ساتوں دن – سبت کا آرام

حضرت عیسیٰ المسیح کے ایک حواری نے اُن کے ساتھ غرداری کی اور اُن کو یہودیوں نے فسح کے تہوار پر مصلوب کر دیا تھا۔ اب اس کو مبارک جمعہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ فسح کا سبت (تہوار) جمعرات کی شام کو شروع ہوا اور جمعہ کو یعنی کے 6 چٹھے دن کی شام کو اختتام پر پہنچا۔ اس دن کا آخری تقریب یہ تھی کہ اُسی دن حضرت عیسیٰ المسیح کی بدن کو دفن کردیا گیا تھا۔ انجیل شریف میں اُن خواتین کے بیان کو درج کیا گیا جو حضرت عیسیٰ المسیح کی پیروکار تھی۔

‘اور اُن عَورتوں نے جو اُس کے ساتھ گلِیل سے آئی تِھیں پِیچھے پِیچھے جا کر اُس قَبر کو دیکھا اور یہ بھی کہ اُس کی لاش کِس طرح رکھّی گئی۔  اور لَوٹ کر خُوشبُودار چِیزیں اور عِطر تیّار کِیا’

لُوقا 23: 55-56

خواتین حضرت عیسیٰ المسیح کے بدن کو خوشبو لگا کر تیار کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن سبت کا دن شروع ہوچکا تھا۔ کیونکہ جمعہ کا سورج غروب ہونا شروع ہوگیا تھا۔ یہ ہفتے کا ساتوں دن ہوتا ہے جس کو یہودی سبت کا دن کہتے ہیں اور یہودیوں کو اس دن کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہ حکم تورات شریف میں موجود تخلیقِ کائنات سے تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا تھا۔

اور تورات شریف میں اس طرح درج ہے۔

‘سو آسمان اور زمِین اور اُن کے کُل لشکر کا بنانا ختم ہُؤا۔ اور خُدا نے اپنے کام کو جِسے وہ کرتا تھا ساتویں دِن ختم کِیا اور اپنے سارے کام سے جِسے وہ کر رہا تھا ساتویں دِن فارِغ ہُؤا۔ ‘پَیدایش 2: 1-2

تاہم خواتین جب حضرت عیسیٰ المسیح کے بدن کو خوشبو سے تیار کرنا چاہتی تھیں تو دراصل وہ تورات شریف کے فرمان کو بھجا لارہیں تھیں۔

لیکن خیرانگی کی یہ بات ہے۔ کہ سردار کاہن اور دوسرے کاہنوں نے سبت والے دن بھی کام کرنا نہ چھوڑا۔ اس کے بارے میں انجیل شریف نے بیان کیا ہے کہ وہ گورنر کے ساتھ ملاقات کررہے تھے۔

‘دُوسرے دِن جو تیّاری کے بعد کا دِن تھا سردار کاہِنوں اورفرِیسیِوں نے پِیلا طُس کے پاس جمع ہو کر کہا۔ خُداوند! ہمیں یاد ہے کہ اُس دھوکے باز نے جِیتے جی کہا تھا مَیں تِین دِن کے بعد جی اُٹُھوں گا۔ پس حُکم دے کہ تِیسرے دِن تک قبر کی نِگہبانی کی جائے ۔ کہِیں اَیسا نہ ہو کہ اُس کے شاگِرد آ کر اُسے چُرا لے جائیں اور لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا اور یہ پِچھلا دھوکا پہلے سے بھی بُرا ہو۔ پِیلا طُس نے اُن سے کہا تُمہارے پاس پہرے والے ہیں ۔ جاؤ جہاں تک تُم سے ہو سکے اُس کی نِگہبانی کرو۔ پس وہ پہرے والوں کو ساتھ لے کر گئے اور پتّھرپر مُہرکر کے قبر کی نِگہبانی کی۔’متّی 27: 62-66

اس طرح سبت والے دن سردار کاہنوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کی قبر کو محفوظ بنانے کے لیے محافظوں کو وہاں پر کام کرنے کے لیے مقرر کیا۔
جب کہ حضرت عیسیٰ المسیح کا بدن قبر میں سبت والے دن آرام کررہا تھا اور خواتین مقدس ہفتے کے سبت کو آرام کروہیں تھیں کیونکہ یہ حکم تھا۔

ٹائم لائن اس بات کو دیکھا گیا ہے۔ کہ کس طرح اُن کا سبت والے دن آرام کرنا درصل اللہ تعالیٰ کی پیروی کرنا ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ کائنات کے بعد ۷ ساتویں دن آرام کیا۔

اگلے دن خیران کردینے والی فتح کا منظر پیش ہوا۔ جس کا ہم یہاں پر مطالعہ کرتے ہیں۔

چھٹا 6 دن – عیسیٰ المسیح اور مبارک جمعہ

ہمارا ازلی دشمن شیطان یہوداہ اسکریوتی میں پانچویں 5 دن داخل ہوگیا تاکہ وہ حضرت عیسیٰ المسیح کے ساتھ  غداری کرے۔ اگلے  چھٹے 6 دن کی شام کو حضرت عیسیٰ المسیح نے اپنے حواریوں (حواری جن کو شاگرد بھی کہا جاتا ہے)  کے ساتھ آخری کھانا کھایا۔ کھانے کی میز پر آپ نے اپنے حواریوں کو تعلیم دی کہ ایک دوسرے سے محبت رکھیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی عظیم محبت کے بارے میں تعلیم دی۔ آپ نے جس طرح اپنے حواریوں کو تعلیم دی وہ یہاں انجیل شریف میں بالکل اُسی طرح درج ہے۔ انجیل مقدس بیان کرتی ہے کہ اس کے بعد کیا واقعہ ہوا۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی باغ میں گرفتاری

‘یِسُو ع یہ باتیں کہہ کر اپنے شاگِردوں کے ساتھ قِدرو ن کے نالے کے پار گیا ۔وہاں ایک باغ تھا ۔ اُس میں وہ اور اُس کے شاگِرد داخِل ہُوئے۔ اور اُس کا پکڑوانے والا یہُودا ہ بھی اُس جگہ کو جانتا تھا کیونکہ یِسُو ع اکثر اپنے شاگِردوں کے ساتھ وہاں جایا کرتا تھا۔ پس یہُودا ہ سِپاہِیوں کی پلٹن اور سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں سے پیادے لے کر مشعلوں اور چراغوں اور ہتھیاروں کے ساتھ وہاں آیا۔ یِسُو ع اُن سب باتوں کو جو اُس کے ساتھ ہونے والی تِھیں جان کر باہر نِکلا اور اُن سے کہنے لگا کہ کِسے ڈُھونڈتے ہو؟۔ اُنہوں نے اُسے جواب دِیا یِسُوع ناصری کو ۔ یِسُوع نے اُن سے کہا مَیں ہی ہُوں اور اُسکا پکڑوانے والا یہُودا ہ بھی اُن کے ساتھ کھڑا تھا۔ اُس کے یہ کہتے ہی کہ مَیں ہی ہُوں وہ پِیچھے ہٹ کر زمِین پر گِرپڑے۔ پس اُس نے اُن سے پِھر پُوچھا کہ تُم کِسے ڈُھونڈتے ہو؟ اُنہوں نے کہا یِسُو ع ناصری کو۔ یِسُوع نے جواب دِیا کہ مَیں تُم سے کہہ تو چُکا کہ مَیں ہی ہُوں ۔ پس اگر مُجھے ڈُھونڈتے ہو تو اِنہیں جانے دو۔ یہ اُس نے اِس لِئے کہا کہ اُس کا وہ قَول پُورا ہو کہ جِنہیں تُو نے مُجھے دِیا مَیں نے اُن میں سے کِسی کو بھی نہ کھویا۔ پس شمعُو ن پطرس نے تلوار جو اُس کے پاس تھی کھینچی اور سردار کاہِن کے نَوکر پر چلا کر اُس کا دہنا کان اُڑا دِیا ۔ اُس نَوکر کا نام ملخُس تھا۔ یِسُوع نے پطر س سے کہا تلوار کو مِیان میں رکھ ۔ جو پیالہ باپ نے مُجھ کو دِیا کیا مَیں اُسے نہ پِیُوں؟۔ تب سِپاہِیوں اور اُن کے صُوبہ دار اور یہُودِیوں کے پیادوں نے یِسُوع کو پکڑ کر باندھ لِیا۔ اور پہلے اُسے حنّا کے پاس لے گئے کیونکہ وہ اُس برس کے سردار کاہِن کائِفا کا سُسر تھا۔ ‘

