حضرت نوح ؑ کی نشانی

یورپ میں بہت سے لوگ حضرت نوح ؑ کے سیلاب کی کہانی کو نا قابلِ یقین قرار دیتے ہیں ۔ لیکن پوری دنیا تلچھٹ پتھروں سے بھری پڑی ہے۔ یہ پتھر سیلاب کے دوران بنتے ہیں اور اُسی مٹی میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس سیلاب کے مادی شواہد موجود ہیں۔ لیکن حضرت نوح ؑ کا ہمارے لیے کیا نشان ہے؟ اورکس طرح یہ توجہ طلب بات ہے؟

تورات شریف اور قرآن شریف کے حوالہ جات کو تلاوت کرنے کے لیے برائے مہربانی یہاں (کلک کریں) ۔

جب کبھی میں  یورپی لوگوں سے قیامت کے دن کی بات کرتا ہو تو اکثر مجھے یہ جواب سننے کو ملتا ہے۔” میں قیامت کے دن کے بارے میں فکر مند نہیںہو کیونکہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ قیامت کے دن میری عدالت کریں گا۔ حضرت نوح ؑکے اس حوالے میں مجھے پھر ایک منظقی سوال کرنے کی وجہ ملتی ہے۔ جی ہاں! اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے۔ اور جب تک وہ گمراہ نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ حضرت نوح ؑکے دور میں رحم کرتا رہا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا ( حضرت نوح ؑاور اُسکے خاندان کو نکال کر) کی عدالت کی اور ان کو تباہ کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا رحم کہا تھا؟ وہ رحم کشتی میں تھا۔

جس طرح سورة ھود 64 آیت میں لکھا ہے۔

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم! خدا کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی (یعنی معجزہ) ہے۔ تو اس کو چھوڑدو کہ خدا کی زمین میں ( جہاں چاہے ) چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

اللہ تعالیٰ حضرت نوح ؑکو اپنی رحمت پیش کرنے میں استعمال کرتا ہے اور اُسکے وسیلے ایک کشتی سب کے لیے فراہم کرتا ہے۔ کوئی بھی اُس کشتی میں داخل ہوسکتا تھا اُسکی رحمت اور حفاظت کو حاصل کرسکتا تھا۔مسلئہ یہ تھا کہ تقریباً سب لوگ اُس پیغام پر ایمان نہ لائے تھے۔ انہوں نے حضرت نوح ؑ کا مذاق اڑایا اور آنے والی قیامت پر یقین نہ کیا۔ صرف وہ اسی صورت میں قیامت سے بچ سکتے تھے کہ وہ کشتی میں داخل ہو جائیں ۔ قرآن شریف کا حوالہ ہمیںبتاتا ہے۔ کہ حضرت نوح ؑ کے ایک بیٹے نے نہ تو اللہ تعالیٰ پر نہ ہی آنے والی قیامت پر ایمان لایا۔ در حقیقت وہ پہاڑ پرچڑھ کر یہ دیکھا رہا تھا کہ وہ اپنی کوشش سے اللہ تعالیٰ کی قیامت سے بچ سکتا ہے۔ ( دراصل اُسکو بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی قیامت پر ایمان لانا ضرور تھا ) لیکن یہاں پھر ایک مسلئہ تھا ۔ کہ اُس نے اپنے عقیدے کو نہ مانا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس قیامت میں سے خود رہائی حاصل کرے گا۔ لیکن اُس کے باپ نے اُس کو بتادیا تھا۔

آج کے دن تمہیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے کو ئی نہیں بچا سکتا لیکن وہی بچ سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے رحم کو حاصل کرے گا۔اس کے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے رحم کو ضرورت تھی نہ کہ وہ اپنی کوششوں سے قیامت سے بچتا۔ اُس کی پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش بیکار گئی۔

 تاہم نتیجہ اُس کے لیے بالکل وہی نکلا جیسا حضرت نوح ؑ پر مذاق کرنے والوں کا ہوا اور وہ ڈوب کر مر گیا۔ اگر صرف وہ کشتی میں داخل ہو جاتا تو وہ قیامت سے بچ سکتا تھا۔

اس سے ہم اس بات کا ےقین کرسکتے ہیں ۔ کہ محض اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان لانا بچنے کے لیے کافی نہیں، درحقیقت ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرنا ہے جسکو اُس نے ہمارے لیے فراہم کیا ہے۔ اس کے برعکس کہ ہم اپنے خیالات سے کس طرح رحم حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت نوح ؑ کی کشتی ہمارے لیے نشان ہے۔ یہ ایک بہت بڑی قومی علامت ہے۔ جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی قیامت اور اُس سے بچ جانے کا مطلب بتاتی ہے۔ جب یہ کشتی بن رہی تھی ۔ تو اس کو دیکھنے والوں کے لیے نشان تھا کہ اللہ تعالیٰ کی قیامت اور رحمت دونوں موجود ہیں۔

لیکن یہ ہم پر ظاہر کرتا ہے۔ کہ ہم اُسکی رحمت کو اُسی طرح حاصل کرسکتے ہیں ۔ جس طرح اُس نے ہمارے لیے فراہم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُس وقت سے اس طریقہ کو تبدیل نہیں کیا اور یہ ہم پر اُسی طرح لاگو ہو گا۔

تمام انبیاءاکرام ہمیں آنے والیٰ قیامت کے بارے خبردار کرتے ہیں جو آگ کے ساتھ ہوگی۔ لیکن حضرت نوح ؑ کی نشانی سے اللہ تعالیٰ ہمیں یقین کرواتا ہے کہ اُس آنے والی قیامت کے ساتھ اُسکی رحمت بھی ہوگی۔ لیکن ہمیں اُس کشتی پر نظریں جمائے رکھنا ہے۔ کیونکہ اُس کے وسیلے سے رحمت یا بچ جانے کا وعدہ ہے۔

تورات بھی ہمیں حضرت نوح ؑ کے بارے میں بتاتی ہے۔

تورات کی پہلی کتاب

 پیدائش 20:8

تب نوح نے خداوند کے لیے ایک مذبح بنایا اور سب پاک چوپایوں اور پاک پرندوں میں سے تھوڑے سے لے کر اُس مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھائیں۔

