بنی اسرائیل کی تاریخ: کیا حضرت موسیٰ کئ نبوتی لعنیں واقعہ ہوئیں؟

بنی اسرائیل کی تاریخ کو آسانی سے سمجھنے کے لیے میں نےاس کی تاریخ کا ٹائم لائن بنایا ہے۔ ہم اس ٹائم لائن میں بنی اسرائیل کے انبیاء اکرام کو حضرت عیسٰی مسیح کی تاریخ تک رکھیں گے۔

بائبل کے معروف ترین انبیاء اکرام
بائبل کے معروف ترین انبیاء اکرام

اس ٹائم لائن میں ویسٹرن کلینڈر استعمال کیا گیا ہے۔ (یادرکھیں کہ اس میں قبل از مسیح یعنی BC کی تاریخ رکھی گئی ہے) رنگ دار سلاخیں بنیوں کی زندگی یا دور کو ظاہر کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ دونوں اپنی نشانیوں کی نسبت بہت ہی اہم ہیں جن کا ہم نے پہلے ہی مطالعہ کرلیا ہے۔ حضرت داود کی یہ پہچان ہے کہ اُن پر زبور شریف نازل ہوا۔ اور وہ بنی اسرائیل کے پہلے نبی تھے۔ جنہوں نے یروشلیم کو اپنا دارلحکومت بنایا۔ حضرت عیسیٰ مسیح بھی اہم نبی ہیں۔ کیونکہ وہ انجیل شریف کا مرکز ہیں۔

ہم سبز رنگ میں دیکھ سکتے ہیں کہ بنی اسرائیل مصر میں غلام تھی۔

اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام
اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام

 اس سبز رنگ کا دور اُس وقت شروع ہوتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم کے پڑپوتے حضرت یوسف نے اپنے لوگوں کو مصر میں بلایا۔ لیکن وہ وہاں غلام بن گئے۔ اور حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے فسح کی نشانی کے زریعے نکالا۔

اس طرح حضرت موسیٰ کے دور کو پیلے رنگ میں دیکھایا گیا ہے

یروشلم میں بادشاہ کے بغیر اسرائیل کی خود مختارحکومت
یروشلم میں بادشاہ کے بغیر اسرائیل کی خود مختارحکومت

 مصر کی غلامی کے بعد وہ اسرائیل (فلسطین) کی سرزمین پر رہنے لگے۔ حضرت موسیٰ نے اپنی زندگی کے آخرمیں اُن پر برکات اور لعنتوں کا اعلان کیا۔ جب ٹائم لائن کی سبز رنگ دار سلاخ پیلے رنگ کی طرف جاتی ہے۔ تو اس عرصے میں کئی سالوں وہ اسی ملک موعودہ کی سرزمین پر رہے۔ جس کا وعدہ حضرت ابراہیم کی پہلی نشانی میں کیا تھا۔ اس دور میں نہ ہی اُن کے پاس کوئی بادشاہ تھا۔ اور نہ ہی یروشلیم اُن کا دارالحکومت تھا۔

تاہم حضرت داود کے (1000) ایک ہزار قبل مسیح آنے سے بنی اسرائیل کے حالات بدل جاتے ہیں۔

حضرت داود اور ان کے بعد دوسرے بادشاہوں کی یروشلیم میں حکومت
حضرت داود اور ان کے بعد دوسرے بادشاہوں کی یروشلیم میں حکومت

حضرت داود نے یروشلیم کو فتح کیا اور اس کو دارلحکومت بنایا۔ جہاں پر بادشاہ کا محل بنایا گیا۔ حضرت داود کو حضرت سموائیل نے مسح کیا تھا اور اُس کا بیٹا سلیمان اپنی عقل، حکمت اور کامیبوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ حضرت سلیمان نے ایک اعلیٰ شان ہیکل کو یروشلیم میں تعمیر کیا۔ حضرت داود کی نسل نے 400 سال تک حکمرانی کی اور اس دور کو پیلے رنگ میں واضع کیا ہے۔ (1000-600 قبل مسیح) یہ دور بنی اسرائیل کے لیے شاندار تھا۔ اُنہوں نے خدا کی برکات اور وعدوں کو دیکھا۔ وہ دنیا کی طاقت وار قوم تھی۔ اُن کا اعلیٰ درجہ کا سماج اور ثقافت تھی۔ یہ اُس وقت کا دور تھا۔ جب انبیاءاکرام اللہ تعالٰی سے پیغام لیتے اور اُس کو حضرت داود کی زبور شریف میں درج کرتے جاتے۔ جس کو خود حضرت داود نے شروع کیا تھا۔ لیکن کیا وجہ تھی کہ بہت زیادہ انبیاءاکرام کو بھیجا گیا؟ تاکہ وہ اُن کو انتباہ کرسکیں اور یاد دلائیں کہ حضرت موسیٰ کی بتائیں ہوئیں لعنتیں نازل ہوسکتیں ہیں۔ لیکن بنی اسرائیل نے اُن انبیاء اکرام کی ایک نہ سُنی۔

آخرکار 600 قبل مسیح میں یہ لعنتیں نازل ہوگیئں۔ بابل سے ایک طاقتور بادشاہ نبوکدنظر آیا۔ اور جس طرح حضرت موسیٰ نے لعنتوں کے بارے میں نبوت کی۔ درج زیل نبوت کا مطالعہ کریں۔

49  خداوند دُور سے بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھالائے گا جیسے عقاب ٹوٹ کر آتا ہے ۔ اُس قوم کی زبان کو تُو نہ سمجھے گا ۔
50 اُس قوم کے لوگ تُرش رو ہونگے جو نہ بڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوانوں پر تر س کھائیں گے ۔
51  اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے اور وہ تیرے لیے اناج یا مَے یا تیل یا گائے بیل کی بڑھتی یا تیری بھیڑ بکریوں کے بچے کچھ نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ تجھ کو فنا نہ کر دیں ۔
52  اور وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کیے رہیں گے جب تک تیری اونچی اونچی فصلیں جن پر تیرا بھروسا ہو گا گِر نہ جائیں ۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی اُس ملک کی سب بستیوں میں کریں گے جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے ۔

                                                                                      استثناء 28: 49-52

نبوکدنظر نے یروشلیم کو فتح کیا اور اُس کو جلادیا اور سیلمانی ہیکل کو تباہ کردیا۔ جس کو خود حضرت سلیمان نے بنوایا تھا۔ اُس نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر پوری بابلی حکومت میں بطوراقلیت پھیلا دیا۔ صرف اُس نے غریب اسرائیلیوں کو پیچھے چھوڑدیا۔ اس طرح حضرت موسٰی کی نبوت پوری ہوئی۔

