ایک خاص دن : ال حمزہ اور ال مسیح

سورہ ال – حمزہ (سورہ 104 بہتان باندھنے والا) انصاف کے دن کی بابت ہمکو اس طرح سے خبردار کرتا ہے :

 ہر طعنہ دینے  والے چغلخور کی خرابی ہے جو مال کو جمع کرتا ہے  اور گن گن کر رکھتا ہے  وہ سمجھتا ہے کہ اسکا مال اسے ہمیشہ زندہ باقی رکھےگا – ہرگز نہیں – وہ تو ضرور حطمہ میں ڈالا جاےگا اور تمکو کیا معلوم کہ حطمہ کیا ہے ؟ وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو ( تلوے سے لگی تو دل تک چڑھ جاۓگی )-    

104:1-6 ال –حمزہ

سورہ ال حمزہ کہتا ہے کہ الله کی جانب سے غضب کی آگ ہمارا انتظار کر رہا ہے – خاص طور سے اگر ہم نے لالچ کیا ہو اور دوسروں کی بابت بری بات کی ہو –مگر ان کے لئے جو لگاتار ان سب کے لئے خیراتی ہے جو اس سے مدد مانگتے ہیں ، انکے لئے جنہوں نے کبھی امیر آدمی کی دولت کا لالچ نہ کیا ہو ، وہ جو دوسروں کی بابت کبھی بھی بری باتیں نا کی ہو ، وہ جو پیسے کے معاملے میں کبھی بحث نہ کیا ہو – شاید ایسے لوگوں کے لئے امید ہے کہ انکی جان کا کچھ نقصان نہیں  ہوگا اور اس دن وہ خدا کے غضب کے گھیرے میں نہیں ہونگے –

مگر ہم باقیوں کا کیا ہوگا ؟                                                                                                                        

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح خاص طور سے انکے لئے آ ے جو آنے والے اس خدا کے غضب سے خوفزدہ ہیں جو انپر ایک نا ایک دن نازل ہوکر رہیگا جس طرح انہوں نے انجیل شریف میں کہا ہے –

(13)اور آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سِوا اُس کے جو آسمان سے اُترا یعنی اِبنِ آدم جو آسمان میں ہے۔
(14)اور جِس طرح مُوسیٰ نے سانپ کو بیابان میں اُونچے پر چڑھایا اُسی طرح ضرُور ہے کہ اِبنِ آدم بھی اُونچے پر چڑھایا جائے۔
(15)تاکہ جو کوئی اِیمان لائے اُس میں ہمیشہ کی زِندگی پائے۔
(16)کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی مُحبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بیٹا بخش دِیا تاکہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے۔
(17)کیونکہ خُدا نے بیٹے کو دُنیا میں اِس لِئے نہیں بھیجا کہ دُنیا پر سزا کا حُکم کرے بلکہ اِس لِئے کہ دُنیا اُس کے وسِیلہ سے نجات پائے۔
(18)جو اُس پر اِیمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا ۔ جو اُس پر اِیمان نہیں لاتا اُس پر سزا کا حُکم ہو چُکا ۔ اِس لِئے کہ وہ خُدا کے اِکلَوتے بیٹے کے نام پر اِیمان نہیں لایا۔
(19)اور سزا کے حُکم کا سبب یہ ہے کہ نُور دُنیا میں آیا ہے اور آدمِیوں نے تارِیکی کو نُور سے زِیادہ پسند کِیا ۔ اِس لِئے کہ اُن کے کام بُرے تھے۔
(20)کیونکہ جو کوئی بدی کرتا ہے وہ نُور سے دُشمنی رکھتا ہے اور نُور کے پاس نہیں آتا ۔ اَیسا نہ ہو کہ اُس کے کاموں پر ملامت کی جائے۔
(21)مگر جو سچّائی پر عمل کرتا ہے وہ نُور کے پاس آتا ہے تاکہ اُس کے کام ظاہِر ہوں کہ وہ خُدا میں کِئے گئے ہیں۔

3:13-21یوحننا

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے اپنے بڑے اختیار کا دعوی کیا – یھاں تک کہ انہوں نے کہا کہ وہ آسمان سے اترے ہیں- ایک سامری عورت کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے کچھ اور باتیں سمجھائیں جسکی تفصیل یھاں پر ہے – 

(10)یِسُو ع نے جواب میں اُس سے کہا اگر تُو خُدا کی بخشِش کو جانتی اور یہ بھی جانتی کہ وہ کَون ہے جو تُجھ سے کہتا ہے مُجھے پانی پِلا تو تُو اُس سے مانگتی اوروہ تُجھے زِندگی کا پانی دیتا۔
(11)عَورت نے اُس سے کہا اَے خُداوند تیرے پاس پانی بھرنے کو تو کُچھ ہے نہیں اور کُنواں گہرا ہے ۔ پِھر وہ زِندگی کا پانی تیرے پاس کہاں سے آیا؟۔
(12)کیا تُو ہمارے باپ یعقُوب سے بڑا ہے جِس نے ہم کو یہ کُنواں دِیا اور خُود اُس نے اور اُس کے بیٹوں نے اور اُس کے مویشی نے اُس میں سے پِیا؟۔
(13)یِسُو ع نے جواب میں اُس سے کہا جو کوئی اِس پانی میں سے پِیتا ہے وہ پِھر پیاسا ہو گا۔
(14)مگر جو کوئی اُس پانی میں سے پِئے گا جو مَیں اُسے دُوں گا وہ ابد تک پِیاسا نہ ہو گا بلکہ جو پانی مَیں اُسے دُوں گاوہ اُس میں ایک چشمہ بن جائے گا جو ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے جاری رہے گا۔

4:10-14 یوحننا

ان دعووں کے لئے ان کا اختیار تورات کے نبی حضرت موسیٰ کے زریعے ثابت ہوا کہ کسطرح انہوں نے کاینات کی چھ دنوں کی تخلیق سے انکے اختیارات کی بابت نبوت کی – پھر زبور اور آنے والے نبیوں نے اسکے آنے کی بابت تفصیل سے نبوت کی جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انکا آسمان سے آنا الله کے ایک منصوبے کے تحت تھا – مگر نبی کے کہنے کا کیا مطلب تھا کہ "اونچے پر چڑھایا جانا ضروری ہے ” تاکہ جو اسپر ایمان لاے ہمیشہ کی زندگی اسکی ہو جاۓ – اسکو یہاں پر سمجھایا گیا ہے –  

نبی حضرت یوسف کون تھے ؟ انکی نشانیاں کیا تھیں ؟

سورہ یوسف (سورہ 12 – یوسف) نبی حضرت یوسف \جوسف کی کہانی کہتی ہے – نبی حضرت یوسف حضرت یعقوب (جیکب) کے بیٹے تھے ، اور حضرت یعقوب حضرت اسحاق کے بیٹے تھے ، اور حضرت اسحاق نبی حضرت ابراہیم (ابرہام)  کے بیٹے تھے – حضرت یعقوب کے 12 بیٹے تھے ،انمیں سے ایک حضرت یوسف تھے – حضرت یعقوب  یوسف کو اپنے دیگر بیٹوں سے زیادہ چاہتے تھے اس سبب سے یوسف کے 11 بھائیوں نے اس سے حسد کی ، اوراس کے خلاف سازش کی اور اسکے خلاف میں جو انہوں نے منصوبہ باندھا تھا وہی یوسف کی کہانی کا شکل دے دیا – اس کہانی کو حضرت موسیٰ کی تورات میں پہلی بار 0 0 35  سال پہلے لکھا گیا تھا – تورات شریف سے اسکا پورا بیان یہاں پر لکھا گیا ہے – اور سورہ یوسف (سورہ  12 یوسف) کا بیان  یہاں پر ہے – سورہ یوسف ہم سے کہتا ہے یہ صرف معمولی کہانی نہیں ہے بلکہ

‘اے رسول تمھاری نبوت کے لئے یوسف اور انکے بھائیوں کے قصّے کی بابت پوچھنے کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں”

12:7 سورہ یوسف

کہانی میں یوسف اور اسکے بھائی متلاشیوں  کے لئے کون سی نشانیاں ہیں ؟ہم اس کہانی کو تورات شریف اور سورہ یوسف دونوں سے نظر ثانی کرتے ہیں تاکہ ان نشانیوں کو سمجھ سکیں –  

