پنتیکست — مددگار قوت د ینے اور رہنمائی کرنے آتا ہے

سوره ال – بلد (سوره 90 – شہر)ایک چوڑے شہر کا حوالہ دیتاہے اور گواہی دیتا ہے اور سورہ ان – نصر (سورہ 110 – الہی مدد)لوگوں کی بھیڑ کا رویا پیش کرتا ہے جو خدا کی سچچی عبادت کے لئے آ رہے ہیں –  

 میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوں

90:1-2سورہ ال بلد

 (اے حبیبِ مکرّم!) اس لئے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں

 جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے

 اور آپ لوگوں کو دیکھ لیں (کہ) وہ اللہ کے دین میں جوق دَر جوق داخل ہو رہے ہیںo

 تو آپ (تشکراً) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح فرمائیں اور (تواضعاً) اس سے استغفار کریں، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا (اور مزید رحمت کے ساتھ رجوع فرمانے والا) ہے

 110: 1-3سورہ ان – نصر

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی قیامت کے ٹھیک 50 دن بعد سورہ ال –بلد میں رویا دکھایا اور سورہ ان – نصر میں یہ واقع ہوا – وہ شہر یروشلیم تھا ، اور عیسیٰ ال مسیح کے شاگرد آزاد لوگ تھے جو اس شہر کے لئے گواہ تھے ، مگر وہ خداوند کی روح تھی جو اس شہر میں بھیڑ کے بیچوں بیچ حرکت کر رہی تھی ،جو کہ جشن کا ،حمد و ستائش کا اقرار گناہ اور معافی کی التجا کا سبب بنا تھا – یہ اس دن کا تجربہ تھا جسے آج بھی تجربہ کیا جا سکتا ہے – اسے ہم تب سیکھتے ہیں جب ہم تاریخ کی بے مثل دن کو سمجھ لینگے –  

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح فسح کے دن مصلوب ہوئے تھے اور اسی ہفتے اتوار کے دن مردوں میں سے زندہ ہوئے تھے – موت پر اس فتح کے ساتھ اب وہ ہر کسی کو زندگی کا انعام پیش کرتے ہین جو انکو اپنا شخصی خداوند اور منجی بطور قبول کرتا ہے – نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح 40 دن اپنے شاگردوں کے ساتھ رہے تھے تاکہ انھیں یقین ہوجاۓ کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھے ہیں پھر اسکے بعد وہ آسمان پر صعود فرما گئے – مگر اس سے پہلے کہ وہ صعود فرماتے انہوں نے یہ ہدایتیں اپنے شاگردوں کو دیں –

 

(19)پس تُم جا کر سب قَوموں کو شاگِرد بناؤ اور اُن کوباپ اور بیٹے اور رُوحُ القُدس کے نام سے بپتِسمہ دو۔
(20)اور اُن کو یہ تعلِیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جِن کا مَیں نے تُم کو حُکم دِیا اور دیکھو مَیں دُنیا کے آخِر تک ہمیشہ تُمہارے ساتھ ہُوں۔

28:19-20متی

انہوں نے انکے ساتھ ہمیشہ تک رہنے کا وعدہ کیا اس کے باوجود بھی وہ کچھ در بعد انھیں چھوڑ کر آسمان پر صعود فرما گئے – انکے صعود  فرمانے کے بعد وہ ابھی بھی انکے ساتھ کیسے ساتھ رہ سکتے تھے اور موجودہ دور میں ہمارے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں ؟

اسکا جواب کچھ دن بعد ہوئے واقعے سے حاصل ہوتا ہے – انکی گرفتاری سے کچھ ہی دیر پہلے شام کے کھانے پر انہوں نے مددگار کے آنے کا وعدہ کیا تھا – انکے جی اٹھنے کے پچاس دن بعد (انکے صعود فرمانے کے دس دن بعد) یہ وعدہ پورا ہوا تھا – یہ دن پنتیکست کا دن یا پنتیکست کا اتوار کہلاتا ہے – اس دن بڑے شاندار طریقے سے جشن منایا جاتا ہے – یہ صرف اس لئے نہیں کہ اس دن کیا ہوا تھا بلکہ کب اور کیوں واقع ہوا تھا جو الله کے نشان کو ظاہر کرتا ہے ، اور آپ کے لئے ایک زبردست انعام ہے –     

