حضرت عیسیٰ المسیح ‘کھوئے’ غدار کو بچاتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح نے لعزر کو دوبارہ زندہ کیا۔ اس طرح آپ نے اپنے مشن کو لوگوں کے سامنے اُجاگر کیا۔ اب آپ یروشلیم کی راہ پر تھے۔ تاکہ اپنے مشن کو پورا کرسکیں۔ اس سفر کے دوران آپ کا گزر یریحو(جو ابھی بھی فلسطین کے مغربی کنارے پر واقع ہے) کے شہر سے ہو۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے معجزات اور تعلیمات کے بارے اس شہر کے لوگوں نے سُن رکھا تھا۔ جب اُنہیں پتہ چلا کہ آپ یہاں سے گزر رہے ہیں۔ تو ایک بڑی بھیڑ اُن کا دیدار کرنے آئی۔ اس بیھڑ میں ایک امیر شخص بھی موجود تھا جس کا نام زکائی تھا لیکن لوگ اُس کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ امیر اس لیے تھا کیونکہ وہ رومی حکومت کے لیے ٹیکس وصول کرتا تھا۔ یہودیہ پر رومی حکومت نے ذبردستی قبضہ کر رہ تھا۔ وہ رومی حکومت جاری کردہ ٹیکس سے زیادہ ٹیکس وصول کرتا تھا۔ یہودی نے اس کام کی وجہ سے حقیر جانتے تھے۔ کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا۔ اُس کو لوگ ایک غدار کے طور پر جانتے تھے۔

‘وہ یریحُو میں داخِل ہو کر جا رہا تھا اور دیکھو زکّا ئی نام ایک آدمی تھا جو محصُول لینے والوں کا سردار اور دَولت مند تھا وہ یِسُو ع کو دیکھنے کی کوشِش کرتا تھا کہ کَون سا ہے لیکن بِھیڑ کے سبب سے دیکھ نہ سکتا تھا  اِس لِئے کہ اُس کا قَد چھوٹا تھا پس اُسے دیکھنے کے لِئے آگے دَوڑ کر ایک گُولر کے پیڑ پر چڑھ گیا کیونکہ وہ اُسی راہ سے جانے کو تھا جب یِسُو ع اُس جگہ پُہنچا تو اُوپر نِگاہ کر کے اُس سے کہا اَے زکّا ئی جلد اُتر آ کیونکہ آج مُجھے تیرے گھر رہنا ضرُور ہے وہ جلد اُتر کر اُس کو خُوشی سے اپنے گھر لے گیا جب لوگوں نے یہ دیکھا تو سب بُڑبُڑا کر کہنے لگے کہ وہ تو ایک گُنہگار شخص کے ہاں جا اُترا اور زکّا ئی نے کھڑے ہو کر خُداوند سے کہا اَے خُداوند دیکھ مَیں اپنا آدھا مال غرِیبوں کو دیتا ہُوں اور اگر کِسی کا کُچھ ناحق لے لِیا ہے تو اُس کو چَوگُنا ادا کرتا ہُوں یِسُو ع نے اُس سے کہا آج اِس گھر میں نجات آئی ہے  اِس لِئے کہ یہ بھی ابرہا م کا بیٹا ہے کیونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے   لُوقا 19:1-10

چنانچہ زکائی قد میں چھوٹا تھا۔ اس لیے وہ حضرت عیسیٰ المسیح کو بھیڑ میں دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اور کوئی بھی وہاں اُس کی مدد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انجیل شریف میں رقم ہے کہ کس طرح اُس کی ملاقات آپ سے ہوئی اور کیا گفتگو ہوئی۔

لوگوں کو آپ کی یہ بات اچھی نہ لگی۔ کہ آپ نے خود کو زکائی کے گھر میں مدعو کیا۔ زکائی ایک بُرا شخص تھا اور ہر کوئی یہ جانتا تھا۔ لیکن زکائی نے اپنے بارے میں نشاندہی کہ وہ ایک گنہگار ہے۔ ہم میں سے اکثر اپنے گناہ ہو چھپاتے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ ہم نے کبھی بھی گناہ نہیں کیا۔ لیکن زکائی نے ایسا نہیں کیا تھا۔ وہ جانتا تھا جوکچھ وہ کررہا ہے وہ بُرا ہے بلکہ اپنے لوگوں کے ساتھ غداری ہے۔ پھر بھی اُس نے حضرت عیسیٰ المسیح سے ملنے کی دلیری کی۔ حضرت عیسیٰ المسیح کا ردعمل اتنا سرگرم تھا کہ سب لوگ حیران ہوگے۔

حضرت عیسیٰ المسیح چاہتے تھے کہ زکائی توبہ کرئے۔ اپنے اس گناہ سے باز آئے۔ اور آپ کو مسیح کے طور پر قبول کرلے۔ جب زکائی نے ایسا کیا تو حضرت عیسیٰ المسیح نے اُس کو معاف کردیا۔ آپ نے اعلان کیا کی وہ ‘کھویا ہوا’ تھا لیکن اب بچ گیا /ملا ہے۔

آپ کا میرے اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم نے شاید ایسے ہی کام کیے ہوں جیسے اس زکائی نے شرما دینے والے کیے تھے۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں۔ کہ شاید میں بُرے نہیں ہیں۔ اس لیے ہم اپنی غلطیوں کو چھپاتے ہیں۔ جس طرح حضرت آدم نے اپنی غلطی چھپائی تھی۔ ہم اُمید کرتے ہیں۔ کہ ہم بہت سارے اچھے اعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم اپنے بُرے اعمال کا جرمانہ بھرسکتے ہیں۔ یہ خیال اُس بھیڑ کا تھا۔ جو حضرت عیسیٰ المسیح کو دیکھنے آئی۔ اسلیے حضرت عیسیٰ المسیح نے اُن میں کسی کے گھر جانا پسند نہ کیا اور نہ ہی اُن میں سے کسی کو یہ کہا کہ وہ نجات پاگیا ہے۔ صرف یہ شرف زکائی ہی کو حاصل ہوا۔ یہ ہمارے لیے انتہائی بہتر ہے۔ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کریں۔ اور ان کو نہ چھپائیں۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کو لینے کے حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس جائیں گے۔ تو ہم کو معلوم ہوگا۔ کہ نہ صرف ہم کو معافی مل چکی ہے بلکہ ہمارے اندازے سے بھی بڑھ کر ہم کو بخش دیا گیا ہے۔

لیکن کس طرح زکائی کو قیامت کاانتظار کئے بغیر بد عمل کی معافی کا اُسی لحمے یقین ہوگیا؟ ہم حضرت عیسیٰ المسیح کے یروشلیم کے سفر کے بارے میں مطالعہ جاری رکھیں گے تاکہ ہم اُن کے مشن کے تکمیل اور اپنے سوال کا جواب حاصل کرسکیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا لعزر کو زندہ کرنے کا مشن

حضرت عیسیٰ المسیح نے لوگوں کو تعلیم اور شفا دی اور اس کے ساتھ اُنہوں نے بہت سارے معجزات بھی کئے۔ لیکن ایک سوال اُن کے حواریوں کے ذہین میں رہا۔ اس کے علاوہ آپ کے دشمن یہ سوچتے رہے کہ آپ کیوں اس دنیا میں آئے؟۔ بہت سے انبیاءاکرام نے معجزات کئے اور حضرت موسیٰ نے حیرت انگیز معجزات فرمائے۔ تاہم حضرت موسیٰ کو پیشتر سے ہی شریعت مل چکی تھی، اور حضرت عیسیٰ المسیح نے فرمایا تھا کہ "میں شریعت کو منسوخ کرنے نہیں آیا”۔ تو پھر آپ کو اللہ تعالیٰ نے کیس کام کے لیے بھیجا تھا؟

حضرت عیسیٰ المسیح کا دوست بیمار پڑگیا۔ آپ کے شاگرد توقع کرتے تھے۔ کہ اپنے دوست کو شفا فرما دیئے گے۔ جیسا کہ آپ نے بہت سارے لوگوں کو شفا دی تھی۔ لیکن حضرت عیسیٰ المسیح نے جان بوجھ کر اپنے دوست کو شفا نہ دی۔ اور آپ نے اس طرح اپنے مشن کو لوگوں پرظاہر کیا۔ انجیل مقدس میں اس کے بارے میں اس طرح لکھا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا موت کے ساتھ آمنا سامنا

‘مریم اور اُس کی بہن مر تھا کے گاؤں بَیت عَنِیّا ہ کا لعزر نام ایک آدمی بِیمار تھا۔ یہ وُہی مر یم تھی جِس نے خُداوند پر عِطر ڈال کر اپنے بالوں سے اُس کے پاؤں پونچھے ۔ اِسی کا بھائی لعزر بِیمار تھا۔ پس اُس کی بہنوں نے اُسے یہ کہلا بھیجا کہ اَے خُداوند ! دیکھ جِسے تُو عزِیز رکھتا ہے وہ بِیمار ہے۔ یِسُو ع نے سُن کر کہا کہ یہ بِیماری مَوت کی نہیں بلکہ خُدا کے جلال کے لِئے ہے تاکہ اُس کے وسِیلہ سے خُدا کے بیٹے کا جلال ظاہِر ہو۔ اور یِسُو ع مرتھا اور اُس کی بہن اور لعزر سے مُحبّت رکھتا تھا۔ پس جب اُس نے سُنا کہ وہ بِیمار ہے تو جِس جگہ تھا وہِیں دو دِن اَور رہا۔ پِھر اُس کے بعد شاگِردوں سے کہا آؤ پِھر یہُودیہ کو چلیں۔ شاگِردوں نے اُس سے کہا اَے ربیّ! ابھی تو یہُودی تُجھے سنگسار کرنا چاہتے تھے اور تُو پِھر وہاں جاتا ہے؟۔ یِسُو ع نے جواب دِیا کیا دِن کے بارہ گھنٹے نہیں ہوتے؟ اگر کوئی دِن کو چلے تو ٹھوکر نہیں کھاتا کیونکہ وہ دُنیا کی رَوشنی دیکھتا ہے۔ لیکن اگر کوئی رات کو چلے تو ٹھوکر کھاتا ہے کیونکہ اُس میں رَوشنی نہیں۔ اُس نے یہ باتیں کہِیں اور اِس کے بعد اُن سے کہنے لگا کہ ہمارا دوست لعزر سو گیا ہے لیکن مَیں اُسے جگانے جاتا ہُوں۔ پس شاگِردوں نے اُس سے کہا اَے خُداوند! اگر سو گیا ہے تو بچ جائے گا۔ یِسُو ع نے تو اُس کی مَوت کی بابت کہا تھا مگر وہ سمجھے کہ آرام کی نِیند کی بابت کہا۔ تب یِسُو ع نے اُن سے صاف کہہ دِیا کہ لعزر مَر گیا۔ اور مَیں تُمہارے سبب سے خُوش ہُوں کہ وہاں نہ تھا تاکہ تُم اِیمان لاؤ لیکن آؤ ہم اُس کے پاس چلیں۔ پس توما نے جِسے توام کہتے تھے اپنے ساتھ کے شاگِردوں سے کہا کہ آؤ ہم بھی چلیں تاکہ اُس کے ساتھ مَریں۔ پس یِسُو ع کو آ کر معلُوم ہُؤا کہ اُسے قَبر میں رکھّے چار دِن ہُوئے۔ بَیت عَنِیّا ہ یروشلِیم کے نزدِیک قرِیباً دو مِیل کے فاصِلہ پر تھا۔ اور بُہت سے یہُودی مرتھا اور مریم کو اُن کے بھائی کے بارے میں تسلّی دینے آئے تھے۔ پس مر تھا یِسُو ع کے آنے کی خبر سُن کر اُس سے مِلنے کو گئی لیکن مر یم گھر میں بَیٹھی رہی۔ مر تھا نے یِسُو ع سے کہا اَے خُداوند! اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مَرتا۔ اور اب بھی مَیں جانتی ہُوں کہ جو کُچھ تُو خُدا سے مانگے گا وہ تُجھے دے گا۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا تیرا بھائی جی اُٹھے گا۔ مر تھا نے اُس سے کہا مَیں جانتی ہُوں کہ قِیامت میں آخِری دِن جی اُٹھے گا۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا قِیامت اور زِندگی تو مَیں ہُوں ۔ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے گو وہ مَر جائے تَو بھی زِندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زِندہ ہے اور مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مَرے گا ۔ کیا تُو اِس پر اِیمان رکھتی ہے؟۔ اُس نے اُس سے کہا ہاں اَے خُداوند مَیں اِیمان لا چُکی ہُوں کہ خُدا کا بیٹا مسِیح جو دُنیا میں آنے والا تھا تُو ہی ہے۔ یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور چُپکے سے اپنی بہن مریم کو بُلا کر کہا کہ اُستاد یہِیں ہے اور تُجھے بُلاتا ہے۔ وہ سُنتے ہی جلد اُٹھ کر اُس کے پاس آئی۔ (یِسُو ع ابھی گاؤں میں نہیں پُہنچا تھا بلکہ اُسی جگہ تھا جہاں مر تھا اُس سے مِلی تھی)۔ پس جو یہُودی گھر میں اُس کے پاس تھے اور اُسے تسلّی دے رہے تھے یہ دیکھ کر کہ مریم جلد اُٹھ کر باہر گئی ۔ اِس خیال سے اُس کے پِیچھے ہو لِئے کہ وہ قبر پر رونے جاتی ہے۔ جب مر یم اُس جگہ پُہنچی جہاں یِسُو ع تھا اور اُسے دیکھا تو اُس کے قَدموں پر گِر کر اُس سے کہا اَے خُداوند اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مَرتا۔ جب یِسُو ع نے اُسے اور اُن یہُودِیوں کو جو اُس کے ساتھ آئے تھے روتے دیکھا تو دِل میں نِہایت رنجِیدہ ہُؤا اور گھبرا کر کہا۔ تُم نے اُسے کہاں رکھّا ہے؟ اُنہوں نے کہا اَے خُداوند! چل کر دیکھ لے۔ یِسُو ع کے آنسُو بہنے لگے۔ پس یہُودِیوں نے کہا دیکھو وہ اُس کو کَیسا عزِیز تھا۔ لیکن اُن میں سے بعض نے کہا کیا یہ شخص جِس نے اندھے کی آنکھیں کھولِیں اِتنا نہ کر سکا کہ یہ آدمی نہ مَرتا؟۔ یِسُو ع پِھر اپنے دِل میں نِہایت رنجِیدہ ہو کر قبر پر آیا ۔ وہ ایک غار تھا اور اُس پر پتّھر دَھراتھا۔ یِسُو ع نے کہا پتّھر کو ہٹاؤ ۔ اُس مَرے ہُوئے شخص کی بہن مر تھا نے اُس سے کہا ۔ اَے خُداوند! اُس میں سے تو اب بدبُو آتی ہے کیونکہ اُسے چار دِن ہو گئے۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا کیا مَیں نے تُجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تُو اِیمان لائے گی تو خُدا کا جلال دیکھے گی؟۔ پس اُنہوں نے اُس پتّھر کو ہٹا دِیا ۔ پِھر یِسُو ع نے آنکھیں اُٹھا کر کہا اَے باپ مَیں تیرا شُکر کرتا ہُوں کہ تُو نے میری سُن لی۔ اور مُجھے تو معلُوم تھا کہ تُو ہمیشہ میری سُنتاہے مگر اِن لوگوں کے باعِث جو آس پاس کھڑے ہیں مَیں نے یہ کہا تاکہ وہ اِیمان لائیں کہ تُو ہی نے مُجھے بھیجا ہے۔ اور یہ کہہ کر اُس نے بُلند آواز سے پُکارا کہ اَے لعزر نِکل آ۔ جو مَر گیا تھا وہ کفَن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہُوئے نِکل آیا اور اُس کا چِہرہ رُومال سے لِپٹا ہُؤا تھا ۔ یِسُو ع نے اُن سے کہا اُسے کھول کر جانے دو۔ ‘ یُوحنّا 11:1-44

آپ کے دوست کی بہنیں یہ توقع کررہیں تھیں۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح جلدی آئیں گے اور اُن کے بھائی کواچھا کردیں گے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے جان بوجھ کر دیر لگا آئی اور لعزر کو مرنے دیا۔ اورکوئی نہیں یہ جانتا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ لیکن اس واقعہ میں ہم یہ دیکھ سکتے ہیں۔ کہ آپ کا دل اس سے اداس تھا اور آپ غصے میں تھے۔ لیکن آپ کا غصہ کس پر تھا؟ اپنے دوست کی بہنوں پر؟ یا ہجوم پر؟ شاگردوں پر؟ یا پھر اپنے دوست لعزر پر؟ نہیں، بلکہ آپ کا غصہ موت پر تھا۔ انجیل شریف میں صرف دو بار آیا ہے۔ کہ آپ روئے۔ آپ کیوں روئے؟ کیونکہ یہ کہ آپ کا دوست موت کے قبضہ میں تھا۔ آپ کا موت پر غصہ اور پھر دوست کی جدائی نے آپ کے جذبات کو ہلادیا۔ آپ کی آنکھوں میں آنسوانسان کی بے بسی دیکھ کرآئے۔