یہ بات حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ اور حضرت ہابیل ؑ اور حضرت قابیل ؑ کے قربانی کے نمونے پر ثابت آتی ہے۔ کہ کس طرح ایک جانور کے خون بہانے اور اس کی موت کے و سیلے سے ہمیں اس کا مطلب ملتا ہے۔کہ کس طرح حضرت نو ح ؑ نے قربانی کی اور اللہ تعالیٰ نے اسکو قبول کرلیا۔ یہ کتنی اہم بات ہے؟

 تورات شریف کے اگلے نبی حضرت لوط ؑکے ساتھ ہم اپنے سروے کو جاری رکھیں گے۔

 

حضرت ہابیل اور حضرت قابیل ہمارے لیے نشان

حضرت ہابیل اور حضرت قابیل ہمارے لیے نشان

گذشتہ مضمون میں ہم نے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کی نشانیوں کے بارے میں دیکھا ۔حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے دو بیٹے تھے۔ جنہوں نے ایک دوسرے کا سامنا بڑے تشدد کے ساتھ کیا۔ یہ کہانی ہے انسانی تاریخ کے پہلے قتل کی۔ لیکن ہم اس کہانی سے عالمگیر اصول سیکھنا چاہتے ہیں ۔ چلیں آئیں پڑھیں اور سکھیں ۔

سورہ المائدہ 5 : 28-31

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائیگا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لیے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاونگا۔  مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرئہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔

مگر اس کے نفس نے اُس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اُسنے اُسے قتل کر دیا اور خسارہ اُٹھانیوالوں میں ہوگیا۔

اب اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اُسے دکھا ئے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے، کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپادیتا۔ پھر وہ پشمان ہوا۔

پیدائش 4 : 1-12 

اور آدم اپنی بیوی حوا کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور اسکے قائن پیدا ہوا۔ تب اُس نے کہا مجھے خداوند سے ایک مرد ملا

پھر قائن کا بھائی ہابل پیدا ہوا اور ہابل بھیڑ بکریوں کا چرواہا اور قائن کسان تھا۔

چند روز کے بعد یوں ہوا کہ قائن اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خداوند کے واسطے لایا۔

اور ہابل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں کا اور کچھ اُن کی چربی کا ہدیہ لایا ۔ اور خداوند نے ہابل کو اُس کے ہدیہ کو منظور کیا۔

پر قائن کو اور اُسکے ہدیہ کو منظور نہ کیا اس لیے قائن نہایت غضبناک ہوا اور اُس کا منہ بگڑا۔

اور خداوند نے قائن سے کہا تو کیوں غضبناک ہوا؟ اور تیرا منہ کیوں بگڑا ہوا ہے۔ ؟ ۔

اگر تو بھلا کرے تو کیا تو مقبول نہ ہو گا؟ اور اگر تو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے پر تو اس پر غالب آ۔

اور قائن نے اپنے بھائی ہابل کو کچھ کہا اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یوں ہوا کہ قائن نے اپنے بھائی ہابل  پر حملہ کیا اور اسے قتل کرڈالا۔

تب خداوند نے قائن سے کہا کہ تیرا بھائی ہابل کہا ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں ۔ کیا میں اپنے بھائی کا محافظ ہو؟ ۔

پھر اس نے کہا کہ تو نے یہ کیا کِیا؟ تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھکو پکارتا ہے۔

اور اب تو زمین کی طرف سے لعنتی ہوا۔ جس نے اپنا منہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لے ۔

جب تو زمین کو جوتے گا تو وہ اب تجھے اپنی پیداوار نہ دیگی اور زمین پر تو خانہ خراب اور آوار ہوگا۔

حضرت ہابیل اور قابیل دو بیٹے دو قربانیوں کے ساتھ

تورات شریف میں حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے دو بیٹے ہیں ۔ جن کے نام قائن اور ہابل ہیں ۔ قرآن شریف میں اُن کے نام درج نہیں ۔ لیکن اسلامی روایت میں اُن کے نام قابیل اور ہابیل ہیں ۔ اُن دونوں نے اپنی اپنی قربانی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کی۔ لیکن ہابیل کی قربانی قبول ہوگی اور قابیل کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ اسی حسد میں قابیل نے اپنے بھائی کا قتل کردےا۔ لیکن قابیل اپنی شرمندگی اللہ تعالیٰ سے چھپا نہ سکا۔

یہاں ایک اہم ترین سوال یہ ہے۔ کیوں ہابیل کی قربانی قبول ہوگی اور قابیل کی قربانی نہ قبول ہوئی؟ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سوال کا جواب دونوں بھائیوں میں پوشیدہ ہے۔ لیکن غور سے مطالعہ کرنے سے حوالہ ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ کہ ہم اس سوال کے بارے میں سوچیں ۔ تورات شریف ہمیں یہ بتاتی ہے۔ کہ اُن کی قربانیوں میں فرق تھا۔ قابیل کھیت کا پھلاور سبزیاں لایا، اسطرح ہابیل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں کی چربی قربانی کے طور پر لایا۔ اسکا مطلب ہے کہ ہابیل نے ایک جانور اپنے گلہ سے قربان کیا۔ یہ جانور بھیڑ یا بکری تھی۔

یہاں پر ہم حضرت آدم ؑ کا ایک ظاہری نشان دیکھ سکتے ہیں ۔حضرت آدم ؑ نے کوشش کی کہ وہ اپنی شرمندگی پتوں سے چھپالے، لیکن ایک جانور کی کھال سے (جانور کی موت) اُن کو موثر طریقے سے ڈھانپ دیا۔ پتوں ، پھلوں اور سبزیوں میں خون نہیں ہوتا اور اسی طرح لوگوں اور جانوروں میں اس قسم کی زندگی نہیں ہوتی۔ خون کے بغیر پتے حضرت آدم ؑ کے لیے کافی نہ تھے اسطرح خون کے بغیر پھل اور سبزیاں قابیل کی قربانی بھی قابل ِ قبول نہ تھی۔ ہابیل کا قربانی کے لیے لائی ہوئی چربی سے ظاہر تھا کہ کسی جانور کا خون بہایا گیا تھا۔ جس طرح حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے چمڑے کے کپڑے بنانے کے لیے جانور کا خون بہایا گیا۔