پنتیکست کے دن کیا ہوا تھا     

مکمّل واقعیات کا ذکر بائبل کے اعمال کی کتاب کے دوسرے باب میں پایا جاتا ہے – اس دن خدا کا روح ال قدوس نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے پہلے شاگردوں پر نازل ہوا تھا – اور وہ بہت ہی اونچی آواز میں ، دنیا کے کئی مختلف زبانوں میں بولنا شروع کر دیا تھا – (مطلب یہ کہ شاگرد دوسری دوسری زبانوں میں یسوع  کی منادی کرنے  لگے تھے -) اس واقعے نے ایک ایسا ماحول اور ہلچل پیدا کردی تھی کہ ہزاروں لوگ جو اس وقت یروشلیم میں موجود تھے باہر آگیئے تھے اور اس جگہ پر جمع ہو گئے تھے یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہو رہا تھا – جہاں بھیڑ جمع ہو گیئ تھی وہاں پطرس نے کھڑے ہوکر پہلی بار انجیل کی منادی کی اور ‘ 3000  لوگ اسکے پیغام کو قبول کرکے یسوع پرایمان لے آئے اور ان میں شامل ہو گئے ‘ ( اعمال 2:41 )- انجیل کے پیچھے چلنے والوں کی تعداد اس پنتیکست کی اتوار سے لیکر آج  تک بڑھتی ہی جا رہی ہے –  

پنتیکست کا یہ خلاصہ پورا نہیں ہے – اسلئے کہ نبیوں کی دیگر واقعیات کی طرح ہی پنتیکست کا واقعہ بھی اسی دن ایک تہوار کی طرح ہوا تھا جو تورات شریف میں نبی حضرت موسیٰ کے ساتھ شروع  ہوا تھا –  

موسیٰ کی تورات سے پنتیکست       

نبی حضرت موسیٰ جو 1500 سال قبل مسیح میں تھے انہوں نے کئی ایک تہواریں قائم کیں کہ پورے سال بھر میں منائی جاۓ – فسح یہودی کیلنڈر کا پہلا عید تھا – نبی حضرت عیسیٰ کو فسح کے دن عید پر صلیب دی گیئ تھی – فسح کے برروں کی قربانیوں کے عین وقت میں ان کی موت کا وقت تھا جو ہمارے لئے ایک نشانی بطور ہے –

دوسری عید پہلے پھلوں کی عید تھی اور ہم نے دیکھا تھا کہ کس طرح نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح اس عید کے دن مردوں میں سے جی اٹھے تھے – جبکہ ان کی قیامت پہلے پھلوں کی عید کے موقعے پر ہوئی تو یہ ہمارے لئے وعدہ تھا کہ ان سب کے لئے جو عیسیٰ ال مسیح پر لاتے ہیں وہ مرنے کے بعد ان ہی کی طرح جی اٹھیںگے –انکا مردوں میں سے جی اٹھنا پہلا پھل تھا جس بطور عید کے نام کی نبوت ہوئی تھی –

ٹھیک اسی طرح 50 دنوں کے بعد پہلے پھلوں کی عید جو اتوار کو تورات کے مطابق یہودیوں کو پنتیکست کی عید منانے کی ضرورت تھی – (پینتی 50 کے لئے کہا گیا ہے) اس سے پہلے یہ ہفتوں کی عید سے جانا جاتا تھا جس میں سات ہفتوں کا حساب لگایا جاتا تھا –یہودی لوگ لگ بھگ 1500 سالوں سے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح تک ہفتوں کی عید کے نام سے منا رہے تھے – یہی سبب تھا کہ اس پنتیکست کے دن تمام دنیا سے یہودی لوگ موجود تھے کہ اس دن پطرس کے پیغام کو سنیں ،اور اسی دن جب یروشلیم میں روح ال قدوس نازل ہوا تھا وہ سہی اور صاف طور پر ظاہر تھا اسلئے کہ انھیں تورات کے پنتیکست کی عید کو منانا ضروری تھا – آج بھی یہودی لوگ پنتیکست کو منانا جاری رکھے ہوئے ہیں مگر اسکا نام انہوں نے بدل دیا ہے – وہ اسے شاووت کہتے ہیں –   

