موسیٰ کا دوسرا نشان : شریعت

حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی “شریعت”

ہم نے حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی ” فسح ” میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ مصر کے تمام پہلوٹھے مارجائیں گے۔ لیکن جن گھروں میں مینڈھوں کو ذبح کیا جائے گا وہ پہلوٹھے بچ جائیں گے۔ اور اُن گھروں کے دروازے کی چوکھٹوں پر خون لگایا جائے گا۔ فرعون نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی کی۔  اور اس طرح اُس کا پہلوٹھا بیٹا مارا گیا۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرئیل کی مصر سے خروج میں راہنمائی کی اور جب فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کررہا تھا۔ وہ بحیرہ احمر (قلزم) میں غرق ہوگیا تھا۔

لیکن حضرت موسیٰ کا بنی اسرئلیوں کو مصر کی غلامی سے نکلانے کا ہی کردار نہیں تھا۔ بلکہ زندگی کے ایک نئے راستے پر انکی قیادت کرنا تھی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے ایک نئی شریعت قائم کی ۔ چنانچہ مصر سے نکلنے کے تھوڑے عرصے بعد اسرئیلی کوہ سینا کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں سے حضرت موسیٰ 40 دن کے لیے کوہ سینا پر شریعت لینے کے لیے چلا گیا۔ قرآن شریف میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح آیا ہے۔

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر طور کو اونچا کیا لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔             سورۃ البقرہ 2: 63

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے بائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا۔    سورۃ اعراف 7: 142

چنانچہ حضرت موسیٰ نے کون سی شریعت کو حاصل کیا؟ اگرچہ پوری شریعت کافی لمبی تھی (جن میں 613 ایسے قانون تھے۔ جن میں کچھ چیزوں کی اجازت ملی اور کئی کی نہیں۔ اور بتایا گیا کہ کون سی چیز حلال ہے اور کون سی چیز حرام ہے) یہ تمام احکامات مل کر تورات شریف بناتے ہیں۔ سب سے پہلے حضرت موسیٰ نے پتھر کی بنی تختیاں لیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پاتھوں سے مخصوص احکام لکھے۔ جن کو ہم دس احکام کہتے ہیں۔ جو تمام دوسرے قواعد و ضوابط کی بنیاد بنے۔ یہ دس احکام شریعت کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ جو تمام دوسرے قوانین کے لیے لازمی شرط تھی۔ قرآن شریف اس آیت میں حوالہ دیتا ہے۔

اور ہم نے ان کے لئے (تورات کی) تختیوں میں ہر ایک چیز کی نصیحت اور ہر ایک چیز کی تفصیل لکھ دی (ہے) ، تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو اور اپنی قوم کو (بھی) حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں کو اختیار کرلیں۔ میں عنقریب تمہیں نافرمانوں کا مقام دکھاؤں گا

    میں اپنی آیتوں (کے سمجھنے اور قبول کرنے) سے ان لوگوں کو باز رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں (تب بھی) اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھ لیں (پھر بھی) اسے (اپنا) راستہ نہیں بنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھ لیں (تو) اسے اپنی راہ کے طور پر اپنالیں گے، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل بنے رہے

           ( 145-146: 7     سورۃ الاعراف)

دس احکام

                        قرآن شریف ہمیں بتاتا ہے۔ کہ ان دس احکام کو اللہ تعالیٰ نے خود پتھر کی تختیوں پر لکھا تھا۔ جو ہمارے لیے ایک نشان تھا۔ لیکن یہ تمام احکام کیا تھے؟ یہ تمام احکام یہاں پر خروج کی کتاب میں سے دیئے گے ہیں۔ جن کو حضرت موسیٰ نے پتھر کی تختیوں سے خود نقل کیا تھا۔ جو درج ذیل ہیں۔

 1اور خُدا نے یہ سب باتیں فرمائیں کہ ۔
2 خُداوندتیرا خُدا جو تُجھے مُلِک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہُوں۔
3 میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا ۔
4 تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مُورت نہ بنا نا ۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔
5 تو اُنکے آگے سجدہ نہ  کرنا اور نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیرا خُدا غیور خُدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں انکی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں ۔
6 اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں ۔
7 تو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اسکا نام بے فائدہ لیتا ہے خُداوند اسے بے گناہ نہ ٹھہرائیگا۔
8 یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا ۔
9 چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا ۔
10  لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرابیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔
11 کیونکہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اسلئے خُداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔
12 تو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اس مُلِک میں جو خُداوند تیرا خُدا تُجھے دیتا ہے دراز ہو ۔
13 تو خُون نہ کر ۔
14 تُو زِنانہ نہ کر۔ّ
15 ) تُو چوری نہ کر۔
16 تو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا ۔
17  تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا ۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اسکے غلام اور اسکی لونڈی اور اسکے بیل اور اسکے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا ۔
18 اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔

                                                                                                     خروج 20: 1-18

اکثر ایسا لگتا ہے ہم جو مختلف ممالک میں رہتے ہیں۔ ان احکامات کو بھول گے ہیں۔ کو ئی اُن کا مشورہ نہیں دیتا، ان کی کوئی سفارش نہیں کرتا، اور نہ ہی کوئی ان کو سمجھتا تھا۔ یہ احکام اس لیے دئیےگئے تھے۔ کہ ان کی فرنبرداری کی جائے۔ یہ شریعت تھی اور بنی اسرائیل کو خدا کا خوف اور اُسکی شریعت کو ماننا تھا۔

اطاعت کا معیار

                        لیکن یہ ایک اہم سوال ہے۔ اُن کو کتنے زیادہ احکامات کی ضرورت تھی؟ درجہ ذیل آیت دس احکام کے دئیے جانے سے پہلے کی ہے۔

2   اور جب وہ رفیدیم سے روانہ ہو کر سِینا کے بیابان میں آئے تو بیا بان ہی میں ڈیرے لگالئے ۔ سو وہیں پہاڑ کے سامنے اِسرائیلیوں کے ڈیرے لگے ۔
3  اور مُوسیٰ اُس پر چڑھکر خُدا کے پاس گیا اور خُداوند نے اُسے پہاڑ پر سے پُکار کر کہا کہ تو یعقوب کے خاندان سے یوں کہہ اور بنی اِسرائیل کو سُنا دے ۔
4  کہ تُم نے دیکھا کہ میں نے مصریوں سے کیا کیا کیا اور تُم کو گویا عُقاب کے پروں بیٹھاکر اپنے پاس لے آیا ۔
5  سو اب اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میرےمیری خاص مِلکیت ٹھہرو گے کیو نکہ ساری زمیں میری ہے ۔                      خروج 19: 2-5

اور یہ آیت دس احکام کے دئیے جانے کے فوراً بعد دی گئی۔

پھر اُس نے عہد نامہ لیا اور لو گوں کو پڑھکر سُنا یا ۔ اُنہوں نے کہا کہ جو کُچھ خُداوند نے فرما یا ہے اُس سب کو ہم کر یں گے اور تا بع رہں گے ۔                                          خروج 24: 7

تورات شریف کی آخری کتاب (استثنا) میں حضرت موسیٰ نےآخری پیغام دیا۔ اُس نے اس میں شریعت کی فرمانبرداری کا خلاصہ بیان کیا۔

24  سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔                                               استثنا 6: 24-25

راستبازی کو حاصل کرنا

                                    یہاں پر یہ لفظ “راستبازی” دوبارہ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت اہم لفظ ہے۔ ہم نے اس کو پہلے حضرت آدم کے نشان میں سیکھا تھا۔ جب اللہ تعالٰی نے ہمیں حضرت آدم کی اولاد کہا تھا۔

  1. اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اور (اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک باطنی لباس بھی اتارا ہے اور وہی) تقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریںo سورۃ اعراف 7: 26

پھر ہم نے حضرت ابراہیم کے نشان میں سیکھا جب اللہ تعالیٰ نے بیٹا دینے کا وعدہ کیا۔ اور حضرت ابراہیم نے اس وعدہ پر بھروسہ کیا اور پھر یہ کہا گیا۔

 اور وہ خُداوند پر ایمان لایا اور اِسے اُس نے اُسکے حق میں راستبازی شمار کیا ۔

                                                                                                                        پیدائش 15: 6

(برائے مہربانی راستبازی کو مکمل طور پر جاننے کے لیے “حضرت ابراہیم کی دوسری نشانی” کا مطالعہ کریں)

  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔     استثنا 6: 25

مگر راستبازی حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔  اس کے لیے ہمیں بتایا جاتا ہے۔ کہ ہمیں شریعت کی کُلی طور پر اطاعت کرنا ہے اور پھر ہم راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے ہمیں حضرت آدم کی نشانی یاد آجاتی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالٰی کی ایک بات کی نافرمانی سے وہ جنت سے نکلا دیئے گے تھے۔ اللہ تعالیٰ اور مختلف نافرمان کاموں کا انتظار نہیں کرتا۔ اسطرح کا کام حضرت لوط کی نشانی میں اُس کی بیوی کے ساتھ ہوا۔ ہمیں یہ ساری صورت حال تورات شریف کی عظمت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ میں یہاں پربہت ساری توارت شریف کی آیت رکھی ہیں (یہاں کلک کریں) جن سے ہم جان سکیں گے کہ راستبازی کو حاصل کرنے کاکیسا معیار ہونا چایئے۔

اب آئیں چند لمحوں کے لیے اس کے مطلب کے بارے میں سوچیں۔ کئی بار یونیورسٹی کے کورس میں ایسا ہوتا ہے۔ پروفیسر ہمیں امتخان میں بہت سے سوال دیتے ہیں۔ (مثال کے طور پر 25 سوالات) اور اُن سے کچھ سوالات جن کو ہم چن لیتے ہیں اُن کا جواب تحریر کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور جسطرح ہم 25 سوالات میں سے 20 کو چن کر اُن کا امتخان میں جواب لکھ دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی ایک طالب علم کو ایک سوال مشکل لگتا ہو اور وہ اُس کو چھوڑ کر دوسرا سوال چُن لے۔ اس طرح دوسرا طالب علم اُس چھوڑے ہوئے کو آسان سمجھ کر اُس کا جواب لکھ دے۔ حقیقت میں ہمیں 25 میں سے 20 سوالوں کا چناو کرنا ہے۔ اس طرح سے پروفیسر امتخان کو ہمارے لیے آسان بنا رہا ہوتا ہے۔

بہت سارے لوگ شریعت کے ان دس احکام کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ دس احکام دیئے۔ تو اسکا مطلب تھا کہ ان دس احکام میں سے کوئی سے پانچ احکام کو چن لیں۔ لیکن یہ ہمیں اس لیے نہیں دئیے گے تھے کہ کچھ کو چن لیں اور کچھ کو چھوڑ دیں۔ یہ ہمیں اس لیے دئیے گے کہ ہمیں ان سب کی فرمانبرداری کرنی ہے اور ان سب حکموں کو تھامے رکھنا ہے۔ ان میں ہم کسی کو چن اور کسی کو  چھوڑ نہیں سکتے۔ صرف شریف کی فرمانبرداری کُلی طور کرنے کی وجہ سے راستباز بن سکتے ہیں۔

لیکن پھر کیوں کچھ لوگ شریعت کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ؟ کیونکہ شریعت پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ خاص طور پر یہ ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ساری زندگی اسکی پیروی کرنا پٹرتی ہے۔ یہ تو بٹرھا آسان ہے کہ یم اپنے آپ کو دھوکہ دیں اور اس معیار پر نہ پہنچ سکیں۔ پرائے مہربانی ان احکامات کو دوبارہ سے دیکھیں اور اپنے آپ سے پوچھیں۔ کیا میں ان احکامات کی فرمانبرداری کر سکوگا؟ تمام کی ؟ ہر روز ؟ بغیر کسی حکم کو توڑے ؟ ہمیں بت پرستی سے، ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، زناکاری ، چوری ، قتل ، جھوٹ بولنا ، وغیرہ سے نمٹنا پٹرتا ہے۔ یہ تمام احکام سدا بہار ہیں اور ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان کی اطاعت کر سکتے ہیں؟ کوئی بھی ان سوالوں کا جواب دوسرے کو نہیں دے سکتا۔ وہ صرف اپنے آپ کو ہی جواب دے سکتا ہے۔ اور وہ پھر ان کا جواب روزِ مخشر والے دن اللہ تعالیٰ کو دینا پڑے گا۔

اللہ تعالٰی کے حضور تمام اہم سوالات

                        میں یہاں پر ایک سوال پوچھونگا۔ جس کو استثنا 6 : 25 میں سے لیا گیا ہے۔ یہ ذاتی سوال ہے اور آپ اس کا جواب اپنے آپ کو دیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کا جواب شریعت میں سے کیسے دیتے ہیں۔ شریعت مختلف طریقوں سے لاگو ہوتی ہے۔ لہذا احتیاط کے ساتھ وہ جواب سوچو جو آپ کے بارے میں ٹھیک ہو۔ اُس جواب پر کلیک کریں جو آپ کا جواب ہے۔

24  سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔                       استثنا 6: 24-25

 جواب نمبر 1 :             جی ہاں! میں نے سب حکموں کی فرمانبرداری کی ہے یہ میری حقیقت ہے

 جواب نمبر 2 :          جی نہیں! میں نےکسی حکم کی فرمانبرداری نہیں کی اور یہ میری حقیقت ہے۔

 

 

