ہم خدا کے بیٹے کے خطاب کو کیسے سمجھتے ہیں؟

شاید انجیل شریف میں ” خدا کے بیٹے” کے علاوہ کوئی دوسرا خطاب نہیں ہے۔ جس کے بارے میں انجیل مقدس میں اس سے زیادہ ذکر کیا گیا ہو۔ یہ خطاب حضرت عیسیٰ المسیح کو دیا گیا ہے اور انجیل شریف میں بار بار اس کا ذکر ہوا ہے۔ اس اصطلاح کی وجہ سے انجیل شریف کی تحریف کے بارے میں شک کیا جاتا ہے۔ انجیل شریف کی تحریف کے مسئلہ کے بارے میں قرآن شریف (یہاں) سنت (یہاں) اور سائنسی تحریری تنقید (یہاں) کے تحقیقی کی گئی ہے۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ مسئلہ کیا ہے۔ تو اس تحقیقی کی وجہ سے حیرت انگیز نتائیج برآمد ہوئے ہیں۔ کہ انجیل پاک میں رتی بھر بھی تحریف یا تبدیلی نہیں ہوئی۔ لیکن یہ "خدا کے بیٹے” کی اصطلاح سے کیا مطلب ہے؟

کئی بار صرف ایک اصطلاح کو سن کر خود سے مطلب نہیں نکال لینا چاہئے۔ اس سے آپ غلط فہمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مغرب میں بہت سارے لوگ ‘جہاد’ کی اصطلاح کے خلاف ہیں۔ جس کو میڈیا پر دیکھایا جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس اصطلاح کا مطلب ہے کہ ‘کچھ پاگل لڑاکے’ ‘معصوم لوگوں کو قتل کرنے والے’ یا کچھ اسی طرح کی ملتی جلیتی بات۔ حقیقت میں سچ تو یہ ہے۔ کہ جو لوگ اس اصطلاح کو سمجھنے کے لیے وقت دیتے ہیں۔ وہ جان جاتے ہیں۔ کہ اس کا مطلب ‘جدوجہد’ یا ‘کوشش’ کرنا ہے۔ اور یہ کوشش یا جدوجہد بہت سارے وسیع پیمانے میں سمجھی جاسکتی ہے۔ لیکن بہت اس بات کو نہیں سمجھتے۔

ہمیں "خدا کے بیٹے” کی اصطلاح کے بارے میں اسی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ اس مضمون میں ہم اس اصطلاح کے بارے میں دیکھیں گے۔ کہ یہ کہا سے آئی۔ اس کا کیا مطلب ہے، اور اس کا کیا مطلب نہیں ہے۔ ہم پھر اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ جہاں ہم انجیل شریف کی اس اصطلاح کا جواب دے سکیں گے۔

خدا کے بیٹے’ کی اصطلاح کہاں سے آئی؟

خدا کےبیٹے’ کی اصطلاح کا آغاز انجیل شریف میں سے نہیں ہوا۔ انجیل شریف کے لکھاریوں نے اس اصطلاح کو ایجاد نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی یہ کسی مسیحی کی ایجاد ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سب سے پہلے اس اصطلاح کا استعمال زبور شریف میں ہوا۔ جو کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے حواریوں سے 1000 پہلے حضرت داود ؑ پر نازل ہوا تھا۔ آئیں دیکھیں یہ سب سے پہلے کہاں اس کا ذکر نازل ہوا۔

دوسرے ملکوں کے لوگ کیوں اتنا طیش میں آتے ہیں
    اور لوگ کیوں بیکار کے منصوبے بنا تے ہیں؟
ان قوموں کے بادشاہ اور حکمراں،
    خدا اور اس کے منتخب بادشاہ کے خلاف آپس میں ایک ہو جا تے ہیں۔
وہ حا کم کہتے ہیں، “ آؤ خدا کی طرف اوراُس بادشاہ کی جس کو اُس نے چنا ہے ، ہم سب مخالفت کریں۔
    “ آؤ ہم ان بندھنوں کو تو ڑ دیں جو ہمیں قید کئے ہیں اور انہیں پھینک دیں!”
لیکن میرا خدا جو آسمان پر تخت نشین ہے
    اُن لوگوں پر ہنستا ہے۔
5-6 خدا غصّے میں ہے اور وہ ان سے کہتا ہے ،
    “ میں نے اس شخص کو بادشاہ بننے کے لئے منتخب کیا ہے۔
وہ کوہِ مقّدس صیّون پر حکومت کرے گا۔ صیّون میرا خصوصی کوہ ہے۔ ”
    یہی ان حاکموں کو خوفزدہ کرتا ہے۔
اب میں خداوند کے اُس فرمان کو تجھے بتا تا ہوں۔
    خداوند نے مجھ سے کہا تھا، “ آج میں تیرا باپ بنتا ہوں اور توآج میرا بیٹا بن گیا ہے۔
اگر تو مجھ سے مانگے، تو ان قوموں کو میں تجھے دے دوں گا
    اور اس زمین کے سبھی لوگ تیرے ہو جا ئیں گے۔
تیرے پاس ان ملکوں کو نیست و نابود کر نے کی ویسی ہی قدرت ہو گی
    جیسے کسی مٹی کے برتن کو کو ئی لو ہے کے عصا سے چکنا چور کر دے۔”
10 پس اے بادشاہ ہو! تم دانشمند بنو۔
    اے زمین پر عدالت کرنے وا لو، تم اس سبق کو سیکھو۔
11 تم نہا یت خوف سے خداوند کی عبادت کرو۔
12 اپنے آپ کو اس کے بیٹے کا وفادار ظاہر کرو۔
    اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو وہ غضب ناک ہو گا اور تمہیں نیست ونابود کر دے گا۔
جو لوگ خداوند پر توکّل کرتے ہیں وہ خوش رہتے ہیں۔
    لیکن دوسرے لوگوں کو چاہئے کہ ہو شیار رہیں کیوں کہ خدا کا غصّہ آنے وا لے وقت میں جلدی بھڑکے گا۔

(زبُور2)

ہم نے یہاں ‘خداوند’ اور ‘اس کے ممسوح’ کے بارے میں گفتگو دیکھی۔ اسی طرح 7 ویں آیت میں ‘خداوند’ (مثلا خدا/اللہ) نے ممسوح سے کہا۔’ ۔ ۔ ۔ تو میرا بیٹا ہے۔ آج تُو مُجھ سے پَیداہُؤا۔ ‘ اس بات کو 12 ویں آیت میں دوہرایا گیا ہے۔ جہاں ہمیں کہا گیا ہے۔ کہ ‘بیٹے کو چومو۔ ۔ ۔’ چونکہ اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے۔ کہ وہ ‘میرا بیٹا’ ہے۔ اور یہاں ہی سے "اللہ کےبیٹے” کی اصطلاح کا آغاز ہوا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے بیٹے کی اصطلاح کس کو دی گئی تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اصطلاح ‘ممسوح’ سے منسوب کی گئی تھی۔ دوسرے الفاظ میں ‘بیٹے’ کی اصطلاح کو ‘ممسوح’ کے زریعے اس اقتباس میں پیش کیا گیا ہے۔ ہم ‘ممسوح = مسیحا=مسیح=کرائسٹ کو جانتے ہیں۔ دلچسپی کی بات ہے کہ اسی زبور میں ‘مسیح’ کی اصطلاح کا آغاز ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ تاہم ‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے” کی اصطلاح کا آغاز اس ایک اقتباس سے شروع ہوا۔ جہاں سے ‘مسیح/کرائسٹ’ کی اصطلاح کا آغاز بھی ہوا۔ یہ کلام حضرت داودؑ کو حضرت عیسیٰ المسیح کی آمد سے 1000 سال پہلے نازل ہوا۔ جو کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے میں پیش گوئی تھی۔

اس بات کو مذید جانتے ہوئے معلوم ہوتا ہے۔ کہ اس اصطلاح کو حضرت عیسیٰ مسیح کے خلاف استعمال گیا۔ یہاں درج ذیل گفتگومیں ہم معلوم کریں گے کہ کیسے یہودی راہنما حضرت عیسیٰ مسیح سے اس اصطلاح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ کے عنوان ‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کے بارے میں منطقی متبادل

66 دوسرے دن صبح بڑے لوگ کے قائدین اور کاہنوں کے رہنما معلّمین شریعت سب ایک ساتھ مل کر آئے۔ اور وہ یسوع کو عدالت میں لے گئے۔ 67 انہوں نے کہا، “اگر تو مسیح ہے تو ہم سے کہہ۔” تو یسوع نے ان سے کہا، “اگر میں تم سے کہوں کہ میں مسیح ہوں تو تم میرا یقین نہ کرو گے۔ 68 اگر میں تم سے پو چھوں تو تم اس کا جواب بھی نہ دو گے۔ 69 لیکن! آج سے ابن آدم خدا کے تخت کی داہنی جانب بیٹھا رہیگا۔”

70 ان سبھوں نے پو چھا، “تو کیا تو خدا کا بیٹا ہے؟” یسوع نے ان سے کہا، “میرے ہو نے کی بات کو تم خود ہی کہتے ہو۔”

71 تب انہوں نے کہا، “ہمیں مزید اور کیا گواہی چاہئے ؟ کیوں کہ ہم سن چکے ہیں کہ خود اس نے کیا کہا ہے۔”

یہودی راہنماوں نے حضرت عیسیٰ سے سب سے پہلا سوال یہ کیا کہ کیا آپ ‘مسیح’ہیں؟ (آیت 67) اگر میں کسی کو پوچھو گا۔ کہ ‘کیا آپ Xہیں؟ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مجھے پہلے ہی سے X کے بارے میں معلومات ہیں۔ اوراس سوال سے میں صرف یہ معلوم کر رہا ہوں کہ کیا جس شخص سے میں بات کر رہا ہو وہ کیا X ہی ہے۔ اس طرح یہودی راہنما حضرت عیسیٰ مسیح سے یہ معلوم کر رہے تھے۔ ‘کیا آپ ہی مسیح ہیں؟’ اس کا مطلب یہ کہ اُن کو ‘مسیح’ کے بارے میں پہلے سے تصور یا علم تھا۔ پھر اُنہوں نے اپنے سوال کو ایک اور طریقے سے پوچھا۔ ‘کیا تم اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہو؟’ وہ یہاں پر دونوں اصطلاحات "مسیح’ اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ مساوی طور پر لیے رہے تھے۔ یہ اصطلاحات ایک سکے کے دواطراف ہیں۔ (حضرت عیسیٰ نے ان دونوں اصطلاح میں سے ایک اور جواب دیا۔ کہ وہ "ابنِ آدم "ہے یہ ایک اور اصطلاح ہے جو حضرت دانیال کی کتاب میں آتی ہے۔ جس کے بارے میں ہم یہاں بات نہیں کریں گے۔ کیونکہ ہم یہاں ‘اللہ کے بیٹے’ کی بات کر رہے ہیں) یہودی راہنماوں نے ‘مسیح اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کہا سے دونوں کے درمیان مساوی خیال حاصل کیا؟ یہ خیال اںہوں نے زبور شریف کے باب 2 میں لیا۔ جو حضرت عیسیٰ المسیح کی آمد سے 1000 سال پہلے نازل ہوچکا تھا۔ یہ حضرت عیسیٰ المسیح کے لیے منطقی امکان تھا کہ اگر وہ "اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ نہیں تو وہ پھر ‘مسیح’ بھی نہیں ہوسکتے تھے۔ یہ ہی ایک بات تھی جس کو یہودی راہنماوں نے استعمال کیا جس کو ہم نے اُوپر حوالہ میں پڑھا ہے۔

