کیا حضرت موسیٰ کی لعنتیں اسرائیل پر نازل ہوئیں

اسرائیل کی تاریخ میں ہم نے دیکھا کہ سنَ 70 عیسوی میں ان کو دنیا کی تمام قوموں میں پراگندہ (جلاوطن) کردیا گیا تھا۔ اور وہ 2 ہزار سال اس طرح زندگی بسر کرتے رہے۔ اور اس کے ساتھ وہ وقتً فوقتً شدد قسم کی جارحیت کا سامنا کرتے رہے۔ ایسے واقعات خصوصی طور پر یورپ، سپین، اور روس میں ہوتے رہے اور ان کا اکثر قتلِ عام ہوتا رہا۔ اس طرح حضرت موسیٰ کی تورات میں لکھی ہوئی لعنت کی پیشنگوئی پوری ہوئی۔ ذیل میں دیا گیا ٹائم لائن اسرائیل کی 2000 سال بائبل کی تاریخ کے عرصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مدت کو ایک طویل سرخ رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔

65  اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام مِلے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا ۔                                                                                                                                                            استثنا 28: 65

یہودیوں کی تاریخ: موسی - آج
یہودیوں کی تاریخ: موسی – آج

آپ اسرائیل کی تاریخ میں دیکھ سکتے ہیں کہ وہ مختلف جلاوطنی کے دور میں رہے۔ لیکن دوسری جلاوطنی پہلی جلاوطنی سے زیادہ لمبی تھی۔

یہودیوں نے اپنی ثقافتی کو زندہ رکھا

                  یہ میرے لیے بڑھی دلچسپی کی بات ہے۔ کہ بنی اسرائیل نے کبھی بھی اپنی ثقافتی بنیادوں کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔ اوران کی تعداد کبھی بھی کثرت کے ساتھ نہیں بڑی (کیونکہ اموات اور ظلم و ستم کی وجہ سے) لیکن اُن نے اس 2000 ہزار سال کے عرصہ میں اپنی ثقافتی پہچان کو نہ کھویا۔ یہ بڑی قابلِ ستائش بات ہے۔ یہاں پر اُن تمام اقوام کی فہرست ہے۔ جو حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی میں اسرئیل میں رہتی تھیں۔

8  اور میں اُترا ہو ں کے اُن کو مصریوں کے ہاتھ سے چُھڑاوں اور اُس مُلک سے نکال کر اُنکو ایک اچھے اور وسیع مُلک میں جہاں دُودھ اور شہد بہتا ہے یعنی کنعانیوں اور حتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کے مُلک میں پہنچاوں ۔ خروج 3: 8

اور اُس وقت سے برکت اور لعنت دی گئی۔

1 جب خداوند تیرا خدا تُجھ کو اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے تُو جا رہا ہے پہنچا دے اور تیرے آگے سے اُن بہت سی قوموں کو یعنی حتیوں اور جرجاسیوں اور کعنانیوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کو جو ساتوں قومیں تجھ سے بڑی اور زور آور ہیں نکال دے

                                                                                                  استثنا 7: 1

کیا کوئی اُن لوگوں میں آج بھی زندہ ہے۔ جہنوں نے اپنی ثقافت اور لسانی پہچان کو برقرار رکھنے کی کوشش کیَ نہیں! وہ طویل عرصہ سے اس دنیا سے کوچ کرچکے ہیں۔ ہم اس قدیم تاریخ میں صرف "جرجاسی” لوگوں کو جانتے ہیں۔ جس طرح بڑی طاقتور کسدیوں ، فارسیوں، یونانیوں، اور رومی شہنشاہوں نے ان قوموں پر فتح حاصل کی۔ اُس کے فوراً بعد وہ اپنی ثقافت اور لسانی پہچان کھوبیٹھے اور اُن قوموں میں گم ہوگے۔

