حضرت عیسیٰ المسیح کی تمثیلوں کے زریعے تعلیم

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے لاثانی اختیار کے ساتھ تعلیم دی۔ اُنہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں کے زریعے تعلیم دی جوزندگی کے سچے اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ہم نے دیکھا کہ کیسے اُنہوں نے ایک عظیم ضیافت کی تمثیل سےاللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ اور کیسے اُنہوں نے معافی کے تعلیم دیتے ہوئے ایک ظالم نوکر کی تمثیل سے سیکھایا۔ ان کہانیوں کو تمثیل کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح انبیاء اکرام کے درمیان لاثانی نبی ہیں اور اُنہوں نے سیکھاتے ہوئے بہت زیادہ تمثیل کا استعمال کیا۔ اور کس قدر وہ اہم تھیں۔ آپ کے حواریوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ کیوںکہ لوگوں کو تمثیلوں میں لوگوں کو سیکھاتے ہیں۔ انجیل شریف میں سوال کا جواب اس طرح لکھا ہوا ہے۔

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے لاثانی اختیار کے ساتھ تعلیم دی۔ اُنہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں کے زریعے تعلیم دی جوزندگی کے سچے اصولوں کو بیان کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ہم نے دیکھا کہ کیسے اُنہوں نے ایک عظیم ضیافت کی تمثیل سےاللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں تعلیم دی۔ اور کیسے اُنہوں نے معافی کے تعلیم دیتے ہوئے ایک ظالم نوکر کی تمثیل سے سیکھایا۔ ان کہانیوں کو تمثیل کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح انبیاء اکرام کے درمیان لاثانی نبی ہیں اور اُنہوں نے سیکھاتے ہوئے بہت زیادہ تمثیل کا استعمال کیا۔ اور کس قدر وہ اہم تھیں۔ آپ کے حواریوں نے آپ سے ایک بار پوچھا کہ آپ کیوںکہ لوگوں کو تمثیلوں میں لوگوں کو سیکھاتے ہیں۔ انجیل شریف میں سوال کا جواب اس طرح لکھا ہوا ہے۔

یسوع نے تمثیلوں کا استعمال کیوں کیا ؟

10 تب شاگرد یسوع کے پا س آکر پوچھنے لگے“آپ تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو کیوں تعلیم دیتے ہیں؟”۔
11 یسوع نے کہا، “خدا کی بادشاہت کی پو شیدہ سچا ئی کو سمجھنے کی صرف تم میں صلا حیت ہے۔ اور ان پوشیدہ سچا ئی کو دیگر لوگ سمجھ نہیں پاتے 12 جس کو تھوڑا علم و حکمت دی گئی ہے وہ مزید علم حا صل کر کے علم و حکمت وا لا بنے گا۔ لیکن جو علم وحکمت سے عا ری ہو گا۔ وہ اپنے پاس کا معمو لی نام علم بھی کھو دے گا۔ 13 اسی لئے میں ان تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو تعلیم دیتا ہوں۔ ان لوگوں کا حا ل یہ ہے کہ یہ دیکھ کر بھی نہیں دیکھنے کے برا بر اور سن کر بھی نہ سننے کے برا بر ہیں۔ متّی 13:10-13

آپ کے آخری الفاظ حضرت یسعیاہ نبی ؑ کے تھے۔ جو 700 ق م میں اپنی قوم پر نازل ہوئے۔ حضرت یسعیاہ نبی ؑ دل کی سختی کے خلاف خبردار کیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں کئی بار ہم کسی چیز کو ٹھیک طور پر نہیں جان پاتے اور کیونکہ ہم نے اُس کی وضاحت یا پھر وہ بہت ہی زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں ایک واضح وضاحت پیچیدگی کو ختم کردیتی ہے۔ لیکن اس علاہ کئی بار ہم بات کو نہیں سمجھ پاتے۔ کیونکہ ہم دلی گہرائیوں سے اُس بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم چاہیے اس بات کا اقرار نہ کریں۔ لہذا ہم سوالات پوچھتے جاتے ہیں۔ شاید دماغی فہم کی کمی ہمارے شاید ہمارے اندر دماغی فہم کی کمی ہے۔ لیکن اگر الجھن ہمارے دلوں میں ہے اور ہمارے دماغ میں نہیں تو کوئی بھی وضاحت کافی نہیں ہوگی۔ یہاں پر مسئلہ یہ ہے۔ کہ یم سمجھنے کے لیے راضی نہیں نہ کہ ہم ذہینی طور پر سمجھ نہیں سکتے۔
جب بھی حضرت عیسیٰ المسیح تمثیلوں کے زریعے سکھاتے تو اس بات کا اثر بھیڑ پر بڑے ڈرامائی انداز میں ہوا۔ جو لوگ آسانی سے کہانی کو سمجھ نہ پاتے۔ وہ اس کے بارے متجسس ہوجاتے اور اس کو سمجھنے کے لیے دوسروں سے کہتے۔ جبکہ وہ لوگ جو کہانی کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ وہ اس کو ناپسندیدہ اور نظرانداز کرتے۔ وہ اس کے بارے میں مزید سوچنا پسند بھی نہ کرتے۔ تمثیلوں کا استعمال ماہر استاد کرتے۔ تاکہ وہ لوگوں کا جدا کرسکیں۔ جیسے کسان گندم کو بھوسے سے لگ کرتا ہے۔ جو لوگ کہانی کو سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ الجھن کا شکار ہوگے۔ کیونکہ اُنہوں نے اپنی دلی مرضی سے سچائی کو قبول کرنا نہ چاہا۔ اگرچہ وہ دیکھتے تو تھے لیکن وہ اس بات کی گہرائی کو سمجھتے نہیں تھے۔

