حضرت عیسیٰ المسیح: قوموں کے لے نور

حضرت عیسیٰ المسیح ایک شاہانہ جلوس کے ساتھ گدھے پر بیٹھ کر یروشلیم میں داخل ہوئے بلکل جیسے حضرت زکریا نے 500 سال پہلے نبوت کی تھی، بلکل اُس دن یروشلیم میں داخل ہوئے جیسا حضرت دانیال نے 550 سال پہلے نبوت کی تھی۔ یہودی مختلف ممالک سے یروشلیم عیدِفسح منانے کے لیے آرہے تھے۔ اس لیے یروشلیم حج کی وجہ سے لوگوں کی آمد پر بھرا ہوا تھا۔ (جس طرح لوگ مکہ میں حج جاتے ہیں۔ ) تاہم حضرت عیسیٰ المسیح کی اس آمد کی وجہ سے یہودیوں کے درمیان ایک ہلچل پیدا ہوگی تھی۔ لیکن یہ صرف یہودی ہی نہیں تھے۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کی آمد کو نوٹس میں لیا تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی یروشلیم میں آمد کے بعد کیا ہوا۔ انجیل مقدس میں یوں درج ہے۔

‘جو لوگ عِید میں پرستِش کرنے آئے تھے اُن میں بعض یُونانی تھے۔ پس اُنہوں نے فِلِپُّس کے پاس جو بَیت صَیدایِ گلِیل کا تھا آ کر اُس سے درخواست کی کہ جناب ہم یِسُو ع کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ فِلِپُّس نے آ کر اندر یاس سے کہا ۔ پِھر اندر یاس اور فِلِپُّس نے آ کر یِسُو ع کو خبر دی۔ ‘ یُوحنّا 12:20-22

حضرت عیسیٰ المسیح کے دور میں یہودیوں اور یونانیوں کے درمیان رکاوٹ

یہ ایک نہایت غیر معمولی بات تھی کہ یہودیوں کے تہوار پر یونانی (غیر ملکی/غیر یہودی) شرکت کریں۔ یہودی اور رومی چونکہ بت پرست تھے۔ اس لیے یہودی اُن کو ناپاک اوراُن سے تعلق رکھنے سے پرہیز رکھتے تھے۔  اور یونانی یہودی مذہب کے بارے میں سوچتے تھے کہ وہ ایک ہی اللہ (جونظر بھی نہیں آتا) کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ یہودیوں کے تہوار کو بے وقوفی سمجھتے تھے۔ اُس وقت صرف یہودی ہی واحد ایسی قوم تھی۔ جو واحد خدا کی عبادت کرتی تھی۔ اس لیے یہ لوگوں ایک دوسرے سے الگ رہنا پسند کرتے تھے۔ غیر یہودی معاشرہ یہودی معاشرے سے تعداد میں بڑا تھا۔ یہودی دوسری دنیا سے الگ تھلگ رہتے تھے۔ یہودی حلال غذا کھاتے، اپنے انبیاء اکرام کی کتاب (تورات شریف) کو پڑھتے، ان سب باتوں کی وجہ سے یہودی دوسری قوموں سے الگ تھلگ رہتے۔

ہمارے اس دور میں، بت پرستی کو پوری دنیا میں مسترد کردیا گیا ہے۔ اس لیے ہم اس بات کو آسانی سے بھول سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے دور میں یہ کتنا مختلف تھا۔ اصل میں حضرت ابراہیم کے دور میں اُن کے علاوہ سب بت پرست مذہب کے پیروکار تھے۔ حضرت موسیٰ کے دور میں تمام قومیں بتوں کی پوجا کرتیں تھیں۔ فرعوں اپنے آپ کو خدا ہونے کا دعوہ کرتا تھا۔ اس طرح اسرائیل چھوٹا سا جزیرہ تھا خداِ واحد کی عبادت کرتا تھا جو ایک بہت بڑے بت پرست سمندر میں گھیرا ہوا تھا۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے (750 ق م) )مستقبیل میں سب قوموں میں ہونے والی تبدیلی کو دیکھا۔ اُنہوں نے اس کو یوں لکھا۔

‘اَے جزِیرو میری سُنو! اَے اُمّتو جو دُور ہو کان لگاؤ! خُداوند نے مُجھے رَحِم ہی سے بُلایا ۔ بطنِ مادر ہی سے اُس نے میرے نام کا ذِکر کِیا۔

چُونکہ مَیں خُداوند کی نظر میں جلِیلُ القدر ہُوں اور وہ میری توانائی ہے اِس لِئے وہ جِس نے مُجھے رَحِم ہی سے بنایا تاکہ اُس کا خادِم ہو کر یعقُو ب کو اُس کے پاس واپس لاؤُں اور اِسرائیل کو اُس کے پاس جمع کرُوں یُوں فرماتا ہے۔ ہاں خُداوند فرماتا ہے کہ یہ تو ہلکی سی بات ہے کہ تُو یعقُو ب کے قبائِل کو برپا کرنے اور محفُوظ اِسرائیلِیوں کو واپس لانے کے لِئے میرا خادِم ہو بلکہ مَیں تُجھ کوقَوموں کے لِئے نُور بناؤُں گا کہ تُجھ سے میری نجات زمِین کے کناروں تک پُہنچے۔ ‘ یسعیاہ 49 : 1, 5-6

‘خَوف نہ کر کیونکہ تُو پِھر پشیمان نہ ہو گی ۔ تُونہ گھبرا کیونکہ تُو پِھر رُسوا نہ ہو گی اور اپنی جوانی کا ننگ بُھول جائے گی اور اپنی بیوگی کی عار کو پِھر یادنہ کرے گی۔ ‘ یسعیاہ 54 :4

‘اُٹھ مُنوّر ہو کیونکہ تیرا نُور آ گیا اور خُداوندکا جلال تُجھ پر ظاہِر ہُؤا۔ کیونکہ دیکھ تارِیکی زمِین پر چھا جائے گی اور تِیرگی اُمّتوں پر لیکن خُداوند تُجھ پر طالِع ہو گا اور اُس کاجلال تُجھ پر نُمایاں ہو گا۔ اور قَومیں تیری رَوشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطِین تیرے طلُوع کی تجلّی میں چلیں گے۔ ‘ یسعیاہ  60 :1-3

لہذا حضرت یسعیاہ نبی نے بتایا کہ ایک اللہ تعالیٰ کا ‘خادم’ آئے گا۔ اُس کا تعلق یہودہ (حضرت یقعوب کا ایک قبیلہ) کے قبیلہ سے ہوگا۔ وہ غیر یہودیوں کےلیے نور ہوگا۔ (تمام غیراسرائیلیوں کے لیے) اور یہ نور دنیا کے ہر کونے میں چمکے گی۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوگا، جب کہ یہودیوں اور دوسری قوموں کے درمیان سینکڑوں سال کی دور پائی جاتی تھی اور ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے۔

جس دن حضرت عیسیٰ المسیح یروشلیم میں داخل ہوئے تو ہم دیکھ سکتے ہیں اُسی دن غیر قوموں پر نور چمکنا شروع ہوگیا تھا۔ یہاں یہودی تہوار پر یونانی ایک لمبا سفر کرکے آئے تاکہ وہ حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے میں جان سکیں۔ لیکن کیا یہودیوں کی طرف سے اس کو حرام سمجھا گیا کہ وہ ایک نبی کو دیکھنے آئے ہیں؟ اُنہوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کے حواریوں سے درخواست کی جس کو آپ کے حضور پیش کیا گیا۔ آپ نے اُن سے کیا کہا تھا؟ کیا اُن کو آپ سے ملنے کی اجازت دے دی گئی ج لوگو درست مذہب کے بارے میں بہت کم جانتے تھے؟ انجیل مقدس میں اس بارے میں یوں بیان آیا ہے۔

23یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا وہ وقت آ گیا کہ اِبنِ آدم جلال پائے۔ 24مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک گیہُوں کا دانہ زمِین میں گِر کر مَر نہیں جاتا اکیلا رہتا ہے لیکن جب مَر جاتا ہے تو بُہت سا پَھل لاتا ہے۔ 25جو اپنی جان کو عزِیز رکھتا ہے وہ اُسے کھو دیتا ہے اور جو دُنیا میں اپنی جان سے عداوت رکھتا ہے وہ اُسے ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے محفُوظ رکھّے گا۔ 26اگر کوئی شخص میری خِدمت کرے تو میرے پِیچھے ہو لے اور جہاں مَیں ہُوں وہاں میرا خادِم بھی ہو گا ۔ اگر کوئی میری خِدمت کرے تو باپ اُس کی عِزّت کرے گا۔ یِسُوع اپنی مَوت کا ذکر کرتاہے
27اب میری جان گھبراتی ہے ۔ پس مَیں کیا کہُوں؟ اَے باپ! مُجھے اِس گھڑی سے بچا لیکن مَیں اِسی سبب سے تو اِس گھڑی کو پُہنچا ہُوں۔ 28اَے باپ! اپنے نام کو جلال دے ۔
پس آسمان سے آواز آئی کہ مَیں نے اُس کو جلال دِیا ہے اور پِھر بھی دُوں گا۔
29جو لوگ کھڑے سُن رہے تھے اُنہوں نے کہا کہ بادِل گرجا ۔ اَوروں نے کہا کہ فرِشتہ اُس سے ہم کلام ہُؤا۔
30یِسُو ع نے جواب میں کہا کہ یہ آواز میرے لِئے نہیں بلکہ تُمہارے لِئے آئی ہے۔31اب دُنیا کی عدالت کی جاتی ہے ۔ اب دُنیا کا سردار نِکال دِیا جائے گا۔ 32اور مَیں اگر زمِین سے اُونچے پر چڑھایا جاؤں گا تو سب کو اپنے پاس کھینچُوں گا۔ 33اُس نے اِس بات سے اِشارہ کِیا کہ مَیں کِس مَوت سے مَرنے کو ہُوں۔
34لوگوں نے اُس کو جواب دِیا کہ ہم نے شرِیعت کی یہ بات سُنی ہے کہ مسِیح ابد تک رہے گا ۔ پِھر تُو کیوں کر کہتا ہے کہ اِبنِ آدم کا اُونچے پر چڑھایا جانا ضرُور ہے؟ یہ اِبنِ آدم کَون ہے؟۔
35پس یِسُو ع نے اُن سے کہا کہ اور تھوڑی دیر تک نُور تُمہارے درمِیان ہے ۔ جب تک نُور تُمہارے ساتھ ہے چلے چلو ۔ اَیسا نہ ہو کہ تارِیکی تُمہیں آ پکڑے اور جو تارِیکی میں چلتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کِدھر جاتا ہے۔ 36جب تک نُور تُمہارے ساتھ ہے نُور پر اِیمان لاؤ تاکہ نُور کے فرزند بنو ۔
لوگوں کی بے اِعتقادی یِسُو ع یہ باتیں کہہ کر چلا گیا اور اُن سے اپنے آپ کو چُھپایا۔37اور اگرچہ اُس نے اُن کے سامنے اِتنے مُعجِزے دِکھائے تَو بھی وہ اُس پر اِیمان نہ لائے۔38تاکہ یسعیا ہ نبی کا کلام پُورا ہو جو اُس نے کہا کہ اَے خُداوند ہمارے پَیغام کا کِس نے یقِین کِیا ہے ؟
اور خُداوند کا ہاتھ کِس پر ظاہِر ہُؤا ہے؟۔
39اِس سبب سے وہ اِیمان نہ لا سکے کہ یسعیا ہ نے پِھر کہا۔
40اُس نے اُن کی آنکھوں کو اندھا
اور اُن کے دِل کو سخت کر دِیا ۔
اَیسا نہ ہو کہ وہ آنکھوں سے دیکھیں
اور دِل سے سمجھیں
اور رجُوع کریں اور مَیں اُنہیں شِفا بخشُوں۔
41یسعیا ہ نے یہ باتیں اِس لِئے کہِیں کہ اُس نے اُس کا جلال دیکھا اور اُس نے اُسی کے بارے میں کلام کِیا۔
42تَو بھی سرداروں میں سے بھی بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے مگر فرِیسِیوں کے سبب سے اِقرار نہ کرتے تھے تا اَیسا نہ ہو کہ عِبادت خانہ سے خارِج کِئے جائیں۔ 43کیونکہ وہ خُدا سے عِزّت حاصِل کرنے کی نِسبت اِنسان سے عِزّت حاصِل کرنا زِیادہ چاہتے تھے۔
یِسُوع کی باتیں مُجرِم ٹھہراتی ہیں
44یِسُو ع نے پُکار کر کہا کہ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ مُجھ پر نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے پر اِیمان لاتا ہے۔ 45اور جو مُجھے دیکھتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو دیکھتا ہے۔ 46مَیں نُور ہو کر دُنیا میں آیا ہُوں تاکہ جو کوئی مُجھ پر اِیمان لائے اندھیرے میں نہ رہے۔ 47اگر کوئی میری باتیں سُن کر اُن پر عمل نہ کرے تو مَیں اُس کو مُجرِم نہیں ٹھہراتا کیونکہ مَیں دُنیا کو مُجرِم ٹھہرانے نہیں بلکہ دُنیا کو نجات دینے آیا ہُوں۔ 48جو مُجھے نہیں مانتا اور میری باتوں کو قبُول نہیں کرتا اُس کا ایک مُجرِم ٹھہرانے والا ہے یعنی جو کلام مَیں نے کِیا ہے آخِری دِن وُہی اُسے مُجرِم ٹھہرائے گا۔ 49کیونکہ مَیں نے کُچھ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ باپ جِس نے مُجھے بھیجا اُسی نے مُجھ کو حُکم دِیا ہے کہ کیا کہُوں اور کیا بولُوں۔ 50اور مَیں جانتا ہُوں کہ اُس کا حُکم ہمیشہ کی زِندگی ہے ۔ پس جو کُچھ مَیں کہتا ہُوں جِس طرح باپ نے مُجھ سے فرمایا ہے اُسی طرح کہتا ہُوں۔

