تیسرے اور چوتھے دن حضرت عیسیٰ المسیح نے مستقبل کے بارے اور اپنی دوسری آمد کے بارے اعلان کیا

یروشلیم میں بروز اتوار ماہ نسان کی تاریخ 9 بمطابق حضرت دانیال اور حضرت زکریاہ اور سوموار کے روز ماہ نسان 10 کو ہیکل میں داخل ہوئے بمطابق حضرت موسیٰ کی تورات کے قواعد و احکام کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور برہ کے منتخب ہونے کے بعد، حضرت عیسیٰ المسیح کو یہودی راہنماوں نے رد کردیا۔ اصل میں جب حضرت عیسیٰ المسیح ہیکل کی صافی میں مصروف تھے تو اُسی لمحے یہودی راہنماوں نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کرنا شروع کردیا۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اس کے بعد کیا کیا۔ اس کے بارے میں انجیل شریف میں یوں درج ہے۔

انجیر کے درخت پر لعنت کرنا

اورحضرت عیسیٰ المسیح نے ان کو وہاں چھوڑ کر ( یہودی راہنماوں کو جو ہیکل میں تھے سوموار دن ۲،    نسان تاریخ ۱۰ ) شہر سے باہر جانے کی راہ لی۔ جہاں ٓاپ نے رات گزاری

‘اور وہ اُنہیں چھوڑ کر شہر سے باہر بَیت عَنِّیا ہ میں گیا اور رات کو وہِیں رہا۔ اور جب صُبح (دن 3، منگل نسان کی تاریخ 11) کو پِھر شہر کو جا رہا تھا اُسے بھوک لگی۔ اور راہ کے کنارے انجِیرکا ایک درخت دیکھ کر اُس کے پاس گیا اور پتّوں کے سِوا اُس میں کُچھ نہ پا کر اُس سے کہا کہ آیندہ تُجھ میں کبھی پَھل نہ لگے اور انجِیرکا درخت اُسی دم سُوکھ گیا۔ ‘

متّی 21 :17-19

یہ تعجب کی بات ہے۔ کہ کیوں حضرت عیسیٰ المسیح نے یوں کہا اور انجیر کا درخت مرجھا گیا۔

انجیل مقدس اس کے بارے میں براہ راست وضاحت نہیں کرتی۔ لیکن سابقہ انبیاءاکرام اس بات کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔

جب یہ انبیاءاکرام اللہ تعالیٰ کی عدالت کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اس کی وضاحت کے لیے اکثر انجیر کے درخت سے مثال دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

غور کریں کہ کیسے انبیاءاکرام انجیر کے درخت کے مرجھاجانے کی مثال دیتے تھے:

‘تاک خُشک ہو گئی ۔ انجِیر کا درخت مُرجھا گیا ۔ انار اور کھجُور اور سیب کے درخت ہاں مَیدان کے تمام درخت مُرجھا گئے اور بنی آدم سے خُوشی جاتی رہی۔ ‘

یُوایل 1: 12

‘پِھر مَیں نے تُم پر بادِ سمُوم اور گیروئی کی آفت بھیجی اور تُمہارے بے شُمار باغ اور تاکِستان اور انجِیر اور زَیتُون کے درخت ٹِڈّیوں نے کھا لِئے تَو بھی تُم میری طرف رجُوع نہ لائے خُداوند فرماتا ہے۔ ‘

عامُوس 4: 9

‘کیا اِس وقت بِیج کھتّے میں ہے؟ ابھی تو تاک اور انجِیر اور انار اور زَیتُون میں پَھل نہیں لگا ۔ آج ہی سے مَیں تُم کو برکت دُوں گا۔

حجَّی 2: 19

‘اور تمام اجرامِ فلک گُداز ہو جائیں گے اور آسمان طُومارکی مانِند لپیٹے جائیں گے اور اُن کی تمام افواج تاک اورانجِیر کے مُرجھائے ہُوئے پتّوں کی مانِند گِر جائیں گی۔ ‘

یسعیاہ 34: 4

‘خُداوند فرماتا ہے کہ مَیں اُن کو بِالکُل فنا کرُوں گا ۔ نہ تاک میں انگُور لگیں گے اور نہ انجِیر کے درخت میں انجِیر بلکہ پتّے بھی سُوکھ جائیں گے اور جو کُچھ مَیں نے اُن کو دِیا جاتا رہے گا۔ ‘

یرمِیاہ 8: 13

حضرت ہوسیع مزید آگے بڑھ جاتے ہیں اور انجیر کے درخت کو اسرائیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں اس کے بارے میں لعنت کا اعلان کرتے ہیں۔

ہوسیع 9: 10-12 ، 15-17 (یہاں افرائیم سے مراد اسرائیل ہی ہے۔ )

‘مَیں نے اِسرائیل کو بیابانی انگُوروں کی مانِند پایا ۔ تُمہارے باپ دادا کو انجِیرکے پہلے پکّے پَھل کی مانِند دیکھا جو درخت کے پہلے مَوسم میں لگا ہو لیکن وہ بعل فغُورکے پاس گئے اور اپنے آپ کو اُس باعِث رُسوائی کے لِئے مخصُوص کِیا اور اپنے اُس محبُوب کی مانِند مکرُوہ ہُوئے۔ اہلِ اِفرائِیم کی شَوکت پرِندہ کی مانِند اُڑ جائے گی وِلادت و حامِلہ کا وجُود اُن میں نہ ہو گا اور قرارِ حمل مَوقُوف ہو جائے گا۔ اگرچہ وہ اپنے بچّوں کو پالیں تَو بھی مَیں اُن کو چِھین لُوں گا تاکہ کوئی آدمی باقی نہ رہے کیونکہ جب مَیں بھی اُن سے دُور ہو جاؤُں تو اُن کی حالت قابِل افسوس ہوگی۔ ‘

ہوسیعَ 9: 10-12

‘اُن کی ساری شرارت جِلجا ل میں ہے۔ ہاں وہاں مَیں نے اُن سے نفرت کی ۔ اُن کی بد اعمالی کے سبب سے مَیں اُن کو اپنے گھر سے نِکال دُوں گا اور پِھر اُن سے مُحبّت نہ رکُھّوں گا ۔ اُن کے سب اُمرا باغی ہیں۔ بنی اِفرائیِم تباہ ہو گئے ۔اُن کی جڑ سُوکھ گئی۔اُن کے ہاں اَولاد نہ ہو گی اور اگر اَولاد ہو بھی تو مَیں اُن کے پِیارے بچّوں کو ہلاک کرُوں گا۔ میرا خُدا اُن کو رّد کر دے گا کیونکہ وہ اُس کے شِنوا نہیں ہُوئے اور وہ اقوامِ عالَم میں آوارہ پِھریں گے۔’

ہوسیعَ 9: 15-17

یہ تمام لعنتیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ یروشلیم کی بربادی پر پوری ہوئیں جو کہ 586 BCE میں ہوئی تھی۔ (یہودیوں کی تاریخ کو جاننے کے لیے یہاں دیکھیں) جب حضرت عیسیٰ المسیح کے حکم سے انجیر کا درخت مرجھا گیا تھا تو دراصل آپ یروشلیم کی ایک اور تباہی اور یہودیوں کی جلاوطنی کے بارے میں نشاندہی کررہے تھے۔ لعنت کرنے کے بعد آپ ہیکل میں گئے اور وہاں پر تعلیم دیتے اور یہودی راہنماوں کے سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کے روزِعدالت کے بارے میں بہت ساری نشانیاں بتائیں انجیلِ مقدس میں آپ کی تعلیمات کو رقم کی گیا ہے اور وہ تمام یہاں پر موجود ہیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح اپنی دوبارہ آمد کی نشانات کی پیشگوئی کرتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح یروشلیم میں ہیکل کی تباہی کی نتیجہ اخذ پیش گوئی کرتے ہیں۔ اس وقت میں ہیکل روم کی پوری سلطنت میں سب سے پراسرارعمارتوں میں ایک تھی۔ انجیل مقدس میں درج ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہیکل کی بربادی کو پہلے سے ہی جان گئے تھے۔ اس سے آپکی زمنیی واپسی کے بارے میں گفتگو کو جاری کردیا۔ اور آپ نے نشانات اور واپسی انجیل مقدس میں اس بارے میں تعلیمات درج ہیں۔

‘اور یِسُو ع ہَیکل سے نِکل کر جا رہا تھا کہ اُس کے شاگِرد اُس کے پاس آئے تاکہ اُسے ہَیکل کی عِمارتیں دِکھائیں۔ اُس نے جواب میں اُن سے کہا کیا تُم اِن سب چِیزوں کو نہیں دیکھتے؟ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ یہاں کِسی پتّھرپر پتّھر باقی نہ رہے گا جو گِرایا نہ جائے گا۔ اور جب وہ زَیتُو ن کے پہاڑ پر بَیٹھا تھا اُس کے شاگِردوں نے الگ اُس کے پاس آ کر کہا ہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے اور دُنیا کے آخِر ہونے کا نِشان کیا ہو گا؟۔ ‘

