From Books

یسوع کا اپنے شاگردوں کا پیر دھونا

13 فسح کی تقریب کے قریب یسوع نے جان لیا کہ وقت آپہنچا ہے کہ دنیا سے نکل کر باپ کے پاس جا ؤں۔ اس نے دنیا میں ہمیشہ ا ن لوگوں سے محبت کی جو ان کے اپنے تھے۔ اس وقت انہوں نے اپنی محبت کا پوری طرح اظہار کیا۔

یسوع اور اس کے شاگرد رات کے کھا نے پر تھے۔ شیطان ابلیس یہوداہ اسکریوتی کے دل میں بات ڈال چکا تھا کہ وہ یسوع کے خلاف ہو جا ئے۔یہوداہ شمعون کا بیٹا تھا۔ یسوع کو باپ نے ہر چیز پر اختیار دے دیاتھا یسوع یہ جان گئے تھے۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ خدا کی طرف سے آیا ہے اور واپس خدا کے پاس ہی جا رہا ہے۔ وہ جب کھا نا کھا رہے تھے یسوع نے کھڑے ہو کر اپنے کپڑے اتا رے اور رومال اپنی کمر سے باندھا۔ یسوع پھر برتن سے پا نی ڈال کر اپنے شاگردوں کے پا ؤں دھوئے اور اسے پھر اپنے رومال سے پو نچھا جو اس کی کمر میں بندھا تھا۔

یسوع پھر شمعون پطرس کے پاس آئے پھرپطرس نے یسوع سے کہا ، “اے خداوند آپ میرے پیر نہ دھو ئیں۔”

یسوع نے کہا ، “اب تم نہیں جانتے کہ میں کیا کر رہا ہوں لیکن بعد میں تمہا ری سمجھ میں آجائے گا۔”

پطر س نے کہا ، “میں آپ کو اپنے پیر کبھی نہیں دھو نے دونگا۔” یسوع نے جواب دیا، “اگر میں تمہا رے پاؤں نہ دھوؤں تو پھر تم میرے لوگوں میں سے نہیں ہو گے۔”

شمعون پطرس نے کہا ، “اے خدا وند! میرے پیر دھو نے کے بعد میرے ہا تھ اور میرا سر بھی دھو ڈالو۔”

10 یسوع نے کہا ، “جو نہا چکا ہے اس کو سوائے پاؤں کے کسی اور عضو کو دھونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس کا پورا بدن صاف ہے اس کو صرف پیر ہی دھو نے کی ضرورت ہے اور تم لوگ پاک ہو۔ لیکن سب کے سب پاک نہیں۔” 11 یسوع یہ جان گئے تھے کہ کون اس کا مخا لف ہے اسی لئے اس نے کہا ، “تم میں ہر کو ئی پاک نہیں۔”

12 جب یسوع ان کے پا ؤں دھو چکے تو پھر کپڑے پہن کر واپس میز پر آگئے یسوع نے پوچھا ، “کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہا رے لئے کیا کیا ؟ 13 تم مجھے استاد اور خدا وند کہتے ہو یہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو کیوں کہ میں وہی ہوں۔ 14 میں تمہا را خداوند اور استاد ہوں لیکن میں نے تمہا رے پیر ایک خا دم کی طرح دھو ئے اس لئے تم بھی آپس میں ایک دوسرے کے پیر دھوؤ۔ 15 میں نے ایسا اس لئے کیا تا کہ تمہا رے لئے ایک مثال قائم ہو اس لئے تمہیں بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی کر نا چاہئے جیسا کہ میں نے تمہا رے ساتھ کیا۔ 16 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایک خادم اپنے آقا سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا اور نہ قاصد ہی اپنے بھیجنے والے سے بڑا ہو سکتا ہے۔ 17 اگرتم یہ جانتے ہو تب تم خوش رہو گے اگر یہ سب تم کروگے۔

18 “میں تم سب کے بارے میں نہیں کہتا ہوں۔میں جن کو منتخب کیا ہوں انہیں میں جانتا ہوں لیکن جو صحیفہ میں ہے وہ پو را ہوگا۔ جو میرے ساتھ کھانے میں شریک رہا وہی میرا مخا لف ہوا۔ 19 اب میں اس کے ہو نے سے پہلے خبر دا ر کر تا ہوں تا کہ جب یہ واقعہ ہو جا ئے تو تم ایمان لا ؤ کہ میں وہی ہوں۔ 20 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جس نے میرے بھیجے ہو ئے کو قبول کیا گویا اس نے مجھے قبول کیا اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبول کرتا ہے۔”

یسوع کا بیان کرنا کہ مخالف کون ہے

21 یہ باتیں کہہ کر یسوع نے اپنے آپ کو تکلیف میں محسوس کیا اور اعلانیہ طور پر کہا ، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک میرا مخالف ہو گا۔”

22 یسوع کے شاگردوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور وہ سمجھ نہیں سکے کہ یسوع کس آدمی کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔” 23 ایک شاگرد جو یسوع کے قریب تھا اور یسوع کی طرف جھک کر بیٹھا ہوا تھا اور وہ یسوع کا چہیتا شاگرد تھا۔ 24 شمعون پطرس نے اس کو اشارہ سے کہا کہ پو چھو یسوع اس کے بارے میں بات کر رہا ہے۔

25 اور وہ شاگرد اسی طرح قربت کے سہارے سے کہا ، “اے خداوند کون ہے جو تمہارا مخالف ہو گا ؟”

26 یسوع نے جواب دیا ،“میں اس روٹی کو ڈبو کر ایک شخص کو دونگا وہ و ہی ہے” اور یسوع نے ایک روٹی کا ٹکڑا لیا اور اس کو برتن میں ڈبو کر یہوداہ اسکریوتی کو دیا جو شمعون کا بیٹا تھا۔ 27 جب یہوداہ نے روٹی لی شیطان یہوداہ میں سما گیا۔ یسوع نے یہوداہ سے کہا ، “جو تو کر نا چاہتا ہے وہ جلدی سے کر ۔” 28 میز پر بیٹھے ہو ئے شاگردوں میں کسی نے نہ سمجھا کہ یسوع نے اسکو ایسا کیوں کہا۔ 29 چونکہ یہوداہ کے پاس رقم کی تھیلی رہتی تھی اس لئے شاگردوں نے سمجھا شاید یسوع کی مرضی یہ ہے کہ یہوداہ بازار جا کر تقریب کے لئے کچھ خرید لا ئے یا پھر وہ سمجھے کہ شاید یسوع یہوداہ کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ غریبوں میں کچھ بانٹ دے۔

30 یہوداہ روٹی کا ٹکڑا لیا اور فوراً باہر چلا گیا۔یہ رات کا وقت تھا۔

یسوع کا اپنی موت کے بارے میں کہنا

31 جب یہوداہ چلا گیا تو یسوع نے کہا ، “اب ابن آدم جلال پا رہا ہے۔ اور خدا نے ابنِ آ دم سے جلال پایا۔ 32 اگر خدا اسکے ذریعے جلال پاتا ہے تب خدا بھی بیٹے کو جلال دیتا ہے اور اسکو جلد ہی جلال دیگا۔”

33 یسوع نے کہا ، “میرے بچو میں تمہارے ساتھ صرف مختصر عرصے کے لئے رہونگا تم مجھے ڈھونڈو گے اور جیسا میں نے یہودیوں سے کہا تھا اسی طرح تم سے اب بھی کہتا ہوں: “میں جہاں جا رہا ہوں تم نہیں آسکتے۔

34 “اب میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں ایک دوسرے سے محبت کرو جیسا کہ میں نے تم سے محبت کی تھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت کرو۔ 35 سب لوگ یہ جان جائیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو اگر تم ایک دوسرے سے محبت کرو گے۔”

یسوع نے بتایا کہ پطرس اس کا انکار کریگا

36 شمعون پطرس نے یسوع سے کہا ، “اے خدا وند آپ کہاں جا رہے ہیں۔” یسوع نے کہا، “جہاں میں جا رہا ہوں وہاں تم نہیں آسکتے وہاں بعد میں تم میرے پیچھے آؤ گے۔”

37 پطرس نے کہا ، “اے خدا وند! میں اب آپکے پیچھے کیوں نہیں آسکتا میں آپ کے لئے مر نے کو تیار ہوں۔”

38 یسوع نے جواب دیا! “کیا تم حقیقت میں اپنی زندگی میرے لئے دو گے میں سچ کہتا ہوں جب تک مرغ بانگ نہ دیگا تب تک تو تین بار میرا انکار کرے گا کہ تو مجھے نہیں جانتا ہے۔”

یسوع کا اپنے ماننے والوں کو خوش خبری دینا

14 یسوع نے کہا ، “اپنے دل کو تکلیف نہ دو خدا پر اور مجھ پر بھروسہ رکھو۔ میرے با پ کے گھر میں کئی کمرے ہیں اگر یہ سچ نہ ہو تا تو میں تم سے کبھی نہ کہتا۔ میں وہاں جارہا ہوں تا کہ تمہا رے لئے جگہ تیار کروں۔ جب میں وہا ں جا کر تمہا رے لئے جگہ بنا لوں تب دوبارہ میں پھر آؤں گا۔ اور میں تمہیں اپنے ساتھ لے جا ؤں گا۔ اور تب تم میرے ساتھ جہاں میں ہوں وہاں تم بھی رہنا۔ اور تم اس راہ کو جانتے ہو جہاں میں جا رہا ہوں۔”

تھوما نے کہا، “ا ے خداوند! ہم نہیں جانتے کہ آپ کہاں جا رہے ہیں پھر ہم کس طرح راہ کو جانیں گے ؟”

یسوع نے جواب دیا ، “میں راستہ ہوں میں سچا ئی ہوں اور زندگی بھی۔ میں ہی ایک ذریعہ ہوں جس سے تم باپ کے پاس جا سکتے ہو۔ اگر تم حقیقت میں مجھے جان گئے ہو تے تو میرے باپ کو بھی جانتے اب تم اسے جانتے ہو اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے۔”

فلپ نے یسوع سے کہا ، “اے خداوند! ہمیں اپنے باپ کو دکھا ؤ یہی ہم چا ہتے ہیں۔”

یسوع نے جواب دیا ، “فلپ میں اتنے عرصہ سے تمہا رے ساتھ ہوں اور تمہیں مجھے جاننا چاہئے۔جس شخص نے مجھے دیکھا ہے اس نے باپ کو بھی دیکھا ہے پھر تم ایسا کیوں کہتے ہو کہ ہمیں باپ کو دکھا ؤ؟ 10 کیا تمہیں یقین نہیں ہے کہ میں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے جو کچھ میں تمہیں کہہ چکا ہوں وہ میری طرف سے نہیں بلکہ باپ مجھ میں ہے اور وہ اپنا کام کر رہا ہے۔ 11 جب میں یہ کہوں کہ باپ مجھ میں ہے اور میں باپ میں ہوں تو یقین کر نا چا ہئے یا پھر معجزے کی وجہ سے ایمان لے آ ؤ جو میں نے کئے۔

12 میں سچ کہتا ہوں جو شخص مجھ میں یقین رکھتا ہے اور ایمان رکھتا ہے اور جو کام میں کرتا ہوں وہ بھی کرے۔ہاں! وہ اس سے بھی بڑا کام کرے گا جو میں نے کئے ہیں۔کیوں کہ میں باپ کے پا س جا رہا ہوں۔ 13 اگر تم میرے نام سے کچھ چا ہو گے میں تمہا رے لئے کروں گا اس طرح باپ کی عظمت و جلال کا اظہار بیٹے کے ذریعے ہو گا۔ 14 اگر تم میرے نام سے کچھ چا ہو گے میں تمہا رے لئے کروں گا۔

مقدس روح کا وعدہ

15 “اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو تم وہی کروگے جس کا میں نے حکم دیا ہے۔ 16 میں باپ سے استدعا کروں گا تو وہ تمہا رے لئے دوسرا مدد گار [a] دیگا۔ اور وہ ہمیشہ تمہا رے ساتھ رہے گا۔ 17 وہ مدد گا ر یعنی روح حق [b] جسے دنیا تسلیم نہیں کرتی کیوں کہ دنیا نہ اسے جانتی ہے اور نہ دیکھتی ہے“لیکن تم جانتے ہو وہ تمہا رے ساتھ ہے اور تم میں رہے گی۔

18 “میں تمہیں اس طرح تنہا نہیں چھو ڑوں گا جیسے بغیر والدین کے بچے رہتے ہیں میں دوبارہ تمہا رے پاس آؤں گا۔ 19 بہت کم وقت میں دنیا کے لوگ مجھے پھر نہ دیکھیں گے لیکن تم مجھے دیکھو گے تم زندہ رہوگے اس لئے کہ میں زندہ ہوں۔ 20 اس روز تم جان جاؤگے کہ میں با پ میں ہوں۔ اور یہ بھی جان جا ؤگے تم مجھ میں ہو اور میں تم میں ہوں۔ 21 اگر کوئی شخص میرے احکام کو جانتا ہے اور اس پر عمل کر تا ہے تو ایسا شخص حقیقت میں مجھ سے ہی محبت کرتا ہے اور میرا باپ بھی اس سے محبت کرتا ہے جو مجھ سے محبت کر ے گا اور میں خود کو اس پر ظاہر کروں گا اور میں اس سے محبت کروں گا اور اپنے آپ کو اس پر ظا ہر کروں گا۔”

22 تب یہوداہ نے ( یہوداہ اسکر یوتی نہیں )کہا ، “اے خدا وندتم اپنے آپ کو ہم پر ظا ہر کرنے کا منصوبہ کیوں بنا رہے ہو اور دنیا پر کیوں نہیں ؟”

