برج میگھ قدیم منطقہ البروج میں

قدیم منطقہ البروج کے ستاروں کے مجمع میں برج میگھ آٹھواں درجہ رکھتا ہے اور منطقہ البروج کی اکائی کو ہمارے لئے نتیجہ کو ظاہر کرتے ہوئے آنے والےکسی  کے فتح سے انجام تک پہنچاتا ہے –برج میگھ ایک زندہ مینڈھے کی تصویر ہے جس کا سر اونچا کر کے رکھا گیا ہے – آج کی راشی میں اگر آپ کی پیدایش مارچ 21 اور اپریل 20 کے درمیان ہوئی ہے تو آپ برج میگھ کے ہیں – سو اس موجودہ نجومی ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ)  جو قد یم منطقہ البروج کی معلومات ہے اس میں برج میگھ کے لئے اپ زائچہ کی صلاح کا پیچھا کرتے ہیں کہ آپ اپنی شخصیت کے لئے محبّت ،خوش قسمت ،دولت اور بصیرت کی تلاش کرتے ہیں –

مگر سب سے پہلے برج میگھ آپ کے لئے کیا ماینے رکھتا ہے ؟

ہوشیار ہو جایں ! اس کا جواب دیتے ہوئے آپکو ایک فرق سفر کے منصوبے لے جاتے ہوئے آپ کے ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) غیر واضح طور سے کھلیگا –پھر آپ اپنے زائچہ کی نشانی کو جانچتے ہوئے ارادہ کیۓ جاؤگے —

برج کنیا میں ہم نے دیکھا کہ قران شریف اور بائبل مقدّس بیانکرتا ہے کہ الله تعالی نے انسانی تخلیق کی ابتدا سے نشانیوں بطور منطقہ البروج ستاروں کے مجمع (مجموعتالنجوم)  کو بنایا –ستاروں سے اس قدیم کہانی کا ہر ایک باب عام لوگوں  کے لیے تھا – سویھاں تک کہ اگر آپ موجودہ زائچہ کے ادراک میں برج میگھ کے نہیں بھی ہیں تو بھی برج میگھ کی قدیم نجومی کہانی کو معلوم کرنے کے قابل ہیں –

ستاروں میں برج میگھ کے تاروں کا مجمع

یہاں یہ ستارے ہیں جو برج میگھ کی شکل بناتے ہیں – کیا آپ ایک مینڈھے (نربھیڑ) کا شکل بناتے ہوئے کچھ دیکھ سکتے ہیں جسکا سر اس تصویر میں اونچا کرکے رکھا گیا ہے ؟  

آسمان میں برج میگھ کے تاروں کا مجمع   

یہاں تک کہ برج میگھ میں ستاروں کو لکیروں سے جوڑنے کے باوجود بھی ایک مینڈھے کی تصویر نہیں بنتی توپھر ابتدائی نجومیوں نے ان ستاروں سے ایک زندہ مینڈھے کی بابت کیسے سوچا ہوگا ؟

برج  میگھ ستاروں کا مجمع ان تاروں کے ساتھ لکیروں سے جوڑنے کے ذریعے 

مگر جس طرح سے ہم انسانی تاریخ کو جانتے ہیں یہ نشانی پیچھے کو جاتی ہے – یہاں مصر کے ڈینڈ را مندر ایک منطقہ البروج کی تصویر ہے جو کہ 2000 سال سے بھی زیادہ پرانا ہے – برج میگھ کے ساتھ جسکو لال رنگ سے دائرہ کھینچا گیا ہے –  

مصر کے ڈینڈ را مندر میں برج میگھ قدیم منطقہ البروج 

ذیل کے نقشوں میں برج میگھ کے کچھ روایاتی تصا ویر ہیں جو نجوم کے ہیں جسے ہم جانتے ہیں کہ بہت پیچھے ان کا استععال ہوا ہے –

مینڈھے کے کیا معنے ہیں ؟

آپکے اور میرے لئے اسکی کیا نشانی ہے ؟ 

برج  میگھ  نجوم ستاروں  کے  مجمع  کی تصویر 
قدیم یونانی برج میگھ منطقہ البروج کی تصویر

برج میگھ کا اصلی معنی  

برج مکر کے سا تھ آگے والی بکری مر گئی تھیتاکہ مچھلیاں جی سکیں مگر برج حرط کا گروہ ابھی بھی مچھلیوں کو پکڑے ہوئے ہے –جو جسمانی نا پاکی اور موت کے لئے ایک غلامی باقی رہ جاتی ہے – ہم بہت سی مصیبتوں اور تکلیفوں کے ساتھ جیتے ہیں –بوڑھے ہوتے اور مرجاتے ہیں ! مگر ہمارے پاس جسمانی قیامت کے لئے ایک بڑی  امید ہے – برج میگھ کے آگے کا پیر برج حرط کے گروہ کی طرف بڑھا ہوا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کیسے وا قع  ہوگا – اس بکری (مکر راشی) کے ساتھ ایک عجیب چیز واقع ہوا تھا جو مر گیئ تھی –انجیل شریف اسکو اس طرح سے بیان کرتی ہے  

6اور مَیں نے اُس تخت اور چاروں جان داروں اور اُن بزُرگوں کے بِیچ میں گویا ذبح کِیا ہُؤا ایک برّہ کھڑا دیکھا۔ اُس کے سات سِینگ اور سات آنکھیں تِھیں۔ یہ خُدا کی ساتوں رُوحیں ہیں جو تمام رُویِ زمِین پر بھیجی گئی ہیں۔ 7اُس نے آ کر تخت پر بَیٹھے ہُوئے کے دہنے ہاتھ سے اُس کِتاب کو لے لِیا۔ 8جب اُس نے کِتاب لے لی تو وہ چاروں جاندار اور چَوبِیس بزُرگ اُس برّہ کے سامنے گِر پڑے اور ہر ایک کے ہاتھ میں بَربَط اور عُود سے بھرے ہُوئے سونے کے پِیالے تھے۔ یہ مُقدّسوں کی دُعائیں ہیں۔

9اور وہ یہ نیا گِیت گانے لگے کہ

تُو ہی اِس کِتاب کو لینے

اور اُس کی مُہریں کھولنے کے لائِق ہے

کیونکہ تُو نے ذبح ہو کر اپنے خُون سے

ہر ایک قبِیلہ اور اہلِ زُبان اور اُمّت اور قَوم میں سے

خُدا کے واسطے لوگوں کو خرِید لِیا۔

10اور اُن کو ہمارے خُدا کے لِئے ایک بادشاہی اور کاہِن بنا دِیا

اور وہ زمِین پر بادشاہی کرتے ہیں۔

11اور جب مَیں نے نِگاہ کی تو اُس تخت اور اُن جان داروں اور بزُرگوں کے گِرداگِرد بُہت سے فرِشتوں کی آواز سُنی جِن کا شُمار لاکھوں اور کروڑوں تھا۔ 12اور وہ بُلند آواز سے کہتے تھے کہ

ذبح کِیا ہُؤا برّہ ہی

قُدرت اور دَولت اور حِکمت اور طاقت اور

عِزّت اور تمجِید اور حَمد کے لائِق ہے۔

13پِھر مَیں نے آسمان اور زمِین اور زمِین کے نِیچے کی اور سمُندر کی سب مخلُوقات کو یعنی سب چِیزوں کو جو اُن میں ہیں یہ کہتے سُنا کہ

جو تخت پر بَیٹھا ہے اُس کی اور بَرّہ کی

حَمد اور عِزّت اور تمجِید اور سَلطنت

ابدُالآباد رہے۔

14اور چاروں جان داروں نے آمِین کہا اور بزُرگوں نے گِر کر سِجدہ کِیا۔

٥ :٦ -٤ ١ مکا شفہ

برج میگھ – زندہ برّہ !

عجیب وغریب  خبر، جوانسانی تاریخ کی ابتدا سے منصوبہ کیا ہوا تھا ، وہ یہ ہے کہ برّہ حالانکہ زبح کیا گیا تھا مگر وہ دوبارہ سے زندہ ہو جاتا ہے –وہجو برّہ زبح ہوا تھا وہ کون تھا ؟ نبی حضرت یح یا     حضرت ابراہیم کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ حضرت عیسی ال مسیح ہیں –

دُوسرے دِن اُس نے یِسُوعؔ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گُناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔

یوحنا ١ :٩ ٢

نبی حضرت عیسی علیہ السلام اپنی مصلوبیت کے تیسرے دن مردوں میں سے جی اٹھے ، اپنے شاگردوں کے ساتھ رہنے کے 40 دن بعد انجیل کہتی ہے کہ وہ آسمان پر سعود  فرما گئے – سو وہی برّہ آسمان میں آ ج تک بلکہ ابھی بھی زندہ اور ہمیشہ تک زندہ رہیگا جس طرح برج میگھ ظاہر کرتا ہے –بعد میں اسی رویا یوحنا نے اسکو دیکھا :   

9اِن باتوں کے بعد جو مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ہر ایک قَوم اور قبِیلہ اور اُمّت اور اہلِ زُبان کی ایک اَیسی بڑی بِھیڑ جِسے کوئی شُمار نہیں کر سکتا سفید جامے پہنے اور کھجُور کی ڈالِیاں اپنے ہاتھوں میں لِئے ہُوئے تخت اور برّہ کے آگے کھڑی ہے۔ 10اور بڑی آواز سے چِلاّ چِلاّ کر کہتی ہے کہ نجات ہمارے خُدا کی طرف سے ہے جو تخت پر بَیٹھا ہے اور برّہ کی طرف سے۔

مکاشفہ ٧ :٩ -٠ ١ 

یہ وہ بڑا ہجوم ہے جو برج حرت کی مچھلیوں کے ساتھ نشان د ہی کیا گیا ہے جو بررے کے پاس آے ہوئے ہیں مگر اب وہ جماعت نا پاکی اور موت لئے ہوئے ہے جو اسکی پہونچ کو توڑ رہی ہے – برج میگھ نے جماعتوں (گروہوں) کو توڑ ڈالا ہے جو حرت  کے مچھلییوں کو پکڑے ہوئے ہیں – انہوں نے نجات کی معموری اور ابدی زندگی کو حاصل کیا ہے

قدیم تحریوں میں برج میگھ کا زائچہ (ہوروسکوپ)

