کس طرح زبور اور نبیوں نے عیسیٰ ال مسیح کی نبوت کی ؟

نبی حضرت موسیٰ کی تورات نے حضرت عیسیٰ ال مسیح کی علم پیشین نشانات کے زریعے ظاہر کیا ہے جو نبی کے آنے کےعین مطابق تھے – انبیا جو موسیٰ نبی کا پیچھا کر رہے تھے ، انہوں نے الله کے منصوبے کو ترتیب سے بیان کرنے کے زریعے بتایا – حضرت داؤد خدا کے زریعے الہام شدہ تھے اورزبور 2 میں  مسیح کے آنے کی بابت دیگر زبوروں میں جو انہوں نے پہلی بار نبوت کی تھی وہ 1000 قبل مسیح میں ہوئی تھی – پھرزبور 22 میں انہوں نے کسی کے بارے میں ایک پیغام حاصل کیا جسکے ہاتھ اور پاؤں چھیدے جاکر ستایا گیا تھا ،اور پھر اسکو موت کی مٹی میں سلا دیا گیا تھا ، مگر اسکے بعد ایک بڑی فتح حاصل کرنے کے ساتھ ‘زمیں کے خاندانوں کو متا ثر کریگا ‘- کیا یہ نبوت نبی عیسیٰ ال مسیح کے آنے والی مصلوبیت اور قیامت کی بابت ہے ؟ اسکے لئے ہم دو سوروں پر غور کرینگے کہ وہ کیا کہتے ہیں ،سورہ سبا (سورہ 34) اورسورہ ان نمل (سورہ 27) ہم سے کہتے ہیں کہ کس طرح الله نےزبور شریف میں  حضرت داود کو الہام دی (مثال بطور زبور 22) –

زبور 22 کی نبوت         

پورے زبور 22  کا مطالعہ یھاں آپ کر سکتے – ذیل کی فہرست میں زبور 22 کے ساتھ ساتھ عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت کا بھی بیان ہے جو انجیل میں انکے شاگردوں (ساتھیوں) کے زریعے پیش کی گیئ ہے – آیتوں کو رنگوں سے ملایا گیا ہے تاکہ موازنات کو آسانی سے نوٹ کیا جا سکے –