یُوحنّا 18: 1-13

حضرت عیسیٰ المسیح یروشلیم سے باہر صرف دعاکرنے کے لیے گئےتھے۔ یہوداہ اسکریوتی سپاہیوں کو لے آیا تاکہ آپ کو گرفتار کریں۔ اگر ہم اس طرح کی بےانصافی کا سامنا کریں تو شاید ہم اس کےخلاف لڑنا شروع کردیں ۔ یا پھر ڈر کے مارے بھاگ جائیں یا پھر چُھپ جائیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ المسیح نے نہ تو اس سے ڈر کے بھاگے اور نہ ہی اُن کے ساتھ لڑنا شروع کردیا۔ آپ نے بڑی دلیری سے اس بات کا اقرار کیا کہ آپ وہی نبی ہیں جس کی تلاش میں وہ سپاہی تھے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے واضع اعتراف ("میں ہوں”) کی وجہ سے سپاہی اور اُن کے ساتھ گرپڑے اور اُن کے ساتھی وہاں سے بھاگ گئے۔ آپ نے اپنے آپ کو گرفتار ہونے کے حوالے کردیا اور وہ تحقیقات کرنے کے لیے آپ کو حنّا کے گھر لیے گے۔

پہلی تفتیش

انجیل شریف بیان کرتی ہے کہ کس طرح اُنہوں نے حضرت عیسیٰ الممسیح کی تحقیق کی:

‘پِھرسردار کاہِن نے یِسُو ع سے اُس کے شاگِردوں اور اُس کی تعلِیم کی بابت پُوچھا۔ یِسُو ع نے اُسے جواب دِیا کہ مَیں نے دُنیا سے عِلانِیہ باتیں کی ہیں ۔ مَیں نے ہمیشہ عِبادت خانوں اور ہَیکل میں جہاں سب یہُودی جمع ہوتے ہیں تعلِیم دی اور پوشِیدہ کُچھ نہیں کہا۔ تُو مُجھ سے کیوں پُوچھتا ہے؟ سُننے والوں سے پُوچھ کہ مَیں نے اُن سے کیا کہا ۔ دیکھ اُن کو معلُوم ہے کہ مَیں نے کیا کیا کہا۔ جب اُس نے یہ کہا تو پیادوں میں سے ایک شخص نے جو پاس کھڑا تھا یِسُو ع کے طمانچہ مار کر کہا تُو سردار کاہِن کو اَیسا جواب دیتا ہے؟۔ یِسُو ع نے اُسے جواب دِیا کہ اگر مَیں نے بُرا کہا تو اُس بُرائی پر گواہی دے اور اگر اچھّا کہا تو مُجھے مارتا کیوں ہے؟۔ پس حنّا نے اُسے بندھا ہُؤا سردار کاہِن کائِفا کے پاس بھیج دِیا۔ ‘

یُوحنّا 18: 19-24ا

حضرت عیسیٰ المسیح سابقہ سردار کاہین کی عدالت سے اُس سال کے سردار کاہین کی عدالت میں دوسری تحیق کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔

دوسری تفتیش

وہاں پر آپ کو تمام یہودی راہنماوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ انجیل شریف اس کے بارے میں یوں پیش کرتی ہے۔

‘پِھر وہ یِسُو ع کو سردار کاہِن کے پاس لے گئے اور سب سردار کاہِن اور بزُرگ اور فقِیہہ اُس کے ہاں جمع ہو گئے۔ اور پطر س فاصِلہ پر اُس کے پِیچھے پِیچھے سردار کاہِن کے دِیوان خانہ کے اندر تک گیا اور پیادوں کے ساتھ بَیٹھ کر آگ تاپنے لگا۔ اور سردار کاہِن اور سب صدرِعدالت والے یِسُو ع کو مار ڈالنے کے لِئے اُس کے خِلاف گواہی ڈُھونڈنے لگے مگر نہ پائی۔ کیونکہ بُہتیروں نے اُس پر جُھوٹی گواہِیاں تو دِیں لیکن اُن کی گواہِیاں مُتفِق نہ تِھیں۔ پِھربعض نے اُٹھ کراُس پر یہ جُھوٹی گواہی دی کہ۔ ہم نے اُسے یہ کہتے سُنا ہے کہ مَیں اِس مَقدِس کو جو ہاتھ سے بنا ہے ڈھاؤں گا اور تِین دِن میں دُوسرا بناؤں گا جو ہاتھ سے نہ بنا ہو۔ لیکن اِس پر بھی اُن کی گواہی مُتّفِق نہ نِکلی۔ پِھر سردار کاہِن نے بِیچ میں کھڑے ہو کر یِسُو ع سے پُوچھا کہ تُو کُچھ جواب نہیں دیتا؟یہ تیرے خِلاف کیا گواہی دیتے ہیں؟۔ مگر وہ خاموش ہی رہا اور کُچھ جواب نہ دِیا ۔ سردار کاہِن نے اُس سے پِھر سوال کِیا اور کہا کیا تُو اُس ستُودہ کا بیٹا مسِیح ہے؟۔ یِسُو ع نے کہا ہاں مَیں ہُوں اور تُم اِبنِ آدم کو قادِرِ مُطلق کی دہنی طرف بَیٹھے اور آسمان کے بادلوں کے ساتھ آتے دیکھو گے۔ سردار کاہِن نے اپنے کپڑے پھاڑ کر کہا اب ہمیں گواہوں کی کیا حاجت رہی؟۔ تُم نے یہ کُفر سُنا ۔ تُمہاری کیا رائے ہے؟ اُن سب نے فتوےٰ دِیا کہ وہ قتل کے لائِق ہے۔ تب بعض اُس پر تُھوکنے اور اُس کا مُنہ ڈھانپنے اور اُس کے مُکّے مارنے اور اُس سے کہنے لگے نبُوّت کی باتیں سُنا!اور پیادوں نے اُسے طمانچے مار مار کر اپنے قبضہ میں لِیا۔ ‘

