جی ہاں میں تمام احکامات کی فرمانبرداری کرتا ہوں

مبارک ہو! آپ قیامت والے دن بہت زیادہ پرُاعتماد اور خوف سے آزاد ہونگے کیونکہ اگر تم نے تمام احکامات کی فرمانبرداری کی تو آپ راستباز (جنتی) بن جائیں گے۔ ذاتی طور پر میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا۔ جس نے اس طرح تمام احکامات کی اطاعت کی ہو۔ لیکن یہ واقعی ایک عظیم کامیابی ہے۔ لیکن اپنی کوششوں کو روکیں مت کیونکہ آپ کو ہمیشہ کی زندگی میں داخل ہونے کے لیے سیدھے راستہ پر چلتے رہنا ہے

                میں نے کہا تھا کہ دس احکام اور شریعت کبھی بھی منسوح نہیں ہوئے۔ کیونکہ یہ زندگی کے بنیادی اصول ہیں۔ کہ ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت، زنا، چوری اور صداقت جیسے معاملات میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ لیکن بعد میں انبیاءاکرام نے ان احکامات کی مزید تفصیل سے وضاحت کی۔ ذیل میں حضرت عیسیٰ مسیح نے انجیل شریف میں بتایا ہے۔ کہ کیسے ہم ان دس احکام پر عمل کرسکتے ہیں۔ ان کی تعلیم میں وہ فریسیوں سے مخاطب ہو کر بات کرتے ہیں۔ یہ اُس وقت کے مذہبی اُستاد تھے۔ ان کو آج کے مذہبی علماء یا عالم کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

حضرت عیسیٰ کی تعلیم دس احکام کے بارے میں

20  کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تُمہاری راستبازی فقِیہوں اور فرِیسِیوں کی راستبازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تُم آسمان کی بادشاہی میں ہرگِز داخِل نہ ہوگے۔
21 تُم سُن چُکے ہوکہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خُون نہ کرنا اور جو کوئی خُون کرے گا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا۔
22  لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنے بھائِی پر غُصّے ہوگا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا اور جو کوئی اپنے بھائِی کو پاگل کہے گا وہ صدرِ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا اور جو اُس کو احمق کہے گا وہ آتشِ جہنّم کا سزاوار ہوگا۔
23 پَس اگر تُّو قُربان گاہ پر اپنی نذر گُزرانتا ہو اور وہاں تُجھے یاد آئے کہ میرے بھائِی کو مُجھ سے کُچھ شِکایت ہے۔
24 تو وَہیں قربانگاہ کے آگے اپنی نذر چھوڑ دے اور جا کر پہلے اپنے بھائِی سے مِلاپ کر تب آ کر اپنی نذر گُزران۔
25   جب تک تُو اپنے مُدّعی کے ساتھ راہ میں ہے اُس سے جلدی صُلح کرلے۔ کہِیں اَیسا نہ ہوکہ مُدّعی تُجھے مُنصِف کے حوالہ کردے اور مُنصِف تُجھے سِپاہی کے حوالہ کردے اور تُو قَید خانہ میں ڈالا جائے۔
26 مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُو کوڑی کوڑی ادا نہ کردے گا وہاں سے ہرگِز نہ چھُوٹے گا۔
27 تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زِنا نہ کرنا۔
28 لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جِس کِسی نے بُری خواہِش سے کِسی عَورت پر نگاہ کی وہ اپنے دِل میں اُس کے ساتھ زِنا کرچکا۔
29   پَس اگر تیری دہنی آنکھ تُجھے ٹھوکر کھلائے تو اُسے نِکال کر اپنے پاس سے پھینک دے کِیُونکہ تیرے لِئے یہی بہُتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بَدَن جہنّم میں نہ ڈالا جائے۔
30 اور اگر تیرا دہنا ہاتھ تُجھے ٹھوکر کھلائے تو اُس کو کاٹ کر اپنے پاس سے پھینک دے کِیُونکہ تیرے لِئے یہی بہُتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بَدَن جہنّم میں نہ جائے۔