متّی 24: 1-3

حضرت عیسیٰ السمیح نے ہیکل کی مکمل تباہی کی پیش گوئی کرنا شروع دی۔ ہم تاریخ سے جانتے ہیں کہ یہ 70 C. E. میں واقع پیش آیا جس کی آپ نے پیش گوئی کی تھی۔ شام کے وقت ہیکل کو چھوڑ کر یروشلیم شہر کے باہر ایک پہاڑ پر چلے گے جس کا نام زیتون کا پہاڑ ہے۔ چونکہ یہودی دن کا آغاز سورج کے غروب ہونے کے ساتھ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ ہفتے کے چوتھے دن کا آغاز تھا۔ بدھ کے روز نسان 12 کو جب آپ نے اُن کے سوالوں کے جواب دیئے اور اُن کو دنیا کے آخر کے بارے میں بتایا اور اپنی دوسری آمد کے بارے میں بھی تعلیم دی۔

‘یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا کہ خبردار! کوئی تُم کو گُمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بُہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے مَیں مسِیح ہُوں اور بُہت سے لوگوں کو گُمراہ کریں گے۔ اور تُم لڑائِیاں اور لڑائِیوں کی افواہ سُنو گے ۔ خبردار! گھبرا نہ جانا! کیونکہ اِن باتوں کا واقِع ہونا ضرُور ہے لیکن اُس وقت خاتِمہ نہ ہو گا۔ کیونکہ قَوم پر قَوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بَھونچال آئیں گے۔ لیکن یہ سب باتیں مُصِیبتوں کا شُرُوع ہی ہوں گی۔ اُس وقت لوگ تُم کو اِیذا دینے کے لِئے پکڑوائیں گے اور تُم کو قتل کریں گے اور میرے نام کی خاطِر سب قَومیں تُم سے عداوت رکھّیں گی۔ اور اُس وقت بُہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دُوسرے کو پکڑوائیں گے اور ایک دُوسرے سے عداوت رکھّیں گے۔ اور بُہت سے جُھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بُہتیروں کو گُمراہ کریں گے۔ اور بے دِینی کے بڑھ جانے سے بُہتیروں کی مُحبّت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ مگر جو آخِر تک برداشت کرے گاوہ نجات پائے گا۔ اور بادشاہی کی اِس خُوشخبری کی مُنادی تمام دُنیا میں ہو گی تاکہ سب قَوموں کے لِئے گواہی ہو ۔ تب خاتِمہ ہو گا۔ پس جب تُم اُس اُجاڑنے والی مکرُوہ چِیز کو جِس کا ذِکر دانی ایل نبی کی معرفت ہُؤا ۔ مُقدّس مقام میں کھڑا ہُؤا دیکھو (پڑھنے والا سمجھ لے)۔ تو جو یہُودیہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔ جو کوٹھے پر ہو وہ اپنے گھر کا اسباب لینے کو نِیچے نہ اُترے۔ اور جو کھیت میں ہو وہ اپنا کپڑا لینے کو پِیچھے نہ لَوٹے۔ مگر افسوس اُن پر جو اُن دِنوں میں حامِلہ ہوں اور جو دُودھ پِلاتی ہوں!۔ پس دُعا کرو کہ تُم کو جاڑوں میں یا سبت کے دِن بھاگنا نہ پڑے۔ کیونکہ اُس وقت اَیسی بڑی مُصِیبت ہو گی کہ دُنیا کے شُرُوع سے نہ اب تک ہُوئی نہ کبھی ہو گی۔ اور اگر وہ دِن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا ۔ مگر برگُزِیدوں کی خاطِر وہ دِن گھٹائے جائیں گے۔ اُس وقت اگر کوئی تُم سے کہے کہ دیکھو مسِیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقِین نہ کرنا۔ کیونکہ جُھوٹے مسِیح اور جُھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور اَیسے بڑے نِشان اور عجِیب کام دِکھائیں گے کہ اگر مُمکِن ہو تو برگُزِیدوں کو بھی گُمراہ کر لیں۔ دیکھو مَیں نے پہلے ہی تُم سے کہہ دِیا ہے۔ پس اگر وہ تُم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا یا دیکھو وہ کوٹھرِیوں میں ہے تو یقِین نہ کرنا۔ کیونکہ جَیسے بِجلی پُورب سے کَوند کر پچّھم تک دِکھائی دیتی ہے وَیسے ہی اِبنِ آدم کا آنا ہو گا۔ جہاں مُردار ہے وہاں گِدھ جمع ہو جائیں گے۔ اور فوراً اُن دِنوں کی مُصِیبت کے بعد سُورج تارِیک ہو جائے گااور چاند اپنی رَوشنی نہ دے گااور ستارے آسمان سے گِریں گے اور آسمانوں کی قُوّتیں ہلائی جائیں گی۔ اور اُس وقت اِبنِ آدم کا نِشان آسمان پر دِکھائی دے گا۔ اور اُس وقت زمِین کی سب قَومیں چھاتی پِیٹیں گی اور اِبنِ آدم کو بڑی قُدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔ اور وہ نرسِنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرِشتوں کو بھیجے گا اور وہ اُس کے برگُزِیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اِس کنارے سے اُس کنارے تک جمع کریں گے۔ ‘

متّی 24:  4-31

یہاں حضرت عیسیٰ المسیح ہیکل کی مسقبیل میں ہونی والی تباہی کی منظر کشی کرتے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ ہیکل کی تباہی سے لیے کر آپ کی دوبارہ واپسی تک دنیا میں کیا کچھ ہوگا۔ بدی اپنےعروج پر ہوگی، زلزلے، مصیبتوں کا دور ہوگا، جنگیں، حضرت عیسیٰ المسیح کے پیروکار پر ایذارسانی کا دور ہوگا۔ یہاں تک کہ آپ نے پیشگوئی کی کہ ” انجیل شریف کی تبلیغ پوری دنیا میں ہوگی تب خاتمہ ہوگا” (14آیت)۔ جس طرح دنیا حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے میں جاننا شروع کرے گی۔ اُن کے درمیاں جھوٹے نبی اور اُستاد بھی ہونے گے جو آپ کی دوسری آمد کے بارے میں مختلف تعلیم دیئں گے۔ آپ کی دوسری آمد کے بارے میں نشانات ہونگے۔ ہر جگہ جنگ کا سما ہوگا۔ افراتفری اور مصیبت کا دور ہو۔ چاند، سورج اور ستارے میں ناقابل یقین خرابی ہوگی۔ ان کی روشنی جاتی رہے گی۔ اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جنگ، زلزلے، مصیبتوں کا اضافہ ہر روز ہورہا ہے۔ لہذا حضرت عیسیٰ المسیح کی آمد کا وقت نزدیک آتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم ابھی آپ کی واپسی نہیں ہوئی۔ لیکن ہم اس کے کتنے نزدیک ہیں؟ اس سوال کے جوابکے بارے میں حضرت عیسیٰ المسیح بات کو جاری رکھتے ہیں۔

‘اب انجِیرکے درخت سے ایک تمثِیل سِیکھو ۔ جُونہی اُس کی ڈالی نرم ہوتی اور پتّے نِکلتے ہیں تُم جان لیتے ہو کہ گرمی نزدِیک ہے۔ اِسی طرح جب تُم اِن سب باتوں کو دیکھو تو جان لو کہ وہ نزدِیک بلکہ دروازہ پر ہے۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگِز تمام نہ ہو گی۔ آسمان اور زمِین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں ہرگِز نہ ٹلیں گی۔ ‘

متّی 24 :32-35

انجیر کو یاد رکھیں جو کہ اسرائیل کی علامت ہے۔ جس پر حضرت عیسیٰ المسیح نے لعنت کی اور وہ اُسی روز مرجھا گیا۔ جب ہیکل کی بربادی سن 70 میں ہوئی اُسی وقت سے اسرائیل مرجھا شروع ہوا اور سینکڑوں سال سے مرجھا رہا ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ارشاد فرمایا کہ جُونہی اُس کی ڈالی نرم ہوتی اور پتّے نِکلتے ہیں تو ہم اس سے جان لیں گے کہ وقت”نزدیک” ہے۔ گزشتہ 70 سالوں سے ہم اس بات کا مشاہدہ کررہے ہیں کی اس "انجیرکے درخت” میں کونپلیں نکل رہیں ہیں اور نئے سبز پتے ظاہر ہورہے ہیں۔ اس کا آغاز اسرائیل کی دوبارہ پیدائش سے شروع ہوگیا تھا۔ اور یہودیوں کی اسرائیل میں واپسی میں جاری رہا۔ اس درخت کی آبیاری اور پرورش جاری ہے۔ جی ہاں! اس دور کی شروعات سے ہی ہم نے جنگ، اور تکلیفوں اور مصبتیوں کا تجربہ کیا۔ لیکن ہم حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم سے حیران نہیں ہوجانا چاہیے۔ ابھی بہت سے اطراف میں سے یہ درخت مردہ ہے۔ لیکن انجیر کے درخت میں سبز پتوں اُگنا شروع ہوگے ہیں۔

