دنیا میں جلاوطن کردیا گیا۔ تقریبات 70 عیسوی میں ویسے ہی واقع ہوا۔ جیسے  537 ق.م. حضرت دانیال نے پیش گوئی کی  تھی،اور اس کا حضرت موسیٰ نے لعنت کرتے ہوئے پہلے ذکر کیا تھا۔

لہذا حضرت دانیال نے پیشن گوئی کی تھی کہ مسیح حکمرانی نہیں کرنے آرہا بلکہ وہ قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا۔ یہودی راہنماوں نے اس پیشن گوئی کو اپنی ضرورت کے تحت ںظرانداز کردیا۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ نظر آتا ہے۔ کیا حضرت دانیال کی پیشن گوئیوں اور جن پیشن گوئیوں کو یہودی راہنما جانتے تھے۔ ان کے درمیان تضاد پایا جاتا ہے؟اگر تمام پغامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں تو ان کو سچائی کے ساتھ پورا بھی ہونا چاہیے۔ جیسے حضرت موسی کی طرف سے تورات میں لکھا ہے.یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ مسیح قتل بھی کیا جائے اور پھر حکمرانی بھی کرے۔ یہاں اس بات سے ایسا لگتا ہے کہ انسانی منطق نے "خدا کی قدرت” کو ختم کردیا تھا۔

قتل ہونے اور حکمرانی کے تضاد کی وضاحت

لیکن یقینا ان کی منطقی عقل خدا کی قدرت سے زیادہ مستحکم نہیں تھی۔ وہ ہماری طرح کے انسان تھے۔ وہ خود اُن مفروضوں کو نہیں جانتے تھے جن کو وہ بنا رہے تھے۔ اُنہوں نے مفروضہ لگایا تھا کہ شاید مسیح ایک ہی بار آئے گا۔ اگر یہ معاملہ تھا تو اس کی وجہ سے حکمرانی کرنے والی اور قتل ہونے والی پیشن گوئیوں میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس طرح اُنہوں نے اپنی عقل کے باعث اللہ تعالیٰ کی قدرت کو محدود کردیا تھا۔ لیکن یہ انسانی منطق تھا جو کہ ناقص ہے۔ مسیح کو دوبار آنا تھا۔ پہلی دفعہ وہ آیا تاکہ قربان ہونے والی پیشن گوئیوں کو پورا کرسکے۔ اور دوسری بار وہ حکمرانی والی پیشن گوئیوں کو پورا کرنے آرہا ہے۔ اس نکتہ نظر سے ‘تضاد’ والا مسئلہ آسانی سے حل ہو جاتا ہے.

کیا ہم نے خدا کی قدرت کو محدود اور صحیفوں کو بھلا دیا ہے؟

لیکن اس کا کیا مطلب ہے کہ مسیح قتل کیا جائے گا اور اُ س کا کچھ نہیں رہے گا؟ اس سوال کے بارے میں بعد میں بات کریں گے۔ لیکن اب ہم اس بات کے بارے میں بات کریں گے کہ یہودی کیسے ان نشانیوں کو چھوڑ گے۔ ہم پہلے ہی دو وجوہات کا ذکر کرچکے ہیں کہ یہودیوں نے کیوں مسیح کے نشانوں کو نظرانداز کردیا۔ یہاں ہمارے پاس تیسری وجہ حضرت یوحنا کی معرفت لکھی گئی انجیل میں موجود ہے۔ یہاں پر حضرت عیسیٰ اور یہودیوں کے مذہبی راہنماوں کے درمیان بات چیت ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ مسیح نے فرمایا۔

 تُم کِتابِ مُقدّس میں ڈھُونڈتے ہو کِیُونکہ سَمَجھتے ہو کہ اُس میں ہمیشہ کی زِندگی تُمہیں مِلتی ہے اور یہ وہ ہے جو میری گواہی دیتی ہے۔  پِھر بھی تُم زِندگی پانے کے لِئے میرے پاس آنا نہِیں چاہتے۔  مَیں آدمِیوں سے عِزّت نہِیں چاہتا۔  لیکِن مَیں تُم کو جانتا ہُوں کہ تُم میں خُدا کی محبّت نہِیں۔
مَیں اپنے باپ کے نام سے آیا ہُوں اور تُم مُجھے قُبُول نہِیں کرتے۔ اگر کوئی اَور اپنے ہی نام سے آئے تو اُسے قُبُول کر لو گے۔  تُم جو ایک دُوسرے سے عِزّت چاہتے ہو اور وہ عِزّت جو خُدایِ واحِد کی طرف سے ہوتی ہے نہِیں چاہتے کیونکر اِیمان لاسکتے ہو؟۔                  یوحنا 5: 39-44

دوسرے الفاظ میں تیسری وجہ میں یہودیوں نے مسیح کے نشان کو نظرانداز کردیا کیونکہ اُنہوں نے صرف سادہ سے انداز میں اس کو قبول نہ کیا۔ وہ خدا کی مرضی کو پورا کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی مرضی کو قبول کرنے کی دلچسپی رکھتے تھے۔

یہودی دوسرے لوگوں کی نسبت  غلط  اور گمراہ  نہیں تھے.لیکن یہ آسان ہے کے ہم اُن پر اس بات کے بارے میں الزام لگاسکتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت عیسیٰ کو مسیح ثابت کرنے والی پیشن گوئیوں کو نظرانداز کردیا۔لیکن اس سے پہلے ہم اُن پر اُنگلیاں اُٹھائیں ہمیں اپنے گریبان میں جانکنے کی ضرورت ہے۔کیا ہم ایمانداری کے ساتھ کہا سکتے ہیں کہ ہم کلام مقدس کو مکمل طور پر جانتے ہیں؟کیا ہم یہودیوں کی طرح رویہ نہیں رکھتے ہیں کہ ہم صرف اُن حوالہ جات کو ہی جانتے ہیں جو زیادہ آسان اور آسانی سے سمجھ میں آسکتے ہیں۔ یا کئی بار ہم کلامِ الہی میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کو قبول نہیں کرتے۔ صرف یہ سوچ کر کے دوسرے کیا سوچیں گے؟

یہودیوں کا مسیح کے نشان کو یاد نہ رکھنا ہمارے لیےایک انتباہ ہونا چاہئے. ہمیں صرف اُنہیں آیات تک محدود نہیں رہنا چاہئے جن آیات کو ہم پہلے سے جانتے ہیں۔ ہمیں اپنی عقلی منطقی دللائل کے زریعے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو محدود نہیں کرنا چاہئے۔ اور جب ہمیں کلامِ الہی سکھارہا ہو توہمیں اُس کو رد نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں ان تمام تر انتباہ کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیے تاکہ ہم یہودیوں کی طرح کلامِ الہی کو نظرانداز نہ کردیں ۔ جس طرح اُنہوں نے کیا تھا۔ اب ہم ایک اہم آدمی کے بارے میں بات چیت کرنے جارہے ہیں۔ جس کو ہم "خادم” کے طور پر جانیں گے۔

آنے والے مسیح کا سات کا نشان

 جیسا کہ ہم انبیاء اکرام کے بارے میں سیکھ رہے ہیں۔ اور ہم نے اس بات کو جانا ہے کہ ان کے درمیان سینکڑوں سال کے عرصے کا فرق موجود ہے۔ لہذا اس طرح انسان ہوتے ہوئے وہ اپنی پیشن گوئیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا نہیں سکتے تھے۔ لیکن پھر بھی اُن کی یہ پیشن گوئیاں ایک ہی مرکزی موضوع کی طرف بڑھتی گئی کہ "مسیح (کرائسٹ) آرہا ہے”۔ ہم نے دیکھ کہ حضرت یسعیاہ نبی درخت کے ٹنڈ سے شاخ کی نشانی پیش کرتے ہیں۔ اور پھر حضرت یرمیاہ نبی نے اس شاخ کے بارے میں پیشن گوئی کی۔ کہ اس کا نام عبرانی زبان میں یشوع ہوگا۔ جس کا یونانی میں یسوس (Iesous) اور انگلش میں یسوع (Jesus) اور عربی میں عیسیٰ ہے۔ جی ہاں، حضرت عیسیٰ مسیح کے نازل ہونے سے 500 سال پہلے اُن کے نام کی پیشن گوئی ہوچکی تھی۔ یہ پیشن گوئیاں آج بھی یہودیوں کی کتاب عہدِ عتیق میں (انجیل میں نہیں) لکھی ہوئی ہیں۔ جو آج بھی قابلِ قبول ہیں لیکن یہودی اس کو ٹھیک طریقے سے سمجھنے سے قاصر ہیں۔

حضرت دانیال

اب ہم حضرت دانیال کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں۔ وہ ایک اسرائیلی ہونے کی وجہ سے بابل کی جلاوطنی میں رہا اور بابلی اور فارسی حکومتوں کا بڑا خاص ہدے پر فائض رہا۔ نیچھے دیے گے ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے۔ کہ حضرت دانیال تاریخ کے کس دور میں نازل ہوئے۔

حضرت دانیال اور حضرت نحمیاہ ٹائم لائن میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ دکھائے گے ہیں۔

حضرت دانیال اپنی کتاب ( جو اُن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی) میں حضرت جبرایل سے ایک پیغام موصول کرتے ہیں۔ حضرت دانیال اور حضرت مریم یہ دو واحد ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے حضرت جبرایل کے وسیلے پیغامات کو موصول کیا۔ لہذا ہمیں اس پیغام پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ حضرت جبرایل فرماتا ہے۔

 جبرائیل ۔ ۔ ۔ آیا اور شام کی قربانی گُزراننے کے وقت کے قریب مُجھے چُھوا۔  اور اُس نے مُجھے سمجھایا اور مُجھ سے باتیں کیں اور کہا ۔ ۔ ۔  تیرے لوگوں اور تیرے مُقدس شہر کے لے سترّ ہفتے مُقرر کے گے کہ خطا کاری اور گُناہ کا خاتمہ ہو جائے ۔ بدکردای کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راست بازی قائم ہو۔ رویا نبُوت پر مُہر ہو اور پاکترین مقام ممسُوح کیا جائے۔
 پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔  اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔

دانی ایل 9: 21-26

ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں پر ایک "ممسوح” (مسیح) کے بارے میں پیشن گوئی کی گئی ہے۔

حضرت جبرایل نے مسیح کے آںے کے بارے میں ایک ٹائم ٹیبل دیا تھا۔ حضرت جبرایل نے بتایا کہ "اُس دور میں یروشلیم کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کا حکم جاری ہوگا۔ اگرچہ حضرت دانیال کو یہ پیشن گوئی (537 ق م کے قریب دی گئی) کے شروع ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکا۔

یروشلیم کی دوبارہ تعمیر اور بحال کرنے کا حکم جاری

دراصل یہ حضرت نحمیاہ ہی تھا جو حضرت دانیال کے ایک سو سال بعد نازل ہوئے اور اُنہوں نے اس پیشن گوئی کے ابتدا کا وقت دیکھا۔ وہ شہنشاہ فارس کا ساقی تھا اور قصرِ سوسن میں رہتا تھا جو آج کا ایران ہے۔ ملاحظہ کریں جس ٹائم لائن میں رہتا تھا۔ وہ ہمیں اس کتاب میں بتاتا ہے۔

 ارتخششتابادشاہ کے بیسویں برس نیسان کے مہینے میں۔ ۔ ۔ بادشاہ نے مجھ سے فرمایا کِس بات کے لئے تیری درخواست ہے ؟تب میں نے آسمان کے خدا سے دُعا کی ۔  پھِر میں نے بادشاہ سے کہا کہ اگر بادشاہ کی مرضی ہو اور اگر تیرے خادم پر تیرے کرم کی نظر ہے تو تومجھے یہوداہ میں میرے باپ دادا کی قبروں کے شہر کو بھیج دے تاکہ میں اُسے تعمیر کروُ ں ۔

میں نے بادشاہ سے یہ بھی کہا اگر۔ ۔ ۔ ایک شاہی خط ملے کہ وہ ہیکل کے قلعہ کے پھاٹکوں کے لئے اور شہر پناہ اور اُس گھر کے لئے جس میں میں رہونگا کڑیا ں بنانے کومجھے لکڑی دے اور چونکہ میرے خدا کی شفقت کا ہاتھ مجھ پر تھا بادشاہ نے میری عرض قبول کی۔
تب میں نے دریا پار کے حاکموں کے پاس پہنچا کر بادشاہ کے پروانے اُنکو دِئے ۔ ۔ ۔نحمیاہ 2: 1-11

مندرجہ بالا حوالہ "یروشلیم کی تعمیر اور بحالی کے فیصلے کو جاری ” ہونے کے بارے میں بتاتا ہے۔ جس کے بارے حضرت دانیال نے پیشن گوئی کی تھی کہ ایک دن ایسا آئے گا۔ جس میں تعمیر اور بحالی کا کام دوبارہ کیا جائے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شہنشاہ ارتختششتا کی حکومت کے 20 ویں برس واقعہ ہوا۔ اور یہ تاریخ مشہور ہے۔ جس کا آغاز 465 ق م میں ہوا۔اس طرح اُس کے عہد کے 20 ویں سال (44 ق م) میں یہ فرمان جاری ہوا۔ حضرت جبرایل نے حضرت دانیال کو اس پیشن گوئی کے شروع ہونے کے بارے میں کی نشان دیا تھا۔ اس طرح 100 سال بعد شہنشاہ ایران نے حضرت دانیال کی پیشن گوئی کو بغیر جانے اس بات کا فیصلہ دے دیا۔ اس طرح ممسوح فرماروا (مسیح) کے بارے میں پیشن گوئی کا آغاز ہوگیا۔