لفظ ‘ہوروسکوپ’ یونانی لفظ  ‘ہورو’  کا بنیادی لفظ ہے جس کے معنی ہیں (وقت) اور پیغمبرانہ تحریر وں جیسے مرقس میں کی ایک اہم اوقات کا بیان ہے مگر برج کنیا سے لیکر برج حرت کے اوقات تک تحریروں میں پڑھتے آ رہے ہیں – مگر زائچہ میں ایک دوسرا یونانی لفظ ہے برج عقرب جوبرج میگھ کی عبارت کو با ہرلے آتی ہے –عقرب کے معنی ہیں کسی پر نگاہ کرنا ، سوچنا ، غور کرنا – برج میگھ ابدی خدا کے بررے کا تصوّر کرا تا ہے – اس طرح کوئی قطعی وقت دور نہیں کہ جس پر دھیان دیا جاۓ –اس کے عیوض میں ہمکو تاکید کی جاتی ہے کہ خود پر غور کیا جاۓ –

تفرِقے اور بے جا فخر کے باعِث کُچھ نہ کرو بلکہ فروتنی سے ایک دُوسرے کو اپنے سے بِہتر سمجھے۔ 4ہر ایک اپنے ہی اَحوال پر نہیں بلکہ ہر ایک دُوسروں کے اَحوال پر بھی نظر رکھّے۔ 5وَیسا ہی مِزاج رکھّو جَیسا مسِیح یِسُوعؔ کا بھی تھا۔  6اُس نے اگرچہ خُدا کی صُورت پر تھا خُدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چِیز نہ سمجھا۔

7بلکہ اپنے آپ کو خالی کر دِیا اور خادِم کی صُورت اِختیار کی اور اِنسانوں کے مُشابِہ ہو گیا۔ 8اور اِنسانی شکل میں ظاہِر ہو کر اپنے آپ کو پَست کر دِیا اور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ مَوت بلکہ صلِیبی مَوت گوارا کی۔ 9اِسی واسطے خُدا نے بھی اُسے بُہت سر بُلند کِیا اور اُسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے۔ 10تاکہ یِسُوعؔ کے نام پر ہر ایک گُھٹنا جُھکے۔ خَواہ آسمانِیوں کا ہو خَواہ زمِینِیوں کا۔ خَواہ اُن کا جو زمِین کے نِیچے ہیں۔ 11اور خُدا باپ کے جلال کے لِئے ہر ایک زُبان اِقرار کرے کہ یِسُوع مسِیح خُداوند ہے۔

٢ :٣ -١ ١ فلپپیوں

ایسا کوئی حد بادی برج میگھ کے مینڈھے کیلئے نہیں ہے –بلکہ مینڈھا  کئی  ایک جلال کے مختلف معیاروں سے ہوکر گزرا ہے – سب سے پہلے ہم اسکو خد ا کی اپنی فطرت میں دیکھتے ہیں یہاں تک کہ ابتدا سے ہی اس کو انسان بن کر ایک خادم ہونے اور مرنے کیلئے رکھا گیا برج کنیا نے اس نزول کا اشتہار دیا کہ وہ ‘انسانی شکل’ میں ہوگا اور برج مکر نے موت تک اسکی فرمانبرداری کو ظاہر کیا – مگر موت اسکا خاتمہ نہیں تھا – موت اسکو اپنے قبضہ میں نہ رکھ سکی – بلکہ  مینڈھا اب آسمان کی او نچاعیوں میں زندہ اور سر بلند کیا گیا ہے –یہ اسکےاعلیٰ اختیاراور قدرت کے سبب سے ہے کہ مینڈھا منطقہ البروج کی آخری اکائی میں برج ٹورسے شرو ع کرتے ہوئے قتل کیا جاتا ہے –اب وہ خادم نہیں رہا بلکہ اب وہ انصاف کی طاقت پر اپنے دشمن کو برباد کرنے (ختم کرنے) کے لئے آنے کی تیاری میں ہے جس طرح برج قوس قدیم منطقہ البروج کی کہانی پیش بینی کرتی ہے –         

آپکےبرج میگھ زائچہ کی عبارت                       

آپ اور میں برج میگھ زائچے کو اس طرح سے استعمال کر سکتے ہیں                                          

  برج میگھ بیان کرتا ہے کہ صبح کے اجالے کی چمک کالی رات کے اندھیرے کے بعد ہی آتی ہے – زندگی کا ایک طریقہ ہے کہ آپکے بالکل  پاس میں اندھیرے کو بھی لایا جاۓ – شاید آپ اس سے پیچھا چھڑانے کی آزمائش میں ہو سکتے ہیں ، کسی چیزکے لئے خاموش ہونے یا قائم ہونے سے کم ہونے کا تقاضا ہے کہ جس میں آپ بناۓ گئے ہیں اسی میں بنے رہیں – ابھرنے کی قوّت کو پانا اور اس میں لگاتار بنے رہنا اس کے لئے پیچھے کی صورت حال اور حقیقت حال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے –آپکو آخر کی (بنیادی) منزل کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے آپ ایسا برج میگھ کے موقع کو پاکر ایسا کرتے ہیں جو آپکو وہاں پر (منزل) پر اس کے ساتھ لے جاےگا – کیونکہ آپ جب خدا کے دشمن تھے ، آ پ کا رشتہ اس کے ساتھ برج مکر کی قربانی کے وسیلے سے دوبارہ بحال ہوا تو کتنا کچھ اور زیادہ اس کے ساتھ کا رشتہ مناسب یا موزوں ہونی چاہئے – کیا آپ برجمیہ کی زندگی کے وسیلے سے بچا ے جاینگے ؟ اسکے لئے آپکو صرف اس کے راستوں پر چلنا ہوگا اور اس کا راستہ اوپر جانے سے پہلے پاٹل میں بھی گیا –سو آپ کا حقیقت حال بھتر ہی ہوگا – 

سو آگے کسطرح چلتے رہیں ؟ برج میگھ کی زندگی سے ہر وقت خوش رہیں – میں آپکو پھر سے کہونگا خوش رہیں ! آپکی نرم مزاجی سب آدمیوں پر ظاہر ہو – برج میگھ آپکے قریب ہے – کسی بھی بات کے لئے فکر نہ کریں – بلکہ ہر ایک بات میں تمھاری درخواستیں دوا اور منّت کے وسیلے سے شکر گزارکے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جایں تو خدا کا اطمینان جو آپ کی سمجھ سے بلکل باہر ہے تمھارے دلوں اور خیالوں کو مینڈھے میں محفوظ رکھےگا – غرض جتنی باتیں سچ ہیں اور جتنی باتیں شرافت کی ہیں ، اور جتنی باتیں واجب ہیں اور جتنی با تیں پاک ہیں اور جتنی باتیں پسندیدہ ہیں اور جتنی باتیں دلکش ہیں —غرض جو نیکی اور تعریف کی باتیں ہیں انپر غور کیا کریں –         

برّہ کی واپسی

یہ قدیم منطقہ البروج کے کہانی کی دوسری اکائی کو ختم کرتا جسے ان فوائد پر دھیان دیا گیا ہے جو عیسی المسیح (برّہ) کے فتحیابی کے پھلوں کو حاصل کرتے ہے – آپ کیوں نہیں اس زندگی کے انعام کو حاصل کر لیتے ؟

آخری اکائی منطقہ البروج کی کہانی کا 9 سے 12 ابواب –اس بات پر دھیان کراتا ہے کی کیا ہوا جب برج میگھ (مینڈھا) واپس لوٹتا ہے جیسا اس نے وعدہ کیا تھا – اسکو اسی برّہ کے رویا میں اعلان کیا گیا ہے جب یوحنا نے اس رویا کو دیکھا تھا –   

اور پہاڑوں اور چٹانوں سے کہنے لگے کہ ہم پر گِر پڑو اور ہمیں اُس کی نظر سے جو تخت پر بَیٹھا ہُؤا ہے اور برّہ کے غضب سے چِھپا لو۔

٦ :٦ ١ مکاشفہ

قدیم منطقہ البروج میں اسے برج ٹور میں اسے دکھایا گیا ہے دیکھیں برج کنیا کو منطقہ البروج کی کہا نی شرو ع کرنے کے لئے – اسلئے لکھی ہوئی عبارت کے الفاظ برج میگھ کےمطابق ہوتی ہے –دیکھیں :

قدیم منطقہ البروج میں برج حرت

برج حرت منطقہ البروج کا ساتواں تاروں کا مجمع ہے ، اور اس منطقہ البروج کی اکائی میں ہمارے لئے اس آنے والے ایک کی فتح کا انجام ظاہر کرتے ہوئے ہے – برج حرت دو مچھلیوں کی تصویر بناتا ہے جو ایک لمبے بندھن سے اپس میں بندھے ہوئے ہیں – آج کے زائچے میں اگر آپ کی  پیدائش فروری 20 اور مارچ 20 کے درمیان ہوئی ہے تو آپ برج حرت کے ہیں – سو اس موجودہ نجومی ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) جو قدیم منطقہ البروج کی معلوما ت ہے اس میں برج حرت کے لئے زائچہ کی صلاح کا پیچھا کرتے ہیں کی آپ اپنی شخصیت کے لئے محبّت ، خوش قسمت ، دولت اور بصیرت کتلاش کرتے ہیں –

مگر قدیم ہونے کے کیا معنی تھے ؟

کیوں برج حرت قدیم زمانے سے دو مچھلیوں کا تصویرلئے ہوئے ایک لمبے بندھن سے جڑے ہوئے ہیں ؟

      ہوشیار ہو جایں ! اس کا جواب دیتے ہوئے آپکو ایک فرق سفر کے منصوبے لے جاتے ہوئے آپ کے ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) غیر واضح طور سے کھلیگا –پھر آپ اپنے زائچہ کی نشانی کو جانچتے ہوئے ارادہ کیۓ جاؤگے

 برج کنیا میں ہم نے دیکھا کہ قران شریف اور بائبل مقدّس بیانکرتا ہے کہ الله تعالی نے انسانی تخلیق کی ابتدا سے نشانیوں بطور منطقہ البروج ستاروں کے مجمع (مجموعتالنجوم)  کو بنایا –ستاروں سے اس قدیم کہانی کا ہر ایک باب عام لوگوں  کے لیے تھا – سویھاں تک کہ اگر آپ موجودہ زائچہ کے ادراک میں برج میگھ کے نہیں بھی ہیں تو بھی برج میگھ کی قدیم نجومی کہانی کو معلوم کرنے کے قابل ہیں –