سامنے سجدہ کرنا …؟

ایک صاف نشانی وہ خواب ہے جو یوسف نے اپنے باپ حضرت یعقوب سے کہی جہاں  

وہ وقت یاد کرو جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے ابّا میں نے گیارہ (ستاروں اور سورج اور چاند کو میں نے دیکھا ہے یہ سب مجھے (خواب میں ) سجدہ کر رہے ہیں-

12:4سورہ یوسف

کہانی کے آخر میں ہم حقیقت میں دیکھتے ہیں کہ

(غرض پہنچ کر یوسف نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب کے سب (یوسف کی تعظیم کے واسطے اس کے سامنے سجسدے میں گر پڑے – اس وقت یوسف نے اپنے باپ سے کہا ، اے ابّا ! یہ تعبیر ہے میرے اس پہلے خواب کی کہ میرے پر ور دگار نے اسے سچ کر دکھایا بے شک اسنے میرے ساتھ احسان کیا ہے جب اسنے مجھے قید خانے سے نکالا اور باوجود کہ مجھ میں اور میرے بھائیوں کے بیچ میں شیطان نے فساد ڈال دیا تھا ، اسکے بعد بھی گاؤں میں مجھ سے ملایا اور ہم سبکو شہر میں لے آیا – بیشک میرا پروردگار جو کچھ کرتا ہے اسکی تدبر خوب جانتا ہے  بے شک وہ بڑا واقف کار حکیم ہے –  

12:100 سورہ یوسف

پورے قران شریف میں سجدہ کرنے کو بہت بار ذکر کیا گیا ہے ،مگر وہ سارے سجدے د عا (نماز یا عبادت میں قادر مطلق خدا کے سامنے ، کعبہ میں یا اللہ کے معجزے کے سامنے جیسے مصر کے جادوگروں اور حضرت موسیٰ) کے بیچ  جو کرامات ہوئے ان کے لئے سجدہ کرنے کا حوالہ دیا گیا ہے –  مگر یھاں ایک مستثنیٰ والی بات ہے کہ ایک آدمی (یوسف) کے سامنے سجدہ کرنا – ایک دوسرا ہوبہو واقعہ اس وقت کا ہے جب فرشتوں کو حکم دیا گیا تھا کہ حضرت آدم کے سامنے سجدہ کریں – (سورہ طا حا 116  اور ال اعراف 11)  – مگر فرشتے انسان نہیں تھے ، اور ایک عام دستور (قاعدہ) یہ کہتا ہے کہ بنی انسان صرف اور صرف خداوند کو ہی سجدہ کریں –    

اور تمام امور کی رجوع خدا ہی کی طرف ہوتی ہے اسلئے اے ایماندارو ، رکوع کرو اور صرف اسی کے سامنے سجدے کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور نیکی کرو –

 22:77 سورہ ال حج

حضرت یوسف کی بابت کیا مستثنیٰ تھی کی حضرت یعقوب جو انکے والد تھے ، اور انکی والدہ اور انکے بھائیوں نے حضرت یوسف کے سامنے سجدہ کیا –

ابن آدم

وقت کی لکیر نبی حضرت دانی ا یل اور دیگر زبور کے نبیوں کو دکھا رہا ہے –

اسی طرح بائبل میں ہمکو حکم دیا گیا ہے کہ عبادت میں صرف خداوند کے سامنے سجدہ کریں مگر یہاں پر بھی استثنا کی بات ہے – نبی حضرت دانی ا یل نے ایک رویا حاصل کری تھی جو وقت سے بہت آگے نظر آ رہی تھی کہ خدا کی بادشاہی کا قایم کیا جانا تھا اور اسکے رویا میں اسنے ابن آدم کو دیکھا تھا –  

 

(13)مَیں نے رات کو رویا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک شخص آدم زاد کی مانِند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدِیمُ الایّام تک پُہنچا ۔ وہ اُسے اُس کے حضُور لائے۔
(14)اور سلطنت اور حشمت اور مملکت اُسے دی گئی تاکہ سب لوگ اور اُمّتیں اور اہلِ لُغت اُس کی خِدمت گُذاری کریں ۔ اُس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے جو جاتی نہ رہے گی اور اُس کی مملکت لازوال ہو گی۔

7:13-14دانی ا یل         

رویا میں لوگ ‘ابن آدم’ کے سامنے  سجدہ کرتے ہیں ، جسطرح سے حضرت یوسف کا خاندان حضرت یوسف کے سامنے سجدہ کر رہے تھے –

‘ابن آدم’  ایک لقب ہے جو نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے اکثر اپنے لئے استعمال کیا تھا – اسنے جب وہ زمین پر چلتا تھا ، تعلیم دینے میں ، مریضوں کو شفا دینے میں ، اور قدرت پر اختیار جتا نے میں اپنے بڑے اختیار کا کردار نبھایا تھا –مگر وہ ان دنوں میں ‘آسمان کے بادلوں پر’ نہیں آیا تھا – جس طرح سے حضرت دانی ا یل  کے رویا کی پیشین گوئی کی گیئ ہے – یہ اس لئے کہ وہ رویا آگے کو مستقبل کی طرف دیکھا جا رہا تھا ،ماضی میں اسکی پہلی آمد سے لیکر دوسری آمد تک – اور پھر زمیں پر واپس لوٹنے میں تاکہ دججال کو ختم کرے اسےآنا ضروری تھا (جسطرح حضرت آدم کو پہلے سے ہی بتایا گیا تھا)اور خدا کی بادشاہی قایم کرنی تھی –

انکی پہلی آمد کنواری مریم سے پیدا ہونا لوگوں کو چھٹکارا دینے کے لئے تھا تاکہ خدا کی بادشاہی کے شہری بن سکیں – مگر اسکے باوجود بھی اسنے نبوت کی کہ کس طرح ابن آدم اپنی دوسری آمد میں بادلوں پر اپنے لوگوں کو دوسرے لوگوں سے جدا کریگا  – اسنے پیش بینی کی کہ تمام قومیں اسکے سامنے سجدہ کر رہے ہیں جسطرح سے یوسف کے بھائی خود سے یوسف کے سامنے سجدہ کئے تھے – یھاں وہ بات ہے جو مسیح نے تعلیم دی تھی –   

(31)جب اِبنِ آدم اپنے جلال میں آئے گااور سب فرِشتے اُس کے ساتھ آئیں گے تب وہ اپنے جلال کے تخت پر بَیٹھے گا۔
(32)اور سب قَومیں اُس کے سامنے جمع کی جائیں گی اور وہ ایک کو دُوسرے سے جُدا کرے گا جَیسے چرواہا بھیڑوں کو بکرِیوں سے جُدا کرتا ہے۔
(33)اور بھیڑوں کو اپنے دہنے اور بکرِیوں کو بائیں کھڑا کرے گا۔
(34)اُس وقت بادشاہ اپنے دہنی طرف والوں سے کہے گا آؤ میرے باپ کے مُبارک لوگو جو بادشاہی بِنایِ عالَم سے تُمہارے لِئے تیّار کی گئی ہے اُسے مِیراث میں لو۔
(35)کیونکہ مَیں بُھوکا تھا ۔ تُم نے مُجھے کھانا کِھلایا ۔ مَیں پِیاسا تھا ۔ تُم نے مُجھے پانی پِلایا ۔ مَیں پردیسی تھا۔ تُم نے مُجھے اپنے گھر میں اُتارا۔
(36)ننگا تھا ۔ تُم نے مُجھے کپڑا پہنایا ۔ بِیمار تھا ۔ تُم نے میری خبر لی ۔ قَید میں تھا ۔ تُم میرے پاس آئے۔
(37)تب راستباز جواب میں اُس سے کہیں گے اَے خُداوند! ہم نے کب تُجھے بُھوکا دیکھ کر کھانا کِھلایا یا پِیاسا دیکھ کر پانی پِلایا؟۔
(38)ہم نے کب تُجھے پردیسی دیکھ کر گھر میں اُتارا؟ یا ننگا دیکھ کر کپڑا پہنایا؟۔
(39)ہم کب تُجھے بِیمار یا قَید میں دیکھ کر تیرے پاس آئے؟۔
(40)بادشاہ جواب میں اُن سے کہے گا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تُم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائِیوں میں سے کِسی ایک کے ساتھ یہ سُلُوک کِیا تو میرے ہی ساتھ کِیا۔
(41)پِھر وہ بائیں طرف والوں سے کہے گا اَے ملعُونو میرے سامنے سے اُس ہمیشہ کی آگ میں چلے جاؤ جو اِبلِیس اور اُس کے فرِشتوں کے لِئے تیّار کی گئی ہے۔
(42)کیونکہ مَیں بُھوکا تھا ۔ تُم نے مُجھے کھانا نہ کِھلایا ۔ پِیاسا تھا ۔ تُم نے مُجھے پانی نہ پِلایا۔
(43)پردیسی تھا تُم نے مُجھے گھر میں نہ اُتارا ۔ ننگا تھا ۔ تُم نے مُجھے کپڑا نہ پہنایا ۔ بِیمار اور قَید میں تھا ۔ تُم نے میری خبر نہ لی۔
(44)تب وہ بھی جواب میں کہیں گے اَے خُداوند! ہم نے کب تُجھے بُھوکا یا پِیاسا یا پردیسی یا ننگا یا بِیمار یا قَید میں دیکھ کر تیری خِدمت نہ کی؟۔
(45)اُس وقت وہ اُن سے جواب میں کہے گا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تُم نے اِن سب سے چھوٹوں میں سے کِسی کے ساتھ یہ سلُوک نہ کِیاتو میرے ساتھ نہ کِیا۔
(46)اور یہ ہمیشہ کی سزا پائیں گے مگر راستباز ہمیشہ کی زِندگی۔

