حضرت عیسیٰ المسیح کی تمثلوں کے زریعے تعلیم

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے لاثانی اختیار کے ساتھ تعلیم دی۔ اُنہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں کے زریعے تعلیم دی جوزندگی کے سچے اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ہم نے دیکھا کہ کیسے اُنہوں نے ایک عظیم ضیافت کی تمثیل سےاللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ اور کیسے اُنہوں نے معافی کے تعلیم دیتے ہوئے ایک ظالم نوکر کی تمثیل سے سیکھایا۔ ان کہانیوں کو تمثیل کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح انبیاء اکرام کے درمیان لاثانی نبی ہیں اور اُنہوں نے سیکھاتے ہوئے بہت زیادہ تمثیل کا استعمال کیا۔ اور کس قدر وہ اہم تھیں۔ آپ کے حواریوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ کیوںکہ لوگوں کو تمثیلوں میں لوگوں کو سیکھاتے ہیں۔ انجیل شریف میں سوال کا جواب اس طرح لکھا ہوا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے لاثانی اختیار کے ساتھ تعلیم دی۔ اُنہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں کے زریعے تعلیم دی جوزندگی کے سچے اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ہم نے دیکھا کہ کیسے اُنہوں نے ایک عظیم ضیافت کی تمثیل سےاللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ اور کیسے اُنہوں نے معافی کے تعلیم دیتے ہوئے ایک ظالم نوکر کی تمثیل سے سیکھایا۔ ان کہانیوں کو تمثیل کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح انبیاء اکرام کے درمیان لاثانی نبی ہیں اور اُنہوں نے سیکھاتے ہوئے بہت زیادہ تمثیل کا استعمال کیا۔ اور کس قدر وہ اہم تھیں۔ آپ کے حواریوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ کیوںکہ لوگوں کو تمثیلوں میں لوگوں کو سیکھاتے ہیں۔ انجیل شریف میں سوال کا جواب اس طرح لکھا ہوا ہے۔

یسوع نے تمثیلوں کا استعمال کیوں کیا ؟

10 تب شاگرد یسوع کے پا س آکر پوچھنے لگے“آپ تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو کیوں تعلیم دیتے ہیں؟”۔
11 یسوع نے کہا، “خدا کی بادشاہت کی پو شیدہ سچا ئی کو سمجھنے کی صرف تم میں صلا حیت ہے۔ اور ان پوشیدہ سچا ئی کو دیگر لوگ سمجھ نہیں پاتے 12 جس کو تھوڑا علم و حکمت دی گئی ہے وہ مزید علم حا صل کر کے علم و حکمت وا لا بنے گا۔ لیکن جو علم وحکمت سے عا ری ہو گا۔ وہ اپنے پاس کا معمو لی نام علم بھی کھو دے گا۔ 13 اسی لئے میں ان تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو تعلیم دیتا ہوں۔ ان لوگوں کا حا ل یہ ہے کہ یہ دیکھ کر بھی نہیں دیکھنے کے برا بر اور سن کر بھی نہ سننے کے برا بر ہیں۔ متّی 13:10-13

آپ کے آخری الفاظ حضرت یسعیاہ نبی ؑ کے تھے۔ جو 700 ق م میں اپنی قوم پر نازل ہوئے۔ حضرت یسعیاہ نبی ؑ دل کی سختی کے خلاف خبردار کیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں کئی بار ہم کسی چیز کو ٹھیک طور پر نہیں جان پاتے اور کیونکہ ہم نے اُس کی وضاحت یا پھر وہ بہت ہی زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں ایک واضح وضاحت پیچیدگی کو ختم کردیتی ہے۔ لیکن اس علاہ کئی بار ہم بات کو نہیں سمجھ پاتے۔ کیونکہ ہم دلی گہرائیوں سے اُس بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم چاہیے اس بات کا اقرار نہ کریں۔ لہذا ہم سوالات پوچھتے جاتے ہیں۔ شاید دماغی فہم کی کمی ہمارے شاید ہمارے اندر دماغی فہم کی کمی ہے۔ لیکن اگر الجھن ہمارے دلوں میں ہے اور ہمارے دماغ میں نہیں تو کوئی بھی وضاحت کافی نہیں ہوگی۔ یہاں پر مسئلہ یہ ہے۔ کہ یم سمجھنے کے لیے راضی نہیں نہ کہ ہم ذہینی طور پر سمجھ نہیں سکتے۔
جب بھی حضرت عیسیٰ المسیح تمثیلوں کے زریعے سکھاتے تو اس بات کا اثر بھیڑ پر بڑے ڈرامائی انداز میں ہوا۔ جو لوگ آسانی سے کہانی کو سمجھ نہ پاتے۔ وہ اس کے بارے متجسس ہوجاتے اور اس کو سمجھنے کے لیے دوسروں سے کہتے۔ جبکہ وہ لوگ جو کہانی کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ وہ اس کو ناپسندیدہ اور نظرانداز کرتے۔ وہ اس کے بارے میں مزید سوچنا پسند بھی نہ کرتے۔ تمثیلوں کا استعمال ماہر استاد کرتے۔ تاکہ وہ لوگوں کا جدا کرسکیں۔ جیسے کسان گندم کو بھوسے سے لگ کرتا ہے۔ جو لوگ کہانی کو سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ الجھن کا شکار ہوگے۔ کیونکہ اُنہوں نے اپنی دلی مرضی سے سچائی کو قبول کرنا نہ چاہا۔ اگرچہ وہ دیکھتے تو تھے لیکن وہ اس بات کی گہرائی کو سمجھتے نہیں تھے۔

بیج بونے والا اور چار مختلف اقسام کی زمین

جب حضرت عیسیٰ کے حواریوں نےکہانیوں کے انداز میں تعلیم دینے کے بارے میں سوال کیا۔ تو وہ آپ اُس وقت اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں ایک گروہ کو کہانیوں کے زریعے سیکھا رہے تھے۔ یہاں پر پہلی کہانی ہے۔

تب یسوع نے تمثیلوں کے ذریعہ کئی چیزیں انہیں سکھا ئیں۔ اور یسوع انکو یہ تمثیل دینے لگے کہایک کسان بیج بونے کے لئے گیا۔ “جب وہ تخم ریزی کررہا تھا تو چند بیج راستے کے کنارے پر گرے۔ اور پرندے آکر ان تمام بیجوں کو چگ گئے۔ چند بیج پتھریلی زمین میں گر گئے۔ اس زمین میں زیا دہ مٹی نہ ہو نے کے وجہ سے بیج بہت جلد اگ آئے۔ لیکن جب سورج ابھرا، اس نے پودوں کو جھلسا دیا۔ تو وہ اُگے ہوئے پو دے سوکھ گئے۔ اس لئے ان کی جڑیں گہرا ئی تک نہ جا سکیں۔ دیگر چند بیج خا ر دار جھا ڑیوں میں گر گئے۔اور وہ خا ر دار جھا ڑیوں نے ان کو دبا کر ان اچھے بیجوں کی فصل کو آگے بڑ ھنے سے روک دیا۔ دوسرے چند بیج اچھی زر خیز زمین میں گر گئے۔ اور وہ نشو نما پا کر ثمر آور ہوئے بعض پودے صد فیصد بیج دیئے ،اور بعض پودے ساٹھ فیصد سے زیادہ اور بعض نے تیس فیصد سے زائد بیج دئیے۔ میری باتوں پر کان دھر نے والے لوگوں نے ہی غور سے سنا۔”  متّی 13:3-9

تو اس تمثیل کا کیا مطلب تھا؟ ہمیں اندازہ نہیں لگانا چاہئے، وہاں پر ایسے لوگ تھے جو دلی طور پر اس کہانی کو سمجھنا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے اس کے بارے میں پوچھا اور یہاں آپ نے بیان کردیا تھا۔

18 “ایسی صورت میں کسان کے متعلق کہی گئی تمثیل کے معنی سنو۔

19 سڑک کے کنارے میں گر نے والے بیج سے مرا د کیا ہے ؟راستے کے کنارے گرے بیج اس آدمی کی مانند ہیں جو آسمانی بادشاہت کے متعلق تعلیمات کو سن رہا ہے لیکن سمجھ نہیں رہا ہے۔ اسکو نہ سمجھنے والا انسان ہی راستے کے کنارے گرے ہو ئے بیج کی طرح ہے۔ برا شخص آکر اس آدمی کے دل میں بوئے گئے بیجوں کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔

20 اور پتھریلی زمین میں گرے ہو ئے بیج سے مراد کیا ہے ؟ وہ بیج اس شخص کی مانند ہے جو بخوشی تعلیمات کو سنتا ہے اور ان تعلیمات کو بخوشی فوراً قبول کر لیتا ہے۔ 21 لیکن وہ آدمی جو کلام کو اپنی زندگی میں مستحکم نہیں بنا تا اور وہ اس کلام پر ایک مختصر وقت کے لئے عمل کرتا ہے۔ اور اس کلام کو قبول کر نے کی وجہ سے خود پر کو ئی تکلیف یا مصیبت آتی ہے تو وہ اسکو جلد ہی چھوڑ دیتا ہے۔

22 “خار دار جھا ڑیوں کے بیچ میں گر نے والے بیج سے کیا مراد ہے تعلیم کو سننے کے بعد زندگی کے تفکّرات میں اور دولت کی محبت میں تعلیم کو اپنے میں پر وان نہ چڑھا نے والا ہی خار دار زمین میں بیج کے گرنے کی طرح ہے۔یہی وجہ ہے کہ تعلیم اس آدمی کی زندگی میں کچھ پھل نہ دیگی۔

23 اور کہا کہ اچھی زمین میں گرنے والے بیج سے کیا مراد ہے ؟تعلیم کو سن کر اور اسکو سمجھ کر جاننے والا شخص ہی اچھی زمین پر گرے ہو ئے بیج کی طرح ہو گا۔ وہ آدمی پر وان چڑھکر بعض اوقات سو فیصد اور بعض اوقات ساٹھ فیصد اور بعض اوقات تیس فیصد پھل دیگا۔”

 متّی 13:18-23

ہم دیکھ سکتے ہیں یہاں پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں چار مختلف جوابات ہیں۔ پہلے وہ ہیں جن کو کلام اللہ کی ‘سمجھ ‘ نہیں آئی اور ابلیس آیا اور اُن کے دلوں میں سے پیغام کو چرا کر لے گیا۔ باقی رہ گے تین۔ اںہوں نے کلام اللہ کو بڑی خوشی سے قبول کرلیا۔ لیکن اس پیغام کو ہمارے دلوں میں پروان چڑھنے میں مشکل پیش آئی۔ یہ صرف ہمارے ذہنوں میں تسلیم کرنے کی ہی بات نہیں تھی۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں تھا کہ ہم جیسا چاہیں ویسے رہیں۔ تاہم ان تین میں سے دو نے ابتدا میں قبول تو کرلیا تھا لیکن اس پیغام کو اپنے دلوں میں پروان چڑھنے نہ دیا۔ صرف ان میں سے چوتھا دل ہی ایسا تھا۔ جس نے اس پیغام پر پوری توجہ سے سُن اور اُس پر ایمان لایا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لیے تیار بھی ہوگیا جیسے اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی۔

اس کہانی کے میں ایک نقطہ جس کے بارے میں ہم سوال کرنا چاہتے ہیں؟ ‘اس کہانی میں چار اشخاص میں سے میں کون ہوں؟’ صرف وہی اچھی فصل ثابت ہوئے جنہوں نے اُس پیغام کو سمجھا۔ ایک فہم اور تفہیم کے لیے ضروری یہ ہے کہ ہم حضرت آدمؑ سے شروع کرکے انبیاءاکرام تک اللہ تعالیٰ کے منصوبہ کو تورات اور زبور شریف میں سے جانیں۔ حضر ت آدمؑ کے نشان کے بعد اہم نشانات تورات شریف میں حضرت ابراہیم ؑ سے وعدے اور قربانی میں سے آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کے دس احکامات، اور حضرت ہارونؑ۔ زبور شریف میں "مسیح” کی ابتداء کی سمجھنے کے بعد، حضرت یسعیاہ ؑ، زکریاہؑ، دانیال، اور ملاکی ؑ کی کتابوں میں سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے پیغام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس تمثیل کی وضاحت کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح گھاس کی مثال کے زریعے سیکھاتے ہیں۔

گیہوں اور گھاس پھوس کی تمثی

24 تب یسوع انکو ایک اور تمثیل کے ذریعہ تعلیم دینے لگے۔ وہ یہ کہ“ آسمان کی بادشاہت سے مراد ایک اچھے بیج کو اپنے کھیت میں بونے والے ایک کسان کی طرح ہے۔ 25 اس رات جب کہ سب لوگ سو رہے تھے تو اسکا ایک دشمن آیا اور گیہوں میں گھاس پھوس کو بودیا۔ 26 جب گیہوں کا پو دا نشو نما پا کر دانہ دار بن گیا تو اسکے ساتھ گھا س پھوس کے پو دے بھی بڑھنے لگے۔ 27 تب اس کسان کے خادم نے اسکے پاس آکر دریافت کیا کہ تو اپنے کھیت میں اچھے دانوں کو بویا۔ مگر وہ گھاس پھوس کا پو دا کہاں سے آ گیا ؟

28 اس نے جواب دیا، “یہ دشمن کا کام ہے تب ان خادموں نے پو چھا کہ کیا ہم جاکر اس گھاس پھوس کے پو دے کو اکھاڑ پھینکیں۔

29 “اس آدمی نے کہا کہ ایسا مت کرو کیوں کہ تم گھاس پھوس کو نکالتے وقت گیہوں کو بھی نکال پھینکو گے۔  متّی 13:24-29

یہاں پر اُنہوں نے وضاحت بیان کی ہے۔

36 تب یسوع لوگوں کو چھوڑ کر گھرچلے گئے۔ انکے شاگرد انکے قریب گئے اور ا ن سے کہا،” گو کھر و بیجوں سے متعلق تمثیل ہم کو سمجھا ؤ۔”

37 یسوع نے جواب دیا ، اس طرح کھیت میں اچھے قسم کے بیجوں کی تخم ریزی کر نے وا لا ہی ابن آدم ہے۔ 38 کھیت یہ دنیا ہے۔ اچھے بیج ہی آسما نی بادشاہت میں شا مل ہو نے وا لے خدا کے بچے ہیں اور بر ے وبد کا روں سے رشتے رکھنے وا لے ہی وہ گو کھر وکے بیج ہیں۔ 39 کڑ وے بیج کو بو نے وا لا دشمن ہی وہ شیطا ن ہے۔ فصل کی کٹا ئی کا مو سم ہی دنیا کا اختتام ہے اور اس کو جمع کر نے وا لے مز دور ہی خدا کے فرشتے ہیں۔

40 “کڑ وے دانوں کے پودوں کو اکھا ڑ کر اس کو آ گ میں جلا دیتے ہیں اور دنیا کے اختتا م پر ہو نے وا لا یہی کام ہے۔ 41 ابن آدم اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔اور اس کے فرشتے گنا ہوں میں ملوث برے اور شر پسند لو گوں کو جمع کریں گے۔ اور وہ انکو اس کی بادشاہت سے باہر نکال دیں گے۔ 42 فرشتے ان لوگوں کو آ گ میں پھینک دیں گے۔اور وہاں وہ تکلیف سے رو تے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے رہیں گے۔ 43 تب اچھے لوگ سورج کی مانند چمکیں گے۔ وہ اپنے باپ کی بادشا ہی میں ہو ں گے۔ میری باتوں پر توجہ دینے والے لوگو غور سے سنو ۔   متّی3:36-43

بیج اور خمیر کی مثال

حضرت عیسیٰ المسیح نے کچھ مختصر تمثیلوں کے ساتھ سیکھایا تھا۔

31 تب یسوع نے ایک اور تمثیل لوگوں سے کہی “آسما نی باد شاہت را ئی کے دا نے کے مشا بہ ہے۔ کسی نے اپنے کھیت میں اس کی تخم ریزی کی۔ 32 وہ ہر قسم کے دانوں میں بہت چھو ٹا دانہ ہے۔ اور جب وہ نشو نما پا کر بڑھتا ہے تو کھیت کے دوسرے درختوں سے لمبا ہو تا ہے۔ جب وہ درخت ہو تا ہے تو پرندے آکر اس کی شاخوں میں گھونسلے بناتے ہیں۔”

33 پھر یسوع نے لوگوں سے ایک اور تمثیل کہی “آسما نی بادشاہت خمیر کی مانند ہے جسے ایک عورت نے روٹی پکا نے کے لئے ایک بڑے برتن جسمیں آٹا ہے اور اس میں خمیر ملا دی ہے۔ گو یا وہ پورا آٹا خمیر کی طرح ہو گیا ہے۔”  متّی 13:31-33

دوسرے الفاظ میں، اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اس دنیا میں بہت ہی چھوٹی اور غیرمعمولی انداز سے شروع ہوگی۔ لیکن بعد میں وہ خمیر کی طرح پھیل گئی۔ جیسے ایک چھوٹا سا بیج بڑھ کر ایک بڑا درخت بن جاتا ہے۔ یہ کسی قوت کے ساتھ نہیں ہوا یا ایک دم سے نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی پوشیدگی میں ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن یہ ہر جگہ پر اور بن روکے ہورہی ہے۔

پوشیدہ خزانے اور قیمتی موتی کی مثال

44 “آسما نی بادشاہت کھیت میں گڑے ہو ئے خزا نے کی مانند ہے۔ایک دن کسی نے اس خزا نے کو پا لیا۔ او ربے انتہا مسر ّت وخوشی سے اس کو کھیت ہی میں چھپا کر رکھ دیا۔ تب پھر اس آدمی نے اپنی سا ری جا ئیداد کو بیچ کر اس کھیت کو خرید لیا۔

45 “آسما نی بادشاہت عمدہ اور اصلی موتیوں کو ڈھونڈ نے وا لے ا یک سوداگر کی طرح ہے جو قیمتی موتیوں کی تلا ش کر تا ہے۔ 46 ایک دن اس تا جر کو بہت ہی قیمتی ایک مو تی ملا۔تب وہ گیا اور اپنی تمام جائیداد کو فروخت کر کے اس موتی کو خرید لیا۔    متّی 13:44-46

ان تمثیلوں کی بنیادی توجہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی قدر کو بیان کرتیں ہیں۔ ایک ایسے خزانے کی سوچ جو ایک کیھت میں پوشیدہ ہے۔ چونکہ یہ خزانہ اُس کیھت میں پوشیدہ ہے اور ہر کوئی اس کیھت کے پاس سے گزر جاتا ہے اور اُن میں سے کسی کے دل میں اس کیھت کے بارے میں کوئی بھی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ کیونکہ وہ خزانہ پوشیدہ ہے۔ لیکن پھر کسی کو اس کیھت کے بارے میں یہ خیال آتا ہے۔ کہ اس کیھت میں کوئی خزانہ ہے۔ جس کی وجہ سے اُس کیھت کی قدر بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ وہ اس کیھت میں پوشیدہ خزانے کو حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ بیچ دیتا ہے۔ لہذا یہ اللہ تعالیٰ لی بادشاہی کا حال ہے۔ جو لوگ توجہ نہیں دیتے اُن کے لیے کوئی چیز قدر نہیں رکھتی۔ لیکن لیکن وہ جو توجہ دیتے اور اُس چیز کی قدر کو جانتے ہیں۔ وہ اُس کو حاصل کرنے لیے سب کچھ دیتے ہیں۔