پراسرار سات

جو پیشن گوئی حضرت دانیال نبی کو حضرت جبرایل نے دی تھی۔ اُس سے یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کہ  7 ہفتے اور 62 ہفتے پھر مسیح نازل ہوگا۔ تو پھر سات سے کیا مراد ہے؟ حضرت موسیٰ کی تورات شریف میں ساتھ سالوں کا ایک چکر ہے۔ جس میں ہر 7 سال بعد کھیتی باڈٰی سے آرام کرنا تھا۔ تاکہ کھیت اپنی مٹی کی قدرتی اجزاء کو بحال کرسکیں۔ اس طرح سے 7 سے مراد ایک چکر ہے۔ اس طرح ہم  کہ اس بحالی کے پروگرام کو دو حصوں میں دیکھتے ہیں۔ پہلا حصہ سات بار سات یا پھر سات سال کی مدت تھی۔ یہ سات٭ سات 7٭7ٓ 49 سال تھا۔ یہ یروشلیم کو دوبارہ تعمیر کرنے کا وقت تھا۔ یہ 62 بار سات کے مطابق بنتا تھا۔ اور کل گنتی اس طرح ہوئی۔ 7٭7 + 7٭ 62=483 سال بنتی تھی۔ دوسرے الفاظ میں شہنشاہ ارتختششتا سے لیکر میں کے آنے تک 483 سال بنتے تھے۔

360 دن کا سال

ہمیں ایڈجسٹمنٹ کے لیے ایک چھوٹا سا کیلنڈر  بنانا ہوگا۔ جس طرح قدیم زمانے میں بہت سی قوموں نے کیا۔ اور نبیوں نے ایک سال کی مدت کو 360 دنوں تک استعمال کیا۔ ایک سال کی مدت کو تعین کرنے کے لیے مختلف طریقے ہیں۔ مغربی طرز کا کیلنڈر (شمسی نظام ہر مبنی) ہے۔ جس میں 365۔24 دن ہوتے ہیں۔ اور اسلامی کیلنڈر( یہ کیلنڈرچاند کے چکر پر مبنی ہے۔) 354 دنوں کا ہوتا ہے۔ اور حضرت دانیال نے 360 دنوں والا کیلنڈر استعمال کیا۔ اس طرح 483 سال اور 360 دن، 483٭360/365۔24= 476 شمسی سالوں کے برابر ہے۔

مسیح کی آمد کا متوقع سال

اس معلومات کے مطابق ہم اس بات کا حساب لگاسکتے ہیں کہ مسیح کب آںے والے تھے۔

ہم "BC” کے دور سے ‘AD” کے دور تک جائیں گے۔ اس حساب کے مطابق 1 سال BC اور 1AD کے درمیان موجود ہے۔ (وہاں "صفر” سال نہیں ہے) اس حساب کی معلومات نیچے دیئے گے ٹیبل میں موجود ہے۔

شروع سال 20th اتختششتا بادشاہ کا سال     444 BC
وقت کی لمبائی 476 شمسی سال
مغربی کیلنڈر میں متوقع آمد (-444 + 476 + 1) (‘+1’ because there is no 0 AD) = 33
متوقع سال 33 AD

حضرت عیسیٰ (یسوع ناصری) یروشلیم میں گدھے کے بچے پر سوار داخل ہوئے۔ اور اس شاندار داخلے کا نام کھجوروں کا اتوار مشہور ہوگیا۔ اُس روز اُنہوں نے خود اعلان کیا اور یروشلیم میں اُنہوں نے مسیح کی حثیت سے مارچ کیا۔ یہ 33 AD کا سال تھا۔

حضرت دانیال اور حضرت نحمیاہ دونوں کا آپس میں ایک سو سال کا فرق ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ لیکن دونوں نے اللہ تعالیٰ سے پیشن گوئیوں کو حاصل کیا اور مسیح کے ظاہر ہونے کے وقت کوظاہر کیا۔ اور تقریباً حضرت دانیال نے ان پیشن گوئیوں کو حضرت جبرایل سے 570 سال پہلے حاصل کیا تھا۔کہ حضرت عیسیٰ ایک مسیح کے طور پر یروشلیم میں داخل ہونے گے۔ یہ ایک انتہائی قابلِ ذکر اور عین مطابق تکمیل ہونے والی پیشن گوئی تھی۔ اس کے ساتھ حضرت زکریا نے مسیح کے نام کی پینش گوئی کی تھی۔ وہ پیشن گوئی بھی اُسی روز تکمیل ہوئی۔ ان انبیاء اکرام نے پیشن گوئیوں کا ایک حقیقی گروہ تشکیل دیا تاکہ اُن سب کو معلوم ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کے منصوبے کو جاننا چاہتے ہیں۔

لیکن اگر یہ پیشن گوئیاں نہائیت قابلِ ذکر ہیں ۔ اور یہ تمام یہودیوں کی مقدس تورات شریف اور زبور شریف میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ تو پھر یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو مسیح کے طور پر قبول کیوں نہیں کیا؟ یہ اُن کی کتاب میں موجود ہے! جو کچھ ہم سوچتے ہیں اُس کو واضع ہونا چاہیے، خاص طور پر اُن قابلِ ذکر اور عین وقت پر پوری ہونے والی پیشن گوئیوں کو۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ یہودی کیوں حضرت عیسیٰ کو بطور مسیح کے قبول نہیں کرتے۔ اس بات کے لیے ہم مزید اگلے سبق میں انبیاء اکرام کی پیشن گوئیوں کو جانیں گے۔

گے۔

مسیح کے نام کے ساتھ شاخ کی نشانی

ہم نے زبور شریف کے حالیہ مضامین میں دیکھا ہے کہ اللہ نے آنے والی بادشاہت  کے بارے وعدہ کیا تھا۔ یہ سلطنت  ہماری عام انسانی حکومتوں سے مختلف ہوگی۔ اگر ہم آج کی نیوز کو دیکھیں اور غور کریں کہ ہماری انسانی حکومتوں میں کیا ہورہا ہے۔ تو آپ لڑائی جھگڑا، کرپشن، ظلم، قتل، غریبوں کا استحصال اور اس طرح کے تمام بدکاریوں سے حکومتں بھری ہوئی ہیں۔ چاہئے وہ مسلم، عیسائی، یہودیوں، بدھ مت، ہندو یا سیکولر مغرب حکومت ہی کیوں نہ ہو۔ ان تمام سلطنتوں میں اس مسئلہ کی ایک ہی جڑ ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ جس میں ہماری نہ بجھنے والی پیاس ہمیں ہرروز گناہ کی طرف لے کر جارہی ہے۔ جیسا کہ ہم نے ان مسائل کو حضرت یرمیاہ کے مضمون میں بھی دیکھا۔ جس کا نتیجہ گناہ ہی ہے۔ (یعنی فساد، قتل، جنسی تشدد)۔ لہذا اللہ تعالیٰ کی اس بادشاہی کے ابھی نہ آنے میں سب سے اہم رکاوٹ ہم ہی ہیں. اگر اللہ نے اپنی نئی سلطنت قائم لی تو ابھی ہم میں سے کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ ہمارا گناہ اس سلطنت کو بھی برباد کردے گا۔ جس طرح اُس نے ہماری اس سلطنت کو بردباد کردیا ہے۔ حضرت یرمیاہ نبی نے پیشن گوئی کرکے بیان کردیا تھا۔ کہ ایک دن اللہ تعالیٰ ایک نیا عہد قائم کرے گا۔ یہ نیا حضرت موسیٰ کی شریعت کی طرح پتھر کی تختیوں پر لکھے ہونے کی بجائے۔ یہ ہمارے دلوں پر لکھا ہوا ہوگا۔ یہ ہمیں اس بادشاہی کے شہری بننے کے لئے اندر ،باہر سے بدل دے گا.

یہ سب کیسے ہونے جارہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کئے منصوبے ایک چھپے ہوئے خزانہ کی مانند ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے زبور شریف کے پیغامات میں اشارے دیئے ہیں۔ تاکہ وہ جو اُسکی کی بادشاہی کی تلاش میں ہیں۔اُس کو پاسکیں۔ لیکن وہ جو دلچسی نہیں رکھتے۔ وہ بے خبر ہیں۔ ہم ان نشانوں کو اب دیکھ سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ آنے والے مسیح پر مبنی ہے۔ (جس کو ہم نے یہاں ـمسیحا- کرائسٹ کے طور پر دیکھا)۔ ہم نے اس کو پہلے ہی سے زبور شریف میں دیکھا ہے۔ آنے والے مسیح کے بارے میں جو پیشن گوئی کی گئی تھی وہ حضرت دواد کی لڑی میں سے ہوگا۔ (دوبارہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)۔

حضرت یسعیاہ نبی درخت کی شاخوں اور تنے کے بارے میں

حضرت یسعیاہ نبی اس منصوبہ کو واضع کرتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ کیسے یہ سب کچھ کریں گے۔ حضرت یسعاہ نبی کی کتاب زبور شریف کی ہی ایک کتاب ہے۔ جو حضرت داود کے شاہی خاندان کی اسرائیل پر حکمرانی کے دوران نازل ہوئی۔ (1000-600 ق م)۔ جن دنوں (750 ق م ) یہ کتاب لکھی جارہی تھی، تو اسرائیل کی ساری سلطنت اپنے دلوں کی پیاس کو ناجائز طریقے سے بجھانے کی وجہ سے جاہلت کا شکار تھی۔

حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت داؤد کا خاندان - ایک درخت کی طرح
حضرت داؤد کا خاندان – ایک درخت کی طرح

حضرت یسعیاہ نبی نے اسرائیلیوں سے ایک الہامی درخواست کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کرنے اور حضرت موسیٰ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں۔ حضرت یسعیاہ جانتے تھے کہ اسرائیلی اُن کی اس توبہ کی درخواست کو نظرانداز کردیں گے۔ اس لیے اُنہوں نے اسرائیل کے بارے میں نبوتی کلام کیا۔ کہ اسرائیلی قوم تباہ ہوجائیں گی اور حضرت دواد کا شاہی خاندان اسی کے ساتھ اپنی بادشاہت کھودے گا۔ ہم نے دیکھا یہ کیسے ہوا۔ اپنی اس نبوتی کلام میں حضرت یسعیاہ نے ایک درخت کی مثال پیش کی۔ جو مکمل طور پر تباہ ہوئے گا۔ لیکن اُس کا ٹنڈ باقی رہ جاتا ہے۔ یہ واقع 600 ق م کے دوران پیش آیا جب بابلیوں نے یروشلیم پر حملہ کرکے۔ مکمل شہر کو تباہ کردیا اور حضرت دواد کی نسل سے حکمرانی یروشلیم سے جاتی رہی۔

کاٹا ہوا درخت
کاٹا ہوا درخت

 لیکن اُن کی کتاب میں آنے والی تباہی کے تمام پیشن گوئیوں کے ساتھ، یہ خاص پیغام جوڑا ہوا تھا۔

1 اور یسی کے تنے سے ایک کونپل نکلیگی اور اسکی جڑوں سے ایک بار آور شاخ پیدا ہوگی۔
2 اور خداوند کی روح اُس پر ٹھہرے گی ۔حکمت اور خرد کی روح مصلحت اور قدرت کی روح معرفت اور خداوند کے خوف کی روح ۔                                                                      یسیعیاہ 11: 1-2

حضرت داود کا خاندان - ایک مردہ تنے میں سے نکلتی ہوئی ایک کونپل
حضرت داود کا خاندان – ایک مردہ تنے میں سے نکلتی ہوئی ایک کونپل

 حضرت یسی، حضرت دواد کے والد تھے اس طرح وہ اُس خاندان کی جڑ ہیں۔ حضرت یسی کے تنے اور جڑ سے مراد وہ پیشن گوئی تھی۔ جس کی وجہ سے حضرت دواد کے خاندان میں تباہی برپا ہوئی۔لیکن حضرت یسعیاہ اس سے آگے بھی دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اُنہیں اس تباہی کی پیشن گوئی کے بعد مستقبیل میں آنے والے منظر کو بتاتے ہیں۔ کیونکہ وہ تنا / جڑ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی تھی۔ایک دن مستقبیل میں اُس میں سے ایک شاخ پھوٹ نکلے گی۔ جو اُسی ایک تنا میں سے ہوگی۔ یہ شاخ حضرت دواد کے خاندان میں سے آنے والے ایک آدمی کی طرف اشارہ ہے۔اس آدم میں بہت سی بیش قیمت خوبیاں ہوگئیں۔ جیسا کہ حکمت، فہم، اور خرد ہوگی جو تمام اللہ تعالیٰ کی روح میں سے ہونگیں۔ اب یاد رکھیں کہ ہم نے کیسے اس بات کو جانا تھا۔ کہ حضرت دواد کی نسل میں سے ایک مسیحا کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔ یہ ایک اہم ترین پیشن گوئی تھی۔حضرت دواد کی نسل میں سے ایک شاخ اور مسیحا ہوسکتا ہے، یہ دونوں ایک ہی شخص کے لقب ہوں۔ آئیں دیکھ زبور شریف میں سے مزید تلاش کرتے ہیں۔

حضرت یرمیاہ نبی درخت کی شاخوں اور تنے کے بارے میں

حضرت یرمیاہ حضرت یسعیاہ نبی کے 150 سال بعد تشریف لائے۔ جب حضرت دواد کا خاندان اُسکی آنکھوں کے سامنے برباد ہورہاتھا۔ جب اُنہوں نے یہ پیشن گوئی لکھی۔

حضرت یرمیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت یرمیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

5 دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں داؤد کے لئے ایک صادق شاخ پیدا کرونگا اور اُسکی بادشاہی ملک میں اقبالمندی اور عدالت اور صداقت کے ساتھ ہوگی۔
اُسکے ایام میں یہوؔ داہ نجات پائیگا اور اِسرؔ ائیل سلامتی سے سُکونت کریگا ور اُسکا نام یہ رکھا جائیگا خداوند ہماری صداقت ۔                                                                    یرمیاہ 23: 5-6