اس لیے ہمیں آج محتاط اور چوکس ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمیں پہلے دوسری آمد کے بارے میں خبردار کردیا ہے۔

‘لیکن اُس دِن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا ۔ نہ آسمان کے فرِشتے نہ بیٹا مگر صِرف باپ۔ جَیسا نُوح کے دِنوں میں ہُؤا وَیسا ہی اِبنِ آدم کے آنے کے وقت ہو گا۔ کیونکہ جِس طرح طُوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پِیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے اُس دِن تک کہ نُو ح کشتی میں داخِل ہُؤا۔ اور جب تک طُوفان آکر اُن سب کو بہا نہ لے گیا اُن کو خبر نہ ہُوئی اُسی طرح اِبنِ آدم کا آنا ہو گا۔ اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہوں گے ایک لے لِیا جائے گا اور دُوسرا چھوڑ دِیا جائے گا۔ دو عَورتیں چکّی پِیستی ہوں گی۔ ایک لے لی جائے گی اور دُوسری چھوڑ دی جائے گی۔ پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ تُمہارا خُداوند کِس دِن آئے گا۔ لیکن یہ جان رکھّو کہ اگر گھر کے مالِک کو معلُوم ہوتا کہ چور رات کے کَون سے پہر آئے گا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگانے دیتا۔ اِس لِئے تُم بھی تیّار رہو کیونکہ جِس گھڑی تُم کو گُمان بھی نہ ہو گا اِبنِ آدم آ جائے گا۔ پس وہ دِیانتدار اور عقلمند نَوکر کَون سا ہے جِسے مالِک نے اپنے نَوکر چاکروں پر مُقرّر کِیا تاکہ وقت پر اُن کوکھانا دے؟۔ مُبارک ہے وہ نَوکر جِسے اُس کا مالِک آ کر اَیسا ہی کرتے پائے۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اُسے اپنے سارے مال کا مُختار کر دے گا۔ لیکن اگر وہ خراب نَوکر اپنے دِل میں یہ کہہ کر کہ میرے مالِک کے آنے میں دیر ہے۔ اپنے ہم خِدمتوں کو مارنا شُرُوع کرے اور شرابِیوں کے ساتھ کھائے پِئے۔ تو اُس نَوکر کا مالِک اَیسے دِن کہ وہ اُس کی راہ نہ دیکھتا ہو اور اَیسی گھڑی کہ وہ نہ جانتا ہو آ مَوجُود ہو گا۔ اور خُوب کوڑے لگا کر اُس کورِیاکاروں میں شامِل کرے گا ۔ وہاں رونا اور دانت پِیسنا ہو گا۔’

متّی 24: 36-51

حضرت عیسیٰ المسیح اپنی دوبارہ واپسی کے بارے تعلیم کو جاری رکھتے ہیں۔ اس کے بارے میں مطالعہ کرنے لیے یہاں کلک کریں۔

دن 3 اور 4 کا خلاصہ

ٹائم لائن ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے انجیر کے درخت پر 3 دن لعنت دی۔ منگل۔ اس کے بعد یہودی راہنماوں کے ساتھ ایک لمبا مناظرہ۔ یہ عمل اسرائیل کی علامتی طور پر پیشگوئی تھی۔ پھر بدھ ، 4 دن والے دن آپ نے اپنی دوبارہ واپسی کے بارے میں علامات وضاحت کے ساتھ پیش کئیں۔ ان میں بڑی علامت یہ تھی کی آسمانی قوتیں ہلائی جائیں گی۔

حضرت عیسیٰ المسیح کے دن 3 اور 4 کے نشانات کا تورات شریف کے قواعد و ضوابط سے موازنہ

پھرحضرت عیسیٰ المسیح نے ہم سب کو خبردار کیا کہ میری واپسی کے بارے میں احتیاط کے ساتھ غور و فکرکرتے رہو۔ چونکہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ انجیر کا درخت دوبارہ سبز ہورہا ہے۔ ہمیں چوکس اور احتیاط کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔

انجیل شریف میں درج ہے کہ کیسے شیطان 5ویں دن حضرت عیسیٰ السمیح کے خلاف کام کرتا ہے۔ جس کے بارے میں اگلے ارٹیکل میں پڑھیں گے۔

ہفتے ہر روز کی وضاحت بیان کی گی ہے لیکن  لوقا کی کتاب اس کا خلاصہ یوں بیان کرتی ہے

: (لوقا 21: 37)

دوسرا دن : حضرت عیسیٰ المسیح کا چناو جہاں آج مسجدِاقصیٰ اور قبة الصخرة کے مقام پر ہوا۔

یروشلیم میں مسجدِاقصیٰ اور قبة الصخرة کیوں خاص مقام ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں بہت سارے پاک واقعات اس جگہ پر واقعہ ہوئے ہیں۔ لیکن ان میں سے چند واقعات حضرت عیسیٰ المسیح سے ساتھ بھی پیش آئے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی گئی نبوت کے مطابق یروشلیم میں داخل ہوئے۔ یہ نبوت سینکڑوں سال پہلے اللہ تعالیٰ نے فرما دی تھی۔ تاکہ آپ اپنے آپ کو مسیحا اور قوموں کے لیے نور کے طور پر ظاہر ہوں۔ یہ تاریخ یہودی کیلنڈر کے مطابق ماہ نسان کی 9 تاریخ تھی اور دن اتوار کا تھا۔ یہ پاک ہفتے کا پہلا دن ہے۔ کیونکہ تورات شریف کے مطابق اگلا دن 10 نسان تھا جوکہ یہودیوں کے کیلنڈر کا منفرد دن تھا۔ طویل عرصے سے تورات شریف میں حضرت موسٰی ؑ  نے یہ واقعہ درج کردیا تھا۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے خلاف دسویں آفت کو نازل فرمایا تھا۔ جس کا ذکر یوں درج ہے۔

1پِھر خُداوند نے مُلکِ مِصر میں مُوسیٰ اور ہارُو ن سے کہا کہ۔ 2یہ مہِینہ تُمہارے لِئے مہِینوں کا شرُوع اور سال کا پہلا مہِینہ ہو۔ 3پس اِسرائیلیوں کی ساری جماعت سے یہ کہہ دو کہ اِسی مہینے کے دسویں دِن ہر شخص اپنے آبائی خاندان کے مُطابِق گھر پِیچھے ایک برّہ لے۔

خروج 12: 1-3

اُس وقت نسان یہودی سال کا پہلا مہینہ تھا۔ لہذا حضرت موسیٰ کے وقت سے ہر یہودی خاندان آنے والی فسح کے تہوار کے لیے ایک برہ منتخب کرتا تھا۔ یہ صرف اُسی دن ہی جاسکتا تھا۔ حضرت عیسیٰ السمیح کے دور میں یہودی فسح کے لیے برہ ہیکل میں منتخب کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم کو اسی جگہ 2000 سال پہلے (حضرت عیسیٰ المسیح کے دور کے مطابق) اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹے کی قربانی کے وسیلے آزمایا تھا۔ آج یہ جگہ یروشلیم میں مسجدِاقصیٰ اور قبة الصخرة سے مشہور ہے۔ تاہم اس ایک خاص مقام پر جہاں( یروشلیم میں مسجدِاقصیٰ اور قبة الصخرة اور اس جگہ پرحضرت عیسیٰ المسیح کے دور میں ہیکلِ سلیمانی تھی۔ اور یہودی اس مخصوص دن (نسان 10) فسح کا برہ منتخب کرتے (اگر وہ خاندان غریب ہوتا تو وہ کبوترکے جوڑے کو منتخب کرتے)۔ جس طرح آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک بڑی تعداد میں لوگ اور پھر جانوروں کا ہجوم اور خریدوں فروخت کا شور(قربانی کی عید پر دیکھا جاسکتا ہے)۔ جیسا کہ (بہت ساری یہودی یروشلیم میں مختلف جگہوں سے آتے تھے)۔ اس سارے منظر کو دیکھ کر ایک جانوروں مارکیٹ کا منظربن جاتا ہے۔ اسی ایک دن کے بارے میں انجیل مقدس میں درج ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے اُس دن کیا کیا تھا۔ جب "اگلے دن” کا ذکر حوالہ میں آتا ہے۔ تو یہ دن حضرت عیسیٰ المسیح کی یروشلیم میں شاہانہ آمد کے بعد والا دن ہے یعنی کہ نسان کی 10 تاریخ۔ یہ وہی خاص دن جس دن فسح کے لیے بروں (بکروں) ہیکل میں چُنا جاتا تھا۔