63  تب یہ ہو گا کہ جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تُم کو بڑھانے سے خداوند خوشنود ہوا ایسے ہی تمکو فنا کرانے اور ہلاک کر ڈالنے سے خداوند خوشنود ہو گا اور تُم اُس ملک سے اُکھاڑ دِئے جاو گے جہاں تُو اُس پر قبضہ کرنے کو جا رہا ہے ۔
64  اور خداوند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرےتک تمام قوموں میں پراگندہ کرے گا ۔ وہاں تُو لکڑی اور پتھر کے اور معبودوں کی جنکو تُو ہا تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا ۔                                                                                   اسثناء 28: 63-64

بابل نے فتح کیا اور بابل میں جلاوطن رہے
بابل نے فتح کیا اور بابل میں جلاوطن رہے

70 سال کا عرصہ سُرخ رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ جس میں بنی اسرائیل نے غلامی کے طور پر ملکِ موعودہ سے باہر زندگی بسر کی۔

اس کے بعد شاہ فارس خورس نے بابل کو فتح کیا اور وہ دنیا کا طاقتور شخص بن گیا۔ اور اُس نے بنی اسرائیل کو واپس ملکِ موعودہ میں جانے دیا۔

اسرائیل میں واپسی لیکن اسرائیل فارسی سلطنت کا صوبہ بن گیا
اسرائیل میں واپسی لیکن اسرائیل فارسی سلطنت کا صوبہ بن گیا

تاہم اب وہ غلامی سے رہائی کے بعد ایک آزاد ریاست کے طور پر نہیں رہتے تھے۔ بلکہ اسرائیل فارسی سلطنت کی حکومت کا ایک صوبہ بن گیا۔ یہ 200 سال تک ایک صوبہ کے طور پر رہا۔ اور اس کو گلابی رنگ میں دیکھایا گیا ہے۔ اس دور میں ہیکل کی تعمیر کی گئی۔ (یعنی دوسری ہیکل ) اور پرانے عہد نامے کے آخری حصہ کے انبیاءاکرام نے اپنے پیغامات اس دور میں تحریر کئے۔

اور پھر سکندرِاعظم نے فارس (موجودہ ایران) کی حکومت کو فتح کیا۔ اُس نے اسرائیل کو اپنی حکومت کا صوبہ بنالیا۔ جو اگلے 200 سال تک ایک صوبہ کے طور پر رہا۔ اس کو گہرے نیلے رنگ میں واضع کیا گیا ہے۔

اسرائیل یونانی سلطنت کا صوبہ بن گیا
اسرائیل یونانی سلطنت کا صوبہ بن گیا

پھر رومی حکومت نے یونانی حکومت کو فتح کر لیا۔ اور اُنہوں نے ایک عظیم رومی سلطنت کو قائم کیا۔ اسرائیل رومی حکومت کا صوبہ بن گیا۔ اس کو ہلکے پیلے رنگ میں واضع کیا گیا ہے۔ یہ حضرت عیسیٰ مسیح کا دور ہے۔ اس دور میں آپ اسرائیل میں موجود تھے۔ اس لیے انجیل شریف میں ہم رومی گورنر اور فوجیوں کو دیکھتے ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ مسیح کے دور میں یہودیوں کی سرزمین پر رومی حکومت کرتے تھے۔

اسرائیل رومی سلطنت کا ایک صوبہ
اسرائیل رومی سلطنت کا ایک صوبہ

تاہم 600 قبل مسیح سے لیکر اسرائیل کبھی بھی آزاد حکومت نہ بن سکا۔ جیسی حضرت داود اور دوسرے اسرائیلی حمکمرانوں نے حکومت کی۔ اُنہوں نے اس بات کو ناپسند کیا اور حضرت عیسیٰ مسیح کے آسمان پر صود فرمانے کے بعد یہودیوں نے رومی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ جنگِ آزادی کا آغاز ہوگیا۔ لیکن یہودیوں نے اس جنگ میں شکست کھائی۔ اس طرح رومیوں نے یروشلیم کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ اور دوسری طرف ہیکل کو آگ سے برباد کردیا۔ اور یہودیوں کو تمام رومی سلطنت میں غلام بنا کر بھیج دیا۔ جبکہ رومی حکومت اتنی بڑی تھی۔ کہ یہودی پوری دنیا میں منتشر ہوگے۔

رومی حکومت نے یروشلیم اور ہیکل کو سن70 ء میں برناد کردیا۔ اور یہودی پوری دنیا میں جلاوطن ہوگئے
رومی حکومت نے یروشلیم اور ہیکل کو سن70 ء میں برناد کردیا۔ اور یہودی پوری دنیا میں جلاوطن ہوگئے

اسی طرح وہ 2000 سال جلاوطنی میں رہے۔ اُن کو منتشر کردیا گیا۔ اور دوسرے ملکوں میں جلاوطن کردیا گیا۔ اور کسی ملک نے ان کو قبول نہ کیا۔ حضرت موسیٰ کے نبوتی کلام جو اُنہوں نے لعنت کے طور پر بیان کئے۔ وہ اُسی طرح پورے ہوئے۔

65  اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام مِلے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا ۔

                                                                                      استثناء 28: 65

تاہم لعنتوں کی نبوت جو حضرت موسیٰ نے کی تھی وہ پوری ہوگی۔ جی ہاں! یہ نہ صرف پوری ہوئیں بلکہ اس کے بارے ہر ایک بات پوری ہوئی۔ یہودیوں کی لعنت ہم غیر یہودیوں کے لیے نشان ٹھہرا۔

24  خداوند مینہ کے بدلے تیری زمین پر خاک اور دھول برسائے گا ۔ یہ آسمان سے تجھ پر پرتی ہی رہے گی جب تک کہ تُو ہلاک نہ ہو جائے ۔
25  خداوند تجھ کو تیرے دُشمنوں کے آگے شکست دلائے گا ۔ تُو اُنکے مقابلہ کے لیے تو ایک راستہ سے جائے گا اور اُنکے سامنے سے سات سات راستوں سے ہو کر بھاگے گا اور سُنیا کی تمام سطنتوں میں تُو مارا مارا ا پھرے گا ۔                         استثناء 28: 24-25

یہ انبیاء اکرام کی تعلیم ہمارے لیے بھی ایک اہم ترین نشان ہے۔ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ کیونکہ یہ ہمیں بھی خبردار کرتا ہے۔ یقینی طور پر یہ تاریخی سروے 2000 سال کا ہے۔

یہاں کلک کریں اور معلوم کریں کہ کیسے حضرت موسیٰ کی برکات اور لعنتوں کی نبوت ہمارے جدید دور میں پوری ہورہی ہے۔

ہمیں شریعت کی کس حد تک اطاعت کرنے کی ضرورت ہے ؟

ہمیں شریعت کی کس حد تک اطاعت کرنے کی ضرورت ہے ؟

کبھی بار میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ واقعی اللہ تعالیٰ 100٪ اطاعت کے مطالبہ کی توقع رکھتا ہے؟ ہم انسانوں  کے درمیان اس سوال پر بحث کر سکتے ہیں۔  لیکن دراصل اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنا چاہیے۔ نہ ہماری طرف سے۔ اس لیے میں نے تورات کی سادہ آیات یہاں رکھ دیں ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں۔ کہ کس حد تک ہم کو شریعت کی اطاعت کرنی ضرورت ہے۔ جو مندرجہ ذیل ہیں۔ غور کریں کے یہ آیات کتنی ہیں اور کتنی واضع ہیں۔ ان آیات کے جملے معنی خیز باتوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ‘احتیاط کر کے عمل کریں’،’تمام احکام’،  ” اپنے پورے دل سے”،”ہمیشہ حکام کی اطاعت کرو”،”سب کچھ”،  “تمام آئین”،  “مکمل طور پر اطاعت”،  “سارا کلام”،  “تمام کلام کو سننے سے”.