مرقس 14: 53-65

یہودی راہنماوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کی موت کی سزا سنادی۔ لیکن اُن وقت یروشلیم رومی حکومت کے ماتحت تھا۔ اس لیے رومن گورنر کے علاوہ کوئی سزائے موت کو جاری نہیں کرسکتا تھا۔ لہذا وہ حضرت عیسیٰ المسیح کو رومی گورنر پینتس پلاطس کے پاس لے آئے۔ انجیل مقدس میں اس بات کے بارے میں بتایا گیا کہ اُس وقت یہوداہ اسکریوتی جس نے اللہ کے نبی سے غداری کی تھی اُس کے ساتھ کیا ہوا۔

غدار یہوداہ اسکریوتی کے ساتھ کیا ہوا؟

‘جب صُبح ہُوئی تو سب سردار کاہِنوں اور قَوم کے بُزُرگوں نے یِسُو ع کے خِلاف مشورَہ کِیا کہ اُسے مار ڈالیں۔ اور اُسے باندھ کر لے گئے اور پِیلا طُس حاکِم کے حوالہ کِیا۔ جب اُس کے پکڑوانے والے یہُودا ہ نے یہ دیکھا کہ وہ مُجرِم ٹھہرایا گیا تو پچھتایا اور وہ تِیس رُوپَے سردار کاہِنوں اور بُزُرگوں کے پاس واپس لا کر کہا۔ مَیں نے گُناہ کِیا کہ بے قُصُور کو قتل کے لِئے پکڑوایا اُنہوں نے کہا ہمیں کیا؟ تُو جان۔ اور وہ رُوپَیوں کو مَقدِس میں پَھینک کر چلا گیا اور جا کر اپنے آپ کو پھانسی دی۔ سردار کاہِنوں نے رُوپَے لے کر کہا اِن کو ہَیکل کے خزانہ میں ڈالنا روا نہیں کیونکہ یہ خُون کی قِیمت ہے۔ پس اُنہوں نے مشورَہ کر کے اُن رُوپَیوں سے کُمہار کا کھیت پردیسِیوں کے دفن کرنے کے لِئے خرِیدا۔ اِس سبب سے وہ کھیت آج تک خُون کا کھیت کہلاتا ہے۔ ‘

متّی 27: 1-8

حضرت عیسیٰ المسیح کی تفتیش رومی گورنر کرتا ہے۔

‘یِسُو ع حاکم کے سامنے کھڑا تھا اور حاکِم نے اُس سے یہ پُوچھا کہ کیا تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے؟ یِسُو ع نے اُس سے کہا تُو خُود کہتا ہے۔ اور جب سردار کاہِن اور بُزُرگ اُس پر اِلزام لگا رہے تھے اُس نے کُچھ جواب نہ دِیا۔ اِس پر پِیلا طُس نے اُس سے کہا کیا تُو نہیں سُنتا یہ تیرے خِلاف کِتنی گواہیاں دیتے ہیں؟۔ اُس نے ایک بات کا بھی اُس کو جواب نہ دِیا ۔ یہاں تک کہ حاکِم نے بُہت تَعجُّب کِیا۔ اور حاکِم کا دستُور تھا کہ عِید پر لوگوں کی خاطِر ایک قَیدی جِسے وہ چاہتے تھے چھوڑ دیتا تھا۔ اُس وقت برا بّا نام اُن کا ایک مشہُور قَیدی تھا۔ پس جب وہ اِکٹّھے ہُوئے تو پِیلا طُس نے اُن سے کہا تُم کِسے چاہتے ہو کہ مَیں تُمہاری خاطِر چھوڑ دُوں؟برا بّا کو یا یِسُو ع کو جو مسِیح کہلاتا ہے؟۔ کیونکہ اُسے معلُوم تھا کہ اُنہوں نے اِس کو حسد سے پکڑوایا ہے۔ اور جب وہ تختِ عدالت پر بَیٹھا تھا تو اُس کی بِیوی نے اُسے کہلا بھیجا کہ تُو اِس راستباز سے کُچھ کام نہ رکھ کیونکہ مَیں نے آج خواب میں اِس کے سبب سے بُہت دُکھ اُٹھایا ہے۔ لیکن سردار کاہِنوں اور بُزُرگوں نے لوگوں کو اُبھارا کہ برا بّا کو مانگ لیں اور یِسُو ع کو ہلاک کرائیں۔ حاکِم نے اُن سے کہا کہ اِن دونوں میں سے کِس کو چاہتے ہو کہ تُمہاری خاطِر چھوڑ دُوں؟ اُنہوں نے کہا برا بّا کو۔ پِیلا طُس نے اُن سے کہا پِھریِسُو ع کو جو مسِیح کہلاتا ہے کیا کرُوں؟ سب نے کہا وہ مصلُوب ہو۔ اُس نے کہا کیوں اُس نے کیا بُرائی کی ہے ؟ مگر وہ اَور بھی چِلاّ چِلاّ کر کہنے لگے وہ مصلُوب ہو۔ جب پِیلا طُس نے دیکھا کہ کُچھ بَن نہیں پڑتا بلکہ اُلٹا بلوا ہوتا جاتا ہے تو پانی لے کرلوگوں کے رُوبرُو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا مَیں اِس راستباز کے خُون سے بری ہُوں۔ تُم جانو۔ سب لوگوں نے جواب میں کہا اِس کا خُون ہماری اور ہماری اَولاد کی گردن پر!۔ اِس پر اُس نے برا بّا کو اُن کی خاطِر چھوڑ دِیا اور یِسُو ع کو کوڑے لگوا کر حوالہ کِیا کہ مصلُوب ہو۔ ‘

متّی 27:11-26

حضرت عیسیٰ المسیح کی مصلوبیت، انتقال اور تدفین

انجیل شریف بیان کرتی ہے کہ کیسے حضرت عیسیٰ المسیح کو مصلوب کیا گیا تھا۔ اس کے بارے میں یہاں درج ہے۔