یوحنا 12: 23-50

اس بیان میں حضرت عیسیٰ المسیح نے فرمایا کہ میں اُونچے پر چڑھایا جاوں گا تاکہ سب لوگوں کو اپنی طرف کھیچ لوں۔ اس میں نہ صرف یہودی شامل ہیں بلکہ ساری قومیں۔ یہودی صرف ایک خدا کی عبادت کرتے تھے۔ لیکن وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ آپ کیا فرماتے ہیں۔ حضرت یسعیاہ نے فرمایا کہ یہ اُنہوں کے سخت دلی کی وجہ سے وہ سمجھ نہ سکے۔ اور اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو جاننا پسند نہ کیا۔ لیکن کئی لوگوں نے خاموشی سے اس بات کو قبول کر لیا تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے بڑی دلیری سے اس بات کا دعوی کیا۔ کہ’وہ اس دنیا میں نور ہیں’ (آیت 46) جس کے بارے میں سابقہ انبیاءاکرام نے نبوت فرما دی تھی۔ کہ یہ نور تمام قوموں میں چمکے گا۔ اُس دن جب آپ یروشلیم میں داخل ہوئے تو یہ نور غیر قوموں پر چمکا۔ کیا یہ نور تمام قوموں تک پھیل چکا ہے؟ حضرت عیسیٰ المسیح کی اُونچے پر چڑھائے جانے سے کیا مراد تھی؟ ہم اس آخری ہفتے کو سمجھنے کے لیے اس کو جاری رکھیں گے۔

درج ذیل چارٹ اس ہفتے کے ہر دن کو بیان کرتا ہے۔ اتوار والے دن جو کہ ہفتے کا پہلا دن تھا۔ اُن میں سابقہ انبیاء اکرام کی تین مختلف نبوتیں پوری ہوئیں۔ پہلی یہ کہ آپ یروشلیم میں ایک جلوس کے ساتھ گدھے پر بیٹھ کر داخل ہوئے۔ جو کہ حضرت زکریا نبوت کی تھی۔ دوسری، حضرت دانیال نے نبوت کی تھی۔ تیسری نبوت حضرت یسعیاہ نے جس میں یہ بیان کیا گیا تھا۔ کہ غیرقوموں پر روشنی چمکے گی۔ جو تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔

آخری ہفتے کے واقعات-اتوار 1 دن

حضرت عیسیٰ المسیح ایک چونکا دینے والے دشمن کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح نے لعزر کو مردوں میں سے زندہ کرکےاپنے مشن کو لوگوں کے درمیان اُجاگر کیا اور اب وہ یروشلیم (اقدوس) کی راہ پر تھے۔ آپ کواسی راستے سے وہاں پہنچنا تھا۔ اِس کے بارے سینکڑوں سال پہلے نبوت کردی گئی تھی۔ انجیل مقدس میں یوں بیان آیا ہے۔

‘دُوسرے دِن بُہت سے لوگوں نے جو عِید میں آئے تھے یہ سُن کر کہ یِسُوع یروشلِیم میں آتا ہے۔ کھجُور کی ڈالِیاں لِیں اور اُس کے اِستِقبال کو نِکل کر پُکارنے لگے کہ

!ہوشعنا

مُبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام پر آتا ہے اور اِسرا ئیل کا بادشاہ ہے۔

جب یِسُو ع کو گدھے کا بچّہ مِلا تو اُس پر سوار ہُؤا جَیسا کہ لِکھا ہے کہ۔

اَے صِیُّو ن کی بیٹی مت ڈر ۔ دیکھ تیرا بادشاہ گدھے کے بچّہ پر سوار ہُؤا آتا ہے۔

اُس کے شاگِرد پہلے تو یہ باتیں نہ سمجھے لیکن جب یِسُو ع اپنے جلال کو پُہنچا تو اُن کو یاد آیا کہ یہ باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئی تِھیں اور لوگوں نے اُس کے ساتھ یہ سلُوک کِیا تھا۔

پس اُن لوگوں نے گواہی دی جو اُس وقت اُس کے ساتھ تھے جب اُس نے لعزر کو قبر سے باہر بُلایا اور مُردوں میں سے جِلایا تھا۔ اِسی سبب سے لوگ اُس کے اِستِقبال کو نِکلے کہ اُنہوں نے سُنا تھا کہ اُس نے یہ مُعجِزہ دِکھایا ہے۔ پس فرِیسِیوں نے آپس میں کہا سوچو تو! تُم سے کُچھ نہیں بَن پڑتا ۔ دیکھو جہان اُسکا پیرَو ہو چلا۔ ‘ یُوحنّا 12:12-19

حضرت عیسیٰ المسیح کی یروشلیم میں آمد ــ بمطابق حضرت داود

اس بات کو ہم حضرت داود کے ساتھ شروع کرتے ہیں۔ قدیم ایام میں یہودی بادشاہ ہر سال اپنے گھوڑوں کو پہاڑ پر لے جاتے اور لوگوں کے ساتھ ایک جلوس کی شکل میں یروشلیم میں داخل ہوتے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اس روایت کو دوبارہ مرتب کیا اور آپ کجھوروں کے اتوار والے دن یروشلیم میں ایک گدھے پر بیٹھ کر داخل ہوئے۔ لوگوں نے زبور شریف میں سے وہی زبور گایا جو پہلے لوگ بادشاہ حضرت داود کے گاتے تھے۔

‘آہ! اَے خُداوند! بچا لے۔

آہ! اَے خُداوند! خُوش حالی بخش۔

مُبارک ہے وہ جو خُداوند کے نام سے آتا ہے۔

ہم نے تُم کو خُداوند کے گھر سے دُعا دی ہے۔ یہوواہ ہی خُدا ہے اور اُسی نے ہم کو نُور بخشا ہے۔ قُربانی کو مذبح کے سِینگوں سے رسِّیوں سے باندھو۔ ‘ زبُور 118: 25-27

لوگوں نے یہ قدیم زبورجو بادشاہوں کے لیے لکھا گیا تھا اس لیے گایا کیونکہ وہ جانتے تھے۔ کہ حضرت عیسیٰ المیسح  نے لعزر کو زندہ کیا ہے اور وہ آپ کی یرشلیم آمد پر بہت خوش تھے۔ اس زبور کے الفاظ کچھ اس طرح تھے۔ ‘ہوشعنا’ جس کا مطلب ہے ‘بچا لے/نجات دے’ – یہ بلکل وہی الفاظ تھے جو زبور 118:25 میں لکھے تھے۔ وہ کیا تھا جس سے لوگ آپ کو ‘بچانے’ کے لیے کہا رہےتھے؟ اس کے بارے میں ہمیں حضرت زکریا کیا بتاتے ہیں۔

حضرت زکریا نے یروشلیم میں آمد کی نبوت کی تھی۔

اگرچہ حضرت عیسیٰ المسیح اُسی روایت کو دوہراتے ہیں۔ جس کو قدیم بادشاہ سینکڑوں سال پہلے کرتے رہے۔ لیکن آپ نے اس کو بلکل مختلف طور سے عملی جامہ پہنایا۔ حضرت زکریا وہ نبی ہیں جنہوں نے آنے والے مسیح کے نام کی نبوت کی تھی۔ اور آپ نے ہی نے یہ نبوت بھی کی تھی کہ مسیح جلوس کی صورت میں گدھے پر سوار ہوکر یروشلیم میں داخل ہونگے۔ تاریخ کے ٹائم لائن میں حضرت زکریا کے دور کو دیکھایا گیا ہے۔ اُن انبیاءاکرام کے ساتھ جنہوں نے کجھوروں کے اتوار کے بارے میں نبوت کی تھی۔

نبوت کا ایک حصہ حضرت یوحنا رسول کی انجیل شریف میں(نیلے متن میں)لکھا ہوا ہے۔ حضرت زکریا کی مکمل نبوت یہاں ہے۔