                                                                                متی 5: 20-30

اس کئ علاوہ حضرت عیسٰی مسیح کے صحابہ اکرام نے بھی بت پرستی کے بارے میں سکھایا۔ اُنہوں نے سکھایا کہ بت پرستی صرف یہ ہی نہیں کی بتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ بلکہ بت پرستی ہراُس بات میں ہے جس میں کسی چیز کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ ترجحات دینا شروع کردی جائے۔ اور اس میں روپیہ پیسہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔ تاہم آپ کو محسوس کریں گے۔ اُنہوں نے "لالچ” کو بھی بت پرستی کہا۔ کیونکہ لوگ پیسے کی بھی خدا کے ساتھ عبادت کرتے ہیں۔

5    پَس اپنے اُن عضا کو مُردہ کرو جو زمِین پر ہیں یعنی حرامکاری اور ناپاکی اور شہوت اور بُری خواہِش اور لالچ کو جو بُت پرستی کے برابر ہے۔
6 کہ اُن ہی کے سبب سے خُدا کا غضب نافرمانی کے فرزندوں پر نازِل ہوتا ہے۔

                                                                                کلسیوں 3: 5-6

4  اور نہ بےشرمی اور بیہُودہ گوئی اور ٹھٹھّا بازی کا کِیُونکہ یہ لائِق نہِیں بلکہ برعکس اِس کے شُکرگُذاری ہو۔
5   کِیُونکہ تُم یہ خُوب جانتے ہو کہ کِسی حرمکار یا ناپاک یا لالچی کی جو بُت پرست کے برابر ہے مسِیح اور خُدا کی بادشاہی میں کُچھ مِیراث نہِیں۔
6  کوئی تُم کو بے فائِدہ باتوں سے دھوکا نہ دے کِیُونکہ اِن ہی گُناہوں کے سبب سے نافرمانی کے فرزندوں پر خُدا کا غضب نازِل ہوتا ہے۔

                                                                                افسیوں 5: 4-6

اصل میں دس احکام کی ان وضاحتوں میں بیرونی اعمال کو واضع طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اندرونی حالت صرف اللہ تعالیٰ ہی جان سکتا ہے۔ یہ بات اس طرح شریعت کو اور مشکل بنا دیتی ہے۔

تو اس طرح آپ اپنے جواب پر نظر ثانی کرسکتے ہیں۔ کہ آیا آپ سارے احکام کی اطاعت کرتے ہیں یا نہیں۔ لیکن اگر آپ کو یقین ہو کہ آپ سارے احکام کی فرمانبرداری کررہے ہیں۔ تو پھر انجیل شریف آپ کے لیے بے معنی ہے۔ اور اس لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ آپ مزید نشانات اور انجیل شریف کے بارے سمجھیں۔ کیوں کی انجیل شریف صرف اُن کے لیے ہے جو شریعت کے احکام پر مکمل طور پر عمل نہیں کر سکتے۔ یہ اُن کے لیے نہیں جو شریعت پر مکمل طور پر عمل کرتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ مسیح نے مندرجہ ذیل انداز میں اس کی وضاحت کی۔

10   اور جب وہ گھر کھانا کھانے بَیٹھا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ بہُت سے محصُول لینے والے اور گُنہگار آ کر یِسُوع اور اُس کے شاگِردوں کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے۔
11  فرِیسِیوں نے یہ دیکھ کر اُس کے شاگِردوں سے کہا تُمہارا اُستاد محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کے ساتھ کِیُوں کھاتا ہے۔
12  اُس نے یہ سُن کر کہا کہ تندرُستوں کو طبِیب کی ضرورت نہِیں بلکہ بِیماروں کو۔
13   مگر تُم جا کر اِس کے معنی دریافت کرو کہ مَیں قربانی نہِیں بلکہ رحم پسند کرتا ہُوں کِیُونکہ مَیں راستبازوں کو نہِیں بلکہ گُنہگاروں کو بُلانے آیا ہُوں۔