23 یسوع نے جواب دیا ، “اگر کو ئی آدمی مجھ سے محبت کریگا تو میرے کلام پر عمل کرے گا۔ میرا باپ اس سے محبت کرے گا۔ میں اور میرا باپ اس کے ساتھ رہے گا۔ 24 لیکن جو شخص مجھ سے محبت نہیں رکھتا میری تعلیمات پر عمل نہیں کرتا۔ اور یہ تعلیمات جو تم سنتے ہو حقیقت میں میری نہیں ہیں بلکہ میرے باپ کی طرف سے ہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔

25 “میں تم سے یہ سب کچھ کہہ چکا ہوں جبکہ میں تمہا رے ساتھ ہوں۔ 26 لیکن مددگار تمہیں ہر چیز کی تعلیم دے گا یہ مددگار جو مقدس روح ہے تمہیں میری ہر بات کی یاد دلا ئیگا۔”یہ مددگار مقدس روح ہے جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا۔

27 “میں تمہیں اطمینان دلا تا ہوں یہ میرا اپنا اطمینان ہے تمہیں دیتا ہوں مگر اس طرح نہیں جیسا کہ دنیا تمہیں دیتی ہے اس لئے مت گھبرا ؤ اور نہ ڈرو۔ 28 تم سن چکے ہو جو کچھ کہ میں تم سے کہہ چکا ہو ں کہ میں جانتا ہوں لیکن میں پھر تمہا رے پاس آؤں گا۔اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو تم خوش ہو گے کیوں کہ میں باپ کے پاس جا رہا ں ہوں۔ کیوں کہ باپ مجھ سے زیادہ عظیم ہے۔ 29 میں تم سے کچھ ہو نے سے قبل سب باتیں کہہ چکا ہوں۔ تا کہ جب ہو جائے تو تم یقین کر سکو۔”

30 میں تم سے اور زیادہ بات نہیں کروں گا کیوں کہ دنیا کا حا کم (ابلیس ) آرہا ہے اس کا مجھ پرکو ئی اختیار نہیں ہے۔ 31 لیکن دنیا کو یہ جاننا چاہئے کہ میں باپ سے محبت کر تا ہو ں اس لئے میں وہی کچھ کر تا ہو ں جو باپ نے مجھ سے کرنے کو کہا ہے “آؤ ہم یہاں سے چلیں گے۔”

یسوع انگور کی بیل کی طرح ہے

15 یسوع نے کہا ، “میں انگور کی حقیقی بیل ہوں اور میرا باپ باغبان ہے۔ میری ہر شاخ جو پھل نہیں لاتی وہ کا ٹ ڈالتا ہے اور ہر شاخ کو چھانٹتا ہے جو پھل لا تی ہے تاکہ اور پھل زیادہ ہو۔ میری تعلیما ت جو تم کو ملی ہیں جس کی وجہ سے تم پاک ہو۔ تم مجھ میں ہمیشہ قائم رہو اور میں تم میں ہمیشہ قائم رہو ں گا کوئی بھی شاخ جو درخت سے الگ تنہا ہو پھل نہیں لا تی اس لئے اسے درخت سے قائم لگے رہنا ہے اور یہی معاملہ تمہا رے ساتھ بھی ہے اگر مجھ پر قائم نہ رہو تو پھل نہیں لا سکتے۔

“میں انگور کا درخت ہوں اور تم اسکی شاخیں ہو اگر کوئی شخص مجھ پر قائم رہے اور میں اس میں رہوں زیادہ پھل لا ئیگا۔ میرے بغیر تم کچھ نہ کر سکو گے۔ اگر کوئی شخص مجھ میں قائم نہ رہا تو اسکی مثال اس شاخ کی ہے جسے پھینک دی جا تی ہے۔اور وہ شاخ مردہ ہو جاتی ہے یعنی سوکھ جا تی ہے لوگ سوکھی شاخ اٹھا کر آگ میں جلا دیتے ہیں۔ “مجھ میں قائم رہو اور میری تعلیمات پر عمل کرو اگر تم ایسا کرو تو تم جو چا ہو طلب کرو اور وہ تمہیں دی جا ئیں گی۔ تم بہت سے پھل لا ؤاور ثابت کر دو کہ تم میرے شاگرد ہو اور میرے باپ کا جلا ل اسی سے ہے۔

میں تم سے محبت اس طرح کرتا ہوں جس طرح باپ مجھ سے کرتا ہے تم میری محبت میں قائم رہو۔ 10 میں نے اپنے باپ کے احکام کی تعمیل کی اور اس کی محبت کو قائم رکھا اسی طرح اگر تم بھی میرے احکام کی تعمیل کرو تو تم میری محبت میں قائم رہو گے۔ 11 یہ سب کچھ میں تم سے کہہ چکا ہوں کہ تم ویسے ہی خوش رہو جس طرح میں ہوں میں چا ہتا ہوں کہ تمہا ری ہر خوشی مکمل ہو جا ئے۔ 12 میں حکم دیتا ہوں کہ جیسی محبت میں نے تم سے رکھی ہے اسی طرح تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ 13 سب سے زیادہ محبت یہ ہے کہ آدمی اپنے دوستوں کے لئے اپنی جان دیدے۔ 14 اگر تم وہ چیزیں کرو جس کا میں نے حکم دیاہے تو تم میرے دوست ہو۔ 15 میں تمہیں اور دوبارہ خادم نہیں کہوں گا کہ خا دم نہیں جانتا کہ اس کا آقا کیا کر رہا ہے۔ لیکن میں تمہیں دوست کہتا ہوں کیوں کہ میں وہ سب کچھ کہہ چکا ہوں جو میں نے باپ سے سنی ہیں۔

16 تم نے مجھے منتخب نہیں کیا بلکہ میں نے تمہا را انتخاب کیا ہے کہ تم جا کر پھل لا ؤ۔ میں چا ہتا ہوں کہ یہ پھل تمہا ری زندگی میں قائم رہے۔تب ہی باپ تمہیں ہر وہ چیز دے گا جو تم میرے نام سے مانگو۔ 17 یہ تم کو میرا حکم ہے کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔

یسوع کا اپنے شاگردوں کو خبر دار کرنا

18 “اگر دنیا تم سے نفرت کرے تویہ یاد رکھوکہ دنیا مجھ سے پہلے ہی نفرت کر چکی ہے۔ 19 اگر تم دنیا کے ہو تے تودنیا تمہیں اپنے لوگوں جیسا عزیز رکھتی چونکہ تم دنیا کے نہیں ہو کیوں کہ میں نے تمہیں دنیا سے چن لیا ہے اسی لئے دنیا نفرت کر تی ہے۔

20 جو کچھ میں نے تم سے کہا اسے یا د رکھو کہ خادم اپنے آقا سے بڑا نہیں ہوتا اگر لوگوں نے مجھے ستایاہے تو تمہیں بھی ستا ئیں گے۔ اور اگر لوگ میری تعلیمات پر عمل کئے ہیں تو وہ تمہا ری بات پر بھی عمل کریں گے۔ 21 لوگ یہ سب کچھ میرے نام کی وجہ سے تمہا رے ساتھ کریں گے اور یہ لوگ اس کو نہیں جانتے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 22 اگر میں نہ آتا اور دنیا کے لوگوں سے نہ کہتا تب وہ گناہ کے مجرم نہ ہو تے۔لیکن ا ب میں انہیں کہہ چکا ہوں اس لئے وہ گناہ کی معافی کا جواز نہیں دے سکتے۔

23 جو مجھ سے نفرت کرتا ہے وہ میرے باپ سے بھی نفرت کرتا ہے۔ 24 میں نے لوگوں میں ایسے کام کئے کہ اس سے پہلے کسی نے نہیں کئے اگر میں ایسا نہ کرتا تو وہ گنہگار ٹھہرتے لیکن وہ سب کام جو میں نے کیا انہوں نے دیکھا ہے۔ اور اب بھی مجھ سے اور میرے باپ سے نفرت کر تے ہیں۔ 25 لیکن یہ سب اس لئے ہوا کہ ان کی شریعت میں جو لکھا ہوا تھا وہ سچ ثابت ہوا انہوں نے بلا وجہ مجھ سے نفرت کی۔

26 میں تمہا رے پاس مدد گار بھیجونگا جو میرے با پ کی طرف سے ہوگا وہ مددگار سچا ئی کی روح ہے جو باپ کی طرف سے آتی ہے جب وہ آئے تو میرے بارے میں گواہی دے گی۔ 27 اور تم بھی لوگوں سے میرے بارے میں کہوگے کیو ں کہ تم شروع ہی سے میرے ساتھ ہو۔

16 “میں نے تم سے یہ باتیں اس لئے کہیں تا کہ تم اپنا ایمان نہ کھو دو۔ لوگ تمہیں یہودی عبا دت خا نے سے نکال دیں گے ہاں یہ وقت آ رہا ہے کہ لوگ تمہیں ما ر نے کو خدا کی خدمت کر نے کے برا بر سمجھیں گے۔ لوگ ایسا اس لئے کریں گے کہ نہ انہوں نے باپ کو جانا اور نہ مجھے۔ میں اب تمہیں یہ سب کچھ کہتا ہوں تا کہ جب ان چیزوں کا وقت آئے تو تمہیں یاد آجا ئے کہ میں نے تم کو خبر دار کر دیا تھا۔

مقدس روح کا کام

“میں نے شروع میں یہ بات تم سے اس لئے نہ کہی کیوں کہ میں تمہا رے سا تھ تھا۔ اب میں جا رہا ہو ں اس کے پاس جس نے مجھے بھیجا ہے اور تم میں سے کو ئی نہیں پوچھتا کہ تم کہاں جا رہے ہو ؟ تمہا رے دل غم سے بھرے ہو ئے ہیں کیوں کہ میں تم سے یہ باتیں کہہ دیا ہوں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے بہتر ہے کیوں کہ اگر میں جاتا ہوں تو تمہا رے لئے مددگار بھیجوں گا۔ اگر میں نہیں جا ؤں توتمہا رے پاس مددگار نہ آئے گا۔

جب مدد گار آئے تو وہ دنیا کی خرابی کو ثابت کرے گا اور گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں بھی بتا ئے گا۔ مددگار دنیا کی غلطی کو ثابت کر یگا کیوں کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لا ئے۔ 10 وہ ثابت کرے گا کہ دنیا راستبازی میں غلط ہے۔کیوں کہ میں اپنے باپ کے پاس جا رہا ہوں اور تم پھر مجھے نہ دیکھو گے۔ 11 وہ مددگار یہ ثابت کریگا عدالت کے بارے میں دنیا کو اس لئے کہ اس دنیا کے حا کم(ابلیس ) کو پہلے ہی مجرم ٹھہرا دیا گیاہے۔

12 “مجھے تم سے اور بہت کچھ کہنا ہے مگر ان سب باتوں کو تم برداشت نہ کر سکوگے۔ 13 لیکن جب روح حق آئیگا تو تم کو سچا ئی کی راہ دکھا ئے گا۔ روح حق اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ وہ وہی کہے گا جو وہ سنتا ہے وہ تمہیں وہی کہے گا جو کچھ ہو نے والا ہے۔ 14 روح حق میری عظمت و جلا ل کو ظا ہر کرے گا اس لئے کہ وہ مجھ سے ان چیزوں کو حا صل کر کے تمہیں کہے گا۔ 15 جو کچھ باپ کا ہے وہ میرا ہے۔ اسی لئے میں نے کہا وہ روح مجھ سے ہی حا صل کر کے تمہیں معلوم کرا ئے گا۔

غم کا خوشیوں میں تبدیل ہونا

16 “تھوڑی ہی دیر بعد تم مجھے نہ دیکھو گے۔ پھر اس کے تھوڑی ہی دیر بعد ہی تم مجھے دوبا رہ دیکھو گے۔”

17 بعض شاگردو ں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا ، “اسکا کیا مطلب ہے کہ جو یسوع کہتا ہے تھوڑی دیر بعد تم نہ دیکھو گے اور پھر تھوڑی ہی دیر میں مجھے دو بارہ دیکھو گے ؟ “اور پھر اس کا کیا مطلب ہے کہ جب وہ کہتا ہے کہ میں باپ کے پاس جا رہا ہوں۔ 18 شاگردوں نے پو چھا ، “اس کا کیا مطلب ہے جب وہ کہتا ہے تھو ڑی دیر بعد؟ہم لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔”

19 یسوع نے دیکھا کہ شاگرد کچھ پوچھنا چاہتے ہیں اس لئے یسوع نے اپنے شاگردو ں سے پو چھا ، “کیا تم میری اس بات کی تحقیق چا ہتے ہو جو میں نے تم سے کہی کہ تھو ڑی دیر بعد تم مجھے نہ دیکھو گے اور پھر تھو ڑی ہی دیر میں دوبا رہ دیکھ لو گے ؟ 20 میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ تم رو ؤگے اور رنجیدہ ہوگے مگر دنیا خوش ہو گی تم رنجیدہ ہو گے لیکن تمہا ری رنجید گی ہی تمہا ری خوشی بنے گی۔

21 جب عورت بچہ جنتی ہے تو اس کو درد ہو تا ہے کیو ں کہ اس کا وقت آ چکا ہے لیکن جب بچہ پیدا ہو جاتاہے تو وہ درد کو بھول جا تی ہے کیوں کہ وہ خوش ہو تی ہے کہ دنیا میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ 22 یہی کچھ تمہا رے ساتھ ہے اب تم رنجیدہ ہو لیکن میں تم سے پھر ملوں گا تو تم خوش ہو گے۔ اور کو ئی بھی تمہا ری خوشی تم سے نہیں چھین سکتا۔ 23 اس دن تم مجھ سے کچھ نہ پو چھوگے میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ میرا باپ تمکو ہر چیز دیگا جو تم میرے نام سے مانگو گے۔ 24 تم نے میرے نام سے اب تک کچھ نہیں مانگا۔مانگو اور تمہیں ملے گا تا کہ تمہیں کامل خوشی مل سکے۔