تاروں میں برج حرت کے تاروں کا مجمع

یہاں تارے ہیں جو برج حرت کی تصویر بنا رہے ہیں – اس تصویر میں کیا آپ دو مچھلی کو ایک لمبے بندھن سے آپس میں جڑے ہو ے کا شکل بناتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ؟   

کے مجمع کی تصویر جو برج حرت کی شکل کو بناتے ہیں تاروں

یھاں تک کہ برج حرت میں تاروں کو لکیروں سے جوڑنے کے باوجود بھی سچ مچ میں برج حرت کی تصویر نہیں بنتی – تو پھر ابتدائی نجومیوں نے ان تاروں سے دو مچھلیوں کی بابت کیسے سوچا ہوگا ؟

برج حرت  کے تاروں کا مجمع – ان تاروں کو لکیروں سے جوڑنے کے ذرئیے

مگر یہ نشانی جیسا کی ہم جانتے ہیں انسانی تاریخ میں پیچھے کی طرف جاتی ہے – یھاں مصر کے ڈ ینڈ را مند ر میں منطقہ البروج کی تصویر  ہے جو 2000 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے ، جو برج حرت کی دو مچھلیوں کی تصویر کے ساتھ اسے سرخ رنگ سے دائرہ کھینچا ہوا ہے –اس تصویر میں آپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ دو مچھلیاں آپس میں بندھی ہوئی ہیں –   

ڈ ینڈ را کا قدیم  مصری منطقہ البروج برج حرت کے ساتھ سرخ رنگ سے دائرہ کھینچا ہوا

ذیل میں روایاتی برج حرت کی تصویر  ہے جیسا کہ ہم اس کے پیچھے کی تاریخ کو جانتے ہیں کہ اسے نجومیوں نے استعمال کیا ہے – .

حرت کی نجومی تصویر

دو مچھلیوں کے کیا معنی ہیں ؟

اور مضبوطی سے ان کی د و د موں کو جو باندھا گیا ہے ؟ 

یہ میرے اور آپ کے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے ؟

برج حرت کے اصلی معنی

ہم نے برج مکرجدی میں دیکھا کہ ایک مرتے ہوئے بکری کے سر سے مچھلی کے دم نے زندگی لی – برج دلومیں دکھایا گیا کہ مچھلی کے اوپر پانی انڈیلا گیا – برج حرت آسٹرینس –مچھلی ایک بڑ ی  ہجوم کو ظاہر کرتی ہے جو زندگی کے پانی کو حاصل کرینگے –اسکو پیچھے کی تاریخ میں نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں پش نظری کی گیئ تھی جب الله نے انھیں وعدہ کیا تھا –

3جو تُجھے مُبارک کہیں اُن کو مَیں برکت دُوں گا اور جو تُجھ پر لَعنت کرے اُس پر مَیں لَعنت کرُوں گا اور زمِین کے سب قبیِلے تیرے وسِیلہ سے برکت پائیں گے۔

پیدایش ٢ ١ :٣

18اور تیری نسل کے وسِیلہ سے زمِین کی سب قَومیں برکت پائیں گی کیونکہ تُو نے میری بات مانی۔

پیدائش ٢ ٢ :٨ ١

اس ہجوم نے آنے والے خادم کے وسیلے سے چھٹکارا پایا تھا جو د و جما عتوں میں تقسیم تھے –

6ہاں خُداوند فرماتا ہے کہ یہ تو ہلکی سی بات ہے کہ تُو یعقُوبؔ کے قبائِل کو برپا کرنے اور محفُوظ اِسرائیلِیوں کو واپس لانے کے لِئے میرا خادِم ہو بلکہ مَیں تُجھ کو قَوموں کے لِئے نُور بناؤُں گا کہ تُجھ سے میری نجات زمِین کے کناروں تک پُہنچے۔

یسعیاہ  ٩ ٤ :٦

یہاں نبی یعقوب کے قبیلوں کی اور اس کے ساتھ ہی ‘غیرقوموں’ کی بھی بات کرتا تھا – یہاں برج حرت میں دو مچھلیاں ہیں –جب حضرت عیسیٰ ال مسیح علیہ السلام نے اپنے شاگردوں کو بلایا توتب اسنے کہا :

19اور اُن سے کہا میرے پِیچھے چلے آؤ تو مَیں تُم کو آدم گِیر بناؤُں گا۔

متی٤ :٩ ١  

حضرت عیسیٰ ال مسیح کے پہلے کے شاگرد مچھلی کے نشان کا استعمال کرتے تھے یہ دکھانے کے لئے کوہ اسکے ہیں – یھاں وہ تصویریں ہیں جو زمیں دوز قبرستان میں پاے گئے تھے –

مچھلی کا نشان یونانی حروفوں کے ساتھ ایک قدیم قبرپر
مچھلی کا نشان قدیم روم کے قبروں پر
دومچھلیوں کا نشان چٹان پر کھدے ہوئے 

برج حرت کی دو مچھلیاں ان میں سے ایک یعقوب کا قبیلہ ہے اور دوسرا جو حضرت عیسیٰ ال مسیح کے  پیچھے چلتے ہیں جنہیں اس کے ذرئیے ایک ہی زندگی دی گیئ ہے – بندھن بھی انکو ایک ساتھ برابر طور سے مبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں –   

بندھن –قدیم غلامی

برج حرت کی دو مچھلیاں حالانکہ انہں نیئی روحانی زندگی دی گیئ ہے مگر وہ  تاروں  کے مجمع کے بندھن میں ایک ساتھ  باندھے گئے ہیں – بندھن دونوں مچھلیوں کو غلام بنا رکھا ہے – مگر ہم دیکھتے  ہیں کہ برج میگھ (مینڈھے) کا کھر اس بندھن کی طرف آ رہا ہے – یہ اس دن کی بابت  ظاہر کرتا ہے کہ مچھلیاں برج میگھ  کے  ذریعے آ زاد کئے جاینگے –        

برج حرت منطقہ البروج میں برج میگھ کے ساتھ – برج میگھ کا کھر بندھن کو توڑنے کے لئے آ رہا ہے –

حضرت عیسیٰ ال مسیح کے پیچھے چلنے والے تمام شاگردوں کا آ ج  یہی تجربہ ہے – انجیل شریف بیان کرتا ہے زمانہ حال میں پاۓ جانے والے ہمارے دکھ ، گناہ کی بوسید گی اور موت کے بندھن کا – مگرا یک  ا مید  کے ساتھ اس دن کی راہ دیکھتے ہیں جب اس بندھن سے آزاد ہو جاینگے (جس طرح سے برج حرت میں بندھن کے ذریعے  ظاہر کیا گیا ہے)-

 اس وقت کی غلامی اور کرا ھنا

18کیونکہ میری دانِست میں اِس زمانہ کے دُکھ دَرد اِس لائِق نہیں کہ اُس جلال کے مُقابِل ہو سکیں جو ہم پر ظاہِر ہونے والا ہے۔ 19کیونکہ مخلُوقات کمال آرزُو سے خُدا کے بیٹوں کے ظاہِر ہونے کی راہ دیکھتی ہے۔ 20اِس لِئے کہ مخلُوقات بطالت کے اِختیار میں کر دی گئی تھی۔ نہ اپنی خُوشی سے بلکہ اُس کے باعِث سے جِس نے اُس کو۔ 21اِس اُمّید پر بطالت کے اِختیار میں کر دِیا کہ مخلُوقات بھی فَنا کے قبضہ سے چُھوٹ کر خُدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخِل ہو جائے گی۔ 22کیونکہ ہم کو معلُوم ہے کہ ساری مخلُوقات مِل کر اب تک کراہتی ہے اور دردِ زِہ میں پڑی تڑپتی ہے۔ 23اور نہ فقط وُہی بلکہ ہم بھی جِنہیں رُوح کے پہلے پَھل مِلے ہیں آپ اپنے باطِن میں کراہتے ہیں اور لے پالک ہونے یعنی اپنے بدن کی مُخلصی کی راہ دیکھتے ہیں۔ 24چُنانچہ ہمیں اُمّید کے وسِیلہ سے نجات مِلی مگر جِس چِیز کی اُمّید ہے جب وہ نظر آ جائے تو پِھر اُمّید کَیسی؟ کیونکہ جو چِیز کوئی دیکھ رہا ہے اُس کی اُمّید کیا کرے گا؟ 25لیکن جِس چِیز کو نہیں دیکھتے اگر ہم اُس کی اُمّید کریں تو صبر سے اُس کی راہ دیکھتے ہیں۔

٨ :٨ ١ -٥ ٢ رومیوں

چھٹکارا آ رہا ہے

ہم اپنے بدن کے موت کے چھٹکارے کا انتظار کرتے ہیں – جس طرح آ گے سمجھایا گیا ہے –

50اَے بھائِیو! میرا مطلَب یہ ہے کہ گوشت اور خُون خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہیں ہو سکتے اور نہ فنا بقا کی وارِث ہو سکتی ہے۔ 51دیکھو مَیں تُم سے بھید کی بات کہتا ہُوں۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔ 52اور یہ ایک دَم میں۔ ایک پَل میں۔ پِچھلا نرسِنگا پُھونکتے ہی ہو گا کیونکہ نرسِنگا پُھونکا جائے گا اور مُردے غَیرفانی حالت میں اُٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔ 53کیونکہ ضرُور ہے کہ یہ فانی جِسم بقا کا جامہ پہنے اور یہ مَرنے والا جِسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔ 54اور جب یہ فانی جِسم بقا کا جامہ پہن چُکے گا اور یہ مَرنے والا جِسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چُکے گا تو وہ قَول پُورا ہو گا جو لِکھا ہے کہ مَوت فتح کا لُقمہ ہو گئی۔ 55اَے مَوت تیری فتح کہاں رہی؟ اَے مَوت تیرا ڈنک کہاں رہا؟ 56مَوت کا ڈنک گُناہ ہے اور گُناہ کا زور شرِیعت ہے۔ 57مگر خُدا کا شُکر ہے جو ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسِیح کے وسِیلہ سے ہم کو فتح بخشتا ہے۔