                                                                                      متی 9 :10-13

نہیں میں تمام احکامات کی فرمانبرداری نہیں کی

نہیں میں تمام احکامات کی فرمانبرداری نہیں کی

مجھے بڑے افسوس سے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ یہ خوشخبری نہیں ہے۔ دراصل یہ بہت بُری خبر ہے۔ کیونکہ اسکا مطلب ہے (اور یہ ہی مسلہ میرے ساتھ بھی ہے) کہ آپ راستباز نہیں ہیں۔ راستبازی بڑی اہم ہے کیونکہ یہ ہی اللہ تعالیٰ کی جنت میں جانے کی بنیاد ہے۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ روزمرہ زندگی کے معاملات میں راستبازی ہوگی۔ (کہ نہ جھوٹ بولا جائے، نہ چوری کی جائے، نہ قتل کیا جائے، نہ بت پرستی کی جائے، اور اس طرح کے گناہ نہ کئے جایئں) اور اللہ تعالیٰ کی حقیقی اور سچائی کے ساتھ عبادت کی جائے اور یہ ہمیں جنت میں لے جائے گی۔ اس لیے حضرت داود زبور شریف میں بیان کرتے ہیں کہ راستبازی جنت میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے۔ صرف اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں بیان ہے کہ وہ جنت میں داخل ہونگے۔

زبور 15: 1-5

1 اے خداوند تیرے خمیہ میں کون رہے گا؟

تیرے کوہ مقدس پر کون سکونت کرے گا؟

2 وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔

3 وہ جو اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سنتا۔

4 وہ جس کی نظر میں رذیل آدمی حقیر ہے پر جو خدوند سے ڈرتے ہیں اُن کی عزت کرتا ہے۔ وہ جو قسم کھا کر بدلتا نہیں خواہ نقصان ہی اُٹھائے۔

5 وہ جو اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھائے گا۔

تفہیم گناہ

          لیکن جب ہم (آپ اور میں) راستبازی کے کام نہیں کرتے۔ تو ہم احکام کی فرمانبرداری نہیں کر رہے ہوتے تو پھر ہم  گناہ کرتے ہیں۔ گناہ کیا ہے؟ تورات شریف کے فوراً بعد ایک آیت نے مجھے اس کو سمجھنے میں بڑی مدد دی ۔ یہ آیت اس طرح کہتی ہے۔

ان سب لوگوں میں سے سات سو چنے ہوئے بیں ہتھے جوان تھے جن میں سے ہر ایک فلاخن سے بال کے نشانہ پر بغیر خطا کئے پتھر مار سکتا تھا۔    قضاۃ 20: 16

یہ آیت بیان کرتی ہے کہ ایک فوجی وہ ہے جو فلاخن چلانے میں ماہر ہو اور اُس کا نشان کبھی خطا نہیں کھاتا ۔ تورات شریف اور پرانے عہدنامہ کو تمام انبیاء اکرام نے عبرانی میں لکھا۔ عبرانی میں لفظ " יַחֲטִֽא ” جس کا تلفظ (pronounced Khaw-taw) جسکا ترجمہ "خطا” کیا گیا ہے۔ بالکل اسی عبرانی لفظ کا تورات شریف میں ترجمہ "گناہ” کیا گیا ہے۔ مثال کے طورپر یہ یہی عبرانی لفظ "گناہ” کے طور پر استعمال ہوا۔ جب حضرت یوسف کو مصر میں غلام بنا کربیچ دیا۔ اور اُس کے آقا کی بیوی نے اُس سے بدکاری کرنے کو کہا۔ لیکن حضرت یوسف نے انکار کردیا۔ چنانچہ وہ اس سے منت کرنے لگی۔ (قرآن شریف میں بھی لکھا ہے سورۃ یوسف 12: 22-29 ) حضرت یوسف نے اُس عورت سے کہا!

