قرآن شریف : کوئی اختلاف نہیں ! حدیثیں کیا کہتی ہیں ؟

قران شریف ا صلی نسخہ (صحیفہ) ہے  — ایک ہی زبان ، الفاظ اور تلاوت ہے – انسانی تفسیر یا بگڑے ہوئے ترجمہ کے لئے کوئی مقام نہیں ہے ….اگر آپ دنیا کے کسی بھی گھر سے قران شریف کی ایک کاپی لینگے تو مجھے شک ہے کہ آپ اس میں اور  دیگر قرانوں میں کوئی فرق پاینگے –    

ایک دوست نے مجھے یہ نوٹ بھیجا تھا – وہ مقدّس قران کے نسخے کو انجیل شریف / بائبل سے موازنہ کر رہا تھا – اج کے زمانے میں چوبیس ہزار  انجیل کے قدیم  دستاویز موجود ہیں اور ان میں کوئی بھی اختلاف نہیں ہےسواۓ کچھ الفاظ کو چھوڑ کر- ان چوبیس ہزار دستاویزوں کے موضوعا ت اور خیالات ایک ہی ہیں یعنی نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی موت اور قیامت سے ہمارا چھٹکارا –جس طرح اوپر ذکر کیا گیا ہے دعوی تو اکثر کیا جاتا ہے کہ قران شریف میں کوئی اختلاف نہیں ہے – ایک اشارہ بطور یہ دیکھا گیا ہے کہ بائبل کے اوپر قران شریف کی افضلیت اور معجزانہ تحفّظ پائی جاتی ہے – مگر حدیثیں قران شریف کی تشکیل و ترتیب کو لیکر کیا کہتی ہیں ؟    

نبی (صلّم) سے لیکرخلفاء تک قران شریف کی تشکیل

عمر بن خططا ب نے بییان کیا :

میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورہ فرقان کی تلاوت مجھ سے فرق طریقے سے کرتے ہوئے پایا – الله کے پغمبر نے مجھے اس کی تلاوت کو (فرق طریقے سے)سکھایا تھا – سو (نماز کے دوران)  ہی میرا ان کے ساتھ جھگڑا ہونے پر تھا  مگر میں نے ان کے تلاوت کے ختم ہونے کا انتظار کیا ، پھر میں نے اسکے کپڑے سے اسکی گردن کس کر الله کے پیغمبر []()کے پاس لے گیا اور کہا ، "اسکو میں نے سسورہ فرقان کو جیسے آپ نے مجھے سکھایا تھا اس سے فرق طریقے سے تلاوت کرتے سنا ہے –” پیغمبر نے []()مجھے حکم دیا سب سے پہلے میں اسکا گریبان چھوڑوں اور ہشام سے کہا کہ سورہ کی تلاوت کرو – اس نے تلاوت کی ، الله کے پپغمبر نے کہا ، اسکا مکاشفہ اس طریقے سے ہوا ہے – پھرانہوں نے  مجھ سے تلاوت کرنے کو کہا ، جب میں نے تلاوت کی تو انہوں نے کہا ، "اسکا مکاشفہ اس طریقے سے ہوا ہے –قران شریف کا مکاشفہ سات فرق طریقوں سے ہوا ہے سو جس طرح سے تم کو آسان لگے اس طرح سے اس کی تلاوت کیا کرو”-        

2419   : ،کتاب 44،حدیث 9 صحیح ال بخاری

ابن مسعود نے روایت کیا:

میں نے ایک شخص کو ایک قران کی آیت کو اس طرح تلاوت کرتے سنا ، اور میں نے پیغمبر []()کو بھی اسی آیت کو فرق طریقے سے تلاوت کرتے سنا –تو میں اس شخص کو پیغمبر[]() کے پاس لے گیا  اور انھیں اطلاع دی – مگر میں نے انکے مبارک چہرے سے نا منظوری کی علامت دیکھی اور پھر انہوں نے کہا ، "تم دونوں صحیح  ہو اسلئے کوئی فرق نہ کرو کیونکہ  قومیں تمھارے سامنے فرق کئے گئے تھے اس لئے وہ برباد کر دے گئے "-   

البخاری 3476؛ کتاب 60 ، حدیث 143

یہ دونوں حدیثیں صاف طور سے ہم سے کہتی ہیں کی نبی حضرت محمّد کے زندگی کے دورا ن قرآن شریف کی تلاوت کے مختلف عبارتیں تھیں جو حضرت محمّد (صلّم) کی تصدیق کے زریعے استعمال کئے جاتےتھے –سو ان کی وفات کے بعد کیا ہوا تھا ؟  

حضرت ابو بکر اور قران شریف

زید بن تھابط نے بیان کیا :

حضرت ابوبکر سددیق کو میرے لئے بھیجا گیا جب جنگ یمامہ میں لوگ قتل کئے گئے تھے (یعنی کہ مسیلمہ کے خلاف جنگ کے دوران نبی کے کئی ایک ساتھی لوگ مارے گئے تھے) – (میں ان کے پاس گیا) اور حضرت عمر بن خططا ب  کو ان کے پاس بیٹھے پایا – حضرت ابو بکر نے (مجھ سے) کہا ، حضرت عمر میرے پاس آ ے اور کہ  رہے تھے کہ یمامہ کے جنگ کے دوران  شہیدوں میں سے قران کے حافظوں کی تعداد زیادہ ہے – (قران کے حافظ سے مراد وہ لوگ تھے جنہو ں نے قران شریف کو منہ زبانی حفظ کرلیا تھا ) سو مجھے ڈر ہے کہ کہیں کسی دوسرے جنگ کے میدان میں اور زیادہ  حافظ لوگ مارے نہ جا ئیں جس سے قران شریف کے ایک زیادہ حصّے کا نقصان نہ ہو جاۓ – اس لئے میں (ابوبکر)آپ کو صلاح دیتا ہوں کہ قران شریف کو ترتیب میں لے آئیں – آپ ایسا کچھ کیوں نہیں کرتے  جو الله کے پیغمبر نے نہیں کیا تھا ؟ (جو انہوں نے جمع نہیں کیا تھا)  میں نے حضرت عمر سے کہا – حضرت عمر نے جواب دیا "اللہ کی قسم ،  یہ بہت اچھی تجویز ہے "-  حضرت عمر میرے ساتھ لگاتار اس منصوبہ  کے بارے میں بحث کرتے رہے جب تک کہ انہوں نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور جب تک کہ اللہ نے اس کام کے لئے ان کا سینہ کشادہ نہیں کیا – اور میں یہ محسوس کرنے لگا کہ یہ بہت اچھا خیال ہے جسے حضرت عمار نے پہچانا – پھر حضرت ابو بکر نے مجھ سے کہا  "تم ایک فہیم جوان ہو اس میں کوئی شک کی گوئی گنجائش نہیں ہے –” اور تم نے الله کے پیغمبر[]() کے ساتھ الہی پیغامات کو لکھا بھی ہے – سو تمکو قران شریف کے بکھرے ہوئے ان چھوٹے چھوٹے حصّوں کو (دستاویزوں) جمع کرنا ہوگا اور اسکی ایک کتاب بنانی ہوگی –حضرت عمر نے کہا الله کی قسم اگر انہوں نے مجھے ایک پہاڑ بھی ہٹانے کا حکم دیتے تو بھی میرے لئے یہ کام اس سے زیادہ بھاری نہیں تھا – پھر میں نے حضرت ابو بکر سے کہا "آپ  ایسا کچھ کام کو کیسے کر سکتے ہیں جسے اللہ کے پیغمبر []() نے نہیں کیا ؟ ” حضرت ابو بکر نے کہا "الله کی قسم یہ ایک اچھا منصوبہ ہے –” حضرت ابو بکر لگاتار مجھ سے بحث کرتے رہے جب تک الله نے میرا سینہ نہیں کھولا جس طرح سے حضرت عمر کا کھولا تھا – اب اس بڑے کام کے لئے دونوں کے سینے کھلے ہوئے تھے – سو میں نے قران شریف کے ان چیدہ چیدہ آیتوں کو (جو کنھیں چیزوں میں لکھے  ہوئے تھے )  جیسے کھجور کے ڈھنٹھل ، چپٹے سفید پتھراور لوگ جو منہ زبابنی قران شریف کو حفظ کر لئے تھے ان سب کو میں نے جمع کیا جب تک کی میں نے سورہ ات –توبہ(اقرار گناہ)  کی آخری آیت کو نہیں پالیا – اس کام میں ابی خزیمہ ال انصاری میرا بہت ساتھ دیا تھا ،اور میں نے کسی اور کو اس قابل نہیں پایا تھا – سورہ توبہ کی آخری آیت ہے :”لوگو تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں – تمھاری تکلیف انکو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمھاری بھلائی کے بہت خواہش مند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے اور مہربان ہیں –پھر اگر یہ لوگ پھر جائیں اور نہ مانیں تو که دو کہ خدا مجھ پر کفایت کرتا ہے ،اسکے سوا کوئی معبود نہیں –اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے –” پھر قران شریف کی مکممل دستاویزیں (نقلیں) حضرت ابو بکر کی حفاظت میں انکی وفات تک انکے پاس رہیں –پھر حضرت عمر کے پاس انکی زندگی کے آخر تک اور حضرت حفصہ کے پاس جو حضرت عمر کی بیٹی تھی –             

البخاری 4986؛ کتاب 66 ، حدیث 8

.۔یہ حضرت ابو بکر کی طرف سے آتا ہے جب وہ  براہ راست حضرت محمّد (صلّم) کے بعد خلیفہ ہوئے – یہ ہم سے کہتی ہے کہ  حضرت محمّد نے کبھی بھی قران شریف کو ایک کتاب بطور جمع نہیں کیا یا ایسا کچھ کرنے کے لئے  اشارہ کیا کہ یہ ہونا چاہئے – جنگ کے میدان میں کئ  ایک لوگ مرے گئے تھے جن میں قران کے حافظ لوگ بھی تھے –حضرت ابوبکر کے بعد (حضرت عمر دوسرے خلیفہ ہوئے ) انہوں نے زید کو قائل کیا کہ الگ الگ زرایوں سے قران شریف کو جمع کرے – شروع شروع میں تو زید اس بات کے لئے رضامند نہیں تھے کیونکہ حضرت محمّد نے کبھی بھی اس بات کی طرف اشارہ نہیں کیا کہ قران شریف کو معیاری طور بطور ایک جلد کی شکل میں ہونا ضروری ہے مگر انہوں نے اپنے بہت سے ساتھیوں پر بھروسہ کیا تھا کہ  وہ قران شریف کو اسلام کے پیچھے چلنے والوں کو سکھائیں گے جس طرح سے ذیل کی حدیث ہم سے کہتی ہے –     

