اس دن : ا ل – انشقاق اور ات — طور ال مسیح

سورہ ال – انشقاق ( سورہ 84 –آفتاب کا پھٹنا) بیان کرتا ہے کہ فیصلے کے دن ( قیامت کے دن) کس طرح آسمان اور زمیں ہلائی جاینگی –   

 جب آسمان پھٹ جاےگا اور اپنے پروردگار کا حکم بجا لیگا اسے واجب بھی یہی ہے اور جب زمیں تان دی جاےگی اور جو کچھ اس میں ہے اگل دیگی اور برابر کرکے بلکل خالی ہو جاےگی تب قیامت آ جا یگی اور اپنے پروردگار کا حکم بجا لیگی اور اس پر لازم بھی یہی ہے – اے انسان تو اپنے  پروردگار کی حضوری میں پہنچنے کی خوب کوشش کرتا ہے کہ تو اس سے جا ملیگا مگر جسکا نامہ اعمال اسکے داہنے  ہاتھ میں دیا جاےگا (اس دن)تو اسکے سامنے حاضر ہوگا – اس سے حساب آسانی سے لیا جاےگا – اور وہ اپنے گھر والوں میں خوشی خوشی آے  گا لیکن جس کا نامہ اعمال اسکے پیٹھ پیچھے دیا جاےگا وہ تو موت کی دعا کریگا اور جہنّم کا وارث ہوگا –   

84:1-12 ال –انشقاق

سورہ ال انشقاق ان لوگوں کو خبردار کرتا ہے جنکے اعمال کا حساب کتاب انکے داہنے ہاتھ میں نہیں دیا جاےگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالے جاینگے –

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے اعمال کا حساب کتاب آپکڑ داہنے ہاتھ میں دئے  جاینگے یا آپ کے پیٹھ پیچھے دئے جایںگے ؟

سورہ ات  – طور (سورہ 52 – چڑھنا) انصاف کے دن زمین کے ہلائے جانے کی بابت اور لوگوں کی خستہ حالی کی بابت تفصیل سے بیان کرتا ہے –   

تو تم انکو انکی حالت پر چھوڑ دو یہاں تک وہ جسمیں (اے رسول ) یہ بیہوش ہو جاینگے ان کے سامنے آجانے جس دن نہ انکی مکّاری ہی کچھ کام آئیے گی اور نہ انکی کچھ مدد کی جائے گی اور اسمیں کوئی شک نہیں کہ ظالموں کے لئے اس کے علاوہ اور بھی کوئی عذاب ہے مگر ان میں بہتیرے نہیں جانتے ہیں –

52:45-47سورہ ات – طور

کیا آپ کو پکّا یقین ہے کہ آپ نے کوئی ‘خطا قصور نہیں کی’ اور کبھی سچچائی کا برتاؤ نہیں کیا جیسے کہ ‘جھٹلانا’ (جھوٹ بولنا)  جس سے کہ آپ فیصلے کے دن عذاب سے چھوٹ جایں ؟

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح ان لوگوں کی مدد کرنے آئے جنہیں یقین نہیں ہے کہ انصاف کے دن انکا  اعمال نامہ کسطرح دیا جائے گا –وہ انکی مدد کرنے آئے جن کو کسی طرح کی مدد ملنے کے آثار نظر نہیں آتے –انہوں نے انجیل شریف میں کہا :  

 

(7)پس یِسُو ع نے اُن سے پِھر کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ بھیڑوں کا دروازہ مَیں ہُوں۔
(8)جِتنے مُجھ سے پہلے آئے سب چور اور ڈاکُو ہیں مگر بھیڑوں نے اُن کی نہ سُنی۔
(9)دروازہ مَیں ہُوں ۔ اگر کوئی مُجھ سے داخِل ہو تو نجات پائے گا اور اندر باہر آیا جایا کرے گا اور چارا پائے گا۔
(10)چور نہیں آتا مگر چُرانے اور مار ڈالنے اور ہلاک کرنے کو ۔ مَیں اِس لِئے آیا کہ وہ زِندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔
(11)اچھّا چَرواہا مَیں ہُوں ۔ اچھّا چَرواہا بھیڑوں کے لِئے اپنی جان دیتا ہے۔
(12)مزدُور جو نہ چَرواہا ہے نہ بھیڑوں کا مالِک ۔ بھیڑئے کو آتے دیکھ کر بھیڑوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور بھیڑیا اُن کو پکڑتا اور پراگندہ کرتا ہے۔
(13)وہ اِس لِئے بھاگ جاتا ہے کہ مزدُور ہے اور اُس کو بھیڑوں کی فِکر نہیں۔
(14)اچھّا چَرواہا مَیں ہُوں ۔ جِس طرح باپ مُجھے جانتا ہے اور مَیں باپ کو جانتا ہُوں۔
(15)اِسی طرح مَیں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہُوں اور میری بھیڑیں مُجھے جانتی ہیں اور مَیں بھیڑوں کے لِئے اپنی جان دیتا ہُوں۔
(16)اور میری اَور بھی بھیڑیں ہیں جو اِس بھیڑ خانہ کی نہیں ۔ مُجھے اُن کو بھی لانا ضرُور ہے اور وہ میری آواز سُنیں گی ۔ پِھر ایک ہی گلّہ اور ایک ہی چَرواہا ہو گا۔
(17)باپ مُجھ سے اِس لِئے مُحبّت رکھتا ہے کہ مَیں اپنی جان دیتا ہُوں تاکہ اُسے پِھر لے لُوں۔
(18)کوئی اُسے مُجھ سے چِھینتا نہیں بلکہ مَیں اُسے آپ ہی دیتا ہُوں ۔ مُجھے اُس کے دینے کا بھی اِختیار ہے اور اُسے پِھر لینے کا بھی اِختیار ہے ۔ یہ حُکم میرے باپ سے مُجھے مِلا۔