حضرت یرمیاہ نبی نے اُسی پیشن گوئی کو جاری رکھا۔ جس کو حضرت یسعیاہ نبی نے 150 سال پلے بیان کیا تھا۔ یہ شاخ ایک بادشاہ ہوگا۔ ہم نے یکھا تھا اپنی پچھلے اسباق میں کہ مسیح ایک بادشاہ ہوگا۔ اور اس طرح بادشاہ اور شاخ کے درمیان مشابہت بڑتی جاہی ہے۔

حضرت زکریا اُس شاخ کے نام کے بارے بتاتے ہیں

حضرت زکریا نبی ہمارے لئے پیغامات کو جاری رکھتے ہیں۔ اسرائیل بابلی کی غلامی سے واپسی کے دور 520 ق م میں اسرائیل پر نازل ہوئے۔ لیکن اس عرصے کے دوران اسرائیل پر فارس کی حکومت تھی۔

حضرت زکریا اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت زکریا اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

( حضرت زکریا کو حضرت یحیٰ نبی کے باپ حضرت زکریا کے ساتھ مت ملائیں۔حضرت زکریا نبی حضرت یحیٰ نبی کے والد زکریا سے 500 سال پہلے نازل ہوئے تھے۔ چونکہ حضرت زکریا جو حضرت یحییٰ کے والد تھے اُن کا نام حضرت زکریا تھا۔ لیکن ان دونوں زکریا کا فرق دور تھا۔ جس طرح آج بہت سے لوگوں کا نام محمد ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نام حضرت محمدؐ کی جگہ لے سکتا ہے) اسی دوران (520ق م) یہودیوں نے اپنی تباہ شدہ ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنا شروع کردیا۔ اور حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون کی قربانیوں کے سلسلے کو دوبارہ شروع کردیا۔ حضرت ہارون چونکہ ہیکل میں سردار کاہین تھے۔(اس لیے اُن کی اولاد ہی میں سے کوئی سردار کاہین مقرر ہوا۔) اس زمانے میں یشوع سردار کاہین تھا۔ اس طرح حضرت زکریا 520 ق م میں نبی تھے اور یشوع سردار کاہین تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ حضرت زکریا کے وسیلے یشوع کو سردار کاہین مقرر کرتے ہیں۔

اب اے یشوع سردار کاہن سُن تُو اور تیرے رفیق جو تیرے سامنے بیٹھے ہیں۔ وہ اس بات کا ایماہیں کہ میں اپنے بندہ یعنی شاخ کو لانے والا ہُوں ۔
کیونکہ اُس پتھر کو جو میں نے یُشوع کے سامنے رکھا ہے دیکھ اُس پر سات آنکھیں ہیں۔ دیکھ میں اس پر کندہ کروں گا ربُ الافواج فرماتا ہے اور میں اس مُلک کی بدکرداری کو ایک ہی دن میں دُور گا۔                                                                                                                                                   زکریاہ 3: 8-9

شاخ ایک بار پھر! لیکن اس بار اس کے لیے لفظ میرے خادم لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور اس طرح سردار کاہین یشوع اس شاخ کی مشابہت ہے۔ سردار کاہین یشوع کیسے ایک نشان ہے؟ اور اس کا کیا مطلب ہے کہ ایک ہی دن میں خداوند تمام گناہوں کو دور کردے گا۔(میں مٹا دونگا۔ ۔ ۔ ) ہم حضرت زکریا کی بات کو جاری رکھیں گے اور حیرت انگیز احقاق جانتے جائیں گے۔

9 پھر خُداوند کا کلام مُجھ پر نازل ہوا۔
10 کہ تُو آج ہی خلدی اور طُوبیاہ اور یدعیاہ کے پاس جا جو بابل کے اسیروں کی طرف سے آ کر یُوسیاہ بن صفنیاہ کے گھر میں اُترےہیں۔
11 اور اُن سے سونا چاندی لے کر تاج بنا اور یشوع بن یہُوصدق سردار کاہن کو پہنا۔
12 اور اُس سے کہہ کہ کہ ربُ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ وہ شخص جس کا نام شاخ ہے اُس کے زیر سایہ خُوش حالی ہو گئی اور وہ خُداوند کی ہیکل کو تعمیر کرے گا۔

                                                                                                                                    زکریا 6: 9-12

یاد رکھیں یہاں یشوع کا نام شاخ ہے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ کو یاد ہوگا جب ہم نے "ترجمہ اور لفظی ترجمہ کے بارے میں سیکھا تھا۔ ہم نے انگریزی ترجمہ پڑھا ہے اس لیے یہاں لفظ "یشوع” آیا ہے۔لیکن اصل زبان عبرانی میں کون سا لفظ یا آیا ہے؟ مندرجہ ذیل تصویر ہمیں بتاتی ہے۔

یشوع = یسوع دونوں عبرانی زبان سے ترجمہ ہوئے ہیں
یشوع = یسوع دونوں عبرانی زبان سے ترجمہ ہوئے ہیں

جب ہم  حصے اول 1 کی طرف سے حصے تیسرے 3 کی طرف جاتے ہیں۔ (تو ہم کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ "مسیحا” یا "مسیح” کہا سے آیا؟) ہم دیکھ سکتے ہیں کہ لفظ  "یشوع” عبرانی لفظ ‘Yhowshuwa’ "یشوع” سے آیا۔ یہ نام  ‘Joshua’ اُس وقت ترجمہ ہوا جب پرانے عہد نامے کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی یاد رکھیں کہ تورات شریف کا یونانی میں ترجمہ 250 ق م میں ہوا تھا۔جب ہم حصہ نمبر 1 سے حصہ نمبر 2 کی طرف جاتے ہیں۔ تو ان مترجمین نے عبرانی سے یونانی میں نام  "Yhowshuwa” کو ترجمہ کیا۔ اُن کا یونانی ترجمہ "عیسوس” Iesous” تھا۔  اس طرح عبرانی کے پرانے عہد نامے کا ترجمہ جب یونانی میں ہوا تو عبرانی کے لفظ "Yhowshuwa” کا ترجمہ یونانی میں Iesous "عیسوس” ہوا۔جب یونانی کے نئے عہد نامے کا ترجمہ انگریزی زبان میں ہوا تو اُس کے یونانی نام Iesous” کا انگریزی میں "Jesus” اور اردو میں یسوع ہوا۔ دوسرے الفاظ میں مسیح =مسیحا =کرائسٹ  / مسیح =ممسوع۔

                                          ( یشوع = عیسوس = جوشوا = یسوع (= عیسیٰ

‘Yhowshuwa’ = Iesous = Joshua = Jesus (= Isa)

اسی طرح یہ تمام نام Muhammad  =محمد ،Joshua  =یسوع کیسی زبردست بات ہے کہ ہر کسی کو اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے 500 سال پہلے حضرت زکریا نے کہ اُس شاخ کا نام یسوع (عربی میں عیسیٰ) ہوگا۔ یسوع (عیسیٰ) شاخ ہے۔ شاخ اور مسیح دو القاب ایک ہی شخص کے ہیں۔ لیکن کیوں اُن کو دو مختلف ناموں کی ضرورت تھی؟ وہ کیا کرنے جارہاتھا۔ جس کی اس قدر اہمیت تھی؟ زبور شریف کے انبیاء اکرام کے بارے میں مزید جاننے کے لیے زبور شریف کے اگلے مضمون کو پڑھیں۔

بنیادی بات

حضرت عیسیٰ مسیح کا نام الکتاب میں عیسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا نام زبور شریف میں "مسیح” پیشن گوئی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

نئے عہد کا نشان

ہم نے حضرت یرمیاہ نبی کے پچھلے مضمون میں دیکھا ہے کہ گناہ، ہماری پیاس کی علامت ہے. اگرچہ ہم کو معلوم ہے کہ گناہ ایک پاپ ہے اور ہمیں شرمندگی کی طرف کھینچتا جاتا ہے۔ اور اسی طرح ہماری پیاس ہمیں مسلسل گناہ کی طرف لیے جاتی ہے۔ حضرت یرمیاہ نبی اللہ تعالیٰ کے فیصلہ (عدالت) سے پہلے اسرائیلی بادشاہوں کی اختتامی دور میں برپا ہوئے۔جس میں گناہ کا دور دورہ تھا

 حضرت یرمیاہ نبی(600 ق م) میں اسرائیل پر نازل ہوئے۔ لیکن ہزار سال پہلے حضرت موسیٰ کے وسیلے سے شریعت کا قانون قوم بنی اسرائیل کو مل چکا تھا

اسرائیلیوں کی زندگی ناکام ہوگئی تھی.اُنہوں نے شریعت کی پیروی نہ کی اور اس لیے اُن کی عدالت قومی سطح پر ہوئی۔ مذہب نے اللہ تعالیٰ اور پیاسے لوگوں دونوں کو نااُمید کیا۔لیکن حضرت یرمیاہ جو خدا کی عدالت سے آگاہ کرنے کے لیے نازل ہوئے تھے۔ اُس کے پاس ایک اور بھی پیغام تھا۔ کہ مستقبیل  میں کسی روز کچھ ہوگا۔ یہ کیا تھا جس جس کے بارے میں نبی نے ہمیں بتایا۔

31 دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے جب میں اِسراؔ ئیل کے گھرانے اور یہوداہؔ کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندھونگا ۔
32 اُس عہد کے مطابق نہیں جو میں نے اُنکے باپ دادا سے کیا جب میں اُنکی دستگیری کی تاکہ اُنکو ملک مصرؔ سے نکال لاؤں اور اُنہوں نے میرے اُس عہد کو توڑا اگرچہ میں اُنکا مالک تھا خداوند فرماتا ہے ۔
33 بلکہ یہ وہ عہد ہے جو میں اُن دنوں کے بعد اِسراؔ ئیل کے گھرانے سے باندھونگا ۔ خداوندفرماتا ہے میں اپنی شریعت اُنکے باطن میں رکھو نگا اور اُنکے دِل پر اُسے لکھونگا اور میں اُنکا خدا ہونگا اور وہ میرے لوگ ہو نگے۔
34 اور وہ پھر اپنے اپنے پڑوسی اور اپنے اپنے بھائی کو یہ کہکر تعلیم نہیں دینگے کہ خداوند کو پہچانو کیونکہ چھوٹے سے بڑے تک وہ سب مجھے جانینگے خداوند فرماتا ہے اِسلئے کہ میں اُنکی بدکرداری کو بخش دونگا اور اُنکے گناہ کو یا د نہ کرونگا ۔                                           یرمیاہ 31: 31-34

پہلا عہد حضرت موسیٰ کے وسیلے دیا گیا۔ یہ شریعت (عہد) ناکام ہوگئی اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ شریعت میں کچھ خرابی تھی۔ بلکہ شریعت تو اچھی تھی۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ قانون صرف پتھر کی تحتیوں پر لکھا تھا.لوگوں اپنے دلوں میں پیاس کی وجہ سے شریعت کی پیروی کرنے میں ناکام رہے۔مسئلہ یہ نہیں تھا کہ شریعت لکھی ہوئی تھی۔ لیکن مسئلہ کی جڑ یہ تھی جہاں یہ شریعت لکھی ہوئی تھی۔ شریعت کو لوگوں کے دلوں پر لکھا جانا چاہیے تھا نہ کہ تختیوں پر تاکہ لوگ اس کی اطاعت کرتے۔ اور لوگوں کی پیاس بجھ جاتی۔

لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے۔کیا وہ شریعت کی فرمانبرادری نہ کرسکے اس لیے کہ وہ یہودی تھے؟بہت سے لوگ بہت سی وجوہات کو لیے کر یہودیوں کو اس ناکامی کا زمہ دار ٹھہراتے ہیں۔لیکن اس نقطہ پر ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیونکہ قیامت کے روز ہم نے اپنی ناکامی اور اپنی کامیابی کا حساب اللہ تعالیٰ کو دینا ہوگا۔ ہم دوسرے لوگوں کے زمہ دار نہیں ہونگے۔ جس طرح آپ اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو کیا آپ اس بات کو جانتے ہیں کہ "کیا آپ نے شریعت کی مکمل طور پر اطاعت کی ہے؟” کیا یہ آپ کے دل پر لکھے ہوئے ہیں۔ تاکہ آپ کے اندر اُسکی اطاعت کی قوت ہو؟ اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آپ اُس ساری شعریعت پر عمل کر رہیں جس کی ضرورت ہے۔ تو اس سلسلے میں آپ کو حضرت عیسیٰ کی تعلیم کی روشنی میں غور کرنا چاہیے۔ یا پھر یہ اسی طرح ہے جیسے حضرت یرمیاہ کے دور میں اسرئیلیوں کی حالت تھی۔ کہ شریعت تو اچھی ہے لیکن یہ پتھر کی تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ جس سے آپ کو کوئی اطاعت کی  قوت نہیں ملتی تھی؟ اس سے مراد یہ نہیں تھا کہ کبھی شریعت کی اطاعت کرلی اور کبھی نہ۔ یاد رکھیں جو معیار ہمیں حضرت موسیٰ سے ملا۔ کہ ہمیں ساری شریعت کی ہر وقت اطاعت کرنی ہے۔

اگر آپ اس بات میں قائل ہو جاتے ہیں کہ آپ نے شریعت کی مکمل طور پر اطاعت نہیں کرسکے۔اور اگر آپ اپنے اعمال کے بارے میں شرم محسوس کرتے ہیں، تو اپنے دل اللہ تعالیٰ کی رحمت میں لے لیں۔مندرجہ بالا آیات میں ایک نئے عہد کا وعدہ کیا گیا ہے۔ حضرت یرمیاہ نے فرمایا کہ ایک دن مستقبل میں یہ عہد کیا جائے گا۔ یہ نیا عہد مختلف ہوگا کیونکہ یہ لوگوں کے دلوں میں لکھا ہوا ہوگا۔ جو اُن کو اس کی اطاعت کرنے کی صلاحیت بخشے گا۔

لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نیا عہد "اسرائیل کے گھرانہ” کے لیے ہے۔ جو یہودی ہیں۔ہم اس کو کیسے سجمھ سکتے ہیں؟ایسا لگتا ہے کہ کئی بار یہودی لوگوں حالت قابلِ رحم اور کئی بار اُنکی حالت بہتر ہوتی ہے۔یہاں پر ایک اور زبور شریف کے عظیم نبی یسعیاہ (جنہوں نے کنواری سے پیدا ہونے والے مسیح کی پیشن گوئی کی ہے۔)یہ اور پیشن گوئی ہے جو حضرت یرمیاہ کی پیشن گوئی سے ملتی ہے۔ یہ دونوں نبییوں کے درمیان 150 سال کا فرق ہے۔ (جس طرح آپ نبیوں کے ٹائم لائن بھی دیکھ سکتے ہیں) یہ دونوں ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ اور نہ ہی اُس پیغام کو جو دیا گیا تھا۔ اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان کو یہ پیغام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا۔

تاریخی ٹائم لائن حضرت یرمیاہ
تاریخی ٹائم لائن حضرت یرمیاہ

حضرت یرمیاہ کو دوسرے زبور شریف کے بنیوں کے ساتھ ٹائم لائن میں دیکھایا گیا ہے۔ حضرت یسعیاہ مستقبیل میں آنے والے خادم کی بارے میں پیشن گوئی کرتے ہیں جو درج ذیل ہے۔

5 چونکہ میں خدا کی نظر میں جلیل القدر ہوں اور وہ میری توانائی ہے اس لیے وہ جس نے مجھے رَحِم سے ہی بنایا تاکہ اسکا خادم ہو کر یعقوب کو اسکے پاس واپس لاؤں اوراسرائیل کو اس کے پاس جمع کروں یوں فرماتا ہے۔
6  ہاں خداوند فرماتا ہے کہ یہ تو ہلکی سی بات ہے کہ تو یعقوب کے قبائل کو برپا کرنے اور محفوظ اسرائیلیوں کو واپس لانے کے لیے میرا خادم ہو

بلکہ میں تجھ کو قوموں کے لیے نور بناونگا کہ تجھ سے میری نجات زمین کے کناروں تک پہنچے۔

                                                                                               یسعیاہ 49: 5-6

دوسرے الفاظ میں یہ آنے والا خادم اللہ تعالیٰ کی نجات کو غیر یہودیوں (یعنی غیر قوموں) تک لے جائے گا۔ تاکہ نجات زمین کے اختتام تک پہنچ جائے۔ یہ آنے والا خادم کون ہے؟ وہ اس کام کو کیسے کرے گا؟ اور کیسے یہ نیاعہد لوگوں کے دلوں پر لکھا جائے گا نہ کہ پتھر کی تختیوں پر جس کی حضرت یرمیاہ نے پیشن گوئی کی تھی۔ہم ان سوالوں کے جواب کے لیے زبور شریف کی پیشن گوئیوں کو جاری رکھیں گے۔

ہماری پیاس کا نشان

ہم نے اسرائیلیوں کی تاریخ میں دیکھا کہ اگرچہ ان کو شریعت کا قانون بائبل(الکتاب) کے ذریعہ دیا گیا۔ لیکن ان کی تاریخ اس شریعت کے خلاف نافرمانی اور گناہوں سے بھری پڑی ہے۔ میں زبور کے تعارف میں ذکر کیا تھا کہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے بعد جن بادشاہوں نے ان کی نسل میں سے اسرائیل پر حکومت کی اُن میں سے زیادہ شریر اور بدکار بادشاہ ہی تھے۔ لہذا اللہ نے زبور شریف میں کئی نبیوں کو ان بادشاہوں کو ڈرانے کے لئے بھیجا.

یرمیاہ – انتباہ کا رسول

 تاریخی ٹائم لائن حضرت یرمیاہ
تاریخی ٹائم لائن حضرت یرمیاہ

حضرت یرمیاہ نبی (نبیوں کے ٹائم لائن میں دیکھیں) بادشاہوں کے اُس دور میں برپا ہوئے جن دنوں میں گناہ اور برائی بہت بڑھ چکی تھی۔ جن گناہوں کی فہرست حضرت یرمیاہ نبی نے دی ہے۔ وہ آج ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے۔ یعنی زنا، شراب نوشی، جنسی غیر اخلاقی حرکات، جادو، فساد، لڑائی، ظلم، بے ایمانی، غریب کا استحصال وغیرہ۔ لیکن حضرت یرمیاہ اپنی کتا ب میں ان تمام گناہوں کو دوحصوں میں تقسیم کرکے بیان کرتا ہے۔

کیونکہ میرے لوگوں نے دو برائیاں کیں ۔ اُنہوں نے مجھ آبِ حیات کے چشمہ کو ترک کر دیا اور اپنے لئے حوض کھودے ہیں ۔ شکستہ حوض جن میں پانی نہیں ٹھہر سکتا۔                              یرمیاہ 2: 13

حضرت یرمیاہ نبی نے ہمیں گناہ کی حالت کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد کرنے کے لیے ایک اشارہ استعمال کیا ہے. اللہ تعالیٰ (نبی کی وسیلے) کہہ رہا ہے کہ وہ لوگوں پیاسے تھے. پیاسا ہونا کوئی برائی نہیں ہے۔ لیکن اُنہیں اچھے پانی میں سے پینے کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ خود ایک اچھا  اور صحت مند پانی ہے جو ان کی پیاس کو پورا کر سکتا تھا.تاہم اسرائیلی اس پیاس کو بجھانے کے لیے اللہ تعالٰی کے پاس آتے جب کہ اُنہوں نے اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر غیروں کے خوض پر اپنی پیاس بجھانے کے لیے چلے گئے۔ یہ حوض گندگی سے بھرے اور ایسے تھے جن میں پانی جمع نہیں ہو سکتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں، ان کے گناہ کے مختلف روپ ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہی ہے کی ان کی بدولت اُن نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے زریعے سے اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن دوسرے حوض نے ان کی پیاس کو بجھانے میں مدد نہ کی۔آخر میں اسرائیلی تمام تر گناہ کرنے کے باوجود اطمینان اور اور اپنی پیاس بجھا نہ سکے۔ لیکن اب وہ اللہ تعالیٰ کے بغیر اپنے شکستہ حوض کے ساتھ کھڑے تھے۔ یعنی وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے تمام مسائل اور مشکلات کا شکار ہوچکے تھے۔

حضرت سلیمان کی حکمت ہمارے "ٹوٹے ہوئے حوضوں” میں ظاہر ہوتی ہے

در حقیقت اس تجربہ کی وضاحت خود  حضرت سلیمان نے پیش کی تھی۔ جیساکہ میں نے بیان کیا تھا۔ جو حکمت میں نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے سے حاصل کی تھی۔ یہ حضرت سلیمان کی کی تحریر کردہ صحفے تھے جن کا میری زندگی میں گہرا اثر پڑا۔ اُنہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں بیان کیا تھا۔ کہ اُنہوں نے اپنی زندگی میں وہ سب کچھ حاصل کیا جس کی اُن کو تمنا تھی۔ لیکن پھر بھی زندگی میں پیاسا موجود تھی۔یہاں اُنہوں نے ٹوٹے ہوئے حوض کے بارے میں بیان کیا جو ہمارے چوگرد ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔

 میں ایک واعظ، یروشلم میں اسرائیل کا بادشا ہ تھا۔ 13 اور میں نے اپنا دل لگا کر جو کچھ آسمان کے نیچے کیا جا تا ہے ان سب کی تفتیش و تحقیق کروں۔ خدا نے بنی آدم کو سخت دُکھ دیا ہے وہ مشقت میں مبتلا رہیں۔ 14 میں نے زمین پر ہو نے وا لی سب چیزوں پر نظر ڈا لی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ساری چیزیں بے معنی ہیں۔یہ اتنا ہی نا امید ہے جیسے ہوا کو پکڑنے کی کوشش کر نا۔ 15 اگر کو ئی چیز ٹیڑھی ہے تو اسے سیدھی نہیں کی جا سکتی۔ اور اگر کو ئی چیز غائب ہے تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ چیز وہاں ہے۔

16 میں نے اپنے آپ سے کہا ، “میں بہت دانشمند ہوں مجھ سے پہلے یروشلم میں جن بادشا ہوں نے سلطنت کی ہے ،میں ان سب سے زیادہ دانشمند ہوں اور میں جانتا ہوں کہ اصل میں دانش اور حکمت کیا ہے ؟”

17 لیکن جب میں نے حکمت کے جاننے اور حماقت و جہالت کے سمجھنے پر دل لگایا تو معلوم کیا کہ یہ بھی ہوا کو پکڑنے کے جیسا ہے۔ 18 کیوں کہ زیادہ حکمت کے ساتھ غم بھی بہت آتا ہے۔ وہ شخص جو زیادہ حکمت حاصل کر تا ہے وہ زیادہ غم بھی حاصل کر تا ہے۔

میں نے اپنے آپ سے کہا ، “آؤ مجھے مسرت اور خوشی کا جا ئزہ لے نے دو۔” لیکن میں نے جانا کہ یہ بھی بیکار ہے۔ ہر وقت ہنستے رہنا بھی حماقت ہے ہنسی دل لگی سے میرا کو ئی بھلا نہیں ہو سکا۔

اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے جسم کو مئے سے اور اپنے دماغ کو حکمت سے بھر لو ں۔ میں نے اس بے وقوفی کی کو شش کی کیوں کہ میں خوش ہو نے کا راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا۔میں دیکھنا چا ہتا تھا کہ لوگو ں کی زندگی کے چنددنوں کے دوران اچھا کیا ہے۔

کیا کڑی محنت سے سچی خوشی ملتی ہے ؟

پھر میں نے بڑے بڑے کام کرنے شروع کئے میں نے اپنے لئے عمارتیں بنا ئیں اور تاکستان لگا ئے۔ میں نے با غیچے لگوائے اور باغ تیار کئے۔ اور میں نے ہر قسم کے میویدار درخت لگوائے۔ میں نے اپنے لئے تالاب بنوا ئے کہ ان میں سے باغ کے درختو ں کا ذخیرہ سینچوں۔ میں نے غلاموں اور لونڈیوں کو خریدا غلام میرے گھر میں پیدا ہو ئے۔ اور جتنے مجھ سے پہلے یروشلم میں تھے میں ان سے کہیں زیادہ مال، مویشی اور بھیڑ دونوں کا مالک تھا۔

میں نے سونا اور چاندی اور بادشا ہوں اور صوبو ں کا خزانہ اپنے لئے جمع کیا میں نے دونوں مرد اور عورت شاعروں اور گلو کا رو ں کو رکھا اور ہر طرح کی عیش وعشرت کو حاصل کیا۔ میرے پاس وہ ساری چیزیں تھی جو کو ئی بھی لینا نہیں چا ہتے تھے۔

میں بہت دولتمند اور معروف ہو گیا۔ مجھ سے پہلے یروشلم میں جو کو ئی بھی رہتا تھا میں نے اس سے زیادہ شوکت حاصل کی۔ میری دانشمندی ہمیشہ میری مدد کیا کر تی تھی۔ 10 میری آنکھوں نے جو کچھ دیکھا اور چا ہا اسے میں نے اپنے لئے حاصل کیا۔میں نے ہمیشہ اپنے دل کی ساری خوشی کو پو را کیا۔ میں جو کچھ بھی کر تا میرا دل ہمیشہ ا س سے خوش رہا کر تا اور یہ شادمانی میری محنت کا صلہ تھی۔

11 پھر میں نے ان سب کا موں پر جو میرے ہا تھو ں نے کئے تھے اورا س مشقت پر جو میں نے کام کر نے میں اٹھا ئی تھی تو میں سمجھ گیا کہ میں نے جو کیا وہ بیکا ر اور وقت کی بر بادی ہے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے ہوا کو پکڑنے کی کوشش کر نا۔ ان ساری چیزوں سے حاصل کر نے کے لئے کچھ بھی نہیں جسے ہم لوگ زندگی میں کر تے ہیں۔

سلیمان کی حکمت اور یرمیاہ کی انتباہ آج ہمارے لئے لکھی گئی تھی. یہ خاص طور پر ہمارے لیے ہے کیونکہ آج دور میں ہم رہ رہے ہیں۔ وہ فلموں، موسیقی اور تفریح کا ہے۔ہمارے جدید معاشرہ پچھلی تمام تر نسلوں سے کہیں زیادہ امیر ترین، بہترین تعلیم یافتہ، سب سے زیادہ سفر، تفریح، اپنی مرضی میں خوش رہنے والے ، اور کسی بھی دور کی تکنیکی طور سے زیادہ جدید ترین ترقی یافتہ ہے۔ لہذا ہم آسانی سے ان چیزوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں – اور جو ہماری زندگی میں آتی ہیں. جیسا کہ فحش فلمیں، غیر اخلاقی تعلقات، منشیات، شراب، لالچ، پیسہ، غصہ، حسد – اس سے ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ  یہ چیزیں ہماری پیاس کو پورا کریں گییں۔ لیکن ہم تمام نبیوں کے قانون سے واقف ہیں کہ یہ چیزیں (گناہ) غلط ہیں، لیکن یہ ہم سوچتے ہیں کہ یہ چیزیں ہمارے دلوں میں لگی پیاس کو بجھادیں گی۔ اسی لیے ہم اس کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ یہ حضرت سلیمان کے دنوں کی، یرمیاہ کے دنوں، دوسرے نبیوں کے دور، اور ہمارے دور کی سچائی ہے۔