شاید ہم اس نشانی کو اس محاورے کے ساتھ مختصرً کر سکتے ہیں۔ جب میں لڑکا تھا تو میں نے اس محاورے کو سیکھا۔

جہنم کو جانے والا راستہ کھولا ہے اور دلکش

یہ محاورا قابیل پر ثابت آتا ہے ۔وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا اور اُس کے حضور قربانی چڑھتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ تو اُس کی قربانی کو قبول کیا نہ ہی اُس کو قبول کیا۔ لیکن کیوں؟ کیا اُس کا رویہ ٹھیک تھا؟ ہوسکتا ہے قربانی چڑھانے کے لیے اُسکی بہترین کوشش ہو۔

 لیکن یہاں پر حضرت آدم ؑ کی نشانی سے ہمیں سراغ ملتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کو فیصلہ سُنایا۔ تو اُن کو فانی بنادےا۔ اسطرح موت اُن کے گناہ کی ادائیگی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو نشانی دی کہ ایک جانور کی کھال سے اُن کی شرمندگی ڈھانپ دی گئی۔ لیکن اسکا مطلب ہے کہ ایک جانور اُن کے لیے مرگیا۔ اُسکا خون بہایا گیا تاکہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کی شرمندگی ڈھانپی جائے۔ اب اُن کے بیٹوں نے قربانیاں لائیں لیکن ہابیل کی قربان(چربی کے حصہ) سے ظاہر ہے کہ خون بہایا گیا اور موت واقع ہوئی۔ پتے یا پھل اُس وقت تک مر نہیں سکتے جب تک وہ زندہ نہ ہو۔ اس طرح اُس میں خون نہیں بہایا گیا تھا۔

خون کا بہایا جانا ہمارے لیے نشانی ہے

اللہ تعالیٰ ہمیں یہاں ایک سبق سکھا رہے ہیں ۔ ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ اللہ تعالیٰ تک ہم کیسے رسائی حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے معیار مقرر کردیا ہے ۔ اب ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اُس کاحکم مانے یا نہ مانے۔ معیار یہاں پر یہ ہے کہ قربانی دی جائے جس میں خون بہانا اور موت واقع ہو۔ شاید میں کسی دوسرے معیار کو تر جیح دونگا کیونکہ پھر میں اپنے وسائل میں سے دے سکوں گا۔ یعنی میں وقت ، توانائی ، پیسہ اور دُعا کرسکوں گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا معیار ہے قربانی دی جائے جس میں خون بہایا جائے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی کافی نہیں ہے۔ آئیں ہم دیکھیں کہ کس طرح پیشن گوئی پوری ہوتی ہے اور کس طرح سے یہ نشان جاری رہتا ہے۔

حضرت آدم ؑ کا نشان

حضرت آدم ؑ اور اُس کی بیوی حضرت حواؑ منفرد(ان دونوں کی مانند کوئی نہ تھا) تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنے ہاتھوں سے خود بنایا تھا اور وہ باغ جنت میں رہتے تھے۔ اصل عبرانی زبان میں آدم کا مطلب ہے ”مٹی“اس کا مظہر یا اظہار ہے کہ وہ زمین یا مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ باقی تمام تر انسانیت حضرت آدم ؑ اور حواؑ سے ہے۔ وہ انسانی نسل کے ’سر یا جدااِمجد‘ ہیں اور ہمارے لیے ایک اہم نشان ہیں۔ میں نے حضر ت آدم ؑ کے بارے میں دو متوازی حوالہ جات پر غور کیا جو قرآن شریف میں سے ہیں اور ایک پیدائش کی کتاب میں سے جو حضرت موسیٰ کی کتاب تورات شریف کی پہلی کتاب ہے۔

(یہاں پر اِن حوالہ جات کو کھولنے کے لیے کلک کریں)

جب میں نے اِن حوالہ جات کا مطالعہ کیا۔ جو پہلا مشاہدہ میں نے کیا وہ یہ تھا کہ اِ ن حوالہ جات میں مماثلت پائی جاتی تھی۔ اِن دونوں حوالہ جات میں کردار یکساں تھے ( اللہ تعالیٰ ، حضرت آدم ؑ، حواؑ اور شیطان) دونوں حوالہ جات میں (جنت کا باغ) کی جگہ بھی ایک ہی تھی۔ دونوں حوالہ جات میں شیطان نے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ سے جھوٹ بولا اور اُنہیں دھوکا دیا۔ اِن دونوں حوالہ جات میں آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ نے اپنی برہنگی کو چھُپانے کے لیے زیتون کے پتوں سے ڈھانکا۔ اِن دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ نے اِن سے با ت کی اور اُن کی عدالت کر کے فیصلہ سُنایا ۔ اِن دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ اور حواؑ پر کرم کی نظر کرتا ہے اور اُن کو کپڑے فراہم کرتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی برہنگی چھوپا لیں ۔

قرآن شریف ہمیں حضرت آدم ؑ کی اولاد ( جسکا مطلب ہے ہم) کہہ کر متعارف کرواتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ صرف ماضی کے مقدس واقعات کی تاریخ کا سبق نہیں ۔ بلکہ ہمیں غور کرنا چاہیے ۔ کیونکہ یہ حوالہ واضع طور پر بتاتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ہے اور ہمیں پوچھنا اور دریافت کرنا چاہے کہ یہ ہمارے لیے کس طرح نشانی ہے۔ 

(حضرت آدم ؑ ہمیں انتباہ کرتے ہیں)

ہمیں واقعی اس بات کو بڑی سنجیدگی سے لینا چاہے۔ کہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ نے صرف ایک (1)ہی بار سرکشی کی اور اُن کو اللہ تعالیٰ سے اُس کی سزا ملی۔ مثال کے طور پر اُن کے پاس موقعہ نہیں تھا کہ وہ نو (9) بار نافرمانی کرتے اور دسویں(10) بار اللہ تعالیٰ اُن کو سزا دیتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو صرف ایک ہی نافرمانی پر فیصلہ کن سزا دی۔ مغرب میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والو ں کا خیال ہے، کہ اللہ تعالیٰ اُن کو سزا دے گا جب وہ بہت زیادہ گناہ کرلیں گے۔ اس کے لیے وہ یہ وجہ بیان کرتے ہیں۔ کہ اگر اُن کے گناہ دوسروں کی نسبت کم ہوئے یا پھر اُن کے زیادہ کام اچھے ہوئے تو شائد اللہ تعالیٰ اُن کی عدالت نہیں کرے گا۔