موسیٰ کا نشان نمبر 1: فسح

“حضرت موسٰی کی پہلی نشانی “فسح

تقریباً 500 سال حضرت ابراہیم کو گزرے چکے تھے اور 1500 سال مسیح سے پہلے حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی۔ اب اُن کی نسل جو حضرت اسحاق سے ہوئی تھی اسرائیلی کہلائے جاتے تھے۔ جو ایک بڑی قوم بن چکی تھی۔ لیکن وہ مصر میں غلامی کی زندگی گزار رہے تھے۔ یہ اس لیے ہوا کہ حضرت ابراہیم کا پڑپوتا حضرت یوسف غلام کے طور پر مصر میں فروخت کیا گیا تھا۔ پھر کئی سالوں بعد اس کے خاندان نے اُسکی پیروی کرکے مصر میں ہجرت کی۔ جسکا بیان تورات شریف کی پہلی کتاب پیدائش کے ابواب 45-46 میں زکر پایا جاتا ہے۔

تاہم اب ہم ایک اور عظیم نبی کی نشانی پرہیں۔ جسکا ذکر تورات شریف کی دوسری کتاب خروج میں ملتا ہے۔ اس میں بیان ہے کہ کیسے حضرت موسیٰ نے اسرائیلیوں کو مصرکی غلامی سے رہائی میں راہنمائی کی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو حکم تھا کہ وہ مصر کے فرعون سے ملاقات کرے۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان ایک مقابلہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا۔ کہ اس مقابلے سے نو(9) آفات آئیں۔ جو فرعون کے لیے ایک نشان تھا۔ لیکن فرعون اللہ تعالٰی کی مرضی کے آگے نہ جھکا اور اِن نشانوں کی بھی نافرمانی کرتا رہا۔

دسویں آفت

                                                تاہم اللہ تعالٰی دسویں آفت جو سب سے  زیادہ خطرناک اور ڈراونی لانے والا تھا۔ اس سے پہلے 10 دسویں آفت آتی۔ اس  کے بارے میں تورات شریف ہمیں تیار کرتی اور بتاتی ہے۔ اور قرآن شریف بھی ہمیں ذیل کی آیت میں بتا تا ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل 101 – 102: 17

اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں دیں تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھیئے جب (موسٰی علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا: میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے موسٰی! تم سحر زدہ ہو تمہیں جادو کر دیا گیا ہے

موسٰی (علیہ السلام) نے فرمایا: تو (دل سے) جانتا ہے کہ ان نشانیوں کو کسی اور نے نہیں اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے عبرت و بصیرت بنا کر، اور میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے فرعون! تو ہلاکت زدہ ہو تو جلدی ہلاک ہوا چاہتا ہے

تاہم فرعون پر تباہی اور بربادی آتی ہے۔ لیکن یہ کیسے آئیں؟ اللہ تعالیٰ نے آفات کو ماضی میں مختلف طرح سے بھیجا تھا۔ مثال کے طور پر حضرت نوح کے دنوں میں پوری دنیا پر سیلاب لایا۔ حضرت لوط کی بیوی کو نمک کا ستون بن گئی۔ لیک یہ آفت فرق ہے تاکہ سارے لوگوں کے لیے یہ نشان ہو۔ ایک عظیم نشان جیسے قرآن شریف نے فرمایا ہے۔

سورۃ النازعات 79:20

پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اسے بڑی نشانی دکھائی

آپ دسویں آفت کے بارے میں توریت شریف کی دوسری کتاب “خروج” میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہاں کلیک کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس کو یہاں اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہاں پر بہت اچھی طرح اور تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ ذیل کی وضاحت کو سمجھنے میں مدد بھی دے گا۔

منڈھے کی فسح موت سے بچاتی ہے

                                                کلام اللہ ہمیں یہ بتاتا ہے۔ کہ تباہی کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوچکا تھا۔ کہ پہلوٹھا بیٹا اُس رات مارا جائے گا۔ سوائے اُن لوگوں کے جن کے گھروں میں منڈھے کی قربانی کی جائے گی اور اس کا خون اُس گھر کی چوکھٹوں پر لگایا جائے گا۔ اگر فرعون بھی اس حکم کی تابعداری نہیں کرتا تو اُس کا پہلوٹھا اور اُسکے تخت کا وارث بھی مارا جائے گا۔ اور مصر میں ہر ایک گھر کا پہلوٹھا بیٹا مار دیا جائے گا۔ اگر وہ اس حکم کی تابعداری نہیں کرینگے۔ کہ ایک برّہ کو قربان کرکے اُس کے خون کو اپنے گھر کی چوکھٹوں پر نہ لگائیں گے۔ چنانچہ مصر نے ایک قومی آفت کا سامنا کیا۔

لیکن وہ گھر جس میں برّہ قربان کیا اور اسکا خون گھر کے دروازے کی چوکھٹوں پر لگیا جا چکا تھا۔ اُن سے وعدہ تھا کہ وہ بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی آفت اُس گھر کو چھوڑ جائے گی۔ لہذا وہ دن اور نشان “فسح” کہلایا۔ (تاہم موت ان تمام گھروں کو چھوڑتی گئی جن پر برّے کا خون لگا تھا) لیکن جن دروازوں پر خون کا نشان تھا؟ توریت شریف ہمیں بتاتی ہے۔

خروج 12:27

تو ان سے یہ کہو یہ فسح کی قربانی ہے۔ جو ہم رب کو پیش کرتے ہیں کیونکہ جب رب مصریوں کو ہلاک کررہا تھا تو اُس نے ہمارے گھروں کو چھوڑدیا۔ یہ سُن کر اسرائیلیوں نے اللہ کو سجدہ کیا۔

یہودی کیلنڈرفسح سے شروع ہوتا ہے

 چنایچہ بنی اسرائیل کو حکم تھا وہ ہر سال اُسی دن فسح کی عید منائیں۔ یہودی کیلنڈر عیسوی کیلنڈر سے تھوڑا مختلف ہے۔ کیونکہ اس میں ہر سال دن تھوڑا بدل جاتا ہے۔ اگر عیسوی کیلنڈر پر غور کریں۔ تو یہ ماہ رمضان کے ساتھ بہت ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ اس میں سال کی مختلف لمبئی پائی جاتی ہے۔ جو عیسوی کیلنڈر میں ہر سال چلتی ہے۔ لیکن اُس دن (فسح) سے آج تک 3500 سال گزر گے چکے ہیں۔ یہودی لوگ فسح کو ہر سال مناتے ہیں۔ جو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں واقعہ ہوئی تھی۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے تورات شریف میں اُن کو تابعداری کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہاں پر ایک جدید زمانے کی تصویر ہے۔ جس میں یہودی عید فسح پر برّے قربان کر رہے ہیں۔ یہ بالکل عیدالضحی سے ملتی جلتی ہے۔

اگر ہم اس عید پر تاریخی طور پر غور کریں تو یہ ہمیں بہت ہی غیر معمولی بات کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ آپ اس کو انجیل شریف میں پڑھ سکتے ہیں۔ جہاں حضرت عیسیٰ مسیح کی گرفتاری، مقدمے کی سماعت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

یوحنا 18:28

پھر وہ عیسیٰ کو کائفا کے پاس سے قلعہ کو لے گئے اور صبح کا وقت تھا اور وہ خود قلعہ میں نہ گئے تاکہ ناپاک نہ ہوں بلکہ فسح کھا سکیں۔

یوحنا 18: 39-40

مگر تمہارا دستور ہے کہ میں فسح پر تمہاری خاطر ایک آدمی چھوڑدیا کرتا ہوں۔ پس کیا تم کو منظور ہے کہ میں تمہاری خاطر یہودیوں کے بادشاہ کو چھوڑدوں؟۔

اُنہوں نے چلا کر پھر کہا کہ اِس کو نہیں لیکن برابا کو۔ اور برابا ایک ڈاکو تھا۔

دوسرے الفاظ میں حضرت عیسیٰ مسیح کو صحیح یہودی کیلنڈر کے مطابق فسح کے دن گرفتار کیا گیا اور عمل درآمد کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ اب اگر آپ کو یاد ہو حضرت ابراہیم کی تیسری نشانی اور حضرت یحییٰ نے حضرت عیسیٰ کو ایک لقب دیا تھا۔

یوحنا 1: 29-30

دوسرے دن اُس نے عیسیٰ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھویہ “اللہ کا برّہ” ہے جو دنیا کے گناہ اُٹھالے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔

عیسیٰ مسیح نے فسح پر مذمت کی

یہاں ہم اس نشان کی لاثانیت دیکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح ” اللہ کا برّہ” اُسی دن قربانی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ جس دن تمام یہودی ایک برّہ کی قربانی  کرتے ہیں۔ جو عیسیٰ مسیح سے 1500 سال پہلے واقعہ ہوا جس میں فسح کی قربانی ہر ایک منڈھا قربان ہوا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ یہودی ہرسال عام طور پر اُسی ہفتے میں مناتے ہیں۔ جس ہفتے میں ایسٹر منایا جاتا ہے۔ کیونکہ عیسیٰ مسیح بھی اُسی دن قربان ہونے کے لیے بھجیے گئے تھے۔ (ایسٹر اور فسح ایک ہی دن نہیں منائی جاتے۔ کیونکہ عیسوی اور یہودی کیلنڈر کے سال کی لمبائی کی مختلف ترتیب ہے۔ لیکن دونوں عام طور پرایک ہی ہفتے میں آتے ہیں

اب تھوڑی دیر کے لیے  ہر نشان پرغور کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کچھ ذیل کی تصویر میں نشان دیکھے ہیں؟

جب ہم کھوپڑی اور ہڈیوں کے نشان کو دیکھتے ہیں تو اس سے مراد ہوتی ہے موت اور خطرے کی۔ جب ہم سنہری مہراب دیکھتے ہیں تو میکڈونلڈ کا خیال آتا ہے۔ جب ہم ٹینس کے کھلاڑی کے سر پر گوڈ کا نشان دیکھتے ہیں۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نائیکی کا نشان ہے۔ جب ہم کسی نشان کو دیکھیں تو اس کے بارے میں سوچتیں ہیں۔ دوسرے الفاظ میں نشان ہمارے زہین اشارہ دیتے ہیں ایک خاص چیز کے بارے میں سوچنے کے لیے۔ حضرت موسیٰ کا یہ نشان اللہ تعالیٰ نے ہم کو دیا۔ اللہ تعالٰی نے یہ نشان کیوں دیا؟ ٹھیک اُسی دن جب منڈھوں کی قربانی ہوئی، اُسی دن عیسیٰ مسیح کی قربانی ہمارے لیے ایک اشارہ ہے۔

یہ اُسی طرح نظر آتا ہے جس طرح ہم نے اُوپر تصویر میں دیکھا۔ یہاں پر نشان حضرت عیسیٰ مسیح کی طرف اشارہ دلاتا ہے۔ پہلی فسح میں برّوں کو قربان اور خون بہایا گیا تاکہ لوگ بچ جائیں۔ اسی طرح حضرت عیسٰی مسیح کا نشان ہمیں اس طرف اشارہ دیتا ہے۔ “اللہ تعالیٰ کا برّہ” قربان ہوا تاکہ ہم زندگی پائیں۔

ہم نے حضرت ابراہم کے تیسرے نشان میں دیکھا۔ کہ جہاں حضرت ابراہیم کے اپنے بیٹے کی قربانی کے لیے آزمایا گیا وہ موریا پہاڑتھا۔ لیکن ایک منڈھا اُس کے بیٹے کی جگہ مہیا کیاگیا تھا۔ ایک برّہ مرگیا تاکہ ابراہیم کا بیٹا بچ جائے۔ موریا کا پہاڑ بالکل وہی پہاڑ ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانی دی گئی۔ یہ ایک نشان تھا کہ ہم حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانی پر اُس جگہ کی طرف اشارہ کے بارے میں سوچ سکیں۔ حضرت موسیٰ کے اس نشان میں ہم نے ایک اور اسس طرح کے واقعہ کی تلاش کی ہے۔ حضرت عیسیٰ مسیح کو قربانی کے لیے چھوڑدینا۔ ہمیں کیلنڈر میں موجود اُسی دن ہمیں فسح کی قربانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ برّہ کی قربانی ایک بار پھر اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کیوں؟ ہم اس کو جاری رکھیں گے۔ تاکہ ہم
حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی سے مذید افہام و تہفیم حاصل کرسکیں۔ یہ نشان کوہ سیناہ پر دیا گیا تھا۔

لیکن اس نشان کے آخر پر فرعون کے ساتھ کیا ہوا؟ جس طرح ہم نے تورات شریف میں پڑھا کے اُس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تابعداری نہ کی اور اُس کا پہلوٹھا بیٹا (یعنی اُسکا وارث) اُسی رات مارا گیا۔ اس طرح اُس نے آخر کار اسرائیلیوں کو مصر چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔ لیکن فرعون نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اسرائیلیوں کا تعاقب کرنے کے لیے بحرقلزم کی طرف چڑھ دیا۔ اللہ تعالٰی کے نزدیک سمندر پار کرنے کا مقصد تھا کہ فرعون اپنی فوج کے ساتھ سمندر میں غرق ہوجائے۔ نوآفات کے بعد، فسح پراموات ، مصری فوج کا غرق ہونا، مصر کے لیے ایک ایسی عظیم ابری لے کر آیا کہ مصر دوبارہ پھر کھبی دنیا میں سپرپاور کے طور سے نمایاں نہ ہوسکا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے اُن کا انصاف کردیا۔