  زبور 22 –1000 قبل مسیح میں لکھا گیا
 (متی -48 -31 :27 ) اور وہ اسے (عیسیٰ )کو مصلوب کرنے لے گئے… 39 راہ چلنے والے سر ہلا ہلا کر اسکو لعن طعن  کرتے تھے اور کہتے تھے "…اپنے آپ کو بچا – اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو صلیب پر سے اتر آ ! "41 اسی طرح سردار کاہن بھی فقیہوں اور بزرگوں کے ساتھ ملکر ٹھٹھے سے کہتے تھے 42 اسنے اوروں کو بچایا –مگر اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا ! یہ تو اسرائیل کا بادشاہ ہے – اب صلیب پر سے اتر آے تو ہم اسپر ایمان لاییں– 43 اسنے خدا پر بھروسہ کیا ہے ، اگر وہ اسے چاہتا تو اب اسکو چھڑا لے – اور تیسرے پھر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چللاکر کہا ایلی  – ایلی – لما شبقتنی ؟ "یعنی "اے میرے خدا !اے میرے خدا تونے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟48 اور فورا انمیں سے ایک شخص دوڑا  اور سپنج لیکر سرکہ میں ڈبویا اور سرکنڈے پر رکھکر اسے چسایا –           (15:16-20,37(مرقس 16 اور سپاہی اسکو اس صحن میں لے گئے جو پری ٹورین کہلاتا ہے اور ساری پلٹن کو بلا لاۓ –اور انہوں نے اسے ارغوانی چوغہ پہنایا اور کانٹوں کا تاج بنا کر اسکے سر پر رکھا -18 اور اسے سلام کرنے لگے کہ "اے یہودیوں کے بادشاہ آداب –"19 وہ بار بار اسکے سر پر سرکنڈا  مارتے اور اس پر تھوکتے اور گھٹنے ٹیک ٹیک کر سجدہ کرتے رہے -20 اور جب اسے ٹھٹھوں میں اڑا چکے تو اسپر سے ارغوانی چوغہ اتار کر اسی کے کپڑے اسکو پہناۓ پھر اسے صلیب دینے کو باہر لے گئے … 37 پھر یسوع نے بڑ ی آواز سے چللاکر دم دے دیا –                               (19:34(یوحنّا لیکن جب انہوں نے یسوع کے پاس آکر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اسکی ٹانگیں نہ توڑیں ،ایک سپاہی نے نیزے سے اسکی پسلی چھیدی اور فی ا لفو ر اس سے خون اور پانی بہ نکلا….انہوں نے اسے مصلوب کیا …                                                (20:25(یوحنا       [توما]جب تک میں میں اسکے ہاتھوں میں میخوں کے سوراخ نہ دیکھ لوں                                              (20:23-24 (یوحنا 24 جب سپاہی یسوع کو مصلوب کر چکے تب اسکےکپڑے لیکر چار حصّے کئے – ہرسپاہی کے لئے ایک حصّہ اور اسکا کرتا بھی بچے ہوئے کپڑوں کے ساتھ لیا یہ کرتہ بن سلا سراسر بنا ہوا تھا ، اسلئے کہا کہ اسے پھاڑیں نہیں بلکہ آؤ ہم اسپر قرعہ ڈالیں ”     1 – اے میرے خدا ! اے میرے خدا ! تونے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ تو میری مد د اور میرے نالہ اور فریاد کیوں دور رہتا ہے ؟  
2 اے خدا میں دن کو پکارتا ہوں ، پر تو جواب نہیں دیتا اور رات کو بھی خاموش نہیں ہوتا …7 وہ سب جو مجھے دیکھتے ہیں میرا مضحکہ ا ڑا تے ہیں ؛ وہ مجھے چڑاتے – وہ سر ہلا ہلا کر کہتے ہیں – جبکہ وہ اس سے خوش ہے تو وہی اسے چھڑا ے "اپنے کو خداوند کے سپرد کردے – وہی اسے چھڑاے- -9 پر تو ہی نے مجھے پیٹ سے با ہر لایا – جب میں شیرخوار ہی تھا تونے مجھے توکّل کرنا سکھایا – 
10 – میں پیدایش ہی سے تجھ پر چھوڑا گیا – میری ماں کے پیٹ ہی سے تو میرا خدا ہے- 12 –بہت سے سانڈوں نے مجھے گھیر لیا ہے بسن کے زوراور سانڈ مجھے گھیرے ہوئے ہیں-
13 وہ پھاڑنے اور گرجنے والے ببر کی طرح مجھپر – اپنا منہ پسارے ہوئے ہیں –
14 – میں پانی کی طرح بہ گیا – میری سب ہڈ یا ں اکھڑ گئیں – میرا دل موم کی مانند ہو گیا – وہ میرے سینے میں پگھل گیا –  
15 میری  قوت ٹھیکرے کی مانند خشک ہوگئی اور میری زبان تالو سے چپک گیئ – اور تونے مجھے موت کی خاک مے ملا دیا -16 کیونکہ کتوں نے مجھے گھیر لیا ہے – بدکاروں کی گروہ مجھے گھیرے ہوئے ہے
17 – میں اپنی سب ہڈ یا ں گن سکتا ہوں – وہ مجھے تاکتے اور گھورتے ہیں – 18 – وہ میرے کپڑے آپس میں بانٹتے ہیں – اور میری پوشا(ک پر قرعہ ڈالتے ہیں –   

