اللہ نے یہودیوں کو برکت دے سکا

بنی اسرائیل کی تاریخ کو آسانی سے سمجھنے کے لیے میں نےاس کی تاریخ کا ٹائم لائن بنایا ہے۔ ہم اس ٹائم لائن میں بنی اسرائیل کے انبیاء اکرام کو حضرت عیسٰی مسیح کی تاریخ تک رکھیں گے۔

بائبل کے معروف ترین انبیاء اکرام

بائبل کے معروف ترین انبیاء اکرام

اس ٹائم لائن میں ویسٹرن کلینڈر استعمال کیا گیا ہے۔ (یادرکھیں کہ اس میں قبل از مسیح یعنی BC کی تاریخ رکھی گئی ہے) رنگ دار سلاخیں بنیوں کی زندگی یا دور کو ظاہر کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ دونوں اپنی نشانیوں کی نسبت بہت ہی اہم ہیں جن کا ہم نے پہلے ہی مطالعہ کرلیا ہے۔ حضرت داود کی یہ پہچان ہے کہ اُن پر زبور شریف نازل ہوا۔ اور وہ بنی اسرائیل کے پہلے نبی تھے۔ جنہوں نے یروشلیم کو اپنا دارلحکومت بنایا۔ حضرت عیسیٰ مسیح بھی اہم نبی ہیں۔ کیونکہ وہ انجیل شریف کا مرکز ہیں۔

ہم سبز رنگ میں دیکھ سکتے ہیں کہ بنی اسرائیل مصر میں غلام تھی۔

اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام

اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام

 اس سبز رنگ کا دور اُس وقت شروع ہوتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم کے پڑپوتے حضرت یوسف نے اپنے لوگوں کو مصر میں بلایا۔ لیکن وہ وہاں غلام بن گئے۔ اور حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے فسح کی نشانی کے زریعے نکالا۔

اس طرح حضرت موسیٰ کے دور کو پیلے رنگ میں دیکھایا گیا ہے

یروشلم میں بادشاہ کے بغیر اسرائیل کی خود مختارحکومت

یروشلم میں بادشاہ کے بغیر اسرائیل کی خود مختارحکومت

 مصر کی غلامی کے بعد وہ اسرائیل (فلسطین) کی سرزمین پر رہنے لگے۔ حضرت موسیٰ نے اپنی زندگی کے آخرمیں اُن پر برکات اور لعنتوں کا اعلان کیا۔ جب ٹائم لائن کی سبز رنگ دار سلاخ پیلے رنگ کی طرف جاتی ہے۔ تو اس عرصے میں کئی سالوں وہ اسی ملک موعودہ کی سرزمین پر رہے۔ جس کا وعدہ حضرت ابراہیم کی پہلی نشانی میں کیا تھا۔ اس دور میں نہ ہی اُن کے پاس کوئی بادشاہ تھا۔ اور نہ ہی یروشلیم اُن کا دارالحکومت تھا۔

تاہم حضرت داود کے (1000) ایک ہزار قبل مسیح آنے سے بنی اسرائیل کے حالات بدل جاتے ہیں۔