یسو ع ہی دنیا کا فا تح ہے

25 “میں نے یہ باتیں تم سے تمثیل میں کہیں لیکن ایک وقت آئے گا تب میں تم سے اس طرح تمثیل سے باتیں نہ کہوں گا میں تم سے واضح الفاظ میں باپ کے متعلق کہوں گا۔ 26 اس دن تم باپ سے میرے نام پر مانگو گے اور میرا مطلب یہ کہ مجھے باپ سے تمہا رے لئے درخواست کی ضرورت نہیں۔ 27 اس لئے کہ باپ خود تم سے محبت کر تا ہے وہ تمہیں اس لئے عزیز رکھتا ہے کیوں کہ تم مجھے عزیز رکھتے ہو اور تم نے میرے خدا کی جانب سے آنے پر ایمان لا یا۔ 28 میں باپ کے پاس سے اس دنیا میں آیا اور اب میں دنیا چھوڑ رہا ہوں اوربا پ کے پاس جا رہا ہوں۔

29 تب یسوع کے شاگردوں نے کہا ، “اب آپ صاف صاف کہتے ہو اور کوئی تمثیل نہیں کہتے۔ 30 اب ہم جان چکے ہیں کہ آپ سب کچھ جانتے ہو۔ حتیٰ کے کوئی تم سے سوال کرے آپ اس سے پہلے اس کا جواب دے سکتے ہو۔ اور ہم اسی سبب سے ایمان لا تے ہیں کہ آپ خدا کی طرف سے آئے ہو۔”

31 یسوع نے کہا، “تو کیاتم اب ایمان لا تے ہو ؟ 32 سنو! “وقت آرہا ہے کہ تم میں سے ہر ایک بکھر کر اپنے گھروں کی راہ لو گے اور مجھے اکیلا چھوڑ دو گے تو بھی میں کبھی اکیلا نہیں ہوں کیوں کہ باپ میرے ساتھ ہے۔

33 “میں نے تم سے یہ باتیں اس لئے کہیں کہ تم مجھ میں اطمینان پا ؤ اس دنیا میں تمہیں تکلیفیں ہوں گی لیکن مطمئن رہو کہ میں نے دنیا کو فتح کیا ہے۔”

لوقا کا دوسری کتاب تحریر کرنا

1 عزیزتھِیُفِلس،

پہلی کتاب میں جو میں نے بیان کیا تھا اس میں وہ سب کچھ تھا جو یسوع نے شروع میں کر نے کی تعلیم دی۔ میں نے اس میں ابتداء سے اس دن تک کے واقعات درج کيا ہے جب یسوع کو آسمان میں اٹھا ليا گيا تھا۔اس واقعہ سے پہلے یسوع نے ان رسولوں سے بات کی جسے اس نے چنا تھا۔اس نے روح القدس کے ذریعے رسولوں کو کہا کہ اسے کیا کر نا ہے۔ یسوع نے خود رسولوں کو بتا یا کہ وہ مرنے کے بعد بھی زندہ تھے۔ یسوع نے بہت سے طریقے سے اس کو ثابت کیا ہے وہ کیا کرنا چاہتے تھے۔ یسوع موت سے جی اٹھنے کے بعد بھی اپنے رسولوں کو چالیس دن تک نظر آتے رہے ،اور یسوع خدا کی بادشاہت کے متعلق رسولوں سے کہتے رہے۔ ایک دن جب وہ ان کے ساتھ کھا رہے تھے تو اس نے انہیں کہا تھا، “وہ یروشلم کو چھوڑ کر نہ جا ئے گا۔ یسوع نے کہا تھا کہ باپ نے تم سے کچھ وعدہ کیاہے جو میں پہلے تم سے کہہ چکا ہوں کہ تم یروشلم میں ہی رہو تا کہ وعدہ پو را اور سچ ہو جا ئے۔ یوحناّ نے تم کو پانی سے بپتسمہ دیا تھا لیکن اگلے چند دنوں میں تمہیں مقدس روح کے ذریعہ سے بپتسمہ ملے گا۔”

یسوع کا آسما نوں پر لیجایا جانا

تما م مسیح کے رسولوں نے وہاں جمع ہو کر یسوع سے پوچھا، “خداوند! کیا اسی وقت آپ یہودیوں کو پچھلی بادشاہت عطا کر رہے ہیں؟”

یسوع نے جواب دیا، “صرف با پ کو اختیار ہے کہ وہ تاریخ اور وقت کا تعین کرے اور تم انہیں نہیں جا نتے۔ لیکن مقدس رُوح تم پر آئے گا تب تم قوت پا ؤگے۔ تم لوگوں کو میرے متعلق گواہی دوگے۔ تم لوگوں کو سب سے پہلے یروشلم میں کہو گے اور پھر یہو داہ اور سامریہ کے لوگوں سے کہوگے اور دنیا کے ہر خطے میں کہو گے۔”

یہ سب باتیں کہنے کے بعد یسوع آ سمان پر اٹھا لئے گئے۔ ان کے رسو لوں نے اس کی طرف دیکھا تو اسے بادلوں نے اپنے اندر لے لیا اور وہ اسے دیکھ نہ سکے۔ 10 جب یسوع اوپر آسمان میں جا رہے تھے تو وہ آسمان کو دیکھتے رہے اچا نک دو آدمی جو سفید کپڑے پہنے ہو ئے تھے اس کے پہلو میں آئے۔ 11 دو آدمیوں نے رسولوں سے پوچھا، “اے گلیل کے مر دو!تم کھڑے رہ کر آسمان کی طرف کیا دیکھتے ہو ؟” تم نے دیکھا نہیں یسوع کوآسمان کی طرف اٹھا لیا گیا یہی یسوع ہیں اور اسی طرح پھر دوبارہ واپس آئیں گے۔ اور تم ا نکو اسی طرح دیکھو گے جس طرح جا تے ہو ئے دیکھا ہے۔

خواب دیکھنے وا لایوسف

37 یعقوب ملک کنعان میں سکونت پذیر ہوا۔اُس کا باپ بھی اُسی ملک میں رہتا تھا۔ یعقوب کی خاندانی تاریخ درج ذیل ہے۔

یو سف سترہ سال کا کڑیل جوان تھا۔ بھیڑ بکریاں پالنا اُس کا پیشہ تھا۔ اپنے بھا ئیوں یعنی بلہا ہ اور زلفہ کے بیٹوں کے ساتھ بھیڑ بکریاں چراتا تھا۔ یو سف اپنے باپ کو اپنے بھا ئیوں کی بُری حرکتوں کے با رے میں کہہ دیا۔ اسرائیل ( یعقوب ) چونکہ بہت زیادہ عمر کو پہنچا تھا کہ یوسف پیدا ہو ئے جس کی وجہ سے اسرائیل اپنے دوسرے بیٹوں کی بہ نسبت یوسف سے زیادہ محبت کر تا تھا۔ یعقوب نے اپنے اس بیٹے کے لئے ایک بہت ہی خوبصورت قسم کا عبا بنوا یا۔ یوسف کے بھا ئیوں نے یہ محسوس کیا کہ ہما رابا پ ہم لوگوں سے زیادہ یوسف سے محبت کر تا ہے اس لئے وہ لوگ اس سے نفرت کر نے لگے۔ وہ لوگ کبھی یو سف کو اچھی باتیں نہیں کہتے۔

ایک دن یوسف نے ایک خاص قسم کا خواب دیکھا۔ جب یوسف نے اُس خواب کو اپنے بھا ئیوں سے بیان کیا تو ، اُنہوں نے اُس سے اور بھی زیادہ جلنا اور حسد کرنا شروع کیا۔

یو سف نے اُن سے کہا کہ مجھے ایک خواب دکھا ئی دیا ہے۔ کہ ہم سب کے سب کھیت میں گیہوں کے پلندے باندھ رہے تھے۔ تب میرا پُلندا اُٹھ کھڑا ہوا۔ پھر میرے پُلندے کے اطراف تمہا رے پُلندے گھیرا بنا یا اور میرے پلندے کے سامنے سب جھک کر سجد ہ ریز ہوئے۔

اُس کے بھا ئیوں نے کہا کہ تیرا یہ خیال ہے کہ تو بادشاہ بن کر ہم پر حکومت چلا ئے گا۔ کیا یہی مطلب ہے تمہا را ؟ ان لوگوں نے اس کے خواب اور وہ جو کہا اس کی وجہ سے اور بھی زیادہ نفرت کر نے لگے۔

اُس کے بعد یوسف کو ایک اور خواب نظر آیا۔ یو سف نے اُس خواب کے با رے میں بھی اپنے بھائیوں سے بیان کیا۔ یو سف نے اُن سے کہا کہ مجھے ایک اور خواب نظر آیا ہے۔ جس میں ایک سورج ، چاند اور گیارہ ستارے میرے سامنے جھک کر مجھے سجدہ کر تے ہیں۔

10 یوسف اپنے باپ کو اس خواب کے با رے میں معلوم کرایا۔ لیکن اُس کے باپ نے اُسے ڈانٹ دیا اور کہا کہ یہ کیسا خواب ہے ؟ اور پو چھا کہ میرا ، اور تیری ماں اور تیرے بھا ئیوں کا تیرے سامنے جھک کر سجدہ کر نے کی بات پر کیا تو یقین رکھتا ہے ؟ 11 یوسف کے بھا ئیوں کو اُس سے حسد ہو گیا۔ لیکن یوسف کا باپ ان خوابوں کے بارے میں گہرائی سے غور وفکر کر نے لگے۔

12 ایک دن یوسف کے بھا ئی اپنے باپ کی بھیڑ بکریاں چَرانے کے لئے سکم کو گئے۔ 13 اسرائیل (یعقوب ) نے یوسف سے کہا کہ سکم کو چلا جا ، کیوں کہ وہاں تیرے بھا ئی میری بھیڑ بکریوں کو چرا رہے ہیں۔

یوسف نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں۔

14-15 اسرائیل نے کہا کہ تیرے بھا ئیوں اور بھیڑ بکریوں کی خیریت دریافت کر کے آ اور مجھے سُنا ، اِس طرح اُس نے اُس کو حبرون کی وا دی سے سکم کو بھیج دیا۔ سکم میں یوسُف کو راستہ بھٹکتے کھیتوں میں گھو متے پھر تے ہو ئے کسی نے دیکھ لیا ، اور پو چھا کہ کیا ڈھونڈ رہا ہے ؟

16 یو سف نے کہا کہ میں اپنے بھا ئیوں کی تلا ش میں ہوں۔ اور اُس سے پو چھا کہ وہ اپنی بھیڑ بکریوں کو کہاں چرا رہے ہیں؟

17 اِس پر اُس نے اُس کو جواب دیا کہ وہ یہاں سے چلے گئے ہیں۔ اور میں نے اُن کو یہ کہتے سُنا ہے کہ چلو ہم دوتان کو چلیں گے۔ جس کی وجہ سے یوسف اُن کو ڈھونڈ تے ہو ئے دوتان کو گیا اور وہاں پر اُن کو دیکھا۔

یوسف کو غلامی کے لئے بیچا گیا

18 یوسف کے بھا ئیوں نے یو سف کو دور سے آتے ہو ئے دیکھا۔ اور پھر اُن لو گوں نے اُس کو قتل کر نے کی ایک تدبیر سوچی۔ 19 وہ آپس میں کہنے لگے کہ وہ دیکھو خوابوں کا دیکھنے وا لا یوسف یہاں پر آرہا ہے۔ 20 اُنہوں نے آپس میں گفتگو کی کہ اُس کو قتل کر نے کا یہی ایک مناسب و موزوں وقت ہے۔ اُس کو قتل کر کے ایک خشک کنویں میں ڈھکیل دیں گے۔ اور ہم اپنے باپ سے یہ کہدیں گے کہ ایک خونخوار درندے اُس کو پھاڑ کر کھا گیا۔ اور آپس میں یہ کہنے لگے کہ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح اُس کے سارے خواب پو رے ہو نگے۔

21 لیکن روبن اس کی مدد کرنا چاہا اس لئے اس نے ان لوگوں سے کہا ، “اُس کو قتل نہ کرو۔ 22 اور اُنسے کہا ، اس کا خون مت بہاؤ۔ اسے خشک کنواں میں ڈھکیل دو ، لیکن اُسے تکلیف نہ دو۔” اس نے ارادہ کیا کہ یوسف کو کنواں سے نکال کر اسے اس کے باپ کے حوالے کر دیں گے۔ 23 جب یو سف آیا تو اُس کے بھا ئیوں نے اس کو پکڑ لیا اور اُس کے عبا کو پھاڑ ڈا لے۔ 24 اور سوکھے ہو ئے کنویں میں اُس کو ڈھکیل دیا۔

25 جب یو سف کنویں میں تھا تو ، اُس کے بھا ئی کھانا کھا نے بیٹھ گئے۔ جب وہ آنکھ اُٹھا کر دیکھے تو جلعاد سے مصر کو اسمٰعیلی تاجروں کا ایک قافلہ جا رہا ہے۔اُن کے اُونٹ مختلف قسم کے خوشبودار مصالحے اور قیمتی اشیاء سے لدے جا رہے تھے۔ 26-27 تب یہوداہ نے اپنے بھا ئیوں سے کہا کہ اگر ہم اپنے بھا ئی کوقتل کر کے اُس کی موت کو چھپا ئیں تو ہمیں کیا فا ئدہ ہو گا ؟ اگر ہم ان اسمٰعیلی تا جروں کے ہا تھوں اُسے بیچ دیں تو ہمیں کچھ زیادہ ہی فائدہ ہو گا۔ اور کہا کہ ہمارے بھا ئی کے قتل کے الزام کا گناہ بھی ہمارے سر نہ ہو گا۔ چونکہ وہ ہما را بھا ئی ہے۔ تمام بھا ئیوں نے اُسے مان لیا۔ 28 جب مدیان کے کچھ تاجر وہاں قریب پہنچے تو بھا ئیوں نے یوسف کو کنویں سے نکا لا اور اسے اسمٰعیلی تاجروں کو بیس چاندی کے سکّہ میں بیچ دیا۔ تب تاجر لوگ یوسف کومصر لے گئے۔