کیوں ایک انجیل کے لیے چار اناجیل ہیں؟

میں کبھی پوچھتا ہوں کہ کیوں ایک انجیل(بائیبل مقدس) میں چار مختلف اناجیل ہیں جو چار مختلف لوگوں نے تحریر کی ہیں؟ کیا اس میں متضاد پایا جاتا ہے اور کیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے؟

بائیبل مقدس اس کے بارے میں لکھا ہے۔

3:16-17 تیِمُتھِیُس 2

ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لیے فئدہ مند بھی ہے۔ تاکہ مردِ خدا کامِل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لیے بالکل تیار ہو جائے ۔

لہذا بائبل مقدس کا دعوہ کرتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہی کتابِ مقدس کا مصنف ہے انسانوں نے  اللہ تعالیٰ  کے پاک روح کے وسیلے سے اس کو تحریر کیا ہے۔ اس پر قرآن پوری طرح متفق ہے۔ اس پوسٹ میں ہم نے بڑھے غورسے دیکھا ہے۔قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟”

لیکن کس طرح ایک انجیل میں چار اناجیل کو سمجھ سکتے ہیں؟ قرآن شریف میں اکثر ایک واقعہ کے لیے کئی حصے مختلف جگہ پر درج ہیں۔ جب ہم ان تمام حصوں کو اکٹھا پڑھتے ہیں تو واقعہ کی مکمل تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔

مثال کے طور پر:حضرت آدم ؑ کا نشان کے بارے میں19-7:26 سورۃ الاعراف جنت کے واقعہ کا ذکر ہوا ہے۔ لیکن اسکا ذکر سورۃ ٰطہٰ میں 121-123: 20 میں بھی ذکر ہوا ہے۔ لیکن اس دوسرے حوالے میں ہم اور زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ کہ حضرت آدم ؑ  کو گمراہ کیا گیا تھا۔ جسکا ذکر سورۃ الاعرف میں نہیں ملتا۔ ان دونوں حوالہ جات کو پڑھنے کے بعد ہم حضرت آدم ؑ کے واقعہ کو بہتر اور مکمل طور پر سمجھ پاتے ہیں۔ اور ان دونوں حوالہ جات کا یہی مقصد تھا کی ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔

اسی طرح چار اناجیل (کتابِ مقدس) بائبل مقدس میں ہمیشہ اور صرف ایک ہی انجیل کو پیش کرتی ہیں۔ جب ہم ان کو اکٹھا پڑھتے ہیں۔ تو یہ ہم کو حضرت عیسی کی انجیل کی مکمل سمجھ بخشتی ہیں۔ ہر چوتھی انجیل میں ایک خاص مواد ملتا ہے جو دوسری تینوں اناجیل میں نہیں ملتا۔ اس طرح جب ہم ان کو اکٹھا پڑھتے ہیں۔ تو یہ ہم کو واضع تصویر پیش کرتی ہیں۔

اس لیے جب ہم انجیل شریف کی بات کی جاتی ہے تو اس کو واحد ہی شمار کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں ایک حوالہ ہے جس میں اسکی مثال پائی جاتی ہے۔ کہ انجیل کا شمار ہمیشہ واحد ہوا ہے۔

گلتیوں 11-1:13

 اے بھا ئیو! میں تمہیں جتائے دیتا ہوں کہ میں نے جس انجیل کی تعلیم تمہیں دی ہے اس کو انسان نے نہیں بنایا۔  اور

کیونکہ وہ (انجیل) مجھے انسان کی طرف سے نہیں پہنچی اور نہ مجھے سیکھائی گئی بلکہ یسوع مسیح کی طرف سے مجھے اُس کا مکاشفہ ہوا۔

۔چنانچہ یہودی طریق میں جو پہلے میرا چال چلن تھا تم سُن چکے ہو کہ میں خدا کی کلیسیا کو ازحد ستاتا اور تباہ کرتا تھا۔

اسی طرح انجیل شریف کا ذکر قرآن شریف میں ہوا ہے۔ آپ ہماری اس پوسٹ کو پڑھ سکتے ہیں۔ قرآن شریف میں انجیل مقدس کا نمونہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے۔ لیکن جب ہم انجیل شریف کے گواہوں یا کتابوں کی بات کرتے ہیں ۔ تو یہ چار ہیں۔ درحقیقت شریعت کے مطابق کسی بات یا معاملے میں صرف ایک گواہ کی گواہی پر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ شریعت کے مطابیق کم از کم دو یا تین گواہوں کی گواہی درکار ہوتی ہے۔(گنتی 19:15) جو ایک خاص واقعہ یا پییغام کی گواہی دیتے ہیں۔ چار گواہوں کو فراہم کرنے کی وجہ سے انجیل شریف شریعت کی درکار ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

کیوں بائبل مقدس کے بہت سارے ورژن / تراجم پائے جاتے ہیں؟

کچھ عرصہ پہلے میں ایک مسجد میں تھا۔ اور وہاں ایک امام صاحب کو سُن رہا تھا۔ امام صاحب نے جو کچھ کہا وہ بالکل غلط اور سچائی سے پر مبنی نہیں تھا۔ جو کچھ میں نے امام صاحب سے سُنا وہ میں نے پہلے ہی اپنے دوستوں نے سُن چکا تھا۔ اور شائد آپ نے بھی اس کو سنا ہو۔ اس سب کچھ نے میرے ذہین میں مختلف سوال پیدا کردیے۔ آیئں ان پر مِل کرغور کرتے ہیں۔

امام صاحب نے کہا کہ بائبل مقدس کے بہت سارے ورژن / تراجم ہیں ۔ انگلش میں آپ کو کنگ جیمز ورژن، نیو انٹرنیشنل ورژن ، دی نیو امریکن سٹنڈرڈ ورژن ، اور دی نیو انگلش ورژن پڑھ سکتے ہیں اور اس طرح کے کئی اور ورژن مل جائیں گے۔ پھر امام صاحب نے کہا بہت سارے مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے بائبل میں تبدیلی ہو چکی ہے۔ تاہم یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کون سا ترجمہ درست ہے۔

جی ہاں! ہمارے بہت سارے تراجم موجود ہیں ۔ لیکن ن کا بائبل مقدس میں تبدیلی کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی یہ مختلف کتابیں ہیں۔ دراصل حقیقت میں ایک ہی بائبل ہے۔

مثال کے طور پر جب کبھی ہم بات کرتے ہیں۔ دی نیو انٹر نیشنل ورژن کی۔ تو ہم دراصل بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک خاص ترجمے کی جو اصل بائبل کے متن یونانی (انجیل) اور عبرانی (تورات، زبور) سے انگلش میں جسکا ترجمہ ہوا۔ دی نیو امریکن سٹینڈرڈ ورژن ایک اور ترجمہ ہے جو اصل بائبل کے متن یونانی اور عبرانی زبان سے انگلش میں ترجمہ ہوا۔

اسی طرح کی صورت حال قرآن شریف کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ عام طور پرمیں یوسف علی کا ترجمہ استعمال کرتا ہوں۔ لیکن کئی بار میں پکٹ ہال کا ترجمہ بھی استعمال کرتا ہوں۔ پکٹ ہال نے وہی قرآن سے ترجمہ کیا جس کو یوسف علی نے ترجمے کے لیے استعمال کیا۔ لیکن اس کی انگلش کے الفاظ کا مجموعہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ لیکن نہ کوئی عیسائی، نہ کوئی یہودی، اور نہ کوئی لادین یہ کہتا ہے۔ کہ انگلش میں قرآن شریف کے دو مختلف تراجم ہیں اس لیے یہ دو قرآن شریف بھی دو ہیں یا قرآن شریف میں تبدیلی ہوگئی ہے۔

اسی طرح یونانی میں انجیل شریف اور عبرانی میں تورات اور زبور شریف ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ ان زبانوں کو نہیں جانتے اور نہ ہی پڑھتے ہیں۔ اس لیے انگلش میں مختلف تراجم موجود ہیں۔ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنی اصل زبان میں سمجھ سکیں۔

آج جب بہت سارے لوگ اپنی مادری زبان انگلش اور اردو میں مختلف تراجم یا ورژن پڑھتے ہیں۔ تاکہ وہ بہتر طورپر کلام اللہ کو سمجھ سکیں۔ لیکن کیا تراجم میں غلطیاں پائی جاتی ہیں؟ تو کیا ؐمختلف تراجم ہمیں بتاتے ہیں کہ جو کچھ اصل مصنف نے لکھا اسکا درست ترجمہ کرنا ناممکن ہے؟ لاتعداد یونانی میں پرانا لٹریچر ہونے کی وجہ سے یہ ممکن ہے۔ کہ اصل زبان میں جو کچھ مصنف نے لکھا ہے۔ اُس کا درست ترجمہ ہوسکتا ہے۔ دراصل مختلف جدید تراجم کچھ اس طرح ہیں۔

یہاں ایک آیت نئے عہد نامے سے مثال کے طورپر لی گئی ہے۔

1-تمتھیس2:5

یونانی میں

εις γαρ θεος εις και μεσιτης θεου και ανθρωπων ανθρωπος χριστος ιησους

پہلا ترجمہ

کیونکہ خدا ایک ہے اور خدا اور انسان کے بیچ میں درمیانی بھی ایک ہے یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے۔

دوسرا ترجمہ

کیونکہ خدا ایک ہے اور خدا اورانسانوں کے درمیان ایک صلح کرانے والا بھی موجود ہے یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دونوں تراجم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ ان میں چند مختلف مترادف الفاظ کا ہی فرق ہے۔ یہ دونوں تراجم ایک ہی بات بات کہہ رہے ہیں۔ لیکن الفاظ کا چُناو مختلف ہے۔ کیونکہ بائبل مقدس ایک ہے اور اس وجہ سے اس کے تراجم بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مختلف بائبلیں ہیں۔ جس طرح میں نہیں شروع میں کہا تھا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے مختلف بائبلیں پائی جاتی ہیں۔

بات کو اور ٹھیک طور پر سمجھنے کے لیے ہم قرآن شریف کے تراجم کی مثال لے سکتے ہیں۔

یہاں پر اردو کے دو تراجم سے مثال لیتے ہیں۔ ایک ترجمہ حضرت مولانا فتح محمد جالندھری کا ہے دوسرا تفہیم القرآن اورتیسرا انٹرنیٹ سے لیا گیا ہے۔

 سورة الفَاتِحَة آیت 1

‏ (جالندھری) سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے

(تفہیم القرآن) تعریف اللہ کے لیے جو تمام کائنات کا رب ہے۔

(القران اردو ترجمہ) سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا۔

اب اس کا کیا مطلب ہے کہ ہم یہ کہنا شروع کردیں کہ جناب قرآن شریف میں تبدیلی ہوگئی ہے؟ یا یہ کہنا شروع کردیں کہ مختلف قرآن شریف پائے جاتے ہیں؟ ںہیں! یہ کہنا بالکل عقل کے خلاف ہوگا۔ کہ قرآن شریف کی مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے مختلف قرآن شریف ہیں۔ دراصل قرآن شریف کی اصل زبان عربی ہے۔ اور اردو میں قرآن شریف کے تین تراجم ہیں۔ جن میں الفاظ کا چناو مختلف ہے۔ لیکن مطلب ایک ہی ہے۔

اسی طرح بائبل مقدس کی یونانی اور عبرانی اصل زبانیں ہیں۔ جن کا اُردو اور انگلش میں بائبل کے مختلف تراجم ہائے جاتے ہیں۔ جن میں الفاظ کا چناو مختلف ہے لیکن مطلب اور بائبل مقدس ایک ہی ہے۔

(حضرت ابراہیم کی تیسری نشانی (قربانی

پچھلی نشانی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک بیٹا عطا کرے گا۔ اور اللہ نے اپنا وعدہ یاد رکھا۔ حقیقت میں تورات اس بات کو جاری رکھتی ہے۔ اور بیان کرتی ہے۔ کہ کس طرح حضرت ابراہیم نے دو بیٹے حاصل کئے۔ تورات کی پہلی کتاب پیدائش کے 16 باب ہمیں بتاتا ہے۔ کہ حضرت ہاجرہ سے حضرت اسمعیل پیدا ہوئے۔ اور پھر پیدائش کے 21 باب ہمیں بتاتا ہے۔ کہ 14 سال بعد حضرت سارہ سے حضرت اضحاق پیدا ہوئے۔ خاندان میں دونوں خواتین کے درمیان جلد جھگڑا شروع ہوگیا۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور اس کے بیٹے کو ایک دوسری جگہ بیج دیا۔ اس واقعہ کا بیان آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ (کلیک کریں) کہ اللہ تعالٰی نے کیسے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل کو برکت دی۔

حضرت ابراہیم کی قربانی بنیادی طور پر عیدالااضٰحی ہے

اب حضرت ابراہیم کے گھرانے میں ایک بیٹا رہ گیا تھا اور حضرت ابراہیم کا سامنا ایک بڑھے امتحان سے ہوا۔ لیکن اس امتحان کے وسیلے ہم اللہ تعالٰی کی سیدھی راہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ آپ قرآن شریف اور تورات شریف سے ان حوالہ جات کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ جن میں حضرت ابراہیم کی قربانی کا ذکر ہے۔ کتاب مقدس میں سے یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ کیوں عیدالاضحی منائی جاتی ہے؟ لیکن یہ ایک تاریخی واقعہ ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بھی ہے۔

