انجیل بدل چُکی ہے! سنُت کیا فرماتی ہے؟

میری گزشتہ اشاعت میں دیکھ چُکا ہوں کہ قرآن توریت ، زبُور اور انجیل مقُدس کے مکاشفات اور نزول کے بارے کیا کہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ قرآن میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ جو پیغام اللہ کی طرف سے حضرت مُحمد پر 600 قبل از مسیح نازل ہوا، جو کہ انجیل مقُدس کے پیروکار ہیں(وہ تاریخ کے ساتھ تبدیل یا بدل نہیں سکتے)، اسی طرح قرآن میں اِس بات کی تصدیق بھی ملتی ہے کہ انجیل مقُدس اُس کے الفاظ ہیں، اور وہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتے۔ اِن دونوں بیانات سے یہ بات یقین دہانی ہے کہ خُدا کا کلام کبھی بھی تبدل نہیں سکتے جن میں توریت، زبُور اور اناجیل شامل ہیں۔

میں اِس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ مطالعہ کو جاری رکھنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی کتاب سنُت اِن موضوعات پر کیا کہتی ہے۔ حدیث اِس کی بات کی تصدیق کرتی ہے کہ توریت اور انجیل کا اِستعمال  حضرت محمد ؑ کے دور میں ہو چکا ہے۔

خدیجہ (اُس کی بیوی)جوکہ (حضرت محمدؑ کی بیوی ہے)  اُس کا رشتہ دار ورقہ جو کہ اسلام کے پھیلانے سے پہلے مسیحیت کو قبول کر چکا تھا ؛ اُس نے عبرانی زبان میں خط لکھتا ہو تا تھا۔ وہ انجیل میں سے عبرانی زبان میں لکھ سکتا تھا جیسے کہ خُدا اُس سے چاہتا تھا۔  امام بخاری (البخاری) والیم 1 ، کتابچہ 1  ؛ نمبر 3

ابوہریرہ نے بیان کیا: کہ وہ لوگ توریت کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور پھر اُس کو مسلمانوں کو عربی زبان میں سمجھاتے تھے۔ تب اللہ کے رسول نے کہا، ‘‘لوگوں کے کلام پر یقین مت کرو، اور نہ ہی اُن کو اِس پر ایمان لانے سے رکھو، لیکن کہو، کہ ہم اللہ کی طرف سے جو نازل ہوچُکا ایما ن رکھتے ہیں۔۔۔۔۔’’ امام بخاری (البخاری) والیم 9 ، کتابچہ 93 ؛ نمبر632

یہودی اللہ کے رسول کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر مرد اور عورت غیر شرعی طور پر آپس میں مبشارت کرتے ہیں ۔ اللہ کے رسول نے اُن سے کہا، ‘‘تمہیں توریت میں اِس جرم کی کیاقانونی سزا ملتی ہے (سنگساری)؟’’ اُنہوں نے جواب میں اُس نے کہا، ‘‘(لیکن) ہم اُن کے جرم کا اعلان کرتے اور اُن کو قید میں ڈالنے کا حکم دیتے ہیں۔’’ تب عبداللہ بن سلام نے کہا، ‘‘تم جھوٹ بول رہے ہو؛ توریت تو کہتی ہے کہ اُن کو سنگسار کرو۔’’۔۔۔۔۔۔۔۔سنگسارکا حوالہ وہاں (توریت) میں موجود ہے۔  اُنہوں نے کہا حضرت محمدؑ (اللہ کا رسول) سچا فرماتا ہے؛ توریت میں سنگسار کرنے کا حوالہ درج ہے۔  امام بخاری (البخاری) والیم 4، کتابچہ  56؛ نمبر 829

عبداللہ ابن ِ عمر بیان فرماتے ہیں۔۔۔۔۔یہودی کا لشکر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ ولی وسلم حضرت محمد کوف کے لئے دعوت دی۔۔۔۔۔ اُنہوں نے کہا،‘ابو القاسم ، کہ اُس نے ایک عورت کے ساتھ زناکاری کی ؛ سو اُس پر بھی عدالت ہوگی۔ اُنہوں نے اللہ کے رسول کے لئے تکیہ دیا اور وہ اُس سے بیٹھے اور کہا؛‘‘ توریت لے کر آؤ’’۔ تب وہ توریت لے کر آئے۔پھر آپ نے تکیہ نکلا اور توریت کو رکھا اور یہ کہا؛‘‘میں اِس پر ایمان رکھتا ہوں اور اُس پر بھی جس نے اِس کا نازل فرمایا۔’’ سنُت ابودادؤ  کتابچہ 38، نمبر 4434

کابیان: اللہ کے رسول فرماتے ہیں؛ جمعہ کے دِن جب سورج طلوع ہوتا ہے وہ مبارک دِن ہے، اِس دِن آدم تخلیق کیا گیا تھا۔۔۔۔۔کیتب نے فرمایا: ہر  ابوہریرہ…سال میں ایک دِن ہوتا ہے۔ تب میں نے کہا: یہ ہر جمعہ ۃ المبارک پر ہوتا ہے۔ کیتب نے توریت کو پڑھا اور کہا: کہ اللہ کے رسول محمدؑ نے  سچافرمایا۔ سنُہ ابو داؤد کتاب 3 نمبر 1041