29 جب روبن کنویں کے پاس واپس لوٹ کر آیا تو یوسف کو وہاں نہ پایا تو وہ افسوس کر تے ہو ئے اپنے کپڑے پھا ڑ لئے۔ 30 روبن اپنے بھا ئیوں کے پاس جا کر کہا کہ لڑ کا کنویں میں نہیں ہے۔ اور اب میں کیا کروں؟ 31 تب اُنہوں نے ایک بکری کو ذبح کیا اور بکری کے خون کو یوسف کے خوبصورت جبّہ پر ڈال دیا۔ 32 پھر اُنہوں نے اُس جُبّہ کو اپنے باپ کے پاس ایک پیغام کے ساتھ بھیج دیا کہ انہوں نے یہ جُبّہ پا یا ہے اور دریافت کیا یہ یوسف ہی کا جُبّہ ہے ؟

33 باپ نے اُس جُبّہ کو دیکھ کر اُس کی شناخت کر لی اور کہا ، “ہاں یہ یوسف ہی کا ہے۔” کو ئی جنگلی جانور اُس کو کھا گیا ہے۔ 34 ما رے غم کے اپنے کپڑوں کو پھا ڑ لیا اور ٹا ٹ اوڑھ لیا اور بہت دنوں تک غم میں ڈوبا رہا۔ 35 یعقوب کے بیٹے اور بیٹیاں اسے تسّلی دینے کی کو شش کی لیکن اسے تسّلی نہ ہو ئی۔ یعقوب نے کہا ، “مجھے اپنے بیٹے کا میری موت تک افسوس رہے گا۔” اس لئے اس نے ما تم کرنا جا ری رکھا۔

36 مدیان کے تاجروں نے یوسف کو مصر میں بیچ دیئے۔ ان لوگوں نے اُس کو فرعون کے محافظین کے سردار فوطیفار کو فروخت کر دیا۔

یہوداہ اور تمر

38 اُس زمانے میں یہوداہ اپنے بھا ئیوں کو چھو ڑ کر حیرہ کے پا س زندگی گذارنے کے لئے چلا گیا۔ اور حیرہ عد لام گاؤں کا تھا۔ یہوداہ نے وہاں پر کنعان کی ایک لڑکی کو دیکھ کر اُ س سے شادی کی۔ اور اُس لڑکی کے باپ کا نام سُوع تھا۔ وہ ایک بچہ کو جنم دی۔ اُنہوں نے اُس کو عیر کانام دیا۔ اُس کے بعد اُس نے پھر ایک اور بچہ کو جنم دیا۔ اُنہوں نے اُس بچہ کا نام اونان رکھا۔ جب اُس کو تیسرا بچہ پیدا ہوا تو وہ اُس کا نام سیلہ رکھا۔ جب وہ بچہ پیدا ہوا تو یعقوب ، کزیب میں سکونت پذیر تھا۔

یہوداہ نے اپنے پہلو ٹھے بیٹے عیر کے لئے ایک دوشیزہ کا انتخاب کر لیا جس کا نام تمر تھا۔ لیکن عیر بہت سی بدکاریوں میں مبتلا ہو نے کی وجہ سے خداوند نے اُس کو مار دیا۔ تب یہوداہ نے عیر کے بھا ئی اونان سے کہا کہ جا ، اور تیری بیوہ بھا بھی کے لئے تو بحیثیت شوہر بن۔ مزید کہا کہ تجھ سے اُس کو پیدا ہو نے وا لی اولاد تیرے بھا ئی عیر کی اولا د کہلا ئے گی۔

تمر سے پیدا ہو نے وا لی اپنی اولاد ، اپنی نہ ہو نے کی بات اُونان کو معلوم تھی جس کی وجہ سے وہ اُس سے ہمبستر ہو نے کے با وجود بھی نطفہ کو (رحم میں داخل ہو ئے بغیر) با ہر زمین پر گراتا تھا۔ 10 یہ بات خداوند کی نظر میں بُری تھی، جس کی وجہ سے اُس نے اونان کو بھی مار دیا۔ 11 تب یہوداہ نے اپنی بہو تمر سے کہا ، “تو اپنے میکے جا اور وہیں پر رہ۔” لیکن یہ بھی کہا کہ میرے بیٹے سیلہ کے با لغ ہو نے تک کسی سے شادی نہ کرنا اور یہوداہ اس بات کو سوچ کر ڈرا ہوا تھا کہ سیلہ بھی اپنے بڑے بھا ئی کی طرح مر جا ئے گا۔ جس کی وجہ سے تمر اپنے میکے چلی گئی۔

12 ایک عرصہ بعد یہوداہ کی بیوی ، سُوع کی بیٹی فوت ہو گئی۔ یہوداہ پر ماتم کے دن گذرجانے کے بعد، اپنے عدلامی دوست حیرہ کے ساتھ اپنی بھیڑوں کے بال کتروانے کے لئے تِمنا گاؤں کو گیا۔ 13 کسی شخص نے تمر کو کہا کہ اس کا خسر اپنے بھیڑوں کا اُون کاٹنے کے لئے تمنا چلا گیا ہے۔ 14 تمر ہمیشہ بیوگی کے کپڑے ہی پہنا کر تی تھی۔ لیکن اب وہ دوسرے ہی کپڑے پہن کر اور اپنے چہرے پر نقاب ڈال کر تِمنا کے قریب واقع عینیم کے راستے پر بیٹھ گئی۔ تب تک یہوداہ کے بیٹے سیلہ کے جوان ہو نے کا علم تمر کو ہو چکا تھا۔ لیکن یہوداہ اس کی شادی اپنے بیٹے سے کروا نے پر غور نہیں کر رہا تھا۔

15 یہوداہ جب اس راستے پر سفر کر رہا تھا تو اُس کو دیکھا اور سمجھا کہ کو ئی فاحشہ عورت ہے۔( کیوں کہ وہ فاحشہ عورت کی طرح اپنے مُنہ پر نقاب ڈال لی تھی ) 16 جس کی وجہ سے یہوداہ اُس کے قریب جا کر اُس سے پو چھا ، “برائے مہربانی مجھے اپنے ساتھ مباشرت کر نے دے۔”( یہوداہ کو اس بات کا علم نہ تھا کہ وہ اس کی بہو تمر ہے ) اُس نے اِس سے پو چھا، “توُ مجھے کیا دیگا ؟”

17 یہوداہ نے جواب دیا ، “میں تجھے اپنے ریوڑ سے ایک بھیڑ کے بچے کو بھیج دوں گا۔

اُس نے کہا ، “ٹھیک ہے لیکن پہلے تو بکری کا بچہ بھیجنے تک مجھے کچھ رکھنے کے لئے دے۔

18 تب یہوداہ نے پوچھا ، “تو کیا چاہتی ہے کہ میں تجھے دوں؟”

تمر نے جواب دیا ، “تیری وہ مُہر جو تو خطوط پر لگاتا ہے اور اُس کا دھا گہ اور اپنی لا ٹھی بھی دیدے۔ یہوداہ نے اُن تمام چیزوں کو اُسے دیدیا۔ یہوداہ اُس سے مباشرت کیا۔ اور وہ حاملہ ہو ئی۔ 19 تمر گھر گئی اور چہرے سے نقاب اٹھا ئی اور پھر بیوگی کے کپڑے پہن لی۔

20 یہوداہ ایک بھیڑ کا بچہ اپنے دوست حیرہ کے ذریعے عینیم کو بھیج دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ مُہر اور لا ٹھی بھی اس سے واپس لا نا۔ لیکن وہ اسے نہ پا سکا۔ 21 اس نے عینیم گاؤں کے چند لوگوں سے پو چھا ، “وہ ہیکل وا لی فاحشہ عورت کہا ں ہے جو راستے کے کنا ر ے بیٹھی تھی۔

اِس پر انہوں نے جواب دیا کہ یہاں کو ئی ایسی ہیکل وا لی فاحشہ عورت نہیں رہتی ہے۔”

22 اِسوجہ سے وہ یہوداہ کے پاس واپس آکر کہا کہ مجھے اُس فاحشہ عورت کا سر اغ نہ ملا۔ اور اس نے یہ بھی بتا یا ، “وہاں کے مردوں نے مجھ سے کہا کہ یہاں کو ئی ہیکل وا لی فاحشہ عورت نہیں رہتی۔”

23 اُس بات پر یہوداہ نے کہا ، “وہ اُن چیزوں کو اپنے پاس ہی رکھ لے۔ اور لوگوں کا ہم کو دیکھ کر ہنسنا مجھے پسند نہیں حالانکہ میں نے اُس کو بھیڑ دینے کی کوشش کی تھی۔

تمر کا حاملہ ہو نا

24 تین ماہ گذرنے کے بعد کسی نے یہوداہ کو واقف کرایا کہ تیری بہو تمر حرامکا ری کے ذریعے حاملہ ہو ئی ہے۔ تب یہوداہ نے کہا کہ اُس کو گھسیٹ کر لے جا ؤ اور جلا دو۔

25 وہ سارے مرد تمر کو قتل کر نے کے لئے اُس کے پاس گئے۔ لیکن اُس نے خسر سے یہ پیغام کہہ کر بھیجا ، “ان چیزوں کو دیکھو اور مجھے بتا کہ یہ سب چیزیں کس کی ہیں؟ یہ مُہر اور یہ دھا گہ اور یہ لاٹھی۔ ان ساری چیزوں کا مالک جو ہے اس نے ہی مجھے حاملہ کیا ہے۔ کس کا ہے ؟”

26 یہوداہ نے اُن اشیاء کی شناخت کر لی۔ اور وہ جو کچھ کہہ رہی ہے صحیح ہے لیکن میں نے ہی غلطی کی ہے۔ اور کہا کہ میرے وعدے کے مطا بق میرا بیٹا سیلہ اس کو دینا چاہئے تھا۔ لیکن یہوداہ اُس کے بعد پھر اُس کے ساتھ ہم بستر نہ ہوا۔

27 تمر کے لئے وضع حمل کے دن قریب ہو ئے۔ اور دایہ نے یہ محسوس کیا کہ اُس کے دو بچے ہو نے وا لے ہیں۔ 28 جب اُسے وضع حمل ہورہا تھا تو ایک بچے نے اپنا ہاتھ آگے باہر بڑھا یا تو دایہ نے اُس بچے کے ہا تھ کو سُرخ دھا گہ باندھا اور کہا کہ یہ پہلا ہے۔ 29 لیکن اُس بچے نے اپنا ہاتھ پیچھے کی طرف کھینچ لیا۔ تب پھر دوسرا بچہ پہلے پیدا ہوا۔ جس کی وجہ سے دائی نے کہا ، “توُ نے با ہر آنے کے لئے اپنے آپ کے لئے جگہ بنا ئی۔” جس کی وجہ سے انہوں نے اُس بچے کا نام“فارص ” رکھا۔ 30 پھر اُس کے بعد دوسرا بچہ دنیا میں آیا۔ اس بچے کے ہا تھ میں سُرخ دھا گہ تھا۔ جس کی وجہ انہوں نے اُسے “زراح” کا نام دیا۔

مصر میں یوسف کا فوطیفار کو بیچا جانا

39 یوسف کو خریدنے وا لے اسمٰعیلی اُس کو مصر میں لا ئے اور اُس کو فرعون کے محافظین کے سردار فوطیفار کو بیچ دیا۔ لیکن خداوند کی مدد اور نصرت سے یوسف ترقی کر تا گیا۔ وہ اپنے مصری مالک فوطیفار کے گھر قیام کیا۔

خدا وند کا یوسف کے ساتھ رہکر اُس کو ہر کام میں کامیابی کے ساتھ سر انجام دلا نے کی تائید کو فوطیفار نے محسوس کیا۔ فوطیفار ، یو سف کے بارے میں بہت مطمئن تھا اور اُس کو ایک خاص خادم کی حیثیت دیدی۔ اور گھر کے سارے مسائل و ضروریات کے حل کے لئے اُس کو مختار کا درجہ دیا۔اور اپنی ساری جائیداد کی نگرانی کے لئے اُس کو مختار اعلیٰ بنا لیا۔ فو طیفار نے جب یوسف کو گھر کا مختار اور جائیداد کا ایک ذمّہ دار بنایا تو خدا وند نے فوطیفار کا گھر بار اُس کی فصلوں اور اُس کی جائیداد میں خیر و بر کت ڈال دی۔ اس لئے فوطیفار نے ہر قسم کی ذمّہ داری یوسف کو سونپ دی اور سوائے اپنے کھا نے پینے کے کسی اور چیز سے تعلق نہ رکھا۔

یوسف کا فوطیفار کی بیوی کو انکار کر نا

یوسف بہت خوبصورت اور دیکھنے میں بہت اچھا تھا۔

ان باتوں کے بعد یوں ہوا کہ یوسف کے مالک کی بیوی نے یوسف پر نگاہ ڈا لی اور کہی ، “آؤ اور میرے ساتھ ہمبستری کرو۔”

لیکن یوسف نے اس بات سے انکار کیا۔ اور اس نے ان سے کہا کہ میرا مالک تو گھر کی ساری ذمّے داریاں میرے سپرد کر خُود بے فکر ہو گئے ہیں۔ میرا مالک تو اپنے گھر کی تمام تر ذمّے داریاں مجھے سونپ دینے کے با وجود بھی اپنی عزیز اور چہیتی بیوی آپ کو میرے حوالے نہیں کیا ہے۔ اور پھر جواب دیا کہ ایسی صورت میں ایسا بڑا گناہ کر کے میں خدا کو کیسے ناراض کروں۔

10 وہ عورت روزانہ اسے تنگ کر نے لگی۔ لیکن یوسف اس سے ہم بستری کر نے سے انکار کر تا رہا۔ 11 ایک دن یوسف اپنے کسی کام سے گھر میں چلا گیا۔ اس وقت اس گھر میں صرف وہی اکیلا ایک آدمی تھا۔ 12 اُس کے مالک کی بیوی اُس کے جبّہ کو پکڑ لی اور کہنے لگی کہ آجا اور میرے ساتھ ہم بستری کر۔ فوراً یوسف اپنے جبّہ کو وہیں پر چھو ڑ کر بھاگ گئے۔