بیج بونے والا اور چار مختلف اقسام کی زمین

جب حضرت عیسیٰ کے حواریوں نےکہانیوں کے انداز میں تعلیم دینے کے بارے میں سوال کیا۔ تو وہ آپ اُس وقت اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں ایک گروہ کو کہانیوں کے زریعے سیکھا رہے تھے۔ یہاں پر پہلی کہانی ہے۔

تب یسوع نے تمثیلوں کے ذریعہ کئی چیزیں انہیں سکھا ئیں۔ اور یسوع انکو یہ تمثیل دینے لگے کہایک کسان بیج بونے کے لئے گیا۔ “جب وہ تخم ریزی کررہا تھا تو چند بیج راستے کے کنارے پر گرے۔ اور پرندے آکر ان تمام بیجوں کو چگ گئے۔ چند بیج پتھریلی زمین میں گر گئے۔ اس زمین میں زیا دہ مٹی نہ ہو نے کے وجہ سے بیج بہت جلد اگ آئے۔ لیکن جب سورج ابھرا، اس نے پودوں کو جھلسا دیا۔ تو وہ اُگے ہوئے پو دے سوکھ گئے۔ اس لئے ان کی جڑیں گہرا ئی تک نہ جا سکیں۔ دیگر چند بیج خا ر دار جھا ڑیوں میں گر گئے۔اور وہ خا ر دار جھا ڑیوں نے ان کو دبا کر ان اچھے بیجوں کی فصل کو آگے بڑ ھنے سے روک دیا۔ دوسرے چند بیج اچھی زر خیز زمین میں گر گئے۔ اور وہ نشو نما پا کر ثمر آور ہوئے بعض پودے صد فیصد بیج دیئے ،اور بعض پودے ساٹھ فیصد سے زیادہ اور بعض نے تیس فیصد سے زائد بیج دئیے۔ میری باتوں پر کان دھر نے والے لوگوں نے ہی غور سے سنا۔”  متّی 13:3-9

تو اس تمثیل کا کیا مطلب تھا؟ ہمیں اندازہ نہیں لگانا چاہئے، وہاں پر ایسے لوگ تھے جو دلی طور پر اس کہانی کو سمجھنا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے اس کے بارے میں پوچھا اور یہاں آپ نے بیان کردیا تھا۔

18 “ایسی صورت میں کسان کے متعلق کہی گئی تمثیل کے معنی سنو۔

19 سڑک کے کنارے میں گر نے والے بیج سے مرا د کیا ہے ؟راستے کے کنارے گرے بیج اس آدمی کی مانند ہیں جو آسمانی بادشاہت کے متعلق تعلیمات کو سن رہا ہے لیکن سمجھ نہیں رہا ہے۔ اسکو نہ سمجھنے والا انسان ہی راستے کے کنارے گرے ہو ئے بیج کی طرح ہے۔ برا شخص آکر اس آدمی کے دل میں بوئے گئے بیجوں کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔

20 اور پتھریلی زمین میں گرے ہو ئے بیج سے مراد کیا ہے ؟ وہ بیج اس شخص کی مانند ہے جو بخوشی تعلیمات کو سنتا ہے اور ان تعلیمات کو بخوشی فوراً قبول کر لیتا ہے۔ 21 لیکن وہ آدمی جو کلام کو اپنی زندگی میں مستحکم نہیں بنا تا اور وہ اس کلام پر ایک مختصر وقت کے لئے عمل کرتا ہے۔ اور اس کلام کو قبول کر نے کی وجہ سے خود پر کو ئی تکلیف یا مصیبت آتی ہے تو وہ اسکو جلد ہی چھوڑ دیتا ہے۔