1 کرنتھیوں٥ ١ :٠ ٥ -٧  ٥

برج حرت کے چاروں طرف جو بندھن ہے وہ ہمارے موجودہ دور کی حالت کی تصویر دکھاتا ہے مگر ہم بڑی بے صبری  برج میگھ کے آنے کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ آکر ہمکو آزاد کرے – یہ موت کے بندھن سے آزادی کا موقع ا صلی منطقہ ا لبروج میں سبکو دیا گیا ہے – آپ کے روزانہ کے فیصلوں کے لئے  جو آ پ کی پیدائشی تاریخ کی بنا پر ہے خوش قسمت ، محبّت اور بہتر تندرستی کے لئے برج حرت نے رہنمائی نہیں کی –اسکی نشانی اعلان کیا گیا کہ نہ صرف عیسیٰ ال مسیح کا فتح ہمکو زندگی کا پانی دے سکتا ہے ، مگر یہ بھی کہ وہ ہمکو گناہ کی بوسیدگی ، تکلیف اور موت سے چھٹکارا دیگا جو ہمکو ابھی غلامی میں جکڑے ہوئے ہے –     

مقدّس تحریروں میں برج حرت کا زائچہ

ہوروسکوپ (سائچہ) کا یہ لفظ یونانی کے ‘حورو‘ (وقت)سے نکلا ہے اور اس طرح سے اس کے معنی ہیں خاص اوقات کی طرف نشان دہی کرنا –پیغمبرانہ تحریریں برج حرت کے ‘حورو’ (وقت) کی نشان دہی کرتا ہے–مچھلیاں پانی میں زندہ ہیں ، مگر اس کے باوجود ا بھی بھی بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں جو برج حرت کے حورو (وقت)کے عبارت کی نشان دھی کرتا ہے –سچچی زندگی مگر کامل آزادی کیلئے انتظار –

2پس اُس نے اُس کو بُلا کر کہا کہ یہ کیا ہے جو مَیں تیرے حق میں سُنتا ہُوں؟ اپنی مُختاری کا حِساب دے کیونکہ آگے کو تُو مُختار نہیں رہ سکتا۔ 3اُس مُختار نے اپنے جی میں کہا کہ کیا کرُوں؟ کیونکہ میرا مالِک مُجھ سے مُختاری چِھینے لیتا ہے۔ مِٹّی تو مُجھ سے کھودی نہیں جاتی اور بِھیک مانگنے سے شرم آتی ہے۔ 4مَیں سمجھ گیا کہ کیا کرُوں تاکہ جب مُختاری سے مَوقُوف ہو جاؤُں تو لوگ مُجھے اپنے گھروں میں جگہ دیں۔

یوحنا ٦ ١ :٢ -٤

11اور جب وہ تُم کو عِبادت خانوں میں اور حاکِموں اور اِختیار والوں کے پاس لے جائیں تو فِکر نہ کرنا کہ ہم کِس طرح یا کیا جواب دیں یا کیا کہیں۔ 12کیونکہ رُوحُ القُدس اُسی گھڑی تُمہیں سِکھا دے گا کہ کیا کہنا چاہئے۔

لوقا ٢ ١ :١ ١ -٢ ١

ہم برج دلو کے وقت میں جیتے ہیں اور  برج حرت کے وقت میں  بھی – برج دلو نے پانی (خدا کا روح) لے آیا تاکی مچھ لیون کو زندگی دے سکے –مگر ہم منطقہ البروج کی کہانی کے بیچ میں ہی ہیں اور برج قوس کی آ خری فتح مستقبل میں باقی ہے – ابھی ہم مصیبت ، مشکلات ، ستاؤ ، اور جسمانی موت  کا سامنا کرتے ہیں جس طرح سے حضرت عیسیٰ ال مسیح نے ہم کو خبردار کیا – جو بندھن مچھلیوں کو پکڑے ہوئے ہے وہ حقیقت ہے – مگر حالانکہ ہم بندھن میں جکڑے ہوئے ہیں بھر بھی ہمارے پاس زندگی ہے –روح ا ل – قدوس ہمارے اندرسکونت کرتا ہے ، تعلیم دیتا ہے اور ہماری رہنمائی کرتا ہے –یہاں تک کہ موت  کا سامنا کرتے وقت بھی –برج حرت کے  وقت کا خیر مقدم ہے

آپکے برج حرت کےزائچہ کی عبارت قدیم منطقہ البروج سے

آپ اور میں برج حرت کے زائچہ کی عبارت کو آ ج ذیل کے بیان کے ساتھ  استعمال کر سکتے ہیں :

برج حرت کا زائچہ اعلان کرتا ہے کہ آپ کو بہت سی مصیبتیں سہ کر ہی خدا کی بادشاہی میں دا خل ھونا  ہے – دراصل اس بادشائی کیطرف آپکے سفر کی کچھ عام خصوصیتیں ہیں مصیبتیں ، مشکلات ، پریشانی اور یھاں تک کہ موت – مگر یہ باتیں آپ کو پست ہمّت نہ کردے – اصلیت میں یہ آپکے فائدے کیلئے ہے جو آپکی سیرت میں تین باتیں لے آتے ہیں : ایمان ، امید اور محبّت –برج حرت  کے بندھن اسے آ پ  کے اندر پیدا کر سکتا ہے اگر آپ بے دل نہ ہوں – حلانکہ باہری طور سے ایسا لگتا ہے آپکا وقت ضا یع ہورہا ہے پھر بھی آپ اندرونی طور سے دن بہ دن نیۓ ہوتے جاتے ہیں یہ اس لئے کہ آپ اپنے اندرروح کے پہلا  پھل رکھتے ہیں –سو حا لانکہ باطنی طورسے ترقی کئے ہیں پھر بھی آپ اپنے جسم کے چھٹکارے کے لئے بڑ ی بے قراری سے انتظار کرتے ہیں – سو آپ  پہچانیں کہ یہ حقیقی پریشانیا ں  آپ کی بھلائی کے لئے کام کرتے ہیں اگر وہ آپکو بادشاہ اوراسکی بادشاہی کے ساتھ موزوں اور مناسب بنا دے –

اس سچائی کے ساتھ خود کو چلا ئیں : اسکے اپنے بڑ ے فضل میں بادشاہ نے آپ کو ا یک زندہ امید میں ہوکر  عیسیٰ ال مسیح کے قیامت کے وسیلے سے نیی پیدایش دی ہے ایک وراثت بطور جو نہ کبھی فنا ہوگا ، برباد یا پھیکا پڑیگا – یہ   وراثت  آپ کیلئے آسمان میں رکھا گیا ہے جو ایمان کے وسیلے سے خدا کی قوّت کے ذریعے  محفوظ کیا گیا ہے جبتک کہ نجات حاصل نہ  ہو جاۓ –یہ  نجات آخری دنوں میں ظاہر ہونے کے لئے تیار ہے  – ان سب کے ساتھ آپ بڑ ی مسرّت حاصل کریں ، حلانکہ ابھی آپ کو تھو ڑ ے  دنوں کے لئے سب طرح کی آزمائش میں ہوکر دکھ تکلیف سہنا پڑیگا جس طرح آگ میں تائے جاکر پکّے ہوتے ہیں –مگر اسکا انجام حمد و تعریف ، جلال اور عزت ہے جب بادشاہ ظاہر ہوتا ہے-     

قدیم منطقہ البروج کی کہانی کی طرف اوربرج حرت میں گہرائی سے

قدیم منطقہ البروج کی کہانی کی شروعات برج کنیا سے ہوتی ہے – قدیم منطقہ البروج کی کہانی کوجاری رکھنے کے لئے برج میگھ کو دیکھیں –آگے کی عبارت جو برج حرت کے مطابق ہوتی ہے وہ ہیں :

قدیم منطقہ البروج (راس منڈل) میں برج دلو

برج دلو قدیم منطقہ البروج کاچھٹا ستاروں کا مجموعہ (مجموعہ ال نجوم) ہے اور قدیم منطقہ البروج کا حصّہ ہے جو ہمارے لئے آنے والے کسی کی کامیابی کی اکائی کو ظاہر کرتا ہے –یہ ایک ملکوتی (آسمانی) مرتبان سے ندیوں کے پانی کو انڈیلتے ہوئے ایک آدمی کی ٹسوے کو شکل دیتا ہے – پانی لے جانے والے کے لئے لاطینی زبان میں برج دلو ہے – آج کی راشی میں اگر آپ کی پیدایش 21 جنوری سے 19 فروری کے درمیان ہے تو آپ ‘برج دلو’ راشی کے ہیں – سو اس قدیم منطقہ البروج کے موجودہ ستاروں کے علم ، زائچہ (جنم کنڈلی)  کے مطابق آپکی شخصیت میں محبّت ،خوش قسمتی ، صحت و تندرستی اور بصیرت حاصل کرنے کے ئے برج دلو میں زائچہ کی نصیحت اور صلاح کی تلاش کرتے ہیں –

برج دلو بتاتا ہے کہ ہماری پیاس جو دولتمندی ، خوش قسمتی اور پیار محبّت کے لئے ہے وہ نا کافی ہے  – مگر صرف برج دلو کا شخص ہی اس پانی کودیگا جو ہماری اس پیاس کو بجھایگا – قدیم منطقہ البروج کے برج دلو میں وہ اپنا پانی سب لوگوں کو دیتا ہے – سو یہاں تک کہ اگر آپ موجودہ زائچہ (کنڈلی) کے اعتبار سے برج دلوکے نہیں بھی ہیں تو بھی نجومی کہانی کے برج دلوکے ستارے اس بات کو جاننے کے قابل ہیں – اسلیے آپ اپنے لئے اس کے پانی میں سے پینے کا چناو کر سکتے ہیں  

ستاروں کا مجمع (مجموعہ النجوم) ستاروں میں برج دلو

برج دلو سے یھاں پر یہ ستارے ہیں – کیا آپ اس تصویر میں ایسی کوئی چیز دیکھ سکتے ہیں جس میں ایک شخص مرتبان سے پانی انڈیلتے ہوئے دکھائی دیتا ہو ؟  

