حضرت عیسیٰ المسیح کو جاننے کے وسیلے سے زندگی کا تحفہ حاصل کریں

ہم نے حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی کے آخری ہفتے کا جائزہ لیا۔ اس کے بارے انجیل مقدس میں درج ہے کہ وہ ہفتے کے چھٹے دن صلیب پر مصلوب ہوئے۔ اور وہ دن مبارک جمعہ کہلاتا ہے۔ اور آپ اتوار والے دن وہ مُردوں میں سے جی اُٹھے۔ اِس کے بارے میں تورات، زبور اور صحائف انبیاہ میں پیشگوئی پہلے سے نبیوں نے درج کردی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ کیوں واقعہ ہوا اور آج یہ تمہارے اور میرے زندگی کے لیے کیوں اتنا اہم ہے؟ اور یہاں ہم اس بات کو سمجھنے کے کوشش کریں گے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے لیے کیا پیش کیا۔ اور کیسے ہم اللہ تعالیٰ کے رحم اور معافی کو حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ ہمیں سورة الفاتح کو بھی سمجھنے میں مدد دے گا۔ جب اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جاتی ہے کہ "ہمیں سیدھا راستہ دیکھا” اور "مسلم” کا مطلب ہے "جو اطاعت یا تعاعب” ہوگیا ہو۔ اور کس طرح یہ سب مذہبی رسمیں وضو، زکوة، اور ہلال کھانا سب اچھا ہے لیکن پھر بھی قیامت والے دن یہ سب ناکافی ہیں؟

بری خبر: انبیاہ اکرام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتے کے بارے میں کیا کہا ہے؟

یوں اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا، اللہ کی صورت پر۔ اُس نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا۔ پیدائش 1:27

یہاں پر "صورت” سے مراد جسمانی معنی نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے معنی ہیں کہ ہم جذباتی ، ذہنی ، معاشرتی اور روحانی طور پر کام کرنے کے انداز میں اللہ تعالیٰ کی عکاسی کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق یا رشتہ قائم کرنے کے لیے پیدا کئے گے تھے۔ ہم اس رشتے یا تعلق کو اس سلائیڈ میں دیکھ سکتےہیں۔ اس سلائیڈ میں خالق جو کہ لامحدود حاکم ہے اس کو اُوپر لکھا گیا ہے۔ اس طرح مرد اور عورت کو سلائیڈ کے نیچے رکھا گیا ہے۔ کیونکہ ہم محدود مخلوق ہیں۔ اور اس میں رشتے کو تیر کے ذریعے دیکھایا گیا ہے۔

جب ہم اللہ تعالیٰ کی صورت پر پیدا کئے گے تھے۔ لوگوں کو اپنے خالق کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔

اللہ تعالیٰ کا کردار کامل ہے۔ وہ پاک ہے۔ اس لیے زبور شریف میں کہا گیا ہے

کیونکہ تُو ایسا خدا نہیں ہے جو بےدینی سے خوش ہو۔ جو بُرا ہے وہ تیرے حضور نہیں ٹھہر سکتا۔ مغرور تیرے حضور کھڑے نہیں ہو سکتے، بدکار سے تُو نفرت کرتا ہے۔     

    زبور 5: 4-5

حضرت آدم نے صرف ایک نافرمانی کی۔ صرف ایک۔ اور اللہ تعالیٰ کی تقدیس نے حضرت آدم کو انصاف کے لیے طلب کیا ہے۔ تورات شریف اور قرآن شریف میں لکھا ہے کہ اس کے نافرمانی کی وجہ سے حضرت آدم فانی ہوگے اور اللہ تعالیٰ کی پاک حضوری میں نکال دیا۔ جب کبھی ہم گناہ کرتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے نافرمانی جس طرح ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی صورت پر بنا اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ تو دراصل ہم اس رشتے کو توڑ دیتے ہیں۔ اس لیے یہ نافرمانی ایک سخت چٹان کی مانند ہمارے اور خدا (خالق) کے درمیان ایک دیوار بن جاتی ہے۔  

ہمارے گناہ ہمارے اورہمارے پاک خدا کے درمیان ایک ٹھوس رکاوٹ پیدا کرتے ہیں

گناہوں کی دیوار کو نیکیوں کے ساتھ گرانا

ہم میں سے بہت سے لوگ مذہبی نیک کاموں کے ذریعے اس بڑی دیوار کو گرانا چاہتے ہیں۔ یا پھر ایسے نیک کام کرتے ہیں کے اُن کے بدلے اللہ تعالیٰ اور انسان کے درمیان جدائی ختم ہوجائے۔ نماز، روزہ، زکوة، حج، صدقہ دینا اور مسجد جانا ان سب کاموں کے وسیلے ہم اس گناہوں کی دیوار کو گرانا چاہتے ہیں۔ اُمید یہ ہوتی ہے کہ ہمارے مذہبی نیک کاموں کے وسیلے ہمارے گناہ کام ہوجائیں گے؟ اگر ہم اتنے نیک کام کمالیں کے ہمارے سارے گناہوں کو منسوخ کردیا جائے اور پھر یہ اُمید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور مغفرت عطا فرمائے۔

ہم اللہ اور ہمارے درمیان گناہ کی دیوار کو کے نیک اعمال وسیلے چھیدنے کی کوشش کرتے ہیں

لیکن ہمیں گناہوں کو معاف کروانے کے لیے کتنی زیادہ نیک کام کمانے ہونگے؟ اس بات کا کیا یقین ہے کہ ہماری نیکیاں کافی ہونگی تماتر گناہوں کو معاف کروانے کے لیے اور اُس دیوار کو گرا دے جو ہمارے اور حالق کے درمیان کھڑی ہے؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ ہم نیک کوشش جو ہم کرتے ہیں وہ کافی ہے؟ دراصل ہم کو ان تمام تر باتوں میں کوئی یقین نہیں ہے۔ ہم اس لیے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ قیامت روز ہمارے لیے کافی ہوں۔

ان تمام تر نیک نیت اور نیک کاموں کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ ہم پاک بھی رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نماز سے پہلے جاںفشانی کے ساتھ وضو کرتے ہیں۔ ہم ہر طرح سے کوشش کرتے ہیں کہ ہم لوگوں، اور اُن چیزوں سے دور رہیں جن سے ہم ناپاک ہوسکتے ہیں۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے ایک بات کا ہم پر یہ انکشاف کیا کہ۔

ہم سب ناپاک ہو گئے ہیں، ہمارے تمام نام نہاد راست کام گندے چیتھڑوں کی مانند ہیں۔ ہم سب پتوں کی طرح مُرجھا گئے ہیں، اور ہمارے گناہ ہمیں ہَوا کے جھونکوں کی طرح اُڑا کر لے جا رہے ہیں۔  یسعیا 64: 6

یہاں نبی ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم سب چیزوں سے پرہیز کریں تو بھی ہم ناپاک ہوجاتے ہیں۔ ہمارے گناہوں ہمارے تمام تر "نیک یا راستی” کے کاموں کو ناپاک بنادیتے ہیں جس طرح ایک گندا کپڑا خون سے لت ہو۔ یہ ایک بُری خبر ہے۔ لیکن اور بھی خراب ہوجاتی ہے۔

بدترین خبر: گناہ اور موت کی طاقت

حضرت موسیٰ  نے شریعت کا واضع قانون متعارف کروایا۔ کہ احکام کی کامل اطاعت کرنی ہوگی۔ شریعت میں کہیں بھی ایسا نہیں لکھا کہ تم "بیشتر احکام” پر عمل کرسکتے ہو اور باقی جو چُھوٹ جائیں اُن کو رہنے دو۔ درحقیقت شریعت میں بار بار کہا ہے کہ واحد نیک کام ہمارے گناہ کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی اور وہ موت ہے۔ ہم نے حضرت نوح کے زمانے میں اور حتیٰ کہ حضرت لوط کی بیوی کے ساتھ بھی دیکھا تھا کہ گناہ کا نتیجہ موت ہے۔

انجیل شریف اس سچائی کا خلاصہ ذیل میں بیان کرتی ہے۔

کیونکہ گناہ کا اجر موت ہے ۔ ۔ ۔  رومیوں 6: 23

موت کے لفظی معنی ہیں "علیحدگی”۔ جب ہماری روح ہمارے جسم سے الگ ہوجاتی ہے تو ہم جسمانی طور پر مر جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم اب بھی روحانی طور پر خدا سے جدا ہوگئے ہیں اور اس کی نظر میں مردہ اور ناپاک ہیں۔

اس سے گناہ سے مغفرت حاصل کرنے میں مسلئہ پیدا ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سخت کوششیں ، قابلیت ، اچھے ارادے اور نیک اعمال ، اگرچہ غلط نہیں ہیں ، لیکن ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے ناکافی ہیں کیوںکہ ہمارے گناہوں کی ادائیگی ("اجرت”) کی ضرورت ‘موت’ ہے۔ اس لیے صرف موت ہی اس گناہ کی دیوار کو گرا سکتی ہے۔  کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ عادل منصف ہے اور اُس کا انصاف اس سے مطمئن ہوتا ہے۔ نیکیوں کوحاصل کرنے کے لئے ہماری کوششیں ایسی ہیں جیسے ہم حلال کھانا کھا کر کینسر سے علاج حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہوں۔ حلال کھانا بُرا نہیں ہے بلکہ اچھا ہے۔ اور ہر کسی کو حلال کھانا کھانا چاہئے۔ لیکن اس سے کینسر کا علاج نہیں ہوتا۔ بلکہ کینسر کا علاج بالکل مختلف ہے۔ اس علاج میں کینسر والے خلیوں کو موت دی جاتی ہے۔ تاکہ انسان کو بچا لیا جائے۔