جھال کی مثال

47 “آسما نی بادشاہت سمندر میں ڈالے گئے اس مچھلی کے جال کی طرح ہےجس میں مختلف قسم کی مچھلیاں پھنس گئیں۔ 48 تب وہ جال مچھلیوں سے بھر گیا۔ مچھیرے اس جال کو جھیل کے کنا رے لائے اور اس سے اچھی مچھلیاں ٹوکریوں میں ڈال لیں اور خراب مچھلیوں کو پھینک دئیے۔ 49 اس دنیا کے اختتا م پر بھی ویسا ہی ہوگا۔فرشتے آئیں گے اور نیک کا روں کو بد کاروں سے الگ کریں گے۔ 50 فرشتے برے لوگوں کو آ گ کی بھٹی میں پھنک دیں گے۔ اس جگہ لوگ روئیں گے۔درد وتکلیف میں اپنے دانتوں کو پیسیں گے۔”   متّی 13:47-50

اللہ تعالیٰ کی بادشاہی انسانوں کو جدا کرے گی۔ یہ جدائی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کرے گا۔ جب سب دلوں کو ظاہر کردیا جائے گا۔

ہم دیکھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی پراسرار طریقے سے پروان چڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جس طرح آٹا میں خمیر ، اس کی پوشیدہ حزانہ جس کی بڑھی قدروقیمت ہے۔ جو سب سے چھُپی ہوئی ہے۔ اور اس سے لوگوں کے درمیان مختلف ردعمل ںظر آتا ہے۔ اس سے لوگوں کے درمیان یہ تمیز کی جاسکتی ہے۔ جواس کو سمجھ سکے اور جو اس کو نہ سمجھ سکے۔ ان مثالوں کے زریعے تعلیم دینے کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح لوگوں سے ایک سوال پوچھتے ہیں۔

51 یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا، “کیا تم ان تمام باتوں کو سمجھ گئے ہو؟” شاگردوں نے جواب دیا “ہم سمجھ گئے ہیں”   متّی 13:51

آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

حضرت عیسیٰ المیسح کی معافی کے بارے میں تعلیم

جیسا میں انٹرنیشنل خبریں دیکھتا اور پڑھتا ہوں۔ تو اس سب کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے۔ کہ ہماری دنیا خون اور تشدد اور خوف میں ڈوبی ہوئی ہے۔ افغانستان میں بمباری، لبنان، شام، اور عراق میں جنگ وجدل ، پاکستان میں قتلِ عام ، ترکی میں فسادات، نئجیریا میں سکول کے بچے اغوا، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگی صورتِ حال، کنیا میں قتل عام، یہ سب خبریں میں نے بغیر کسی تلاش کے سُنی۔ دوسرے الفاظ میں یہ ساری خبریں عام ہیں اور ہر کوئی ان خبروں کو آسانی سے پڑھ اور سُن سکتا ہے۔اس کے ساتھ کئی ایسی خبریں ہیں۔ مثال کے طور پر گناہوں کی کثرت، دکھ، اور غم جیسی باتوں کو ہیڈلائن نہیں بنایا جاتا۔ ہیڈلائن نہ بننے کے باوجود یہ ہمیں نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس دور میں جہاں درد، جنگوں جدل اور لڑائی جھگڑا عام ہے وہاں حضرت عیسیٰ المسیح کی معاف کرنے کی تعلیم بہت ہی اہمیت کی رکھتی ہے۔ ایک دن آپ کے حواری نے سوال کیا۔ کہ مجھے کتنی بار معاف کرنا ہے۔ یہاں پر انجیل شریف میں اس سوال کا جواب یوں لکھا ہے۔

غیر متفق خدمتگار کی کہانی – میتھیو 18: 21-35

معافی سے متعلق کہانی
21 پطرس یسوع کے پاس آیا اور “پوچھا اے خدا وند میرا بھا ئی میرے ساتھ کسی نہ کسی قسم کی برائی
کرتا ہی رہا تو میں اسے کتنی مرتبہ معاف کروں ؟ کیا میں اسے سات مرتبہ معاف کروں ؟”
22 یسوع نے اس سے کہا، “تمہیں اس کو سات مرتبہ سے زیادہ معاف کرنا چاہئے۔ اگر چہ کہ وہ تجھ سے ستر مرتبہ برائی نہ کرے اسکو معاف کرتا ہی رہ۔”
23 “آسمانی بادشاہت کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک بادشاہ نے اپنے خادموں کو دیئے گئے قرض کی رقم وصول کر نے کا فیصلہ کیا۔ 24 بادشاہ نے اپنی رقم کی وصولی کا سلسلہ شروع کیا۔ جبکہ ایک خادم کو دس ہزار چاندی کے سکّے بادشاہ کو بطور قرض دینا تھا۔ 25 وہ خا دم بادشاہ کو قرض کی رقم دینے کے قابل نہ تھا۔ جس کی وجہ سے باد شا ہ نے حکم دیا کہ خا دم اور اس کے پاس کی ہر چیز کو اور اس کی بیوی کو ان کے بچوں سمیت فروخت کیا جا ئے اور اس سے حا صل ہو نے والی رقم کو قرض میں ادا کیا جا ئے۔
26 “تب خادم باد شاہ کے قد موں پر گرا اور اس سے عاجزی کر نے لگا۔ ذرا صبر و برداشت سے کام لے میں اپنی طرف سے سا را قرض ادا کروں گا۔ 27 باد شا ہ نے اپنے خادم کے بارے میں افسوس کیا اور کہا، “تمہیں قرض ادا کر نے کی ضرورت نہیں باد شاہ نے خادم کو آزادا نہ جانے دیا۔
28 “پھر اس کے بعد وہی خادم دوسرے ایک اور خادم کو جو اس سے چاندی کے سو سکے لئے تھے اس کو دیکھا اور اس کی گردن پکڑ لی اور اس سے کہا کہ تو نے مجھ سے جو لیا تھا وہ دیدے۔
29 وہ خا دم اس کے پیروں پر گر پڑا اور منت و سما جت کر تے ہوئے کہنے لگا کہ ذرا صبر سے کام لے۔ تجھے جو قرض دینا ہے وہ میں پورا ادا کروں گا۔
30 “لیکن پہلے خادم نے انکار کیا۔ اور اس خادم کے با رے میں جو اس کو قرض دینا ہے عدا لت میں لے گیا اور اس کی شکا یت کی اور اس کو قید میں ڈلوا دیا اور اس خادم کو قرض کی ادائیگی تک جیل میں رہنا پڑا۔ 31 اس واقعہ کو دیکھنے وا لے دوسرے خادموں نے بہت افسوس کر تے ہو ئے پیش آئے ہوئے حادثہ اپنے ما لک کو سنائے۔
32 “تب مالک نے اس کو اندر بلا یا اور کہا، “تم برے خادم نے مجھ سے بہت زیادہ رقم لی تھی لیکن تم نے مجھ سے قرض کی معا فی کے لئے منت وسماجت کی۔” جس کی وجہ سے میں نے تیرا پورا قرض معا ف کر دیا۔ 33 اور کہا کہ ایسی صورت میں جس طرح میں نے تیرے ساتھ رحم و کرم کا سلوک کیا اسی طرح دوسرے نو کر سے تجھے بھی چاہئے تھا کہ ہمدر دی کا بر تاؤ کرے۔ 34 ما لک نہایت غضبناک ہوا۔اور اس نے سزا کے لئے خادم کو قید میں ڈال دیا۔ اور اس وقت تک خادم کو قید خا نہ میں رہنا پڑا جب تک کہ وہ پورا قرض نہ ادا کر دیا۔
35 “آسما نوں میں رہنے وا لا میرا با پ تمہا رے ساتھ جس طرح سلوک کرتا ہے۔ اسی طرح اس بادشا ہ نے کیا ہے۔تم کو بھی چا ہئے کہ اپنے بھا ئیوں اور اپنی بہنوں سے حقیقت میں در گذر سے کام لو۔ ورنہ میرا باپ جو آسمانوں میں ہے تم کو کبھی بھی معاف نہ کریگا۔”

اس حوالے میں کہانی کا نقطہ یہ ہے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ (بادشاہ) کی رحمت کو قبول کرلیں تو وہ ہم کو معاف فرما دیتا ہے۔ یہاں دس ہزار سونے کے تھیلے اُس بادشاہ کے ایک نوکر کو دیئے گے تھے۔ اور بادشاہ اُن تھیلوں کو اپنے نوکر سے طلب کرتا ہے۔ اُس کا نوکر کچھ وقت مانگتا ہے۔ تاکہ وہ اُن تھیلوں کو بادشاہ کو واپس کرسکے۔ لیکن یہ اتنی زیادہ رقم تھی کہ نوکر بادشاہ کو کبھی بھی واپس نہیں کرسکتا تھا۔ لہذا بادشاہ نے اُس کو سارا قرض معاف کردیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کرتا ہے۔ اگر ہم اُس کی رحمت کو قبول کرلیں۔

لیکن جس کو معاف کردیا گیا تھا۔ اُس نے ایک اور نوکر کو پکڑا جس سے اُس کے ایک سو چاندی کے سکے آتے تھے۔ اُس نے اُس سے اپنے سکوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا اور اُس نوکر نے دوسرے نوکر کو وقت بھی نہ دیا۔ جب ہم ایک دوسرے کا گناہ کرتے ہیں۔ تو اس سے ہم ایک دوسرے کو غمگین کرتے اور نقصان پہنچاتے ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے اس بات کا موازنہ کیا ہے۔ کہ ہمارے گناہ کسطرح اللہ تعالیٰ کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ یہ اس طرح ہے کہ ایک سو چاندے کے سکوں کا مقابلہ دس ہزار سونے کے تھیلوں سے کیا جائے۔
تاہم بادشاہ نے اپنے نوکر کے اس رویہ کو دوسرے نوکر کے ساتھ دیکھ کر اُس ناشکر نوکر کو جیل میں ڈال دیا۔ اور کہا تم اُس وقت تک یہاں سے نکل نہیں سکتے جب تک تم میری پائی پائی ادا نہیں کردیتے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی اس تعلیم کے مطابق اگر ہم اُن تمام گناہوں کو جن کو لوگوں نے ہمارے خلاف کیا معاف نہ کریں گے تو یہ رویہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت کے خلاف ہے جو وہ ہم سے کرتا ہے۔ اس رویے سے جہنم ہمارا مقدر بن جائے گی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا سنگین ہوسکتا ہے۔
ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ ہمیں معافی کی اس روح کو برقرار رکھنا ہے۔ جب کبھی کوئی ہم کو تکلیف دیتا ہے۔ تو اُس شخص کے بارے میں عذاب اور غصہ ہعروج پر ہوتا ہے۔ تو پھر ہم معافی کی اس روح کو کس طرح برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیےمیں انجیل شریف میں سے مزید جاننے کی ضرورت ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح باطن کی پاکیزگی کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المیسح کے الفاظ میں کیسا اختیار تھا کہ بیمار شفا پاتے اور فطرت اُن کا کہا مانتی۔ اُنہوں نے اپنے الفاظ سے برائے راست ہمارے دلوں کی حالت کو بھی بے نقاب کردیا۔ ہمیں اس بات پر مجبور کردیا کہ ہم اپنے باطن اور ظاہری حالت کی جانچ پڑتال کرسکیں۔ ہم سب اپنی ظاہر پاکیزگی کو تو جانتے ہیں۔ اس لیے ہم نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرتے ہیں اور اس لیے ہم حلال کھانا کھاتے ہیں۔ حضرت محمدؐ نے حدیث مبارک میں یوں ارشاد فرمایا ہے۔

صفائی نصف ایمان ہے . . . حدیث مسلم کتاب 002، باب 1، حدیث 0432

حضرت عیسیٰ المیسح چاہتے ہیں۔ ہم دوسرے نصف حصے کے بارے میں سوچیں۔ جو ہمارا باطن کا حصہ ہے۔ یہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم انسان دوسرے انسانوں کی ظاہری پاکیزگی اور ناپاکی کو دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہم سے مختلف ہے۔ اللہ باطن کو دیکھتا ہے۔ جب یہوداہ کے بادشاہوں میں سے ایک جو مذہبی طور پر راستباز نظر آتا تھا لیکن اُس کے باطن میں جو دل تھا وہ پاک نہیں تھا۔ تو اُس وقت ایک نبی اُس بادشاہ کے پاس یہ پیغام لیکر آیا۔

 خدا وند کی آنکھیں ساری زمین پر چاروں طرف ان لوگوں کو ڈھونڈتی رہتی ہیں جو انکا فرمانبردار ہے ، تا کہ وہ ان لوگوں کے ذریعہ اپنی قوت دکھا سکے۔ آسا ! تم نے بیوقوفی کی اس لئے اب سے آئندہ تم جنگیں لڑ تے رہو گے۔”             دوم تواریخ  16:9

جس طرح یہ پیغام بتایا گیا تھا۔ کہ باطنی پاکیزگی سے مراد ‘دل’  ہے۔ جس سے آپ سوچتے ہیں، محسوس کرتے ہیں، فیصلہ کرتے فرمانبرداری کرتے یا نافرمانی، اور اسی سے آپ اپنی زبان کو کنڑول کرتے ہیں۔ زبور شریف میں انبیاءاکرام نے بتایا تھا کہ یہ ہمارے دل کی پیاس تھی۔ جس سے گناہ پیدا ہوا۔ ہمارے دلوں (باطن) کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے ظاہری زندگی کے تنازعہ ہمارے باطن کے بارے میں تعلیم دی ہے۔ حضرت عیسیٰ المیسح کی تعلیم یہاں پر درج ہے۔

باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کی بھی صافی

(مندرجہ ذیل الفاظ میں ‘فریسیوں’ کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ یہودیوں کے مذہبی استاد تھے۔ جس طرح آج امام/ مولوی ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اللہ تعالیٰ کو اپنی آمدن کا "دسواں حصہ” دینے کی تعلیم دی۔ یہ دراصل یہودیوں کو فرضی زکوۃ ادا کرنی ہوتی تھی)۔

37 جب یسوع نے اپنی تقریر کو ختم کی تو ایک فریسی نے یسوع کو اپنے گھر پر کھا نا کھا نے کیلئے بلایا اسلئے یسوع اس کے گھر جا کر کھا نا کھا نے بیٹھ گئے۔ 38 اس نے یسوع کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ دھو ئے بغیر ہی کھا نا کھا نے بیٹھ گئے توفریسی کو تعجب ہوا۔ 39 خداوند نے اس سے جو کہا وہ یہ ہے کہ “تم فریسیو! تم تو برتن اور کٹورے کے اوپر کے حصہ کو تو صاف ستھرا رکھتے ہو جبکہ تمہارا باطن لا لچ اور برائیوں سے بھرا ہواہے۔ 40 تم بے وقوف ہو اسلئے کہ جس خدا نے تمہا رے ظا ہر کو بنایا ہے۔ وہی باطن کو بھی بنایا ہے۔ 41 اسی لئے بر تن اور کٹوروں کے اندر کی چیزیں غریبوں کو دیا کرو تب کہیں تم پوری طرح پاک ہو جا ؤگے۔

42 اے فریسیو! افسوس ہے تم پر! کیوں کہ اپنے پاس کی تمام چیزوں میں سے دسواں حصہ خدا کی راہ میں دیتے ہو تمہا رے باغ کی پیدا وار میں پو دینہ ، سداب جیسے چھو ٹے پو دوں والی فصل میں سے بھی دیتے ہو لیکن دوسروں کو انصاف بتا نے کے لئے اور خدا سے محبت کر نا بھلا بیٹھے ہو۔ پہلے تمہیں ان تمام باتوں کو کر نا ہے اور بچی ہوئی چیزوں کو نظر اندا ز کر نا ہے۔

43 اے فریسیو! تم پر بڑا ہی افسوس ہے! کہ تم یہو دی عبادت گاہوں میں تو اعلیٰ واونچی نشستوں کے اور بازاروں میں لوگوں سے عزت کے خوا ہشمند ہوتے ہو۔ 44 افسوس ہے تم پر کہ تم تو بس ا ن پوشیدہ قبروں کی طرح ہو جس پر سے لوگ بغیر سمجھے ان پر سے گذرتے ہیں۔” لوقا 11:37-44

یہودی شریعت کے مطابق اگر کوئی مردہ کو چھولیتا۔ تو وہ ناپاک ہو جاتا۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح نے ‘قبروں’ کا ذکر کیا تھا۔ تو اُن کے مطلب تھا۔ کہ وہ قبریں بھی ناپاک ہیں۔ اس بات کو وہ جانتے تھے لیکن پھر بھی وہ اُن قبروں کے درمیان چلتے تھے۔ جس سے مراد تھا کہ وہ باطن کی پاکیزگی کو نظرانداز کررہے تھے۔ کیونکہ قبریں اندر سے تو ناپاک تھیں۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں۔ تو ہم پھر اس ناپاکی کی وجہ سے غیرایماندار کی حالت میں ہوتے ہیں۔ جن کو کسی قسم کی پاکیزگی کی تمیز نہیں ہوتی۔

دل مذہبی شخص کو بھی ناپاک کردیتا ہے

اس مندرجہ ذٰیل دی جانے والی تعلیم میں حضرت عیسیٰ المسیح حضرت یسعیاہ نبی کی ایک اقتباس کو پیش کرتے ہیں۔ جو 750 ق م میں ناذل ہوئے اور اُن کی کتاب زبور شریف میں شامل ہے۔

(یہاں پر حضرت یسعیاہ نبی کے بارے میں معلومات موجود ہے)

خدا کا حکم اور لوگوں کے اصول

15 تب چند فریسی اور معلمین شریعت یروشلم سے یسوع کے پاس آئے اور کہا، “تمہا رے ماننے وا لے ہما رے اجداد کے اصول وروا یات کی اطاعت کیوں نہیں کرتے ؟ اور پوچھا کہ تیرے شاگرد کھا نا کھانے سے قبل ہاتھ کیوں نہیں دھوتے ؟”-

یسوع نے کہا، “تم اپنے اصولوں پر عمل کر نے کے لئے خدا کے احکام کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہو ؟۔ خدا کا حکم ہے کہ تم اپنے ماں باپ کی تعظیم کرو۔ [a] دوسرا حکم خدا کا یہ ہے کہ اگر کو ئی اپنے باپ یا ا پنی ماں کو ذلیل و رسوا کرے تو اسے قتل کر دیا جا ئے۔ [b] لیکن اگر ایک آدمی اپنے ماں باپ کو یہ کہے کہ تمہا ری مدد کر نا میرے لئے ممکن نہیں کیوں کہ میرے پاس ہر چیز خدا کی بڑا ئی کے لئے ہے تو پھر ماں باپ کی عزت کر نے کی کو ئی ضرورت نہیں۔ تم اس بات کی تعلیم دیتے ہو کہ وہ اپنے ماں باپ کی عزت نہ کرے اس صورت میں تمہا ری روایت ہی نے خدا کے حکم کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ تم سب ریا کار ہو۔یسعیاہ نے تمہارے بارے میں صحیح کہا ہے وہ یہ کہ:

“یہ لوگ تو صرف زبانی میری عزت کرتے ہیں۔

    لیکن ان کے دل مجھ سے دور ہیں۔
اور انکا میری بندگی کرنا بھی بے سود ہے۔
    انکی تعلیمات انسانی اصولوں ہی کی تعلیم دیتے ہیں۔ [c]

10 یسوع نے لوگوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “میری باتوں پر غور کرو اور انہیں سمجھو۔ 11 کوئی آدمی اپنے کھا نے پینے والی چیزوں سے نا پاک و گندا نہیں ہو تا بلکہ اس نے کہا کہ اس کے منھ سے جو بھی جھوٹے کلمات نکلے وہی اس کو ناپاک کر دیتے ہیں۔”

12 تب شاگرد یسوع کے قریب آکر اس سے کہنے لگے، “کیا تم جانتے ہو کہ تمہاری کہی ہو ئی بات کو فریسی نے سن کر کتنا برا ما نا ہے ؟”