‘اَے بِنتِ صِیُّون تُو نِہایت شادمان ہو ۔ اَے دُخترِ یروشلیِم خُوب للکار کیونکہ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے ۔ وہ صادِق ہے اور نجات اُس کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ حلِیم ہے اور گدھے پر بلکہ جوان گدھے پر سوار ہے۔ اور مَیں افرائِیم سے رتھ اور یروشلیِم سے گھوڑے کاٹ ڈالُوں گا اور جنگی کمان توڑ ڈالی جائے گی اور وہ قَوموں کو صُلح کا مُژدہ دے گا اور اُس کی سلطنت سمُندر سے سمُندر تک اور دریایِ فرات سے اِنتہایِ زمِین تک ہو گی۔ اور تیری بابت یُوں ہے کہ تیرے عہد کے خُون کے سبب سے مَیں تیرے اسِیروں کو اندھے کنُوئیں سے نِکال لایا۔ ‘ زکریاہ 9:9-11

حضرت زکریا نے اس بادشاہ کے بارے میں نبوت کی۔ کہ بادشاہ دوسرے بادشاہوں سے مختلف ہوگا۔ یہ بادشاہ رتھوں، جنگجووں اورتیر کمان کا استعمال کرکے بادشاہ نہیں بنے گا۔ دراصل یہ بادشاہ ان سب ہتھیاروں کو توڑے گا اور ‘قوموں کے درمیان امن کی تبلیغ کرے گا۔ پھر بھی اس بادشاہ کو اپنے ایک دوشمن کو شکست دینے ہوگی۔ اس بادشاہ کو ایک بڑے جہاد کے طور پر جدوجہد کرنا پڑے گی۔

نبوت کے مطابق یہ بہت واضع ہے کہ جب ہم دشمن کو پہچان جائیں گے تو اس بادشاہ کو اُس کا سامنا کرنا تھا۔ عام طور پر ایک مخالف بادشاہ، یا ایک فوج، یا باغی لوگ، یا وہ لوگ جو بادشاہ کے خلاف ہوں۔ بادشاہ کے دشمن ہوسکتے ہیں۔ لیکن حضرت زکریا اس بادشاہ کے بارے میں لکھتا ہے۔ کہ وہ ایک گدھے پر سوار ہوکر آئے گا۔ اور سلامتی کی تبلیغ کرے گا۔ اور وہ گڑھے میں قید قیدیوں کو آزاد کروائے گا۔ یہاں پر گڑھے سے مراد عبرانی میں قبر یا موت سے ہے۔ یہ بادشاہ اُن لوگوں کو رہائی دلانے نہیں جارہا۔ جو ڈیکڑوں، بدعنوان سیاستدانوں یا انسانوں کی بنائی ہوئی جیل میں قید تھے۔ بلکہ وہ جو موت کے قید میں تھے اُن کو آزاد کروانے آیا تھا۔

جب ہم لوگوں کو موت سے بچانے کی بات کرتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی کو بچانا تاکہ وہ حقیقی موت (حقیقی موت سے مراد ہمیشہ کی موت) سے بچ جائے۔ ہم شاید مثال کے طور پر کسی کو ڈوبنے سے بچالیں، یا کسی کو دوائی دے کر اُس کی زندگی بچالیں۔ اس قسم کے بچانے سے مراد ہے کہ موت کو ٹال دینا۔ لیکن اصل میں وہ شخص ایک دن ضرور مرے گا۔ لیکن یہاں پر حضرت زکریا اس بات کی نبوت نہیں کررہے تھے۔ وہ بادشاہ لوگوں کو ‘اس مجازی موت سے’ بچائے گا۔ بلکہ یہ بادشاہ اُن لوگوں کو  حقیقی موت’ سے بچائے گا جو اُس کی قید میں ہیں۔’ وہ جو پہلے سے مرچکے ہیں۔ حضرت زکریا نبوت کرتے ہیں کہ بادشاہ گدھے پر سوار کر آرہا ہے۔ اور وہ موت کو شکست دے گا۔ قیدیوں کو رہائی بخشے گا۔ اس کے لیے بہت بڑی جدوجہد کی ضرورت تھی۔ ایک ایسے جہاد کی ضرورت تھی جو پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ بعض اوقات علماء اکرام ہمیں ‘باطن کے جہاد’ اور ‘ظاہری جہاد’ کی تعلیم دیتے ہیں۔ گڑھے (موت) کا سامنا کرنے کے لیے اس بادشاہ کو دونوں باطنی اور ظاہری جہاد کا سامنا کرنا پڑنا تھا۔

اس جہاد کی جدوجہد میں بادشاہ کون سے ہتھیادوں کو استعمال کرنے جارہا تھا؟ حضرت زکریا نے بتایا تھا۔ کہ یہ بادشاہ گڑھے (موت) کی اس جنگ میں صرف” عہد کا خون لے کر جائے” اُس کا اپنا خون ہی ہتھیار ہوگا جس کے لیے اُسے موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے گدھے پر سوار ہو کر یروشلیم میں داخل ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ آپ ہی وہ بادشاہ ہیں۔ ــ السمیح

حضرت عیسیٰ السمیح غم کی وجہ سے روتے ہیں

کجھوروں کے اتوار والے دن جب حضرت عیسیٰ السمٰح یروشلیم (فتح کا جلوس) میں داخل ہوئے تو مذہبی راہنماوں نے آپ کو روکنا چاہا۔ لوقا کی معرفت انجیل شریف میں حضرت عیسیٰ المسیح کا بیان درج ہے کہ آپ نے اُن کو کیا جواب دیا۔

‘جب نزدِیک آ کر شہر کو دیکھا تو اُس پر رویا اور کہا کاش کہ تُو اپنے اِسی دِن میں سلامتی کی باتیں جانتا! مگر اب وہ تیری آنکھوں سے چُھپ گئی ہیں کیونکہ وہ دِن تُجھ پر آئیں گے کہ تیرے دُشمن تیرے گِرد مورچہ باندھ کر تُجھے گھیر لیں گے اور ہر طرف سے تنگ کریں گے اور تُجھ کو اور تیرے بچّوں کو جو تُجھ میں ہیں زمِین پر دے پٹکیں گے اور تُجھ میں کِسی پتّھر پر پتّھر باقی نہ چھوڑیں گے اِس لِئے کہ تُو نے اُس وقت کو نہ پہچانا جب تُجھ پر نِگاہ کی گئی ‘ لُوقا 19 :41-44

حضرت عیسیٰ المسیح نے یہاں پر خاص طور پر راہنماوں سے کہا”کاش کہ وہ اُس وقت جان جاتے” جو آج اُن کی زندگی میں آیا ہے۔ آپ کا یہاں کیا مطلب تھا؟ وہ کس بات کو نہیں سمجھ پائے تھے؟

انبیاءاکرام نے "دن” کے بارے میں نبوت کی تھی

صدیوں پہلے حضرت دانیال نے نبوت کی تھی۔ کہ یروشلیم کے دوبارہ تعمیر ہونے کے 483 سال بعد مسیح آئے گے۔ ہم حضرت دانیال کے مطابق حساب لگا چکے ہیں کہ 33 سن عیسوی متوقع سال تھا۔ یہ وہی سال تھا جب حضرت عیسیٰ المسیح گدھے پر سوار ہوکر یروشلیم میں داخل ہوئے۔ جس سال حضرت عیسیٰ المسیح نے یروشلیم میں داخل ہونا تھا اُس کی نبوت سینکڑوں سال پہلے ہوچکی تھی۔ لیکن آج ہم اس وقت کا دوبارہ حساب لگا سکتے ہیں۔ (برائے مہربانی یہاں پہلے جائزہ لیں