بیماری سے شفا پانے کا مطلب ہے۔ کہ موت کو ملتوی کرنا۔ صحت مند ہو یا بیمار موت آخرکار سب کو آئے گی۔ چاہے لوگ اچھے ہو یا بُرے، عورت ہو یا مرد، بوڑھا ہو یا جوان، مذہبی ہو یا نہ سب موت کا مزہ چکھیں گے۔ یہ سچ ہے جب سے حضرت آدم نے قرآن شریف اور تورات شریف کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو اس کی وجہ سے آدم فانی بن گیا۔ اس کے تمام بیٹے بیٹیاں اس میں آپ اور میں بھی شامل ہیں۔ سب کے اُوپر اُس کے دشمن نے قبضہ کررکھا ہے۔ جو کہ موت ہے۔ موت کے خلاف ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اور ہم نااُمید ہے۔ جب کوئی بیمار پڑجاتا ہے۔ تو اُس وقت ہمارے پاس اُمید ہوتی ہے۔ اس لیے لعزر کی بہنیں اُمید کرتی تھیں کہ اُن کا بھائی شاید شفاپا جاتا۔ لیکن جب وہ مر گیا تو وہ نااُمید ہوگئیں۔ یہ ہمارے لیے بھی حقیقت ہے۔ ہسپتال میں لوگ شفا کی اُمید کرتے ہیں لیکن جنازہ واالے دن کوئی شفا کی اُمید نہیں کرتا۔ موت ہماری دشمن ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح اس لیے آئے تاکہ موت کو شکست دیئے سکیں۔ اور اسلئے حضرت عیسیٰ المسیح نے اُسکی بہنیوں کو یہ بیان سُنا دیا تھا۔

قیامت اور زندگی میں ہوں. یوحنا 11: 25

حضرت عیسیٰ المسیح موت کو شکست/تباہ کرنے آئے تھے۔ اور اُن سب کو زندگی دینے آئے تھے جو اُنکے وسیلے زندگی چاہتے تھے۔ آپ کا مشن تھا کہ عام لوگوں کے سامنے لعزر کو زندہ کرکے اپنے اس اختیار کو ظاہر کریں۔ آپ نے ہراُس کو زندگی کی پیشکش کی ہے۔ ہر جو موت کی بجائے زندگی چاہتا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا جواب

اگرچہ موت ہماری حتمی دشمن ہے۔ لیکن ہم میں سے بہت سے چھوٹے دشمنوں کے جال میں پھنسے ہوتے ہیں۔ جس کا نتیجہ (سیاست، مذاہبی، اور نسلی وغیرہ) ہماری پوری زندگی میں ایک تنازعہ سا رہتا ہے۔ یہ سچائی حضرت عیسیٰ المسیح کے وقت بھی تھا۔ ان معجزات کی گواہیوں میں سے ہم اس بات کو جان سکتے ہیں۔ کہ اُس وقت لوگوں کی بنیادی تشویش کیا تھی۔ یہاں اس کے بارے میں مختلف ردعمل درج ہیں۔

‘پس بُہتیرے یہُودی جو مر یم کے پاس آئے تھے اور جِنہوں نے یِسُو ع کا یہ کام دیکھا اُس پر اِیمان لائے۔ مگر اُن میں سے بعض نے فرِیسِیوں کے پاس جا کر اُنہیں یِسُو ع کے کاموں کی خبر دی۔ پس سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں نے صَدرعدالت کے لوگوں کو جمع کر کے کہا ہم کرتے کیا ہیں؟ یہ آدمی تو بُہت مُعجِزے دِکھاتا ہے۔ اگر ہم اُسے یُوں ہی چھوڑ دیں تو سب اُس پر اِیمان لے آئیں گے اوررومی آ کر ہماری جگہ اور قَوم دونوں پر قبضہ کر لیں گے۔ اور اُن میں سے کائِفا نام ایک شخص نے جو اُس سال سردار کاہِن تھا اُن سے کہا تُم کُچھ نہیں جانتے۔ اور نہ سوچتے ہو کہ تُمہارے لِئے یِہی بِہتر ہے کہ ایک آدمی اُمّت کے واسطے مَرے نہ کہ ساری قَوم ہلاک ہو۔ مگر اُس نے یہ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ اُس سال سردار کاہِن ہو کر نبُوّت کی کہ یِسُو ع اُس قَوم کے واسطے مَرے گا۔ اور نہ صِرف اُس قَوم کے واسطے بلکہ اِس واسطے بھی کہ خُدا کے پراگندہ فرزندوں کو جمع کر کے ایک کر دے۔ پس وہ اُسی روز سے اُسے قتل کرنے کا مشوَرہ کرنے لگے۔ پس اُس وقت سے یِسُو ع یہُودِیوں میں عِلانِیہ نہیں پِھرابلکہ وہاں سے جنگل کے نزدِیک کے عِلاقہ میں اِفرائِیم نام ایک شہر کو چلا گیا اور اپنے شاگِردوں کے ساتھ وہِیں رہنے لگا۔ اور یہُودِیوں کی عِید ِفَسح نزدِیک تھی اور بُہت لوگ فسح سے پہلے دِیہات سے یروشلِیم کو گئے تاکہ اپنے آپ کو پاک کریں۔ پس وہ یِسُو ع کو ڈُھونڈنے اور ہَیکل میں کھڑے ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ تُمہارا کیا خیال ہے؟ کیا وہ عِید میں نہیں آئے گا؟۔ اور سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں نے حُکم دے رکھّا تھا کہ اگر کِسی کو معلُوم ہو کہ وہ کہاں ہے تو اِطلاع دے تاکہ اُسے پکڑ لیں۔’ یُوحنّا 11: 45-57

کشیدگی اُس وقت پیدا ہوئی۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح نے اس بات کا اعلان کیا۔ کہ "قیامت” اور "زندگی” میں ہوں اور اُنہوں نے موت کو وہ خود شکست دی ۔ جب مذہبی راہنماوں نے یہ سُنا تو آپ کو مار دینے کی سازش شروع کردی۔ اس واقع کے دوان ہی بہت سے لوگوں آپ پر ایمان لیے آئے۔ لیکن بہت سارے اس کشمکش میں پڑگے کے ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ اس موقع پر اگر ہم بھی وہاں ہوتے اور لعزر کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھتے تو یقیناً یہ سوال ضرور کرتے کہ ہمیں کس بات کا چُناو کرنا ہے۔ کیا ہم فریسیوں (مذہبی لیڈروں) جیسا برتاو کرتے اور ہماری توجہ تنازعات پر مرکوز ہوتی اور بعد میں اس تاریخ واقعہ کو بول جاتے ۔ اور زندگی کی پیشکش کو کھودیتے؟ یا پھر ہم حضرت عیسیٰ المسیح پر ایمان لیے آتے اور اُن (قیامت) زندہ کردینے والی قدرت پر اُمید رکھتے۔ اگرچہ ہم اس کے بارے پوری سمجھ نہیں رکھتے۔ انجیل مقدس میں اس کے ردعمل کے مختلف بیانات درج ہیں۔ اور آج بھی بلکل اُسی طرح کا ردعمل پایا جاتا ہے۔

اس طرح کے متنازعات فسح کے موقع کے قریب بڑھ رہیں تھے۔ یہ ایک ایسا تہوار تھا۔ جس کو حضرت موسیٰ نے 1500 پہلے ایک نشان کے طور پر شروع کیا جس کا مطلب "موت سےبچ جانا” تھا۔ انجیل مقدس میں اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ کس طرح حضرت عیسیٰ المسیح نے اپنے اس مشن کو پورا کیا اور موت کو اُسکی حدود میں جاکر شکست دی

حضرت عیسیٰ المسیح نے ‘حج’ کیا۔

حج ہر سال ادا کیا جاتا ہے۔ مسلمان ہر سال مکہ شریف میں حج کی عبادات اور رسمات ادا کرنے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو 3500 سو سال پہلے شریعت ملی اور اس میں یہودیوں کوحکم کیا گیا تھا کہ وہ ہر سال یروشلیم (بیت المقدس) جاکر حج کا فریضہ ادا کریں۔ اس حج کو "عید خیام یا خیموں کی عید” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس حج کے ادا کرنے کا حکم حضرت موسیٰ کی شریعت سے ملتا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے حج کی تعلیم اور آج کے حج میں بہت ساری مماثلت پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، دونوں سال کے ایک خاص ہفتے میں منائے جاتے ہیں۔ دونوں میں قربانی کی جاتی ہے، دونوں میں خاص پانی (آب زم زم) سے غسل کیا جاتا ہے، دونوں میں گھر سے باہر جھوپنٹریوں میں سوتے ہیں، دونوں میں سات بار ایک پاک مقام کے گرد چکر لگایا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں عید خیام یہودیوں کے لیے حج تھا۔ لیکن جب بیت المقدس کو 70 عیسوی میں رومی فوج نے شہید کردیا تھا۔ اس لیے اب بیت المقدس موجود نہ ہونے کی وجہ سے حج تھوڑا مختلف طریقے سے ادا کیا جاتا ہے۔

انجیل شریف میں درج ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے کس طرح "عید خیام” کے وقت حج کو ادا کیا۔ اس حوالہ میں وضاحت کے ساتھ اس واقع کو درج کیا گیا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح عید خیام پر بیت المقدس جاتے ہیں یوحنا باب 7

‘اِن باتوں کے بعد یِسُو ع گلِیل میں پِھرتا رہا کیونکہ یہُودیہ میں پِھرنا نہ چاہتا تھا ۔ اِس لِئے کہ یہُودی اُس کے قتل کی کوشِش میں تھے۔ اور یہُودِیوں کی عِیدِ خیام نزدِیک تھی۔ پس اُس کے بھائِیوں نے اُس سے کہا یہاں سے روانہ ہو کر یہُودیہ کو چلا جا تاکہ جو کام تُو کرتا ہے اُنہیں تیرے شاگِرد بھی دیکھیں۔ کیونکہ اَیسا کوئی نہیں جو مشہُور ہونا چاہے اور چُھپ کر کام کرے ۔ اگر تُو یہ کام کرتا ہے تو اپنے آپ کو دُنیا پر ظاہِر کر۔ کیونکہ اُس کے بھائی بھی اُس پر اِیمان نہ لائے تھے۔ ‘ یُوحنّا 7: 1-5

حضرت عیسیٰ المسیح کے بھائی اُن سے طنز و مذاق سے پیش آتے ہیں۔ کیونکہ وہ اُن پر ایمان نہیں لائے تھے۔ لیکن بعد میں اُن کی زندگیوں میں ایک ایسی تبدیلی آئی اور وہ حضرت عیسیٰ المسیح کے پیروکار ہوگے۔ اُن کے نام یہ ہیں۔ حضرت یقعوب اور حضرت یہودہ اِنہوں نے بعد میں خطوط لکھے جو انجیل شریف کا حصہ ہیں۔

‘پس یِسُو ع نے اُن سے کہا کہ میرا تو ابھی وقت نہیں آیا مگر تُمہارے لِئے سب وقت ہیں۔ دُنیا تُم سے عداوت نہیں رکھ سکتی لیکن مُجھ سے رکھتی ہے کیونکہ مَیں اُس پر گواہی دیتا ہُوں کہ اُس کے کام بُرے ہیں۔ تُم عِید میں جاؤ ۔ مَیں ابھی اِس عِید میں نہیں جاتا کیونکہ ابھی تک میرا وقت پُورا نہیں ہُؤا۔ یہ باتیں اُن سے کہہ کر وہ گلِیل ہی میں رہا۔  یُوحنّا 7:6-9

یِسُوع عِید ِ خیام کے موقع پر

‘لیکن جب اُس کے بھائی عِید میں چلے گئے اُس وقت وہ بھی گیا ۔ ظاہِرا ً نہیں بلکہ گویا پوشِیدہ۔ پس یہُودی اُسے عِید میں یہ کہہ کر ڈُھونڈنے لگے کہ وہ کہاں ہے؟۔ اور لوگوں میں اُس کی بابت چُپکے چُپکے بُہت سی گُفتگُوہُوئی ۔ بعض کہتے تھے وہ نیک ہے اور بعض کہتے تھے نہیں بلکہ وہ لوگوں کو گُمراہ کرتا ہے۔ تَو بھی یہُودِیوں کے ڈر سے کوئی شخص اُس کی بابت صاف صاف نہ کہتا تھا۔ اور جب عِید کے آدھے دِن گُزر گئے تو یِسُو ع ہَیکل میں جا کر تعلِیم دینے لگا۔ پس یہُودِیوں نے تعجُّب کر کے کہا کہ اِس کو بغَیر پڑھے کیوں کر عِلم آ گیا؟۔ یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ میری تعلِیم میری نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے کی ہے۔ اگر کوئی اُس کی مرضی پر چلنا چاہے تو وہ اِس تعلِیم کی بابت جان جائے گا کہ خُدا کی طرف سے ہے یا مَیں اپنی طرف سے کہتا ہُوں۔ جو اپنی طرف سے کُچھ کہتا ہے وہ اپنی عِزّت چاہتا ہے لیکن جو اپنے بھیجنے والے کی عِزّت چاہتا ہے وہ سچّا ہے اور اُس میں ناراستی نہیں۔ کیا مُوسیٰ نے تُمہیں شرِیعت نہیں دی؟ تَو بھی تُم میں سے شرِیعت پر کوئی عمل نہیں کرتا ۔ تُم کیوں میرے قتل کی کوشِش میں ہو؟۔ لوگوں نے جواب دِیا تُجھ میں تو بدرُوح ہے ۔ کَون تیرے قتل کی کوشِش میں ہے؟۔ یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا مَیں نے ایک کام کِیا اور تُم سب تعجُّب کرتے ہو۔ اِس سبب سے مُوسیٰ نے تُمہیں خَتنہ کا حُکم دِیا ہے(حالانکہ وہ مُوسیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ باپ دادا سے چلا آیا ہے)اور تُم سَبت کے دِن آدمی کا خَتنہ کرتے ہو۔ جب سَبت کو آدمی کا خَتنہ کِیا جاتا تاکہ مُوسیٰ کی شرِیعت کا حُکم نہ ٹُوٹے تو کیا مُجھ سے اِس لِئے ناراض ہو کہ مَیں نے سَبت کے دِن ایک آدمی کو بِالکُل تندرُست کر دِیا؟۔ ظاہِر کے مَوافِق فَیصلہ نہ کرو بلکہ اِنصاف سے فَیصلہ کرو۔ ‘ یُوحنّا 7:10-24

کیا وہ مسِیح مَوعُود ہے؟

‘تب بعض یروشلِیمی کہنے لگے کیا یہ وُہی نہیں جِس کے قتل کی کوشِش ہو رہی ہے؟۔ لیکن دیکھو یہ صاف صاف کہتا ہے اور وہ اِس سے کُچھ نہیں کہتے ۔ کیا ہو سکتا ہے کہ سرداروں نے سچ جان لِیا کہ مسِیح یِہی ہے؟۔ اِس کو تو ہم جانتے ہیں کہ کہاں کا ہے مگر مسِیح جب آئے گا تو کوئی نہ جانے گا کہ وہ کہاں کا ہے۔ ‘ یُوحنّا 7:25-27

اُس وقت یہودیوں کے درمیان یہ بحث تھی۔ کیا حضرت عیسیٰ ہی مسیح ہیں یا نہیں۔ یہودی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مسیح جس جگہ سے آئے گا اُس کو وہ نہیں جانتے ہونگے۔ چونکہ وہ جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ المیسح کہا سے آرہے ہیں۔ اس لیے اُنہوں نے یہ سوچا کہ وہ مسیح نہیں ہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ اُنہوں نے یہ عقیدہ کہا سے گڑلیا کہ جہاں سے مسیح آئے گے۔ اُس جگہ کا اُنہوں معلوم نہیں ہوگا۔ کیا اُنہوں نے اس کو تورات شریف یا پھر انبیاءاکرام کے صحیفوں میں سے جانتے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی بات تورات شریف میں لکھی ہوئی  ہی نہ تھی۔ !!انبیاء اکرام نے اپنے صحیفوں میں بڑھے واضح انداز میں فرما دیا تھا کہ حضرت مسیح کہاں سے آئے گے۔ حضرت میکاہ نے 700 ق م میں زبور شریف میں یہ بیان کرددیا تھا۔ کہ

‘لیکن اَے بَیت لحم اِفراتاہ اگرچہ تُو یہُودا ہ کے ہزاروں میں شامِل ہونے کے لِئے چھوٹا ہے تَو بھی تُجھ میں سے ایک شخص نِکلے گا اور میرے حضُور اِسرا ئیل کا حاکِم ہو گا اور اُس کا مصدر زمانۂِ سابِق ہاں قدِیمُ الایّام سے ہے۔ ‘ مِیکاہ 5:2

اس نبوت (اس مضمون کے بارے میں مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں) میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حاکم (مسیح) بیت لحم میں سے آئے گا۔ ہم نے حضرت عیسیٰ المیسح کی پیدائش کے واقع میں سے جانتے ہیں کہ آپ بیت لحم میں پیدا ہوئے۔ جس طرح 700 سو پہلے نبی نے نبوت کردی تھی۔ جس طرح کی دلیل لوگ دے رہے تھے۔ یہ ایک سادہ سی مذہبی روایت تھی جس کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔ کہ جہاں سے حضرت عیسیٰ المیسح آئے گے۔ اُس جگہ کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں ہوگا۔ اُنہوں نے اس بات میں غلطی کی اور اس بات کو نہ جانا جس کے بارے میں انبیاء اکرام نے الکتاب میں پہلے سے لکھ دیا تھا۔ لیکن اُنہوں نے گلی کوچے کی روایت جو عام لوگوں میں پائی جاتی تھی۔ اُس پر یقین کیا۔ یہ خیال اُنہوں نے عام مذہبی راہنماوں سے حاصل کیا تھا جس کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔ ہمیں اس کے بارے میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم اس طرح کی غلطی نہ کرلیں۔