یہ احمقانہ احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ رسول محمدؑکا رویہ کہ بائبل میںجو اُس دِن کے بارے میں پہلے سے نشاندہی کی جا چُکی ہے۔ پہلی حدیث بیان کرتی ہے کہ انجیل پہلے سے موجود تھی جب اِس نے پہلی آواز کر سُنا۔ دوسری حدیث بتاتی ہے کہ یہودی توریت کو عبرانی زبان میں اُس وقت کے مسلمانوں کے لئے پڑھتے تھے۔ حضرت محمد اُن کے کسی بھی بیان کردہ مجموعے کو رد نہیں کرتا تھا، لیکن فرق  کو ظاہر کرتا تھا  عربی وضاحت اُن کی کرتا تھا۔ اگلی دو احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ محمدؑ نے توریت کو اپنے اُس دِن کے لئے استعمال کی ہے۔ اور آخری حدیث سے نظر آتا ہے کہ توریت، اِس بات کی گواہ ہے کہ جب انسان کو پیدا کیا گیا تب جمعہ کا دِن تھا۔ اِن احدیث میں سے کوئی بھی اِس بات کو ثابت نہیں کر پائی کہ بائبل(کلام ِ مقدس) تبدیل اور اِس میں کوئی ردوبدل ہوا ہے۔ یہ اہم کام کے لئے استعمال ہوئی ہے۔

عہد جدید (انجیل کی اصل کتابیں)

میرے پاس عہدجدید کی اصل کتب جو موجود ہے جو کہ اِس سے شروع ہوتی ہے:

2 عہدجدید /‘‘عہد جدید شروع میں 69 کا مجموعہ پیش کر تا ہے کہ بتاریخ دوسری صدی کے آغاز سے لے کر چوتھی صدی تک (100تا 300 اے ڈی)۔۔۔۔۔3

کا حصہ مشتمل ہے (پی پرُسکون،‘‘آغاز میں عہدجدید یونانی زبان میں موجود ہے’’۔ تعارف پی 17۔2001)۔

یہ اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ تحریریں رومی حکومت کے آنے سے پہلے (325 اے ڈی)۔ اگر اِس میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو ہمیں اِس کی تحقیق کرنی ہے کہ اِس میں محمد کے آنے سے پہلے تبدیل ہوئی ہے کہ اُس کے آنے کے بعد۔ ہمارے پاس مختلف زبانوں میں ترجمہ کی گئی جو کہ آج بھی مکمل طور پر اپنی اصل حالت میں موجود ہے جو کہ محمدؑ کے آنے سے پہلے سے موجود تھی۔ سب سے زیادہ مشہور کوڈ یہ ہیں، سینی ٹیکس(سی اے 350 اے ڈی) اور یہ کوڈ، ویٹی نیکس(سی اے 325 اے ڈی)۔ یہ اور اِس کے علاوہ بہت سارے دوسرے مجموعے جو کہ 600اے ڈی سے پہلے دُنیا کے دوسرے علاقوں میں سے آئے۔ یہ مسیحی خیال اور مسیحی نخسہ جات میں تبدیلی کوئی بھی سمجھ نہیں رکھتا۔ یہ بالکل ناممکن کہ اِس ٹیکٹ میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔ یہاں تک کہ اگر یہ عربی میں ترجمہ کی گئی تو بھی یہ اصل حالت میں موجود ہے اور ایسے ہی ہمیں کہنا چاہیے کہ یورپ اور سیریا میں بھی کوئی تبدیل نہیں آئی، اور یہ یقیناً ایسا ہی ہے۔ پر قرآن اور احدیث دونوں واضع طور پر تصدیق کرتے ہیں کہ بائبل 600 اے ڈی سے پہلے موجود تھی اور بائبل مقدس کے تمام نخسہ جات پہلے سے رقم ہیں، اور اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ نیچے دی گئی ٹائم لائن اِس چیز کی وضاحت کرتا ہے کہ بائبل مقدس 600 اے ڈی کی بنیاد پر ہے۔

آغاز ہی سے توریت اور زبور کی کاپی موجود ہے۔ سکلرولز کا مجموعہ بحرہ ِمردار سے جانا جاتا ہے، یہ بحرہ مردار 1948 کو دریافت کیا گیا۔ یہ سکلرولز توریت اور زبور 200تا100 عیسوی سےلکھی جا چُکی تھی۔ اِس کا مطلب ، مثال کے طور پر حضرت موسیٰ نے توریت تقریباً(1500 عیسوی) کو دے دی تھی، ہمارے پاس توریت کی کاپیاں عیسیٰ المسیح اور محمدؑ کے آنے سے پہلے کی موجود تھیں۔ ہم اِس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ پہلی کتابیں جو رسولوں پر نازل ہوئی اِن کللک کریںمیں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ میں اِس کو واضح طور دیکھا کہ یہ یقینی ہے اگر آپ اِس کو سائنسی نظر سے دیکھنا ہے تو اِس آرٹیکل پر

اِس بات کو شہادت ملتی ہے کہ حضرت محمدؑ نے جو کچھ احدیث میں فرمایا کہ کلام ِ مقدس (بائبل) تمام نخسے آج بھی ویسے کے ویسے ہیں اور قرآن بھی اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بائبل تبدیل نہیں ہوئی۔

آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات - بہت پہلے سے
آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات – بہت پہلے سے

(حضرت ابراہیم ؑ کی دوسری نشانی (راستباز

یہ کیا ہے جسکی ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرورت ہے؟ ہم اس سوال کے بہت سارے جواب سوچ سکتے ہیں۔ لیکن حضرت آدم ؑ کی نشانی یاددلاتی ہے۔ کہ سب سے اوّل اور عظیم ترین ضرورت راستبازی کی ہے۔ قرآن شریف میں یہ الفاظ برائے راست ہمارے ساتھ مخاطب ہیں( آدم ؑ کی اولاد

اے آدم کی اولاد ! بیشک ہم نے رتمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔

 (سورة الاعراف 7:26 )

تو پھر راستبازی کیا ہے؟ (تورات شریف کی پانچویں کتاب استثنا 32:3-4 ) ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاتی ہے۔

کیونکہ میں خداوند کے نام کا اشتہار دوں گا۔ تم ہمارے خدا کی تعظیم کرو۔´ وہ ہی چٹان ہے۔ اُس کی صنعت کامِل ہے کیونکہ اُس کی سب راہیں انصاف کی ہیں۔ وہ وفادار خدا اور بدی سے مُبّرا ہے۔ وہ منصف اور بر حق ہے۔ استثنا 32 :3-4

راستبازی کی یہ تصویر اللہ تعالیٰ نے ہمیں تورات شریف میں دی ہے۔ راستبازی کا مطلب ہے وہ جو کامِل ہے۔ وہ جو سب راہوں میں سچا ہے۔ تورات شریف اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس طرح بیان کرتی ہے۔ لیکن ہمیں کیوں ضرورت ہے کہ ہم راستبازی کے بارے میںجانیں ؟ ہم اس کا زبور شریف میںجواب دیکھتے ہیں

زبور 15
۱)اے خداوند تیرے خیمہ میں کون رہے گا؟
تیرے کوہ مقدس پر کون سکونت کرے گا؟
۲) وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔
۳) وہ جو اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سُنتا۔
۴) وہ جس کی نظر میں رذیل آدمی حقیر ہے پر جو خداوند سے ڈرتے ہیں اُن کی عزت کرتا ہے۔ وہ جو قسم کھا کر بدلتا نہیں خواہ نقصان ہی اُٹھائے۔
۵) وہ جو اپنا روپیہ سُود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھا ئے گا۔

جب وہ یہ پوچھتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے پہاڑ پر کون رہے گا۔ تو دوسرے معنوں میں وہ یہ پوچھ رہا ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی جنت میں کون رہے گا۔ تو ہم اس کا جواب اس طرح پڑھتے ہیں۔ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دِل سے سچ بولتا ہے۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی جنت میں اُس کے ساتھ رہے گا۔ اس طرح کی راستبازی کی ہمیں ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنت میں رہنے کے لیے راستبازی ضروری ہے۔

حضرت ابراہیم کے بارے میں سوچو. وہ کس طرح راستبازی حاصل کی بارے مقدس کتابوں میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.

حضرت آدم ؑکی نشانی بھی ہمیں یہی سیکھاتی ہیں کہ ہمیں راستبازی کی ضرورت ہے۔ تاہم یہاں پر سوال یہ ہے۔ کہ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ سب کیسے حاصل کیا؟

اکثر میں سوچتا ہوں کہ میں دو میں سے ایک راستہ پر چل کر راستبازی حاصل کرسکتا ہوں۔
پہلا راستہ: میں راستبازی ا س طرح حاصل کر سکتا ہوں ۔ کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاوں اور یقین رکھوں۔ کہ اللہ تعالیٰ وجود رکھتاہے۔ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ کیایہ سوچ اس بات کی حمایت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور وہ راستباز ٹھہرے ۔ لیکن غور و حوض کرنے کے بعد میں اس حقیقت کو جان سکا ۔کہ اس کا صرف یہ مطلب نہیں تھا۔ کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لائے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ سچا وعدہ کیا۔ کہ تیرے ایک بیٹا پیدا ہوگا ۔ اور یہ وہ وعدہ تھا جس پر ابراہیم ؑ کو ایمان لاناتھا ےا ایمان نہیںلانا تھا۔ اسی طرح سوچیں تو ہم جانتے ہیں ۔ کہ ابلیس بھی ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ لیکن اس کے باعث وہ راستباز نہیں ہے۔ اس طرح صرف یہ ایمان رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ یہ کافی نہیں ہے۔
دوسراراستہ:میں کئی بار سوچتا ہوں کہ میں نیک کام کرکے راستبازی حاصل کرسکتا ہوں۔ بُرے کاموں کی نسبت زیادہ اچھے کام کرنے سے یا کوئی خاص نیک کام کرنے سے یا کسی حد تک نیک کام کرنے سے راستبازی حاصل کرسکتا ہوں یا کماسکتاہوں۔ لیکن ےاد رکھیں ۔ تورات شریف کا حوالہ کیا کہتا ہے؟ میں نے یہاں تورات شریف کی آیت پھر سے لکھی ہے۔ تاکہ ہم پھر سے اس آیت کو دیکھ سکیں۔

