جی ہاں میں تمام احکامات کی فرمانبرداری کرتا ہوں

مبارک ہو! آپ قیامت والے دن بہت زیادہ پرُاعتماد اور خوف سے آزاد ہونگے کیونکہ اگر تم نے تمام احکامات کی فرمانبرداری کی تو آپ راستباز (جنتی) بن جائیں گے۔ ذاتی طور پر میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا۔ جس نے اس طرح تمام احکامات کی اطاعت کی ہو۔ لیکن یہ واقعی ایک عظیم کامیابی ہے۔ لیکن اپنی کوششوں کو روکیں مت کیونکہ آپ کو ہمیشہ کی زندگی میں داخل ہونے کے لیے سیدھے راستہ پر چلتے رہنا ہے

                میں نے کہا تھا کہ دس احکام اور شریعت کبھی بھی منسوح نہیں ہوئے۔ کیونکہ یہ زندگی کے بنیادی اصول ہیں۔ کہ ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت، زنا، چوری اور صداقت جیسے معاملات میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ لیکن بعد میں انبیاءاکرام نے ان احکامات کی مزید تفصیل سے وضاحت کی۔ ذیل میں حضرت عیسیٰ مسیح نے انجیل شریف میں بتایا ہے۔ کہ کیسے ہم ان دس احکام پر عمل کرسکتے ہیں۔ ان کی تعلیم میں وہ فریسیوں سے مخاطب ہو کر بات کرتے ہیں۔ یہ اُس وقت کے مذہبی اُستاد تھے۔ ان کو آج کے مذہبی علماء یا عالم کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

حضرت عیسیٰ کی تعلیم دس احکام کے بارے میں

20  کِیُونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تُمہاری راستبازی فقِیہوں اور فرِیسِیوں کی راستبازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تُم آسمان کی بادشاہی میں ہرگِز داخِل نہ ہوگے۔
21 تُم سُن چُکے ہوکہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خُون نہ کرنا اور جو کوئی خُون کرے گا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا۔
22  لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنے بھائِی پر غُصّے ہوگا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا اور جو کوئی اپنے بھائِی کو پاگل کہے گا وہ صدرِ عدالت کی سزا کے لائِق ہوگا اور جو اُس کو احمق کہے گا وہ آتشِ جہنّم کا سزاوار ہوگا۔
23 پَس اگر تُّو قُربان گاہ پر اپنی نذر گُزرانتا ہو اور وہاں تُجھے یاد آئے کہ میرے بھائِی کو مُجھ سے کُچھ شِکایت ہے۔
24 تو وَہیں قربانگاہ کے آگے اپنی نذر چھوڑ دے اور جا کر پہلے اپنے بھائِی سے مِلاپ کر تب آ کر اپنی نذر گُزران۔
25   جب تک تُو اپنے مُدّعی کے ساتھ راہ میں ہے اُس سے جلدی صُلح کرلے۔ کہِیں اَیسا نہ ہوکہ مُدّعی تُجھے مُنصِف کے حوالہ کردے اور مُنصِف تُجھے سِپاہی کے حوالہ کردے اور تُو قَید خانہ میں ڈالا جائے۔
26 مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُو کوڑی کوڑی ادا نہ کردے گا وہاں سے ہرگِز نہ چھُوٹے گا۔
27 تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زِنا نہ کرنا۔
28 لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جِس کِسی نے بُری خواہِش سے کِسی عَورت پر نگاہ کی وہ اپنے دِل میں اُس کے ساتھ زِنا کرچکا۔
29   پَس اگر تیری دہنی آنکھ تُجھے ٹھوکر کھلائے تو اُسے نِکال کر اپنے پاس سے پھینک دے کِیُونکہ تیرے لِئے یہی بہُتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بَدَن جہنّم میں نہ ڈالا جائے۔
30 اور اگر تیرا دہنا ہاتھ تُجھے ٹھوکر کھلائے تو اُس کو کاٹ کر اپنے پاس سے پھینک دے کِیُونکہ تیرے لِئے یہی بہُتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بَدَن جہنّم میں نہ جائے۔