جیسا کہ میں کینیڈا میں رہتا ہوں۔ میں پوری دنیا سے ہجرت کر کے آنے والے تارکینِ وطن کو آتے دیکھتا ہوں۔ جب تارکین وطن کی تیسری نسل یہاں پیدا ہوتی ہے۔ تو وہ اپنی ثقافتی پہچان بول جاتے ہیں۔ جب میں نوجوان تھا۔ تو میں نے سویڈن سے کینیڈا  ہجرت کی۔ اب میرا ایک بیٹا ہے۔ اور وہ سویڈش زبان نہیں بولتا اور نہ ہی میرے بھائی اور بہین کے بچے سویڈیش زبان بولتے ہیں۔ میرے آباواجداد کی سویڈیش زبان، اور ثقافت یہاں کینیڈین ثقافت میں گم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سچائی ہے، کہ مہاجرین چاہے، کوریا، جاپان، ایران، امریکہ، افریقہ اور یورپ سے کیوں نہ ہوں۔ ان کی تیسری نسل اپنی ثقافت اور زبان بول جاتی ہے۔ لہذا یہ قابل ذکر بات ہے کہ اسرائیلیوں نے صدیوں سے اپنی زندگی دشوار اور مشکل میں کاٹی۔ اُنہیں مختلف ممالک سے بھاگنا پڑا۔ اُن کی آبادی دنیا میں 15 ملین سے زیادہ نہیں ہوئی۔ اُنہوں نے اپنی بھی مذہبی ، ثقافتی ، لسانی پہچان ان 2000 ہزار سال میں کبھی نہ کھوئی۔

یہودیوں کی جدید عالمگیر نسل کشی

                             یہودیوں کے خلاف جارحیت اور قتلِ عام اپنی اروج پر تھا۔ یہاں تک دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلر نے نازی جرمن فوج کے وسیلے یورپ میں رہنے والے تمام یہودیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے مشن کو کامیاب بنانے کے لیے گیس کے اوون بنائے۔ اور اُس نظام کے وسیلے نسل کشی کی۔ تاہم وہ اپنے اس مشن میں ناکام ہوگیا اور یہودی باقی بچ گئے۔

دور جدید میں اسرئیل کی تعمیرنو

                   اور پھر 1448 میں اقوام متحدہ کے زریعے اسرائیل جیسے ایک غیر معمولی ملک نے دوبارہ جنم لیا۔ درحقیقت یہ قابل ذکر ہے۔ جس طرح اُوپر ذکر کیا ہے۔ صدیوں بھی بعد وہاں اردگرد لوگ پائے جاتے تھے۔ جو اپنی پہچان "یہودی” کے طور پر کرواتے تھے۔ لیکن موسیٰ کو 3500 سال یہ الفاظ کو لکھے تھے۔ جو سچے ثابت ہوئے کہ وہ "تم” اُس وعدہ کو حاصل کریں گے۔ پس یہ لوگ یہاں پر موجود رہے۔ اتنی طویل یہودیوں کی جلاوطنی کے باوجود۔

3  تو خداوند تیرا خدا تیری اسیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا اورپھر کر تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہو جمع کرے گا ۔
4 اگر تیرے آوارہ گرد دُنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کر کے لے آئے گا ۔                          استثنا 30: 3-4

یہ یقیناً ایک نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام کو پورا کرتا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر بات ہے۔ کہ یہ ریاست حزب اختلاف کے باوجود قائم کی گئی۔ 1948 میں بہت ساری اقوام نے اس دور میں اسرائیل کے ساتھ جنگیں کیں۔ 1956 میں۔ ۔ ۔ 1967 میں اور دوبار 1973 ۔ اسرائیل ایک چھوٹی قوم ہے۔ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے۔ کہ اُنہوں نے پانچ پانچ اقوام کے ساتھ ایک ہی وقت میں جنگ کی۔ اس کے باوجود نہ صرف وہ زندہ رہے بلکہ اُن کے علاقوں میں بھی اضافہ ہوا۔ 1967 کی جنگ میں یہودیوں نے یروشلیم دوبارہ حاصل کرلیا۔ اور اپنا تاریخی دارالحکومت جسکی بنیاد حضرت داود نے رکھی تھی دوبارہ اسرائیل کا دارلحکومت بنا لیا۔