13 یسوع نے جواب دیا، “آسمانوں میں رہنے والے میرے باپ نے جن پودوں کو نہیں لگا یا وہ سب جڑ سمیت اکھاڑ دیئے جائیں گے۔ 14 اور کہا کہ فریسی کو پریشان نہ کرو اسے اکیلا رہنے دو وہ خود اندھے ہیں اور دوسروں کو راستہ دکھا نا چاہتے ہیں۔ اسلئے کہ اگر اندھا اندھے کی رہنمائی کرے تب تو دونوں گڑھے میں گر جائیں گے۔”

15 تب پطرس نے کہا، “جو تو نے پہلے لوگوں سے کہا ہے اس بات کی ہم سے وضاحت کر۔

16 یسوع نے ان سے کہا، “کیا تمہیں اب بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ؟”۔ 17 ایک آدمی کے منھ سے غذا پیٹ میں داخل ہو تی ہے۔ اور جسم کی ایک نالی سے وہ باہر جاتی ہے۔ اور یہ بات تم سب کو معلوم ہے۔ 18 لیکن جو ایک آدمی کے منھ سے بری باتیں نکلتی ہیں وہی چیزیں ہیں جو آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔ 19 اور آدمی کے دل سے برے خیالات قتل زناکاری اور حرامکاری ،چوری ،جھوٹ اور گالیاں نکل آتی ہیں۔ 20 یہ تمام باتیں آدمی کو ناپاک بنا دیتی ہیں۔ اور کہا، “کھا نا کھا نے سے پہلے اگر ہاتھ نہ دھو یا جائے تو اس سے آدمی ناپاک نہیں ہوتا۔

متّی 15:1-20

یہودیوں کے استادوں کے اس آمنے سامنے میں حضرت عیسیٰ المسیح نے بیان کی ہم "انسانوں کی روایات” کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے زیادہ ترجی دیتے ہیں۔ آپ کے دور میں یہودی راہنما اپنے والدین کے فرائض کو نظرانداز کردیتے تھے اور کہتے تھے ہم آپ لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے کیونکہ ہم مذہبی فرائض ادا کرنے ہیں۔

آج ہم باطنی صافی کے بارے میں بھی اس ایک مسئلہ کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں سے پیدا ہونے والی ناپاکی/برائی سے بہت زیادہ پریشان ہے۔ یہ ناپاکی روزِ حشر والے دن ہماری بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر اس کو اپنے دلوں سے صاف نہ کیا گیا۔

 ظاہری خوبصورت لیکن باطن میں بدکار

25 “اے معلمین شریعت ،اے فریسیو! یہ تمہا رے لئے براہے۔تم ریا کا ر ہو۔ تم اپنے بر تن و کٹوروں کے با ہری حصے کو دھو کر صاف ستھرا تو کر تے ہو لیکن انکا اندرونی حصہ لا لچ سے اور تم کو مطمئن کر نے کی چیزوں سے بھرا ہے۔ 26 اے فریسیو تم اندھے ہو پہلے کٹو رے کے اندرونی حصہ کو اچھی طرح صاف کر لو۔ تب کہیں جا کر کٹو رے کے با ہری حصہ حقیقت میں صاف ستھرا ہوگا۔

27 “اے معلمین شریعت اے فریسیو!یہ تمہا رے لئے بہت برا ہے! تم ریا کا ر ہو۔تم سفیدی پھرائی ہو ئی قبروں کی ما نند ہو۔ ان قبروں کا بیرونی حصہ تو بڑا خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔لیکن اندرونی حصہ مردوں کی ہڈیوں اور ہر قسم کی غلاظتوں سے بھرا ہو تا ہے۔ 28 تم اسی قسم کے ہو۔ تم کو دیکھنے والے لوگ تمہیں اچھا اور نیک تصور کرتے ہیں۔ لیکن تمہارا باطن ریا کاری اور بد اعمالی سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔  متّی 23:25-28

اس گفتگو میں حضرت عیسیٰ المسیح سب کچھ بیان کردیتے ہیں۔ جس کو ہم نے خود دیکھا ہے۔ مندرجہ ذیل صافی کو ہم عام ایمانداروں میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت سے ایماندار آج بھی لالچ اور حوس سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں تک مذہبی اہم شخصیات کا یہ حال ہے۔ باطن کی پاکیزگی بہت زیادہ لازمی ہے۔ لیکن یہ بہت زیادہ مشکل کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے باطن کے بارے میں بڑی احتیاط کے ساتھ عدالت کرے گا۔ لہذا مسئلہ خود ہی کھڑا ہوجاتا ہے۔ ہم اپنے دلوں کو کیسے صاف/پاک کرسکتے ہیں تک ہم روز عدالت والے دن اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں داخل ہوسکیں؟ ہم انجیل شریف میں سے اس سوال کے جواب کو پانے کے لیے مطالعہ جاری رکھیں گے۔

اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں بہتوں کو مدعو کیا گیا لیکن ۔ ۔ ۔

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے الفاظ میں کیسی قدرت پائی جاتی تھی۔ کہ اُن کے حکم سے بیماری چلی جاتی اور یہاں تک کہ فطرت اُن کا حکم مانتی تھی۔ اُنہوں نے خدا کی بادشاہت کے بارے میں بھی تعلیم دی تھی۔ یاد رکھیں کہ زبور شریف کے بہت سے حصوں میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کی آمد کا ذکر ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اُن پیش گوئیوں کی طرف اشارہ کرکے تعلیم دی کہ وہ بادشاہی ‘نزدیک’ ہے۔

سب سے پہلے اُنہوں نے اپنے پہاڑی خطبہ میں یہ سیکھایا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی باردشاہی کے شہری کو دوسروں کے ساتھ کیسا رویہ اور سلوک رکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے ایک بہت ہی بنیادی اُصول سیکھایا کہ اپنے ‘دشمن’ سے محبت رکھو۔ ذرا اس بات کے بارے میں سوچیں کہ آج کے اس دور میں کتنی مصیبت، ناانصافی ، موت، اور خوف کا ہم کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (صرف یاد دلانے کے لیے خبرنامہ”نیوذ” ہی کافی ہے) اسکی خاص وجہ ہے کہ بہتوں نے آپ کی محبت کی تعلیم کو نہیں سُنا اور اُس پر عمل نہیں کرتے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ہماری زندگی یہاں کی زندگی سے مختلف ہے۔ تو ہمیں محبت سے ایک دوسرے کے ساتھ رویہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

عظیم ضیافت کی تمثیل

چونکہ حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم پر عمل کرنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ تو آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں بھی تھوڑے لوگ ہی مدعوں کئے گے ہونگے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ایک  ضیافت کی تمثیل دے کر سیکھایا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں دعوت کس قدر وسیع ہے۔ انجیل شریف میں اس طرح درج ہے۔

15 یسوع کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے ان تفصیلات کو سنکر کہا، “خدا کی بادشاہت میں کھانا کھانے والے ہی با فضل ہیں۔

16 تب یسوع نے اس سے کہا کہ کسی نے کھانے کی ایک بہت بڑی دعوت کی اس آدمی نے بے شمار لوگوں کو مدعو کیا۔ 17 جب کھانا کھانے کا وقت آیا تو اس نے اپنے خادم کو بھجواکر مہمانوں کو اطلاع دی اور کہا کہ کھانا تیّار ہے۔ 18 لیکن تمام مہمانوں نے کہا کہ وہ نہیں آسکتے ان میں سے ہر ایک نے نیا بہا نہ تلا شا۔ ان میں سے ایک نے کہا ، “میں نے ابھی ایک کھیت کو خرید لیا ہے۔ اسلئے مجھے جا کر دیکھنا ہے مجھے معاف کر دیں۔ 19 دوسرے نے کہا، “میں نے ابھی پانچ جوڑی بیل خریدا ہے اور مجھے جا کر انکو دیکھنا ہے۔ برائے کرم مجھے معاف کریں۔ 20 تیسرے نے کہا، “میں نے ابھی شادی کی ہے اس لئے میں نہیں آسکتا۔

21 تب وہ نو کر واپس ہوا اور اپنے مالک سے تمام چیزیں بیان کر نے لگا پھر اسکا مالک بہت غضب ناک ہوا اور نوکر سے کہا، “راستوں ، میں گلیوں اور کوچوں میں جا کر غریبوں کو اور معذوروں کو اندھوں کو لنگڑوں کو یہاں بلا کر لے آؤ۔

22 تب اس نو کر نے آکر کہا کہ اے میرے خداوند! میں نے وہی کیا جیسا کہ تم نے کہا تھا لیکن ابھی اور بھی لوگوں کی جگہ کی گنجائش ہے۔ 23 تب اس مالک نے اپنے نوکر سے کہا کہ شاہراہوں پر اور دیگر راستوں پر چلا جا اور وہاں کے رہنے والے تمام لوگوں کو بلا لا اور میری یہ آرزو ہے کہ میرا گھر لوگوں سے بھر جا ئے۔ 24 لیکن میں تجھ سے کہتا ہوں کہ میں نے پہلی مرتبہ جن لوگوں کو کھا نے پر مدعو کیا تھا ان میں سے کو ئی ایک بھی میری دعوت میں کھانا چکھ نے نہ پا ئے گا۔

(لوقا14:15-24)

اس تدریسی عمل میں ہماری عقل کئی بار دہنگ رہ گئی۔ پہلے آپ شاید یہ سوچتے ہونگے۔ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی ضیاف میں مدعو نہیں کرگا(جو کہ ایک گھر میں ضیافت تھی) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس قابل لوگوں کو نہیں پایا کہ وہ مدعو کئے جائیں۔ لیکن ایسا خیال غلط تھا۔ ضیافت میں شامل ہونے کی دعوت بہت سارے لوگوں کو دی گئی۔ ضیافت کا مالک (جو اللہ تعالیٰ اس مثال میں ہے) چاہتا تھا کہ اُسکی ضیافت لوگوں سے بھری ہونی چاہیے۔ جو کہ ایک حوصلہ افزائی کی بات تھی۔

لیکن ہم جلد ہی اس بات کو جانتے ہیں کہ ایک اور غیر متوقع موڑ آتا ہے۔ بہت تھوڑے مدعو کئے ہوئے لوگ اس ضیافت میں آنا چاہتے ہیں۔ اور زیادہ لوگوں نے کئی بہانے بنائے۔ کہ وہ کیوں نہیں آنا چاہتے۔آئیں ان ناقابلِ یقین عذر کو ملاخظہ فرمائیں۔ ایک نے کہا کون سا ایسا شخص ہے جو بیل خریدنے سے پہلے اُس کو آزمائے نہ؟ کون سا ایسا شخص ہے جو کیھت دیکھنے کے بغیر خریدے؟ نہیں، ان تمام بہانوں سے اُن تمام بلائے ہوئے مہمانوں کے دلوں کے حقیقی ارادے کو جانا جاسکتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں شامل ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ دنیاداری کے کاموں میں دلچسپی رکھتے تھے۔

جب ہم سوچتے ہیں کہ شاید مالک کسی کے آنے یا چند مہمانوں کی وجہ سے مایوس نہیں ہوتا۔ بلکہ ہم یہاں ایک اور موڑ کو دیکھتے ہیں۔ ۔ اب ایسے لوگوں کو ضیافت میں بلایا جاتا ہے۔ جن کو ہم اپنے ذہین میں بھی نہیں لاتے کہ وہ ضیافت میں آنے کے قابل ہونگے۔ وہ جو گلیوں کے موڑوں پربیٹھے، غریب، معذور، اندھے، اور لنگڑے۔ بلکل ایسے لوگ جن سے ہم اکثر دور ہی رکھنا پسند کرتے ہیں۔ اُن سب کو اس ضیافت میں آںے کی دعوت دی گئی۔ اس ضیافت کا دعوت نامہ اس قدر وسیع تھا کہ اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ ضیافت کے مالک کی یہ چاہت تھی کہ لوگ اس کی ضیافت میں آئیں۔ مالک نے ایسے لوگوں کو بلانے سے نہ ڈرا جن کو ہم اپنے گھروں میں دعوت دینے سے ڈرتے ہیں۔

اور یہ بلائے ہوئے لوگ آتے ہیں۔ ان کی دوسرے لوگوں کی طرح کسی اورچیز میں دلچسپی نہیں تھی۔ جیسے دوسرے لوگوں کی دلچسپی کھیتوں یا بیلوں میں تھی۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت بھرگئی اور مالک کی مرضی پوری ہوئی گئی۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا اس مثال کو دینے کا مقصد یہ تھا۔ کہ وہ ہم سے سوال پوچھ سکیں۔ "اگر مجھے اللہ تعالیٰ کی بارشاہت کی دعوت دی گئی تو اُس کو کیا میں قبول کرونگا؟” یا پھر آپ اس دعوت کو اپنی کسی اور دلچسپی کی وجہ سے رد کردیں گے؟

حقیقت تو یہ ہے۔ کہ آپ اس ضیافت میں شامل ہونے کے لیے بلائے گے ہیں، لیکن سادہ سی حقیقت یہ ہے۔ کہ ہم اپنی دلچسپیوں اور بہانوں کی وجہ سے اس دعوت کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ ہم کبھی بھی براہ راست "نہیں/نہ” نہیں کریں گے۔ لیکن ہمارے بہانوں میں ہماری ‘نہ’ چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ اس مثال میں دعوت کو در کرنے کی وجہ دوسری چیزوں میں زیادہ دلچسپی تھی۔ وہ لوگ جو پہلے بلائے گے تھے۔ اُن کی دلچسپی اس دنیا کی چیزوں میں تھی۔ (جن کو کیھتوں اور بیل سے تشبی دی گئی ہے) اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں دلچسپی ہوتی۔

ایک مذہبی اُستاد کی مثال

ہم میں سے کئی ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی بجائے اس دنیا کی چیزوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لیے دعوت کو مسترد کردیتے ہیں۔ اس طرح کئی ایسے ہیں جو اپنی راستبازی پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اسی بات کو ایک اور تمثیل دے کر سیکھایا۔

وہاں پر چند لوگ اپنے آپ کو شریف سمجھتے تھے۔اور یہ لو گ د وسروں کے مقابلے میں اپنے آپ اچھے ہو نے کا ثبوت دینے کی کوشش کر رہے تھے۔یسوع اس کہا نی کے ذریعے انکو تعلیم دینے لگے:10 “ایک مرتبہ دو آدمی جن میں ایک فریسی اور ایک محصول وصول کر نے والا تھا اور دعا کر نے کے لئے ہیکل کو گئے۔ 11 فریسی محصول وصول کر نے والے کو دیکھ کر دور کھڑا ہو گیااور اس طرح فریسی دعا کر نے لگا۔اے میرے خدا میں شکر ادا کرتا ہوں کہ میں دوسروں کی طرح لا لچی نہیں ، بے ایمان نہیں اور نہ ہی محصول وصول کر نے والے کی طرح ہوں۔ 12 میں ہفتہ میں دو مرتبہ روزہ بھی رکھتا ہوں اور کہا کہ جو میں کما تا ہوں اور اس میں سے دسواں حصہ دیتا ہوں،

13 محصول وصول کر نے والا وہاں پر تنہا ہی کھڑا ہوا تھا۔اس نے آسمان کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا بلکہ خدا کے سامنے بہت ہی عاجز ی وانکساری کے ساتھ دعا کر نے لگا اے میرے خدا میرے حال پر رحم فرما ا س لئے کہ میں گنہگار ہوں۔ 14 میں تم سے کہتا ہوں کہ بحیثیت راستباز کے اپنے گھر کو لوٹا۔لیکن وہ فریسی راستباز نہ کہلا سکا ہر ایک جو اپنے آپ کو بڑا اور اونچا تصور کرتا ہے وہ گرا دیا جاتاہے اور جو اپنے آپ کو حقیر و کمتر جانتاہے وہ اونچا اور باعزت کر دیا جا ئے گا۔”

(لوقا18: 9-14)

یہاں ہم ایک فریسی سے ملاقات کرتے ہیں ( فریسی ایک امام کی طرح ایک مذہبی استاد ہوتا ہے) جو اپنی مذہبی معاملات میں کامل نظرآتا ہے۔ وہ روزے اور زکوۃ فرض کئے ہوئے سے زیادہ ادا کرتا تھا۔ لیکن وہ اپنی راستبازی پر بھروسہ رکھتا تھا۔ حضرت ابراہیم نے ایسی کوئی مثال اپنی زندگی میں سے کر کے نہیں دیکھائی تھی۔ کہ اللہ تعالیٰ اُن کو اُن کے کاموں کی وجہ سے راستباز ٹھہراتا۔ بلکہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو راستباز ٹھہرایا تو اُنہوں نے سادہ سے طریقے سے اللہ کے وعدہ پرایمان لایا تھا۔ یہ اُن کے لیے راستبازی گنا گیا۔ دراصل موصول لینے والے نے (موصول لینا اُس وقت ایک غیر اخلاقی پیشہ سمجھا جاتا تھا) بڑی عاجزی سے رحم کے لیے دعا کی۔ اور وہ اس بات پر ایمان لایا کہ اُس کو وہ رحم جس کی اُس نے دعا کی ہے مل گیا ہے۔ اور وہ اپنے گھر اللہ سے "راستباز” ٹھہرکر چلا گیا۔ جبکہ فریسی جو بظاہر راستباز نظر آتا ہے۔ اُس کی دعا کرنے کا رویہ اُس کے لیے گناہ شمار کیا گیا۔

لہذا حضرت عیسیٰ المسیح پھر اخیتار سے آپ سے اور مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔ کیا ہم واقعی اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کو چاہتے ہیں۔ یا پھر ہماری دوسری اور بہت سی چیزوں میں دلچسپی ہے؟ آپ ہم سے پوچھتے ہیں۔ کہ ہم کس چیز پر بھروسہ رکھتے ہیں اپنی راستبازی کے کاموں پر یا اللہ تعالیٰ کی رحمت پر۔

اس لیے ہمیں بڑی ایمانداری سے اپنے آپ کو یہ سوالات پوچھنے ہیں۔ کیونکہ دوسری صورت میں ہم اُس کی تعلیم کو جان نہیں سکیں گے۔ جس کو ہم اگلے اسباق میں سیکھنے جارہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے باطن کی صفائی کی ضرورت ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا فطرت پر اختیار

ہم نے پچھلے دو مضامین میں دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح اختیار سے تعلیم اور شفاء دیتے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا کہ وہ فطرت پر بھی اقتدار رکھتے تھے. انجیل مقدس میں درج ہے۔ کہ کس طرح اُنہوں نے اپنے حواریوں کے ساتھ جھیل کو پار کیا اور اس دوران حواری "تعجب اور خوف” سے بھر گے۔ یہ واقع اس طرح لکھا ہے۔

22 ایک دن یسوع اور انکے شاگرد کشتی پر سوار ہوئے یسوع نے کہا ، “آؤ جھیل کے اس پار چلیں” اس طرح وہ اس پار کے لئے نکلے۔ 23 جب وہ جھیل میں کشتی پر جا رہے تھے تو یسوع کو نیند آ نے لگی اس طرف جھیل میں تیز ہوا کا جھونکا چلنے لگا اور کشتی میں پانی بھر نے لگا اور تمام کشتی سواروں کو خطرہ کا سامنا ہوا۔ 24 تب شاگرد یسوع کے پاس گئے انکو جگا کر کہا، “صاحب صاحب!ہم سب ڈوب رہے ہیں”

فوراً یسوع اٹھ بیٹھے اور انہوں نے ہوا کی لہروں کو حکم دیا تب آندھی رک گئی اور جھیل میں سکوت چھا گئی۔ 25 یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا، “تمہارا ایمان کہاں گیا؟”

شاگرد خوف زدہ ہو تے ہوئے حیرانی سے ایک دوسرے سے کہنے لگے” یہ کون ہو سکتا ہے؟ یہ ہوا کو اور پانی کو حکم دیتا ہے اور وہ اسکی اطاعت کر تے ہیں

(Luke8:22-25)