                                                                                متی 5: 20-30

اس کئ علاوہ حضرت عیسٰی مسیح کے صحابہ اکرام نے بھی بت پرستی کے بارے میں سکھایا۔ اُنہوں نے سکھایا کہ بت پرستی صرف یہ ہی نہیں کی بتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ بلکہ بت پرستی ہراُس بات میں ہے جس میں کسی چیز کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ ترجحات دینا شروع کردی جائے۔ اور اس میں روپیہ پیسہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔ تاہم آپ کو محسوس کریں گے۔ اُنہوں نے “لالچ” کو بھی بت پرستی کہا۔ کیونکہ لوگ پیسے کی بھی خدا کے ساتھ عبادت کرتے ہیں۔

5    پَس اپنے اُن عضا کو مُردہ کرو جو زمِین پر ہیں یعنی حرامکاری اور ناپاکی اور شہوت اور بُری خواہِش اور لالچ کو جو بُت پرستی کے برابر ہے۔
6 کہ اُن ہی کے سبب سے خُدا کا غضب نافرمانی کے فرزندوں پر نازِل ہوتا ہے۔

                                                                                کلسیوں 3: 5-6

4  اور نہ بےشرمی اور بیہُودہ گوئی اور ٹھٹھّا بازی کا کِیُونکہ یہ لائِق نہِیں بلکہ برعکس اِس کے شُکرگُذاری ہو۔
5   کِیُونکہ تُم یہ خُوب جانتے ہو کہ کِسی حرمکار یا ناپاک یا لالچی کی جو بُت پرست کے برابر ہے مسِیح اور خُدا کی بادشاہی میں کُچھ مِیراث نہِیں۔
6  کوئی تُم کو بے فائِدہ باتوں سے دھوکا نہ دے کِیُونکہ اِن ہی گُناہوں کے سبب سے نافرمانی کے فرزندوں پر خُدا کا غضب نازِل ہوتا ہے۔

                                                                                افسیوں 5: 4-6

اصل میں دس احکام کی ان وضاحتوں میں بیرونی اعمال کو واضع طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اندرونی حالت صرف اللہ تعالیٰ ہی جان سکتا ہے۔ یہ بات اس طرح شریعت کو اور مشکل بنا دیتی ہے۔

تو اس طرح آپ اپنے جواب پر نظر ثانی کرسکتے ہیں۔ کہ آیا آپ سارے احکام کی اطاعت کرتے ہیں یا نہیں۔ لیکن اگر آپ کو یقین ہو کہ آپ سارے احکام کی فرمانبرداری کررہے ہیں۔ تو پھر انجیل شریف آپ کے لیے بے معنی ہے۔ اور اس لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ آپ مزید نشانات اور انجیل شریف کے بارے سمجھیں۔ کیوں کی انجیل شریف صرف اُن کے لیے ہے جو شریعت کے احکام پر مکمل طور پر عمل نہیں کر سکتے۔ یہ اُن کے لیے نہیں جو شریعت پر مکمل طور پر عمل کرتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ مسیح نے مندرجہ ذیل انداز میں اس کی وضاحت کی۔

10   اور جب وہ گھر کھانا کھانے بَیٹھا تھا تو اَیسا ہُؤا کہ بہُت سے محصُول لینے والے اور گُنہگار آ کر یِسُوع اور اُس کے شاگِردوں کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھے۔
11  فرِیسِیوں نے یہ دیکھ کر اُس کے شاگِردوں سے کہا تُمہارا اُستاد محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کے ساتھ کِیُوں کھاتا ہے۔
12  اُس نے یہ سُن کر کہا کہ تندرُستوں کو طبِیب کی ضرورت نہِیں بلکہ بِیماروں کو۔
13   مگر تُم جا کر اِس کے معنی دریافت کرو کہ مَیں قربانی نہِیں بلکہ رحم پسند کرتا ہُوں کِیُونکہ مَیں راستبازوں کو نہِیں بلکہ گُنہگاروں کو بُلانے آیا ہُوں۔

                                                                                      متی 9 :10-13