حوالہ جاری ہے ۔ ۔ ۔

‘پس یِسُوع نے ہَیکل میں تعلِیم دیتے وقت پُکار کر کہا کہ تُم مُجھے بھی جانتے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ مَیں کہاں کا ہُوں اور مَیں آپ سے نہیں آیا مگر جِس نے مُجھے بھیجا ہے وہ سچّا ہے ۔ اُس کو تُم نہیں جانتے۔ مَیں اُسے جانتا ہُوں اِس لِئے کہ مَیں اُس کی طرف سے ہُوں اور اُسی نے مُجھے بھیجا ہے۔ پس وہ اُسے پکڑنے کی کوشِش کرنے لگے لیکن اِس لِئے کہ اُس کاوقت ابھی نہ آیا تھا کِسی نے اُس پر ہاتھ نہ ڈالا۔ مگر بِھیڑ میں سے بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے اور کہنے لگے کہ مسِیح جب آئے گا تو کیا اِن سے زِیادہ مُعجِزے دِکھائے گا جو اِس نے دِکھائے؟۔ فرِیسِیوں نے لوگوں کو سُنا کہ اُس کی بابت چُپکے چُپکے یہ گُفتگُو کرتے ہیں ۔ پس سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں نے اُسے پکڑنے کو پیادے بھیجے۔ یِسُو ع نے کہا مَیں اَور تھوڑے دِنوں تک تُمہارے پاس ہُوں ۔ پِھر اپنے بھیجنے والے کے پاس چلا جاؤں گا۔ تُم مُجھے ڈُھونڈو گے مگر نہ پاؤ گے اور جہاں مَیں ہُوں تُم نہیں آ سکتے۔ یہُودِیوں نے آپس میں کہا یہ کہاں جائے گا کہ ہم اِسے نہ پائیں گے؟ کیا اُن کے پاس جائے گا جو یُونانِیوں میں جابجا رہتے ہیں اور یُونانِیوں کو تعلِیم دے گا؟۔ یہ کیا بات ہے جو اُس نے کہی کہ تُم مُجھے ڈُھونڈو گے مگر نہ پاؤ گے اور جہاں مَیں ہُوں تُم نہیں آ سکتے؟۔ پِھر عِید کے آخِری دِن جو خاص دِن ہے یِسُو ع کھڑا ہُؤا اور پُکار کر کہا اگر کوئی پِیاسا ہو تو میرے پاس آ کر پِئے۔ جو مُجھ پر اِیمان لائے گا اُس کے اندر سے جَیساکہ کِتابِ مُقدّس میں آیا ہے زِندگی کے پانی کی ندِیاں جاری ہوں گی۔ اُس نے یہ بات اُس رُوح کی بابت کہی جِسے وہ پانے کو تھے جو اُس پر اِیمان لائے کیونکہ رُوح اب تک نازِل نہ ہُؤا تھا اِس لِئے کہ یِسُو ع ابھی اپنے جلال کو نہ پُہنچا تھا۔ ‘ یُوحنّا 7: 28-39

حج والے دن یہودی یروشلیم کے جنوبی سمت میں سے ایک خاص چشمے سے پانی بھرتے اور شہر میں پانی دروازے میں سے داخل ہوکر پانی کو بیت المقدس میں قربان گاہ کے پاس لے جاتے۔ اس دوران جب وہ پانی کی اس مذہبی رسم کو ادا کررہے تھے۔ تو حضرت عیسیٰ المسیح نے بلند آواز میں یہ تعلیم دینا شروع کی کہ وہ "زندگی کا پانی” ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح جب یہ بیان کررہے تھے تو دراصل وہ یہ کہہ رہے تھے۔ تمہارے دلوں میں گناہ سے رہائی پانے کی جو پیاس ہے۔ جس کے بارے میں انبیاءاکرام نے لکھا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس روح کا بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ جو کوئی حضرت عیسیٰ المیسح پر ایمان لائے گا۔ وہ اُس کی پیاس کو بجائیں گے اور ساتھ میں وہ شخص گناہ کی غلامی سے نجات پائے گا۔

‘پس بِھیڑ میں سے بعض نے یہ باتیں سُن کر کہا بیشک یِہی وہ نبی ہے۔ اَوروں نے کہا یہ مسِیح ہے اور بعض نے کہا کیوں؟ کیا مسِیح گلِیل سے آئے گا؟۔ کیا کِتابِ مُقدّس میں یہ نہیں آیا کہ مسِیح داؤُد کی نسل اور بَیت لحم کے گاؤں سے آئے گا جہاں کا داؤُد تھا؟۔ پس لوگوں میں اُس کے سبب سے اِختلاف ہُؤا۔ اور اُن میں سے بعض اُس کو پکڑنا چاہتے تھے مگر کِسی نے اُس پر ہاتھ نہ ڈالا۔ ‘ یُوحنّا 7: 40-44

اُن وقتوں میں جس طرح آج کل ہے، کہ لوگ حضرت عیسیٰ المیسح کے بارے میں مختلف خیالات رکھتے تھے۔ جس طرح ہم نے اُوپر پڑھا ہے کہ نبی ؑ نے پہلے سے حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کے بارے میں نبوت کردی تھی۔ کہ آپ کی پیدائش بیت لحم میں ہوگی۔ لیکن کیا یہ سوال کیا جارہا تھا کہ مسیح گلیل سے نہیں آیا؟ حضرت یسعیاہ نے 700 سال ق م یہ نبوت کردی تھی۔ کہ

‘لیکن اندوہگِین کی تِیرگی جاتی رہے گی ۔ اُس نے قدِیم زمانہ میں زبُولُو ن اور نفتا لی کے عِلاقوں کو ذلِیل کِیا پر آخِری زمانہ میں قَوموں کے گلِیل میں دریا کی سِمت یَرد ن کے پار بزُرگی دے گا۔ جو لوگ تارِیکی میں چلتے تھے اُنہوں نے بڑی روشنی دیکھی ۔ جو مَوت کے سایہ کے مُلک میں رہتے تھے اُن پرنُور چمکا۔ ‘ یسعیاہ 9:1-2

چنانچہ انبیاءاکرام نے پہلے سے نبوت کردی تھی۔ کہ مسیح اپنی تعلیم کا آغاز گلیل سے شروع کریں گے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں پر سے حضرت عیسیٰ المسیح نے اپنی تعلیم کا اغاز کیا اور آپ کے زیادہ تر معجزۃ اس شہر میں ہوتے تھے۔ پھر بھی لوگ غلط فہمی کا شکار تھے۔ کیونکہ اُنہوں نے انبیاءاکرام کے صحفیوں کا احتیاط کے ساتھ مطالعہ نہیں کیا تھا۔ اور اس کی بجائے وہ اس بات کا یقین کر رہے تھے۔ جو اُنہوں نے اپنے عام مولوی صاحب سے سیکھا تھا۔

مُقتدِر و مُعتبریہُودیوں میں بے اِعتقادی

‘پس پیادے سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں کے پاس آئے اور اُنہوں نے اُن سے کہا تُم اُسے کیوں نہ لائے؟۔ پِیادوں نے جواب دِیا کہ اِنسان نے کبھی اَیسا کلام نہیں کِیا۔ فرِیسِیوں نے اُنہیں جواب دِیا کیا تُم بھی گُمراہ ہو گئے؟۔ بھلا سرداروں یا فرِیسِیوں میں سے بھی کوئی اُس پر اِیمان لایا؟۔ مگر یہ عام لوگ جو شرِیعت سے واقِف نہیں لَعنتی ہیں۔ نِیکُد ِیمُس نے جو پہلے اُس کے پاس آیا تھا اور اُنہی میں سے تھا اُن سے کہا۔ کیا ہماری شرِیعت کِسی شخص کو مُجرِم ٹھہراتی ہے جب تک پہلے اُس کی سُن کر جان نہ لے کہ وہ کیا کرتا ہے؟۔ اُنہوں نے اُس کے جواب میں کہا کیا تُو بھی گلِیل کا ہے؟ تلاش کر اور دیکھ کہ گلِیل میں سے کوئی نبی برپا نہیں ہونے کا۔ ‘ یُوحنّا 7: 45-52

یہاں ہر ہم دیکھ سکتے ہیں۔ کہ شریعت کے قانون کے ماہر بالکل غلط نکلے۔ جب کہ حضرت یسعیاہ نے اس بات کی نبوت کر دی تھی کی روشنی کی کرن گلیل کے شہر میں سے آئے گی۔

اس مضمون میں سے ہم دو سبق سیکھ سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ہمیں اپنی مذہبی سرگرمیوں کو بڑی حوصلہ افزائی کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے کہ لیکن اس کے ساتھ ہمیں اس کے بارے میں علم بھی ہونا چاہئے۔ جیسا کہ ہم حج کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔ اُس میں جاننے کی ضرورت ہے کیا سچ ہے اور کیا سچ نہیں۔

‘کیونکہ مَیں اُن کا گواہ ہُوں کہ وہ خُدا کے بارے میں غَیرت تو رکھتے ہیں مگر سَمجھ کے ساتھ نہیں۔ ‘ رُومِیوں 10:2

ہمیں اس بات کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم انبیاءاکرام نے کیا لکھا ہے تاکہ ہم بہتر طور پر معلومات رکھ سکیں۔

دوسرا، ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ المیسح یہاں پر ایک پیش کش کرتے ہیں۔ اُنہوں نے حج پر فرمایا۔

‘پِھر عِید کے آخِری دِن جو خاص دِن ہے یِسُو ع کھڑا ہُؤا اور پُکار کر کہا اگر کوئی پِیاسا ہو تو میرے پاس آ کر پِئے۔ جو مُجھ پر اِیمان لائے گا اُس کے اندر سے جَیساکہ کِتابِ مُقدّس میں آیا ہے زِندگی کے پانی کی ندِیاں جاری ہوں گی۔ ‘ یُوحنّا 7:37-38

آپ نے یہ پیش کش ہرکسی کو پیش کی (یہ صرف یہودیوں، مسیحیوں یا مسلمانوں وغیرہ کے لیے نہیں) بلکہ یہ سب لوگوں کے لیے تھی۔ جو کوئی پیاسا ہے۔ کیا آپ پیاسے ہیں؟ (یہاں پر دیکھیں نبیؑ کا اس سے کیا مراد تھا)۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ زم زم کے چشمہ سے پانی پیا جائے۔ اس کے ساتھ کیوں نہ ہم حضرت المسیح سے پانی پیں جو ہماریے باطن کی پیاس کو ختم کردے گا؟

حضرت عیسیٰ المسیح کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے آئے۔

اکثر مذہبی لوگ ان لوگوں سے الگ رہنا پسند کرتے ہیں۔ جو مذہبی نہیں ہوتے۔ تاکہ وہ اُن غیر مذہبی لوگوں کی وجہ سے ناپاک نہ ہوجائیں۔ یہ سچ ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے زمانے میں شریعت کے استاد ایسا ہی کرتے تھے۔ وہ ہر وقت کوشش کرتے تھے کہ ناپاک چیزوں سے دور رہیں تاکہ وہ پاک صاف رہ سکیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ المسیح نے سیکھا کہ ہماری پاکیزگی اور صفائی ہمارے دل کا معاملہ ہے۔ اس لیے حضرت عیسیٰ اُن لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا چاہتے تھے۔ جو رسمی طور پر پاک نہیں تھے۔۔ یہاں پر انجیل پاک میں شریعت کے استادوں اور گنہگاروں کے بارے میں یوں بیان کرتی ہے۔

‘سب محصُول لینے والے اور گُنہگار اُس کے پاس آتے تھے تاکہ اُس کی باتیں سُنیں اور فریسی اور فقِیہہ بُڑبُڑا کر کہنے لگے کہ یہ آدمی گُنہگاروں سے مِلتا اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتا ہے  لُوقا 15: 1-2

لہذا حضرت عیسیٰ المسیح کیوں گنہگاروں کا خیر مقدم کرتے اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتے تھے؟ کیا آپ اُن کے گناہ سے لطف اندوز ہوتے تھے؟ نبی اپنے تنقید کرنے والوں کو تین کہانیوں کے زریعے جواب دیتے ہیں۔

کھوئی ہوئی بھیڑ کی مثال

‘اُس نے اُن سے یہ تمثِیل کہی کہ3 تُم میں کَون اَیسا آدمی ہے جِس کے پاس سَو بھیڑیں ہوں اور اُن میں سے ایک کھو جائے تو نِنانوے کو بیابان میں چھوڑ کر اُس کھوئی ہُوئی کو جب تک مِل نہ جائے ڈُھونڈتا نہ رہے؟4 پِھر جب مِل جاتی ہے تو وہ خُوش ہو کر اُسے کندھے پر اُٹھا لیتا ہے5 اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسِیوں کو بُلاتا اورکہتا ہے میرے ساتھ خُوشی کرو کیونکہ میری کھوئی ہُوئی بھیڑ مِل گئی6 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح نِنانوے راست بازوں کی نِسبت جو تَوبہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک تَوبہ کرنے والے گُنہگارکے باعِث آسمان پر زِیادہ خُوشی ہو گی7  لُوقا 15: 3-7

اس کہانی میں حضرت عیسیٰ المسیح ہم کو بھیڑوں سے اور خود کو چرواہے کے طور پر تشبی دیتے ہیں۔ جس طرح ایک چرواہا کھوئی ہوئی بھیٹر کی تلاش میں جاتا ہے۔ اُس طرح آپ کھوئے ہوئے لوگوں کی تلاش کرتے ہیں۔ شاید وہ کسی گناہ کے جرم میں پکڑا گیا ہو۔ حتاکہ وہ گناہ اتنا حفیہ ہو کہ آپ کے خاندان کو بھی پتہ نہ ہو یا آپ کو اپنے آپ کو بھی پتہ نہ ہو۔ اس گناہ کا ایسا احساس کہ آپ خود میں کھوئے معلوم ہوں۔ لیکن اس کہانی میں ایک اُمید پائی جاتی ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح خود آپ کی تلاش میں ہیں اور آپکی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آپ کو اُس نقصان سے بچانا چاہتے ہیں جو اس گناہ کی وجہ سے درپیش ہے۔

پھر آپ نے دوسری کہانی بتائی۔

کھوئے ہوئے سکے کی مثال

‘یا کَون اَیسی عَورت ہے جِس کے پاس دس دِرہم ہوں اور ایک کھو جائے تو وہ چراغ جلا کر گھر میں جھاڑُو نہ دے اور جب تک مِل نہ جائے کوشِش سے ڈُھونڈتی نہ رہے؟8 اور جب مِل جائے تو اپنی دوستوں اور پڑوسنوں کو بُلا کر نہ کہے کہ میرے ساتھ خُوشی کرو کیونکہ میرا کھویا ہُؤا دِرہم مِل گیا9 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح ایک تَوبہ کرنے والے گُنہگار کے باعِث خُدا کے فرِشتوں کے سامنے خُوشی ہوتی ہے 10 لُوقا 15: 8-10

اس کہانی میں ہماری قدر بتائی گئی ہے۔ لیکن اس کہانی میں ہم ایک کھوئے ہوئے سکے کی مانند ہیں اور آپ ہم کو تلاش کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سکہ گھر میں ہی کہیں کھویا ہوا ہے۔ اُس سکے کو معلوم نہیں ہے کہ وہ کھویا ہوا ہے۔ یہاں ایک عورت ہے جس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اُس کا سکہ کھوگیا ہےاور وہ اپنے گھر میں سکے کو تلاش کرتی ہے اور اُس وقت تک اطمینان کا سانس نہیں لیتی جب تک وہ اُس سکے کو تلاش نہیں کرلیتی۔ شاید آپ کو اس بات کا ‘احساس’ نہ ہو کہ آپ کھوئے ہوئے ہیں۔ لیکن حقیقت اس بات کی ہے کہ ہم سب کو توبہ کی ضرورت ہے۔ اور اگر آپ نے ابھی تک توبہ نہیں کی تو آپ کھوئے ہوئے ہیں۔ چاہئے آپ کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو۔ اور حضرت عیسیٰ المسیح کی نظر میں آپ قابلِ قدر ہیں۔ لیکن ایک کھوئے ہوئے سکے کی مانند ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آپ اپنی پہچان کو جانیں۔ وہ اس کے لیے کام کررہا ہے تاکہ آپ مکمل طور پر توبہ کریں۔ اور اپنی کھوئی ہوئی پہچان کو حاصل کریں۔