22 “خار دار جھا ڑیوں کے بیچ میں گر نے والے بیج سے کیا مراد ہے تعلیم کو سننے کے بعد زندگی کے تفکّرات میں اور دولت کی محبت میں تعلیم کو اپنے میں پر وان نہ چڑھا نے والا ہی خار دار زمین میں بیج کے گرنے کی طرح ہے۔یہی وجہ ہے کہ تعلیم اس آدمی کی زندگی میں کچھ پھل نہ دیگی۔

23 اور کہا کہ اچھی زمین میں گرنے والے بیج سے کیا مراد ہے ؟تعلیم کو سن کر اور اسکو سمجھ کر جاننے والا شخص ہی اچھی زمین پر گرے ہو ئے بیج کی طرح ہو گا۔ وہ آدمی پر وان چڑھکر بعض اوقات سو فیصد اور بعض اوقات ساٹھ فیصد اور بعض اوقات تیس فیصد پھل دیگا۔”

 متّی 13:18-23

ہم دیکھ سکتے ہیں یہاں پر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے بارے میں چار مختلف جوابات ہیں۔ پہلے وہ ہیں جن کو کلام اللہ کی ‘سمجھ ‘ نہیں آئی اور ابلیس آیا اور اُن کے دلوں میں سے پیغام کو چرا کر لے گیا۔ باقی رہ گے تین۔ اںہوں نے کلام اللہ کو بڑی خوشی سے قبول کرلیا۔ لیکن اس پیغام کو ہمارے دلوں میں پروان چڑھنے میں مشکل پیش آئی۔ یہ صرف ہمارے ذہنوں میں تسلیم کرنے کی ہی بات نہیں تھی۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں تھا کہ ہم جیسا چاہیں ویسے رہیں۔ تاہم ان تین میں سے دو نے ابتدا میں قبول تو کرلیا تھا لیکن اس پیغام کو اپنے دلوں میں پروان چڑھنے نہ دیا۔ صرف ان میں سے چوتھا دل ہی ایسا تھا۔ جس نے اس پیغام پر پوری توجہ سے سُن اور اُس پر ایمان لایا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لیے تیار بھی ہوگیا جیسے اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی۔

اس کہانی کے میں ایک نقطہ جس کے بارے میں ہم سوال کرنا چاہتے ہیں؟ ‘اس کہانی میں چار اشخاص میں سے میں کون ہوں؟’ صرف وہی اچھی فصل ثابت ہوئے جنہوں نے اُس پیغام کو سمجھا۔ ایک فہم اور تفہیم کے لیے ضروری یہ ہے کہ ہم حضرت آدمؑ سے شروع کرکے انبیاءاکرام تک اللہ تعالیٰ کے منصوبہ کو تورات اور زبور شریف میں سے جانیں۔ حضر ت آدمؑ کے نشان کے بعد اہم نشانات تورات شریف میں حضرت ابراہیم ؑ سے وعدے اور قربانی میں سے آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کے دس احکامات، اور حضرت ہارونؑ۔ زبور شریف میں "مسیح” کی ابتداء کی سمجھنے کے بعد، حضرت یسعیاہ ؑ، زکریاہؑ، دانیال، اور ملاکی ؑ کی کتابوں میں سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کے پیغام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس تمثیل کی وضاحت کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح گھاس کی مثال کے زریعے سیکھاتے ہیں۔

گیہوں اور گھاس پھوس کی تمثیل

24 تب یسوع انکو ایک اور تمثیل کے ذریعہ تعلیم دینے لگے۔ وہ یہ کہ“ آسمان کی بادشاہت سے مراد ایک اچھے بیج کو اپنے کھیت میں بونے والے ایک کسان کی طرح ہے۔ 25 اس رات جب کہ سب لوگ سو رہے تھے تو اسکا ایک دشمن آیا اور گیہوں میں گھاس پھوس کو بودیا۔ 26 جب گیہوں کا پو دا نشو نما پا کر دانہ دار بن گیا تو اسکے ساتھ گھا س پھوس کے پو دے بھی بڑھنے لگے۔ 27 تب اس کسان کے خادم نے اسکے پاس آکر دریافت کیا کہ تو اپنے کھیت میں اچھے دانوں کو بویا۔ مگر وہ گھاس پھوس کا پو دا کہاں سے آ گیا ؟