25:31-46 متی

حضرت یوسف اور حضرت عیسیٰ ال مسیح

مستثنیٰ کے ساتھ جو دیگر بنی آدم جو خود کے سامنے سجدہ کرینگے ، حضرت یوسف اور حضرت عیسیٰ ال مسیح بھی ہوبہو انھیں نمونے کے واقعات سے گزرے – ذیل کے خاکے میں غور کریں کہ ان دونوں کی زندگیاں کن کن طریقوں سے مشابہت رکھتی تھیں –

حضرت یوسف کی زندگی میں واقعا ت حضرت عیسیٰ ال مسیح کی زندگی میں واقعات
اسکے بھائی جو اسرا ئیل کے 12 قبیلے بنکر ابھرے تھے ، انہوں یوسف سے نفرت کی اور اسکا انکار کیایہودی لوگ انہیں قبیلوں سے نکلے تھے –ایک قوم ہونے پر بھی عیسیٰ ال مسیح سے نفرت کی اور اسکو مسیحا ہونے سے انکار کیا
یوسف اپنے بھائیوں کے مستقبل کے سجدے کا اعلان اپنے باپ اسرائیل (یعقوب) سے کرتا ہے (یعقوب کا نام خدا کے زریعے دیا گیا تھا) –عیسیٰ ال مسیح اپنے بھائیوں کی مستقبل کے سجدے کی بابت (اپنےذاتی بھائیوں) بنی اسرئیل سے پیش بینی کرتے ہیں –(مرقس 62 :14)
یوسف کو اسکے باپ یعقوب کے زریعے اسکے بھائیوں کے پاس بھیجا جاتا ہے مگر وہ اسکا انکار کر اسکے خلاف سازش کرتے ہیں کہ اسکی جان لے لیں حضرت عیسیٰ ال مسیح کو اسکے باپ (آسمانی باپ) کے زریعے اپنے یہودی بھائیوں کے پاس بھیجا گیا "مگر اسکے اپنوں نے اسے قبول نہیں کیا ” (یوحننا 11 :1) – اور انہوں نے "اسکی جان لینے کے لئے اسکے خلاف سازش کی "(یوحننا 53 :11)  
انہوں اسکو زمیں کے گے گڑھے میں پھینک دیاعیسیٰ ال مسیح زمیں کے اندر عالم ارواح میں گئے –
یوسف کو بیچا گیا اور غیر ملکی سوداگروں کے ہاتھوں سونپا گیاعیسیٰ ال مسیح کو بیچا گیا اور غیر قوموں کے ہاتھوں اسکا کام تمام کرنے کے لئے سونپا گیا  
اسکو اپنے مقام سے بہت دور لے جایا گیا تاکہ اسکے بھائیوں اور باپ کے زریعے مرا ہوا سمجھا جاۓبنی اسرائیل اور اسکے یہودی بھائیوں نے سوچا کہ عیسیٰ ال مسیح کا وجود نہیں رہا اور اب وہ مر گئے ہیں
یوسف نے ایک خادم کی طرح خود کو حلیم کیاعیسیٰ ال مسیح نے ایک خادم کی صورت اختیار کی اور خود کو اتنا حلیم کیا کہ موت  بلکہ صلیبی موت تک سہہ  لیا (فلپپیوں 7:2)  
یوسف پر گناہ کا جھوٹا الزام لگایا گیا یہودیوں نے ال مسیح پر’کئی طرح کے جھوٹے الزام  لگاۓ (مرقس 3:15)  
یوسف کو قید خانے میں ایک غلام کی طرح بھیجا جاتا ہے جہاں سے وہ پہلے سے ہی کچھ قیدیوں کو ته خانے کی تاریکی سے آزاد کئے جانے کی پیش بینی کرتا ہے – (نان بائی)حضرت عیسیٰ ال مسیح کو بھیجا گیا تھا کہ شکستہ دلوں کو تسلّی دے ، قیدیوں کیلئے رہائی، تاریکیوں میں رہنے والوں کے لئے روشنی اور اسیروں کے لئے آزادی کا اعلان کرے ….(یسعیا ہ 1 :61)
یوسف کو مصر کے تخت پر بٹھایا گیا اور اسے مصر کے کل اختیارات سے نوازا گیا جو صرف فرعون کو حاصل تھے  -جو لوگ اسکے سامنے سے گزرتے تھے اسکو سجدہ کرتے تھے –  "اسی واسطے خدا نے بھی اسے (مسیح کو) بہت سر بلند کیا اور اسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلی ہے  تاکہ یسوع کے نام پر ہر ایک گھٹنا ٹکے خواہ آسمانیوں کا ہو خواہ زمیںیوں کا  خواہ انکا جو زمین کے نیچے ہیں …(فلپپیوں  11 -10 :2 )  
اسکے بھائیوں کی طرف سے جبکہ ابھی بھی انکار کیا گیا تھا اور مرا ہوا سمجھا گیا تھا ، قومیں اناج کے لئے یوسف کے پاس آتی تھیں کہ وہ انھیں روٹی مہیا کرےمصلوبیت کے بعد جبکہ اسکو مرا ہوا سمجھکر اپنے ذاتی بھائیوں سے انکار کیا گیا قومیں عیسیٰ ال مسیح کے پاس زندگی کی روٹی کے لئے آتی ہنن اور صرف وہی اکیلا انھیں وہ روٹی مہیا کر سکتا ہے –
یوسف اپنے دھوکہ دیے جانے کی بابت اپنے بھائیوں سے کہتا ہے –(پیدائش 20 : 50)عیسیٰ ال مسیح کہتے ہیں اپنے یہودی بھائیوں کے زریعے دھوکہ دیا جانا یہ خدا کی مرضی کے مطابق ہے جس سے بہت سی زندگیاں بچائی جاینگی –(یوحننا 24 :5)
اسکے بھائی اور قومیں یوسف کے سامنے سجدہ کرتی ہیں –ابن آدم کی بابت دانی ا یل کی نبوتیں کہتی ہیں کہ "تمام قومیں اور ہر زبان کے لوگ اسکی عبادت کرینگے –”

کئی نمونے —کئی نشانیاں

تورات شریف سے تقریباً تمام قدیم انبیاء کی زندگیاں نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے نمونے پر قائم تھیں –ان نمونوں کو انکے آمد سے صدیوں سال پہلے قایم کیا گیا تھا –اسکو اس طرح سے کیا گیا تھا تاکہہم کو ظاہر کرے کہ مسیح کی آمد حقیقت میں خدا کے منصوبے کے مطابق تھا –یہ کوئی انسانی خیال کے مطابق نہیں تھا کیونکی بنی انسان پہلے سے ہی مستقبل کی باتوں کو نہیں جانتا –