ہم تورات میں پڑھتے ہیں کہ کس طرح ہفتوں کی عید کو منانا ضروری تھا –

(16)اور ساتویں سبت کے دُوسرے دِن تک پچاس دِن گِن لینا ۔ تب تُم خُداوند کے لِئے نذر کی نئی قُربانی گُذراننا۔
(17)تُم اپنے گھروں میں سے اَیفہ کے دو دہائی حِصّہ کے وزن کے مَیدہ کے دو گِردے ہِلانے کی قُربانی کے لِئے لے آنا ۔ وہ خمِیر کے ساتھ پکائے جائیں تاکہ خُداوند کے لِئے پہلے پَھل ٹھہریں

۔23:16-17احبار

پینتیکست کا درست ہونا :الله کی طرف سے نشانی 

پنتیکست کا ایک ٹھیک وقت تھا جب لوگوں پر روح القددوس نازل ہوا تھا جبکہ یہ اسی دن واقع ہوا جس دن ہفتوں کی عید تھی یا تورات کا پنتیکست کا دن تھا –نبی عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت فسح کی عید پر واقع ہوتی ہے اور انکی قیامت پہلے پھلوں کی عید کے دن ، اور آنے والا اس  روح ال قدوس کا نازل ہونا ہفتوں کی عید پر واقع ہوا  یہ سب کچھ الله کی جانب سے ہمارے لئے صاف نشانیاں ہیں – ایک سال کے کی دنوں کے ساتھ کیوں عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت ، قیامت  اور پھر روح ال قددوس کا نزول یہ سب ایک ساتھ درستگی سے واقع ہوئے وہ بھی ہر ایک دن موسم بہار کے تین عیدوں کے ساتھ جنکا تورات شریف میں ذکر پایا جاتا ہے – ایسا کیوں ہوا ؟ یہ الله کے پاک منصوبہ کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا جو وہ ہمکو دکھانا چاہتا تھا –       

انجیل شریف کے واقعیات جو درستگی سے تورات شریف کے تین موسم بہار کے موقعوں  پر واقع ہوئے

پنتیکست : مد د گار نیئ قوت دیتا ہے       

روح ال قددوس کے آنے کے نشانات کو سمجھانے کے لئے پطرس نے یوئیل نبی کی ایک نبوت کی طرف اشارہ کیا ، یہ پیش بینی کرتے ہوئے کہ خداوند فرماتا ہے کہ "میں ہر فرد بشر پر اپنی روح نازل کرونگا "- پنتیکست کے دن اس واقعے کے ساتھ یہ نبوت پوری ہوئی –

ہم نے دیکھا کہ کس طرح نبیوں نے ہم پر ظاہر کیا کہ ہماری روحانی پیاس کی خصلت ہی ہمکو گناہ کی طرف لے جاتی ہے – نبیوں نے یہ بھی پیش نظر کی کہ ایک نئے عہد کا آنا جہاں شریعت ہمارے دلوں کے اندر ہوگا نہ کی پتھر کی تختیوں یا کتابوں میں بلکہ شریعت ہمارے دلوں کے اندر لکھ جانے سے ہی اسکے پیچھے چلنے کی طاقت اور قابلیت ہم میں ہوگی – اس پنتیکست کے دن ہی روح ال قددوس کے نازل ہونے کا مطلب تھا کہ وہ ایمانداروں میں سکونت کرے اور اس وعدے کی بھی تکمیل ہو جاۓ –