بعد میں آنے والے بنیوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کو اس طرح قبول اور اطاعت کرنے کا حکم دیا اور حضرت عیسیٰ مسیح نے بھی یہ سیکھایا۔

17 یہ نہ سَمَجھو کہ مَیں توریت یا نبِیوں کی کتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہُوں۔ منسُوخ کرنے نہِیں بلکہ پُورا کرنے آیا ہُوں۔
18 کِیُونکہ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تک آسمان اور زمِین ٹل نہ جائیں ایک نُقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگِز نہ ٹلے گا جب تک سب کُچھ پُورا نہ ہو جائے۔
19 پَس جو کوئی اِن چھوٹے سے چھوٹے حُکموں میں سے بھی کِسی کو توڑے گا اور یہی آدمِیوں کو سِکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکِن جو اُن پر عمل کرے گا اور اُن کی   تعلِیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔

متی5 :17-19

اور حضرت محمدؑ حدیث میں یوں کہتے ہیں

عبداللہ ابن ِ عمر بیان فرماتے ہیں۔۔۔۔۔یہودی کا لشکر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ ولی وسلم حضرت محمد کوف کے لئے دعوت دی۔۔۔۔۔ اُنہوں نے کہا،‘ابو القاسم ، کہ اُس نے ایک عورت کے ساتھ زناکاری کی ؛ سو اُس پر بھی عدالت ہوگی۔ اُنہوں نے اللہ کے رسول کے لئے تکیہ دیا اور وہ اُس سے بیٹھے اور کہا؛‘‘ توریت لے کر آؤ’’۔ تب وہ توریت لے کر آئے۔پھر آپ نے تکیہ نکلا اور توریت کو رکھا اور یہ کہا؛‘‘میں اِس پر ایمان رکھتا ہوں اور اُس پر بھی جس نے اِس کا نازل فرمایا۔’’ سنُت ابودادؤ  کتابچہ 38، نمبر 4434

اور اس کی صرف اسی طرح سمجھ آتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ جنت کی تیاری کر رہا ہے – اور یہ ایک کامل اور مقدس جگہ ہے – جہاں وہ  خود رہتا ہے۔وہاں نہ کوئی پولیس، نہ کوئی افواج، نہ کسے تالے  کی ضرورت ہوں گی. اور تمام دیگر سیکورٹی جس سے ہم ایک دوسرے کے گناہوں سے خود کو کی حفاظت کرتے ہیں ویاں اس کی ضروت نہیں ہوگی۔ اس لیے وہ جنت ہوگی۔ لیکن یہ ایک کامل اور پاک صاف جگہ رہے گی۔ اور وہاں صرف کامل لوگ داخل ہوسکیں گے۔ جنہوں نے “تمام احکامات”، “پر ہمیشہ، کلی” اور “ہر پہلو” میں پیروی کی۔

یہاں پر درج ہے کہ تورات شریف شریعت کی اطاعت کے بارے میں  کیا  بتاتی ہے کہ ہمیں اس کس کی حد تک  پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔

احبار 18

سو تم میری شریعت پر عمل کرنا اور میرے حکموں کو ماننا اور ان پر چلنا تو تم اس ملک میں امن کے ساتھ بسے18: 25احبار

26:3 احبار

یہ جھالر تمہارے لیے ایسی ہو کہ جب تم اسے دیکھو تو خداوند کے سب حکموںکو یاد کرکے ان پر عمل کرو اور اپنی آنکھوں کی خواہشوں کی پیروی میں زنا کاری نہ کرتے پھرو جیسا کرتے آئے ہو       15:39 گنتی

15:40 گنتی

5:27 استثناء

 سو تُو خداوند اپنے خدا سے محبت رکھنا اور اُسکی شرع اور آئین اور احکام اور فرمانوں پر سدا عمل کرنا ۔ 11:1 استثناء

11:13 استثناء

سو تُم احتیاط کر کے اُن سب آئین اور احکام پر عمل کرنا جنکو میں آج تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں ۔11:32 استثناء

12:28 استثناء

13:18 استثناء

بشرطیکہ تُو خداوند اپنے خدا کی بات مانکر اِن سب احکام پر چلنے کی احتیاط رکھے جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں ۔15:5 استثناء

26:14 استثناء

اور اگر تُو خداوند اپنے خدا کی بات کو جانفشانی سے مان کر اُسکے سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا دُنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرے گا ۔28:1 استثناء

28:15 استثناء

30:2 استثناء

30:8 استثناء

بشرطیکہ تُو خداوند اپنے خدا کی بات کو سُنکر اُسکے احکام اور آئین کو مانے جو شریعت کی اِس کتاب میں لکھے ہیں اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے خداوند اپنے خدا کی طرف پھرے ۔ 30:10 استثناء

تو اُس نے اُن سے کہا کہ جو باتیں میں نے تم سے آج کے دن بیان کی ہیں اُن سب سے تُم دل لگا نا اور اپنے لڑکو کو حکم دینا کہ وہ احتیاط رکھ کر اِس شریعت کی سب باتوں پر عمل کریں ۔32:46 استثناء

کیوں ایک انجیل کے لیے چار اناجیل ہیں؟

میں کبھی پوچھتا ہوں کہ کیوں ایک انجیل(بائیبل مقدس) میں چار مختلف اناجیل ہیں جو چار مختلف لوگوں نے تحریر کی ہیں؟ کیا اس میں متضاد پایا جاتا ہے اور کیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے؟

بائیبل مقدس اس کے بارے میں لکھا ہے۔

3:16-17 تیِمُتھِیُس 2

ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لیے فئدہ مند بھی ہے۔ تاکہ مردِ خدا کامِل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لیے بالکل تیار ہو جائے ۔

لہذا بائبل مقدس کا دعوہ کرتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہی کتابِ مقدس کا مصنف ہے انسانوں نے  اللہ تعالیٰ  کے پاک روح کے وسیلے سے اس کو تحریر کیا ہے۔ اس پر قرآن پوری طرح متفق ہے۔ اس پوسٹ میں ہم نے بڑھے غورسے دیکھا ہے۔قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟”