10:7-18یوحننا

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے اپنی بھیڑوں کی حفاظت کرنے اور انھیں زندگی دینے کے لئے اپنے بڑے اختیار کا دعوی کیا – یہاں تک کہ آنے والے اس دہشت ناک دن سے بچانے کے لئے بھی – کیا وہ اس طرح کا اختیار رکھتے ہیں ؟ان دعووں کے لئے ان کا اختیار تورات کے نبی حضرت موسیٰ کے ذریعے ثابت ہوا کہ کس طرح انہوں نے کاینات کی چھ دنوں کی تخلیق سے انکے اختیارات کی بابت نبوت کی اور پہلے سے دیکھا گیا پھر زبور اور آنے والے نبیوں نے ان کے آنے کی بابت تفصیل سے نبوت کی تاکہ ہم اس بات کو جانیں کہ حقیقت میں ان کا آسمان سے آنا آسمانی منصوبے کے تحت تھا مگر کوئی کس طرح سے ‘اسکی بھیڑ’  بن سکتا ہے اور اسکا کیا مطلب ہے کہ "میں بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہوں”اسے ہم یہاں دیکھتے ہیں –

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی تعلیمات ہمیشہ ہی لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتی رہی ہے – یہ انکے زمانے میں سو فیصدی صحیح تھا –یھاں وہ بیان ہے کہ کیسے یہ بحث ختم ہوتی ہے اور کس طرح سے لوگ جو انکی سنتے تھے الگ ہو گئے تھے –    

 

(19)اِن باتوں کے سَبَب سے یہُودِیوں میں پِھر اِختلاف ہُؤا۔
(20)اُن میں سے بُہتیرے تو کہنے لگے کہ اُس میں بدرُوح ہے اور وہ دِیوانہ ہے ۔ تُم اُس کی کیوں سُنتے ہو؟۔
(21)اَوروں نے کہا یہ اَیسے شخص کی باتیں نہیں جِس میں بدرُوح ہو ۔ کیا بدرُوح اندھوں کی آنکھیں کھول سکتی ہے؟۔
(22)یروشلِیم میں عِیدِ تجدِید ہُوئی اور جاڑے کا مَوسم تھا۔
(23)اور یِسُو ع ہَیکل کے اندر سُلیمانی برآمدہ میں ٹہل رہا تھا۔
(24)پس یہُودِیوں نے اُس کے گِرد جمع ہو کر اُس سے کہا تُو کب تک ہمارے دِل کو ڈانوانڈول رکھّے گا؟ اگر تُو مسِیح ہے تو ہم سے صاف کہہ دے۔
(25)یِسُو ع نے اُنہیں جواب دِیا کہ مَیں نے تو تُم سے کہہ دِیا مگر تُم یقِین نہیں کرتے ۔ جو کام مَیں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہُوں وُہی میرے گواہ ہیں۔
(26)لیکن تُم اِس لِئے یقِین نہیں کرتے کہ میری بھیڑوں میں سے نہیں ہو۔
(27)میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں اور مَیں اُنہیں جانتا ہُوں اور وہ میرے پِیچھے پِیچھے چلتی ہیں۔
(28)اور میں اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی بخشتا ہُوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چِھین نہ لے گا۔
(29)میرا باپ جِس نے مُجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چِھین سکتا۔
(30)مَیں اور باپ ایک ہیں۔
(31)یہُودِیوں نے اُسے سنگسار کرنے کے لِئے پِھر پتّھر اُٹھائے۔
(32)یِسُو ع نے اُنہیں جواب دِیا کہ مَیں نے تُم کو باپ کی طرف سے بُہتیرے اچھّے کام دِکھائے ہیں ۔ اُن میں سے کِس کام کے سبب سے مُجھے سنگسار کرتے ہو؟۔
(33)یہُودِیوں نے اُسے جواب دِیا کہ اچھّے کام کے سبب سے نہیں بلکہ کُفر کے سبب سے تُجھے سنگسار کرتے ہیں اور اِس لِئے کہ تُو آدمی ہو کر اپنے آپ کو خُدا بناتا ہے۔
(34)یِسُو ع نے اُنہیں جواب دِیا کیا تُمہاری شرِیعت میں یہ نہیں لِکھا ہے کہ مَیں نے کہا تُم خُدا ہو؟۔
(35)جب کہ اُس نے اُنہیں خُدا کہا جِن کے پاس خُدا کا کلام آیا (اور کِتابِ مُقدّ س کا باطِل ہونا مُمکِن نہیں)۔
(36)آیا تُم اُس شخص سے جِسے باپ نے مُقدّس کر کے دُنیا میں بھیجا کہتے ہو کہ تُو کُفر بکتا ہے اِس لِئے کہ مَیں نے کہا مَیں خُدا کا بیٹا ہُوں؟۔
(37)اگر مَیں اپنے باپ کے کام نہیں کرتا تو میرا یقِین نہ کرو۔
(38)لیکن اگر مَیں کرتا ہُوں تو گو میرا یقِین نہ کرو مگر اُن کاموں کا تو یقِین کرو تاکہ تُم جانو اور سمجھو کہ باپ مُجھ میں ہے اور مَیں باپ میں۔
(39)اُنہوں نے پِھر اُسے پکڑنے کی کوشِش کی لیکن وہ اُن کے ہاتھ سے نِکل گیا۔
(40)وہ پِھر یَرد ن کے پار اُس جگہ چلا گیا جہاں ےُوحنّا پہلے بپتِسمہ دِیا کرتا تھا اور وہِیں رہا۔
(41)اور بُہتیرے اُس کے پاس آئے اور کہتے تھے کہ یُوحنّا نے کوئی مُعجِزہ نہیں دِکھایا مگر جو کُچھ یُوحنّا نے اِس کے حق میں کہا تھا وہ سچ تھا۔
(42)اور وہاں بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے۔