لہذا ہماری مذہبی نیک کوششوں اور نیک ارادوں میں بھی ہم اپنے خالق کی نظر میں ایک لاش کی طرح دراصل مردہ اور ناپاک ہیں۔

ہمارے گناہ کا اجر موت ہے۔ ہم اللہ کے حضور ناپاک لاشوں کی مانند ہیں

حضرت ابراہیم : سیدھا راستہ دیکھا رہے ہیں

حضرت ابراہیم کے ساتھ کچھ مختلف ہوا۔ اُن کو نیک کاموں یا راست بازی کے کاموں کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر ایمان لائے اس لیے اُن کو راست باز گنا گیا۔ اُنہوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا نہ کہ اپنے نیک کاموں پر۔ ہم نے اس عظیم قربانی کے واقع میں دیکھا کہ موت (گناہ کی ادائیگی) ادا کی گئی۔ لیکن حضرت ابراہیم کے بیٹے کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بکرہ عطا کیاگیا۔

ابراہیم کو سیدھا راستہ دکھایا گیا تھا – اس نے سیدھے خدا کے وعدے پر بھروسہ کیا اور خدا نے گناہ کے لئے موت کی ادائیگی کی

قرآن شریف کی سورة الصَّافات اس طرح بیان کیا گیا ہے

اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا ﴿۱۰۷﴾  اور پیچھے آنے والوں میں ابراہیم کا (ذکر خیر باقی) چھوڑ دیا ﴿۱۰۸﴾  کہ ابراہیم پر سلام ہو ﴿۱۰۹  

            سورة الصَّافات ۳۷: ۱۰۷ تا ۱۰۹                                                                                                    

                                                                                                                                                          اللہ تعالیٰ نے ‘فدیہ’ دیا (قیمت ادا کی) اور ابراہیم کو برکت ، رحمت اور مغفرت ملی ، جس میں ’’ امن ‘‘ شامل تھا۔

خوشخبری: حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے ایک عظیم کام کیا

نبی کی مثال بالکل ایسی ہے جس طرح سورة فاتحہ میں دوخواست کی گئی کہ ہمیں سیدھا راستہ دیکھا۔ (سورة الفاتحہ

سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے ﴿۱﴾  بڑا مہربان نہایت رحم والا ﴿۲﴾  انصاف کے دن کا حاکم ﴿۳﴾  (اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ﴿۴﴾

سورة الفاتحہ ۱: ۱ تا ۴

انجیل شریف میں اس بات کی وضاحت کی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ اللہ کس طرح ہمارے گناہ کی قیمت ادا کرے گا اور سادہ اور حیرت انگیز طریقے سے موت اور ناپاکی کا علاج مہیا کرے گا۔

کیونکہ گناہ کا اجر موت ہے جبکہ اللہ ہمارے خداوند مسیح عیسیٰ کے وسیلے سے ہمیں ابدی زندگی کی مفت نعمت عطا کرتا ہے۔

رومیوں 6:23

اب تک ہم’بری خبرکی بات کر رہے تھے ۔ لیکن جب انجیل شریف کے معنی کو لیتے ہیں تو ‘انجیل’ کے لغوی معنی ہیں ’خوشخبری‘ اور انجیل یہ اعلان کرتی ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ کی موت کی قربانی ہمارے اور خدا کے مابین اس گناہ کی دیوار یا رکاوٹ کو چھیدنے کے لئے کافی ہے ہم دیکھ سکتے ہیں کیوں کہ یہ خوشخبری ہے جیسا کہ نیچے دکھایا گیا ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی قربانی – خدا کا بکرہ – ہمارے گناہوں کے واسطے موت کی ادائیگی اُسی طرح ادا کی۔ جیسے ابراہیم کے بکرے کو قربان کیا تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح  قربان ہوئے اور پھر پہلے پھلوں کے طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھے تو وہ اب ہمیں نئی زندگی (ہیمشہ کی زندگی) کی پیش کش کرتے ہیں۔ اب ہمیں گناہ کی وجہ سے موت کے قید میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی مُردوں میں سے قیامت ‘پہلا پھل’ تھا۔ ہم موت سے آزاد ہوسکتے ہیں اور حضرت عیسیٰ المسیح کی طرح قیامت جس کا مطلب جی اُٹھنے والی زندگی حاصل کرسکتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح (کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا) قیامت پہلا پھل’ تھے۔ ہم موت سے آزاد ہوسکتے ہیں اور قیامت میں ہیمشہ کی زندگی حاصل کرسکتے ہیں۔

اس کی قربانی اور (مُردوں میں سے جی اُٹھ کر) قیامت میں حضرت عیسیٰ المسیح گناہ کی راہ میں رکاوٹ کا دروازہ بن گیا جو ہمیں اللہ تعالیٰ سے جدا کرتا ہے۔ اسی لئے پیغمبر نے فرمایا

‘مَیں ہی دروازہ ہوں۔ جو بھی میرے ذریعے اندر آئے اُسے نجات ملے گی۔ وہ آتا جاتا اور ہری چراگاہیں پاتا رہے گا۔ چور تو صرف چوری کرنے، ذبح کرنے اور تباہ کرنے آتا ہے۔ لیکن مَیں اِس لئے آیا ہوں کہ وہ زندگی پائیں، بلکہ کثرت کی زندگی پائیں۔      یوحنا 10: 9-10

حضرت عیسیٰ المسیح ایسا دروازہ ہے جو گناہ اور موت کی راہ میں رکاوٹ ہے

اس دروازے (حضرت عیسیٰ المسیح) کی وجہ سے ، اب ہم اپنے خالق کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ اس سے پہلے  ہمارا گناہ ایک رکاوٹ تھا ۔ اس دروازے کے وسیلے ہمیں رحمت اور اپنے گناہوں کی معافی کی یقین دلایا جاسکتا ہے۔

کھلے دروازے کے ساتھ اب ہم اپنے خالق کے ساتھ تعلقات میں بحال ہوگئے ہیں

جس طرح انجیل پاک میں لکھا ہے۔

کیونکہ ایک ہی خدا ہے اور اللہ اور انسان کے بیچ میں ایک ہی درمیانی ہے یعنی مسیح عیسیٰ، وہ انسان جس نے اپنے آپ کو فدیہ کے طور پر سب کے لئے دے دیا تاکہ وہ مخلصی پائیں۔ یوں اُس نے مقررہ وقت پر گواہی دی

پہلا تیمتھیس 2: 5-6

حضرت عیسیٰ المسیح  نے ‘خود کو’ تمام لوگوں کے لئے ‘دیا۔ لہذا اس میں آپ  کو اپنے آپ کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ اپنی موت اور قیامت کے ذریعے اہمارا ایک ’ثالث‘ ہونے کی قیمت ادا کردی ہے اور ہمیں ہمیشہ زندگی کی پیش کش کی ہے۔ یہ زندگی ہمیں کیسے دی جاتی ہے؟

‘کیونکہ گناہ کا اجر موت ہے جبکہ اللہ ہمارے خداوند مسیح عیسیٰ کے وسیلے سے ہمیں ابدی زندگی کی مفت نعمت عطا کرتا ہے۔’

رومیوں 6: 23

غور کریں کہ یہ زندگی ہمیں کس طرح دیا گیا ہے۔ یہ بطور…  ’ہم کو تحفہ‘ کے پیش کی جاتا ہے۔ زرا آپ تحفوں کے بارے میں سوچیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تحفہ کیسا ہے ، اگر واقع یہ ایک تحفہ ہے تو یہ ایسی چیز ہے جس کے لیے آپ کام نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی  اس کے لیے کوئی قیمت یا نیک کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ نے اسے کمایا تو یہ تحفہ اب کوئی تحفہ نہیں ہوگا – یہ آپ کے کام کی اجرت ہوگی! اسی طرح آپ عیسیٰ المسیح کی قربانی کا تقاضا نہیں لگا سکتے اور نہ ہی اپنے نیک کاموں سے کما سکتے ہیں۔ یہ بطور تحفہ جو آپ کو دیا گیا ہے۔ یہ اتنا آسان اور سادہ ہے۔

اور تحفہ کیا ہے؟ یہ ‘ہمیشہ زندگی’ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس گناہ سے موت آپ اور مجھے پر آئی وہ اب اس کی ادائگی  چکا ہے۔ کیونکہ خدا تم سے اور مجھ سے محبت رکھتا ہے۔  اور اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے۔

اب آپ اور میں ہیمشہ کی زندگی کیسے حاصل کرسکتے؟ ایک بار پھر ، تحائف کے بارے میں سوچیں. اگر کوئی آپ کو کوئی تحفہ دینا چاہتا ہے تو آپ کو اسے ضرور ‘وصول’ کرنا ہوگا۔ جب بھی تحفہ پیش کیا جاتا ہے تو صرف دو ہی متبادل ہوتے ہیں۔ یا تو تحفہ سے انکار کردیا جاتا ہے ("نہیں آپ کا شکریہ”) یا قبول کرلیا جات ہے ("آپ کے تحفے کا شکریہ۔ میں اسے لے کر جاؤں گا”)۔ تو بھی یہ تحفہ موصول ہونا ضروری ہے. اس تحفے کو صرف آپ کو قبول ہی کرنا بلکہ اس پر ذہنی طور پر یقین کرنا ، پڑھا یا سمجھنا چاہئے۔ اچھی بات ہے جب آپ کو تحفہ پیش کیا جائے تو اس کو قبول کرنا چاہئے۔

‘توبھی کچھ اُسے قبول کر کے اُس کے نام پر ایمان لائے۔ اُنہیں اُس نے اللہ کے فرزند بننے کا حق بخش دیا، ایسے فرزند جو نہ فطری طور پر، نہ کسی انسان کے منصوبے کے تحت پیدا ہوئے بلکہ اللہ سے۔ ‘