مسرق نے بیان کیا :

عبدا للہ بن امر نے عبداللہ بن مسعود سے ذکر کیا اور کہا میں اس شخص سے پیار کرونگا کیونکہ میں نے پیغمبر []() حضرت محمّد کو یہ کہتے سنا "چار لوگوں سے قران شریف پڑھنا سیکھو ، ‘عبداللہ بن مسعود ، سلیم ، معادھ اور عبید بن کعب ‘ ”

البخاری 4999؛ کتاب 66 ، حدیث 21

کسی طرح نبی کے وفات کے بعد انکے ساتھیوں کے درمیان قران شریف کی مختلف تلاوتوں کو لیکر بہت سے اختلاف کھڑ ے ہوئے –ذیل کی حدیث بتاتی ہے کہ  سورہ 92 (سورہ ال – لیل) کی 1-3 آیتوں کو لیکر کس طرح اختلاف تھا –

ابراھیم نے بیان کیا :

عبداللہ (بن مسعود) کے ساتھی لوگ ابو دردا کے پاس آ ے  – انکے گھر پہنچنے سے پہلے وہ انھیں ڈھونڈ تے تھے –پھر جب وہ مل گئے تو اسنے ان سے پوچھا "آپ میں سے کون ہے جو عبداللہ جسے قران کی تلاوت کر سکتا ہے ؟” انہوں نے جواب دیا ” ہم سب کے سب ” – پھر اس نے پوچھا  ، "کون  اسے منہ زبانی جانتا ہے ؟” انہوں نے القامہ کی طرف اشارہ کیا – پھراسنے القامہ سے پوچھا کہ  کیا تم نے عبدا للہ بن مسعود کوسورہ لیل (خاص رات)کی تلاوت کرتے سنا ہے ؟ القامہ نے تلاوت کی "مردوں اور عورتوں کے زریعے ” ابو دردا نے کہا ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے پیغمبر کو دوسرے طریقے  سے تلاوت کرتے سنا – مگر یہ لوگ چا ہتے تھے کہ میں اسے اس طرح تلاوت کروں —"اور اسکے ذریعے جس نے مردوں اور عورتوں کو بنایا مگر الله کے ذریعے ، میں ان کے پیچھے نہیں جاونگا –

بخاری جلد 6 ، کتاب 60 ، حدیث 468

سورہ ال- لیل 92:3 کے لئے آج کی تلاوت ہے وہ دوسری تلاوت ہے – دل چسپی کے ساتھ عبداللہ جو پچھلی حدیث میں چار میں سے ایک ہیں انھیں اکیلے کو حضرت محمّد نے قران شریف کی تلاوت کا اختیار سونپ رکھا تھا – اور ابو اد دردا کی بھی باری آتی تھی کہ اس آیت کی تلاوت کرے ان دو کے علاوہ دوسروں کے پیچھے چلنا نہیں چاہتے تھے –

ذیل کی حدیث بتاتی ہے کی اسلامی سلطنت کی  فرق فرق جما عتیں فرق فرق تلا وتوں کو اپنا رہے تھے –اس بات کو بڑھا کر کہا جاۓ تو یہ کہنا سہی ہوگا کیہ ایک شخص تصدیق کر سکتا تھا کہ فلاں شخص کہاں سے آتا تھا اور وہ کون سی تلاوت کا استعمال کرتا تھا –  ذیل کے معاملے میں کوفہ کے عراقی لوگ عبداللہ بن مسعود   کی ہے- 92:1-3 کی تلاوت کا پیچھا کرتے ہیں جسکی ایک مثال سورہ 

القامہ بتاتے ہیں : میں ابو دردا سے ملا ، اور اسنے مجھ سے کہا  "آپ کون سے ملک سے ہیں ؟ ” میں نے کہا میں عراقی ہوں – پھر اسنے پوچھا عراق میں کون سے شہر سے ؟ میں نے کہا کوفہ سے – پھر جبرا اس نے مجھ سے پوچھا کیا آپ عبداللہ بن مسعود جیسا قران کی تلاوت کرتے ہو ؟ میں نے کہا ، ہاں –پھر اسنے کہا کہ اس آیت کی تلاوت کرکے دکھاؤ (جب رات چھا  جاتی ہے ) سو میں نے تلاوت کی (جب رات چھا جاتی ہے اوردن نکلتا ہے اور مردوں اور عورتوں کی تخلیق) میری اس تلاوت کو سن کر وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا : میں نے الله کے پیغمبر کو اس طرح :

سے تلاوت کرتے ہوئے سنا  تھا – مسلم کتاب oo4 ، نمبر01 18

ابن عبّاس نے بیان کیا :

عمر نے کہا ،قران شریف کی تلاوت میں سب سے بہترین عبید تھا اس کے باوجود بھی وہ جو تلاوت کرتا تھا اسمیں سے کچھ چھوڑ دیتے ہیں – عبید نے کہا ‘میں نے اسکو الله کے پیغمبر[]() کے منہ سے لیا ہے اور میں کسی بھی قیمت پر اسے نہیں چھو ڑ سکتا –”مگر الله نے کہا "ہم کسی بھی مکاشفے کو منسوخ یا ترک نہیں کرتے یا اسے بھولنے کا سبب نہیں بناتے اور اگر منسوخ کربھی دیتے یا اسے فراموش کرا  دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا

ویسی ہی آیت بھیج دیتے ہیں –”2:106

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید قطان نے خبر دی ، انہیں سفیان ثوری نے ، انہیں حبیب بن ابی ثابت نے ، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، ابی بن کعب ہم میں سب سے اچھے قاری ہیں لیکن ابی جہاں غلطی کرتے ہیں اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں ( وہ بعض منسوخ التلاوۃ آیتوں کو بھی پڑھتے ہیں ) اور کہتے ہیں کہ میں نے تو اس آیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے سنا ہے ، میں کسی کے کہنے سے اسے چھوڑنے والا نہیں اور اللہ نے خود فرمایا ہے کہ ماننسخ من آیۃ اوننسھا الآیۃ یعنی ہم جب کسی آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں پھر یا تو اسے بھلا دیتے ہیں یا اس سے بہتر لاتے ہیں ۔

حالاںکہ عبید کو سب سے بہترین قران کی تلاوت کرنے والا بطور مانے  جاتے  تھے  – (یہ ان میں سے ایک تھے جنکو حضرت محمّد کے زریعے چنا گیا تھا –جس طرح سے اسنے تلاوت کی تھی اس کے سبب سے دوسرے لوگ جماعت میں سے چھوڑ دیے گئے تھے – کس آیت کو منسوخ کیا جاۓ او ر کیس کو نہیں اسکی بابت نا منظوری تھی – نا منظوری فرق فرق تلاوتوں کو لیکر اور منسوخ کئے جانے پر تھی اور یہ تمام باتیں تناؤ کا سبب بن رہے تھے – ذیل کی حدیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ پریشانی کا حل کیسے نکالا گیا –   

خلیفہ حضرت عثمان اور قران شریف

انس بن ملک نے بیان کیا :

حدیفہ بن ال یمن حضرت عثمان کے پاس آ ے جب شام کے لوگ اور عراق کے لوگ ان کے یہاں موجود تھے جو جنگ کی تیاری کر رہے تھے کہ آرمینیا اور ادھربجن پر فتح حاصل کاٹ سکے – قران شریف کی تلاوت کی فرق کو لیکر جناب حدیفہ ڈر رہے تھے کہ (شام اور عراق کے لوگوں کے بیچ) کوئی پریشانی نہ ہو – سو جناب حدیفہ نے حضرت عثمان سے کہا ” اے مومنوں کے سردار ! اس سے پہلے کہ قران شریف کی تلاوت میں بہت سے لوگ فرق کرنے لگ جایں اس قوم کو بچا ئے جس طرح سے یہودی مسیحی لوگوں نے پہلے کیا تھا – سو حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کو جو حضرت عمر کی بیٹی تھی اور جن کے پاس قران شریف کے دستاویز موجود تھے انھیں کہ لا بھیجا کہ  قران شریف کے تمام  دستاویز کو ہمارے پاس بھیج دیں تاکہ ہم انکی ایک مکمّل جلدیں تیّار کر سکیں اور جب یہ تیار کرلئے جاینگے تو ان دستاویزوں کو آپ کے پاس لوٹا دینگے – سو حضرت حفصہ نے وہ سارے دستاویز حضرت عثمان کو بھیج دیے – تب پھرحضرت عثمان نے زید بن تھابط ، عبدا للہ بن از – زبیر ، سید بن ال –عاس  اور عبد ا لرحمان بن حارث بن حشام سے کہا کہ ان دستاویزوں کو پھر سے لکھا جاۓ اور انکی مکمّل نقلیں تیار ہوں  – حضرت نے تین قریشیوں سے کہا در صورت آپ زید بن تھابط سے قران شریف کی آیتوں کے  معاملے میں کسی بات کو لیکر نا منظور ہیں تو قریشیوں کے مقامی زبان میں لکھوا سکتے ہیں کیونکہ قران کو انکی زبان میں مکاشفہ کیا گیا تھا – سو انہوں نے ویسا ہی کیا اور جب کئی ایک نقلیں لکھ  لی گیئیں تو حضرت عثمان نے اصلی دستاویزوں کو حضرت حفصہ کے پاس لوٹا دینے – حضرت عثمان نے انمیں سے ایک ایک  کاپی تمام اسلامی ریاستوں میں ارسال کردئے –اور حضرت عثمان نے حکم دیا کہ دیگر دستاویز جو مکمّل نہیں تھے اور بیکار تھے ان سب کو جلا دیا جاۓ –      