10:19-42یوحننا

وہ دن : ال مصاد اور ال حد ید اور ال مسیح

سورہ ال – مصاد ( سورہ 111 – کھجور کی ساخت) آخری دن میں (روز محشر) کو بھڑکتی ہوئی آگ کے فیصلے کی بابت خبردار کرتا ہے –   

ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جایں اور وہ خود ستیاناس ہو جاۓ – آخرن اسکا مال ہی اسکے ہاتھ نہ لگے  جو اسنے کمایا – وہ بہت بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا – اور اسکی جورو بھی جو ایندھن سرپر اٹھا ے پھرتی ہے اسکے گلے میں مونج کی رسسی بندھی ہے –  

سورہ ال –لہب 111:1-5

سورہ ال – مصاد خبردار کرتا ہے کہہم برباد ہو سکتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے عزیز بھی جیسے ہماری بیویاں ، یہ  بھی فیصلے کے آخری دن موت کی دھمکی کا سامنا کرینگے –

سو الله کے اس امتحاں کی تییاری کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں جو ہمارے تمام شرمناک پوشیدہ کاموں سے خوب واقف کار ہے ؟

سورہ ال – حدید (سورہ  7 5 – لوہا) ہم سے کہتا ہے کہ الله نے نشانات بھیجے ہیں کہ ہماری شرمناک پوشیدہ چیزوں کی تاریکی میں روشنی کی طرف ہماری رہنمائی کرے –  

وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح اور روشن آیتیں نازل کرتا ہے (اے محمّد) تاکہ تم لوگوں کو روشنی میں (ایمان کی) تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاۓ – اور بے شک خدا تم پر بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے – 

 57:9سورہ ال – حدید

مگر ہمیں خبر دار کیا گیا ہے کہ جو تاریکی میں رہتے تھے وہ مضطربانہ طور سے اس دن روشنی کی تلاش کرینگے –

اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمانداروں سے کہیںگے ایک نظر (شفقت ہماری طرف بھی کرو کہ ہم بھی تمھارے نور سے کچھ روشنی حاصل کریں تو کہا جاےگا کہ تم اپنے پیچھے (ان سے)  (وہیں) لوٹ جاؤ اور( دنیا میں)کسی اور نور کی تلاش کرو پھر انکے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کر دی جاےگی جس میں ایک دروازہ ہوگا –اسکے اندر کی جانب تو رحمت ہے اور باہر کی طرف عذاب تو منافقین مومنین سے پکار کر کہیںگے –کیوں بھائی کیا ہم کبھی تمھارے ساتھ نہ تھے تو مومنین کہیںگے ، تھے تو ضرور مگر تم نے  تو خوداپنے آپ کو بلا میں ڈالا اور ہمارے حق میں گردشوں کے شک کیا اور تمہیں (دین میں) منتظر ہیں اور تمھارے تمنّاؤں نے دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ خدا کا حکم آ پہنچا اور ایک بڑ ے دغا باز(شیطان) نے خدا کے بارے میں تمکو فریب دیا –     

 57:13-14سورہ ال – حدید

تب کیا ہوگا اگر ہم نے اس طرح کی زندگی نہیں گزاری کہ اس آخری دن میں روشنی کی عنایت ہوتی ؟ کیا ابھی بھی ہمارے لئے کوئی امید نظر آتی ہے ؟

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح اس دن کی بد حالی میں مدد کرنے کے لئے آے – انہوں نے صاف کہا کہ وہ وہی روشنی ہیں جسکی ضرورت ایسے لوگوں کے لئے ہے جو شرمناک تاریکی کی حالت میں گزر بسر کر رہے ہیں اور جنہیں فیصلے کے دن روشنی کی ضرورت ہے –       

جب یسوع نے لوگوں سے دوبارہ بات کی تو اس نے کہا ، "میں دنیا کی روشنی ہوں۔ جو بھی میری پیروی کرتا ہے وہ کبھی اندھیرے میں نہیں چل پائے گا ، لیکن زندگی کی روشنی پائے گا۔

13 فریسیوں نے اس کو للکارا ، "یہ ، آپ اپنے ہی گواہ کے طور پر پیش ہو رہے ہیں۔ آپ کی گواہی درست نہیں ہے۔

14 یسوع نے جواب دیا ، "اگر میں اپنی طرف سے گواہی دیتا ہوں تو بھی میری گواہی درست ہے ، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جارہا ہوں۔ لیکن آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ میں کہاں سے آیا ہوں یا کہاں جارہا ہوں۔ 15 آپ انسانی معیار کے مطابق فیصلہ کریں۔ میں کسی پر فیصلہ نہیں دیتا۔ 16 لیکن اگر میں فیصلہ کروں تو ، میرے فیصلے سچے ہیں ، کیونکہ میں تنہا نہیں ہوں۔ میں باپ کے ساتھ کھڑا ہوں ، جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 17 آپ کے اپنے قانون میں یہ لکھا ہے کہ دو گواہوں کی گواہی درست ہے۔ 18 میں ایک ہوں جو اپنے لئے گواہی دیتا ہوں۔ میرا دوسرا گواہ باپ ہے ، جس نے مجھے بھیجا۔ "

19 تب انہوں نے اس سے پوچھا ، "تمہارا باپ کہاں ہے؟”

"آپ مجھے یا میرے باپ کو نہیں جانتے ،” یسوع نے جواب دیا۔ "اگر آپ مجھے جانتے تو آپ میرے والد کو بھی جانتے۔” 20 وہ یہ باتیں ہیکل کے صحن میں جہاں اس جگہ نذرانہ پیش کیا گیا تھا پڑھاتے ہوئے بولا۔ لیکن کسی نے بھی اسے پکڑ نہیں لیا ، کیوں کہ ابھی تک اس کا وقت نہیں آیا تھا۔