28 اس نے جواب دیا، “یہ دشمن کا کام ہے تب ان خادموں نے پو چھا کہ کیا ہم جاکر اس گھاس پھوس کے پو دے کو اکھاڑ پھینکیں۔

29 “اس آدمی نے کہا کہ ایسا مت کرو کیوں کہ تم گھاس پھوس کو نکالتے وقت گیہوں کو بھی نکال پھینکو گے۔  متّی 13:24-29

یہاں پر اُنہوں نے وضاحت بیان کی ہے۔

36 تب یسوع لوگوں کو چھوڑ کر گھرچلے گئے۔ انکے شاگرد انکے قریب گئے اور ا ن سے کہا،” گو کھر و بیجوں سے متعلق تمثیل ہم کو سمجھا ؤ۔”

37 یسوع نے جواب دیا ، اس طرح کھیت میں اچھے قسم کے بیجوں کی تخم ریزی کر نے وا لا ہی ابن آدم ہے۔ 38 کھیت یہ دنیا ہے۔ اچھے بیج ہی آسما نی بادشاہت میں شا مل ہو نے وا لے خدا کے بچے ہیں اور بر ے وبد کا روں سے رشتے رکھنے وا لے ہی وہ گو کھر وکے بیج ہیں۔ 39 کڑ وے بیج کو بو نے وا لا دشمن ہی وہ شیطا ن ہے۔ فصل کی کٹا ئی کا مو سم ہی دنیا کا اختتام ہے اور اس کو جمع کر نے وا لے مز دور ہی خدا کے فرشتے ہیں۔

40 “کڑ وے دانوں کے پودوں کو اکھا ڑ کر اس کو آ گ میں جلا دیتے ہیں اور دنیا کے اختتا م پر ہو نے وا لا یہی کام ہے۔ 41 ابن آدم اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔اور اس کے فرشتے گنا ہوں میں ملوث برے اور شر پسند لو گوں کو جمع کریں گے۔ اور وہ انکو اس کی بادشاہت سے باہر نکال دیں گے۔ 42 فرشتے ان لوگوں کو آ گ میں پھینک دیں گے۔اور وہاں وہ تکلیف سے رو تے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے رہیں گے۔ 43 تب اچھے لوگ سورج کی مانند چمکیں گے۔ وہ اپنے باپ کی بادشا ہی میں ہو ں گے۔ میری باتوں پر توجہ دینے والے لوگو غور سے سنو ۔   متّی3:36-43

بیج اور خمیر کی مثال

حضرت عیسیٰ المسیح نے کچھ مختصر تمثیلوں کے ساتھ سیکھایا تھا۔

31 تب یسوع نے ایک اور تمثیل لوگوں سے کہی “آسما نی باد شاہت را ئی کے دا نے کے مشا بہ ہے۔ کسی نے اپنے کھیت میں اس کی تخم ریزی کی۔ 32 وہ ہر قسم کے دانوں میں بہت چھو ٹا دانہ ہے۔ اور جب وہ نشو نما پا کر بڑھتا ہے تو کھیت کے دوسرے درختوں سے لمبا ہو تا ہے۔ جب وہ درخت ہو تا ہے تو پرندے آکر اس کی شاخوں میں گھونسلے بناتے ہیں۔”

33 پھر یسوع نے لوگوں سے ایک اور تمثیل کہی “آسما نی بادشاہت خمیر کی مانند ہے جسے ایک عورت نے روٹی پکا نے کے لئے ایک بڑے برتن جسمیں آٹا ہے اور اس میں خمیر ملا دی ہے۔ گو یا وہ پورا آٹا خمیر کی طرح ہو گیا ہے۔”  متّی 13:31-33

دوسرے الفاظ میں، اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اس دنیا میں بہت ہی چھوٹی اور غیرمعمولی انداز سے شروع ہوگی۔ لیکن بعد میں وہ خمیر کی طرح پھیل گئی۔ جیسے ایک چھوٹا سا بیج بڑھ کر ایک بڑا درخت بن جاتا ہے۔ یہ کسی قوت کے ساتھ نہیں ہوا یا ایک دم سے نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی پوشیدگی میں ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن یہ ہر جگہ پر اور بن روکے ہورہی ہے۔

پوشیدہ خزانے اور قیمتی موتی کی مثال

44 “آسما نی بادشاہت کھیت میں گڑے ہو ئے خزا نے کی مانند ہے۔ایک دن کسی نے اس خزا نے کو پا لیا۔ او ربے انتہا مسر ّت وخوشی سے اس کو کھیت ہی میں چھپا کر رکھ دیا۔ تب پھر اس آدمی نے اپنی سا ری جا ئیداد کو بیچ کر اس کھیت کو خرید لیا۔