حضرت آدم سے شرو ع کرتے ہوئے ، جس میں مسیح کی بابت پیش بینی کی گیئ تھی –بائبل کہتی ہے کہ حضرت آدم

…ایک نمونہ بطور ہیں اسکے جو آنے والا تھا (مثال بطور حضرت عیسیٰ ال مسیح)

(14)تَو بھی آدم سے لے کر مُوسیٰ تک مَوت نے اُن پر بھی بادشاہی کی جنہوں نے اُس آدم کی نافرمانی کی طرح جو آنے والے کا مثِیل تھا گُناہ نہ کِیا تھا۔

5:14 رومیوں

حا لا ںکہ یوسف اپنے بھائیوں کی طرف سے سجدے قبول کرنا ختم کرتا ہے ، یہ ایک انکاری ہے ، قربانی اور اپنے بھائیوں کی طرف سے بیگانگی ، یہی تھے جو اسکی زندگی میں زور دیا گیا تھا – اور اس اہمیت کو مسیح کی قربانی میں بھی نبی حضرت ابراہیم کی قربانی کے ساتھ دیکھا گیا ہے –یوسف کے بعد حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے اسرائیل کے بارہ قبیلے بن جاتے ہیں اور نبی حضرت موسیٰ کے زریعے مصر میں رہنمائی کئے جاتے ہیں –اور جس طریقے سے حضرت موسیٰ نے رہنمائی کی اور بنی اسرائیل نے قربانیوں کو انجام دیا وہ سب نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی قربانی کا ایک نمونہ اور پیش بینی کی تفصیل تھی دراصل تورات شریف میں نشانیوں کی تفصیلیں جو مسیح کے آنے صدیوں سال پہلے لکھ گئے تھے – اسکے علاوہ زبور اور دیگر نبیوں کی کتابیں بھی مستقبل کی تفصیلیں تھیں جو مسیح کے آنے کے صدیوں سل پہلے لکھی گیئ تھیں – انمیں دکھ اٹھانے والے خادم کی نبوت جسے انکاری کے ساتھ زور دیا گیا ہے – جبکہ کوئی بھی بنی انسان صدیوں سال بعد ہونے والی مستقبل کو نہیں معلوم کر سکتا –ان نبیوں کو ان کی تفصیل کی بابت کیسے علم ہوا جب تک کہ خدا کے زریعے الہام نہیں دیا گیا تھا تو عیسیٰ ال مسیح کی انکاری اور انکی قربانی بھی خدا کے منصوبے میں ضرور شامل تھی –    

ان نمونوں یا نبوتوں میں سے اکثر مسیح کی پہلی آمد تعلّق رکھتے ہیں جہاں اسنے خود کو پیش کیا تاکہ ہم اپنے گناہوں سے چھڑا ے جا سکیں  اور خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے قابل ہو سکیں –

مگر یوسف کا نمونہ بھی بہت آگے چلکر نظر آتا ہے جب بادشاہی کو پہلے دیا جاےگا اور عیسیٰ ال مسیح زمین پر لوٹنے کے وقت تمام قومیں اسکے سامنے سجدہ کرینگے – جبکہ ابھی ہم آج  کے زمانے میں جی رہے ہیں جب ہمکو خدا کی بادشاہی کے لئے دعوت دی جا رہی تو اس بیوقوف شخص کی مانند  نہ  بنے جو سورہ ال معراج میں بیان کیا گیا ہے جس نے ایک چھڑانے کی تلاش میں در لگا دی اور انصاف کے دن تک کا انتظار کیا –اور اسوقت بہت در ہو چکی تھی –سو آپ کے لئے مسیح کی زندگی کی پیش کش کی بابت ابھی اور زیادہ سیکھن –

مسیح نے سکھایا کہ اسکی دوسری آمد اس طرح سے واقع ہوگی –

(1)اُس وقت آسمان کی بادشاہی اُن دس کُنوارِیوں کی مانِند ہو گی جو اپنی مشعلیں لے کر دُلہا کے اِستِقبال کو نِکلِیں۔
(2)اُن میں پانچ بیوُقُوف اور پانچ عقلمند تِھیں۔
(3)جو بیوُقُوف تِھیں اُنہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لِیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لِیا۔
(4)مگر عقلمندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کُپِّیوں میں تیل بھی لے لِیا۔
(5)اور جب دُلہا نے دیر لگائی تو سب اُونگھنے لگِیں اور سو گئِیں۔
(6)آدھی رات کو دُھوم مچی کہ دیکھو دُلہا آ گیا! اُس کے اِستقبال کو نِکلو۔
(7)اُس وقت وہ سب کُنوارِیاں اُٹھ کر اپنی اپنی مشعل دُرُست کرنے لگِیں۔
(8)اور بیوُقُوفوں نے عقلمندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کُچھ ہم کو بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بُجھی جاتی ہیں۔
(9)عقلمندوں نے جواب دِیا کہ شاید ہمارے تُمہارے دونوں کے لِئے کافی نہ ہو ۔ بِہتر یہ کہ بیچنے والوں کے پاس جا کر اپنے واسطے مول لے لو۔
(10)جب وہ مول لینے جا رہی تِھیں تو دُلہا آ پُہنچا اور جو تیّار تِھیں وہ اُس کے ساتھ شادی کے جشن میں اندر چلی گئِیں اور دروازہ بند ہو گیا۔
(11)پِھر وہ باقی کُنوارِیاں بھی آئِیں اور کہنے لگِیں اَے خُداوند! اَے خُداوند! ہمارے لِئے دروازہ کھول دے۔
(12)اُس نے جواب میں کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ مَیں تُم کو نہیں جانتا۔
(13)پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہ اُس دِن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو۔
(14)کیونکہ یہ اُس آدمی کا سا حال ہے جِس نے پردیس جاتے وقت اپنے گھر کے نَوکروں کو بُلا کر اپنا مال اُن کے سپُرد کِیا۔
(15)اور ایک کو پانچ توڑے دِئے ۔ دُوسرے کو دو اور تِیسرے کو ایک یعنی ہر ایک کو اُس کی لِیاقت کے مُطابِق دِیا اور پردیس چلا گیا۔
(16)جِس کو پانچ توڑے مِلے تھے اُس نے فوراً جا کر اُن سے لین دین کِیا اور پانچ توڑے اَور پَیدا کر لِئے۔
(17)اِسی طرح جِسے دو مِلے تھے اُس نے بھی دو اَور کمائے۔
(18)مگر جِس کو ایک مِلا تھا اُس نے جا کر زمِین کھودی اور اپنے مالِک کا رُوپیَہ چُھپا دِیا۔
(19)بڑی مُدّت کے بعد اُن نَوکروں کا مالِک آیا اور اُن سے حِساب لینے لگا۔
(20)جِس کو پانچ توڑے مِلے تھے وہ پانچ توڑے اَور لے کر آیا اور کہا اَے خُداوند! تُو نے پانچ توڑے مُجھے سپُرد کِئے تھے ۔ دیکھ مَیں نے پانچ توڑے اَور کمائے۔
(21)اُس کے مالِک نے اُس سے کہا اَے اچّھے اور دِیانتدار نَوکر شاباش! تُو تھوڑے میں دِیانتدار رہا ۔ مَیں تُجھے بُہت چِیزوں کا مُختار بناؤں گا ۔ اپنے مالِک کی خُوشی میں شرِیک ہو۔
(22)اور جِس کو دو توڑے مِلے تھے اُس نے بھی پاس آ کر کہا اَے خُداوند تُو نے دو توڑے مُجھے سپُرد کِئے تھے ۔ دیکھ مَیں نے دو توڑے اَور کمائے۔
(23)اُس کے مالِک نے اُس سے کہا اَے اچّھے اور دِیانتدار نَوکر شاباش! تُو تھوڑے میں دِیانتدار رہا ۔ مَیں تُجھے بُہت چِیزوں کا مُختار بناؤں گا ۔ اپنے مالِک کی خُوشی میں شرِیک ہو۔
(24)اور جِس کو ایک توڑا مِلا تھا وہ بھی پاس آکر کہنے لگا اَے خُداوند مَیں تُجھے جانتا تھا کہ تُو سخت آدمی ہے اور جہاں نہیں بویا وہاں سے کاٹتا ہے اور جہاں نہیں بکھیرا وہاں سے جمع کرتا ہے۔
(25)پس مَیں ڈرا اور جا کر تیرا توڑا زمِین میں چُھپا دِیا ۔ دیکھ جو تیرا ہے وہ مَوجُود ہے۔
(26)اُس کے مالِک نے جواب میں اُس سے کہا اَے شرِیر اور سُست نَوکر! تُو جانتا تھا کہ جہاں مَیں نے نہیں بویا وہاں سے کاٹتا ہُوں اور جہاں مَیں نے نہیں بکھیرا وہاں سے جمع کرتا ہُوں۔
(27)پس تُجھے لازِم تھا کہ میرا رُوپیَہ ساہُوکاروں کو دیتا تو مَیں آکر اپنا مال سُود سمیت لیتا۔
(28)پس اِس سے وہ توڑا لے لو اور جِس کے پاس دس توڑے ہیں اُسے دے دو۔
(29)کیونکہ جِس کے پاس ہے اُسے دِیا جائے گا اور اُس کے پاس زِیادہ ہو جائے گا مگر جِس کے پاس نہیں ہے اُس سے وہ بھی جو اُس کے پاس ہے لے لِیا جائے گا۔
(30)اور اِس نِکمّے نَوکر کو باہر اندھیرے میں ڈال دو ۔ وہاں رونا اور دانت پِیسنا ہو گا۔