لیکن حضرت آدم ؑ اور حواؑ کے معاملے میں ہمارے لیے ایک انتباہ(خبردار کرنا) ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایک ہی گناہ کے بعض عدالت کرے گا۔ اس مثال سے سمجھیں ۔ ہم ایک مُلک کے قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا موازنہ کرتے ہیں ۔میں جس ملک میں رہتا ہوں ۔ اگر میں اس ملک کا قانون توڑوں ۔ (جس طرح اگر میں ٹیکس کی ادائیگی میں دھوکہ دوں ) تو پھر قانون کے پاس یہ کافی وجہ ہوگی کہ وہ میری عدالت کریں ۔ میں یہ دراخواست نہں کرسکتا کہ میں نے صرف ایک قانون کو توڑا ہے اور میں نے قتل، ڈکیتی یا اغوا کے قوانین کو نہیں توڑا ۔ میرے لیے ایک ہی قانون توڑنا کافی ہے کہ میں اپنے ملک کی عدالت کا سامنا کرو۔ یہ ہی حال اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ہے۔

                                حضرت آدمؑ اور حواؑ کی نافرمانی میں ہمارے لیے ایک نشانی ہے۔ اور اِس کے اگلے اقدامات میں انہوں نے شرمندگی کا تجربہ کیا اور اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے اُنہوں نے زیتون کے پتوں سے اپنے آپ کو چھپایا۔ اس طرح جب میں کوئی نافرمانی کا کام کرتا ہوں تو میں شرمندگی محسوس کرتا ہوں اور اس کو دوسرں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہوں۔ حضرت آدم ؑ اور احو ؑ نے بھی کوشش کی لیکن اُن کی کوشش بےکار گئی۔ اللہ تعالیٰ اُن کی ناکامی کو دیکھا سکتا تھا اور اس کے بعد اُن دونوں نے کیا کام کیا اورکیا بولے۔ آئیں دیکھیں!

(اللہ تعالیٰ کی عدالت اور رحمت)

اگر ہم غور سے مطالعہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا ہے تو ہم کو تین چیزیں ملتی ہیں۔

  1.                  اللہ تعالیٰ نے اُن کو فانی بنایا۔ اب وہ مر جائیں گے
  2. اللہ تعالیٰ نے اُن کو جنت کے باغ سے نکال دیا۔ اب اُن کو زمین پر ایک بہت مشکل جگہ پر رہنا پڑے گا
  3.             اللہ تعالیٰ نے اُن کو چمڑے کے کپڑے فراہم کیے

ان تین عوامل کے بارے میں کیا بات اہم ہے۔ یہ تمام تر چیزیں ہمارے لیے ہیں ۔ یہاں تک کہ آج بھی ہم اِن چیزوں سےمتاثر ہو رہے ہیں ۔ ہر کوئی مرتا ہے، کوئی بھی ابھی تک جنت کے باغ میں واپس نہیں گیا ،یہاں تک  کہ کوئی نبی بھی نہیں گیا۔ سب ابھی بھی کپڑے پہنتے ہیں ۔ درحقیقت تینوں باتیں سب کے لے عام ہیں ۔ ہم نے تقریباً اس حقیقت کو بھولا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےحضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کے ساتھ کیا کیا اور یہ کہ آج بھی ہم کئی ہزاروں سال سے اس کو محسوس کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سے اُس دِن جو ہوا اُس کے نتائج سے ہم آج بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

                            ایک اور بات یہاں پر قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لباس رحمت تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی عدالت کی لیکن اُن پر اپنی رحمت بھی نازل کی۔ اللہ تعالیٰ کو ضرورت نہیں تھی کہ اُن کو یہ چیزیں دیں ۔ یہ کپڑے اُن کو  راستباز کردار کی وجہ سے نہیں ملے  تھے۔ بلکہ اُنہوں نے یہ کپڑے نافرمانی کرنے کی وجہ سے حاصل کیے تھے۔( در حقیقت اُن کا راستبازی کا معیار قرآن شریف اور تورات شریف کے مطابق نہیں تھا)

 یہ راستبازی کا معیارحضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کو اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے مل سکتا تھا ۔ نہ تواُ سکے وہ مستحق تھے اور نہ ہی اُسکے لائق تھے۔ لیکن کسی نے اُن کی قمیت کو ادا کیا تھا۔ یہاں تک کسی کی موت ہوئی تھی ۔ لیکن اب کسی جانور نے ( شاید وہ بھیڑ ، بکری یا کسی بھی صورت میں وہ جانور جس کی کھال موزوں تھی کہ اُس کا لباس بنایا جائے) ا پنی زندگی کی قمیت ادا کی۔ ایک جانور مر گیا تاکہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کر سکیں ۔ قرآن شریف ہمیں اس کے بارے میں مزید بتاتا ہے کہ کپڑے بھی اُن کی شرمندگی کو ڈھانپ نہ سکے۔ لیکن حقیقت میں اُن کو راستبازی کے کپڑوں کی ضرورت تھی۔ یہ لباس رستبازی کی نشانی تھی یہ ہمارے لیے بھی نشانی ہے۔ اس آیت سے جو مشاہدہ میں نے کیا ہے اُسکو میں نے لکھ دیا ہے۔

سورہ الاعراف26:7

اے بنی آدم ہم نے تم پر پوشاک اُتاری کے تمہارا سر ڈھانکے اور( تمہارے بدن کو) زینت دے اور (جو ) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں ۔ تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔

شاید یہ ایک اہم اور اچھا سوال ہے جس کو ہم اپنے ذہین میں رکھ سکتے ہیں ۔ کہ ہم کو کس طرح سے راستبازی کا لباس مل سکتا ہے؟ بعد میں انبیاء اکرام اس اہم سوال کا جواب دیں گے۔