حضرت دانیال نے 483 سالوں کی نبوت کی اوراُس وقت ایک سال 360 دنوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ دور حضرت عیسیٰ المسیح کے آمد سے پہلے کا تھا۔ اس کے مطابق ان دنوں کی تعداد یہ ہے۔

483 سال * 360 دن / سال = 173880 دن

جدید بین اقوامی کیلنڈر کے مطابق 365.2422 دن/سال اس کے مطابق 476 سال اور 25 اضافی دن ہوئے۔ (173 880/365.24219879 = 476 یاد رکھیں 25)

جب یروشلیم کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تو وہاں سے اُلٹی گنتی گننا شروع کریں۔ اس سال کے بارے درج ذیل میں حوالہ دیا گیا ہے۔

ارتخششتا بادشاہ کے بِیسویں برس نَیسا ن کے مہِینے میں ۔ ۔ ۔ نحمیاہ 2: 1

نسان کا کونسا دن تھا (‘نسان’ یہودی کیلنڈر کا ایک مہنہ) اس کے بارے میں بتایا گیا لیکن امکان یہ ہی ہے کہ وہ نسان کے مہنے کی 1 پہلی تاریخ تھی کیونکہ نسان یہودی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اور یہودیوں کا نیاسال یہاں ہی سے شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ قمری مہینوں والا سال ہے۔ (جس طرح اسلامی کیلنڈر ہے) اسلامی روایت کے مطابق نیا چاند کو چند چُنے ہوئے افراد کے ساتھ مشاہدہ کیا جاتا ہے اور نئے چاند (ہلال) کو پہچان کر نیا سال قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن جدید آسڑانومی کے وسیلے ہم جانتے ہیں کہ کب نیا چاند کا نشان ظاہر ہوتا ہے۔ نسان کی 1،444 ق م میں پہلا نشان بنا۔ اس میں مشکل کی بات یہ ہے۔ کہ مشاہدہ کرنے والی ٹیم نے ہلال کا نشان اُس دن دیکھا یا اگلے دن اُنہوں نے دیکھا۔ اگر اُنہوں نے اگلے دن دیکھا تو اس کا مطلب ہے کہ نسان کا مہنہ شروع ہونے میں ایک دن کا وقفہ پڑگیا۔ فلکیات کے حساب کے ارتختشتا بادشاہ کے 20 سال میں 1 یکم نسان کو ہلال کا چاند رات کو 10 بجے مارچ 4، 444 ق م کو جدید کیلنڈر کے مطابق نظرآیا۔ اگر اُس رات نیا چاند نظر نہیں آیا، تو نسان کی پہلی تاریخ پھر اگلے دن ہوگی یعنی مارچ 5، 444 ق م۔ کسی بھی طرح سے یروشلیم کی بحالی کی تاریخ کی شروعات مارچ 4، یا 5، 444 ق م ہے۔

جب ہم حضرت دانیال کے دیئے ہوئے 476 سال کو شامل کرتے ہیں۔ تو یہ ہمیں مارچ 4 یا 5، 33سن عیسوی تک لیے آتا ہے۔ (یہاں پر کوئی 0 سال نہیں ہے۔ جدید کیلنڈر 1 BC سے 1سن عیسوی اس ایک سال ریاضی کے مطابق -444 + 476 +1= 33)۔ حضرت دانیال کی نبوت کے مطابق 25 دن مزید جمع کرنے سے مارچ 4 یا 5، 33سن عیسوی سے ہم مارچ 29 یا 30 33 سن عیسوی جس کے بارے میں ہم نے ٹائم لائن میں بیان کردیا ہے۔ مارچ 29، 33سن عیسوی اتوار کا دن تھا۔ اس لئے اس کو کھجوروں کا اتوار کہتے ہیں۔ یہ وہی دن تھا جس دن حضرت عیسیٰ المسیح گدھے پر بیٹھ کر بطور مسیح کے یروشلیم میں داخل ہوئے تھے۔ ہم اس لیے جانتے ہیں کیونکہ آںے والے جمعہ فسح تھی۔ اور فسح ہمیشہ نسان کی 14 تاریخ کو ہوتی ہے۔ نسان 14 33سن عیسوی اپریل 3 والے دن تھی۔ 3 اپریل جمعہ والے دن کے 5 دن پہلےمارچ 29 کو کجھوروں کا اتوار تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے 29 مارچ 33 AD کو گدھے پر بیٹھ کر یروشلیم میں داخل ہو کر حضرت زکریا اور حضرت دانیال کی نبوت دونوں کو پورا کردیا۔ اس کو درج ذیل ٹائم لائن میں بیان کردیا گیا ہے۔

حضرت دانیال نے ‘مسیح’ کے بارے میں 173880 دن پہلے نبوت کردی تھی۔

(حضرت نحمیاہ کا وقت شروع ہوگیا۔ جب حضرت عیسیٰ المسیح اتوار والے دن مارچ 29، 33 AD کو یروشلیم میں داخل ہوئے۔)

ایک دن میں بہت ساری نبوتوں کے پورے ہونے سے صاف اور واضع اللہ تعالیٰ کے مشن کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن بعد میں اُسی دن حضرت عیسیٰ المسیح نے حضرت موسیٰ کی بتائی ہوئی ایک اور نبوت کو پورا کیا۔ ایسا کرنے سے اُنہوں نے جہاد کی کاروائی  گڑھے میں لے کر جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ المسیح کی دشمن موت ہے۔ ہم اس کے بارے میں اگلے مضمون میں جانے گے۔

‘لیکن تُو پاتال میں گڑھے کی تہہ میں اُتارا جائے گا۔ ‘ یسعیاہ 14 :15

‘اِس لِئے کہ پاتال تیری سِتایش نہیں کر سکتا اور مَوت سے تیری حمد نہیں ہو سکتی۔ وہ جو گور میں اُترنے والے ہیں تیری سچّائی کے اُمّیدوار نہیں ہو سکتے۔ ‘ یسعیاہ 38 :18

‘بلکہ اُس کی جان گڑھے کے قرِیب پُہنچتی ہے اور اُس کی زِندگی ہلاک کرنے والوں کے نزدِیک۔ ‘ ایُّوب 33 :22

‘وہ تُجھے پاتال میں اُتاریں گے اور تُو اُن کی مَوت مَرے گا جوسمُندر کے وسط میں قتل ہوتے ہیں۔ ‘ حِزقی ایل 28 :8

‘جِن کی قبریں پاتال کی تہ میں ہیں اور اُس کی تمام جمعِیّت اُس کی قبر کے گِردا گِرد ہے ۔ سب کے سب تلوار سے قتل ہُوئے جو زِندوں کی زمِین میں ہَیبت کا باعِث تھے۔ ‘ حِزقی ایل 32 :23

‘اَے خُداوند! تُو میری جان کو پاتال سے نِکال لایاہے ۔ تُو نے مُجھے زِندہ رکھّا ہے کہ گور میں نہ جاؤُں۔ ‘ زبُو 30 :3

کرسمس مبارک ہو

"میری کرسمس” یہ ایک مبارکبادی جو لوگ ایک دوسرے کو کرسمس پر  کہتے ہیں۔  میں آپ کو کرسمس کے موقعہ یہ مبارکبادی دیتا ہے۔ آپ کو میری طرف سے کرسمس مبارک ہو!