انجیل شریف کو چشم دید گواہوں کے ظاہری تناسب سے لکھا گیا ہے جنہوں نے مصلوبیت کو از حد غور سے دیکھا تھا – مگر زبور 22 کسی کے ایسے ظاہری تناسب سے لکھا گیا جو اسکا تجربہ کر رہا تھا – اب سوال یہ ہے کہ زبور 22 اور عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت کے بیچ موازنہ کو کیسے سمجھایا جاۓ ؟ یہ مطابقت ضرور ہے کہ تفصیل ہو بہو ملتے جلتے ہیں جس طرح یہ شامل کرنے کے لئے کی کپڑے بانٹے گئے تھے (سلے ہوئے کپڑوں کو پھاڑا گیا تھا اور بن سلے کو سپاہیوں میں دے دیا گیا تھا ) اور (بہت کچھ بن سلے کپڑے رہ جاتے اور برباد ہوجاتے سو انہوں نے انکا قرعہ ڈالا) – زبور 22 جو کہ  مصلوبیت سے پہلے لکھی گی تھی اسکی کھوج کی گیئ تھی مگر اسکی خاص تفصیلیں جیسے (ہاتھوں اور پاؤں چھیدا جانا ، اور اسکی ہڈ یوں کا جوڑوں سے اکھڑ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسکے دونوں ہاتھ لمبے کئے گئے تھے جس طرح دیگر مجرموں کے ہاتھ پھیلا کر انکے ہاتھ (ہتھیلی) کو کاٹھ پر ٹہوک دیا جاتا ہے )اسکے علاوہ یوحننا کی انجیل بیان کرتی ہے کہ جب مسیح کی پسلی میں نیزے سے چھیدا گیا تھا تو خون اور پانی بہ نکلا تھا جو اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ دل کے آس پاس سیال جزووں کا جمع ہوجانا یہ دل کے دھڑکن کے رکنے کی نشانی ہے – اسطرح عیسیٰ ال مسیح کی موت دل کی دھڑکن رک جانے کے سبب سے ہوئی تھی – یہ زبور22 کے بیان سے میل کھاتا ہے کہ "میرا دل موم میں تبدیل ہو گیا – چھیدے جانے کے لئے جو عبرانی کا لفظ ہے اسکے سہی معنے ہیں جیسے ببر شیر کے حملے سے انسان کا جسم چھد جاتا ہے – دوسرے معنوں میں ہاتھ اور پاؤں کو کٹ ڈالنا (بیکار کردینا) یا ببر شیر کے زریعے بری طرح مار کر زخمی کر دینا ،خراب کردینا وغیرہ ہے – جب کسی کے ہاتھ پیر چھیدے جاتے ہیں تو ایسی ہی حالت ہو جاتی ہے –

غیرایماندارجواب دیتے ہیں کہ زبور 22 کی یکسانییت چشم دید گواہوں کے ساتھ جو انجیل میں بیان کیا گیا ہے وہ شاید اس وجہ سے کیونکہ عیسیٰ ال مسیح کے شاگردوں نے واقعے کو نبوت کے طور بطور بنایا کیا وہ یکسانیت کو سمجھا سکتی ہے ؟

زبور 22 اور عیسیٰ ال مسیح کی وراثت        

مگر زبور 22 مذکور بالا فہرست کے مطابق 18 آیت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ جاری رہتی ہے – یہاں نوٹ کریں کہ اسکے خاتمہ پر – موت کے بعد کتنی شاندار فتح ہوتی ہے !

 

(26)حلِیم کھائیں گے اور سیر ہوں گے ۔ خُداوند کے طالِب اُس کی سِتایش کریں گے ۔ تُمہارا دِل ابد تک زِندہ رہے!
(27)ساری دُنیا خُداوند کو یاد کرے گی اور اُس کی طرف رجُوع لائے گی اور قَوموں کے سب گھرانے تیرے حضُور سِجدہ کریں گے۔
(28)کیونکہ سلطنت خُداوند کی ہے۔ وُہی قَوموں پر حاکِم ہے۔
(29)دُنیا کے سب آسُودہ حال لوگ کھائیں گے اور سِجدہ کریں گے۔ وہ سب جو خاک میں مِل جاتے ہیں اُس کے حضُور جُھکیں گے ۔ بلکہ وہ بھی جو اپنی جان کوجِیتا نہیں رکھ سکتا۔
(30)ایک نسل اُس کی بندگی کرے گی۔ دُوسری پُشت کو خُداوند کی خبر دی جائے گی۔
(31)وہ آئیں گے اور اُس کی صداقت کو ایک قَوم پر جو پَیدا ہو گی یہ کہہ کر ظاہِر کریں گے کہ اُس نے یہ کام کِیا ہے۔