(کلام اللہ قیامت اور رحمت کے بارے میں)

لیکن یہ نشانی جاری رہتی ہے۔ نہ صرف اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ ، حوا ؑ اور ہمارے ساتھ اِن تین باتوں کو جاری رکھتا ہے بلکہ وہ اپنے کلام میں فرماتا ہے۔ ان دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ اُن (سانپ اور عورت) کے درمیان عداوت کی بات کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن تورات میں اللہ تعالیٰ اور واضع طور پر کہتا ہے ۔ کہ یہ عداوت شیطان (سانپ) اور عورت کے درمیان ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لفظ کو دو ہرایا گیا ہے۔  درج آیت میں اس کو بریکٹ میں رکھا ہے۔

پیدائش کی کتاب 3:15

اور میں (اللہ تعالیٰ) تیرے (شیطان) اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا ۔ وہ(عورت کی نسل) تیرے سر کو کُچلے گا اور تُو(شیطان) اُسکی ایڑی پر کاٹیگا۔

یہ ایک پہیلی ہے لیکن سمجھ میں آتی ہے۔ اگر ہم غور سے مطالعہ کریں تو یہاں ہمیں پانچ مختلف کردار ملے گے۔ یہ ایک پیشن گوئی ہے جو مستقبل کے بارے میں بات کرتی ہے۔ لفظ” گا“ بار بار استعمال ہوا ہے جو مستقبل کے زمانے کی بات کرتا ہے

کردار یہ ہیں

  1.             اللہ تعالیٰ
  2.               (شیطان (ابلیس
  3.                عورت
  4.              عورت کی نسل
  5.             شیطان کی نسل

یہ پہیلی کا نقشہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں کس طرح یہ کردار ایک دوسرے سے منسلک ہو نگے۔ ذیل میں تصویر میں دیکھایا گیا ہے۔

SIng of Adam Picture
جنت میں اولاد کے لیے دیا گیا وعدہ

 یہ نہیں بتاتا کہ عورت کون ہے۔ آپ متوجہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ شیطان کی نسل اور عورت کی نسل کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ پُر اسرار بھید ہے

لیکن ہم عورت کی نسل کے بارے میں جانتے ہیں ۔

  (مذکر- وہ-He)کیونکہ جب نسل کا حوالہ دیا جاتا ہے تو اس کے لیے لفظ کو جانتے ہیں کہ یہ واحد مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے (His- اور ( اس – مذکر

اپنے علم کے ساتھ ہم یہاں کچھ ممکنہ مطلب لے سکتے ہیں ۔جیسا کہ نسل کے ساتھ لفظ (وہ ۔ مذکر) استعمال ہوا ہے نہ کہ(وہ۔ مونث) اسی طرح یہ نسل عورت نہیں ہوسکتی ۔لیکن وہ عورت کی نسل سے پیدا ہوگا۔ اسی طرح نسل کے ساتھ لفظ( وہ۔ مذکر) نہ کہ( انہوں ۔ جمع) ہے لہذا لفظ نسل نہ تو کسی خاص لوگوں کے گرُوہ کو ظاہر کرتا ہے نہ ہی یہ کسی قوم یا مذہب کو ظاہر کرتاہے۔ اسی طرح نسل کے ساتھ لفظ( وہ۔ مذکر) استعمال ہوا ہے
نہ کہ ( یہ -لفظ استعمال نہیں ہوا ) نسل ایک شخص ہے‘ یہ واضع کرتا اور اس امکان کو بھی ختم  کردیتا ہے کہ نسل نہ تو کوئی خاص فلسفہ ، تعلیم یا کوئی مذہب ہے۔اسی لیے نسل نہ تو عیسائیت ہے اور نہ ہی اسلام اگر ایسا ہوتا تو پھر لفظ ( یہ ) کا استعمال ہوتا۔
نہ ہی یہ یہودیت ، عیسائیوں اور مسلمانوں کا کوئی گروہ ہے۔اگر ایسا ہوتا تو لفظ ( اُنہیں) استعمال ہوتا۔
اگرچہ نسل کے بارے میں بھید رہتا ہے ۔ لیکن ہم نے تمام ایسی باتوں کوختم کردیا ہے۔ جو قدرتی طور پر ہمارے ذہین میں آسکتی ہیں۔

ہم آگے چل کر اللہ تعالیٰ کے کلا م کو دیکھ سکتے ہیں ( یہ کلام زمانہ مستقبیل میں ہے اور بار بار”گا” لفظ استعمال ہوا ہے)جوکہ اللہ تعا لیٰ کے ذہین میں ایک الٰہی منصوبے کو بیان کرتا ہے۔ یہ نسل (عورت کی نسل)سانپ (شیطان) کا سر کچلے گی اورسانپ اس کی ایڈی پر کاٹے گا۔اس نقطے پر اس بھید کا کیا مطلب ہے یہ واضع نہیں ہوتا ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک الٰہی منصوبہ ہے جس کو کھولا جارہا ہے۔

یہاں ایک اور دلچسپ اور قابلِ غور بات سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کون سی بات حضرت آدم ؑ سے نہیں کہی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ ؑکے ساتھ کسی مخصوص نسل کا وعدہ نہیں کیا جیسے اللہ تعالیٰ نے عورت کے ساتھ وعدہ کیا۔ تورات شریف، زبور شریف اور انجیل شریف میں بڑی غیر معمولی طور پر باپ دادا سے بچوں کے آنے کے ذکر (نسب نامہ) پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔ کینیڈا میں جدت پسند لوگوں کی طرف سے کتاب ِمقدس پر تنقید کی جاتی ہے۔ کہ عورتوں کے ذریعے ملنے والے خونی رشتے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تورات شریف میں دئیے گئے نسب نامہ تقریباً خصوصی طور پر باپ دادا سے بچوں کے آنے کا  ذکرکرتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ ، حضرت حو ؑا سے اور شیطان سے کون سے مختلف وعدے کئے تھے۔ یہاں پریہ وعدہ نہیں کیا گیا کہ وہ نسل (وہ شخص )کسی آدمی سے ہوگی۔ تورات شریف میں لکھا ہے کہ وہ نسل عورت میں سے ہوگی۔