11اور وہ یروشلِیم میں داخِل ہو کر ہَیکل میں آیا اور چاروں طرف سب چِیزیں مُلاحظہ کر کے اُن بارہ کے ساتھ بَیت عَنِیا ہ کو گیا کیونکہ شام ہو گئی تھی۔ 12دُوسرے دِن جب وہ بَیت عَنِیا ہ سے نِکلے تو اُسے بُھوک لگی۔ 13اور وہ دُور سے انجِیرکا ایک درخت جِس میں پتّے تھے دیکھ کر گیا کہ شاید اُس میں کُچھ پائے ۔ مگر جب اُس کے پاس پُہنچا تو پتّوں کے سِوا کُچھ نہ پایا کیونکہ انجِیرکا مَوسم نہ تھا۔ 14اُس نے اُس سے کہا آیندہ کوئی تُجھ سے کبھی پَھل نہ کھائے اور اُس کے شاگِردوں نے سُنا۔ 15پِھروہ یروشلِیم میں آئے اور یِسُو ع ہَیکل میں داخِل ہو کر اُن کو جو ہَیکل میں خرِید و فروخت کر رہے تھے باہر نِکالنے لگا اور صرّافوں کے تختوں اور کبُوتر فروشوں کی چَوکیوں کو اُلٹ دِیا۔ 16اور اُس نے کِسی کو ہَیکل میں سے ہو کر کوئی برتن لے جانے نہ دِیا۔ 17اور اپنی تعلِیم میں اُن سے کہا کیا یہ نہیں لِکھا ہے کہ میرا گھر سب قَوموں کے لِئے دُعا کا گھر کہلائے گا؟ مگر تُم نے اُسے ڈاکُوؤں کی کھوہ بنا دِیا ہے۔   مرقس 11: 11-17

حضرت عیسیٰ المسیح ہیکل میں اگلے دن یعنی سوموار کے دن ہیکل میں گے۔ اور آپ نے تمام کاروباری سرگرمیوں کو روکا۔ اور آپ نے کہا کہ تم نے اس جگہ کو تجارت کا گھر بنا رکھا ہے۔ جب کہ یہ جگہ اقوامِ عالم کے لیے دعا کا گھر ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح اقوام ِعالم کے لیے نور تھے اور آپ کے اس عمل کی وجہ سےآسمان اور زمیں کے درمیان روکا ہوا رابطہ پھر سے بھال ہوگیا۔ لیکن اُسی وقت غیب میں کچھ ہوا۔ ہم اس بات کو حضرت یحییٰ ؑ کی تبلیغ سے جان سکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت یحییٰ ؑ نے حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے یوں فرمایا تھا۔

دُوسرے دِن اُس نے حضرت عیسیٰ المسیح (یِسُو ع) کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گُناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔

یوحنا 29:1

حضرت عیسیٰ المسیح ‘اللہ تعالیٰ کے برہ’ تھے۔ حضرت ابراہیم کی قربانی کے قصہ میں اللہ تعالیٰ ہی نے برہ حضرت ابراہیم کی قربانی کے لیے منتخب کیا۔ جس کے سنگ جاڑی میں پھنس ہوئے تھے۔ اس لیے آج ہم عيد الأضحى مناتے ہیں۔ ہیکل کی اسی مقام پر جہاں آج مسجدِ اقصیٰ اور قتبہ موجود ہے۔ وہاں فسح کے لیے برہ چُنا جاتا تھا۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح ہیکل میں نسان کی 10 تاریخ کو گئے۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ المسیح کو فسح کے برہ کے لیے چُن لیا گیا۔ آپ کو اس خاص دن پر ہیکل میں موجود ہونا تھا تاکہ آپ اس کام کے لیے منتخب ہوں اور آپ وہاں موجود تھے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا مقصد فسحی میمن (برہ) کے طور پر

حضرت عیسیٰ المسیح کو فسح کے برہ کے طور ہر کیوں منتخب کیا گیا؟ حضرت عیسیٰ السمیح کی تعلیم اس سوال کا جواب فراہم کرتی ہے۔ جب آپ نے فرمایا، "میرا گھر سب قَوموں کے لِئے دُعا کا گھر کہلائے گا” دراصلحضرت عیسیٰ المسیح حضرت یسعیاہ کی کتاب میں سے حوالہ دے رہے تھے۔ یہاں پر مکمل متن موجود ہے۔ (نبی نےجوبات کی وہ سرخ سیاہی میں درج ہے) ۔

6اور بے گانہ کی اَولاد بھی جِنہوں نے اپنے آپ کو خُداوند سے پَیوستہ کِیا ہے کہ اُس کی خِدمت کریں اور خُداوندکے نام کو عزِیز رکھّیں اور اُس کے بندے ہوں۔ وہ سب جوسبت کو حِفظ کر کے اُسے ناپاک نہ کریں اور میرے عہد پرقائِم رہیں۔ 7مَیں اُن کو بھی اپنے کوہِ مُقدّس پر لاؤُں گا اور اپنی عِبادت گاہ میں اُن کو شادمان کرُوں گا اور اُن کی سوختنی قُربانِیاں اور اُن کے ذبِیحے میرے مذبح پر مقبُول ہوں گے کیونکہ میرا گھر سب لوگوں کی عِبادت گاہ کہلائے گا۔   یسعیاہ 7-6: 56

زبور شریف میں حضرت یسعیاہ کا دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ ٹائم لائن

‘مقدس پہاڑ’ جس کے بارے میں حضرت یسعیاہ نبی نے لکھا ہے وہ موریاہ  کا پہاڑ تھا۔ جہاں پر حضرت ابراہیم نے اُس برہ کی قربانی دی جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے بیٹے کی جگہ چُنا تھا۔ یہ وہی جگہ تھی جس کو ‘دعا کا گھر’ ہیکل کہا گیا تھا جس میں حضرت عیسیٰ المسیح نسان 10 تاریخ کو داخل ہوئے۔ یہودیوں کے لیے مقام اور تاریخ دونوں حضرت ابراہیم کی قربانی اور حضرت موسیٰ کی فسح کے لیے مشترکہ عید کا تہوار تھا۔ تاہم صرف یہودی ہی ہیکل میں قربانی دی سکتے تھے اور فسح کے تہوار کو منا سکتے تھے۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے یہ لکھا تھا۔ کہ ایک دن غیر اقوام (غیر یہودی) ایک دن اُن کی سُختنی قربانیان اور حدیے قبول کئے جائیں گے۔ نبی نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ کیسے ہوگا۔ لیکن ہم اس حوالے نذروں کو جاری رکھیں گے جس طرح ہم اس بات کو جان گے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ اور مجھ کو برکت دے گا۔

پاک ہفتے کے دوسرے دن

جب یہودیوں نے نسان 10 تاریخ کو اپنے لیے برے (بکرے) منتخب کرلیے جس طرح تورات شریف میں چننے کے بارے میں قواعد درج تھے۔

اور تُم اُسے اِس مہِینے کی چودھوِیں تک رکھ چھوڑنا اور اِسرائیلیوں کے قبِیلوں کی ساری جماعت شام کو اُسے ذبح کرے۔  خروج 12: 6

پہلا فسح جو کہ حضرت موسیٰ کے وقت سے شروع ہوا تھا، یہودی نسان 14 تاریخ کو اپنے برے قربان کرتے تھے۔ ہم نے "بروں کی نگہداشت” اور تورات کے مطابق قربانی کی تفصل کو ٹائم لائن میں درج کردیا ہے۔ ٹائم لائن کے نچلے نصف حصے میں ہم نے ہفتے کے 2 دنوں کی سرگرمیوں کو درج کردیا ہے۔ آپ کی ہیکل کی صفائی(تمام تجارتی سرگرمیاں) اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فسح کے برہ کے طور پر چناو۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی سوموار والے دن کی تفصیل -2 دن- کا تورات کے احکام اور قواعد کے ساتھ موازنہ

جب حضرت عیسیٰ المسیح ہیکل کو غیر ضروری سرگرمیوں سے صاف کرنے لے لیے گے۔ تو اس کا انسانی سطح پر بھی اثر ہوا۔ انجیل مقدس اس کے بارے بیان کرتی ہے۔

اور سردار کاہِن اور فقِیہہ یہ سُن کر اُس کے ہلاک کرنے کا موقع ڈُھونڈنے لگے کیونکہ اُس سے ڈرتے تھے اِس لِئے کہ سب لوگ اُس کی تعلِیم سے حَیران تھے۔ مرقس 11:18

ہیکل کی صفائی کے عمل میں یہودی رہنماوں کی طرف سےحضرت عیسٰی المسیح کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ جب ہم اس سارے واقعہ کی تحقیق کرتے ہیں اوررہنماوں کی سرگرمیاں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں، توحضرت عیسیٰ المسیح کے اعمال تورات شریف کے ساتھ مشترکہ ہوجاتے ہی۔ آئیں اس بات کی جانیں دن 3اور4 میں۔