یہ منطقی ممکن تھا کہ حضرت عیسیٰ "اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ اور مسیح’ ہوسکیں۔ ہم یہاں درج ذیل انجیل شریف کے ایک حوالہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہ کیسے حضرت عیسیٰ المسیح کے معروف حواری جس کا نام ‘پطرسؑ’ ہے۔ اُن نے حضرت عیسیٰ مسیح کے ایک سوال کا جواب دیا۔

13 یسوع جب قیصر یہ فلپی کے علا قے میں آیا۔تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے پو چھا، “مجھ ابن آدم کو لوگ کیا کہہ کر پکار تے ہیں؟”

14 ماننے وا لوں نے جواب دیا، “بعض تو بپتسمہ دینے والا یوحناّ کے نام سے پکار تے ہیں اور بعض ایلیاہ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اور بعض یر میاہ [] کہہ کر یا نبیوں میں ایک کہہ کر پکا ر تے ہیں۔”15 تب اس نے ان سے پو چھا ، “تم مجھے کیا پکار تے ہو؟” 16 شمعون پطرس نے جواب دیا، “تو مسیح ہے اور تو ہی زندہ خدا کا بیٹا ہے۔” 17 یسوع نے کہا، “اے یونس کے بیٹے شمعون! تو بہت مبارک ہے۔ اس بات کی تعلیم تجھے کسی انسان نے نہیں دی ہے۔بلکہ میرے آسما نی باپ ہی نے ظا ہر کیا ہے کہ میں کون ہوں؟

(متّی16:13-17)

یہاں پطرس ؑ ‘مسیح’ کی اصطلاح کو ‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے ‘کو قدرتی طور پر یکجا کردیتا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں اصطلاح ایک ہی زبور میں نازل ہوئیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے پطرس ؑ کے اس جواب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کے طور پر قبول کیا۔ کہ حضرت عیسیٰ ہی "مسیح” ہیں اس وجہ سے وہ "اللہ تعالیٰ کے بیٹے” بھی ہیں۔

لیکن یہ ناممکن ہے کہ اس بات میں متضاد بات پائی جائے۔ کہ حضرت عیسیٰ ‘مسیح’ ہوں لیکن وہ ‘خدا کے بیٹے” نہ ہو۔ کیونکہ یہ دونوں اصطلاح کا ایک ہی زریعہ اور ایک ہی مطلب ہے۔ تو پھر اس کی مثال ایسی ہی ہوگی۔ کہ ایک مخصوص ‘دائرہ’ تو ہوسکتا ہے لیکن یہ ‘راونڈ’ نہیں ہوسکتا۔ ایک شکل مربح ہوسکتی ہے لیکن ایک حلقہ نہیں اور نہی روانڈ۔ لیکن اگر وہ ایک دائرہ ہے تو پھر وہ ایک راونڈ بھی ہے۔ راونڈ کا مطلب ہی دائرہ ہے۔ جب یہ کہا جائے۔ کہ فلاں شکل دائرہ تو ہے لیکن راونڈ نہیں۔ تو یہ بات ٹھیک جواب نہیں۔ یا آپ دائرے اور راونڈ کے مطلب کو ٹھیک طور پر سمجھ نہیں سکے۔ یہ ہی مطلب ‘مسیح’ اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کا بھی ہے۔ عیسیٰ مسیح ہی ‘مسیح’ اور خدا کا بیٹا’ بھی ہے۔ (جسطرح پطرس ؑ نے کہا)۔ یا پھر حضرت عیسیٰ دونوں اصطلاحات میں سے کوئی ایک بھی نہیں۔

‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کا کیا مطلب ہے؟

تو اس اصطلاح کا کیا مطلب ہے؟ انجیل شریف (نئے عہدنامہ) میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے۔ جب ایک مسیح کے حواری جس کا نام یوسف کا تعارف کروایا جاتا ہے۔ وہ ابتدائی حواریوں میں سے تھا۔ (یہ فرعون کے محل والا حضرت یوسف ؑ نہیں تھا) اور کیسے اُس کے بارے میں ‘بیٹا ۔ ۔ ۔’ فرمایا ہے۔

36 ایک شخص جس کا نام یوسف اور رسولوں میں اسکو برنباس یعنی “دوسروں کی مدد کر نے والا رکھا۔” وہ لاوی تھا اور وہ کپرس میں پیدا ہوا تھا۔ 37 یوسف کا ایک کھیت تھا اس نے اسکو فروخت کیا اور رقم لاکر مسیح کے رسولوں کو دیدی

(رسولوں4:36-37)

آپ یہاں پر دیکھ سکتے ہیں کہ ‘برنباس’ کا عرفی نام ‘حوصلہ افزائی کا بیٹا’ ہے۔ کیا انجیل شریف یہ کہہ رہی ہے۔ کہ اُس کے باپ کا نام ‘حوصلہ افزائی’ تھا۔ اس لیے اُس کا نام حوصلہ افزائی کا بیٹا’ ہے؟ یقین ایسا نہیں ہے! ‘حوصلہ افزائی’ ایک منفرد تصور ہے۔ جس کی وضاحت کرنیمشکل ہے۔ لیکن یہ دیکھنے میں آسان ہے کہ کسی ایک شخص کی حوصلہ افزائی کرنا۔ جب کوئی یوسفؑ کی زندگی پر نظر دوڑاتا ہوگا۔ تو یہ کہتا ہے ہوگا۔ دیکھو وہ کیسا حوصلہ مند انسان ہے۔ تاہم حوصلہ افزائی کا کیا مطلب ہے۔ اس طرح سے حضرت یوسفؑ جو ایک حواری تھا۔ ‘حوصلہ افزائی کا بیٹا’ ہے۔ کیونکہ وہ اپنی زندگی سے حوصلہ افزائی کو ظاہر کررہا تھا۔

"اللہ تعالیٰ کو کبھی بھی کسی نے نہیں دیکھا” (یوحنا 1: 18) لہذا اللہ تعالیٰ کے کردار اور فطرت کو سمجھنا نہایت ہی مشکل ہے۔ اور یہ بھی انتہائی مشکل ہے۔ کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنی انکھیوں سے دیکھ سکیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ روح ہے اور روح کو کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اس طرح انجیل شریف حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی کے بارے میں ہمیں یہ خلاصہ پیش کرتی ہے۔ کہ آپ "کلمہ اللہ” اور اللہ کے بیٹے” ہیں۔

14 کلا م نے انسان کی شکل لیا اور ہم لوگوں میں رہا۔ ہم نے اس کا جلا ل دیکھا۔ جیسا کہ با پ کے اکلوتے بیٹے کا جلا ل۔ کلا م سچا ئی اور فضل سے بھر پور تھا۔ 15 یوحناّ نے اپنے بارے میں لوگوں سے کہا۔ یوحناّ نے واضح کیا کہ “یہ وہی ہے جس کے متعلق میں بات کر رہا تھا وہ جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زیادہ عظیم ہے اسلئے کہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔”

16 کلام سچا ئی اور فضل سے بھر پور تھا اور ہم تمام نے اُس سے زیادہ سے زیادہ فضل پایا۔ 17 شریعت تو موسیٰ کے ذر یعہ دی گئی لیکن فضل اور سچا ئی یسوع مسیح کے ذریعہ ملی۔ 18 کسی نے کبھی بھی خدا کو نہیں دیکھا لیکن اکلوتا بیٹا خدا ہے وہ باپ سے قریب ہے اور بیٹے نے ہمیں بتا یا کہ خدا کیسا ہے۔

(یوحنا1:14,16-18)

ہم اللہ تعالیٰ کے فضل اور سچائی کو کیسے جان سکتے ہیں؟ ہم نے اس کو حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی میں حقیقی طور پر چلتے پھرتے دیکھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے حواری آپکی زندگی میں سے اللہ تعالیٰ’کے فضل اور سچائی’ کو جان گئے تھے۔

لیکن شریعت کے احکام میں سے ہم نے اُس کے فضل اور سچائی کو اپنی آنکھیوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

بیٹا ۔ ۔ ۔ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہا ہے۔

‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کی یہ اصطلاح ہمیں حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے میں بہتر سمجھ بخشنے میں مدد کرتا ہے۔ (باپ سے بیٹے)حضرت لوقاؑ کی معرفت انجیل شریف میں حضرت عیسیٰ المسیح کا نسب نامہ لکھا ہے۔ جو حضرت آدمؑ سے جاملتا ہے۔ ہم نے نسب نامہ کو اختتام سے لیتے ہیں۔ جہاں یہ لکھا ہے۔

38 قینان انوس کا بیٹا تھا

انوس سیت کا بیٹا تھا

سیت ابن آدم تھا

اور آدم خدا کا بیٹا تھا۔

(لوقا3:38)

ہم نے یہاں پر پڑھا ہے۔ کہ حضرت آدم ؑ کو "اللہ تعالیٰ کا بیٹا” کہا گیا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ حضرت آدمؑ کا کوئی انسانی والدین نہیں ہیں؛وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ المسیح کے بھی کوئی انسانی والدین نہیں تھے۔ وہ ایک کنواری سے پیدا ہوئے تھے۔ جیسا کہ حضرت یوحنا ؑ کی معرفت انجیل میں لکھا ہے۔ کہ ‘وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے’ تھے۔

قرآن شریف میں سے بیٹے کی مثال

قرآن شریف بھی انجیل پاک کی طرح ہی بیٹے کے لیے مثال دیتا ہے۔ مندرجہ ذیل آیت پر غور کریں۔

آپ سے پوچھتے ہیں کہ وه کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیئے جو مال تم خرچ کرو وه ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہداروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے

(Surat al-Baqarah2:215)

یہاں پر لفظ ‘راستہ’ (یا مسافروں) کا لفظی مطلب ‘سڑک کا بیٹا’ ہے۔ اور اس عربی میں اس کو (ابنِ السبیل ) کہا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ لکھاری اور ترجمہ کرنے والا جانتا ہے۔ کہ اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی سڑک کا بیٹا ہے۔ لیکن اُس کا مقصد یہ کہ واضع کرے۔ کہ وہ ایک مسافر ہے۔ جو لوگ ہر وقت سڑک پر سفر کرتے رہتے ہیں۔

‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے کا کیا مطلب ہے۔

‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کی اصطلاح کا استعمال بلکل بائبل مقدس جیسا ہی ہے۔ جہاں بھی زبور، اور تورات شریف یا انجیل شریف میں "خدا کے بیٹے” کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کئی ہیں۔ اور اُس کی وجہ سے ایک بیٹا پیدا ہوا ہے۔ اس طرح کی سمجھ قدیم یونانی مذاہب سے ہے۔ جہاں پر مختلف خدواں کی بیویاں’ تھیں۔’ لیکن بائبل مقدس میں کہی بھی اس طرح کی تعلیم نہیں دی گئی۔ یقینی اس طور پر یہ ناممکن ہوجاتا ہے۔ جب کہہ گیا تھا۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح ایک کنواری سے پیدا ہوئے۔ جس کا مطلب ہے کسی بھی تعلق کے بغیر۔

خلاصہ

ہم نے مطالعہ کیا تھا۔ کہ حضرت یسعیاہ نے 750 ق م میں یہ پیش گوئی کردی تھی۔ کہ ایک مستقبیل میں خدا خود نشان نخشے گا۔

14 لیکن میرا مالک خدا تمہیں ایک نشان دکھا ئے گا :