25:1-30متی

ان نمونوں یا نبوتوں میں سے اکثر مسیح کی پہلی آمد تعلّق رکھتے ہیں جہاں اسنے خود کو پیش کیا تاکہ ہم اپنے گناہوں سے چھڑا ے جا سکیں  اور خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے قابل ہو سکیں –

مگر یوسف کا نمونہ بھی بہت آگے چلکر نظر آتا ہے جب بادشاہی کو پہلے دیا جاےگا اور عیسیٰ ال مسیح زمین پر لوٹنے کے وقت تمام قومیں اسکے سامنے سجدہ کرینگے – جبکہ ابھی ہم آج  کے زمانے میں جی رہے ہیں جب ہمکو خدا کی بادشاہی کے لئے دعوت دی جا رہی تو اس بیوقوف شخص کی مانند  نہ  بنے جو سورہ ال معراج میں بیان کیا گیا ہے جس نے ایک چھڑانے کی تلاش میں در لگا دی اور انصاف کے دن تک کا انتظار کیا –اور اسوقت بہت در ہو چکی تھی –سو آپ کے لئے مسیح کی زندگی کی پیش کش کی بابت ابھی اور زیادہ سیکھن –

مسیح نے سکھایا کہ اسکی دوسری آمد اس طرح سے واقع ہوگی –   

نبی حضرت ایوب کون تھے ؟ آج انکی اہمیت کیوں ہے ؟

سورہ ال – بیّنه (سورہ 98 – صاف ثبوت) ایک اچھے آدمی کے لئے ضرورتوں کا بیان کرتا ہے – وہ کہتا ہے :

(تب اور انھیں تو بس یہ حکم دیا گیا تھا نرا خرا اسی کا اعتقاد رکھ) کہ باطل سے کترا کے خدا کی عبادت کرے اور پابندی سے نماز پڑھے اور زکا ت  ادا کرتا رہے اور یہی سچا دین ہے – 

98:5سورہ ال –بیّنه

اسی طرح سورہ ال عصر – (سورہ 103 – ڈھالنے والا دن ہمکو الله کے سامنے کن نقصان دہ عادتوں سے باز رہنا پڑیگا –

 بیشک انسان گھاٹے میں ہے مگر جو لوگ ایمان لاۓ اور اچھے کام کرتے رہے اور آپس میں حق کا حکم مانتے رہے اور صبر کی وصیت کرتے رہے –

103:2-3سورہ ال عصر

نبی حضرت ایوب ایک ایسے انسان تھے جس طرح سورہ ال – بیّنه اور سورہ ال – عصر میں بیان کیا گیا ہے – نبی حضرت ایوب زیادہ مشہور نہیں تھے – ان کا نام قرآ ن شریف میں صرف چار مرتبہ آیا ہوا ہے – 

اے رسول تو اسی طرح (بھی)ہم نے تمھارے پاس (‘وحی’)  بھیجی جس طرح نوح اور اس کے بعد والے پیگمبر بھیجی تھی اور جس طرح ابراہیم اور اسماعیل اور اصحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب و عیسیٰ و ایوب و یونس و ہارون و سلیمان کے پاس وحی بھیجی تھی ویسے ہی ہم نے داؤد کو زبور عطا کی –

4:163سورہ ان – نساء

اور یہ ہماری دولتیں ہے جو ہم نے ابراہیم کو اپنی قوم پر (سمجھائی بجھائی) (غالب آنے کے لئے عطا کی تھی) ہم جسکے مرتبے چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں – بیشک تمہارا پروردگار حکمت والا با خبر ہے –

6:84سورہ ال – انعام

 (کہ بھاگ نہ جایں جب انہوں نے اپنے(کا قصّہ یاد کرو)ایوب (اے رسول)اور (پروردگار سے دعاکی کہ خدا)بیماری تو میرے پیچھے (بند لگ گیئ ہے اور تو تو سب پر رحم کرنے والوں سے بڑھکر ہے) مجھ پر ترس کھا –

21:83سورہ ال – انبیاء

 اور بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے (خاص) ہمارے  (اے رسول) پروردگار سے فریاد کرو کہ مجھکو شیطان نے بہت اذیت اور تکلیف پہنچا رکھی ہے –    

38:41سورہ صا د

نبی حضرت ایوب کا نام دیگر نبیوں جیسے حضرت ابراہیم ، حضرت عیسیٰ ال مسیح اور نبی حضرت داؤد کیفہرست میں ظاہر ہوتا ہے جنہوں نے زبور شریف کو لکھا – وہ نبی حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے زمانے میں رہتے تھے – بائبل ان کے بارے میں اس طرح بیان کرتی ہے –

                   

(1)عُو ض کی سرزمِین میں ایُّوب نام ایک شخص تھا ۔ وہ شخص کامِل اور راستباز تھا اور خُدا سے ڈرتا اور بدی سے دُور رہتا تھا۔
(2)اُس کے ہاں سات بیٹے اور تِین بیٹِیاں پَیدا ہُوئِیں۔
(3)اُس کے پاس سات ہزار بھیڑیں اور تِین ہزار اُونٹ اورپانچ سَو جوڑی بَیل اور پانچ سَو گدھیاں اور بُہت سے نَوکرچاکر تھے اَیسا کہ اہلِ مشرِق میں وہ سب سے بڑا آدمی تھا۔
(4)اُس کے بیٹے ایک دُوسرے کے گھر جایا کرتے تھے اور ہرایک اپنے دِن پر ضِیافت کرتا تھا اور اپنے ساتھ کھانے پِینے کو اپنی تِینوں بہنوں کو بُلوا بھیجتے تھے۔
(5)اور جب اُن کی ضِیافت کے دِن پُورے ہو جاتے تو ایُّوب اُنہیں بُلوا کر پاک کرتا اور صُبح کو سویرے اُٹھ کر اُن سبھوں کے شُمار کے مُوافِق سوختنی قُربانیاں چڑھاتا تھاکیونکہ ایُّوب کہتا تھا کہ شاید میرے بیٹوں نے کُچھ خطا کی ہو اور اپنے دِل میں خُدا کی تکفِیر کی ہو ۔ ایُّوب ہمیشہ اَیسا ہی کِیا کرتا تھا-5         

1-1 5ایوب

نبی حضرت ایوب میں وہ ساری خوبیاں موجود تھیں جو سورہ ال – بیینہ اور سورہ ال – عصر دعوی  کرتا ہے  – مگر شیطان خداوند کے سامنے حاضر ہوا – ایوب کی کتاب خداوند اور شیطان کے بیچ جو گفتگو ہی اسکا بیان کرتی ہے –