حضرت داود اور ان کے بعد دوسرے بادشاہوں کی یروشلیم میں حکومت

حضرت داود اور ان کے بعد دوسرے بادشاہوں کی یروشلیم میں حکومت

حضرت داود نے یروشلیم کو فتح کیا اور اس کو دارلحکومت بنایا۔ جہاں پر بادشاہ کا محل بنایا گیا۔ حضرت داود کو حضرت سموائیل نے مسح کیا تھا اور اُس کا بیٹا سلیمان اپنی عقل، حکمت اور کامیبوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ حضرت سلیمان نے ایک اعلیٰ شان ہیکل کو یروشلیم میں تعمیر کیا۔ حضرت داود کی نسل نے 400 سال تک حکمرانی کی اور اس دور کو پیلے رنگ میں واضع کیا ہے۔ (1000-600 قبل مسیح) یہ دور بنی اسرائیل کے لیے شاندار تھا۔ اُنہوں نے خدا کی برکات اور وعدوں کو دیکھا۔ وہ دنیا کی طاقت وار قوم تھی۔ اُن کا اعلیٰ درجہ کا سماج اور ثقافت تھی۔ یہ اُس وقت کا دور تھا۔ جب انبیاءاکرام اللہ تعالٰی سے پیغام لیتے اور اُس کو حضرت داود کی زبور شریف میں درج کرتے جاتے۔ جس کو خود حضرت داود نے شروع کیا تھا۔ لیکن کیا وجہ تھی کہ بہت زیادہ انبیاءاکرام کو بھیجا گیا؟ تاکہ وہ اُن کو انتباہ کرسکیں اور یاد دلائیں کہ حضرت موسیٰ کی بتائیں ہوئیں لعنتیں نازل ہوسکتیں ہیں۔ لیکن بنی اسرائیل نے اُن انبیاء اکرام کی ایک نہ سُنی۔

آخرکار 600 قبل مسیح میں یہ لعنتیں نازل ہوگیئں۔ بابل سے ایک طاقتور بادشاہ نبوکدنظر آیا۔ اور جس طرح حضرت موسیٰ نے لعنتوں کے بارے میں نبوت کی۔ درج زیل نبوت کا مطالعہ کریں۔

49  خداوند دُور سے بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھالائے گا جیسے عقاب ٹوٹ کر آتا ہے ۔ اُس قوم کی زبان کو تُو نہ سمجھے گا ۔
50 اُس قوم کے لوگ تُرش رو ہونگے جو نہ بڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوانوں پر تر س کھائیں گے ۔
51  اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے اور وہ تیرے لیے اناج یا مَے یا تیل یا گائے بیل کی بڑھتی یا تیری بھیڑ بکریوں کے بچے کچھ نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ تجھ کو فنا نہ کر دیں ۔
52  اور وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کیے رہیں گے جب تک تیری اونچی اونچی فصلیں جن پر تیرا بھروسا ہو گا گِر نہ جائیں ۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی اُس ملک کی سب بستیوں میں کریں گے جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے ۔

                                                                                      استثناء 28: 49-52

نبوکدنظر نے یروشلیم کو فتح کیا اور اُس کو جلادیا اور سیلمانی ہیکل کو تباہ کردیا۔ جس کو خود حضرت سلیمان نے بنوایا تھا۔ اُس نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر پوری بابلی حکومت میں بطوراقلیت پھیلا دیا۔ صرف اُس نے غریب اسرائیلیوں کو پیچھے چھوڑدیا۔ اس طرح حضرت موسٰی کی نبوت پوری ہوئی۔

63  تب یہ ہو گا کہ جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تُم کو بڑھانے سے خداوند خوشنود ہوا ایسے ہی تمکو فنا کرانے اور ہلاک کر ڈالنے سے خداوند خوشنود ہو گا اور تُم اُس ملک سے اُکھاڑ دِئے جاو گے جہاں تُو اُس پر قبضہ کرنے کو جا رہا ہے ۔
64  اور خداوند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرےتک تمام قوموں میں پراگندہ کرے گا ۔ وہاں تُو لکڑی اور پتھر کے اور معبودوں کی جنکو تُو ہا تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا ۔                                                                                   اسثناء 28: 63-64

بابل نے فتح کیا اور بابل میں جلاوطن رہے

بابل نے فتح کیا اور بابل میں جلاوطن رہے

70 سال کا عرصہ سُرخ رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ جس میں بنی اسرائیل نے غلامی کے طور پر ملکِ موعودہ سے باہر زندگی بسر کی۔

اس کے بعد شاہ فارس خورس نے بابل کو فتح کیا اور وہ دنیا کا طاقتور شخص بن گیا۔ اور اُس نے بنی اسرائیل کو واپس ملکِ موعودہ میں جانے دیا۔