حضرت عیسیٰ المسیح نے طوفان اور موجوں کو حکم دیا۔ اس بات کا کوئی تعجب نہیں کہ حواری اس واقعہ کو دیکھ کرحیران رہ گے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کا طوفان اور تباہ کردینے والی موجوں پر اس قدر اختیار۔ وہ آپس میں سوال کرنے لگے کہ آپ کون ہیں۔ ایک بار حضرت عیسیٰ المسیح اور اُن کے حواری ہزاروں لوگوں کے ساتھ تھے۔ آپ کے اختیار کو دیکھ کر لوگ آپس میں یہ کہنے لگے۔ آپ کون ہیں۔ اس وقت آپ نے طوفان اور موجوں کو حکم نہیں دیا تھا۔ بلکہ اُن لوگوں کو کھانا کھلایا تھا۔ یہاں پر وہ واقعہ درج ہے۔

سکے بعد یسوع گلیل کی جھیل کے اس پار پہونچے۔ کئی لوگ یسوع کے ساتھ ہو لئے اور انہوں نے یسوع کے معجزوں کو دیکھا اور بیماروں کو شفاء بخشتے دیکھا۔ یسوع اوپر پہاڑی پر گئے وہ وہاں اپنے شاگردوں کے ساتھ بیٹھ گئے۔ یہودیوں کی فسح کی تقریب کا دن قریب تھا۔

یسوع نے دیکھا کہ کئی لوگ ان کی جانب آ رہے ہیں۔ یسوع نے فلپ سے کہا، “ہم اتنے لوگوں کے لئے کہاں سے روٹی خرید سکتے ہیں تا کہ سب کھا سکیں؟” یسوع نے فلپ سے یہ بات اسکو آزمانے کے لئے کہی یسوع کو پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ کیا ترکیب سوچ رکھے ہیں۔

فلپ نے جواب دیا ، “ہم سب کو ایک مہینہ تک کچھ کام کرنا چاہئے تا کہ ہر ایک کو کھا نے کے لئے روٹی حاصل ہو سکے اور انہیں کم سے کم کچھ غذا میسّر ہو۔”

دوسرا ساتھی اندر یاس تھا جو شمعون پطرس کا بھا ئی تھا اندریاس نے کہا۔ ، “یہاں ایک لڑکا ہے جس کے پاس بارلی کی روٹی کے پانچ ٹکڑے اور دو مچھلیاں ہیں لیکن یہ ا ن سب کے لئے کا فی نہیں ہوگا۔”

10 یسوع نے کہا ، “لوگوں سے کہو کہ بیٹھ جائیں۔” وہاں اس مقام پر کافی گھاس تھی وہاں ۵۰۰۰ آدمی تھے اور وہ سب بیٹھ گئے۔ 11 تب یسوع نے روٹی کے ٹکڑے لئے اور خدا کا شکر ادا کیا اور جو لوگ بیٹھے ہو ئے تھے ان کو دیا اسی طرح مچھلی بھی دی اس نے انکو جتنا چاہئے تھا اتنا دیا۔

12 سب لوگ سیر ہو کر کھا چکے جب وہ لوگ کھا چکے تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ، “بچے ہو ئے ٹکڑوں کو جمع کرو اور کچھ بھی ضائع نہ کرو۔” 13 اسطرح شاگردوں نے تمام ٹکڑوں کو جمع کیا اور ان لوگوں نے بارلی کی روٹی کے پانچ ٹکڑوں سے ہی کھانا شروع کیا اور انکے ساتھیوں نے تقریباً بارہ ٹوکریوں میں ٹکڑے جمع کئے۔

14 لوگوں نے یہ معجزہ دیکھا جو یسوع نے انہیں بتا یا لوگوں نے کہا ، “یہی نبی ہے جو عنقریب دنیا میں آنے والے ہیں۔”

15 پس یسوع یہ بات معلوم کرکے کہ لوگ اسے آکر بادشاہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے وہ دوبارہ تنہا پہاڑی کی طرف چلے گئے۔

(یوحنا 6:1-15)

جب لوگوں نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں سے پانچ ہزار لوگوں کو کھانا کھلاسکتے ہیں اور پھر اُس کھانے سے بچ بھی جاتا ہے۔ تو اُنہوں نے جان لیا کہ آپ لاثانی پیغمبر ہیں۔ تو لوگ سوچنا شروع ہوگے کہ کہ آپ وہ نبی ہیں۔ جس کے بارے میں حضرت موسیٰ ؑ نے تورات شریف میں کی تھی۔ حقیقت میں حضرت عیسیٰ المسیح ہی وہی نبی تھے۔ جس کے بارے میں تورات شریف نے بتایا تھا۔

18 میں تمہا ری طرح ایک نبی اُن کے لئے بھیج دوں گا وہ نبی انہی لوگوں میں سے کو ئی ایک ہو گا۔ میں اسے وہ سب بتا ؤں گا جو اسے کہنا ہو گا اور وہ لوگوں سے وہی کہے گا جو میرا حکم ہو گا۔ 19 یہ نبی میرے نام پر بولے گا اور جب وہ کچھ کہے گا تب اگر کو ئی شخص میرے احکام کو سننے سے انکار کرے گا تو میں اس شخص کو سزا دو ں گا۔‘

(استثناء18:18-19)

 اس نبی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ نشان بخشا کہ وہ اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالے گا۔ کیا چیز انسان کو اللہ تعالیٰ کے کلام سے جدا کرتی ہے۔ اس کی بہترین وضاحت ہمیں سورۃ یس میں ملتی ہے۔

وه جب کبھی کسی چیز کا اراده کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتی ہے

(Ya-sin36:82)

ہم نے پچھلے مضمون میں پڑھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح بیماروں کو شفاء اور بدروح گرفتا لوگوں کو "کلام” کرنے سے رہائی فرما دیتے تھے۔ یہاں ہم نے دیکھا کہ آپ نے صرف بولا اور طوفان اور موجوں نے آپ کا حکم مانا۔ اس کے بعد آپ نے بولا اورتو پانچ ہزار لوگوں کے لیے کھانا مہیا ہوگیا۔ یہ تمام نشانات جو تورات شریف میں آنے والے نبی کے بارے میں دیئے گے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام اُس کے منہ میں رکھے گا۔ یہ سب حضرت عیسیٰ المسیح میں پوری ہوئیں۔ کیونکہ جب حضرت عیسیٰ المسیح بولتے تھے۔ تو چیزیں وجود میں آتی تھی!

لیکن یہ دلچسپی کی بار تھی۔ کہ آپ کے حواریوں کے لیے بھی یہ سب سمجھنا مشکل تھا۔ وہ روٹیوں کے معجزہ کو سمجھ نہ پائے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں انجیل مقدس میں 5000 ہزار لوگوں کو کھانا کھلانے کے واقع کے فوراً بعد اس طرح درج ہے۔

45 تب یسوع نے اپنے شاگر دوں کو کشتی میں سوار ہو نے کے لئے کہا۔ یسوع نے ہدا یت کی کہ وہ جھیل کے اس پار بیت صیدا جائیں اور کہا کہ تھوڑی دیر بعد وہ آئیگا۔ یسوع وہاں رک گئے تا کہ لو گوں کو گھر جا نے کے لئے سمجھایا جائے۔ 46 یسوع لو گوں کو رخصت کر نے کے بعد پہاڑ پر گئے تا کہ عبادت کی جا ئے۔

47 اس رات کشتی جھیل کے بیچ میں تھی یسوع اکیلے ہی زمین پر تھے۔ 48 یسوع نے کشتی کو دیکھا جو جھیل میں بہت دور تھی اور وہ شاگرد ان کو کنا رے پر پہونچا نے کے لئے سخت جد و جہد کر رہے تھے۔ ہوا انکے مخا لف سمت میں چل رہی تھی صبح کے تین سے چھ بجے کے درمیا ن یسوع نے پا نی پر چلتے ہوئے کشتی کے قریب آکر ان سے آگے نکل جا نا چا ہا۔ 49 لیکن پا نی پر چلتے ہوئے جب ان کے شا گر دوں نے اسے دیکھا تو اسے بھوت سمجھا اورخوف کے مارے چلّا نے لگے۔ 50 تمام شاگردوں نے جب یسوع کو دیکھا تو بہت گھبرائے۔ لیکن یسوع نے ان سے باتیں کیں اور کہا ، “فکر مت کرو! یہ میں ہی ہوں! گھبراؤ مت۔” 51 پھر یسوع اس کشتی میں ان کے ساتھ سوار ہوئے تب ہوا رک گئی شاگر دوں کو حیرت ہوئی۔ 52 پانچ روٹیوں سے پانچ ہزار لوگوں کے کھا نے کا واقعہ کو دیکھ چکے تھے لیکن اب تک اس کے معنی سمجھ نہ سکے۔ ان کے ذہن بند ہو گئے تھے۔

یسوع کا کئی لوگوں کو شفا ء بخشنا

53 یسوع کے شاگر د جھیل پار کر کے گنیّسرت گاؤں کو آئے اور کشتی جھیل کے کنا رے باندھ دی۔ 54 وہ جب کشتی سے باہر آئے تو لوگوں نے یسوع کو پہچان لیا۔ 55 یسوع کی آمد کی اطلاع دی۔ اس علاقے میں رہنے والے سبھی لوگ دوڑنے لگے جہاں بھی لوگوں نے سنا کہ یسوع آئے تو لوگ بیماروں کو بستروں سمیت لا رہے تھے۔ 56 یسوع اس علا قے کے شہر وں گاؤں اور باغات کو گئے وہ جس طرف جا تے تھے لوگ بازاروں میں بیماروں کو بلا لا تے تھے اور وہ یسوع سے گزارش کرتے تھے کہ ان کو اپنے چغہ کے دا من کو چھو نے کا موقع دے۔ وہ تمام لوگ جنہوں نے اس کے چغے کو چھوا تھا وہ تندرست ہو گئے۔

(مرقس6:45-56)

 دوبارہ حضرت عیسیٰ المسیح نے کہا ہو جا اور جو کہا وہ ہو گیا ۔ لیکن حواری اس بات کو سمجھ نہ پائے۔ وجہ یہ نہیں کہ وہ ذہین/سمجھدار نہیں تھے۔ یہ نہیں کہ وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ نہ وجہ یہ کہ وہ بُرے شاگرد تھے۔ نہ ہی یہ کہ وہ غیر ایماندار تھے۔ بلکہ یہ لکھا ہے۔ کہ اُن کے”دل سخت” ہوچکے تھے۔ یاد رکھیں! حضرت یرمیاہ نبی نے کیا پیش گوئی کی تھی۔ کہ ایک نیا عہد آنے والا ہے۔ جو ہمارے دلوں پر لکھا جائے گا۔ جب تک وہ شخص تبدیل نہیں ہوگا۔ اُس کا دل سخت ہی رہے گا۔ یہ دل آپ کے قریبی پیروکاروں بھی تھے! اور ہمارے سخت دلی ہمیں انبیاء اکرام کے پیغمات کو جو اُن پر نازل ہوا تھا۔ سمجھنے سے روکتا ہے۔

اس لیے حضرت یحییٰ کا تیاری کا کام نہایت ہی اہم ہے۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت یحییٰ نےگناہوں نے توبہ کی منادی کی تاکہ وہ اپنے گناہوں کو نہ چھپائیں۔ اگر حضرت عیسیٰ المسیح کے حواریوں کے دل سخت تھے۔ تو اُن کو بھی گناہوں سے توبہ کی ضرورت تھی۔ آپ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں۔ کہ ہم کو اس کی کس قدر ضرورت ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ہم خاموشی کے ساتھ میرے ساتھ اس دعا میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ( وہ ہمارے سادہ سے خیالات کو جانتا ہے۔ تو ہم سادہ سے دعا اپنی سوچوں میں ہی کریں گے) جس طرح حضرت داود ؑ نے اپنے اقرار کیا تھا۔

ے خدا! اپنی شفقت کے مطا بق مجھ پر رحم کر۔
    اپنی عظیم رحمدلی کی وجہ سے، میرے تما م گنا ہوں کو مٹا دے۔
اے میرے خدا ! میرے گناہوں کو صاف کر۔
    میرے گناہ دھو ڈال ، اور پھر سے تو مجھ کوپاک بنا دے۔
میں جانتا ہوں، جو خطا میں نے کی ہے۔
    میں اپنے گنا ہوں کو ہمیشہ اپنے سامنے دیکھتا ہوں۔
اے خدا! میں نے تیرے خلاف گنا ہ کیا، صرف تیرے خلاف!
    تو نے جن چیزو ں کوغلط کہا وہ میں نے کیا۔
میں اعتراف کر تا ہوں اِن باتوں کا تا کہ لوگ جان جا ئیں کہ

میں غلطی پر تھا اورتُو حق پر ہے اور تیری عدا لت راست ہے۔

اور تیرے فیصلے مکمل ہو تے ہیں۔

10 اے خدا ! میرے اندر ایک پاک قلب پیدا کر!۔
    دو با رہ میری رُوح کوطا قتور بنا۔
11 اپنی مقدّس رُوح کو مجھ سے نکال۔
    مجھے اپنی بارگاہ سے خا رج نہ کر۔
12 اپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر ،
    تیری خدمت کے لئے مجھے خواہشمند رُوح دے۔

(زبُور51:1-4,10-12)

 یہ دعا میں کی ہے۔ اور میں کی حوصلہ افزائی کروں گا۔ کہ آپ بھی دعا کریں۔ تاکہ ہم انبیاء اکرام کے پیغامات کو نرم اور پاک دلوں سے سمجھ سکیں۔ جس طرح ہم انجیل شریف کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح اپنے کلام کے اختیار سے شفاء دیتے ہیں

ہم نے اپنے پچھلے مضمون میں دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح اختیار کے ساتھ تعلیم دیتے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المیسح ہی اس کا ٹھیک استعمال کرسکتے تھے۔ ان کے پہاڑی خطبے کے فوراً بعد انجیل شریف میں اس طرح درج ہے۔

 یسوع پہاڑ سے اُتر کر نیچے آگئے لوگ جوق درجوق اس کے پیچھے ہو لئے۔ تب ایک کوڑھی شخص یسوع کے پاس آیا۔اور یسوع کے سامنے جھک گیا اور کہا ، “اے خدا وند اگر تو چاہے تو مجھے صحت دے سکتا ہے۔”

یسوع نے اسے چھو کر کہا، “میں تیری شفا کی خواہش کرتا ہوں ٹھیک ہو جا” اس کو اسی لمحہ کو ڑھ کی بیماری سے شفا ملی۔ یسوع نے اس سے کہا ، “یہ کس طرح ہوا تو کسی سے نہ کہنا۔تُو اب جا اور اپنے آپ کو کا ہن کو دکھا، اور موسیٰ کی شریعت کے حکم کے مطا بق مقّررہ نذرانہ پیش کر۔اور تیری صحت یا بی لوگوں کے لئےگواہی ہوگی۔

(متّی8:1-4)

لہذا ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے اختیار کے ساتھ دو کوڑھیوں کو شفاء بخشی۔ آپ نے صرف کہا کہ”شفاء پاو” اور اُسی دم وہ دونوں شفاء پاگے۔ اُن کے الفاظ میں سیکھانے اور شفاء دینے کا اختیار تھا۔

لیکن اس کے فوراً بعد یہ درج ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح کا ایک ‘دشمن’ کے ساتھ آمناسامنا ہوتا ہے۔ رومیوں نے اُس وقت یہودیوں کے ملک پر قبضہ کررکھا تھا۔ اور یہودی رومیوں سے سخت نفرت رکھتے تھے۔ اگر آپ اس نفرت کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں۔ تو آج کسی فلسطینی سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ اسرائیلیوں سے کس قدر نفرت رکھتے ہیں۔ اُس وقت یہودیوں پر رومی فوج ظلم کرتی تھی، جنہوں نے اپنی طاقت کی وجہ سے یہودیوں کی زندگی کو برباد کر کے رکھا تھا۔ ان سب فوجیوں کو اُن کے افسران حکم دیتے اور اپنے اختیار میں اُن فوجیوں کو رکھتے۔ اب حضرت عیسیٰ المسیح اُسی افسران میں سے ایک افسر سے ملاقات ہوتی ہے۔ جو کہ "نفرتی” شخص تھا۔  یہاں پر وہ واقع درج ہے۔ جب وہ اُس سے ملے۔

حضرت عیسیٰ المسیح اور ایک رومی افسر

یسوع کفر نحوم شہر کو چلے گئے۔جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو فوج کا ایک سردار اس کے پاس آیا۔اور منّت کرتے ہوئے مدد کے لئے کہا ، “اے میرے خداوند میرا خادم بیمار ہے اور وہ بستر پر پڑا ہے اور وہ شدیدتکلیف میں مبتلا ہے۔”

یسوع نے اس عہدیدار سے کہا، “میں آکر اس کو شفا دونگا۔”

اس بات پر اس عہدیدار نے کہا ،“اے میرے خدا وند میں اس لائق نہیں ہوں کہ آپ میرے گھر آئیں۔آپکا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ وہ صحت پا جائے تو یقینا میرا خادم صحت پائے گا۔

(متّی8:5-13)

حضرت عیسیٰ المسیح کے الفاظ میں انتہائی زیادہ اختیار پایا جاتا تھا۔ اُنہوں نے صرف حکم ہی (دورہی سے ) دیا اور وہ بات واقع ہوگئی۔ جیسا آپ نے حکم دیا تھا۔ لیکن جو بات حیران کردینے والی تھی۔  کہ اُس ‘دشمن’ کا تعلق بت پرست مذہب سے تھا۔اوروہ اس بات پر ایمان رکھتا تھا آپ کے الفاظ میں قدرت پائی جاتی ہے۔ اس لیے جو عیسیٰ المسیح نے فرمایا وہی ہوگیا۔ اس آدمی کے بارے میں ہم خیال کرتے ہیں کہ وہ ایمان نہیں رکھتا ہوگا۔ (کیونکہ وہ غیر مذہب اور "بُرے”لوگوں میں سےتھا) لیکن عیسیٰ المسیح نے فرمایا کہ وہ جو اُس کی تعلیم پر ایمان لاتا ہے۔ چاہئے وہ کوئی بھی کیوں نہ ہو وہ ایک دن جنت میں حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ ہوگا۔ اس طرح چاہیے کوئی "ٹھیک مذہب” سے ہے لیکن وہ آپ پر ایمان نہیں لاتا ہو تو وہ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ جنت میں نہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ المسیح ہمیں اس بات کی  انتباہ کرواتے ہیں۔ کہ آپ کو مذہب یا کوئی میراث جنت میں نہیں لے کر جائےگی۔

حضرت عیسیٰ المیسح نے یہودی مذہبی راہنما کی مری ہوئی بیٹی کو زندہ کیا

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے یہودی راہنماوں کو شفاء نہیں دی۔ اصل میں آپ کا سب سے زیادہ قدرت والا مجعزہ وہ تھا جب آپ نے ایک یہودی راہنما کی مری ہوئی بیٹی کو زندہ کیا۔ انجیل مقدس میں یہ واقع اس طرح درج ہے۔

40 جب یسوع گلیل کو واپس لوٹے تو لوگوں نے انکا استقبال کیا ہر ایک انکا انتظار کر رہے تھے۔ 41 یائیر نام کا ایک شخص یسوع کے پاس آیا وہ یہودی عبادت گاہ کا قائد تھا وہ یسوع کے قدموں پر جھک کر اپنے گھر آنے کی گزارش کر نے لگا۔ 42 اس کی اکلوتی بیٹی تھی وہ بارہ سال کی تھی اور بستر مرگ پر تھی۔ جب یسوع یائیر کے گھر جا رہے تھے تو لوگ انکو ہرطرف سے گھیرے ہوئے آئے۔ 43 ایک ایسی عورت وہاں تھی جس کو بارہ برس سے خون جاری تھا۔ وہ اپنی ساری رقم طبیبوں پر خرچ کر چکی تھی لیکن کوئی بھی طبیب اس کو شفاء نہ دے سکا۔ 44 وہ عورت یسوع کے پیچھے آئی اور اسکے چوغے کے نچلے دامن کو چھوا فوراً اسکا خون بہنا رک گیا۔ 45 تب یسوع نے “پوچھا مجھے کس نے چھوا ہے؟”