           اس گھر میں مجھ سے بڑا کوئی نہیں اور اُس نے تیرے سوا کوئی چیز مجھ سے باز نہیں رکھی کیونکہ تو اس کی بیوی ہے سو بھلا میں کیوں ایسی بڑی بدی کروں اور خدا کا گنہگار بنوں؟                                                                                                                                                                                                                   پیدائش 39: 9

اور تورات شریف میں دس احکام کے فوراً بعد لکھا ہے۔

           موسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تم ڈرو مت کیونکہ خدا اس لیے آیا ہے کہ تمہارا امتحان کرےاور تم کو اُس کا خوف ہو تاکہ تم گناہ نہ کرو                خروج 20:20

ان دونوں جگہوں میں یہ ہی عبرانی لفظ " יַחֲטִֽא ” جسکا ترجمہ "گناہ” ہے۔ یہ بالکل وہ لفظ ہے۔ جس کے بارے کہاگیا تھا۔ کہ فوجی وہ ہے جس کا نشانہ "خطا” نہیں ہوتا۔ ان آیات میں "گناہ” کا مطلب ہے۔ جب ہم لوگوں کے ساتھ اپنے معاملات نمٹاتے ہیں۔ تو گناہ کو سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک حیرت انگیز تصویر دی ہے۔ جب ایک سپاہی فلاخن سے نشانہ لگاتا ہے۔ اور اگر وہ نشانہ خطا ہوجائے تو اُس کا مقصد ناکام ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ہدف کا نشانہ بنایا ہے۔ کہ کس طرح ہم اُس کی عبادت کریں۔ اور کیسے ہم دوسروں سے رویہ رکھیں۔ "گناہ” کا مطلب نشانے کا خطا ہو جانا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقرر کیا ہے۔ یہ ہی صورت حال ہے جب ہم تمام احکامات کی پیروی نہیں کرتے اور اس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے ارادے کو اپنی زندگی میں سے (خطا) چھوڑ دیتے ہیں۔

تورات میں گناہ کا نتیجہ (موت)

          لہذا اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ ہم نے پہلے حضرت آدم کی نشانی میں اس کے بارے میں ارشارہ دیکھا تھا۔ جب حضرت آدم نے اللہ تعالیٰ کی (صرف ایک بار) نافرمانی کی تو اُس کو فانی بنا دیا گیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں اب وہ وفات پائے گا۔ یہ حضرت نوح کی نشانی میں جاری رہا اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو سیلاب کے ساتھ مارا۔ اور یہ حضرت لوط کی نشانی میں جاری رہا۔ جہاں فیصلہ دوبارہ موت ہی تھا۔ حضرت ابراہیم کے بیٹے کو بھی قربانی سے مرنا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کی جگہ مینڈھا فراہم کردیا۔ مصر میں دسویں آفت فسح پر پہلوٹھوں کی موت کا حکم دیا گیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کوہ طور پر بات کی تو اس رحجان کو جاری رکھا گیا۔ ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خود دس احکام کو تختیوں پر لکھ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے درجہ ذیل احکام دیۓ۔

10 اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ لوگوں کے پاس جا اور آج اور کل اُن کو پاک کر اور وہ اپنے کپڑے دھولیں۔ 11 اور تیسرے دن تیار رہیں کیونکہ خداوند تیسرے دن سب لوگوں کے دیکھتے دیکھتے کوہ سینا پر اُترے گا۔ 12 اور تو لوگوں کے لیے چاروں طعف حد باندھ کر اُن سے کہہ دینا کہ خبردار تم نہ تو اس پہاڑ پر چڑھنا اور نہ اس کے دامن کو چھونا۔ جو کوئی پہاڑ کو چھوئے ضرور جان سے مار ڈالا جائے۔

                                                                                                خروج 19: 10-12

یہ طریقہ پوری تورات میں جاری رہتا ہے۔ بعد میں بنی اسرائیل نے کُلی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی (انہوں نے گناہ کیا) کی۔ لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ کی مقدس ہیکل میں گے۔ یہاں اُن کی پریشانی پر غور کریں جب اپنی اس حالت کا نتیجہ دیکھا۔