اور وہ (حضرت ابراہیم ؑ ) خداوند پر ایمان لایا اور اسے اُس نے اُس کے حق میں راستبازی شمار کیا۔´  پیدایش 15:6

حضرت ابراہیم ؑ نے راستبازی نیک کاموں کے وسیلے کمائی نہیں تھی ۔ بلکہ یہ اُن کے لیے شمار کیاگیا۔ اس کا کیا فرق ہے؟ ٹھیک اسی طرح! اگر آپ کچھ کماتے ہیں۔ تو اُس کے لیے آپ کو کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ آپ کوئی کام کرتے ہیں اور اُس کی اُجرت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن جب کوئی چیز آپ کو مفت دی جائے ۔ تو اُس کے لیے آپ کو کچھ کمانا یا کام نہیں کرنا پڑتا۔
حضرت ابراہیم ؑ ایک آدمی تھا۔ جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر گہرا ایمان رکھتاتھا۔وہ ایک مردِ دعا، دیندار اور دوسرے لوگوں کی مدد کرتا تھا۔البتہ ہم ان باتوں کو رد نہیں کررہے۔لیکن جو طریقہ یہاں پر بتایا گیا ہے ہم اُس کو آسانی سے نظر انداز کرسکتے ہیں ۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ ابراہیم ؑ راستباز ٹھہرا کیونکہ اُس وعدہ پر ایمان رکھا جو اللہ تعالیٰ نے اُس سے کیا تھا۔ یہ عام فہم بات کے اُلٹ ہے۔ کہ ہم راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ صرف اس سوچ اور ایمان سے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ یا پھر نیک کام کرنے سے ہم راستبازی کے معیار کو حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس طریقہ کو نہیں اپنایا تھا۔ بلکہ اُس نے بڑے سادہ انداز میں اُس وعدہ پر ایمان رکھا۔
اب اس بات کا انتخاب کرنا اور یقین رکھناکہ میں تم کو بیٹا دوں گا۔ شاید یہ سادہ ہے لیکن یہ یقینی طور پر آسان نہیں تھا۔ ابراہیم ؑ آسانی سے اس وعدہ کو نظرانداز کرسکتا تھااس وجہ کو بیان کرکے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ واقعی مجھے بیٹا عطا کرنا چاہتا ہے تو وہ مجھے اس وقت اس کے لیے طاقت بھی عطا فرمائیں۔ کیونکہ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ اور اُس کی بیوی حضرت سارہ ؑ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ وہ بچے پیدا کرنے کی عمر میں سے گزر چکے تھے۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی میں وہ 75 سال کی عمر کے تھے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا گھر، رشتے دار اور ملک چھوڑ کر ملکِ کنعان کو ہجرت کی۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اُس کو ایک بڑی قوم بنائے گا۔ اور اب کئی سال گزرگئے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ اور اُس کی بیوی بوڑھے ہو چکے تھے اور پہلے ہی بہت زےادہ انتظار کر چکے تھے۔ اُن کا نہ تو کوئی بچہ تھا اور نہ ہی کوئی قوم۔ وہ اس بات سے حیران ہو سکتاتھا۔ اگر اللہ تعالیٰ بیٹا دے سکتا تھا تو اس نے ابھی تک کیوں نہیں دیا؟ لیکن دوسرے الفاظ میں اُس نے آنے والے بیٹے کے وعدے کا یقین کیا۔ تاہم اُن کو اُس وعدہ کے بارے میں مکمل سمجھ نہیں تھی۔ اس و عدے پر یقین کرناکہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ اور اس کی بیوی کو بیٹا دے گا یہ ایک معجزاہ کے مترادف تھا ۔ اورو عدے پر یقین کرناانتظار کرنے کا مطالبہ تھا۔ وعدہ کئے ہوئے بیٹے کے انتظار میں اور اس کے احساس میں اُس کی ساری عمر ملکِ کنعان کے خیموں میں گزر گئی۔ اُس کے لیے بڑھا آسان تھا کہ وہ اس وعدے کو رد کرے اور واپس اپنے آبائی ملک( جو اس وقت کا ترقی یافتہ ملک تھا) مسوپتامیہ میں چلا جائے۔ جس کو اس نے بہت سال پہلے چھوڑ دیا تھا۔ جہاں اُس کے بھائی اور خاندان رہتا تھا۔ لیکن ابراہیم ؑ وہاں تمام تر مشکلات اور وعدے پر یقین رکھتا رہا۔ ہرایک دن اور بہت سارے سال اس نے وعدہ پورا ہونے کے انتظار میں گزار دئیے۔ اُس نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو اپنی عام زندگی کے کاموں سے بڑھ کر ترجیع دی اور اس میں مطمن تھا۔ حقیقی معنوں میں پورے ہونے والے وعدے پر مکمل طور پر بھروسہ کرنے سے مراد معمول کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ وعدے پر بھروسے سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ۔ حضرت ابراہیم ؑ کا اللہ تعالیٰ پر ایمان اور محبت کس قدر تھی۔
چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ کا وعدے پر ایمان اس کے جذبات اور ذہنی احساسات سے بڑھ کر تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اپنی زندگی، اپنی شہرت، حفاظت اور اس وعدے کے بارے میں حال کی اور مستقبل کی امید وں کو بلکہ سب کچھ داﺅ پر لگانا پڑا۔ کیونکہ اس کو یقین تھاکہ وہ فرمانیرداری کے ساتھ انتظار کر رہا ہے۔ تاہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ہمیں بتاتی ہے۔ کیسے اس نے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر بھروسہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اُسکو ایک بیٹا دے گا۔ اور ایسا کرنے سے حضرت ابراہیم ؑ راستباز قرار دیا گیا۔ حقیقی معنوں میں حضرت ابراہیم ؑ نے وعدے کی مکمل اطاعت کی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس کا انتخاب نہ کیا ۔کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کا انکار کر دیںاور اپنے آبائی ملک واپس چلیں جائیں۔ لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان رکھا۔ نماز پڑھتے اور دوسرے لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ اس صورت حال میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی مذہبی فرائض کو جاری رکھالیکن یہ کام راستبازی کمانے کے لیے نہیں کرتے تھے۔ جس طرح قرآن شریف حضرت آدم ؑ کی اولاد سے ارشاد فرماتا ہے۔