حضرت یرمیاہ اور سلیمان کی انتباہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی تاکہ ہم اپنے آپ سے کچھ دیانتدار سوالات پوچھ سکیں۔

  • ہماری جدید دور کی نسل کیوں ڈپریشن، خودکش، موٹاپا، طلاق، حسد، حسد، نفرت، فحشی کا شکار ہے؟
  • آپ اپنی پیاس کو بجھانے کے لیے کون سے حوض کا استعمال کرتے ہیں؟ کیا وہ ‘پانی’ کو جمع رکھتے ہیں؟
  • کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ حضرت سلیمان سے کہیں زیادہ حکمت، محبت، دولت کی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں؟ اگر وہ اپنی کامیابیوں سے مطمئن نہ ہو سکا تو کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ ان چیزوں کے ذریعہ اپنی پیاس کو پورا کر سکتے ہیں؟

گناہ احکامِ الہٰی کی فرمانبرداری نہیں کرتا لیکن یہ بھی کچھ ہے اس کو جاننے کی ضرورت ہے۔ جو ہماری پیاس کا نشان ہے۔ ایک بار جب ہم اس پیاس کے بارے میں جان جاتے ہیں۔ تو ہم دراصل حکمت کو حاصل کرلیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے زبور شریف میں اس کو شامل کیا کیونکہ وہ ہماری پیاس سے پوری طرح واقف ہے – اور وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی اس سے واقف ہوں. کیونکہ وہ ہماری پیاس کو ختم کردے گا۔اُس نے اس کام کو کرنے کے لیے اپنے نبیوں کے وسیلے وعدہ کیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی پیاس کوبجھا کر اطمینان حاصل کریں۔ اور ہم حضرت یرمیاہ کے بارے میں اپنے اگلی پوسٹ میں جاری رکھیں گے۔

حضرت عیسیٰ کے ساتھ لفظ "مسیح” کہاں سے آیا؟

قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ کو "المسیح” کہا گیا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟  یہ کہاں سے آیا ہے؟ مسیحی کیوں حضرت عیسیٰ کو "مسیح” کہتے ہیں؟ کیا مسیح اور کرائسٹ (Christ) میں کو فرق پایا جاتا ہے؟ زبور شریف ہمیں ان تمام اہم سوالوں کے جوابات فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس مضمون کو سمجھنے سے پہلے ایک مضمون پڑھنا چائیں۔ " کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟” تاکہ آپ اس میں استعمال ہونے والے معلومات کو سمجھ سکیں۔

مسیح لفظ کی ابتدا

                   درج ذیل تصویر میں ” کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟” میں ترجمہ کرنے کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن خاص طور پر لفظ "مسیح” پر توجہ دی گئی ہے۔ کہ دورِ جدید میں انجیل شریف مین لفظ کیسے ترجمہ ہوا؟

لفط "مسیح" کا عبرانی زبان سے دورِ جدید میں ترجمہ
لفط "مسیح” کا عبرانی زبان سے دورِ جدید میں ترجمہ

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زبور شریف میں جسکی اصل زبان عبرانی ہے۔ اُس کے (مرحلہ نمبر1 ) میں "مسیح” “Mashiyach” استعمال ہوا ہے۔ جس کو عبرانی لغت میں "ایک ممسوح” یا "ایک مقدس” شخص کا مطلب دیا جاتا ہے۔ زبور شریف کے بعض حوالہجات میں ‘مسیح’ (Definite Article “The”  یعنی اُردو میں اسمِ معرفہ کہہ سکتے ہیں) کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ جب 250 ق م میں پفتادی ترجمہ ہوا ( دیکھیں "کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟ ) تو علماء اکرام نے عبرانی کے لفظ “Mashiyach”  "المسیح” کا یونانی میں بھی ایک لفظ "خریستوس” Christos- Χριστός جسکا اصل Chrio ہے۔ جس کا مطلب تیل ملنا ہے۔ لہذا لفظ مسیح (Christos- Χριστός) کا ترجمہ (لفظ کی آواز کے مطابق اس کا ترجمہ نہیں ہوا) ہفتادی ترجمہ میں عبرانی کے لفظ "مسیح” “Mashiyach” کو یونانی میں ایک مخصوص شخص کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دوسرا (مرحلہ نمبر 2) ہے۔ جس میں حضرت رعیسیٰ مسیح کے شاگردوں نے سمجھ لیا۔ کہ یہ وہی شخص ہیں۔ جن کے بارے میں ہفتادی ترجمہ بتایا گیا ہے۔ اور اس لیے اُنہوں نے انجیل شریف میں اس کو جاری رکھا۔

 لیکن دورِجدید کے انگریزی ترجمہ میں دو زبانوں میں “Christos” کا یونانی سے انگریزی (یا دوسری زبانوں میں مسیح یعنی Christ کا ترجمہ ہوا۔ یہ شکل نمبر تین کے نصف حصہ میں پائی جاتی ہے۔ اس طرح مسیح یا Christ زبور شریف میں سے ایک خاص لقب ہے۔ جو عبرانی زبان سے ترجمہ ہوکر یونانی میں آیا اور یونانی سے ترجمہ ہوکر انگریزی زبان میں ترجمہ ہوا۔ عبرانی زبان سے زبورشریف دورِ جدید میں مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ جس میں مترجمین نے لفظ "مشیاح” “Mashiyach” کا مختلف طریقوں سے ترجمہ کیا ہے۔ کچھ نے (جیسے کہ کنگ جمیز) عبرانی لفظ “Mashiyach” "مشیاح” کو انگریزی میں “Messiah” اور اردو میں "مسیحا” ترجمہ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک (جیسے کہ نیو انٹرنیشنل) میں لفظ “Mashiyach” "مشیاح” جو کہ زبورشریف کے اس مخصوص حوالہ میں اس لفظ کا ترجمہ "مسح شدہ” “Anointed one” کہا ہے۔ کسی بھی صورت میں ہم زبور شریف کے اس حوالہ میں لفظ “Christ” میں نہیں دیکھتے ہیں۔  بلکہ اس کی جگہ ” مسح شدہ” جسکا انگریزی میں ترجمہ “Anointed one” کہا جاتا ہے۔ لہذا پرانے عہد نامے کے اس حوالے کا تعلق واضع نہیں ہوتا۔ لیکن اس تجزیہ سے ہم جانتے ہیں۔ کہ بائبل مقدس یہ ہی لفظ پایا جاتا ہے۔

مسیح – مسیحا – مسح شدہ

لہذا قرآن شریف میں لفظ "مسیح” کہا پایا جاتا ہے؟

                             ہم نے دیکھا کہ کرائسٹ “Christ” مسیح “Messiah” مسح شدہ ایک لقب ہے۔ جن کو ہم نے بائبل مقدس میں مختلف حصوں میں پایا ہے۔ لیکن قرآن شریف میں "المسیح” کے بارے میں کیوں ذکرکرتا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے اُوپر دی گئی تصویر میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ بائبل مقدس میں "مشیاح” کومسیح کے لیے ظاہر کیا جاتا ہے۔ درج ذیل تصویر میں قرآن شریف کی عربی زبان میں مزید واضع کیا گیا ہے۔ جو عبرانی اور یونانی میں بائبل کے بعد عربی میں لکھا گیا۔ میں نے ایک حصے کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ حصہ A اُسی طرح ہے۔ جیسے ہم نے اُوپر والی تصویر میں اصل عبرانی متن میں موجود زبور شریف سے "مشیاح” کو بیان کیا ہے۔ اب نمبر B میں اسی اصطلاح کو ہم نے عربی زبان کے ساتھ بیان کیا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اصطلاح "مشیاح” کا ترجمہ قرآن شریف میں بطور "مسیح” کے ہوا ہے۔ اسی طرح قرآن شریف کا عربی زبان میں قرات کرنے والے شخص کو انگریزی زبان کے “Christ” کا متبادل ترجمہ دیتا ہے۔ جو کہ "المسیح” ہے۔

 اس ترجمے کے مراحل میں مسح شدہ – مسیح – مسیحا – کرائسٹ بیان کیا گیا ہے۔ اس علم کے پس منظر میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان سب کا لقب ایک ہی ہے اور سب کا مطلب بھی ایک ہے۔ جس طرح 4= Four  انگریزی میں اور فرانسسی میں "کواٹڑ اور رومن نمبر (IV) 6-2 = 2+2 –

المسیح کو پہلی صدی سے ہی توقع تھی

                                      آئیں اس علم کے ساتھ ہم انجیلِ مقدس پر توجہ لگاتے ہیں۔ ذیل میں بادشاہ ہیرویس کا ردِعمل دیکھیں۔ جب مشرق سے کئی دانشوار مجوسی، یہوددیوں کے بادشاہ کی پیدائش کی تلاش میں اُسکے کے پاس آئے۔  حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش اہم ترین واقع ہے۔ یہاں غور کرنے کی بات اگرچہ لفظ مسیح خصوصی طور پر عیسیٰ مسیح کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔

متی 2: 3-4

  یہ سُن کر ہیرودِیس بادشاہ اور اُس کے ساتھ یروشلِیم کے سب لوگ گھبرا گئے۔
اور اُس نے قَوم کے سب سَردار کاہِنوں اور فقِیہوں کو جمع کر کے اُن سے پُوچھا کہ مسِیح کی پَیدایش کہاں ہونی چاہئے؟

لیکن آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کہ المسیح کو ہیرودیس اور اُس کے مذہبی مشیروں نے پہلے ہی سے المسیح کو قبول کرلیا ہوا تھا۔ حتاکہ حضرت عیسیٰ مسیح پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اور یہاں نہ ہی خصوصی طور پر اُن کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا ہے۔ سینکڑوں سال پہلے حضر ت دواد جو ایک بادشاہ اور نبی تھے۔ اُنہوں نے زبور شریف میں مسیح کا ذکر کیا۔ اور یہ کتاب پہلی صدی میں یہودیوں کے ہاں عام پڑھی جاتی تھی۔ جس کا ترجمہ یونانی میں ہو چکا تھا۔ جس کو ہفتادی ترجمہ کہتے ہیں۔ مسیح ایک لقب تھا۔ (اور اب بھی ہے) نہ کہ ایک نام۔ اس کو اس طرح مضحکہ خیز نظریہ کو مسترد کرسکتے ہیں۔ جس طرح ڈونچی کوڈ فلم جو بہت زیادہ مقبول ہے۔ اس فلم نے نظریہ پیش کیا کہ "مسیح” لفظ ایک مسیحی شخص کی ایجاد ہے۔  جو کسی نے 300ء میں رومی بادشاہ کنٹسٹائن نے پیش کیا۔ لیکن یہ لقب سیکڑوں سال پہلے موجود تھا۔ اس سے کوئی مسیحی یا شہنشاہ کنٹسٹائن کی حکومت ہوتی۔

زبور میں مسیح کے بارے میں پیش گوئی

                   آئیں ہم زبور شریف میں لقب "المسیح” کے بارے میں سب سے پہلے بنوتی پیشن گوئی کو دیکھیں۔ جس کو حضرت داود نے ایک ہزار سال قبل از مسیح لکھا تھا۔ جو کہ حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش سے بہت پہلے لکھی گئی۔

 خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔
آؤ ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں اور اُن کی رسیاں اپنے اُوپر سے اُتار پھینکیں۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔                                                 زبور 2: 2-4

ہفتادی ترجمہ میں زبور شریف کے دوسرے باب میں جو یونانی زبان کا ترجمہ ہے۔ اس طرح پڑھا جاتا ہے۔

( میں یہاں اس کو خرستُس کے طور پر ترجمہ کررہا ہوں۔ تاکہ آپ مسیح کے لقب کو ہفتادی ترجمہ میں دیکھ سکیں)

 خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔
آؤ ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں اور اُن کی رسیاں اپنے اُوپر سے اُتار پھینکیں۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔                                                 زبور 2: 2-4

لیکن زبور شریف میں مسیح کے بارے آنے والے حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں۔ ان تراجیم کا ایک ترتیب کے ساتھ رہا ہے۔ جس میں مسیح، مسیحا، اور مسح شدہ ترجمے کو آپ دیکھ سکیں گے۔

عبرانی لفظی ترجمہ لاطینی ترجمہ عربی ترجمہ
10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر

اپنے (anoint one) ممسوح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔

17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔

10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے(Christ)کرئیسٹ کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔
10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے(Masih) مسیح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زبور شریف 132 میں مستقبیل کے زمانے کی طرف اشاہ کرتا ہے۔ (میں حضرت داود کے لیے ایک سینگ بناوگا) اور زبورشریف اور تورات شریف میں بھی اس کے بارے میں حوالہ جات ملتے ہیں۔ پشین گوئی کے بارے مین اندازہ کرتے وقت یہ واضع رہے کہ زبور شریف جو دعوۃ کرتا ہے۔ وہ مستقبیل کے بارے میں کرتا ہے۔ اور یہ انجیل شریف کا ذکر کئے بغیر کرتا ہے۔ بادشاہ ہیرودیس اس بات سے باخوبی واقف تھا کہ پرانے عہدنامے کے ابنیاءاکرام نے آنے والے مسیح کے بارے میں پیشن گوئیاں کی تھیں۔ اسی لیے وہ اس کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اُسے صرف اس بات کی ضرورت تھی۔ کہ اسکے مذہبی اصلاح کار اس پیشن گوئی کی وضاحت کریں وہ زبور شریف سے اچھی طریقہ سے واقف تھے۔ یہودیوں کو اپنے مسیحا کے انتظار کے حوالہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے مسیح کا انتظار کر رہیں ہیں۔ جس سے حضرت عیسیٰ کا اُن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن زبور شریف میں واضع طور پراُن پیشن گوئیوں کا تعلق مستقبیل میں آنے والے مسیحا کے ساتھ ہے۔