‘اِس پر حاکِم کے سِپاہِیوں نے یِسُو ع کو قلعہ میں لے جا کر ساری پلٹن اُس کے گِرد جمع کی۔ اور اُس کے کپڑے اُتار کر اُسے قِرمزی چوغہ پہنایا۔ اور کانٹوں کا تاج بنا کر اُس کے سر پر رکھّا اور ایک سرکنڈا اُس کے دہنے ہاتھ میں دِیا اور اُس کے آگے گُھٹنے ٹیک کر اُسے ٹھٹّھوں میں اُڑانے لگے کہ اَے یہُودِیوں کے بادشاہ آداب!۔ اور اُس پر تُھوکا اور وُہی سرکنڈا لے کر اُس کے سر پر مارنے لگے۔ اور جب اُس کاٹھٹّھا کر چُکے تو چوغہ کو اُس پر سے اُتار کر پِھراُسی کے کپڑے اُسے پہنائے اور مصلُوب کرنے کو لے گئے۔ جب باہر آئے تو اُنہوں نے شمعُو ن نام ایک کُرینی آدمی کو پا کر اُسے بیگار میں پکڑا کہ اُس کی صلِیب اُٹھائے۔ اور اُس جگہ جو گُلگُتا یعنی کھوپڑی کی جگہ کہلاتی ہے پُہنچ کر۔ پِت مِلی ہُوئی مَے اُسے پِینے کو دی مگر اُس نے چکھ کر پِینا نہ چاہا۔ اور اُنہوں نے اُسے مصلُوب کیا اور اُس کے کپڑے قُرعہ ڈال کر بانٹ لِئے۔ اور وہاں بَیٹھ کر اُس کی نِگہبانی کرنے لگے۔ اور اُس کا اِلزام لِکھ کر اُس کے سر سے اُوپر لگا دِیا کہ یہ یہُودِیوں کا بادشاہ یِسُو ع ہے۔ اُس وقت اُس کے ساتھ دو ڈاکُو مصلُوب ہُوئے ۔ ایک دہنے اور ایک بائیں۔ اور راہ چلنے والے سر ہِلا ہِلا کر اُس کولَعن طَعن کرتے اور کہتے تھے۔ اَے مَقدِس کے ڈھانے والے اور تِین دِن میں بنانے والے اپنے تئِیں بچا ۔ اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو صلِیب پر سے اُتر آ۔ اِسی طرح سردار کاہِن بھی فقِیہوں اور بُزُرگوں کے ساتھ مِل کر ٹھٹّھے سے کہتے تھے۔ اِس نے اَوروں کو بچایا ۔ اپنے تئِیں نہیں بچا سکتا ۔ یہ تو اِسرا ئیل کا بادشاہ ہے ۔ اب صلِیب پر سے اُتر آئے تو ہم اِس پر اِیمان لائیں۔ اِس نے خُدا پر بھروسا کِیا ہے اگر وہ اِسے چاہتا ہے تو اب اِس کو چُھڑا لے کیونکہ اِس نے کہا تھا مَیں خُدا کا بیٹا ہُوں۔ اِسی طرح ڈاکُو بھی جو اُس کے ساتھ مصلُوب ہُوئے تھے اُس پر لَعن طَعن کرتے تھے۔ اور دوپہر سے لے کرتِیسرے پہر تک تمام مُلک میں اندھیرا چھایا رہا۔ اور تِیسرے پہر کے قرِیب یِسُو ع نے بڑی آواز سے چِلاّ کر کہا ایلی ۔ ایلی ۔ لَما شَبقتَنِی؟ یعنی اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دِیا؟۔ جو وہاں کھڑے تھے اُن میں سے بعض نے سُن کر کہا یہ ایلیّاہ کو پُکارتا ہے۔ اور فوراً اُن میں سے ایک شخص دَوڑا اور سپنج لے کر سِرکہ میں ڈبویا اور سرکنڈے پر رکھ کر اُسے چُسایا۔ مگر باقِیوں نے کہا ٹھہر جاؤ ۔ دیکھیں تو ایلیّاہ اُسے بچانے آتا ہے یا نہیں۔ یِسُو ع نے پِھر بڑی آواز سے چِلاّ کر جان دے دی۔ اور مَقدِس کا پردہ اُوپر سے نِیچے تک پھٹ کر دو ٹُکڑے ہو گیا اور زمِین لرزی اور چٹانیں تڑک گئِیں۔ اور قبریں کُھل گئِیں اور بُہت سے جِسم اُن مُقدّسوں کے جو سو گئے تھے جی اُٹھے۔ اور اُس کے جی اُٹھنے کے بعد قبروں سے نِکل کر مُقدّس شہر میں گئے اور بُہتوں کو دِکھائی دِئے۔ پس صُوبہ دار اور جو اُس کے ساتھ یِسُو ع کی نِگہبانی کرتے تھے بَھونچال اور تمام ماجرا دیکھ کر بُہت ہی ڈر کر کہنے لگے کہ بیشک یہ خُدا کا بیٹا تھا۔ اور وہاں بُہت سی عَورتیں جو گلِیل سے یِسُو ع کی خِدمت کرتی ہُوئی اُس کے پِیچھے پِیچھے آئی تِھیں دُور سے دیکھ رہی تِھیں۔ اُن میں مریم مگدلِینی تھی اور یعقو ب اور یوسیس کی ماں مریم اور زبد ی کے بیٹوں کی ماں۔ ‘

متّی 27:27-56

حضرت عیسیٰ المسیح کے پہلو کو چھیدا

یوحنا کی انجیل میں اس واقعہ کی دلچسپ تفصیلات درج ہیں۔ جو اس طرح ہیں۔

‘پس چُونکہ تیّاری کا دِن تھا یہُودِیوں نے پِیلا طُس سے درخواست کی کہ اُن کی ٹانگیں توڑ دی جائیں اور لاشیں اُتار لی جائیں تاکہ سبت کے دِن صلِیب پر نہ رہیں کیونکہ وہ سبت ایک خاص دِن تھا۔ پس سِپاہِیوں نے آ کر پہلے اور دُوسرے شخص کی ٹانگیں توڑِیں جو اُس کے ساتھ مصلُوب ہُوئے تھے۔ لیکن جب اُنہوں نے یِسُو ع کے پاس آ کر دیکھا کہ وہ مَر چُکا ہے تو اُس کی ٹانگیں نہ توڑِیں۔ مگر اُن میں سے ایک سِپاہی نے بھالے سے اُس کی پَسلی چھیدی اور فی الفَور اُس سے خُون اور پانی بَہہ نِکلا۔ جِس نے یہ دیکھا ہے اُسی نے گواہی دی ہے اور اُس کی گواہی سچّی ہے اور وہ جانتا ہے کہ سچ کہتا ہے تاکہ تُم بھی اِیمان لاؤ۔ یہ باتیں اِس لِئے ہُوئِیں کہ یہ نوِشتہ پُورا ہو کہ اُس کی کوئی ہڈّی نہ توڑی جائے گی۔ پِھر ایک اَور نوِشتہ کہتا ہے کہ جِسے اُنہوں نے چھیدا اُس پر نظر کریں گے۔ ‘

یُوحنّا 19: 31-37

حضرت یوحنا جو کہ آپ کے حواری تھے اُنہوں نے دیکھا کہ رومی فوجی نے آپ کے پہلو میں نیزے سے چھید کیا۔ اس کے بعد اُس جگہ سے خون اور پانی بہہ نکلا جس کا مطلب ہے۔ کہ آپ کی موت دل کے کام نہ کرنے کی وجہ سے ہوئی۔

انجیل شریف چھٹے 6 دن کے آخری واقعہ دفن کرنا تھا۔

‘جب شام ہُوئی تو یُوسُف نام ارِمَتِیا ہ کا ایک دَولتمند آدمی آیا جو خُود بھی یِسُو ع کا شاگِرد تھا۔ اُس نے پِیلا طُس کے پاس جا کر یِسُو ع کی لاش مانگی اور پِیلا طُس نے دے دینے کا حُکم دِیا۔ اور یُوسُف نے لاش کو لے کر صاف مہِین چادر میں لپیٹا۔ اور اپنی نئی قبر میں جو اُس نے چٹان میں کُھدوائی تھی رکھّا ۔پِھر وہ ایک بڑا پتّھر قبر کے مُنہ پر لُڑھکا کر چلا گیا۔ اور مریم مگدلِینی اور دُوسری مریم وہاں قبر کے سامنے بَیٹھی تِھیں۔ ‘