22:26-31زبور

یہ اس شخص کی موت کی تفصیل کی بابت بات نہیں کرتا – وہ  زبور کے شروع میں سلوک یا برتاؤ کا کیا جانا تھا –اب نبی حضرت داؤد آگے مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں – اور اس شخص کی موت کے تا ثر کی طرف اور آیندہ کی مستقبل کی نسلوں کی طرف مخاطب ہوتے ہیں (آیت 30) –یعنی کہ ہم جو عیسیٰ ال مسیح کے 2000 سال بعد رہ رہے ہیں – حضرت داؤد ہمسے کہتے ہیں کہ آیندہ کی نسلیں جو اس شخص کا پیچھا کرتی ہیں اس شخص کے ‘ہاتھ اور پاؤں چھدے ہونگے’ ، وہ ایسی شدّت ناک موت مرتا ہے جسکی خدمت کی جاےگی اور اسکی چرچا ہوگی –آیت 27 ترقی (پھیلاؤ) کی بابت پیش بینی کرتا ہے – یہ پھیلاؤ دنیا کے آخر تک ‘ تمام قوموں کے خاندانوں تک ‘ پہنچےگا اور یہ انکے لئے خداوند کی طرف پھرنے کا سبب بنےگا – آیت 29 اشارہ کرتی ہے ہے کہ کس طرح ‘وہ لوگ جو خود کو زندہ نہیں رکھ سکتے ہیں’ (یعنی ہم سب کے سب) ایک دن اسکے سامنے گھٹنے ٹیکنگے – اس شخص کی راستبازی کی بابت لوگوں میں منادی کی جاےگی جن کا وجود اس زمانے تک نہیں ہوا تھا جس زمانے میں اسکی موت ہوئی تھی –

اسکا اس زمانے کی انتہا سے کچھ لینا دینا نہیں تھا چاہے انجیل سہریف زبور 22 سے میل کھاتا تھا یا نہیں تھا –کیونکہ یہ ابھی اس کا برتاؤ بعد کے واقعیات سے ہے – جو ہمارے زمانے کے لوگ ہیں –انجیل شریف کے مصننف جو پہلی صدی میں تھے وہ عیسیٰ ال مسیح کی موت کا تا ثر ہمارے زمانے میں نہ دے سکے تھے –غیر ایمانداروں کی عقلیت کا رنگ چڑھنا ایک لمبے دور کو نہیں سمجھاتا ، عیسیٰ ال مسیح کی عالمگیر وراثت کا جسکا زبور 22 میں مناسب طور سے جو پیش بینی کی گیئ ہے وہ 30oo  سال پہلے کی گیئ تھی –   

قران شریف کے مطابق –حضرت داؤد کو علم پیشین اللہ کی جانب سے دی گیئ تھی

زبور 22 کے آخر میں فاتحانہ حمد و تعریف بلکل ویسا ہی ہے جو قرآن شریف کے سورہ سبا اور ان – نمل (سورہ 34 شیبا اور سورہ 27 چیونٹی)میں ذکر کیا گیا ہے کی حضرت داؤد کو زبور لکھنے کے لئے الہام دیا گیا تھا –

اور بیشک ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی بارگاہ سے بڑا فضل عطا فرمایا، (اور حکم فرمایا:) اے پہاڑو! تم اِن کے ساتھ مل کر خوش اِلحانی سے (تسبیح) پڑھا کرو، اور پرندوں کو بھی (مسخّر کر کے یہی حکم دیا)، اور ہم نے اُن کے لئے لوہا نرم کر دیاo

34:10سورہ سبا

اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو (غیر معمولی) علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہےo

 27:15سورہ ان نمل

جس طرح سے یہ دونوں سورہ جات کہتے ہیں کی الله نے حضرت داؤد کو حکمت اور فضل عطا کی کی اس حکمت اور الہام کے زریعے انہوں نے زبور 22 میں حمد وتعریف کے گیت گائے –

اب اس سوال پر غور کریں جو سورہ ال – واقعہ  میں پیش کیا گیا ہے (سورہ 56 – نا گزیر واقعہ) –

 پھر کیوں نہیں (روح کو واپس لوٹا لیتے) جب وہ (پرواز کرنے کے لئے) حلق تک آپہنچتی ہےo

 اور تم اس وقت دیکھتے ہی رہ جاتے ہوo

 اور ہم اس (مرنے والے) سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم (ہمیں) دیکھتے نہیں ہوo