13 جب اس عورت نے دیکھا کہ یوسف اپنا جبّہ اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر گھر سے باہر بھاگ گئے تو۔ 14 وہ گھر کے باہر جو نو کر تھے اُن کو بلوائی ،اور کہی ، “دیکھو ہمیں ذلیل و رُسوا کر نے کے لئے اِس عبرانی غلام کو یہاں لا یا گیا تھا۔ وہ میرے پاس مجھ سے ہم بستری کر نے آیا تھا لیکن میں زور زور سے چیخ و پکار لگا ئی۔ 15 میری چیخ و پکار سے خوف زدہ ہو کر وہ اپنے جبّہ ہی کو چھو ڑ کر بھاگ گیا۔ 16 اُس نے اُس جبّہ کو اپنے شوہر اور یو سف کا ما لک فوطیفار کے آنے تک رکھا تھا۔ 17 جب اُس کا شو ہر آیا تو ، اس نے اسی طرح کہنے لگی کہ تو نے جس عبرا نی نو کر کو اپنے پاس رکھا ہے ، اُس نے تو مجھ پر جبراً عزت لوٹنے کے لئے حملہ کیا۔ 18 اُس نے کہا کہ جیسے ہی میں زور زور سے چلّا نے لگی تو وہ اپنے جبّہ ہی کو چھو ڑ کر بھا گ گیا۔

یو سف کو قید کی سزا

19 یو سف کا مالک اپنی بیوی کی باتیں سُن کر بہت غُصّہ ہوا۔ 20 بادشاہ کے دُشمنوں کی سزا کے لئے ایک قید خا نہ بنایا گیا تھا۔ اور فوطیفار نے یوسف کو اُسی قید خا نے میں ڈلوادیا۔ اُس دن سے یو سف وہیں پر رہا۔

21 لیکن خدا وند نے یوسف کے ساتھ رہ کر اُس کے ساتھ کرم و عنایت کی۔ چند دن گزر نے کے بعد جیل کا داروغہ یو سف کو چاہنے لگا۔ 22 اُس نے تمام قیدیوں کو یو سف کی تحویل میں دیدیا۔وہاں پر جو کُچھ بھی کر نا ہو تا یو سف ہی اُس کو کر واتا۔ 23 محافظوں کے سردار نے یو سف نے جو کیا تھا اس پر کچھ بھی دھیان نہ دیا۔ خدا وند یو سف کے ساتھ اور اسکے سارے کا موں کو کا میابی سے کر وا رہا تھا۔

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾ اُردو
اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[12:2]   

الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۟﴿۲﴾ اُردو
اَنَا اللّٰہُ اَرٰی: میں اللہ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں۔ یہ ایک کھلی کھلی کتاب کی آیات ہیں۔

[12:3]   

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۳﴾ اُردو
یقیناً ہم نے اسے عربی قرآن کے طور پر نازل کیا تاکہ تم عقل کرو۔

[12:4]   

نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ بِمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ ٭ۖ وَ اِنۡ کُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِہٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۴﴾ اُردو
ہم نے جو یہ قرآن تجھ پر وحی کیا اس کے ذریعہ ہم تیرے سامنے ثابت شدہ تاریخی حقائق میں سے بہترین بیان کرتے ہیں جبکہ اس سے پہلے (اس بارہ میں) تُو غافلوں میں سے تھا۔

[12:5]   

اِذۡ قَالَ یُوۡسُفُ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ رَاَیۡتُ اَحَدَعَشَرَ کَوۡکَبًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ رَاَیۡتُہُمۡ لِیۡ سٰجِدِیۡنَ ﴿۵﴾ اُردو
(یاد کرو) جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! یقیناً میں نے (رؤیا میں) گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں۔ (اور) میں نے انہیں اپنے لئے سجدہ ریز دیکھا۔

[12:6]   

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡیَاکَ عَلٰۤی اِخۡوَتِکَ فَیَکِیۡدُوۡا لَکَ کَیۡدًا ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۶﴾ اُردو
اس نے کہا اے میرے پیارے بیٹے! اپنی رؤیا اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی چال چلیں گے۔ یقیناً شیطان انسان کا کھلاکھلا دشمن ہے۔

[12:7]   

وَ کَذٰلِکَ یَجۡتَبِیۡکَ رَبُّکَ وَ یُعَلِّمُکَ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ وَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اٰلِ یَعۡقُوۡبَ کَمَاۤ اَتَمَّہَا عَلٰۤی اَبَوَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ٪﴿۷﴾ اُردو
اور اسی طرح تیرا ربّ تجھے (اپنے لئے) چُن لے گا اور تجھے معاملات کی تہ تک پہنچنے کا علم سکھادے گا اور اپنی نعمت تجھ پر تمام کرے گا اور آلِ یعقوب پر بھی جیسا کہ اس نے اُسے تیرے باپ دادا اِبراہیم اور اسحاق پر پہلے تمام کیا تھا۔ یقیناً تیرا ربّ دائمی علم رکھنے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[12:8]   

لَقَدۡ کَانَ فِیۡ یُوۡسُفَ وَ اِخۡوَتِہٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیۡنَ ﴿۸﴾ اُردو
یقیناً یوسف اور اس کے بھائیوں (کے واقعہ) میں پوچھنے والوں کے لئے کئی نشانات ہیں۔

[12:9]   

اِذۡ قَالُوۡا لَیُوۡسُفُ وَ اَخُوۡہُ اَحَبُّ اِلٰۤی اَبِیۡنَا مِنَّا وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنِ ۣ ۚ﴿ۖ۹﴾ اُردو
(یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ یقیناً یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک مضبوط ٹولی ہیں۔ یقیناً ہمارا باپ ایک ظاہر و باہر غلطی میں مبتلا ہے۔

[12:10]   

اقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡہُ اَرۡضًا یَّخۡلُ لَکُمۡ وَجۡہُ اَبِیۡکُمۡ وَ تَکُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ قَوۡمًا صٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰﴾ اُردو
یوسف کو قتل کر ڈالو یا اُسے کسی جگہ پھینک آؤ تو تمہارے باپ کی توجہ صرف تمہارے لئے رہ جائے گی اور تم اس کے بعد نیک لوگ بن جانا۔

[12:11]   

قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ وَ اَلۡقُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ یَلۡتَقِطۡہُ بَعۡضُ السَّیَّارَۃِ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۱﴾ اُردو
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ اُسے کسی کنویں کی اوجھل تہوں میں پھینک دو جو چراگاہ کے پاس واقع ہو۔ اسے کوئی قافلہ اٹھا لے جائے گا۔ (یہی کرو) اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔

[12:12]   

قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مَا لَکَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰی یُوۡسُفَ وَ اِنَّا لَہٗ لَنٰصِحُوۡنَ ﴿۱۲﴾ اُردو
انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! تجھے کیا ہوا ہے کہ تو یوسف کے بارہ میں ہم پر اعتماد نہیں کرتا جبکہ ہم تو یقیناً اس کے خیر خواہ ہیں۔

[12:13]   

اَرۡسِلۡہُ مَعَنَا غَدًا یَّرۡتَعۡ وَ یَلۡعَبۡ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۱۳﴾ اُردو
اسے کل ہمارے ساتھ بھیج دے تا وہ کھاتا پھرے اور کھیلے جبکہ ہم اس کے یقیناً محافظ ہوں گے۔

[12:14]   

قَالَ اِنِّیۡ لَیَحۡزُنُنِیۡۤ اَنۡ تَذۡہَبُوۡا بِہٖ وَ اَخَافُ اَنۡ یَّاۡکُلَہُ الذِّئۡبُ وَ اَنۡتُمۡ عَنۡہُ غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۴﴾ اُردو
اس نے کہا یقیناً مجھے یہ بات فکر میں ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھا جائے جبکہ تم اس سے غافل ہو۔

[12:15]   

قَالُوۡا لَئِنۡ اَکَلَہُ الذِّئۡبُ وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۵﴾ اُردو
انہوں نے کہا اگر اسے بھیڑیا کھا جائے جبکہ ہم ایک مضبوط ٹولی ہیں تب تو ہم یقیناً بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔

[12:16]   

فَلَمَّا ذَہَبُوۡا بِہٖ وَ اَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ یَّجۡعَلُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ ۚ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ لَتُنَبِّئَنَّہُمۡ بِاَمۡرِہِمۡ ہٰذَا وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۶﴾ اُردو
پس جب وہ اسے لے گئے اور اس بات پر متفق ہوگئے کہ اسے ایسے کنویں کی اوجھل تہوں میں پھینک دیں جو چراہ گاہ کے پاس واقع تھا تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تُو (ایک دن) یقیناً انہیں ان کی اس کارستانی سے آگاہ کرے گا اور انہیں کچھ پتہ نہ ہو گا (کہ تُو کون ہے)۔

[12:17]   

وَ جَآءُوۡۤ اَبَاہُمۡ عِشَآءً یَّبۡکُوۡنَ ؕ﴿۱۷﴾ اُردو
اور رات کے وقت وہ اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔

[12:18]   

قَالُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَہَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَ تَرَکۡنَا یُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئۡبُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَ لَوۡ کُنَّا صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۸﴾ اُردو
انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! یقیناً ہم ایک دوسرے سے دوڑ لگاتے ہوئے (دُور) چلے گئے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا پس اسے بھیڑیا کھا گیااور توُکبھی ہماری ماننے والا نہیں خواہ ہم سچے ہی ہوں۔

[12:19]   

وَ جَآءُوۡ عَلٰی قَمِیۡصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ وَ اللّٰہُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۹﴾ اُردو
اور وہ اس کی قمیص پر جھوٹا خون لگا لائے۔ اس نے کہا بلکہ تمہارے نفوس نے ایک بہت سنگین بات تمہارے لئے معمولی اور آسان بنا دی ہے۔ پس صبرجمیل(کے سوا میں کیا کر سکتا ہوں) اور اللہ ہی ہے جس سے اس (بات) پر مدد مانگی جائے جو تم بیان کرتے ہو۔

[12:20]   

وَ جَآءَتۡ سَیَّارَۃٌ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَہُمۡ فَاَدۡلٰی دَلۡوَہٗ ؕ قَالَ یٰبُشۡرٰی ہٰذَا غُلٰمٌ ؕ وَ اَسَرُّوۡہُ بِضَاعَۃً ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۰﴾ اُردو
اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنا پانی نکالنے والا بھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈال دیا۔ اس نے کہا اے (قافلہ والو) خوشخبری! یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے ایک پونجی کے طور پر چھپا لیا اور اللہ اسے خوب جانتا تھا جو وہ کرتے تھے۔

[12:21]   

وَ شَرَوۡہُ بِثَمَنٍۭ بَخۡسٍ دَرَاہِمَ مَعۡدُوۡدَۃٍ ۚ وَ کَانُوۡا فِیۡہِ مِنَ الزَّاہِدِیۡنَ ﴿٪۲۱﴾ اُردو
اور انہوں نے اسے معمولی قیمت چند دراہم کے عوض فروخت کر دیا اور وہ اس کے بارہ میں بالکل بے رغبت تھے۔

[12:22]   

وَ قَالَ الَّذِی اشۡتَرٰٮہُ مِنۡ مِّصۡرَ لِامۡرَاَتِہٖۤ اَکۡرِمِیۡ مَثۡوٰٮہُ عَسٰۤی اَنۡ یَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا ؕ وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ وَ لِنُعَلِّمَہٗ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ؕ وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمۡرِہٖ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾ اُردو
اور جس نے اُسے مصرسے خریدا اپنی بیوی سے کہا اسے عزت کے ساتھ ٹھہراؤ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ اور اس طریقہ سے ہم نے یوسف کے لئے زمین میں جگہ بنادی اور (یہ خاص انتظام اس لئے کیا) تاکہ ہم اسے معاملات کی تہہ تک پہنچنے کا علم سکھا دیں اور اللہ اپنے فیصلہ پر غالب رہتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔


[12:23]   

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗۤ اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۲۳﴾ اُردو
اور جب وہ اپنی مضبوطی کی عمر کو پہنچا تو اسے ہم نے حکمت اور علم عطا کئے اور اسی طرح ہم احسان کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔


[12:24]   

وَ رَاوَدَتۡہُ الَّتِیۡ ہُوَ فِیۡ بَیۡتِہَا عَنۡ نَّفۡسِہٖ وَ غَلَّقَتِ الۡاَبۡوَابَ وَ قَالَتۡ ہَیۡتَ لَکَ ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اِنَّہٗ رَبِّیۡۤ اَحۡسَنَ مَثۡوَایَ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۴﴾ اُردو
اور اُس عورت نے جس کے گھر میں وہ تھا اسے اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانے کی کوشش کی اور دروازے بند کر دیئے اور کہا تم میری طرف آؤ۔ اس (یوسف) نے کہا خدا کی پناہ! یقیناً میرا ربّ وہ ہے جس نے میرا ٹھکانا بہت اچھا بنایا۔ یقیناً ظالم کامیاب نہیں ہوا کرتے۔


[12:25]   

وَ لَقَدۡ ہَمَّتۡ بِہٖ ۚ وَ ہَمَّ بِہَا لَوۡ لَاۤ اَنۡ رَّاٰ بُرۡہَانَ رَبِّہٖ ؕ کَذٰلِکَ لِنَصۡرِفَ عَنۡہُ السُّوۡٓءَ وَ الۡفَحۡشَآءَ ؕ اِنَّہٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۲۵﴾ اُردو
اور یقیناً وہ اس کا پختہ ارادہ کرچکی تھی اور وہ (یعنی یوسف) بھی اس کا ارادہ کرلیتا اگر اپنے ربّ کی ایک عظیم بُرہان نہ دیکھ چکا ہوتا۔ یہ طریق اس لئے اختیار کیا تا کہ ہم اس سے بدی اور فحشاءکو دور رکھیں۔ یقیناً وہ ہمارے خالص کئے گئے بندوں میں سے تھا۔