تورات شریف اور زبور شریف کی پیشن گوئیاں

حقیقت یہ ہے کہ تورات شریف اور زبور شریف خاص طور پرجو پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔ تو وہ مستقبیل کے دروازے کا تالا بن جاتیں ہیں۔ یہ تالا ایک مخصوص شکل میں ترتیب دیا گیا ہے۔ تاکہ یہ ایک مخصوص شکل کی چابی سے کھولا جائے۔ اسی طرح پرانے عہد نامہ ایک تالے کی طرح ہے۔ ہم نے پہلے ہی حضرت ابراہیم کی قربانی کے بارے اور حضرت موسیٰ کی فسح اور کنواری کے بیٹے کے بارے میں جان معلوم کیا ہے۔ جہاں اس آنے والے شخص کے بارے میں مخصوص پیشن گوئیاں پائی جاتیں ہیں۔ زبور شریف کے 32 ویں باب میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے۔ کہ "المسیح” حضرت داود بادشاہ کی نسل سے پیدا ہوگا۔ تاہم جب ہم پرانے عہدنامہ میں سے نبوتی پیشن گوئیاں پڑھتے ہیں تو یہ تالا مزید واضع ہوتا چلا جاتا ہے۔ زبور شریف کی پیشن گوئیوں کا اختتام یہاں ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ ہمیں مزید بتاتیں ہیں کہ مسیح کیا کریں گے۔ اوراس لیے ہم زبور شریف کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔

امن کی بادشاہی آرہی ہے

ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت یسعیاہ نبی نے "کنواری کے بیٹے” کی پیشن گوئی کی ہے۔ یہ پیشن گوئی سینکڑوں سال بعد حضرت عیسیٰ میں کی پیدائش پر پوری ہوئی۔ تاہم زبور شریف میں مستقبیل میں امن اور سلامتی کے بارے اور بھی پیشن گوئیاں کی گئیں ہیں۔

بنی اسرائیل کی تاریخ میں حضرت داود پہلے بادشاہ اور بنی تھے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر کیا۔ تاکہ وہ یروشلیم سے حکمرانی کریں۔ تاہم حضرت داود اور حضرت سلیمان کی بادشاہی کے بعد اسرائیل کے زیادہ تر بادشاہ شریر ہوئے۔ اُن بادشاہوں کی حکمرانی میں زندہ رہنا۔ ایسا ہی تھا جیسا آج ہم ظالم حکمرانوں کے دور میں رہ رہے ہیں۔ اُس وقت لوگوں اور قوموں کے درمیان جنگ و جدل تھا۔ جس طرح آج ہے۔ اُس وقت امیر غریبوں کا استحصال اور کرپشن کرتے تھے۔ جیسے آج ہوتا ہے۔ لیکن زبور شریف میں انبیاءاکرام نے کہا کہ متستقبیل میں ایک نئی حکومت آئے گی۔ جس میں انصاف، رحم، محبت اور امن قائم ہوگا۔ درج زیل آیات میں پڑھیں کہ حضرت یسعیاہ نبی نے آنے والی زندگی کے بارے میں کیا بتایا ہے۔

 اورقوموں کے درمیان عدالت کریگا اور بہت سی اُمتوں کو ڈانٹے گااور وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھرکبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے۔                                              یسعیاہ 2: 4

 پھر مزید جنگ نہیں ہوگی۔ درحقیقت آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں۔ یہ ہماری دنیا نہیں ہے۔ لیکن آنے والی دنیا میں قوموں کے درمیان امن اختیارکیا جائے گا۔ اور اس کے ساتھ قدرتی ماحولیات میں تبدیلی کے بارے میں پیشن گوئیاں بھی کی گئیں ہیں۔

6  پس بھیڑیا، بّرہ کے ساتھ رہیگا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھے گا اور بچھڑا اور شیر بچہ اور پلا ہوا بیل مل جل کر رہینگے اور ننھا بچہ انکی پیش روی کریگا۔
7 گائے اور ریچھنی ملکر چرینگی ۔ انکے بچے اکٹھے بیٹھیں گے اور شیر ببر بیل کی طرح بھوسا کھائیگے۔
8 اوردودھ پیتا بچہ سانپ کی بل کے پاس کھیلے گا اور وہ لڑکا جسکا دودھ چھڑایا گیا ہو افعی کی بل میں ہاتھ ڈالیگا۔
9  وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضررپہچائینگے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کےعرفان سے معمور ہو گی۔
10 اور اسوقت یوں ہو گا کہ لوگ یسی کی اُس جڑ کےطالب ہونگے جو لوگوں کے لیے ایک نشان ہے اوراسکی آرامگاہ جلالی ہو گی۔
11  اور اسوقت یوں ہو گا کہ خداوند دوسری بار اپنے ہاتھ بڑھائیگا کہ اپنے لوگوں کا بقیہ جو بچ رہا ہو اسور اور مصر اور فتروس اور کوش اور عیلام اورسنعار اور حمات اور سمندر کے اطراف سے واپس لائے ۔                                                                       یسعیاہ 11: 6-9

یقینی طور پر یہ پیشن گوئی ابھی پوری نہیں ہوئی۔ یہ پیشن گوئیاں نہ صرف بہتر ماحولیات کے بارے میں بتاتی ہیں۔ بلکہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ لوگوں کی عمروں میں اضافہ ہوگا اور لوگوں کی ذاتی  سیکورٹی اب سے بہتر ہوگی۔

20  پھر کبھی وہاں کوئی ایسا لڑکا نہ ہو گا جو کم عمر رہے اور نہ کوئی ایسا بوڑھا جو اپنی عمر پوری نہ کرے کیونکہ لڑکا سو برس کا ہو کر مرے گا اور جو گنہگار سو برس کا ہوجائے ملعون ہو گا۔
21 وہ گھر بنائیں گے اور ان میں بسیں گے۔تاکہ کستان لگائیں گے اور ان کے میوے کھائیں گے ۔
22  نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرا کھائیں کیونکہ میرے بندوں کے ایام درخت ایام کی مانند ہوں گے اور میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مدتوں تک فائدہ اُ ٹھا ئیں گے۔
23 ان کی محنت بے سود نہ ہو گی اور اُن کی اولاد ناگہان ہلاک نہ ہو گی کیونکہ وہ اپنی اولاد سمیت خداوندا کے مبارک لوگوں کی نسل ہیں۔
24 اور یوں ہوگا کہ میں ان کے پکارنے سے پہلے جواب دوں گا اور وہ ہنوز کہہ نہ چکیں گے کہ میں سن لوں گا۔
25 بھیڑیا اور برہ اکھٹے چریں گے اور شیر ببر بیل کی مانند بھوسا کھائے گا اور سانپ کی خوراک خاک ہوگی۔وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے خداوند فرماتا ہے۔                                                                                             یسعیاہ 65: 20-25

سلامتی، امن اور دعا کا فوری جواب ۔ ۔ ۔ ان میں سے ابھی کوئی بھی پیشن گوئی پوری نہیں ہوئی ہے۔ لیکن یہ بتائی اور لکھی جاچکی ہیں۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں۔ شاید اُمید کی ان پیشن گوئیوں میں کوئی غلطی پائی جاتی ہے۔ لیکن کنواری کے بیٹے کی نشانی ہمیں ان پیشن گوئیوں کے بارے میں سنجیدہ سوچنے اور اُن کی تکمیل کے لیے طلب رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی بادشاہی

اگر ہم اس پر زور ڈالیں۔ تو ہم اس کو سمجھ سکیں گے۔ کہ یہ پیشن گوئیاں ابھی کیوں پوری نہیں ہوئی ہیں۔ یہ پیشن گوئیاں اللہ تعالیٰ کی حکمرانی کے بارے میں واضع کرتی ہیں۔ کہ لوگوں کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی حکمرانی ہوگی۔ زبور شریف میں سے اللہ تعالیٰ کی آنے والی حکمرانی کے بارے میں ایک اور پیشن گوئی درج ذیل ہے۔

10 اَے خُداوند! تیری ساری مخلوق تیرا شُکر کریگی۔ اور تیرے مُقّدس تجھے مُبارِک کہیں گے۔
11 اور تیری سلطنت کے جلال کا بیان اور تیری قُدرت کا چرچا کریں گے۔
12 تاکہ بنی آدم پر اُسکی قُدرت کے کاموں کو اور اُسکی سلطنت کے جلال کی شان کو ظاہر کریں۔
13 تیری سلطنت ابدی سلطنت ہے۔ اور تیری حکومت پُشت در پُشت۔
14 خُداوند گِرتے ہوئے کو سنبھالتا اور جھُکے ہوئے کو اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔

                                                                                                زبور 145: 10-14

یہ پیغام حضرت داود بادشاہ اور جو ایک نبی بھی تھے۔ اُن کو 100 ق م میں دیا گیا تھا۔ (حضرت داود کی حیات کے بارے میں یہاں پر کک کریں) یہ پیشن گوئی اس کے بارے میں واضع کرتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی بادشاہی واضع طور پر قائم ہوجائے گی۔ یہ بادشاہی شاندار اور جلالی ہوگی۔ اور یہ عارضی بادشاہی نہیں ہوگی۔ جیسے ہمارے ہاں عام حکومتوں کی ہوتی ہے۔ یہ ابدی ہوگی۔ اس لیے یہ ابھی واقع نہیں ہوئی۔ اس کے لیے ہم نے دوسری پیشن گوئی کو نہیں دیکھا جو امن اور اطمینان لائیں گی۔ کیونکہ وہ خدا کی بادشاہی میں پوری ہونگی۔

زبور شریف میں ایک اور نبی جن کا نام حضرت دانیال ہے۔ وہ تقریباً 550 سال ق م بابل میں اسرائیلوں کے ساتھ جلاوطن ہوکر چلے گے۔ اُنہوں نے واضع کیا ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کا قیام ہوگا۔

حضرت دانیال کا زمانہ زبور شریف میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ
حضرت دانیال کا زمانہ زبور شریف میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ

حضرت دانیال نبی نے بابلی بادشاہ کے خوابوں کی تعبیر اللہ تعالیٰ کی مدد سے کی۔ اور مستقبیل میں آنے والے بادشاہوں کے بارے میں پیشن گوئی کی۔ یہاں پر بابلی بادشاہ کے سامنے حضرت دانیال خواب کی تعبیر کرتا ہے۔

36 وہ خُواب یہ ہے اور اُس کی تعبیر بادشاہ کے حُضور بیان کرتا ہُوں۔
37 اے بادشاہ تو شہنشاہ ہے جس کو آسمان کے خُدا نے بادشاہی و توانائی اور قدرت و شوکت بخشی ہے۔
38  اور جہاں کہیں بنی آدم سکُونت کرتے ہیں اس نے میدان کے چرندے اور ہوا کے پرندے تیرے حوالہ کر کے تجھ کو اُن سب کا حاکم بنایا ہے۔وہ سونے کا سر تو ہی ہے۔
39  اور تیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہوگی جو تجھ سے چھوٹی ہو گی اور اُس کے بعد ایک اور سلطنت تابنے کی جو تمام زمین پر حکُومت کرے گی۔
40  اور چوتھی سلطنت لوہے کی مانند مضُبوط ہو گی اور جس طرح لوہا توڑڈالتا ہے اور سب چیزیں پر غالب آتا ہے ہاں جس طرح لوہاسب چیزوں کو ٹکڑے ٹکرے کرتا اور کُچلتا ہے اُسی طرح وہ ٹکرے ٹکرے کرے گی اور کُچل ڈالے گی۔
41  اور جُو تونے دیکھا کہ اُس کے پاوں اور اُنگلیاں کُچھ تو کمہار کی مٹی کی اور کُچھ لوہے کی تھیں سو اُس سلطنت میں تفرقہ ہو گا مگر جیسا کہ تونے دیکھا کہ اُس میں لوہا مٹی سے ملا ہوا تھا اُس میں لوہے کی مُضبوطی ہوگی۔
42 اور چُونکہ پاوں کی اُنگلیاں کُچھ لوہے کی اور کُچھ مٹی کی تھیں اس لئے سلطنت کُچھ قوی اور کُچھ ضیعف ہو گئی۔
43  اور جیسا تونے دیکھا کہ لوہا مٹی سے ملا ہُوا تھا وہ بنی آدم سے آمخیتہ ہوں گےلیکن جیسے لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا ویسے ہی وہ بھی باہم میل نہ کھائیں گے۔
44  اور اُن بادشاہوں کے ایّام میں آسمان کا خُدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہو گی بلکہ وہ ان تمام مُملکتوں کو ٹکرے ٹکرے اور نیست کرے گی اور وُہی ابد تک قائم رہے گی۔
45  جیسا تو نے دیکھا کہ وہ پھتر ہاتھ لگائے بغیر ہی پہاڑ سے کاٹا گیا اور اُس نے لوہے اور تابنے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکرے ٹکرے کیا خُدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقنیی ہے اور اس کی تعبیر یقینی۔

                                                                                      دانی ایل 2: 36-45

  1. یہ بادشاہت ابتدا میں چھوٹی ہوگی ( ایک چٹان سے ایک چھوٹا پتھر کاٹا جائے گا) لیکن یہ چھوٹی حکومت ابد تک قائم رہے گی۔ جس طرح حضرت داود کے زبور 145 میں پیشن گوئی میں بیان کیا گیا ہے۔ اور اس بادشاہت کو کیوں اتنی زیادہ دیر لگ رہی ہے؟ اللہ تعالیٰ کیوں اتنی آہستہ آہستہ اپنی بادشاہت کو قائم کرے گا؟ جب ہم اس کے بارے سوچتے ہیں۔ تو چند اجزاء ذہین میں آتے ہیں جو سب بادشاہتوں میں پائے جاتے ہیں۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
  • ایک بادشاہ
  • شہری
  • آئین/ شریعت
  • فطرت/ قدرت