یوحنا 1: 12-13

در حقیقت ، انجیل خدا کے بارے میں بتاتی ہے۔

‘یہ اچھا اور ہمارے نجات دہندہ اللہ کو پسندیدہ ہے۔ ہاں، وہ چاہتا ہے کہ تمام انسان نجات پا کر سچائی کو جان لیں۔ ‘

۱۔تیمتھیس 2: 3-4

حضرت عیسیٰ المسیح نجات دہندہ ہیں اور آپ کی خواہش ہے کہ ‘تمام لوگ’ اس کا تحفہ قبول کریں اور گناہ اور موت سے بچ جائیں۔ اگر آپ حضرت عیسیٰ المسیح کی مرضی قبول کرنا چاہتے ہیں۔ تو اس  تحفے کو قبول کرنا محض آپ کی مرضی کے تابع ہونا ہوگا – جس طرح لفظ ‘مسلم’ کے معنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے فرمانبردار کردینا ہے۔ اس طرح ہم کو اللہ تعالیٰ کے اس تحفے کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں قبول کرلینا چاہئے۔

تو ہم یہ تحفہ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ انجیل شریف میں درج ہے۔

‘اِس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو یا غیریہودی۔ کیونکہ سب کا ایک ہی خداوند ہے، جو فیاضی سے ہر ایک کو دیتا ہے جو اُسے پکارتا ہے۔ ‘

رومیوں 10: 12

غور کرنے کی بات ہے کہ یہ وعدہ ‘سب کے لئے’ ہے۔ چونکہ آپ مردوں میں سے جی اُٹھے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح اب بھی زندہ ہیں۔ لہذا اگر آپ ان کو پکاریں گے تو وہ سن لے گے اور آپ کو اپنا تحفہ عطا کریں گے۔

آپ ان کو پکاریں اوران سے کہیں۔ شاید آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا ہوگا۔ ذیل میں ایک گائیڈ ہے جو آپ کی مدد کرسکتی ہے۔ یہ کوئی جادومنتر نہیں ہے۔ اور نہ یی یہ مخصوص الفاظ نہیں جو  قوت دیتے ہیں۔ یہ بھروسہ ہے جیسا ابراہیم کا تھا کہ ہم حضرت عیسیٰ المسیح میں پر اپنا یقین لائیں تاکہ وہ یہ تحفہ ہمیں دیں۔ جب ہم ان پر بھروسہ کرتے ہیں تو وہ ہماری سن لے گے اور جواب دے گے۔ انجیل پاک میں قوت ہے ، اور پھر بھی بہت سادہ ہے۔ اگر آپ کو یہ مددگار ثابت ہوتا ہے تو اس رہنمائی پر عمل کرنے کے لئے آزادی محسوس کریں۔

پیارے حضرت عیسیٰ المسیح۔ میں سمجھتا ہوں کہ اپنے گناہوں کی وجہ ہی سے میں اپنے خالق اللہ تعالیٰ سے جدا ہوں۔ اگرچہ میں پوری کوشش کرسکتا ہوں ، لیکن میری کوششیں اس رکاوٹ کو جو میرے گناہ کی وجہ سے دیوار کی ماندد ہیں گرا نہیں سکتیں۔  لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی موت میرے تمام گناہوں کو دھو ڈالنے اور مجھے پاک کرنے کے لئے آپ قربان ہوئے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اپنی قربانی کے بعد مردوں میں سے جی اُٹھے ہیں لہذا مجھے یقین ہے کہ آپ کی قربانی کافی ہے اور اسی لئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم مجھے میرے گناہوں سے پاک کردیں اور اپنے خالق کے ساتھ صلح کروائیں تاکہ میں ابدی زندگی پاسکوں۔ آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، حضرت عیسیٰ المسیح ، آپ نے میرے لئے یہ سب کیا۔  اور آپ اب بھی میری زندگی میں میری رہنمائی کرتے رہیں  تاکہ میں آپ کو اپنے خداوند کی حیثیت سے پیروی کرتا رہوں۔

اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان ہے

کرسمس مبارک ہو

"میری کرسمس” یہ ایک مبارکبادی جو لوگ ایک دوسرے کو کرسمس پر  کہتے ہیں۔  میں آپ کو کرسمس کے موقعہ یہ مبارکبادی دیتا ہے۔ آپ کو میری طرف سے کرسمس مبارک ہو!

بہت سارے لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ کرسمس ایک چھٹی کا دن ہے۔ کیونکہ اُس روز حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش ہوئی تھی۔ لیکن کیون اس روز لوگ کرسمس ہی مناتے ہیں؟ اس کے علاوہ بہت سارے انبیاء اکرام پیدا ہوئے اور ہم اُن کو جانتے بھی ہیں لیکن کیوں حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش ہی دمدام کے ساتھ منائی جاتی ہے؟ اور یہ عید کیوں منائی جاتی ہے؟ ان سوالات کے جوابات کو معلوم کرنے کے بعد آپ کا کرسمس کی چھٹی کے بارے میں خیال بدل جائے گا اور آپ اس روز کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نیک نامی کے طور پر جاننا شروع کردیں گے۔ اس سے آپ سال کے ہر ایک دن کو ایک مختلف اور پُر جوش انداز سے گزارنا شروع کردیں گے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کی کنواری سے پیدائش اور حضرت جبرائیل کی بشارت

بہت سارے لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ تاریخ میں تمام پیدائش پانے والوں کے درمیان لاثانی پیدائش سے کیا مراد ہے۔ اس میں انبیاءاکرام کی پیدائش بھی شامل ہے۔ یہ پیدائش اس قدر اہم تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو حضرت مریم ؑ کو بشارت دینے کے لئے بھیجا۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ؑ کو اہم پیغامات کی رسائی ہی کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ انجیل مقدس میں اس کے بارے اس طرح درج ہے۔

‘چھٹے مہِینے میں جبرا ئیل فرِشتہ خُدا کی طرف سے گلِیل کے ایک شہر میں جِس کا نام ناصرۃ تھا ایک کُنواری کے پاس بھیجا گیا جِس کی منگنی داؤُد کے گھرانے کے ایک مَرد یُوسف نام سے ہُوئی تھی اور اُس کُنواری کا نام مر یم تھا اور فرِشتہ نے اُس کے پاس اندر آ کر کہا سلام تُجھ کو جِس پر فضل ہُؤا ہے! خُداوند تیرے ساتھ ہے وہ اِس کلام سے بُہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کَیسا سلام ہے فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے مر یم! خَوف نہ کر کیونکہ خُدا کی طرف سے تُجھ پر فضل ہُؤا ہے اور دیکھ تُو حامِلہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا  اُس کانام یِسُو ع رکھنا وہ بزُرگ ہو گا اور خُدا تعالےٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؤُد کا تخت اُسے دے گا اور وہ یعقُو ب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخِر نہ ہو گا مریم نے فرِشتہ سے کہا یہ کیوں کر ہو گا جبکہ میں مَرد کو نہیں جانتی؟ اور فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ رُوحُ القُدس تُجھ پر نازِل ہو گا اور خُدا تعالےٰ کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مَولُودِ مُقدّس خُدا کا بیٹاکہلائے گا اور دیکھ تیری رِشتہ دار اِلیشِبَع کے بھی بُڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور اب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے کیونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہو گا مریم نے کہا دیکھ مَیں خُداوندکی بندی ہُوں  میرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہو  تب فرِشتہ اُس کے پاس سے چلا گیا ‘ لُوقا 1:26-38

(حضرت جبرائیلؑ اس بشارت میں ایک مخصوص عنوان "خدا کا بیٹا” کا استعمال کرتے ہیں۔ برائے مہربانی اس عنوان کے بارے یہاں دیکھیں کہ اس کا کیا مطلب ہے اور کیا مطلب نہیں ہے)

حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کے بارے سینکڑوں سال پہلے نبوت کردی گئی تھی

انجیل مقدس میں حضرت عیسیٰ المسیح (مسیح مطلب مسیحا =کرائسٹ/مسیح)  کی پیدائش کا حوالہ درج ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ المسیح کی کہانی کا آغاز انجیل میں سے نہیں ہوتا بلکہ 700 سال پہلے زبور شریف میں حضرت یسعیاہ نبی نے انکی پیدائش کے بارے میں ایک لاثانی پیشنگوئی تفصیل کے ساتھ  پیش کی دی تھی جس کے بارے میں یہاں مکمل طور پر بیان کیا گیا ہے۔

لیکن خُداوند آپ تُم کو ایک نِشان بخشے گا ۔ دیکھو ایک کُنواری حامِلہ ہو گی اور بیٹا پَیدا ہو گا اور وہ اُس کانام عِمّانُوایل رکھّے گی۔

یسعیاہ 7: 14

حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کی نبوت انسانی تاریخ کے شروعات میں بتادی گئی تھی

لہذا کنواری کی پیدائش کے بارے میں ہزاروں سال پہلے خود اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمادیا تھا۔ اس کے بارے میں ایک اہم بات یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کے بارے میں اعلان فرمایا۔ اگر ہم کتابِ مقدس میں انسانی تاریخ کی شروعات کا مزید مطالعہ کریں۔ تو ہم کو معلوم ہوگا کہ کنواری سے پیدائش کا پہلے سے ایک منصوبہ تیار ہوچکا تھا۔ اگرچہ تورات شریف میں شروعات کا ذکر ہے لیکن اس کے اختتام کے پہلو کو بھی اُجاگر کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں باغِ جنت انسانی تاریخ کی شروعات کے بارے میں دیکھ سکتے ہیں۔ جب شیطان نے حضرت آدم اور حضرت حوا کو کامیابی کے ساتھ گمراہ کرلیا تھا۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے شیطان کو سزا دی اور ایک پہیلی میں اُس کو بتایا تھا۔