45 “آسما نی بادشاہت عمدہ اور اصلی موتیوں کو ڈھونڈ نے وا لے ا یک سوداگر کی طرح ہے جو قیمتی موتیوں کی تلا ش کر تا ہے۔ 46 ایک دن اس تا جر کو بہت ہی قیمتی ایک مو تی ملا۔تب وہ گیا اور اپنی تمام جائیداد کو فروخت کر کے اس موتی کو خرید لیا۔    متّی 13:44-46

ان تمثیلوں کی بنیادی توجہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی قدر کو بیان کرتیں ہیں۔ ایک ایسے خزانے کی سوچ جو ایک کیھت میں پوشیدہ ہے۔ چونکہ یہ خزانہ اُس کیھت میں پوشیدہ ہے اور ہر کوئی اس کیھت کے پاس سے گزر جاتا ہے اور اُن میں سے کسی کے دل میں اس کیھت کے بارے میں کوئی بھی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ کیونکہ وہ خزانہ پوشیدہ ہے۔ لیکن پھر کسی کو اس کیھت کے بارے میں یہ خیال آتا ہے۔ کہ اس کیھت میں کوئی خزانہ ہے۔ جس کی وجہ سے اُس کیھت کی قدر بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ وہ اس کیھت میں پوشیدہ خزانے کو حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ بیچ دیتا ہے۔ لہذا یہ اللہ تعالیٰ لی بادشاہی کا حال ہے۔ جو لوگ توجہ نہیں دیتے اُن کے لیے کوئی چیز قدر نہیں رکھتی۔ لیکن لیکن وہ جو توجہ دیتے اور اُس چیز کی قدر کو جانتے ہیں۔ وہ اُس کو حاصل کرنے لیے سب کچھ دیتے ہیں۔

جھال کی مثال

47 “آسما نی بادشاہت سمندر میں ڈالے گئے اس مچھلی کے جال کی طرح ہےجس میں مختلف قسم کی مچھلیاں پھنس گئیں۔ 48 تب وہ جال مچھلیوں سے بھر گیا۔ مچھیرے اس جال کو جھیل کے کنا رے لائے اور اس سے اچھی مچھلیاں ٹوکریوں میں ڈال لیں اور خراب مچھلیوں کو پھینک دئیے۔ 49 اس دنیا کے اختتا م پر بھی ویسا ہی ہوگا۔فرشتے آئیں گے اور نیک کا روں کو بد کاروں سے الگ کریں گے۔ 50 فرشتے برے لوگوں کو آ گ کی بھٹی میں پھنک دیں گے۔ اس جگہ لوگ روئیں گے۔درد وتکلیف میں اپنے دانتوں کو پیسیں گے۔”   متّی 13:47-50

اللہ تعالیٰ کی بادشاہی انسانوں کو جدا کرے گی۔ یہ جدائی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کرے گا۔ جب سب دلوں کو ظاہر کردیا جائے گا۔

ہم دیکھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی پراسرار طریقے سے پروان چڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جس طرح آٹا میں خمیر ، اس کی پوشیدہ حزانہ جس کی بڑھی قدروقیمت ہے۔ جو سب سے چھُپی ہوئی ہے۔ اور اس سے لوگوں کے درمیان مختلف ردعمل ںظر آتا ہے۔ اس سے لوگوں کے درمیان یہ تمیز کی جاسکتی ہے۔ جواس کو سمجھ سکے اور جو اس کو نہ سمجھ سکے۔ ان مثالوں کے زریعے تعلیم دینے کے بعد حضرت عیسیٰ المسیح لوگوں سے ایک سوال پوچھتے ہیں۔

51 یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا، “کیا تم ان تمام باتوں کو سمجھ گئے ہو؟” شاگردوں نے جواب دیا “ہم سمجھ گئے ہیں”   متّی 13:51

آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

حضرت عیسیٰ المسیح باطن کی پاکیزگی کے بارے میں تعلیم دیتے ہیں

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المیسح کے الفاظ میں کیسا اختیار تھا کہ بیمار شفا پاتے اور فطرت اُن کا کہا مانتی۔ اُنہوں نے اپنے الفاظ سے برائے راست ہمارے دلوں کی حالت کو بھی بے نقاب کردیا۔ ہمیں اس بات پر مجبور کردیا کہ ہم اپنے باطن اور ظاہری حالت کی جانچ پڑتال کرسکیں۔ ہم سب اپنی ظاہر پاکیزگی کو تو جانتے ہیں۔ اس لیے ہم نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرتے ہیں اور اس لیے ہم حلال کھانا کھاتے ہیں۔ حضرت محمدؐ نے حدیث مبارک میں یوں ارشاد فرمایا ہے۔