اب تک جتنے بھی انسان پیدا ہوئے اُن میں سے (دو 2) ایسے انسان ہیں جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے ۔ پہلا حضرت آدم ؑ جو اللہ تعالیٰ سے برائے راست خلق ہوئے اور دوسرے حضرت عیٰسی ؑ جو ایک کنواری سے پیدا ہوئے۔ ان کا کوئی انسانی باپ نہ تھا۔ یہ مشاہدہ اس طرح ٹھیک ثابت ہوتا ہے۔ کہ یہ نسل ”وہ شخص“ ہے۔ نہ وہ ایک ”عورت“ یا”زیادہ لوگ“اور نہ ہی”یہ“ہے۔ اس نقطہ نظر میں آپ اس پہیلی کو پڑھیں تو یہ سب جگہوں میں بات ثابت آ جاتی ہے۔ کہ حضرت عیسٰی ؑ ہی وہ نسل ہے جو عورت سے ہے۔ لیکن اُسکے دشمن اور شیطان کی نسل کون ہے؟

اگرچہ ہمارے پاس یہاں وقت نہیں کہ اس کے بارے میں تفصیل سے بات کریں ۔ لیکن کتابیں ایک (تباہی کے فرزند، یا شیطان کے فرزند) کی بات کرتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے القاب کہ وہ ایک ایسے آنے والے انسانی حکمران کا (مسیحا) یعنی مسیح کی مخالفت کرے گا۔

بعد میں کتابیں ایک مستقبیل میں ہونے والے تصادم کی بات کرتی ہیں ۔ جو مسیح (مسیحا) اور مخالفِ مسیح کے درمیان ہوگا۔ دنیا کی ابتدائی تاریخ میں پہلی بار اس بات کا ذکر کیا گیا ۔ لیکن یہاں پرمکمل بات نہیں ہے۔

تاریخ کے عروج میں شیطان اور خدا کے درمیان ایک مقابلے کا اختتام (پیشن گوئی)پہلے سے جس کا ذکر باغِ جنت میں ہوا اور جسکا ذکر قدیم ترین کتاب میں بھی ہے۔ انسانی تاریخ کے آغاز ہی میں خدا نے یکے بعد دیگرے اپنے پیغمبروں کے ذریعے آگاہ کروایا۔ تاکہ ہم بہتر طور پر آنے والے وقت کو سمجھ سکیں ۔ جب ہم حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے بارے میں اُن کے نشانوں پر غور کرتے ہیں تو ہم بہت کچھ سمجھ جاتے ہیں ۔ قرآن شریف اور تورات شریف میں ہمیں بہت سے سراغ ملتے ہیں ۔ تاہم کئی سوال ابھی بھی موجود ہیں اور کئی سوال ہونگے ۔لیکن اس کو ہم اب جاری رکھیں گے انبیاء اکرام کی تعلیمات میں کہ وہ ہمیں کیا سکھاتے ہیں ۔

قراآن شریف میں آدم کا نشان

تورات شریف میں آدم کا نشان

سورة الاعراف7 :19-26

اور (ہم نے )آدم ؑ ( سے کہا کہ ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چا ہو ) نوش جان کرو اس درخت کے پاس نہ جانا ۔ ورنہ گنہگار جاﺅ گے۔19

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ اُن کے ستر کی چیزیں جو اُن سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاﺅ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔ 20

اور اُن سے قسم کھاکر کہا کہ میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔ 21

غرض (مردُود نے ) دھوکا دے کر اُنکو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب اُنہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھالیا تو اُنکے ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے ) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے (اور ستر چھپانے ) لگے تب اُن کے پروردگا ر نے اُن کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور بتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ 22

دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردِگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کےا اور اگر تُو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔ 23

(خدانے ) فرمایا (تم سب بہشت سے )اُتر جاﺅ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانا (زندگی کا) سامان (کردیا گیا)ہے۔ 24

(یعنی ) فرمایا کہ اُسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کرکے) نکالے جاﺅ گے۔ 25

اے بنی آدم ؑ ہم نے تم پر پوشاک اُتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت دے اور (جو) پرہیزگار ی کا لباس (ہے) وہ سب اچھاہے یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔ 26

سورة طٰہٰ 20 :121-123

تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو اُن پر اُن کی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں اور وہ اپنے (بدنوں ) پر بہشت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردِگا ر کے حکم کے خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بے راہ ہوگئے۔ 121

پھر اُن کے پروردِگار نے ان کو نوازا تو ا تو اُن پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی۔ 122

فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اُترجاﺅ ۔ تم میں بعض بعض کے دشمن (ہونگے) پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ تکلیف میں پڑے گا۔ 123

پیدائش 2 :15-17

اور خداوند خدا نے آدم کو لیکر باغ عدن میں رکھا کہ اُسکی باغبانی اور نگہبانی کرے۔15

اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے ۔16

لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جِس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔ 17

پیدائش3 :1-23

اور سانپ کُل دشتی جانورں سے جِنکو خُداوند نے بنایا تھا چالاک تھا اور اُس نے عَورت سے کہا کیا واقعی خُدا نے کہا ہے کہ باغ کے کِسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟ ۔1

عَورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں ۔2

پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُسکے پھل کی بابت خُدا نے کہا ہے کہ تم نہ تو اُسے کھانا اور نہ چھونا ورنہ مر جاوگے ۔3

تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ مروگے ۔ 4

بلکہ خُدا جانتا ہے کہ جس دن تم اُسے کھاو گے تمہاری آنکھیں کُھل جائینگی اور تم خُدا کی مانِند نیک و بد کے ناننے والے بن جاوگے ۔ 5

عورت نے جو دِیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لیے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُسکے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اُس نے کھاےا ۔6

تب دونوں کی آنکھیں کُھل گئیں اور اُنکو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں اور اُنہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لُنگیاں بنائےں۔7

اور اُنہوں نے خداوند کی آواز جو ٹھنڈ ے وقت میں باغ میں پھرتا تھا سُنی اور آدم اور اُس کی بیوی نے آپ کو خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درخت میں چھپایا۔ 8

تب خداوند خدا نے آدم کو پُکارا اور اُس سے کہاں کہ تُو کہاں ہے؟ ۔ 9

اُس نے کہاں میں نے باغ میں تیری آواز سُنی اور میں ڈرا کیونکہ میں ننگا تھا اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا۔ 10