متّی 27: 57-61

چھٹا 6 دن- مبارک جمعہ

یہودی کیلنڈر کے مطابق پر روز غروبِ آفتاب پر شروع ہوتا ہے۔ لہذاہفتے کا چھٹا 6 دن کی شام کو شروع ہوا جب حضرت عیسیٰ المسیح اپنے حواریوں کےساتھ آخری کھانا کھا رہے تھے۔ اور اس دن کے اختتام تک آپ کو گرفتار کیا گیا، کئی بار تفتیش کی گئی، مصلوب کیاگیا اور پسلی کو چیھدا گیا اور دفن کردیا گیا۔ اس دن کو اکثر مبارک جمعہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے: کیسے ایک نبی کی گرفتاری، آزمائش، مصیبت، مصلوبیت اور دفن ہونے والا دن مبارک دن ہوسکتا ہے؟ کیوں مبارک جعمہ بُرا جمعہ نہیں ہے؟  

یہ ایک بہت ہی اہم سوال ہے جس کا ہم جواب انجیل مقدس میں سے اگلے دنوں  کے حوالوں میں سے دیں گے۔ یہ ایک بہت ہی ایم سوال ہے۔ اس کا جواب ہم اگلے دن کےحوالاجات میں سے دیں گے۔ لیکن اس سلسلے میں اس ٹائم لائن میں ایک اشارہ دیا گیا ہے۔ اگر ہم اس جمعہ کو جو نسان کی 14 پر غور کرنے سے ملتا ہے۔ اس فسح کے دن پر یہودی برہ کی قربانی دیتے تھے جو کہ 1500 سال پہلے مصر کی غلامی سے نجات والے دن کی گئی تھی۔

چھٹا 6 دن – جمعہ – حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی کا آخری ہفتہ اور یہودی تورات کے قواعد و ضوابط کے ساتھ موازنہ

زیادہ تر اکاونٹس لوگوں کی موت پر ختم ہوجاتے ہیں۔ لیکن انجیل مقدس اس بات کو جاری رکھتی ہے۔ اس لیے ہم اس بات کو جان سکتے ہیں کیوں اس دن کو مبارک جمعہ کے طور پر یاد کرسکتے ہیں۔ اگلے دن سبت تھا جو کہ ہفتے کا 7ساتوں دن ہے۔

دن 5 – شیطان حضرت عیسیٰ المسیح پرحملہ کرتا ہے

حضرت عیسیٰ المسیح نے آخری ہفتے کے چوتھے دن اپنی زمین پر واپسی کے بارے میں پیشنگوئی۔ انجیل مقدس میں مرقوم ہے کہ کس طرح یہودی راہنماآپ کو گرفتار کرنا چاہتے تھے۔ شیطان نے یہودی راہنماوں کو آپ پر حملہ کے لیے استعمال کیا۔ یہاں پر یہ واقعہ درج ہے۔

‘اور عِیدِ فطِیر جِس کو عِیدِ فَسح کہتے ہیں نزدِیک تھی اور سردار کاہِن اور فقِیہہ موقع ڈُھونڈ رہے تھے کہ اُسے کِس طرح مار ڈالیں کیونکہ لوگوں سے ڈرتے تھے اور شَیطان یہُودا ہ میں سمایا جو اِسکریوتی کہلاتا اور اُن بارہ میں شُمار کِیا جاتا تھا اُس نے جا کر سردار کاہِنوں اور سِپاہیوں کے سرداروں سے مشورَہ کِیا کہ اُس کو کِس طرح اُن کے حوالہ کرے وہ خُوش ہُوئے اور اُسے رُوپَے دینے کا اِقرار کِیا اُس نے مان لِیا اور مَوقع ڈُھونڈنے لگا کہ اُسے بغَیر ہنگامہ اُن کے حوالہ کر دے۔

لُوقا 22: 1-6

ہم اس میں سے دیکھ سکتے ہیں۔ کہ شیطان نے اس بات سے فائدہ اُٹھایا اور یہوداہ میں داخل ہوگیا تاکہ وہ حضرت عیسیٰ المسیح پر حملہ کرسکے۔ ہمیں اس پر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ قران شریف میں شیطان کے بارے میں یوں بیان کرتا ہے۔

اور کہہ دے میرے بندوں کہ بات وہی کہیں جو بہتر ہو شیطان جھڑپ کرواتا ہے ان میں شیطان ہے انسان کا دشمن صریح

                                                                                                            نبی اسرائیل 17: 53

اور مزید حوالہ جات (الزخرف 43: 62، یس 36: 60، البقرہ 2: 168)

انجیل شریف کے اختتام میں شیطان کے بارے میں بیان کیا گیا۔

‘پِھر آسمان پر لڑائی ہُوئی ۔ مِیکائیل اور اُس کے فرِشتے اژدہا سے لڑنے کو نِکلے اور اژدہا اور اُس کے فرِشتے اُن سے لڑے۔ لیکن غالِب نہ آئے اور اِس کے بعد آسمان پر اُن کے لِئے جگہ نہ رہی۔ اور وہ بڑا اژدہا یعنی وُہی پُرانا سانپ جو اِبلِیس اور شَیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گُمراہ کر دیتا ہے زمِین پر گِرا دِیا گیا اور اُس کے فرِشتے بھی اُس کے ساتھ گِرا دِئے گئے۔ ‘

مُکاشفہ 12 :7-9

شیطان تمہارا ازلی دشمن ہے۔ یہاں پر ڈریگن کی حیران کردینے والی تصویر دکھائی گئی ہے۔ جس سے وہ دنیا کو گمراہ کرتا ہے۔ اس نے ماضی میں حضرت عیسیٰ المسیح کو ٓازمایا لیکن کامیاب نہ ہوا۔ اب اس دشمن نے یہوداہ اسکریوتی کو اپنے کنٹرول میں کرکے حضرت عیسیٰ المسیح کوہلاک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جس طرح انجیل شریف میں درج ہے۔

‘اور وہ اُس وقت سے اُس کے پکڑوانے کا موقع ڈُھونڈنے لگا۔ ‘   متّی 26:16

اگلے دن جو کہ 6 چھٹا دن تھا۔ یہ وہ فسح کا تہوار تھا جس کو حضرت موسیٰ نے 1500 سال پہلے شروع کیا تھا۔ کس طرح شیطان نے یہوداہ اسکریوتی کے زریعے اس پاک دن کو موقع ڈھونڈا؟ ہم اس کے بارے میں اگلے مضمون میں پڑھتے ہیں۔

پانچویں 5 دن کا خلاصہ

اس ٹائم لائن میں دکھایا گیا ہے۔ کہ ہفتے کے پانچویں 5 دن ، عظیم ڈریگن جو شیطان کیسے اپنے سب سے بڑے دشمن پر حملہ کرتا ہے۔ جو کہ حضرت عیسیٰ المسیح پر حملہ تھا۔

شیطان، عظیم ڈریگن یہوداہ اسکریوتی میں داخل ہوتا ہے اور حضرت عیسیٰ المسیح پر حملہ کرتا ہے۔

تیسرے اور چوتھے دن حضرت عیسیٰ المسیح نے مستقبل کے بارے اور اپنی دوسری آمد کے بارے اعلان کیا

یروشلیم میں بروز اتوار ماہ نسان کی تاریخ 9 بمطابق حضرت دانیال اور حضرت زکریاہ اور سوموار کے روز ماہ نسان 10 کو ہیکل میں داخل ہوئے بمطابق حضرت موسیٰ کی تورات کے قواعد و احکام کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور برہ کے منتخب ہونے کے بعد، حضرت عیسیٰ المسیح کو یہودی راہنماوں نے رد کردیا۔ اصل میں جب حضرت عیسیٰ المسیح ہیکل کی صافی میں مصروف تھے تو اُسی لمحے یہودی راہنماوں نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کرنا شروع کردیا۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اس کے بعد کیا کیا۔ اس کے بارے میں انجیل شریف میں یوں درج ہے۔