دیکھو ! ایک پاکدامن کنواری حاملہ ہوگی اور وہ ایک بیٹے کو جنم دیگی۔
    وہ اپنے بیٹے کا نام عمانوایل رکھے گی۔

(Isaiah7:14)

ایک کنواری سے پیدا ہونے والے بیٹے کا یہ ہی مطلب ہے کہ اُس کا کوئی جنسی /انسانی باپ نہیں ہے۔ ہم نے حضرت جبرایل ؑ کے پیغام میں دیکھا۔ کہ اُنہوں نے حضرت مریم ؑ سے فرمایا کہ "خُدا تعالےٰ کی قُدرت تُجھ (مریمؑ) پر سایہ ڈالے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مریمؑ کے ناپاک تعلق کی وجہ سے ایسا نہیں ہوگا۔ ایسا سوچنا بھی گناہ اور شرک ہے اور اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی ہے۔ یہ بیٹا مَولُودِ مُقدّس ہو گا۔ یہ بغیر کسی انسانی سوچ و سمجھ کے براہ راست خدا تعالیٰ سے پیدا ہوگا۔ وہ خدا تعالیٰ سے براہ راست آئے گا جیسے اُس کا کلمہ نازل ہوتا ہے۔ جس طرح ہم کلام کرتے ہیں۔ بلکل اُسی طرح اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور حضرت عیسیٰ ؑ المسیح اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہیں۔ اس طرح حضرت عیسیٰ المسیح "خدا تعالیٰ کا بیٹا” اور خدا کا کلمہ ہیں۔

حضرت عیسیٰ کے ساتھ لفظ "مسیح” کہاں سے آیا؟

قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ کو "المسیح” کہا گیا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟  یہ کہاں سے آیا ہے؟ مسیحی کیوں حضرت عیسیٰ کو "مسیح” کہتے ہیں؟ کیا مسیح اور کرائسٹ (Christ) میں کو فرق پایا جاتا ہے؟ زبور شریف ہمیں ان تمام اہم سوالوں کے جوابات فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس مضمون کو سمجھنے سے پہلے ایک مضمون پڑھنا چائیں۔ " کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟” تاکہ آپ اس میں استعمال ہونے والے معلومات کو سمجھ سکیں۔

مسیح لفظ کی ابتدا

                   درج ذیل تصویر میں ” کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟” میں ترجمہ کرنے کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن خاص طور پر لفظ "مسیح” پر توجہ دی گئی ہے۔ کہ دورِ جدید میں انجیل شریف مین لفظ کیسے ترجمہ ہوا؟

لفط "مسیح" کا عبرانی زبان سے دورِ جدید میں ترجمہ
لفط "مسیح” کا عبرانی زبان سے دورِ جدید میں ترجمہ

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زبور شریف میں جسکی اصل زبان عبرانی ہے۔ اُس کے (مرحلہ نمبر1 ) میں "مسیح” “Mashiyach” استعمال ہوا ہے۔ جس کو عبرانی لغت میں "ایک ممسوح” یا "ایک مقدس” شخص کا مطلب دیا جاتا ہے۔ زبور شریف کے بعض حوالہجات میں ‘مسیح’ (Definite Article “The”  یعنی اُردو میں اسمِ معرفہ کہہ سکتے ہیں) کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ جب 250 ق م میں پفتادی ترجمہ ہوا ( دیکھیں "کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟ ) تو علماء اکرام نے عبرانی کے لفظ “Mashiyach”  "المسیح” کا یونانی میں بھی ایک لفظ "خریستوس” Christos- Χριστός جسکا اصل Chrio ہے۔ جس کا مطلب تیل ملنا ہے۔ لہذا لفظ مسیح (Christos- Χριστός) کا ترجمہ (لفظ کی آواز کے مطابق اس کا ترجمہ نہیں ہوا) ہفتادی ترجمہ میں عبرانی کے لفظ "مسیح” “Mashiyach” کو یونانی میں ایک مخصوص شخص کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دوسرا (مرحلہ نمبر 2) ہے۔ جس میں حضرت رعیسیٰ مسیح کے شاگردوں نے سمجھ لیا۔ کہ یہ وہی شخص ہیں۔ جن کے بارے میں ہفتادی ترجمہ بتایا گیا ہے۔ اور اس لیے اُنہوں نے انجیل شریف میں اس کو جاری رکھا۔

 لیکن دورِجدید کے انگریزی ترجمہ میں دو زبانوں میں “Christos” کا یونانی سے انگریزی (یا دوسری زبانوں میں مسیح یعنی Christ کا ترجمہ ہوا۔ یہ شکل نمبر تین کے نصف حصہ میں پائی جاتی ہے۔ اس طرح مسیح یا Christ زبور شریف میں سے ایک خاص لقب ہے۔ جو عبرانی زبان سے ترجمہ ہوکر یونانی میں آیا اور یونانی سے ترجمہ ہوکر انگریزی زبان میں ترجمہ ہوا۔ عبرانی زبان سے زبورشریف دورِ جدید میں مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ جس میں مترجمین نے لفظ "مشیاح” “Mashiyach” کا مختلف طریقوں سے ترجمہ کیا ہے۔ کچھ نے (جیسے کہ کنگ جمیز) عبرانی لفظ “Mashiyach” "مشیاح” کو انگریزی میں “Messiah” اور اردو میں "مسیحا” ترجمہ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک (جیسے کہ نیو انٹرنیشنل) میں لفظ “Mashiyach” "مشیاح” جو کہ زبورشریف کے اس مخصوص حوالہ میں اس لفظ کا ترجمہ "مسح شدہ” “Anointed one” کہا ہے۔ کسی بھی صورت میں ہم زبور شریف کے اس حوالہ میں لفظ “Christ” میں نہیں دیکھتے ہیں۔  بلکہ اس کی جگہ ” مسح شدہ” جسکا انگریزی میں ترجمہ “Anointed one” کہا جاتا ہے۔ لہذا پرانے عہد نامے کے اس حوالے کا تعلق واضع نہیں ہوتا۔ لیکن اس تجزیہ سے ہم جانتے ہیں۔ کہ بائبل مقدس یہ ہی لفظ پایا جاتا ہے۔

مسیح – مسیحا – مسح شدہ

لہذا قرآن شریف میں لفظ "مسیح” کہا پایا جاتا ہے؟

                             ہم نے دیکھا کہ کرائسٹ “Christ” مسیح “Messiah” مسح شدہ ایک لقب ہے۔ جن کو ہم نے بائبل مقدس میں مختلف حصوں میں پایا ہے۔ لیکن قرآن شریف میں "المسیح” کے بارے میں کیوں ذکرکرتا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے اُوپر دی گئی تصویر میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ بائبل مقدس میں "مشیاح” کومسیح کے لیے ظاہر کیا جاتا ہے۔ درج ذیل تصویر میں قرآن شریف کی عربی زبان میں مزید واضع کیا گیا ہے۔ جو عبرانی اور یونانی میں بائبل کے بعد عربی میں لکھا گیا۔ میں نے ایک حصے کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ حصہ A اُسی طرح ہے۔ جیسے ہم نے اُوپر والی تصویر میں اصل عبرانی متن میں موجود زبور شریف سے "مشیاح” کو بیان کیا ہے۔ اب نمبر B میں اسی اصطلاح کو ہم نے عربی زبان کے ساتھ بیان کیا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اصطلاح "مشیاح” کا ترجمہ قرآن شریف میں بطور "مسیح” کے ہوا ہے۔ اسی طرح قرآن شریف کا عربی زبان میں قرات کرنے والے شخص کو انگریزی زبان کے “Christ” کا متبادل ترجمہ دیتا ہے۔ جو کہ "المسیح” ہے۔

 اس ترجمے کے مراحل میں مسح شدہ – مسیح – مسیحا – کرائسٹ بیان کیا گیا ہے۔ اس علم کے پس منظر میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان سب کا لقب ایک ہی ہے اور سب کا مطلب بھی ایک ہے۔ جس طرح 4= Four  انگریزی میں اور فرانسسی میں "کواٹڑ اور رومن نمبر (IV) 6-2 = 2+2 –

المسیح کو پہلی صدی سے ہی توقع تھی

                                      آئیں اس علم کے ساتھ ہم انجیلِ مقدس پر توجہ لگاتے ہیں۔ ذیل میں بادشاہ ہیرویس کا ردِعمل دیکھیں۔ جب مشرق سے کئی دانشوار مجوسی، یہوددیوں کے بادشاہ کی پیدائش کی تلاش میں اُسکے کے پاس آئے۔  حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش اہم ترین واقع ہے۔ یہاں غور کرنے کی بات اگرچہ لفظ مسیح خصوصی طور پر عیسیٰ مسیح کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔

متی 2: 3-4

  یہ سُن کر ہیرودِیس بادشاہ اور اُس کے ساتھ یروشلِیم کے سب لوگ گھبرا گئے۔
اور اُس نے قَوم کے سب سَردار کاہِنوں اور فقِیہوں کو جمع کر کے اُن سے پُوچھا کہ مسِیح کی پَیدایش کہاں ہونی چاہئے؟

لیکن آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کہ المسیح کو ہیرودیس اور اُس کے مذہبی مشیروں نے پہلے ہی سے المسیح کو قبول کرلیا ہوا تھا۔ حتاکہ حضرت عیسیٰ مسیح پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اور یہاں نہ ہی خصوصی طور پر اُن کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا ہے۔ سینکڑوں سال پہلے حضر ت دواد جو ایک بادشاہ اور نبی تھے۔ اُنہوں نے زبور شریف میں مسیح کا ذکر کیا۔ اور یہ کتاب پہلی صدی میں یہودیوں کے ہاں عام پڑھی جاتی تھی۔ جس کا ترجمہ یونانی میں ہو چکا تھا۔ جس کو ہفتادی ترجمہ کہتے ہیں۔ مسیح ایک لقب تھا۔ (اور اب بھی ہے) نہ کہ ایک نام۔ اس کو اس طرح مضحکہ خیز نظریہ کو مسترد کرسکتے ہیں۔ جس طرح ڈونچی کوڈ فلم جو بہت زیادہ مقبول ہے۔ اس فلم نے نظریہ پیش کیا کہ "مسیح” لفظ ایک مسیحی شخص کی ایجاد ہے۔  جو کسی نے 300ء میں رومی بادشاہ کنٹسٹائن نے پیش کیا۔ لیکن یہ لقب سیکڑوں سال پہلے موجود تھا۔ اس سے کوئی مسیحی یا شہنشاہ کنٹسٹائن کی حکومت ہوتی۔

زبور میں مسیح کے بارے میں پیش گوئی

                   آئیں ہم زبور شریف میں لقب "المسیح” کے بارے میں سب سے پہلے بنوتی پیشن گوئی کو دیکھیں۔ جس کو حضرت داود نے ایک ہزار سال قبل از مسیح لکھا تھا۔ جو کہ حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش سے بہت پہلے لکھی گئی۔

 خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔
آؤ ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں اور اُن کی رسیاں اپنے اُوپر سے اُتار پھینکیں۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔                                                 زبور 2: 2-4

ہفتادی ترجمہ میں زبور شریف کے دوسرے باب میں جو یونانی زبان کا ترجمہ ہے۔ اس طرح پڑھا جاتا ہے۔

( میں یہاں اس کو خرستُس کے طور پر ترجمہ کررہا ہوں۔ تاکہ آپ مسیح کے لقب کو ہفتادی ترجمہ میں دیکھ سکیں)

 خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔
آؤ ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں اور اُن کی رسیاں اپنے اُوپر سے اُتار پھینکیں۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔                                                 زبور 2: 2-4