 پھر کیوں نہیں (ایسا کر سکتے) اگر تم کسی کی مِلک و اختیار میں نہیں ہوo

 کہ اس (رُوح) کو واپس پھیر لو اگر تم سچّے ہوo

 56:83-87سورہ ال – واقعہ

کون موت سے اپنی جان کو واپس بلا سکتا ہے ؟ یہ دعوی اس بطور ہے کہ انسان کے کام کو الله کے کام سے الگ کر دے –اس کے باوجود بھی سورہ ال واقعہ وہی بات پیش کر رہا ہے جو زبور 22 میں بیان کیا گیا ہے –حضرت داؤد نے جو حضرت عیسیٰ ال مسیح کی بابت جو بیان دی اسکو انہوں نے پیش بینی یا نبوت کے زریعے دی –

جس طرح سے زبور  22 میں نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت کو ایک بہتر پشبنی کا اثر بطور پیش کیا گیا ہے اس بطور بہتر طریقے سے کوئی اور شخص پیش بینی نہیں کر سکتا – دنیا کی تاریخ میں ایسا کون شخص ہے جو انکی موت کی تفصیلات پیش کرنے کا دعوی کرے جس بطور اسکی زندگی کی وراثت متقبل کی دوری میں چلی جاۓ اور دنیا میں اسکے وجود کے 1000  سال پہلے پیش بینی کی جاۓ ؟ جبکہ کوئی بھی انسان دور مستقبل کی باتوں کا اتنی تفصیل سے پیش گوئی کرے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ ال مسیح کی قربانی خدا کے آزاد منصوبےاورعلم پیشین کے زریعے ہی ممکن تھی –

دیگر انبیاء عیسیٰ ال مسیح کی قربانی کی بابت پیش بینی کرتے ہیں

جس طرح تورات شریف نے آئینے کی تصویر کے ساتھ عیسیٰ ال مسیح کے آخری دنوں کے واقعا ت کے ساتھ شروع کیا تھا اور پھر تصور کو اور زیادہ صفائی سے آگے کی تفصیل پیش کی تھی اسی طرح دیگر انبیاء جنہوں نے حضرت داؤد کا پیچھا کیا انہوں نے بھی عیسیٰ ال مسیح کی موت اور قیامت کو اور زیادہ صفائی کے ساتھ تفصیل پیش کی – ذیل کی فہرست ان باتوں کا خلاصہ پیش کرتی ہے جن پر ہم نے غور کرکے مطالعہ کیا ہے –