اور مَیں تیرے اور عَورت کے درمیان اور تیری نسل اور عَورت کی نسل کے درمِیان عداوت ڈالُوں گا ۔ وہ تیرے سر کو کُچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا۔

پیدائش 3: 15

یہ ایک پہیلی ہے۔ لیکن اگر آپ اس کا غور سے مطالعہ کریں گے تو آپ اس میں پانچ مختلف کرداروں کو پائیں گے۔ اور یہ ایک نبوتی کلام تھا جو آںے والے وقت کے بارے میں نشاندہی کر رہ تھا۔

یہ کردار یہاں ہیں:

  1. اللہ تعالیٰ
  2. شیطان
  3. عورت
  4. عورت کی نسل
  5. شیطان کی نسل

یہاں درج ذیل میں اس پہیلی کا نقشہ ان کرداروں کے بارے میں بیان کی گیا ہے۔

اس تصویر میں باغ جنت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ  ان کردار کا تعلق دیکھایا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ عورت کی نسل اور شیطان کی نسل کے درمیان انتظام کرتا ہے۔ ان دونوں کی نسل کے درمیان نفرت/ دشمنی ہوگی۔ شیطان عورت کی نسل کی یڈی پر کاٹے گا اور عورت کی نسل اِس کے سر کو کچلے گی۔

آئیں اب ہم اس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کہ عورت کی نسل کو وہ (یعنی مذکر) اور اُس کے الفاظ کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ الفاظ واحد مرد/مذکر کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ‘وہ’ نسل ہے نہ کہ یہ ‘وہ’ جمع نہیں ہے۔ یہ نسل کوئی لوگوں کا مجموعہ نہیں اور نہ ہی کوئی قوم، یا کوئی مذہب جیسا کہ یہودیت، عسایئت، یا اسلام۔ جس طرح اس نسل کے بارے میں الفاظ ‘وہ’ ہے نہ کہ ‘یہ’ لفظ استعمال ہوا ہے۔ (اس طرح یہ نسل صرف ایک شخص کی طرف اشارہ دیتی ہے)۔ اس طرح انفرادی طور پر یہ نسل ہے نہ تو کوئی فلسفہ ، کوئی تعلیم یا کوئی مذہب کی تشریح نہیں کرتی۔ لہذا وہ نسل نہ تو مسیحیت یا اسلام بلکہ یہ تو خود صرف ‘اُس” ایک کی طرف اشارہ ہے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا نہیں کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کی نسل کا وعدہ نہیں کیا تھا جیسا کہ عورت کی نسل کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تورات شریف میں یہ بات بلکل منفرد اور دلچسپی کا باعث ہے۔ کیونکہ تورات شریف ، زبور شریف اور انجیل شریف میں ہمیشہ اولاد باپ سے کہلاتی آئی ہے۔ لیکن اس معاملے میں یہ بات مختلف ہے کہ نسل کا وعدہ (ایک مرد) کسی مرد سے نہیں کیا گیا۔ اس کے بارے اس طرح کہا گیا ہے۔ کہ وہ نسل صرف ایک عورت سے ہوگی۔ اس بات میں مرد کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔

لہذا یہاں کتابوں میں سے ہم نے پہلی پیش گوئی کو دیکھتے ہیں۔ اس ایک پہیلی کو جو شیطان کو بتائی گئی تھی۔ اگر آپ اس پہیلی کا غور کے ساتھ مطالعہ کریں۔ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک نکتے پر ختم ہوتی ہے۔ وہ نکتہ وہ نسل ہے جو عورت سے آنی والی تھی۔ وہ حضرت عیسیٰ المسیح ہیں۔ جو کہ مرد کے بیج/ مرد اور عورت کے تعلق کے بغیر پیدا ہوئے۔ اور ایک کنواری سے پیدا ہوئے۔ وہ ‘شیطان کے سر کو کچلے’ گا۔ لیکن اُس کا دشمن کون ہے؟ اس کا جواب ہے "شیطان کی نسل” ہے۔ بعد میں انبیاءاکرام نے تباہی کے بیٹے "شیطان کا بیٹا” اور دوسرے القاب میں ایک ایسے حکمران کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو آںے ‘مسیح موعود’ کا مقابلہ کرے گا۔ یہ پیشگوئیاں ‘مخالفِ مسیح ” اور ‘مسیح ‘ کے درمیان ہونے والی جنگ کے بارے میں بتاتیں ہیں۔ آخر میں فتح میسح کی ہوگئی۔

حضرت عیسیٰ المسیح گناہوں سے نجات دلاتا ہے

لہذا انبئاءاکرام کی منادی/ اعلان کا عظیم عنوان یہاں سے شروع ہوجاتا ہے۔ اور ہم حضرت آدمؑ کے نشان میں سے مذید معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن آپ اور میرے لیے حضرت مریم ہی کیوں؟ چونکہ حضرت عیسیٰ المسیح مرد کی وجہ سے حضرت مریم سے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ جب کہ آپ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پیدا ہوئے۔ اور حضرت جبرائیل نے حضرت یوسف کو جو حضرت مریم کا منگیتر تھا۔ اُس کو بڑھی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جب اُسے پتہ چلا کہ اُس کی منگیتر حاملہ ہے۔

19پس اُس کے شَوہر یُوسف نے جو راستباز تھا اور اُسے بدنام کرنا نہیں چاہتا تھا اُسے چُپکے سے چھوڑ دینے کا اِرادہ کِیا۔ 20وہ اِن باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خُداوند کے فرشتہ نے اُسے خواب میں دِکھائی دے کرکہا اَے یُوسف اِبنِ داؤُد ! اپنی بِیوی مر یم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈرکیونکہ جو اُس کے پیٹ میں ہے وہ رُوحُ القُدس کی قُدرت سے ہے۔ 21اُس کے بیٹا ہو گا اور تُو اُس کا نام یسُو ع رکھناکیونکہ وُہی اپنے لوگوں کو اُن کے گُناہوں سے نجات    دے گا۔

متی 1: 19-21

حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس یہ قدرت ہے کہ وہ ہمیں ہمارے گناہوں سے نجات دلاسکتے ہیں۔ ہم سب کبھی گناہ صغیرا یا گناہِ کبرا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ روزِ محشر کا دن آںے والا ہے۔ جس دن ہم سب حساب دیں گے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس قدرت ہے کہ وہ مجھ کو اور آپ کو ان گناہوں سے نجات دلاسکتے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے سے یقینی آپ کرسمس کی خوشیوں کو پُرمسرت انداز میں مناسکتے ہیں۔ کرسمس کے دن ہم اس بات کو یاد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ المسیح کو حضرت مریم جو کہ کنواری کے وسیلے پیدا کیا۔ اور یہ دن آپ کے پورے سال کے دنوں کو خوشیوں سے معمور کردے گا۔

کرسمس کی عید پر آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحفہ

یہ کرسمس پر روایت ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو تخفے دیتے ہیں۔ کیوں؟ اس بات کو اس لیے یاد کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے ہمارے ساتھ ایسا کیا۔ کیونکہ انجیل شریف میں درج ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح ہمارے گناہوں سے ہمیں نجات دلائے گا۔ یہ ہمارے لیے ایک تخفہ ہے۔ انجیل شریف میں یوں درج ہے۔

کیونکہ گُناہ کی مزدُوری مَوت ہے مگر خُدا کی بخشِش ہمارے خُداوند مسِیح یِسُو ع میں ہمیشہ کی زِندگی ہے۔

رومیوں 6: 23

 گناہوں سے نجات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک لاثانی تخفہ ہے۔ یہ سب کچھ اُس روز ہوا جس روز حضرت عیسیٰ المسیح پیدا ہوئے۔ لیکن جب کوئی تخفہ دیا جاتا ہے یا جس کو تخفہ دیا جاتا ہے تو وہ اُس کو پہلے قبول کرتا ہے۔ تو پھر اُس کو اس تخفے سے  فائدا ملتا ہے۔ زرا غور کریں۔ کسی تخفے کو جاننے سے یا اُس تخفے کی موجودگی کا یقین ہونے سے یا اُس تخفے کو دیکھنے سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ جب تک ہم اُس تخفے کو قبول نہیں کرلیتے۔ اس لیے انجیل مقدس اعلان کرتی ہے۔

؎لیکن جِتنوں نے اُسے قبُول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔ وہ نہ خُون سے نہ جِسم کی خواہِش سے نہ اِنسان کے اِرادہ سے بلکہ خُدا سے پَیدا ہُوئے۔

یوحنا 1: 12-13

کرسمس مبارک ھو

شاید آپ کے پاس بہت سارے اچھے سوالات ہے۔ مسیح کا مطلب کیا ہے؟ حضر ت عیسیٰ المسیح ہمیں گناہوں سے کیسے نجات دلائے گا؟ اس تخفے کو قبول کرنے سے کیا مطلب ہے؟ کیا انجیل شریف قابل اعتماد ہے؟لہذا یہ ویب سائٹ میری طرف سے آپ کو تخفہ ہے۔ اس میں آپ کو سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اور قابلِ قدر سوالات کے جوابات بھی موجود ہیں۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ تورات، زبور اور انجیل شریف میں سے خوشخبری کے بارے میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔

میری یہ اُمید ہے کہ جس طرح میں نے کرسمس کی خوشی کو دریافت کیا۔ آپ بھی اس تجربہ کو حاصل کریں۔