لیکن کس طرح ایک انجیل میں چار اناجیل کو سمجھ سکتے ہیں؟ قرآن شریف میں اکثر ایک واقعہ کے لیے کئی حصے مختلف جگہ پر درج ہیں۔ جب ہم ان تمام حصوں کو اکٹھا پڑھتے ہیں تو واقعہ کی مکمل تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔

مثال کے طور پر:حضرت آدم ؑ کا نشان کے بارے میں19-7:26 سورۃ الاعراف جنت کے واقعہ کا ذکر ہوا ہے۔ لیکن اسکا ذکر سورۃ ٰطہٰ میں 121-123: 20 میں بھی ذکر ہوا ہے۔ لیکن اس دوسرے حوالے میں ہم اور زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ کہ حضرت آدم ؑ  کو گمراہ کیا گیا تھا۔ جسکا ذکر سورۃ الاعرف میں نہیں ملتا۔ ان دونوں حوالہ جات کو پڑھنے کے بعد ہم حضرت آدم ؑ کے واقعہ کو بہتر اور مکمل طور پر سمجھ پاتے ہیں۔ اور ان دونوں حوالہ جات کا یہی مقصد تھا کی ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔

اسی طرح چار اناجیل (کتابِ مقدس) بائبل مقدس میں ہمیشہ اور صرف ایک ہی انجیل کو پیش کرتی ہیں۔ جب ہم ان کو اکٹھا پڑھتے ہیں۔ تو یہ ہم کو حضرت عیسی کی انجیل کی مکمل سمجھ بخشتی ہیں۔ ہر چوتھی انجیل میں ایک خاص مواد ملتا ہے جو دوسری تینوں اناجیل میں نہیں ملتا۔ اس طرح جب ہم ان کو اکٹھا پڑھتے ہیں۔ تو یہ ہم کو واضع تصویر پیش کرتی ہیں۔

اس لیے جب ہم انجیل شریف کی بات کی جاتی ہے تو اس کو واحد ہی شمار کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں ایک حوالہ ہے جس میں اسکی مثال پائی جاتی ہے۔ کہ انجیل کا شمار ہمیشہ واحد ہوا ہے۔

گلتیوں 11-1:13

 اے بھا ئیو! میں تمہیں جتائے دیتا ہوں کہ میں نے جس انجیل کی تعلیم تمہیں دی ہے اس کو انسان نے نہیں بنایا۔  اور

کیونکہ وہ (انجیل) مجھے انسان کی طرف سے نہیں پہنچی اور نہ مجھے سیکھائی گئی بلکہ یسوع مسیح کی طرف سے مجھے اُس کا مکاشفہ ہوا۔

۔چنانچہ یہودی طریق میں جو پہلے میرا چال چلن تھا تم سُن چکے ہو کہ میں خدا کی کلیسیا کو ازحد ستاتا اور تباہ کرتا تھا۔

اسی طرح انجیل شریف کا ذکر قرآن شریف میں ہوا ہے۔ آپ ہماری اس پوسٹ کو پڑھ سکتے ہیں۔ قرآن شریف میں انجیل مقدس کا نمونہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے۔ لیکن جب ہم انجیل شریف کے گواہوں یا کتابوں کی بات کرتے ہیں ۔ تو یہ چار ہیں۔ درحقیقت شریعت کے مطابق کسی بات یا معاملے میں صرف ایک گواہ کی گواہی پر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ شریعت کے مطابیق کم از کم دو یا تین گواہوں کی گواہی درکار ہوتی ہے۔(گنتی 19:15) جو ایک خاص واقعہ یا پییغام کی گواہی دیتے ہیں۔ چار گواہوں کو فراہم کرنے کی وجہ سے انجیل شریف شریعت کی درکار ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

کیوں بائبل مقدس کے بہت سارے ورژن / تراجم پائے جاتے ہیں؟

کچھ عرصہ پہلے میں ایک مسجد میں تھا۔ اور وہاں ایک امام صاحب کو سُن رہا تھا۔ امام صاحب نے جو کچھ کہا وہ بالکل غلط اور سچائی سے پر مبنی نہیں تھا۔ جو کچھ میں نے امام صاحب سے سُنا وہ میں نے پہلے ہی اپنے دوستوں نے سُن چکا تھا۔ اور شائد آپ نے بھی اس کو سنا ہو۔ اس سب کچھ نے میرے ذہین میں مختلف سوال پیدا کردیے۔ آیئں ان پر مِل کرغور کرتے ہیں۔

امام صاحب نے کہا کہ بائبل مقدس کے بہت سارے ورژن / تراجم ہیں ۔ انگلش میں آپ کو کنگ جیمز ورژن، نیو انٹرنیشنل ورژن ، دی نیو امریکن سٹنڈرڈ ورژن ، اور دی نیو انگلش ورژن پڑھ سکتے ہیں اور اس طرح کے کئی اور ورژن مل جائیں گے۔ پھر امام صاحب نے کہا بہت سارے مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے بائبل میں تبدیلی ہو چکی ہے۔ تاہم یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کون سا ترجمہ درست ہے۔

جی ہاں! ہمارے بہت سارے تراجم موجود ہیں ۔ لیکن ن کا بائبل مقدس میں تبدیلی کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی یہ مختلف کتابیں ہیں۔ دراصل حقیقت میں ایک ہی بائبل ہے۔

مثال کے طور پر جب کبھی ہم بات کرتے ہیں۔ دی نیو انٹر نیشنل ورژن کی۔ تو ہم دراصل بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک خاص ترجمے کی جو اصل بائبل کے متن یونانی (انجیل) اور عبرانی (تورات، زبور) سے انگلش میں جسکا ترجمہ ہوا۔ دی نیو امریکن سٹینڈرڈ ورژن ایک اور ترجمہ ہے جو اصل بائبل کے متن یونانی اور عبرانی زبان سے انگلش میں ترجمہ ہوا۔

اسی طرح کی صورت حال قرآن شریف کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ عام طور پرمیں یوسف علی کا ترجمہ استعمال کرتا ہوں۔ لیکن کئی بار میں پکٹ ہال کا ترجمہ بھی استعمال کرتا ہوں۔ پکٹ ہال نے وہی قرآن سے ترجمہ کیا جس کو یوسف علی نے ترجمے کے لیے استعمال کیا۔ لیکن اس کی انگلش کے الفاظ کا مجموعہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ لیکن نہ کوئی عیسائی، نہ کوئی یہودی، اور نہ کوئی لادین یہ کہتا ہے۔ کہ انگلش میں قرآن شریف کے دو مختلف تراجم ہیں اس لیے یہ دو قرآن شریف بھی دو ہیں یا قرآن شریف میں تبدیلی ہوگئی ہے۔