اسرائیل میں واپسی لیکن اسرائیل فارسی سلطنت کا صوبہ بن گیا

اسرائیل میں واپسی لیکن اسرائیل فارسی سلطنت کا صوبہ بن گیا

تاہم اب وہ غلامی سے رہائی کے بعد ایک آزاد ریاست کے طور پر نہیں رہتے تھے۔ بلکہ اسرائیل فارسی سلطنت کی حکومت کا ایک صوبہ بن گیا۔ یہ 200 سال تک ایک صوبہ کے طور پر رہا۔ اور اس کو گلابی رنگ میں دیکھایا گیا ہے۔ اس دور میں ہیکل کی تعمیر کی گئی۔ (یعنی دوسری ہیکل ) اور پرانے عہد نامے کے آخری حصہ کے انبیاءاکرام نے اپنے پیغامات اس دور میں تحریر کئے۔

اور پھر سکندرِاعظم نے فارس (موجودہ ایران) کی حکومت کو فتح کیا۔ اُس نے اسرائیل کو اپنی حکومت کا صوبہ بنالیا۔ جو اگلے 200 سال تک ایک صوبہ کے طور پر رہا۔ اس کو گہرے نیلے رنگ میں واضع کیا گیا ہے۔

اسرائیل یونانی سلطنت کا صوبہ بن گیا

اسرائیل یونانی سلطنت کا صوبہ بن گیا

پھر رومی حکومت نے یونانی حکومت کو فتح کر لیا۔ اور اُنہوں نے ایک عظیم رومی سلطنت کو قائم کیا۔ اسرائیل رومی حکومت کا صوبہ بن گیا۔ اس کو ہلکے پیلے رنگ میں واضع کیا گیا ہے۔ یہ حضرت عیسیٰ مسیح کا دور ہے۔ اس دور میں آپ اسرائیل میں موجود تھے۔ اس لیے انجیل شریف میں ہم رومی گورنر اور فوجیوں کو دیکھتے ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ مسیح کے دور میں یہودیوں کی سرزمین پر رومی حکومت کرتے تھے۔

اسرائیل رومی سلطنت کا ایک صوبہ

اسرائیل رومی سلطنت کا ایک صوبہ

تاہم 600 قبل مسیح سے لیکر اسرائیل کبھی بھی آزاد حکومت نہ بن سکا۔ جیسی حضرت داود اور دوسرے اسرائیلی حمکمرانوں نے حکومت کی۔ اُنہوں نے اس بات کو ناپسند کیا اور حضرت عیسیٰ مسیح کے آسمان پر صود فرمانے کے بعد یہودیوں نے رومی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ جنگِ آزادی کا آغاز ہوگیا۔ لیکن یہودیوں نے اس جنگ میں شکست کھائی۔ اس طرح رومیوں نے یروشلیم کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ اور دوسری طرف ہیکل کو آگ سے برباد کردیا۔ اور یہودیوں کو تمام رومی سلطنت میں غلام بنا کر بھیج دیا۔ جبکہ رومی حکومت اتنی بڑی تھی۔ کہ یہودی پوری دنیا میں منتشر ہوگے۔

رومی حکومت نے یروشلیم اور ہیکل کو سن70 ء میں برناد کردیا۔ اور یہودی پوری دنیا میں جلاوطن ہوگئے

رومی حکومت نے یروشلیم اور ہیکل کو سن70 ء میں برناد کردیا۔ اور یہودی پوری دنیا میں جلاوطن ہوگئے

اسی طرح وہ 2000 سال جلاوطنی میں رہے۔ اُن کو منتشر کردیا گیا۔ اور دوسرے ملکوں میں جلاوطن کردیا گیا۔ اور کسی ملک نے ان کو قبول نہ کیا۔ حضرت موسیٰ کے نبوتی کلام جو اُنہوں نے لعنت کے طور پر بیان کئے۔ وہ اُسی طرح پورے ہوئے۔

65  اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام مِلے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا ۔