ہم خدا کے بیٹے کے خطاب کو کیسے سمجھتے ہیں؟

شاید انجیل شریف میں ” خدا کے بیٹے” کے علاوہ کوئی دوسرا خطاب نہیں ہے۔ جس کے بارے میں انجیل مقدس میں اس سے زیادہ ذکر کیا گیا ہو۔ یہ خطاب حضرت عیسیٰ المسیح کو دیا گیا ہے اور انجیل شریف میں بار بار اس کا ذکر ہوا ہے۔ اس اصطلاح کی وجہ سے انجیل شریف کی تحریف کے بارے میں شک کیا جاتا ہے۔ انجیل شریف کی تحریف کے مسئلہ کے بارے میں قرآن شریف (یہاں) سنت (یہاں) اور سائنسی تحریری تنقید (یہاں) کے تحقیقی کی گئی ہے۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ مسئلہ کیا ہے۔ تو اس تحقیقی کی وجہ سے حیرت انگیز نتائیج برآمد ہوئے ہیں۔ کہ انجیل پاک میں رتی بھر بھی تحریف یا تبدیلی نہیں ہوئی۔ لیکن یہ "خدا کے بیٹے” کی اصطلاح سے کیا مطلب ہے؟

کیا یہ خدا کی وحدانیت کے منافی ہے جیسا کہ سورة اخلاص میں بیان ہوا ہے؟ (سورة اخلاص 112)

(سورہ اخلاص 112)

تورات شریف میں بھی خدا پاک کی واحدنیت کادعویٰ کیا گیا ہے۔

جس طرح سورة اخلاص میں زکر آیا ہے۔ حضرت موسیٰ نے یوں اعلان فرمایا۔

‘سن اے اسرائیل! رب ہمارا خدا ایک ہی رب ہے۔ ‘

(استثنا  6:  4)

تو پھر کیسے ہم "خدا کے بیٹے” کے خطاب کو سمجھ سکتے ہیں؟

کئی بار صرف ایک اصطلاح کو سن کر خود سے مطلب نہیں نکال لینا چاہئے۔ اس سے آپ غلط فہمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مغرب میں بہت سارے لوگ ‘جہاد’ کی اصطلاح کے خلاف ہیں۔ جس کو میڈیا پر دیکھایا جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس اصطلاح کا مطلب ہے کہ ‘کچھ پاگل لڑاکے’ ‘معصوم لوگوں کو قتل کرنے والے’ یا کچھ اسی طرح کی ملتی جلیتی بات۔ حقیقت میں سچ تو یہ ہے۔ کہ جو لوگ اس اصطلاح کو سمجھنے کے لیے وقت دیتے ہیں۔ وہ جان جاتے ہیں۔ کہ اس کا مطلب ‘جدوجہد’ یا ‘کوشش’ کرنا ہے۔ اور یہ کوشش یا جدوجہد بہت سارے وسیع پیمانے میں سمجھی جاسکتی ہے۔ لیکن بہت اس بات کو نہیں سمجھتے۔

ہمیں "خدا کے بیٹے” کی اصطلاح کے بارے میں اسی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ اس مضمون میں ہم اس اصطلاح کے بارے میں دیکھیں گے۔ کہ یہ کہا سے آئی۔ اس کا کیا مطلب ہے، اور اس کا کیا مطلب نہیں ہے۔ ہم پھر اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ جہاں ہم انجیل شریف کی اس اصطلاح کا جواب دے سکیں گے۔

خدا کے بیٹے’ کی اصطلاح کہاں سے آئی؟

خدا کےبیٹے’ کی اصطلاح کا آغاز انجیل شریف میں سے نہیں ہوا۔ انجیل شریف کے لکھاریوں نے اس اصطلاح کو ایجاد نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی یہ کسی مسیحی کی ایجاد ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سب سے پہلے اس اصطلاح کا استعمال زبور شریف میں ہوا۔ جو کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے حواریوں سے 1000 پہلے حضرت داود ؑ پر نازل ہوا تھا۔ آئیں دیکھیں یہ سب سے پہلے کہاں اس کا ذکر نازل ہوا۔

دوسرے ملکوں کے لوگ کیوں اتنا طیش میں آتے ہیں
    اور لوگ کیوں بیکار کے منصوبے بنا تے ہیں؟
ان قوموں کے بادشاہ اور حکمراں،
    خدا اور اس کے منتخب بادشاہ کے خلاف آپس میں ایک ہو جا تے ہیں۔
وہ حا کم کہتے ہیں، “ آؤ خدا کی طرف اوراُس بادشاہ کی جس کو اُس نے چنا ہے ، ہم سب مخالفت کریں۔
    “ آؤ ہم ان بندھنوں کو تو ڑ دیں جو ہمیں قید کئے ہیں اور انہیں پھینک دیں!”
لیکن میرا خدا جو آسمان پر تخت نشین ہے
    اُن لوگوں پر ہنستا ہے۔
5-6 خدا غصّے میں ہے اور وہ ان سے کہتا ہے ،
    “ میں نے اس شخص کو بادشاہ بننے کے لئے منتخب کیا ہے۔
وہ کوہِ مقّدس صیّون پر حکومت کرے گا۔ صیّون میرا خصوصی کوہ ہے۔ ”
    یہی ان حاکموں کو خوفزدہ کرتا ہے۔
اب میں خداوند کے اُس فرمان کو تجھے بتا تا ہوں۔
    خداوند نے مجھ سے کہا تھا، “ آج میں تیرا باپ بنتا ہوں اور توآج میرا بیٹا بن گیا ہے۔
اگر تو مجھ سے مانگے، تو ان قوموں کو میں تجھے دے دوں گا
    اور اس زمین کے سبھی لوگ تیرے ہو جا ئیں گے۔
تیرے پاس ان ملکوں کو نیست و نابود کر نے کی ویسی ہی قدرت ہو گی
    جیسے کسی مٹی کے برتن کو کو ئی لو ہے کے عصا سے چکنا چور کر دے۔”
10 پس اے بادشاہ ہو! تم دانشمند بنو۔
    اے زمین پر عدالت کرنے وا لو، تم اس سبق کو سیکھو۔
11 تم نہا یت خوف سے خداوند کی عبادت کرو۔
12 اپنے آپ کو اس کے بیٹے کا وفادار ظاہر کرو۔
    اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو وہ غضب ناک ہو گا اور تمہیں نیست ونابود کر دے گا۔
جو لوگ خداوند پر توکّل کرتے ہیں وہ خوش رہتے ہیں۔
    لیکن دوسرے لوگوں کو چاہئے کہ ہو شیار رہیں کیوں کہ خدا کا غصّہ آنے وا لے وقت میں جلدی بھڑکے گا۔

(زبُور2)

ہم نے یہاں ‘خداوند’ اور ‘اس کے ممسوح’ کے بارے میں گفتگو دیکھی۔ اسی طرح 7 ویں آیت میں ‘خداوند’ (مثلا خدا/اللہ) نے ممسوح سے کہا۔’ ۔ ۔ ۔ تو میرا بیٹا ہے۔ آج تُو مُجھ سے پَیداہُؤا۔ ‘ اس بات کو 12 ویں آیت میں دوہرایا گیا ہے۔ جہاں ہمیں کہا گیا ہے۔ کہ ‘بیٹے کو چومو۔ ۔ ۔’ چونکہ اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے۔ کہ وہ ‘میرا بیٹا’ ہے۔ اور یہاں ہی سے "اللہ کےبیٹے” کی اصطلاح کا آغاز ہوا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے بیٹے کی اصطلاح کس کو دی گئی تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اصطلاح ‘ممسوح’ سے منسوب کی گئی تھی۔ دوسرے الفاظ میں ‘بیٹے’ کی اصطلاح کو ‘ممسوح’ کے زریعے اس اقتباس میں پیش کیا گیا ہے۔ ہم ‘ممسوح = مسیحا=مسیح=کرائسٹ کو جانتے ہیں۔ دلچسپی کی بات ہے کہ اسی زبور میں ‘مسیح’ کی اصطلاح کا آغاز ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ تاہم ‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے” کی اصطلاح کا آغاز اس ایک اقتباس سے شروع ہوا۔ جہاں سے ‘مسیح/کرائسٹ’ کی اصطلاح کا آغاز بھی ہوا۔ یہ کلام حضرت داودؑ کو حضرت عیسیٰ المسیح کی آمد سے 1000 سال پہلے نازل ہوا۔ جو کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے میں پیش گوئی تھی۔

اس بات کو مذید جانتے ہوئے معلوم ہوتا ہے۔ کہ اس اصطلاح کو حضرت عیسیٰ مسیح کے خلاف استعمال گیا۔ یہاں درج ذیل گفتگومیں ہم معلوم کریں گے کہ کیسے یہودی راہنما حضرت عیسیٰ مسیح سے اس اصطلاح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ کے عنوان ‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کے بارے میں منطقی متبادل

66 دوسرے دن صبح بڑے لوگ کے قائدین اور کاہنوں کے رہنما معلّمین شریعت سب ایک ساتھ مل کر آئے۔ اور وہ یسوع کو عدالت میں لے گئے۔ 67 انہوں نے کہا، “اگر تو مسیح ہے تو ہم سے کہہ۔” تو یسوع نے ان سے کہا، “اگر میں تم سے کہوں کہ میں مسیح ہوں تو تم میرا یقین نہ کرو گے۔ 68 اگر میں تم سے پو چھوں تو تم اس کا جواب بھی نہ دو گے۔ 69 لیکن! آج سے ابن آدم خدا کے تخت کی داہنی جانب بیٹھا رہیگا۔”

70 ان سبھوں نے پو چھا، “تو کیا تو خدا کا بیٹا ہے؟” یسوع نے ان سے کہا، “میرے ہو نے کی بات کو تم خود ہی کہتے ہو۔”