برج دلو کے تاروں کے مجمع کی تصویر                                                                            

یھاں تک کہ اگر ہم برج دلومیں  سیاروں کو ان لکیروں سے جوڑتے ہیں تو بھی اسطرح کی کوئی تصویرنہیں دیکھ سکتے – تو پھر کس طرح کوئی شخص یہاں تک کہ سوچ سکتا ہے کہ مرتبان سے ایک مچھلی پر پانی انڈیلنے کی مانند دکھائی دیتا ہو –  

تاروں کے سا تھہ  برج دلو لکیروں سے جڑ ا  ہوا

مگر یہ علامت (نشان) پیچھے جتنا کہ ہم جانتے ہیں انسانی تاریخ کی طرف لے جاتی ہے – یہاں پر مصر کے دینڈ را مندر کا منطقہ البروج پانی لے جانے والے برج دلو کی تصو یر  کے ساتھ  پیش کیا گیا ہے جو2000سال  سے بھی زیادہ پرانا ہے  جسے لال رنگ کی گولائی میں دکھایا گیا ہے – اس کے کنارے میں اس خاکہ کو بھی دیکھ سکتے ہیں جو ایک مچھلی کے لئے پانی بہایا جاتا ہے –

دینڈ را مندر میں مصری منطقہ البروج برج دلو کے ساتھ

یھاں پر منتققہ البروج کا ایک قومی جغرافیہ کا اشتہار ہے جو برج دلو کو دکھا رہا ہے جس طرح سے جنوبی نصف کررہ میں دکھائی دیتا ہے –

قومی جغرافیہ کا منطقہ البروج کے تآ روں کا نقشہ برج دلو کے ساتھ گولائی میں

یہاں تک کہ اگر ہم  لکیروں کے ساتھ ستاروں کو جوڑتے ہوئے منطقہ البروج کے ستاروں کے مجمع سے برج دلو کی شکل بناتے ہیں تو بھی ایسا کچھ دیکھنا مشکل ہے کہ اسسیتارونکے مجمع سےایک  آ دمی مرتبان سے پانی انڈیل رہا ہو – مگریہاں نیچے برج دلو کے عام نجومی تصویریں پیش کی گیئ ہیں

برج دلو اور پانی کی ندیاں

برج دلو کی روایاتی منطقہ البروج کی تصویر ، ایک آدمی مچھلی کے لئے پانی انڈیلتے ہوئے (روایاتی آسٹرے لس جنوبی
 
برج دلو کو روایاتی جنوبی مچھلی پسکس  آسترلس کے لئے پانی انڈیلتے ہوئے

جس طرح دیگر منطقہ البروج ستاروں  کے مجمع کے ساتھ پانی لے جانے والے کی تصویر ہے اسی طرح یہ  خود ہی ستاروں کے مجمع کے ساتھ ضروری نہیں ہے – یہ ستاروں کے مجمع کے اندر تخلیقی (پیدائشی) نہیں ہے – بلکہ  پانی لے جانے والے کا  خیال ستاروں  کے علاوہ کسی اور چیز سے پہلے آیا – پہلے کے نجومیوں نے بعد میں اس خیال کو ستاروں پر بچھایا تاکہ ایک متواتر نشان بطور ہو –

مگر کیوں ؟

قدیم ہونے سے اس کے کیا معنے ہیں ؟ کیوں برج دلو قدیم زمانے سے جنوبی مچھلی کے  ستاروں  کے مجمع کے ساتھ  شریک کار ہے جس سے کہ برج دلو سے بہنے والا پانی مچھلی پر سے ہو کر بہے ؟   

ہوشیار ہو جایں ! اس کا جواب دیتے ہوئے ایک فرق سفر کے منصوبہ پر لنگر اٹھاتے ہوئے (مشغول ہوتے ہوئے) اپ کے ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) ناگہانی طور سے کھلیگا – پھر آپ اپنے زائچے کی نشانی کو جا نچتے ہوئے ارادہ کئے جاؤگے —-    

قدیم منطقہ ا لبروج کی کہانی

برج کنیا کے ساتھ ہم نے دیکھا کہ قران شریف اور بائبل (کتاب مقدّس) بیانکڑتے ہیں کہ الله تعا لی نے ستاروں کا مجمع (مجموعه النجوم) کو بنایا  – اسنے انکو بنی انسان کی رہنمائی کرتے ہوئے ایک کہانی کی نشانی دی جب تک کہ ایک لکھا ہوا مکاشفہ نہیں دیا گیا تھا –اس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور انکے بیٹوں نے اپنے بچوں کو الله تعا لی کے منصوبے کی بابت نصیحت دی تھی – برج کنیا کی بابت پیش بینی کی گیئ تھی یہ کنواری کا بیٹا آنے والا نبی حضرت عیسی ال مسیح ہے – کہانی کے ذرئیے ہم نے اپنے طریقے سے اس بڑے آویزش (مقابلے) کو سمجھاتے ہوئے اور اب ہم اپنے لئے اسکی فتح کے فوائد کا انکشاف کرتے ہوئے ہم دوسری اکائی پر ہیں –       

برج دلو کا اصلی معنے

برج دلو نے قدیم لوگوں کو دو بڑی  سچائیوں کی بابت کہا ہے جو کہ ہمارے لئے موجودہ زمانے میں حکمت کی بات ہے :

1..ہم پیاسے لوگ ہیں-(جنوبی مچھلی کے ذرئیے پانی میں سے پیتے ہوئے نشانی ٹھہرا ے گئے ہیں-)                      

  2- پانی جو اس آدمی کے ذرئیے سے ہے وہ وہی ایک پانی ہے جو آخر کار ہماری پیاس کو بجھاۓ گا –                 

 قدیم نبیوں نے بھی ان دو سچائیوں کی تعلیم دی ہے                                                                                      

ہم پیاسے ہیں                                                                                   

قدیم نبیوں نے ہماری پیاس کی بابت مختلف طریقوں سے لکھا حضرت داؤد نے زبور شریف میں اسکو اسطرح سے ظاہر کیا :

"جیسے ہرنی پنی کے نالوں کو ترستی ہے ، ویسے ہی ا ئے  خدا ! میری روح تیرے لئے ترستی ہے – میری روح خدا کی  – زندہ خدا کی پیاسی ہے میں کب جاکر خدا کے حضور حاضر ہونگا ؟”

زبور ٢ ٤ :١ -٢  

اے خد ا ! تو میرا خدا ہے ، میں دل سے تیرا طالب ہونگا – خشک اور پیاسی زمیں میں جہاں پانی نہیں ،میری جان تیری پیاسی اور میرا جسم تیرا مشتاق ہے –”

زبور ٣ ٦ :١

"کیونکہ میرے لوگوں نے دو برائیاں کیں – انہوںنے مجھ آ ب حیات کے چشمہ کو ترک کر دیا اور اپنے لئے حوض کھو دے ، شکستہ حوض جن میں پانی نہیں ٹھہر سکتا –”    

یر میا ہ ٢ :٣ ١  

جیسے ہرنی پنی کے نالوں کو ترستی ہے ، ویسے ہی ا ئے  خدا ! میری روح تیرے لئے ترستی ہے – میری روح خدا کی  – زندہ خدا کی پیاسی ہے میں کب جاکر خدا کے حضور حاضر ہونگا ؟

زبور ٢ ٤ :١ -٢  

اے خد ا ! تو میرا خدا ہے ، میں دل سے تیرا طالب ہونگا – خشک اور پیاسی زمیں میں جہاں پانی نہیں ،میری جان تیری پیاسی اور میرا جسم تیرا مشتاق ہے –”

زبور ٣ ٦ :١

مگرپریشانیاں تب ہوتی ہیں جب ہم خود ہی اس پیاس کوبجھانے  کے لئے ‘دیگر پانی کی تلاش کرتے ہیں – یرمیاہ نبی نے سکھایا (تعلیم دی) کہ یہ پیاس ہمارے گناہوں کی جڑ تھی \ہے –

  "کیونکہ میرے لوگوں نے دو برائیاں کیں – انہوںنے مجھ آ ب حیات کے چشمہ کو ترک کر دیا اور اپنے لئے حوض کھو دے ، شکستہ حوض جن میں پانی نہیں ٹھہر سکتا –”    

یر میا ہ ٢ :٣ ١

پانی کا خزانہ (حوض) جو ہمکو راغب کرتے ہیں وہ بہت ہیں : پیسہ ، جنسی خواہشات ، عیّاشی ، کام ،خاندان ، شادی ، رتبہ وغیرہ وغیرہ – مگر یہ ہمیں آسودہ نہیں کر سکتے اور ہم آخرکار پیاسے کے پیاسے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان سب سے زیادہ کی چاہت رکھتے ہیں –یہی وہ باتیں ہیں جنکو بڑے بادشاہ سلیمان نے اپنی زندگی میں تجربے کئے تھے جو اپنی حکمت کے لئے جانا جاتا تھا – اسنے اپنے تجربوں کی بابت لکھا – مگر ہم اپنی پیاس بجھانے کے لئے کیا کچھ کر سکتے ہیں ؟   

ہمیشہ تک رہنے والا پانی ہماری پیاس بجھانے کے کے لئے –

"اسکے چرسوں سے پانی بہیگا اور سیراب کھیتوں میں اسکا بیج پڑیگا –”

گنتی٤ ٢ :٧   (توریت)

"دیکھ ایک بادشاہ صداقت سے سلطنت کریگا اور شاہزادے عدالت سے حکمرانی کرینگے اور ایک شخص آندھی سے پناہ گاہ کی مانند ہوگا اور طوفان سے چھِپنے کی جگہ اور خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند اور ماند گی کی زمین میں چٹان کےسایہ کی مانند ہوگا –”

 یسعیاہ ٢ ٣ :١ -٢  

"محتاج اور مسکین پانی ڈھونڈ تے پھرتے ہیں، پرا نہیں نہیں ملتا –انکی زبان پیا سے خشک ہے –میں خداوند انکی سنونگا –میں اسرا ئیل کا خدا انکو ترک نہ کرونگا –”

یسعیا ہ ١ ٤ :٧ ١

قدیم نبیوں نے بھی ایک وقت کی بابت دوربینی کی جب ہماری پیاس بجھائی جاےگی – جتنا کہ پیچھے چلے جایں نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توریت میں آنے والے دن کو اس طرح سے دیکھا جب :

٤ ٢ : ٧ گنتی (توریت)  

نبی یسعیا ہ نے ان پیغامات کا پیچھا کیا

"دیکھ ایک بادشاہ صداقت سے سلطنت کریگا اور شاہزادے عدالت سے حکمرانی کرینگے اور ایک شخص آندھی سے پناہ گاہ کی مانند ہوگا اور طوفان سے چھِپنے کی جگہ اور خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند اور ماند گی کی زمین میں چٹان کےسایہ کی مانند ہوگا –”

 یسعیاہ ٢ ٣ :١ -٢  

  "محتاج اور مسکین پانی ڈھونڈ تے پھرتے ہیں، پرا نہیں نہیں ملتا –انکی زبان پیا سے خشک ہے –میں خداوند انکی سنونگا –میں اسرا ئیل کا خدا انکو ترک نہ کرونگا –”

یسعیا ہ ١ ٤ :٧ ١

پیاس کو بجھانا . 