جب سب انکار کرنے لگے تو پطرس نے کہا، “اے خدا وند کئی لوگ آپکے اطراف ہیں اور تجھے دھکیل رہے ہیں۔” 46 اس پر یسوع نے کہا، “کسی نے مجھے چھوا ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ جسم سے قوت نکل رہی ہے۔” 47 اس عورت نے یہ سمجھا کہ اب اس کے لئے کہیں چھپے بیٹھے رہنا ممکن نہیں تو وہ کانپتے ہوئے اس کے سامنے آئی اور جھک گئی پھر اس عورت نے یسوع کو چھو نے کی وجہ بیان کی اور کہا کہ اسکو چھو نے کے فوراً بعد ہی وہ تندرست ہو گئی۔ 48 یسوع نے اس سے کہا، “بیٹی تیرے ایمان کی وجہ سے تجھے صحت ملی ہے سلامتی سے چلی جا۔”

49 یسوع باتیں کر ہی رہے تھے ایک یہودی عبادت گاہ کے قائد کے گھر سے ایک شخص آیا اور کہا، “کہ تیری بیٹی تو مر گئی ہے اب تعلیم دینے والے کو کسی قسم کی تکلیف نہ دے۔”

50 یسوع نے یہ سنکر یائیر سے کہا، “ڈرو مت ایمان کے ساتھ رہو تیری بیٹی اچھی ہو گی۔”

51 یسوع یائیر کے گھر گئے وہ صرف پطرس یوحنا یعقوب اور لڑکی کے باپ اور ماں کو اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دی یسوع نے کہا دوسرے کوئی بھی اندر نہ آئے۔ 52 بچی کی موت پر سب لوگ رو رہے تھے اور غم میں مبتلاء تھے لیکن یسوع نے ان سے کہا، “مت رو نا وہ مری نہیں ہے بلکہ وہ سو رہی ہے؟”

53 تب لوگ یسوع پر ہنسنے لگے اس لئے کہ ان لوگوں کو یقین تھا کہ لڑکی مرگئی ہے۔ 54 لیکن یسوع نے اس لڑ کی کا ہاتھ پکڑ کر کہا ، “ننھی لڑکی اٹھ جا!” 55 اسی لمحہ لڑکی میں روح واپس آئی وہ اٹھ کھڑی ہوئی یسوع نے ان سے کہا، “اس کو کھانے کے لئے کچھ دو۔” 56 لڑکی کے والدین تعجب میں پڑ گئے یسوع نے انکو حکم دیا کہ وہ اس واقعہ کو کسی سے نہ کہیں۔

(لوقا8:40-56)

ایک بار پھر، صرف سادہ سے حکم کے ساتھ۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ایک مری ہوئی نوجوان لڑکی کو زندہ کیا۔ حضرت عیسیٰ المسیح کو مجعزات کرنے سے کوئی بات نہ روک سکی۔ کہ کوئی مذہبی یا نہیں ہے۔ آپ کو جہاں کہیں بھی لوگوں میں شفاء پانے کا ایمان نظرآیا۔ چاہیے وہ کوئی جنس، نسل، یا مذہب کا کیوں نہ ہوتا۔ آپ نے اُس کو اپنے اختیار سے شفاء بخشی۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے بہتوں کو شفابخشی بشمول اپنے حواریوں کو بھی۔

انجیل شریف میں درج ہے۔ کہ آپ حضرت پطرس ؑ کے گھر گئے۔ جو بعد میں 12 حواریوں میں سے اعلیٰ خطبہ دینے والا بن گیا۔ اور جب آپ وہاں پہنچے تو آپ نے وہاں ایک ضرورت کو دیکھا اور خدمت کی۔ یہاں پر اس طرح لکھا ہے۔

14 یسوع پطرس کے گھر کو گئے۔اور وہاں دیکھا کہ پطرس کی ساس بُخار کی شدّت سے بستر پر پڑی ہے۔15 جب یسوع نے اسکا ہاتھ چھوا تو وہ بخار سے نجات پائی۔تب وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور ان کی خدمت کی۔

16 اُس دن ایسا ہوا کہ شام کے وقت لوگ بد رُوحوں سے متاثر کئی افراد کو یسوع کے پاس لا نے لگے۔یسوع نے اپنے کلام سے بد رُوحوں کو اُن افراد سے بھگا دیا۔اور اُن تمام بیماروں کو صحت بخشا۔ 17 یسعیاہ نبی کی کہی ہوئی بات اس طریقہ سے پُوری ہوئی کہ

“وہ ہم سے ہمارے دکھ درد کو لے لیا اور ہماری بیماریوں کو اٹھا لیا۔” 

(متّی8:14-17)

حضرت عیسیٰ المسیح تمام برُی روحوں پر اختیار رکھتے تھے۔ اور صرف اختیار سے کہہ دیتے تو وہ لوگوں میں سے نکل جاتیں۔ انجیل شریف ہمیں اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ کہ زبور شریف میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی۔ کہ "مسیح” کی آمد پر وہ بہتوں کو شفاء بخشے گا۔ اصل میں حضرت یسعیاہ نے بھی ایک اور جگہ پر "مسیح” کے بارے میں پیش گوئی کی تھی کہ:

“خداوند میرے آقا کی روح مجھ پر ہے۔کیوں کہ اسنے مجھے مسح کیا تا کہ میں حلیموں کو خوشخبری سنا سکوں۔اس نے مجھے شکستہ دلوں کو تسلی دینے کے لئے بھیجا ہے۔ اس نے مجھے قیدیوں کی رہا ئی اور اسیروں کے لئے آزادی کا اعلان کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ اس نے مجھے یہ اعلان کر نے کے لئے بھیجا ہے جو کہ وہ وقت آچکا ہے جب خداوند اپنا رحم و کرم ظاہر کرے گا ،بدکاروں کو سزادے گا۔اس نے مجھے ان تمام کوتسلی دینے کیلئے بھیجا ہے جو ماتم کر رہے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ میں صیون کے ان لوگوں کی مدد کروں جو دکھی ہیں۔میں ان لوگوں کو ان کے سرو ں سے راکھ کو ہٹانے کیلئے تاج دوں گا۔میں ان لوگوں کے لئے غموں کو ہٹانے کیلئے خوشی کا تیل دوں گا اور ان کے غمزدہ روح کو ہٹانے کیلئے جشن کا لباس دو ں گا۔ وہ لوگ خداوند کا جلال ظاہر کرنے کیلئے خداوند کا لگا یا ہوا نجات کا درخت کہلا ئے گا۔

(یسعیاہ61:1-3)

 حضرت یسعیاہ نے (750 ق م) میں یہ پیش گوئی کردی تھی۔ کہ مسیح غریبوں کوخوشخبری (انجیل) اور اطمینان اور قیدیوں کو رہائی اور تعلیم اور بیماروں کو شفا اور مردہ زندہ کرے گا۔ اور اس طرح حضرت عیسیٰ المسیح نے اس پیش گوئی کو پورا کردیا ۔ آپ نے یہ سب بڑے سادہ انداز اور اختیار سے لوگوں کو شفا بخشی اور بدروحوں کو حکم دیا اور لوگوں کو رہائی بجشی اور مردوں کو زندہ کیا۔ اس طرح قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے میں لکھا ہے۔

جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذیعزت ہے اور وه میرے مقربین میں سے ہے

Surat3:45(Al-Imran)

 اور انجیل شریف میں بھی اس طرح لکھا ہے۔کہ

۔ ۔ ۔ اور اُس کا نام کلامِ خدا (کلمۃ اللہ) کہلاتا ہے۔    مکاشفہ 19: 13

حضرت عیسیٰ بطور المسیح کے پاس حکم دینے کا اختیار تھا۔ اس لیے وہ "اللہ کی طرف سے کلمہ” اور "کلمۃاللہ” ہیں۔ اس طرح جب آپ کے بارے میں مقدس کتابوں میں درج ہے۔ تو ہمیں چاہیے کہ ہم آپ کی تعلیم پر ایمان لائیں اور آپ کے اختیار کو قبول کریں۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیمی اختیار کا اظہار

حضرت عیسیٰ امسیح شیطان سے آزمائیں جانیں کے بعد ایک پیغمبر کے طور پر اپنی تعلیمی خدمت کا آغاز کرتے ہیں۔ اُن کا سب سے لمبا تعلیمی سیشن "پہاڑی وعظ/ خطبہ ” کہلاتا ہے۔ آپ اُن کا پہاڑی وعظ / خطبہ یہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔ ہم نے یہاں ذیل میں روشنی ڈالی ہے۔ اور پھر ہم نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ کیسے حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم حضرت موسیٰ ؑ سے ملتی ہے جس کی اُنہوں نے تورات شریف میں پہلے سے پیش گوئی فرمادی تھی۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم درج ذیل ہے

21 “وہ بات ایک عرصہ سے پہلے لوگوں سے کہی گئی تھی جس کو تم نے سنا تھا۔ کسی کا قتل نہیں کرنا چاہئے [a] جو شخص کسی کا قتل کرے اس کا انصاف کیا جائیگا۔ 22 لیکن میں تم سے جو کہتا ہوں کہ تم کسی پر غصّہ نہ کرو ہر ایک تمہارا بھائی ہے اگر تم دوسروں پر غصہ کروگے تو تمہارا فیصلہ ہوگا اور اگر تم کسی کو برا کہوگے تو تم سے یہودیوں کی عدالت میں چارا جوئی ہوگی۔اگر تم کسی کو نادان یا اُجڈ کے نام سے پکاروگے تو دوزخ کی آ گ کے مستحق ہوگے۔”

23 “اس لئے جب تم اپنی نذر قربان گاہ میں پیش کرنے آؤ اور یہ بھی یاد آجائے کہ تم پر تمہارے بھائی کی ناراضگی ہے تو، 24 تب اپنی نذر قربان گاہ کے نزدیک ہی چھوڑ دواور پہلے جا کر اسکے ساتھ میل ملاپ پیدا کرو اور پھر اسکے بعد آکر اپنی نذر پیش کرو۔

25 “اگر تمہارا دشمن تمہیں عدالت میں کھینچ لے جارہا ہو تو تم جلد اسکے دوست ہو جا ؤ۔اور تم کو عدالت جانے سے پیشتر ہی ایسا کرنا چاہئے۔اگر تم اسکے دوست نہ بنوگے تو وہ تمہیں منصف کے سامنے لےجائیگا منصف تمہیں سپاہی کے حوالے کریگا تاکہ تمہیں قید میں ڈالا جائے۔ 26 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک تم کوڑی کوڑی کو ادا نہ کرو تم قید سے رہا نہ ہوگے۔

جنسی گناہ سے متعلق یسوع کی تعلیم

27 “اس بات کو تم سن چکے ہو کہ یہ کہا گیا ہے ، تم زنا کے مرتکب نہ ہو، [b] 28 میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی غیر عورت کو زنا کی نظر سے دیکھے اور اس سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہے تو گویااس نے اپنے ذہن میں عورت سے زنا کیا۔ 29 اگر تیری داہنی آنکھ تجھے گناہ کے کاموں میں ملوث کردے تو تو اس کو نکا ل کر پھینک دے۔اس لئے کہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کے بجائے بہتر یہی ہوگا کہ بدن کے ایک حصہ کو الگ کر دیا جائے۔ 30 اگر تیرا داہنا ہاتھ تجھے گناہ کا مرتکب کرے تو اس کو کاٹ کر پھینک دے۔ اس لئےکہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کے بجائے بہتر یہی ہوگا کہ بدن کے ایک حصہ کو الگ کردیا جائے۔

طلاق کے بارے میں یسوع کی تعلیم

31 “یہ بات کہی گئی ہے کہ جوکو ئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو اسکو چاہئے کہ وہ اسکو تحریری طلاق نامہ دے۔ [c] 32 لیکن میں تم سے کہتا ہوں ،” کوئی بھی شخص جو اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ اپنی بیوی کو حرام کا ری کر نے کے گناہ کا قصور وار بناتا ہے- کسی بھی شخص کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کا صرف ایک ہی وجہ ہے- وہ یہ کہ اسکی بیوی نے کسی غیر مرد سے جنسی تعلقات قائم کی ہو-اور کو ئی بھی شخص اس طلاق شدہ عورت سے شادی کر تا ہے تو وہ حرام کاری کا گناہ کر نے کا قصور وار ہے-

قسمیں کھانے کے بارے میں یسوع کی تعلیم

33 “دو بارہ تم سن چکے ہو تمہارے اجداد سے کہی ہوئی بات کہ قسموں کو مت توڑو جو تم نے کھائی ہے اور خداوند کے نام پر کھائی ہوئی قسم کو پورا کرو۔ [d] 34 لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ قسم ہر گز نہ کھا ؤ۔جنّت کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤ کیوں کہ جنت خدا کا تخت ہے۔ 35 زمین کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤکیوں کہ زمین خدا کے پیروں کی چوکی ہے یروشلم کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤ کیوں کہ وہ عظیم شہنشاہ کا شہر ہے۔ 36 تم اپنے سروں کی بھی قسمیں نہ کھاؤ کیو ں کہ تمہارے سر کا ایک بال بھی سیاہ یا سفید کرنا تمہارے لئے ممکن نہیں۔ 37 اگر صحیح ہے تو کہو ٹھیک ہے اور اگر صحیح نہیں ہے تو کہو ٹھیک نہیں ہے تم اس سے بڑھ کر جو کہتے ہو تو وہ بدی سے ہے۔

بدلہ لینے کے بارے میں یسوع کی تعلیم

38 “تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ [e] 39 میں تم سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ برے شخص کے مقابلے میں کھڑے نہ ہو۔اگر کوئی تمہارے دائیں گال پر تھپڑ مارے تو اس کے لئے دوسرا بایاں گال بھی پیش کرو۔ 40 اگر تم سے کوئی کرتا لینے کیلئے تم کو عدالت میں کھینچ لے جائے ،تو تم اسکو اپنا چغّہ بھی دے دو۔ 41 اگر کوئی تم کو زبردستی ایک میل بیکار چلنے کیلئے کہے تو اس کے ساتھ دو میل چلے جاؤ۔ 42 کوئی بھی تم سے اگر کوئی چیز پوچھے جو تمہارے پاس ہے ،تو وہ اسکو دیدو اگر کوئی تم سے قرض لینے کیلئے آئے تو تم اسکو انکار نہ کرو۔

سب سے محبت کرو

43 “تو اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت کر۔ اس کہی ہوئی بات کو تم نے سنا ہے۔ [f]44 لیکن میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ تم اپنے دشمنوں سے محبت کرو اور تمہارا نقصان پہونچانے والے کے لئے تم دعا کرو۔ 45 تب تم آسمان میں رہنے والے تمہارے باپ کے حقیقی بچّے ہوگے۔کیوں کہ تمہارا باپ سورج کو نکالتا اور چمکاتا ہے دونوں کے لئے بروں اور نیکوں دونوں کے لئے بارش بھیجتا ہے دونوں کے لئے راستباز اور غیر راستباز۔ 46 تم سے محبت رکھنے والوں سے اگر تم بھی محبت رکھو گے تو تم کو اس سے کیا صلہ ملیگا ؟اس لئے کہ محصول وصول کرنے والے بھی تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ 47 اگرتم صرف اپنے دوستوں کے حق میں اچھّے بننا چاہتے ہو تو ایسے میں تم دوسروں سے کوئی اتنے اچھے نہیں ہو۔اس لئے کہ خدا کو نہ پہچاننے والے لوگ بھی اپنے دوستوں سے اچھے رہتے ہیں۔ 48 اسلئے جیسا کہ تمہارا باپ آسمانوں میں ہے اسی طرح تم کو بھی کامل بننا چاہئے۔

متّی5:21-48

حضرت عیسیٰ المسیح اور اُن کا پہاڑی وعظ

آپ حضرت عیسیٰ المسیح کے تعلیمی دینے کے انداز کو یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اس طرح بیان کو شروع کرتے ہیں۔ "تم سُن چکے ہو ۔ ۔ ۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں۔ ۔ ۔ ” پھر وہ اپنے سننے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کلام اللہ سے حکم کو مذید واضح کر کے حکم فرمادیتے تھے۔ حضرت عیسیٰ المسیح اُن احکامات کی تعلیم دے رہے تھے جن کو حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو بڑھی سختی سے سیکھایا تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ان کو آسان طریقے سے واضح کیا لیکن ان کو مذید اپنے پیروکاروں کے لیے اور مشکل کرڈالا۔

لیکن یہ قابل ذکر بات ہے کہ اُنہوں نے احکامات میں توسیح کی اور اںہوں نے ایسا اپنے اختیار سے کیا۔ اُنہوں نے بڑھے سادہ سے انداز میں کہا ‘ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ اور پھر اُنہوں نے اس حکم میں توسیع کردی۔ لیکن یہ حضرت عیسیٰ مسیح کی تعلیم کو اور زیادہ اہم اور اُن کے اختیار کو واضح کردیتا ہے۔ جب اُنہوں نے اپنے خطبہ کو ختم کیا۔تو اُس کے بارے میں  انجیل شریف میں یوں بیان آیا ہے

28 جب یسوع نے ان چیزوں کی تعلیم ختم کی تو لوگ اسکی تعلیم سے بہت حیرت میں پڑ گئے۔ 29 کیوں کہ اس نے ان کو شریعت کے معلِّموں کی طرح تعلیم نہیں دی بلکہ ایک صاحب اقتدار کی طرح تعلیم دی

(متّی7:28-29)

دراصل، حضرت عیسیٰ المسیح ایک صاحبِ اختیار کی طرح تعلیم دیتے تھے۔ دیگر انبیاء اکرام اللہ تعالیٰ کے پیغام کو لوگوں کے ساتھ بیان کردیتے تھے۔ لیکن یہاں آپ کا انداز اور طرح مختلف تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ایسے تعلیم کیوں دی؟ جس طرح ہم زبور شریف میں سے "مسیح” خطاب کے بارے میں جان چکے ہیں۔ کہ "ایک آنے والا” جس کے پاس اختیار ہوگا۔ زبور شریف کے دوسرے (2) زبور میں جہاں ‘مسیح’ پہلی بار بیان کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ وہاں مسیح کے بارے میں یوں بیان فرماتے ہیں۔

مُجھ سے مانگ اور مَیں قَوموں کو تیری مِیراث کے لِئے اور زمِین کے اِنتِہائی حِصّے تیری مِلکِیّت کے لِئے تُجھے بخشُو ں گا ۔      زبور 2: 8

"المسیح” کو قوموں پر اور دنیا کی انتہا تک اختیار دیا گیا تھا۔ اس لیے حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ اختیار کے ساتھ تعلیم دے سکتے تھے۔

وہ نبی اور پہاڑی وعظ

حقیقت میں ہم یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ کہ تورات شریف میں حضرت موسیٰ ؑ نے ‘نبی’ کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔ جس کو ہم اُس کی تعلیم دینے کے طریقے سے جان سکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اُس کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

 18 میں تمہا ری طرح ایک نبی اُن کے لئے بھیج دوں گا وہ نبی انہی لوگوں میں سے کو ئی ایک ہو گا۔ میں اسے وہ سب بتا ؤں گا جو اسے کہنا ہو گا اور وہ لوگوں سے وہی کہے گا جو میرا حکم ہو گا۔ 19 یہ نبی میرے نام پر بولے گا اور جب وہ کچھ کہے گا تب اگر کو ئی شخص میرے احکام کو سننے سے انکار کرے گا تو میں اس شخص کو سزا دو ں گا۔‘