71 تب انہوں نے کہا، “ہمیں مزید اور کیا گواہی چاہئے ؟ کیوں کہ ہم سن چکے ہیں کہ خود اس نے کیا کہا ہے۔”

یہودی راہنماوں نے حضرت عیسیٰ سے سب سے پہلا سوال یہ کیا کہ کیا آپ ‘مسیح’ہیں؟ (آیت 67) اگر میں کسی کو پوچھو گا۔ کہ ‘کیا آپ Xہیں؟ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مجھے پہلے ہی سے X کے بارے میں معلومات ہیں۔ اوراس سوال سے میں صرف یہ معلوم کر رہا ہوں کہ کیا جس شخص سے میں بات کر رہا ہو وہ کیا X ہی ہے۔ اس طرح یہودی راہنما حضرت عیسیٰ مسیح سے یہ معلوم کر رہے تھے۔ ‘کیا آپ ہی مسیح ہیں؟’ اس کا مطلب یہ کہ اُن کو ‘مسیح’ کے بارے میں پہلے سے تصور یا علم تھا۔ پھر اُنہوں نے اپنے سوال کو ایک اور طریقے سے پوچھا۔ ‘کیا تم اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہو؟’ وہ یہاں پر دونوں اصطلاحات "مسیح’ اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ مساوی طور پر لیے رہے تھے۔ یہ اصطلاحات ایک سکے کے دواطراف ہیں۔ (حضرت عیسیٰ نے ان دونوں اصطلاح میں سے ایک اور جواب دیا۔ کہ وہ "ابنِ آدم "ہے یہ ایک اور اصطلاح ہے جو حضرت دانیال کی کتاب میں آتی ہے۔ جس کے بارے میں ہم یہاں بات نہیں کریں گے۔ کیونکہ ہم یہاں ‘اللہ کے بیٹے’ کی بات کر رہے ہیں) یہودی راہنماوں نے ‘مسیح اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کہا سے دونوں کے درمیان مساوی خیال حاصل کیا؟ یہ خیال اںہوں نے زبور شریف کے باب 2 میں لیا۔ جو حضرت عیسیٰ المسیح کی آمد سے 1000 سال پہلے نازل ہوچکا تھا۔ یہ حضرت عیسیٰ المسیح کے لیے منطقی امکان تھا کہ اگر وہ "اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ نہیں تو وہ پھر ‘مسیح’ بھی نہیں ہوسکتے تھے۔ یہ ہی ایک بات تھی جس کو یہودی راہنماوں نے استعمال کیا جس کو ہم نے اُوپر حوالہ میں پڑھا ہے۔

یہ منطقی ممکن تھا کہ حضرت عیسیٰ "اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ اور مسیح’ ہوسکیں۔ ہم یہاں درج ذیل انجیل شریف کے ایک حوالہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہ کیسے حضرت عیسیٰ المسیح کے معروف حواری جس کا نام ‘پطرسؑ’ ہے۔ اُن نے حضرت عیسیٰ مسیح کے ایک سوال کا جواب دیا۔

13 یسوع جب قیصر یہ فلپی کے علا قے میں آیا۔تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے پو چھا، “مجھ ابن آدم کو لوگ کیا کہہ کر پکار تے ہیں؟”

14 ماننے وا لوں نے جواب دیا، “بعض تو بپتسمہ دینے والا یوحناّ کے نام سے پکار تے ہیں اور بعض ایلیاہ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اور بعض یر میاہ [] کہہ کر یا نبیوں میں ایک کہہ کر پکا ر تے ہیں۔”15 تب اس نے ان سے پو چھا ، “تم مجھے کیا پکار تے ہو؟” 16 شمعون پطرس نے جواب دیا، “تو مسیح ہے اور تو ہی زندہ خدا کا بیٹا ہے۔” 17 یسوع نے کہا، “اے یونس کے بیٹے شمعون! تو بہت مبارک ہے۔ اس بات کی تعلیم تجھے کسی انسان نے نہیں دی ہے۔بلکہ میرے آسما نی باپ ہی نے ظا ہر کیا ہے کہ میں کون ہوں؟

(متّی16:13-17)

یہاں پطرس ؑ ‘مسیح’ کی اصطلاح کو ‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے ‘کو قدرتی طور پر یکجا کردیتا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں اصطلاح ایک ہی زبور میں نازل ہوئیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے پطرس ؑ کے اس جواب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کے طور پر قبول کیا۔ کہ حضرت عیسیٰ ہی "مسیح” ہیں اس وجہ سے وہ "اللہ تعالیٰ کے بیٹے” بھی ہیں۔

لیکن یہ ناممکن ہے کہ اس بات میں متضاد بات پائی جائے۔ کہ حضرت عیسیٰ ‘مسیح’ ہوں لیکن وہ ‘خدا کے بیٹے” نہ ہو۔ کیونکہ یہ دونوں اصطلاح کا ایک ہی زریعہ اور ایک ہی مطلب ہے۔ تو پھر اس کی مثال ایسی ہی ہوگی۔ کہ ایک مخصوص ‘دائرہ’ تو ہوسکتا ہے لیکن یہ ‘راونڈ’ نہیں ہوسکتا۔ ایک شکل مربح ہوسکتی ہے لیکن ایک حلقہ نہیں اور نہی روانڈ۔ لیکن اگر وہ ایک دائرہ ہے تو پھر وہ ایک راونڈ بھی ہے۔ راونڈ کا مطلب ہی دائرہ ہے۔ جب یہ کہا جائے۔ کہ فلاں شکل دائرہ تو ہے لیکن راونڈ نہیں۔ تو یہ بات ٹھیک جواب نہیں۔ یا آپ دائرے اور راونڈ کے مطلب کو ٹھیک طور پر سمجھ نہیں سکے۔ یہ ہی مطلب ‘مسیح’ اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کا بھی ہے۔ عیسیٰ مسیح ہی ‘مسیح’ اور خدا کا بیٹا’ بھی ہے۔ (جسطرح پطرس ؑ نے کہا)۔ یا پھر حضرت عیسیٰ دونوں اصطلاحات میں سے کوئی ایک بھی نہیں۔

‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کا کیا مطلب ہے؟

تو اس اصطلاح کا کیا مطلب ہے؟ انجیل شریف (نئے عہدنامہ) میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے۔ جب ایک مسیح کے حواری جس کا نام یوسف کا تعارف کروایا جاتا ہے۔ وہ ابتدائی حواریوں میں سے تھا۔ (یہ فرعون کے محل والا حضرت یوسف ؑ نہیں تھا) اور کیسے اُس کے بارے میں ‘بیٹا ۔ ۔ ۔’ فرمایا ہے۔

36 ایک شخص جس کا نام یوسف اور رسولوں میں اسکو برنباس یعنی “دوسروں کی مدد کر نے والا رکھا۔” وہ لاوی تھا اور وہ کپرس میں پیدا ہوا تھا۔ 37 یوسف کا ایک کھیت تھا اس نے اسکو فروخت کیا اور رقم لاکر مسیح کے رسولوں کو دیدی

(رسولوں4:36-37)

آپ یہاں پر دیکھ سکتے ہیں کہ ‘برنباس’ کا عرفی نام ‘حوصلہ افزائی کا بیٹا’ ہے۔ کیا انجیل شریف یہ کہہ رہی ہے۔ کہ اُس کے باپ کا نام ‘حوصلہ افزائی’ تھا۔ اس لیے اُس کا نام حوصلہ افزائی کا بیٹا’ ہے؟ یقین ایسا نہیں ہے! ‘حوصلہ افزائی’ ایک منفرد تصور ہے۔ جس کی وضاحت کرنیمشکل ہے۔ لیکن یہ دیکھنے میں آسان ہے کہ کسی ایک شخص کی حوصلہ افزائی کرنا۔ جب کوئی یوسفؑ کی زندگی پر نظر دوڑاتا ہوگا۔ تو یہ کہتا ہے ہوگا۔ دیکھو وہ کیسا حوصلہ مند انسان ہے۔ تاہم حوصلہ افزائی کا کیا مطلب ہے۔ اس طرح سے حضرت یوسفؑ جو ایک حواری تھا۔ ‘حوصلہ افزائی کا بیٹا’ ہے۔ کیونکہ وہ اپنی زندگی سے حوصلہ افزائی کو ظاہر کررہا تھا۔

"اللہ تعالیٰ کو کبھی بھی کسی نے نہیں دیکھا” (یوحنا 1: 18) لہذا اللہ تعالیٰ کے کردار اور فطرت کو سمجھنا نہایت ہی مشکل ہے۔ اور یہ بھی انتہائی مشکل ہے۔ کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنی انکھیوں سے دیکھ سکیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ روح ہے اور روح کو کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اس طرح انجیل شریف حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی کے بارے میں ہمیں یہ خلاصہ پیش کرتی ہے۔ کہ آپ "کلمہ اللہ” اور اللہ کے بیٹے” ہیں۔

14 کلا م نے انسان کی شکل لیا اور ہم لوگوں میں رہا۔ ہم نے اس کا جلا ل دیکھا۔ جیسا کہ با پ کے اکلوتے بیٹے کا جلا ل۔ کلا م سچا ئی اور فضل سے بھر پور تھا۔ 15 یوحناّ نے اپنے بارے میں لوگوں سے کہا۔ یوحناّ نے واضح کیا کہ “یہ وہی ہے جس کے متعلق میں بات کر رہا تھا وہ جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زیادہ عظیم ہے اسلئے کہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔”