اسی طرح یونانی میں انجیل شریف اور عبرانی میں تورات اور زبور شریف ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ ان زبانوں کو نہیں جانتے اور نہ ہی پڑھتے ہیں۔ اس لیے انگلش میں مختلف تراجم موجود ہیں۔ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنی اصل زبان میں سمجھ سکیں۔

آج جب بہت سارے لوگ اپنی مادری زبان انگلش اور اردو میں مختلف تراجم یا ورژن پڑھتے ہیں۔ تاکہ وہ بہتر طورپر کلام اللہ کو سمجھ سکیں۔ لیکن کیا تراجم میں غلطیاں پائی جاتی ہیں؟ تو کیا ؐمختلف تراجم ہمیں بتاتے ہیں کہ جو کچھ اصل مصنف نے لکھا اسکا درست ترجمہ کرنا ناممکن ہے؟ لاتعداد یونانی میں پرانا لٹریچر ہونے کی وجہ سے یہ ممکن ہے۔ کہ اصل زبان میں جو کچھ مصنف نے لکھا ہے۔ اُس کا درست ترجمہ ہوسکتا ہے۔ دراصل مختلف جدید تراجم کچھ اس طرح ہیں۔

یہاں ایک آیت نئے عہد نامے سے مثال کے طورپر لی گئی ہے۔

1-تمتھیس2:5

یونانی میں

εις γαρ θεος εις και μεσιτης θεου και ανθρωπων ανθρωπος χριστος ιησους

پہلا ترجمہ

کیونکہ خدا ایک ہے اور خدا اور انسان کے بیچ میں درمیانی بھی ایک ہے یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے۔

دوسرا ترجمہ

کیونکہ خدا ایک ہے اور خدا اورانسانوں کے درمیان ایک صلح کرانے والا بھی موجود ہے یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دونوں تراجم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ ان میں چند مختلف مترادف الفاظ کا ہی فرق ہے۔ یہ دونوں تراجم ایک ہی بات بات کہہ رہے ہیں۔ لیکن الفاظ کا چُناو مختلف ہے۔ کیونکہ بائبل مقدس ایک ہے اور اس وجہ سے اس کے تراجم بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مختلف بائبلیں ہیں۔ جس طرح میں نہیں شروع میں کہا تھا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے مختلف بائبلیں پائی جاتی ہیں۔

بات کو اور ٹھیک طور پر سمجھنے کے لیے ہم قرآن شریف کے تراجم کی مثال لے سکتے ہیں۔

یہاں پر اردو کے دو تراجم سے مثال لیتے ہیں۔ ایک ترجمہ حضرت مولانا فتح محمد جالندھری کا ہے دوسرا تفہیم القرآن اورتیسرا انٹرنیٹ سے لیا گیا ہے۔

 سورة الفَاتِحَة آیت 1

‏ (جالندھری) سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے

(تفہیم القرآن) تعریف اللہ کے لیے جو تمام کائنات کا رب ہے۔

(القران اردو ترجمہ) سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا۔

اب اس کا کیا مطلب ہے کہ ہم یہ کہنا شروع کردیں کہ جناب قرآن شریف میں تبدیلی ہوگئی ہے؟ یا یہ کہنا شروع کردیں کہ مختلف قرآن شریف پائے جاتے ہیں؟ ںہیں! یہ کہنا بالکل عقل کے خلاف ہوگا۔ کہ قرآن شریف کی مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے مختلف قرآن شریف ہیں۔ دراصل قرآن شریف کی اصل زبان عربی ہے۔ اور اردو میں قرآن شریف کے تین تراجم ہیں۔ جن میں الفاظ کا چناو مختلف ہے۔ لیکن مطلب ایک ہی ہے۔

اسی طرح بائبل مقدس کی یونانی اور عبرانی اصل زبانیں ہیں۔ جن کا اُردو اور انگلش میں بائبل کے مختلف تراجم ہائے جاتے ہیں۔ جن میں الفاظ کا چناو مختلف ہے لیکن مطلب اور بائبل مقدس ایک ہی ہے۔

تورات میں اسمعیل کا اکاؤنٹ کیا ہے؟

تورات شریف سے حضرت اسمعیل کے حالات

حضرت اسمعیل کے ساتھ جو ہوا اس کے بارے میں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ حضرت موسٰی کے وسیلے سے تورات 3500 سال پہلے لکھی گئی اور اس بات کی وضاحت میں ہماری مدد کرتی ہے۔کہ حضرت اسمعیل کی زندگی کو سمجھ سکیں ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم سے وعدہ کیا تھاکہ وہ اُس کو برکت دے گا اور اُس کی نسل کو سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند کردے گا۔( اس وعدہ کو یہاں پڑھیں) حضرت ابراہیم نے اپنی دونوں بیویوں سے دو بیٹوں کو حاصل پایا۔ لیکن ان کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا اور حضرت ابراہیم حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل کو دور بھجنے پر مجبور ہوگیا۔ یہ جھگڑا دو مراحل میں واقعہ ہوا۔ پہلا واقعہ حضرت اسمعیل کی پیدائش کے بعد اور حضرت اضحاق کی پیدائش سے پہلے واقع ہو۔ براہ مہربانی یہاں پڑھیں کہ تورات شریف اسکے بارے میں کیا کہتی ہے۔ اور کیسے اللہ تعالٰی نے حضرت ہاجرہ کو  محفوظ کیا اور حضرت اسمعیل کو اپنی برکت عطا کی۔

(حضرت ہاجرہ اور حضرت اسٰمعیل (پیدایش کی کتاب 16 باب

1 اور ابرام کی بیوی ساری کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اُس کی ایک مصری لونڈی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا۔

2 اور ساری نے ابرام سے کہا دیکھ خداوند نے مجھے تو اولاد سے محروم رکھا ہے سو تو میری لونڈی کے پاس جا شائد اُس سے میرا گھر آباد ہو اور ابرام نے ساری کی بات مانی ۔

3 ابرام کو ملک کنعان میں رہتے دس برس ہوگئے تھے جب اُس کی بیوی ساری نے اپنی مصری لونڈی اُسے دی کہ اُس کی بیوی بنے۔

4 اور وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور جب اُسے معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہوگئی تو اپنی بی بی کو حقیر جاننے لگی۔

5 تب ساری نے ابرام سے کہا کہ جو ظلم مجھ پر ہوا وہ تیری گردن پر ہے۔ میں نے اپنی لونڈی تیرے آغوش میں دی اور اب جو اُس نے آپ کو حاملہ دیکھا تو میں اُس کی نظروں میں حقیر ہوگئی۔ سو خداوند میرے اور تیرے درمیان انصاف کرے۔

6 ابرام نے ساری سے کہا کہ تیری لونڈی تیرے ہاتھ میں ہے جو تجھے بھلا دکھائی دے سو اُس کے ساتھ کر ۔ تب ساری اُس پر سختی کرنے لگی اور وہ  اُس کے پاس سے بھاگ گئ۔