بہت سارے لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ کرسمس ایک چھٹی کا دن ہے۔ کیونکہ اُس روز حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش ہوئی تھی۔ لیکن کیون اس روز لوگ کرسمس ہی مناتے ہیں؟ اس کے علاوہ بہت سارے انبیاء اکرام پیدا ہوئے اور ہم اُن کو جانتے بھی ہیں لیکن کیوں حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش ہی دمدام کے ساتھ منائی جاتی ہے؟ اور یہ عید کیوں منائی جاتی ہے؟ ان سوالات کے جوابات کو معلوم کرنے کے بعد آپ کا کرسمس کی چھٹی کے بارے میں خیال بدل جائے گا اور آپ اس روز کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نیک نامی کے طور پر جاننا شروع کردیں گے۔ اس سے آپ سال کے ہر ایک دن کو ایک مختلف اور پُر جوش انداز سے گزارنا شروع کردیں گے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی کنواری سے پیدائش اور حضرت جبرائیل کی بشارت

بہت سارے لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ تاریخ میں تمام پیدائش پانے والوں کے درمیان لاثانی پیدائش سے کیا مراد ہے۔ اس میں انبیاءاکرام کی پیدائش بھی شامل ہے۔ یہ پیدائش اس قدر اہم تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو حضرت مریم ؑ کو بشارت دینے کے لئے بھیجا۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ؑ کو اہم پیغامات کی رسائی ہی کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ انجیل مقدس میں اس کے بارے اس طرح درج ہے۔

‘چھٹے مہِینے میں جبرا ئیل فرِشتہ خُدا کی طرف سے گلِیل کے ایک شہر میں جِس کا نام ناصرۃ تھا ایک کُنواری کے پاس بھیجا گیا جِس کی منگنی داؤُد کے گھرانے کے ایک مَرد یُوسف نام سے ہُوئی تھی اور اُس کُنواری کا نام مر یم تھا اور فرِشتہ نے اُس کے پاس اندر آ کر کہا سلام تُجھ کو جِس پر فضل ہُؤا ہے! خُداوند تیرے ساتھ ہے وہ اِس کلام سے بُہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کَیسا سلام ہے فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے مر یم! خَوف نہ کر کیونکہ خُدا کی طرف سے تُجھ پر فضل ہُؤا ہے اور دیکھ تُو حامِلہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا  اُس کانام یِسُو ع رکھنا وہ بزُرگ ہو گا اور خُدا تعالےٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؤُد کا تخت اُسے دے گا اور وہ یعقُو ب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخِر نہ ہو گا مریم نے فرِشتہ سے کہا یہ کیوں کر ہو گا جبکہ میں مَرد کو نہیں جانتی؟ اور فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ رُوحُ القُدس تُجھ پر نازِل ہو گا اور خُدا تعالےٰ کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مَولُودِ مُقدّس خُدا کا بیٹاکہلائے گا اور دیکھ تیری رِشتہ دار اِلیشِبَع کے بھی بُڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور اب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے کیونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہو گا مریم نے کہا دیکھ مَیں خُداوندکی بندی ہُوں  میرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہو  تب فرِشتہ اُس کے پاس سے چلا گیا ‘ لُوقا 1:26-38

(حضرت جبرائیلؑ اس بشارت میں ایک مخصوص عنوان "خدا کا بیٹا” کا استعمال کرتے ہیں۔ برائے مہربانی اس عنوان کے بارے یہاں دیکھیں کہ اس کا کیا مطلب ہے اور کیا مطلب نہیں ہے)

حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کے بارے سینکڑوں سال پہلے نبوت کردی گئی تھی

انجیل مقدس میں حضرت عیسیٰ المسیح (مسیح مطلب مسیحا =کرائسٹ/مسیح)  کی پیدائش کا حوالہ درج ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ المسیح کی کہانی کا آغاز انجیل میں سے نہیں ہوتا بلکہ 700 سال پہلے زبور شریف میں حضرت یسعیاہ نبی نے انکی پیدائش کے بارے میں ایک لاثانی پیشنگوئی تفصیل کے ساتھ  پیش کی دی تھی جس کے بارے میں یہاں مکمل طور پر بیان کیا گیا ہے۔

لیکن خُداوند آپ تُم کو ایک نِشان بخشے گا ۔ دیکھو ایک کُنواری حامِلہ ہو گی اور بیٹا پَیدا ہو گا اور وہ اُس کانام عِمّانُوایل رکھّے گی۔

یسعیاہ 7: 14

حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کی نبوت انسانی تاریخ کے شروعات میں بتادی گئی تھی

لہذا کنواری کی پیدائش کے بارے میں ہزاروں سال پہلے خود اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمادیا تھا۔ اس کے بارے میں ایک اہم بات یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کے بارے میں اعلان فرمایا۔ اگر ہم کتابِ مقدس میں انسانی تاریخ کی شروعات کا مزید مطالعہ کریں۔ تو ہم کو معلوم ہوگا کہ کنواری سے پیدائش کا پہلے سے ایک منصوبہ تیار ہوچکا تھا۔ اگرچہ تورات شریف میں شروعات کا ذکر ہے لیکن اس کے اختتام کے پہلو کو بھی اُجاگر کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں باغِ جنت انسانی تاریخ کی شروعات کے بارے میں دیکھ سکتے ہیں۔ جب شیطان نے حضرت آدم اور حضرت حوا کو کامیابی کے ساتھ گمراہ کرلیا تھا۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے شیطان کو سزا دی اور ایک پہیلی میں اُس کو بتایا تھا۔

اور مَیں تیرے اور عَورت کے درمیان اور تیری نسل اور عَورت کی نسل کے درمِیان عداوت ڈالُوں گا ۔ وہ تیرے سر کو کُچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا۔

پیدائش 3: 15

یہ ایک پہیلی ہے۔ لیکن اگر آپ اس کا غور سے مطالعہ کریں گے تو آپ اس میں پانچ مختلف کرداروں کو پائیں گے۔ اور یہ ایک نبوتی کلام تھا جو آںے والے وقت کے بارے میں نشاندہی کر رہ تھا۔

یہ کردار یہاں ہیں:

  1. اللہ تعالیٰ
  2. شیطان
  3. عورت
  4. عورت کی نسل
  5. شیطان کی نسل

یہاں درج ذیل میں اس پہیلی کا نقشہ ان کرداروں کے بارے میں بیان کی گیا ہے۔

اس تصویر میں باغ جنت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ  ان کردار کا تعلق دیکھایا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ عورت کی نسل اور شیطان کی نسل کے درمیان انتظام کرتا ہے۔ ان دونوں کی نسل کے درمیان نفرت/ دشمنی ہوگی۔ شیطان عورت کی نسل کی یڈی پر کاٹے گا اور عورت کی نسل اِس کے سر کو کچلے گی۔