ان کی تیسری کہانی سب سے زیادہ موثر ہے۔

کھوئے ہوئے بیٹے کی مثال

‘پِھراُس نے کہا کہ کِسی شخص کے دو بیٹے تھے اُن میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا اَے باپ! مال کا جو حِصّہ مُجھ کو پہنچتا ہے مُجھے دے دے  اُس نے اپنا مال متاع اُنہیں بانٹ دِیا اور بُہت دِن نہ گُذرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کُچھ جمع کر کے دُور دراز مُلک کو روانہ ہُؤا اور وہاں اپنامال بدچلنی میں اُڑا دِیا اور جب سب خرچ کر چُکا تو اُس مُلک میں سخت کال پڑا اور وہ مُحتاج ہونے لگا پِھر اُس مُلک کے ایک باشِندہ کے ہاں جا پڑا  اُس نے اُس کو اپنے کھیتوں میں سُؤر چرانے بھیجا اور اُسے آرزُو تھی کہ جو پَھلِیاں سُؤر کھاتے تھے اُنہی سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اُسے نہ دیتا تھا پِھراُس نے ہوش میں آ کر کہا میرے باپ کے بُہت سے مزدُوروں کو اِفراط سے روٹی مِلتی ہے اور مَیں یہاں بُھوکا مَر رہا ہُوں! مَیں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اُس سے کہُوں گا اَے باپ! مَیں آسمان کا اور تیری نظر میں گُنہگار ہُؤا اب اِس لائِق نہیں رہا کہ پِھر تیرا بیٹا کہلاؤُں  مُجھے اپنے مزدُوروں جَیسا کر لے پس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا  وہ ابھی دُور ہی تھا کہ اُسے دیکھ کر اُس کے باپ کو ترس آیا اور دَوڑ کر اُس کو گلے لگا لِیا اور چُوما بیٹے نے اُس سے کہا اَے باپ! مَیں آسمان کا اور تیری نظر میں گُنہگار ہُؤا  اَب اِس لائِق نہیں رہا کہ پِھر تیرا بیٹا کہلاؤُں باپ نے اپنے نَوکروں سے کہا اچھّے سے اچّھا لِباس جلد نِکال کر اُسے پہناؤ اور اُس کے ہاتھ میں انگُوٹھی اور پاؤں میں جُوتی پہناؤ اور پَلے ہُوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تاکہ ہم کھا کر خُوشی منائیں کیونکہ میرا یہ بیٹا مُردہ تھا  اب زِندہ ہُؤا  کھو گیا تھا  اب مِلا ہے  پس وہ خُوشی منانے لگے لیکن اُس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا  جب وہ آ کر گھر کے نزدِیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سُنی اور ایک نَوکر کو بُلا کر دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا تیرا بھائی آ گیا ہے اور تیرے باپ نے پَلاہُؤا بچھڑا ذبح کرایا ہے کیونکہ اُسے بھلا چنگا پایا وہ غُصّے ہُؤا اور اندر جانا نہ چاہا مگر اُس کا باپ باہر جا کر اُسے منانے لگا اُس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا دیکھ اِتنے برسوں سے مَیں تیری خِدمت کرتا ہُوں اور کبھی تیری حُکم عدُولی نہیں کی مگر مُجھے تُو نے کبھی ایک بکری کا بچّہ بھی نہ دِیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خُوشی مناتا لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جِس نے تیرا مال متاع کسبِیوں میں اُڑا دِیا تو اُس کے لِئے تُو نے پَلا ہُؤا بچھڑا ذبح کرایا اُس نے اُس سے کہا بیٹا! تُو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کُچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن خُوشی منانا اور شادمان ہونا مُناسِب تھا کیونکہ تیرا یہ بھائی مُردہ تھا  اب زِندہ ہُؤا کھویا ہُؤا تھا  اب مِلا ہے لُوقا 15:11-32

اس کہانی میں ہم ایک بڑے بھائی کی مانند ہیں جو ایک مذہبی ہے۔ یا تو چھوٹے بیٹے کی مانند ہیں جو گھر کو چھوڑکر بہت دور چلاگیا تھا۔ تاہم بڑئے بیٹے نے تمام مذہبی رسومات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کی لیکن اُس نے کبھی باپ کو محبت بھرے دل سے ناجانا۔ چھوٹا بیٹا گھر کو چھوڑ کر محسوس کررہا تھا کہ اُس نے آزادی حاصل کرلی ہے۔ لیکن اصل میں اُس نے بھوک اور رسوئی حاصل کی۔ پھر اُس کو اس بات کا احساس ہوا کہ وہ واپس اپنے باپ کے گھر جاسکتا ہے۔ جب وہ واپس گھر جارہا تھا۔ تو اسے اس بات کا احساس ہوا۔ کہ اس نے گھر کو چھوڑکر اُس نے بہت بڑی غلطی کی تھی۔ اور اب غلطی کو قبول کرنے کے لیے اُس کو عاجز ہونے کی ضرورت تھی۔ اس مثال میں ہمیں توبہ کے بارے میں سجھنے کی مدد کی گئی ہے۔ اور حضرت یحییٰ نے اس کے بارے میں واقعی بڑے سچے اور معنی خیز الفاظ کہے ہیں۔

جب اُس نے اپنا تکبر کو اپنے اندر سے نکال باہر پھینکا۔ اور اپنے باپ کے پاس واپس چلاگیا۔ تو اُس نے اپنے باپ کی محبت کو اپنی سوچ سے بڑھ کر پایا۔ اُس کے باپ نے اُس کو پہننے کو لباس، پاوں کے لیے نئے جوتے، انگوٹھی، ضیافت، اور برکات سے قبول کیا۔ یہ سب محبت کی زبان ہے۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہم سے اس قدر محبت رکھتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ ہم واپس اُس کے گھر میں چلیں جائیں۔ اس کی ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم توبہ کریں۔ یہ ہی بات حضرت عیسیٰ المسیح چاہتے ہیں کہ ہم سمجھ جائیں۔ کیا آپ اس کس قسم کی محبت کو قبول کرنا چاہتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح رحمت فرماتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی شریعت کی نافرمانی کی ہے؟ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کرنا چاہتا، لیکن سچائی یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر اپنی حقیقت کو چھپاتے ہیں۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ دوسراہمارے گناہ کے بارے میں نہیں جانتا ہوگا۔ ورنہ اگر کسی کو معلوم ہوگیا تو اس سے بےعزتی ہوگی۔ لیکن اگر آپ کی ناکامی/گناہ دوسروں کو معلوم ہوجائے تو آپ پھر کیا اُمید کرتے ہیں؟

حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم کے دوران ایسا ایک خاتون کے ساتھ ہوا۔ انجیل مقدس میں اس واقع کو اس طرح درج کیا گیا ہے۔

‘صُبح سویرے ہی وہ پِھر ہَیکل میں آیا اور سب لوگ اُس کے پاس آئے اور وہ بَیٹھ کر اُنہیں تعلِیم دینے لگا۔ اور فقِیہہ اور فرِیسی ایک عَورت کو لائے جو زِنا میں پکڑی گئی تھی اور اُسے بِیچ میں کھڑا کر کے یِسُو ع سے کہا۔ اَے اُستاد! یہ عَورت زِنا میں عَین فِعل کے وقت پکڑی گئی ہے۔ تَورَیت میں مُوسیٰ نے ہم کو حُکم دِیا ہے کہ اَیسی عَورتوں کو سنگسار کریں ۔ پس تُو اِس عَورت کی نِسبت کیا کہتا ہے؟۔ اُنہوں نے اُسے آزمانے کے لِئے یہ کہا تاکہ اُس پر اِلزام لگانے کا کوئی سبب نِکالیں مگر یِسُو ع جُھک کر اُنگلی سے زمِین پر لِکھنے لگا۔ جب وہ اُس سے سوال کرتے ہی رہے تو اُس نے سِیدھے ہو کر اُن سے کہا کہ جو تُم میں بے گُناہ ہو وُہی پہلے اُس کے پتّھر مارے۔ اور پِھر جُھک کر زمِین پر اُنگلی سے لِکھنے لگا۔ وہ یہ سُن کر بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک ایک ایک کر کے نِکل گئے اور یِسُو ع اکیلا رہ گیا اور عَورت وہِیں بِیچ میں رہ گئی۔ یِسُو ع نے سِیدھے ہو کر اُس سے کہا اَے عَورت یہ لوگ کہاں گئے؟ کیا کِسی نے تُجھ پر حُکم نہیں لگایا؟۔ اُس نے کہا اَے خُداوند کِسی نے نہیں ۔ یِسُو ع نے کہا مَیں بھی تُجھ پر حُکم نہیں لگاتا ۔ جا ۔ پِھر گُناہ نہ کرنا ۔ ‘ یُوحنّا 8: 2-11

 

یہ عورت زنا کے عین فعل پر پکڑی گئی۔ حضرت موسیٰ کی شریعت کے ماہر یہودی اُستاد اُس کو سنگسار کرنا چاہتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے اُس کو حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس لانا پسند کیا۔ کیونکہ وہ آپ کو آزمانا چاہتے تھے۔ کہ آپ اس معاملے کے بارے میں کیا فتویٰ دیتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا آپ شریعت کو برقرار رہیں گے یا نہیں؟ (دراصل شریعی طور پر مرد اور عورت دونوں کو سنگسار کرنے کا حکم تھا۔ لیکن اُنہوں نے صرف عورت کو وہاں سزا دینے کے لیے لایا)

اللہ کا انصاف اور بنی نوع انسان کا گناہ

حضرت عیسیٰ المسیح نے شریعت کی مخالفت نہ کی۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق کامل انصاف فرمایا۔ لیکن آپ نے یہ فرمایا کہ پہلا پتھر وہ مارے گا جس نے کبھی بھی گناہ نہیں کیا۔ جب شریعت کے ماہر اُستادوں نے اس پر غور کیا تو زبور شریف سے اس مندرجہ ذیل آیت کی حقیقت اُن کے ذہینوں میں روشن ہوگی۔

‘خُداوند نے آسمان پر سے بنی آدم پرنِگاہ کی تاکہ دیکھے کہ کوئی دانِش مند کوئی خُدا کا طالِب ہے یا نہیں۔ وہ سب کے سب گُمراہ ہُوئے ۔ وہ باہم نجِس ہو گئے ۔ کوئی نیکوکار نہیں ۔ ایک بھی نہیں۔ ‘ زبُو 14:2-3

اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف کافر اور مشرکین ہی گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے بلکہ ایماندار جو اللہ اوراُس کے انبیاءاکرام پر ایمان لاتے ہیں وہ بھی گناہ کرتے ہیں۔ دراصل ان آیت کے مطابق جب بھی اللہ تعالیٰ آسمان پر سے زمیں پر بنی آدم پر نگاہ کرتا ہے۔ تو وہ کسی کو بھی نیک نہیں جانتا۔

حضرت موسیٰ کی شریعت میں بنی نوع انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کا انصاف کا کامل انتظام تھا۔ اور جو اس پر عمل کریں گے وہ راستباز ٹھہریں گے۔ لیکن معیار کامل تھا۔ اور اس معیار میں ایک گناہ کی بھی گنجائش نہ تھی۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت

لیکن جب "سب بدعنوان بن گے”، تو پھر ایک اور انتظام کی ضرورت پیش آئی۔ یہ انتظام انصاف کے معیار پر مبنی نہیں ہوگا۔ کیونکہ لوگ شریعت کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتے تھے۔ لہذا یہ اللہ تعالیٰ کے ایک دوسرے کردار یعنی رحم پر مبنی ہوگا۔ وہ اس انتظام کی بدولت اپنے لوگوں پر رحم کرے گا۔ اس کی تصویر حضرت موسیٰ کی شریعت میں پیش کی گئی تھی۔ کہ جب فسح پربکرے کے خون کو اپنے گھر کے دروازے پر لگالے گا تو اُس پر رحم کیا جائے گا اور اُس کی زندگی بخش دی جائے گی۔ اور حضرت ہارون کی گائے کا ذکر (سورۃ البقرہ) میں بھی آیا ہے۔ اس کا ذکر حضرت آدم اور حضرت حوا کو جب لباس کی ضرورت تھی۔ تو ان پر رحم کیا گیا اور قربانی کے ذریعے لباس مہیا کیا گیا۔ حضرت ہابیل کی قربانی، اور حضرت نوح پر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت برسی۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے زبور شریف میں کیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کی میں اس دنیا کا گناہ ایک دن میں ختم کردوں گا۔

. . .

ربُّ الافواج فرماتا ہے اور مَیں اِس مُلک کی بدکرداری کو ایک ہی دِن میں دُور کرُوں گا۔ ‘ زکریاہ 3: 9

اب حضرت عیسیٰ المسیح اس کو اُس شخص (عورت) پر واضح کررہے تھے۔ جس کے پاس صرف رحم کی اُمید کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ یہ دلچسپی کی بات ہے۔ کہ اس عورت کے بارے مذہب میں کوئی اہمیت نہیں نظر نہیں آتی۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے پہاڑ پر ایک وعظ فرمایا تھا۔

‘مُبارک ہیں وہ جو رحمدِل ہیں کیونکہ اُن پر رحم کِیاجائے گا۔ ‘ متّی 5:7

اور

‘عَیب جوئی نہ کرو کہ تُمہاری بھی عَیب جوئی نہ کی جائے۔ کیونکہ جِس طرح تُم عَیب جوئی کرتے ہو اُسی طرح تُمہاری بھی عَیب جوئی کی جائے گی اور جِس پَیمانہ سے تُم ناپتے ہو اُسی سے تُمہارے واسطے ناپا جائے گا۔ ‘ متّی 7:1-2

رحم پانے کے لیے رحم کرو

آپ کو اور مجھ کو قیامت کے دن رحم حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے ساتھ رحم سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اُس شخصیت پر رحم کیا جس نے مکمل طور پر شریعت کی نافرمانی کی اور وہ عورت رحم کی مستحق نہ تھی۔ لیکن کیا اس کی ضرورت ہے۔ کہ ہم اپنے اردگرد لوگوں پر رحم کریں۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے مطابق رحم کرنے کا معیار یہ ہے۔ کہ ہم پر اتنا ہی رحم کیا جائے گا جتنا ہم دوسرے لوگوں پر رحم کریں گے۔ ہم دوسروں کے گناہ کی عدالت کرنا بہت جلدی پسند کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے اردگرد خود بہت سارے مسلئے موجود ہیں۔ جبکہ ہمارے لیے عقلمندی یہ ہوگی کہ ہم اُن پر رحم کریں جنہوں نے ہمیں دکھ دیا ہو۔ آئیں ہم مل کر یہ دعا کریں ہم حضرت عیسیٰ المسیح جیسے بن جائیں جو اُن لوگوں پر رحم کرتے ہیں جو اس کے مستحق نہیں ہوتے۔ ہم بھی اس طرح کے لوگ ہیں۔ جو رحم کے مستحق نہیں تھے لیکن ہم پر بھی اُس کا رحم ہوا۔ اس لیے ہم بھی رحم ہو سکے جب ہم کو اس کی ضرورت ہو۔ پھر ہی ہم انجیل مقدس میں رحم کے بارے میں خوشخبری کو بہتر طور پر جان سکیں گے۔

حضرت یحییٰ ؑ کی مصبت اور حق کی راہ میں شہادت

لفظ ‘شہید” ان دنوں بہت استعمال کیا جاتا ہے۔ میں نے سُنا ہے کہ یہ اُن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کسی جنگ میں مارے جائے۔ یا پھر کیسی دو فرقوں کے درمیان کچھ تنازعہ ہو اور اس وجہ سے اُن کے درمیان جھگڑا ہوجائے۔ اگر کوئی اس لڑائی میں مر جائے تو اُس کو شہید کہتے ہیں۔ (اور شاید دوسری طرف کافر ہی کیوں نہ ہو)

لیکن کیا یہ درست ہے؟ انجیل شریف میں بیان آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح کی خدمت کے دوران حضرت یحییٰ ؑ کو شیہد کردیا گیا تھا۔ لفظ شیہد کو سمجھنے کے لیے حضرت یحیٰؑ کا واقع ایک اچھی مثال ہے۔ یہاں پر اس واقع کو انجیل شریف میں سے بیان کیا گیا ہے۔

‘اُس وقت چَوتھائی مُلک کے حاکِم ہیرود یس نے یِسُو ع کی شُہرت سُنی۔ اور اپنے خادِموں سے کہا کہ یہ یُو حنّا بپتِسمہ دینے والا ہے ۔ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اِس لِئے اُس سے یہ مُعجِزے ظاہِر ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہیرودیس نے اپنے بھائی فِلِپُّس کی بِیوی ہیرودِ یاس کے سبب سے یُوحنّا کو پکڑ کر باندھا اور قَیدخانہ میں ڈال دِیا تھا۔ کیونکہ یُوحنّا نے اُس سے کہا تھا کہ اِس کارکھنا تُجھے روا نہیں۔ اور وہ ہر چند اُسے قتل کرنا چاہتا تھا مگر عام لوگوں سے ڈرتا تھا کیونکہ وہ اُسے نبی جانتے تھے۔ لیکن جب ہیرود یس کی سالگِرہ ہُوئی تو ہیرودِ یاس کی بیٹی نے محفِل میں ناچ کر ہیرود یس کو خُوش کِیا۔ اِس پر اُس نے قَسم کھا کر اُس سے وعدہ کِیا کہ جو کُچھ تُو مانگے گی تُجھے دُوں گا۔ اُس نے اپنی ماں کے سِکھانے سے کہا مُجھے یُو حنّا بپتِسمہ دینے والے کا سر تھال میں یہِیں منگوا دے۔ بادشاہ غمگِین ہُؤا مگر اپنی قَسموں اورمِہمانوں کے سبب سے اُس نے حُکم دِیا کہ دے دِیا جائے۔ اور آدمی بھیج کر قَیدخانہ میں یُوحنّا کا سر کٹوا دِیا۔ اور اُس کاسر تھال میں لایا گیا اور لڑکی کو دِیا گیا اور وہ اُسے اپنی ماں کے پاس لے گئی۔ اور اُس کے شاگِردوں نے آ کر لاش اُٹھا لی اور اُسے دفن کر دِیا اور جا کر یِسُو ع کو خبر دی۔ ‘ متّی 14: 1-12