کیوں اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کی تعمیرنو ہونے دی؟

                             آج کے دن تک تمام جدید دور میں متنازعہ پایا جاتا ہے۔ اس دور جدید میں ہونے والے اسرائیل کے دوبارہ جنم پر اور اسرائیلیوں کی واپسی پر سب سے زیادہ تنازعہ پایا جاتا ہے۔ ایسا اب تقریباً پر روز ہو رہا ہے۔ جہاں وہ ساری دنیا میں تمام دوسری قوموں میں ہزاروں سال جلاوطن رہے۔ اور شاید اس کو پڑھ کرآپ پسند نہ کریں۔ یقینی طور پر آج بہت سارے یہودی مذہبی نہیں رہے۔ زیادہ تر سیکولر اور لادین ہوچکے ہیں۔ کیونکہ ہٹلر نے جو کچھ کیا وہ یہودیوں کی تقریباً کامیاب نسل کشی تھی۔ اور یہ ضروری نہیں کی وہ درست ہی ہوں۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے۔ کہ جو کچھ حضرت موسیٰ نے لعنت کے بارے کہا تھا۔ وہ نہ صرف پورا ہوا بلکہ آج بھی ہماری آنکھیوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ کیوں؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ وہ آج بھی مسیح کو رد کر رہے ہیں۔ یہ تمام اہم ترین سوالات ہیں۔ ان کے جوابات تورات شریف اور زبور شریف میں پائے جاتے ہیں۔ شاید آپ مجھے سے ناراض ہوں۔ لیکن جو کچھ نبیوں نے قیامت کے بارے میں اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ جب تک ہم اُس غیر معمولی واقع کو سمجھ نہ لیں۔ اُس وقت تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اُنہوں نے ہمارے فائدے کے لیے لکھا تھا۔ تاکہ ہمارے لیے قیامت کے بارے میں راہنمائی ہوسکے۔ آئیں ہم انبیاء اکرام کی تحریرات کو پڑھیں۔ تاکہ ہم ان سے فیصلہ کی تشکیل کر سکیں۔ ہم زبور شریف کے مطالعہ کو جاری رکھیں گے۔ تاکہ جان سکیں کہ یہودیوں نے عیسیٰ مسیح کو کیوں رد کیا۔

جی ہاں میں تمام احکامات کی فرمانبرداری کرتا ہوں

مبارک ہو! آپ قیامت والے دن بہت زیادہ پرُاعتماد اور خوف سے آزاد ہونگے کیونکہ اگر تم نے تمام احکامات کی فرمانبرداری کی تو آپ راستباز (جنتی) بن جائیں گے۔ ذاتی طور پر میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا۔ جس نے اس طرح تمام احکامات کی اطاعت کی ہو۔ لیکن یہ واقعی ایک عظیم کامیابی ہے۔ لیکن اپنی کوششوں کو روکیں مت کیونکہ آپ کو ہمیشہ کی زندگی میں داخل ہونے کے لیے سیدھے راستہ پر چلتے رہنا ہے

                میں نے کہا تھا کہ دس احکام اور شریعت کبھی بھی منسوح نہیں ہوئے۔ کیونکہ یہ زندگی کے بنیادی اصول ہیں۔ کہ ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت، زنا، چوری اور صداقت جیسے معاملات میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ لیکن بعد میں انبیاءاکرام نے ان احکامات کی مزید تفصیل سے وضاحت کی۔ ذیل میں حضرت عیسیٰ مسیح نے انجیل شریف میں بتایا ہے۔ کہ کیسے ہم ان دس احکام پر عمل کرسکتے ہیں۔ ان کی تعلیم میں وہ فریسیوں سے مخاطب ہو کر بات کرتے ہیں۔ یہ اُس وقت کے مذہبی اُستاد تھے۔ ان کو آج کے مذہبی علماء یا عالم کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