12 اور بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا۔ دیکھ ہم نیست ہوئے جاتے۔ ہم ہلاک ہوئے جاتے۔ ہم سب کے سب ہلاک ہوئے جاتے ہیں۔ 13  جو کوئی خداوند کے مسکن کے نزدیک جاتا ہے مر جاتا ہے۔ تو کیا ہم سب کے سب نیست ہی ہوجائیں گے؟   گنتی 17: 12-13

حضرت ہارون جو حضرت موسیٰ کا بھائی تھا۔ جس کے دو بیٹے تھے۔ جو مقدس ترین مقام میں اپنے گناہ کی حالت میں داخل ہوئے اور وہاں مرگے۔

1 اور ہارون کے دو بیٹوں کی وفات کے بعد جب وہ خداوند کے نزدیک آئے اور مرگئے۔ 2 خداوند موسیٰ سے ہم کلام ہوا اور خداوند نے موسیٰ سے کہا اپنے بھائی ہارون سے کہہ کہ وہ ہر وقت پردہ کے اندر کے پاکترین مقام میں سرپوش کے پاس جو صندوق کے اوپر ہے نہ آیا کرے تاکہ وہ مرنہ جائے۔ کیونکہ میں سرپوش پر ابر میں دکھائی دوں گا۔

                                                                                                اخبار 16: 1-2

تاہم ہارون کو سیکھایا گیا تھا کہ وہ کیسے پاک ترین مقام میں داخل ہوسکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اُس کو ایک کاہین کے طور پر یہ ہدایت بخشی تھی۔

7 پر مذبح کی اور پردہ کے اندر کی خدمت تیرے اور تیرے بیٹوں کے ذمہ ہے۔ سو اُس کے لیے تم اپنی کہانت کی حفاظت کرنا۔ وہاں تم ہی خدمت کیا کرنا۔ کہانت کی خدمت کا شرف میں تم کو بخشتا ہوں اور جو غیر شخص نزدیک آئے وہ جان سے مار جائے۔

                                                                                                گنتی 18: 7

 اس کے بعد حضرت موسیٰ کے پاس وراثت کے معاملہ کے لیے کچھ بیٹیاں آییں۔ جن کا کوئی بھائی نہیں تھا۔ سوال یہاں یہ ہے کہ اُن کا باپ کیوں مرگیا تھا۔

3 ہمارا باپ بیابان میں مرا پر وہ اُن لوگوں میں شامل نہ تھا جنہوں نے قورح کے فریق سے مل کر خداوند کے خلاف سر اُٹھایا تھا بلکہ وہ اپنے گناہ میں مرا اور اُس کے کوئی بیٹا نہ تھا۔                                                                        گنتی 27: 3

تاہم تورات شریف کے آخر میں ایک عالمگیر نمونہ دیا گیا تھا۔

16 ۔ ۔ ۔ ہر ایک اپنے ہی گناہ کے سبب سے مارا جائے۔  استثنا 24: 16

اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل (اور ہمیں) کو سیکھا رہا تھا کہ گناہ کا نتیجہ موت ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت

                             لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں کیا پایا جاتا ہے؟ کیا اس کا ثبوت ہمیں کہیں بھی مل سکتا ہے۔ جی ہاں یہ ہمارے لیے اہم ہے خاص کرجنہوں نے گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی راستبازی سے محروم ہیں۔ اب اس کو ہم اور واضح حضرت ہارون کی نشانی "ایک گائے اور دو بکریوں ” میں سیکھ سکیں گے۔

یہ ویب سائٹ کس کے بارے میں نہیں

یہ سائٹ انجیل شریف کے بارے میں ہے۔ لیکن یہ سائٹ عیسائیت کے بارے میں نہیں۔ میں نے اس کا فرق کچھ وجوہات کی بنا پر کیا ہے۔