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد عوفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اس وقت عثمان ارمینیہ اور آذربیجان کی فتح کے سلسلے میں شام کے غازیوں کے لئے جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے ، تاکہ وہ اہل عراق کو ساتھ لے کر جنگ کریں ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی قرآت کے اختلاف کی وجہ سے بہت پریشان تھے ۔ آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ امیرالمؤمنین اس سے پہلے کہ یہ امت ( مسلمہ ) بھی یہودیوں اور نصرا نیوں کی طرح کتاب اللہ میں اختلاف کرنے لگے ، آپ اس کی خبر لیجئے ۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں کہلایا کہ صحیفے ( جنہیں زید رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے جمع کیا تھا اور جن پر مکمل قرآن مجید لکھا ہوا تھا “ ) ہمیں دے دیں تاکہ ہم انہیں مصحفوں میں ( کتابی شکل میں ) نقل کروا لیں ۔ پھر اصل ہم آپ کو لوٹا دیں گے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحیفے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دئیے اور آپ نے زید بن ثابت ، عبداللہ بن زبیر ، سعد بن العاص ، عبدا لرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ ان صحیفوں کو مصحفوں میں نقل کر لیں ۔ حضر ت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس جماعت کے تین قریشی صحابیوں سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کا قرآن مجید کے کسی لفظ کے سلسلے میں حضرت زید رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہو تو اسے قریش ہی کی زبان کے مطابق لکھ لیں کیونکہ قرآن مجید بھی قریش ہی کی زبان میں نازل ہوا تھا ۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور جب تمام صحیفے مختلف نسخوں میں نقل کر لئے گئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان صحیفوں کو واپس لوٹا دیا اور اپنی سلطنت کے ہر علاقہ میں نقل شدہ مصحف کا ایک ایک نسخہ بھیجوا دیا اور حکم دیا کے اس کے سوا کوئی چیز اگر قرآن کی طرف منسوب کی جاتی ہے خواہ وہ کسی صحیفہ یا مصحف میں ہو تو اسے جلا دیا جائے ۔

اسی لئے آج کے دور میں کوئی فرق تلاوت نہیں ہے –یہ اس لئے نہیں تھا کہ حضرت محمّد نے ایک ہی تلاوت حاصل کیا تھا یا انہوں نے ایک ہی طرح کی تلاوت کا استعمال کیا تھا (نہیں بلکہ انہوں نے سات طرح کی تلاوت کا استعمال کیا – نہ ہی اس لئے کہ انہوں نے ایک تحککمانہ قران کی ترتیب و تالیف کی – انہوں نے نہیں کی – دراصل اگر آپ آن لائن فرق فرق تلا وتوں کو ڈھونڈ ینگے  تو سننه کے 61 حدیثوں کو پا پینگے  جو قران شریف کی فرق فرق تلااوتوں پر بحث کرتے ہیں – آج  کا قرآن شریف ان فرق فرق تلاوتوں سے آزاد ہے – کیونکہ حضرت عثمان جو تیسرے خلیفہ تھے ایک ہی تلاوت کو لیا اور انکا سدھار کیا اور دیگر تلاوتوں کو جلا دیا –ذیل کی حدیث بتاتی ہے کہ موجودہ قران شریف میں یہ سدھارآج  بھی جاری ہے –

ابن عبّاس نے بیا ن کیا :

حضرت عمر نے کہا ،” مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایک عرصہ گزر چکا ہے لوگ کہھ سکتے ہیں کہ ،مقدّس کتاب میں ہم رجم (مرنے تک سنگسار کیا جانا) "اس قانون کو نہیں پاتے – ہو سکتا ہے کی آخر کار وہ بھٹک جاییں اس قانونی معاہدے کو چھوڑتے ہوئے جسے  الله نے ظاہر کیا – دیکھو میں سنگسار کئے جانے کے خمیازے کی تصدیق کرتا ہوں – یہ اس شخص پر نافذ ہوتا ہے جو غیر قانونی طور سے جنسی مباشرت کو انجام دیتا ہے ،اگر وہ پہلے سے ہی شادی شدہ ہے ، اور اسکا جرم گواہوں سے یا عورت کے حمل ٹھہرنے سے یا اقرار جرم سے ثابت ہوتا ہے – "سفیان نے اضافہ کیا ، "میں نے اس بیان کو اس طریقے سے حفظ کیا ہے "- عمر نے اضافہ کیا "یقینن الله کے پیغمبر[]() نے کئی ایک رجم کو عائد کیا اور اسی طرح ان کے بعد ہم نے کیا –”

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں زیادہ وقت گزر جائے اور کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ میں تو رجم کا حکم ہمیں کہیں نہیں ملتا اور اس طرح وہ اللہ کے ایک فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ آگاہ ہو جاؤ کہ رجم کا حکم اس شخص کے لیے فرض ہے جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو بشرطیکہ صحیح شرعی گواہیوں سے ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا کوئی خود اقرار کرے ۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے اسی طرح یاد کیا تھا آگاہ ہو جاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا تھا ۔

ابن عبّاس نے بیان کیا :

…الله نے حضرت محمّد کو سچائی کے ساتھ بھیجا اور ان پر مقدّس کتاب قران شریف کو انکشاف کیا –اس کی آیتوں کے بیچ جو الله نے انکشاف کیا وہ رجم کی آیتیں ہین – (ایک شادی شدہ شخص کی (مرد اور عورت) جو غیر قانونی طور سے جنسی مباشرت کو انجام دیتے ہیں -، اور ہم نے اس آیت کی تلاوت کی اور سمجھ کر اسکا ذکر کیا ہے اور اسے حفظ کیا ہے – الله کے پیغمبر نے []() سنگسارکرنے کی سزا کو عائد کیا اور اس طرح ان کے بعد ہم نے بھی کیا ….