21 یِسُوع نے ایک بار پھر اُن سے کہا ، ”میں جا رہا ہوں ، اور تم مجھے ڈھونڈو گے ، اور تم اپنے گناہ میں مر جاؤ گے۔ جہاں میں جاتا ہوں ، آپ نہیں آسکتے۔

22 یہودیوں نے یہ پوچھنے پر مجبور کیا ، "کیا وہ خود کو مار ڈالے گا؟ کیا یہی وجہ ہے کہ وہ کہتا ہے ، ‘جہاں میں جاتا ہوں ، آپ نہیں آسکتے’۔

23 لیکن اس نے کہا ، “آپ نیچے سے ہیں۔ میں اوپر سے ہوں آپ اس دنیا کے ہیں۔ میں اس دنیا کا نہیں ہوں۔ 24 میں نے تم سے کہا تھا کہ تم اپنے گناہوں میں مر جاؤ گے۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا کہ میں وہ ہوں تو آپ واقعی میں اپنے گناہوں میں مرجائیں گے۔

25 "تم کون ہو؟” انہوں نے پوچھا.

یسوع نے جواب دیا ، "بس میں آپ کو شروع سے ہی بتا رہا ہوں۔” 26 “آپ کے فیصلے میں مجھے بہت کچھ کہنا ہے۔ لیکن جس نے مجھے بھیجا وہ قابل اعتماد ہے ، اور جو میں نے اس سے سنا ہے وہ دنیا کو بتاتا ہوں۔ "

27 وہ سمجھ نہیں سکے تھے کہ وہ انھیں اپنے باپ کے بارے میں بتا رہا ہے۔ 28 تب یسوع نے کہا ، "جب تم ابن آدم کو اٹھاؤ گے ، تب تم جان لو گے کہ میں وہ ہوں اور میں خود کچھ نہیں کرتا بلکہ صرف وہی بات کرتا ہوں جو باپ نے مجھے سکھایا ہے۔ 29 جس نے مجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے۔ اس نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا ، کیوں کہ میں ہمیشہ وہی کرتا ہوں جو اس سے راضی ہوتا ہے۔ 30 یہاں تک کہ جب اس نے بات کی تو بہت سے لوگوں نے اس پر یقین کیا۔

 8:12-30 یوحننا

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے ‘دنیا کا نور’  ہونے بطورایک بڑے اختیار کا دعوی پیش کیا اور جب دوسروں کے زریعے چنوتی دی گیئ تو انہوں نے ‘شریعت ‘ کی کتابوں کا حوالہ دیا – یہ موسیٰ کی تورات ہے جسمیں مسیح کے آنے اور انکے اختیارات کی بابت نبوت کی گیئ ہے –پھر زبور اور آنے والے نبیوں نے انکے آنے کی بابت تفصیل سے نبوت کی تاکہ ہم معلوم کر سکیں کہ انکے پاس وہی اختیارات موجود تھے جن کا انہوں نے دعوی کیا تھا –ابن آدم کیا ہے اور عیسیٰ ال مسیح کے کیا معنی ہیں اور ابن آدم کو اونچے پر چڑھا ے جانے کا کیا مطلب ہے ؟ اور اپنے  اندر ‘زندگی کی روشنی’ رکھنا کیا ہوتا ہے ؟ اسکو ہم یہاں دیکھتے ہیں – آج کے دن آپ ایسا ہی کریں کیونکی انصاف کے دن اسے ڈھونڈھنا شرو ع کرنا بہت دیر ثابت ہوگا – پھر جس طرح ال – حدید ہمیں خبردار کرتا ہے کہ :          

جان رکھو کہ خدا ہی زمیں کو اسکے مرنے کے بعد زندہ ( افتادہ  ہونے ) کے لئے آباد کرتا ہے – ہم نےاپنی  قدرت کی نشانیاں کھول کھول کرتم سے بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو –  

57:15سورہ ال – حدید

اس طرح آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے ایسے موقعے پر اپنی تعلیم کو ختم کیا –

31 یہودیوں کو جو اس پر ایمان لائے تھے ، یسوع نے کہا ، "اگر تم میری تعلیم پر قائم رہو تو واقعی تم میرے شاگرد ہو۔ 32 تب تم حقیقت کو جان لو گے اور سچائی تمہیں آزاد کردے گی۔ “
33 انہوں نے اس کو جواب دیا ، "ہم ابراہیم کی اولاد ہیں اور کبھی کسی کے غلام نہیں رہے ہیں۔ آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم آزاد ہوں گے؟
34 یسوع نے جواب دیا ، “میں تم سے سچ کہتا ہوں ، ہر ایک جو گناہ کرتا ہے وہ گناہ کا غلام ہے۔ 35 اب غلام کی فیملی میں مستقل جگہ نہیں ہے ، لیکن بیٹا ہمیشہ کے لئے اس کا ہے۔ 36 لہذا اگر بیٹا آپ کو آزاد کرے گا تو آپ واقعتا free آزاد ہوں گے۔ 37 میں جانتا ہوں کہ آپ ابراہیم کی اولاد ہیں۔ پھر بھی آپ مجھے مارنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں ، کیوں کہ آپ کے پاس میری بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 38 میں تمہیں وہ بتا رہا ہوں جو میں نے باپ کی موجودگی میں دیکھا ہے ، اور تم وہی کر رہے ہو جو تم نے اپنے والد سے سنا ہے۔
39 انہوں نے جواب دیا ، ”ابراہیم ہمارا باپ ہے۔
یسوع نے کہا ، "اگر آپ ابراہیم کے بچے ہوتے تو آپ وہی کرتے جو ابراہیم نے کیا تھا۔ 40 ایسا ہی ہے ، آپ مجھے مارنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں ، ایک ایسا شخص جس نے آپ کو سچ کہا ہے جو میں نے خدا سے سنا ہے۔ ابراہیم نے ایسی باتیں نہیں کیں۔ 41 تم اپنے ہی باپ کے کام کر رہے ہو۔
انہوں نے احتجاج کیا ، "ہم ناجائز بچے نہیں ہیں۔” "ہمارے پاس واحد باپ خدا خود ہے۔”
42 یسوع نے ان سے کہا ، "اگر خدا آپ کا باپ ہوتا تو آپ مجھے پیار کرتے ، کیوں کہ میں خدا کی طرف سے یہاں آیا ہوں۔ میں خود نہیں آیا ہوں۔ خدا نے مجھے بھیجا۔ 43 آپ کو میری زبان کیوں واضح نہیں ہے؟ کیونکہ آپ میری بات سننے سے قاصر ہیں۔ 44 آپ اپنے باپ ، شیطان سے تعلق رکھتے ہیں ، اور آپ اپنے والد کی خواہشات کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ شروع ہی سے ایک قاتل تھا ، سچ پر قائم نہیں تھا ، کیوں کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو ، وہ اپنی مادری زبان بولتا ہے ، کیونکہ وہ جھوٹا ہے اور جھوٹ کا باپ ہے۔ 45 پھر بھی میں چونکہ سچ کہتا ہوں ، تم مجھ پر یقین نہیں کرتے! 46 کیا تم میں سے کوئی مجھے گناہ کا مجرم ثابت کر سکتا ہے؟ اگر میں سچ کہہ رہا ہوں تو آپ مجھے کیوں نہیں مانتے؟ 47 جو خدا کا ہے وہ سنتا ہے جو خدا فرماتا ہے۔ آپ کو نہیں سننے کی وجہ یہ ہے کہ آپ خدا سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔

48 یہودیوں نے اس کو جواب دیا ، "کیا ہم یہ کہتے ہوئے صحیح نہیں ہیں کہ آپ سامری اور شیطان ہیں؟”
49 یسوع نے کہا ، "مجھے کسی شیطان کا نشانہ نہیں ہے ، لیکن میں اپنے باپ کا احترام کرتا ہوں اور تم میری بے عزتی کرتے ہو۔ 50 میں اپنے آپ کی شان نہیں چاہتا۔ لیکن ایک ہے جو اسے ڈھونڈتا ہے ، اور وہ قاضی ہے۔ 51 میں تم سے سچ کہتا ہوں ، جو بھی میری بات پر عمل کرے گا اسے کبھی موت نہیں ملے گا۔
52 اس پر وہ چیخ اٹھے ، "اب ہم جان گئے ہیں کہ آپ کو بدروح کا شکار ہے! ابراہیم فوت ہوا اور نبیوں نے بھی ایسا ہی کیا ، پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ جو شخص آپ کے فرمان پر عمل کرے گا وہ کبھی بھی موت کا مزہ نہیں چکھے گا۔ 53 کیا آپ ہمارے والد ابراہیم سے بڑا ہیں؟ وہ مر گیا ، اور نبیوں نے بھی۔ تم اپنے اپ کو سمجھتے کیا ہو؟”
54 یسوع نے جواب دیا ، ”اگر میں اپنی تسبیح کروں تو میری عظمت کا کوئی مطلب نہیں میرے باپ ، جس کے بارے میں آپ اپنے خدا کی حیثیت سے دعوی کرتے ہیں ، وہی ہے جو میری عزت کرتا ہے۔ 55 اگرچہ آپ اسے نہیں جانتے ، لیکن میں اسے جانتا ہوں۔ اگر میں نے کہا کہ میں نے ایسا نہیں کیا تو میں آپ کی طرح جھوٹا ہوں گا ، لیکن میں اسے جانتا ہوں اور اس کے کلام کو مانتا ہوں۔ 56 میرا دن دیکھنے کے بارے میں سوچ کر آپ کے والد ابراہیم خوش ہوئے۔ اس نے یہ دیکھا اور خوش ہوا۔ "
57 انہوں نے اس سے کہا ، "ابھی آپ کی عمر پچاس سال نہیں ہے ، اور آپ نے ابراہیم کو دیکھا ہے۔”
58 عیسیٰ نے جواب دیا ، "میں واقعی میں تم سے کہتا ہوں ، ابراہیم کے پیدا ہونے سے پہلے ہی میں ہوں!” 59 اس پر انہوں نے اس کو پتھر مارنے کے لئے پتھر اٹھائے ، لیکن عیسیٰ ہیکل کے میدان سے پھسلتے ہوئے اپنے آپ کو چھپا لیا۔

8:31-59 یوحننا

وہ خاص دن : ال – قا رعہ اور ات – تکا ثر اور ال مسیح

سورہ ال – قارعہ (سورہ 101 –آفت بیان کرتا ہے کہ آنے والا انصاف کا دن ایسا ہوگا :

 وہ کھڑکھڑ ا نے والی کیا ہے اور تمکو کیا معلوم کہ وہ کھڑکھڑا نے والی کیا چیز ہے – وہ قیامت کا دن ہے جس د ن لوگ ٹڈ ڈ یوں کی طرح پھیلے ہونگے اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کے سے ہو جاینگے تو جسکے (میدان حشر میں) نیک اعمال کے پللے بھاری ہونگے وہ من بھاتے عیش میں ہونگے اور جنکے نیک اعمال کے پللے ہلکے ہونگے تو انکا ٹھکانہ  نہ رہا –    

101:2-9سورہ ال – قارعہ

سورہ ال – قار عہ ہم سے کہتا ہے قیامت کے دن جن کے نیک اعمال کا پلڈا بھاری ہوگا انہی کے لئے دوزخ کی آگ سے بچنے کی امید کی جا سکتی ہے –

مگر انکا کیا حال ہوگا جن کے نیک اعمال کا پلڈا ہلکا ہوگا ؟

سورہ ات – تکا ثر (سورہ  2 0 1 – د نیامیں رقابت بڑھتی جاتی ہے ) ہمکو خبردار کرتا ہے –  