لیکن زبور شریف میں مسیح کے بارے آنے والے حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں۔ ان تراجیم کا ایک ترتیب کے ساتھ رہا ہے۔ جس میں مسیح، مسیحا، اور مسح شدہ ترجمے کو آپ دیکھ سکیں گے۔

عبرانی لفظی ترجمہ لاطینی ترجمہ عربی ترجمہ
10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر

اپنے (anoint one) ممسوح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔

17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔

10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے(Christ)کرئیسٹ کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔
10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے(Masih) مسیح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زبور شریف 132 میں مستقبیل کے زمانے کی طرف اشاہ کرتا ہے۔ (میں حضرت داود کے لیے ایک سینگ بناوگا) اور زبورشریف اور تورات شریف میں بھی اس کے بارے میں حوالہ جات ملتے ہیں۔ پشین گوئی کے بارے مین اندازہ کرتے وقت یہ واضع رہے کہ زبور شریف جو دعوۃ کرتا ہے۔ وہ مستقبیل کے بارے میں کرتا ہے۔ اور یہ انجیل شریف کا ذکر کئے بغیر کرتا ہے۔ بادشاہ ہیرودیس اس بات سے باخوبی واقف تھا کہ پرانے عہدنامے کے ابنیاءاکرام نے آنے والے مسیح کے بارے میں پیشن گوئیاں کی تھیں۔ اسی لیے وہ اس کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اُسے صرف اس بات کی ضرورت تھی۔ کہ اسکے مذہبی اصلاح کار اس پیشن گوئی کی وضاحت کریں وہ زبور شریف سے اچھی طریقہ سے واقف تھے۔ یہودیوں کو اپنے مسیحا کے انتظار کے حوالہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے مسیح کا انتظار کر رہیں ہیں۔ جس سے حضرت عیسیٰ کا اُن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن زبور شریف میں واضع طور پراُن پیشن گوئیوں کا تعلق مستقبیل میں آنے والے مسیحا کے ساتھ ہے۔

تورات شریف اور زبور شریف کی پیشن گوئیاں

حقیقت یہ ہے کہ تورات شریف اور زبور شریف خاص طور پرجو پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔ تو وہ مستقبیل کے دروازے کا تالا بن جاتیں ہیں۔ یہ تالا ایک مخصوص شکل میں ترتیب دیا گیا ہے۔ تاکہ یہ ایک مخصوص شکل کی چابی سے کھولا جائے۔ اسی طرح پرانے عہد نامہ ایک تالے کی طرح ہے۔ ہم نے پہلے ہی حضرت ابراہیم کی قربانی کے بارے اور حضرت موسیٰ کی فسح اور کنواری کے بیٹے کے بارے میں جان معلوم کیا ہے۔ جہاں اس آنے والے شخص کے بارے میں مخصوص پیشن گوئیاں پائی جاتیں ہیں۔ زبور شریف کے 32 ویں باب میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے۔ کہ "المسیح” حضرت داود بادشاہ کی نسل سے پیدا ہوگا۔ تاہم جب ہم پرانے عہدنامہ میں سے نبوتی پیشن گوئیاں پڑھتے ہیں تو یہ تالا مزید واضع ہوتا چلا جاتا ہے۔ زبور شریف کی پیشن گوئیوں کا اختتام یہاں ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ ہمیں مزید بتاتیں ہیں کہ مسیح کیا کریں گے۔ اوراس لیے ہم زبور شریف کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔

بنی اسرائیل کی تاریخ: کیا حضرت موسیٰ کئ نبوتی لعنیں واقعہ ہوئیں؟

بنی اسرائیل کی تاریخ کو آسانی سے سمجھنے کے لیے میں نےاس کی تاریخ کا ٹائم لائن بنایا ہے۔ ہم اس ٹائم لائن میں بنی اسرائیل کے انبیاء اکرام کو حضرت عیسٰی مسیح کی تاریخ تک رکھیں گے۔

بائبل کے معروف ترین انبیاء اکرام
بائبل کے معروف ترین انبیاء اکرام

اس ٹائم لائن میں ویسٹرن کلینڈر استعمال کیا گیا ہے۔ (یادرکھیں کہ اس میں قبل از مسیح یعنی BC کی تاریخ رکھی گئی ہے) رنگ دار سلاخیں بنیوں کی زندگی یا دور کو ظاہر کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ دونوں اپنی نشانیوں کی نسبت بہت ہی اہم ہیں جن کا ہم نے پہلے ہی مطالعہ کرلیا ہے۔ حضرت داود کی یہ پہچان ہے کہ اُن پر زبور شریف نازل ہوا۔ اور وہ بنی اسرائیل کے پہلے نبی تھے۔ جنہوں نے یروشلیم کو اپنا دارلحکومت بنایا۔ حضرت عیسیٰ مسیح بھی اہم نبی ہیں۔ کیونکہ وہ انجیل شریف کا مرکز ہیں۔

ہم سبز رنگ میں دیکھ سکتے ہیں کہ بنی اسرائیل مصر میں غلام تھی۔

اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام
اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام

 اس سبز رنگ کا دور اُس وقت شروع ہوتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم کے پڑپوتے حضرت یوسف نے اپنے لوگوں کو مصر میں بلایا۔ لیکن وہ وہاں غلام بن گئے۔ اور حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے فسح کی نشانی کے زریعے نکالا۔

اس طرح حضرت موسیٰ کے دور کو پیلے رنگ میں دیکھایا گیا ہے

یروشلم میں بادشاہ کے بغیر اسرائیل کی خود مختارحکومت
یروشلم میں بادشاہ کے بغیر اسرائیل کی خود مختارحکومت

 مصر کی غلامی کے بعد وہ اسرائیل (فلسطین) کی سرزمین پر رہنے لگے۔ حضرت موسیٰ نے اپنی زندگی کے آخرمیں اُن پر برکات اور لعنتوں کا اعلان کیا۔ جب ٹائم لائن کی سبز رنگ دار سلاخ پیلے رنگ کی طرف جاتی ہے۔ تو اس عرصے میں کئی سالوں وہ اسی ملک موعودہ کی سرزمین پر رہے۔ جس کا وعدہ حضرت ابراہیم کی پہلی نشانی میں کیا تھا۔ اس دور میں نہ ہی اُن کے پاس کوئی بادشاہ تھا۔ اور نہ ہی یروشلیم اُن کا دارالحکومت تھا۔

تاہم حضرت داود کے (1000) ایک ہزار قبل مسیح آنے سے بنی اسرائیل کے حالات بدل جاتے ہیں۔

حضرت داود اور ان کے بعد دوسرے بادشاہوں کی یروشلیم میں حکومت
حضرت داود اور ان کے بعد دوسرے بادشاہوں کی یروشلیم میں حکومت

حضرت داود نے یروشلیم کو فتح کیا اور اس کو دارلحکومت بنایا۔ جہاں پر بادشاہ کا محل بنایا گیا۔ حضرت داود کو حضرت سموائیل نے مسح کیا تھا اور اُس کا بیٹا سلیمان اپنی عقل، حکمت اور کامیبوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ حضرت سلیمان نے ایک اعلیٰ شان ہیکل کو یروشلیم میں تعمیر کیا۔ حضرت داود کی نسل نے 400 سال تک حکمرانی کی اور اس دور کو پیلے رنگ میں واضع کیا ہے۔ (1000-600 قبل مسیح) یہ دور بنی اسرائیل کے لیے شاندار تھا۔ اُنہوں نے خدا کی برکات اور وعدوں کو دیکھا۔ وہ دنیا کی طاقت وار قوم تھی۔ اُن کا اعلیٰ درجہ کا سماج اور ثقافت تھی۔ یہ اُس وقت کا دور تھا۔ جب انبیاءاکرام اللہ تعالٰی سے پیغام لیتے اور اُس کو حضرت داود کی زبور شریف میں درج کرتے جاتے۔ جس کو خود حضرت داود نے شروع کیا تھا۔ لیکن کیا وجہ تھی کہ بہت زیادہ انبیاءاکرام کو بھیجا گیا؟ تاکہ وہ اُن کو انتباہ کرسکیں اور یاد دلائیں کہ حضرت موسیٰ کی بتائیں ہوئیں لعنتیں نازل ہوسکتیں ہیں۔ لیکن بنی اسرائیل نے اُن انبیاء اکرام کی ایک نہ سُنی۔

آخرکار 600 قبل مسیح میں یہ لعنتیں نازل ہوگیئں۔ بابل سے ایک طاقتور بادشاہ نبوکدنظر آیا۔ اور جس طرح حضرت موسیٰ نے لعنتوں کے بارے میں نبوت کی۔ درج زیل نبوت کا مطالعہ کریں۔

49  خداوند دُور سے بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھالائے گا جیسے عقاب ٹوٹ کر آتا ہے ۔ اُس قوم کی زبان کو تُو نہ سمجھے گا ۔
50 اُس قوم کے لوگ تُرش رو ہونگے جو نہ بڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوانوں پر تر س کھائیں گے ۔
51  اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے اور وہ تیرے لیے اناج یا مَے یا تیل یا گائے بیل کی بڑھتی یا تیری بھیڑ بکریوں کے بچے کچھ نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ تجھ کو فنا نہ کر دیں ۔
52  اور وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کیے رہیں گے جب تک تیری اونچی اونچی فصلیں جن پر تیرا بھروسا ہو گا گِر نہ جائیں ۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی اُس ملک کی سب بستیوں میں کریں گے جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے ۔

                                                                                      استثناء 28: 49-52

نبوکدنظر نے یروشلیم کو فتح کیا اور اُس کو جلادیا اور سیلمانی ہیکل کو تباہ کردیا۔ جس کو خود حضرت سلیمان نے بنوایا تھا۔ اُس نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر پوری بابلی حکومت میں بطوراقلیت پھیلا دیا۔ صرف اُس نے غریب اسرائیلیوں کو پیچھے چھوڑدیا۔ اس طرح حضرت موسٰی کی نبوت پوری ہوئی۔

63  تب یہ ہو گا کہ جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تُم کو بڑھانے سے خداوند خوشنود ہوا ایسے ہی تمکو فنا کرانے اور ہلاک کر ڈالنے سے خداوند خوشنود ہو گا اور تُم اُس ملک سے اُکھاڑ دِئے جاو گے جہاں تُو اُس پر قبضہ کرنے کو جا رہا ہے ۔
64  اور خداوند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرےتک تمام قوموں میں پراگندہ کرے گا ۔ وہاں تُو لکڑی اور پتھر کے اور معبودوں کی جنکو تُو ہا تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا ۔                                                                                   اسثناء 28: 63-64

بابل نے فتح کیا اور بابل میں جلاوطن رہے
بابل نے فتح کیا اور بابل میں جلاوطن رہے

70 سال کا عرصہ سُرخ رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ جس میں بنی اسرائیل نے غلامی کے طور پر ملکِ موعودہ سے باہر زندگی بسر کی۔

اس کے بعد شاہ فارس خورس نے بابل کو فتح کیا اور وہ دنیا کا طاقتور شخص بن گیا۔ اور اُس نے بنی اسرائیل کو واپس ملکِ موعودہ میں جانے دیا۔

اسرائیل میں واپسی لیکن اسرائیل فارسی سلطنت کا صوبہ بن گیا
اسرائیل میں واپسی لیکن اسرائیل فارسی سلطنت کا صوبہ بن گیا