انجیر کے درخت پر لعنت کرنا

اورحضرت عیسیٰ المسیح نے ان کو وہاں چھوڑ کر ( یہودی راہنماوں کو جو ہیکل میں تھے سوموار دن ۲،    نسان تاریخ ۱۰ ) شہر سے باہر جانے کی راہ لی۔ جہاں ٓاپ نے رات گزاری

‘اور وہ اُنہیں چھوڑ کر شہر سے باہر بَیت عَنِّیا ہ میں گیا اور رات کو وہِیں رہا۔ اور جب صُبح (دن 3، منگل نسان کی تاریخ 11) کو پِھر شہر کو جا رہا تھا اُسے بھوک لگی۔ اور راہ کے کنارے انجِیرکا ایک درخت دیکھ کر اُس کے پاس گیا اور پتّوں کے سِوا اُس میں کُچھ نہ پا کر اُس سے کہا کہ آیندہ تُجھ میں کبھی پَھل نہ لگے اور انجِیرکا درخت اُسی دم سُوکھ گیا۔ ‘

متّی 21 :17-19

یہ تعجب کی بات ہے۔ کہ کیوں حضرت عیسیٰ المسیح نے یوں کہا اور انجیر کا درخت مرجھا گیا۔

انجیل مقدس اس کے بارے میں براہ راست وضاحت نہیں کرتی۔ لیکن سابقہ انبیاءاکرام اس بات کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔

جب یہ انبیاءاکرام اللہ تعالیٰ کی عدالت کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اس کی وضاحت کے لیے اکثر انجیر کے درخت سے مثال دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

غور کریں کہ کیسے انبیاءاکرام انجیر کے درخت کے مرجھاجانے کی مثال دیتے تھے:

‘تاک خُشک ہو گئی ۔ انجِیر کا درخت مُرجھا گیا ۔ انار اور کھجُور اور سیب کے درخت ہاں مَیدان کے تمام درخت مُرجھا گئے اور بنی آدم سے خُوشی جاتی رہی۔ ‘

یُوایل 1: 12

‘پِھر مَیں نے تُم پر بادِ سمُوم اور گیروئی کی آفت بھیجی اور تُمہارے بے شُمار باغ اور تاکِستان اور انجِیر اور زَیتُون کے درخت ٹِڈّیوں نے کھا لِئے تَو بھی تُم میری طرف رجُوع نہ لائے خُداوند فرماتا ہے۔ ‘

عامُوس 4: 9

‘کیا اِس وقت بِیج کھتّے میں ہے؟ ابھی تو تاک اور انجِیر اور انار اور زَیتُون میں پَھل نہیں لگا ۔ آج ہی سے مَیں تُم کو برکت دُوں گا۔

حجَّی 2: 19

‘اور تمام اجرامِ فلک گُداز ہو جائیں گے اور آسمان طُومارکی مانِند لپیٹے جائیں گے اور اُن کی تمام افواج تاک اورانجِیر کے مُرجھائے ہُوئے پتّوں کی مانِند گِر جائیں گی۔ ‘

یسعیاہ 34: 4

‘خُداوند فرماتا ہے کہ مَیں اُن کو بِالکُل فنا کرُوں گا ۔ نہ تاک میں انگُور لگیں گے اور نہ انجِیر کے درخت میں انجِیر بلکہ پتّے بھی سُوکھ جائیں گے اور جو کُچھ مَیں نے اُن کو دِیا جاتا رہے گا۔ ‘

یرمِیاہ 8: 13

حضرت ہوسیع مزید آگے بڑھ جاتے ہیں اور انجیر کے درخت کو اسرائیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں اس کے بارے میں لعنت کا اعلان کرتے ہیں۔

ہوسیع 9: 10-12 ، 15-17 (یہاں افرائیم سے مراد اسرائیل ہی ہے۔ )

‘مَیں نے اِسرائیل کو بیابانی انگُوروں کی مانِند پایا ۔ تُمہارے باپ دادا کو انجِیرکے پہلے پکّے پَھل کی مانِند دیکھا جو درخت کے پہلے مَوسم میں لگا ہو لیکن وہ بعل فغُورکے پاس گئے اور اپنے آپ کو اُس باعِث رُسوائی کے لِئے مخصُوص کِیا اور اپنے اُس محبُوب کی مانِند مکرُوہ ہُوئے۔ اہلِ اِفرائِیم کی شَوکت پرِندہ کی مانِند اُڑ جائے گی وِلادت و حامِلہ کا وجُود اُن میں نہ ہو گا اور قرارِ حمل مَوقُوف ہو جائے گا۔ اگرچہ وہ اپنے بچّوں کو پالیں تَو بھی مَیں اُن کو چِھین لُوں گا تاکہ کوئی آدمی باقی نہ رہے کیونکہ جب مَیں بھی اُن سے دُور ہو جاؤُں تو اُن کی حالت قابِل افسوس ہوگی۔ ‘

ہوسیعَ 9: 10-12

‘اُن کی ساری شرارت جِلجا ل میں ہے۔ ہاں وہاں مَیں نے اُن سے نفرت کی ۔ اُن کی بد اعمالی کے سبب سے مَیں اُن کو اپنے گھر سے نِکال دُوں گا اور پِھر اُن سے مُحبّت نہ رکُھّوں گا ۔ اُن کے سب اُمرا باغی ہیں۔ بنی اِفرائیِم تباہ ہو گئے ۔اُن کی جڑ سُوکھ گئی۔اُن کے ہاں اَولاد نہ ہو گی اور اگر اَولاد ہو بھی تو مَیں اُن کے پِیارے بچّوں کو ہلاک کرُوں گا۔ میرا خُدا اُن کو رّد کر دے گا کیونکہ وہ اُس کے شِنوا نہیں ہُوئے اور وہ اقوامِ عالَم میں آوارہ پِھریں گے۔’

ہوسیعَ 9: 15-17

یہ تمام لعنتیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ یروشلیم کی بربادی پر پوری ہوئیں جو کہ 586 BCE میں ہوئی تھی۔ (یہودیوں کی تاریخ کو جاننے کے لیے یہاں دیکھیں) جب حضرت عیسیٰ المسیح کے حکم سے انجیر کا درخت مرجھا گیا تھا تو دراصل آپ یروشلیم کی ایک اور تباہی اور یہودیوں کی جلاوطنی کے بارے میں نشاندہی کررہے تھے۔ لعنت کرنے کے بعد آپ ہیکل میں گئے اور وہاں پر تعلیم دیتے اور یہودی راہنماوں کے سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کے روزِعدالت کے بارے میں بہت ساری نشانیاں بتائیں انجیلِ مقدس میں آپ کی تعلیمات کو رقم کی گیا ہے اور وہ تمام یہاں پر موجود ہیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح اپنی دوبارہ آمد کی نشانات کی پیشگوئی کرتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح یروشلیم میں ہیکل کی تباہی کی نتیجہ اخذ پیش گوئی کرتے ہیں۔ اس وقت میں ہیکل روم کی پوری سلطنت میں سب سے پراسرارعمارتوں میں ایک تھی۔ انجیل مقدس میں درج ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہیکل کی بربادی کو پہلے سے ہی جان گئے تھے۔ اس سے آپکی زمنیی واپسی کے بارے میں گفتگو کو جاری کردیا۔ اور آپ نے نشانات اور واپسی انجیل مقدس میں اس بارے میں تعلیمات درج ہیں۔