حضرت عیسیٰ کی تعلیم دس احکام کے بارے میں

20  کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تُمہاری راستبازی فقِیہوں اور فرِیسِیوں کی راستبازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تُم آسمان کی بادشاہی میں ہرگِز داخِل نہ ہوگے۔
21 تُم سُن چُکے ہوکہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خُون نہ کرنا اور جو کوئی خُون کرے گا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا۔
22  لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنے بھائِی پر غُصّے ہوگا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا اور جو کوئی اپنے بھائِی کو پاگل کہے گا وہ صدرِ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا اور جو اُس کو احمق کہے گا وہ آتشِ جہنّم کا سزاوار ہوگا۔
23 پَس اگر تُّو قُربان گاہ پر اپنی نذر گُزرانتا ہو اور وہاں تُجھے یاد آئے کہ میرے بھائِی کو مُجھ سے کُچھ شِکایت ہے۔
24 تو وَہیں قربانگاہ کے آگے اپنی نذر چھوڑ دے اور جا کر پہلے اپنے بھائِی سے مِلاپ کر تب آ کر اپنی نذر گُزران۔
25   جب تک تُو اپنے مُدّعی کے ساتھ راہ میں ہے اُس سے جلدی صُلح کرلے۔ کہِیں اَیسا نہ ہوکہ مُدّعی تُجھے مُنصِف کے حوالہ کردے اور مُنصِف تُجھے سِپاہی کے حوالہ کردے اور تُو قَید خانہ میں ڈالا جائے۔
26 مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُو کوڑی کوڑی ادا نہ کردے گا وہاں سے ہرگِز نہ چھُوٹے گا۔
27 تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زِنا نہ کرنا۔
28 لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جِس کِسی نے بُری خواہِش سے کِسی عَورت پر نگاہ کی وہ اپنے دِل میں اُس کے ساتھ زِنا کرچکا۔
29   پَس اگر تیری دہنی آنکھ تُجھے ٹھوکر کھلائے تو اُسے نِکال کر اپنے پاس سے پھینک دے کِیُونکہ تیرے لِئے یہی بہُتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بَدَن جہنّم میں نہ ڈالا جائے۔
30 اور اگر تیرا دہنا ہاتھ تُجھے ٹھوکر کھلائے تو اُس کو کاٹ کر اپنے پاس سے پھینک دے کِیُونکہ تیرے لِئے یہی بہُتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بَدَن جہنّم میں نہ جائے۔

                                                                                متی 5: 20-30

اس کئ علاوہ حضرت عیسٰی مسیح کے صحابہ اکرام نے بھی بت پرستی کے بارے میں سکھایا۔ اُنہوں نے سکھایا کہ بت پرستی صرف یہ ہی نہیں کی بتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ بلکہ بت پرستی ہراُس بات میں ہے جس میں کسی چیز کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ ترجحات دینا شروع کردی جائے۔ اور اس میں روپیہ پیسہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔ تاہم آپ کو محسوس کریں گے۔ اُنہوں نے "لالچ” کو بھی بت پرستی کہا۔ کیونکہ لوگ پیسے کی بھی خدا کے ساتھ عبادت کرتے ہیں۔

5    پَس اپنے اُن عضا کو مُردہ کرو جو زمِین پر ہیں یعنی حرامکاری اور ناپاکی اور شہوت اور بُری خواہِش اور لالچ کو جو بُت پرستی کے برابر ہے۔
6 کہ اُن ہی کے سبب سے خُدا کا غضب نافرمانی کے فرزندوں پر نازِل ہوتا ہے۔

                                                                                کلسیوں 3: 5-6

4  اور نہ بےشرمی اور بیہُودہ گوئی اور ٹھٹھّا بازی کا کِیُونکہ یہ لائِق نہِیں بلکہ برعکس اِس کے شُکرگُذاری ہو۔
5   کِیُونکہ تُم یہ خُوب جانتے ہو کہ کِسی حرمکار یا ناپاک یا لالچی کی جو بُت پرست کے برابر ہے مسِیح اور خُدا کی بادشاہی میں کُچھ مِیراث نہِیں۔
6  کوئی تُم کو بے فائِدہ باتوں سے دھوکا نہ دے کِیُونکہ اِن ہی گُناہوں کے سبب سے نافرمانی کے فرزندوں پر خُدا کا غضب نازِل ہوتا ہے۔

                                                                                افسیوں 5: 4-6

اصل میں دس احکام کی ان وضاحتوں میں بیرونی اعمال کو واضع طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اندرونی حالت صرف اللہ تعالیٰ ہی جان سکتا ہے۔ یہ بات اس طرح شریعت کو اور مشکل بنا دیتی ہے۔