(استثناء18:18-19)

اپنی تعلیم دینے کے انداز میں حضرت عیسیٰ مسیح اپنے اخیتار کی مشق کررہے تھے۔ تاکہ وہ اُس پیش گوئی کو پورا کرسکیں جس کے بارے میں حضرت موسیٰ ؑ نے بتایا تھا۔ کہ ایک نبی آئے گا۔ جو صاحبِ اختیار کی طرح تعلیم دے گا۔ حضرت عیسیٰ نبی اور مسیح دونوں ہی تھے۔

آپ اور میں اور پہاڑی وعظ

اگر آپ پہاڑی وعظ کا بڑھے محتاط انداز کے ساتھ مطالعہ کریں اور جاننا چاہیں کہ آپ اس تعلیم کی کس طرح پیروی کرسکتے ہیں۔ تو شاید آپ الجھن میں پڑجائیں۔ کیسے کوئی اس قسم کے احکامات کی اطاعت کرسکتا ہے۔ جو ہمارے دلوں اور نیت کو پورا کرسکتے ہوں؟ حضرت عیسیٰ المسیح کا اس خطبہ میں کیا مقصد تھا؟ ہم اس کو اُن کے ہر حکم  کے اختتام میں دیکھ سکتے ہیں۔

48 اسلئے جیسا کہ تمہارا باپ آسمانوں میں ہے اسی طرح تم کو بھی کامل بننا چاہئے۔ (متّی5:48)

یاد رکھیں! یہ کوئی تجویز نہیں بلکہ حکم ہے۔ اس حکم کا مطلب ہے کہ ہم کامل بنیں! کیوں؟ کیونکہ خدا تعالیٰ کامل ہے اور اگر ہم اُس کے ساتھ جنت میں ہمیں بھی کامل بننا پڑئے گا۔ ہم اکثر یہ سوچتے ہیں۔ کہ نیکی کرنا بُرائی سے بہتر ہے۔ اگر لیکن ایسا معاملہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ تو ہم اُس کی کامل جنت کو تباہ کرڈالیں گے۔ اور اُس کو اپنی دنیا جیسا بنا ڈالیں گے۔ یہ ہماری شہوت، لالچ، اور غصہ ہے جس نے آج اس دنیا کو اور ہم کو برباد کردیا ہے۔ یہ سب مسائل ہم نے خود ہی بنائیں ہیں۔

حقیقت میں حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیمی توجہ دنیا سے ہٹ کر ہمارے دلوں پر تھی۔ غور کریں اُنہوں نے ایک اور تعلیم میں کیسے ہمارے دلوں پر اپنی تعلیم کی توجہ مرکوز کی۔

20 اس کے علاوہ یسوع نے ان سے کہا، “ایک انسان کے اندر آ نے والے ارادے ہی اس کو گندہ اور نا پاک بنا تے ہیں۔ 21 یہ ساری برُی چیزیں ایک انسان کے باطن میں انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہیں ،دماغ میں برے خیالات بد کا ریاں ، چوری اور قتل ،۔ 22 زنا کاری پیسوں کی حرص، برا ئی ،دھوکہ ر یا کاری، حسد، چغل خوری، غرور اور بے وقوفی۔ 23 تمام خراب خصلتیں برے خیالات و خراب باتیں انسان کے اندر سے آ کر آدمی کو گندہ اور نا پا ک بنا تی ہیں۔”

(مرقس7:20-23)

لہذا ہمارے بطن کی پاکیزگی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اور اس کا معیار کاملیت (کامل) ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف کامل لوگوں ہی کو اپنی جنت میں داخل ہونے کی جازت دے گا۔ شاید یہ بات ایک نظریے کی حد تک تو ٹھیک نظر آئے۔ لیکن یہ ایک بڑے مسلئہ کوکھڑا کردیتی ہے۔ ہم کیسے جنت میں داخل ہوسکتے ہیں اگر ہم کامل نہیں ہوسکتے؟ اس طرح خاطرخواہ (کافی) کامل بننا ہمارے لیے نااُمیدی کا سبب بن سکتا ہے۔

لیکن یہ ہی سب کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ جب ہم کافی حد تک کامل نہیں بن پاتے اور نااُمیدی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور ہم اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں رکھ پاتے تو ہم اپنی روح میں غریب (خالی) بن جاتے ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ المسیح اپنے خطبہ کے آغاز میں یوں بیان کرتے ہیں۔

مبارک ہیں وہ لوگ جو دل کے غریب ہیں
    کیونکہ آسمانی بادشاہت ان ہی کے لئےہے۔

(متّی5:3)

 ہمیں حکمت کے شروع میں اس تعلیمات کو یہ کہہ کر رد کردینا نہیں چاہیے کہ یہ ہمارے لیے نہیں ہے۔ کیونکہ معیار "کامل” ہے۔ جس طرح ہم اس معیار میں گر جاتے ہیں اورجان جاتے ہیں ہم اس قابل نہیں کہ اس معیار کو پورا کرسکیں۔ تو پھر ہم اس سیدھے راستے پر چلنا شروع کردیتے ہیں جس میں ہم اس بات کا اندازہ لگا لیتے ہیں کہ ہم اس قابل نہیں کہ ہم کامل بن سکیں۔ اس طرح ہم مدد حاصل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اور ہم اپنی صلاحیتوں (نیک اعمال) پر بھروسہ رکھنا چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے فضل کی طرف اپنا توجہ لگالیتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ مسیح کو شیطان آزماتا ہے

ہم نے دیکھا کہ حضرت یحیٰ نے لوگوں کو المسیح کی آمد کے لیے تیار کیا۔ اُنہوں نے بڑے سادہ اور آسان الفاظ میں توبہ کاخطبہ دیا کہ لوگوں کو اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انجیل مقدس حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے بتاتی ہے کہ اُنہوں نے حضرت یحیٰ سے بپتسمہ لیا۔ یہ حضرت عیسیٰ مسیح کی عوامی خدمت کا اعلان تھا۔ لیکن اس سے پہلے حضرت عیسیٰ مسیح اپنی خدمت کا آغاز کرتے۔ اُنہوں نے اپنا کچھ وقت بیابان میں اللہ تعالیٰ کے حضور گذارا۔ اُسی دوران شیطان نے اُن کو آزمایا۔

انجیلِ مقدس ہمیں بتاتی ہے۔ کہ شیطان نے اُن کو تین مختلف آزمائشیوں سے آزمایا۔ آئیں ہم ان تینوں آزمائشیوں کے بارے میں مل کر جانتے ہیں۔ (ان آزمائشیوں کی معلومات کے دوران ہم دیکھیں گے کہ شیطان کچھ مشکل خطاب سے حضرت عیسیٰ مسیح سے مخاطب ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر "خدا تعالیٰ کا بیٹا” اس کے بارے میں جاننے کے لیے آپ میرے اس مضمون کا مطالعہ کرسکتے ہیں) 

شیطان روٹی سے آزماتا ہے۔

‘اُس وقت رُوح یِسُو ع (عیسیٰ مسیح) کو جنگل میں لے گیا تاکہ اِبلِیس سے آزمایا جائے۔ اور چالِیس دِن اور چالِیس رات فاقہ کر کے آخِر کواُسے بُھوک لگی۔ اور آزمانے والے نے پاس آ کر اُس سے کہا اگر تُو خُداکا بیٹا ہے تو فرما کہ یہ پتّھر روٹِیاں بن جائیں۔ اُس نے جواب میں کہا لِکھا ہے کہ آدمی صِرف روٹی ہی سے جِیتا نہ رہے گابلکہ ہر بات سے جو خُدا کے مُنہ سے نِکلتی ہے۔ ‘

 تب روح یسوع کو جنگل میں شیطان سے آزمانے کیلئے لے گئی۔ یسوع نے چالیس دن اور چالیس رات کچھ نہ کھایا تب اسے بہت بھوک لگی۔ تب اسکا امتحان لینے کیلئے شیطان نے آکر کہا، “اگر تو خداکا بیٹا ہی ہے تو ان پتھروں کو حکم کر کہ وہ روٹیاں بن جائیں۔”

یسوع نے اس کو جواب دیا یہ “صحیفہ میں لکھا ہے:

کہ انسان صرف روٹی ہی سے نہیں جیتا ،
    بلکہ خدا کے ہر ایک کلام سے جو اس نے کہیں۔

متی 4: 1-4

یہاں ہم ایک متوازی صورت حال دیکھتے ہیں جب شیطان نے جنت میں آدم اور حوا کی آزمائش کی. آپ کو یاد ہوگا کہ یہ آزمائش پھل کے ذریعے آئی "۔ ۔ ۔کھانے کے لیے اچھا ۔ ۔ ۔” اور اُس کی آزمائش کی یہی ایک وجہ تھی۔ اسی صورت حال میں حضرت عیسیٰ جب ایک لمبے روزے(اس روزے میں کوئی سحری اور افطار شامل نہیں تھا) کی حالت میں تھے ۔ تو روٹی کے بارے میں خیال ایک آزمائش تھی۔ لیکن اس بار آزمائش کا نتیجہ حضرت آدم ؑ سے مختلف نکلا۔ حضرت عیسیٰ مسیح نے آزمائش پر قابو پالیا جبکہ حضرت آدم ؑ آزمائش پر قابو نہ پاسکے۔

لیکن ان 40 دنوں کے دوران کھانے کی اجازت کیوں نہیں تھی؟انجیل مقدس ہم کو اس کے بارے میں نہیں بتاتی لیکن زبور شریف نے اس کے بارے میں پیش گوئی کردی تھی۔ کہ آںے والا خادم اسرائیل قوم کی نمائندگی کرے گا۔ اسرائیلی قوم 40 سال تک بیابان میں حضرت موسیٰ کی قیادت میں رہی۔ وہاں اُنہوں نے وہی کھانا (مینہ سلوہ) کھایا جو آسمان سے مہیا ہوتا تھا۔ 40 دن کا روزہ اور اللہ تعالیٰ کے کلام پر گیان دھان حضرت عیسیٰ کے لیے روحانی کھانا تھا۔ جس سے مراد تھی کی یہ وہی خادم ہے۔ جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔

خدا کے وعدے پر آزمائش

دوسری آزمائش بھی اپنی نوعیت کی وجہ سے مشکل تھی اور انجیل مقدس اس کے بارے میں ہمیں یوں بتاتی ہے۔

‘تب اِبلِیس اُسے مُقدّس شہر میں لے گیا اور ہَیکل کے کنگُرے پر کھڑا کر کے اُس سے کہا کہ۔ اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو اپنے تئِیں نِیچے گِرا دے کیونکہ لِکھا ہے کہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حُکم دے گا اور وہ تُجھے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے اَیسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتّھرسے ٹھیس لگے۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا یہ بھی لِکھا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کی آزمایش نہ کر۔

متی 4: 5-7

یہاں شیطان نے حضرت عیسیٰ مسیح کو آزمانے کے لیے زبور شریف میں سے حوالہ دیا۔ اس بات کا اندازہ اس طرح لگا سکتے ہیں کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کی اور اس لیے اُس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطالعہ کیا تاکہ وہ اُس کی مخلوق کو گمراہ کرسکے۔ اس لیے وہ الکتاب کو اچھی طرح جانتا تھا اور وہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں ماہر تھا۔

میں نےیہاں آپ کی خدمت میں وہ زبور شریف کا حصہ پیش کیا ہے۔ جس کو شیطان نے حضرت عیسیٰ مسیح کو گمراہ کرنے کی کوشش کے لیے استعمال کیا۔ (میں اُس لائن کو انڈرلائن کیا ہے)

‘تُجھ پر کوئی آفت نہیں آئے گی اور کوئی وبا تیرے خَیمہ کے نزدِیک نہ پُہنچے گی۔ کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرِشتوں کو حُکم دے گا کہ تیری سب راہوں میں تیری حِفاظت کریں ۔ وہ تُجھے اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے تاکہ اَیسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھّر سے ٹھیس لگے ۔ تُو شیرِ بَبر اور افعی کو رَوندے گا۔ تُو جوان شیر اور اژدہا کو پامال کرے گا۔ چُونکہ اُس نے مُجھ سے دِل لگایا ہے اِس لِئے مَیں اُسے چُھڑاؤُں گا۔ مَیں اُسے سرفراز کرُوں گا کیونکہ اُس نے میرا نام پہچاناہے۔ ‘

                زبور 91: 10-14

آپ زبور شریف کے اس حوالہ میں لفظ "وہ” دیکھ سکتے ہیں۔ جس کے بارے میں شیطان یہ ایمان رکھتا ہے کہ یہ "المیسح” کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن یہ حوالہ "المسیح” کے بارے برائے راست اشارہ نہیں کرتا۔ تو پھر شیطان کیسے اس بات کو جانتا ہے؟

آپ اس بات کی طرف توجہ کریں کہ لکھا ہے کہ وہ عظیم شیر اور اژدہا کو روندے گا۔ (13 ویں آیت میں اِس کو سرخ سے لکھا ہے) یہاں پر شیر کی طرف اشارہ دراصل یہوداہ کے قبیلہ کی طرف ہے۔ جس کے بارے میں حضرت یقعوب نے تورات شریف میں پیش گوئی کی تھی۔

اَے یہُوداہ! تیرے بھائی تیری مدح کریں گے تیرا ہاتھ تیرے دُشمنوں کی گردن پر ہو گا ۔ تیرے باپ کی اَولاد تیرے آگے سرنِگُوں ہو گی۔ یہُوداہ شیرِ بَبر کا بچّہ ہے۔ اَے میرے بیٹے! تُو شِکار مار کر چل دِیا ہے۔ وہ شیرِ بَبر بلکہ شیرنی کی طرح دَبک کر بَیٹھ گیا ۔ کَون اُسے چھیڑے؟ یہُوداہ سے سلطنت نہیں چھُوٹے گی اور نہ اُس کی نسل سے حُکومت کا عصا موقُوف ہو گا۔ جب تک شِیلو ہ نہ آئے اورقَومیں اُس کی مُطِیع ہوں گی۔

“اے یہوداہ تیرے بھا ئی تیری تعریف کریں گے۔
    تو اپنے دُشمنوں کو شکست دیگا۔
    اور تیرے بھا ئی تیرے لئے جھک جا ئیں گے۔
یہوداہ ایک شیر کی طرح ہے۔
    اے میرے بیٹے تو ا س شیر کی طرح ہے کہ جس نے ایک جانور کو مار دیا۔ اے میرے بیٹے تو ایک شیر کی طرح شکار کے لئے گھات میں بیٹھا ہوا ہے۔
یہوداہ شیر کی مانند ہے۔ وہ سو کر آرام کر تا ہے
    اور اُسے چھیڑ نے کی کسی میں ہمت نہیں۔
10 وہ شاہی قوت کو اپنے ہاتھ میں رکھے گا
جب تک کہ وہ آ نہیں جاتا
    جو اس کا جانشیں ہو گا۔
دوسری قوموں کے لو گ ان کی فرمانبردار ی کرینگے۔

پیدائش 49: 8-10

حضرت یعقوبؑ نے تورات شریف میں طویل عرصہ پہلے یہ کہا تھا۔ کہ یہوداہ کا قبیلہ شیر کی مانند ہے۔ جس میں سے "وہ” یعنی شیلوہ آئے گا اور وہ ہی حکومت کرے گا۔ زبور شریف اس پیش گوئی کو جاری رکھتا ہے۔ اس کی جگہ کہ وہ "شیرکو روندے گا” کے الفاظ استعمال کرتا ہے ۔ زبور شریف نے فرمایا ہے کہ "وہ” یہوداہ پر حکمرانی کرے گا۔

شیطان نے زبور شریف کا جو حوالہ استعمال کیا تھا۔ اُس کے مطابق "وہ” سانپ کو روندے گا۔ ہ برائے راست اُس پہلے وعدے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کہ "وہ” عورت کی نسل میں سے ہوگا۔ اور سانپ کو کچلے گا۔ جس کا ذکر ہم نے اپنے مضمون "آدم کے نشان" میں عورت کی نسل میں سے آنے والے کا ذکر کیا تھا۔ یہاں پر ایک بار پھر تصویر میں واضح کیا ہے۔ کہ اُس کا کرداراور اعمال کیسا ہوگا۔

لہذا اللہ تعالیٰ نے سانپ سے کہا …

‘اور مَیں تیرے اور عَورت کے درمیان اور تیری نسل اور عَورت کی نسل کے درمِیان عداوت ڈالُوں گا ۔ وہ تیرے سر کو کُچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا۔ ‘

پَیدایش 3: 15

یہ وعدہ آدم کی نشانی میں سب سے پہلے دیا گیا تھا، لیکن اس میں تفصیلات  واضح نہیں تھیں. اب ہم جانتے ہیں کہ یہ ‘عورت’ حضرت مریم ہے کیونکہ وہ واحد دنیا میں شخصیت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے بغیراولاد سے نوازا تھا- اور وہ کنواری تھیں۔ جس طرح ایک نسل کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جس کا اشارہ "وہ” تھا۔ اب ہم سب جانتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ المسیح ہیں۔ اس لیے میں نے اُوپر دی گئی تصویر میں ان کے نام شامل کردیں ہیں۔ ماضی میں کیا گیا وعدہ کیا تھا۔ کہ "وہ” یعنی حضرت عیسیٰ المسیح سانپ کو کچلے گا۔ زبور شریف میں سے جس حوالے کو شیطان نے استعمال کیا تھا۔ اُس میں یوں لکھا ہے۔

شیطان نے زبور شریف میں سے جس بات کا حوالہ دیا تھا۔ اُس کے بارے میں ماضی میں دو پیش گوئیاں تورات شریف میں سے جوڑی ہوئی ہیں۔ کہ "وہ” آنے وال خادم شیطان کو روندے گا۔ چنانچہ شیطان جس حوالے کو پیش کر رہا تھا۔ اُس کو بڑی اچھی طرح جانتا تھا۔ کہ یہ آنے والے مسیح کے بارے میں ہے۔ شیطان کی کوشش تھی۔ کہ آزمائش کے ذریعے وہ اس پیش گوئی کو جھوٹا ثابت کردے۔ زبور شریف اور تورات شریف میں پیشن گوئیوں کو پورا ہونا ضرور تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا۔ کہ عیسیٰ مسیح اچانک ہیکل میں آئے اور سب باتوں کو ثابت کردیں۔ لیکن وہ سب کچھ پلان کے ساتھ پورا کرنa چاہتے تھے۔ تاکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تورات اور زبور شریف میں نازل کیا تھا اُس کو اُسی طرح پورا کریں۔

عبادت کی آزمائش

پھر شیطان نے حضرت عیسیٰ مسیح کی آزمائش اپنی ساری شان وشوکت جو اُس کے پاس دنیا پر تھی اُس کو دکھائی ۔ اس کا ذکر انجیلِ مقدس میں اس طرح ہے۔

‘پِھراِبلِیس اُسے ایک بُہت اُونچے پہاڑ پر لے گیا اور دُنیا کی سب سلطنتیں اور اُن کی شان و شوکت اُسے دِکھائی۔ اور اُس سے کہا اگر تُو جُھک کر مُجھے سِجدہ کرے تویہ سب کُچھ تُجھے دے دُوں گا۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا اَے شَیطان دُور ہو کیونکہ لِکھاہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کو سِجدہ کر اور صِرف اُسی کی عبادت کر۔ تب اِبلِیس اُس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو فرشتے آ کر اُس کی خِدمت کرنے لگے۔ ‘