تاہم اب وہ غلامی سے رہائی کے بعد ایک آزاد ریاست کے طور پر نہیں رہتے تھے۔ بلکہ اسرائیل فارسی سلطنت کی حکومت کا ایک صوبہ بن گیا۔ یہ 200 سال تک ایک صوبہ کے طور پر رہا۔ اور اس کو گلابی رنگ میں دیکھایا گیا ہے۔ اس دور میں ہیکل کی تعمیر کی گئی۔ (یعنی دوسری ہیکل ) اور پرانے عہد نامے کے آخری حصہ کے انبیاءاکرام نے اپنے پیغامات اس دور میں تحریر کئے۔

اور پھر سکندرِاعظم نے فارس (موجودہ ایران) کی حکومت کو فتح کیا۔ اُس نے اسرائیل کو اپنی حکومت کا صوبہ بنالیا۔ جو اگلے 200 سال تک ایک صوبہ کے طور پر رہا۔ اس کو گہرے نیلے رنگ میں واضع کیا گیا ہے۔

اسرائیل یونانی سلطنت کا صوبہ بن گیا
اسرائیل یونانی سلطنت کا صوبہ بن گیا

پھر رومی حکومت نے یونانی حکومت کو فتح کر لیا۔ اور اُنہوں نے ایک عظیم رومی سلطنت کو قائم کیا۔ اسرائیل رومی حکومت کا صوبہ بن گیا۔ اس کو ہلکے پیلے رنگ میں واضع کیا گیا ہے۔ یہ حضرت عیسیٰ مسیح کا دور ہے۔ اس دور میں آپ اسرائیل میں موجود تھے۔ اس لیے انجیل شریف میں ہم رومی گورنر اور فوجیوں کو دیکھتے ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ مسیح کے دور میں یہودیوں کی سرزمین پر رومی حکومت کرتے تھے۔

اسرائیل رومی سلطنت کا ایک صوبہ
اسرائیل رومی سلطنت کا ایک صوبہ

تاہم 600 قبل مسیح سے لیکر اسرائیل کبھی بھی آزاد حکومت نہ بن سکا۔ جیسی حضرت داود اور دوسرے اسرائیلی حمکمرانوں نے حکومت کی۔ اُنہوں نے اس بات کو ناپسند کیا اور حضرت عیسیٰ مسیح کے آسمان پر صود فرمانے کے بعد یہودیوں نے رومی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ جنگِ آزادی کا آغاز ہوگیا۔ لیکن یہودیوں نے اس جنگ میں شکست کھائی۔ اس طرح رومیوں نے یروشلیم کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ اور دوسری طرف ہیکل کو آگ سے برباد کردیا۔ اور یہودیوں کو تمام رومی سلطنت میں غلام بنا کر بھیج دیا۔ جبکہ رومی حکومت اتنی بڑی تھی۔ کہ یہودی پوری دنیا میں منتشر ہوگے۔

رومی حکومت نے یروشلیم اور ہیکل کو سن70 ء میں برناد کردیا۔ اور یہودی پوری دنیا میں جلاوطن ہوگئے
رومی حکومت نے یروشلیم اور ہیکل کو سن70 ء میں برناد کردیا۔ اور یہودی پوری دنیا میں جلاوطن ہوگئے

اسی طرح وہ 2000 سال جلاوطنی میں رہے۔ اُن کو منتشر کردیا گیا۔ اور دوسرے ملکوں میں جلاوطن کردیا گیا۔ اور کسی ملک نے ان کو قبول نہ کیا۔ حضرت موسیٰ کے نبوتی کلام جو اُنہوں نے لعنت کے طور پر بیان کئے۔ وہ اُسی طرح پورے ہوئے۔

65  اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام مِلے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا ۔

                                                                                      استثناء 28: 65

تاہم لعنتوں کی نبوت جو حضرت موسیٰ نے کی تھی وہ پوری ہوگی۔ جی ہاں! یہ نہ صرف پوری ہوئیں بلکہ اس کے بارے ہر ایک بات پوری ہوئی۔ یہودیوں کی لعنت ہم غیر یہودیوں کے لیے نشان ٹھہرا۔

24  خداوند مینہ کے بدلے تیری زمین پر خاک اور دھول برسائے گا ۔ یہ آسمان سے تجھ پر پرتی ہی رہے گی جب تک کہ تُو ہلاک نہ ہو جائے ۔
25  خداوند تجھ کو تیرے دُشمنوں کے آگے شکست دلائے گا ۔ تُو اُنکے مقابلہ کے لیے تو ایک راستہ سے جائے گا اور اُنکے سامنے سے سات سات راستوں سے ہو کر بھاگے گا اور سُنیا کی تمام سطنتوں میں تُو مارا مارا ا پھرے گا ۔                         استثناء 28: 24-25

یہ انبیاء اکرام کی تعلیم ہمارے لیے بھی ایک اہم ترین نشان ہے۔ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ کیونکہ یہ ہمیں بھی خبردار کرتا ہے۔ یقینی طور پر یہ تاریخی سروے 2000 سال کا ہے۔

یہاں کلک کریں اور معلوم کریں کہ کیسے حضرت موسیٰ کی برکات اور لعنتوں کی نبوت ہمارے جدید دور میں پوری ہورہی ہے۔

ہمیں شریعت کی کس حد تک اطاعت کرنے کی ضرورت ہے ؟

ہمیں شریعت کی کس حد تک اطاعت کرنے کی ضرورت ہے ؟

کبھی بار میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ واقعی اللہ تعالیٰ 100٪ اطاعت کے مطالبہ کی توقع رکھتا ہے؟ ہم انسانوں  کے درمیان اس سوال پر بحث کر سکتے ہیں۔  لیکن دراصل اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنا چاہیے۔ نہ ہماری طرف سے۔ اس لیے میں نے تورات کی سادہ آیات یہاں رکھ دیں ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں۔ کہ کس حد تک ہم کو شریعت کی اطاعت کرنی ضرورت ہے۔ جو مندرجہ ذیل ہیں۔ غور کریں کے یہ آیات کتنی ہیں اور کتنی واضع ہیں۔ ان آیات کے جملے معنی خیز باتوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ‘احتیاط کر کے عمل کریں’،’تمام احکام’،  ” اپنے پورے دل سے”،”ہمیشہ حکام کی اطاعت کرو”،”سب کچھ”،  "تمام آئین”،  "مکمل طور پر اطاعت”،  "سارا کلام”،  "تمام کلام کو سننے سے”.

بعد میں آنے والے بنیوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کو اس طرح قبول اور اطاعت کرنے کا حکم دیا اور حضرت عیسیٰ مسیح نے بھی یہ سیکھایا۔

17 یہ نہ سَمَجھو کہ مَیں توریت یا نبِیوں کی کتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہُوں۔ منسُوخ کرنے نہِیں بلکہ پُورا کرنے آیا ہُوں۔
18 کِیُونکہ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تک آسمان اور زمِین ٹل نہ جائیں ایک نُقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگِز نہ ٹلے گا جب تک سب کُچھ پُورا نہ ہو جائے۔
19 پَس جو کوئی اِن چھوٹے سے چھوٹے حُکموں میں سے بھی کِسی کو توڑے گا اور یہی آدمِیوں کو سِکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکِن جو اُن پر عمل کرے گا اور اُن کی   تعلِیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔

متی5 :17-19

اور حضرت محمدؑ حدیث میں یوں کہتے ہیں

عبداللہ ابن ِ عمر بیان فرماتے ہیں۔۔۔۔۔یہودی کا لشکر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ ولی وسلم حضرت محمد کوف کے لئے دعوت دی۔۔۔۔۔ اُنہوں نے کہا،‘ابو القاسم ، کہ اُس نے ایک عورت کے ساتھ زناکاری کی ؛ سو اُس پر بھی عدالت ہوگی۔ اُنہوں نے اللہ کے رسول کے لئے تکیہ دیا اور وہ اُس سے بیٹھے اور کہا؛‘‘ توریت لے کر آؤ’’۔ تب وہ توریت لے کر آئے۔پھر آپ نے تکیہ نکلا اور توریت کو رکھا اور یہ کہا؛‘‘میں اِس پر ایمان رکھتا ہوں اور اُس پر بھی جس نے اِس کا نازل فرمایا۔’’ سنُت ابودادؤ  کتابچہ 38، نمبر 4434

اور اس کی صرف اسی طرح سمجھ آتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ جنت کی تیاری کر رہا ہے – اور یہ ایک کامل اور مقدس جگہ ہے – جہاں وہ  خود رہتا ہے۔وہاں نہ کوئی پولیس، نہ کوئی افواج، نہ کسے تالے  کی ضرورت ہوں گی. اور تمام دیگر سیکورٹی جس سے ہم ایک دوسرے کے گناہوں سے خود کو کی حفاظت کرتے ہیں ویاں اس کی ضروت نہیں ہوگی۔ اس لیے وہ جنت ہوگی۔ لیکن یہ ایک کامل اور پاک صاف جگہ رہے گی۔ اور وہاں صرف کامل لوگ داخل ہوسکیں گے۔ جنہوں نے "تمام احکامات”، "پر ہمیشہ، کلی” اور "ہر پہلو” میں پیروی کی۔

یہاں پر درج ہے کہ تورات شریف شریعت کی اطاعت کے بارے میں  کیا  بتاتی ہے کہ ہمیں اس کس کی حد تک  پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔

احبار 18

سو تم میری شریعت پر عمل کرنا اور میرے حکموں کو ماننا اور ان پر چلنا تو تم اس ملک میں امن کے ساتھ بسے18: 25احبار

26:3 احبار

یہ جھالر تمہارے لیے ایسی ہو کہ جب تم اسے دیکھو تو خداوند کے سب حکموںکو یاد کرکے ان پر عمل کرو اور اپنی آنکھوں کی خواہشوں کی پیروی میں زنا کاری نہ کرتے پھرو جیسا کرتے آئے ہو       15:39 گنتی

15:40 گنتی

5:27 استثناء

 سو تُو خداوند اپنے خدا سے محبت رکھنا اور اُسکی شرع اور آئین اور احکام اور فرمانوں پر سدا عمل کرنا ۔ 11:1 استثناء

11:13 استثناء

سو تُم احتیاط کر کے اُن سب آئین اور احکام پر عمل کرنا جنکو میں آج تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں ۔11:32 استثناء

12:28 استثناء

13:18 استثناء

بشرطیکہ تُو خداوند اپنے خدا کی بات مانکر اِن سب احکام پر چلنے کی احتیاط رکھے جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں ۔15:5 استثناء

26:14 استثناء

اور اگر تُو خداوند اپنے خدا کی بات کو جانفشانی سے مان کر اُسکے سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا دُنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرے گا ۔28:1 استثناء

28:15 استثناء

30:2 استثناء

30:8 استثناء

بشرطیکہ تُو خداوند اپنے خدا کی بات کو سُنکر اُسکے احکام اور آئین کو مانے جو شریعت کی اِس کتاب میں لکھے ہیں اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے خداوند اپنے خدا کی طرف پھرے ۔ 30:10 استثناء

تو اُس نے اُن سے کہا کہ جو باتیں میں نے تم سے آج کے دن بیان کی ہیں اُن سب سے تُم دل لگا نا اور اپنے لڑکو کو حکم دینا کہ وہ احتیاط رکھ کر اِس شریعت کی سب باتوں پر عمل کریں ۔32:46 استثناء

کیوں ایک انجیل کے لیے چار اناجیل ہیں؟

میں کبھی پوچھتا ہوں کہ کیوں ایک انجیل(بائیبل مقدس) میں چار مختلف اناجیل ہیں جو چار مختلف لوگوں نے تحریر کی ہیں؟ کیا اس میں متضاد پایا جاتا ہے اور کیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے؟