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں کئی مہاجرین کو ( قرآن مجید ) پڑھایا کرتا تھا ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ایک تھے ۔ ابھی میں منیٰ میں ان کے مکان پر تھا اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج میں ( سنہ 23 ھ ) ان کے ساتھ تھے کہ وہ میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمؤمنین کے پاس آیا تھا ۔ اس نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! کیا آپ فلاں صاحب سے یہ پوچھ گچھ کریں گے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں صلاح صاحب طلحہ بن عبیداللہ سے بیعت کروں گا کیونکہ واللہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بغیر سوچے سمجھے بیعت تو اچانک ہو گئی اور پھر وہ مکمل ہو گئی تھی ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت غصہ ہوئے اور کہا میں انشاءاللہ شام کے وقت لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں ان لوگوں سے ڈراؤں گا جو زبردستی سے دخل درمعقولات کرنا چاہتے ہیں ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عرض کیا یا امیرالمؤمنین ایسا نہ کیجئے ۔ حج کے موسم میں کم سمجھی اور برے بھلے ہر ہی قسم کے لوگ جمع ہیں اور جب آپ خطاب کے لئے کھڑے ہوں گے تو آپ کے قریب یہی لوگ زیادہ ہوں گے اور مجھے ڈر ہے کہ آپ کھڑے ہو کر کوئی بات کہیں اور وہ چاروں طرف پھیل جائے ، لیکن پھیلانے والے اسے صحیح طور پر یاد نہ رکھ سکیں گے اور اس کے غلط معانی پھیلانے لگیں گے ، اس لیے مدینہ منورہ پہنچنے تک کا انتظار کر لیجئے کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام ہے ۔ وہاں آپ کو خالص دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور شریف لوگ ملیں گے ، وہاں آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اعتماد کے ساتھ ہی فرما سکیں گے اور علم والے آپ کی باتوں کو یاد بھی رکھیں گے اور جو صحیح مطلب ہے وہی بیان کریں گے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اچھا اللہ کی قسم میں مدینہ منورہ پہنچتے ہی سب سے پہلے لوگوں کو اسی مضمون کا خطبہ دوں گا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم ذی الحجہ کے مہینہ کے آخر میں مدینہ منورہ پہنچے ۔ جمعہ کے دن سورج ڈھلتے ہی ہم نے ( مسجدنبوی ) پہنچنے میں جلدی کی اور میں نے دیکھا کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ممبر کی جڑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا ۔ میرا ٹخنہ ان کے ٹخنے سے لگا ہوا تھا ۔ تھوڑی ہی دیر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی باہر نکلے ، جب میں نے انہیں آتے دیکھا تو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے میں نے کہا کہ آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے اس سے پہلے خلیفہ بنائے جانے کے بعد کبھی نہیں کہی تھی ۔ لیکن انہوں نے اس کو نہ مانا اور کہا کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں گے جو پہلے کبھی نہیں کہی تھی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر بیٹھے اور جب مؤذن اذان دے کر خاموش ہوا تو آپ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ثنا اس کی شان کے مطابق بیان کرنے کے بعد فرمایا امابعد ! آج میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جس کا کہنا میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا ، مجھ کو نہیں معلوم کہ شاید میری یہ گفتگو موت کے قریب کی آخری گفتگو ہو ۔ پس جو کوئی اسے سمجھے اور محفوظ رکھے اسے چاہئے کہ اس بات کو اس جگہ تک پہنچادے جہاںتک اس کی سواری اسے لے جا سکتی ہے اور جسے خوف ہو کہ اس نے بات نہیں سمجھی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ میری طرف غلط بات منسوب کرے ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل کی ، کتاب اللہ کی صورت میں جو کچھ آپ پر نازل ہوا ، ان میں آیت رجم بھی تھی ۔ ہم نے اسے پڑھا تھا سمجھا تھا اور یاد رکھا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ( اپنے زمانہ میں ) رجم کرایا ۔ پھر آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر وقت یوں ہی آگے بڑھتا رہا تو کہیں کوئی یہ نہ دعویٰ کربیٹھے کہ رجم کی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے اور اس طرح وہ اس فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا ۔ یقیناً رجم کا حکم کتاب اللہ سے اس شخص کے لیے ثابت ہے جس نے شادی ہونے کے بعد زنا کیا ہو ۔ خواہ مرد ہوں یا عورتیں ، بشرطیکہ گواہی مکمل ہو جائے یاحمل ظاہر ہو یا وہ خود اقرار کر لے پھر کتاب اللہ کی آیتوں میں ہم یہ بھی پڑھتے تھے کہ اپنے حقیقی باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہ کرو ۔ کیونکہ یہ تمہارا کفر اور انکار ہے کہ تم اپنے اصل باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنی نسبت کرو ۔ ہاں اور سن لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری تعریف حد سے بڑھاکر نہ کرنا جس طرح عیسیٰ ابن مریم عیلہما السلام کی حد سے بڑھاکر تعریفیں کی گئیں ( ان کو اللہ کو بیٹا بنا دیا گیا ) بلکہ ( میرے لیے صرف یہ کہو کہ ) میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کسی نے یوں کہا ہے کہ واللہ اگر عمرکا انتقال ہو گیا تو میں فلاں سے بیعت کروں گا دیکھو تم میں سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت ناگاہ ہوئی اور اللہ نے ناگہانی بیعت میں جو برائی ہوئی ہے اس سے تم کو بچائے رکھا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا متقی ، خدا ترس ہو ۔ تم میں کون ہے جس سے ملنے کے لیے اونٹ چلائے جاتے ہوں ۔ دیکھو خیال رکھو کوئی شخص کسی سے بغیر مسلمانوں کے صلاح مشورہ اور اتفاق اور غلبہ آراء کے بغیر بیعت نہ کرے جو کوئی ایسا کرے گا اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا دونوں اپنی جان گنوادیں گے اور سن لو بلاشبہ جس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے بہتر تھے البتہ انصار نے ہماری مخالفت کی تھی اور وہ سب لوگ سقیفہ بن ساعدہ میں جمع ہو گئے تھے ۔ اسی طرح علی اور زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی تھی اور باقی مہاجرین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے تھے ۔ اس وقت میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابوبکر ! ہمیں اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس لے چلئے ۔ چنانچہ ہم ان سے ملاقات کے ارادہ سے چل پڑے ۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ہماری انہیں کے دو نیک لوگوں سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ انصاری آدمیوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ ( سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنائیں ) اور انہوں نے پوچھا ۔ حضرات مہاجرین آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں ۔ ہم نے کہا کہ ہم اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہرگز وہاں نہ جائیں بلکہ خود جو کرنا ہے کر ڈالو لیکن میں نے کہا کہ بخدا ہم ضرور جائیں گے ۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور انصار کے پاس سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے مجلس میں ایک صاحب ( سردار خزرج ) چادر اپنے سارے جسم پر لپیٹے درمیان میں بیٹھے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو لوگوں نے بتایا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ بخار آ رہا ہے ۔ پھر ہمارے تھوڑی دیر تک بیٹھنے کے بعد ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی ۔ پھر کہا امابعد ! ہم اللہ کے دین کے مددگار ( انصار ) اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے گروہ مہاجرین ! کم تعداد میں ہو ۔ تمہاری یہ تھوڑی سی تعداد اپنی قوم قریش سے نکل کر ہم لوگوں میں آ رہے ہو ۔ تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ہماری بیخ کنی کرو اور ہم کو خلافت سے محروم کر کے آپ خلیفہ بن بیٹھو یہ کبھی نہیں ہو سکتا ۔ جب وہ خطبہ پورا کر چکے تو میں نے بولنا چاہا ۔ میں نے ایک عمدہ تقریر اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھی تھی ۔ میری بڑی خواہش تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بات کرنے سے پہلے ہی میں اس کو شروع کر دوں اور انصار کی تقریر سے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ پیدا ہوا ہے اس کو دور کر دوں جب میں نے بات کرنی چاہی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ذرا ٹھہرو میں نے ان کو ناراض کرنا برا جانا ۔ آخر انہوں نے ہی تقریر شروع کی اور خدا کی قسم وہ مجھ سے زیادہ عقلمند اور مجھ سے زیادہ سنجیدہ اور متین تھے ۔ میں نے جو تقریر اپنے دل میں سوچ لی تھی اس میں سے انہوں نے کوئی بات نہیں چھوڑی ۔ فی البدیہہ وہی کہی بلکہ اس سے بھی بہتر پھر وہ خاموش ہو گئے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ انصاری بھائیو تم نے جو اپنی فضیلت اور بزرگی بیان کی ہے وہ سب درست ہے اور تم بیشک اس کے لیے سزا وار ہو مگر خلافت قریش کے سوا اور کسی خاندان والوں کے لیے نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ قریش ازروئے نسب اور ازروئے خاندان تمام عرب قوموں میں بڑھ چڑھ کر ہیں اب تم لوگ ایسا کرو کہ ان دو آدمیوں میں سے کسی سے بیعت کر لو ۔ ابوبکرنے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ تھاما وہ ہمارے بیچ میں بیٹھے ہوئے تھے ، ان ساری گفتگو میں صرف یہی ایک بات مجھ سے میرے سوا ہوئی ۔ واللہ میں آگے کر دیا جاتا اور بےگناہ میری گردن ماردی جاتی تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ مجھے ایک ایسی قوم کا امیر بنایا جاتا جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ خود موجود ہوں ۔ میرا اب تک یہی خیال ہے یہ اور بات ہے کہ وقت پر نفس مجھے بہکادے اور میں کوئی دوسرا خیال کروں جو اب نہیں کرنا ۔ پھر انصار میں سے ایک کہنے والا حباب بن منذریوں کہنے لگا سنو سنو میں ایک لکڑی ہوں کہ جس سے اونٹ اپنا بدن رگڑ کر کھجلی کی تکلیف رفع کرتے ہیں اور میں وہ باڑ ہوں جو درختوں کے اردگرد حفاظت کے لیے لگائی جاتی ہے ۔ میں ایک عمدہ تدبیر بتاتا ہوں ایسا کرو دو خلیفہ رہیں ( دونوں مل کر کام کریں ) ایک ہماری قوم کا اور ایک قریش والوں کا ۔ مہاجرین قوم کا اب خوب شورغل ہونے لگا کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا ۔ میں ڈرگیا کہ کہیں مسلمانوں میں پھوٹ نہ پڑ جائے آخر میں کہہ اٹھا ابوبکر ! اپنا ہاتھ بڑھاؤ ، انہوں نے ہاتھ بڑھایا میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین جتنے وہاں موجود تھے انہوں نے بھی بیعت کر لی پھر انصاریوں نے بھی بیعت کر لی ( چلو جھگڑا تمام ہوا جو منظور الٰہی تھا وہی ظاہر ہوا ) اس کے بعد ہم حضرت سعد بن عبادہ کی طرف بڑھے ( انہوں نے بیعت نہیں کی ) ایک شخص انصار میں سے کہنے لگا بھائیو ! بیچارے سعد بن عبادہ کا تم نے خون کر ڈالا ۔ میں نے کہا اللہ اس کا خون کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا اس وقت ہم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے زیادہ کوئی چیز ضروری معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ہم کو ڈر پیدا ہوا کہیں ایسا نہ ہو ہم لوگوں سے جدا رہیں اور ابھی انہوں نے کسی سے بیعت نہ کی ہو وہ کسی اور شخص سے بیعت کربیٹھیں تب دو صورتوں سے خالی نہیں ہوتا یا تو ہم بھی جبراً و قہراً اسی سے بیعت کر لیتے یا لوگوں کی مخالفت کرتے تو آپس میں فساد پیدا ہوتا ( پھوٹ پڑجاتی ) دیکھو پھر یہی کہتا ہوں جو شخص کسی سے بن سوچے سمجھے ، بن صلاح و مشورہ بیعت کر لے تو دوسرے لوگ بیعت کرنے والے کی پیروی نہ کرے ، نہ اس کی جس سے بیعت کی گئی ہے کیونکہ وہ دونوں اپنی جان گنوائیں گے ۔

بخاری کتاب 86 ، حدیث 57

یہاں ہم عثمان اور ابن از –زبیر کے درمیان نا اتفاقی یا اختلاف کو دیکھتے ہیں چاہے وہ کسی آیت کو ترک کرنے کی بابت ہو جو معنی رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اسے قران شریف میں نہ رکھا جاۓ – حضرت عثمان کے پاس انکا اپنا طریقہ تھا اور اسلئے اج یہ آیت قران شریف میں موجود ہے – مگراسکی بابت کوئی مباحثہ نہیں تھا –   

حضرت عثمان اور سورہ 9 (ات توبہ) کے لئے سرخی       

عثمان بن عفان نے بیان کیا                    

یزید ال فریسی نے کہا : میں نے ابن عبّاس کو یہ کہتے سنا : میں نے عثمان بن عفان سے پوچھا کہ  کس بات نے آپ کو قائل کیا کہ (سورہ) ال براہا کو ان میں شامل کیا جو می’ییں (سوراجات) سے تعلّق رکھتے ہیں (جسمیں 100 آیتیں ہیں)  اور (سورہ) ال – انفال جو مدنی (سوراجات) سے تعلّق رکھتا ہے اسکو سبع اط – طویل(قران شریف کے شروع کے سات لمبے سوراجات)  کے درجے میں رکھا ، اور آپ نے ان دونوں کے بیچ میں "بسم الله رحمان الرحیم” کو نہیں رکھا ؟

حضرت عثمان نے جواب دیا جب قران شریف کی آیتیں پیغمبر[]() پر نازل ہو رہے تھے تو انہوں نے ایک شخص کو بلایا کہ ان کے لئے اس آیت کو لکھ دے اور اس سے کہا "فلاں آیت کو فلاں سورہ میں لکھنا ؛ اور جب ایک دو آیتیں نازل ہوتی تھیں تب بھی وہ (ان کی بابت) یہی کہتے تھے – (سورہ)ال – انفال پہلا سورہ ہے جو مدینہ میں نازل ہوا تھا ، اور (سورہ) ال براہا مدینے میں نازل ہونے والا آخری سورہ تھا اور اسکا مضمون سورہ انفال کے جیسا ہی تھا ، اس لئے میں نے سوچا کہ یہ سورہ ال -انفال کا ہی حصّہ  ہونا چاہئے – چنانچہ میں نے انکو سبع اط – طویل (سات لمبے سوراجات)  کے درجہ میں رکھا  اور میں نے انکے بیچ بسم الله الرحمان الرحیم کو اسلئے نہیں رکھا کیونکہ سورہ انفال میں پہلے ہی لکھ دیا گیا تھا –       

 : :کتاب 2 ،حدیث 396

سورہ 9 (ات توبہ یا ال براہا) قران شریف میں ایک ہی سورہ ہے جو بسم الله الرحمن الرحیم  سے شرو ع نہیں ہوتا – حدیث اس کو سمجھاتی ہے کیوں ؟ حضرت عثمان نے سوچا کہ سورہ 9 سورہ 8 کا ہی حصّہ ہے اور ان دونوں کا مضمون ایک ہی ہے – سوالات سے تعلّق رکھتے ہوئے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ قدیم مسلم معاشرہ میں یہ ایک بحث کا مدعا  تھا – مگر دوسری حدیث حضرت عثمان کے قران سے ان کے ایک ساتھی کے زریعے  ردد عمل پیش کرتے ہوئے پیش کیا گیا ہے –

