کتب سے: نوح کا اشارہ

(قرآن شریف)

سورة ھود 25- 48 :11

اور ہم نے نوح ؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا ( تو اُنہوں نے اُن سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سُنانے ( اور پیغام پہنچانے ) آیا ہوں ۔

کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے۔

تو اُن کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔ اور وہ بھی رائے ظاہر سے(نہ غور و تعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اُس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم ہو کہ اس سے نا خوش ہو رہے ہو۔

اور اے قوم! میں اس ( نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں اُن کو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تواپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہو ں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔

اوربرادانِ ملت! اگر میں ان کو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لیے) کون میری مدد کرسکتا ہے۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے؟۔

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہو ں کہ خدا ان کو بھلائی ( یعنی اعمال کی جزائے نیک ) نہیں دیگا۔ جو اُن کے دلوں میں ہے اُسے خدا خوب جانتاہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بے انصافوں میں ہوں۔

اُنہوں نے کہا کہ نوحؑ تم نے ہم سے جھگڑاتو کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر نازل کرو۔

نوحؑ نے کہا کہ اس کو تو اللہ ہی چاہے گا نازل کرے گا۔ اور تم (اسکو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے۔

اور اگر میں یہ چاہتا ہوں کہ تمہاری خیر خواہی کروں اور اللہ یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیر خواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی ۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اُسی کی طرف لوٹ کر جاناہے۔

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر ) نے قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گنا ہ تم کرتے ہو اُس سے میں بری الذمہ ہوں ۔

اور نوح ؑ کی طرف سے وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان ( لاچکے) ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لا ئے گاتو جو کام یہ کررہے ہیں اُن کی وجہ سے غم نہ کھاﺅ۔

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناﺅ ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ غرق کردئیے جائیں گے۔

تو نوح ؑ نے کشتی بنانی شروع کر دی اور جب ان کی قوم کے سردار اُن کے پاس سے گزرتے تو اُن سے تمسخر کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اسی طرح ( ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے۔

اور تم کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اُسے رُسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے؟۔

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا۔ تو ہم نے (نوح کو) حکم دیا کہ ہر قسم ( کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی ) دو (دو جانور ۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہو چکا ہے (کہ ہلاک ہو جائیگا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایا ہو اُس کو کشتی میں سوار کرلو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے ۔

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لیکر (کہ اسی کے ہاتھ میں اس کا) چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہو جاﺅ بیشک میرا پروردِگار بخشنے والا مہربان ہے۔

اور وہ ان کو لیکر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی ( لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ (کشتی سے) الگ تھا پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہو جاﺅ اور کافروں میں شامل نہ ہو ۔

اُس نے کہا میں ( ابھی ) پہاڑ سے جالگوں گا وہ مجھے پانی سے بچا لیگا ۔ اُنہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانیوالا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا۔

اور حکم دیا گیا ۔ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشتی کوہ جُودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بے انصاف لوگوں پر لعنت ۔

اور نوح ؑ نے اپنے پروردِگار کو پکارا اور کہا کہ پروردِگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے ( تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔

خدا نے فرمایا کہ نوح ؑ وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے۔ وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو۔

نوح ؑ نے کہا پروردِگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی مجھے حقیقت معلوم نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہو جاﺅں گا۔

حکم ہو ا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ(جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں ) اُتر آﺅ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہونگی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) مخطوظ کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا۔

(تورات کی پہلی کتاب)

 پیدایش11-22: 6

پر زمین خدا کے آگے ناراست ہوگئی اور وہ ظُلم سے بھری تھی۔

اور خدا نے زمین پر نظر کی اور دیکھا کہ وہ ناراست ہوگئی ہے کیونکہ ہر بشر نے زمین پر اپنا طریقہ بگاڑ لیا تھا۔

اور خدا نے نوح سے کہا کی تمام بشر کا خاتمہ میرے سامنے آپہنچا ہے کیونکہ اُن کے سبب سے زمین ظُلم سے بھر گئی ۔ سو دیکھ میں زمین سمیت اُن کو ہلاک کروں گا۔

تو گوپھر کی لکڑی کی ایک کشتی اپنے لئے بنا۔ اُس کی کشتی میں کوٹھریاں تیار کرنا اور اُس کے اندر اور باہر رال لگانا۔

اور ایسا کرنا کہ کشتی کی لمبائی تین سو ہاتھ ۔ اُس کی چوڑائی پچاس ہاتھ اور اُس کی اونچائی تیس ہاتھ ہو۔

اور اُس کشتی میں ایک روشن دان بنانا اور اُوپر سے ہاتھ بھر چھوڑ کر اُسے ختم کر دینا اور اُس کشتی کا دروازہ اُس کے پہلو میں رکھنا اور اُس میں تین درجے بنانا۔ نچلا۔ دوسرا اور تیسرا۔