 تو مال کی بہت سی طلب اور بہتایت نے تم لوگوں کو غافل کر رکھا یہاں تک کہ تم لوگوں نے قبریں دیکیھی (مر گئے) دیکھو تمکو عنقریب ہی معلوم ہو جاےگا – دیکھو اگر تمکو یقینی طور سے معلوم ہوجاتا تو (تم ہرگز غافل  نہ  ہوتے) تم لوگ ضرور دوزخ کو دیکھوگے  پھر تم لوگ یقینی طور سے دیکھوگے – پھر تم سے  نعمتوں کے بارے میں ضرور باز پرس کی جایگی –    

102:1-8سورہ ات – تکا ثر

سورہ ات – تکا ثر ہمسے کہتا ہے کہ انصاف کے دن جہنّم کی آگ ہمکو دھمکاتی ہے جب ہم سوالوں کے گھیرے میں ہو یینگے –

کیا ہم اس دن کی تییاری کر سکتے ہیں جب ہمارے نیک اعمال کا بلدا بھاری ہوگا ؟

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح خاص طور سے انکی مدد کرنے آے  جن کے نیک اعمال کا پلڈا اس دن سچ مچ میں ہلکا ہوگا-انہوں نے انجیل شریف میں کہا کہ :

 

(35)یِسُو ع نے اُن سے کہا زِندگی کی روٹی مَیں ہُوں ۔ جو میرے پاس آئے وہ ہرگِز بُھوکا نہ ہو گا اور جو مُجھ پر اِیمان لائے وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔
(36)لیکن مَیں نے تُم سے کہا کہ تُم نے مُجھے دیکھ لِیا ہے ۔ پِھر بھی اِیمان نہیں لاتے۔
(37)جو کُچھ باپ مُجھے دیتا ہے میرے پاس آ جائے گا اور جو کوئی میرے پاس آئے گا اُسے مَیں ہرگِز نِکال نہ دُوں گا۔
(38)کیونکہ مَیں آسمان سے اِس لِئے نہیں اُترا ہُوں کہ اپنی مرضی کے مَوافِق عمل کرُوں بلکہ اِس لِئے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے مُوافِق عمل کرُوں۔
(39)اور میرے بھیجنے والے کی مرضی یہ ہے کہ جو کُچھ اُس نے مُجھے دِیا ہے مَیں اُس میں سے کُچھ کھو نہ دُوں بلکہ اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں۔
(40)کیونکہ میرے باپ کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بیٹے کو دیکھے اور اُس پر اِیمان لائے ہمیشہ کی زِندگی پائے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں۔
(41)پس یہُودی اُس پر بُڑبُڑانے لگے ۔ اِس لِئے کہ اُس نے کہا تھا کہ جو روٹی آسمان سے اُتری وہ مَیں ہُوں۔
(42)اور اُنہوں نے کہا کیا یہ یُوسف کا بیٹا یِسُو ع نہیں جِس کے باپ اور ماں کو ہم جانتے ہیں؟ اب یہ کیوں کر کہتا ہے کہ مَیں آسمان سے اُترا ہُوں؟۔
(43)یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا آپس میں نہ بُڑبُڑاؤ۔
(44)کوئی میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک باپ جِس نے مُجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں گا۔
(45)نبِیوں کے صحِیفوں میں یہ لِکھا ہے کہ وہ سب خُدا سے تعلِیم یافتہ ہوں گے ۔ جِس کِسی نے باپ سے سُنا اور سِیکھا ہے وہ میرے پاس آتا ہے۔
(46)یہ نہیں کہ کِسی نے باپ کو دیکھا ہے مگر جو خُدا کی طرف سے ہے اُسی نے باپ کو دیکھا ہے۔
(47)مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو اِیمان لاتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے۔
(48)زِندگی کی روٹی مَیں ہُوں۔
(49)تُمہارے باپ دادا نے بیابان میں مَنّ کھایا اور مَر گئے۔
(50)یہ وہ روٹی ہے جو آسمان سے اُترتی ہے تاکہ آدمی اُس میں سے کھائے اور نہ مَرے۔
(51)مَیں ہُوں وہ زِندگی کی روٹی جو آسمان سے اُتری ۔ اگر کوئی اِس روٹی میں سے کھائے تو ابد تک زِندہ رہے گا بلکہ جو روٹی مَیں جہان کی زِندگی کے لِئے دُوں گا وہ میرا گوشت ہے۔

6:35-51یوحننا

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے دعوی کیا کہ وہ آسمان سے نیچے آئے اور یہ کہ جو انپر ایمان لاتے ہیں انھیں ہمیشہ کی زندگی عطا کرتے ہیں – یہودی لوگ جو انکی باتوں کو سن رہے تھے انہوں نے ان سے اس بات کے لئے ثبوت مانگے –نبی نے انسے پہلے کے نبیوں کا حوالہ پیش کیا جو انکے آنے اور انکے اختیار کی بابت نبوت کی تھی – ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح موسیٰ کی تورات نے انکے آنے کی پیش بینی کی اور حضرت موسیٰ کے بعد آنے والے نبیوں نے بھی – مگر اسکا کیا مطلب ہے کہ ‘جو اسپر ایمان لاۓ’  ؟ اسکو ہم یہاں دیکھتے ہیں –

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے بھی بیماروں کو شفا دینے کی ،اور قدرت پر اختیار رکھنے کی نشانیو ں  کے زریعے اپنے شخصی اختیار کا اظہار کیا – انہوں نے اس بات کو اپنی تعلیم کے دوران سمجھایا –