صفائی نصف ایمان ہے . . . حدیث مسلم کتاب 002، باب 1، حدیث 0432

حضرت عیسیٰ المیسح چاہتے ہیں۔ ہم دوسرے نصف حصے کے بارے میں سوچیں۔ جو ہمارا باطن کا حصہ ہے۔ یہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم انسان دوسرے انسانوں کی ظاہری پاکیزگی اور ناپاکی کو دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہم سے مختلف ہے۔ اللہ باطن کو دیکھتا ہے۔ جب یہوداہ کے بادشاہوں میں سے ایک جو مذہبی طور پر راستباز نظر آتا تھا لیکن اُس کے باطن میں جو دل تھا وہ پاک نہیں تھا۔ تو اُس وقت ایک نبی اُس بادشاہ کے پاس یہ پیغام لیکر آیا۔

 خدا وند کی آنکھیں ساری زمین پر چاروں طرف ان لوگوں کو ڈھونڈتی رہتی ہیں جو انکا فرمانبردار ہے ، تا کہ وہ ان لوگوں کے ذریعہ اپنی قوت دکھا سکے۔ آسا ! تم نے بیوقوفی کی اس لئے اب سے آئندہ تم جنگیں لڑ تے رہو گے۔”             دوم تواریخ  16:9

جس طرح یہ پیغام بتایا گیا تھا۔ کہ باطنی پاکیزگی سے مراد ‘دل’  ہے۔ جس سے آپ سوچتے ہیں، محسوس کرتے ہیں، فیصلہ کرتے فرمانبرداری کرتے یا نافرمانی، اور اسی سے آپ اپنی زبان کو کنڑول کرتے ہیں۔ زبور شریف میں انبیاءاکرام نے بتایا تھا کہ یہ ہمارے دل کی پیاس تھی۔ جس سے گناہ پیدا ہوا۔ ہمارے دلوں (باطن) کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے ظاہری زندگی کے تنازعہ ہمارے باطن کے بارے میں تعلیم دی ہے۔ حضرت عیسیٰ المیسح کی تعلیم یہاں پر درج ہے۔

باطن کے ساتھ ساتھ ظاہر کی بھی صافی

(مندرجہ ذیل الفاظ میں ‘فریسیوں’ کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ یہودیوں کے مذہبی استاد تھے۔ جس طرح آج امام/ مولوی ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اللہ تعالیٰ کو اپنی آمدن کا "دسواں حصہ” دینے کی تعلیم دی۔ یہ دراصل یہودیوں کو فرضی زکوۃ ادا کرنی ہوتی تھی)۔

37 جب یسوع نے اپنی تقریر کو ختم کی تو ایک فریسی نے یسوع کو اپنے گھر پر کھا نا کھا نے کیلئے بلایا اسلئے یسوع اس کے گھر جا کر کھا نا کھا نے بیٹھ گئے۔ 38 اس نے یسوع کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ دھو ئے بغیر ہی کھا نا کھا نے بیٹھ گئے توفریسی کو تعجب ہوا۔ 39 خداوند نے اس سے جو کہا وہ یہ ہے کہ “تم فریسیو! تم تو برتن اور کٹورے کے اوپر کے حصہ کو تو صاف ستھرا رکھتے ہو جبکہ تمہارا باطن لا لچ اور برائیوں سے بھرا ہواہے۔ 40 تم بے وقوف ہو اسلئے کہ جس خدا نے تمہا رے ظا ہر کو بنایا ہے۔ وہی باطن کو بھی بنایا ہے۔ 41 اسی لئے بر تن اور کٹوروں کے اندر کی چیزیں غریبوں کو دیا کرو تب کہیں تم پوری طرح پاک ہو جا ؤگے۔

42 اے فریسیو! افسوس ہے تم پر! کیوں کہ اپنے پاس کی تمام چیزوں میں سے دسواں حصہ خدا کی راہ میں دیتے ہو تمہا رے باغ کی پیدا وار میں پو دینہ ، سداب جیسے چھو ٹے پو دوں والی فصل میں سے بھی دیتے ہو لیکن دوسروں کو انصاف بتا نے کے لئے اور خدا سے محبت کر نا بھلا بیٹھے ہو۔ پہلے تمہیں ان تمام باتوں کو کر نا ہے اور بچی ہوئی چیزوں کو نظر اندا ز کر نا ہے۔