اور دیکھ میں خود زمین پر پانی کا طوفان لانے والا ہوں تاکہ ہر بشر کو جس میں زندگی کا دم ہے دنیا سے ہلاک کر ڈالوں اور سب جو زمین پر ہیں مر جائیں گے۔

پر تیرے ساتھ میں اپنا عہد قائم کروں گا اور تو کشتی میں جانا۔ تو اور تیرے ساتھ تیرے بیٹے اور تیری بیوی اور تیرے بیٹوں کی بیویاں ۔

اور جانوروں کی ہر قسم میں سے دو دو اپنے ساتھ کشتی میں لے لینا کہ وہ تیرے سا تھ تےرے جیتے بچیں ۔ وہ نر و مادہ ہوں ۔ اور پرندوں کی ہر قسم میں سے اور چرندوں کی ہر قسم میں سے اور زمین پر رینگنے والوں کی ہر قسم میں سے دو دو تیرے پاس آئیں تاکہ وہ جیتے بچیں ۔

اور تو ہر طرح کی کھانے کی چیز لے اپنے پاس جمع کر لینا کیونکہ یہی تےرے اور اُن کے کھانے کو ہوگا۔ اور نوح نے یوں ہی کیا۔ جیسا خدا نے اُسے حکم دیا تھا ویسا ہی عمل کیا۔

پیدایش 1-5:7

اور خداوند نے نوح سے کہا کہ تو اپنے پورے خاندان کے ساتھ کشتی میں آ کیونکہ میں نے تجھی کو اپنے سامنے اس زمانہ میں راست باز دیکھا ہے۔

کل پاک جانوروں میں سے سات سات نر اور اُن کی مادہ اور اُن میں سے جو پاک نہیں ہیں دو دو نر اور اُن کی مادہ اپنے ساتھ لے لینا۔

اور ہوا کے پرندوں میں سے بھی سات سات نر اور مادہ لینا تاکہ زمین پر اُن کی نسل باقی رہے۔

کیونکہ سات دن کے بعد میں زمین پر چالیس دن اور چالیس رات پانی برساوں گا اور ہر جان دار شے کو جسے میں نے بنایا زمین پر سے مٹاڈالوں گا۔اور نوح نے وہ سب جیسا خداوند نے اُسے حکم دیا تھا کیا۔

پیدایش 17-23:7

اور چالیس دن تک زمین پر طوفان رہا اور پانی بڑھا اور اُس نے کشتی کو اُوپر اُٹھادیا۔ سو کشتی زمین پر سے اُٹھ گئی۔

اور پانی زمین پر چڑھتا ہی گیا اور بہت بڑھااور کشتی پانی کے اُوپر تیرتی رہی۔

اور پانی زمین پر بہت ہی زےادہ چڑھا اور سب اُونچے پہاڑ جو دنیا میں ہیں چھپ گئے۔

پانی اُن سے پندرہ ہاتھ اور اُوپر چڑھا اور پہاڑ ڈوب گئے۔

اور سب جانور جو زمین پر چلتے تھے پرندے اور چوپائے اور جنگلی جانور اور زمین پر کے سب رینگنے والے جاندار اور سب آدمی ہرگئے۔

خشکی کے سب جاندار جن کے نتھنوں میں زندگی کا دم تھا مرگئے۔

بلکہ ہر جاندار شے جو رُوی زمین پر تھی مَر مِٹی۔ کیا انسان حیوان۔ کیا رینگنے والے جاندار کیا ہوا کا پرندہ یہ سب کے سب زمین پر سے مر مٹے۔ فقط ایک نوح باقی بچایا وہ جواُس کے ساتھ کشتی میں تھے۔

اور پانی زمین پر ایک سو پچاس دن تک چڑھتا رہا۔

پیدایش 3-5:8

اور پانی زمین پر سے گٹھتے گٹھتے ایک سو پچاس دن لے بعد کم ہوا۔

اور ساتویں مہینے کی سترھویں تاریخ کو کشتی اراراط کے پہاڑوں پر ٹک گئی۔

اور پانی دسویں مہینے تک برابر گھٹتا رہا اور دسویں مہینے کی پہلی تاریخ کو پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آئیں۔

پیدایش 18-21:8

تب نوح اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں اور اپنے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ باہر نکلا۔

اور سب جانورسب رینگنے والے جان دار۔ سب پرندے اور سب جو زمین پر چلتے ہیں اپنی اپنی جنس کے ساتھ کشتی سے نکل گئے۔

تب نوح نے خداوند کے لئے ایک مذبح بنایا اور سب پاک چوپایوں اور پاک پرندوں میں سے تھوڑے سے لے کر اُس مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھائیں ۔

اور خداوند نے اُن کی راحت انگیز خوشبو لی اور خداوند نے اپنے دل میں کہا کہ انسان کے سبب سے میں پھر کبھی زمین پر لعنت نہیں بھیجوں گا کیونکہ انسان کے دل کا خیال لڑکپن سے بُرا ہے اور نہ پھر سب جان داروں کو جیسا اب کیا ہے ماروں گا۔