اُس نے کہا تجھے کس نے بتایا کہ تو ننگا ہے؟ کیا تو نے اُس درخت کا پھل کھایا جِسکی بابت میں نے تجھکو حکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا؟۔ 11

آدم نے کہا کہ جس عورت کو تُو نے میرے ساتھ کیا ہے اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل دیا اور مےں نے کھاےا۔ 12

تب خداوند خدا نے اُس عورت سے کہا کہ تُو نے یہ کیا کِیا؟ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھکو بہکایا تو میں نے کھایا۔ 13

اور خداوند خدا نے سانپ سے کہا اِسلئے کہ تُو نے یہ کیا تُو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعُون ٹھہرا ۔ تُو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور اپنی عمر بھر خاک چاٹےگا۔14

اور میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کُچلےگا اور تُو اُسکی ایڑی پر کاٹےگا۔ 15

پھر اُس نے عورت سے کہا کہ میں تیرے دردِ حمل کو بہت بڑھاونگا ۔ تُو درد کے ساتھ بچے جنیگی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کریگا۔ 16

اور آدم سے اُس نے کہا چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اُس درخت کو پھل کھایا جِسکی بابت میں نے تجھے حُکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا اِسلئے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی ۔ مشقت کے ساتھ تُو اپنی عُمر بھر اُسکی پیداوار کھائےگا۔17

اور وہ تیرے لئے کانٹے اور اُونٹکٹارے اُگائے گی اور تُو کھیت کی سبزی کھائےگا۔18

تُو اپنے منُہ کو پسینے کی روٹی کھائے گا جب تک کہ زمین میں تُو پھر لَوٹ نہ جائے اسلئے کہ تُو خاک ہے اور خاک میں پھر لَوٹ جائےگا۔19

اور آدم نے اپنی بیوی کا نام حوا رکھا اِسلئے کہ وہ سب زندوں کی ماں ہے۔ 20

اور خداوند خدا نے آدم اور اُسکی بیوی کے واسطے چمڑے کے کُرتے بنا کر اُنکو پہنائے۔21

اور خداوند خدا نے کہا دیکھو اِنسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہوگیا ۔ اب کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کُچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے۔ 22

اِسلئے خداوند خدا نے اُسکو باغ عدن سے باہر کردیا تاکہ وہ اُس زمین کی جس میں سے وہ لیا گیا تھا کھیتی کرے۔23

چنانچہ اُس نے آدم کو نکال دیا اور باغ عدن کے مشرق کی طرف کروبیوں کو اور چوگرد گھومنے والی شعلہ زن تلوار کو رکھا کہ وہ زندگی کے درخت کی راہ کی حفاظت کریں۔ 24

 

قرآن شریف میں انجیل مقدس کا نمونہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نشانی ہے

جب میں نے پہلی بار قرآن شریف کا مطالعہ کیا تو مطالعہ کے دوران میں بُہت سی باتوں کو سمجھ نہ سکا ۔سب سے پہلی بات قرآن شریف میں انجیل مقدس کے بارے میں بہت سے براہ راست اور واضح حوالہ جات موجود تھے۔ بلکہ جس طور سے قرآن شریف میں انجیل مقدس کا ذکر ہوا ہے، اس نے حقیقت میں مجھے اُلجھا دیا تھا۔

ذیل میں قرآن شریف کی وہ آیات ہیں جو انجیل مقدس کا براہ راست ذکر کرتی ہیں۔ شاید آپ بھی اسی طریقہ کار  کا مشاہدہ کر لیں جس کا تجربہ میں نے کیا ہے۔ آئیں ان آیات کا مطالعہ فرمائیں۔

سورة العمران 3:3-4

                        اُس نے (اے محمد) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی کتابیں، تورات، زبور، انجیل )کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اُسی نے تورات اور انجیل نازل کی۔ (یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) اور(پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا(ہے)نازل کیا۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور ) بدلہ لینے والا ہے۔

 سورة العمران 3: 48

                        اور وہ انہیں لکھنا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائیگا۔

سورة العمران 3: 65

                        اے اہل کتاب تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل اُن کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہو چکے ہیں ) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے ۔

سورةا لمائدہ 5: 46

                        اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسٰی بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیز گاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

سورةا لمائدہ 5: 66

                        اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے(تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ ) اپنے اوپر سے اور پاﺅں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں۔

سورةا لمائدہ 5: 68

                        کہو کہ اے اہلِ کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں)تمہارے پروردِگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردِگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قومِ کفار پر افسوس نہ کرو۔

سورةا لمائدہ 5: 110

                     جب خدا (عیسیٰ سے) فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرے ان احسانوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے جب میں نے روح القدس (یعنی جبرئیل) سے تمہاری مدد کی تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی نسق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کر دیتے تھے اور مردے کو میرے حکم سے (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا جب تم ان کے پاس کھلے نشان لے کر آئے تو جو ان میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ صریح جادو ہے

سورة التوبہ 9: 111

                        ۔۔۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پوُرا کرنا اُسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پُورا کرنے والا کون ہے؟۔۔۔

سورة فتح 48: 29

                        ۔۔۔ (کثرت ) سجود کے اثر سے اُن کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں اُنکے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں ۔اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں ۔۔۔

جب آپ قرآن شریف میں سے انجیل مقدس کے تمام حوالہ جات کو اکٹھا کرکے پڑھتے ہیں تو انجیل مقدس کبھی تنہا نظر نہیں آتی ۔ انجیل مقدس کے ہر ایک حوالے کے ساتھ لفظ شریعت کی اصطلاح جڑی ہوئی ہے۔ شریعت میں وہ کتابیں (تورات) شامل ہیں جو حضرت موسی ؑ پر نازل ہوئی تھیں۔ جن کو مسلمان عام طور پر تورات شریف اور یہودی(اسرائیل) توراۃ کہتے ہیں۔ انجیل مقدس تمام مقدس کتابوں میں سے منفرد ہے۔ اسی لیے کہ اس کا ذکر کبھی تنہا نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر آپ قرآن شریف اور تورات شریف کے تنہا حوالہ جات تلاش کر سکتے ہیں ۔