ہم حوالہ جات میں پڑھ سکتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے لیے ایک امتحان تھا۔ لیکن یہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا۔ حضرت ابراہیم کا ایک نبی ہونے کی حیثیت سے یہ امتحان ہمارے لیے ایک نشان ہے۔ ہم اس میں سے سیکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہماری فکر کرتا ہے۔ اس نشان کا کیا مطلب ہے؟ برائے مہربانی نوٹ کریں۔ حضرت ابراہیم نے اُس جگہ کا نام کیا رکھا تھا؟ جہاں اُس کا بیٹا قربان ہونا تھا۔ تورات میں سے یہاں حوالہ دیا گیا ہے۔

پیدائش 22: 13-14

اور ابراہیم نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔ تب ابراہیم نے جاکر اُس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قربانی کے طور پر چڑھایا۔

اور ابراہیم نے اُس مقام کا نام یہوواہ یری رکھا چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا جائے گا۔

نوٹ! حضرت ابراہیم نے جو نام اُس جگہ کا رکھا۔ وہ یہ تھا ” خدا مہیا کریں گا ” یہ نام کس زمانہ کو ظاہر کرتا ہے؟ زمانہ حال ، زمانہ ماضی، یا زمانہ مستقبیل کو؟ یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ زمانہ مستقبیل کو ظاہر کرتا ہے۔ اور بھی واضح ہو جاتا ہے جب حضرت موسٰی نے اس کو 500 سال بعد درج کیا۔ تو اس کو اسی طرح لکھا کہ ” مہیا کیا جائے گا ” اس کو زمانہ مستقبیل میں میں ہی لکھا گیا اور یہ مستقبیل کی ہی بات کرتا ہے۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم یہاں مینڈھے کی بات کررہے ہیں۔ جو  ان کے بیٹے کی جگہ قربان ہوا۔ لیکن جب حضرت ابراہیم نے اس جگہ کو نام دیا تو مینڈھا اس سے پہلے قربان ہو چکا تھا۔ اگر حضرت ابراہیم مینڈھے کی بات کر رہے تھے۔ جو قربان ہوا اور نذر کی قربانی کے طور پر جلایا جا چکا تھا۔ تو پھر اس کا یہ نام ہونا چاہیے تھا ” خدا نے مہیا کیا ” زمانہ ماضی استعمال ہونا چاہیے تھا۔ اگر وہ اس مینڈھے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ جو پہلے ہی اُن کے بیٹے کی جگہ قربان ہو چکا۔ توپھر یہ کہاوت اس طرح ہونی چاہیے تھی۔ ” آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا گیا تھا ” لیکن حضرت موسٰی اور حضرت ابراہیم دونوں نے زمانہ مستقبیل ہی کو استعمال کیا۔ اس طرح وہ اس مینڈھے کے بارے میں نہیں سوچتے جو پہاڑ پر قربان ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے تب وہ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اگر اس کے بارے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو شروع میں پہلا نشان دیا تھا۔

پیدائش  22:2

تب اس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاوں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔

یہ واقعہ موریاہ کے پہاڑ پر واقع ہوا۔ یہ پہاڑ کہاں ہے؟ 2000 ق م یعنی حضرت ابراہیم کے وقت میں یہ پہاڑ ایک بیابان تھا۔ ایک ہزار سال بعد 1000 ق م میں حضرت داود نے یروشلیم شہر آباد کیا۔ اور بعد میں حضرت داود کے بیٹے حضرت سلیمان نے ہیکل کی تعمیر کی۔ ہم تورات میں اس کے بارے پڑھ سکتے ہیں۔

2 تواریخ 3:1

اور سلیمان یروشیلم میں کوہ موریاہ پر جہاں اس کے باپ داود نے رویت دیکھی اسی جگہ جسے داود نے تیاری کرکے مقرر کیا یعنی ارنان یبوسی کے کھلیہان میں خداوند کا گھر بنانے لگا۔

دوسرے الفاظ میں ” موریاہ کا پہاڑ ” حضرت ابراہیم اور حضرت موسٰی کے زمانہ میں بیابان تھا لیکن 1000 ق م میں حضرت داود اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں یہ اسرائیلیوں کا دارلحکومت بن گیا تھا۔ جہاں انہوں نے خدا تعالٰی کے لیے ہیکل تعمیر کی اور آج یہ یہودیوں کی پاک ترین جگہ ہے۔

حضرت عیٰسی المسیح کی موریا کے پہاڑ پر مصلوبیت

یہاں پر ہم حضرت عیٰسی المسیح اور انجیل شریف کا برائے راست تعلق پاتے ہیں۔ہم اس تعلق کو اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب ہم حضرت عیٰسی المسیح کے ایک خطاب کو جان جاتے ہیں۔ حضرت عیٰسی المسیح کو بہت سارے خطبات سے نوازا گیا۔ لیکن سب سے مشہور خطاب ” مسیح ” ہے۔ لیکن عیٰسی مسیح کو ایک اور بھی خطاب دیا گیا جو مشہور نہیں ہے۔ لیکن اہم ترین ضرور ہے۔ ہم جب یوحنا کی انجیل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو حضرت یحٰیی ( یوحنا بپتسمہ دینے والا) یہ کہتا ہے۔

یوحنا 1: 29-30

دوسرے دن اس نے یسوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خدا کا برہ ہے جو دنیا کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں نے کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔

ایک اہم لیکن کم مشہور خطاب حضرت عیٰسی کو حضرت یحیٰی نے دیا۔ ” خدا کا برۃ “۔ اب زرا حضرت عیٰسی کی زندگی کے آخری ایام پر غور کریں۔کہاں اُن کو گرفتار  اور مصلوب کیا گیا؟ یہ سارا واقع یروشلیم میں ہوا۔ ( جو موریاہ کے پہاڑ پر واقع ہے)

لوقا 23:7

اور یہ معلوم کرکے کہ ہیرودیس کی عمل داری کو ہے اُسے(حضرت عیٰسی) ہیرودیس کے پاس بھیجا کیونکہ وہ (ہیرودیس) بھی اُن دِنوں یروشلیم میں تھا۔

دوسرے الفاظ میں گرفتاری اور مصلوبیت یروشلیم ہی میں واقع ہوئی (یعنی موریاہ کے پہاڑ پر)۔ زرا واپس حضرت ابراہیم کی کہانی کی طرف آتے ہیں۔ کیوں حضرت ابراہیم نے اُس جگہ کا نام زمانہ مستقبیل میں رکھا؟ ” خدا مہیا کرے گا ” حضرت ابراہیم ایک عظیم نبی تھا اور جانتا تھا کہ مستقبیل میں خدا یہاں مہیا کرے گا۔ اور اس طرح حضرت ابراہیم کا بیٹا قربان ہونے سے بچ جاتا ہے۔ اور اس کی جگہ ایک مینڈھا قربان ہو جاتا ہے۔ 2000 ہزار سال بعد حضرت عیٰسی مسیح کو ” خدا کا برہ ” کہا جاتا ہے۔ اُس کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ٹھیک اُسی جگہ پر مصلوب کیا جاتا ہے۔

قربانی حضرت ابراہیم کے بیٹے کے لیے فدیہ تھا موت سے بچ جانے کا

کیا یہ ہمارے لیے اہم ہے؟ میں غور کرتا ہوں کہ کیسے حضرت ابراہیم کا نہ نشان تکمیل کو پہنچا۔ قرآن شریف کی اس آیت میں حضرت ابراہیم کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

سورة الصَّافات 37:107

  ‏ [جالندھری]‏ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا

فدیہ کا کیا مطلب ہے؟ فدیہ دینے کا مطلب ہے کہ کوئی ایک کسی قیدی کا جرمانہ ادا کردے اور اُس کو اُس قید سے رہائی دلا دے۔ حضرت ابراہیم کے لیے فدیہ کا مطلب ہے کہ وہ کسی کے قیدی تھے۔ بیشک وہ ایک عظیم اوربڑے نبی بھی تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس بات میں قیدی تھے۔ حضرت ابراہیم کی قربانی کا واقعہ ہمیں بتابا ہے۔ کہ وہ موت کے قیدی تھے۔ ہم نے آدم کی نشانی میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو فانی بنایا ہے۔ (انبیااکرام کو بھی) اب وہ موت کے غلام تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم کے اس واقع میں مینڈھا قربان ہوگیا۔ اگر آپ حضرت آدم، حضرت قابیل، حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی پہلی نشانی کا سلسلسے سے مطالعہ کریں۔ تو آپ جانیں گے کہ اِن انبیا اکرام نے جانوروں کی قربانی کی باربار مشق کی۔ وہ جانتے تھے کہ اس قربانی کے باعث ہم بچ جاینں گے۔ اور ہم دیکھ سکتے ہیں یہ عمل ہمیں مستقبیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو حضرت عیٰسی کو خدا کا برہ پیش کرتا ہے۔

قربانی ہمارے لیے برکت

موریاہ کے پہاڑ پر مینڈھے کی قربانی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اور اس کے آخر میں اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو بتایا تھا۔

پیدائش 22:18

اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی کیونکہ تو نے میری بات مانی۔

اگر آپ زمین کی کسی ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ وعدہ آپ کے لیے ہے۔ کیونکہ اس وعدہ کے باعث آپ اللہ تعالٰی سے برکت حاصل کرسکتے ہیں۔ کیا یہ قابلِ قدر بات نہیں؟ کیسے حضرت ابراہیم کی قربانی کا تعلق حضرت عیٰسی مسیح سے اور آج یہ تعلق آپ کے ساتھ ہے؟ اور کیوں ؟ ہم جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے لیے فدیہ دیا گیا اور آج شائد ہمارے لیے یہ ایک نشان ہے۔ لیکن اسکا مکمل جواب ہے ۔ کہ لیے ہم حضرت موسٰی کے نشان میں جاری رکھیں گے ( ان کے دو نشان ہیں) اور یہ ہمارے سوال کا جواب بڑے واضع انداز میں دیں گے۔

لیکن اس وقت یہ بتانا چاہتا ہوں کہ لفظ ” نسل ” یہاں پر واحد ہے۔ یہ نسلیں نہیں ہے۔ جس کا مطلب پشتیں یا قومیں ہے۔ حضرت ابراہیم سے برکت کا وعدہ ایک نسل سے ہے۔ جو واحد ہے۔ واحد کا مطلب ایک ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں بہت سارے لوگ، گروہ ، اور نہ ہی اُنہیں ہے۔ حضرت موسٰی کا فسح کا نشان اس کو سمجھنے میں مدد دے گا۔

متنی تنقید کے علم کے مطابق کیا بائبل مقدس تبدیل ہو چکی ہے یا نہیں؟

“مجھے کیوں بائبل مقدس کی کتابوں پر غور کرنا چاہیے؟  جبکہ یہ بہت عرصہ پہلے لکھی گئیں اور اس کے بہت سارے تراجم اور ورژن بن چکے ہیں۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اس کے اصل پیغام کو وقت کے ساتھ تبدیل کردیا گیا تھا”میں نے کئی بار اس قسم کے سوالات اور بیانات سنیں ہیں۔ کہ تورات ، زبور اور انجیل مل کر اس کو بائبل مقدس بناتی ہیں۔

یہ سوال بہت ہی اہم ہے اور یہ اس سب  کی بنیاد پر ہے۔ جو کچھ ہم نے بائبل مقدس کے بارے میں سنا ہے۔ بہر حال یہ کتاب دو ہزار سال پہلے لکھی گئی تھی۔ اُن وقتوں میں پرنٹنگ پریس، فوٹوکاپی مشین، یا کوئی اشاعتی ادارہ موجود نہیں تھا۔ تو اصل مسودات نسل در نسل ہاتھ سے نقل کئے جاتے تھے۔ جس طرح زبانیں ختم ہوتی گئیں اور نئی وجود میں آتی گئیں، سلطنتیں دم توڑتی گئیں اور نئی وجود میں آتی گئیں۔ اب چونکہ اصل مسودات کا وجود نہیں ہے۔ پھر ہم کس طرح جانتے ہیں، کہ موجودہ بائبل (کتاب مقدس) جسکا مطالعہ ہم کرتے ہیں۔ اُسی طرح  ہےجس طرح انبیاءاکرام پر کافی عرصہ پہلےنازل ہوئی تھی؟ مذہب سے ہٹکر کیا کوئی اور بھی سائنسی علم یا منطقی علم موجود ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ جو بائبل مقدس ہم آج پڑھتے ہیں کیا وہ تبدیل ہوچکی ہے یا نہیں؟