حضرت عیسیٰ المسیح: قوموں کے لے نور

حضرت عیسیٰ المسیح ایک شاہانہ جلوس کے ساتھ گدھے پر بیٹھ کر یروشلیم میں داخل ہوئے بلکل جیسے حضرت زکریا نے 500 سال پہلے نبوت کی تھی، بلکل اُس دن یروشلیم میں داخل ہوئے جیسا حضرت دانیال نے 550 سال پہلے نبوت کی تھی۔ یہودی مختلف ممالک سے یروشلیم عیدِفسح منانے کے لیے آرہے تھے۔ اس لیے یروشلیم حج کی وجہ سے لوگوں کی آمد پر بھرا ہوا تھا۔ (جس طرح لوگ مکہ میں حج جاتے ہیں۔ ) تاہم حضرت عیسیٰ المسیح کی اس آمد کی وجہ سے یہودیوں کے درمیان ایک ہلچل پیدا ہوگی تھی۔ لیکن یہ صرف یہودی ہی نہیں تھے۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کی آمد کو نوٹس میں لیا تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی یروشلیم میں آمد کے بعد کیا ہوا۔ انجیل مقدس میں یوں درج ہے۔

‘جو لوگ عِید میں پرستِش کرنے آئے تھے اُن میں بعض یُونانی تھے۔ پس اُنہوں نے فِلِپُّس کے پاس جو بَیت صَیدایِ گلِیل کا تھا آ کر اُس سے درخواست کی کہ جناب ہم یِسُو ع کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ فِلِپُّس نے آ کر اندر یاس سے کہا ۔ پِھر اندر یاس اور فِلِپُّس نے آ کر یِسُو ع کو خبر دی۔ ‘ یُوحنّا 12:20-22

حضرت عیسیٰ المسیح کے دور میں یہودیوں اور یونانیوں کے درمیان رکاوٹ

یہ ایک نہایت غیر معمولی بات تھی کہ یہودیوں کے تہوار پر یونانی (غیر ملکی/غیر یہودی) شرکت کریں۔ یہودی اور رومی چونکہ بت پرست تھے۔ اس لیے یہودی اُن کو ناپاک اوراُن سے تعلق رکھنے سے پرہیز رکھتے تھے۔  اور یونانی یہودی مذہب کے بارے میں سوچتے تھے کہ وہ ایک ہی اللہ (جونظر بھی نہیں آتا) کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ یہودیوں کے تہوار کو بے وقوفی سمجھتے تھے۔ اُس وقت صرف یہودی ہی واحد ایسی قوم تھی۔ جو واحد خدا کی عبادت کرتی تھی۔ اس لیے یہ لوگوں ایک دوسرے سے الگ رہنا پسند کرتے تھے۔ غیر یہودی معاشرہ یہودی معاشرے سے تعداد میں بڑا تھا۔ یہودی دوسری دنیا سے الگ تھلگ رہتے تھے۔ یہودی حلال غذا کھاتے، اپنے انبیاء اکرام کی کتاب (تورات شریف) کو پڑھتے، ان سب باتوں کی وجہ سے یہودی دوسری قوموں سے الگ تھلگ رہتے۔

ہمارے اس دور میں، بت پرستی کو پوری دنیا میں مسترد کردیا گیا ہے۔ اس لیے ہم اس بات کو آسانی سے بھول سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے دور میں یہ کتنا مختلف تھا۔ اصل میں حضرت ابراہیم کے دور میں اُن کے علاوہ سب بت پرست مذہب کے پیروکار تھے۔ حضرت موسیٰ کے دور میں تمام قومیں بتوں کی پوجا کرتیں تھیں۔ فرعوں اپنے آپ کو خدا ہونے کا دعوہ کرتا تھا۔ اس طرح اسرائیل چھوٹا سا جزیرہ تھا خداِ واحد کی عبادت کرتا تھا جو ایک بہت بڑے بت پرست سمندر میں گھیرا ہوا تھا۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے (750 ق م) )مستقبیل میں سب قوموں میں ہونے والی تبدیلی کو دیکھا۔ اُنہوں نے اس کو یوں لکھا۔

‘اَے جزِیرو میری سُنو! اَے اُمّتو جو دُور ہو کان لگاؤ! خُداوند نے مُجھے رَحِم ہی سے بُلایا ۔ بطنِ مادر ہی سے اُس نے میرے نام کا ذِکر کِیا۔

چُونکہ مَیں خُداوند کی نظر میں جلِیلُ القدر ہُوں اور وہ میری توانائی ہے اِس لِئے وہ جِس نے مُجھے رَحِم ہی سے بنایا تاکہ اُس کا خادِم ہو کر یعقُو ب کو اُس کے پاس واپس لاؤُں اور اِسرائیل کو اُس کے پاس جمع کرُوں یُوں فرماتا ہے۔ ہاں خُداوند فرماتا ہے کہ یہ تو ہلکی سی بات ہے کہ تُو یعقُو ب کے قبائِل کو برپا کرنے اور محفُوظ اِسرائیلِیوں کو واپس لانے کے لِئے میرا خادِم ہو بلکہ مَیں تُجھ کوقَوموں کے لِئے نُور بناؤُں گا کہ تُجھ سے میری نجات زمِین کے کناروں تک پُہنچے۔ ‘ یسعیاہ 49 : 1, 5-6

‘خَوف نہ کر کیونکہ تُو پِھر پشیمان نہ ہو گی ۔ تُونہ گھبرا کیونکہ تُو پِھر رُسوا نہ ہو گی اور اپنی جوانی کا ننگ بُھول جائے گی اور اپنی بیوگی کی عار کو پِھر یادنہ کرے گی۔ ‘ یسعیاہ 54 :4

‘اُٹھ مُنوّر ہو کیونکہ تیرا نُور آ گیا اور خُداوندکا جلال تُجھ پر ظاہِر ہُؤا۔ کیونکہ دیکھ تارِیکی زمِین پر چھا جائے گی اور تِیرگی اُمّتوں پر لیکن خُداوند تُجھ پر طالِع ہو گا اور اُس کاجلال تُجھ پر نُمایاں ہو گا۔ اور قَومیں تیری رَوشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطِین تیرے طلُوع کی تجلّی میں چلیں گے۔ ‘ یسعیاہ  60 :1-3

لہذا حضرت یسعیاہ نبی نے بتایا کہ ایک اللہ تعالیٰ کا ‘خادم’ آئے گا۔ اُس کا تعلق یہودہ (حضرت یقعوب کا ایک قبیلہ) کے قبیلہ سے ہوگا۔ وہ غیر یہودیوں کےلیے نور ہوگا۔ (تمام غیراسرائیلیوں کے لیے) اور یہ نور دنیا کے ہر کونے میں چمکے گی۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوگا، جب کہ یہودیوں اور دوسری قوموں کے درمیان سینکڑوں سال کی دور پائی جاتی تھی اور ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے۔

جس دن حضرت عیسیٰ المسیح یروشلیم میں داخل ہوئے تو ہم دیکھ سکتے ہیں اُسی دن غیر قوموں پر نور چمکنا شروع ہوگیا تھا۔ یہاں یہودی تہوار پر یونانی ایک لمبا سفر کرکے آئے تاکہ وہ حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے میں جان سکیں۔ لیکن کیا یہودیوں کی طرف سے اس کو حرام سمجھا گیا کہ وہ ایک نبی کو دیکھنے آئے ہیں؟ اُنہوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کے حواریوں سے درخواست کی جس کو آپ کے حضور پیش کیا گیا۔ آپ نے اُن سے کیا کہا تھا؟ کیا اُن کو آپ سے ملنے کی اجازت دے دی گئی ج لوگو درست مذہب کے بارے میں بہت کم جانتے تھے؟ انجیل مقدس میں اس بارے میں یوں بیان آیا ہے۔

23یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا وہ وقت آ گیا کہ اِبنِ آدم جلال پائے۔ 24مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک گیہُوں کا دانہ زمِین میں گِر کر مَر نہیں جاتا اکیلا رہتا ہے لیکن جب مَر جاتا ہے تو بُہت سا پَھل لاتا ہے۔ 25جو اپنی جان کو عزِیز رکھتا ہے وہ اُسے کھو دیتا ہے اور جو دُنیا میں اپنی جان سے عداوت رکھتا ہے وہ اُسے ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے محفُوظ رکھّے گا۔ 26اگر کوئی شخص میری خِدمت کرے تو میرے پِیچھے ہو لے اور جہاں مَیں ہُوں وہاں میرا خادِم بھی ہو گا ۔ اگر کوئی میری خِدمت کرے تو باپ اُس کی عِزّت کرے گا۔ یِسُوع اپنی مَوت کا ذکر کرتاہے
27اب میری جان گھبراتی ہے ۔ پس مَیں کیا کہُوں؟ اَے باپ! مُجھے اِس گھڑی سے بچا لیکن مَیں اِسی سبب سے تو اِس گھڑی کو پُہنچا ہُوں۔ 28اَے باپ! اپنے نام کو جلال دے ۔
پس آسمان سے آواز آئی کہ مَیں نے اُس کو جلال دِیا ہے اور پِھر بھی دُوں گا۔
29جو لوگ کھڑے سُن رہے تھے اُنہوں نے کہا کہ بادِل گرجا ۔ اَوروں نے کہا کہ فرِشتہ اُس سے ہم کلام ہُؤا۔
30یِسُو ع نے جواب میں کہا کہ یہ آواز میرے لِئے نہیں بلکہ تُمہارے لِئے آئی ہے۔31اب دُنیا کی عدالت کی جاتی ہے ۔ اب دُنیا کا سردار نِکال دِیا جائے گا۔ 32اور مَیں اگر زمِین سے اُونچے پر چڑھایا جاؤں گا تو سب کو اپنے پاس کھینچُوں گا۔ 33اُس نے اِس بات سے اِشارہ کِیا کہ مَیں کِس مَوت سے مَرنے کو ہُوں۔
34لوگوں نے اُس کو جواب دِیا کہ ہم نے شرِیعت کی یہ بات سُنی ہے کہ مسِیح ابد تک رہے گا ۔ پِھر تُو کیوں کر کہتا ہے کہ اِبنِ آدم کا اُونچے پر چڑھایا جانا ضرُور ہے؟ یہ اِبنِ آدم کَون ہے؟۔
35پس یِسُو ع نے اُن سے کہا کہ اور تھوڑی دیر تک نُور تُمہارے درمِیان ہے ۔ جب تک نُور تُمہارے ساتھ ہے چلے چلو ۔ اَیسا نہ ہو کہ تارِیکی تُمہیں آ پکڑے اور جو تارِیکی میں چلتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کِدھر جاتا ہے۔ 36جب تک نُور تُمہارے ساتھ ہے نُور پر اِیمان لاؤ تاکہ نُور کے فرزند بنو ۔
لوگوں کی بے اِعتقادی یِسُو ع یہ باتیں کہہ کر چلا گیا اور اُن سے اپنے آپ کو چُھپایا۔37اور اگرچہ اُس نے اُن کے سامنے اِتنے مُعجِزے دِکھائے تَو بھی وہ اُس پر اِیمان نہ لائے۔38تاکہ یسعیا ہ نبی کا کلام پُورا ہو جو اُس نے کہا کہ اَے خُداوند ہمارے پَیغام کا کِس نے یقِین کِیا ہے ؟
اور خُداوند کا ہاتھ کِس پر ظاہِر ہُؤا ہے؟۔
39اِس سبب سے وہ اِیمان نہ لا سکے کہ یسعیا ہ نے پِھر کہا۔
40اُس نے اُن کی آنکھوں کو اندھا
اور اُن کے دِل کو سخت کر دِیا ۔
اَیسا نہ ہو کہ وہ آنکھوں سے دیکھیں
اور دِل سے سمجھیں
اور رجُوع کریں اور مَیں اُنہیں شِفا بخشُوں۔
41یسعیا ہ نے یہ باتیں اِس لِئے کہِیں کہ اُس نے اُس کا جلال دیکھا اور اُس نے اُسی کے بارے میں کلام کِیا۔
42تَو بھی سرداروں میں سے بھی بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے مگر فرِیسِیوں کے سبب سے اِقرار نہ کرتے تھے تا اَیسا نہ ہو کہ عِبادت خانہ سے خارِج کِئے جائیں۔ 43کیونکہ وہ خُدا سے عِزّت حاصِل کرنے کی نِسبت اِنسان سے عِزّت حاصِل کرنا زِیادہ چاہتے تھے۔
یِسُوع کی باتیں مُجرِم ٹھہراتی ہیں
44یِسُو ع نے پُکار کر کہا کہ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ مُجھ پر نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے پر اِیمان لاتا ہے۔ 45اور جو مُجھے دیکھتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو دیکھتا ہے۔ 46مَیں نُور ہو کر دُنیا میں آیا ہُوں تاکہ جو کوئی مُجھ پر اِیمان لائے اندھیرے میں نہ رہے۔ 47اگر کوئی میری باتیں سُن کر اُن پر عمل نہ کرے تو مَیں اُس کو مُجرِم نہیں ٹھہراتا کیونکہ مَیں دُنیا کو مُجرِم ٹھہرانے نہیں بلکہ دُنیا کو نجات دینے آیا ہُوں۔ 48جو مُجھے نہیں مانتا اور میری باتوں کو قبُول نہیں کرتا اُس کا ایک مُجرِم ٹھہرانے والا ہے یعنی جو کلام مَیں نے کِیا ہے آخِری دِن وُہی اُسے مُجرِم ٹھہرائے گا۔ 49کیونکہ مَیں نے کُچھ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ باپ جِس نے مُجھے بھیجا اُسی نے مُجھ کو حُکم دِیا ہے کہ کیا کہُوں اور کیا بولُوں۔ 50اور مَیں جانتا ہُوں کہ اُس کا حُکم ہمیشہ کی زِندگی ہے ۔ پس جو کُچھ مَیں کہتا ہُوں جِس طرح باپ نے مُجھ سے فرمایا ہے اُسی طرح کہتا ہُوں۔

یوحنا 12: 23-50

اس بیان میں حضرت عیسیٰ المسیح نے فرمایا کہ میں اُونچے پر چڑھایا جاوں گا تاکہ سب لوگوں کو اپنی طرف کھیچ لوں۔ اس میں نہ صرف یہودی شامل ہیں بلکہ ساری قومیں۔ یہودی صرف ایک خدا کی عبادت کرتے تھے۔ لیکن وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ آپ کیا فرماتے ہیں۔ حضرت یسعیاہ نے فرمایا کہ یہ اُنہوں کے سخت دلی کی وجہ سے وہ سمجھ نہ سکے۔ اور اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو جاننا پسند نہ کیا۔ لیکن کئی لوگوں نے خاموشی سے اس بات کو قبول کر لیا تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے بڑی دلیری سے اس بات کا دعوی کیا۔ کہ’وہ اس دنیا میں نور ہیں’ (آیت 46) جس کے بارے میں سابقہ انبیاءاکرام نے نبوت فرما دی تھی۔ کہ یہ نور تمام قوموں میں چمکے گا۔ اُس دن جب آپ یروشلیم میں داخل ہوئے تو یہ نور غیر قوموں پر چمکا۔ کیا یہ نور تمام قوموں تک پھیل چکا ہے؟ حضرت عیسیٰ المسیح کی اُونچے پر چڑھائے جانے سے کیا مراد تھی؟ ہم اس آخری ہفتے کو سمجھنے کے لیے اس کو جاری رکھیں گے۔

درج ذیل چارٹ اس ہفتے کے ہر دن کو بیان کرتا ہے۔ اتوار والے دن جو کہ ہفتے کا پہلا دن تھا۔ اُن میں سابقہ انبیاء اکرام کی تین مختلف نبوتیں پوری ہوئیں۔ پہلی یہ کہ آپ یروشلیم میں ایک جلوس کے ساتھ گدھے پر بیٹھ کر داخل ہوئے۔ جو کہ حضرت زکریا نبوت کی تھی۔ دوسری، حضرت دانیال نے نبوت کی تھی۔ تیسری نبوت حضرت یسعیاہ نے جس میں یہ بیان کیا گیا تھا۔ کہ غیرقوموں پر روشنی چمکے گی۔ جو تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔

آخری ہفتے کے واقعات-اتوار 1 دن

حضرت عیسیٰ المسیح ایک چونکا دینے والے دشمن کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح نے لعزر کو مردوں میں سے زندہ کرکےاپنے مشن کو لوگوں کے درمیان اُجاگر کیا اور اب وہ یروشلیم (اقدوس) کی راہ پر تھے۔ آپ کواسی راستے سے وہاں پہنچنا تھا۔ اِس کے بارے سینکڑوں سال پہلے نبوت کردی گئی تھی۔ انجیل مقدس میں یوں بیان آیا ہے۔

‘دُوسرے دِن بُہت سے لوگوں نے جو عِید میں آئے تھے یہ سُن کر کہ یِسُوع یروشلِیم میں آتا ہے۔ کھجُور کی ڈالِیاں لِیں اور اُس کے اِستِقبال کو نِکل کر پُکارنے لگے کہ

!ہوشعنا

مُبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام پر آتا ہے اور اِسرا ئیل کا بادشاہ ہے۔

جب یِسُو ع کو گدھے کا بچّہ مِلا تو اُس پر سوار ہُؤا جَیسا کہ لِکھا ہے کہ۔

اَے صِیُّو ن کی بیٹی مت ڈر ۔ دیکھ تیرا بادشاہ گدھے کے بچّہ پر سوار ہُؤا آتا ہے۔

اُس کے شاگِرد پہلے تو یہ باتیں نہ سمجھے لیکن جب یِسُو ع اپنے جلال کو پُہنچا تو اُن کو یاد آیا کہ یہ باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئی تِھیں اور لوگوں نے اُس کے ساتھ یہ سلُوک کِیا تھا۔

پس اُن لوگوں نے گواہی دی جو اُس وقت اُس کے ساتھ تھے جب اُس نے لعزر کو قبر سے باہر بُلایا اور مُردوں میں سے جِلایا تھا۔ اِسی سبب سے لوگ اُس کے اِستِقبال کو نِکلے کہ اُنہوں نے سُنا تھا کہ اُس نے یہ مُعجِزہ دِکھایا ہے۔ پس فرِیسِیوں نے آپس میں کہا سوچو تو! تُم سے کُچھ نہیں بَن پڑتا ۔ دیکھو جہان اُسکا پیرَو ہو چلا۔ ‘ یُوحنّا 12:12-19