                                                                                      استثناء 28: 65

تاہم لعنتوں کی نبوت جو حضرت موسیٰ نے کی تھی وہ پوری ہوگی۔ جی ہاں! یہ نہ صرف پوری ہوئیں بلکہ اس کے بارے ہر ایک بات پوری ہوئی۔ یہودیوں کی لعنت ہم غیر یہودیوں کے لیے نشان ٹھہرا۔

24  خداوند مینہ کے بدلے تیری زمین پر خاک اور دھول برسائے گا ۔ یہ آسمان سے تجھ پر پرتی ہی رہے گی جب تک کہ تُو ہلاک نہ ہو جائے ۔
25  خداوند تجھ کو تیرے دُشمنوں کے آگے شکست دلائے گا ۔ تُو اُنکے مقابلہ کے لیے تو ایک راستہ سے جائے گا اور اُنکے سامنے سے سات سات راستوں سے ہو کر بھاگے گا اور سُنیا کی تمام سطنتوں میں تُو مارا مارا ا پھرے گا ۔                         استثناء 28: 24-25

یہ انبیاء اکرام کی تعلیم ہمارے لیے بھی ایک اہم ترین نشان ہے۔ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ کیونکہ یہ ہمیں بھی خبردار کرتا ہے۔ یقینی طور پر یہ تاریخی سروے 2000 سال کا ہے۔

یہاں کلک کریں اور معلوم کریں کہ کیسے حضرت موسیٰ کی برکات اور لعنتوں کی نبوت ہمارے جدید دور میں پوری ہورہی ہے۔

اسرائیل کی تاریخ میں ہم نے دیکھا کہ سنَ 70 عیسوی میں ان کو دنیا کی تمام قوموں میں پراگندہ (جلاوطن) کردیا گیا تھا۔ اور وہ 2 ہزار سال اس طرح زندگی بسر کرتے رہے۔ اور اس کے ساتھ وہ وقتً فوقتً شدد قسم کی جارحیت کا سامنا کرتے رہے۔ ایسے واقعات خصوصی طور پر یورپ، سپین، اور روس میں ہوتے رہے اور ان کا اکثر قتلِ عام ہوتا رہا۔ اس طرح حضرت موسیٰ کی تورات میں لکھی ہوئی لعنت کی پیشنگوئی پوری ہوئی۔ ذیل میں دیا گیا ٹائم لائن اسرائیل کی 2000 سال بائبل کی تاریخ کے عرصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مدت کو ایک طویل سرخ رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔

65  اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام مِلے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا ۔                                                                                                                                                            استثنا 28: 65

یہودیوں کی تاریخ: موسی - آج

یہودیوں کی تاریخ: موسی – آج

آپ اسرائیل کی تاریخ میں دیکھ سکتے ہیں کہ وہ مختلف جلاوطنی کے دور میں رہے۔ لیکن دوسری جلاوطنی پہلی جلاوطنی سے زیادہ لمبی تھی۔

یہودیوں نے اپنی ثقافتی کو زندہ رکھا

                  یہ میرے لیے بڑھی دلچسپی کی بات ہے۔ کہ بنی اسرائیل نے کبھی بھی اپنی ثقافتی بنیادوں کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔ اوران کی تعداد کبھی بھی کثرت کے ساتھ نہیں بڑی (کیونکہ اموات اور ظلم و ستم کی وجہ سے) لیکن اُن نے اس 2000 ہزار سال کے عرصہ میں اپنی ثقافتی پہچان کو نہ کھویا۔ یہ بڑی قابلِ ستائش بات ہے۔ یہاں پر اُن تمام اقوام کی فہرست ہے۔ جو حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی میں اسرئیل میں رہتی تھیں۔

8  اور میں اُترا ہو ں کے اُن کو مصریوں کے ہاتھ سے چُھڑاوں اور اُس مُلک سے نکال کر اُنکو ایک اچھے اور وسیع مُلک میں جہاں دُودھ اور شہد بہتا ہے یعنی کنعانیوں اور حتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کے مُلک میں پہنچاوں ۔ خروج 3: 8