آئیں اب ہم اس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کہ عورت کی نسل کو وہ (یعنی مذکر) اور اُس کے الفاظ کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ الفاظ واحد مرد/مذکر کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ‘وہ’ نسل ہے نہ کہ یہ ‘وہ’ جمع نہیں ہے۔ یہ نسل کوئی لوگوں کا مجموعہ نہیں اور نہ ہی کوئی قوم، یا کوئی مذہب جیسا کہ یہودیت، عسایئت، یا اسلام۔ جس طرح اس نسل کے بارے میں الفاظ ‘وہ’ ہے نہ کہ ‘یہ’ لفظ استعمال ہوا ہے۔ (اس طرح یہ نسل صرف ایک شخص کی طرف اشارہ دیتی ہے)۔ اس طرح انفرادی طور پر یہ نسل ہے نہ تو کوئی فلسفہ ، کوئی تعلیم یا کوئی مذہب کی تشریح نہیں کرتی۔ لہذا وہ نسل نہ تو مسیحیت یا اسلام بلکہ یہ تو خود صرف ‘اُس” ایک کی طرف اشارہ ہے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا نہیں کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کی نسل کا وعدہ نہیں کیا تھا جیسا کہ عورت کی نسل کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تورات شریف میں یہ بات بلکل منفرد اور دلچسپی کا باعث ہے۔ کیونکہ تورات شریف ، زبور شریف اور انجیل شریف میں ہمیشہ اولاد باپ سے کہلاتی آئی ہے۔ لیکن اس معاملے میں یہ بات مختلف ہے کہ نسل کا وعدہ (ایک مرد) کسی مرد سے نہیں کیا گیا۔ اس کے بارے اس طرح کہا گیا ہے۔ کہ وہ نسل صرف ایک عورت سے ہوگی۔ اس بات میں مرد کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔

لہذا یہاں کتابوں میں سے ہم نے پہلی پیش گوئی کو دیکھتے ہیں۔ اس ایک پہیلی کو جو شیطان کو بتائی گئی تھی۔ اگر آپ اس پہیلی کا غور کے ساتھ مطالعہ کریں۔ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک نکتے پر ختم ہوتی ہے۔ وہ نکتہ وہ نسل ہے جو عورت سے آنی والی تھی۔ وہ حضرت عیسیٰ المسیح ہیں۔ جو کہ مرد کے بیج/ مرد اور عورت کے تعلق کے بغیر پیدا ہوئے۔ اور ایک کنواری سے پیدا ہوئے۔ وہ ‘شیطان کے سر کو کچلے’ گا۔ لیکن اُس کا دشمن کون ہے؟ اس کا جواب ہے "شیطان کی نسل” ہے۔ بعد میں انبیاءاکرام نے تباہی کے بیٹے "شیطان کا بیٹا” اور دوسرے القاب میں ایک ایسے حکمران کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو آںے ‘مسیح موعود’ کا مقابلہ کرے گا۔ یہ پیشگوئیاں ‘مخالفِ مسیح ” اور ‘مسیح ‘ کے درمیان ہونے والی جنگ کے بارے میں بتاتیں ہیں۔ آخر میں فتح میسح کی ہوگئی۔

حضرت عیسیٰ المسیح گناہوں سے نجات دلاتا ہے

لہذا انبئاءاکرام کی منادی/ اعلان کا عظیم عنوان یہاں سے شروع ہوجاتا ہے۔ اور ہم حضرت آدمؑ کے نشان میں سے مذید معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن آپ اور میرے لیے حضرت مریم ہی کیوں؟ چونکہ حضرت عیسیٰ المسیح مرد کی وجہ سے حضرت مریم سے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ جب کہ آپ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پیدا ہوئے۔ اور حضرت جبرائیل نے حضرت یوسف کو جو حضرت مریم کا منگیتر تھا۔ اُس کو بڑھی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جب اُسے پتہ چلا کہ اُس کی منگیتر حاملہ ہے۔

19پس اُس کے شَوہر یُوسف نے جو راستباز تھا اور اُسے بدنام کرنا نہیں چاہتا تھا اُسے چُپکے سے چھوڑ دینے کا اِرادہ کِیا۔ 20وہ اِن باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خُداوند کے فرشتہ نے اُسے خواب میں دِکھائی دے کرکہا اَے یُوسف اِبنِ داؤُد ! اپنی بِیوی مر یم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈرکیونکہ جو اُس کے پیٹ میں ہے وہ رُوحُ القُدس کی قُدرت سے ہے۔ 21اُس کے بیٹا ہو گا اور تُو اُس کا نام یسُو ع رکھناکیونکہ وُہی اپنے لوگوں کو اُن کے گُناہوں سے نجات    دے گا۔

متی 1: 19-21

حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس یہ قدرت ہے کہ وہ ہمیں ہمارے گناہوں سے نجات دلاسکتے ہیں۔ ہم سب کبھی گناہ صغیرا یا گناہِ کبرا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ روزِ محشر کا دن آںے والا ہے۔ جس دن ہم سب حساب دیں گے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس قدرت ہے کہ وہ مجھ کو اور آپ کو ان گناہوں سے نجات دلاسکتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے سے یقینی آپ کرسمس کی خوشیوں کو پُرمسرت انداز میں مناسکتے ہیں۔ کرسمس کے دن ہم اس بات کو یاد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ المسیح کو حضرت مریم جو کہ کنواری کے وسیلے پیدا کیا۔ اور یہ دن آپ کے پورے سال کے دنوں کو خوشیوں سے معمور کردے گا۔

کرسمس کی عید پر آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحفہ

یہ کرسمس پر روایت ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو تخفے دیتے ہیں۔ کیوں؟ اس بات کو اس لیے یاد کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے ساتھ ایسا کیا۔ کیونکہ انجیل شریف میں درج ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح ہمارے گناہوں سے ہمیں نجات دلائے گا۔ یہ ہمارے لیے ایک تخفہ ہے۔ انجیل شریف میں یوں درج ہے۔

کیونکہ گُناہ کی مزدُوری مَوت ہے مگر خُدا کی بخشِش ہمارے خُداوند مسِیح یِسُو ع میں ہمیشہ کی زِندگی ہے۔

رومیوں 6: 23

 گناہوں سے نجات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک لاثانی تخفہ ہے۔ یہ سب کچھ اُس روز ہوا جس روز حضرت عیسیٰ المسیح پیدا ہوئے۔ لیکن جب کوئی تخفہ دیا جاتا ہے یا جس کو تخفہ دیا جاتا ہے تو وہ اُس کو پہلے قبول کرتا ہے۔ تو پھر اُس کو اس تخفے سے  فائدا ملتا ہے۔ زرا غور کریں۔ کسی تخفے کو جاننے سے یا اُس تخفے کی موجودگی کا یقین ہونے سے یا اُس تخفے کو دیکھنے سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ جب تک ہم اُس تخفے کو قبول نہیں کرلیتے۔ اس لیے انجیل مقدس اعلان کرتی ہے۔

؎لیکن جِتنوں نے اُسے قبُول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔ وہ نہ خُون سے نہ جِسم کی خواہِش سے نہ اِنسان کے اِرادہ سے بلکہ خُدا سے پَیدا ہُوئے۔

یوحنا 1: 12-13

کرسمس مبارک ھو

شاید آپ کے پاس بہت سارے اچھے سوالات ہے۔ مسیح کا مطلب کیا ہے؟ حضر ت عیسیٰ المسیح ہمیں گناہوں سے کیسے نجات دلائے گا؟ اس تخفے کو قبول کرنے سے کیا مطلب ہے؟ کیا انجیل شریف قابل اعتماد ہے؟لہذا یہ ویب سائٹ میری طرف سے آپ کو تخفہ ہے۔ اس میں آپ کو سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اور قابلِ قدر سوالات کے جوابات بھی موجود ہیں۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ تورات، زبور اور انجیل شریف میں سے خوشخبری کے بارے میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔

میری یہ اُمید ہے کہ جس طرح میں نے کرسمس کی خوشی کو دریافت کیا۔ آپ بھی اس تجربہ کو حاصل کریں۔

حضرت عیسیٰ المسیح ‘کھوئے’ غدار کو بچاتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح نے لعزر کو دوبارہ زندہ کیا۔ اس طرح آپ نے اپنے مشن کو لوگوں کے سامنے اُجاگر کیا۔ اب آپ یروشلیم کی راہ پر تھے۔ تاکہ اپنے مشن کو پورا کرسکیں۔ اس سفر کے دوران آپ کا گزر یریحو(جو ابھی بھی فلسطین کے مغربی کنارے پر واقع ہے) کے شہر سے ہو۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے معجزات اور تعلیمات کے بارے اس شہر کے لوگوں نے سُن رکھا تھا۔ جب اُنہیں پتہ چلا کہ آپ یہاں سے گزر رہے ہیں۔ تو ایک بڑی بھیڑ اُن کا دیدار کرنے آئی۔ اس بیھڑ میں ایک امیر شخص بھی موجود تھا جس کا نام زکائی تھا لیکن لوگ اُس کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ امیر اس لیے تھا کیونکہ وہ رومی حکومت کے لیے ٹیکس وصول کرتا تھا۔ یہودیہ پر رومی حکومت نے ذبردستی قبضہ کر رہ تھا۔ وہ رومی حکومت جاری کردہ ٹیکس سے زیادہ ٹیکس وصول کرتا تھا۔ یہودی نے اس کام کی وجہ سے حقیر جانتے تھے۔ کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا۔ اُس کو لوگ ایک غدار کے طور پر جانتے تھے۔

‘وہ یریحُو میں داخِل ہو کر جا رہا تھا اور دیکھو زکّا ئی نام ایک آدمی تھا جو محصُول لینے والوں کا سردار اور دَولت مند تھا وہ یِسُو ع کو دیکھنے کی کوشِش کرتا تھا کہ کَون سا ہے لیکن بِھیڑ کے سبب سے دیکھ نہ سکتا تھا  اِس لِئے کہ اُس کا قَد چھوٹا تھا پس اُسے دیکھنے کے لِئے آگے دَوڑ کر ایک گُولر کے پیڑ پر چڑھ گیا کیونکہ وہ اُسی راہ سے جانے کو تھا جب یِسُو ع اُس جگہ پُہنچا تو اُوپر نِگاہ کر کے اُس سے کہا اَے زکّا ئی جلد اُتر آ کیونکہ آج مُجھے تیرے گھر رہنا ضرُور ہے وہ جلد اُتر کر اُس کو خُوشی سے اپنے گھر لے گیا جب لوگوں نے یہ دیکھا تو سب بُڑبُڑا کر کہنے لگے کہ وہ تو ایک گُنہگار شخص کے ہاں جا اُترا اور زکّا ئی نے کھڑے ہو کر خُداوند سے کہا اَے خُداوند دیکھ مَیں اپنا آدھا مال غرِیبوں کو دیتا ہُوں اور اگر کِسی کا کُچھ ناحق لے لِیا ہے تو اُس کو چَوگُنا ادا کرتا ہُوں یِسُو ع نے اُس سے کہا آج اِس گھر میں نجات آئی ہے  اِس لِئے کہ یہ بھی ابرہا م کا بیٹا ہے کیونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے   لُوقا 19:1-10

چنانچہ زکائی قد میں چھوٹا تھا۔ اس لیے وہ حضرت عیسیٰ المسیح کو بھیڑ میں دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اور کوئی بھی وہاں اُس کی مدد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انجیل شریف میں رقم ہے کہ کس طرح اُس کی ملاقات آپ سے ہوئی اور کیا گفتگو ہوئی۔

لوگوں کو آپ کی یہ بات اچھی نہ لگی۔ کہ آپ نے خود کو زکائی کے گھر میں مدعو کیا۔ زکائی ایک بُرا شخص تھا اور ہر کوئی یہ جانتا تھا۔ لیکن زکائی نے اپنے بارے میں نشاندہی کہ وہ ایک گنہگار ہے۔ ہم میں سے اکثر اپنے گناہ ہو چھپاتے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ ہم نے کبھی بھی گناہ نہیں کیا۔ لیکن زکائی نے ایسا نہیں کیا تھا۔ وہ جانتا تھا جوکچھ وہ کررہا ہے وہ بُرا ہے بلکہ اپنے لوگوں کے ساتھ غداری ہے۔ پھر بھی اُس نے حضرت عیسیٰ المسیح سے ملنے کی دلیری کی۔ حضرت عیسیٰ المسیح کا ردعمل اتنا سرگرم تھا کہ سب لوگ حیران ہوگے۔

حضرت عیسیٰ المسیح چاہتے تھے کہ زکائی توبہ کرئے۔ اپنے اس گناہ سے باز آئے۔ اور آپ کو مسیح کے طور پر قبول کرلے۔ جب زکائی نے ایسا کیا تو حضرت عیسیٰ المسیح نے اُس کو معاف کردیا۔ آپ نے اعلان کیا کی وہ ‘کھویا ہوا’ تھا لیکن اب بچ گیا /ملا ہے۔

آپ کا میرے اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم نے شاید ایسے ہی کام کیے ہوں جیسے اس زکائی نے شرما دینے والے کیے تھے۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں۔ کہ شاید میں بُرے نہیں ہیں۔ اس لیے ہم اپنی غلطیوں کو چھپاتے ہیں۔ جس طرح حضرت آدم نے اپنی غلطی چھپائی تھی۔ ہم اُمید کرتے ہیں۔ کہ ہم بہت سارے اچھے اعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم اپنے بُرے اعمال کا جرمانہ بھرسکتے ہیں۔ یہ خیال اُس بھیڑ کا تھا۔ جو حضرت عیسیٰ المسیح کو دیکھنے آئی۔ اسلیے حضرت عیسیٰ المسیح نے اُن میں کسی کے گھر جانا پسند نہ کیا اور نہ ہی اُن میں سے کسی کو یہ کہا کہ وہ نجات پاگیا ہے۔ صرف یہ شرف زکائی ہی کو حاصل ہوا۔ یہ ہمارے لیے انتہائی بہتر ہے۔ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کریں۔ اور ان کو نہ چھپائیں۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کو لینے کے حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس جائیں گے۔ تو ہم کو معلوم ہوگا۔ کہ نہ صرف ہم کو معافی مل چکی ہے بلکہ ہمارے اندازے سے بھی بڑھ کر ہم کو بخش دیا گیا ہے۔

لیکن کس طرح زکائی کو قیامت کاانتظار کئے بغیر بد عمل کی معافی کا اُسی لحمے یقین ہوگیا؟ ہم حضرت عیسیٰ المسیح کے یروشلیم کے سفر کے بارے میں مطالعہ جاری رکھیں گے تاکہ ہم اُن کے مشن کے تکمیل اور اپنے سوال کا جواب حاصل کرسکیں۔