ہم نے سب سے پہلے دیکھا کہ کیوں حضرت یحییٰ ؑ کو گرفتار کیا گیا۔ کہ وہاں کے مقامی بادشاہ نے اپنے بھائی کی بیوی کو لے لیا اور اپنی بیوی بنالیا تھا۔ جو کہ حضرت موسیٰؑ کی شریعت کےمنافی تھا۔ حضرت یحییٰ ؑ نے لوگوں کے سامنے بادشاہ کو اس بات پر ملامت کی اور کہا کہ یہ درست نہیں ہے۔ لیکن بدعنوان بادشاہ نے نبی کی بات کو سننے کی بجائے۔ اُس نے نبی کو گرفتار کر لیا تھا۔ اُس بادشاہ کی بیوی، جو اب ایک طاقتور بادشاہ کی بیوی تھی۔ اب وہ چاہتی تھی کہ اس نبی کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردے۔ اس کے لیے اُس نے اپنی جوان بیٹی کو بادشاہ کی ایک محفل میں ناچنے کے لیے تیار کیا۔ اُس کی بیٹی نے بادشاہ اور اُس کے مہمانوں کے سامنے ناچ کر بادشاہ کو خوش کیا۔ بادشاہ نے اُس لڑکی سے کہا مانگ جو آج تو مانگے گی وہ تم کو دیا جائے گا۔ اُس لڑکی کی ماں نے اُس کہا کہ حضرت یحییٰ ؑ کا سر تھال میں مانگ۔ لہذا حضرت یحییٰ ؑ جیل میں تھے۔ کیونکہ اُنہوں نے سچ بولا تھا۔ آپ کا سر قلم کرنا بہت ہی آسان تھا اور لا کر اُس لڑکی کو دے دیا اور وہ اُس کو اپنی ماں کے پاس لے گئی۔ یہ ایک صرف بادشاہ کو خوش کرنےکی وجہ سے کیا گیا کیونکہ بادشاہ لڑکی کے  جنسی ناچ سے خوش ہوا تھا۔ جو اُس نے اُس کے مہمانوں کے سامنے کیا تھا۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ حضرت یحییٰ ؑ کسی سے لڑ نہیں رہ تھا۔ اور نہ ہی آپؑ بادشاہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ آپ ؑ تو صرف جو سچ ہے اُس کو بیان کررہے تھے۔ آپؑ ایک بدعنوان بادشاہ کو انتباہ کرنے سے خوفزدہ نہ تھے۔ اگرچہ آپؑ کے پاس اس طاقتور بادشاہ کا سامنا کرنے کے لیے فوج نہ تھی۔ اُنہوں سچ بولا کیونکہ وہ حقیقی طور پر حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت سے محبت رکھتے تھے۔ یہ ایک اچھی مثال ہے جس سے ہم اس بات کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ کہ ہمیں کس طرح سے لڑنا ہے(سچ بولنے کے لیے) اور ہمیں کس بات کے لیے لڑنا (انبیاء اکرام کے سچ کے لیے) ہے۔ حضرت یحییٰ ؑ نے بادشاہ کو قتل نہ کرنا چاہا اور نہ ہی آپؑ نے کوئی انقلاب اور جنگ کو شروع کیا۔

حضرت یحییٰ ؑ کی شہادت کا نتیجہ

آپؑ کا نقطہ نظر نہایت موثر تھا۔ بادشاہ حضرت یحییٰ ؑ کی شہادت سے اس قدر باطنی طور پر پریشان تھا۔ وہ حضرت عیسیٰ المسیح کے معجزات اور تعلیم سے حیران ہوکر یہ سمجھا کہ شاید حضرت یحییٰ ؑ حضرت عیسیٰ المسیح کی شکل میں دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے حضرت یحییٰ ؑ کے بارے میں یوں فرمایا

‘جب وہ روانہ ہو لِئے تو یِسُو ع نے یُوحنّا کی بابت لوگوں سے کہنا شُرُوع کِیا کہ تُم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا ہوا سے ہِلتے ہُوئے سرکنڈے کو؟۔ تو پِھر کیا دیکھنے گئے تھے؟ کیا مہِین کپڑے پہنے ہُوئے شخص کو؟ دیکھو جو مہِین کپڑے پہنتے ہیں وہ بادشاہوں کے گھروں میں ہوتے ہیں۔ تو پِھر کیوں گئے تھے؟ کیا ایک نبی دیکھنے کو؟ ہاں مَیں تُم سے کہتا ہُوں بلکہ نبی سے بڑے کو۔ یہ وُہی ہے جِس کی بابت لِکھا ہے کہ دیکھ میں اپنا پَیغمبر تیرے آگے بھیجتاہوں جو تیری راہ تیرے آگے تیّار کرے گا۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہُؤا لیکن جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے۔ اور یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کے دِنوں سے اب تک آسمان کی بادشاہی پر زور ہوتا رہا ہے اور زورآور اُسے چِھین لیتے ہیں۔ کیونکہ سب نبِیوں اور تَورَیت نے یُوحنّا تک نبُوّت کی۔ اور چاہو تو مانو۔ ایلیّا ہ جو آنے والا تھا یِہی ہے۔ جِس کے سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے۔ ‘ متّی 11:7-15

یہاں حضرت عیسیٰ المسیح نے اس بات کی تصدیق کی کہ حضرت یحییٰ ؑ آنے والے کی راہ "تیار” کرنے والا تھا۔ اور وہ انبیاء اکرام میں سے عظیم نبی تھا۔ حضرت یحییٰ ؑ آج آسمان کی بادشاہی میں موجود ہےلیکن بادشاہ ہرودیس جیسا طاقتور بادشاہ آسمان کی بادشاہی سے خارج ہے۔ کیونکہ اُس نے انبیاءاکرام کی تعلیم کو رد کردیا تھا۔

حضرت یحییٰؑ کے دور میں سنگین تشدد کرنے والے لوگ پائے جاتے تھے۔ جو دوسرے لوگوں کے سرقلم کرنے میں فخر سمجھتے تھے۔ آج بھی اس قسم کے سنگین تشدد کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں۔  اس قسم کے تشدد کرے والے لوگ اچانک آسمان کی بادشاہی پر چھاپا مارتے ہیں۔ لیکن وہ اس بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے اُسی راہ کو اختیار کرنے کے ضرورت ہوگی۔ جس کو حضرت یحییٰؑ نے اختیا ر کیا تھا۔ اُنہوں نے امن کو قائم کیا اور سچائی کی تبلیغ کی۔ اگر ہم اس مثال کی پیروی کریں گے تو ہم عقلمند ہونگے۔ ہمیں اُن لوگوں کی مثال کی پیروی نہیں کرنی جوآج دوسرے لوگوں کے سر قلم کردینا چاہتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح ‘زندگی کے پانی’ کی پیشکش کرتے ہیں۔

ہم نے پچھلے مضمون میں سیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمیں کیسے اپنے دشمنوں سے رویہ رکھنا کی تعلیم دی۔ ہمارے موجودہ زمانے میں جہاں ہم سُنی اور شعیہ اور اسد کے حامیوں اور مخالفین اور اسرائیل اور فلسطین اور اسطرح عراق اور یوکرائین اوراس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کونسے ملک یا شہر کے حالت کے بارے میں بات کرہے ہیں۔ آپ کو سب جگہ ایک جیسی صورتِ حال نظر آئے گی۔مختلف گروہوں کے درمیان تنازعات جہاں لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرتے اور ایک دوسرے کو قتل کرڈالتے ہیں۔اس طرح کے حالت نے ہماری دنیا کو شدیدغم اور پریشانی کی حالت میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے تمثیل میں ہمیں سیکھایا تھا۔ کہ جنت میں داخل ہونے کا انحصار یہ ہے۔ کہ ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے ہیں۔

لیکن کئی بار سیکھانا آسان ہوتا ہے۔ اور اُس پرعمل کرنا بلکل مختلف۔ یہاں تک کہ بہت سارے امام اور دوسرے مذاہب کے راہنما سیکھاتے بہت کچھ ہیں لیکن خود اُن باتوں پر اپنی زندگی میں عمل نہیں کرتے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے میں کیا حقیقت پائی جاتی ہے؟ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ اُن کی ایک سامری کے ساتھ آمنا سامنا ہوگیا۔ (یاد رکھیں! اُن دنوں یہودیوں اور سامریوں کے درمیان حالت اچھے نہیں تھے۔ بلکہ جس طرح آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہیں) انجیل مقدس میں اس واقع کے بارے میں اس طرح لکھا ہوا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی سامری عورت سے گفتگو

پِھر جب خُداوند کو معلُوم ہُؤا کہ فرِیسِیوں نے سُنا ہے کہ یِسُو ع ےُوحنّا سے زِیادہ شاگِرد کرتا اور بپتِسمہ دیتا ہے۔ (گو یِسُو ع آپ نہیں بلکہ اُس کے شاگِرد بپتِسمہ دیتے تھے)۔ تو وہ یہُودیہ کو چھوڑ کر پِھر گلِیل کو چلا گیا۔ پس وہ سامر یہ کے ایک شہر تک آیا جو سُو خار کہلاتا ہے ۔ وہ اُس قِطعہ کے نزدِیک ہے جو یعقُو ب نے اپنے بیٹے یُوسف کو دِیا تھا۔ اوریعقُو ب کا کُنواں وہِیں تھا ۔ چُنانچہ یِسُو ع سفر سے تھکا ماندہ ہو کر اُس کُنوئیں پر یُونہی بَیٹھ گیا ۔ یہ چَھٹے گھنٹے کے قرِیب تھا۔ سامر یہ کی ایک عَورت پانی بھرنے آئی ۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا مُجھے پانی پِلا۔ کیونکہ اُس کے شاگِرد شہر میں کھانا مول لینے کو گئے تھے۔ اُس سامری عَورت نے اُس سے کہا کہ تُو یہُودی ہو کر مُجھ سامری عَورت سے پانی کیوں مانگتا ہے؟ (کیونکہ یہُودی سامرِیوں سے کِسی طرح کا برتاؤ نہیں رکھتے)۔ یِسُو ع نے جواب میں اُس سے کہا اگر تُو خُدا کی بخشِش کو جانتی اور یہ بھی جانتی کہ وہ کَون ہے جو تُجھ سے کہتا ہے مُجھے پانی پِلا تو تُو اُس سے مانگتی اوروہ تُجھے زِندگی کا پانی دیتا۔ عَورت نے اُس سے کہا اَے خُداوند تیرے پاس پانی بھرنے کو تو کُچھ ہے نہیں اور کُنواں گہرا ہے ۔ پِھر وہ زِندگی کا پانی تیرے پاس کہاں سے آیا؟۔ کیا تُو ہمارے باپ یعقُوب سے بڑا ہے جِس نے ہم کو یہ کُنواں دِیا اور خُود اُس نے اور اُس کے بیٹوں نے اور اُس کے مویشی نے اُس میں سے پِیا؟۔ یِسُو ع نے جواب میں اُس سے کہا جو کوئی اِس پانی میں سے پِیتا ہے وہ پِھر پیاسا ہو گا۔ مگر جو کوئی اُس پانی میں سے پِئے گا جو مَیں اُسے دُوں گا وہ ابد تک پِیاسا نہ ہو گا بلکہ جو پانی مَیں اُسے دُوں گاوہ اُس میں ایک چشمہ بن جائے گا جو ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے جاری رہے گا۔ عَورت نے اُس سے کہا اَے خُداوند وہ پانی مُجھ کو دے تاکہ مَیں نہ پِیاسی ہُوں نہ پانی بھرنے کو یہاں تک آؤں۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا جا اپنے شَوہر کو یہاں بُلا لا۔ عَورت نے جواب میں اُس سے کہا کہ مَیں بے شَوہر ہُوں ۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا تُو نے خُوب کہا کہ مَیں بے شَوہر ہُوں۔ کیونکہ تُو پانچ شَوہر کر چُکی ہے اور جِس کے پاس تُو اب ہے وہ تیرا شَوہر نہیں ۔ یہ تُو نے سچ کہا۔ عَورت نے اُس سے کہا اَے خُداوند مُجھے معلُوم ہوتا ہے کہ تُو نبی ہے۔ ہمارے باپ دادا نے اِس پہاڑ پر پرستِش کی اور تُم کہتے ہو کہ وہ جگہ جہاں پرستِش کرنا چاہیے یروشلِیم میں ہے۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا اَے عَورت! میری بات کا یقِین کر کہ وہ وقت آتا ہے کہ تُم نہ تو اِس پہاڑ پر باپ کی پرستِش کرو گے اور نہ یروشلِیم میں۔ تُم جِسے نہیں جانتے اُس کی پرستِش کرتے ہو ۔ ہم جِسے جانتے ہیں اُس کی پرستِش کرتے ہیں کیونکہ نجات یہُودِیوں میں سے ہے۔ مگر وہ وقت آتا ہے بلکہ اب ہی ہے کہ سچّے پرستار باپ کی پرستِش رُوح اور سچّائی سے کریں گے کیونکہ باپ اپنے لِئے اَیسے ہی پرستار ڈُھونڈتا ہے۔ خُدا رُوح ہے اور ضرُور ہے کہ اُس کے پرستار رُوح اور سچّائی سے پرستِش کریں۔ عَورت نے اُس سے کہا مَیں جانتی ہُوں کہ مسِیح جوخرِستُس کہلاتا ہے آنے والا ہے ۔ جب وہ آئے گا تو ہمیں سب باتیں بتا دے گا۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا مَیں جو تُجھ سے بول رہا ہُوں وُہی ہُوں۔ اِتنے میں اُس کے شاگِرد آ گئے اور تعجُّب کرنے لگے کہ وہ عَورت سے باتیں کر رہا ہے تَو بھی کِسی نے نہ کہا کہ تُو کیا چاہتا ہے؟ یا اُس سے کِس لِئے باتیں کرتا ہے؟۔ پس عَورت اپنا گھڑا چھوڑ کر شہر میں چلی گئی اور لوگوں سے کہنے لگی۔ آؤ ۔ ایک آدمی کو دیکھو جِس نے میرے سب کام مُجھے بتا دِئے ۔ کیا مُمکِن ہے کہ مسِیح یِہی ہے؟۔ وہ شہر سے نِکل کر اُس کے پاس آنے لگے۔ اِتنے میں اُس کے شاگِرد اُس سے یہ درخواست کرنے لگے کہ اَے ربیّ! کُچھ کھا لے۔ لیکن اُس نے اُن سے کہا میرے پاس کھانے کے لِئے اَیسا کھانا ہے جِسے تُم نہیں جانتے۔ پس شاگِردوں نے آپس میں کہا کیا کوئی اُس کے لِئے کُچھ کھانے کو لایا ہے؟۔ یِسُو ع نے اُن سے کہا میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے مَوافِق عمل کرُوں اور اُس کا کام پُورا کرُوں۔ کیا تُم کہتے نہیں کہ فصل کے آنے میں ابھی چار مہِینے باقی ہیں؟ دیکھو مَیں تُم سے کہتا ہُوں اپنی آنکھیں اُٹھا کر کھیتوں پر نظر کرو کہ فصل پک گئی ہے۔ اور کاٹنے والا مزدُوری پاتا اور ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے پَھل جمع کرتا ہے تاکہ بونے والا اور کاٹنے والا دونوں مِل کر خُوشی کریں۔ کیونکہ اِس پر یہ مِثل ٹِھیک آتی ہے کہ بونے والا اَور ہے ۔ کاٹنے والا اَور۔ مَیں نے تُمہیں وہ کھیت کاٹنے کے لِئے بھیجا جِس پر تُم نے مِحنت نہیں کی ۔ اَوروں نے مِحنت کی اور تُم اُن کی مِحنت کے پَھل میں شرِیک ہُوئے۔ اور اُس شہر کے بُہت سے سامری اُس عَورت کے کہنے سے جِس نے گواہی دی کہ اُس نے میرے سب کام مُجھے بتا دِئیے اُس پر اِیمان لائے۔ پس جب وہ سامری اُس کے پاس آئے تو اُس سے درخواست کرنے لگے کہ ہمارے پاس رہ چُنانچہ وہ دو روز وہاں رہا۔ اور اُس کے کلام کے سبب سے اَور بھی بُہتیرے اِیمان لائے۔ اور اُس عَورت سے کہا اب ہم تیرے کہنے ہی سے اِیمان نہیں لاتے کیونکہ ہم نے خُود سُن لِیا اور جانتے ہیں کہ یہ فی الحقِیقت دُنیا کا مُنجّی ہے۔  یُوحنّا 4: 1-42