مگر کس طرح سے یہ پیاس بجھیگی ؟ نبی نے اپنا بیان جاری رکھا –

 کیونکہ میں پیاسی زمین پر پانی انڈ یلونگا اور خشک زمین میں ندیاں جاری کرونگا – میں اپنی روح تیری نسل پر اور اپنی برکت تیری اولاد پر نازل کرونگا –  

٤ ٤ :٣ یسعیا ہ 

انجیل شریف میں نبی حضرت عیسی علیہ السلام نے ا علان کیا وہ اس پانی کا سر چشمہ ہے –

 عید کے آخری دن جو سب سے ا ہم ہے عیسیٰ کھڑا ہوا اورونچی آواز سے پکار اٹھا "جوپیاسہ ہو وہ میرے پاس آئے اورجو مجھر ا یمان لائے وہ پئے –کالم مقدّس کے مطابق ‘ اسکے ا ند ر سے زندگی کے پانی کی لہریں بہ نکلینگی (زندگی کے پانی سے وہ روح ا ل قدوس کی طرف اشارہ کر رہا تھا جو ان کو حائل ہوتا جو عیسیٰ پر ایمان لاتے ہیں –لیکن وہ اس وقت تک نازل نہیں ہوا تھا –کیونکہ عیسیٰ اب تک اپنے جلال کو نہیں پہنچا تھا –     

٧ :٧ ٣ -٩ ٣ یوحنا

انجیل شریف اس پانی کو روح ال قدوس کا مشابہ ٹھہرا تا ہے جوپنتیکست کے دن لوگوں کے اندر رہنے کے لئے آیا تھا –یہ ایک حصّے کی معموری تھی جسکو خدا کی بادشاہی میں آخری فیصلہ کرکے پورا کیا جاےگا جس طرح کہ وہ بیان کریگا –

پھر فرشتے نے مجھے زندگی کے پانی کا دریا دکھایا –وہ بلور جیسا صاف شفاف تھا –اور الله اور برۂ کے تخت سے نکل کر — 

٢ ٢ :١ مکاشفہ

پینے کے لئے آنا

مچھلی سے زیادہ کس کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے ؟ تو پھر برج دلو کو روایاتی جنوبی مچھلی آ سٹرےلس کے لئے اپنا پانی انڈیلنے ہوئے تصوّر کیا گیا ہے –یہ ایک سادہ سچائی کی مثال پیش کرتا ہے کہ فتح اور برکتیں جس آدمی کے ذریعے  جیتی جاتی ہیں وہ کنواری کا بیج ہے –اسے یقینی طور سے انکے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں جن کے لئے ارادہ  کیا جاتا ہے –اسے حاصل کرنے کے لئے ہمیں ضرورت ہے –

اے سب پیاسو پانی کے پاس آ ؤ، اور وہ بھی جس کے پاس پیسے نہ ہو –آؤ مول لو اور کھاؤ ، ہاں آؤ مئے اور دودھ بے زر اور بے قیمت خریدو – تم کسلے اپنا روپیہ اس چیز کے لئے جو روٹی نہیں اور اپنی محنت اس چیز کے واسطے جو آسودہ نہیں کرتی  خرچ  کرتے ہو؟ تم غور سے میری سنو اور وہ چیز جواچھی ہو کھاؤ اور تمہاری جان فرہبی سے لذت اٹھا ئے –کان لگاؤ اور میرے پاس آؤ –سنو اور تمہاری جان زندہ رہیگی اور میں تمکو ابدی عہد یعنی داؤد کی سچچی نعمتیں بخشونگا –    

٥ ٥ :١ -٣ یسعیا ہ

روایاتی مچھلیاں اس تصویرمیں اور زیادہ تفصیل پیش کرتے ہوئے بڑھائی گئی ہیں اس کے پانی کا انعام سب کے لئے مفت من دستیاب ہے جس میں میں اورآ پ بھی شامل ہیں –  

قدیم تحریروں میں برج دلو کا زا ئچہ  

ہوروسکوپ (زا ئچہ) کا یہ لفظ یونانی کے ‘حورو‘ (وقت)سے نکلا ہے اور اس طرح سے اس کے معنی ہیں خاص اوقات کی طرف نشان دہی کرنا –پیغمبرانہ تحریریں برج دلو ‘حورو’ کی نشان دہی کرتا ہے –برج دلو کے لئے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے اس طرح سے نشان دہی کی ہے –

عیسیٰ نے جواب دیا ، جو بھی ی پانی میں سے پئے اسے دوبارہ پیاس لگے گی –لیکن جسے میں پانی پلادوں اسے بعد میں کبھی بھی پیاس نہیں لگے گی – بلکی جوپانی میں اسے دونگا وہ اس میں ایک چشمہ بن جاےگا جس سے پانی پھوٹ کر ا بدی زندگی مہیا کریگا –

عیسیٰ نے جواب دیا ،”اے قاتوں یقین جان کہ وہ وقت آئیے گا جب تم نہ تو اس پہاڑ پر باپ کی عبادت کروگے ، نہ یروشلیم میں –تم سامری اسکی پرستش کرتے ہو جسے نہیں جانتے ،اسکے مقا بلے میں ہم اسکی پرستش  کرتے ہیں جسے جانتے ہیں کیونکہ نجات یہودیوں میں سے ہے – لیکن وہ وقت  آ رہا ہے بلکہ پہنچ چکا ہے جب حقیقی پرستار روح اور سچائی سے باپ کی پرستش کرینگے کیونکہ باپ ایسے ہی پرستار چاہتا ہے –      

٤: ٣ ١ -٤ ١،١ ٢ -٣ ٢  یوحنا  

اب ہم برج دلو کے وقت (زمانہ) میں پاۓ جاتے ہیں – برج جدی (مکر راشی) کے ساتھ یہ کوئی خاص چھوٹا وقت (زمانہ) نہیں ہے بلکہ یہ لمبا اور چوڑا ، کھلا ہوا ‘وقت’ ہے جو گفتگو کے وقت سے لیکر اج تک بڑھنے کا لئے جاری رہتا ہے –اس برج دلو کے زمانے میں نبی حضرت عیسی ال مسیح ہم کو ایسا پانی دیتے ہیں جو ہمارے اندر ہمیشہ کی زندگی تک جاری رہتا ہے –                                        

نبی کے ذریعے یھاں دو مرتبہ جس یونانی لفظ کا استمعال کیا گیا ہے وہ ہے ‘حورو’ (وقت) جو ‘ہوروس کوپ’ (سائچہ) کے بنیادی لفظ سے ہے – ہوروس کوپ کے لفظی معنی ہیں ستاروں کی حالت کا مشاہ

آپکا برج دلو کے زا ئچہ کوقدیم منطقہ البروج سے پڑھتے ہوئے 

آپ اور میں برج د لو زا ئچہ کو آج کی تاریخ میں ذیل میں لکھی باتوں کو پڑھتے ہوئے استعمال کر سکتے ہیں –                                                                                                             

برج دلو کہتا ہے ‘اپنے آپکو جانو’ خود کو معلوم کرو کہ آپ کی شخصیت کی گہرائی میں کیا ہے جس سے تم پیاسے ہوتے ہو ؟ آپ کی یہ پیاس اپنے آپ میں اس امتیازی کی بابت بتاتا ہے جسے آپ اپنے آس پاس (اطراف) دیکھتے ہیں – شاید آپ اس غیر واضح پیاس سے جو حسب معمول سے زیادہ ہے با خبر ہیں ، چاہے وہ دولت ہو ، زیادہ جینے کی خواہش ہو ، جنسی خواہش ہو ، شادی ہو ، عشق با زی (دل کا معاملہ) ہو یا عمدہ کھانے پینے کی خواہش ہو – ان خواہشوں کی پیاس ان باتوں کے ساتھ متضاد بناتے ہیں جو پہلے سے ہی آپکے قریب ہے – یہ آپکے کسی بھی گھرے رشتے میں شکست (محرومی) کا سبب بنتا ہے چاہے وہ آپکے ساتھ کام کرنے والے ، خاندان کے کسی بھی فرد  یا اپنی معشوقہ کی طرف سے ہو – ہوشیار رہیں کہ آپ کی پیاس ان باتوں کو کھونے کا سبب نہ بن جاۓ جو آپ میں پائی جاتی ہیں –                                                                                                                     

   اب یہ اچھا وقت ہے کہ خود سے پوچھیں یا سوال کریں کہ ‘زندگی کے پانی سے کیا مطلب ہے ؟ اس کے کیا صفات ہیں ؟ الفاظ جیسے ‘ا بدی زندگی’ ، ‘چشمہ’ ، ‘روح’ اور ‘سچائی’ ایسے الفاظ جو برج دلو کو سمجھانے (بیان کرنے) کے لئے استعمال ہوئے ہیں وہ دماغی خصوصیت کو لے آتے ہیں جیسے ‘ترک کیا جانا’ ، ‘آسودگی’ ، ‘ترو تازہ کرنا’ (بحال کرنا) وغیرہ –یہ باتیں آپکے رشتے کو تبد یل کر دیگا یا پلٹ کر رکھ دیگا تا کہ آپ  ‘دینے والے ‘ دینے والے بن جایں نہ کہ محض ‘لینے والے’ –              