7 اور وہ خداوند کے فرشتہ کو بیابان میں پانی کے ایک چشمہ کے پاس ملی ۔ یہ وہی چشمہ ہے جو شور کی راہ پر ہے۔

8 اور اُس نے کہا اے ساری کی لونڈی ہاجرہ تو کہاں سے آئی اور کدھر جاتی ہے؟ اُس نے کہا کہ میں اپنی بی بی ساری کے پاس سے بھاگ آئی ہوں۔

9 خداوند کے فرشتہ نے اُس سے کہا کہ تو اپنی بی بی کے پاس لوٹ جااور اپنے کو اُس کے قبضہ میں کردے ۔

10 اور خداوند کے فرشتہ نے اُس کے کہا کہ میں تیری اولاد کو بہت بڑھاوں گا یہاں تک کہ کثرت کے سبب سے اُس کا شمار نہ ہو سکے گا۔

11 اور خداوند کے فرشتہ نے اُس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرے بیٹا ہوگا۔ اُس کا نام اسمعیل رکھنا اس لیے کہ خداوند نے تیرا دُکھ سن لیا۔

12 وہ گورخر کی طرح آزادمرد ہوگا۔ اُس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اُس کے خلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسارہے گا۔

13 ہاجرہ نے خداوند کا جس نے اُس سے باتیں کیں اتاایل روئی نا رکھا یعنی اے خداوند تو بصیر ہے کیونکہ اُس نے کہا کیا میں نے یہاں بھی اپنے دیکھنے والے کو جاتے ہوئے دیکھا۔

14 اسی سبب سے اُس کنوئیں کا نام بیرلحی روئی پڑگیا ۔ وہ قادس اور برد کے درمیان ہے۔

15 اور ابرام سے ہاجرہ کے ایک بیٹا ہوا اور ابرام نے اپنے اُس بیٹے کا نام ہاجرہ سے پیدا ہوا اسمعیل رکھا۔

16 اور جب ابرام سے ہاجرہ کے اسمعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا۔

ہم ان آیات میں دیکھتے ہیں۔ کہ حضرت ہاجرہ ایک نبیہ تھی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بات کرتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اپنے بیٹے کا نام اسماعیل رکھنا اور اللہ تعالیٰ نے اُس سے وعدہ کیا کہ وہ اسماعیل کو شمار میں بہت بڑھا دے گا۔ تاہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کرنے اور وعدہ ملنے کی وجہ سے حضرت ہاجرہ اپنی مالکن کے پاس واپس آجاتی ہے اور جھگڑا تھوڑی دیر کے لیے روک جاتا ہے۔

جھگڑا دوبارہ بڑھتا ہے

لیکن جب 14 سال بعد حضرت اضحاق حضرت سارہ کے گھر پیدا ہوا تو یہ جھگڑا پھر سے شروع ہوگیا۔ ہم اس کو تورات میں پڑھ سکتے ہیں کہ یہ کیسے ہوا۔

پیدایش 21: 8-21

8 اور وہ لڑکا بڑھا اور اُس کا دودھ چھرایا گیا اور اضحاق کے دودھ چھڑانے کے دن ابرام نے بڑی ضیافت کی ۔

9 اور سارہ نے دیکھا کہ ہاجرہ مصری کا بیٹا جو اُس کے ابرہام سے ہوا تھا ٹھٹھے مارتا ہے۔

10 تب اُس نے ابرام سے کہا کہ اس لونڈی کو اور اُس کے بیٹے کو نکال دے کیونکہ اس لونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اضحاق کے ساتھ وارث نہ ہوگا۔

11 پر ابرہام کو اُس کے بیٹے کے باعث یہ بات نہایت بُری معلوم ہوئی۔

12 اور خدا نے ابرہام سے کہا کہ تجھے اس لڑکے اور اپنی لونڈی کے باعث بُرا نہ لگے۔ جو کچھ سارہ تجھ سے کہتی ہے تو اُس کی بات مان کیونکہ اضحاق سے تیری نسل کا نام چلے گا۔

13 اور اس لونڈی کے بیٹے سے بھی میں ایک قوم پیدا کروں گا اس لیے کہ وہ تیری نسل ہے۔

14 تب ابرہام نے صبح سویرے اُٹھ کر روٹی اور پانی کی ایک مشک لی اور اُسے ہاجرہ کو دیا بلکہ اُسے اُس کے کندھے پر دھر دیا اور لڑکے کو بھی اُس کے حوالہ کرکے اُسے رخصت کردیا۔ سو وہ چلی گئی اور بیرسبع کے بیابان میں آوارہ پھرنے لگی۔

15 اور جب مشک کا پانی ختم ہوگیا تو اُس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے نیچے ڈال دیا۔

16 اور آپ اُس کے مقابل ایک تیر کے ٹپے پر دور جا بیٹھی اور کہنے لگی کہ میں اس لڑکے کا مرنا تو نہ دیکھوں۔ سو وہ اُس کے مقابل بیٹھ گئی اور چلا چلا کر رونے لگی۔

17 اور خدا نے اُس لڑکے کی آواز سنی اور خدا کے فرشتہ نے آسمان سے ہاجرہ کو پکارہ اور اُس سے کہا اے ہاجرہ تجھ کو کیا ہوا؟ مت ڈر کیونکہ خدا نے اُس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اُس کی آواز سن لی ہے۔

18 اُٹھ اور لڑکے کو اُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کیونکہ میں اُس کو ایک بڑی قوم بناوں گا۔

19 پھر خدا نے اُس کی آنکھیں کھولیں اور اُس نے پانی سے بھرلیا اور لڑکے کو پلایا۔

20 اور خدا اُس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑا ہوا اور بیابان میں رہنے لگا اور تیرانداز بنا۔

اور وہ فاران کے بیابان میں رہتا تھا اور اُس کی ماں نے ملک مصر سے اُس کے لیے بیوی لی۔

ہم یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت سارہ ( اُسکا نام ساری سے سارہ میں  تبدیل ہوگیا) حضرت ہاجرہ کے ساتھ ایک گھر میں رہنا نہیں چاہتی تھی۔ اور اُس نے مطالبہ کیا کے حضرت ہاجرہ کو دور بھیج دیا جائے۔ حضرت ابراہیم کے لیے یہ بہت مشکل تھا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم سے وعدہ کیا کہ وہ حضرت ہاجرہ کو اور حضرت اسمعیل کو برکت دے گا۔ اسی لیے اللہ تعالٰی نے حضرت ہاجرہ پر ظاہر پر ہوا اور اُس نے اُسکی آنکھیں کھولیں تاکہ بیابان میں پانی کو دیکھ سکے اور وعدہ کیا کہ وہ اسمعیل کو بڑی قوم بنائے گا۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ کیسے یہ قوم نے ترقی کرنا شروع کردی۔ ہم حضرت اسمعیل کے بارے میں حضرت ابراہیم کی وفات کے وقت پڑھتے ہیں۔