سامری عورت یہ دیکھ کر حیران ہوگئی کہ حضرت عیسیٰ المسیح اُس کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔ کیونکہ اُن دنوں سامری اور یہودی قوم کے درمیان دشمنی پائی جاتی تھی۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اپنی گفتگو کا آغاز پانی پینے کی درخواست سے کیا۔ آپ نے ایسا دو وجوہات کی بناء پر کیا۔ ایک آپ نے بتایا کہ آپ پیاسے ہیں اور پانی پینا چاہتے ہیں۔ دوسرا آپ (ایک نبی ہونے کی وجہ سے) جانتے تھے۔ جس سے میں پانی مانگ رہ ہووہ آپ حقیقی پانی کی پیاسی ہے۔ وہ اپنی زندگی میں خوشی اور اطمینان کے لیے پیاسی تھی۔ وہ یہ سوچتی تھی، کہ وہ یہ پیاس غیر قانونی طور پر دوسرے مردوں کے ساتھ رہ کر بجھالے گی۔ لہذا اُس نے بہت سارے شوہروں کررکھے تھے۔ اور جب وہ ایک نبی سے بات کر رہی تھی۔ تو اس وقت وہ جسے کے پاس رہ رہی تھی وہ اُس کا شوہر نہ تھا۔ ہر کوئی اُس کو بدکار کے طور پر دیکھتا تھا۔ اس لیے وہ کنوئیں پر پانی بھرنے کے لیے اکیلی آئی تھی۔ کیونکہ گاؤں سے کوئی عورت اُس کے ساتھ پانی بھرنے نہیں آئی تھی۔ اور یوں بھی عورتیں اس ٹھنڈے وقت پانی بھرنے آتیں تھی۔ اس عورت نے بہت سارے مردوں کے ساتھ تعلقات ہونے کی وجہ سے گاؤں کی عورتیں اس سے تعلق رکھنے سے ڈرتی تھیں۔

زبور شریف میں بیان کیا گیا ہے کہ ہماری زندگیوں میں کس قدر گناہ کی پیاس پائی جاتی ہے۔ ہر ایک پیاس کو بجھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج بہت سے لوگ ایسے ہیں۔ اُن کا مذہب کوئی بھی ہو۔ وہ اس پیاس کی وجہ سے گناہ میں زندگی بسر کررہے ہیں۔

لیکن حضرت عیسیٰ المسیح نے اس گنہگار عورت سے کنارہ نہیں کیا تھا۔ اس کی بجائے آپ نے اُس کو بتایا کہ آپ اُس کو "زندگی کا پانی” دیں گے۔ جس کو پینے سے اُس کی یہ پیاس ختم ہوجائے گی۔ لیکن آپ عام پانی کی بات نہیں کررہے تھے۔ (جس کو پینے کے بعد پھر پیاس لگ جاتی ہے) آپ اُس دل کی تبدیلی کی بات کررہے تھے۔ جو اُس کے باطن میں واقع ہونے والی تھی۔ زبور شریف کے انبیاء اکرام نے اس بات کی پیش گوئی کی تھی۔ کہ دل کو نیا کردینے والا عہد آنے والا ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اُس کو دل کو تبدیل کردینے والے عہد کی پیش کش کی۔ جس سے اُس کو ابدی زندگی کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔

ایمان لانا- سچائی کا اقرار کرنا

لیکن جب ‘زندگی کے پانی’ کی پیشکش کی گئی۔ تو آپ نے اُس عورت کو ایک پریشانی میں ڈال دیا۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح نے اُس عورت سے کہا کہ جاکراپنے شوہر کو بھلا لا۔ تو اُس کو گناہ کی شناخت کروارہے تھے۔ کہ وہ اُس کا اقرار کرلیے۔ یہ ہی وہ بات ہے جس سے ہم ہر قیمت پر بچنا چاہتے ہیں! ہم اپنے گناہوں کو ہر طریقے سے چھپانا چاہتے ہیں۔ اور اُمید کرتے ہیں کہ کوئی اس کو دیکھ نہ لے۔ یا پھر ہم اپنے گناہ کو چھپانے کے لیے منطقی جواز پیش کرتے ہیں۔ آدم اور حوا نے باغِ عدن میں یہ کام کیا اور آج ہم اپنے گناہ کو چھپانا چاہتے ہیں۔ اور اُمید کرتے ہیں کہ کوئی بھی اس کو نہیں دیکھے گا۔ لیکن اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تجربہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ہم کو "ابدی زندگی” کی طرف لے جاتی ہے، تو پھر ہم کو دیانتداراور اپنے گناہ کا اقرار کرنا ہوگا۔ کیونکہ انجیل شریف میں اس کا وعدہ کیا گیا ہے۔

اگر اپنے گُناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گُناہوں کے مُعاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچّا اور عادِل ہے۔ 1-یُوحنّا 1:9

اس وجہ سے حضرت عیسیٰ المسیح نے اُس عورت کو بتایا کہ

"اللہ تعالیٰ روح ہے اور ضرور ہے اُس کے عابد روح اور سچائی سے اُس کی عبادت کریں۔ ۔ ۔ ۔”

‘سچائی’ سے یہاں مراد ہے کہ ہمیں سچا اور خود کو مستند کرنا ہے، ہمیں اپنی غلطیوں کو چھپانے اور اُن کے لیے عذر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ اُن عبادت گزاروں سے ہرگز منہ نہیں موڑتا۔ جو اسکے پاس ایمانداری کے ساتھ آتے ہیں۔

لیکن اُس کے لیے گناہ کا اقرار کرنا نہایت مشکل تھا۔ ہم اپنی شرم کو چھپانے کے لیے عام طور پر طریقہ یہ اپناتے ہیں کہ گناہ کی بات ہورہی ہو تو ہم اُس کو مذہبی تنازعہ کا رنگ دے دیتے ہیں۔ آج کی دنیا مذہبی تنازعات سے بھری ہوئی ہے۔ اُن دنوں سامریوں اور یہودیوں کے درمیان عبادت کی مناسب جگہ کا تنازعہ تھا۔ یہودیوں کا کہنا تھا کہ عبادت یروشلیم میں ہونی چاہیے اور سامریوں کا ماننا تھا کہ عبادت گریزم کے پہاڑ پر ہونی چاہیے۔ اُس عورت نے سوچا شاید وہ گفتگو کو اس مذہبی تنازعہ میں بدل کر اپنے گناہ کی طرف سے توجہ کو ہٹا لے گی۔ اب وہ اپنا گناہ مذہب کی چادر کے نیچھے چھپا رہی تھی۔

ہم کتنی آسانی سے اور قدرتی طور پر اس طرح کے کام کرتے ہیں۔ خاص طور پر اگر ہم مذہبی ہیں۔ پھر ہم اس طرح کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ کہ کیسے وہ شخص غط اور میں ٹھیک ہوں۔ جبکہ دوسرے الفاظ میں ہم اہنے گناہوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح اُس کے ساتھ اس تنازع کی گفتگو میں جاری نہ کیا۔ اُنہوں نے کہا کی عبادت کے لیے جگہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کے لیے تمہاری ایمانداری اور خود کی ضرورت ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حضوری میں ہروقت اور ہر سمت میں سے آسکتی ہے ۔ لیکن اس کے لیے اُسے سچائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے آنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ ‘زندگی کا پانی’ حاصل کرتی۔

لہذا اس کو ایک اہم فیصلہ لینا تھا۔ وہ مذہبی تنازع کو جاری رکھتی اور اپنے گناہ کو مذہب کی چادر میں چھپائے رکھتی۔ یا وہاں سے چلی جاتی۔ لیکن اُس نے اپنے گناہ کے اقرار کرنے کا فیصلہ کیا اور اس قدر اُس نے قبول کیا کہ وہ اپنے گاؤں واپس گئی اور بتانے لگی کہ وہ نبی میرے بارے میں سب کچھ جانتا تھا اور کس طرح میں اپنے گناہ کا اقرار کیا۔ اس نے پھر کبھی اپنے گناہ کو پھر بھی نہ چھپایا۔ اس طرح وہ ایک ‘ایماندار’ بن گئی۔ وہ پہلے بھی ایک مذہبی تھی۔ جس طرح آج ہم مذہبی ہیں۔ لیکن اب وہ اور اُس کے گاؤں میں بہت سارے لوگ ‘حقیقی ایماندار’ بن گئے۔

ایماندار بننے کے لیے صرف ذہنی طور پر درست عقیدے کی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ یہ عقیدہ کی تعلیم اہم ترین ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم پر بھی یقین رکھنے کی ضرورت ہے۔ جس کی وجہ سے ہم اپنے گناہوں کو نہ چھپائیں۔ بلکل ایسا حضرت ابراہیم ؑ نے بہت عرصہ پہلے راستبازی حاصل کرنے لے لیے کیا۔ اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر یقین کیا۔

کیا آپ اپنے گناہ کو چھپاتے یا عذر پیش کرتے ہیں؟ کیا آپ اسے مذہبی عقیدے کی مشق سے یا مذہبی تنازع کی چادر میں چھپاتے ہیں؟ کیوں نہیں آپ اپنے خالق حقیقی جو ہمارا اللہ تعالیٰ کے سامنے آکر اپنے گناہ اور شرم کا اقرار کریں؟ اس کے بعد آپ کے اندر ایک عجیب خوشی طاری ہوجائے گئی۔ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت دلجمعی سے کریں گے اور وہ آپ سے ناراستی کو دور کردے گا۔ اس بات کو اور بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں انجیل شریف کا مطالعہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اس کو جاری رکھیں گے۔ کہ ہمیں کس طرح زندگی بسر کرنی ہے۔

ہم نے گفتگو میں سے یہ جانا۔ کہ وہ عورت نے حضرت عیسیٰ المسیح کو بطور مسیح

(مسیحا-Christ) قبول کیا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح اُن لوگوں کے ساتھ مزید دو دن رہے۔ اور اُنہوں نے اس بات کو سمجھا اور قبول کیا کہ آپ "دنیا کے نجات دہندہ” ہیں۔ شاید ہمیں ان سب باتوں کا مکمل طور پر جان نہیں سکے۔ لیکن جس طرح حضرت یحییٰ ؑ نے لوگوں کو تیار کیا اور بتایا کہ وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کرسکیں۔ یہ ہی سیدھا راستہ ہے۔ جس کی ہمیں ضرورت ہے۔

"اے اللہ تعالیٰ مجھ پر رحمت فرما” ایک گنہگار کی دعا

حضرت عیسیٰ المسیح جنت میں داخل ہونے کی تعلیم دیتے ہیں

کیا آپ اس بات کی اُمید رکھتے ہیں کہ ایک دن آپ جنت میں داخل ہونگے؟ جنت میں داخل ہونے کے لیے ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ حضرت عیسیٰ المسیح سے ایک یہودی شریعت کے اُستاد جس کا مطلب تھا کہ وہ حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کا عالم تھا۔ اُس نے آپ سے ایک سوال کیا۔ حضرت عیسیٰ المیسح نے اُسے ایک غیر متوقع جواب دیا۔ درجہ ذیل میں انجیل شریف میں سے اس واقعہ کو درج کیا گیا ہے۔ آپ کو حضرت عیسیٰ المسیح کی تمثیل سے معلوم ہوگا کہ اُس وقت سامری لوگوں کو یہودی حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ وہ اُن ناپاک/کافر سمجھتے تھے۔ اس کے ردِعمل میں سامری یہودیوں سے نفرت رکھتے تھے۔ اس نفرت کا اندازہ آپ اس طرح لگاسکتے ہیں۔ جیسے آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان نفرت، یا سُنی اور شعیہ کے درمیان یا جس طرح کی صورت حال شام میں آج کل ہے۔

 نیک ہمسایہ اور ہمیشہ کی زندگی کی تمثیل

ایک اچھے سامری کی کہا نی

25 تب ایک شریعت کا معلم یسوع کو آزمانے کے لئے اٹھ کھڑاہوا اور پو چھا، “اے استاد میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں؟”

26 یسوع نے اس سے پو چھا،“شریعت میں اس کے متعلق کیا لکھا ہوا ہے ؟ اور تم وہاں کیا پڑھتے ہو؟”

27 اس نے کہا، “یہ اس طرح لکھا ہوا ہے کہ آپکو اپنے خدا وند سے پورے دل و جان سے پوری روح سے اور پو ری طا قت سے اور پو رے ذہن کے ساتھ محبت کر نی چاہئے۔  اور پھر جس طرح “تو اپنے آپ سے محبت کر تا ہے اسی طرح پڑوسیوں سے بھی محبت کر نی چاہئے۔”  28 یسوع نے اس سے کہا، “تیرا جواب بالکل صحیح ہے۔ تو ویسا ہی کر تب کہیں تجھے ہمیشہ کی زندگی نصیب ہو گی۔”

29 “لیکن آدمی نے بتانا چاہا کہ وہ اسکا سوال پوچھنے میں سیدھا ہے اسلئے وہ یسوع سے پو چھا کہ میرا پڑوسی کو ن ہے ؟”

30 تب یسوع نے کہا، “ایک آدمی یروشلم سے یریحو کے راستہ میں جا رہا تھا کہ چند ڈاکوؤں نے اسے گھیر لیا۔ وہ اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور اسکو بہت زیا دہ پیٹا بھی اس کی یہ حالت ہو ئی کہ وہ نیم مردہ ہو گیا وہ ڈاکو اسکو وہاں چھوڑ دیئے اور چلے گئے۔

31 ایسا ہوا کہ ایک یہودی کا ہن اس راہ سے گزر رہا تھا وہ کاہن اس آدمی کو دیکھ نے کے با وجود اسکی کسی بھی قسم کی مدد کئے بغیر اپنے سفر پر آگے روانہ ہوا۔ 32 تب لاوی  اسی راہ پر سے گزر تے ہوئے اس کے قریب آیا۔ وہ بھی اس زخمی آدمی کی کچھ بغیر مدد کئے اپنے سفر پر آگے بڑھ گیا۔

33 پھر ایسا ہوا کہ ایک سامری  جو اس راستے پر سفر کرتے ہو ئے اس جگہ پر آیا وہ راہ پر پڑے ہو ئے زخمی آدمی کو دیکھتے ہوئے بہت دکھی ہوا۔ 34 سامری نے اس کے قریب جا کر اسکے زخموں پر زیتون کا تیل اور مئے لگا کر کپڑے سے باندھ دیا۔ وہ سامری چونکہ ایک گدھے پر سواری کرتے ہوئے بذریعے سفر وہاں پہنچا تھا۔ اس نے زخمی آدمی کو اپنے گدھے پر بٹھا ئے ہوئے اس کو ایک سرائے میں لے گیا اور اسکا علاج کیا۔ 35 دوسرے دن اس سامری نے دو چاندی کے سکّے لئے اور اسکو سرائے والے کو دیکر کہا کہ اس زخمی آدمی کی دیکھ بھا ل کرنا اگر کچھ مزید اخراجات ہوں تو پھر جب میں دوبارہ آؤنگا تو تجھ کو ادا کرونگا۔”

36 یسوع نے اسکو پو چھا “ کہ ان تینوں آدمیوں میں سے کس نے ڈاکو کے ہاتھ میں پڑے آدمی کا پڑوسی ہو نا ثابت کیا ہے؟”

37 معلّم شریعت نے جواب دیا، “اسی آدمی نے جس نے اسکی مدد کی۔” تب یسوع نے کہا، “تب تو جاکر اپنے پڑوسیوں سے ایسا ہی کر۔” 

لوقا 10:25-37

جب اُس شریعت کے ماہر اُستاد نے ‘جواب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ سے مُحبّت رکھ اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر مُحبّت رکھ’ تو دراصل وہ حضرت موسیٰ شریعت سے حوالہ دے رہا تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے کہا کہ تمارا جواب بلکل ٹھیک ہے۔ لیکن آپ نے یہاں ایک اور سوال اُٹھایا کہ تمہارا پڑوسی کون ہے؟ لہذا آپ نے اس بات کو بیان کرنے کے لیے ایک کہانی بیان کی۔

اس کہانی میں ہم توقع کرتے تھے کہ شاید مذہبی لوگ(کاہین اور لاوی) اُس زحمی آدمی کی مدد کرتے۔ لیکن اُنہوں نے اُس شخص کو نظرانداز کیا اور اُس کو بے یارومددگارحالت میں چھوڑ کر چلے گے۔ اُن کے مذہب نے اُن کو اچھا پڑوسی نہ بننے دیا۔ اس کی بجائے وہ شخص جس کو وہ کم تر اور اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ اُس شخص نے اُس زخمی آدمی کی مدد کی ۔

اس کہانی کو بیان کرنے کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح نے کہا کہ جاؤ اور ایسا ہی کرو۔ میں آپ کے بارے میں تو نہیں جانتا۔ لیکن اس تمثیل کے بارے میں میرا پہلا ردعمل یہ تھا۔ کہ میں اس کو ٹھیک طور پر نہ سمجھ سکا۔ دوسرا یہ کہ میں اس آزمائش میں پڑگیا کہ اس طرح ظاہر کروں کہ میں نے اس کہانی کو نہیں پڑھا۔

لیکن جب میں اپنے اردگرد کے ھونے والی قتل و غارت، لڑائی، اور دلوں کا پریشان کردینے والی صورتِ حال کو دیکھتا ہوں تو اس بات کے نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ ایک بڑی اکثریت نے حضرت عیسیٰ المسیح کے اس حکم کو نظرانداز کردیا ہے۔ اگر ہم اس سامری کی طرح رہنا شروع کردیں تو ہمارے ملک اور شہروں میں خوف اور لڑائی جھگڑے کی بجائے امن اور اطمینان ہوگا ۔ اور ہمارے پاس جنت میں داخل ہونے کی یقین دہانی ہوگی۔ اس صورت حال سے یہ ثابت ہوتا ہے۔ کہ بہت کم لوگوں کے پاس یہ یقین دہانی ہے۔ اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کتنی مذہبی زندگی بسر کررہا ہے جیسا کہ ہم نے ماہر شریعت کو دیکھا۔ جو حضرت عیسیٰ المسیح کے ساتھ باتیں کررہا تھا۔