43 اے فریسیو! تم پر بڑا ہی افسوس ہے! کہ تم یہو دی عبادت گاہوں میں تو اعلیٰ واونچی نشستوں کے اور بازاروں میں لوگوں سے عزت کے خوا ہشمند ہوتے ہو۔ 44 افسوس ہے تم پر کہ تم تو بس ا ن پوشیدہ قبروں کی طرح ہو جس پر سے لوگ بغیر سمجھے ان پر سے گذرتے ہیں۔” لوقا 11:37-44

یہودی شریعت کے مطابق اگر کوئی مردہ کو چھولیتا۔ تو وہ ناپاک ہو جاتا۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح نے ‘قبروں’ کا ذکر کیا تھا۔ تو اُن کے مطلب تھا۔ کہ وہ قبریں بھی ناپاک ہیں۔ اس بات کو وہ جانتے تھے لیکن پھر بھی وہ اُن قبروں کے درمیان چلتے تھے۔ جس سے مراد تھا کہ وہ باطن کی پاکیزگی کو نظرانداز کررہے تھے۔ کیونکہ قبریں اندر سے تو ناپاک تھیں۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں۔ تو ہم پھر اس ناپاکی کی وجہ سے غیرایماندار کی حالت میں ہوتے ہیں۔ جن کو کسی قسم کی پاکیزگی کی تمیز نہیں ہوتی۔

دل مذہبی شخص کو بھی ناپاک کردیتا ہے

اس مندرجہ ذٰیل دی جانے والی تعلیم میں حضرت عیسیٰ المسیح حضرت یسعیاہ نبی کی ایک اقتباس کو پیش کرتے ہیں۔ جو 750 ق م میں ناذل ہوئے اور اُن کی کتاب زبور شریف میں شامل ہے۔

(یہاں پر حضرت یسعیاہ نبی کے بارے میں معلومات موجود ہے)

خدا کا حکم اور لوگوں کے اصول

15 تب چند فریسی اور معلمین شریعت یروشلم سے یسوع کے پاس آئے اور کہا، “تمہا رے ماننے وا لے ہما رے اجداد کے اصول وروا یات کی اطاعت کیوں نہیں کرتے ؟ اور پوچھا کہ تیرے شاگرد کھا نا کھانے سے قبل ہاتھ کیوں نہیں دھوتے ؟”-

یسوع نے کہا، “تم اپنے اصولوں پر عمل کر نے کے لئے خدا کے احکام کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہو ؟۔ خدا کا حکم ہے کہ تم اپنے ماں باپ کی تعظیم کرو۔ [a] دوسرا حکم خدا کا یہ ہے کہ اگر کو ئی اپنے باپ یا ا پنی ماں کو ذلیل و رسوا کرے تو اسے قتل کر دیا جا ئے۔ [b] لیکن اگر ایک آدمی اپنے ماں باپ کو یہ کہے کہ تمہا ری مدد کر نا میرے لئے ممکن نہیں کیوں کہ میرے پاس ہر چیز خدا کی بڑا ئی کے لئے ہے تو پھر ماں باپ کی عزت کر نے کی کو ئی ضرورت نہیں۔ تم اس بات کی تعلیم دیتے ہو کہ وہ اپنے ماں باپ کی عزت نہ کرے اس صورت میں تمہا ری روایت ہی نے خدا کے حکم کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ تم سب ریا کار ہو۔یسعیاہ نے تمہارے بارے میں صحیح کہا ہے وہ یہ کہ:

“یہ لوگ تو صرف زبانی میری عزت کرتے ہیں۔

    لیکن ان کے دل مجھ سے دور ہیں۔
اور انکا میری بندگی کرنا بھی بے سود ہے۔
    انکی تعلیمات انسانی اصولوں ہی کی تعلیم دیتے ہیں۔ [c]

10 یسوع نے لوگوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “میری باتوں پر غور کرو اور انہیں سمجھو۔ 11 کوئی آدمی اپنے کھا نے پینے والی چیزوں سے نا پاک و گندا نہیں ہو تا بلکہ اس نے کہا کہ اس کے منھ سے جو بھی جھوٹے کلمات نکلے وہی اس کو ناپاک کر دیتے ہیں۔”

12 تب شاگرد یسوع کے قریب آکر اس سے کہنے لگے، “کیا تم جانتے ہو کہ تمہاری کہی ہو ئی بات کو فریسی نے سن کر کتنا برا ما نا ہے ؟”

13 یسوع نے جواب دیا، “آسمانوں میں رہنے والے میرے باپ نے جن پودوں کو نہیں لگا یا وہ سب جڑ سمیت اکھاڑ دیئے جائیں گے۔ 14 اور کہا کہ فریسی کو پریشان نہ کرو اسے اکیلا رہنے دو وہ خود اندھے ہیں اور دوسروں کو راستہ دکھا نا چاہتے ہیں۔ اسلئے کہ اگر اندھا اندھے کی رہنمائی کرے تب تو دونوں گڑھے میں گر جائیں گے۔”