متنی تنقید کے بنیادی اصول

بہت سارے جو اس طرح کے سوال پوچھتے ہیں۔ وہ اس بات کا احساس نہیں رکھتے کہ ایک سائنسی نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ جس کو ہم متنی تنقید کہتے ہیں۔ جس کے زریعے  ہم ان سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں۔ یہ ایک سائنسی نظم و ضبط ہے جو ہر ایک قدیمی تحریر پر لاگو ہوسکتا ہے۔ اس مضمون میں ہم متنی تنقید کے دو اہم اصول استعمال کریں گے۔ اور پھر ان کا اطلاق بائبل مقدس پر کریں گے۔ ایسا کرنے کے لیے ہم اس تصویر سے شروع کریں گے۔ جو اس عمل کی وضاحت کرتی ہے۔ جس کے ذریعے ہم کسی بھی قدیمی تحریر کو آج  پڑھ سکتے ہیں۔

time 1
یہ ٹائم لائن ہمیں دیکھتی ہے کہ کس طرح قدیم کتابیں آج ہمارے پاس ہیں

یہ تصویر ہمیں ایک کتاب کی مشال دیتی ہے۔ جو 500 سال قبل از مسیح لکھی گئی۔ اصل کبھی بھی آخر تک نہیں رہتا۔ اس سے پہلے یہ بوسیدہ ہوجائے یا کھو جائے یا تباہ ہوجائے اس اصل سے اس کی ایک نقل بنالی جاتی ہے۔ اس کو پیشہ ورانہ لوگ جن کو کاتب کہتے ہیں انہوں نے اس کو نقل کیا۔ سالوں پہلے نقل کی گئی نقلیں تیار کی گئی۔ (دوسری نقل سے تیسری نقل) اس طرح محفوط نقل سے ایک تیسری نقل بنائی گئی۔ جس کا مطلب ہے کہ اس کتاب کی حالت (500 AD ) تک معلوم کی جاسکتی ہے۔ لہذا 500 BC  سے 500  AD تک کے عرصہ میں ہم کوئی نقل چیک نہیں کرسکتے۔ جب تک تمام مسودات اس عرصہ میں غائب نہ ہو گے ہوں۔ مثال کے طور پراگر تبدیلی اس وقت ہوئی جب اصل سے دوسری نقل ہو رہی تھی۔ ان دستاویزات میں سے ہم اس کی تبدیلی کا پتہ لگا سکیں گے۔ چاہے اس جیسے مسودات موجود ہوں۔ یہ وقت موجودہ نقول ہونے سے پہلے (مدت x  ) ہے۔ لیکن اس متن کا وقفہ غیر یقینی ہے۔ جہاں پر تبدیلی ہو سکتی ہے۔ لہذا متنی تنقید کے پہلا اصول کا دورانیہ x چھوٹا اور زیادہ اعتماد کے قابل ہے ۔ ہم ان دستاویزات کو ہمارے وقت میں صحیح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ چونکہ غیر یقینی صورتحال کی مدت کم ہے۔

                        بے شک آج ایک سے زیادہ نسحہ جات کی نقل موجود ہیں۔ فرض کریں ہمارے پاس دو مسودات کی نقل موجود ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک کے اسی حصے میں مندرجہ زیل فقرہ ہے۔ (بےشک یہ فارسی میں نہیں ہوگا۔ لیکن میں نے اس کی فارسی میں وضاحت کرنے کے لیے استعمال کیا ہے)

error 2

اب ہمارے پاس چار نسحہ جات موجود ہیں۔ اس سے آسانی سے معلوم کرسکتے ہیں کہ کس میں غلطی پائی جاتی ہے۔ اب ہم آسانی سے فصیلہ کرسکیں گے کہ کس نسحہ میں غلطی ہے۔ یہ زیادہ امکان ہے کہ غلطی ایک بار ہوئی ہو۔ جبکہ ایک ہی غلطی تین بار دوہرائی جائے۔ لہذا اس بات کا امکان ہے کہ MSSs  میں نقل کی خامی کا امکان ہے اور مصنف نے اس کو یوان لکھا تھا نہ کہ جان( جان پھر غلطی ہے) یہ سادہ سی مثال متنی نتقید کے دوسرے اصول کی وضاحت کرتی ہے۔ جس طرح آج جتنے زیادہ نسحہ جات موجود ہیں ۔ ان سے اتنا ہی آسان ہے غلطی کو معلوم کرنا اور اس کو ٹھیک کرنا اور یہ جاننا کہ اصل متن کیا ہے۔

MSS3

تاریخی کتابوں کہ متنی تنقید

            اب ہمارے پاس سائنسی متنی تنقید کے 2 اصول موجود ہیں۔ جن سے ہم کسی بھی پرانی کتاب کے متن کی معتبریت کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ 1) اصل تحریر اور قدیم ترین موجود قلمی نسحوں کی نقل کے درمیانی وقت کی پیمائش  2) موجود قلمی نسحوں کی نقل کی تعداد کا حساب۔ جس طرح ہم یہ اصول قدیم کتابوں پر لاگوکرتے ہیں۔ ہم ان اصولوں کو قدیم کتابوں اور بائبل مقدس کے لیے  بھی لاگو کرسکتے ہیں ۔ جس طرح ذیل کے ٹیبل میں کیا گیا ہے۔

(مصنف جوش میکڈول کتاب کا نام منصفانہ فیصلے کے متقاضی)

اس میں تمام لکھاری قدیم دور کی اہم کلاسیکل تصنیفات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تحریروں نے جدید تہذیب کی ترقی میں تشکیل دی ہے۔ اوسطاً یہ ہمیں 10 – 100 مسودات دے کر گزر گے ہیں۔ تقریباً یہ  1000  سال محفوظ رہیں ہیں جو کہ اصل کے بعد  نقل کی گیئں تھیں۔

بائبل مقدس کے متن کی تنقید

                                    مندرجہ ذیل ٹیبل میں بائبلیکل کتابوں میں اوپر دیئے گے، نقاط کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ خاص کر انجیل شریف کا۔ یہ ٹیبل کتاب The Origin of The Bible سے لیا گیا ہے

MSS

تحریری جب

MSS کی تاریخ

وقت کی مدت
John Rylan

90 AD

130 AD

40 yrs

Bodmer Papyrus

90 AD

150-200 AD

110 yrs

Chester Beatty

60 AD

200 AD

140 yrs

Codex Vaticanus

60-90 AD

325 AD

265 yrs

Codex Sinaiticus

60-90 AD

350 AD

290 yrs

بائبل مقدس کے متن کی تنقید کا خلاصہ

     انجیل شریف کے مسودات کی تعداد بہت ہی وسیع ہے۔ اس لیے اس کو ٹیبل کی فہرست میں رکھنا ناممکن ہے۔

“” آج ہمارے پاس انجیل شریف کے 24000 سے ذائد  MSS  کی نقول موجود ہیں۔ ۔۔ قدیم دور کے کسی بھی دستاویزات کے اس قدر زائد نسحوں کی تعداد اور تصدیق حاصل نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں “ILIAD” قدیم ہومر نامی مصنف کی ایک کتاب کی 643 MSS  کی نقل موجود ہیں۔  (مصنف جوش میکڈول کتاب کا نام منصفانہ فیصلے کے متقاضی)

برطانیہ کے میوزیم کےایک معروف عالم اس بات پر متفق ہیں۔

” علمااکرام رومن اور یونانی مصنفین کے متن کے حقیقی اصولوں پر کافی حد تک مطمین ہیں۔ جب کہ ہمارا علم ان کی مٹھی بار تحریرات کی MSS   کی نقول پر ہے۔ جب کہ انجیل شریف کے MSS    کی تعداد ہزاروں میں ہے”

(کینیون ایف جی، برٹش میوذیم کے سابق ڈائریکٹر، کتاب: ہماری بائبل اور قدیم مسودات)

میرے پاس ایک کتاب ہے جو ابتدائی نسخہ جات کے بارے میں ہے۔ یہ کتاب اس طرح شروع ہوتی ہے۔

” یہ کتاب انجیل شریف کے ابتدائی 69 مسودات کی نقل فراہم کرتی ہے۔۔۔ اس کی تاریخ 2 دوسری صدی کے شروع سے 4 چوتھی صدی تک ہے۔ ( 100-300 AD  ) جو 2 سے 3 انجیل شریف کے نسخوں تک محدود ہے۔ “

(مصنف P. Comfort   کتاب “قدیم ترین انجیل شریف کے یونانی نسخہ جات”

دوسرے الفاظ میں یہ مسودات جو موجود ہیں اتنے قدیم ہیں کہ ان میں سے کئی 100 سال کے قریب یا پھر انجیل شریف کی اصل کے پہلی نقل میں سے ہیں۔ یہ مسودات بادشاہ کانسٹنٹائن کی حکومت اور رومی کلیسا کے وجود میں آنے سے پہلے ہیں۔ یہ بحیرہ روم اور اس کے اردگرد کی دنیا میں پھیل چکے تھے۔ اگر ایک علاقے کے نسخے میں تبدیلی ہوئی ہوتی تو دوسرے علاقے کے نسخے سے اس کی تصدیق کی جاسکتی تھی۔ لیکن یہ تما م ایک جیسے ہیں۔

ہم یہاں سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔ یقنی طور پر انجیل شریف کے جتنے نسخہ جات پائے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کسی دوسرے قدیم نسخے کے نہیں ہیں۔ ( موجود MSSs کی تعداد اور اصل قدیم ترین نسخہ جات کے درمیان کے وقت تک پھیلا ہوا ہے) یہ فیصلہ کن ثبوت ہمیں اس درج ذیل خلاصہ تک لے آتے ہیں۔

” انجیل شریف کے متن پر شک کا نتیجہ ہمیں قدیم دور کی تمام پرانی داستاویزات پر ابہام کی طرف لے آتا ہے۔ لیکن قدیم تحریرات میں سے ہمیں کوئی ایسی قابل اعتماد کتابیات نہیں ملتی جیسی انجیل شریف کی ہے۔ ( منٹگمری،  کتاب ، تاریخ اور مسحیت)

جو کچھ اس نے کہا اس کو جاری رکھیں گے۔ اگر ہم بائبل مقدس کے معتبر ہونے پر سوال کرتے ہیں ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس کو تمام قدیم تاریخی علوم سے جدا کر رہے ہیں۔ جو ایسا آج تک کسی مورخ  یا  تاریخ دان نے نہیں کیا۔ ہیروڈوٹس (Herodotus) کی تحریرات کو کوئی تبدیل شدہ نہیں سمجھتا۔ جب کہ ان مسودات کی کل تعداد 8 آٹھ ہے۔ اور ان کی نقل کا وقفہ اصل سے 1300 سال کا ہے۔ اس طرح ہم کیسے سوچ سکتے ہیں کی بائبل مقدس کے متن میں تبدیلی ہوگئی ہے؟ جبکہ اس کے مسودات کی کل تعداد 24000 مسودات ہیں اور ان کی اصل سے نقل کے وقت کا وقفہ 100 سال ہے۔ اس بات کی کوئی سمجھ نہیں آتی کے یہ کیسے لوگوں کہہ دیتے ہیں کہ بائبل مقدس تبدیل ہوگئ ہے۔

            ہم جانتے ہیں کہ زمانے بدلے، زبونیں بدلیں، اور سلطنتیں کو زوال آیا لیکن بائبل مقدس کے متن میں کھبی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان تمام واقعات و حالات میں سے قدیم ترین MSSs ابھی بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کسی پوپ نے اور نہ ہی رومن بادشاہ کانسٹنٹائن نے بائبل مقدس میں تبیلی نہیں کی ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس موجود مسودات پوپ اور بادشاہ کانسٹنٹائن سے پرانے ہیں۔ یہ تمام مسودات آج کی موجودہ بائبل مقدس کے ساتھ بالکل یکساں ہیں۔

درج ذیل ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے۔ کن مسودات سے موجودہ بائبل مقدس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔

slide4
موجودہ دور کی بائبل مقدس کا ترجمہ قدیم ترین یا ابتدائی مسودات سے کیا جاتا ہے۔ جن کا دورانیہ 300- 100 AD ہے ۔ یہ تمام مسودات بادشاہ کانسٹنٹائن اور دوسری مذہبی طاقتوں سے پہلے کے موجود ہیں۔

مختصراً یہ ہے کہ نہ تو وقت نے نہ ہی مسیحی راہنماوں نے اُس پیغام کو تبدیل کیا۔ جو سب سے پہلے بائبل مقدس میں لکھا گیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہزاروں سال پہلے مصنفین نے لکھا تھا ہم اُس کو آج اُسی طرح پڑھتے ہیں جسطرح لکھا گیا تھا۔ متنی تنقید کی یہ سائنس بائبل مقدس کے متن کی تصدیق کرتی ہے۔ کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

یونیورسٹی میں متنی تنقید پر ایک لیکچر

ہے University of Western Ontarioمجھے اس موضوع پر ایک یونیورسٹی جسکا نام

لیکچر دینے کا استحقاق ہوا۔ ذیل میں 17 منٹ کی ویڈیو ہے جس میں اس سوال کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح اب تک ہم نے انجیل شریف کے متن کی تنقید کے بارے میں جانا ہے۔ لیکن زبور شریف، تورات شریف، جن سے پرانہ عہد نامہ بنتا ہے۔ اس کے بارے کیا جانتے ہیں۔ ذیل میں 7 منٹ کی ویڈیو میں اس سوال پر بات کی گئی ہے۔

انجیل بدل چُکی ہے! سنُت کیا فرماتی ہے؟

میری گزشتہ اشاعت میں دیکھ چُکا ہوں کہ قرآن توریت ، زبُور اور انجیل مقُدس کے مکاشفات اور نزول کے بارے کیا کہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ قرآن میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ جو پیغام اللہ کی طرف سے حضرت مُحمد پر 600 قبل از مسیح نازل ہوا، جو کہ انجیل مقُدس کے پیروکار ہیں(وہ تاریخ کے ساتھ تبدیل یا بدل نہیں سکتے)، اسی طرح قرآن میں اِس بات کی تصدیق بھی ملتی ہے کہ انجیل مقُدس اُس کے الفاظ ہیں، اور وہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتے۔ اِن دونوں بیانات سے یہ بات یقین دہانی ہے کہ خُدا کا کلام کبھی بھی تبدل نہیں سکتے جن میں توریت، زبُور اور اناجیل شامل ہیں۔