بائیبل مقدس اس کے بارے میں لکھا ہے۔

3:16-17 تیِمُتھِیُس 2

ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لیے فئدہ مند بھی ہے۔ تاکہ مردِ خدا کامِل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لیے بالکل تیار ہو جائے ۔

لہذا بائبل مقدس کا دعوہ کرتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہی کتابِ مقدس کا مصنف ہے انسانوں نے  اللہ تعالیٰ  کے پاک روح کے وسیلے سے اس کو تحریر کیا ہے۔ اس پر قرآن پوری طرح متفق ہے۔ اس پوسٹ میں ہم نے بڑھے غورسے دیکھا ہے۔"قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟”

لیکن کس طرح ایک انجیل میں چار اناجیل کو سمجھ سکتے ہیں؟ قرآن شریف میں اکثر ایک واقعہ کے لیے کئی حصے مختلف جگہ پر درج ہیں۔ جب ہم ان تمام حصوں کو اکٹھا پڑھتے ہیں تو واقعہ کی مکمل تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔

مثال کے طور پر:حضرت آدم ؑ کا نشان کے بارے میں19-7:26 سورۃ الاعراف جنت کے واقعہ کا ذکر ہوا ہے۔ لیکن اسکا ذکر سورۃ ٰطہٰ میں 121-123: 20 میں بھی ذکر ہوا ہے۔ لیکن اس دوسرے حوالے میں ہم اور زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ کہ حضرت آدم ؑ  کو گمراہ کیا گیا تھا۔ جسکا ذکر سورۃ الاعرف میں نہیں ملتا۔ ان دونوں حوالہ جات کو پڑھنے کے بعد ہم حضرت آدم ؑ کے واقعہ کو بہتر اور مکمل طور پر سمجھ پاتے ہیں۔ اور ان دونوں حوالہ جات کا یہی مقصد تھا کی ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔

اسی طرح چار اناجیل (کتابِ مقدس) بائبل مقدس میں ہمیشہ اور صرف ایک ہی انجیل کو پیش کرتی ہیں۔ جب ہم ان کو اکٹھا پڑھتے ہیں۔ تو یہ ہم کو حضرت عیسی کی انجیل کی مکمل سمجھ بخشتی ہیں۔ ہر چوتھی انجیل میں ایک خاص مواد ملتا ہے جو دوسری تینوں اناجیل میں نہیں ملتا۔ اس طرح جب ہم ان کو اکٹھا پڑھتے ہیں۔ تو یہ ہم کو واضع تصویر پیش کرتی ہیں۔

اس لیے جب ہم انجیل شریف کی بات کی جاتی ہے تو اس کو واحد ہی شمار کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں ایک حوالہ ہے جس میں اسکی مثال پائی جاتی ہے۔ کہ انجیل کا شمار ہمیشہ واحد ہوا ہے۔

گلتیوں 11-1:13

 اے بھا ئیو! میں تمہیں جتائے دیتا ہوں کہ میں نے جس انجیل کی تعلیم تمہیں دی ہے اس کو انسان نے نہیں بنایا۔  اور

کیونکہ وہ (انجیل) مجھے انسان کی طرف سے نہیں پہنچی اور نہ مجھے سیکھائی گئی بلکہ یسوع مسیح کی طرف سے مجھے اُس کا مکاشفہ ہوا۔

۔چنانچہ یہودی طریق میں جو پہلے میرا چال چلن تھا تم سُن چکے ہو کہ میں خدا کی کلیسیا کو ازحد ستاتا اور تباہ کرتا تھا۔

اسی طرح انجیل شریف کا ذکر قرآن شریف میں ہوا ہے۔ آپ ہماری اس پوسٹ کو پڑھ سکتے ہیں۔ قرآن شریف میں انجیل مقدس کا نمونہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے۔ لیکن جب ہم انجیل شریف کے گواہوں یا کتابوں کی بات کرتے ہیں ۔ تو یہ چار ہیں۔ درحقیقت شریعت کے مطابق کسی بات یا معاملے میں صرف ایک گواہ کی گواہی پر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ شریعت کے مطابیق کم از کم دو یا تین گواہوں کی گواہی درکار ہوتی ہے۔(گنتی 19:15) جو ایک خاص واقعہ یا پییغام کی گواہی دیتے ہیں۔ چار گواہوں کو فراہم کرنے کی وجہ سے انجیل شریف شریعت کی درکار ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

کیوں بائبل مقدس کے بہت سارے ورژن / تراجم پائے جاتے ہیں؟

کچھ عرصہ پہلے میں ایک مسجد میں تھا۔ اور وہاں ایک امام صاحب کو سُن رہا تھا۔ امام صاحب نے جو کچھ کہا وہ بالکل غلط اور سچائی سے پر مبنی نہیں تھا۔ جو کچھ میں نے امام صاحب سے سُنا وہ میں نے پہلے ہی اپنے دوستوں نے سُن چکا تھا۔ اور شائد آپ نے بھی اس کو سنا ہو۔ اس سب کچھ نے میرے ذہین میں مختلف سوال پیدا کردیے۔ آیئں ان پر مِل کرغور کرتے ہیں۔

امام صاحب نے کہا کہ بائبل مقدس کے بہت سارے ورژن / تراجم ہیں ۔ انگلش میں آپ کو کنگ جیمز ورژن، نیو انٹرنیشنل ورژن ، دی نیو امریکن سٹنڈرڈ ورژن ، اور دی نیو انگلش ورژن پڑھ سکتے ہیں اور اس طرح کے کئی اور ورژن مل جائیں گے۔ پھر امام صاحب نے کہا بہت سارے مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے بائبل میں تبدیلی ہو چکی ہے۔ تاہم یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کون سا ترجمہ درست ہے۔

جی ہاں! ہمارے بہت سارے تراجم موجود ہیں ۔ لیکن ن کا بائبل مقدس میں تبدیلی کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی یہ مختلف کتابیں ہیں۔ دراصل حقیقت میں ایک ہی بائبل ہے۔

مثال کے طور پر جب کبھی ہم بات کرتے ہیں۔ دی نیو انٹر نیشنل ورژن کی۔ تو ہم دراصل بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک خاص ترجمے کی جو اصل بائبل کے متن یونانی (انجیل) اور عبرانی (تورات، زبور) سے انگلش میں جسکا ترجمہ ہوا۔ دی نیو امریکن سٹینڈرڈ ورژن ایک اور ترجمہ ہے جو اصل بائبل کے متن یونانی اور عبرانی زبان سے انگلش میں ترجمہ ہوا۔

اسی طرح کی صورت حال قرآن شریف کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ عام طور پرمیں یوسف علی کا ترجمہ استعمال کرتا ہوں۔ لیکن کئی بار میں پکٹ ہال کا ترجمہ بھی استعمال کرتا ہوں۔ پکٹ ہال نے وہی قرآن سے ترجمہ کیا جس کو یوسف علی نے ترجمے کے لیے استعمال کیا۔ لیکن اس کی انگلش کے الفاظ کا مجموعہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ لیکن نہ کوئی عیسائی، نہ کوئی یہودی، اور نہ کوئی لادین یہ کہتا ہے۔ کہ انگلش میں قرآن شریف کے دو مختلف تراجم ہیں اس لیے یہ دو قرآن شریف بھی دو ہیں یا قرآن شریف میں تبدیلی ہوگئی ہے۔

اسی طرح یونانی میں انجیل شریف اور عبرانی میں تورات اور زبور شریف ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ ان زبانوں کو نہیں جانتے اور نہ ہی پڑھتے ہیں۔ اس لیے انگلش میں مختلف تراجم موجود ہیں۔ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنی اصل زبان میں سمجھ سکیں۔

آج جب بہت سارے لوگ اپنی مادری زبان انگلش اور اردو میں مختلف تراجم یا ورژن پڑھتے ہیں۔ تاکہ وہ بہتر طورپر کلام اللہ کو سمجھ سکیں۔ لیکن کیا تراجم میں غلطیاں پائی جاتی ہیں؟ تو کیا ؐمختلف تراجم ہمیں بتاتے ہیں کہ جو کچھ اصل مصنف نے لکھا اسکا درست ترجمہ کرنا ناممکن ہے؟ لاتعداد یونانی میں پرانا لٹریچر ہونے کی وجہ سے یہ ممکن ہے۔ کہ اصل زبان میں جو کچھ مصنف نے لکھا ہے۔ اُس کا درست ترجمہ ہوسکتا ہے۔ دراصل مختلف جدید تراجم کچھ اس طرح ہیں۔

یہاں ایک آیت نئے عہد نامے سے مثال کے طورپر لی گئی ہے۔

1-تمتھیس2:5

یونانی میں

εις γαρ θεος εις και μεσιτης θεου και ανθρωπων ανθρωπος χριστος ιησους

پہلا ترجمہ

کیونکہ خدا ایک ہے اور خدا اور انسان کے بیچ میں درمیانی بھی ایک ہے یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے۔

دوسرا ترجمہ

کیونکہ خدا ایک ہے اور خدا اورانسانوں کے درمیان ایک صلح کرانے والا بھی موجود ہے یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دونوں تراجم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ ان میں چند مختلف مترادف الفاظ کا ہی فرق ہے۔ یہ دونوں تراجم ایک ہی بات بات کہہ رہے ہیں۔ لیکن الفاظ کا چُناو مختلف ہے۔ کیونکہ بائبل مقدس ایک ہے اور اس وجہ سے اس کے تراجم بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مختلف بائبلیں ہیں۔ جس طرح میں نہیں شروع میں کہا تھا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے مختلف بائبلیں پائی جاتی ہیں۔

بات کو اور ٹھیک طور پر سمجھنے کے لیے ہم قرآن شریف کے تراجم کی مثال لے سکتے ہیں۔

یہاں پر اردو کے دو تراجم سے مثال لیتے ہیں۔ ایک ترجمہ حضرت مولانا فتح محمد جالندھری کا ہے دوسرا تفہیم القرآن اورتیسرا انٹرنیٹ سے لیا گیا ہے۔

 سورة الفَاتِحَة آیت 1

‏ (جالندھری) سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے

(تفہیم القرآن) تعریف اللہ کے لیے جو تمام کائنات کا رب ہے۔

(القران اردو ترجمہ) سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا۔

اب اس کا کیا مطلب ہے کہ ہم یہ کہنا شروع کردیں کہ جناب قرآن شریف میں تبدیلی ہوگئی ہے؟ یا یہ کہنا شروع کردیں کہ مختلف قرآن شریف پائے جاتے ہیں؟ ںہیں! یہ کہنا بالکل عقل کے خلاف ہوگا۔ کہ قرآن شریف کی مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے مختلف قرآن شریف ہیں۔ دراصل قرآن شریف کی اصل زبان عربی ہے۔ اور اردو میں قرآن شریف کے تین تراجم ہیں۔ جن میں الفاظ کا چناو مختلف ہے۔ لیکن مطلب ایک ہی ہے۔

اسی طرح بائبل مقدس کی یونانی اور عبرانی اصل زبانیں ہیں۔ جن کا اُردو اور انگلش میں بائبل کے مختلف تراجم ہائے جاتے ہیں۔ جن میں الفاظ کا چناو مختلف ہے لیکن مطلب اور بائبل مقدس ایک ہی ہے۔