عبدللہ (بن مسعود) نے بتایا ہے کہ اسنے (اسنے اپنے ساتھیوں سے کہا کی وہ اپنے قران شریف کی کاپیوں کو پوشیدہ کرے)  اور آگے کہا :وہ جو کسی چیز کو چھپا تا یا پوشیدہ کرتا ہے الله اس چیز کو انصاف کے دن ظاہرے میں لے ایگا -او– پھر کہا آپ نے مجھے کس شخص کے تلاوت کے طریقے سے مجھے تلاوت کرنے کا حکم دیتے ہیں ؟ میں دراصل الله کے پیغمبر []() اور انکے ساتھیوں کے سامنے قران شریف کے 70 سوراجات کی تلاوت کر چکا ہوں – ی– جان لیں کہ میں اللہ کی کتاب کا (دوسروں سے زیادہ) علم رکھتا ہوں ،….. شقیق نے کہا : میں حضرت محمّد (صلّم) کے ساتھیوں کی جماعت میں بیٹھا کرتا تھا مگر کسی کے منہ سے یہ انکا6ر کرتے ہوئے نہیں سنا کہ (انکی تلاوت میں) کسی طرح کی خامی نہیں  ہے —

مسلم کتاب 031 6022 نمبر

کئی ایک باتیں ہیں جو یونہی اڑ ے رہ جاتے ہیں  :

 عبداللہ بن مسعود اپنے شاگردوں سے کہتے ہیں  انکے قران شریف کی کاپیوں کو کسی سبب سے چھپاۓ رکھیں –      

ایسا لگتا ہے کی ایک فرق تلاوت کے لئے وہ کسی دوسرے کے ذرئیے حکم پایا ہوا ہے – وقت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بہترین سمجھ ہے کہ جب حضرت عثمان نے مقدّس قران کے ترجمے کا ایک میعار قیام کیا

           ابن مسعود جس طرح سے قران کی تلاوت کرتے تھے اس کو بدلنے کے اعتراض میں ان کا یہ کہنا تھا کہ : میں (مسعود) قرآن پاک کا علم دوسروں سے بہتر طریقے  سے رکھتا ہوں                                                     

شقیق نے کہا : حضرت محمّد کے ساتھی لوگ مسعود کے ساتھ غیر متفق نہیں تھے                                                

موجودہ قران کے عبارتی ترجمے                     

حضرت عثمان کی اشاعت کا پیچھا کرتے ہوئے ، کسی طرح ، فرق فرق مطالعے آج بھی موجود ہیں- د راصل یہ دیکھا گیا ہے کہ چوتھی صدی میں حضرت محمّد کے بعد فرق فرق مطالعے کے لئے ایک تصدیق کیا ہوا ترجمہ تھا – حا لا نکہ  آج اکثر عربی عبارت کا ترجمہ حفص (یا  حو فص) کے نام سے مشہور ہے – ایک وارش کا ترجمہ ہے جو شمالی افریقہ میں زیادہ تر استعمال کیا جاتا ہے – ال- دری  مغربی افریقہ اور دیگر علاقوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے –ان تمام ترجموں میں ہججے کا فرق ہوتا ہے اور کچھ ہلکے سے تلفّظ کا فرق ،مگر عام طور پر ان کے معنوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا مگر کچھ افراق  جو معنون پر اثر ڈالتے ہیں جب سیاق عبارت کو جلدی پڑھنے سے ہوتا ہے مگر گہری سمجھ  میں نہیں —      

سو یھاں ایک چناؤ ہے کہ قران شریف کے کون سے ترجمہ  کا استعمال کریں –

ہم نے سیکھا ہے کہ موجودہ دور میں قران شریف کے فرق فرق عربی ترجمے پاۓ جاتے ہیں جو کہ نبی حضرت محمّد کے وفات کے بعد سدھار اور انتخاب کا طریق عمل جاری ہوا تھا – آج قران شریف کی عبارت میں کچھ ہی فرق جو دیکھنے کو ملتی ہیں وہ اس لئے کہ حضرت عثمان نے اس وقت دیگر ترجموں کو جلا د ئے  تھے –قران شریف کا کوئی متبادل ترجمہ ، حا شئے وغیرہ نہیں ہیں-  وہ اسلئے نہیں کہ اسکے  کوئی متبادل ترجمہ موجود نہیں تھا بلکہ اسلئے کہ وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا تھا – حضرت عثمان نے غالباً قران شریف کی ایک اچھی تلاوت کو پیش کیا تھا مگر وہ صرف ایک ہی نہیں تھا اور وہ مباحثے کے بغیر جاری نہیں کیا تھا – اس طرح سے وسیع  طریقے سے جو خاص عام میں قبول کیا گیا وہی اصلی قران مانا گیا – -اس کی ایک ہی زبان ہے ، ایک ہی الفاظ ہیں اور ایک ہی تلاوت ہے – اس میں انسانی وضاحت کے لئے کوئی مقام  نہیں”یہ صحیح ننہیں ہے – حالانکہ بائبل اور قران دونوں کے فرق فرق ترجمے ہیں اور ان دونوں کے پکے دستاویز کے بھی ثبوتیں پائی جاتی ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ آج  کی اصلی عبارت کے بہت نزدیک ہیں – یہ دونوں ہمیں اصل کی ایک قابل اعتبارنمائندگی (پیش کش) دے سکتے ہیں – کئی لوگ ان دونوں کتابوں کے پیغام کو ڈھونڈ ھ کر سمجھنے سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ قران شریف کی تحفّظ کولیکر  نا مناسب تعظیم دلوں میں رکھے ہوئے ہیں – اور اسی طرح بائبل کی تحفّظ کو لیکر بھی حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے – مگر ہمارے لئے یہ بہتر ثابت ہوگا اگر ہم دونوں کتابوں کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں اپنا دھیان لگا ئیں – ہزاروں لاکھوں لوگ انہیں بہتر طریقے سے سمجھنے کے لئے عملی جا مہ پہنایا ہے اب آپ کے لئے موقع ہے – یہی سبب ہے کہ ساری دنیا میں انہیں پہلا مقام دیا گیا ہے – اس کی شروعات کے لئے اچھا مقام حضرت آدم کے ساتھ ہے –        

کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟

الکتاب کو عام طور پر اُسکی اصلی زبان میں (عبرانی اور یونانی) میں نہیں پڑھا جاتا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ زبانیں صفہ ہستی پر سے ناپید ہو جاچکی ہیں۔ اسرائیل اور یونان کی قومی زبانیں ہے۔ لیکن علما اکرام یونیورسٹی میں عبرانی اور یونانی پڑھاتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اُن طالب علم بائبل مقدس کی اصل زبان کو پڑھ اور سمجھ سکیں۔ لیکن عام ایماندار عمومی طور پر ان زبانوں کا مطالعہ نہیں کرسکتے۔ بلکہ اپنی مادری زبانوں میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس لیے اکثر کتاب مقدس اپنی اصل زبانوں میں نہیں دیکھی جاتی ہے۔ اس وجہ سے کئی لوگ یہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ کتاب مقدس کی اصل زبانیں صفہ ہستی سے ناپید ہوچکی ہیں۔ اور کئی لوگ یہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ ان تراجموں میں بہت ساری تبدیلیاں پائی جاتیں ہیں۔ اس سے پہلے ہم کسی نتیجے پر پہنچیں۔ سب سے پہلے ہم بائبل مقدس کے ترجمہ کرنے کے مراحل کو سمجھیں گے۔ یہ ہی کام ہم اس مضمون میں کریں گے۔

ترجمہ بمقابلہ نقلِ حرفی

ہمیں پہلے ترجمے کے کچھ بنیادی اصولوں کے سمجھنے کو ضرورت ہے۔ بعض اوقات مترجمین ترجمہ کرتے وقت ایک جیسی آواز کے الفاظ کا چناوکرلیتے ہیں۔ اس کی بجائے وہ اُس کے معنی کے مطابق ترجمہ کریں۔ یہ کام خاص طور پر نام یا عنوان کا ترجمہ کرتے وقت ہوتا ہے۔ اس کو نقلِ حرفی (دوسری زبان میں الفاظ نقل کرنا) کہتے ہیں۔ نیچے دی گئی عبارت میں ترجمہ اور نقلِ حرفی میں فرق بیان کیا گیا ہے۔

عربی سے انگریزی یا اردو میں لفظ "اللہ” ترجمہ کرنے کے لیے آپ دو طریقوں کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ آپ اس لفظ کا ترجمہ "اللہ” سے "خدا” اور “God” یا پھر "اللہ” ترجمہ کرسکتے ہیں۔

یہاں لفظ "خدا" کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ جس سے یہ دیکھایا گیا ہے۔ کہ ہم کسی زبان سے کسی دوسری زبان میں ترجمہ یا نقلِ حرفی کرسکتے ہیں۔
یہاں لفظ "خدا” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ جس سے یہ دیکھایا گیا ہے۔ کہ ہم کسی زبان سے کسی دوسری زبان میں ترجمہ یا نقلِ حرفی کرسکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں انگریزی اور عربی کے درمیان بڑھتے ہوئے تبادلے کی وجہ سے لفظ "اللہ” کی اصطلاح کو خدا کے معنوں میں انگریزی زبان میں تسلیم کرلیا گیا ہے۔ عنوانات اور کلیدی الفاظ کے ترجمہ یا نقل حرفی کے انتخاب میں قطعی کوئی صحیح یا غلط نہیں پایا جاتا ہے۔ اصطلاح کا چناو اس سے کیا جاتا ہے۔ کہ ترجمہ ہونے والی زبان سے زیادہ سے زیادہ قبول یا سمجھی جاسکے۔

ہفتادی ترجمہ

بائبل مقدس کا پہلا ترجمہ اُس وقت ہوا۔ جب عبرانی زبان کا پرانے عہد نامے (تورات شریف + زبور شریف) کو 250 قبل از مسیح میں یونانی ترجمہ کیا گیا۔ اس ترجمہ کو ہفتادی ترجمہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اور یہ ایک موثر ترجمہ تھا۔ چونکہ نیا عہدنامہ یونانی میں لکھا گیا تو اس میں پرانے عہدنامے کے بہت سے حوالہ جات اسی ہفتادی ترجمے سے لیے گے تھے۔

ہفتادی نقل حرفی اور ترجمہ

                             مندرجہ ذیل تصویر میں دورِجدید میں بائبل مقدس کے ترجمہ کے مراحل کو دیکھایا گیا ہے۔