(14)اور جب عِید کے آدھے دِن گُزر گئے تو یِسُو ع ہَیکل میں جا کر تعلِیم دینے لگا۔
(15)پس یہُودِیوں نے تعجُّب کر کے کہا کہ اِس کو بغَیر پڑھے کیوں کر عِلم آ گیا؟۔
(16)یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ میری تعلِیم میری نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے کی ہے۔
(17)اگر کوئی اُس کی مرضی پر چلنا چاہے تو وہ اِس تعلِیم کی بابت جان جائے گا کہ خُدا کی طرف سے ہے یا مَیں اپنی طرف سے کہتا ہُوں۔
(18)جو اپنی طرف سے کُچھ کہتا ہے وہ اپنی عِزّت چاہتا ہے لیکن جو اپنے بھیجنے والے کی عِزّت چاہتا ہے وہ سچّا ہے اور اُس میں ناراستی نہیں۔
(19)کیا مُوسیٰ نے تُمہیں شرِیعت نہیں دی؟ تَو بھی تُم میں سے شرِیعت پر کوئی عمل نہیں کرتا ۔ تُم کیوں میرے قتل کی کوشِش میں ہو؟۔
(20)لوگوں نے جواب دِیا تُجھ میں تو بدرُوح ہے ۔ کَون تیرے قتل کی کوشِش میں ہے؟۔
(21)یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا مَیں نے ایک کام کِیا اور تُم سب تعجُّب کرتے ہو۔
(22)اِس سبب سے مُوسیٰ نے تُمہیں خَتنہ کا حُکم دِیا ہے(حالانکہ وہ مُوسیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ باپ دادا سے چلا آیا ہے)اور تُم سَبت کے دِن آدمی کا خَتنہ کرتے ہو۔
(23)جب سَبت کو آدمی کا خَتنہ کِیا جاتا تاکہ مُوسیٰ کی شرِیعت کا حُکم نہ ٹُوٹے تو کیا مُجھ سے اِس لِئے ناراض ہو کہ مَیں نے سَبت کے دِن ایک آدمی کو بِالکُل تندرُست کر دِیا؟۔
(24)ظاہِر کے مَوافِق فَیصلہ نہ کرو بلکہ اِنصاف سے فَیصلہ کرو۔
(25)تب بعض یروشلِیمی کہنے لگے کیا یہ وُہی نہیں جِس کے قتل کی کوشِش ہو رہی ہے؟۔
(26)لیکن دیکھو یہ صاف صاف کہتا ہے اور وہ اِس سے کُچھ نہیں کہتے ۔ کیا ہو سکتا ہے کہ سرداروں نے سچ جان لِیا کہ مسِیح یِہی ہے؟۔
(27)اِس کو تو ہم جانتے ہیں کہ کہاں کا ہے مگر مسِیح جب آئے گا تو کوئی نہ جانے گا کہ وہ کہاں کا ہے۔
(28)پس یِسُوع نے ہَیکل میں تعلِیم دیتے وقت پُکار کر کہا کہ تُم مُجھے بھی جانتے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ مَیں کہاں کا ہُوں اور مَیں آپ سے نہیں آیا مگر جِس نے مُجھے بھیجا ہے وہ سچّا ہے ۔ اُس کو تُم نہیں جانتے۔
(29)مَیں اُسے جانتا ہُوں اِس لِئے کہ مَیں اُس کی طرف سے ہُوں اور اُسی نے مُجھے بھیجا ہے۔
(30)پس وہ اُسے پکڑنے کی کوشِش کرنے لگے لیکن اِس لِئے کہ اُس کاوقت ابھی نہ آیا تھا کِسی نے اُس پر ہاتھ نہ ڈالا۔
(31)مگر بِھیڑ میں سے بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے اور کہنے لگے کہ مسِیح جب آئے گا تو کیا اِن سے زِیادہ مُعجِزے دِکھائے گا جو اِس نے دِکھائے؟۔
(32)فرِیسِیوں نے لوگوں کو سُنا کہ اُس کی بابت چُپکے چُپکے یہ گُفتگُو کرتے ہیں ۔ پس سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں نے اُسے پکڑنے کو پیادے بھیجے۔
(33)یِسُو ع نے کہا مَیں اَور تھوڑے دِنوں تک تُمہارے پاس ہُوں ۔ پِھر اپنے بھیجنے والے کے پاس چلا جاؤں گا۔
(34)تُم مُجھے ڈُھونڈو گے مگر نہ پاؤ گے اور جہاں مَیں ہُوں تُم نہیں آ سکتے۔
(35)یہُودِیوں نے آپس میں کہا یہ کہاں جائے گا کہ ہم اِسے نہ پائیں گے؟ کیا اُن کے پاس جائے گا جو یُونانِیوں میں جابجا رہتے ہیں اور یُونانِیوں کو تعلِیم دے گا؟۔
(36)یہ کیا بات ہے جو اُس نے کہی کہ تُم مُجھے ڈُھونڈو گے مگر نہ پاؤ گے اور جہاں مَیں ہُوں تُم نہیں آ سکتے؟۔
(37)پِھر عِید کے آخِری دِن جو خاص دِن ہے یِسُو ع کھڑا ہُؤا اور پُکار کر کہا اگر کوئی پِیاسا ہو تو میرے پاس آ کر پِئے۔
(38)جو مُجھ پر اِیمان لائے گا اُس کے اندر سے جَیساکہ کِتابِ مُقدّس میں آیا ہے زِندگی کے پانی کی ندِیاں جاری ہوں گی۔
(39)اُس نے یہ بات اُس رُوح کی بابت کہی جِسے وہ پانے کو تھے جو اُس پر اِیمان لائے کیونکہ رُوح اب تک نازِل نہ ہُؤا تھا اِس لِئے کہ یِسُو ع ابھی اپنے جلال کو نہ پُہنچا تھا۔
(40)پس بِھیڑ میں سے بعض نے یہ باتیں سُن کر کہا بیشک یِہی وہ نبی ہے۔
(41)اَوروں نے کہا یہ مسِیح ہے اور بعض نے کہا کیوں؟ کیا مسِیح گلِیل سے آئے گا؟۔
(42)کیا کِتابِ مُقدّس میں یہ نہیں آیا کہ مسِیح داؤُد کی نسل اور بَیت لحم کے گاؤں سے آئے گا جہاں کا داؤُد تھا؟۔
(43)پس لوگوں میں اُس کے سبب سے اِختلاف ہُؤا۔
(44)اور اُن میں سے بعض اُس کو پکڑنا چاہتے تھے مگر کِسی نے اُس پر ہاتھ نہ ڈالا۔