میں اِس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ مطالعہ کو جاری رکھنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی کتاب سنُت اِن موضوعات پر کیا کہتی ہے۔ حدیث اِس کی بات کی تصدیق کرتی ہے کہ توریت اور انجیل کا اِستعمال  حضرت محمد ؑ کے دور میں ہو چکا ہے۔

خدیجہ (اُس کی بیوی)جوکہ (حضرت محمدؑ کی بیوی ہے)  اُس کا رشتہ دار ورقہ جو کہ اسلام کے پھیلانے سے پہلے مسیحیت کو قبول کر چکا تھا ؛ اُس نے عبرانی زبان میں خط لکھتا ہو تا تھا۔ وہ انجیل میں سے عبرانی زبان میں لکھ سکتا تھا جیسے کہ خُدا اُس سے چاہتا تھا۔  امام بخاری (البخاری) والیم 1 ، کتابچہ 1  ؛ نمبر 3

ابوہریرہ نے بیان کیا: کہ وہ لوگ توریت کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور پھر اُس کو مسلمانوں کو عربی زبان میں سمجھاتے تھے۔ تب اللہ کے رسول نے کہا، ‘‘لوگوں کے کلام پر یقین مت کرو، اور نہ ہی اُن کو اِس پر ایمان لانے سے رکھو، لیکن کہو، کہ ہم اللہ کی طرف سے جو نازل ہوچُکا ایما ن رکھتے ہیں۔۔۔۔۔’’ امام بخاری (البخاری) والیم 9 ، کتابچہ 93 ؛ نمبر632

یہودی اللہ کے رسول کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر مرد اور عورت غیر شرعی طور پر آپس میں مبشارت کرتے ہیں ۔ اللہ کے رسول نے اُن سے کہا، ‘‘تمہیں توریت میں اِس جرم کی کیاقانونی سزا ملتی ہے (سنگساری)؟’’ اُنہوں نے جواب میں اُس نے کہا، ‘‘(لیکن) ہم اُن کے جرم کا اعلان کرتے اور اُن کو قید میں ڈالنے کا حکم دیتے ہیں۔’’ تب عبداللہ بن سلام نے کہا، ‘‘تم جھوٹ بول رہے ہو؛ توریت تو کہتی ہے کہ اُن کو سنگسار کرو۔’’۔۔۔۔۔۔۔۔سنگسارکا حوالہ وہاں (توریت) میں موجود ہے۔  اُنہوں نے کہا حضرت محمدؑ (اللہ کا رسول) سچا فرماتا ہے؛ توریت میں سنگسار کرنے کا حوالہ درج ہے۔  امام بخاری (البخاری) والیم 4، کتابچہ  56؛ نمبر 829

عبداللہ ابن ِ عمر بیان فرماتے ہیں۔۔۔۔۔یہودی کا لشکر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ ولی وسلم حضرت محمد کوف کے لئے دعوت دی۔۔۔۔۔ اُنہوں نے کہا،‘ابو القاسم ، کہ اُس نے ایک عورت کے ساتھ زناکاری کی ؛ سو اُس پر بھی عدالت ہوگی۔ اُنہوں نے اللہ کے رسول کے لئے تکیہ دیا اور وہ اُس سے بیٹھے اور کہا؛‘‘ توریت لے کر آؤ’’۔ تب وہ توریت لے کر آئے۔پھر آپ نے تکیہ نکلا اور توریت کو رکھا اور یہ کہا؛‘‘میں اِس پر ایمان رکھتا ہوں اور اُس پر بھی جس نے اِس کا نازل فرمایا۔’’ سنُت ابودادؤ  کتابچہ 38، نمبر 4434

کابیان: اللہ کے رسول فرماتے ہیں؛ جمعہ کے دِن جب سورج طلوع ہوتا ہے وہ مبارک دِن ہے، اِس دِن آدم تخلیق کیا گیا تھا۔۔۔۔۔کیتب نے فرمایا: ہر  ابوہریرہ…سال میں ایک دِن ہوتا ہے۔ تب میں نے کہا: یہ ہر جمعہ ۃ المبارک پر ہوتا ہے۔ کیتب نے توریت کو پڑھا اور کہا: کہ اللہ کے رسول محمدؑ نے  سچافرمایا۔ سنُہ ابو داؤد کتاب 3 نمبر 1041

یہ احمقانہ احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ رسول محمدؑکا رویہ کہ بائبل میںجو اُس دِن کے بارے میں پہلے سے نشاندہی کی جا چُکی ہے۔ پہلی حدیث بیان کرتی ہے کہ انجیل پہلے سے موجود تھی جب اِس نے پہلی آواز کر سُنا۔ دوسری حدیث بتاتی ہے کہ یہودی توریت کو عبرانی زبان میں اُس وقت کے مسلمانوں کے لئے پڑھتے تھے۔ حضرت محمد اُن کے کسی بھی بیان کردہ مجموعے کو رد نہیں کرتا تھا، لیکن فرق  کو ظاہر کرتا تھا  عربی وضاحت اُن کی کرتا تھا۔ اگلی دو احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ محمدؑ نے توریت کو اپنے اُس دِن کے لئے استعمال کی ہے۔ اور آخری حدیث سے نظر آتا ہے کہ توریت، اِس بات کی گواہ ہے کہ جب انسان کو پیدا کیا گیا تب جمعہ کا دِن تھا۔ اِن احدیث میں سے کوئی بھی اِس بات کو ثابت نہیں کر پائی کہ بائبل(کلام ِ مقدس) تبدیل اور اِس میں کوئی ردوبدل ہوا ہے۔ یہ اہم کام کے لئے استعمال ہوئی ہے۔

عہد جدید (انجیل کی اصل کتابیں)

میرے پاس عہدجدید کی اصل کتب جو موجود ہے جو کہ اِس سے شروع ہوتی ہے:

2 عہدجدید /‘‘عہد جدید شروع میں 69 کا مجموعہ پیش کر تا ہے کہ بتاریخ دوسری صدی کے آغاز سے لے کر چوتھی صدی تک (100تا 300 اے ڈی)۔۔۔۔۔3

کا حصہ مشتمل ہے (پی پرُسکون،‘‘آغاز میں عہدجدید یونانی زبان میں موجود ہے’’۔ تعارف پی 17۔2001)۔

یہ اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ تحریریں رومی حکومت کے آنے سے پہلے (325 اے ڈی)۔ اگر اِس میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو ہمیں اِس کی تحقیق کرنی ہے کہ اِس میں محمد کے آنے سے پہلے تبدیل ہوئی ہے کہ اُس کے آنے کے بعد۔ ہمارے پاس مختلف زبانوں میں ترجمہ کی گئی جو کہ آج بھی مکمل طور پر اپنی اصل حالت میں موجود ہے جو کہ محمدؑ کے آنے سے پہلے سے موجود تھی۔ سب سے زیادہ مشہور کوڈ یہ ہیں، سینی ٹیکس(سی اے 350 اے ڈی) اور یہ کوڈ، ویٹی نیکس(سی اے 325 اے ڈی)۔ یہ اور اِس کے علاوہ بہت سارے دوسرے مجموعے جو کہ 600اے ڈی سے پہلے دُنیا کے دوسرے علاقوں میں سے آئے۔ یہ مسیحی خیال اور مسیحی نخسہ جات میں تبدیلی کوئی بھی سمجھ نہیں رکھتا۔ یہ بالکل ناممکن کہ اِس ٹیکٹ میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔ یہاں تک کہ اگر یہ عربی میں ترجمہ کی گئی تو بھی یہ اصل حالت میں موجود ہے اور ایسے ہی ہمیں کہنا چاہیے کہ یورپ اور سیریا میں بھی کوئی تبدیل نہیں آئی، اور یہ یقیناً ایسا ہی ہے۔ پر قرآن اور احدیث دونوں واضع طور پر تصدیق کرتے ہیں کہ بائبل 600 اے ڈی سے پہلے موجود تھی اور بائبل مقدس کے تمام نخسہ جات پہلے سے رقم ہیں، اور اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ نیچے دی گئی ٹائم لائن اِس چیز کی وضاحت کرتا ہے کہ بائبل مقدس 600 اے ڈی کی بنیاد پر ہے۔

آغاز ہی سے توریت اور زبور کی کاپی موجود ہے۔ سکلرولز کا مجموعہ بحرہ ِمردار سے جانا جاتا ہے، یہ بحرہ مردار 1948 کو دریافت کیا گیا۔ یہ سکلرولز توریت اور زبور 200تا100 عیسوی سےلکھی جا چُکی تھی۔ اِس کا مطلب ، مثال کے طور پر حضرت موسیٰ نے توریت تقریباً(1500 عیسوی) کو دے دی تھی، ہمارے پاس توریت کی کاپیاں عیسیٰ المسیح اور محمدؑ کے آنے سے پہلے کی موجود تھیں۔ ہم اِس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ پہلی کتابیں جو رسولوں پر نازل ہوئی اِن کللک کریںمیں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ میں اِس کو واضح طور دیکھا کہ یہ یقینی ہے اگر آپ اِس کو سائنسی نظر سے دیکھنا ہے تو اِس آرٹیکل پر

اِس بات کو شہادت ملتی ہے کہ حضرت محمدؑ نے جو کچھ احدیث میں فرمایا کہ کلام ِ مقدس (بائبل) تمام نخسے آج بھی ویسے کے ویسے ہیں اور قرآن بھی اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بائبل تبدیل نہیں ہوئی۔

آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات - بہت پہلے سے
آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات – بہت پہلے سے

(حضرت ابراہیم ؑ کی دوسری نشانی (راستباز

یہ کیا ہے جسکی ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرورت ہے؟ ہم اس سوال کے بہت سارے جواب سوچ سکتے ہیں۔ لیکن حضرت آدم ؑ کی نشانی یاددلاتی ہے۔ کہ سب سے اوّل اور عظیم ترین ضرورت راستبازی کی ہے۔ قرآن شریف میں یہ الفاظ برائے راست ہمارے ساتھ مخاطب ہیں( آدم ؑ کی اولاد

اے آدم کی اولاد ! بیشک ہم نے رتمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔

 (سورة الاعراف 7:26 )

تو پھر راستبازی کیا ہے؟ (تورات شریف کی پانچویں کتاب استثنا 32:3-4 ) ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاتی ہے۔

کیونکہ میں خداوند کے نام کا اشتہار دوں گا۔ تم ہمارے خدا کی تعظیم کرو۔´ وہ ہی چٹان ہے۔ اُس کی صنعت کامِل ہے کیونکہ اُس کی سب راہیں انصاف کی ہیں۔ وہ وفادار خدا اور بدی سے مُبّرا ہے۔ وہ منصف اور بر حق ہے۔ استثنا 32 :3-4

راستبازی کی یہ تصویر اللہ تعالیٰ نے ہمیں تورات شریف میں دی ہے۔ راستبازی کا مطلب ہے وہ جو کامِل ہے۔ وہ جو سب راہوں میں سچا ہے۔ تورات شریف اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس طرح بیان کرتی ہے۔ لیکن ہمیں کیوں ضرورت ہے کہ ہم راستبازی کے بارے میںجانیں ؟ ہم اس کا زبور شریف میںجواب دیکھتے ہیں

زبور 15
۱)اے خداوند تیرے خیمہ میں کون رہے گا؟
تیرے کوہ مقدس پر کون سکونت کرے گا؟
۲) وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔
۳) وہ جو اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سُنتا۔
۴) وہ جس کی نظر میں رذیل آدمی حقیر ہے پر جو خداوند سے ڈرتے ہیں اُن کی عزت کرتا ہے۔ وہ جو قسم کھا کر بدلتا نہیں خواہ نقصان ہی اُٹھائے۔
۵) وہ جو اپنا روپیہ سُود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھا ئے گا۔

جب وہ یہ پوچھتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے پہاڑ پر کون رہے گا۔ تو دوسرے معنوں میں وہ یہ پوچھ رہا ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی جنت میں کون رہے گا۔ تو ہم اس کا جواب اس طرح پڑھتے ہیں۔ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دِل سے سچ بولتا ہے۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی جنت میں اُس کے ساتھ رہے گا۔ اس طرح کی راستبازی کی ہمیں ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنت میں رہنے کے لیے راستبازی ضروری ہے۔

حضرت ابراہیم کے بارے میں سوچو. وہ کس طرح راستبازی حاصل کی بارے مقدس کتابوں میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.