تورات میں اسمعیل کا اکاؤنٹ کیا ہے؟

تورات شریف سے حضرت اسمعیل کے حالات

حضرت اسمعیل کے ساتھ جو ہوا اس کے بارے میں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ حضرت موسٰی کے وسیلے سے تورات 3500 سال پہلے لکھی گئی اور اس بات کی وضاحت میں ہماری مدد کرتی ہے۔کہ حضرت اسمعیل کی زندگی کو سمجھ سکیں ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم سے وعدہ کیا تھاکہ وہ اُس کو برکت دے گا اور اُس کی نسل کو سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند کردے گا۔( اس وعدہ کو یہاں پڑھیں) حضرت ابراہیم نے اپنی دونوں بیویوں سے دو بیٹوں کو حاصل پایا۔ لیکن ان کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا اور حضرت ابراہیم حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل کو دور بھجنے پر مجبور ہوگیا۔ یہ جھگڑا دو مراحل میں واقعہ ہوا۔ پہلا واقعہ حضرت اسمعیل کی پیدائش کے بعد اور حضرت اضحاق کی پیدائش سے پہلے واقع ہو۔ براہ مہربانی یہاں پڑھیں کہ تورات شریف اسکے بارے میں کیا کہتی ہے۔ اور کیسے اللہ تعالٰی نے حضرت ہاجرہ کو  محفوظ کیا اور حضرت اسمعیل کو اپنی برکت عطا کی۔

(حضرت ہاجرہ اور حضرت اسٰمعیل (پیدایش کی کتاب 16 باب

1 اور ابرام کی بیوی ساری کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اُس کی ایک مصری لونڈی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا۔

2 اور ساری نے ابرام سے کہا دیکھ خداوند نے مجھے تو اولاد سے محروم رکھا ہے سو تو میری لونڈی کے پاس جا شائد اُس سے میرا گھر آباد ہو اور ابرام نے ساری کی بات مانی ۔

3 ابرام کو ملک کنعان میں رہتے دس برس ہوگئے تھے جب اُس کی بیوی ساری نے اپنی مصری لونڈی اُسے دی کہ اُس کی بیوی بنے۔

4 اور وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور جب اُسے معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہوگئی تو اپنی بی بی کو حقیر جاننے لگی۔

5 تب ساری نے ابرام سے کہا کہ جو ظلم مجھ پر ہوا وہ تیری گردن پر ہے۔ میں نے اپنی لونڈی تیرے آغوش میں دی اور اب جو اُس نے آپ کو حاملہ دیکھا تو میں اُس کی نظروں میں حقیر ہوگئی۔ سو خداوند میرے اور تیرے درمیان انصاف کرے۔

6 ابرام نے ساری سے کہا کہ تیری لونڈی تیرے ہاتھ میں ہے جو تجھے بھلا دکھائی دے سو اُس کے ساتھ کر ۔ تب ساری اُس پر سختی کرنے لگی اور وہ  اُس کے پاس سے بھاگ گئ۔

7 اور وہ خداوند کے فرشتہ کو بیابان میں پانی کے ایک چشمہ کے پاس ملی ۔ یہ وہی چشمہ ہے جو شور کی راہ پر ہے۔

8 اور اُس نے کہا اے ساری کی لونڈی ہاجرہ تو کہاں سے آئی اور کدھر جاتی ہے؟ اُس نے کہا کہ میں اپنی بی بی ساری کے پاس سے بھاگ آئی ہوں۔

9 خداوند کے فرشتہ نے اُس سے کہا کہ تو اپنی بی بی کے پاس لوٹ جااور اپنے کو اُس کے قبضہ میں کردے ۔

10 اور خداوند کے فرشتہ نے اُس کے کہا کہ میں تیری اولاد کو بہت بڑھاوں گا یہاں تک کہ کثرت کے سبب سے اُس کا شمار نہ ہو سکے گا۔

11 اور خداوند کے فرشتہ نے اُس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرے بیٹا ہوگا۔ اُس کا نام اسمعیل رکھنا اس لیے کہ خداوند نے تیرا دُکھ سن لیا۔

12 وہ گورخر کی طرح آزادمرد ہوگا۔ اُس کا ہاتھ سب کے خلاف اور سب کے ہاتھ اُس کے خلاف ہوں گے اور وہ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسارہے گا۔

13 ہاجرہ نے خداوند کا جس نے اُس سے باتیں کیں اتاایل روئی نا رکھا یعنی اے خداوند تو بصیر ہے کیونکہ اُس نے کہا کیا میں نے یہاں بھی اپنے دیکھنے والے کو جاتے ہوئے دیکھا۔

14 اسی سبب سے اُس کنوئیں کا نام بیرلحی روئی پڑگیا ۔ وہ قادس اور برد کے درمیان ہے۔

15 اور ابرام سے ہاجرہ کے ایک بیٹا ہوا اور ابرام نے اپنے اُس بیٹے کا نام ہاجرہ سے پیدا ہوا اسمعیل رکھا۔

16 اور جب ابرام سے ہاجرہ کے اسمعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا۔

ہم ان آیات میں دیکھتے ہیں۔ کہ حضرت ہاجرہ ایک نبیہ تھی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بات کرتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اپنے بیٹے کا نام اسماعیل رکھنا اور اللہ تعالیٰ نے اُس سے وعدہ کیا کہ وہ اسماعیل کو شمار میں بہت بڑھا دے گا۔ تاہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کرنے اور وعدہ ملنے کی وجہ سے حضرت ہاجرہ اپنی مالکن کے پاس واپس آجاتی ہے اور جھگڑا تھوڑی دیر کے لیے روک جاتا ہے۔

جھگڑا دوبارہ بڑھتا ہے

لیکن جب 14 سال بعد حضرت اضحاق حضرت سارہ کے گھر پیدا ہوا تو یہ جھگڑا پھر سے شروع ہوگیا۔ ہم اس کو تورات میں پڑھ سکتے ہیں کہ یہ کیسے ہوا۔

پیدایش 21: 8-21

8 اور وہ لڑکا بڑھا اور اُس کا دودھ چھرایا گیا اور اضحاق کے دودھ چھڑانے کے دن ابرام نے بڑی ضیافت کی ۔

9 اور سارہ نے دیکھا کہ ہاجرہ مصری کا بیٹا جو اُس کے ابرہام سے ہوا تھا ٹھٹھے مارتا ہے۔

10 تب اُس نے ابرام سے کہا کہ اس لونڈی کو اور اُس کے بیٹے کو نکال دے کیونکہ اس لونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اضحاق کے ساتھ وارث نہ ہوگا۔

11 پر ابرہام کو اُس کے بیٹے کے باعث یہ بات نہایت بُری معلوم ہوئی۔

12 اور خدا نے ابرہام سے کہا کہ تجھے اس لڑکے اور اپنی لونڈی کے باعث بُرا نہ لگے۔ جو کچھ سارہ تجھ سے کہتی ہے تو اُس کی بات مان کیونکہ اضحاق سے تیری نسل کا نام چلے گا۔

13 اور اس لونڈی کے بیٹے سے بھی میں ایک قوم پیدا کروں گا اس لیے کہ وہ تیری نسل ہے۔

14 تب ابرہام نے صبح سویرے اُٹھ کر روٹی اور پانی کی ایک مشک لی اور اُسے ہاجرہ کو دیا بلکہ اُسے اُس کے کندھے پر دھر دیا اور لڑکے کو بھی اُس کے حوالہ کرکے اُسے رخصت کردیا۔ سو وہ چلی گئی اور بیرسبع کے بیابان میں آوارہ پھرنے لگی۔

15 اور جب مشک کا پانی ختم ہوگیا تو اُس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے نیچے ڈال دیا۔

16 اور آپ اُس کے مقابل ایک تیر کے ٹپے پر دور جا بیٹھی اور کہنے لگی کہ میں اس لڑکے کا مرنا تو نہ دیکھوں۔ سو وہ اُس کے مقابل بیٹھ گئی اور چلا چلا کر رونے لگی۔

17 اور خدا نے اُس لڑکے کی آواز سنی اور خدا کے فرشتہ نے آسمان سے ہاجرہ کو پکارہ اور اُس سے کہا اے ہاجرہ تجھ کو کیا ہوا؟ مت ڈر کیونکہ خدا نے اُس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اُس کی آواز سن لی ہے۔

18 اُٹھ اور لڑکے کو اُٹھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کیونکہ میں اُس کو ایک بڑی قوم بناوں گا۔

19 پھر خدا نے اُس کی آنکھیں کھولیں اور اُس نے پانی سے بھرلیا اور لڑکے کو پلایا۔

20 اور خدا اُس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑا ہوا اور بیابان میں رہنے لگا اور تیرانداز بنا۔

اور وہ فاران کے بیابان میں رہتا تھا اور اُس کی ماں نے ملک مصر سے اُس کے لیے بیوی لی۔

ہم یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت سارہ ( اُسکا نام ساری سے سارہ میں  تبدیل ہوگیا) حضرت ہاجرہ کے ساتھ ایک گھر میں رہنا نہیں چاہتی تھی۔ اور اُس نے مطالبہ کیا کے حضرت ہاجرہ کو دور بھیج دیا جائے۔ حضرت ابراہیم کے لیے یہ بہت مشکل تھا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم سے وعدہ کیا کہ وہ حضرت ہاجرہ کو اور حضرت اسمعیل کو برکت دے گا۔ اسی لیے اللہ تعالٰی نے حضرت ہاجرہ پر ظاہر پر ہوا اور اُس نے اُسکی آنکھیں کھولیں تاکہ بیابان میں پانی کو دیکھ سکے اور وعدہ کیا کہ وہ اسمعیل کو بڑی قوم بنائے گا۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ کیسے یہ قوم نے ترقی کرنا شروع کردی۔ ہم حضرت اسمعیل کے بارے میں حضرت ابراہیم کی وفات کے وقت پڑھتے ہیں۔

پیدایش 25: 8-18

8 تب ابرہام نے دم چھوڑ دیا اور خوب بڑھاپے میں نہایت ضعیف اور پوری عمر کا ہوکر وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جاملا۔

9 اور اُس کے بیٹے اضحاق اور اسمعیل نے مکفیلہ کے غار میں جو ممرے کے سامنے جتی صحر کے بیٹے عفرون کے کھیت میں ہے دفن کیا۔

10 یہ وہی کھیت ہے جسے ابرہام نے بنی جت سے خریدا تھا۔ وہیں ابرہام اور اُس کی بیوی سارہ دفن ہوئے۔

11 اور ابرہام کی وفات کے بعد خدا نے اُس کے بیٹے اضحاق کو برکت بخشی اور اضحاق بیرلحی روئی کے نزدیک رہتا تھا۔

12 یہ نسب نامہ ابرہام کے بیٹے اسمعیل کا ہے جو ابرہام سے سارہ کی لونڈی ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوا۔

13 اور اسمعیل کے بیٹوں کے نام یہ ہیں۔ یہ نام ترتیب وار ان کی پیدایش کے مطابق ہیں۔ اسمعیل کا پہلوٹھا نبایوت تھا۔ پھر قیدار اور اوبئیل اور میسام ۔

14 اور مشماع اور دومہ اور مسا۔

15 حدد اور تیما اور یطور اور نفیس اور قدمہ

16 یہ اسمعیل کے بیٹے ہیں اور ان ہی کے ناموں سے ان کی بستیاں اور چھاونیاں نامزد ہوئیں اور یہی بارہ اپنے اپنے قبیلہ کے سردار ہوئے۔

17 اور اسمعیل کی کل عمر ایک سو سینتیس برس کی ہوئی تب اُس نے دم چھوڑ دیا اور وفات پائی اور اپنے لوگوں میں جاملا۔