پیدایش 25: 8-18

8 تب ابرہام نے دم چھوڑ دیا اور خوب بڑھاپے میں نہایت ضعیف اور پوری عمر کا ہوکر وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جاملا۔

9 اور اُس کے بیٹے اضحاق اور اسمعیل نے مکفیلہ کے غار میں جو ممرے کے سامنے جتی صحر کے بیٹے عفرون کے کھیت میں ہے دفن کیا۔

10 یہ وہی کھیت ہے جسے ابرہام نے بنی جت سے خریدا تھا۔ وہیں ابرہام اور اُس کی بیوی سارہ دفن ہوئے۔

11 اور ابرہام کی وفات کے بعد خدا نے اُس کے بیٹے اضحاق کو برکت بخشی اور اضحاق بیرلحی روئی کے نزدیک رہتا تھا۔

12 یہ نسب نامہ ابرہام کے بیٹے اسمعیل کا ہے جو ابرہام سے سارہ کی لونڈی ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوا۔

13 اور اسمعیل کے بیٹوں کے نام یہ ہیں۔ یہ نام ترتیب وار ان کی پیدایش کے مطابق ہیں۔ اسمعیل کا پہلوٹھا نبایوت تھا۔ پھر قیدار اور اوبئیل اور میسام ۔

14 اور مشماع اور دومہ اور مسا۔

15 حدد اور تیما اور یطور اور نفیس اور قدمہ

16 یہ اسمعیل کے بیٹے ہیں اور ان ہی کے ناموں سے ان کی بستیاں اور چھاونیاں نامزد ہوئیں اور یہی بارہ اپنے اپنے قبیلہ کے سردار ہوئے۔

17 اور اسمعیل کی کل عمر ایک سو سینتیس برس کی ہوئی تب اُس نے دم چھوڑ دیا اور وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جاملا۔

18 اور اُس کی اولاد حویلہ سے شور تک جو مصر کے سامنے اُس راستہ پر ہے جس سے اسور کو جاتے ہیں آباد تھی۔ یہ لوگ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسے ہوئے تھے۔

ہم نے دیکھا کہ حضرت اسمعیل  نے لمبے عرصہ زندگی گذاری اور اُس کے بیٹوں نے بارہ قبیلعے بنائے۔ اللہ تعالٰی نے اُس کو برکت دی جسکا اُس نے وعدہ کیا تھا۔

حضرت ابراہیم نے حضرت اضحاق یا حضرت آسماعیل کو قربان کیا؟

میرے بہت سارے دوست، جب کبھی حضرت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ کی بات کرتے ہیں۔ تو ہر بار وہ زور دیتے ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم کا بڑا بیٹا جو حضرت ہاجرہ سے پیدا ہوا۔ جسکا نام حضرت اسماعیل کی قربانی گزرانی گئی۔ تاہم میں نے جب قرآن شریف کی آیت کو پڑھا توحیران ہوگیا۔ جب میں نے اسی آیت کو اپنے دوستوں کو پڑھنے کو کہا تو وہ بھی پڑھ کر حیران سے ہوگئے۔ اس آیت میں ایسا کیا لکھا ہے؟ جو سب حیران ہوگے۔ حضرت ابرہیم کی تیسری نشانی کے اہم واقعہ میں ہم نے پڑھا اور پاک کتابوں میں سے جو حوالہجات پیش کئے گے۔ ان میں سے ایک خاص آیت کو میں نے یہاں پیش کیا ہے۔

سورۃ الصافات 37: 102

پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے۔ کہا میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، اللہ نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔

آپ اس حوالے میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ میں اس کے بیٹے کا نام بیان نہیں کیا گیا۔ تو اس طرح مسلہ مبہم ہو جاتا ہے۔ جب کوئی مسلہ یا چیز مبہم ہو جاتی ہے۔ تو بہترین حال یہ ہے کہ تحقیق اور مطالعہ کیا جائے۔ جب آپ ہورے قرآن شریف میں حضرت اسماعیل کے نام کی تحقیق کرتے ہیں۔ تو پورے قرآن شریف میں کُل 12 بار حضرت اسماعیل کا نام آیا ہے۔

  • دو بار حضرت اسماعیل کا ذکر اُن کے والد کے ساتھ آیا پے۔  2:125،127
  • پانچ بار حضرت اسماعیل کا ذکر اُن کے بھائی اور والد کے ساتھ آیا ہے۔ 2:140، 2:136، 2:133، 4:163، 3:84
  • پانچ بار ان کا ذکر انبیاء اکرام کے ساتھ ذکرآیا ہے۔ 6:86، 14:39، 19:54، 21:85، 38:48
  • جہاں دو بار حضرت اسماعیل کا ذکر ان کے والد کے ساتھ آیا ہے تو وہاں دعا کا ذکر ہے۔ قربانی کا ذکر نہیں ہے۔

سورۃ البقرہ    2:125،127

اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مربع اور امان بنایا اور ابرہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناوٰ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجدہ والوں لے لیے۔  125

اور جب عرض کی ابراہیم نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کررے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی۔ 127

لہذا قرآن شریف نے کھبی حضرت اسماعیل کا نام لیکر یہ نہیں کہا۔ کہ حضرت اسماعیل ہی قربان ہونے کے لیے آزمائے گے۔ وہاں صرف بیٹا کہا کر ذکر کیا گیا ہے۔ تو پھر کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل ہی قربانی کے لیے آزمائے گے؟

حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کی تفسیر:

یوسف علی کو قابلِ اعتماد قرآن شریف کی تفسیر کرنے والا اور ترجمہ کرنے والا مانا جاتا ہے۔ اس کی تفسیر کے چند نوٹ یہاں پر موجود ہیں۔ جس میں حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کا ذکر ہے۔

4071

یہ شام اور فلسطین کی زرخیز زمین تھی۔ اسلامی روایات کے مطابق پہلا حضرت اسماعیل تھا۔ اس نام کی جڑ سمیاہ سے ہے۔ جسکا مطلب سننا  ہے۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کی دعا سن لی تھی۔ حضرت ابراہیم کی عمر 86 برس کی تھی۔ جب حضرت اسماعیل پیدا ہوئے۔  پیدایش کی کتاب 16:16

4076

ہمارے ترجمہ کا یہودیوں اور عسیائیوں کے پرانے عہدنامے کا ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت اضحاق اس وقت پیدا ہوئے جب حضرت ابراہیم 100 برس کے تھے۔ پیدایش کی کتاب 2:15 اور حضرت اسماعیل کی پیدایش کے وقت حضرت ابراہیم 86 برس کے تھے۔ پیدایش کی کتاب 16:16 تو حضرت اضحاق کی پیدایش پر حضرت اسماعیل 14 برس کے تھے۔ ان 14 برسوں میں صرف حضرت اسماعیل ہی حضرت ابراہیم کے بیٹے تھے۔ اُس وقت حضرت اضحاق حضرت ابراہیم کا بیٹا نہیں تھا۔ پرانے عہد نامے میں قربانی کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