(6)اور ایک دِن خُدا کے بیٹے آئے کہ خُداوند کے حضُورحاضِر ہوں اور اُن کے درمِیان شَیطان بھی آیا۔
(7)اور خُداوند نے شَیطان سے پُوچھا کہ تُو کہاں سے آتاہے؟ شَیطان نے خُداوند کو جواب دِیا کہ زمِین پر اِدھراُدھر گُھومتا پِھرتا اور اُس میں سَیر کرتا ہُؤا آیا ہُوں۔
(8)خُداوند نے شَیطان سے کہا کیا تُو نے میرے بندہ ایُّوب کے حال پر بھی کُچھ غَور کِیا؟ کیونکہ زمِین پر اُس کی طرح کامِل اور راستباز آدمی جو خُدا سے ڈرتا اور بدی سے دُور رہتا ہو کوئی نہیں۔
(9)شَیطان نے خُداوند کو جواب دِیا کیا ایُّوب یُوں ہی خُدا سے ڈرتا ہے؟۔
(10)کیا تُو نے اُس کے اور اُس کے گھر کے گِرد اور جو کُچھ اُس کا ہے اُس سب کے گِرد چاروں طرف باڑ نہیں بنائی ہے؟تُو نے اُس کے ہاتھ کے کام میں برکت بخشی ہے اور اُس کے گلّے مُلک میں بڑھ گئے ہیں۔
(11)پر تُو ذرا اپنا ہاتھ بڑھا کر جو کُچھ اُس کا ہے اُسے چُھو ہی دے تو کیا وہ تیرے مُنہ پر تیری تکفِیر نہ کرے گا؟۔
(12)خُداوند نے شَیطان سے کہا دیکھ اُس کا سب کُچھ تیرے اِختیار میں ہے ۔ صِرف اُس کو ہاتھ نہ لگانا ۔ تب شَیطان خُداوند کے سامنے سے چلا گیا

1:6-12 ایوب

تو پھر شیطان نے اس طرح سے نبی حضرت ایوب پر ایک آفت پر دوسری آفت لیکر آیا –

(13)اور ایک دِن جب اُس کے بیٹے اور بیٹِیاں اپنے بڑے بھائی کے گھر میں کھانا کھا رہے اور مَے نوشی کر رہے تھے۔
(14)تو ایک قاصِد نے ایُّوب کے پاس آ کر کہا کہ بَیل ہل میں جُتے تھے اور گدھے اُن کے پاس چَر رہے تھے۔
(15)کہ سبا کے لوگ اُن پر ٹُوٹ پڑے اور اُنہیں لے گئے اور نَوکروں کو تہِ تیغ کِیا اور فقط مَیں ہی اکیلا بچ نِکلا کہ تُجھے خبر دُوں۔
(16)وہ ابھی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ایک اَور بھی آ کر کہنے لگا کہ خُدا کی آگ آسمان سے نازِل ہُوئی اور بھیڑوں اور نَوکروں کو جلا کر بھسم کر دِیا اور فقط مَیں ہی اکیلا بچ نِکلا کہ تُجھے خبر دُوں۔
(17)وہ ابھی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ایک اَور بھی آ کر کہنے لگا کہ کسدی تِین غول ہو کر اُونٹوں پر آ گِرے اوراُنہیں لے گئے اور نَوکروں کو تہِ تیغ کِیا اور فقط مَیں ہی اکیلا بچ نِکلا کہ تُجھے خبر دُوں۔
(18)وہ ابھی یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ایک اَور بھی آ کر کہنے لگا کہ تیرے بیٹے بیٹِیاں اپنے بڑے بھائی کے گھر میں کھانا کھا رہے اور مَے نوشی کر رہے تھے۔
(19)اور دیکھ! بیابان سے ایک بڑی آندھی چلی اور اُس گھرکے چاروں کونوں پر اَیسے زور سے ٹکرائی کہ وہ اُن جوانوں پر گِر پڑا اور وہ مَر گئے اور فقط مَیں ہی اکیلا بچ نِکلاکہ تُجھے خبر دُوں۔
(20)تب ایُّوب نے اُٹھ کر اپنا پَیراہن چاک کِیا اور سرمُنڈایا اور زمِین پر گِر کر سِجدہ کِیا۔
(21)اور کہا ننگا مَیں اپنی ماں کے پیٹ سے نِکلا اور ننگاہی واپس جاؤُں گا ۔ خُداوند نے دِیا اور خُداوند نے لے لِیا ۔ خُداوند کا نام مُبارک ہو۔
(22)اِن سب باتوں میں ایُّوب نے نہ تو گُناہ کِیا اور نہ خُدا پر بیجا کام کا عَیب لگایا۔

1:13-22 ایوب

شیطان ابھی بھی اس جستجو میں تھا کی وہ خداوند کو آمادہ کرے ایوب کو لعنت بھیجے – سو حضرت ایوب کے لئے دوسرا امتحاں تھا –

 

(1)پِھر ایک دِن خُدا کے بیٹے آئے کہ خُداوند کے حضُور حاضِر ہوں اور شَیطان بھی اُن کے درمِیان آیا کہ خُداوندکے آگے حاضِر ہو۔
(2)اور خُداوند نے شَیطان سے پُوچھا کہ تُو کہاں سے آتاہے؟ شَیطان نے خُداوند کو جواب دِیا کہ زمِین پر اِدھراُدھر گُھومتا پِھرتا اور اُس میں سَیر کرتا ہُؤا آیاہُوں۔
(3)خُداوند نے شَیطان سے کہا کیا تُو نے میرے بندہ ایُّوب کے حال پر بھی کُچھ غَور کیا؟ کیونکہ زمِین پر اُس کی طرح کامِل اور راستباز آدمی جو خُدا سے ڈرتا اور بدی سے دُور رہتا ہو کوئی نہیں اور گو تُو نے مُجھ کو اُبھاراکہ بے سبب اُسے ہلاک کرُوں تَو بھی وہ اپنی راستی پرقائِم ہے۔
(4)شَیطان نے خُداوند کو جواب دِیا کہ کھال کے بدلے کھال بلکہ اِنسان اپنا سارا مال اپنی جان کے لِئے دے ڈالے گا۔
(5)اب فقط اپنا ہاتھ بڑھا کر اُس کی ہڈّی اور اُس کے گوشت کو چُھو دے تو وہ تیرے مُنہ پر تیری تکفِیر کرے گا۔
(6)خُداوند نے شَیطان سے کہا کہ دیکھ وہ تیرے اِختیارمیں ہے ۔ فقط اُس کی جان محفُوظ رہے۔
(7)تب شَیطان خُداوند کے سامنے سے چلا گیا اور ایُّوب کو تلوے سے چاند تک درد ناک پھوڑوں سے دُکھ دِیا۔
(8)اور وہ اپنے کو کُھجانے کے لِئے ایک ٹِھیکرا لے کر راکھ پر بَیٹھ گیا۔
(9)تب اُس کی بِیوی اُس سے کہنے لگی کہ کیا تُو اب بھی اپنی راستی پرقائِم رہے گا؟ خُدا کی تکفِیر کر اورمَر جا۔
(10)پر اُس نے اُس سے کہا کہ تُو نادان عَورتوں کی سی باتیں کرتی ہے ۔ کیا ہم خُدا کے ہاتھ سے سُکھ پائیں اوردُکھ نہ پائیں؟ اِن سب باتوں میں ایُّوب نے اپنے لبوں سے خطا نہ کی۔

2:1-10 ایوب

اسلئے سورہ ال – انبیاء حضرت ایوب کو مصیبت میں پکارتے ہوئے بیان کرتا ہے – اور سورہ صا د سمجھاتا ہے کہ شریر (شیطان) نے انکو ایضا پہنچایا –

انکے دکھ تکلیف میں ساتھ دینے کے لئے انکے تین دوست تھے جنہوں نے انکی ملاقات کی کہ انھیں ایسے وقت میں تسلّی دے سکے – 

 

(11)جب ایُّوب کے تِین دوستوں تیمانی الِیفز اور سُوخی بِلدد اور نعماتی ضُوفر نے اُس ساری آفت کا حال جواُس پر آئی تھی سُنا تو وہ اپنی اپنی جگہ سے چلے اوراُنہوں نے آپس میں عہد کِیا کہ جا کر اُس کے ساتھ روئیں اور اُسے تسلّی دیں۔
(12)اور جب اُنہوں نے دُور سے نِگاہ کی اور اُسے نہ پہچاناتو وہ چِلاّ چِلاّ کر رونے لگے اور ہر ایک نے اپنا پَیراہن چاک کِیا اور اپنے سر کے اُوپر آسمان کی طرف دُھول اُڑائی۔
(13)اور وہ سات دِن اور سات رات اُس کے ساتھ زمِین پر بَیٹھے رہے اور کِسی نے اُس سے ایک بات نہ کہی کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ اُس کا غم بُہت بڑا ہے۔