‘اور یِسُو ع ہَیکل سے نِکل کر جا رہا تھا کہ اُس کے شاگِرد اُس کے پاس آئے تاکہ اُسے ہَیکل کی عِمارتیں دِکھائیں۔ اُس نے جواب میں اُن سے کہا کیا تُم اِن سب چِیزوں کو نہیں دیکھتے؟ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ یہاں کِسی پتّھرپر پتّھر باقی نہ رہے گا جو گِرایا نہ جائے گا۔ اور جب وہ زَیتُو ن کے پہاڑ پر بَیٹھا تھا اُس کے شاگِردوں نے الگ اُس کے پاس آ کر کہا ہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے اور دُنیا کے آخِر ہونے کا نِشان کیا ہو گا؟۔ ‘

متّی 24: 1-3

حضرت عیسیٰ السمیح نے ہیکل کی مکمل تباہی کی پیش گوئی کرنا شروع دی۔ ہم تاریخ سے جانتے ہیں کہ یہ 70 C. E. میں واقع پیش آیا جس کی آپ نے پیش گوئی کی تھی۔ شام کے وقت ہیکل کو چھوڑ کر یروشلیم شہر کے باہر ایک پہاڑ پر چلے گے جس کا نام زیتون کا پہاڑ ہے۔ چونکہ یہودی دن کا آغاز سورج کے غروب ہونے کے ساتھ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ ہفتے کے چوتھے دن کا آغاز تھا۔ بدھ کے روز نسان 12 کو جب آپ نے اُن کے سوالوں کے جواب دیئے اور اُن کو دنیا کے آخر کے بارے میں بتایا اور اپنی دوسری آمد کے بارے میں بھی تعلیم دی۔

‘یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا کہ خبردار! کوئی تُم کو گُمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بُہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے مَیں مسِیح ہُوں اور بُہت سے لوگوں کو گُمراہ کریں گے۔ اور تُم لڑائِیاں اور لڑائِیوں کی افواہ سُنو گے ۔ خبردار! گھبرا نہ جانا! کیونکہ اِن باتوں کا واقِع ہونا ضرُور ہے لیکن اُس وقت خاتِمہ نہ ہو گا۔ کیونکہ قَوم پر قَوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بَھونچال آئیں گے۔ لیکن یہ سب باتیں مُصِیبتوں کا شُرُوع ہی ہوں گی۔ اُس وقت لوگ تُم کو اِیذا دینے کے لِئے پکڑوائیں گے اور تُم کو قتل کریں گے اور میرے نام کی خاطِر سب قَومیں تُم سے عداوت رکھّیں گی۔ اور اُس وقت بُہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دُوسرے کو پکڑوائیں گے اور ایک دُوسرے سے عداوت رکھّیں گے۔ اور بُہت سے جُھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بُہتیروں کو گُمراہ کریں گے۔ اور بے دِینی کے بڑھ جانے سے بُہتیروں کی مُحبّت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ مگر جو آخِر تک برداشت کرے گاوہ نجات پائے گا۔ اور بادشاہی کی اِس خُوشخبری کی مُنادی تمام دُنیا میں ہو گی تاکہ سب قَوموں کے لِئے گواہی ہو ۔ تب خاتِمہ ہو گا۔ پس جب تُم اُس اُجاڑنے والی مکرُوہ چِیز کو جِس کا ذِکر دانی ایل نبی کی معرفت ہُؤا ۔ مُقدّس مقام میں کھڑا ہُؤا دیکھو (پڑھنے والا سمجھ لے)۔ تو جو یہُودیہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔ جو کوٹھے پر ہو وہ اپنے گھر کا اسباب لینے کو نِیچے نہ اُترے۔ اور جو کھیت میں ہو وہ اپنا کپڑا لینے کو پِیچھے نہ لَوٹے۔ مگر افسوس اُن پر جو اُن دِنوں میں حامِلہ ہوں اور جو دُودھ پِلاتی ہوں!۔ پس دُعا کرو کہ تُم کو جاڑوں میں یا سبت کے دِن بھاگنا نہ پڑے۔ کیونکہ اُس وقت اَیسی بڑی مُصِیبت ہو گی کہ دُنیا کے شُرُوع سے نہ اب تک ہُوئی نہ کبھی ہو گی۔ اور اگر وہ دِن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا ۔ مگر برگُزِیدوں کی خاطِر وہ دِن گھٹائے جائیں گے۔ اُس وقت اگر کوئی تُم سے کہے کہ دیکھو مسِیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقِین نہ کرنا۔ کیونکہ جُھوٹے مسِیح اور جُھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور اَیسے بڑے نِشان اور عجِیب کام دِکھائیں گے کہ اگر مُمکِن ہو تو برگُزِیدوں کو بھی گُمراہ کر لیں۔ دیکھو مَیں نے پہلے ہی تُم سے کہہ دِیا ہے۔ پس اگر وہ تُم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا یا دیکھو وہ کوٹھرِیوں میں ہے تو یقِین نہ کرنا۔ کیونکہ جَیسے بِجلی پُورب سے کَوند کر پچّھم تک دِکھائی دیتی ہے وَیسے ہی اِبنِ آدم کا آنا ہو گا۔ جہاں مُردار ہے وہاں گِدھ جمع ہو جائیں گے۔ اور فوراً اُن دِنوں کی مُصِیبت کے بعد سُورج تارِیک ہو جائے گااور چاند اپنی رَوشنی نہ دے گااور ستارے آسمان سے گِریں گے اور آسمانوں کی قُوّتیں ہلائی جائیں گی۔ اور اُس وقت اِبنِ آدم کا نِشان آسمان پر دِکھائی دے گا۔ اور اُس وقت زمِین کی سب قَومیں چھاتی پِیٹیں گی اور اِبنِ آدم کو بڑی قُدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔ اور وہ نرسِنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرِشتوں کو بھیجے گا اور وہ اُس کے برگُزِیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اِس کنارے سے اُس کنارے تک جمع کریں گے۔ ‘

متّی 24:  4-31

یہاں حضرت عیسیٰ المسیح ہیکل کی مسقبیل میں ہونی والی تباہی کی منظر کشی کرتے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ ہیکل کی تباہی سے لیے کر آپ کی دوبارہ واپسی تک دنیا میں کیا کچھ ہوگا۔ بدی اپنےعروج پر ہوگی، زلزلے، مصیبتوں کا دور ہوگا، جنگیں، حضرت عیسیٰ المسیح کے پیروکار پر ایذارسانی کا دور ہوگا۔ یہاں تک کہ آپ نے پیشگوئی کی کہ ” انجیل شریف کی تبلیغ پوری دنیا میں ہوگی تب خاتمہ ہوگا” (14آیت)۔ جس طرح دنیا حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے میں جاننا شروع کرے گی۔ اُن کے درمیاں جھوٹے نبی اور اُستاد بھی ہونے گے جو آپ کی دوسری آمد کے بارے میں مختلف تعلیم دیئں گے۔ آپ کی دوسری آمد کے بارے میں نشانات ہونگے۔ ہر جگہ جنگ کا سما ہوگا۔ افراتفری اور مصیبت کا دور ہو۔ چاند، سورج اور ستارے میں ناقابل یقین خرابی ہوگی۔ ان کی روشنی جاتی رہے گی۔ اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جنگ، زلزلے، مصیبتوں کا اضافہ ہر روز ہورہا ہے۔ لہذا حضرت عیسیٰ المسیح کی آمد کا وقت نزدیک آتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم ابھی آپ کی واپسی نہیں ہوئی۔ لیکن ہم اس کے کتنے نزدیک ہیں؟ اس سوال کے جوابکے بارے میں حضرت عیسیٰ المسیح بات کو جاری رکھتے ہیں۔