کیا آپ کے پاس ہمیشہ کی زندگی کی ضمانت ہے؟

اس طرح کا پڑوسی بن کرشاید ممکن ہو۔ لیکن ہم ایسے پڑوسی کیسے بن سکتے ہیں؟ اگر ہم اپنے آپ سے دیانتدار ہیں تو ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ایسا پڑوسی جس کا حضرت عیسیٰ المسیح نے حکم دیا ہے بننا بہت مشکل ہے۔ لیکن یہاں ہم ایک اُمید کی کرن کو دیکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم اس بات کو جان جاتے ہیں کہ ہم ایسے پڑوسی نہیں بن سکتے۔  اور اس بات کو تسلیم کرکے۔  ہم ‘روح میں غریب’ بن جاتے ہیں۔جس کے بارے میں حضرت عیسیٰ المسیح پہلے سے سیکھا چکے تھے۔ کہ روح میں غریب ہونا۔ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

شاید اس تمثیل کو نظرانداز کرنے یا اس سے دور بھاگنے کی بجائے۔ ہمیں اس بات کو جانچ لینا اور تسلیم کرلینا چاہے کہ ہم ایسا نہیں بن سکتے۔ کیونکہ یہ بہت ہی مشکل کام ہے۔ لہذا ہماری بے بسی کے وقت ہم اللہ تعالیٰ سے فریاد کرسکتے ہیں۔ جس کا حضرت عیسیٰ المسیح نے اپنے پہاڑی خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا۔

اپنی حاجتوں کو خدا سے مانگا کرو

“مانگو،تب خدا تمہیں دیگا۔تلاش کرو ،تب کہیں تم پاؤگے۔دروازہ کھٹکھٹاؤتب کہیں وہ تمہارے لئے کھلے گا۔ ہاں ہمیشہ پوچھتے رہنے والے ہی کو ملتا ہے اور لگاتار ڈھونڈنے والا پا ہی لیتا ہے اور لگاتار کھٹکھٹا نے وا لے کے لئے دروازہ کھل ہی جاتا ہے۔

“اگر تمہارا بچّہ روٹی مانگے تو کیا تم اس کو پتھر دوگے۔ 10 اگر وہ مچھلی پو چھے تو کیا اس کو سانپ دو گے۔ 11 تم خدا کی طرح اچھے نہیں ہو۔بلکہ خراب ہو لیکن اس کے با وجود تم اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا چاہتے ہو۔اس طرح تمہارا باپ بھی جنّت میں ہے پوچھنے والوں کو اچھی چیزیں دیگا۔متّی 7:7-11

تاہم ہمارے پاس حضرت المسیح کی اجازت ہے کہ ہم درخواست کرسکتے ہیں۔ اور مدد کا وعدہ پہلے سے ہوچکا ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا کی جاسکتی ہے۔

اے اللہ تعالیٰ (اے آسمانی باپ) آپ نے جو آسمان سے انبیاء اکرام کو نازل فرمایا تاکہ وہ ہمیں سیدھے راہ کی تعلیم دے سکیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے تعلیم دی کے مجھے دوسروں سے محبت اور اُن کی مدد کرنی چاہے۔ بے شک وہ میرا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ اور ایسا نہ کرنے کی وجہ سے میں جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ لیکن میں نے بات کو جانا ہے۔ کہ میں ایسا نہیں کرسکتا۔ برائے مہربانی سے میرے مدد فرما اور مجھے تبدیل کردے تاکہ میں اس تعلیم کی پیروی کرکے جنت میں داخل ہوسکوں ۔ مجھ گنہگار پر رحم فرما۔

میں حضرت عیسیٰ المسیح کی اجازت اور حوصلہ افزائی سے یہ دعا اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہوں۔

(یہاں پر مخصوص الفاظ کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اقرار کریں اور دعا فرمائیں)

انجیل شریف میں اس بات کا بھی ذکر ہے۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح نے ایک سامری سے ملاقات کی۔ ایک نبی کس طرح ایسے شخص سے برتاو کرے گا جو اُس کی قوم کا دشمن اور اُس کی قوم سے نفرت رکھتا ہو؟ آپ کی اس ملاقات میں اُس سامری کےساتھ کیا ہوا؟ اور ہم اس واقع سے کیا سیکھ سکتے ہیں تاکہ ہم ایک اچھے پڑوسی بن سکیں۔ جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ ہم اس کے بارے میں اگلے مضمون میں دیکھیں گے۔

 

حضرت عیسیٰ المسیح کی تمثیلوں کے زریعے تعلیم

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے لاثانی اختیار کے ساتھ تعلیم دی۔ اُنہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں کے زریعے تعلیم دی جوزندگی کے سچے اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ہم نے دیکھا کہ کیسے اُنہوں نے ایک عظیم ضیافت کی تمثیل سےاللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ اور کیسے اُنہوں نے معافی کے تعلیم دیتے ہوئے ایک ظالم نوکر کی تمثیل سے سیکھایا۔ ان کہانیوں کو تمثیل کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح انبیاء اکرام کے درمیان لاثانی نبی ہیں اور اُنہوں نے سیکھاتے ہوئے بہت زیادہ تمثیل کا استعمال کیا۔ اور کس قدر وہ اہم تھیں۔ آپ کے حواریوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ کیوںکہ لوگوں کو تمثیلوں میں لوگوں کو سیکھاتے ہیں۔ انجیل شریف میں سوال کا جواب اس طرح لکھا ہوا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے لاثانی اختیار کے ساتھ تعلیم دی۔ اُنہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں کے زریعے تعلیم دی جوزندگی کے سچے اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ہم نے دیکھا کہ کیسے اُنہوں نے ایک عظیم ضیافت کی تمثیل سےاللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ اور کیسے اُنہوں نے معافی کے تعلیم دیتے ہوئے ایک ظالم نوکر کی تمثیل سے سیکھایا۔ ان کہانیوں کو تمثیل کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح انبیاء اکرام کے درمیان لاثانی نبی ہیں اور اُنہوں نے سیکھاتے ہوئے بہت زیادہ تمثیل کا استعمال کیا۔ اور کس قدر وہ اہم تھیں۔ آپ کے حواریوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ کیوںکہ لوگوں کو تمثیلوں میں لوگوں کو سیکھاتے ہیں۔ انجیل شریف میں سوال کا جواب اس طرح لکھا ہوا ہے۔

یسوع نے تمثیلوں کا استعمال کیوں کیا ؟

10 تب شاگرد یسوع کے پا س آکر پوچھنے لگے“آپ تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو کیوں تعلیم دیتے ہیں؟”۔
11 یسوع نے کہا، “خدا کی بادشاہت کی پو شیدہ سچا ئی کو سمجھنے کی صرف تم میں صلا حیت ہے۔ اور ان پوشیدہ سچا ئی کو دیگر لوگ سمجھ نہیں پاتے 12 جس کو تھوڑا علم و حکمت دی گئی ہے وہ مزید علم حا صل کر کے علم و حکمت وا لا بنے گا۔ لیکن جو علم وحکمت سے عا ری ہو گا۔ وہ اپنے پاس کا معمو لی نام علم بھی کھو دے گا۔ 13 اسی لئے میں ان تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو تعلیم دیتا ہوں۔ ان لوگوں کا حا ل یہ ہے کہ یہ دیکھ کر بھی نہیں دیکھنے کے برا بر اور سن کر بھی نہ سننے کے برا بر ہیں۔ متّی 13:10-13

آپ کے آخری الفاظ حضرت یسعیاہ نبی ؑ کے تھے۔ جو 700 ق م میں اپنی قوم پر نازل ہوئے۔ حضرت یسعیاہ نبی ؑ دل کی سختی کے خلاف خبردار کیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں کئی بار ہم کسی چیز کو ٹھیک طور پر نہیں جان پاتے اور کیونکہ ہم نے اُس کی وضاحت یا پھر وہ بہت ہی زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں ایک واضح وضاحت پیچیدگی کو ختم کردیتی ہے۔ لیکن اس علاہ کئی بار ہم بات کو نہیں سمجھ پاتے۔ کیونکہ ہم دلی گہرائیوں سے اُس بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم چاہیے اس بات کا اقرار نہ کریں۔ لہذا ہم سوالات پوچھتے جاتے ہیں۔ شاید دماغی فہم کی کمی ہمارے شاید ہمارے اندر دماغی فہم کی کمی ہے۔ لیکن اگر الجھن ہمارے دلوں میں ہے اور ہمارے دماغ میں نہیں تو کوئی بھی وضاحت کافی نہیں ہوگی۔ یہاں پر مسئلہ یہ ہے۔ کہ یم سمجھنے کے لیے راضی نہیں نہ کہ ہم ذہینی طور پر سمجھ نہیں سکتے۔
جب بھی حضرت عیسیٰ المسیح تمثیلوں کے زریعے سکھاتے تو اس بات کا اثر بھیڑ پر بڑے ڈرامائی انداز میں ہوا۔ جو لوگ آسانی سے کہانی کو سمجھ نہ پاتے۔ وہ اس کے بارے متجسس ہوجاتے اور اس کو سمجھنے کے لیے دوسروں سے کہتے۔ جبکہ وہ لوگ جو کہانی کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ وہ اس کو ناپسندیدہ اور نظرانداز کرتے۔ وہ اس کے بارے میں مزید سوچنا پسند بھی نہ کرتے۔ تمثیلوں کا استعمال ماہر استاد کرتے۔ تاکہ وہ لوگوں کا جدا کرسکیں۔ جیسے کسان گندم کو بھوسے سے لگ کرتا ہے۔ جو لوگ کہانی کو سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ الجھن کا شکار ہوگے۔ کیونکہ اُنہوں نے اپنی دلی مرضی سے سچائی کو قبول کرنا نہ چاہا۔ اگرچہ وہ دیکھتے تو تھے لیکن وہ اس بات کی گہرائی کو سمجھتے نہیں تھے۔

بیج بونے والا اور چار مختلف اقسام کی زمین

جب حضرت عیسیٰ کے حواریوں نےکہانیوں کے انداز میں تعلیم دینے کے بارے میں سوال کیا۔ تو وہ آپ اُس وقت اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں ایک گروہ کو کہانیوں کے زریعے سیکھا رہے تھے۔ یہاں پر پہلی کہانی ہے۔

تب یسوع نے تمثیلوں کے ذریعہ کئی چیزیں انہیں سکھا ئیں۔ اور یسوع انکو یہ تمثیل دینے لگے کہایک کسان بیج بونے کے لئے گیا۔ “جب وہ تخم ریزی کررہا تھا تو چند بیج راستے کے کنارے پر گرے۔ اور پرندے آکر ان تمام بیجوں کو چگ گئے۔ چند بیج پتھریلی زمین میں گر گئے۔ اس زمین میں زیا دہ مٹی نہ ہو نے کے وجہ سے بیج بہت جلد اگ آئے۔ لیکن جب سورج ابھرا، اس نے پودوں کو جھلسا دیا۔ تو وہ اُگے ہوئے پو دے سوکھ گئے۔ اس لئے ان کی جڑیں گہرا ئی تک نہ جا سکیں۔ دیگر چند بیج خا ر دار جھا ڑیوں میں گر گئے۔اور وہ خا ر دار جھا ڑیوں نے ان کو دبا کر ان اچھے بیجوں کی فصل کو آگے بڑ ھنے سے روک دیا۔ دوسرے چند بیج اچھی زر خیز زمین میں گر گئے۔ اور وہ نشو نما پا کر ثمر آور ہوئے بعض پودے صد فیصد بیج دیئے ،اور بعض پودے ساٹھ فیصد سے زیادہ اور بعض نے تیس فیصد سے زائد بیج دئیے۔ میری باتوں پر کان دھر نے والے لوگوں نے ہی غور سے سنا۔”  متّی 13:3-9

تو اس تمثیل کا کیا مطلب تھا؟ ہمیں اندازہ نہیں لگانا چاہئے، وہاں پر ایسے لوگ تھے جو دلی طور پر اس کہانی کو سمجھنا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے اس کے بارے میں پوچھا اور یہاں آپ نے بیان کردیا تھا۔

18 “ایسی صورت میں کسان کے متعلق کہی گئی تمثیل کے معنی سنو۔

19 سڑک کے کنارے میں گر نے والے بیج سے مرا د کیا ہے ؟راستے کے کنارے گرے بیج اس آدمی کی مانند ہیں جو آسمانی بادشاہت کے متعلق تعلیمات کو سن رہا ہے لیکن سمجھ نہیں رہا ہے۔ اسکو نہ سمجھنے والا انسان ہی راستے کے کنارے گرے ہو ئے بیج کی طرح ہے۔ برا شخص آکر اس آدمی کے دل میں بوئے گئے بیجوں کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔

20 اور پتھریلی زمین میں گرے ہو ئے بیج سے مراد کیا ہے ؟ وہ بیج اس شخص کی مانند ہے جو بخوشی تعلیمات کو سنتا ہے اور ان تعلیمات کو بخوشی فوراً قبول کر لیتا ہے۔ 21 لیکن وہ آدمی جو کلام کو اپنی زندگی میں مستحکم نہیں بنا تا اور وہ اس کلام پر ایک مختصر وقت کے لئے عمل کرتا ہے۔ اور اس کلام کو قبول کر نے کی وجہ سے خود پر کو ئی تکلیف یا مصیبت آتی ہے تو وہ اسکو جلد ہی چھوڑ دیتا ہے۔

22 “خار دار جھا ڑیوں کے بیچ میں گر نے والے بیج سے کیا مراد ہے تعلیم کو سننے کے بعد زندگی کے تفکّرات میں اور دولت کی محبت میں تعلیم کو اپنے میں پر وان نہ چڑھا نے والا ہی خار دار زمین میں بیج کے گرنے کی طرح ہے۔یہی وجہ ہے کہ تعلیم اس آدمی کی زندگی میں کچھ پھل نہ دیگی۔

23 اور کہا کہ اچھی زمین میں گرنے والے بیج سے کیا مراد ہے ؟تعلیم کو سن کر اور اسکو سمجھ کر جاننے والا شخص ہی اچھی زمین پر گرے ہو ئے بیج کی طرح ہو گا۔ وہ آدمی پر وان چڑھکر بعض اوقات سو فیصد اور بعض اوقات ساٹھ فیصد اور بعض اوقات تیس فیصد پھل دیگا۔”

 متّی 13:18-23

ہم دیکھ سکتے ہیں یہاں پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں چار مختلف جوابات ہیں۔ پہلے وہ ہیں جن کو کلام اللہ کی ‘سمجھ ‘ نہیں آئی اور ابلیس آیا اور اُن کے دلوں میں سے پیغام کو چرا کر لے گیا۔ باقی رہ گے تین۔ اںہوں نے کلام اللہ کو بڑی خوشی سے قبول کرلیا۔ لیکن اس پیغام کو ہمارے دلوں میں پروان چڑھنے میں مشکل پیش آئی۔ یہ صرف ہمارے ذہنوں میں تسلیم کرنے کی ہی بات نہیں تھی۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں تھا کہ ہم جیسا چاہیں ویسے رہیں۔ تاہم ان تین میں سے دو نے ابتدا میں قبول تو کرلیا تھا لیکن اس پیغام کو اپنے دلوں میں پروان چڑھنے نہ دیا۔ صرف ان میں سے چوتھا دل ہی ایسا تھا۔ جس نے اس پیغام پر پوری توجہ سے سُن اور اُس پر ایمان لایا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لیے تیار بھی ہوگیا جیسے اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی۔

اس کہانی کے میں ایک نقطہ جس کے بارے میں ہم سوال کرنا چاہتے ہیں؟ ‘اس کہانی میں چار اشخاص میں سے میں کون ہوں؟’ صرف وہی اچھی فصل ثابت ہوئے جنہوں نے اُس پیغام کو سمجھا۔ ایک فہم اور تفہیم کے لیے ضروری یہ ہے کہ ہم حضرت آدمؑ سے شروع کرکے انبیاءاکرام تک اللہ تعالیٰ کے منصوبہ کو تورات اور زبور شریف میں سے جانیں۔ حضر ت آدمؑ کے نشان کے بعد اہم نشانات تورات شریف میں حضرت ابراہیم ؑ سے وعدے اور قربانی میں سے آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کے دس احکامات، اور حضرت ہارونؑ۔ زبور شریف میں "مسیح” کی ابتداء کی سمجھنے کے بعد، حضرت یسعیاہ ؑ، زکریاہؑ، دانیال، اور ملاکی ؑ کی کتابوں میں سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے پیغام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس تمثیل کی وضاحت کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح گھاس کی مثال کے زریعے سیکھاتے ہیں۔

گیہوں اور گھاس پھوس کی تمثیل

24 تب یسوع انکو ایک اور تمثیل کے ذریعہ تعلیم دینے لگے۔ وہ یہ کہ“ آسمان کی بادشاہت سے مراد ایک اچھے بیج کو اپنے کھیت میں بونے والے ایک کسان کی طرح ہے۔ 25 اس رات جب کہ سب لوگ سو رہے تھے تو اسکا ایک دشمن آیا اور گیہوں میں گھاس پھوس کو بودیا۔ 26 جب گیہوں کا پو دا نشو نما پا کر دانہ دار بن گیا تو اسکے ساتھ گھا س پھوس کے پو دے بھی بڑھنے لگے۔ 27 تب اس کسان کے خادم نے اسکے پاس آکر دریافت کیا کہ تو اپنے کھیت میں اچھے دانوں کو بویا۔ مگر وہ گھاس پھوس کا پو دا کہاں سے آ گیا ؟