اور اُس وقت سے برکت اور لعنت دی گئی۔

1 جب خداوند تیرا خدا تُجھ کو اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے تُو جا رہا ہے پہنچا دے اور تیرے آگے سے اُن بہت سی قوموں کو یعنی حتیوں اور جرجاسیوں اور کعنانیوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کو جو ساتوں قومیں تجھ سے بڑی اور زور آور ہیں نکال دے

                                                                                                  استثنا 7: 1

کیا کوئی اُن لوگوں میں آج بھی زندہ ہے۔ جہنوں نے اپنی ثقافت اور لسانی پہچان کو برقرار رکھنے کی کوشش کیَ نہیں! وہ طویل عرصہ سے اس دنیا سے کوچ کرچکے ہیں۔ ہم اس قدیم تاریخ میں صرف "جرجاسی” لوگوں کو جانتے ہیں۔ جس طرح بڑی طاقتور کسدیوں ، فارسیوں، یونانیوں، اور رومی شہنشاہوں نے ان قوموں پر فتح حاصل کی۔ اُس کے فوراً بعد وہ اپنی ثقافت اور لسانی پہچان کھوبیٹھے اور اُن قوموں میں گم ہوگے۔

جیسا کہ میں کینیڈا میں رہتا ہوں۔ میں پوری دنیا سے ہجرت کر کے آنے والے تارکینِ وطن کو آتے دیکھتا ہوں۔ جب تارکین وطن کی تیسری نسل یہاں پیدا ہوتی ہے۔ تو وہ اپنی ثقافتی پہچان بول جاتے ہیں۔ جب میں نوجوان تھا۔ تو میں نے سویڈن سے کینیڈا  ہجرت کی۔ اب میرا ایک بیٹا ہے۔ اور وہ سویڈش زبان نہیں بولتا اور نہ ہی میرے بھائی اور بہین کے بچے سویڈیش زبان بولتے ہیں۔ میرے آباواجداد کی سویڈیش زبان، اور ثقافت یہاں کینیڈین ثقافت میں گم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سچائی ہے، کہ مہاجرین چاہے، کوریا، جاپان، ایران، امریکہ، افریقہ اور یورپ سے کیوں نہ ہوں۔ ان کی تیسری نسل اپنی ثقافت اور زبان بول جاتی ہے۔ لہذا یہ قابل ذکر بات ہے کہ اسرائیلیوں نے صدیوں سے اپنی زندگی دشوار اور مشکل میں کاٹی۔ اُنہیں مختلف ممالک سے بھاگنا پڑا۔ اُن کی آبادی دنیا میں 15 ملین سے زیادہ نہیں ہوئی۔ اُنہوں نے اپنی بھی مذہبی ، ثقافتی ، لسانی پہچان ان 2000 ہزار سال میں کبھی نہ کھوئی۔

یہودیوں کی جدید عالمگیر نسل کشی

                             یہودیوں کے خلاف جارحیت اور قتلِ عام اپنی اروج پر تھا۔ یہاں تک دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلر نے نازی جرمن فوج کے وسیلے یورپ میں رہنے والے تمام یہودیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے مشن کو کامیاب بنانے کے لیے گیس کے اوون بنائے۔ اور اُس نظام کے وسیلے نسل کشی کی۔ تاہم وہ اپنے اس مشن میں ناکام ہوگیا اور یہودی باقی بچ گئے۔

دور جدید میں اسرئیل کی تعمیرنو

                   اور پھر 1448 میں اقوام متحدہ کے زریعے اسرائیل جیسے ایک غیر معمولی ملک نے دوبارہ جنم لیا۔ درحقیقت یہ قابل ذکر ہے۔ جس طرح اُوپر ذکر کیا ہے۔ صدیوں بھی بعد وہاں اردگرد لوگ پائے جاتے تھے۔ جو اپنی پہچان "یہودی” کے طور پر کرواتے تھے۔ لیکن موسیٰ کو 3500 سال یہ الفاظ کو لکھے تھے۔ جو سچے ثابت ہوئے کہ وہ "تم” اُس وعدہ کو حاصل کریں گے۔ پس یہ لوگ یہاں پر موجود رہے۔ اتنی طویل یہودیوں کی جلاوطنی کے باوجود۔