سب سے بہترین لباس راستبازی کا ہے

یہ حضرت ابراہیم ؑ کا طریقہ کار ہے۔
اب تک ہم بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے۔ کہ ہم اپنے نیک کاموں سے جنت کما نہیں سکتے۔ بلکہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کرنے سے مل جاتی ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ہم تیسری نشانی جاری رہیں گے۔

(حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی (برکات

حضرت ابراہیم ؑ ! آپ ابراہیم اور ابرام کے نامو ں سے جانے جاتے ہیں۔ تینوں وحدانی مذاہب ، یہودیت، عیسائیت اور اسلام آپ کے نمونہ کی پیروی کرتے ہیں۔ عرب اور یہودی اپنے جسمانی نسب نامے کو حضرت اسمعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ کے ساتھ ملاتے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ نبیوں کی فہرست میں اہم ترین نبی ہیں۔ کیونکہ ان کی نشانی تمام انبیاءکے لیے بنیاد ہے۔لہذا ! انہوں نے ایسا کیا کیا جو اُن کے کردار کو تمام انبیاءاکرام کے لیے اہم کردار بنا دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب انتہای اہم ہے۔ اس کو جاننے کے لیے ہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانیوں میں سے چند ایک پر غور کریں گے۔
یہاں پر کلک کریں۔ قرآن شریف اور تورات شریف میں سے حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی کو پڑھنے کے لیے۔
ہم نے قرآن شریف کی آیات میں سے دیکھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے ’قبائل ‘ آئے ہیں۔ اور ان لوگوں نے بعد میں ایک عظیم بادشاہت حاصل کی تھی۔ لیکن ایک شخص کے پاس ایک بیٹا ہوناضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ اُس کے پاس قبیلے ہوں۔ اس سے پہلے کہ لوگ ایک عظیم بادشاہی قائم کریں۔ اور اُن کے پاس جگہ ہو نابھی ضروری ہے۔

 یہ حوالہ تورات شریف میںسے لیا گیا ہے۔ تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش 12 :2-3 ۔ اس میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ سے آنے  والے ’قبائل اور ایک عظیم بادشاہت کی دوہری تکمیل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ وعدہ کرتا ہے۔کہ جو آنے والے مستقبیل کے لیے بنیاد ہے۔ آیئں ہم اسکو تفصیل سے دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑسے فرماتا ہے۔

اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناﺅ نگا اور برکت دونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔ سو تو باعث برکت ہو!۔´ جو تجھے مبارک کہیں اُنکو میں برکت دونگا اور جو تجھ پر لعنت کرے اُس پر میں لعنت کرونگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائینگے۔´ پیدایش 12  :2-3

حضرت ابراہیم ؑ کی عظمت

آج مغرب میں بہت سے لوگ جہاں میں رہتا ہوں تعجب میں رہتے ہیں۔ کہ اگر خدا ہے ۔ تو ایک شخص کیسے جان سکتا ہے ۔ کہ اس نے خود کا انکشاف حقیقی طور پر تورات شریف میں کیا ہے۔ اب ہمارے پاس ایک وعدہ ہے۔ جس کے حصوں کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے برائے راست وعدہ کیا ہے۔ ’میں تیرانام سرفراز کرونگا۔ ‘ آج ہم اکیسو یں صدی میں موجود ہیں اور حضرت ابراہیم ؑابراہامابرام واحد نام ہے جو تاریخی طور پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ یہ وعدہ تاریخی اور لفظی طور پر پورا ہوچکا ہے۔ آج جو تورات شریف کا قدیم ترین نسخہ بخرہ مردار سے ملا جس کی تاریخ 100-200 ق م ہے۔(دیکھیں ہمارا مضمون ”کیا سنت ِرسول اس کی تصدیق کرتی ہے کہ تورات شریف، انجیل شریف اور زبور شریف لاتبدیل ہیں یا نہیں“) اس کا مطلب ہے کہ یہ وعدہ تقریباً تھوڑے ہی عرصے بعد تحریری ہوگیا۔ اُس وقت تک حضرت ابراہیم ؑ کی شخصیت اور نام بہت زیادہ مشہور نہیں ہوا تھا۔ صرف چند یہودی اُس کو جانتے تھے۔ جو توریت کے پیروکار تھے۔ لیکن آج ہم حضرت ابراہیم ؑکے نام کی عظمت جانتے ہیں۔ ہم یہاں دیکھ سکتے ہیںکہ یہ تمام وعدے لکھے جانے سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں پورے ہوئے۔ حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ یہ وعدہ یقینی طور پر پورا ہوا۔ یہ غیر ایمانداروں کے لیے بھی واضح ہے۔ اور اس سے ہمیں وعدے کے باقی حصّے کو سمجھنے میں زےادہ اعتماد ملتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ کیا تھا۔ آئےں ہم مطالعہ کو جاری رکھیں۔