  پیدایش کی کتاب 22:2

تب آس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لیکر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاونگا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔

پہلے نوٹ میں یوسف علی نے صرف اس بات کو بنیاد بنایا ہے کہ یہ ایک اسلامی روایت ہے۔ اُس نے قرآن شریف میں سے کوئی حوالہ نہیں دیا۔

اُس نے اپنے دوسرے نوٹ میں۔ اس بات پر غور کیا کہ ” اپنے اکلوتے بیٹے کو جو تیرا بیٹا ہے۔        پیدایش کی کتاب 22:2 اور اسماعیل 14 برس کا تھا اس لیے حضرت اسماعیل ہی کو قربانی کے لیے پیش کیا ہوگا۔ لیکن یہاں یوسف علی اس بات کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ پچھلے باب میں پیدایش کی کتاب 21 میں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو خاندان میں جھگڑا ہونے کی وجہ سے دور بھیج دیا تھا۔ اس  جھگڑے کے بارے میں یہاں تفصیل سے پڑھیں۔ کلیک کریں

حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کے لیے تورات کی گواہی۔

لہذا قرآن شریف خاص طور پر بیان نہیں کرتا کہ کس بیٹے کو قربانی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ لیکن تورات شریف میں اس کا ذکر بڑھے واضح انداز سے ہوا ہے۔ آپ اس حوالے میں دکھ سکتے ہیں۔ اس ایک باب میں کُل 6 بار حضرت اضحاق کے نام کا ذکر ہوا ہے۔ 22:2،3،7،6 اور 2 بار 9 ویں ایت میں۔

حضرت محمد، توریت شریف کی حمایت کرتے ہیں:

جو تورات شریف آج ہمارے پاس موجود ہے۔ اسی تورات کو حضرت محمد کی حمایت حاصل ہے۔ جسکا ذکر ایک احدیث میں بڑا واضح آیا ہے۔

عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے: یہودیوں کا ایک گروپ آیا اور رسول اللہ کو دعوت دی … انہوں نے کہا کہ: ‘ابو القاسم، ہمارے لوگوں میں سے ایک کسی عورت سے زنا کا ارتکاب کیا ہے. تاکہ ان پر فیصلہ سنیا جائے۔ اللہ کے رسول کے لئے ایک تکیا رکھا گیا۔ وہ اس پر بیٹھ گئے اور آپ نے کہا کہ. “توریت لے آؤ”:. اس کے بعد تورات کو لایا گیا. اس کے بعد انہوں نے اپنے نیچے سے تکیا لیکر اس پر تورات کو رکھ دیا: اور یوں کہا ” میں تجھ پر اور جس نے تجھ کو نازل کیا ہے ایمان رکھتا ہوں”

سنن ابوداود کتاب 38، نمبر 4434

حضرت عیسٰی مسیح، توریت شریف کی حمایت کرتے ہیں

جوتورات شریف آج ہمارے پاس موجود ہے۔ حضرت عیسٰی مسیح نے بھی اسی تورات شریف کی حمایت کی ہے۔ جس کو ہم نے میری ایک پوسٹ میں دیکھا ” کس طرح انہوں نے اعادہ کیا کہ پہلی کتابیں ہمارے لئے سب سے اہم تھیں“اس مضمون میں اس کی طرف سے ایک حوالے میں حضرت عیسٰی کا کہنا ہے کہ

متی 5 : 18-19

کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلیگا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔ پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑیگا اور یہی آدمیوں کو سکھائیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائیگا لیکن جو اُن پر عمل کریگا اور اُنکی تعلیم دیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائیگا۔

انتباہ! تورات سے بڑھ کر کوئی روایت نہیں

یہ کبھی بھی روا نہیں ہوگا کہ ایک ہلکی سی روایت کے لیے حضرت موسٰی کی تورات کو برطرف کردیا جائے۔ حقیقت میں حضرت عیسٰی مسیح یہودیوں پر سخت تنقید کرتے ہیں کیوں کہ وہ اپنی روایات کو تورات شریف سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ حضرت عیسٰی مسیح کا یہودی رہنماوں کے ساتھ اختلاف یہاں اسی حوالے میں دیکھ سکتے ہیں۔

متی 15 : 3-8

اس نے جواب میں اُن سے کہا کہ تم اپنی روایت سے خدا کا حکم کیوں ٹال دیتے ہو؟۔ کیونکہ خدا نے فرمایا ہے تو اپنے باپ کی اور اپنی ماں کی عزت کرنا اور جو باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ مگر تم کہتے ہو کہ جو کوئی باپ یا ماں سے کہے کہ جس چیز کے تجھے مجھ سے فائدہ پہنچ سکتا تھا وہ خدا کی نذر ہو چکی۔ تو وہ اپنے باپ کی عزت نہ کرے۔ پس تم نے اپنی روایت سے خدا کا کلام باطل کردیا۔ اے ریاکارو یسعاہ نے تہمارے حق میں کیا خوب نبوت کی کہ۔ یہ امت زبان سے تو میری عزت کرتی ہے مگر انکا دل مجھ سے دور ہے۔

نبی انتباہ یا ورننگ کرنا بڑا واضع ہے کہ روایت کے لیے اللہ لعالیٰ کے پیغام کو بر طرف نہیں کرنا چاہئے۔

آج بحیرہ مردار کے صحیفۓ تورات شریف کی صداقت پیش کرتے ہیں

مندرجہ ذیل تصویر سے ہمیں تورات شریف کے ابتدائی مسودات کی تاریخوں کا پتا چلتا ہے۔ ( اہم اصول میں سے ایک جو متنی تنقید میں استمال کیا جاتا ہے جس سے ہم یہ تعین کرسکتے ہیں کہ ایک کتاب کی معتبریت کیا ہے؟ یہاں پر آپ میری ایک پوسٹ ملاظہ فرمائیں) بحیرہ مردار کے مسودات کی تاریخ 200 ق م ہے۔ جسکا مطلب ہے کہ دونوں انبیاء اکرام یعنی حضرت محمد  اور حضرت عیسٰی مسیح با لکل اسی تورات کا حوالہ دے رہے تھے۔ جس تورات شریف کو آج ہم پڑھتے ہیں۔

یہ ہی ایک معیار ہے کہ ہم واپس مقدس کتابوں کو پڑھیں۔ اس طرح ہم ایک بنیاد قائم کرسکتے ہیں۔ جو کچھ ابنیاء اکرام نے ارشاد فرمایا ہے اس کو جانیں۔ اس کی بجائے ہم اپنی قیاس آرئیوں کے جھگڑے میں نہ پڑھیں۔