2:11-13 ایوب

ایوب کی کتاب  خداوند اور شیطان کے بیچ  ہوئی بات چیت کا بیان کرتی ہے کہ اس طرح کی بدنصیبی کا واقعہ حضرت ایوب کے ساتھ کیوں گزرا – ان کی بات چیت کی ایک ابواب میں جاکر ایک سرسری تصویر پیش کرتی ہے –مختصر طور سے ،انکے دوست لوگ انسے کہتے ہیں کہ اسطرح کی بدقسمت مصیبتیں برے لوگوں پر ہی آتے ہیں –اسکا مطلب یہ ہوا کہ شاید حضرت ایوب نے پوشیدہ طور سے گناہ کیا ہو – اگر وہ ان گناہوں کا اقرار کرتے تو شاید انکو انکے گناہوں کی معافی حاصل ہو سکتی تھی – مگر حضرت ایوب لگاتار انھیں جواب دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح کی ختاکاری کرنے سے بے-جرم ہیں – وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے تھے کہ کیوں بد قسمتی نے انکو چاروں طرف گھیر لیا تھا –      

ہم انکی لمبی بات چیت کے ہر ایک حصے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے ، مگر انکے سوالات کے بیچ حضرت ایوب وہی بیان کرتے ہیں جنکو وہ یقینی طور سے جانتے ہیں –

(25)لیکن مَیں جانتا ہُوں کہ میرا مخلصی دینے والا زِندہ ہے۔ اور آخِرکار وہ زمِین پر کھڑا ہو گا۔
(26)اور اپنی کھال کے اِس طرح برباد ہو جانے کے بعد بھی مَیں اپنے اِس جِسم میں سے خُدا کو دیکُھوں گا۔
(27)جِسے مَیں خُود دیکُھوں گا اور میری ہی آنکھیں دیکھیں گی نہ کہ بیگانہ کی۔ میرے گُردے میرے اندر فنا ہو گئے ہیں۔

19:25-27ایوب  

                       حا لانکہ حضرت ایوب نہیں سمجھ سکتے تھے کہ کیوں اس طرح کا المیہ (شدید واقعہ) انپر آ گزرا مگر وہ اتنا ضرور جانتے تھے کہ ایک ‘چھڑانے والا’ تھا جو زمیں پر آنے والا تھا – وہ چھڑانے والا ایسا شخص ہوگا انکی گناہوں کی پوری قیمت چکایگا – چھڑانے والے کو حضرت ایوب ‘میرا چھڑانے والا کہتے ہیں – سو وہ جانتے تھے کہ انکا چھڑانے والا انکے لئے آرہے تھے – انھیں یہ یقین تھا کہ اسطرح سے انکے کھال کے برباد ہوجانے پر بھی (مرنے کے بعد) وہ خدا کو اسی کھال کے ساتھ دیکھیںگے  –

مطلب یہ کہ حضرت ایوب قیامت کے دن کی راہ دیکھ رہے تھے – بلکہ انھیں یہ بھی یقین تھا کہ قیمت کے دن پوشیدہ طور سے وہ خدا کا منہ دیکھیںگے – کیونکہ انکا چھڑانے والا اج بھی زندہ ہے اور اسنے انکو چھڑایا ہے –

سورہ ال – معارج (سورہ 70 – آنے والی سیڑھیوں کا راستہ) یہ سورہ بھی قیامت کے دن ایک چھڑانے والے کی بات کرتا ہے – مگر سورہ ال – معارج ایک بیوقوف آدمی کا ذکر کرتا ہے جو مضطربانہ طور سے اس دن کسی بھی چھٹکارا دینے والے کی راہ دیکھتا ہے –             

کوئی کسی دوست کو نہ پوچھے گا – گنہگار تو آرزو کریگا کہ کاش اس دن کے عذاب کے بدلے اسکے بیٹوں اور اسکی بیوی اور اسکے بھائی اور اسکے کنبے کو جسمیں وہ رہتا تھا اور جتنے آدمی زمیں پر ہیں سب کو لے  لے  اور اسکو چھٹکارا دے دے –

70:11-14 سورہ ال معارج

سورہ ال معارج میں یہ بے وقوف آدمی بغیر کامیابی سے کسی کی بھی راہ دیکھتا ہے کہ اسکو چھڑائے – وہ ایک ایسے چھڑانے والے کی راہ دیکھ رہا ہے جو اسکو ‘اس دن کے خمیازے سے’ اسکو چھڑائے – (انصاف کے دن کے خمیازے سے) – اسکے بچے ، بیوی ، بھائی ، بہن ، اور زمیں پر جو بھی اسکے خاندان کے ہینن میں سے کوئی بھی اسکو چھڑا نہیں سکتے کیونکہ ان سبکو اپنے کئے کی سزا بھگتنی پڑیگی ، انکے لئے اپنے خود کا خمیازہ بھرنا پڑیگا –انکے خود کے لئے کسی چھڑانے والے کی سخت ضرورت ہے –

حضرت ایوب ایک راستباز شخص تھے – اسکے باوجود بھی وہ جانتے تھے کہ انھیں ایک چھڑانے والے کی ضرورت ہے –انکے تمام دکھ مصیبت ہونے کے باوجود بھی انھیں یقین تھا کہ انکے پاس ایک چھڑانے والا تھا – جبکہ تورات شریف نے اعلان کر دیا تھا کہ کسی بھی گناہ کا خمیازہ (مزدوری) موت ہے – چھڑانے والے کو اسکی اپنی زندگی کا خمیازہ دینا پڑیگا – حضرت ایوب جانتے تھے کہ انکا چھڑانے والا انکے لئے زمانے کے آخر میں زمین پر کھڑا ہوگا – حضرت ایوب کا چھڑانے والا کون تھا ؟ وہ ایک ہی شخص ہو سکتا ہے جو کبھی مرا تھا  مگر موت سے زندہ ہوا تاکہ زمانے کے کے آخر میں پھر سے کھڑا ہو سکے – وہ ہیں حضرت عیسیٰ ال مسیح – وہی ایک ہیں جو ممکن طور سے خمیازے کی قیمت (موت) کو ادا کر سکتے تھے – مگر وہ زمانے کے آخر میں زمیں پر کھڑے ہونگے –

          اگر حضرت ایوب جیسے راستباز شخص کے خود کے لئے ایک چھڑانے والے کی سخت ضرورت تھی تو آپ کے اور میرے لئے ایک چھڑانے والے کی کیسی سخت ضرورت ہونی چاہئے تاکہ ہمارے گناہوں کا خمیازہ ادا کر سکے ؟ وہ شخص جو اچھی خوبیاں رکھنے والا ہو، جسے سورہ ال بیّنه اور سورہ ال عصر نبیوں کی فہرست میں شامل کرے ایک چھڑانے والے کی ضرورت تھی تو ہماری کیا اوقات کہ ہمیں ضرورت نا پڑے ؟ سورہ ال معارج میں ذکر کئے ہوئے بیوقوف شخص کی طرح نہ ہوں جو آخری دن تک انتظار کرتا ہے کہ مضطربانہ طور سے ایسے شخص کو پاۓ جو اسکے گناہوں کا خمیازہ ادا کر سکے – آج اور ابھی سمجھ لیں کہ کسطرح سے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح آپ کو چھڑا  سکتے ہیں جس طرح نبی حضرت ایوب نے پہلے سے ہی دیکھ لیا تھا –

کتاب کے آخر میں نبی حضرت ایوب کا آمنا سامنا یہاں خداوند کے ساتھ ہوتا ہے اور اسکی خوش نصیبی یھاں بحال ہوتی ہے –

نبی حضرت الیاس کون تھے ؟ آج وہ ہماری رہنمائی کیسے کر سکتے ہیں ؟

نبی حضرت الیاس (یا ایلیا ہ) کے نام کا ذکر تین بار سورہ ال – انعام اور اص – صا ففا ت میں کیا گیا ہے – وہ ہم سے کہتے ہیں :