ہمارے لیے برکات

ہم ایک بار پھر وعدہ کو دیکھے سکتے ہیں۔ ابراہیم ؑ سے ایک بڑی قوم بناو نگا اور اور اس کو برکت دونگا۔ لیکن یہاں ایک اور خاص بات پائی جاتی ہے۔ کہ یہ برکات صرف ابراہیم ؑ کے لیے نہیں تھی۔ بلکہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ © ’ ’ زمین کے سب قبیلے (لوگ) تیرے وسیلے سے برکت پائینگے“۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کون سے مذہب سے ہیں، ہمارا کون سا نسلی پس منظرہے، کہاں ہم رہتے ہیں، ہماری معاشرے میں کیا حیثیت ہے اور کون سی ہم زبان بولتے ہیں۔ یہ وعدہ آج ہم سب کو اِس میں شامل کرتا ہے۔ اگرچہ ہمارا مذہب، نسلی پس منظر، اور زبان مختلف ہیں۔ لیکن اکثر لوگ تنازعات کی وجہ سے اس کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ یہ ایک وعدہ ہے جسکو ہمیں ان تمام تر تنازعات سے بالا تر ہو کر دیکھنا چاہیے۔
کیسے، کب اور کس قسم کی برکات؟ یہ واضح طور پر ظاہر نہیں ہوئی لیکن یہ وعدہ حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعے ایک نشانی کو ظاہر کرتا ہے جو تمہارے اور میرے لیے معنی خیز ہے۔ہم جانتے ہیں کہ وعدہ کا ایک حصہ پورا ہوگیا ہے۔ ہم اعتماد کر سکتے ہیں کہ وعدے کا اگلا حصّہ جس میں ہم شامل ہیں واضح اور لفظی طور پر پورا ہوگیاہے ۔ صرف اس کو کھولنے کے لیے ہمیں چابی کی ضرورت ہے۔
لیکن یہاں توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہ وعدہ ملا اُس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی ۔
”سو ابراہیم ؑ خداوند کے کہنے کے مطابق چل پڑا (آیت ۴)

map-of-abrahams-trek
حضرت ابراہیم علیہ السلامکے سفر کا نقشہ

ملکِ موعودہ تک یہ کتنی دیر کا سفر تھا؟ یہ نقشہ ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کے سفربارے میں دکھاتا ہے۔کہ حضرت ابراہیم ؑ اُور کا رہنے والا تھا۔ ( آج کا جنوبی عراق) اور پھر حاران چلے آئے(آج کا شمالی عراق) پھر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا سفراُس وقت جو ملکِ کعنان کہلاتاتھاکی طرف کیا ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ ایک لمبا سفر تھا ۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اونٹ پر یا گھوڑے یا پھر گدھوں پر سفر کرنا تھا۔ اس میں کئی ماہ لگ گے۔ ابراہیم ؑ نے اپنے خاندان کو چھوڑا ، اپنی آرام دہ اور پُر سکون زندگی کو چھوڑا ( میسوپوٹا میا = مسوپتامیہ اُس وقت تہذیب کا مرکز تھا۔ جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے چھوڑدیا) اپنے محفوظ ملک کو چھوڑ کر وہ ایک ایسے ملک کے لیے سفر شروع کردیا جس سے وہ واقف نہیں تھا۔ یہ سب کچھ ہم کو تورات شریف بتاتی ہے۔ جب وہ 75 سال کا تھا۔

گذشتہ انبیاءکی طرح جانوروں کی قربانیاںکا طریقہ کار:
تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کی جب حضرت ابراہیم ؑ ملکِ کعنان خیریت سے پہنچ گئے۔ تو
آیت 17 (اُس نے وہاں خداوند کے لیے ایک قربان گاہ بنائی)
حضرت ابراہیم ؑ نے ایک قربان گاہ بنائی ۔ جیسی پہلے حضرت قائن ؑ نے اور بعد میں حضرت نوح ؑ نے بنائی۔ وہاں اُس نے قربان گا ہ پر جا نوروں کی قربانیاں پیش کی۔ ہم یہاں پر ایک نمونہ کو دیکھ سکتے ہیں۔کہ کس طرح انبیاءاکرام نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور عبادت کی۔
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ایک نئی سر زمین پر چلے گے۔ لیکن ایسی فرمانبرداری کرنے کے باعث اللہ تعالیٰ نے دو برکات کا وعدہ کیا۔ اُس کو برکت دی اور دنیا کے قبیلے حضرت ابراہیم ؑ کے وسیلے برکت حاصل کریں گے۔ اسلئے یہ ہمارے لیے بہت زیادہ اہم ہے۔
لیکن ہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی کو جاری رکھیں گے۔ ہماری اگلی پوسٹ دیکھیں۔