تو اس طرح آپ اپنے جواب پر نظر ثانی کرسکتے ہیں۔ کہ آیا آپ سارے احکام کی اطاعت کرتے ہیں یا نہیں۔ لیکن اگر آپ کو یقین ہو کہ آپ سارے احکام کی فرمانبرداری کررہے ہیں۔ تو پھر انجیل شریف آپ کے لیے بے معنی ہے۔ اور اس لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ آپ مزید نشانات اور انجیل شریف کے بارے سمجھیں۔ کیوں کی انجیل شریف صرف اُن کے لیے ہے جو شریعت کے احکام پر مکمل طور پر عمل نہیں کر سکتے۔ یہ اُن کے لیے نہیں جو شریعت پر مکمل طور پر عمل کرتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ مسیح نے مندرجہ ذیل انداز میں اس کی وضاحت کی۔

10   اور جب وہ گھر کھانا کھانے بَیٹھا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ بہُت سے محصُول لینے والے اور گُنہگار آ کر یِسُوع اور اُس کے شاگِردوں کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے۔
11  فرِیسِیوں نے یہ دیکھ کر اُس کے شاگِردوں سے کہا تُمہارا اُستاد محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کے ساتھ کِیُوں کھاتا ہے۔
12  اُس نے یہ سُن کر کہا کہ تندرُستوں کو طبِیب کی ضرورت نہِیں بلکہ بِیماروں کو۔
13   مگر تُم جا کر اِس کے معنی دریافت کرو کہ مَیں قربانی نہِیں بلکہ رحم پسند کرتا ہُوں کِیُونکہ مَیں راستبازوں کو نہِیں بلکہ گُنہگاروں کو بُلانے آیا ہُوں۔

                                                                                      متی 9 :10-13

نہیں میں تمام احکامات کی فرمانبرداری نہیں کی

نہیں میں تمام احکامات کی فرمانبرداری نہیں کی

مجھے بڑے افسوس سے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ یہ خوشخبری نہیں ہے۔ دراصل یہ بہت بُری خبر ہے۔ کیونکہ اسکا مطلب ہے (اور یہ ہی مسلہ میرے ساتھ بھی ہے) کہ آپ راستباز نہیں ہیں۔ راستبازی بڑی اہم ہے کیونکہ یہ ہی اللہ تعالیٰ کی جنت میں جانے کی بنیاد ہے۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ روزمرہ زندگی کے معاملات میں راستبازی ہوگی۔ (کہ نہ جھوٹ بولا جائے، نہ چوری کی جائے، نہ قتل کیا جائے، نہ بت پرستی کی جائے، اور اس طرح کے گناہ نہ کئے جایئں) اور اللہ تعالیٰ کی حقیقی اور سچائی کے ساتھ عبادت کی جائے اور یہ ہمیں جنت میں لے جائے گی۔ اس لیے حضرت داود زبور شریف میں بیان کرتے ہیں کہ راستبازی جنت میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے۔ صرف اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں بیان ہے کہ وہ جنت میں داخل ہونگے۔

زبور 15: 1-5

1 اے خداوند تیرے خمیہ میں کون رہے گا؟

تیرے کوہ مقدس پر کون سکونت کرے گا؟

2 وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔

3 وہ جو اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سنتا۔

4 وہ جس کی نظر میں رذیل آدمی حقیر ہے پر جو خدوند سے ڈرتے ہیں اُن کی عزت کرتا ہے۔ وہ جو قسم کھا کر بدلتا نہیں خواہ نقصان ہی اُٹھائے۔

5 وہ جو اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھائے گا۔

تفہیم گناہ

          لیکن جب ہم (آپ اور میں) راستبازی کے کام نہیں کرتے۔ تو ہم احکام کی فرمانبرداری نہیں کر رہے ہوتے تو پھر ہم  گناہ کرتے ہیں۔ گناہ کیا ہے؟ تورات شریف کے فوراً بعد ایک آیت نے مجھے اس کو سمجھنے میں بڑی مدد دی ۔ یہ آیت اس طرح کہتی ہے۔

ان سب لوگوں میں سے سات سو چنے ہوئے بیں ہتھے جوان تھے جن میں سے ہر ایک فلاخن سے بال کے نشانہ پر بغیر خطا کئے پتھر مار سکتا تھا۔    قضاۃ 20: 16