اس تصویر میں جدید زبانوں میں بائبل مقدس کے ترجمہ کے مراحل کو دیکھایا گیا ہے
اس تصویر میں جدید زبانوں میں بائبل مقدس کے ترجمہ کے مراحل کو دیکھایا گیا ہے

 اصلی زبان عبرانی کے پرانے عہد نامہ (تورات اور زبور شریف) مرحلہ نمبر 1، آج ہماری  موسوی متن پرانے عہد نامہ جو کہ بحرہ مرادار سے ملا۔ اُس تک رسائی حاصل ہے۔ کیونکہ ہفتادی ترجمہ عبرانی سے یونانی میں ہوا۔ اس لیے تیر پہلے مرحلے 1 سے  2 دوسرے مرحلے کی طرف جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ نیا عہد نامہ کی اصلی زبان یونانی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پرانا اور نیا عہد نامہ 2 دوسرے مرحلہ پر مشتمعل ہے۔ اور نیچے مرحلے میں دور جدید کی زبان میں بائبل مقدس ترجمہ موجود ہے۔ (مثال کے طور پر انگریزی زبان میں)۔ پرانا عہد نامہ اصلی زبان عبرانی سے ترجمہ ہوا۔ (1 – < 3 ) اور نیا عہد نامہ کا ترجمہ اصلی زبان یونانی سے (2 < 3 ) حاصل ہوا۔ مترجم عنوانات اور ناموں کے ترجمہ کو پہلے سے فیصلہ کرلیتا ہے۔ کہ اس کو ترجمہ یا نقل حرفی کرنا ہے۔ جس کو پہلے واضع کیا جا چکا ہے۔ اس ترجمہ اور نقل حرفی کو سبز رنگ کے تیر سے واضع کیا گیا ہے۔ یہاں یہ دیکھایا گیا۔ کہ مترجم کسی بھی نقطہ نظر کو لے سکتا ہے۔

بائبل مقدس کا ہفتادی ترجمہ بائبل مقدس پر کئے جانے والے تبدیلی کے سوال پر گواہ ہے

چونکہ ہفتادی ترجمہ عبرانی سے یونانی زبان میں 250 قبل از مسیح میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ تاہم ہم دیکھ سکتے ہیں۔ (اگر یم یونانی کا ترجمہ واپس عبرانی میں کریں) اُس ترجمے کو جس کو ان مترجمین سے عبرانی سے ترجمہ کیا گیا تھا۔ لہذا اس طرح عبرانی متن ایک جیسا نظر آتا ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ بائبل مقدس کا متن 250 سال قبل از مسیح میں تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ ہفتادی ترجمہ پورے مشرقی وسطیٰ اور بحرہ روم میں سینکڑوں سال پہلے یہودیوں ، مسیحیوں ، اور دوسری قومیں اس کو پڑھتی رہیں ہیں۔ بلکہ آج بھی مشرقی وسطیٰ مین بہت سارے ملک اس ہفتادی ترجمہ کو استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی بھی (مسیحی ، یہودی، یا اور کوئی) پرانے عہد نامے میں تبدیلی کرتا۔ تو حقیقت میں ہفتادی ترجمہ اُس تبدیل شدہ عبرانی پرانے عہد نامے سے مختلف ہوتا۔ لیکن یہ بنیادی طور پر ایک جیسے ہی ہیں۔

اس طرح مثال کے طور پر کوئی ایک مصر کے شہر الیگزاینڈریا میں ہفتادی ترجمہ میں تبدیلی کرتا۔ تو جو ہفتادی ترجمہ مشرقی وسطیٰ اور بحرہ روم میں موجود ہفتادی ترجمہ سے مختلف ہوتا۔ لیکن حقیقت میں مصر کے شہر الیگزاینڈریا اور مشرقی وسطیٰ اور بحرہ روم کے ترجمہ ایک جیسے ہی ہیں۔ اس لیے متن ہمیں کسی تضاد کے بغیر یہ بتاتا ہے۔ کہ پرانے عہد نامہ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

ہفتادی ترجمہ سے جدید ترجمہ میں مدد

                   ہفتادی ترجمہ دورِجدید میں ہونے والے تراجم میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ علماء اکرام جو ترجمہ کرتے ہیں۔ اُن کو ہفتادی ترجمہ کی عبرانی پرانے عہدنامے کے مشکل حوالہ جات کا ترجمہ کرنے میں مدد حاصل کرتے ہیں۔ یونکہ اسکی یونانی بڑی اچھی طرح سمجھی جاتی ہے۔ اور کچھ حصوں میں جہاں عبرانی مشکل سے ترجمہ کیا جاتا ہے۔ مترجمین یہاں سے یہ دریافت کرسکتے ہیں۔ کہ ہفتادی ترجمہ کرنے والوں نے 2250 سال پہلے کیسے یہ غیرمعمولی کا سرانجام دیا۔

ترجمہ / نقل حرفی کو سمجھنے کے لیے ہفتادی ترجمہ ہماری مدد کرتا ہے۔ کہ "مسیح” کی اصطلاح جو حضرت عیسیٰ کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ کہاں سے آیا۔ اس کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ اگر ہم انجیل شریف کو پیغام سے واقف ہیں۔ ہم اگلے مضمون میں اس کے بارے میں دیکھیں گے۔

متنی تنقید کے علم کے مطابق کیا بائبل مقدس تبدیل ہو چکی ہے یا نہیں؟

"مجھے کیوں بائبل مقدس کی کتابوں پر غور کرنا چاہیے؟  جبکہ یہ بہت عرصہ پہلے لکھی گئیں اور اس کے بہت سارے تراجم اور ورژن بن چکے ہیں۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اس کے اصل پیغام کو وقت کے ساتھ تبدیل کردیا گیا تھا”میں نے کئی بار اس قسم کے سوالات اور بیانات سنیں ہیں۔ کہ تورات ، زبور اور انجیل مل کر اس کو بائبل مقدس بناتی ہیں۔

یہ سوال بہت ہی اہم ہے اور یہ اس سب  کی بنیاد پر ہے۔ جو کچھ ہم نے بائبل مقدس کے بارے میں سنا ہے۔ بہر حال یہ کتاب دو ہزار سال پہلے لکھی گئی تھی۔ اُن وقتوں میں پرنٹنگ پریس، فوٹوکاپی مشین، یا کوئی اشاعتی ادارہ موجود نہیں تھا۔ تو اصل مسودات نسل در نسل ہاتھ سے نقل کئے جاتے تھے۔ جس طرح زبانیں ختم ہوتی گئیں اور نئی وجود میں آتی گئیں، سلطنتیں دم توڑتی گئیں اور نئی وجود میں آتی گئیں۔ اب چونکہ اصل مسودات کا وجود نہیں ہے۔ پھر ہم کس طرح جانتے ہیں، کہ موجودہ بائبل (کتاب مقدس) جسکا مطالعہ ہم کرتے ہیں۔ اُسی طرح  ہےجس طرح انبیاءاکرام پر کافی عرصہ پہلےنازل ہوئی تھی؟ مذہب سے ہٹکر کیا کوئی اور بھی سائنسی علم یا منطقی علم موجود ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ جو بائبل مقدس ہم آج پڑھتے ہیں کیا وہ تبدیل ہوچکی ہے یا نہیں؟

متنی تنقید کے بنیادی اصول

بہت سارے جو اس طرح کے سوال پوچھتے ہیں۔ وہ اس بات کا احساس نہیں رکھتے کہ ایک سائنسی نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ جس کو ہم متنی تنقید کہتے ہیں۔ جس کے زریعے  ہم ان سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں۔ یہ ایک سائنسی نظم و ضبط ہے جو ہر ایک قدیمی تحریر پر لاگو ہوسکتا ہے۔ اس مضمون میں ہم متنی تنقید کے دو اہم اصول استعمال کریں گے۔ اور پھر ان کا اطلاق بائبل مقدس پر کریں گے۔ ایسا کرنے کے لیے ہم اس تصویر سے شروع کریں گے۔ جو اس عمل کی وضاحت کرتی ہے۔ جس کے ذریعے ہم کسی بھی قدیمی تحریر کو آج  پڑھ سکتے ہیں۔

time 1
یہ ٹائم لائن ہمیں دیکھتی ہے کہ کس طرح قدیم کتابیں آج ہمارے پاس ہیں

یہ تصویر ہمیں ایک کتاب کی مشال دیتی ہے۔ جو 500 سال قبل از مسیح لکھی گئی۔ اصل کبھی بھی آخر تک نہیں رہتا۔ اس سے پہلے یہ بوسیدہ ہوجائے یا کھو جائے یا تباہ ہوجائے اس اصل سے اس کی ایک نقل بنالی جاتی ہے۔ اس کو پیشہ ورانہ لوگ جن کو کاتب کہتے ہیں انہوں نے اس کو نقل کیا۔ سالوں پہلے نقل کی گئی نقلیں تیار کی گئی۔ (دوسری نقل سے تیسری نقل) اس طرح محفوط نقل سے ایک تیسری نقل بنائی گئی۔ جس کا مطلب ہے کہ اس کتاب کی حالت (500 AD ) تک معلوم کی جاسکتی ہے۔ لہذا 500 BC  سے 500  AD تک کے عرصہ میں ہم کوئی نقل چیک نہیں کرسکتے۔ جب تک تمام مسودات اس عرصہ میں غائب نہ ہو گے ہوں۔ مثال کے طور پراگر تبدیلی اس وقت ہوئی جب اصل سے دوسری نقل ہو رہی تھی۔ ان دستاویزات میں سے ہم اس کی تبدیلی کا پتہ لگا سکیں گے۔ چاہے اس جیسے مسودات موجود ہوں۔ یہ وقت موجودہ نقول ہونے سے پہلے (مدت x  ) ہے۔ لیکن اس متن کا وقفہ غیر یقینی ہے۔ جہاں پر تبدیلی ہو سکتی ہے۔ لہذا متنی تنقید کے پہلا اصول کا دورانیہ x چھوٹا اور زیادہ اعتماد کے قابل ہے ۔ ہم ان دستاویزات کو ہمارے وقت میں صحیح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ چونکہ غیر یقینی صورتحال کی مدت کم ہے۔