7:14-44یوحننا

یوحننا جس زندگی کے پانی کے لئے انہوں نے وعدہ کیا تھا وہ روح ال قدوس ہے جو پنتیکست کے دن رسولوں پر نازل ہوا تھا اور اب وہ ہمیں زندگی مفت میں بخشتا ہے جو ہمکو انصاف کے دن کی موت سے اور جہنّم کی آگ سے بچاے گا –اس کے لئے ہمیں صرف اپنی پیاس کو پہچاننے کی ضرورت ہے –  

وہ خاص دن : ات – طارق ، ال – عادیات اور ال مسیح

سورہ ات طارق (سورہ 86 آنے والی رات) ہمکو آنے انصاف کے دن کے لئے خبردار کرتا ہے جب   

  بیشک خدا اسکے دوبارہ کرنے پر ضرور قدرت رکھتا ہے (پیدا)جس دن دلوں کے بھید جانچے جاینگے – تواس دن  اسکا نہ کچھ زور چلیگا اور نہ کوئی مددگار ہوگا –   

86:8-10سورہ ات – طارق 

سورہ ات – طا رق ہم سے کہتا ہے اس دن الله ہماری پوشیدہ باتوں کا اور شرمناک خیالات اور عمل کی جانچ کریگا اور اس دن اسکے فیصلے کی جانچ سے کوئی بھی شخص روکنے میں مدد نہیں کر سکتا – اسی طرح سورہ ال – عادیات (سورہ 100 — لعنت دینے والا) اس دن کا بیان کرتا ہے جب   

غرض قسم ہے کہ بے شک انسان اپنے پروردگار کا نا شکرا ہے اور یقینی طور سے  خدا بھی اس سے واقف ہے اور وہ بیشک وہ مال کا سخت حریص ہے تو کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ جب مردے قبروں سے نکالے جاینگے اور دلوں کے بھسد ظاہر کر دے جاینگے بیشک اس دن انکا پروردگار انسے خوب واقف ہوگا –  

100:6-11 ال –عادیات

سورہ ال – عادیات  خبردار کرتا ہے کہ اس دن یہاں تک کہ ہماری شرمناک پوشیدہ باتیں جو ہمارے سینے میں دبی ہوئی ہیں وہ بھی آشکارہ ہو جاینگی جبکہ اللہ تعا لا ہمارے تمام کاموں سے خوب واقف ہے –

ہم اس دن کے آنے کے خیال کو ترک کر سکتے ہیں – اور صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے کام کرتا ہے ، مگر سورہ ات طا رق اور سورہ ال- عادیات اس دن کیبابت بہت صفائی سے ہمکو خبردار کرتا ہے –

کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم اسکے لئے تیّار رہیں ؟ مگر کیسے ؟

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح انکے لئے  آ ے جو اس دن کے لئے تیّار رہتے ہیں – انہوں نے انجیل شریف میں اس طرح سے کہا ہے :    

(21)کیونکہ جِس طرح باپ مُردوں کو اُٹھاتا اور زِندہ کرتا ہے اُسی طرح بیٹا بھی جِنہیں چاہتا ہے زِندہ کرتا ہے۔
(22)کیونکہ باپ کِسی کی عدالت بھی نہیں کرتا بلکہ اُس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپُرد کِیا ہے۔
(23)تاکہ سب لوگ بیٹے کی عِزّت کریں جِس طرح باپ کی عِزّت کرتے ہیں ۔ جو بیٹے کی عِزّت نہیں کرتا وہ باپ کی جِس نے اُسے بھیجا عِزّت نہیں کرتا۔
(24)مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو میرا کلام سُنتا اور میرے بھیجنے والے کا یقِین کرتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے اور اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا بلکہ وہ مَوت سے نِکل کر زِندگی میں داخِل ہو گیا ہے۔
(25)مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے کہ مُردے خُدا کے بیٹے کی آواز سُنیں گے اور جو سُنیں گے وہ جِئیں گے۔
(26)کیونکہ جِس طرح باپ اپنے آپ میں زِندگی رکھتا ہے اُسی طرح اُس نے بیٹے کو بھی یہ بخشا کہ اپنے آپ میں زِندگی رکھّے۔
(27)بلکہ اُسے عدالت کرنے کا بھی اِختیار بخشا ۔ اِس لِئے کہ وہ آدم زاد ہے۔

5:21-27یوحننا

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح بہت بڑے اختیارات کا دعوی کرتے ہیں یہاں تک کہ انصاف کے دن کی نگرانی کرنے کی بابت – ان دعووں کے لئے ان کا اختیارتورات کے نبی حضرت موسیٰ کے زریعے ثابت ہوا کہ کسطرح انہوں نے کاینات کی چھ دنوں کی تخلیق سے انکے اختیارات کی بابت نبوت کی پھر زبور اور آنے والے نبیوں نے اسکے آنے کی بابت تفصیل سے نبوت کی جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انکا آسمان سے آنا الله کے ایک منصوبے کے تحت تھا – نبی کے یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ "جو کوئی میرے کلام کو سنتا اور جس نے مجھے بھیجا اسپر ایمان لاۓ تو ہمیشہ کی زندگی اسکی ہے اور وہ کبھی ہلاک نہیں ہوگا "-اسکے لئے ہم یہاں دیکھتے ہیں –