18 اور اُس کی اولاد حویلہ سے شور تک جو مصر کے سامنے اُس راستہ پر ہے جس سے اسور کو جاتے ہیں آباد تھی۔ یہ لوگ اپنے سب بھائیوں کے سامنے بسے ہوئے تھے۔

ہم نے دیکھا کہ حضرت اسمعیل  نے لمبے عرصہ زندگی گذاری اور اُس کے بیٹوں نے بارہ قبیلعے بنائے۔ اللہ تعالٰی نے اُس کو برکت دی جسکا اُس نے وعدہ کیا تھا۔

حضرت ابراہیم نے حضرت اضحاق یا حضرت آسماعیل کو قربان کیا؟

میرے بہت سارے دوست، جب کبھی حضرت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ کی بات کرتے ہیں۔ تو ہر بار وہ زور دیتے ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم کا بڑا بیٹا جو حضرت ہاجرہ سے پیدا ہوا۔ جسکا نام حضرت اسماعیل کی قربانی گزرانی گئی۔ تاہم میں نے جب قرآن شریف کی آیت کو پڑھا توحیران ہوگیا۔ جب میں نے اسی آیت کو اپنے دوستوں کو پڑھنے کو کہا تو وہ بھی پڑھ کر حیران سے ہوگئے۔ اس آیت میں ایسا کیا لکھا ہے؟ جو سب حیران ہوگے۔ حضرت ابرہیم کی تیسری نشانی کے اہم واقعہ میں ہم نے پڑھا اور پاک کتابوں میں سے جو حوالہجات پیش کئے گے۔ ان میں سے ایک خاص آیت کو میں نے یہاں پیش کیا ہے۔

سورۃ الصافات 37: 102

پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے۔ کہا میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، اللہ نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔

آپ اس حوالے میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ میں اس کے بیٹے کا نام بیان نہیں کیا گیا۔ تو اس طرح مسلہ مبہم ہو جاتا ہے۔ جب کوئی مسلہ یا چیز مبہم ہو جاتی ہے۔ تو بہترین حال یہ ہے کہ تحقیق اور مطالعہ کیا جائے۔ جب آپ ہورے قرآن شریف میں حضرت اسماعیل کے نام کی تحقیق کرتے ہیں۔ تو پورے قرآن شریف میں کُل 12 بار حضرت اسماعیل کا نام آیا ہے۔

  • دو بار حضرت اسماعیل کا ذکر اُن کے والد کے ساتھ آیا پے۔  2:125،127
  • پانچ بار حضرت اسماعیل کا ذکر اُن کے بھائی اور والد کے ساتھ آیا ہے۔ 2:140، 2:136، 2:133، 4:163، 3:84
  • پانچ بار ان کا ذکر انبیاء اکرام کے ساتھ ذکرآیا ہے۔ 6:86، 14:39، 19:54، 21:85، 38:48
  • جہاں دو بار حضرت اسماعیل کا ذکر ان کے والد کے ساتھ آیا ہے تو وہاں دعا کا ذکر ہے۔ قربانی کا ذکر نہیں ہے۔

سورۃ البقرہ    2:125،127

اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مربع اور امان بنایا اور ابرہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناوٰ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجدہ والوں لے لیے۔  125

اور جب عرض کی ابراہیم نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کررے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی۔ 127

لہذا قرآن شریف نے کھبی حضرت اسماعیل کا نام لیکر یہ نہیں کہا۔ کہ حضرت اسماعیل ہی قربان ہونے کے لیے آزمائے گے۔ وہاں صرف بیٹا کہا کر ذکر کیا گیا ہے۔ تو پھر کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل ہی قربانی کے لیے آزمائے گے؟

حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کی تفسیر:

یوسف علی کو قابلِ اعتماد قرآن شریف کی تفسیر کرنے والا اور ترجمہ کرنے والا مانا جاتا ہے۔ اس کی تفسیر کے چند نوٹ یہاں پر موجود ہیں۔ جس میں حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کا ذکر ہے۔

4071

یہ شام اور فلسطین کی زرخیز زمین تھی۔ اسلامی روایات کے مطابق پہلا حضرت اسماعیل تھا۔ اس نام کی جڑ سمیاہ سے ہے۔ جسکا مطلب سننا  ہے۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کی دعا سن لی تھی۔ حضرت ابراہیم کی عمر 86 برس کی تھی۔ جب حضرت اسماعیل پیدا ہوئے۔  پیدایش کی کتاب 16:16

4076

ہمارے ترجمہ کا یہودیوں اور عسیائیوں کے پرانے عہدنامے کا ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت اضحاق اس وقت پیدا ہوئے جب حضرت ابراہیم 100 برس کے تھے۔ پیدایش کی کتاب 2:15 اور حضرت اسماعیل کی پیدایش کے وقت حضرت ابراہیم 86 برس کے تھے۔ پیدایش کی کتاب 16:16 تو حضرت اضحاق کی پیدایش پر حضرت اسماعیل 14 برس کے تھے۔ ان 14 برسوں میں صرف حضرت اسماعیل ہی حضرت ابراہیم کے بیٹے تھے۔ اُس وقت حضرت اضحاق حضرت ابراہیم کا بیٹا نہیں تھا۔ پرانے عہد نامے میں قربانی کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

  پیدایش کی کتاب 22:2

تب آس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لیکر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاونگا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔

پہلے نوٹ میں یوسف علی نے صرف اس بات کو بنیاد بنایا ہے کہ یہ ایک اسلامی روایت ہے۔ اُس نے قرآن شریف میں سے کوئی حوالہ نہیں دیا۔

اُس نے اپنے دوسرے نوٹ میں۔ اس بات پر غور کیا کہ ” اپنے اکلوتے بیٹے کو جو تیرا بیٹا ہے۔        پیدایش کی کتاب 22:2 اور اسماعیل 14 برس کا تھا اس لیے حضرت اسماعیل ہی کو قربانی کے لیے پیش کیا ہوگا۔ لیکن یہاں یوسف علی اس بات کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ پچھلے باب میں پیدایش کی کتاب 21 میں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو خاندان میں جھگڑا ہونے کی وجہ سے دور بھیج دیا تھا۔ اس  جھگڑے کے بارے میں یہاں تفصیل سے پڑھیں۔ کلیک کریں

حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کے لیے تورات کی گواہی۔

لہذا قرآن شریف خاص طور پر بیان نہیں کرتا کہ کس بیٹے کو قربانی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ لیکن تورات شریف میں اس کا ذکر بڑھے واضح انداز سے ہوا ہے۔ آپ اس حوالے میں دکھ سکتے ہیں۔ اس ایک باب میں کُل 6 بار حضرت اضحاق کے نام کا ذکر ہوا ہے۔ 22:2،3،7،6 اور 2 بار 9 ویں ایت میں۔

حضرت محمد، توریت شریف کی حمایت کرتے ہیں:

جو تورات شریف آج ہمارے پاس موجود ہے۔ اسی تورات کو حضرت محمد کی حمایت حاصل ہے۔ جسکا ذکر ایک احدیث میں بڑا واضح آیا ہے۔

عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے: یہودیوں کا ایک گروپ آیا اور رسول اللہ کو دعوت دی … انہوں نے کہا کہ: ‘ابو القاسم، ہمارے لوگوں میں سے ایک کسی عورت سے زنا کا ارتکاب کیا ہے. تاکہ ان پر فیصلہ سنیا جائے۔ اللہ کے رسول کے لئے ایک تکیا رکھا گیا۔ وہ اس پر بیٹھ گئے اور آپ نے کہا کہ. "توریت لے آؤ”:. اس کے بعد تورات کو لایا گیا. اس کے بعد انہوں نے اپنے نیچے سے تکیا لیکر اس پر تورات کو رکھ دیا: اور یوں کہا ” میں تجھ پر اور جس نے تجھ کو نازل کیا ہے ایمان رکھتا ہوں”

سنن ابوداود کتاب 38، نمبر 4434

حضرت عیسٰی مسیح، توریت شریف کی حمایت کرتے ہیں

جوتورات شریف آج ہمارے پاس موجود ہے۔ حضرت عیسٰی مسیح نے بھی اسی تورات شریف کی حمایت کی ہے۔ جس کو ہم نے میری ایک پوسٹ میں دیکھا ” کس طرح انہوں نے اعادہ کیا کہ پہلی کتابیں ہمارے لئے سب سے اہم تھیں"اس مضمون میں اس کی طرف سے ایک حوالے میں حضرت عیسٰی کا کہنا ہے کہ

متی 5 : 18-19

کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلیگا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔ پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑیگا اور یہی آدمیوں کو سکھائیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائیگا لیکن جو اُن پر عمل کریگا اور اُنکی تعلیم دیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائیگا۔

انتباہ! تورات سے بڑھ کر کوئی روایت نہیں

یہ کبھی بھی روا نہیں ہوگا کہ ایک ہلکی سی روایت کے لیے حضرت موسٰی کی تورات کو برطرف کردیا جائے۔ حقیقت میں حضرت عیسٰی مسیح یہودیوں پر سخت تنقید کرتے ہیں کیوں کہ وہ اپنی روایات کو تورات شریف سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ حضرت عیسٰی مسیح کا یہودی رہنماوں کے ساتھ اختلاف یہاں اسی حوالے میں دیکھ سکتے ہیں۔

متی 15 : 3-8

اس نے جواب میں اُن سے کہا کہ تم اپنی روایت سے خدا کا حکم کیوں ٹال دیتے ہو؟۔ کیونکہ خدا نے فرمایا ہے تو اپنے باپ کی اور اپنی ماں کی عزت کرنا اور جو باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ مگر تم کہتے ہو کہ جو کوئی باپ یا ماں سے کہے کہ جس چیز کے تجھے مجھ سے فائدہ پہنچ سکتا تھا وہ خدا کی نذر ہو چکی۔ تو وہ اپنے باپ کی عزت نہ کرے۔ پس تم نے اپنی روایت سے خدا کا کلام باطل کردیا۔ اے ریاکارو یسعاہ نے تہمارے حق میں کیا خوب نبوت کی کہ۔ یہ امت زبان سے تو میری عزت کرتی ہے مگر انکا دل مجھ سے دور ہے۔

نبی انتباہ یا ورننگ کرنا بڑا واضع ہے کہ روایت کے لیے اللہ لعالیٰ کے پیغام کو بر طرف نہیں کرنا چاہئے۔

آج بحیرہ مردار کے صحیفۓ تورات شریف کی صداقت پیش کرتے ہیں

مندرجہ ذیل تصویر سے ہمیں تورات شریف کے ابتدائی مسودات کی تاریخوں کا پتا چلتا ہے۔ ( اہم اصول میں سے ایک جو متنی تنقید میں استمال کیا جاتا ہے جس سے ہم یہ تعین کرسکتے ہیں کہ ایک کتاب کی معتبریت کیا ہے؟ یہاں پر آپ میری ایک پوسٹ ملاظہ فرمائیں) بحیرہ مردار کے مسودات کی تاریخ 200 ق م ہے۔ جسکا مطلب ہے کہ دونوں انبیاء اکرام یعنی حضرت محمد  اور حضرت عیسٰی مسیح با لکل اسی تورات کا حوالہ دے رہے تھے۔ جس تورات شریف کو آج ہم پڑھتے ہیں۔

یہ ہی ایک معیار ہے کہ ہم واپس مقدس کتابوں کو پڑھیں۔ اس طرح ہم ایک بنیاد قائم کرسکتے ہیں۔ جو کچھ ابنیاء اکرام نے ارشاد فرمایا ہے اس کو جانیں۔ اس کی بجائے ہم اپنی قیاس آرئیوں کے جھگڑے میں نہ پڑھیں۔