مگر یہ سب چیزیں آپکی پیاس کو جاننے کے ساتھ شروع  ہوتے ہیں اور جن باتوں کی طرف لے جاتے ہیں انکی بابت وفادار رہنے کے زریعے –تو پھر آپ اس گفتگو (بات چیت) کا پیچھا کریں جس میں سامری عورت کی ایک مثال پیش کی گیئ ہے ، اوردیکھیں  کہ اگر آپ سیکھ سکیں کہ اس نے کس طرح یسوع کی طرف سے پیش کردہ اس عمدہ زندگی کی  نعمت کو لیا –ایک ایسی زندگی جو جینے لایق ہے جب آپ اپنے دل کو جانچتے ہیں –                                                                         

برج دلو کی گہرائی میں اور قدیم منطقہ البروج کی کہانی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک

برج دلو کی نشانی اصلیت میں یہ معنی نہیں رکھتا کہ صحت و تںدرستی ، محبّت اور بحالی کے فیصلوں کی طرف رہنمائی کرے صرف انکے لئے جن کی پیدایش جنوری 21 سے فروری 19 میں ہوئی ہو – اسکو ان ستاروں میں رکھے گئے تھے کہ ہر کوئی اس پیاس کو جو ا س زندگی میں حسب معمول پیاس سے اور زیادہ ہے اسے یاد رکھیں –اس نشا نی کو بہت بہت پہلے ستاروں کے بیچ رکھ دیا گیا تھا کہ ‘کنواری کا بیٹا ‘  آ یگا اور وہی اس پیاس کو بجھایگا جوہمارے اندر ہے – قدیم منطقہ البروج کی کہانی کو شرو کرنے کے لئے اس کے آغازی برج کنیا کو دیکھیں–روایات قدیم منطقہ البروج کی کہانی سے جاری رہتی ہے – برج دلو کے لکھے  ہوئے پیغام کو سمجھنے کے لئے آپکو اس زندگی کے پانی کو بہتر طریقے سے سمجھنا ہوگا – دیکھیں :

قدیم منطقہ البروج میں برج جدی

آج کےسائچہ میں اگر آپ کی پیدائش 22 دسمبر اور 20 جنوری کے درمیان ہوئی ہوتو آپ برج جدی کے ہیں-  اس موجودہ سائچہ میں نجومی منطقہ البروج کی تشریح میں برج جدی کے لئے آپ سائچہ کی صلاح کا پیچھا کرتے ہیں کہ آپ اپنی  شخصیت  کے  لئے محبّت ، خوش قسمت ،دولت اور بصیرت کی تلاش کرتے ہیں –

برج جدی ایک ایسی تصویر بناتا ہے جیسے ایک بکری کے سامنے ایک مچھلی کی دم جڑی ہو-توپھر یہ بکری اور مچھلی کہاں سے آے  ؟

مگر پہلے سے برج جدی کیا معنی رکھتا ہے ؟

ہوشیار ہو جایں ! اس کا جواب دیتے ہوئے آپکو ایک فرق سفر کے منصوبے لے جاتے ہوئے آپ کے ستاروں کی حالت کا مشاہدہ (زائچہ) غیر واضح طور سے کھلیگا –پھر آپ اپنے زائچہ کی نشانی کو جانچتے ہوئے ارادہ کیۓ جاؤگے —

قد یم منطقہ ا لبروج  میں برج جدی 12 میں سے پا نچواں نجومی ستاروں کا مجمع ہے جو ایک بڑی کہانی کو بنایا تھا –ہم نے دیکھا کہ پہلے کے چار ستاروں کے مجمعے  ایک نجومی اکائی تھی جسکا واسطہ ایک بڑے چھٹکارہ دینے والے شخصیت سے تھی اور اسکے دشمن کے ساتھ فنا پزیر لڑائی سے تعلّق رکھتی تھی –

برج جدی اس دوسری اکائی کوشروع  کرتا ہے جو اس چھٹکارا دینے والے پر خاص دھیان دتا ہے جس بطور وہھم پر اثر ڈالتا ہے –اس اکائی میں ہم کیئ  ایک انجام کود یکھتے ہیں یعنی  جو اسکے دشمن پر چھٹکارا دینے والے کا فتح ہمارے لیے برکتوں  کا باعث  ہے – یہ اکائی ایک بکری کے ساتھ شروع  ہوتا ہے اور ایک مینڈھے (برج میگھ) ختم ہوتا ہے اور بیچ کے د و  نشانیا ں جو مچھلیوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ (برج د لو اور برج حرت) ہیں – برج جدی جو ہمیشہ ایک بکری کے سامنےایک مچھلی کے دم  سے جڑے رہتے ہوئے  کیسے صحیح بیٹھتا  ہے –

قدیم منطقہ البروج میں برج جدی سب لوگوں کے لئے تھا جب سے کہ پیش بینی کئے ہوئے فوائد ہر ایک کے لئے د ستیاب تھا –اگر آپ موجودہ سائچہ کے ادراک میں برج جدی کے نہیں بھی ہیں تو بھی برج جدی کی قدیم نجومی کہانی معلوم کرنے کے لائق ہے –                       

نجومی ستاروں کی حالت کے مشاہدے میں برج جدی

برج جدی ایک ستاروں کا مجمع (مجموعہ ت النجوم) ہے جو ایک بکری کی تصویر بناتا ہے اور وہ ایک مچھلی کے د م سے  جڑا ہوا ہے –یہاں یہ ستارے ہیں جولکیرں کو جوڑتے ہوئے برج جدی کی شکل بناتے ہے –کیا آپ اس تصویر میں ایک بکری –مچھلی کی شکل بناتے ہوئے کچھ دیکھ سکتے ہیں –میں نہیں دیکھ سکتا –تو پھر ان ستاروں سے کیسے کوئی شخص بکری اور مچھلی سے جڑے ہوئے جانور کی تصویرکا تصوّر کر سکتا ہے ؟

  برج جدی کے تاروں کا کا مجمع                                                                       

بکریاں اور مچھلیاں یھاں تک کہ  قدرتی طور سے بھی الگ تھلگ پاۓ جاکر انکا کوئی تعلّق نہیں ہے – مگر جہاں  تک ہم  جانتے ہیں یہ نشانی انسانی تاریخ میں پیچھے کو جاتی  ہے – یھاں مصر کے ڈ ینڈ را مند ر میں منطقہ البروج ہے جو کہ  2000 سال سے بھی زیادہ پرانا ہے – ان دونوں تصویروں میں برج جدی کو لال رنگ سے دائرہ کھینچا گیا ہے – 

ڈینڈ را مندر کا منطقہ البروج برج جدی کے ساتھ لال رنگ کا دائرہ کھنچا ہوا

جس طرح دیگر منطقہ البروج ستاروں  کے مجمع کے ساتھ برج جدی کی بکری اور مچھلی کی تصویر ہے اسی طرح یہ  خود ہی ستاروں کے مجمع کے ساتھ ضروری نہیں ہے – یہ ستاروں کے مجمع کے اندر تخلیقی (پیدائشی) نہیں ہے – بلکہ بکری اور مچھلی سے جڑی ہوئی تصویر کا  خیال ستاروں  کے علاوہ کسی اور چیز سے پہلے آیا – پہلے کے نجومیوں نے بعد میں اس خیال کو ستاروں پر بچھایا تاکہ ایک متواتر نشان بطور ہو –

برج مکرجدی بکری – مچھلی

برج جدی کی تصویر بتاتی ہے کہ بکری اپنے سر کو جھکائ ہوئی ہے ،اسکا داہنا پیر جسم کے نیچے مڑا ہوا اور ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اسکو با ییں طرف سے اٹھنا مشکل ہے –ایسا لگتا ہے جیسے کبکری مررہی ہے  مگر مچھلی کی د م لچکدار ہے اسلئے وہ مڑی ہوئی ہے اور وہ پوری طاقتور اور جاندار دکھائی دیتی ہے –

 برج جدی کی بکری مر رہی ہے مگر مچھلی کا د م زندہ   ہے       

انسانی تاریخ کے شرو ع سے بکری (اور بھیڑ) الله کے حضور قربانی دینے کے لئے قبول کیا گیا تھا –تورات ہم سے کہتی ہے کہ حضرت آد م اور حوا  کے بیٹے حضرت ہابیل اپنے بھیڑ بکریوں کے گالے سے قربانیاں گزرانتے تھے مگر الله نے قابیل کی قربا نی  کو قبول نہیں کیا –نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مینڈھے کی قربانی دی تھی (بکرا یا نر بھیڑ)-اور الله نے اسکے ساتھ کفارہ دیا تھا – الله نے حضرت ہارون کو جو حضرت موسیٰ کے بھائی تھے حکم دیا تھا کہ ہر سال دو بکریوں  کو  لے –ایک  کو تو   قربان کیا جاتا تھا اور دوسرے کو جنگل (بیابان) میں آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا – وہ ا یک  ایسا بکری یا  بکرا کہلاتا تھا جو دوسروں کا الزام اپنے سر لئے گھو م رہا ہو – یہ سب نشانیاں تھیں ہمیں سکھانے کے لئے کہ ہمارے گناہوں سے چھڑانے کے لئے دوسری زندگی کے  کفّارے  کی ضرورت ہوتی ہے ،یہ برج برج میزان کی طرف سے ہے جوساتواں برج ہے –نبی حضرت عیسی ال مسیح علیہ السلام صلیب پر اپنی قربانی میں ہمارے گناہوں کے لئے رضاکارانہ قربانی پیش کی –

برج جدی کی بکری  موت میں خود کو جھکایا یہ قربانی کی نشانی تھی قدیم لوگوں کے لئے – یہ چھٹکارہ دلانے والے کے  واعدے کو یاد دلانا تھا جو اس قربانی کو انجام دینے والا  تھا – عیسی ال مسیح علیہ السلام اس نشانی کی تکمیل تھ      

برج جدی کی مچھلی

مگر برج جدی کی مچھلی کے دم کےکیا معنی ہیں ؟ اسکی مثال پیش کرنیکے لئے ہم دوسرے قدیم تہذیب کو دیکھتے ہیں –چین کی – چین کے نئے سال کا جشن برج جدی کے دنوں جنوری /فروری میں منایا جاتا ہے –اوریہ رواج ہزاروں سال پیچھے کی طرف جاتا ہے – یہ  تہوار بڑے دھوم دھام کے ساتھ اپنے گھر کے دروازوں کوسجاتے ہوئے کرتے ہیں – یہاں اس کی کچھ تصویریں پیش کی گیئ  ہیں 