حضرت عیسیٰ المسیح کی یروشلیم میں آمد ــ بمطابق حضرت داود

اس بات کو ہم حضرت داود کے ساتھ شروع کرتے ہیں۔ قدیم ایام میں یہودی بادشاہ ہر سال اپنے گھوڑوں کو پہاڑ پر لے جاتے اور لوگوں کے ساتھ ایک جلوس کی شکل میں یروشلیم میں داخل ہوتے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اس روایت کو دوبارہ مرتب کیا اور آپ کجھوروں کے اتوار والے دن یروشلیم میں ایک گدھے پر بیٹھ کر داخل ہوئے۔ لوگوں نے زبور شریف میں سے وہی زبور گایا جو پہلے لوگ بادشاہ حضرت داود کے گاتے تھے۔

‘آہ! اَے خُداوند! بچا لے۔

آہ! اَے خُداوند! خُوش حالی بخش۔

مُبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے۔

ہم نے تُم کو خُداوند کے گھر سے دُعا دی ہے۔ یہوواہ ہی خُدا ہے اور اُسی نے ہم کو نُور بخشا ہے۔ قُربانی کو مذبح کے سِینگوں سے رسِّیوں سے باندھو۔ ‘ زبُور 118: 25-27

لوگوں نے یہ قدیم زبورجو بادشاہوں کے لیے لکھا گیا تھا اس لیے گایا کیونکہ وہ جانتے تھے۔ کہ حضرت عیسیٰ المیسح  نے لعزر کو زندہ کیا ہے اور وہ آپ کی یرشلیم آمد پر بہت خوش تھے۔ اس زبور کے الفاظ کچھ اس طرح تھے۔ ‘ہوشعنا’ جس کا مطلب ہے ‘بچا لے/نجات دے’ – یہ بلکل وہی الفاظ تھے جو زبور 118:25 میں لکھے تھے۔ وہ کیا تھا جس سے لوگ آپ کو ‘بچانے’ کے لیے کہا رہےتھے؟ اس کے بارے میں ہمیں حضرت زکریا کیا بتاتے ہیں۔

حضرت زکریا نے یروشلیم میں آمد کی نبوت کی تھی۔

اگرچہ حضرت عیسیٰ المسیح اُسی روایت کو دوہراتے ہیں۔ جس کو قدیم بادشاہ سینکڑوں سال پہلے کرتے رہے۔ لیکن آپ نے اس کو بلکل مختلف طور سے عملی جامہ پہنایا۔ حضرت زکریا وہ نبی ہیں جنہوں نے آنے والے مسیح کے نام کی نبوت کی تھی۔ اور آپ نے ہی نے یہ نبوت بھی کی تھی کہ مسیح جلوس کی صورت میں گدھے پر سوار ہوکر یروشلیم میں داخل ہونگے۔ تاریخ کے ٹائم لائن میں حضرت زکریا کے دور کو دیکھایا گیا ہے۔ اُن انبیاءاکرام کے ساتھ جنہوں نے کجھوروں کے اتوار کے بارے میں نبوت کی تھی۔

نبوت کا ایک حصہ حضرت یوحنا رسول کی انجیل شریف میں(نیلے متن میں)لکھا ہوا ہے۔ حضرت زکریا کی مکمل نبوت یہاں ہے۔

‘اَے بِنتِ صِیُّون تُو نِہایت شادمان ہو ۔ اَے دُخترِ یروشلیِم خُوب للکار کیونکہ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے ۔ وہ صادِق ہے اور نجات اُس کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ حلِیم ہے اور گدھے پر بلکہ جوان گدھے پر سوار ہے۔ اور مَیں افرائِیم سے رتھ اور یروشلیِم سے گھوڑے کاٹ ڈالُوں گا اور جنگی کمان توڑ ڈالی جائے گی اور وہ قَوموں کو صُلح کا مُژدہ دے گا اور اُس کی سلطنت سمُندر سے سمُندر تک اور دریایِ فرات سے اِنتہایِ زمِین تک ہو گی۔ اور تیری بابت یُوں ہے کہ تیرے عہد کے خُون کے سبب سے مَیں تیرے اسِیروں کو اندھے کنُوئیں سے نِکال لایا۔ ‘ زکریاہ 9:9-11

حضرت زکریا نے اس بادشاہ کے بارے میں نبوت کی۔ کہ بادشاہ دوسرے بادشاہوں سے مختلف ہوگا۔ یہ بادشاہ رتھوں، جنگجووں اورتیر کمان کا استعمال کرکے بادشاہ نہیں بنے گا۔ دراصل یہ بادشاہ ان سب ہتھیاروں کو توڑے گا اور ‘قوموں کے درمیان امن کی تبلیغ کرے گا۔ پھر بھی اس بادشاہ کو اپنے ایک دوشمن کو شکست دینے ہوگی۔ اس بادشاہ کو ایک بڑے جہاد کے طور پر جدوجہد کرنا پڑے گی۔

نبوت کے مطابق یہ بہت واضع ہے کہ جب ہم دشمن کو پہچان جائیں گے تو اس بادشاہ کو اُس کا سامنا کرنا تھا۔ عام طور پر ایک مخالف بادشاہ، یا ایک فوج، یا باغی لوگ، یا وہ لوگ جو بادشاہ کے خلاف ہوں۔ بادشاہ کے دشمن ہوسکتے ہیں۔ لیکن حضرت زکریا اس بادشاہ کے بارے میں لکھتا ہے۔ کہ وہ ایک گدھے پر سوار ہوکر آئے گا۔ اور سلامتی کی تبلیغ کرے گا۔ اور وہ گڑھے میں قید قیدیوں کو آزاد کروائے گا۔ یہاں پر گڑھے سے مراد عبرانی میں قبر یا موت سے ہے۔ یہ بادشاہ اُن لوگوں کو رہائی دلانے نہیں جارہا۔ جو ڈیکڑوں، بدعنوان سیاستدانوں یا انسانوں کی بنائی ہوئی جیل میں قید تھے۔ بلکہ وہ جو موت کے قید میں تھے اُن کو آزاد کروانے آیا تھا۔

جب ہم لوگوں کو موت سے بچانے کی بات کرتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی کو بچانا تاکہ وہ حقیقی موت (حقیقی موت سے مراد ہمیشہ کی موت) سے بچ جائے۔ ہم شاید مثال کے طور پر کسی کو ڈوبنے سے بچالیں، یا کسی کو دوائی دے کر اُس کی زندگی بچالیں۔ اس قسم کے بچانے سے مراد ہے کہ موت کو ٹال دینا۔ لیکن اصل میں وہ شخص ایک دن ضرور مرے گا۔ لیکن یہاں پر حضرت زکریا اس بات کی نبوت نہیں کررہے تھے۔ وہ بادشاہ لوگوں کو ‘اس مجازی موت سے’ بچائے گا۔ بلکہ یہ بادشاہ اُن لوگوں کو  حقیقی موت’ سے بچائے گا جو اُس کی قید میں ہیں۔’ وہ جو پہلے سے مرچکے ہیں۔ حضرت زکریا نبوت کرتے ہیں کہ بادشاہ گدھے پر سوار کر آرہا ہے۔ اور وہ موت کو شکست دے گا۔ قیدیوں کو رہائی بخشے گا۔ اس کے لیے بہت بڑی جدوجہد کی ضرورت تھی۔ ایک ایسے جہاد کی ضرورت تھی جو پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ بعض اوقات علماء اکرام ہمیں ‘باطن کے جہاد’ اور ‘ظاہری جہاد’ کی تعلیم دیتے ہیں۔ گڑھے (موت) کا سامنا کرنے کے لیے اس بادشاہ کو دونوں باطنی اور ظاہری جہاد کا سامنا کرنا پڑنا تھا۔

اس جہاد کی جدوجہد میں بادشاہ کون سے ہتھیادوں کو استعمال کرنے جارہا تھا؟ حضرت زکریا نے بتایا تھا۔ کہ یہ بادشاہ گڑھے (موت) کی اس جنگ میں صرف” عہد کا خون لے کر جائے” اُس کا اپنا خون ہی ہتھیار ہوگا جس کے لیے اُسے موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے گدھے پر سوار ہو کر یروشلیم میں داخل ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ آپ ہی وہ بادشاہ ہیں۔ ــ السمیح

حضرت عیسیٰ السمیح غم کی وجہ سے روتے ہیں

کجھوروں کے اتوار والے دن جب حضرت عیسیٰ السمٰح یروشلیم (فتح کا جلوس) میں داخل ہوئے تو مذہبی راہنماوں نے آپ کو روکنا چاہا۔ لوقا کی معرفت انجیل شریف میں حضرت عیسیٰ المسیح کا بیان درج ہے کہ آپ نے اُن کو کیا جواب دیا۔