آئیں یہاں مثال کے طور پر کینڈا کو لیتے ہیں۔ جہاں میں اس بادشاہت میں رہتا ہوں۔ کینڈا کا موجودہ حکمران جسٹن ٹروٹو ہے۔ جو کہ ہمارا منتخب وزیرِاعظم ہے۔ کینڈا کے شہری ہیں جن میں سے میں ایک ہوں ۔ کینڈا کا آئین ہے۔ جو شہریوں کو اُن کی زمہ داری اور حقوق کا تعین کرواتا ہے۔ کینڈا کی ایک قدرتی ماحول بھی ہے۔ اس معاملے میں یہ ایک مخصوص جگہ پرواقع ہے۔ جس کا ایک طبعی سائز، آب و ہوا اور قدرتی و سائل ہیں۔ ماضی اور حال کے تمام ممالک کے پاس یہ چار اجزاء ہوتے ہیں۔

مجھے اورآپ کو اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت میں دعوت دیتا ہے

یہ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے۔ جس کو ہم نے ان پیشن گوئیوں کے زریعے جانا ہے۔ کہ اس حکومت کی خاص قسم کی فطرت (قدرتی ماحول) ہے۔ (وہ جلالی اور ابدی ہے) اور ایک آئین (اُس میں سلامتی، امن، قدرت میں ہم آہنگی) ہے۔ اس کے ساتھ دو اور اجزاء ہیں۔ بادشاہ اور شہری جومل کر خدا کی بادشاہی کو بناتے ہیں۔ ہم اگلے مضمون میں بادشاہ کے بارے میں جانیں گے۔ اس لمحے شاید آپ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھ رہے ہونگے۔ کہ میں کیسے خدا کی بادشاہی کا شہری بن سکتا ہوں ؟ شاید یہ آپ اس وقت ایک پیاسے شخص کی مانند بنا رہا ہے۔ جس کو آپ بجھانا چاہتے ہیں۔ یہاں پر حضرت یسعیاہ نبی اس پیغام کے زریعے اُن لوگوں کو دعوت دیتے ہیں جو اُس بادشاہت کے شہری بننا چاہتے ہیں۔

1 اے سب پیاسوں پانی کے پاس آؤ اور وہ بھی جس کے پاس پیسہ نہ ہو۔آؤ مول لو اور کھاؤ۔ہاں آؤ اور دودھ بے زر اور بے قیمت خریدو۔
2 تم کس لئے اپنا روپیہ ٓس چیز کے لئے جو روٹی نہیں اور اپنی محنت اس چیز کے واسطے جو آسودہ نہیں کرتی خرچ کرے ہو؟تم غور سے میری سنو اور وہ چیز جو اچھی ہےکھائو اور تمہاری جان فربہی سے لزت اٹھائے۔
3 کان لگائو اور میرے پاس ائو سُنواور تمہاری جان زندہرہے گی اور مین تم کو ابد عہد یعنی داود کی سچی نعمتیں بخشوں گا۔
4 دیکھو میں نےاُسےامتوں ک لئے گواہ کیا بلکہ امتوں کا پشیوا اور فرما روا۔
5 دیکھ تو ایک ایسی قوم کوجسے تو نہیں جانتا بلائے گااور ایک ایسی قوم جو نہیں جانتی تھی۔ خُداوند تیرے خدا اور اسرایئل کے قدوس کی خاطر تیرے پاس دوڑی آئے گی کیونکہ اُس نے تجھے جلال بخشا ہے۔
6 جب تک خُداوندمل سکتا ہے اس کے طلب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے اس پکارو۔

                                                                             یسعیاہ 55: 1-6

اللہ تعالیٰ اُن سب کو دعوت دیتا ہے جو اُسکی بادشاہت کے پیاسے ہیں۔ قدیم میں جو محبت حضرت داود کے ساتھ کی گئی۔ اُس کو سب کے ساتھ بڑھائی جائے گی۔ اگر ابھی تک آپ اس دعوت نامہ کو حاصل نہیں کیا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ہے کہ یہ دعوت نامہ آپ کے پاس نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دعوت دے رہا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے۔ کہ ہم اُس کی بادشاہت کے شہری بن جائیں۔ تاہم اس لمحے شاید آپ کے پاس سوال ہوں۔ کہ "کیسے” اور "کب "خدا کی بادشاہت آئے گی؟ جس کو زبور شریف میں اگلے مضمون میں پڑھیں گے۔ لیکن یہاں ایک اور سوال ہے۔ اس کا جواب صرف آپ دے سکتے ہیں۔ کیا میں اس آنے والی بادشاہت کا شہری بننا چاہتے ہوں؟

کنواری کے بیٹے کی نشانی

زبور شریف کے تعارف میں یہ بیان کیا تھا کہ حضرت داود بادشاہ اور نبی ہیں۔ اُن پرزبور شریف کی ابتدائی کتاب کو الہام کی قدرت سے نازل ہوئی۔ اس کے بعد دوسرے انبیاء اکرام اس میں مزید الہامی کتابوں کو اپنے اپنے وقت کے ساتھ شامل کرتے گئے۔ حضرت یسعیاہ نبی جو اہم انبیاء اکرام میں سے ایک ہیں۔ (ان پر ایک بڑی کتاب نازل ہوئی) 750 قبل از مسیح میں اُن کی آمد ہوئی۔ اس ٹائم لائن میں اس کے بارے میں واضع کیا گیا ہے۔ کہ حضرت یسعیاہ زبور شریف کے دوسرے انبیاء اکرام کے ہم اثر تھے۔

حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

اگرچہ حضرت یسعیاہ نبی بہت عرصہ پہلے آئے۔ (تقریباً  آج سے2800 سال پہلے آئے) اُنہوں نے بہت ساری نبوتیں کیں۔ جن کا تعلق مستقبل میں ہونے والے واقعات سے تھا۔ جس طرح حضرت موسیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ کہ ایک نبی برپا ہوگا۔ ہم پہلے زبور شریف کے تعارف میں بیان کرچکے ہیں۔ حضرت سلیمان کے بعد آنے والے بادشاہ زیادہ تر شریر تھے۔ یہ حضرت یسعیاہ کے دور کے بادشاہ تھے۔ اسی لیے حضرت یسعیاہ نبی کے صحیفہ میں آنے والی عدالت کے بارے میں زیادہ تر خبردار کیا گیا ہے۔ ( یہ عدالت تقریباً 150 سال بعد واقع ہوئی، جب شاہ بابل نے یروشلیم کو برباد کردیا تھا۔تاریخی ثبوت کے لیے  یہاں کلک کریں) تاہم اُنہوں نے بہت سی پیشن گوئیاں کی اور مستقبیل کی بارے میں بتایا۔ کہ اللہ تعالیٰ ہم کو نشان بخشے گا۔ جو پہلے کبھی بھی انسانیت کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا۔ حضرت یسعیاہ اسرائیل کے بادشاہ سے کہتے ہیں۔ کہ وہ حضرت داود کی نسل سے ہوگا۔ اس لیے یہ نشان حضرت داود کے گھرانے سے منسوب کیا جاتا ہے۔

حضرت یسعیاہ بیان کرتے ہیں۔

13 تب اُن نے کہا اے داؤد کے خاندان اب سنو ! کیا تمہارا انسان کو بیزار کرنا کوئی ہلکی بات ہے کہ میرے خدا کو بھی بیزار کروگے؟۔
14  لیکن خداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور وہ اُس کا نام عمانوائیل رکھے گی۔
15 وہ دہی اورشہد کھائے گا جب تک کہ وہ نیکی اور بدی کےرد و قبول کے قابل نہ ہو جائے۔

                                                                                                یسعیاہ 7: 13-15

یہ یقینی طور پر ایک واضع پیشن گوئی تھی! کیا کبھی ایسا سُنا تھا کہ ایک کنواری حاملہ ہوگی؟ لوگ اس پیشن گوئی کے بارے میں حیران تھے۔ اور کئی سمجھتے تھے کہ شاید اس میں کوئی غلط فہمی پائی جاتی تھی۔  یقینی طور پر ایک آدمی مستقبیل کے بارے میں اندازہ لگاتا ہے جو ابھی واقع نہیں ہوا۔ اور آنے والی نسلوں کے لیے لکھ دیتا ہے تاکہ وہ اُن کو پڑھیں۔ جو بظاہر نامکمن پیشن گوئی لگتی تھی۔ لیکن یہ اُن صحیفوں میں بھی لکھی ہوئی تھی۔ جو بحرہ مردار میں سے برآمد ہوئے تھے۔ جو آج بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس لیے ہم جانتے ہیں کہ یہ پیشن گوئی بہت عرصے پہلے لکھی گئی تھی۔ جو کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے سینکڑوں سال پہلے لکھی گئی تھی۔

حضرت عیسیٰ مسیح کا ایک کنواری سے پیدا ہونے کی پیشن گوئی

آج ہم حضرت عیسیٰ مسیح کے بعد کے وقت میں رہتے ہیں۔ ہم اس بات کو جان سکتے ہیں۔ کہ یہ پیشن گوئی دراصل پوری ہوئی۔ کوئی دوسرا نبی یعنی حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت محمد ﷺ میں کوئی بھی کنواری سے پیدا نہیں ہوا۔ صرف حضرت عیسیٰ دنیا میں واحد ایسی ہستی ہیں جو کنواری کے وسیلے اس دنیا میں آئے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش کے سینکڑوں سال پہلے نشانی دیتا ہے۔ تاکہ ہم کنواری سے پیداہونے والے بیٹے کے لیے تیار ہوسکیں۔(ہم خاص طور پر دو چیزوں کو سکھیں گے

اُس کی ماں کے وسیلے اُسکو "عمانوایل” کہا گیا

سب سے پہلے کنواری سے پیدا ہونے والا بیٹا "عمانوایل” کہلائے گا۔ اس نام کا لفظی مطلب ہے "خدا ہمارے ساتھ” لیکن اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کے شاید کئی مطلب ہیں۔ لیکن جب سے یہ پیشن گوئی کی گئی کہ اللہ تعالیٰ جلدہی شریر بادشاہوں کی عدالت کرنے والا تھا۔ لیکن ایک اہم مطلب یہ بھی ہے۔ کہ جب یہ بیٹا پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ اُن کے خلاف نہیں رہا۔ اب وہ "اُن کے ساتھ” ہے۔ جب حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش ہوئی۔ تو اُس سے پہلے ایسا تھا۔ کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو چھوڑ دیا ہوا تھا۔ اور اس لیے اُن کے دشمن اُن پر حکمران تھے۔ کنواری سے پیدا ہونے والے بچے کے نشان سے مراد تھا۔ کہ خدا اُن کے ساتھ تھا نہ کہ اُن کے خلاف تھا۔ انجیل شریف کی کتاب "لوقا کی انجیل” میں لکھا ہے۔ کہ جب حضرت جبرایل نے حضرت مریم کو اُس آنے والے بچے کے بارے میں بتایا۔ تو حضرت مریم نے ایک پاک گیت کہا۔ یہ گیت مندرجہ ذیل ہے۔

46 پھِر مریم نے کہا کہ میری جان خُداوند کی بڑائی کرتی ہے۔
47 اور میری رُوح میرے مُنّجی خُدا سے خُوش ہُوئی۔
48 کِیُونکہ اُس نے اپنی بندی کی پست حالی پر نظر کی اور دیکھ اَب سے لے کر ہر زمانہ کے لوگ مُجھ کو مُبارک کہیں گے۔
49 کِیُونکہ اُس قادِر نے میرے لِئے بڑے بڑے کام کِئے ہیں اور اُس کا نام پاک ہے۔
50 اور اُس کا رحم اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں پُشت در پُشت رہتا ہے۔
51 اُس نے اپنے بازُو سے زور دِکھایا اور جو اپنے تِئیں بڑا سَمَجھتے تھے اُن کو پراگندہ کِیا۔
52 اُس نے اِختیّار والوں کو تخت سے گِرا دِیا اور پست حالوں کو بُلند کِیا۔
53 اُس نے بھُوکوں کو اچھّی چِیزوں سے سیر کردِیا اور دَولتمندوں کو خالی ہاتھ لَوٹا دِیا۔
54 اُس نے اپنے خادِم اِسرائیل کو سنبھال لِیا تاکہ اپنی اُس رحمت کو یاد فرمائے۔
55 جو ابرہام اور اُس کی نسل پر ابد تک رہے گی جَیسا اُس نے ہمارے باپ دادا سے کہا تھا۔

                                                                             لوقا 1: 46-55

جب حضرت مریم کو بتایا گیا تھا کہ اُن کو ایک بیٹا بخشا گیا ہے۔ تو وہ اُس وقت کنواری تھیں۔ تو اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے۔ کہ خدا حضرت ابراہیم اور اُسکی نسل پر اپنی رحمت کو یاد رکھتا ہے۔ عدالت کا مطلب یہ نہیں تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ہمیشہ کے لیے بھول جائے گا۔