چین  کے نئے سال کا کارڈ        

 

چین کے نیۓ سال کی سجا وٹ
چین کے نئے سال کی مچھلیاں            

اپ غور کرینگے کہ یہ ساری سجاوٹیں مچھلیوں  کو دکھاتی ہیں – نئے  سال کے خیر مقدم میں مچھلیوں کا استمعال بہت ہوا ہے قدیم زمانے سے مچھلیاں زندگی ،بہتات اور کثرت کی نشانی تھی –

اسی طرح سے قد یم منطقہ البروج میں مچہلیاں  کثیر تعداد میں پاے جانے  والے لوگوں کو ظاہر کرتا تھا ،جن کے لئے قربانپش کی گیئ تھی –

حضرت عیسی ال مسیح علیہ السلام نے انہی مچھلیوں کا استعمال تصوّر میں اپنی بادشاہی کی تمثیل پیش کرنے میں کی کہ اسکی قربانی انگنت لوگوں تک پہنچےگی –اس نے اس طرح سے تعلیم دی :

 پِھر آسمان کی بادشاہی اُس بڑے جال کی مانِند ہے جو دریا میں ڈالا گیا اور اُس نے ہر قِسم کی مچھلِیاں سمیٹ لِیں۔ 48اور جب بھر گیا تو اُسے کنارے پر کھینچ لائے اور بَیٹھ کر اچّھی اچّھی تو برتنوں میں جمع کر لِیں اور جو خراب تِھیں پَھینک دِیں۔ 

٣ ١ :٧ ٤ -٨ ٤ متی  

جب نبی حضرت عیسی ال مسیح نے اپنے شاگردوں کے مستقبل کےکاموں کو سمجھایا تو اس نے کہا

اور اُس نے گلِیل کی جِھیل کے کنارے پِھرتے ہُوئے دو بھائِیوں یعنی شِمعُوؔن کو جو پطرسؔ کہلاتا ہے اور اُس کے بھائی اندرؔیاس کو جِھیل میں جال ڈالتے دیکھا کیونکہ وہ ماہی گِیر تھے۔ 19اور اُن سے کہا میرے پِیچھے چلے آؤ تو مَیں تُم کو آدم گِیر بناؤُں گا۔

٤ :٨ ١ -٩ ١ متی

دونوں مرتبہ مچھلیوں کی تصویر کو لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ میں  پیش کیا گیا جو نجات پانے پر آسمان کی بادشاہی کو حاصل کرینگے – آ ج آپ بھی کیوں نہیں ؟ 

برج جدی کا زائچہ عبارت میں

زائچہ کا لفظ یونانی لفظ کے ‘حورو’ (وقت)سے آیا ہے –اس طرح اس کے معنی خاص اوقات کی طرف اشارہ کرتے ہیں –پیغمبرانہ عبارت قوی طور سے برج جدی کے ‘وقت’ کیطرف نشان دہی کرتا ہے – کیونکہ برج جدی دوہرا (بکری اور مچھلی) کا نشان ہے – برج جدی کے وقت کی عبارت  بھی دوہرا ہے ، قربانی کا وقت اور لوگوں کی بھیڑ کا وقت – نبی نے ان دونوں اوقات میں سے پہلے وقت کی بابت اس طرح کہا :

جب وقت ہو گیا تو وہ کھانا کھانے بَیٹھا اور رسُول اُس کے ساتھ بَیٹھے۔ 15اُس نے اُن سے کہا مُجھے بڑی آرزُو تھی کہ دُکھ سہنے سے پہلے یہ فَسح تُمہارے ساتھ کھاؤُں۔ 16کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اُسے کبھی نہ کھاؤُں گا جب تک وہ خُدا کی بادشاہی میں پُورا نہ ہو۔

٢ ٢ : ٤ ١ -٦ ١ لوقا

اور اِسی طرح کھانے کے بعد پِیالہ یہ کہہ کر دِیا کہ یہ پِیالہ میرے اُس خُون میں نیا عہد ہے جو تُمہارے واسطے بہایا جاتا ہے۔

٢ ٢ :٠ ٢ لوقا

یہ برج جدی کی بکری کا ‘وقت’ ہے –اس وقت کی نشان دہی0 0 15  سال پہلے خروج کے فسح میں ہو چکی تھی ، جب قربانی کے خون کو بنی اسرائیل کے گھروں کے دروازوں پر رنگ دیا گیا تھا تاکہ موت اس گھرسے گزر جاۓ – اسی وقت کی بابت حضرت عیسیٰ ال مسیح علیہ السلام نے فسح کے کامل معنے کو ظاہر کیا یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسی طرح  سے اس کا خون ان کے لئے انڈیلا جاےگا —اور بے شک ہمارے بھی – وہ مریگا تاکہ ہم زندگی حاصل کر سکیں بلکل اسی طرح جس طرح فسح کے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں —- اسی طرح برج جدی کی بکری بھی ہے – وہ وقت ایک دوسرے وقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے — زندگی کے ساتھ ایک بڑی  بھیڑ کے لئے –

پِھر مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک سفید بادِل ہے اور اُس بادِل پر آدمؔ زاد کی مانِند کوئی بَیٹھا ہے جِس کے سر پر سونے کا تاج اور ہاتھ میں تیز دَرانتی ہے۔ 15پِھر ایک اَور فرِشتہ نے مَقدِس سے نِکل کر اُس بادِل پر بَیٹھے ہُوئے سے بڑی آواز کے ساتھ پُکار کر کہا کہ اپنی درانتی چلا کر کاٹ کیونکہ کاٹنے کا وقت آ گیا۔ اِس لِئے کہ زمِین کی فصل بُہت پَک گئی۔ 16پس جو بادل پر بَیٹھا تھا اُس نے اپنی دَرانتی زمِین پر ڈال دی اور زمِین کی فصل کَٹ گئی۔

٤ ١ :٤  ١ -٦ ١  مکاشفہ    

پیغمبرانہ عبا رت کہتا ہے کہ وہ  وقت آئیگا جب جولوگ برج جدی کی قربانی سے جڑے ہوئے ہیں وہ زمانے کے آخر میں باد شا ہی  کے فصل کی کاٹنی میں شامل ہونگے –یہ حضرت عیسی ال مسیح علیہ السلام کے تمثیل کا وقت ہے جب مچھلیوں کو جال میں لایا جا رہا ہے –بکری اور مچھلی کے یہ  دووقت کا توازن ہے اوریہ ایک دوسرے کوپورا کرتے ہیں –یہ  د و اوقات قدیم نجومی زائچہ میں برج جدی کی نشاندہی کرتا ہے –   

آپکے برج جدی کے زائچہ کی عبارت

آپ اور میں آج کی تاریخ میں برج جدی کے زائچہ کی عبارت کا ذیل کی رہنمائی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں –

برج جدی کہتا ہے کہ آنکھوں کی ملاقات سے زیادہ زندگی کے لئے بہت کچھ ہے – اگر آپ یا میں کاینات کو چلا رہے ہوتے تواس کی تمام امتیازی خصوصییتیں براہے راست اور ضروری ہوتیں – مگر یھ  حقیقت آپ کو مآ ن لینے کی ضرورت ہے کہ نہ تو آپ اور نہ میں اس کے زممے دارہیں –بلکل اسی طرح قدرتی قانون ہوتےہیں جوپیڑ پودوں کی نشونما پر حاکم ہوتے یا انکی نگرا نی  کرتے ہیں ، ایسے ہی روحا نی قانون بھی ہیں جو آپ پر حکمرانی  کرتے ہیں – بہتر ہوگا  اس حقیقت کو مان لینا کہ لگاتار کشمکش جاری رکھیں یا اسکے آس پا س جانے کی کوشش کریں –نہیں تو آپ پاینگے کہ ان قانونوں کے خلاف میں جانا اتنا ہی درد ناک ہے جتنا کہ جسمانی قانون کے خلاف میں جانا – یقینی طور سے آپ نہیں چاہتے کہ ان بنیا دی روحانی اوقات کے مخالف ہو جایں –

شا ید ایک اچھا مقام اس کے اندر جانے کی شروعات کے لئے جبکہ یہ روحانی قوا نین صرف شکریہ ادا کرنے اور احسان جتانے کے لئے ہے بنسبت اس کے کہ پہلے ان سب باتوں کوسمجھنے  کی  کوشش کرے – بہرحال  کوئی ہے جو آپ کو اس طریقے سے دیکھے  کہ کچھ اپنا خون آ پ کی خاطر بہا دے –کیوں نہیں یہ کہنے کی کوشش کریں کہ ‘شکریہ’- شکر گزار ہونا ایک خصوصیت ہے جو کیی ایک سوالوں کو کسی بھی رشتے میں آسان کر دیتا ہے اور آپ براہے راست دل سے کبھی بھی اور کسی بھی دن شکرگزار ہوسکتے ہیں – تب شاید تمام الجھن والی باتیں ایک ساتھ ابھرنے لگے جو آپ کی زندگی کو معنی دار بنادے – دلیر رہیں ، ایک نئی راہ اختیار کریں اور برج جدی کا ‘شکریہ’ ادا کریں –      

منطقہ البروج میں آگے اور برج جدی میں گہرائی سے

برج جدی کی بکری میں ہمارے پاس موت کی قربانی کی تصویر ہے –برج جدی کی مچھلی میں ہمارے پاس لوگوں کی ایک بھیڑ ہے جن کے لئے قربانی زندگی دیتی ہے – جبکہ وہ پا نی میں رہتے ہیں برج جدی کی مچھلی بھی ہمکو قدیم منطقہ البروج کی کہانی میں اگلے باب کے لئے تیار کرتی ہے – برجدلو – کا شخص زندگی کے پانی کا چشمہ لے آتا ہے – منطقہ ال بروج کی کہانی کے آغاز کو شروع کرنے کے لئے برج کنیا کو دیکھیں –  

لکھی ہوئی کہانی کی گہرائی مے جاکر برج جدی کے مطابق ہونے کیلئے ذیل کی باتوں کو دیکھیں :