28 اس نے جواب دیا، “یہ دشمن کا کام ہے تب ان خادموں نے پو چھا کہ کیا ہم جاکر اس گھاس پھوس کے پو دے کو اکھاڑ پھینکیں۔

29 “اس آدمی نے کہا کہ ایسا مت کرو کیوں کہ تم گھاس پھوس کو نکالتے وقت گیہوں کو بھی نکال پھینکو گے۔  متّی 13:24-29

یہاں پر اُنہوں نے وضاحت بیان کی ہے۔

36 تب یسوع لوگوں کو چھوڑ کر گھرچلے گئے۔ انکے شاگرد انکے قریب گئے اور ا ن سے کہا،” گو کھر و بیجوں سے متعلق تمثیل ہم کو سمجھا ؤ۔”

37 یسوع نے جواب دیا ، اس طرح کھیت میں اچھے قسم کے بیجوں کی تخم ریزی کر نے وا لا ہی ابن آدم ہے۔ 38 کھیت یہ دنیا ہے۔ اچھے بیج ہی آسما نی بادشاہت میں شا مل ہو نے وا لے خدا کے بچے ہیں اور بر ے وبد کا روں سے رشتے رکھنے وا لے ہی وہ گو کھر وکے بیج ہیں۔ 39 کڑ وے بیج کو بو نے وا لا دشمن ہی وہ شیطا ن ہے۔ فصل کی کٹا ئی کا مو سم ہی دنیا کا اختتام ہے اور اس کو جمع کر نے وا لے مز دور ہی خدا کے فرشتے ہیں۔

40 “کڑ وے دانوں کے پودوں کو اکھا ڑ کر اس کو آ گ میں جلا دیتے ہیں اور دنیا کے اختتا م پر ہو نے وا لا یہی کام ہے۔ 41 ابن آدم اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔اور اس کے فرشتے گنا ہوں میں ملوث برے اور شر پسند لو گوں کو جمع کریں گے۔ اور وہ انکو اس کی بادشاہت سے باہر نکال دیں گے۔ 42 فرشتے ان لوگوں کو آ گ میں پھینک دیں گے۔اور وہاں وہ تکلیف سے رو تے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے رہیں گے۔ 43 تب اچھے لوگ سورج کی مانند چمکیں گے۔ وہ اپنے باپ کی بادشا ہی میں ہو ں گے۔ میری باتوں پر توجہ دینے والے لوگو غور سے سنو ۔   متّی3:36-43

بیج اور خمیر کی مثال

حضرت عیسیٰ المسیح نے کچھ مختصر تمثیلوں کے ساتھ سیکھایا تھا۔

31 تب یسوع نے ایک اور تمثیل لوگوں سے کہی “آسما نی باد شاہت را ئی کے دا نے کے مشا بہ ہے۔ کسی نے اپنے کھیت میں اس کی تخم ریزی کی۔ 32 وہ ہر قسم کے دانوں میں بہت چھو ٹا دانہ ہے۔ اور جب وہ نشو نما پا کر بڑھتا ہے تو کھیت کے دوسرے درختوں سے لمبا ہو تا ہے۔ جب وہ درخت ہو تا ہے تو پرندے آکر اس کی شاخوں میں گھونسلے بناتے ہیں۔”

33 پھر یسوع نے لوگوں سے ایک اور تمثیل کہی “آسما نی بادشاہت خمیر کی مانند ہے جسے ایک عورت نے روٹی پکا نے کے لئے ایک بڑے برتن جسمیں آٹا ہے اور اس میں خمیر ملا دی ہے۔ گو یا وہ پورا آٹا خمیر کی طرح ہو گیا ہے۔”  متّی 13:31-33

دوسرے الفاظ میں، اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اس دنیا میں بہت ہی چھوٹی اور غیرمعمولی انداز سے شروع ہوگی۔ لیکن بعد میں وہ خمیر کی طرح پھیل گئی۔ جیسے ایک چھوٹا سا بیج بڑھ کر ایک بڑا درخت بن جاتا ہے۔ یہ کسی قوت کے ساتھ نہیں ہوا یا ایک دم سے نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی پوشیدگی میں ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن یہ ہر جگہ پر اور بن روکے ہورہی ہے۔

پوشیدہ خزانے اور قیمتی موتی کی مثال

44 “آسما نی بادشاہت کھیت میں گڑے ہو ئے خزا نے کی مانند ہے۔ایک دن کسی نے اس خزا نے کو پا لیا۔ او ربے انتہا مسر ّت وخوشی سے اس کو کھیت ہی میں چھپا کر رکھ دیا۔ تب پھر اس آدمی نے اپنی سا ری جا ئیداد کو بیچ کر اس کھیت کو خرید لیا۔

45 “آسما نی بادشاہت عمدہ اور اصلی موتیوں کو ڈھونڈ نے وا لے ا یک سوداگر کی طرح ہے جو قیمتی موتیوں کی تلا ش کر تا ہے۔ 46 ایک دن اس تا جر کو بہت ہی قیمتی ایک مو تی ملا۔تب وہ گیا اور اپنی تمام جائیداد کو فروخت کر کے اس موتی کو خرید لیا۔    متّی 13:44-46

ان تمثیلوں کی بنیادی توجہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی قدر کو بیان کرتیں ہیں۔ ایک ایسے خزانے کی سوچ جو ایک کیھت میں پوشیدہ ہے۔ چونکہ یہ خزانہ اُس کیھت میں پوشیدہ ہے اور ہر کوئی اس کیھت کے پاس سے گزر جاتا ہے اور اُن میں سے کسی کے دل میں اس کیھت کے بارے میں کوئی بھی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ کیونکہ وہ خزانہ پوشیدہ ہے۔ لیکن پھر کسی کو اس کیھت کے بارے میں یہ خیال آتا ہے۔ کہ اس کیھت میں کوئی خزانہ ہے۔ جس کی وجہ سے اُس کیھت کی قدر بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ وہ اس کیھت میں پوشیدہ خزانے کو حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ بیچ دیتا ہے۔ لہذا یہ اللہ تعالیٰ لی بادشاہی کا حال ہے۔ جو لوگ توجہ نہیں دیتے اُن کے لیے کوئی چیز قدر نہیں رکھتی۔ لیکن لیکن وہ جو توجہ دیتے اور اُس چیز کی قدر کو جانتے ہیں۔ وہ اُس کو حاصل کرنے لیے سب کچھ دیتے ہیں۔

جھال کی مثال

47 “آسما نی بادشاہت سمندر میں ڈالے گئے اس مچھلی کے جال کی طرح ہےجس میں مختلف قسم کی مچھلیاں پھنس گئیں۔ 48 تب وہ جال مچھلیوں سے بھر گیا۔ مچھیرے اس جال کو جھیل کے کنا رے لائے اور اس سے اچھی مچھلیاں ٹوکریوں میں ڈال لیں اور خراب مچھلیوں کو پھینک دئیے۔ 49 اس دنیا کے اختتا م پر بھی ویسا ہی ہوگا۔فرشتے آئیں گے اور نیک کا روں کو بد کاروں سے الگ کریں گے۔ 50 فرشتے برے لوگوں کو آ گ کی بھٹی میں پھنک دیں گے۔ اس جگہ لوگ روئیں گے۔درد وتکلیف میں اپنے دانتوں کو پیسیں گے۔”   متّی 13:47-50

اللہ تعالیٰ کی بادشاہی انسانوں کو جدا کرے گی۔ یہ جدائی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کرے گا۔ جب سب دلوں کو ظاہر کردیا جائے گا۔

ہم دیکھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی پراسرار طریقے سے پروان چڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جس طرح آٹا میں خمیر ، اس کی پوشیدہ حزانہ جس کی بڑھی قدروقیمت ہے۔ جو سب سے چھُپی ہوئی ہے۔ اور اس سے لوگوں کے درمیان مختلف ردعمل ںظر آتا ہے۔ اس سے لوگوں کے درمیان یہ تمیز کی جاسکتی ہے۔ جواس کو سمجھ سکے اور جو اس کو نہ سمجھ سکے۔ ان مثالوں کے زریعے تعلیم دینے کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح لوگوں سے ایک سوال پوچھتے ہیں۔

51 یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا، “کیا تم ان تمام باتوں کو سمجھ گئے ہو؟” شاگردوں نے جواب دیا “ہم سمجھ گئے ہیں”   متّی 13:51

آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

حضرت عیسیٰ المیسح کی معافی کے بارے میں تعلیم

جیسا میں انٹرنیشنل خبریں دیکھتا اور پڑھتا ہوں۔ تو اس سب کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے۔ کہ ہماری دنیا خون اور تشدد اور خوف میں ڈوبی ہوئی ہے۔ افغانستان میں بمباری، لبنان، شام، اور عراق میں جنگ وجدل ، پاکستان میں قتلِ عام ، ترکی میں فسادات، نئجیریا میں سکول کے بچے اغوا، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگی صورتِ حال، کنیا میں قتل عام، یہ سب خبریں میں نے بغیر کسی تلاش کے سُنی۔ دوسرے الفاظ میں یہ ساری خبریں عام ہیں اور ہر کوئی ان خبروں کو آسانی سے پڑھ اور سُن سکتا ہے۔اس کے ساتھ کئی ایسی خبریں ہیں۔ مثال کے طور پر گناہوں کی کثرت، دکھ، اور غم جیسی باتوں کو ہیڈلائن نہیں بنایا جاتا۔ ہیڈلائن نہ بننے کے باوجود یہ ہمیں نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس دور میں جہاں درد، جنگوں جدل اور لڑائی جھگڑا عام ہے وہاں حضرت عیسیٰ المسیح کی معاف کرنے کی تعلیم بہت ہی اہمیت کی رکھتی ہے۔ ایک دن آپ کے حواری نے سوال کیا۔ کہ مجھے کتنی بار معاف کرنا ہے۔ یہاں پر انجیل شریف میں اس سوال کا جواب یوں لکھا ہے۔

غیر متفق خدمتگار کی کہانی – میتھیو 18: 21-35

معافی سے متعلق کہانی
21 پطرس یسوع کے پاس آیا اور “پوچھا اے خدا وند میرا بھا ئی میرے ساتھ کسی نہ کسی قسم کی برائی
کرتا ہی رہا تو میں اسے کتنی مرتبہ معاف کروں ؟ کیا میں اسے سات مرتبہ معاف کروں ؟”
22 یسوع نے اس سے کہا، “تمہیں اس کو سات مرتبہ سے زیادہ معاف کرنا چاہئے۔ اگر چہ کہ وہ تجھ سے ستر مرتبہ برائی نہ کرے اسکو معاف کرتا ہی رہ۔”
23 “آسمانی بادشاہت کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک بادشاہ نے اپنے خادموں کو دیئے گئے قرض کی رقم وصول کر نے کا فیصلہ کیا۔ 24 بادشاہ نے اپنی رقم کی وصولی کا سلسلہ شروع کیا۔ جبکہ ایک خادم کو دس ہزار چاندی کے سکّے بادشاہ کو بطور قرض دینا تھا۔ 25 وہ خا دم بادشاہ کو قرض کی رقم دینے کے قابل نہ تھا۔ جس کی وجہ سے باد شا ہ نے حکم دیا کہ خا دم اور اس کے پاس کی ہر چیز کو اور اس کی بیوی کو ان کے بچوں سمیت فروخت کیا جا ئے اور اس سے حا صل ہو نے والی رقم کو قرض میں ادا کیا جا ئے۔
26 “تب خادم باد شاہ کے قد موں پر گرا اور اس سے عاجزی کر نے لگا۔ ذرا صبر و برداشت سے کام لے میں اپنی طرف سے سا را قرض ادا کروں گا۔ 27 باد شا ہ نے اپنے خادم کے بارے میں افسوس کیا اور کہا، “تمہیں قرض ادا کر نے کی ضرورت نہیں باد شاہ نے خادم کو آزادا نہ جانے دیا۔
28 “پھر اس کے بعد وہی خادم دوسرے ایک اور خادم کو جو اس سے چاندی کے سو سکے لئے تھے اس کو دیکھا اور اس کی گردن پکڑ لی اور اس سے کہا کہ تو نے مجھ سے جو لیا تھا وہ دیدے۔
29 وہ خا دم اس کے پیروں پر گر پڑا اور منت و سما جت کر تے ہوئے کہنے لگا کہ ذرا صبر سے کام لے۔ تجھے جو قرض دینا ہے وہ میں پورا ادا کروں گا۔
30 “لیکن پہلے خادم نے انکار کیا۔ اور اس خادم کے با رے میں جو اس کو قرض دینا ہے عدا لت میں لے گیا اور اس کی شکا یت کی اور اس کو قید میں ڈلوا دیا اور اس خادم کو قرض کی ادائیگی تک جیل میں رہنا پڑا۔ 31 اس واقعہ کو دیکھنے وا لے دوسرے خادموں نے بہت افسوس کر تے ہو ئے پیش آئے ہوئے حادثہ اپنے ما لک کو سنائے۔
32 “تب مالک نے اس کو اندر بلا یا اور کہا، “تم برے خادم نے مجھ سے بہت زیادہ رقم لی تھی لیکن تم نے مجھ سے قرض کی معا فی کے لئے منت وسماجت کی۔” جس کی وجہ سے میں نے تیرا پورا قرض معا ف کر دیا۔ 33 اور کہا کہ ایسی صورت میں جس طرح میں نے تیرے ساتھ رحم و کرم کا سلوک کیا اسی طرح دوسرے نو کر سے تجھے بھی چاہئے تھا کہ ہمدر دی کا بر تاؤ کرے۔ 34 ما لک نہایت غضبناک ہوا۔اور اس نے سزا کے لئے خادم کو قید میں ڈال دیا۔ اور اس وقت تک خادم کو قید خا نہ میں رہنا پڑا جب تک کہ وہ پورا قرض نہ ادا کر دیا۔
35 “آسما نوں میں رہنے وا لا میرا با پ تمہا رے ساتھ جس طرح سلوک کرتا ہے۔ اسی طرح اس بادشا ہ نے کیا ہے۔تم کو بھی چا ہئے کہ اپنے بھا ئیوں اور اپنی بہنوں سے حقیقت میں در گذر سے کام لو۔ ورنہ میرا باپ جو آسمانوں میں ہے تم کو کبھی بھی معاف نہ کریگا۔”

اس حوالے میں کہانی کا نقطہ یہ ہے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ (بادشاہ) کی رحمت کو قبول کرلیں تو وہ ہم کو معاف فرما دیتا ہے۔ یہاں دس ہزار سونے کے تھیلے اُس بادشاہ کے ایک نوکر کو دیئے گے تھے۔ اور بادشاہ اُن تھیلوں کو اپنے نوکر سے طلب کرتا ہے۔ اُس کا نوکر کچھ وقت مانگتا ہے۔ تاکہ وہ اُن تھیلوں کو بادشاہ کو واپس کرسکے۔ لیکن یہ اتنی زیادہ رقم تھی کہ نوکر بادشاہ کو کبھی بھی واپس نہیں کرسکتا تھا۔ لہذا بادشاہ نے اُس کو سارا قرض معاف کردیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کرتا ہے۔ اگر ہم اُس کی رحمت کو قبول کرلیں۔

لیکن جس کو معاف کردیا گیا تھا۔ اُس نے ایک اور نوکر کو پکڑا جس سے اُس کے ایک سو چاندی کے سکے آتے تھے۔ اُس نے اُس سے اپنے سکوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا اور اُس نوکر نے دوسرے نوکر کو وقت بھی نہ دیا۔ جب ہم ایک دوسرے کا گناہ کرتے ہیں۔ تو اس سے ہم ایک دوسرے کو غمگین کرتے اور نقصان پہنچاتے ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے اس بات کا موازنہ کیا ہے۔ کہ ہمارے گناہ کسطرح اللہ تعالیٰ کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ یہ اس طرح ہے کہ ایک سو چاندے کے سکوں کا مقابلہ دس ہزار سونے کے تھیلوں سے کیا جائے۔
تاہم بادشاہ نے اپنے نوکر کے اس رویہ کو دوسرے نوکر کے ساتھ دیکھ کر اُس ناشکر نوکر کو جیل میں ڈال دیا۔ اور کہا تم اُس وقت تک یہاں سے نکل نہیں سکتے جب تک تم میری پائی پائی ادا نہیں کردیتے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی اس تعلیم کے مطابق اگر ہم اُن تمام گناہوں کو جن کو لوگوں نے ہمارے خلاف کیا معاف نہ کریں گے تو یہ رویہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کے خلاف ہے جو وہ ہم سے کرتا ہے۔ اس رویے سے جہنم ہمارا مقدر بن جائے گی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا سنگین ہوسکتا ہے۔
ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ ہمیں معافی کی اس روح کو برقرار رکھنا ہے۔ جب کبھی کوئی ہم کو تکلیف دیتا ہے۔ تو اُس شخص کے بارے میں عذاب اور غصہ ہعروج پر ہوتا ہے۔ تو پھر ہم معافی کی اس روح کو کس طرح برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیےمیں انجیل شریف میں سے مزید جاننے کی ضرورت ہے۔