3  تو خداوند تیرا خدا تیری اسیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا اورپھر کر تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہو جمع کرے گا ۔
4 اگر تیرے آوارہ گرد دُنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کر کے لے آئے گا ۔                          استثنا 30: 3-4

یہ یقیناً ایک نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام کو پورا کرتا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر بات ہے۔ کہ یہ ریاست حزب اختلاف کے باوجود قائم کی گئی۔ 1948 میں بہت ساری اقوام نے اس دور میں اسرائیل کے ساتھ جنگیں کیں۔ 1956 میں۔ ۔ ۔ 1967 میں اور دوبار 1973 ۔ اسرائیل ایک چھوٹی قوم ہے۔ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے۔ کہ اُنہوں نے پانچ پانچ اقوام کے ساتھ ایک ہی وقت میں جنگ کی۔ اس کے باوجود نہ صرف وہ زندہ رہے بلکہ اُن کے علاقوں میں بھی اضافہ ہوا۔ 1967 کی جنگ میں یہودیوں نے یروشلیم دوبارہ حاصل کرلیا۔ اور اپنا تاریخی دارالحکومت جسکی بنیاد حضرت داود نے رکھی تھی دوبارہ اسرائیل کا دارلحکومت بنا لیا۔

کیوں اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کی تعمیرنو ہونے دی؟

                             آج کے دن تک تمام جدید دور میں متنازعہ پایا جاتا ہے۔ اس دور جدید میں ہونے والے اسرائیل کے دوبارہ جنم پر اور اسرائیلیوں کی واپسی پر سب سے زیادہ تنازعہ پایا جاتا ہے۔ ایسا اب تقریباً پر روز ہو رہا ہے۔ جہاں وہ ساری دنیا میں تمام دوسری قوموں میں ہزاروں سال جلاوطن رہے۔ اور شاید اس کو پڑھ کرآپ پسند نہ کریں۔ یقینی طور پر آج بہت سارے یہودی مذہبی نہیں رہے۔ زیادہ تر سیکولر اور لادین ہوچکے ہیں۔ کیونکہ ہٹلر نے جو کچھ کیا وہ یہودیوں کی تقریباً کامیاب نسل کشی تھی۔ اور یہ ضروری نہیں کی وہ درست ہی ہوں۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے۔ کہ جو کچھ حضرت موسیٰ نے لعنت کے بارے کہا تھا۔ وہ نہ صرف پورا ہوا بلکہ آج بھی ہماری آنکھیوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ کیوں؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ وہ آج بھی مسیح کو رد کر رہے ہیں۔ یہ تمام اہم ترین سوالات ہیں۔ ان کے جوابات تورات شریف اور زبور شریف میں پائے جاتے ہیں۔ شاید آپ مجھے سے ناراض ہوں۔ لیکن جو کچھ نبیوں نے قیامت کے بارے میں اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ جب تک ہم اُس غیر معمولی واقع کو سمجھ نہ لیں۔ اُس وقت تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اُنہوں نے ہمارے فائدے کے لیے لکھا تھا۔ تاکہ ہمارے لیے قیامت کے بارے میں راہنمائی ہوسکے۔ آئیں ہم انبیاء اکرام کی تحریرات کو پڑھیں۔ تاکہ ہم ان سے فیصلہ کی تشکیل کر سکیں۔ ہم زبور شریف کے مطالعہ کو جاری رکھیں گے۔ تاکہ جان سکیں کہ یہودیوں نے عیسیٰ مسیح کو کیوں رد کیا۔