15 تب پطرس نے کہا، “جو تو نے پہلے لوگوں سے کہا ہے اس بات کی ہم سے وضاحت کر۔

16 یسوع نے ان سے کہا، “کیا تمہیں اب بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ؟”۔ 17 ایک آدمی کے منھ سے غذا پیٹ میں داخل ہو تی ہے۔ اور جسم کی ایک نالی سے وہ باہر جاتی ہے۔ اور یہ بات تم سب کو معلوم ہے۔ 18 لیکن جو ایک آدمی کے منھ سے بری باتیں نکلتی ہیں وہی چیزیں ہیں جو آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔ 19 اور آدمی کے دل سے برے خیالات قتل زناکاری اور حرامکاری ،چوری ،جھوٹ اور گالیاں نکل آتی ہیں۔ 20 یہ تمام باتیں آدمی کو ناپاک بنا دیتی ہیں۔ اور کہا، “کھا نا کھا نے سے پہلے اگر ہاتھ نہ دھو یا جائے تو اس سے آدمی ناپاک نہیں ہوتا۔

متّی 15:1-20

یہودیوں کے استادوں کے اس آمنے سامنے میں حضرت عیسیٰ المسیح نے بیان کی ہم "انسانوں کی روایات” کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے زیادہ ترجی دیتے ہیں۔ آپ کے دور میں یہودی راہنما اپنے والدین کے فرائض کو نظرانداز کردیتے تھے اور کہتے تھے ہم آپ لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے کیونکہ ہم مذہبی فرائض ادا کرنے ہیں۔

آج ہم باطنی صافی کے بارے میں بھی اس ایک مسئلہ کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں سے پیدا ہونے والی ناپاکی/برائی سے بہت زیادہ پریشان ہے۔ یہ ناپاکی روزِ حشر والے دن ہماری بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر اس کو اپنے دلوں سے صاف نہ کیا گیا۔

 ظاہری خوبصورت لیکن باطن میں بدکار

25 “اے معلمین شریعت ،اے فریسیو! یہ تمہا رے لئے براہے۔تم ریا کا ر ہو۔ تم اپنے بر تن و کٹوروں کے با ہری حصے کو دھو کر صاف ستھرا تو کر تے ہو لیکن انکا اندرونی حصہ لا لچ سے اور تم کو مطمئن کر نے کی چیزوں سے بھرا ہے۔ 26 اے فریسیو تم اندھے ہو پہلے کٹو رے کے اندرونی حصہ کو اچھی طرح صاف کر لو۔ تب کہیں جا کر کٹو رے کے با ہری حصہ حقیقت میں صاف ستھرا ہوگا۔

27 “اے معلمین شریعت اے فریسیو!یہ تمہا رے لئے بہت برا ہے! تم ریا کا ر ہو۔تم سفیدی پھرائی ہو ئی قبروں کی ما نند ہو۔ ان قبروں کا بیرونی حصہ تو بڑا خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔لیکن اندرونی حصہ مردوں کی ہڈیوں اور ہر قسم کی غلاظتوں سے بھرا ہو تا ہے۔ 28 تم اسی قسم کے ہو۔ تم کو دیکھنے والے لوگ تمہیں اچھا اور نیک تصور کرتے ہیں۔ لیکن تمہارا باطن ریا کاری اور بد اعمالی سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔  متّی 23:25-28

اس گفتگو میں حضرت عیسیٰ المسیح سب کچھ بیان کردیتے ہیں۔ جس کو ہم نے خود دیکھا ہے۔ مندرجہ ذیل صافی کو ہم عام ایمانداروں میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت سے ایماندار آج بھی لالچ اور حوس سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں تک مذہبی اہم شخصیات کا یہ حال ہے۔ باطن کی پاکیزگی بہت زیادہ لازمی ہے۔ لیکن یہ بہت زیادہ مشکل کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے باطن کے بارے میں بڑی احتیاط کے ساتھ عدالت کرے گا۔ لہذا مسئلہ خود ہی کھڑا ہوجاتا ہے۔ ہم اپنے دلوں کو کیسے صاف/پاک کرسکتے ہیں تک ہم روز عدالت والے دن اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں داخل ہوسکیں؟ ہم انجیل شریف میں سے اس سوال کے جواب کو پانے کے لیے مطالعہ جاری رکھیں گے۔