انجیل کو خوش خبری کہنے کا ایک سبب یہ ہے کہ یہ ایک بہتر زندگی جینے کی طاقت عطا کرتا ہے – اب زندگی اللہ اور اسکے لوگوںکے بیچ اتحاد کے ساتھ ہے –یہ اتحاد تب شروع ہوتا ہے جب سے کہ خدا کا روح ایک ایماندار کے اندر سکونت کرنے لگتا ہے جو اعمال 2 کے مطابق پنتیکست کے اتوار کے دن سے شروع ہوا تھا – یہ خوش خبری اسلئے بھی ہے کہ اب یہ زندگی فرق طریقے سے گزاری جا سکتی ہے خدا کے روح کے وسیلے سے اسکے عجیب رشتے کے ساتھ – خدا کا روح ہمکو باطنی اور سچچی رہنمائی عطا کرتا ہے یعنی خدا کی طرف سے رہنمائی – اسکو بائبل اس طرح سے سمجھاتی ہے :  

 

(13)اور اُسی میں تُم پر بھی جب تُم نے کلامِ حق کو سُنا جو تُمہاری نجات کی خُوشخبری ہے اور اُس پر اِیمان لائے پاک مَوعُودہ رُوح کی مُہر لگی۔
(14)وُہی خُدا کی مِلکِیّت کی مخلصی کے لِئے ہماری مِیراث کا بَیعانہ ہے تاکہ اُس کے جلال کی سِتایش ہو۔

1:13-14افسیوں

(11)اور اگر اُسی کا رُوح تُم میں بسا ہُؤا ہے جِس نے یِسُو ع کو مُردوں میں سے جِلایا تو جِس نے مسِیح یِسُو ع کو مُردوں میں سے جِلایا وہ تُمہارے فانی بَدنوں کو بھی اپنے اُس رُوح کے وسِیلہ سے زِندہ کرے گا جو تُم میں بسا ہُؤا ہے۔ 

8:11رومیوں

 (23)اور نہ فقط وُہی بلکہ ہم بھی جِنہیں رُوح کے پہلے پَھل مِلے ہیں آپ اپنے باطِن میں کراہتے ہیں اور لے پالک ہونے یعنی اپنے بدن کی مُخلصی کی راہ دیکھتے ہیں۔

8:23رومیوں

خدا کے روح کی سکونت ایک دوسرا پہلا پھل ہے ، روح کیونکہ پہلے سے چکھا ہوا ہے ،’خدا کے فرزند’ بننے کی ہماری تبدیلی کے پورا ہونے کا ایک ضامن بھی ہے –

خوش خبری ایک نئی زندگی عطا کرتی ہے ، کوشش کے زریعے سے نہیں – بلکہ – شریعت کے ماننے سے انکار کے زریعے –نہ ہی کثرت کی زندگی ملکیت ،عہدہ دولت اور دیگر اس دنیا کی عیش و عشرت سے حاصل ہوتی ہے جنہیں حضرت سلیمان نے تجربہ کیا تھا اسکے باوجود بھی انہوں نے ایک خالی پن کا احساس کیا تھا –اسکے برعکس انجیل ایک نی کثرت کی زندگی ہمارے دلوں میں خدا کے روح کے سکونت کئے جانے کے زریعے حاصل ہوتی ہے اگر الله سکونت کرنے دے ،اور ہمکو قوت اور رہنمائی عطا کرے تو یہ ہمارے لئے خوش خبری ہونی چاہئے – تورات کے پنتیکست کی عید کے مطابق اسکا جشن خمیرے آٹے سے بنی اور پکی عمدہ اور ذائقے دار روٹیوں سے منائی جاتی ہے یہ درستگی نئے اور پرانے پنتیکست کے بیچ ہمارے لئے بھی صاف نشانی ہے کہ یہ  ہمارے لئے اللہ کی طرف سے اسکا پاک منصوبہ ہے کہ ہم ایک کثرت کی زندگی رکھیں –