                        بے شک آج ایک سے زیادہ نسحہ جات کی نقل موجود ہیں۔ فرض کریں ہمارے پاس دو مسودات کی نقل موجود ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک کے اسی حصے میں مندرجہ زیل فقرہ ہے۔ (بےشک یہ فارسی میں نہیں ہوگا۔ لیکن میں نے اس کی فارسی میں وضاحت کرنے کے لیے استعمال کیا ہے)

error 2

اب ہمارے پاس چار نسحہ جات موجود ہیں۔ اس سے آسانی سے معلوم کرسکتے ہیں کہ کس میں غلطی پائی جاتی ہے۔ اب ہم آسانی سے فصیلہ کرسکیں گے کہ کس نسحہ میں غلطی ہے۔ یہ زیادہ امکان ہے کہ غلطی ایک بار ہوئی ہو۔ جبکہ ایک ہی غلطی تین بار دوہرائی جائے۔ لہذا اس بات کا امکان ہے کہ MSSs  میں نقل کی خامی کا امکان ہے اور مصنف نے اس کو یوان لکھا تھا نہ کہ جان( جان پھر غلطی ہے) یہ سادہ سی مثال متنی نتقید کے دوسرے اصول کی وضاحت کرتی ہے۔ جس طرح آج جتنے زیادہ نسحہ جات موجود ہیں ۔ ان سے اتنا ہی آسان ہے غلطی کو معلوم کرنا اور اس کو ٹھیک کرنا اور یہ جاننا کہ اصل متن کیا ہے۔

MSS3

تاریخی کتابوں کہ متنی تنقید

            اب ہمارے پاس سائنسی متنی تنقید کے 2 اصول موجود ہیں۔ جن سے ہم کسی بھی پرانی کتاب کے متن کی معتبریت کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ 1) اصل تحریر اور قدیم ترین موجود قلمی نسحوں کی نقل کے درمیانی وقت کی پیمائش  2) موجود قلمی نسحوں کی نقل کی تعداد کا حساب۔ جس طرح ہم یہ اصول قدیم کتابوں پر لاگوکرتے ہیں۔ ہم ان اصولوں کو قدیم کتابوں اور بائبل مقدس کے لیے  بھی لاگو کرسکتے ہیں ۔ جس طرح ذیل کے ٹیبل میں کیا گیا ہے۔

(مصنف جوش میکڈول کتاب کا نام منصفانہ فیصلے کے متقاضی)

اس میں تمام لکھاری قدیم دور کی اہم کلاسیکل تصنیفات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تحریروں نے جدید تہذیب کی ترقی میں تشکیل دی ہے۔ اوسطاً یہ ہمیں 10 – 100 مسودات دے کر گزر گے ہیں۔ تقریباً یہ  1000  سال محفوظ رہیں ہیں جو کہ اصل کے بعد  نقل کی گیئں تھیں۔

بائبل مقدس کے متن کی تنقید

                                    مندرجہ ذیل ٹیبل میں بائبلیکل کتابوں میں اوپر دیئے گے، نقاط کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ خاص کر انجیل شریف کا۔ یہ ٹیبل کتاب The Origin of The Bible سے لیا گیا ہے

MSS

تحریری جب

MSS کی تاریخ

وقت کی مدت
John Rylan

90 AD

130 AD

40 yrs

Bodmer Papyrus

90 AD

150-200 AD

110 yrs

Chester Beatty

60 AD

200 AD

140 yrs

Codex Vaticanus

60-90 AD

325 AD

265 yrs

Codex Sinaiticus

60-90 AD

350 AD

290 yrs

بائبل مقدس کے متن کی تنقید کا خلاصہ

     انجیل شریف کے مسودات کی تعداد بہت ہی وسیع ہے۔ اس لیے اس کو ٹیبل کی فہرست میں رکھنا ناممکن ہے۔

"” آج ہمارے پاس انجیل شریف کے 24000 سے ذائد  MSS  کی نقول موجود ہیں۔ ۔۔ قدیم دور کے کسی بھی دستاویزات کے اس قدر زائد نسحوں کی تعداد اور تصدیق حاصل نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں “ILIAD” قدیم ہومر نامی مصنف کی ایک کتاب کی 643 MSS  کی نقل موجود ہیں۔  (مصنف جوش میکڈول کتاب کا نام منصفانہ فیصلے کے متقاضی)

برطانیہ کے میوزیم کےایک معروف عالم اس بات پر متفق ہیں۔

” علمااکرام رومن اور یونانی مصنفین کے متن کے حقیقی اصولوں پر کافی حد تک مطمین ہیں۔ جب کہ ہمارا علم ان کی مٹھی بار تحریرات کی MSS   کی نقول پر ہے۔ جب کہ انجیل شریف کے MSS    کی تعداد ہزاروں میں ہے”

(کینیون ایف جی، برٹش میوذیم کے سابق ڈائریکٹر، کتاب: ہماری بائبل اور قدیم مسودات)

میرے پاس ایک کتاب ہے جو ابتدائی نسخہ جات کے بارے میں ہے۔ یہ کتاب اس طرح شروع ہوتی ہے۔

” یہ کتاب انجیل شریف کے ابتدائی 69 مسودات کی نقل فراہم کرتی ہے۔۔۔ اس کی تاریخ 2 دوسری صدی کے شروع سے 4 چوتھی صدی تک ہے۔ ( 100-300 AD  ) جو 2 سے 3 انجیل شریف کے نسخوں تک محدود ہے۔ "

(مصنف P. Comfort   کتاب "قدیم ترین انجیل شریف کے یونانی نسخہ جات”

دوسرے الفاظ میں یہ مسودات جو موجود ہیں اتنے قدیم ہیں کہ ان میں سے کئی 100 سال کے قریب یا پھر انجیل شریف کی اصل کے پہلی نقل میں سے ہیں۔ یہ مسودات بادشاہ کانسٹنٹائن کی حکومت اور رومی کلیسا کے وجود میں آنے سے پہلے ہیں۔ یہ بحیرہ روم اور اس کے اردگرد کی دنیا میں پھیل چکے تھے۔ اگر ایک علاقے کے نسخے میں تبدیلی ہوئی ہوتی تو دوسرے علاقے کے نسخے سے اس کی تصدیق کی جاسکتی تھی۔ لیکن یہ تما م ایک جیسے ہیں۔

ہم یہاں سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔ یقنی طور پر انجیل شریف کے جتنے نسخہ جات پائے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کسی دوسرے قدیم نسخے کے نہیں ہیں۔ ( موجود MSSs کی تعداد اور اصل قدیم ترین نسخہ جات کے درمیان کے وقت تک پھیلا ہوا ہے) یہ فیصلہ کن ثبوت ہمیں اس درج ذیل خلاصہ تک لے آتے ہیں۔

” انجیل شریف کے متن پر شک کا نتیجہ ہمیں قدیم دور کی تمام پرانی داستاویزات پر ابہام کی طرف لے آتا ہے۔ لیکن قدیم تحریرات میں سے ہمیں کوئی ایسی قابل اعتماد کتابیات نہیں ملتی جیسی انجیل شریف کی ہے۔ ( منٹگمری،  کتاب ، تاریخ اور مسحیت)

جو کچھ اس نے کہا اس کو جاری رکھیں گے۔ اگر ہم بائبل مقدس کے معتبر ہونے پر سوال کرتے ہیں ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس کو تمام قدیم تاریخی علوم سے جدا کر رہے ہیں۔ جو ایسا آج تک کسی مورخ  یا  تاریخ دان نے نہیں کیا۔ ہیروڈوٹس (Herodotus) کی تحریرات کو کوئی تبدیل شدہ نہیں سمجھتا۔ جب کہ ان مسودات کی کل تعداد 8 آٹھ ہے۔ اور ان کی نقل کا وقفہ اصل سے 1300 سال کا ہے۔ اس طرح ہم کیسے سوچ سکتے ہیں کی بائبل مقدس کے متن میں تبدیلی ہوگئی ہے؟ جبکہ اس کے مسودات کی کل تعداد 24000 مسودات ہیں اور ان کی اصل سے نقل کے وقت کا وقفہ 100 سال ہے۔ اس بات کی کوئی سمجھ نہیں آتی کے یہ کیسے لوگوں کہہ دیتے ہیں کہ بائبل مقدس تبدیل ہوگئ ہے۔

            ہم جانتے ہیں کہ زمانے بدلے، زبونیں بدلیں، اور سلطنتیں کو زوال آیا لیکن بائبل مقدس کے متن میں کھبی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان تمام واقعات و حالات میں سے قدیم ترین MSSs ابھی بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کسی پوپ نے اور نہ ہی رومن بادشاہ کانسٹنٹائن نے بائبل مقدس میں تبیلی نہیں کی ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس موجود مسودات پوپ اور بادشاہ کانسٹنٹائن سے پرانے ہیں۔ یہ تمام مسودات آج کی موجودہ بائبل مقدس کے ساتھ بالکل یکساں ہیں۔

درج ذیل ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے۔ کن مسودات سے موجودہ بائبل مقدس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔

slide4
موجودہ دور کی بائبل مقدس کا ترجمہ قدیم ترین یا ابتدائی مسودات سے کیا جاتا ہے۔ جن کا دورانیہ 300- 100 AD ہے ۔ یہ تمام مسودات بادشاہ کانسٹنٹائن اور دوسری مذہبی طاقتوں سے پہلے کے موجود ہیں۔

مختصراً یہ ہے کہ نہ تو وقت نے نہ ہی مسیحی راہنماوں نے اُس پیغام کو تبدیل کیا۔ جو سب سے پہلے بائبل مقدس میں لکھا گیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہزاروں سال پہلے مصنفین نے لکھا تھا ہم اُس کو آج اُسی طرح پڑھتے ہیں جسطرح لکھا گیا تھا۔ متنی تنقید کی یہ سائنس بائبل مقدس کے متن کی تصدیق کرتی ہے۔ کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

یونیورسٹی میں متنی تنقید پر ایک لیکچر

ہے University of Western Ontarioمجھے اس موضوع پر ایک یونیورسٹی جسکا نام

لیکچر دینے کا استحقاق ہوا۔ ذیل میں 17 منٹ کی ویڈیو ہے جس میں اس سوال کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح اب تک ہم نے انجیل شریف کے متن کی تنقید کے بارے میں جانا ہے۔ لیکن زبور شریف، تورات شریف، جن سے پرانہ عہد نامہ بنتا ہے۔ اس کے بارے کیا جانتے ہیں۔ ذیل میں 7 منٹ کی ویڈیو میں اس سوال پر بات کی گئی ہے۔