انبیاء کلام کرتے ہیںوہ کس طرح آنے والے مسیح کے منصوبے کو ظاہر کیا   
کنواری سے پیدا ہونے کی نشانی‘ایک کنواری بیٹا جنیگی’ اسکی پیشین گوئی نبی حضرت یسعیا ہ 700  سال قبل مسیح میں کی تھی اور یہ بھی کہ وہ بغیر گناہ کے جیئیگا – جسکی کامل زندگی ہو وہی دوسروں کے لئے قربانی دے سکتا ہے – اسی سوچ کے ماتحت ہی اس نبوت کی تعمیل میں ہوکر عیسیٰ ال مسیح پیدا ہوئے اور ایک پاک زنگی گزاری –  
آنےوالے’شاخ ‘ کی نبوت ہوئی حضرت عیسیٰ کے نام سے جو ہمارے گناہوں کی موقوفی ہے نبی یسعیا ہ ، یرمیاہ اور زکریا ہ نے اس آنے والے کی بابت نبوتوں کا ایک سلسلہ پیش کیا جسکو نبی زکریا ہ نے حضرت عیسیٰ نبی کی پیدائش کے  500 سال پہلے ہی عیسیٰ کرکے سہی نام دیا –انہوں نے نبوت کی کہ ‘ایک دن ‘انکے ایمانداروں  کے گناہ موقوف کئے جاینگے – ان تمام نبوتوں کو پورا کرتے ہوئے عیسیٰ نبی نے خود کی قربانی پیش کی تاکی ایک دن انپر ایمان لانے والوں کے گناہوں کا کفارہ ہو سکے –
نبی دانی ا یل اور آنے والے مسیح کا وقتنبی دانی ا یل نے نبوت کی اور مسیح کے آنے کا ٹھیک 480 سالوں کا ایک نقشہ اوقات پیش کیا –عیسیٰ ال مسیح کی آمد نبوت کے عین مطابق ہوئی –
نبی دانی ا یل نے یہ بھی نبوت کی کہ مسیح ‘کاٹ ڈالا’ جاےگامسیح کے آنے کے بعد ، دانی ا یل نبی نے لکھا کہ وہ ‘کا ٹ ڈالا جائے گا اور اسکا کچھ بھی باقی نہ رہیگا – عیسیٰ ال مسیح کے آنے والی موت کی بابت یہ ایک نبوت تھی کہ وہ زندگی سے کاٹ ڈا لا جانے والا تھا –  
نبی یسعیا ہ آنے والے خادم کی موت اور قیامت کی بابت پیشین گوئی کرتے ہیں  نبی یسعیا ہ نے بڑی تفصیل کے ساتھ  پیشین گوئی کی کہ کس طرح مسیح ‘زندوں کی زمیں سے کاٹ ڈالا جائیگا ‘  اسکے ساتھ ہی یہ بھی پیشین گوئی کی کہ وہ ستایا جائیگا ، ردد کیا جائیگا ، ہمارے گناہوں کی خاطر زخمی کیا جائیگا ، بررے کی طرح زبح کرنے کو لے جایا جائیگا  ، اسکی زندگی گناہوں کی قربانی ثابت ہوگی ، مگر اسکے بعد وہ اپنی زندگی دوبارہ دیکھ گا اور فتحیاب ہوگا – یہ تمام مفصل پیش بینیاں تب پوری ہوئیں جب عیسیٰ ال مسیح مصلوب ہوئے اور مردوں میں سے جی اٹھے- اسطرح کی تفصیلیں جن کی پیشین گوئی 700  سال پہلے ہوئی تھی ایک بڑی نشانی ہے جسکا الله نے منصوبہ کیا تھا –   
نبی حضرت یونس اور حضرت عیسیٰ ال مسیح کی موتنبی حضرت یونس نے قبر کا تجربہ ایسے وقت میں کیا جب وہ ایک بڑی مچھلی کے پیٹ میں تھے –یہ ایک تصویر تھی کہ عیسیٰ ال مسیح نے سمجھایا کہ اسی طریقے سے وہ خود بھی موت کا تجربہ کرینگے –
نبی حضرت زکریا ہ اور موت کی اسیری سے آزاد کیا جاناعیسیٰ ال مسیح نبی زکریا ہ کی ایک نبوت کا حوالہ پیش پیش کرتے ہیں کہ وہ ‘موت کے اسیروں’ کو آزاد کرینگے (یعنی وہ جو پہلے ہی سے مردے پڑے ہیں)-ان کی خدمت یہ ہوگی کہ وہ موت میں داخل ہونگے اور جو جو قید میں پھنسے ہیں انھیں آزاد کرینگے جس طرح نبیوں کے زریعے پیش کی گیئ تھی –  

                                                             ان بہت سی نبوتوں کے ساتھ نبیوں سے جنہوں نے خود صدیوں سال پہلے مختلف ملکوں میں رہتے ہوئے ،مختلف گوشہ گمنامی کے ہوتے ہوئے بھی ان سب نے عیسیٰ ال مسیح کی بڑ ی فتح کچھ حصّوں کی بابت پیش بینی کی جو انکی موت اور قیامت کے وسیلے سے تھی – یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ الله کے منصوبے کے مطابق تھا –اسی سبب سے پطرس جو حضرت عیسیٰ ال مسیح کے شاگردوں کا رہنما تھا ، اپنے سامعین سے کہا :

 (18)مگر جِن باتوں کی خُدا نے سب نبِیوں کی زُبانی پیشتر خبر دی تھی کہ اُس کا مسِیح دُکھ اُٹھائے گا وہ اُس نے اِسی طرح پُوری کِیں

3:18اعمال

پطرس کے اس بات کے کہنے کے فورا بعد اسنے اعلان کیا :

 (19)پس تَوبہ کرو اور رجُوع لاؤ تاکہ تُمہارے گُناہ مِٹائے جائیں اور اِس طرح خُداوند کے حضُور سے تازِگی کے دِن آئیں۔

3:19 اعمال

ہمارے لئے ایک برکت کا وعدہ ہے کہ اب ہم اپنے گناہوں کو مٹا سکتے ، دھو سکتے ہیں – اسکے کیا معنے ہیں اسے ہم یہاں دیکھتے ہیں –