[12:26]   

وَ اسۡتَبَقَا الۡبَابَ وَ قَدَّتۡ قَمِیۡصَہٗ مِنۡ دُبُرٍ وَّ اَلۡفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الۡبَابِ ؕ قَالَتۡ مَا جَزَآءُ مَنۡ اَرَادَ بِاَہۡلِکَ سُوۡٓءًا اِلَّاۤ اَنۡ یُّسۡجَنَ اَوۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۶﴾ اُردو
اور وہ دونوں دروازے کی طرف لپکے اور اس (عورت) نے پیچھے سے (اُسے کھینچتے ہوئے) اس کی قمیص پھاڑ دی اور ان دونوں نے اس کے سرتاج کو دروازے کے پاس پایا۔اُس (عورت) نے کہا جو تیرے گھر والی سے بدی کا ارادہ کرے اس کی جزا قید کئے جانے یا درد ناک عذاب کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔

[12:27]   

قَالَ ہِیَ رَاوَدَتۡنِیۡ عَنۡ نَّفۡسِیۡ وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَ ہُوَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۲۷﴾ اُردو
اس (یعنی یوسف) نے کہا اِسی نے مجھے میرے نفس کے بارہ میں پھسلانے کی کوشش کی تھی۔ اور اس کے گھر والوں ہی میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر اُس کی قمیص سامنے سے پھٹی ہوئی ہے تو یہی سچ کہتی ہے اور وہ جھوٹوں میں سے ہے۔

[12:28]   

وَ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَکَذَبَتۡ وَ ہُوَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۸﴾ اُردو
اور اگر اُس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو یہ جھوٹ بول رہی ہے اوروہ سچوں میں سے ہے۔

[12:29]   

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیۡصَہٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنۡ کَیۡدِکُنَّ ؕ اِنَّ کَیۡدَکُنَّ عَظِیۡمٌ ﴿۲۹﴾ اُردو
پس جب اس نے اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی دیکھی تو (بیوی سے) کہا یقیناً یہ (واقعہ) تمہاری چالبازی سے ہوا۔ یقیناً تمہاری چالبازی (اے عورتو!) بہت بڑی ہوتی ہے۔

[12:30]   

یُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ ہٰذَا ٜ وَ اسۡتَغۡفِرِیۡ لِذَنۡۢبِکِ ۚۖ اِنَّکِ کُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِئِیۡنَ ﴿٪۳۰﴾ اُردو
اے یوسف! اس سے اِعراض کر اور تُو (اے عورت!) اپنے گناہ کی وجہ سے استغفار کر۔ یقیناً تُو ہی ہے جو خطاکاروں میں سے تھی۔

[12:31]   

وَ قَالَ نِسۡوَۃٌ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ امۡرَاَتُ الۡعَزِیۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰٮہَا عَنۡ نَّفۡسِہٖ ۚ قَدۡ شَغَفَہَا حُبًّا ؕ اِنَّا لَنَرٰٮہَا فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۱﴾ اُردو
اور شہر کی عورتوں نے کہا کہ سردار کی بیوی اپنے غلام کو اس کے نفس کے بارہ میں پھسلاتی ہے۔ اس نے محبت کے اعتبار سے اس کے دل میں گھر کر لیا ہے۔ یقیناً ہم اسے ضرور ایک کھلی کھلی گمراہی میں پاتی ہیں۔

[12:32]   

فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَکۡرِہِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَیۡہِنَّ وَ اَعۡتَدَتۡ لَہُنَّ مُتَّکَاً وَّ اٰتَتۡ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِّنۡہُنَّ سِکِّیۡنًا وَّ قَالَتِ اخۡرُجۡ عَلَیۡہِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَیۡنَہٗۤ اَکۡبَرۡنَہٗ وَ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ وَ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا ہٰذَا بَشَرًا ؕ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا مَلَکٌ کَرِیۡمٌ ﴿۳۲﴾ اُردو
پس جب اُس نے اُن کی مکّاری کی بات سنی تو اُنہیں بُلا بھیجا اور اُن کے لئے ایک ٹیک لگاکر بیٹھنے کی جگہ تیار کی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری پکڑا دی اور اس(یعنی یوسف) سے کہا کہ ان کے سامنے جا۔ پس جب انہوں نے اسے دیکھا اسے بہت عالی مرتبہ پایا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور کہا پاک ہے اللہ۔ یہ انسان نہیں۔ یہ تو ایک معزز فرشتہ کے سوا کچھ نہیں۔

[12:33]   

قَالَتۡ فَذٰلِکُنَّ الَّذِیۡ لُمۡتُنَّنِیۡ فِیۡہِ ؕ وَ لَقَدۡ رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ فَاسۡتَعۡصَمَ ؕ وَ لَئِنۡ لَّمۡ یَفۡعَلۡ مَاۤ اٰمُرُہٗ لَیُسۡجَنَنَّ وَ لَیَکُوۡنًا مِّنَ الصّٰغِرِیۡنَ ﴿۳۳﴾ اُردو
وہ بولی یہی وہ شخص ہے جس کے بارہ میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور یقیناً میں نے اسے اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانے کی کوشش کی تو وہ بچ گیا اور اگر اس نے وہ نہ کیا جو مَیں اسے حکم دیتی ہوں تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور ضرور ذلیل لوگوں میں سے ہو جائے گا۔

[12:34]   

قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ ۚ وَ اِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّیۡ کَیۡدَہُنَّ اَصۡبُ اِلَیۡہِنَّ وَ اَکُنۡ مِّنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۴﴾ اُردو
اس نے کہا اے میرے ربّ! قید خانہ مجھے زیادہ پیارا ہے اس سے جس کی طرف وہ مجھے بلاتی ہیں۔ اور اگر تُو مجھ سے اُن کی تدبیر (کا مُنہ) نہ پھیر دے تو میں ان کی طرف جھک جاؤں گا اور میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں گا۔

[12:35]   

فَاسۡتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنۡہُ کَیۡدَہُنَّ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۵﴾ اُردو
پس اس کے ربّ نے اُس کی دعا کو سنا اور اس سے ان کی چال کو پھیر دیا۔ یقیناً وہی بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔

[12:36]   

ثُمَّ بَدَا لَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰیٰتِ لَیَسۡجُنُنَّہٗ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿٪۳۶﴾ اُردو
پھر بعد اُس کے جو آثار انہوں نے دیکھے اُن پر ظاہر ہوا کہ کچھ عرصہ کے لئے اسے ضرور قیدخانہ میں ڈال دیں۔

[12:37]   

وَ دَخَلَ مَعَہُ السِّجۡنَ فَتَیٰنِ ؕ قَالَ اَحَدُہُمَاۤ اِنِّیۡۤ اَرٰٮنِیۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا ۚ وَ قَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّیۡۤ اَرٰٮنِیۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِیۡ خُبۡزًا تَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡہُ ؕ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ ۚ اِنَّا نَرٰٮکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۳۷﴾ اُردو
اور اس کے ساتھ قید خانہ میں دو نوجوان بھی داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ یقیناً میں (رؤیا میں) اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں شراب بنانے کی خاطر رَس نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں (رؤیا میں) اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں۔ ہمیں ان کی تعبیر سے مطلع کر۔ یقیناً ہم تجھے احسان کرنے والے لوگوں میں سے دیکھ رہے ہیں۔

[12:38]   

قَالَ لَا یَاۡتِیۡکُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِہٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُکُمَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمَا ؕ ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیۡ رَبِّیۡ ؕ اِنِّیۡ تَرَکۡتُ مِلَّۃَ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۸﴾ اُردو
اس نے کہا کہ تم دونوں تک وہ کھانا نہیں آئے گا جو تمہیں دیا جاتا ہے مگر میں تمہارے پاس اُس کے آنے سے پہلے ہی اِن (خوابوں) کی تعبیر سے تم دونوں کو مطلع کر چکا ہوں گا۔ یہ (تعبیر) اس (علم) میں سے ہے جو میرے ربّ نے مجھے سکھایا۔ یقیناً میں اس قوم کے مسلک کو چھوڑ بیٹھا ہوں جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے تھے اور وہ آخرت کا انکار کرتے تھے۔

[12:39]   

وَ اتَّبَعۡتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِکَ بِاللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ عَلَیۡنَا وَ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۹﴾ اُردو
اور میں نے اپنے آباءو اجداد ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔ ہمارے لئے ممکن نہ تھا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیزکو شریک ٹھہراتے۔ یہ اللہ کے فضل ہی سے تھا جو اس نے ہم پر اور (مومن) انسانوں پر کیا لیکن اکثر انسان شکر نہیں کرتے۔

[12:40]   

یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَیۡرٌ اَمِ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ؕ۴۰﴾ اُردو
اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! کیا کئی مختلف ربّ بہتر ہیں یا ایک صاحبِ جبروت اللہ ؟

[12:41]   

مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۱﴾ اُردو
تم اُس کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر ایسے ناموں کی جو تم نے اور تمہارے آباءو اجداد نے خود ہی اُن (فرضی خداؤں) کو دے رکھے ہیں جن کی تائید میں اللہ نے کوئی غالب آنے والی برہان نہیں اتاری۔ فیصلے کا اختیار اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا تم کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہ قائم رہنے والا اور قائم رکھنے والا دین ہے لیکن اکثر انسان نہیں جانتے۔

[12:42]   

یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُ کُمَا فَیَسۡقِیۡ رَبَّہٗ خَمۡرًا ۚ وَ اَمَّا الۡاٰخَرُ فَیُصۡلَبُ فَتَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡ رَّاۡسِہٖ ؕ قُضِیَ الۡاَمۡرُ الَّذِیۡ فِیۡہِ تَسۡتَفۡتِیٰنِ ﴿ؕ۴۲﴾ اُردو
اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! جہاں تک تم دونوں میں سے ایک کا تعلّق ہے تو وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے تو وہ سُولی پر چڑھایا جائے گا پس پرندے اس کے سر میں سے کچھ (نوچ نوچ کر) کھائیں گے۔ اُس بات کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے جس کے بارہ میں تم دونوں استفسار کر رہے تھے۔

[12:43]   

وَ قَالَ لِلَّذِیۡ ظَنَّ اَنَّہٗ نَاجٍ مِّنۡہُمَا اذۡکُرۡنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ ۫ فَاَنۡسٰہُ الشَّیۡطٰنُ ذِکۡرَ رَبِّہٖ فَلَبِثَ فِی السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِیۡنَ ﴿ؕ٪۴۳﴾ اُردو
اور اس نے اُس شخص سے جس کے متعلق خیال کیا تھا کہ ان دونوں میں سے وہ بچ جائے گا کہا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا مگر شیطان نے اُسے بھلا دیا کہ اپنے آقا کے پاس (یہ) ذکر کرے۔ پس وہ چند سال تک قید خانہ میں پڑا رہا۔

[12:44]   

وَ قَالَ الۡمَلِکُ اِنِّیۡۤ اَرٰی سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ؕ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡ رُءۡیَایَ اِنۡ کُنۡتُمۡ لِلرُّءۡیَا تَعۡبُرُوۡنَ ﴿۴۴﴾ اُردو
اور بادشاہ نے (دربار میں) بیان کیا کہ میں سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں جنہیں سات دُبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سرسبز بالیاں اور کچھ دوسری سوکھی ہوئی بھی (دیکھتا ہوں)۔ اے سردارو! مجھے میری رؤیا کے بارہ میں تعبیر سمجھاؤ اگر تم خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہو۔

[12:45]   

قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ ۚ وَ مَا نَحۡنُ بِتَاۡوِیۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِیۡنَ ﴿۴۵﴾ اُردو
انہوں نے کہا یہ پراگندہ خیالات پر مشتمل نفسانی خوابیں ہیں اور ہم نفسانی خوابوں کی تعبیر کا علم نہیں رکھتے۔

[12:46]   

وَ قَالَ الَّذِیۡ نَجَا مِنۡہُمَا وَ ادَّکَرَ بَعۡدَ اُمَّۃٍ اَنَا اُنَبِّئُکُمۡ بِتَاۡوِیۡلِہٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ ﴿۴۶﴾ اُردو
اور اس شخص نے جو اُن دونوں (قیدیوں) میں سے بچ گیا تھا اور ایک طویل مدت کے بعد اس نے (یوسف کو) یاد کیا، یہ کہا کہ میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا پس مجھے (یوسف کی طرف) بھیج دو۔

[12:47]   

یُوۡسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیۡقُ اَفۡتِنَا فِیۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّیۡۤ اَرۡجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾ اُردو
یوسف اے راستباز! ہمیں سات موٹی گائیوں کا جنہیں سات دُبلی گائیں کھا رہی ہوں اور سات سبز و شاداب بالیوں اور دوسری سوکھی ہوئی بالیوں کے بارہ میں مسئلہ سمجھا تاکہ میں لوگوں کی طرف واپس جاؤں شاید کہ وہ (اس کی تعبیر) معلوم کرلیں۔

[12:48]   

قَالَ تَزۡرَعُوۡنَ سَبۡعَ سِنِیۡنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدۡتُّمۡ فَذَرُوۡہُ فِیۡ سُنۡۢبُلِہٖۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۴۸﴾ اُردو
اس نے کہا کہ تم مسلسل سات سال تک کاشت کرو گے۔ پس جو تم کاٹو اسے اس کی بالیوں میں رہنے دو سوائے تھوڑی مقدار کے جو تم اس میں سے کھاؤ گے۔

[12:49]   

ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ سَبۡعٌ شِدَادٌ یَّاۡکُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَہُنَّ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ ﴿۴۹﴾ اُردو
پھر اس کے بعد سات بہت سخت (سال) آئیں گے جو وہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے آگے بھیجا ہوگا سوائے اس میں سے تھوڑے سے حصہ کے جو تم (آئندہ کاشت کے لئے) سنبھال رکھو گے۔

[12:50]   

ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیۡہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیۡہِ یَعۡصِرُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾ اُردو
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگ خوب سیراب کئے جائیں گے اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے۔

[12:51]   

وَ قَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖ ۚ فَلَمَّا جَآءَہُ الرَّسُوۡلُ قَالَ ارۡجِعۡ اِلٰی رَبِّکَ فَسۡـَٔلۡہُ مَا بَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِکَیۡدِہِنَّ عَلِیۡمٌ ﴿۵۱﴾ اُردو
بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ۔ پس جب ایلچی اس (یعنی یوسف) کے پاس پہنچا تو اس نے کہا اپنے آقا کی طرف لوٹ جاؤ اور اس سے پوچھو اُن عورتوں کا کیا قصہ ہے جو اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھی تھیں۔ یقیناً میرا ربّ ان کی چال کو خوب جانتا ہے۔

[12:52]   

قَالَ مَا خَطۡبُکُنَّ اِذۡ رَاوَدۡتُّنَّ یُوۡسُفَ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا عَلِمۡنَا عَلَیۡہِ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِیۡزِ الۡـٰٔنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ ۫ اَنَا رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۵۲﴾ اُردو
اس (بادشاہ) نے پوچھا (اے عورتو!) بتاؤ تمہارا کیا معاملہ تھا جب تم نے یوسف کو اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانا چاہا تھا۔ انہوں نے کہا پاک ہے اللہ۔ ہمیں تو اس کے خلاف کسی بُرائی کا علم نہیں۔ سردار کی بیوی نے کہا اب سچائی ظاہر ہو چکی ہے۔ میں نے ہی اسے اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانا چاہا تھا اور یقیناً وہ صادقوں میں سے ہے۔

[12:53]   

ذٰلِکَ لِیَعۡلَمَ اَنِّیۡ لَمۡ اَخُنۡہُ بِالۡغَیۡبِ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ کَیۡدَ الۡخَآئِنِیۡنَ ﴿۵۳﴾ اُردو
یہ اس لئے ہوا تاکہ وہ (عزیزِ مصر) جان لے کہ میں (یعنی یوسف) نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی کوئی خیانت نہیں کی اور یقیناً اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو سرے نہیں چڑھاتا۔

[12:54]   

وَ مَاۤ اُبَرِّیٴُ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵۴﴾ اُردو
اور میں اپنے نفس کو بَری قرار نہیں دیتا یقیناً نفس تو بدی کا بہت حکم دینے والا ہے سوائے اس کے جس پر میرا ربّ رحم کرے۔ یقیناً میرا ربّ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[12:55]   

وَ قَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡہُ لِنَفۡسِیۡ ۚ فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الۡیَوۡمَ لَدَیۡنَا مَکِیۡنٌ اَمِیۡنٌ ﴿۵۵﴾ اُردو
اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لے آؤ میں اسے اپنے لئے چُن لوں۔ پھر جب وہ اس سے ہم کلام ہوا تو کہا یقیناً آج (سے) تُو ہمارے حضور بہت تمکنت والا (اور) قابلِ اعتماد ہے۔

[12:56]   

قَالَ اجۡعَلۡنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرۡضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۶﴾ اُردو
اس نے کہا مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردے۔ میں یقیناً بہت حفاظت کرنے والا (اور) صاحبِ علم ہوں۔

[12:57]   

وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۚ یَتَبَوَّاُ مِنۡہَا حَیۡثُ یَشَآءُ ؕ نُصِیۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾ اُردو
اور اس طرح ہم نے یوسف کو ملک میں تمکنت دی۔ وہ اس میں جہاں چاہتا ٹھہرتا۔ ہم اپنی رحمت جسے چاہیں پہنچاتے ہیں۔ اور ہم احسان کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتے۔

[12:58]   

وَ لَاَجۡرُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿٪۵۸﴾ اُردو
اور آخرت کا اجر یقیناً ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور تقویٰ سے کام لیتے رہے۔

[12:59]   

وَ جَآءَ اِخۡوَۃُ یُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَعَرَفَہُمۡ وَ ہُمۡ لَہٗ مُنۡکِرُوۡنَ ﴿۵۹﴾ اُردو
اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے حضور پیش ہوئے۔ پس اُس نے انہیں پہچان لیا جبکہ وہ اس سے ناواقف رہے۔

[12:60]   

وَ لَمَّا جَہَّزَہُمۡ بِجَہَازِہِمۡ قَالَ ائۡتُوۡنِیۡ بِاَخٍ لَّکُمۡ مِّنۡ اَبِیۡکُمۡ ۚ اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّیۡۤ اُوۡفِی الۡکَیۡلَ وَ اَنَا خَیۡرُ الۡمُنۡزِلِیۡنَ ﴿۶۰﴾ اُردو
اور جب اُس نے اُنہیں اُن کے سامان کے ساتھ (رخصت کے لئے) تیار کیا تو کہا تمہارے باپ کی طرف سے جو تمہارا بھائی ہے اُسے بھی میرے پاس لاؤ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں بھرپور ماپ دیتا ہوں اور میں بہترین میزبان ہوں۔

[12:61]   

فَاِنۡ لَّمۡ تَاۡتُوۡنِیۡ بِہٖ فَلَا کَیۡلَ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ وَ لَا تَقۡرَبُوۡنِ ﴿۶۱﴾ اُردو
پس اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو پھر تمہارے لئے میرے پاس کچھ ماپ نہیں ہوگا اور تم میرے قریب بھی نہ آنا۔

[12:62]   

قَالُوۡا سَنُرَاوِدُ عَنۡہُ اَبَاہُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوۡنَ ﴿۶۲﴾ اُردو
انہوں نے کہا ہم اس کے بارہ میں اس کے باپ کو ضرور پھسلائیں گے اور ہم یقیناً ضرور کر گزرنے والے ہیں۔

[12:63]   

وَ قَالَ لِفِتۡیٰنِہِ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَہُمۡ فِیۡ رِحَالِہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَعۡرِفُوۡنَہَاۤ اِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤی اَہۡلِہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۶۳﴾ اُردو
اور اس نے اپنے کارندوں سے کہا کہ ان کی پونجی ان کے سامان ہی میں رکھ دو تا کہ وہ اس بات کا پاس کریں جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائیں تاکہ شاید وہ پھر لَوٹ آئیں۔

[12:64]   

فَلَمَّا رَجَعُوۡۤا اِلٰۤی اَبِیۡہِمۡ قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡکَیۡلُ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَکۡتَلۡ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۶۴﴾ اُردو
پس جب وہ اپنے باپ کی طرف لَوٹے تو انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! ہم سے ماپ روک دیا گیا ہے۔ پس ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج تاکہ ہم ماپ حاصل کرسکیں اور یقیناً ہم اس کے ضرور محافظ رہیں گے۔

[12:65]   

قَالَ ہَلۡ اٰمَنُکُمۡ عَلَیۡہِ اِلَّا کَمَاۤ اَمِنۡتُکُمۡ عَلٰۤی اَخِیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ فَاللّٰہُ خَیۡرٌ حٰفِظًا ۪ وَّ ہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۶۵﴾ اُردو
اس نے کہا کیا میں اس کے متعلق اس کے سوا بھی تم پر کوئی اعتماد کر سکتا ہوں جیسا کہ میں نے اس کے بھائی کے بارہ میں (اس سے) پہلے تم پر کیا تھا؟ پس اللہ ہی ہے جو بہترین حفاظت کرنے والا اور وہی سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

[12:66]   

وَ لَمَّا فَتَحُوۡا مَتَاعَہُمۡ وَجَدُوۡا بِضَاعَتَہُمۡ رُدَّتۡ اِلَیۡہِمۡ ؕ قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مَا نَبۡغِیۡ ؕ ہٰذِہٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتۡ اِلَیۡنَا ۚ وَ نَمِیۡرُ اَہۡلَنَا وَ نَحۡفَظُ اَخَانَا وَ نَزۡدَادُ کَیۡلَ بَعِیۡرٍ ؕ ذٰلِکَ کَیۡلٌ یَّسِیۡرٌ ﴿۶۶﴾ اُردو
پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اپنی پونجی کو اپنی طرف واپس کیا ہوا پایا۔ انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! ہمیں (اور) کیا چاہئے یہ ہے ہماری پونجی (جو) ہمیں واپس لوٹا دی گئی ہے۔ اور ہم اپنے گھر والوں کے لئے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ مزید حاصل کر لیں گے۔ یہ تو بہت آسان سودا ہے۔

[12:67]   

قَالَ لَنۡ اُرۡسِلَہٗ مَعَکُمۡ حَتّٰی تُؤۡتُوۡنِ مَوۡثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاۡتُنَّنِیۡ بِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یُّحَاطَ بِکُمۡ ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوۡہُ مَوۡثِقَہُمۡ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوۡلُ وَکِیۡلٌ ﴿۶۷﴾ اُردو
اس نے کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا یہاں تک کہ تم اللہ کے حوالہ سے مجھے پختہ عہد دو کہ تم ضرور اسے میرے پاس (واپس) لے آؤ گے سوائے اس کے کہ تمہیں گھیر لیا جائے۔ پس جب انہوں نے اسے اپنا پختہ عہد دے دیا تو اس نے کہا اللہ اُس پر جو ہم کہہ رہے ہیں نگران ہے۔

[12:68]   

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ ؕ وَ مَاۤ اُغۡنِیۡ عَنۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ ۚ وَ عَلَیۡہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿۶۸﴾ اُردو
اور اس نے کہا اے میرے بیٹو! ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تمہیں اللہ (کی تقدیر) سے کچھ بھی بچا نہیں سکتا۔ حکم اللہ ہی کا چلتا ہے۔ اسی پر میں توکل کرتا ہوں اور پھر چاہئے کہ اسی پر سب توکل کرنے والے توکل کریں۔

[12:69]   

وَ لَمَّا دَخَلُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَمَرَہُمۡ اَبُوۡہُمۡ ؕ مَا کَانَ یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ اِلَّا حَاجَۃً فِیۡ نَفۡسِ یَعۡقُوۡبَ قَضٰہَا ؕ وَ اِنَّہٗ لَذُوۡ عِلۡمٍ لِّمَا عَلَّمۡنٰہُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۶۹﴾ اُردو
پس جب وہ جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا داخل ہوئے۔ وہ اللہ کی تقدیر سے تو انہیں قطعاً بچا نہیں سکتا تھا مگر محض یعقوب کے دل کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کی۔ اور یقیناً وہ صاحبِ علم تھا اس لئے کہ ہم نے اسے اچھی طرح علم سکھایا تھا مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

[12:70]   

وَ لَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰی یُوۡسُفَ اٰوٰۤی اِلَیۡہِ اَخَاہُ قَالَ اِنِّیۡۤ اَنَا اَخُوۡکَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۰﴾ اُردو
پس جب وہ یوسف کے سامنے پیش ہوئے اس نے اپنے بھائی کو اپنے قریب جگہ دی (اور) کہا یقیناً میں تیرا بھائی ہوں۔ پس جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس پر غمگین نہ ہو۔

[12:71]   

فَلَمَّا جَہَّزَہُمۡ بِجَہَازِہِمۡ جَعَلَ السِّقَایَۃَ فِیۡ رَحۡلِ اَخِیۡہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُہَا الۡعِیۡرُ اِنَّکُمۡ لَسٰرِقُوۡنَ ﴿۷۱﴾ اُردو
پھر جب اس نے اُنہیں ان کے سامان سمیت (رخصت کے لئے) تیار کیا تو اس نے (بے خیالی میں) اپنے بھائی کے سامان میں پینے کا برتن رکھ دیا۔ پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلہ والو! تم ضرور چور ہو۔

[12:72]   

قَالُوۡا وَ اَقۡبَلُوۡا عَلَیۡہِمۡ مَّا ذَا تَفۡقِدُوۡنَ ﴿۷۲﴾ اُردو
انہوں نے ان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے جواب دیا تم کیا گم پاتے ہو۔

[12:73]   

قَالُوۡا نَفۡقِدُ صُوَاعَ الۡمَلِکِ وَ لِمَنۡ جَآءَ بِہٖ حِمۡلُ بَعِیۡرٍ وَّ اَنَا بِہٖ زَعِیۡمٌ ﴿۷۳﴾ اُردو
انہوں نے کہا ہم بادشاہ کا مَاپ تول کا پیمانہ گم کیا ہوا پاتے ہیں اور جو بھی اسے لائے گا اسے ایک اونٹ کا بوجھ (انعام میں) دیا جائے گا اور میں اس بات کا ذمہ دار ہوں۔

[12:74]   

قَالُوۡا تَاللّٰہِ لَقَدۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کُنَّا سٰرِقِیۡنَ ﴿۷۴﴾ اُردو
انہوں نے (جواباً) کہا اللہ کی قسم! تم یقیناً جان چکے ہو کہ ہم اس لئے نہیں آئے کہ زمین میں فساد کریں اور ہم ہرگز چور نہیں ہیں۔

[12:75]   

قَالُوۡا فَمَا جَزَآؤُہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ کٰذِبِیۡنَ ﴿۷۵﴾ اُردو
انہوں نے پوچھا پھر اس کی کیا جزا ہو گی اگر تم جھوٹے نکلے؟

[12:76]   

قَالُوۡا جَزَآؤُہٗ مَنۡ وُّجِدَ فِیۡ رَحۡلِہٖ فَہُوَ جَزَآؤُہٗ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷۶﴾ اُردو
انہوں نے جواب دیا اس کی جزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں وہ (پیمانہ) پایا جائے وہی اس کی جزا ہوگا۔ اسی طرح ہم ظالموں کو جزا دیاکرتے ہیں۔