سب سے پہلے میں اپنے بارے میں بیان کرتا ہوں ۔ کہ انجیل شریف  میں مجھے ہمیشہ انبیاءاکرام کے بارے میں پڑھنے کو ملا ہے۔ میری اس میں ہر بار دلچسپی بڑی ہے اور میری زندگی انبیاءاکرام کے حالات و واقعات پڑھنےسے بدل گئی ہے۔ اس کے برعکس عیسائیت سے میں متاثر نہیں ہوا۔ نہ ہی عیسائیت میری دلچسپی کا باعث ہو ئی ہے۔ اس کے براعکس انجیل شریف کا مطالعہ میری دلچسپی کا باعث ہوا ہے۔ اس کے بعد میں یہ ہی لکھ سکتا ہوں کہ اس نے مجھے کیسے چھولیا ہے۔ میں نے اس سائٹ کو صرف انجیل شریف( اور تورت، زبور، اور الکتاب) تک محدود کیا ہے عیسائیت کے بارے میں انٹرنیٹ پر بہت ساری ویب سائٹ موجود ہیں۔ کچھ اچھی ہیں اور کچھ بہت اچھی نہیں۔ میں آپ کو مشورہ دوں گاکہ گوگل (google) پر عیسائیت (Christianity) لکھیں اور جو لنکس (links) سامنے آئیں ۔ اُن کو پڑھنا شروع کردیں۔

شاید ان لنکس کو پڑھنے کے بعد آپ عیسا ئیت اور انجیل کے بارے میں کچھ فرق جان سکیں۔ آپ اس کا فرق شائد اس طرح جانیں۔ جیسے ایک مسلمان اور ایک عربی شخص میں ہو۔ مغرب میں بہت سے لوگ سوچتے ہیں یہ دونوں ایک ہی ہیں۔ مثال کے طور پر تمام عرب مسلمان ہیں اور تمام مسلمان عرب ہیں۔ یقینا دونوں کے درمیان زبردست مطابقت اور اثر و رسوح ہے۔ اسلام پر عربی ثقافت اور رسوم ورواج کا بہت بڑا اثر ہے۔ اس کے بعد حضرت محمد ﷺ اور اُن کے جانشین عربی تھے یہ بھی درست ہے۔ اسلام کی آبیاری اور پرورش عربی ماحول میں ہی ہوئی ۔ آج قران شریف عربی زبان میں پڑھا اور سمجھا جاتا ہے۔ تاہم بہت سے مسلمان عربی نہیں اور بہت سے عربی مسلمان نہیں ہیں۔ تاہم ایک دوسرے کے اثرو رسوح میں ڈھانپ ہوئے ہیں لیکن یہ ایک جیسے نہیں۔

یہ ہی حال انجیل شریف اور عیسائیت کے ساتھ بھی ہے۔ عیسائیت میں بہت سارے عقائد اورعبادت کے طریقے پائے جاتے ہیں۔ جو انجیل شریف کا حصہ نہیں۔ مثال کے طور پر ایسڑ اور کرسمس معروف ترین تقریبات ہیں۔ شائد سب سے زیادہ معروف ہیں۔ شاید یہ ہی عیسائیت کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ یہ تہوار حضرت عیسٰی المسیح کی پیدائش اور موت سے جی اُٹھنے کی یاد میں منائے جاتے ہیں۔ جو انجیل شریف کے مرکزی بیان ہیں۔ لیکن انجیل شریف میں سے کوئی بھی حوالہ ہمیں نہیں ملتا جس میں یہ حکم ہو کہ تم نے ان کو عید کے طور پر مناننا ہے۔ میں ان تہواروں کو بڑھے شوق سے مناتا ہوں ۔ لیکن بہت سے میرے دوست جن کی انجیل شریف میں دلچسپی نہیں وہ بھی ان کو مناتے ہیں۔ سچائی تو یہ ہے ۔ عیسائیت میں بہت سے ایسے فرقے ہیں جو ان تہواروں کو سال میں مختلف دنوں میں مناتے ہیں۔ ایک اور مثال ہے ۔ انجیل شریف میں حضرت عیسٰی المسیح نے اپنے شاگردوں سے کہہ” تم پر سلامتی ہو“ جسکا مطلب ہے، اسلام و علیکم۔ لیکن آج عیسائی اس طرح سلام نہیں لیتے۔