حضرت لوط کی نشانی

حضرت لوط ، حضرت ابراہیم  کے بھتیجا تھا۔ اُس نے بدی سے بھرے شہر میں رہنے کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس حالت کو تمام بنی نوع انسان کے لیے نبوتی نشان کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن یہ نشان کیاہے؟ اس کے جواب کے لیے ہمیں اس موجود تمام لوگوں کو بڑے غور سے جانناہوگا۔

یہاں پر کلیک کریں قرآن شریف اور تورات شریف کے حوالہ جات کو پڑھنے کے لیے) ہم قرآن شریف اور تورات شریف کے اس حوالے میں تین لوگوں کے گروہ دیکھتے ہیں۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فرشتے۔ آئیں ہم باری باری ان کے بارے میں غور سے دیکھیں

:سدوم کے مرد

یہ آدمی انتہای گمراہی کا شکار تھے۔ ہم نے دیکھا کے یہاں آدم دوسرے مردوں کے ساتھ جبراً زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ (یہ حقیقی طور پر فرشتے تھے۔ لیکن سدوم کے آدمیوں نے ان کو آدمی سمجھا اور وہ ان سے اجتماعی زیادتی کرنا چاہتے تھے) اس قسم کا گناہ انتہای بُرا تھا اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس شہر کی عدالت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع میں حضرت آدم  کو انتباہ کردیا تھا۔ کہ اُس کی عدالت میں گناہ کی مزدوری موت ہے۔ دوسری اور کوئی قسم کی سزا کافی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم  سے فرمایا۔

 ((پیدایش 17:2

لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تو نے اُس میں سے کھایا تو مرا۔

اس طرح سدوم کے آدمیوں کے گناہ کی سزاموت ہی تھی۔ در حقیقت آسمان سے آگ نازل ہوئی اور پورے شہر کو اور ہر ایک جاندار کو تباہ و برباد کردیا۔ اس کی مثال بعد میں انجیل شریف میں دی گئی ہے۔

رومیوں 23:6

کیونکہ گناہ کی مزدری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوند مسیح یسوع میںہمیشہ کی زندگی ہے۔

:حضرت لوط  کے داماد

حضرت نوح  کی کہانی میں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی عدالت کی اور حضرت آدم  کے نشان کی مطابقت سے تمام دنیا کو سیلاب سے مار ڈالا۔ ہمیں قرآن شریف اور تورات شریف بتاتی ہیں۔ کہ تمام دنیا میں بدی چھاگئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سدوم کے آدمیوں کی عدالت کی کیونکہ اُن کی بدی بہت بڑھ چکی تھی۔ ان سب باتوں کے بعد میں یہ سوچو کہ میں اللہ تعالیٰ کی عدالت سے اس لیے بچ سکتا ہوں۔ کیونکہ میں اُن جیسی بدی نہیں کرتا اور اس طرح میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے بہت سے نیک کام کئے ہیں۔ اور میں نے اُن جیسے بُرے کام نہیں کئے۔ تو کیا میں محفوظ ہوں؟ حضرت لوط  کی نشانی اُس کے دامادوںکے بارے میں مجھے خبردار کرتی ہے۔ کہ وہ اُس گروہ میں شامل نہیں تھے۔جو اجتماعی زیادتی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم اُنہوں نے آنے والی عدالت کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا تھا۔ دراصل تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ وہ سمجھے تھے کہ حضرت لوط ؑ اُن سے مذاح کر رہا ہے۔ کیا اُن کی قسمت اُس شہر کے آدمیوں سے فرق تھی؟ نہیں! بلکہ انہوں نے ایک طرح کی قسمت پائی۔ حضرت لوط  کے دامادوں اور اُس سدوم کے آدمیوں کے نتائج میں کوئی فرق نہ تھا۔ یہ نشان ہر ایک لیے تھا کہ وہ اس کو سنجیدگی سے لیں۔ یہ صرف اُن جنسی گمراہ آدمیوں کے لیے ہی نہ تھا۔

:حضرت لوط  کی بیوی

حضرت لوط  کی بیوی ہمارے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔ قرآن شریف اور تورات شریف دونوں حوالہ جات بتاتے ہیں کہ اُس نے دوسرے لوگوں کے ساتھ سزا پائی۔ اور یہ ایک نبی کی بیوی تھی۔ لیکن اُس کا قریبی رشتہ بھی اُس کو نہ بچا سکا۔ حتٰی نہ وہ بدی میں گمراہ تھی اور نہ ہی وہ سدوم کے آدمیوں کی طرح اُن کی بدی میں شامل تھی۔ لیکن فرشتوں نے اُن سب کو حکم دیا تھا۔

(سورة ھود11: 81 )
فرشتوں نے کہا کہ لُوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہر گز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت اُن پر پڑے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ اُن کے (عذاب) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟۔

پیدایش17:19

 ۔۔۔ نہ تو پیچھے مُڑ کر دیکھنا ۔۔۔

اور تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش ہمیں بتاتی ہے کہ (آیت 17:19)اُس نے پیچھے مُڑ کردیکھا۔ اس کی وضاحت ہمارے پاس نہیں ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اُس نے یہ سوچا ہوگا۔ کہ کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ کے اس چھوٹے سے حکم کو نظرانداز کر دیتی ہوں۔ لیکن اُس کے لیے یہ ایک چھوٹا گناہ بھی اُس طرح تھا جیسے سدوم کے آدمیوں نے بڑا گناہ کیااور مرگے۔ یہ میرے لیے اہم ترین نشانی ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا گناہ بھی مجھے اللہ تعالیٰ کی عدالت سے چُھپ نہیں سکتا۔ حضرت لوط  کی بیوی کا نشان ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہمیں اس طرح کی غلط سوچ نہیں سوچنی۔

:اللہ تعالیٰ ، حضرت لوط  اور فرشتے

جیسے ہم نے حضرت آدم  کی نشانی میں دیکھا۔ جب بھی اللہ تعالیٰ عدالت کرتا ہے۔ اُس کے ساتھ اپنا رحم بھی نازل فرماتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کی نشانی میں اُس نے اُن کے لیے کپڑے فراہم کئے۔ حضرت نوح  کی نشانی میں جب اللہ تعالیٰ نے عدالت کی تو ایک بار پھر کشتی کی صورت میں اپنا رحم فراہم کیا۔ ہم اس کو ایک بار پھر دیکھتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدالت کی تو اُس کے ساتھ اپنی رحمت بھی فرمائی۔ اسکا بیان تورات شریف میں کیا ہے۔

پیدایش 16:19

مگر اُس نے دیر لگائی تو اُن مردوں نے اُسکا اور اُسکی بیوی اور اُسکی دونو بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا کیونکہ خداوند کی مہر بانی اُس پر ہوئی اور اُسے نکال کر شہر سے باہر کردیا۔

ہم اس میں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ابتدائی نشانیوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت عالمیگری تھی لیکن یہ فراہم صرف ایک ہی راہ سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو شہر سے باہر نکلنے کی راہنمائی نہیں کی تھی۔ مثال کے طور پر رحمت فراہم کرناشہر میں ایک پناہ فراہم کرنے کے مترادف تھا۔ جو آسمان سے آگ کو برداشت کرسکتی تھی۔ لیکن یہاں رحمت حاصل کرنے کا صرف ایک ہی راہ تھا۔ کہ فرشتوں کی راہنمائی میں شہر سے باہر نکل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ رحم اس لیے حضرت لوط  اور اُس کے خاندان پر نازل نہیں کیا تھا کہ وہ کامل تھا۔ سچ یہ ہے۔ کہ ہم نے تورات شریف اور قرآن شریف دونوں میں پڑھا کہ حضرت لوط ؑ اُس گمراہ گروہ کو اپنی بیٹیاں پیش کرنے کو تیار تھے۔ شاید یہی ایک عظیم ترین اشارہ ہے۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت لوط  ہچکچاتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے یہ سب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت فرمائی اور اُن کو اُس گمراہ گروہ سے باہر نکالنے کی راہنمائی بھی کی۔ یہ نشانی ہمارے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت پر نازل کریں گا۔ لیکن یہ ہمارے نیک کاموں کی وجہ سے نہیں ہے۔ لیکن لوط  کی طرح پہلے ہمیں اُسکی رحمت کو قبول کرنا ہے۔ تاکہ ہماری مدد ہوسکے۔ حضرت لوطؑ کے دامادوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا۔ جسکی وجہ سے وہ اس سے فائدہ اُٹھا نہ سکے۔

تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط  پر اپنی رحمت اسلئے نازل کی۔ کیونکہ اُس کا چچا حضرت ابراہیم  جو ایک عظیم نبی تھا۔ اُس نے شفاعت کی تھی۔ (حوالے کو پڑھنے کے لیے کلیک کریں) اور پھر تورات شریف حضرت ابراہیم  کی نشانی اور اُس وعدے کو جو اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔ ’سب زمین کی قومیں تجھ سے برکت پائیں گی۔ کیونکہ تونے میری فرمانبرداری کی ہے۔ ( پیدایش 18:22) یہ وعدہ ہمیں خبردار کرتا ہے۔ کہ اسکا کوئی مطلب نہیں کہ ہم کون سی زبان بولتے ہیں۔ ہمارا کیامذہب ہے، یا ہم کہا رہتے ہیں؟ لیکن یہ ہم جان سکتے ہیں ۔ کہ تم اور میں دونوں زمین کی سب قوموں کا حصہ ہیں۔ تاہم اگر حضرت ابراہیم  کی شفاعت سے اللہ تعالیٰ حضرت لوط  کے لیے اپنی رحمت عطاکر سکتا ہے ۔ جب کہ وہ اُس معیار پر بھی پورا نہیں اُترتا تھا۔ تو پھر حضرت ابراہیم  کی نشانیوں سے کس قدر ہمیں رحمت مل سکتی ہے۔ جو پوری دنیا کی قوموں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سوچ کے ساتھ ہم تورات شریف کے انبیاءاکرام کے بارے میں اپنا سفر جاری دیکھیں گے کہ تورات شریف ہمیں حضرت ابراہیم  کی نشانی کے بارے میں کیا بتاتی ہے۔