حضرت آدم ؑکی نشانی بھی ہمیں یہی سیکھاتی ہیں کہ ہمیں راستبازی کی ضرورت ہے۔ تاہم یہاں پر سوال یہ ہے۔ کہ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ سب کیسے حاصل کیا؟

اکثر میں سوچتا ہوں کہ میں دو میں سے ایک راستہ پر چل کر راستبازی حاصل کرسکتا ہوں۔
پہلا راستہ: میں راستبازی ا س طرح حاصل کر سکتا ہوں ۔ کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاوں اور یقین رکھوں۔ کہ اللہ تعالیٰ وجود رکھتاہے۔ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ کیایہ سوچ اس بات کی حمایت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور وہ راستباز ٹھہرے ۔ لیکن غور و حوض کرنے کے بعد میں اس حقیقت کو جان سکا ۔کہ اس کا صرف یہ مطلب نہیں تھا۔ کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لائے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ سچا وعدہ کیا۔ کہ تیرے ایک بیٹا پیدا ہوگا ۔ اور یہ وہ وعدہ تھا جس پر ابراہیم ؑ کو ایمان لاناتھا ےا ایمان نہیںلانا تھا۔ اسی طرح سوچیں تو ہم جانتے ہیں ۔ کہ ابلیس بھی ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ لیکن اس کے باعث وہ راستباز نہیں ہے۔ اس طرح صرف یہ ایمان رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ یہ کافی نہیں ہے۔
دوسراراستہ:میں کئی بار سوچتا ہوں کہ میں نیک کام کرکے راستبازی حاصل کرسکتا ہوں۔ بُرے کاموں کی نسبت زیادہ اچھے کام کرنے سے یا کوئی خاص نیک کام کرنے سے یا کسی حد تک نیک کام کرنے سے راستبازی حاصل کرسکتا ہوں یا کماسکتاہوں۔ لیکن ےاد رکھیں ۔ تورات شریف کا حوالہ کیا کہتا ہے؟ میں نے یہاں تورات شریف کی آیت پھر سے لکھی ہے۔ تاکہ ہم پھر سے اس آیت کو دیکھ سکیں۔

اور وہ (حضرت ابراہیم ؑ ) خداوند پر ایمان لایا اور اسے اُس نے اُس کے حق میں راستبازی شمار کیا۔´  پیدایش 15:6

حضرت ابراہیم ؑ نے راستبازی نیک کاموں کے وسیلے کمائی نہیں تھی ۔ بلکہ یہ اُن کے لیے شمار کیاگیا۔ اس کا کیا فرق ہے؟ ٹھیک اسی طرح! اگر آپ کچھ کماتے ہیں۔ تو اُس کے لیے آپ کو کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ آپ کوئی کام کرتے ہیں اور اُس کی اُجرت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن جب کوئی چیز آپ کو مفت دی جائے ۔ تو اُس کے لیے آپ کو کچھ کمانا یا کام نہیں کرنا پڑتا۔
حضرت ابراہیم ؑ ایک آدمی تھا۔ جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر گہرا ایمان رکھتاتھا۔وہ ایک مردِ دعا، دیندار اور دوسرے لوگوں کی مدد کرتا تھا۔البتہ ہم ان باتوں کو رد نہیں کررہے۔لیکن جو طریقہ یہاں پر بتایا گیا ہے ہم اُس کو آسانی سے نظر انداز کرسکتے ہیں ۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ ابراہیم ؑ راستباز ٹھہرا کیونکہ اُس وعدہ پر ایمان رکھا جو اللہ تعالیٰ نے اُس سے کیا تھا۔ یہ عام فہم بات کے اُلٹ ہے۔ کہ ہم راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ صرف اس سوچ اور ایمان سے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ یا پھر نیک کام کرنے سے ہم راستبازی کے معیار کو حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس طریقہ کو نہیں اپنایا تھا۔ بلکہ اُس نے بڑے سادہ انداز میں اُس وعدہ پر ایمان رکھا۔
اب اس بات کا انتخاب کرنا اور یقین رکھناکہ میں تم کو بیٹا دوں گا۔ شاید یہ سادہ ہے لیکن یہ یقینی طور پر آسان نہیں تھا۔ ابراہیم ؑ آسانی سے اس وعدہ کو نظرانداز کرسکتا تھااس وجہ کو بیان کرکے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ واقعی مجھے بیٹا عطا کرنا چاہتا ہے تو وہ مجھے اس وقت اس کے لیے طاقت بھی عطا فرمائیں۔ کیونکہ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ اور اُس کی بیوی حضرت سارہ ؑ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ وہ بچے پیدا کرنے کی عمر میں سے گزر چکے تھے۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی میں وہ 75 سال کی عمر کے تھے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا گھر، رشتے دار اور ملک چھوڑ کر ملکِ کنعان کو ہجرت کی۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اُس کو ایک بڑی قوم بنائے گا۔ اور اب کئی سال گزرگئے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ اور اُس کی بیوی بوڑھے ہو چکے تھے اور پہلے ہی بہت زےادہ انتظار کر چکے تھے۔ اُن کا نہ تو کوئی بچہ تھا اور نہ ہی کوئی قوم۔ وہ اس بات سے حیران ہو سکتاتھا۔ اگر اللہ تعالیٰ بیٹا دے سکتا تھا تو اس نے ابھی تک کیوں نہیں دیا؟ لیکن دوسرے الفاظ میں اُس نے آنے والے بیٹے کے وعدے کا یقین کیا۔ تاہم اُن کو اُس وعدہ کے بارے میں مکمل سمجھ نہیں تھی۔ اس و عدے پر یقین کرناکہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ اور اس کی بیوی کو بیٹا دے گا یہ ایک معجزاہ کے مترادف تھا ۔ اورو عدے پر یقین کرناانتظار کرنے کا مطالبہ تھا۔ وعدہ کئے ہوئے بیٹے کے انتظار میں اور اس کے احساس میں اُس کی ساری عمر ملکِ کنعان کے خیموں میں گزر گئی۔ اُس کے لیے بڑھا آسان تھا کہ وہ اس وعدے کو رد کرے اور واپس اپنے آبائی ملک( جو اس وقت کا ترقی یافتہ ملک تھا) مسوپتامیہ میں چلا جائے۔ جس کو اس نے بہت سال پہلے چھوڑ دیا تھا۔ جہاں اُس کے بھائی اور خاندان رہتا تھا۔ لیکن ابراہیم ؑ وہاں تمام تر مشکلات اور وعدے پر یقین رکھتا رہا۔ ہرایک دن اور بہت سارے سال اس نے وعدہ پورا ہونے کے انتظار میں گزار دئیے۔ اُس نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو اپنی عام زندگی کے کاموں سے بڑھ کر ترجیع دی اور اس میں مطمن تھا۔ حقیقی معنوں میں پورے ہونے والے وعدے پر مکمل طور پر بھروسہ کرنے سے مراد معمول کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ وعدے پر بھروسے سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ۔ حضرت ابراہیم ؑ کا اللہ تعالیٰ پر ایمان اور محبت کس قدر تھی۔
چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ کا وعدے پر ایمان اس کے جذبات اور ذہنی احساسات سے بڑھ کر تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اپنی زندگی، اپنی شہرت، حفاظت اور اس وعدے کے بارے میں حال کی اور مستقبل کی امید وں کو بلکہ سب کچھ داﺅ پر لگانا پڑا۔ کیونکہ اس کو یقین تھاکہ وہ فرمانیرداری کے ساتھ انتظار کر رہا ہے۔ تاہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ہمیں بتاتی ہے۔ کیسے اس نے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر بھروسہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اُسکو ایک بیٹا دے گا۔ اور ایسا کرنے سے حضرت ابراہیم ؑ راستباز قرار دیا گیا۔ حقیقی معنوں میں حضرت ابراہیم ؑ نے وعدے کی مکمل اطاعت کی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس کا انتخاب نہ کیا ۔کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کا انکار کر دیںاور اپنے آبائی ملک واپس چلیں جائیں۔ لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان رکھا۔ نماز پڑھتے اور دوسرے لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ اس صورت حال میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی مذہبی فرائض کو جاری رکھالیکن یہ کام راستبازی کمانے کے لیے نہیں کرتے تھے۔ جس طرح قرآن شریف حضرت آدم ؑ کی اولاد سے ارشاد فرماتا ہے۔

سب سے بہترین لباس راستبازی کا ہے

یہ حضرت ابراہیم ؑ کا طریقہ کار ہے۔
اب تک ہم بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے۔ کہ ہم اپنے نیک کاموں سے جنت کما نہیں سکتے۔ بلکہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کرنے سے مل جاتی ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ہم تیسری نشانی جاری رہیں گے۔

(حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی (برکات

حضرت ابراہیم ؑ ! آپ ابراہیم اور ابرام کے نامو ں سے جانے جاتے ہیں۔ تینوں وحدانی مذاہب ، یہودیت، عیسائیت اور اسلام آپ کے نمونہ کی پیروی کرتے ہیں۔ عرب اور یہودی اپنے جسمانی نسب نامے کو حضرت اسمعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ کے ساتھ ملاتے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ نبیوں کی فہرست میں اہم ترین نبی ہیں۔ کیونکہ ان کی نشانی تمام انبیاءکے لیے بنیاد ہے۔لہذا ! انہوں نے ایسا کیا کیا جو اُن کے کردار کو تمام انبیاءاکرام کے لیے اہم کردار بنا دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب انتہای اہم ہے۔ اس کو جاننے کے لیے ہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانیوں میں سے چند ایک پر غور کریں گے۔
یہاں پر کلک کریں۔ قرآن شریف اور تورات شریف میں سے حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی کو پڑھنے کے لیے۔
ہم نے قرآن شریف کی آیات میں سے دیکھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے ’قبائل ‘ آئے ہیں۔ اور ان لوگوں نے بعد میں ایک عظیم بادشاہت حاصل کی تھی۔ لیکن ایک شخص کے پاس ایک بیٹا ہوناضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ اُس کے پاس قبیلے ہوں۔ اس سے پہلے کہ لوگ ایک عظیم بادشاہی قائم کریں۔ اور اُن کے پاس جگہ ہو نابھی ضروری ہے۔

 یہ حوالہ تورات شریف میںسے لیا گیا ہے۔ تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش 12 :2-3 ۔ اس میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ سے آنے  والے ’قبائل اور ایک عظیم بادشاہت کی دوہری تکمیل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ وعدہ کرتا ہے۔کہ جو آنے والے مستقبیل کے لیے بنیاد ہے۔ آیئں ہم اسکو تفصیل سے دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑسے فرماتا ہے۔

اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناﺅ نگا اور برکت دونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔ سو تو باعث برکت ہو!۔´ جو تجھے مبارک کہیں اُنکو میں برکت دونگا اور جو تجھ پر لعنت کرے اُس پر میں لعنت کرونگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائینگے۔´ پیدایش 12  :2-3

حضرت ابراہیم ؑ کی عظمت

آج مغرب میں بہت سے لوگ جہاں میں رہتا ہوں تعجب میں رہتے ہیں۔ کہ اگر خدا ہے ۔ تو ایک شخص کیسے جان سکتا ہے ۔ کہ اس نے خود کا انکشاف حقیقی طور پر تورات شریف میں کیا ہے۔ اب ہمارے پاس ایک وعدہ ہے۔ جس کے حصوں کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے برائے راست وعدہ کیا ہے۔ ’میں تیرانام سرفراز کرونگا۔ ‘ آج ہم اکیسو یں صدی میں موجود ہیں اور حضرت ابراہیم ؑابراہامابرام واحد نام ہے جو تاریخی طور پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ یہ وعدہ تاریخی اور لفظی طور پر پورا ہوچکا ہے۔ آج جو تورات شریف کا قدیم ترین نسخہ بخرہ مردار سے ملا جس کی تاریخ 100-200 ق م ہے۔(دیکھیں ہمارا مضمون ”کیا سنت ِرسول اس کی تصدیق کرتی ہے کہ تورات شریف، انجیل شریف اور زبور شریف لاتبدیل ہیں یا نہیں“) اس کا مطلب ہے کہ یہ وعدہ تقریباً تھوڑے ہی عرصے بعد تحریری ہوگیا۔ اُس وقت تک حضرت ابراہیم ؑ کی شخصیت اور نام بہت زیادہ مشہور نہیں ہوا تھا۔ صرف چند یہودی اُس کو جانتے تھے۔ جو توریت کے پیروکار تھے۔ لیکن آج ہم حضرت ابراہیم ؑکے نام کی عظمت جانتے ہیں۔ ہم یہاں دیکھ سکتے ہیںکہ یہ تمام وعدے لکھے جانے سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں پورے ہوئے۔ حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ یہ وعدہ یقینی طور پر پورا ہوا۔ یہ غیر ایمانداروں کے لیے بھی واضح ہے۔ اور اس سے ہمیں وعدے کے باقی حصّے کو سمجھنے میں زےادہ اعتماد ملتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ کیا تھا۔ آئےں ہم مطالعہ کو جاری رکھیں۔