انجیل بدل چُکی ہے! سنُت کیا فرماتی ہے؟

میری گزشتہ اشاعت میں دیکھ چُکا ہوں کہ قرآن توریت ، زبُور اور انجیل مقُدس کے مکاشفات اور نزول کے بارے کیا کہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ قرآن میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ جو پیغام اللہ کی طرف سے حضرت مُحمد پر 600 قبل از مسیح نازل ہوا، جو کہ انجیل مقُدس کے پیروکار ہیں(وہ تاریخ کے ساتھ تبدیل یا بدل نہیں سکتے)، اسی طرح قرآن میں اِس بات کی تصدیق بھی ملتی ہے کہ انجیل مقُدس اُس کے الفاظ ہیں، اور وہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتے۔ اِن دونوں بیانات سے یہ بات یقین دہانی ہے کہ خُدا کا کلام کبھی بھی تبدل نہیں سکتے جن میں توریت، زبُور اور اناجیل شامل ہیں۔

میں اِس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ مطالعہ کو جاری رکھنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی کتاب سنُت اِن موضوعات پر کیا کہتی ہے۔ حدیث اِس کی بات کی تصدیق کرتی ہے کہ توریت اور انجیل کا اِستعمال  حضرت محمد ؑ کے دور میں ہو چکا ہے۔

خدیجہ (اُس کی بیوی)جوکہ (حضرت محمدؑ کی بیوی ہے)  اُس کا رشتہ دار ورقہ جو کہ اسلام کے پھیلانے سے پہلے مسیحیت کو قبول کر چکا تھا ؛ اُس نے عبرانی زبان میں خط لکھتا ہو تا تھا۔ وہ انجیل میں سے عبرانی زبان میں لکھ سکتا تھا جیسے کہ خُدا اُس سے چاہتا تھا۔  امام بخاری (البخاری) والیم 1 ، کتابچہ 1  ؛ نمبر 3

ابوہریرہ نے بیان کیا: کہ وہ لوگ توریت کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور پھر اُس کو مسلمانوں کو عربی زبان میں سمجھاتے تھے۔ تب اللہ کے رسول نے کہا، ‘‘لوگوں کے کلام پر یقین مت کرو، اور نہ ہی اُن کو اِس پر ایمان لانے سے رکھو، لیکن کہو، کہ ہم اللہ کی طرف سے جو نازل ہوچُکا ایما ن رکھتے ہیں۔۔۔۔۔’’ امام بخاری (البخاری) والیم 9 ، کتابچہ 93 ؛ نمبر632

یہودی اللہ کے رسول کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر مرد اور عورت غیر شرعی طور پر آپس میں مبشارت کرتے ہیں ۔ اللہ کے رسول نے اُن سے کہا، ‘‘تمہیں توریت میں اِس جرم کی کیاقانونی سزا ملتی ہے (سنگساری)؟’’ اُنہوں نے جواب میں اُس نے کہا، ‘‘(لیکن) ہم اُن کے جرم کا اعلان کرتے اور اُن کو قید میں ڈالنے کا حکم دیتے ہیں۔’’ تب عبداللہ بن سلام نے کہا، ‘‘تم جھوٹ بول رہے ہو؛ توریت تو کہتی ہے کہ اُن کو سنگسار کرو۔’’۔۔۔۔۔۔۔۔سنگسارکا حوالہ وہاں (توریت) میں موجود ہے۔  اُنہوں نے کہا حضرت محمدؑ (اللہ کا رسول) سچا فرماتا ہے؛ توریت میں سنگسار کرنے کا حوالہ درج ہے۔  امام بخاری (البخاری) والیم 4، کتابچہ  56؛ نمبر 829

عبداللہ ابن ِ عمر بیان فرماتے ہیں۔۔۔۔۔یہودی کا لشکر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ ولی وسلم حضرت محمد کوف کے لئے دعوت دی۔۔۔۔۔ اُنہوں نے کہا،‘ابو القاسم ، کہ اُس نے ایک عورت کے ساتھ زناکاری کی ؛ سو اُس پر بھی عدالت ہوگی۔ اُنہوں نے اللہ کے رسول کے لئے تکیہ دیا اور وہ اُس سے بیٹھے اور کہا؛‘‘ توریت لے کر آؤ’’۔ تب وہ توریت لے کر آئے۔پھر آپ نے تکیہ نکلا اور توریت کو رکھا اور یہ کہا؛‘‘میں اِس پر ایمان رکھتا ہوں اور اُس پر بھی جس نے اِس کا نازل فرمایا۔’’ سنُت ابودادؤ  کتابچہ 38، نمبر 4434

کابیان: اللہ کے رسول فرماتے ہیں؛ جمعہ کے دِن جب سورج طلوع ہوتا ہے وہ مبارک دِن ہے، اِس دِن آدم تخلیق کیا گیا تھا۔۔۔۔۔کیتب نے فرمایا: ہر  ابوہریرہ…سال میں ایک دِن ہوتا ہے۔ تب میں نے کہا: یہ ہر جمعہ ۃ المبارک پر ہوتا ہے۔ کیتب نے توریت کو پڑھا اور کہا: کہ اللہ کے رسول محمدؑ نے  سچافرمایا۔ سنُہ ابو داؤد کتاب 3 نمبر 1041

یہ احمقانہ احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ رسول محمدؑکا رویہ کہ بائبل میںجو اُس دِن کے بارے میں پہلے سے نشاندہی کی جا چُکی ہے۔ پہلی حدیث بیان کرتی ہے کہ انجیل پہلے سے موجود تھی جب اِس نے پہلی آواز کر سُنا۔ دوسری حدیث بتاتی ہے کہ یہودی توریت کو عبرانی زبان میں اُس وقت کے مسلمانوں کے لئے پڑھتے تھے۔ حضرت محمد اُن کے کسی بھی بیان کردہ مجموعے کو رد نہیں کرتا تھا، لیکن فرق  کو ظاہر کرتا تھا  عربی وضاحت اُن کی کرتا تھا۔ اگلی دو احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ محمدؑ نے توریت کو اپنے اُس دِن کے لئے استعمال کی ہے۔ اور آخری حدیث سے نظر آتا ہے کہ توریت، اِس بات کی گواہ ہے کہ جب انسان کو پیدا کیا گیا تب جمعہ کا دِن تھا۔ اِن احدیث میں سے کوئی بھی اِس بات کو ثابت نہیں کر پائی کہ بائبل(کلام ِ مقدس) تبدیل اور اِس میں کوئی ردوبدل ہوا ہے۔ یہ اہم کام کے لئے استعمال ہوئی ہے۔

عہد جدید (انجیل کی اصل کتابیں)

میرے پاس عہدجدید کی اصل کتب جو موجود ہے جو کہ اِس سے شروع ہوتی ہے:

2 عہدجدید /‘‘عہد جدید شروع میں 69 کا مجموعہ پیش کر تا ہے کہ بتاریخ دوسری صدی کے آغاز سے لے کر چوتھی صدی تک (100تا 300 اے ڈی)۔۔۔۔۔3

کا حصہ مشتمل ہے (پی پرُسکون،‘‘آغاز میں عہدجدید یونانی زبان میں موجود ہے’’۔ تعارف پی 17۔2001)۔

یہ اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ تحریریں رومی حکومت کے آنے سے پہلے (325 اے ڈی)۔ اگر اِس میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو ہمیں اِس کی تحقیق کرنی ہے کہ اِس میں محمد کے آنے سے پہلے تبدیل ہوئی ہے کہ اُس کے آنے کے بعد۔ ہمارے پاس مختلف زبانوں میں ترجمہ کی گئی جو کہ آج بھی مکمل طور پر اپنی اصل حالت میں موجود ہے جو کہ محمدؑ کے آنے سے پہلے سے موجود تھی۔ سب سے زیادہ مشہور کوڈ یہ ہیں، سینی ٹیکس(سی اے 350 اے ڈی) اور یہ کوڈ، ویٹی نیکس(سی اے 325 اے ڈی)۔ یہ اور اِس کے علاوہ بہت سارے دوسرے مجموعے جو کہ 600اے ڈی سے پہلے دُنیا کے دوسرے علاقوں میں سے آئے۔ یہ مسیحی خیال اور مسیحی نخسہ جات میں تبدیلی کوئی بھی سمجھ نہیں رکھتا۔ یہ بالکل ناممکن کہ اِس ٹیکٹ میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔ یہاں تک کہ اگر یہ عربی میں ترجمہ کی گئی تو بھی یہ اصل حالت میں موجود ہے اور ایسے ہی ہمیں کہنا چاہیے کہ یورپ اور سیریا میں بھی کوئی تبدیل نہیں آئی، اور یہ یقیناً ایسا ہی ہے۔ پر قرآن اور احدیث دونوں واضع طور پر تصدیق کرتے ہیں کہ بائبل 600 اے ڈی سے پہلے موجود تھی اور بائبل مقدس کے تمام نخسہ جات پہلے سے رقم ہیں، اور اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ نیچے دی گئی ٹائم لائن اِس چیز کی وضاحت کرتا ہے کہ بائبل مقدس 600 اے ڈی کی بنیاد پر ہے۔

آغاز ہی سے توریت اور زبور کی کاپی موجود ہے۔ سکلرولز کا مجموعہ بحرہ ِمردار سے جانا جاتا ہے، یہ بحرہ مردار 1948 کو دریافت کیا گیا۔ یہ سکلرولز توریت اور زبور 200تا100 عیسوی سےلکھی جا چُکی تھی۔ اِس کا مطلب ، مثال کے طور پر حضرت موسیٰ نے توریت تقریباً(1500 عیسوی) کو دے دی تھی، ہمارے پاس توریت کی کاپیاں عیسیٰ المسیح اور محمدؑ کے آنے سے پہلے کی موجود تھیں۔ ہم اِس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ پہلی کتابیں جو رسولوں پر نازل ہوئی اِن کللک کریںمیں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ میں اِس کو واضح طور دیکھا کہ یہ یقینی ہے اگر آپ اِس کو سائنسی نظر سے دیکھنا ہے تو اِس آرٹیکل پر

اِس بات کو شہادت ملتی ہے کہ حضرت محمدؑ نے جو کچھ احدیث میں فرمایا کہ کلام ِ مقدس (بائبل) تمام نخسے آج بھی ویسے کے ویسے ہیں اور قرآن بھی اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بائبل تبدیل نہیں ہوئی۔

آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات - بہت پہلے سے
آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات – بہت پہلے سے