کنواری کا بیٹا "بدی کو رد اور نیکی کو چن لیے گا”۔

حضرت یسعیاہ کے بارے میں حیرت انگیز پیشن گوئی یہ ہے۔ کہ وہ بیٹا "دہی اور شہد کھائے گا جب تک کہ وہ نیکی اورر بدی کے رد قبول کرنے کے قابل نہ ہو”۔ یہ حضرت یسعیاہ نبی کے کہنے کا مطلب ہے۔ کہ جب یہ بیٹا فیصلہ کرنے کے قابل ہوگا۔ تو وہ ” برائی کو رد اور نیکی کو چن لے کا” میرا ایک چھوٹا بیٹا ہے۔ میں اُس سے بڑی محبت رکھتا ہوں ۔ لیکن یقینی طور پر اُس نے کبھی بھی برائی کو رد اور نیکی کو چنا نہیں۔ اس کے لیے میں اور میری بیوی کام کرتے ہیں۔ اُس کو سکھاتے ہیں۔ نصحیت کرتے ہیں، اُس کے لیے مثال قائم کرتے ہیں۔ اُس کو نظم و ضبط بتاتے ہیں۔ اور اُس کے لیے اچھے دوستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اور کوشش کرتے ہیں۔ کہ وہ ایک ٹھیک ماڈل اپنی زندگی میں لے سکے۔ اُس کو ہم اس لیے سکھاتے ہیں۔ تاکہ وہ غلط کو چھوڑ کر درست کا انتخاب کرے۔ ہماری اتنی محنت کے باوجود بھی کوئی گارنٹٰی نہیں ہے۔ ایک باپ ہونے کی وجہ جب میں اپنے بیٹے کو سکھاتا ہوں۔ تو مجھے اپنے والدین یاد آجاتے ہیں۔ کہ جب میں چھوٹا تھا۔ تو میرے بچپن میں میرے والدین بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ کہ وہ مجھے سکھاتے کہ غلط چیز کو نہیں بلکہ درست کو چننا ہے۔ اگر والدین یہ سارا کام نہ کریں۔ بلکہ اس کو فطرتی عمل پو چھوڑ دیں۔ تو بچہ ایسا نہیں کرے گا۔ کہ وہ "بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کو تھام لے”۔ یہ اسی طرح ہے۔ اگر ہم "کششِ ثقل” کے خلاف جدوجہد کرنا چھوڑ دیں۔ تو ہم فوراً سے پہلے اس زمین سے نیچے گر جائیں گے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ہم کیوں اپنے گھروں کے دروازوں کو تالا لگاتے ہیں۔ کیوں ہر ایک ملک میں پولیس کی ضرورت ہے۔ کیوں ہم کو بنک میں خفیہ پاس ورڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ ہمیں ایک دوسرے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ "جب تک ہم” برائی کو ترک اور نیکی کو چن نہیں لیتے۔

انبیا بھی ہمیشہ ایسا نہیں کرتے کہ غلط مسترد اور صحیح کا انتخاب کریں

انبیاءاکرام کے بارے میں درست ہے۔ کہ تورات شریف نے دوجگہ پر ہمیں بتایا ہے۔ کہ حضرت ابراہیم نے دو دفعہ یہ جھوٹ بولا ہے کہ اُنکی بیوی صرف اُنکی بہن ہے۔ (پیدائش 12: 18-13 ، 20: 1-2) یہ بھی لکھا ہے۔ کہ حضرت موسیٰ نے ایک مصری کو قتل کیا۔ (خروج 2: 12) ایک بار تو اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرمانبرداری نہ کی جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ (گنتی 20: 6-12) حضرت محمدﷺ سے حکم کیا گیا کہ وہ اپنے گناہوں کے لیے معافی کی دعا کریں۔(سُورة مُحَمَّد 47: 19

 پس جان لیجیے کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ (اظہارِ عبودیت اور تعلیمِ امت کی خاطر ﷲ سے) معافی مانگتے رہا کریں کہ کہیں آپ سے (اپنی شان اقدس اور خصوصی عظمت و رِفعت کے تناظر میں) خلافِ اَولیٰ فعل صادر نہ ہو جائے* اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی طلبِ مغفرت (یعنی ان کی شفاعت) فرماتے رہا کریں (یہی ان کا سامان بخشش ہے)، اور (اے لوگو!) ﷲ (دنیا میں) تمہارے چلنے پھرنے کے ٹھکانے اور (آخرت میں) تمہارے ٹھہرنے کی منزلیں (سب) جانتا ہےo (سُورة مُحَمَّد 47: 19)

اس درج ذیل حدیث میں دیکھا گیا ہے کہ کیسے اُنہوں نے اپنے گناہوں کی مغفرت کے لیے دل سوزی کے ساتھ دعا کی۔

ابو موسی اشعری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان الفاظ میں دعا کیا کرتے تھے

  اے اللہ مجھے میرے گناہ بخش دے،میری جہالت،میرے خدشات میں میری غير معتدل.اورتو نے اپنے آپ مجھ سے کہیں (میرے معاملات کی) بہتر آگاہ ہو.اے اللہ مجھے بخش دے،سنجیدگی سے یا دوسری صورت میں (جو گناہ میں نے ارتکاب کیا) (اور میں نادانستہ طور پر اور جان بوجھ کر مصروف عمل ہیں. یہ تمام (ناکامی) مجھ میں ہیں۔ اے اللہ تمام غلطیاں جن کو میں نے جلد بازی میں کیا مجھے بخش دے۔ جن کو رازداری میں یا لوگوں کے سامنے کیا تو (ان) سے بہتر آگاہ ہے. اے اللہ تو پہلی اور آخری اور ہر چیز پر تو ہی غالب ہو.  مسلم 35: 6563

حضرت داود کی یہ دعا بہت زیادہ مشاہبت رکھتی ہے۔ جب اُنہوں نے اپنے گناہوں کی مغفرت کے کے لیے دعا کی۔

1 اَے خُدا! اپنی شفقت کے ُمُطابق مجھ پر رحم کر۔اپنی رحمت کی کژت کے مطُابق میر ی خطائیں مِٹادے
2 میری بدی کو مجھُ سے دھو ڈال اور میرے گُنا ہ سے مجھُے پاک کر۔
3 کیونکہ مَیں اپنی خطاؤںکو مانتا ہُوں ۔ اور میر ا گُناہ ہمیشہ میر ے سا منے ہے ۔
4 مِیں نے فقط تیر ا ہی گنا ہ کیا ہے ۔ اور وہ کا م کیا ہے جو تیر ی نظر میں برُا ہے ۔ تاکہ تُو اپنی با تو ں میں راست ٹھہرے ۔ اور اپنی عدالت میں بے عیَب رہے ۔
5 دیکھ ! میں نے بدی میں کی صُورت پکڑی اور گناُ ہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا ۔
6 دیکھ تُو باطنِ کی سچائی پسند کرتا ہے ۔ اور باطِن میں مجھے ہی دانائی سکھاِ ئے گا۔
7 زُوفے سے مُجھے صاف کر تُو مُیں ہو نگا۔ مجھے دھو اور بر ف سے زیادہ سفید ہُو گا ۔
8 مُجھے خوشی اور خُر می کی خبر سُنا تاکہ وہ ہڈیاں جو تونے توڑڈالی ہیں شادمان ہو ں ۔
9 میر ے گناہو ں کی طرف سے اپنا منہ پھیر ے ۔ اور میر ی سب بدکاریاں مِٹا ڈال ۔

                                                                                                         زبور 15: 1-9

ہم ان مقدس ہستیوں کو دیکھتے ہیں۔ جو بے شک انبیاء اکرام بھی تھے؛ لیکن اس کے ساتھ وہ انسان بھی تھے۔ جو حضرت آدم سے پیدا ہوئے تھے۔ اسی لیے اُن کو گناہ کے ساتھ جدوجہد کرنی پڑی اور اُن کو معافی کی ضرروت تھی۔ اس کو ہم نسلِ آدم کی عالمگیر حالت کہتے ہیں۔

مقدسہ کنواری کا پاک بیٹا

لیکن اس بیٹے کے بارے میں یسعیاہ نبی نے پیشن گوئی کی تھی۔ کہ وہ قدرتی طور پر اپنی ابتدائی زندگی سے برائی کو رد اور نیکی کو چن لے گا۔ یہ اُس کی جبلت میں ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اُس کا نسب نامہ مختلف ہو۔ دیگر تمام نبیوں کا نسب نامہ اُن کے آباواجداد کے زریعے حضرت آدم سے جاملتا ہے۔ اور ہم نے دیکھا کہ اُنہوں نے "برائی کو در اور نیکی کو نہیں چنا ہے۔ بلکہ جس طرح حضرت آدم کی نسل بڑھ گئی ہے۔ اُسی طرح اُن کی اولاد میں باغی فطرت بھی بڑھتی گئی اور ہم اب اسی کی لِپیٹ میں ہیں۔ اگرچہ انبیاء اکرام بھی اسی کی زد میں آگے۔ لیکن جو بیٹا کنواری سے پیدا ہوا۔ وہ اس خاصیت سے پیدا ہوا ہے۔ کہ اُس کا نسب نامہ اس سے فرق ہوگا۔ جسکی وجہ سے وہ پاک ٹھہرے گا۔ اسی لیے قرآن شریف میں جب فرشتہ حضرت مریم کو پیغام دیتا ہے۔ تو وہ اُس کو ایک "پاک بچے” کی بشارت دیتا ہے۔

  1. (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: میں تو فقط تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروںo

  2. (مریم علیہا السلام نے) کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوںo

  3. (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: (تعجب نہ کر) ایسے ہی ہوگا، تیرے رب نے فرمایا ہے: یہ (کام) مجھ پر آسان ہے، اور (یہ اس لئے ہوگا) تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنادیں، اور یہ امر (پہلے سے) طے شدہ ہےo

  4. پس مریم نے اسے پیٹ میں لے لیا اور (آبادی سے) الگ ہوکر دور ایک مقام پر جا بیٹھیںo

                                                                                      سورۃ مریم 19: 19-22

حضرت یسعیاہ کی پیشن گوئی بہت زیادہ واضع تھی۔ اور بعد میں دوسری کتابوں نے بھی اس پیشن گوئی سے اتفاق کیا۔ کہ ایک کنواری سے بیٹا پیدا ہوگا۔ جسکا کوئی دنیاوی باپ نہ ہوگا جس طرح ہمارے ہیں۔ اور اُس میں گناہ کی فطرت نہیں ہوگی۔ اس لیے وہ "پاک” ہوگا۔

جنت کے باغ میں بازگشت

لیکن یہ ہی بات نہیں کے بعد میں آنے والی کتابوں نے اتفاق کیا۔ کہ ایک کنواری سے بیٹا پیدا ہوگا۔ بلکہ اس بات کے بارے میں ابتداء میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اہم اس کو حضرت آدم کی نشانی میں پڑھ سکتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ایک وعدہ دیا تھا۔ میں اس کو یہاں دوہرا دیتا ہوں۔

اور میں (اللہ تعالیٰ) تیرے (شیطان) اور عورت (حوا) کے درمیان تیری نسل (شیطان کی نسل) اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تو اُس (عورت کی نسل) کی ایڑی پر کاٹے گا۔                                                                 پیدائش 3: 15

اللہ تعالیٰ شیطان کی نسل اور عورت کی نسل کو تربیت دے گا اور عورت اور ابلیس کی نسل کے درمیان دسشمنی پائی جائے گی۔ شیطان کی نسل ایڑی پر کاٹے گی۔ اور عورت کی نسل اُسکے سر کو کچلے گی۔ اس تعلقات کو یہاں تصویر میں دیکھایا گیا ہے۔

جنت میں اولاد کے لیے دیا گیا وعدہ

برائے مہربانی اس بات پر غور کریں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی یہ نہیں کہا تھا۔ کہ مرد کی نسل بلکہ یہ کہا تھا کہ عورت کی نسل سے۔ یہ بات بہت غیر معمولی ہے۔ خاص طور پر تورات شریف، زبور شریف اور انجیل شریف میں تو بیٹوں پر زور دیا جاتا ہے۔ جو اپنے باپ دادا سے ظاہر کئے جاتے ہیں۔ حقیقت میں جدید مغربی تنقید نگار ان کتابوں کے بارے میں تنقید کرتے ہیں۔ کہ اِن میں خون کے تعلق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ جو عورت کی طرف سے ملتا ہے۔ یہ جنسی امتیاز ہے۔ کیوں کہ اولاد مرد سے پہچانی جاتی ہے۔ لیکن یہ ایک مختلف معاملہ ہے۔ لیکن یہاں یہ وعدہ نہیں ہے کہ وہ نسل (وہ، HE) مرد سے آئے گی۔ یہاں صرف یہ ہی وعدہ کیا جا رہا ہے کہ یہ عورت کی نسل سے آئے گی۔ اور یہاں مرد کا ذکر نہیں کیا گیا۔

حضرت یسعیاہ کی پیشن گوئی "کنواری کا بیٹا” وہ "عورت کی نسل” سے ہے

ابھی کنواری سے ایک بیٹے کی پیشن گوئی بہت زیادہ واضع ہے۔ باغ جنت میں کہی جانے والی پیشن گوئی بڑی واضع تھی کہ نسل (بیٹا) ایک عورت سے آئے گا (کنواری) میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ واپس جائیں اور حضرت آدم کے نشان میں ہونے والی بات چیت کو پڑھیں۔ آپ اس پیشن گوئی کواُس واقع میں درست دیکھیں گے۔ تمام بنی آدم کی تاریخ کے شروع سے لیکر سب ایک ہی مسلے کا شکار ہیں۔ کہ "برائی کو رد اور نیکی کو چن” نہ سکے۔ جس طرح ہمارے جداِامجد نے نافرمانی کو چن لیا۔ اس لیے جب گناہ دنیا میں آیا اور اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ ایک پاک ہستی آئے گی۔ جوآدم کی نسل میں سے نہیں ہوگا۔ وہ شیطان کے سر کو کچلے گا۔

لیکن یہ پاک بیٹا کیسے ایسا کرے گا؟ اگریہ ایک پیغام دینے کا کام ہوتا تو حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ نے پہلے سے بڑی ایمانداری اور کامل طریقے سے پیغام پہنچا دیا تھا۔ لیکن پاکیزہ بیٹے کا کردار مختلف ہوگا۔ لیکن اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہم زبور شریف کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