ہمارے لیے برکات

ہم ایک بار پھر وعدہ کو دیکھے سکتے ہیں۔ ابراہیم ؑ سے ایک بڑی قوم بناو نگا اور اور اس کو برکت دونگا۔ لیکن یہاں ایک اور خاص بات پائی جاتی ہے۔ کہ یہ برکات صرف ابراہیم ؑ کے لیے نہیں تھی۔ بلکہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ © ’ ’ زمین کے سب قبیلے (لوگ) تیرے وسیلے سے برکت پائینگے“۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کون سے مذہب سے ہیں، ہمارا کون سا نسلی پس منظرہے، کہاں ہم رہتے ہیں، ہماری معاشرے میں کیا حیثیت ہے اور کون سی ہم زبان بولتے ہیں۔ یہ وعدہ آج ہم سب کو اِس میں شامل کرتا ہے۔ اگرچہ ہمارا مذہب، نسلی پس منظر، اور زبان مختلف ہیں۔ لیکن اکثر لوگ تنازعات کی وجہ سے اس کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ یہ ایک وعدہ ہے جسکو ہمیں ان تمام تر تنازعات سے بالا تر ہو کر دیکھنا چاہیے۔
کیسے، کب اور کس قسم کی برکات؟ یہ واضح طور پر ظاہر نہیں ہوئی لیکن یہ وعدہ حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعے ایک نشانی کو ظاہر کرتا ہے جو تمہارے اور میرے لیے معنی خیز ہے۔ہم جانتے ہیں کہ وعدہ کا ایک حصہ پورا ہوگیا ہے۔ ہم اعتماد کر سکتے ہیں کہ وعدے کا اگلا حصّہ جس میں ہم شامل ہیں واضح اور لفظی طور پر پورا ہوگیاہے ۔ صرف اس کو کھولنے کے لیے ہمیں چابی کی ضرورت ہے۔
لیکن یہاں توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہ وعدہ ملا اُس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی ۔
”سو ابراہیم ؑ خداوند کے کہنے کے مطابق چل پڑا (آیت ۴)

map-of-abrahams-trek
حضرت ابراہیم علیہ السلامکے سفر کا نقشہ

ملکِ موعودہ تک یہ کتنی دیر کا سفر تھا؟ یہ نقشہ ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کے سفربارے میں دکھاتا ہے۔کہ حضرت ابراہیم ؑ اُور کا رہنے والا تھا۔ ( آج کا جنوبی عراق) اور پھر حاران چلے آئے(آج کا شمالی عراق) پھر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا سفراُس وقت جو ملکِ کعنان کہلاتاتھاکی طرف کیا ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ ایک لمبا سفر تھا ۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اونٹ پر یا گھوڑے یا پھر گدھوں پر سفر کرنا تھا۔ اس میں کئی ماہ لگ گے۔ ابراہیم ؑ نے اپنے خاندان کو چھوڑا ، اپنی آرام دہ اور پُر سکون زندگی کو چھوڑا ( میسوپوٹا میا = مسوپتامیہ اُس وقت تہذیب کا مرکز تھا۔ جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے چھوڑدیا) اپنے محفوظ ملک کو چھوڑ کر وہ ایک ایسے ملک کے لیے سفر شروع کردیا جس سے وہ واقف نہیں تھا۔ یہ سب کچھ ہم کو تورات شریف بتاتی ہے۔ جب وہ 75 سال کا تھا۔

گذشتہ انبیاءکی طرح جانوروں کی قربانیاںکا طریقہ کار:
تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کی جب حضرت ابراہیم ؑ ملکِ کعنان خیریت سے پہنچ گئے۔ تو
آیت 17 (اُس نے وہاں خداوند کے لیے ایک قربان گاہ بنائی)
حضرت ابراہیم ؑ نے ایک قربان گاہ بنائی ۔ جیسی پہلے حضرت قائن ؑ نے اور بعد میں حضرت نوح ؑ نے بنائی۔ وہاں اُس نے قربان گا ہ پر جا نوروں کی قربانیاں پیش کی۔ ہم یہاں پر ایک نمونہ کو دیکھ سکتے ہیں۔کہ کس طرح انبیاءاکرام نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور عبادت کی۔
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ایک نئی سر زمین پر چلے گے۔ لیکن ایسی فرمانبرداری کرنے کے باعث اللہ تعالیٰ نے دو برکات کا وعدہ کیا۔ اُس کو برکت دی اور دنیا کے قبیلے حضرت ابراہیم ؑ کے وسیلے برکت حاصل کریں گے۔ اسلئے یہ ہمارے لیے بہت زیادہ اہم ہے۔
لیکن ہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی کو جاری رکھیں گے۔ ہماری اگلی پوسٹ دیکھیں۔

حضرت لوط کی نشانی

حضرت لوط ، حضرت ابراہیم  کے بھتیجا تھا۔ اُس نے بدی سے بھرے شہر میں رہنے کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس حالت کو تمام بنی نوع انسان کے لیے نبوتی نشان کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن یہ نشان کیاہے؟ اس کے جواب کے لیے ہمیں اس موجود تمام لوگوں کو بڑے غور سے جانناہوگا۔

یہاں پر کلیک کریں قرآن شریف اور تورات شریف کے حوالہ جات کو پڑھنے کے لیے) ہم قرآن شریف اور تورات شریف کے اس حوالے میں تین لوگوں کے گروہ دیکھتے ہیں۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فرشتے۔ آئیں ہم باری باری ان کے بارے میں غور سے دیکھیں

:سدوم کے مرد

یہ آدمی انتہای گمراہی کا شکار تھے۔ ہم نے دیکھا کے یہاں آدم دوسرے مردوں کے ساتھ جبراً زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ (یہ حقیقی طور پر فرشتے تھے۔ لیکن سدوم کے آدمیوں نے ان کو آدمی سمجھا اور وہ ان سے اجتماعی زیادتی کرنا چاہتے تھے) اس قسم کا گناہ انتہای بُرا تھا اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس شہر کی عدالت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع میں حضرت آدم  کو انتباہ کردیا تھا۔ کہ اُس کی عدالت میں گناہ کی مزدوری موت ہے۔ دوسری اور کوئی قسم کی سزا کافی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم  سے فرمایا۔

 ((پیدایش 17:2

لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تو نے اُس میں سے کھایا تو مرا۔

اس طرح سدوم کے آدمیوں کے گناہ کی سزاموت ہی تھی۔ در حقیقت آسمان سے آگ نازل ہوئی اور پورے شہر کو اور ہر ایک جاندار کو تباہ و برباد کردیا۔ اس کی مثال بعد میں انجیل شریف میں دی گئی ہے۔

رومیوں 23:6

کیونکہ گناہ کی مزدری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوند مسیح یسوع میںہمیشہ کی زندگی ہے۔

:حضرت لوط  کے داماد

حضرت نوح  کی کہانی میں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی عدالت کی اور حضرت آدم  کے نشان کی مطابقت سے تمام دنیا کو سیلاب سے مار ڈالا۔ ہمیں قرآن شریف اور تورات شریف بتاتی ہیں۔ کہ تمام دنیا میں بدی چھاگئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سدوم کے آدمیوں کی عدالت کی کیونکہ اُن کی بدی بہت بڑھ چکی تھی۔ ان سب باتوں کے بعد میں یہ سوچو کہ میں اللہ تعالیٰ کی عدالت سے اس لیے بچ سکتا ہوں۔ کیونکہ میں اُن جیسی بدی نہیں کرتا اور اس طرح میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے بہت سے نیک کام کئے ہیں۔ اور میں نے اُن جیسے بُرے کام نہیں کئے۔ تو کیا میں محفوظ ہوں؟ حضرت لوط  کی نشانی اُس کے دامادوںکے بارے میں مجھے خبردار کرتی ہے۔ کہ وہ اُس گروہ میں شامل نہیں تھے۔جو اجتماعی زیادتی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم اُنہوں نے آنے والی عدالت کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا تھا۔ دراصل تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ وہ سمجھے تھے کہ حضرت لوط ؑ اُن سے مذاح کر رہا ہے۔ کیا اُن کی قسمت اُس شہر کے آدمیوں سے فرق تھی؟ نہیں! بلکہ انہوں نے ایک طرح کی قسمت پائی۔ حضرت لوط  کے دامادوں اور اُس سدوم کے آدمیوں کے نتائج میں کوئی فرق نہ تھا۔ یہ نشان ہر ایک لیے تھا کہ وہ اس کو سنجیدگی سے لیں۔ یہ صرف اُن جنسی گمراہ آدمیوں کے لیے ہی نہ تھا۔

:حضرت لوط  کی بیوی

حضرت لوط  کی بیوی ہمارے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔ قرآن شریف اور تورات شریف دونوں حوالہ جات بتاتے ہیں کہ اُس نے دوسرے لوگوں کے ساتھ سزا پائی۔ اور یہ ایک نبی کی بیوی تھی۔ لیکن اُس کا قریبی رشتہ بھی اُس کو نہ بچا سکا۔ حتٰی نہ وہ بدی میں گمراہ تھی اور نہ ہی وہ سدوم کے آدمیوں کی طرح اُن کی بدی میں شامل تھی۔ لیکن فرشتوں نے اُن سب کو حکم دیا تھا۔

(سورة ھود11: 81 )
فرشتوں نے کہا کہ لُوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہر گز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت اُن پر پڑے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ اُن کے (عذاب) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟۔

پیدایش17:19

 ۔۔۔ نہ تو پیچھے مُڑ کر دیکھنا ۔۔۔

اور تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش ہمیں بتاتی ہے کہ (آیت 17:19)اُس نے پیچھے مُڑ کردیکھا۔ اس کی وضاحت ہمارے پاس نہیں ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اُس نے یہ سوچا ہوگا۔ کہ کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ کے اس چھوٹے سے حکم کو نظرانداز کر دیتی ہوں۔ لیکن اُس کے لیے یہ ایک چھوٹا گناہ بھی اُس طرح تھا جیسے سدوم کے آدمیوں نے بڑا گناہ کیااور مرگے۔ یہ میرے لیے اہم ترین نشانی ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا گناہ بھی مجھے اللہ تعالیٰ کی عدالت سے چُھپ نہیں سکتا۔ حضرت لوط  کی بیوی کا نشان ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہمیں اس طرح کی غلط سوچ نہیں سوچنی۔

:اللہ تعالیٰ ، حضرت لوط  اور فرشتے

جیسے ہم نے حضرت آدم  کی نشانی میں دیکھا۔ جب بھی اللہ تعالیٰ عدالت کرتا ہے۔ اُس کے ساتھ اپنا رحم بھی نازل فرماتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کی نشانی میں اُس نے اُن کے لیے کپڑے فراہم کئے۔ حضرت نوح  کی نشانی میں جب اللہ تعالیٰ نے عدالت کی تو ایک بار پھر کشتی کی صورت میں اپنا رحم فراہم کیا۔ ہم اس کو ایک بار پھر دیکھتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدالت کی تو اُس کے ساتھ اپنی رحمت بھی فرمائی۔ اسکا بیان تورات شریف میں کیا ہے۔

پیدایش 16:19

مگر اُس نے دیر لگائی تو اُن مردوں نے اُسکا اور اُسکی بیوی اور اُسکی دونو بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا کیونکہ خداوند کی مہر بانی اُس پر ہوئی اور اُسے نکال کر شہر سے باہر کردیا۔

ہم اس میں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ابتدائی نشانیوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت عالمیگری تھی لیکن یہ فراہم صرف ایک ہی راہ سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو شہر سے باہر نکلنے کی راہنمائی نہیں کی تھی۔ مثال کے طور پر رحمت فراہم کرناشہر میں ایک پناہ فراہم کرنے کے مترادف تھا۔ جو آسمان سے آگ کو برداشت کرسکتی تھی۔ لیکن یہاں رحمت حاصل کرنے کا صرف ایک ہی راہ تھا۔ کہ فرشتوں کی راہنمائی میں شہر سے باہر نکل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ رحم اس لیے حضرت لوط  اور اُس کے خاندان پر نازل نہیں کیا تھا کہ وہ کامل تھا۔ سچ یہ ہے۔ کہ ہم نے تورات شریف اور قرآن شریف دونوں میں پڑھا کہ حضرت لوط ؑ اُس گمراہ گروہ کو اپنی بیٹیاں پیش کرنے کو تیار تھے۔ شاید یہی ایک عظیم ترین اشارہ ہے۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت لوط  ہچکچاتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے یہ سب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت فرمائی اور اُن کو اُس گمراہ گروہ سے باہر نکالنے کی راہنمائی بھی کی۔ یہ نشانی ہمارے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت پر نازل کریں گا۔ لیکن یہ ہمارے نیک کاموں کی وجہ سے نہیں ہے۔ لیکن لوط  کی طرح پہلے ہمیں اُسکی رحمت کو قبول کرنا ہے۔ تاکہ ہماری مدد ہوسکے۔ حضرت لوطؑ کے دامادوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا۔ جسکی وجہ سے وہ اس سے فائدہ اُٹھا نہ سکے۔

تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط  پر اپنی رحمت اسلئے نازل کی۔ کیونکہ اُس کا چچا حضرت ابراہیم  جو ایک عظیم نبی تھا۔ اُس نے شفاعت کی تھی۔ (حوالے کو پڑھنے کے لیے کلیک کریں) اور پھر تورات شریف حضرت ابراہیم  کی نشانی اور اُس وعدے کو جو اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔ ’سب زمین کی قومیں تجھ سے برکت پائیں گی۔ کیونکہ تونے میری فرمانبرداری کی ہے۔ ( پیدایش 18:22) یہ وعدہ ہمیں خبردار کرتا ہے۔ کہ اسکا کوئی مطلب نہیں کہ ہم کون سی زبان بولتے ہیں۔ ہمارا کیامذہب ہے، یا ہم کہا رہتے ہیں؟ لیکن یہ ہم جان سکتے ہیں ۔ کہ تم اور میں دونوں زمین کی سب قوموں کا حصہ ہیں۔ تاہم اگر حضرت ابراہیم  کی شفاعت سے اللہ تعالیٰ حضرت لوط  کے لیے اپنی رحمت عطاکر سکتا ہے ۔ جب کہ وہ اُس معیار پر بھی پورا نہیں اُترتا تھا۔ تو پھر حضرت ابراہیم  کی نشانیوں سے کس قدر ہمیں رحمت مل سکتی ہے۔ جو پوری دنیا کی قوموں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سوچ کے ساتھ ہم تورات شریف کے انبیاءاکرام کے بارے میں اپنا سفر جاری دیکھیں گے کہ تورات شریف ہمیں حضرت ابراہیم  کی نشانی کے بارے میں کیا بتاتی ہے۔