یہاں کچھ مثالیں ہیں۔

سورة الانعام 6: 154-155

                        ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکو کار ہیں نعمت پوری کر دیں اور( اُس میں )ہر چیز کا بیان (ہے)اور ہدایت (ہے)اور رحمت ہے، تاکہ (انکی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے کا یقین کریں۔ اور (اے کفر کرنے والو) یہ کتاب (قرآن) بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی ۔ تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے۔

سورة النسآء4: 82

                        بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ۔ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت) اختلاف پاتے۔

دوسرے الفاظ میں ہم جب بھی قرآن شریف میں انجیل مقدس کا ذکر پڑھتے ہیں ۔ تو ہمیشہ اس کے ساتھ ساتھ تورات کا بھی ذکر کیا جا تا ہے اور یہ ایک منفرد بات ہے۔ لیکن قرآن شریف کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔  جب بھی دوسری آسمانی کتابوں کا ذکر ہوا ہے۔ تو اُن کتابوں کے ساتھ  قرآن شریف کو الگ پایا ہے۔ یعنی قرآن شریف دوسری کتابوں (توریت) کے ساتھ اپنا ذکرنہیں کرتا۔ بلکہ تنا نظر آتا ہے۔

یہ نمونہ جاری رہتا ہے لیکن اس میں ایک فرق موجود ہے

  اس نمونہ میں صرف ایک ہی فرق بات پائی جاتی ہے۔ اس بات کو جاننے کے لیے زرا دیکھیں کہ اِس درج آیت میں کس طرح انجیل مقدس کا ذکر کیا جاتا ہے۔

سورة الحدید57:27

پھر اُن کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے(نوح ؑ ، ابراہیم ؑ اور پیغمبروں) اور اُن کے پیچھے مریمؑ کے بیٹے عیسٰیؑ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے اُن کی پیروی کی اُن کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔ ۔۔

تاہم یہاں پر ایک ہی مثال ہے۔

جس میں تورات شریف کا ذکر کیے بغیر  انجیل مقدس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہی آیت اس نمونہ کی تصدیق کرتی ہے۔ آیت 26 (پچھلی آیت) میں نوحؑ ، ابراہیم ؑ اور دوسرے پیغمبروں کا ذکر آیا ہے۔ اِس آیت میں انجیل کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب کہ اس واقعہ کا تعلق تورات میں سے ہے۔ جو موسٰی ؑ پر نازل ہوئی اسی نے حضرت نوح ؑ، ابراہیم ؑ اور دوسرے پیغمبروں کی وضاحت کی ہے۔ یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ نمونہ قائم رہتا ہے۔ جہاں بھی انجیل کا ذکر ہو گا تو تورات کا بھی ذکر لازمی ہوگا۔

انبیاء اکرام سے ہمارے لیے ایک نشانی

 یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا یہ نمونہ اہم ہے؟ شاید اس نمونہ میں بے ترتیبی کی موجودگی کی وجہ سے کوئی اس نمونہ کو مسترد کردیا جائے۔ یا پھر انجیل مقدس کا سادہ طریقے سے حوالہ دیتے ہیں۔  میں نے قرآن شریف میں اس نمونے کو بڑھی سنجیدگی سے سیکھا ہے۔ شاہد یہ ہمارے لیے ایک اہم نشان ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جن اصولوں کو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر کیا ہے تاکہ ہم تورات شریف کے زریعے انجیل مقدس کا سمجھ سکیں۔

 تاکہ ہمارے اُوپر اس نمونہ (نشانیوں) کو ظاہر کرنے میں مدد ملے۔ اس لیے انجیل مقدس کو سمجھنے کے لیے پہلے تورات کو سمجھنا پڑے گا۔ یہ قابل قدر ہو سکتا ہے کہ پہلے ہم تورات شریف کا جائزہ لیں اور پھر انجیل مقدس کے بارے بہتر طور پر سیکھ سکیں گے۔

کیا قرآن شریف نے ہمیں بتایا ہے کہ انبیاء اکرام ہمارے لیے نشانی تھے۔ اس آیت میں قرآن شریف یوں کہتا ہے۔ غور کریں

سورة الاعراف 7: 35 -36

اے بنی آدمؑ (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو اُن پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (اُن پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہونگے ۔ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جُھٹلایا اور اُن سے سر تابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اُس میں (جلتے ) رہیں گے۔

دوسرے الفاظ میں نبیوں کی زندگیاں ہمارے لیے نشانیاں ہیں جس میں حضر ت آدم کی اولاد کے لیے پیغام ہے۔ کیونکہ جو عقل مند ہو گا وہ ان نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ تو آئیں ہم تورات شریف کے ذریعے انجیل مقدس پر غور کرنا شروع کریں۔ غور کریں کہ نبیوں نے ہمیں کون سی نشانیاں دی ہیں ۔ جن کے وسیلے سے ہم راہِ حق کی تلاش کر سکتے ہیں۔ قیامت کا دن آنے سے پہلے ہمیں اس بات سے با خبر ہونا ہوگا کہ تورات شریف کس طرح راہِ حق کے لیے نشانی ہے۔

ابتدائی طور پر ہم حضرت آدم کی نشانی سے شروع کرتے ہیں ۔ شاید آپ اسی سوال کاجواب دینے سے شروع کرنا چاہتے ہوں۔ کہ کیا تورات شریف زبور شریف، انجیل  شریف بدل گئی ہیں؟ قرآن شریف اور سُنت اس اہم سوال کے بارے میں ہمیں کیا کہتے ہیں ؟ قیامت کا دِن آنے سے پہلے ہمیں اس بات سے با خبر ہونا ہوگا کہ تورات شریف کس طرح راہِ حق کے لیے نشانی ہے۔

سورة الحدید 57:26

اور ہم نے نوحؑ اور ابراہیم ؑ کو (پیغمبر بنا کر) نھیجا اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب ( کے سلسلے) کو (وقتا ًفوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو اُن میں سے ہدایت پر ہیں ۔اور اکثر اُن میں سے خارج از اطاعت ہیں۔