یوحنا کی انجیل 20:19

پھر اُسی دن جو ہفتہ کا پہلادن تھا شام کے وقت جب وہاں کے دروازے جہاں شاگرد تھے یہودیوں کے ڈر سے بند تھے یسوع آکر بیچ میں کھڑاہوا اور اُن سے کہا تمہاری سلامتی ہو!۔

یہ تہوار ، تصاویر، اور گرجاگھر سب حضرت عیسٰی المسیح کی انجیل کے نازل ہونے کے بعد عیسائیت میں شروع ہوا۔ اگرچہ ان دونوں کے درمیان بہت موماثلت پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ ایک جیسی نہیں ہیں۔ دراصل پوری انجیل شریف (الکتاب) میں لفظ”مسیحی یا عیسائیت تین بار استعمال ہوا ہے۔ پہلی بار اس کا ذکر مشرکین نے حضرت عیسٰی المسیح کے شاگردوں کے لیے استعمال کیا۔

رسولوں کے اعمال 11:26

اور جب وہ ملا تو اُسے انطاکیہ میں لایا ایسا ہوا کہ وہ سال بھر تک کلیسیا کی جماعت میں شامل ہوتے اور بہت سے لوگوں کو تعلیم دیتے رہے اورشاگرد پہلے انطاکیہ ہی میں مسیحی کہلائے۔

انطاکیہ کے لوگ اُس وقت بہت سارے خداوں کی عبادت کرتے تھے۔ جب عیسٰی المسیح کے شاگردوں نے آپ کی تعلمات کی پیروی کرنا شروع کی تو ان لوگوں نے اُن کو ”عیسائی (یا) مسیحی کہنا شروع کردیا۔ عام طور پر انجیل شریف کی پیروی کرنے والوں کو انجیل اس طرح مخاطب ہوتی ہے۔ ” ایماندار، شاگرد، راہ کی پیروی کرنے والے، یعنی وہ جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دے دیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک کے پاس انجیل شریف کو سمجھنے کا موقع ہونا چاہے۔ اس مقصد کے لیے میں نے مغربی سیکولر لوگوں کے لیے ایک ویب سائٹ بنائی ہے۔ جومغربی ثقافت کے لوگوں کے لیے ہے۔ لیکن اس ویب سائٹ میں بہت سے ایسے سوالوں کے جواب ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے پہلے سے جانتے ہیں۔ مثال کوطور پر ” کیا اللہ تعالیٰ کا وجود ہے؟ “ اسلام اور انجیل میں بہت سی تاریخی ااور بنیادی باتیں مشترک پائی جاتی ہیں۔ جب بھی کوئی نا اتفاقی ہوتی ہے ۔ تو یہ ناواقفیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب سے مجھے اپنے مسلمان دوستوں سے قرآن شریف اور حدیث شریف کو سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ تو وہ مجھ سے انجیل شریف کے بارے بہتر سمجھ بوجھ حاصل کررہے ہیں۔

میں نے سوچا کہ اس ویب سائٹ کا آغاز کرتا ہوں۔ انشااللہ یہ تمام ایمانداروں کا انبیاءاکرام کی تعلمات کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ یہ زندگیوں کو مسلسل بدلتی رہے گی۔ جس طرح حضرت عیسیٰ المسیح نے موثر طریقے سے صراط مستقیم کی قوت سے بھرپور تعلیم دی۔ جو اللہ تعالیٰ کا ڈر رکتھے ہیں وہ جانتے ہیں کہ انجیل شریف جو حضرت عیسیٰ پر نازل ہوئی اس میں اللہ تعالیٰ نے انبیاءاکرام کے بارے کیا تعلیم دی۔ ہمیں انجیل شریف کو عیسائیت کی نزاع و تکرار کو چھوڑ کر اس کا مطالعہ کرنا چاہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ بھی اُسی طرح پائیں گے جس طرح میں نے تلاش کرلیا کہ انجیل شریف کا مطالعہ ہمارے لیے دلچسپ اور عملی بنیادوں پر مبنی ہے۔