16 کلام سچا ئی اور فضل سے بھر پور تھا اور ہم تمام نے اُس سے زیادہ سے زیادہ فضل پایا۔ 17 شریعت تو موسیٰ کے ذر یعہ دی گئی لیکن فضل اور سچا ئی یسوع مسیح کے ذریعہ ملی۔ 18 کسی نے کبھی بھی خدا کو نہیں دیکھا لیکن اکلوتا بیٹا خدا ہے وہ باپ سے قریب ہے اور بیٹے نے ہمیں بتا یا کہ خدا کیسا ہے۔

(یوحنا1:14,16-18)

ہم اللہ تعالیٰ کے فضل اور سچائی کو کیسے جان سکتے ہیں؟ ہم نے اس کو حضرت عیسیٰ المسیح کی زندگی میں حقیقی طور پر چلتے پھرتے دیکھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے حواری آپکی زندگی میں سے اللہ تعالیٰ’کے فضل اور سچائی’ کو جان گئے تھے۔

لیکن شریعت کے احکام میں سے ہم نے اُس کے فضل اور سچائی کو اپنی آنکھیوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

بیٹا ۔ ۔ ۔ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہا ہے۔

‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کی یہ اصطلاح ہمیں حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے میں بہتر سمجھ بخشنے میں مدد کرتا ہے۔ (باپ سے بیٹے)حضرت لوقاؑ کی معرفت انجیل شریف میں حضرت عیسیٰ المسیح کا نسب نامہ لکھا ہے۔ جو حضرت آدمؑ سے جاملتا ہے۔ ہم نے نسب نامہ کو اختتام سے لیتے ہیں۔ جہاں یہ لکھا ہے۔

38 قینان انوس کا بیٹا تھا

انوس سیت کا بیٹا تھا

سیت ابن آدم تھا

اور آدم خدا کا بیٹا تھا۔

(لوقا3:38)

ہم نے یہاں پر پڑھا ہے۔ کہ حضرت آدم ؑ کو "اللہ تعالیٰ کا بیٹا” کہا گیا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ حضرت آدمؑ کا کوئی انسانی والدین نہیں ہیں؛وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ المسیح کے بھی کوئی انسانی والدین نہیں تھے۔ وہ ایک کنواری سے پیدا ہوئے تھے۔ جیسا کہ حضرت یوحنا ؑ کی معرفت انجیل میں لکھا ہے۔ کہ ‘وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے’ تھے۔

قرآن شریف میں سے بیٹے کی مثال

قرآن شریف بھی انجیل پاک کی طرح ہی بیٹے کے لیے مثال دیتا ہے۔ مندرجہ ذیل آیت پر غور کریں۔

آپ سے پوچھتے ہیں کہ وه کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیئے جو مال تم خرچ کرو وه ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہداروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے

(سورہ البقرہ 2:215)

یہاں پر لفظ ‘راستہ’  (یا مسافروں) کا لفظی مطلب ‘سڑک کا بیٹا’ ہے۔ اور اس عربی میں اس کو (ابنِ السبیل ) کہا جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ لکھاری اور ترجمہ کرنے والا جانتا ہے۔ کہ اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی سڑک کا بیٹا ہے۔ لیکن اُس کا مقصد یہ کہ واضع کرے۔ کہ وہ ایک مسافر ہے۔ جو لوگ ہر وقت سڑک پر سفر کرتے رہتے ہیں۔

‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے کا کیا مطلب ہے۔

‘اللہ تعالیٰ کے بیٹے’ کی اصطلاح کا استعمال بلکل بائبل مقدس جیسا ہی ہے۔ جہاں بھی زبور، اور تورات شریف یا انجیل شریف میں "خدا کے بیٹے” کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کئی ہیں۔ اور اُس کی وجہ سے ایک بیٹا پیدا ہوا ہے۔ اس طرح کی سمجھ قدیم یونانی مذاہب سے ہے۔ جہاں پر مختلف خدواں کی بیویاں’ تھیں۔’ لیکن بائبل مقدس میں کہی بھی اس طرح کی تعلیم نہیں دی گئی۔ یقینی اس طور پر یہ ناممکن ہوجاتا ہے۔ جب کہہ گیا تھا۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح ایک کنواری سے پیدا ہوئے۔ جس کا مطلب ہے کسی بھی تعلق کے بغیر۔

خلاصہ

ہم نے مطالعہ کیا تھا۔ کہ حضرت یسعیاہ نے 750 ق م میں یہ پیش گوئی کردی تھی۔ کہ ایک مستقبیل میں خدا خود نشان نخشے گا۔

14 لیکن میرا مالک خدا تمہیں ایک نشان دکھا ئے گا :

دیکھو ! ایک پاکدامن کنواری حاملہ ہوگی اور وہ ایک بیٹے کو جنم دیگی۔
    وہ اپنے بیٹے کا نام عمانوایل رکھے گی۔

(Isaiah7:14)

ایک کنواری سے پیدا ہونے والے بیٹے کا یہ ہی مطلب ہے کہ اُس کا کوئی جنسی /انسانی باپ نہیں ہے۔ ہم نے حضرت جبرایل ؑ کے پیغام میں دیکھا۔ کہ اُنہوں نے حضرت مریم ؑ سے فرمایا کہ "خُدا تعالےٰ کی قُدرت تُجھ (مریمؑ) پر سایہ ڈالے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مریمؑ کے ناپاک تعلق کی وجہ سے ایسا نہیں ہوگا۔ ایسا سوچنا بھی گناہ اور شرک ہے اور اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی ہے۔ یہ بیٹا مَولُودِ مُقدّس ہو گا۔ یہ بغیر کسی انسانی سوچ و سمجھ کے براہ راست خدا تعالیٰ سے پیدا ہوگا۔ وہ خدا تعالیٰ سے براہ راست آئے گا جیسے اُس کا کلمہ نازل ہوتا ہے۔ جس طرح ہم کلام کرتے ہیں۔ بلکل اُسی طرح اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور حضرت عیسیٰ ؑ المسیح اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہیں۔ اس طرح حضرت عیسیٰ المسیح "خدا تعالیٰ کا بیٹا” اور خدا کا کلمہ ہیں۔

حضرت عیسیٰ کے ساتھ لفظ "مسیح” کہاں سے آیا؟

قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ کو "المسیح” کہا گیا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟  یہ کہاں سے آیا ہے؟ مسیحی کیوں حضرت عیسیٰ کو "مسیح” کہتے ہیں؟ کیا مسیح اور کرائسٹ (Christ) میں کو فرق پایا جاتا ہے؟ زبور شریف ہمیں ان تمام اہم سوالوں کے جوابات فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس مضمون کو سمجھنے سے پہلے ایک مضمون پڑھنا چائیں۔ " کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟” تاکہ آپ اس میں استعمال ہونے والے معلومات کو سمجھ سکیں۔

مسیح لفظ کی ابتدا

                   درج ذیل تصویر میں ” کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟” میں ترجمہ کرنے کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن خاص طور پر لفظ "مسیح” پر توجہ دی گئی ہے۔ کہ دورِ جدید میں انجیل شریف مین لفظ کیسے ترجمہ ہوا؟

لفط "مسیح" کا عبرانی زبان سے دورِ جدید میں ترجمہ
لفط "مسیح” کا عبرانی زبان سے دورِ جدید میں ترجمہ

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زبور شریف میں جسکی اصل زبان عبرانی ہے۔ اُس کے (مرحلہ نمبر1 ) میں "مسیح” “Mashiyach” استعمال ہوا ہے۔ جس کو عبرانی لغت میں "ایک ممسوح” یا "ایک مقدس” شخص کا مطلب دیا جاتا ہے۔ زبور شریف کے بعض حوالہجات میں ‘مسیح’ (Definite Article “The”  یعنی اُردو میں اسمِ معرفہ کہہ سکتے ہیں) کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ جب 250 ق م میں پفتادی ترجمہ ہوا ( دیکھیں "کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟ ) تو علماء اکرام نے عبرانی کے لفظ “Mashiyach”  "المسیح” کا یونانی میں بھی ایک لفظ "خریستوس” Christos- Χριστός جسکا اصل Chrio ہے۔ جس کا مطلب تیل ملنا ہے۔ لہذا لفظ مسیح (Christos- Χριστός) کا ترجمہ (لفظ کی آواز کے مطابق اس کا ترجمہ نہیں ہوا) ہفتادی ترجمہ میں عبرانی کے لفظ "مسیح” “Mashiyach” کو یونانی میں ایک مخصوص شخص کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دوسرا (مرحلہ نمبر 2) ہے۔ جس میں حضرت رعیسیٰ مسیح کے شاگردوں نے سمجھ لیا۔ کہ یہ وہی شخص ہیں۔ جن کے بارے میں ہفتادی ترجمہ بتایا گیا ہے۔ اور اس لیے اُنہوں نے انجیل شریف میں اس کو جاری رکھا۔

 لیکن دورِجدید کے انگریزی ترجمہ میں دو زبانوں میں “Christos” کا یونانی سے انگریزی (یا دوسری زبانوں میں مسیح یعنی Christ کا ترجمہ ہوا۔ یہ شکل نمبر تین کے نصف حصہ میں پائی جاتی ہے۔ اس طرح مسیح یا Christ زبور شریف میں سے ایک خاص لقب ہے۔ جو عبرانی زبان سے ترجمہ ہوکر یونانی میں آیا اور یونانی سے ترجمہ ہوکر انگریزی زبان میں ترجمہ ہوا۔ عبرانی زبان سے زبورشریف دورِ جدید میں مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ جس میں مترجمین نے لفظ "مشیاح” “Mashiyach” کا مختلف طریقوں سے ترجمہ کیا ہے۔ کچھ نے (جیسے کہ کنگ جمیز) عبرانی لفظ “Mashiyach” "مشیاح” کو انگریزی میں “Messiah” اور اردو میں "مسیحا” ترجمہ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک (جیسے کہ نیو انٹرنیشنل) میں لفظ “Mashiyach” "مشیاح” جو کہ زبورشریف کے اس مخصوص حوالہ میں اس لفظ کا ترجمہ "مسح شدہ” “Anointed one” کہا ہے۔ کسی بھی صورت میں ہم زبور شریف کے اس حوالہ میں لفظ “Christ” میں نہیں دیکھتے ہیں۔  بلکہ اس کی جگہ ” مسح شدہ” جسکا انگریزی میں ترجمہ “Anointed one” کہا جاتا ہے۔ لہذا پرانے عہد نامے کے اس حوالے کا تعلق واضع نہیں ہوتا۔ لیکن اس تجزیہ سے ہم جانتے ہیں۔ کہ بائبل مقدس یہ ہی لفظ پایا جاتا ہے۔