‘جب نزدِیک آ کر شہر کو دیکھا تو اُس پر رویا اور کہا کاش کہ تُو اپنے اِسی دِن میں سلامتی کی باتیں جانتا! مگر اب وہ تیری آنکھوں سے چُھپ گئی ہیں کیونکہ وہ دِن تُجھ پر آئیں گے کہ تیرے دُشمن تیرے گِرد مورچہ باندھ کر تُجھے گھیر لیں گے اور ہر طرف سے تنگ کریں گے اور تُجھ کو اور تیرے بچّوں کو جو تُجھ میں ہیں زمِین پر دے پٹکیں گے اور تُجھ میں کِسی پتّھر پر پتّھر باقی نہ چھوڑیں گے اِس لِئے کہ تُو نے اُس وقت کو نہ پہچانا جب تُجھ پر نِگاہ کی گئی ‘ لُوقا 19 :41-44

حضرت عیسیٰ المسیح نے یہاں پر خاص طور پر راہنماوں سے کہا”کاش کہ وہ اُس وقت جان جاتے” جو آج اُن کی زندگی میں آیا ہے۔ آپ کا یہاں کیا مطلب تھا؟ وہ کس بات کو نہیں سمجھ پائے تھے؟

انبیاءاکرام نے "دن” کے بارے میں نبوت کی تھی

صدیوں پہلے حضرت دانیال نے نبوت کی تھی۔ کہ یروشلیم کے دوبارہ تعمیر ہونے کے 483 سال بعد مسیح آئے گے۔ ہم حضرت دانیال کے مطابق حساب لگا چکے ہیں کہ 33 سن عیسوی متوقع سال تھا۔ یہ وہی سال تھا جب حضرت عیسیٰ المسیح گدھے پر سوار ہوکر یروشلیم میں داخل ہوئے۔ جس سال حضرت عیسیٰ المسیح نے یروشلیم میں داخل ہونا تھا اُس کی نبوت سینکڑوں سال پہلے ہوچکی تھی۔ لیکن آج ہم اس وقت کا دوبارہ حساب لگا سکتے ہیں۔ (برائے مہربانی یہاں پہلے جائزہ لیں

حضرت دانیال نے 483 سالوں کی نبوت کی اوراُس وقت ایک سال 360 دنوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ دور حضرت عیسیٰ المسیح کے آمد سے پہلے کا تھا۔ اس کے مطابق ان دنوں کی تعداد یہ ہے۔

483 سال * 360 دن / سال = 173880 دن

جدید بین اقوامی کیلنڈر کے مطابق 365.2422 دن/سال اس کے مطابق 476 سال اور 25 اضافی دن ہوئے۔ (173 880/365.24219879 = 476 یاد رکھیں 25)

جب یروشلیم کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تو وہاں سے اُلٹی گنتی گننا شروع کریں۔ اس سال کے بارے درج ذیل میں حوالہ دیا گیا ہے۔

ارتخششتا بادشاہ کے بِیسویں برس نَیسا ن کے مہِینے میں ۔ ۔ ۔ نحمیاہ 2: 1

نسان کا کونسا دن تھا (‘نسان’ یہودی کیلنڈر کا ایک مہنہ) اس کے بارے میں بتایا گیا لیکن امکان یہ ہی ہے کہ وہ نسان کے مہنے کی 1 پہلی تاریخ تھی کیونکہ نسان یہودی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اور یہودیوں کا نیاسال یہاں ہی سے شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ قمری مہینوں والا سال ہے۔ (جس طرح اسلامی کیلنڈر ہے) اسلامی روایت کے مطابق نیا چاند کو چند چُنے ہوئے افراد کے ساتھ مشاہدہ کیا جاتا ہے اور نئے چاند (ہلال) کو پہچان کر نیا سال قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن جدید آسڑانومی کے وسیلے ہم جانتے ہیں کہ کب نیا چاند کا نشان ظاہر ہوتا ہے۔ نسان کی 1،444 ق م میں پہلا نشان بنا۔ اس میں مشکل کی بات یہ ہے۔ کہ مشاہدہ کرنے والی ٹیم نے ہلال کا نشان اُس دن دیکھا یا اگلے دن اُنہوں نے دیکھا۔ اگر اُنہوں نے اگلے دن دیکھا تو اس کا مطلب ہے کہ نسان کا مہنہ شروع ہونے میں ایک دن کا وقفہ پڑگیا۔ فلکیات کے حساب کے ارتختشتا بادشاہ کے 20 سال میں 1 یکم نسان کو ہلال کا چاند رات کو 10 بجے مارچ 4، 444 ق م کو جدید کیلنڈر کے مطابق نظرآیا۔ اگر اُس رات نیا چاند نظر نہیں آیا، تو نسان کی پہلی تاریخ پھر اگلے دن ہوگی یعنی مارچ 5، 444 ق م۔ کسی بھی طرح سے یروشلیم کی بحالی کی تاریخ کی شروعات مارچ 4، یا 5، 444 ق م ہے۔

جب ہم حضرت دانیال کے دیئے ہوئے 476 سال کو شامل کرتے ہیں۔ تو یہ ہمیں مارچ 4 یا 5، 33سن عیسوی تک لیے آتا ہے۔ (یہاں پر کوئی 0 سال نہیں ہے۔ جدید کیلنڈر 1 BC سے 1سن عیسوی اس ایک سال ریاضی کے مطابق -444 + 476 +1= 33)۔ حضرت دانیال کی نبوت کے مطابق 25 دن مزید جمع کرنے سے مارچ 4 یا 5، 33سن عیسوی سے ہم مارچ 29 یا 30 33 سن عیسوی جس کے بارے میں ہم نے ٹائم لائن میں بیان کردیا ہے۔ مارچ 29، 33سن عیسوی اتوار کا دن تھا۔ اس لئے اس کو کھجوروں کا اتوار کہتے ہیں۔ یہ وہی دن تھا جس دن حضرت عیسیٰ المسیح گدھے پر بیٹھ کر بطور مسیح کے یروشلیم میں داخل ہوئے تھے۔ ہم اس لیے جانتے ہیں کیونکہ آںے والے جمعہ فسح تھی۔ اور فسح ہمیشہ نسان کی 14 تاریخ کو ہوتی ہے۔ نسان 14 33سن عیسوی اپریل 3 والے دن تھی۔ 3 اپریل جمعہ والے دن کے 5 دن پہلےمارچ 29 کو کجھوروں کا اتوار تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے 29 مارچ 33 AD کو گدھے پر بیٹھ کر یروشلیم میں داخل ہو کر حضرت زکریا اور حضرت دانیال کی نبوت دونوں کو پورا کردیا۔ اس کو درج ذیل ٹائم لائن میں بیان کردیا گیا ہے۔

حضرت دانیال نے ‘مسیح’ کے بارے میں 173880 دن پہلے نبوت کردی تھی۔

(حضرت نحمیاہ کا وقت شروع ہوگیا۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح اتوار والے دن مارچ 29، 33 AD کو یروشلیم میں داخل ہوئے۔)

ایک دن میں بہت ساری نبوتوں کے پورے ہونے سے صاف اور واضع اللہ تعالیٰ کے مشن کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن بعد میں اُسی دن حضرت عیسیٰ المسیح نے حضرت موسیٰ کی بتائی ہوئی ایک اور نبوت کو پورا کیا۔ ایسا کرنے سے اُنہوں نے جہاد کی کاروائی  گڑھے میں لے کر جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ المسیح کی دشمن موت ہے۔ ہم اس کے بارے میں اگلے مضمون میں جانے گے۔

‘لیکن تُو پاتال میں گڑھے کی تہہ میں اُتارا جائے گا۔ ‘ یسعیاہ 14 :15

‘اِس لِئے کہ پاتال تیری سِتایش نہیں کر سکتا اور مَوت سے تیری حمد نہیں ہو سکتی۔ وہ جو گور میں اُترنے والے ہیں تیری سچّائی کے اُمّیدوار نہیں ہو سکتے۔ ‘ یسعیاہ 38 :18

‘بلکہ اُس کی جان گڑھے کے قرِیب پُہنچتی ہے اور اُس کی زِندگی ہلاک کرنے والوں کے نزدِیک۔ ‘ ایُّوب 33 :22

‘وہ تُجھے پاتال میں اُتاریں گے اور تُو اُن کی مَوت مَرے گا جوسمُندر کے وسط میں قتل ہوتے ہیں۔ ‘ حِزقی ایل 28 :8

‘جِن کی قبریں پاتال کی تہ میں ہیں اور اُس کی تمام جمعِیّت اُس کی قبر کے گِردا گِرد ہے ۔ سب کے سب تلوار سے قتل ہُوئے جو زِندوں کی زمِین میں ہَیبت کا باعِث تھے۔ ‘ حِزقی ایل 32 :23

‘اَے خُداوند! تُو میری جان کو پاتال سے نِکال لایاہے ۔ تُو نے مُجھے زِندہ رکھّا ہے کہ گور میں نہ جاؤُں۔ ‘ زبُو 30 :3