یہ آیت بیان کرتی ہے کہ ایک فوجی وہ ہے جو فلاخن چلانے میں ماہر ہو اور اُس کا نشان کبھی خطا نہیں کھاتا ۔ تورات شریف اور پرانے عہدنامہ کو تمام انبیاء اکرام نے عبرانی میں لکھا۔ عبرانی میں لفظ " יַחֲטִֽא ” جس کا تلفظ (pronounced Khaw-taw) جسکا ترجمہ "خطا” کیا گیا ہے۔ بالکل اسی عبرانی لفظ کا تورات شریف میں ترجمہ "گناہ” کیا گیا ہے۔ مثال کے طورپر یہ یہی عبرانی لفظ "گناہ” کے طور پر استعمال ہوا۔ جب حضرت یوسف کو مصر میں غلام بنا کربیچ دیا۔ اور اُس کے آقا کی بیوی نے اُس سے بدکاری کرنے کو کہا۔ لیکن حضرت یوسف نے انکار کردیا۔ چنانچہ وہ اس سے منت کرنے لگی۔ (قرآن شریف میں بھی لکھا ہے سورۃ یوسف 12: 22-29 ) حضرت یوسف نے اُس عورت سے کہا!

           اس گھر میں مجھ سے بڑا کوئی نہیں اور اُس نے تیرے سوا کوئی چیز مجھ سے باز نہیں رکھی کیونکہ تو اس کی بیوی ہے سو بھلا میں کیوں ایسی بڑی بدی کروں اور خدا کا گنہگار بنوں؟                                                                                                                                                                                                                   پیدائش 39: 9

اور تورات شریف میں دس احکام کے فوراً بعد لکھا ہے۔

           موسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تم ڈرو مت کیونکہ خدا اس لیے آیا ہے کہ تمہارا امتحان کرےاور تم کو اُس کا خوف ہو تاکہ تم گناہ نہ کرو                خروج 20:20

ان دونوں جگہوں میں یہ ہی عبرانی لفظ " יַחֲטִֽא ” جسکا ترجمہ "گناہ” ہے۔ یہ بالکل وہ لفظ ہے۔ جس کے بارے کہاگیا تھا۔ کہ فوجی وہ ہے جس کا نشانہ "خطا” نہیں ہوتا۔ ان آیات میں "گناہ” کا مطلب ہے۔ جب ہم لوگوں کے ساتھ اپنے معاملات نمٹاتے ہیں۔ تو گناہ کو سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک حیرت انگیز تصویر دی ہے۔ جب ایک سپاہی فلاخن سے نشانہ لگاتا ہے۔ اور اگر وہ نشانہ خطا ہوجائے تو اُس کا مقصد ناکام ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ہدف کا نشانہ بنایا ہے۔ کہ کس طرح ہم اُس کی عبادت کریں۔ اور کیسے ہم دوسروں سے رویہ رکھیں۔ "گناہ” کا مطلب نشانے کا خطا ہو جانا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقرر کیا ہے۔ یہ ہی صورت حال ہے جب ہم تمام احکامات کی پیروی نہیں کرتے اور اس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے ارادے کو اپنی زندگی میں سے (خطا) چھوڑ دیتے ہیں۔

تورات میں گناہ کا نتیجہ (موت)

          لہذا اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ ہم نے پہلے حضرت آدم کی نشانی میں اس کے بارے میں ارشارہ دیکھا تھا۔ جب حضرت آدم نے اللہ تعالیٰ کی (صرف ایک بار) نافرمانی کی تو اُس کو فانی بنا دیا گیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں اب وہ وفات پائے گا۔ یہ حضرت نوح کی نشانی میں جاری رہا اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو سیلاب کے ساتھ مارا۔ اور یہ حضرت لوط کی نشانی میں جاری رہا۔ جہاں فیصلہ دوبارہ موت ہی تھا۔ حضرت ابراہیم کے بیٹے کو بھی قربانی سے مرنا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کی جگہ مینڈھا فراہم کردیا۔ مصر میں دسویں آفت فسح پر پہلوٹھوں کی موت کا حکم دیا گیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کوہ طور پر بات کی تو اس رحجان کو جاری رکھا گیا۔ ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خود دس احکام کو تختیوں پر لکھ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے درجہ ذیل احکام دیۓ۔