‘اب انجِیرکے درخت سے ایک تمثِیل سِیکھو ۔ جُونہی اُس کی ڈالی نرم ہوتی اور پتّے نِکلتے ہیں تُم جان لیتے ہو کہ گرمی نزدِیک ہے۔ اِسی طرح جب تُم اِن سب باتوں کو دیکھو تو جان لو کہ وہ نزدِیک بلکہ دروازہ پر ہے۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگِز تمام نہ ہو گی۔ آسمان اور زمِین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں ہرگِز نہ ٹلیں گی۔ ‘

متّی 24 :32-35

انجیر کو یاد رکھیں جو کہ اسرائیل کی علامت ہے۔ جس پر حضرت عیسیٰ المسیح نے لعنت کی اور وہ اُسی روز مرجھا گیا۔ جب ہیکل کی بربادی سن 70 میں ہوئی اُسی وقت سے اسرائیل مرجھا شروع ہوا اور سینکڑوں سال سے مرجھا رہا ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ارشاد فرمایا کہ جُونہی اُس کی ڈالی نرم ہوتی اور پتّے نِکلتے ہیں تو ہم اس سے جان لیں گے کہ وقت”نزدیک” ہے۔ گزشتہ 70 سالوں سے ہم اس بات کا مشاہدہ کررہے ہیں کی اس "انجیرکے درخت” میں کونپلیں نکل رہیں ہیں اور نئے سبز پتے ظاہر ہورہے ہیں۔ اس کا آغاز اسرائیل کی دوبارہ پیدائش سے شروع ہوگیا تھا۔ اور یہودیوں کی اسرائیل میں واپسی میں جاری رہا۔ اس درخت کی آبیاری اور پرورش جاری ہے۔ جی ہاں! اس دور کی شروعات سے ہی ہم نے جنگ، اور تکلیفوں اور مصبتیوں کا تجربہ کیا۔ لیکن ہم حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم سے حیران نہیں ہوجانا چاہیے۔ ابھی بہت سے اطراف میں سے یہ درخت مردہ ہے۔ لیکن انجیر کے درخت میں سبز پتوں اُگنا شروع ہوگے ہیں۔

اس لیے ہمیں آج محتاط اور چوکس ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمیں پہلے دوسری آمد کے بارے میں خبردار کردیا ہے۔

‘لیکن اُس دِن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا ۔ نہ آسمان کے فرِشتے نہ بیٹا مگر صِرف باپ۔ جَیسا نُوح کے دِنوں میں ہُؤا وَیسا ہی اِبنِ آدم کے آنے کے وقت ہو گا۔ کیونکہ جِس طرح طُوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پِیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے اُس دِن تک کہ نُو ح کشتی میں داخِل ہُؤا۔ اور جب تک طُوفان آکر اُن سب کو بہا نہ لے گیا اُن کو خبر نہ ہُوئی اُسی طرح اِبنِ آدم کا آنا ہو گا۔ اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہوں گے ایک لے لِیا جائے گا اور دُوسرا چھوڑ دِیا جائے گا۔ دو عَورتیں چکّی پِیستی ہوں گی۔ ایک لے لی جائے گی اور دُوسری چھوڑ دی جائے گی۔ پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ تُمہارا خُداوند کِس دِن آئے گا۔ لیکن یہ جان رکھّو کہ اگر گھر کے مالِک کو معلُوم ہوتا کہ چور رات کے کَون سے پہر آئے گا تو جاگتا رہتا اور اپنے گھر میں نقب نہ لگانے دیتا۔ اِس لِئے تُم بھی تیّار رہو کیونکہ جِس گھڑی تُم کو گُمان بھی نہ ہو گا اِبنِ آدم آ جائے گا۔ پس وہ دِیانتدار اور عقلمند نَوکر کَون سا ہے جِسے مالِک نے اپنے نَوکر چاکروں پر مُقرّر کِیا تاکہ وقت پر اُن کوکھانا دے؟۔ مُبارک ہے وہ نَوکر جِسے اُس کا مالِک آ کر اَیسا ہی کرتے پائے۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اُسے اپنے سارے مال کا مُختار کر دے گا۔ لیکن اگر وہ خراب نَوکر اپنے دِل میں یہ کہہ کر کہ میرے مالِک کے آنے میں دیر ہے۔ اپنے ہم خِدمتوں کو مارنا شُرُوع کرے اور شرابِیوں کے ساتھ کھائے پِئے۔ تو اُس نَوکر کا مالِک اَیسے دِن کہ وہ اُس کی راہ نہ دیکھتا ہو اور اَیسی گھڑی کہ وہ نہ جانتا ہو آ مَوجُود ہو گا۔ اور خُوب کوڑے لگا کر اُس کورِیاکاروں میں شامِل کرے گا ۔ وہاں رونا اور دانت پِیسنا ہو گا۔’

متّی 24: 36-51

حضرت عیسیٰ المسیح اپنی دوبارہ واپسی کے بارے تعلیم کو جاری رکھتے ہیں۔ اس کے بارے میں مطالعہ کرنے لیے یہاں کلک کریں۔

دن 3 اور 4 کا خلاصہ

ٹائم لائن ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے انجیر کے درخت پر 3 دن لعنت دی۔ منگل۔ اس کے بعد یہودی راہنماوں کے ساتھ ایک لمبا مناظرہ۔ یہ عمل اسرائیل کی علامتی طور پر پیشگوئی تھی۔ پھر بدھ ، 4 دن والے دن آپ نے اپنی دوبارہ واپسی کے بارے میں علامات وضاحت کے ساتھ پیش کئیں۔ ان میں بڑی علامت یہ تھی کی آسمانی قوتیں ہلائی جائیں گی۔

حضرت عیسیٰ المسیح کے دن 3 اور 4 کے نشانات کا تورات شریف کے قواعد و ضوابط سے موازنہ

پھرحضرت عیسیٰ المسیح نے ہم سب کو خبردار کیا کہ میری واپسی کے بارے میں احتیاط کے ساتھ غور و فکرکرتے رہو۔ چونکہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ انجیر کا درخت دوبارہ سبز ہورہا ہے۔ ہمیں چوکس اور احتیاط کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔

انجیل شریف میں درج ہے کہ کیسے شیطان 5ویں دن حضرت عیسیٰ السمیح کے خلاف کام کرتا ہے۔ جس کے بارے میں اگلے ارٹیکل میں پڑھیں گے۔

ہفتے ہر روز کی وضاحت بیان کی گی ہے لیکن  لوقا کی کتاب اس کا خلاصہ یوں بیان کرتی ہے

: (لوقا 21: 37)