[12:77]   

فَبَدَاَ بِاَوۡعِیَتِہِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ اَخِیۡہِ ثُمَّ اسۡتَخۡرَجَہَا مِنۡ وِّعَآءِ اَخِیۡہِ ؕ کَذٰلِکَ کِدۡنَا لِیُوۡسُفَ ؕ مَا کَانَ لِیَاۡخُذَ اَخَاہُ فِیۡ دِیۡنِ الۡمَلِکِ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ وَ فَوۡقَ کُلِّ ذِیۡ عِلۡمٍ عَلِیۡمٌ ﴿۷۷﴾ اُردو
پھر اس (اعلان کرنے والے) نے اس (یعنی یوسف) کے بھائی کے بورے سے پہلے ان کے بوروں سے شروع کیا پھر اس کے بھائی کے بورے میں سے اس (پیمانہ) کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی۔ اس کے لئے ممکن نہ تھا کہ اپنے بھائی کو بادشاہ کی حکمرانی میں روک لیتا سوائے اس کے کہ اللہ چاہتا۔ ہم جسے چاہیں درجات کے لحاظ سے بلند کرتے ہیں اور ہر علم رکھنے والے سے برتر ایک صاحبِ علم ہے۔

[12:78]   

قَالُوۡۤا اِنۡ یَّسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّہٗ مِنۡ قَبۡلُ ۚ فَاَسَرَّہَا یُوۡسُفُ فِیۡ نَفۡسِہٖ وَ لَمۡ یُبۡدِہَا لَہُمۡ ۚ قَالَ اَنۡتُمۡ شَرٌّ مَّکَانًا ۚ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُوۡنَ ﴿۷۸﴾ اُردو
انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو اس کے ایک بھائی نے بھی اس سے پہلے چوری کی تھی تو یوسف نے اس (الزام کے اثر) کو اپنے دل میں چھپا لیا اور اُسے ان پر ظاہر نہ کیا۔ (ہاں دل ہی دل میں) کہا تم مقام کے لحاظ سے بدترین ہو اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

[12:79]   

قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الۡعَزِیۡزُ اِنَّ لَہٗۤ اَبًا شَیۡخًا کَبِیۡرًا فَخُذۡ اَحَدَنَا مَکَانَہٗ ۚ اِنَّا نَرٰٮکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۷۹﴾ اُردو
انہوں نے کہا اے صاحبِ اختیار! یقیناً اس کا باپ بہت بوڑھا شخص ہے۔ پس اس کی بجائے ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لے۔ یقیناً ہم تجھے احسان کرنے والوں میں سے دیکھتے ہیں۔

[12:80]   

قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اَنۡ نَّاۡخُذَ اِلَّا مَنۡ وَّجَدۡنَا مَتَاعَنَا عِنۡدَہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوۡنَ ﴿٪۸۰﴾ اُردو
اس نے کہا اللہ کی پناہ! کہ جس کے پاس ہم اپنا سامان پائیں اس کے سوا کسی اور کو پکڑیں۔ تب تو ہم یقیناً ظلم کرنے والے بن جائیں گے۔

[12:81]   

فَلَمَّا اسۡتَیۡـَٔسُوۡا مِنۡہُ خَلَصُوۡا نَجِیًّا ؕ قَالَ کَبِیۡرُہُمۡ اَلَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اَبَاکُمۡ قَدۡ اَخَذَ عَلَیۡکُمۡ مَّوۡثِقًا مِّنَ اللّٰہِ وَ مِنۡ قَبۡلُ مَا فَرَّطۡتُّمۡ فِیۡ یُوۡسُفَ ۚ فَلَنۡ اَبۡرَحَ الۡاَرۡضَ حَتّٰی یَاۡذَنَ لِیۡۤ اَبِیۡۤ اَوۡ یَحۡکُمَ اللّٰہُ لِیۡ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۸۱﴾ اُردو
پس جب وہ اس سے مایوس ہو گئے تو مشورہ کے لئے علیحدہ ہوئے۔ ان کے بڑے نے کہا کہ کیا تم جانتے نہیں کہ تمہارے باپ نے اللہ کے حوالہ سے تم پر واجب پختہ عہد لیا تھا اور (اس سے) پہلے بھی جو تم یوسف کے معاملہ میں زیادتی کر چکے ہو۔ پس میں ہرگز یہ ملک نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میرا باپ مجھے اجازت دے یا میرے لئے اللہ کوئی فیصلہ کردے اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔

[12:82]   

اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰۤی اَبِیۡکُمۡ فَقُوۡلُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَکَ سَرَقَ ۚ وَ مَا شَہِدۡنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَ مَا کُنَّا لِلۡغَیۡبِ حٰفِظِیۡنَ ﴿۸۲﴾ اُردو
اپنے باپ کی طرف واپس جاؤ اور اسے کہو کہ اے ہمارے باپ! یقیناً تیرے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم سوائے اس کے جس کا ہمیں علم ہے کوئی گواہی نہیں دے رہے اور ہم یقیناً غیب کے محافظ نہیں۔

[12:83]   

وَ سۡـَٔلِ الۡقَرۡیَۃَ الَّتِیۡ کُنَّا فِیۡہَا وَ الۡعِیۡرَ الَّتِیۡۤ اَقۡبَلۡنَا فِیۡہَا ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴿۸۳﴾ اُردو
پس اس بستی (والوں) سے پوچھ جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی جس میں شامل ہو کر ہم آئے ہیں اور یقیناً ہم سچے ہیں۔

[12:84]   

قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّاۡتِـیَنِیۡ بِہِمۡ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۸۴﴾ اُردو
اس نے کہا (نہیں) بلکہ تمہارے نفسوں نے ایک بہت بڑے معاملہ کو تمہارے لئے ہلکا اور معمولی بنادیا ہے۔ پس صبرجمیل (کے سوا میں کیا کر سکتا ہوں)۔ عین ممکن ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ یقیناً وہی ہے جو دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔

[12:85]   

وَ تَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰی عَلٰی یُوۡسُفَ وَ ابۡیَضَّتۡ عَیۡنٰہُ مِنَ الۡحُزۡنِ فَہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿۸۵﴾ اُردو
اور اس نے ان سے توجہ پھیر لی اور کہا وائے افسوس یوسف پر! اور اس کی آنکھیں غم سے ڈبڈبا آئیں اور وہ اپنا غم دبانے والا تھا۔

[12:86]   

قَالُوۡا تَاللّٰہِ تَفۡتَؤُا تَذۡکُرُ یُوۡسُفَ حَتّٰی تَکُوۡنَ حَرَضًا اَوۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡہٰلِکِیۡنَ ﴿۸۶﴾ اُردو
انہوں نے کہا خد اکی قسم! تُو ہمیشہ یوسف ہی کا ذکر کرتا رہے گا یہاں تک کہ تُو (غم سے) نڈھال ہوجائے یا ہلاک ہو جانے والوں میں سے ہو جائے۔

[12:87]   

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۷﴾ اُردو
اس نے کہا میں تو اپنے رنج واَلَم کی صرف اللہ کے حضور فریاد کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

[12:88]   

یٰبَنِیَّ اذۡہَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ یُّوۡسُفَ وَ اَخِیۡہِ وَ لَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸۸﴾ اُردو
اے میرے بیٹو! جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کے متعلق کھوج لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقیناً اللہ کی رحمت سے کوئی مایوس نہیں ہوتا مگر کافر لوگ۔

[12:89]   

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الۡعَزِیۡزُ مَسَّنَا وَ اَہۡلَنَا الضُّرُّ وَ جِئۡنَا بِبِضَاعَۃٍ مُّزۡجٰٮۃٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡکَیۡلَ وَ تَصَدَّقۡ عَلَیۡنَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَجۡزِی الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ ﴿۸۹﴾ اُردو
پس جب وہ اس کی جناب میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا اے صاحب اختیار! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو بہت تکلیف پہنچی ہے اور ہم تھوڑی سی پونجی لائے ہیں۔ پس ہمیں بھرپور تول عطا کر اور ہم پر صدقہ کر۔ یقیناً اللہ صدقہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔

[12:90]   

قَالَ ہَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِیُوۡسُفَ وَ اَخِیۡہِ اِذۡ اَنۡتُمۡ جٰہِلُوۡنَ ﴿۹۰﴾ اُردو
اس نے کہا کیا تم جانتے ہو جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی سے کیا تھا جب تم جاہل لوگ تھے۔

[12:91]   

قَالُوۡۤا ءَاِنَّکَ لَاَنۡتَ یُوۡسُفُ ؕ قَالَ اَنَا یُوۡسُفُ وَ ہٰذَاۤ اَخِیۡ ۫ قَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡنَا ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یَّـتَّقِ وَ یَصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۹۱﴾ اُردو
انہوں نے کہا کیا واقعی تو ہی یوسف ہے؟ اس نے کہا میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے یقیناً ہم پر بہت احسان کیا ہے۔ یقیناً جو بھی تقویٰ کرے اور صبر کرے تو اللہ ہرگز احسان کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

[12:92]   

قَالُوۡا تَاللّٰہِ لَقَدۡ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَ اِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ ﴿۹۲﴾ اُردو
انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اللہ نے یقیناً تجھے ہم پر فضیلت دی ہے اور یقیناً ہم ہی خطا کار تھے۔

[12:93]   

قَالَ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ ؕ یَغۡفِرُ اللّٰہُ لَکُمۡ ۫ وَ ہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۹۳﴾ اُردو
اس نے کہا آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں۔ اللہ تمہیں بخش دے گا اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

[12:94]   

اِذۡہَبُوۡا بِقَمِیۡصِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقُوۡہُ عَلٰی وَجۡہِ اَبِیۡ یَاۡتِ بَصِیۡرًا ۚ وَ اۡتُوۡنِیۡ بِاَہۡلِکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿٪۹۴﴾ اُردو
میری یہ قمیص ساتھ لے جاؤ اور میرے باپ کے سامنے اسے ڈال دو، اس پر حقیقت واضح ہوجائے گی اور (بعد میں) میرے پاس اپنے سب گھر والوں کو لے آؤ۔

[12:95]   

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الۡعِیۡرُ قَالَ اَبُوۡہُمۡ اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿۹۵﴾ اُردو
پس جب قافلہ روانہ ہوا تو ان کے باپ نے کہا یقیناً مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے خواہ تم مجھے دیوانہ ٹھہراتے رہو۔

[12:96]   

قَالُوۡا تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیۡ ضَلٰلِکَ الۡقَدِیۡمِ ﴿ٙ۹۶﴾ اُردو
انہوں نے کہا اللہ کی قسم! یقیناً تُو اپنی اسی پرانی غلطی میں مبتلا ہے۔

[12:97]   

فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِیۡرُ اَلۡقٰٮہُ عَلٰی وَجۡہِہٖ فَارۡتَدَّ بَصِیۡرًا ۚ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ ۚۙ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۷﴾ اُردو
پھر جب خوشخبری دینے والا آیا (اور) اس نے اُس (قمیص) کو اس کے سامنے ڈال دیا تو اس پر حقیقت واضح ہوگئی۔ اس نے کہا کیا میں تمہیں نہیں کہتا تھا کہ میں یقیناً اللہ کی طرف سے ان باتوں کا علم رکھتا ہوں جو تم نہیں جانتے؟

[12:98]   

قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ اِنَّا کُنَّا خٰطِئِیۡنَ ﴿۹۸﴾ اُردو
انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کر۔ یقیناً ہم خطاکار تھے۔

[12:99]   

قَالَ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَکُمۡ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۹۹﴾ اُردو
اس نے کہا میں ضرور تمہارے لئے اپنے ربّ سے بخشش طلب کروں گا۔ یقیناً وہی بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

[12:100]   

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰی یُوۡسُفَ اٰوٰۤی اِلَیۡہِ اَبَوَیۡہِ وَ قَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ﴿ؕ۱۰۰﴾ اُردو
پس جب وہ یوسف کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے قریب جگہ دی اور کہا کہ اگر اللہ چاہے تو مصر میں امن کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔

[12:101]   

وَ رَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الۡعَرۡشِ وَ خَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبۡلُ ۫ قَدۡ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا ؕ وَ قَدۡ اَحۡسَنَ بِیۡۤ اِذۡ اَخۡرَجَنِیۡ مِنَ السِّجۡنِ وَ جَآءَ بِکُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّیۡطٰنُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَ اِخۡوَتِیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۰۱﴾ اُردو
اور اس نے اپنے والدین کو عزت کے ساتھ تخت پر بٹھایا اور وہ سب اس کی خاطر سجدہ ریز ہو گئے۔ اور اس نے کہا اے میرے باپ! یہ تعبیر تھی میری پہلے سے دیکھی ہوئی رؤیا کی۔ میرے ربّ نے اسے یقیناً سچ کر دکھایا اور مجھ پر بہت احسان کیا جب اس نے مجھے قید خانہ سے نکالا اور تمہیں صحرا سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان رخنہ ڈال دیا تھا۔ یقیناً میرا ربّ جس کے لئے چاہے بہت لطف و احسان کرنے والا ہے۔ بے شک وہی دائمی علم رکھنے والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔

[12:102]   

رَبِّ قَدۡ اٰتَیۡتَنِیۡ مِنَ الۡمُلۡکِ وَ عَلَّمۡتَنِیۡ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۟ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾ اُردو
اے میرے ربّ! تو نے مجھے امورِ سلطنت میں سے حصہ دیا اور باتوں کی اصلیّت سمجھنے کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! تُو دنیا اور آخرت میں میرا دوست ہے۔ مجھے فرمانبردار ہونے کی حالت میں وفات دے اور مجھے صالحین کے زُمرہ میں شامل کر۔