10 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ لوگوں کے پاس جا اور آج اور کل اُن کو پاک کر اور وہ اپنے کپڑے دھولیں۔ 11 اور تیسرے دن تیار رہیں کیونکہ خداوند تیسرے دن سب لوگوں کے دیکھتے دیکھتے کوہ سینا پر اُترے گا۔ 12 اور تو لوگوں کے لیے چاروں طعف حد باندھ کر اُن سے کہہ دینا کہ خبردار تم نہ تو اس پہاڑ پر چڑھنا اور نہ اس کے دامن کو چھونا۔ جو کوئی پہاڑ کو چھوئے ضرور جان سے مار ڈالا جائے۔

                                                                                                خروج 19: 10-12

یہ طریقہ پوری تورات میں جاری رہتا ہے۔ بعد میں بنی اسرائیل نے کُلی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی (انہوں نے گناہ کیا) کی۔ لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ کی مقدس ہیکل میں گے۔ یہاں اُن کی پریشانی پر غور کریں جب اپنی اس حالت کا نتیجہ دیکھا۔

12 اور بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا۔ دیکھ ہم نیست ہوئے جاتے۔ ہم ہلاک ہوئے جاتے۔ ہم سب کے سب ہلاک ہوئے جاتے ہیں۔ 13  جو کوئی خداوند کے مسکن کے نزدیک جاتا ہے مر جاتا ہے۔ تو کیا ہم سب کے سب نیست ہی ہوجائیں گے؟   گنتی 17: 12-13

حضرت ہارون جو حضرت موسیٰ کا بھائی تھا۔ جس کے دو بیٹے تھے۔ جو مقدس ترین مقام میں اپنے گناہ کی حالت میں داخل ہوئے اور وہاں مرگے۔

1 اور ہارون کے دو بیٹوں کی وفات کے بعد جب وہ خداوند کے نزدیک آئے اور مرگئے۔ 2 خداوند موسیٰ سے ہم کلام ہوا اور خداوند نے موسیٰ سے کہا اپنے بھائی ہارون سے کہہ کہ وہ ہر وقت پردہ کے اندر کے پاکترین مقام میں سرپوش کے پاس جو صندوق کے اوپر ہے نہ آیا کرے تاکہ وہ مرنہ جائے۔ کیونکہ میں سرپوش پر ابر میں دکھائی دوں گا۔

                                                                                                اخبار 16: 1-2

تاہم ہارون کو سیکھایا گیا تھا کہ وہ کیسے پاک ترین مقام میں داخل ہوسکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اُس کو ایک کاہین کے طور پر یہ ہدایت بخشی تھی۔

7 پر مذبح کی اور پردہ کے اندر کی خدمت تیرے اور تیرے بیٹوں کے ذمہ ہے۔ سو اُس کے لیے تم اپنی کہانت کی حفاظت کرنا۔ وہاں تم ہی خدمت کیا کرنا۔ کہانت کی خدمت کا شرف میں تم کو بخشتا ہوں اور جو غیر شخص نزدیک آئے وہ جان سے مار جائے۔

                                                                                                گنتی 18: 7

 اس کے بعد حضرت موسیٰ کے پاس وراثت کے معاملہ کے لیے کچھ بیٹیاں آییں۔ جن کا کوئی بھائی نہیں تھا۔ سوال یہاں یہ ہے کہ اُن کا باپ کیوں مرگیا تھا۔

3 ہمارا باپ بیابان میں مرا پر وہ اُن لوگوں میں شامل نہ تھا جنہوں نے قورح کے فریق سے مل کر خداوند کے خلاف سر اُٹھایا تھا بلکہ وہ اپنے گناہ میں مرا اور اُس کے کوئی بیٹا نہ تھا۔                                                                        گنتی 27: 3

تاہم تورات شریف کے آخر میں ایک عالمگیر نمونہ دیا گیا تھا۔

16 ۔ ۔ ۔ ہر ایک اپنے ہی گناہ کے سبب سے مارا جائے۔  استثنا 24: 16

اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل (اور ہمیں) کو سیکھا رہا تھا کہ گناہ کا نتیجہ موت ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت

                             لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں کیا پایا جاتا ہے؟ کیا اس کا ثبوت ہمیں کہیں بھی مل سکتا ہے۔ جی ہاں یہ ہمارے لیے اہم ہے خاص کرجنہوں نے گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی راستبازی سے محروم ہیں۔ اب اس کو ہم اور واضح حضرت ہارون کی نشانی "ایک گائے اور دو بکریوں ” میں سیکھ سکیں گے۔