    متی 4: 8-11

مسیح” کا مطلب ہے "وہ جو حکومت کرنے کے لیے مسح” کیا گیا۔” شیطان نے حضرت عیسیٰ کی آزمائس کی جس طرح وہ کرسکتا تھا۔ لیکن اُس نے حضرت عیسیٰ مسیح کی آزمائش اس طرح کی کہ وہ اپنی حکومت کو شارٹ کٹ طریقے سے حاصل کرلے۔ جو صرف شیطان کو سجدہ (عبادت) کرنے سے حاصل ہوسکتی تھی۔ جو کہ شرک تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے شیطان کی آزمائش کا مقابلہ کیا۔ (ایک بار پھر سے) تورات شریف میں سے حوالہ دیکھیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے تورات شریف کوبہت ہی اہم سمجھا اور اسی لیے وہ اس کو بڑی اچھی طرح سے جانتے تھے اور اس پر بھروسہ بھی رکھتے تھے۔

حضرت عیسیٰ المسیح: ہماری صورت حال کو سمجھتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح کی آزمائش ہمارے لیے بڑی ایمیت رکھتی ہے۔ انجیل شریف میں حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے لکھا ہے۔

‘کیونکہ جِس صُورت میں اُس نے خُود ہی آزمایش کی حالت میں دُکھ اُٹھایا تو وہ اُن کی بھی مدد کر سکتا ہے جِن کی آزمایش ہوتی ہے۔

                                                                عبرانیوں 2: 18

اور

‘کیونکہ ہمارا اَیسا سردار کاہِن نہیں جو ہماری کمزورِیوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تَو بھی بے گُناہ رہا۔ پس آؤ ہم فضل کے تخت کے پاس دِلیری سے چلیں تاکہ ہم پر رَحم ہو اور وہ فضل حاصِل کریں جو ضرُورت کے وقت ہماری مدد کرے۔

عبرانیوں 4: 15-16

 یاد رکھیں حضرت ہارون سردار کاہین ہونے کی وجہ سے قربانی پیش کرتا تھا۔ تاکہ اسرائیلیوں کے گناہ معاف ہوجائیں۔اب حضرت عیسیٰ المسیح کو سردار کاہن ہیں۔ جو ہماری صورتِ حال کو سمجھتے اور ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ ہماری آزمائش میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود آزمایا گیا لیکن پھر بھی گناہ نہ کیا۔ اور اسی لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونی کی دلیری حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ المسیح نے مشکل ترین آزمائشوں کا سامنا کیا لیکن وہ گناہ میں نہ گرے۔ حضرت عیسیٰ المسیح ہی ہیں جو ہماری آزمائشوں اور صورت حال کو سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی ہماری طرح کی آزمائشوں میں پڑا لیکن اُنہوں نے گناہ نہ کیا۔

 سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے: کیا ہم ایسے مدد گاراور ہمددر کو چھوڑ دیں گے؟

حضرت یحییٰ ؑ راہ کا تیار کرنے والا

ہم نے اپنی پچھلے مضمون میں اس بات پر غور کیا تھا۔ کہ زبور شریف کو حضرت ملاکیؑ نبی نے تکمیل کیا اور اُنہوں نے اپنی اس کتاب میں فرمایا تھا۔ کہ ایک شحص آئے گا جو راہ کو تیار کرے گا (ملاکی 3: 1)۔ ہم نے اس بات کو بھی دیکھا ہے کہ جب ہم انجیل شریف کو کھولتے ہیں۔ تو جبرایل فرشتہ حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کی بشارت دیتا ہوا نظر آتا ہے۔

حضرت یحییٰ ؑ حضرت الیاس ؑ کی روح اور طاقت میں

حضرت یحییٰ ؑ کی پیدائش کے بعد انجیلِ مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔ (اُس کو حضرت یوحنا بپتسمہ دینے والے کے طور پر بتایا گیا

‘اور وہ لڑکا بڑھتا اور رُوح میں قُوّت پاتا گیا اور اِسرا ئیل پر ظاہِر ہونے کے دِن تک جنگلوں میں رہا

لُوقا 1:80

جب وہ بیابان میں رہ رہا تھا تو انجیل مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔

‘یہ یُوحنّا اُونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنے اور چمڑے کا پٹکااپنی کمر سے باندھے رہتا تھا اور اِس کی خوراک ٹِڈّیاں اورجنگلی شہد تھا۔ ‘                                                                              متّی 3:4

حضرت یحییٰ ؑ روح سے بھرا ہوا اور اونٹ کے چمڑے کا لباس پہنتا اور جنگلی خوراک کھاتا تھا۔ وہ بیابان میں رہتا تھا۔ لیکن یہ سب اُس کی روح کی وجہ سے نہیں تھا۔ یہ ایک خاص نشان بھی تھا۔ ہم نے زبور شریف کی اختتامی کتاب میں پڑھا ہے۔ کہ راہ کی تیار کرنے والا "حضرت الیاسؑ” کی روح” میں آئے گا ۔ حضرت الیاس ؑ زبور شریف کے ایک نبی ہوئے تھے۔ جو حضرت یحییٰ ؑ سے پہلے نازل ہوئے اور بیابان میں رہتے اور جنگلی خوراک اور حضرت یحییٰ ؑ ی طرح کا لباس پہنتے تھے۔

اُنہوں نے اُسے جواب دیا کہ وہ بہت بالوں والا آدمی تھا اور چمڑے کا کمر بند اپنی کمر پر کسے ہوئے تھا۔ تب اُس نے کہا کہ یہ تو ایلیاہ (الیاس) تشبی ہے۔  2سلاطین 8: 1

لہذا جب حضرت یحییٰ ؑ چمڑے کا لباس پہنے اور بیابان میں رہ رہا تھا۔ تو اس کا مطلب تھا کہ وہ یہ ہی ہے جس کی پیش گوئی ہوئی تھی۔ کہ وہ حضرت الیاس ؑ (حضرت ایلیاہ) کی روح میں آئے گا۔ اُس کا بیابان میں رہنااور جنگلی خوراک کھانا اس بات کا اعلان تھا۔ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا تھا۔ وہ پورا ہورہا ہے۔

انجیل مقدس کی تاریخی تصدیق

پھر انجیل مقدس میں بتاتا گیا ہے کہ:

‘تِبرِ یُس قَیصر کی حُکومت کے پندرھویں برس جب پُنطِیُس پِیلا طُس یہُودیہ کا حاکِم تھا اور ہیرود یس گلِیل کا اور اُس کا بھائی فِلپُّس اِتُور یہِّ اور ترخونی تِس کا اور لِسانیا س اَبِلینے کا حاکِم تھا اور حنّاہ اور کائِفا سردار کاہِن تھے اُس وقت خُدا کا کلام بیابان میں زکریا ہ کے بیٹے یُوحنّا (یحییٰؑ) پر نازِل ہُؤا اور وہ یَرد ن کے سارے گِرد و نواح میں جا کر گُناہوں کی مُعافی کے لِئے تَوبہ کے بپتِسمہ کی مُنادی کرنے لگا۔                    لوقا 3: 1-3

یہ حوالہ حضرت یحییٰ ؑ کی خدمت کے تعلق سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اُن کی خدمت کے آغاز میں ہی سے بہت سے معروف حکمرانوں کا ذکرکیا گیا۔ جس سے ان کی خدمت اور منفرد ہو جاتی ہے۔ توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ ان تاریخی واقعات کا ذکر کرنے کی وجہ سے۔ انجیل مقدس کو تاریخی اور آثارِقدمہ کے حساب سے تصدیق ملتی ہے۔

اگر آپ ان لوگوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہیں۔ تیریسیس سیسر، پونسیس پائلیٹ، ہیرودیس، فلپ، لسیانیاس، اینساس اور کافیفا سب لوگ ہیں جو رومی سیکالر اور یہودی تاریخ دان تھے۔ اس طرح ہم بڑی دلیری سے کہہ سکتے ہیں۔ کہ حضرت یحییٰ کا واقعہ خالص تاریخی اور قابلِ اعتماد ریکارڑ ہے۔

چودھویں عیسوی میں طیبیرس سیسر پر چڑھی کی اور رومن سلطنت کے تختِ کو اُلٹ دیا۔ لہذا یہ اس کے اقتدار کے پندرواے (15) سال کا مطلب یہ ہے کہ حضرت یحییٰ ؑ نے اپنی تبلغ کا آغاز29 سال کی عمرمیں کیا۔

حضرت یحییٰ ؑ کی گناہوں سے توبہ کی تبلیغ اور اعتراف

تو حضرت یحییٰ ؑ نے کون سا تبلیغی خطبہ دیا تھا؟ جس طرح اُن کی زندگی بڑی سادی تھی اُسی طرح اُن کا خطبہ بھی بہت سادہ تھا۔ لیکن بلکل سچائی سے بھرا اور کڑوا لیکن قوت سے بھرپورتھا۔ انجیل شریف میں اس طرح لکھا ہے۔

اُن دِنوں میں یُوحنّا (یحییٰؑ) بپتِسمہ دینے والا آیا اور یہُودیہ کے بیابان میں یہ مُنادی کرنے لگا کہ۔ تَوبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدِیک آ گئی ہے۔

متی 3: 2

لہذا حضرت یحییٰ ؑ کے پیغام کا مقصد تھا کہ وہ اعلان کریں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہی قریب آگئی ہے۔ "ہم جانتے ہیں کیسے زبور شریف میں انبیاءاکرام نے "خدا تعالیٰ کی بادشاہی” کے آںے کے بارے میں پیشن گوئیاں کی تھیں۔ کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہی آںے والی ہے۔ لیکن حضرت یحییٰ ؑ اب کہہ رہا ہے۔ وہ بادشاہی "قریب” آگئی ہے۔

لیکن وہ اُس وقت تک بادشاہی کےلیے تیار نہیں ہوسکیں گے جب تک وہ توبہ نہ کریں گے۔ حقیقت میں اگر وہ ‘توبہ’ نہیں کریں گے۔ تو وہ بادشاہی کو کھودیں گے۔ توبہ کا لفظ یونانی کے ایک لفظ "میٹانوو” "metanoeo” سے لیا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے۔ "اپنے زہین کو تبدیل کرنا” یا مختلف طریقے سے سوچنا ہے۔ لیکن اُن کو اس کے بارے میں مختلف طریقے سے کیا سوچنا ہے؟ حضرت یحییٰ ؑ کے پیغام کا لوگوں نے درعمل دیا اور اس کو دیکھ ہم یہ سیکھتے ہیں۔ کہ اُس نے لوگوں کو توبہ کی تبلیغ کی۔ اس کے بارے میں انجیلِ مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔

‘اور اپنے گُناہوں کا اِقرار کر کے دریایِ یَردن میں اُس سے بپتِسمہ لِیا۔

متی 3: 6

آپ کو حضرت آدم ؑ کی نشانی میں یاد ہو گا۔ کہ کیسے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ نے منع کیا ہوا پھل کھایا۔

‘اور اُنہوں نے خُداوند خُدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پِھرتا تھا سُنی اور آدم اور اُس کی بِیوی نے آپ کو خُداوند خُدا کے حضُورسے باغ کے درختوں میں چُھپایا۔

پیدائش 3: 8

تب ہی سے اپنے گناہوں کو چھپانے اور دوسرے کے آگے یہ ظاہر کرنا کہ میں تو بے گناہ ہوں۔ ایک قدرتی فطرت بن گئی۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا اور توبہ کرنا ہمارے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ ہم نے دیکھا کنواری کے بیٹے کی نشانی میں کہ حضرت دوادؑ اور حضرت محمد ﷺ نے اپنے گناہوں سے توبہ کی۔ یہ ہمارے لیے کرنا بڑی مشکل ہے کیونکہ یہ ہمیں گنہگار اور شرمندگی سے نمٹنے کے لیے پیش کرتا ہے۔ لیکن حضرت یحییٰ ؑ یہ ہی تبلیغ کر رہے تھے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی بادشاہی کے لیے تیار ہوجائیں۔

مذہبی راہنماوں کے لیے نتباہ جنہوں نے توبہ نہ کی

کچھ لوگوں نے توبہ اور اپنے گناہوں کا اقرار کیا لیکن سب نے ایسا نہ کیا۔ انجیلِ مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔

‘مگر جب اُس نے بُہت سے فرِیسیِوں اور صدُوقِیوں کوبپتِسمہ کے لِئے اپنے پاس آتے دیکھا تو اُن سے کہا کہ اَے سانپ کے بچّو! تُم کو کِس نے جتا دِیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟۔ پس تَوبہ کے موافِق پَھل لاؤ۔ اور اپنے دِلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابراہیم ہمارا باپ ہے کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اِن پتّھروں سے ابراہیم کے لِئے اَولاد پَیدا کر سکتاہے۔ اور اب درختوں کی جڑ پر کُلہاڑا رکھّا ہُؤا ہے ۔ پس جو درخت اچّھا پَھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالاجاتا ہے۔ ‘

متی 3: 7-10

صدوقی اور فریسی حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کے اُستاد تھے۔ وہ انتاہی مذہبی اور شریعت کی پابندی کے ساتھ فرمابنرداری کررہے تھے۔ وہ (نماز، روزہ، زکوۃ اور قربانی وغیرہ) باقاعدگی سے ادا کرتے۔ ہر کوئی اُن کے بارے میں یہ سوچتا تھا۔ کہ یہ تمام لیڈر شریعت کے احکام کی تکمیل کرنے اور عبادت میں سخت محنت کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے منظورِ نظر ہیں۔ لیکن حضرت یحییٰ ؑ نے اُن کو "سانپ کے بچوں” کہہ کر پکارا اور خدا تعالیٰ کی آںے والی عدالت سے بچنے کے لیے انتباہ کیا۔ کیوں؟ کیونکہ اُنہوں نے اپنی توبہ کے موافق پھل نہیں لاتے تھے۔ اُنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف نہ کیا بلکہ مذبی طریقوں کے زریعے وہ اپنے گناہوں کو چھپاتے رہے۔ اور وہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد ہونے کہ وجہ سے اس بات پر فحر کرتے۔

 حضرت داود ؑ کا اعتراف ہمارے لیے ایک منفرد مثال

تاہم جب ہم حضرت یحییٰ ؑ  نے توبہ کی اور اعتراف کی تبلیغ کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے بہت ہی اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ کہ ہم اس کے بغیر جنت دوسرے لفظوں میں خدا تعالیٰ کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتے۔

جب ہم صدوقیوں اور فریسیوں کے بارے دیکھتے کہ حضرت یحییٰ ؑ اُن کو  گناہ سے توبہ اوراللہ کے حضور اعتراف کرنے کے لیے کہتا ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک مذہبی لیڈر ہوتے ہوئے ہم کتنی آسانی سے اپنے گناہ کو چھپالیتے ہیں۔ تو پھر میرے اور آپ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یہاں اس حوالے میں مجھے اور آپ کو بھی ایسا کرنے لے لیے کہا گیا۔ اس لیے ہمیں ضدی بن کر توبہ کرنے سے کنارہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس کی بجائے ہم اپنے گناہوں کے بارے جھوٹے بہانے بنائیں اور بتائیں کہ ہم بتانے کی کوشش کریں کہ ہم نے تو کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔ بلکہ ہم کو حضرت دوادؑ کی سنت پر عمل کرنا چاہئے۔ جب حضرت داودؑ سے گناہ ہوا تو اُنہوں نے اپنے گناہ سے توبہ کی اور اُس کا اعتراف کیا۔

‘اَے خُدا! اپنی شفقت کے مُطابِق مُجھ پر رحم کر۔ اپنی رحمت کی کثرت کے مُطابِق میری خطائیں مِٹا دے۔ میری بدی کو مُجھ سے دھو ڈال اور میرے گُناہ سے مُجھے پاک کر۔ کیونکہ مَیں اپنی خطاؤں کو مانتا ہُوں اور میرا گُناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔ مَیں نے فقط تیرا ہی گُناہ کِیا ہے اور وہ کام کِیا ہے جو تیری نظر میں بُرا ہے تاکہ تُو اپنی باتوں میں راست ٹھہرے اور اپنی عدالت میں بے عَیب رہے۔ دیکھ! مَیں نے بدی میں صُورت پکڑی اور مَیں گُناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا ۔ دیکھ تُو باطِن کی سچّائی پسند کرتا ہے اور باطِن ہی میں مُجھے دانائی سِکھائے گا۔ زُوفے سے مُجھے صاف کر تو مَیں پاک ہُوں گا۔ مُجھے دھو اور مَیں برف سے زِیادہ سفید ہُوں گا۔ مُجھے خُوشی اور خُرّمی کی خبرسُنا تاکہ وہ ہڈّیاں جو تُو نے توڑ ڈالی ہیں شادمان ہو ں ۔ میرے گُناہوں کی طرف سے اپنا مُنہ پھیرلے اور میری سب بدکاری مِٹا ڈال۔ اَے خُدا! میرے اندر پاک دِل پَیداکر اور میرے باطِن میں از سرِنو مُستقِیم رُوح ڈال ۔ مُجھے اپنے حضُور سے خارِج نہ کر اور اپنی پاک رُوح کو مُجھ سے جُدا نہ کر۔ اپنی نجات کی شادمانی مُجھے پِھر عِنایت کر اور مُستعِد رُوح سے مُجھے سنبھال۔ ‘

زبور 51: 1-12

توبہ کا پھل

جب ہم توبہ اور گناہ کا اعتراف کرلیتے ہیں تو پھر ہم مختلف طریقے سے زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لوگوں نے حضرت یحییٰ ؑ سے کہا کہ وہ کیسے اپنی زندگی میں توبہ کے مطابق پھل لائیں۔ تو اس کے بارے میں انجیلَ مقدس میں اس کے بارے میں اس طرح آیا ہے۔

‘لوگوں نے اُس سے پُوچھا پِھر ہم کیا کریں؟ اُس نے جواب میں اُن سے کہا جِس کے پاس دو کُرتے ہوں وہ اُس کو جِس کے پاس نہ ہو بانٹ دے اور جِس کے پاس کھانا ہو وہ بھی اَیسا ہی کرے اور محصُول لینے والے بھی بپتِسمہ لینے کو آئے اور اُس سے پُوچھا کہ اَے اُستاد ہم کیا کریں؟ اُس نے اُن سے کہا جو تُمہارے لِئے مُقرّرہے اُس سے زِیادہ نہ لینا اور سِپاہیوں نے بھی اُس سے پُوچھا کہ ہم کیا کریں؟ اُس نے اُن سے کہا نہ کِسی پر ظُلم کرو اور نہ کِسی سے ناحق کُچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کِفایت کرو ‘

لوقا 3: 10-14

کیا حضرت یحییٰ ؑ مسیح تھے؟

اُن کی تبلیغ میں خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھ کر لوگ حیران تھے۔ اور یہ خیال کرتے تھے کہ شاید وہ مسیح ہیں۔

انجیل مقدس میں اس کے بارے میں اس طرح آیا ہے۔

‘جب لوگ مُنتظِرتھے اور سب اپنے اپنے دِل میں یُو حنّا کی بابت سوچتے تھے کہ آیا وہ مسِیح ہے یا نہیں تو یُوحنّا نے اُن سب سے جواب میں کہا مَیں تو تُمہیں پانی سے بپتِسمہ دیتا ہُوں مگر جو مُجھ سے زورآور ہے وہ آنے والا ہے  مَیں اُس کی جُوتی کا تسمہ کھولنے کے لائِق نہیں  وہ تُمہیں رُوحُ القُدس اور آگ سے بپتسِمہ دے گا اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے تاکہ وہ اپنے کھلیہان کو خُوب صاف کرے اور گیہُوں کو اپنے کھتّے میں جمع کرے مگر بُھوسی کو اُس آگ میں جلائے گا جو بُجھنے کی نہیں پس وہ اَور بُہت سی نصیحت کر کے لوگوں کو خُوشخبری سُناتا رہا ‘

لوقا 3: 15-18

اختتامیہ

حضرت یحییٰ ؑ اس لیے آئے کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کے لیے تیار کرسکیں جو آنے والی تھی۔

لیکن اُس نے اُن کو شریعت کی تعلیم دے کر تیار نہیں کیا تھا۔ بلکہ اُس نے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے توبہ اور اُسکا اعتراف کرنے کی تعلیم دی۔ دراصل یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے کہ کوئی اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔

یہ اُس وقت کے مذہبی راہنما تھے۔ جنہوں نے اپنے گناہوں کو چھپایا اور نہ توبہ کی اور نہ ہی اُن کا اعتراف کیا۔ اس کی بجائے اُنہوں نے اپنے مذہی کاموں کے وسیلے اپنے گناہوں کو چھپایا۔ لیکن اپنی اس انتخاب کی وجہ سے وہ مسیح کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اور نہ ہی وہ اللہ تعالیٰ کی آںے والے بادشاہی کو سمجھ سکے۔ حضرت یحییٰ ؑ کی انتباہ آج ہمارے لیے بھی اُسی طرح ہے جس طرح یہ اُس وقت تھی۔ حضرت یحییٰ ؑ چاہتا ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اُن کا خدا تعالیٰ کے حضور اعتراف کریں۔

 کیا میں اور آپ ایسا کریں گے؟

حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش: انبیاء اکرام نے پیش گوئی کی اور حضرت جبرائیل نے اعلان کیا

پچھلے اسباق میں ہم نے زبور اور تورات شریف کے سروے کو مکمل کیا ہے۔ ہم نے زبور شریف کے مطالعہ کے دوران مستقبیل میں پورے ہونے والے وعدوں کا اندازہ لگایا۔

لیکن زبور شریف کی تکمیل ہوجانے کے بعد چار سو سال گزرگے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ بہت سے مذہبی اور سیاسی واقعات اسرائیل کی تاریخ میں رونما ہوئے۔ لیکن وہ نبوتوں اور وعدوں کے انتظار میں رہے اور کوئی بھی نبی اس دور(چار سو سال) میں ناذل نہ ہوا۔ تاہم اسرائیل نے ہیرودیس اعظم کی حکمرانی کے دور میں ہیکل کو تعمیر کروایا اور اس کو اس قدر خوبصورت بنایا۔ کہ پوری رومی دنیا میں اس کی شان وشوکت مشہور تھی۔ اور اس میں قربانیاں اور عبادت مسلسل ہورہیں تھیں۔ اگرچہ ابھی اسرائیلی بہت زیادہ مذہبی اور دِلی طور پر بت پرستی کو اپنے درمیان سے ختم کررہے تھے۔ جس بت پرستی کی وجہ سے وہ انبیاء اکرام کے دور میں  پھنس گئے تھے۔  جس طرح آج ہم میں سے اکثر مذہبی سرگرمیوں میں مصروف تو ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے دلوں کو حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔  الہذ! ہیرودیس اعظم کے اختامی دور 5 ق م کے دور میں ایک نبی حیرت انگیز اور زبردست پیغام کے ساتھ۔ نازل ہوا۔

حضرت جبرائیل نے حضرت یحیٰی کی آمد کا اعلان کیا

اس پیغام دینے والا حضرت جبرائیل تھا۔ ا حضرت جبرائیل کو کتابِ مقدس (بائبل) میں مقرب فرشتے کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔ حضرت جبرائیل کتابِ مقدس میں آخری دفعہ حضرت دانیال نبی کو آنے والے مسیح (یہاں دیکھیں) کے بارے میں بتانے کے لیے نازل ہوا تھا۔ اب حضرت جبرائیل حضرت زکریا پر نازل ہوا، جب وہ ہیکل میں بطور کاہین خدمت کر رہا تھا۔ حضرت زکریا اور اُس کی بیوی دونوں بوڑھے تھے اور اُنکی کوئی اولاد نہ تھی۔ لیکن حضرت جبرائیل اس پیغام کے ساتھ نازل ہوا۔ جو انجیل شریف میں موجود ہے۔

 مگر فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے زکریا ہ! خَوف نہ کر کیونکہ تیری دُعا سُن لی گئی اور تیرے لِئے تیری بِیوی اِلیشِبَع کے بیٹا ہو گا O تُو اُس کا نام یُوحنّا رکھنا14اور تُجھے خُوشی و خُرّمی ہو گی اور بُہت سے لوگ اُس کی پَیدایش کے سبب سے خُوش ہوں گے15کیونکہ وہ خُداوندکے حضُور میں بزُرگ ہو گا اور ہرگِز نہ مَے نہ کوئی اَور شراب پِیئے گا اور اپنی ماں کے بَطن ہی سے رُوحُ القُدس سے بھر جائے گا16اور بُہت سے بنی اِسرائیل کو خُداوندکی طرف جو اُن کا خُدا ہے پھیرے گا17اور وہ ایلیّا ہ کی رُوح اور قُوّت میں اُس کے آگے آگے چلے گا کہ والِدوں کے دِل اَولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راست بازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خُداوند کے لِئے ایک مُستعِد قَوم تیّار کرےO

18زکریا ہ نے فرِشتہ سے کہا مَیں اِس بات کو کِس طرح جانُوں؟ کیونکہ مَیں بُوڑھا ہُوں اور میری بِیوی عُمر رسِیدہ ہےO

19فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا مَیں جبرا ئیل ہُوں جو خُدا کے حضُور کھڑا رہتا ہُوں اور اِس لِئے بھیجا گیا ہُوں کہ تُجھ سے کلام کرُوں اور تُجھے اِن باتوں کی خُوشخبری دُوں20اور دیکھ جِس دِن تک یہ باتیں واقِع نہ ہو لیں تُو چُپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا O اِس لِئے کہ تُو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر پُوری ہوں گی یقِین نہ کِیاO                                 لوقا 1: 13-20

 زبور شریف کے اختتام پر یہ بتایا گیا تھا۔ کہ مسیح کی راہ کی تیاری کے لیے آنے والا نبی حضرت ایلیا نبی کی طرح کا ہوگا۔ حضرت جبرائیل نے اس وعدے کو حضرت زکریا کو یاد کروایا۔ کہ وہ ایلیاہ کی رُوح اور قُوّت میں اُس کے آگے آگے چلے گا ۔ وہ اس لیے آرہا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں کو خداوند کے لیے تیار کرے۔ اس اعلان کا مطلب تھا۔ کہ جو نبوتیں اور وعدے کیے گے تھے۔ اُن کو اللہ تعالیٰ نے بھلا نہیں دیا۔ بلکہ ان وعدوں کو حضرت زکریا اور اُسکی بیوی کی زندگی میں اُن کے گھر پیدا ہونے والے بچے کے زریعے پورا ہونے جارہا تھے۔ تاہم، حضرت زکریا نے اس پیغام پر یقین نہ کیا اور اس لیے اُس کا بھولنا حضرت یحیٰی کی پیدائش تک بند کردیا گیا۔

حضرت جبریل ایک کنواری سے پیدا ہونے والے کی پیدائش کا اعلان کرتا ہے

اس تیاری کا مطلب یہ تھا۔ کہ لوگوں کو مسیح / مسیحا/ کرائسٹ کی آمد کے لیے تیار کیا جائے۔ یقینی طور پر چند مہینوں بعد حضرت جبرائیل جلیل کے گاوں کی ایک کنواری کے پاس ایک پیغام کے ساتھ بھیجے گئے۔ اور یہ پیغام انجیل شریف میں موجود ہے۔

 28اور فرِشتہ نے اُس کے پاس اندر آ کر کہا سلام تُجھ کو جِس پر فضل ہُؤا ہے! خُداوند تیرے ساتھ ہے. 29وہ اِس کلام سے بُہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کَیسا سلام ہے

 30فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے مر یم! خَوف نہ کر کیونکہ خُدا کی طرف سے تُجھ پر فضل ہُؤا ہے.31اور دیکھ تُو حامِلہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گااُس کانام یِسُو ع رکھنا. 32وہ بزُرگ ہو گا اور خُدا تعالےٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؤُد کا تخت اُسے دے گا 33اور وہ یعقُو ب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخِر نہ ہو گا

34مریم نے فرِشتہ سے کہا یہ کیوں کر ہو گا جبکہ میں مَرد کو نہیں جانتی؟

35اور فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ رُوحُ القُدس تُجھ پر نازِل ہو گا اور خُدا تعالےٰ کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مَولُودِ مُقدّس خُدا کا بیٹاکہلائے گا36اور دیکھ تیری رِشتہ دار اِلیشِبَع کے بھی بُڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور اب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے 37کیونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہو گا

38مریم نے کہا دیکھ مَیں خُداوندکی بندی ہُوںمیرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہوتب فرِشتہ اُس کے پاس سے چلا گیا                                                            لوقا 1: 28-38

   ۔ حضرت جبرائیل کے اعلان میں ہم ایک حیران کردینے والی بات "خدا کا بیٹا” کو سنتے ہیں۔ میں نے اپنے مضمون میں اس کے بارے میں مزید بحث کی ہے (جو یہاں موجود ہے)۔ لیکن ہم پیدائش کے بارے میں اپنے مضمون کو جاری رکھیں گے۔

حضرت یحیٰی نبی کی پیدائش

جس طرح زبور شریف میں پیش گوئی کی گئی تھی۔ یہ واقع پیش گوئی کے مطابق بلکل اُسی طرح رونما ہوا۔

حضرت ملاکی نبی نے راہ کی تیاری کرنے والے کے بارے بتایا تھا۔ کہ وہ حضرت ایلیا کی روح اور قوت میں چلے گا۔ اب حضرت جبرائیل اُس کی پیدائش کی خبر لیے کر موجود ہوا۔ انجیل شریف اس واقع کو اس طرح بیان کرتی ہے۔

57اور اِلیشِبَع کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچا اور اُس کے بیٹا ہُؤا 58اور اُس کے پڑوسِیوں اور رِشتہ داروں نے یہ سُن کر کہ خُداوندنے اُس پر بڑی رحمت کی اُس کے ساتھ خُوشی منائی

59اور آٹھویں دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ لڑکے کا خَتنہ کرنے آئے اور اُس کا نام اُس کے باپ کے نام پر زکر یاہ رکھنے لگے60مگر اُس کی ماں نے کہا نہیں بلکہ اُس کا نام یُوحنّا رکھّا جائے

61اُنہوں نے اُس سے کہا کہ تیرے کُنبے میں کِسی کا یہ نام نہیں 62اور اُنہوں نے اُس کے باپ کو اِشارہ کِیا کہ تُو اُس کا نام کیا رکھنا چاہتا ہے؟

63اُس نے تختی منگا کر یہ لِکھا کہ اُس کا نام یُوحنّا ہے اور سب نے تعجُّب کِیا64اُسی دَم اُس کا مُنہ اور زُبان کُھل گئی اور وہ بولنے اور خُدا کی حمد کرنے لگا 65اور اُن کے آس پاس کے سب رہنے والوں پر دہشت چھا گئی اور یہُودیہ کے تمام پہاڑی مُلک میں اِن سب باتوں کا چرچا پَھیل گیا 66اور سب سُننے والوں نے اُن کو دِل میں سوچ کر کہا تو یہ لڑکا کَیسا ہونے والا ہے؟ کیونکہ خُداوند کا ہاتھ اُس پر تھا                                            لوقا 1: 57-66

حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش

حضرت یسعیاہ نے ایک بے مثال پیش گوئی (یہاں مکمل وضاحت کے لیے کلک کریں۔) کی تھی۔ جو اس طرح ہے۔

لیکن خُداوند آپ تُم کو ایک نِشان بخشے گا ۔ دیکھو ایک کُنواری حامِلہ ہو گی اور بیٹا پَیدا ہو گا اور وہ اُس کانام عِمّانُوایل رکھّے گی۔                                      یسعیاہ 7: 14

 اب مقرب فرشتہ جبرائیل حضرت مریم کو پیدائش کی خبر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک کنواری خاتون کے پاس آیا۔  جس نبوت کو حضرت یسعیاہ نے لمبے عرصے پہلے بتادیا تھا۔ اور یہ اُسکی تکمل تھی۔ اس کو انجیل شریف میں اس طرح درج کیا گیا ہے۔

4پس یُوسف بھی گلِیل کے شہر ناصرۃ سے داؤُد کے شہر بَیت لحم کو گیا جو یہُودیہ میں ہےاِس لِئے کہ وہ داؤُد کے گھرانے اور اَولاد سے تھا 5تاکہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو حامِلہ تھی نام لِکھوائے 6جب وہ وہاں تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچا 7اور اُس کا پہلوٹابیٹا پَیدا ہُؤا اور اُس نے اُس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھّاکیونکہ اُن کے واسطے سرائے میں جگہ نہ تھی.

8اُسی عِلاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو مَیدان میں رہ کر اپنے گلّہ کی نِگہبانی کر رہے تھے9اور خُداوندکا فرِشتہ اُن کے پاس آ کھڑا ہُؤا اور خُداوندکا جلال اُن کے چَوگِرد چمکا اور وہ نِہایت ڈر گئے10مگر فرِشتہ نے اُن سے کہا ڈرو مت کیونکہ دیکھو مَیں تُمہیں بڑی خُوشی کی بشارت دیتا ہُوں جو ساری اُمّت کے واسطے ہو گی.11کہ آج داؤُد کے شہر میں تُمہارے لِئے ایک مُنجّی پَیدا ہُؤا ہے یعنی مسِیح خُداوند.12اور اِس کا تُمہارے لِئے یہ نِشان ہے کہ تُم ایک بچّہ کو کپڑے میں لِپٹا اور چرنی میں پڑا ہُؤا پاؤ گے.

13اور یکایک اُس فرِشتہ کے ساتھ آسمانی لشکر کی ایک گروہ خُدا کی حمد کرتی اور یہ کہتی ظاہِر ہُوئی کہ.

14عالَمِ بالا پر خُدا کی تمجِید ہو

اور زمِین پر اُن آدَمِیوں میں جِن سے وہ راضی ہے صُلح.

15جب فرِشتے اُن کے پاس سے آسمان پر چلے گئے تو اَیسا ہُؤا کہ چرواہوں نے آپس میں کہا کہ آؤ بَیت لحم تک چلیں اور یہ بات جو ہُوئی ہے اور جِس کی خُداوند نے ہم کو خبر دی ہے دیکھیں

16پس اُنہوں نے جلدی سے جا کر مریم اور یُوسف کو دیکھا اور اُس بچّہ کو چرنی میں پڑا پایا 17اور اُنہیں دیکھ کر وہ بات جو اُس لڑکے کے حق میں اُن سے کہی گئی تھی مشہُور کی18اور سب سُننے والوں نے اِن باتوں پر جو چرواہوں نے اُن سے کہِیں تعجُّب کِیا 19مگر مر یم اِن سب باتوں کو اپنے دِل میں رکھ کر غَور کرتی رہی. 20اور چرواہے جَیسا اُن سے کہا گیا تھا وَیسا ہی سب کُچھ سُن کر اور دیکھ کر خُدا کی تمجِید اور حمد کرتے ہُوئے لَوٹ گئے

21جب آٹھ دِن پُورے ہُوئے اور اُس کے خَتنہ کا وقت آیا تو اُس کا نام یِسُو ع رکھا گیا جو فرِشتہ نے اُس کے رَحِم میںپڑنے سے پہلے رکھّا تھا                  لوقا 2: 4-21

آنے والے دونوں عظیم انبیاء اکرام کا کردار

یہ دونوں عظیم انبیاء اکرام ایک دوسرے سے چند مہینوں کے عرصے کے وقفے میں پیدا ہوئے۔ دونوں کے بارے میں سینکڑوں سال پہلے کی گئیں پیشن گوئیاں پوری ہوئیں۔ اُن کی زندگیوں سے ہمارے لیے کیا پیغام ملتا ہے؟ حضرت یحیٰی کے والد حضرت زکریا نے دونوں کے بارے میں نبوت کی۔

67اور اُس کا باپ زکر یاہ رُوحُ القُدس سے بھر گیا اور نبُوّت کی راہ سے کہنے لگا کہO

68خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کی حمد ہو

کیونکہ اُس نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کر کے اُسے

چُھٹکارا دِیاO

69اور اپنے خادِم داؤُد کے گھرانے میں

ہمارے لِئے نجات کا سِینگ نِکالاO

70(جَیسا اُس نے اپنے پاک نبِیوں کی زُبانی کہا تھا

جو کہ دُنیا کے شرُوع سے ہوتے آئے ہیں)O

71یعنی ہم کو ہمار ے دُشمنوں سے

اور سب کِینہ رکھنے والوں کے ہاتھ سے نجات

بخشیO

72تاکہ ہمارے باپ دادا پر رحم کرے

اور اپنے پاک عہد کو یاد فرمائےO

73یعنی اُس قَسم کو جو اُس نے ہمارے باپ ابرہا م

سے کھائی تھیO

74کہ وہ ہمیں یہ عِنایت کرے گا کہ اپنے دُشمنوں

کے ہاتھ سے چُھوٹ کرO

75اُس کے حضُور پاکِیزگی اور راست بازی سے

عُمر بھر بے خَوف اُس کی عِبادت کریںO

76اور اَے لڑکے تُو خُدا تعالےٰ کا نبی کہلائے گا

کیونکہ تُو خُداوند کی راہیں تیّار کرنے کو اُس

کے آگے آگے چلے گاO

77تاکہ اُس کی اُمّت کو نجات کا عِلم بخشے

جو اُن کو گُناہوں کی مُعافی سے حاصِل ہوO

78یہ ہمارے خُدا کی عَین رحمت سے ہوگا

جِس کے سبب سے عالمِ بالا کا آفتاب ہم پر

طلُوع کرے گاO

79تاکہ اُن کو جو اندھیرے اور مَوت کے سایہ میں

بَیٹھے ہیں رَوشنی بخشے

اور ہمارے قدموں کو سلامتی کی راہ پر ڈالےO      لوقا 1: 67-79

حضرت زکریا نے حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کے بارے حضرت داود نبی کی معرفت حوصلہ افزائی کی  پیشن گوئیوں کو دوہرایا۔ جن کا حضرت ابراہیم کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ (یہاں وعدوں کو جاننے کے لیے کلک کریں) اللہ تعالٰی کا منصوبہ جو صدیوں پہلے بیان کیا جا چکا تھا۔ اب اپنے عروج پر تھا۔ لیکن اس منصوبے میں کیا تھا۔ کیا اس رومی حکومت سے نجات حاصل کرنا مراد تھی؟ کیا حضرت موسیٰ کی شریعت کو تبیل کرکے ایک نئی شریعت نافذ کرنا مراد تھی؟ یا کیا کوئی نیا مذہب یا نئی سیاسی نظام متعارف کروانا مراد تھا۔ ان میں سے کوئی (اس میں ہم جیسے انسانوں کی سوچ شامل نہیں تھی)  بھی ایک نہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بجائے اس منصوبے کی وضاحت اس طرح تھی۔

کہ اپنے گناہوں کی معافی کے زریعے نجات حاصل کریں اور تاکہ ہم اُس خدا واحد کی عبادت پاکیزگی اور راستبازی کے ساتھ کریں۔ یہ خدا کی ہم پر رحمت تھی۔ اور اُن پر جو موت کی وادی میں رہتے تھے کامل راہنمائی۔ حضرت آدم سے لیکر ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے موت کی قید میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے منصوبے کا اعلان حضرت آدم، اماں حوا اور ابلیس کے سامنے کردیا تھا۔ کہ ایک شخص عورت کی نسل پیدا ہوگا۔  یقیناً اس قسم کا منصوبہ کسی جنگ، یا نظام سے بہتر تھا کہ ہم اُس پر عمل کرتے۔ اس منصوبے سے ہم اپنی اہم ضروریات کو پورا کرسکتے تھے۔ لیکن یہ کس طرح منصوبہ تیار کیا گیا اور بیان کیا گیا کہ مسیح آئے گا۔ ہم اپنے ان جوابات کے بارے میں معلوم کرتے جائیں گے۔ جیسے جیسے ہم انجیل شریف کے مطالعہ میں بڑھتے جائیں گے۔