مسیح – مسیحا – مسح شدہ

لہذا قرآن شریف میں لفظ "مسیح” کہا پایا جاتا ہے؟

                             ہم نے دیکھا کہ کرائسٹ “Christ” مسیح “Messiah” مسح شدہ ایک لقب ہے۔ جن کو ہم نے بائبل مقدس میں مختلف حصوں میں پایا ہے۔ لیکن قرآن شریف میں "المسیح” کے بارے میں کیوں ذکرکرتا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے اُوپر دی گئی تصویر میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ بائبل مقدس میں "مشیاح” کومسیح کے لیے ظاہر کیا جاتا ہے۔ درج ذیل تصویر میں قرآن شریف کی عربی زبان میں مزید واضع کیا گیا ہے۔ جو عبرانی اور یونانی میں بائبل کے بعد عربی میں لکھا گیا۔ میں نے ایک حصے کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ حصہ A اُسی طرح ہے۔ جیسے ہم نے اُوپر والی تصویر میں اصل عبرانی متن میں موجود زبور شریف سے "مشیاح” کو بیان کیا ہے۔ اب نمبر B میں اسی اصطلاح کو ہم نے عربی زبان کے ساتھ بیان کیا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اصطلاح "مشیاح” کا ترجمہ قرآن شریف میں بطور "مسیح” کے ہوا ہے۔ اسی طرح قرآن شریف کا عربی زبان میں قرات کرنے والے شخص کو انگریزی زبان کے “Christ” کا متبادل ترجمہ دیتا ہے۔ جو کہ "المسیح” ہے۔

 اس ترجمے کے مراحل میں مسح شدہ – مسیح – مسیحا – کرائسٹ بیان کیا گیا ہے۔ اس علم کے پس منظر میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان سب کا لقب ایک ہی ہے اور سب کا مطلب بھی ایک ہے۔ جس طرح 4= Four  انگریزی میں اور فرانسسی میں "کواٹڑ اور رومن نمبر (IV) 6-2 = 2+2 –

المسیح کو پہلی صدی سے ہی توقع تھی

                                      آئیں اس علم کے ساتھ ہم انجیلِ مقدس پر توجہ لگاتے ہیں۔ ذیل میں بادشاہ ہیرویس کا ردِعمل دیکھیں۔ جب مشرق سے کئی دانشوار مجوسی، یہوددیوں کے بادشاہ کی پیدائش کی تلاش میں اُسکے کے پاس آئے۔  حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش اہم ترین واقع ہے۔ یہاں غور کرنے کی بات اگرچہ لفظ مسیح خصوصی طور پر عیسیٰ مسیح کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔

متی 2: 3-4

  یہ سُن کر ہیرودِیس بادشاہ اور اُس کے ساتھ یروشلِیم کے سب لوگ گھبرا گئے۔
اور اُس نے قَوم کے سب سَردار کاہِنوں اور فقِیہوں کو جمع کر کے اُن سے پُوچھا کہ مسِیح کی پَیدایش کہاں ہونی چاہئے؟

لیکن آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کہ المسیح کو ہیرودیس اور اُس کے مذہبی مشیروں نے پہلے ہی سے المسیح کو قبول کرلیا ہوا تھا۔ حتاکہ حضرت عیسیٰ مسیح پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اور یہاں نہ ہی خصوصی طور پر اُن کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا ہے۔ سینکڑوں سال پہلے حضر ت دواد جو ایک بادشاہ اور نبی تھے۔ اُنہوں نے زبور شریف میں مسیح کا ذکر کیا۔ اور یہ کتاب پہلی صدی میں یہودیوں کے ہاں عام پڑھی جاتی تھی۔ جس کا ترجمہ یونانی میں ہو چکا تھا۔ جس کو ہفتادی ترجمہ کہتے ہیں۔ مسیح ایک لقب تھا۔ (اور اب بھی ہے) نہ کہ ایک نام۔ اس کو اس طرح مضحکہ خیز نظریہ کو مسترد کرسکتے ہیں۔ جس طرح ڈونچی کوڈ فلم جو بہت زیادہ مقبول ہے۔ اس فلم نے نظریہ پیش کیا کہ "مسیح” لفظ ایک مسیحی شخص کی ایجاد ہے۔  جو کسی نے 300ء میں رومی بادشاہ کنٹسٹائن نے پیش کیا۔ لیکن یہ لقب سیکڑوں سال پہلے موجود تھا۔ اس سے کوئی مسیحی یا شہنشاہ کنٹسٹائن کی حکومت ہوتی۔

زبور میں مسیح کے بارے میں پیش گوئی

                   آئیں ہم زبور شریف میں لقب "المسیح” کے بارے میں سب سے پہلے بنوتی پیشن گوئی کو دیکھیں۔ جس کو حضرت داود نے ایک ہزار سال قبل از مسیح لکھا تھا۔ جو کہ حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش سے بہت پہلے لکھی گئی۔

 خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔
آؤ ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں اور اُن کی رسیاں اپنے اُوپر سے اُتار پھینکیں۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔                                                 زبور 2: 2-4

ہفتادی ترجمہ میں زبور شریف کے دوسرے باب میں جو یونانی زبان کا ترجمہ ہے۔ اس طرح پڑھا جاتا ہے۔

( میں یہاں اس کو خرستُس کے طور پر ترجمہ کررہا ہوں۔ تاکہ آپ مسیح کے لقب کو ہفتادی ترجمہ میں دیکھ سکیں)

 خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔
آؤ ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں اور اُن کی رسیاں اپنے اُوپر سے اُتار پھینکیں۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔                                                 زبور 2: 2-4

لیکن زبور شریف میں مسیح کے بارے آنے والے حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں۔ ان تراجیم کا ایک ترتیب کے ساتھ رہا ہے۔ جس میں مسیح، مسیحا، اور مسح شدہ ترجمے کو آپ دیکھ سکیں گے۔

عبرانی لفظی ترجمہ لاطینی ترجمہ عربی ترجمہ
10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر

اپنے (anoint one) ممسوح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔

17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔

10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے(Christ)کرئیسٹ کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔
10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے(Masih) مسیح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زبور شریف 132 میں مستقبیل کے زمانے کی طرف اشاہ کرتا ہے۔ (میں حضرت داود کے لیے ایک سینگ بناوگا) اور زبورشریف اور تورات شریف میں بھی اس کے بارے میں حوالہ جات ملتے ہیں۔ پشین گوئی کے بارے مین اندازہ کرتے وقت یہ واضع رہے کہ زبور شریف جو دعوۃ کرتا ہے۔ وہ مستقبیل کے بارے میں کرتا ہے۔ اور یہ انجیل شریف کا ذکر کئے بغیر کرتا ہے۔ بادشاہ ہیرودیس اس بات سے باخوبی واقف تھا کہ پرانے عہدنامے کے ابنیاءاکرام نے آنے والے مسیح کے بارے میں پیشن گوئیاں کی تھیں۔ اسی لیے وہ اس کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اُسے صرف اس بات کی ضرورت تھی۔ کہ اسکے مذہبی اصلاح کار اس پیشن گوئی کی وضاحت کریں وہ زبور شریف سے اچھی طریقہ سے واقف تھے۔ یہودیوں کو اپنے مسیحا کے انتظار کے حوالہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے مسیح کا انتظار کر رہیں ہیں۔ جس سے حضرت عیسیٰ کا اُن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن زبور شریف میں واضع طور پراُن پیشن گوئیوں کا تعلق مستقبیل میں آنے والے مسیحا کے ساتھ ہے۔

تورات شریف اور زبور شریف کی پیشن گوئیاں

حقیقت یہ ہے کہ تورات شریف اور زبور شریف خاص طور پرجو پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔ تو وہ مستقبیل کے دروازے کا تالا بن جاتیں ہیں۔ یہ تالا ایک مخصوص شکل میں ترتیب دیا گیا ہے۔ تاکہ یہ ایک مخصوص شکل کی چابی سے کھولا جائے۔ اسی طرح پرانے عہد نامہ ایک تالے کی طرح ہے۔ ہم نے پہلے ہی حضرت ابراہیم کی قربانی کے بارے اور حضرت موسیٰ کی فسح اور کنواری کے بیٹے کے بارے میں جان معلوم کیا ہے۔ جہاں اس آنے والے شخص کے بارے میں مخصوص پیشن گوئیاں پائی جاتیں ہیں۔ زبور شریف کے 32 ویں باب میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے۔ کہ "المسیح” حضرت داود بادشاہ کی نسل سے پیدا ہوگا۔ تاہم جب ہم پرانے عہدنامہ میں سے نبوتی پیشن گوئیاں پڑھتے ہیں تو یہ تالا مزید واضع ہوتا چلا جاتا ہے۔ زبور شریف کی پیشن گوئیوں کا اختتام یہاں ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ ہمیں مزید بتاتیں ہیں کہ مسیح کیا کریں گے۔ اوراس لیے ہم زبور شریف کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