 اور زکریا اور یحیٰی اور عیسٰی اور الیاس (علیھم السلام کو بھی ہدایت بخشی)۔ یہ سب نیکو کار (قربت اور حضوری والے) لوگ تھےo

6:85 سورہ ال – انعام

اور یقیناً الیاس (علیہ السلام بھی) رسولوں میں سے تھےo

 جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے ہو؟o

 کیا تم بَعل (نامی بُت) کو پوجتے ہو اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟o

 (یعنی) اللہ جو تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہےo

 تو ان لوگوں نے (یعنی قومِ بعلبک نے) الیاس (علیہ السلام) کو جھٹلایا پس وہ (بھی عذابِ جہنم میں) حاضر کردیے جائیں گے

 سوائے اللہ کے چُنے ہوئے بندوں کے

 اور ہم نے ان کا ذکرِ خیر (بھی) پیچھے آنے والوں میں برقرار رکھا

 سلام ہو الیاس پر

 بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صِلہ دیا کرتے ہیں

 بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے

 37:123-132 سورہ ال – صا ففات 

الیاس کا ذکر یوحنا (یحییٰ) اور یسوع (عیسیٰ ال مسیح) کے ساتھ کیا گیا ہے کہ الیاس (ا یلیا ہ) نے بعل دیوتا کے پجاریوں کا سامنا کیا – اس سیاق عبارت کو بڑی  تفصیل کے ساتھ  یہاں بائبل  میں قلمبند کیا گیا ہے – ذیل میں جو برکت ہمارے لئے رکھا گیا ہے اسکی ہم تلاش کرتے ہیں – (آنے والی نسل کے لئے جس طرح سورہ ال ساففات وعدہ کرتا ہے) –     

نبی حضرت الیاس اور بعل کے پجاریوں کے لئے امتحان

ا یلیاہ ایک سخت آدمی تھا جس نے 450 بعل دیوتا کے پجاریوں کا سامنا کیا – اتنے لوگوں کا مقابلہ وہ کیسے کر سکتا تھا ؟ بائبل ہمیں سمجھاتی ہے کہ انہوں نے ایک شاطرانہ امتحاں کا استعمال کیا  – انھیں اور بعل دیوتا کے پجاریوں کو ایک جانور کی قربانی دینی تھی – مگر وہ دونوں ہی اس قربانی کو جلانے کے لئے اسمیں آگ نہیں لگاینگے – (وہ دونوں) ایک طرف ا یلیاہ نبی اکیلے کھڑے ہوئے تھے اور دوسری طرف اس کے مقابلے میں بعل دیوتا کے پجاری تھے – ہر ایک طرف سے اپنے اپنے خدا ، دیوتا کو بلانا تھا تاکہ رکھی ہوئی قربانی میں آگ بھیج کر قربانی کو جلا کر بھسم کردے – جس کسی کا خدا یا دیوتا آسمان سے آگ بھیج کر قربانی کو جلاکر بھسم کر دے وہی سچا دیوتا یا زندہ خدا مانا جاےگا –سو ان 450 بعل دیوتا کے پجاریوں نے پورے دن بھر بعل کو پکارا آسمان سے آگ بھیج کر انکی قربانی کو جلاکر بھسم کردے —مگر آسمان سے کوئی آگ نازل نہیں ہوئی – پھر ایلیاہ نے اپنے خالق کو پکارا کہ آسمان سے آگ نازل ہو اور اسکی قربانی کو جلا کر بھسم کردے – اسکی د عا  فورا سن لی گیئ اور فورا آسمان سے آگ نازل ہوئی اور اسکی تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کر دیا – وہ لوگ جو جنہوں نے اس مقابلے کی گواہی دی تھی انہوں نے معلوم کر لیا کہ کون سچا خدا ہے اور کون جھوٹا – اس طرح ب ع ل دیوتا لوگوں کی نظر میں جھوٹا ثابت ہوا –

ہم اس مقابلے کے گواہ تو نہیں ہیں مگر ہم ایلیا ہ اس حکمت عملی کا پیچھا کر سکتے ہیں یہ جاننے کے لئے کہ اگر ایک پیغام یا ایک نبی خدا کی طرف سےآتا ہے تو اسکی جانچ اس طریقے سے کرنی ہے کہ صرف خدا اور اسکے پیغمبر ہی کامیاب ہو سکے اور وہ لوگ جو محض انسانی قابلیت کے ساتھ ہو بعل دیوتا کے پجاری نہیں ہو سکتے –        

نبی حضرت الیاس کی جانچ آج کے دور میں    

نبی حضرت الیاس کی روح میں ہوکر ایسی کون سی جانچ ہو سکتی ہے ؟

سورہ ان نجم (سورہ  53 –تارا) ہم سے کہتا ہے  

پس آخرت اور دنیا کا مالک تو اللہ ہی ہےo

53:25 سورہ ان – نجم

عاقبت کی ساری چیزیں صرف خدا ہی جانتا ہے یہاں تک کہ خاتمہ جب واقع ہوتا ہے – بنی انسان خاتمے کی ان چیزوں کو ان کے واقع ہونے سے پہلے نہیں جانتا – اسکو تب ہی جانتا ہے جب وہ آکر گزر جاتا ہے – اسلئے جانچ یہ دیکھنے کے لئے ہوتی ہے کہ  اگر پیغام واقع  ہونے کے بہت پہلے مستقبل  کی پیش بینی سہی طریقے سے کی جاۓ –کوئی بھی انسان یا مورت (دیوتا)اسے نہیں کر سکتا – صرف خدا ہی کر سکتا ہے –

کئی ایک عجیب و غریب کام نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے جس طرح انجیل شریف میں ظاہر کئے ایک سچا خدا کا پیغام ہے  یا پھر چالاک لوگوں کے زریعے ایجاد کیا ہوا ہے – تو ہم نبی حضرت الیاس کی جانچ کو اس سوال کے لئے نافذ کر سکتے ہیں –تورات  شریف اور زبور شریف کی کتابیں ، نبیوں کی کتابوں کے ساتھ جن میں نبی حضرت الیاس کا بیان ہے انہیں نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے زمانے سے صدیوں سال پہلے لکھے  گئے تھے – ان سبکو یہودی نبیوں نے لکھا اور اس طرح سے یہ ‘مسیحی’ تحریر نہیں تھے – کیا ان قدیم تحریروں میں ایسی نبوتیں پائی جاتی ہیں جو سہی طور سے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے واقعا ت کی پیش بینی کرتے ہیں ؟ جن نبوتوں کا ذکر توریت میں کیا گیا ہے یھاں اسکا خلاصہ پیش کیا گیا ہے – زبوروں میں اور اس کے بعد کی نبیوں کی کتابوں میں جو نبوتیں پائی جاتی ہیں ان کا خلاصہ یہاں پیش کیا گیا ہے – اب  آ پ نبی حضرت الیاس کی طرح جانچ کر سکتے ہیں یہ دیکھنے کے لئے کہ اگر نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے جس طرح انجیل شریف میں بیان کیا کہ وہ خدا کی طرف سے سچے نبی ہیں یا آدمیوں کے ذریعے ایک جھوٹی غلط بیانی ہے –

سورہ ال انعام نے نبی حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ال مسیح کے ساتھ حضرت الیاس کے نام کا ذکر کیا – دلچسپی کی بات یہ ہے کہ پرانے عہد نامے کی آخری کتاب میں نبی حضرت الیاس کی بابت نبوت کی گیئ ہے کہ وہ حضرت مسیح کی آمد کے لئے ہمارے دلوں کو تیار کرنے آ یینگے  – ہم انجیل شریف میں دیکھتے ہیں کہ کس طرح نبی حضرت یحییٰ ، نبی حضرت الیاس کی شکل میں آ ے تاکہ لوگوں کو تسکین اور تسلّی دے اور انھیں نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے کلام کو سننے اور انکی دوبارہ آمد کے لئے دلوں کو تییار کرے –نبی حضرت الیاس کی شخصیت خود ہی یحییٰ نبی اور نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی نبوتوں میں بندھ کر رہ گیئ ہے –