حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیمی اختیار کا اظہار

حضرت عیسیٰ امسیح شیطان سے آزمائیں جانیں کے بعد ایک پیغمبر کے طور پر اپنی تعلیمی خدمت کا آغاز کرتے ہیں۔ اُن کا سب سے لمبا تعلیمی سیشن "پہاڑی وعظ/ خطبہ ” کہلاتا ہے۔ آپ اُن کا پہاڑی وعظ / خطبہ یہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔ ہم نے یہاں ذیل میں روشنی ڈالی ہے۔ اور پھر ہم نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ کیسے حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم حضرت موسیٰ ؑ سے ملتی ہے جس کی اُنہوں نے تورات شریف میں پہلے سے پیش گوئی فرمادی تھی۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم درج ذیل ہے

21 “وہ بات ایک عرصہ سے پہلے لوگوں سے کہی گئی تھی جس کو تم نے سنا تھا۔ کسی کا قتل نہیں کرنا چاہئے [a] جو شخص کسی کا قتل کرے اس کا انصاف کیا جائیگا۔ 22 لیکن میں تم سے جو کہتا ہوں کہ تم کسی پر غصّہ نہ کرو ہر ایک تمہارا بھائی ہے اگر تم دوسروں پر غصہ کروگے تو تمہارا فیصلہ ہوگا اور اگر تم کسی کو برا کہوگے تو تم سے یہودیوں کی عدالت میں چارا جوئی ہوگی۔اگر تم کسی کو نادان یا اُجڈ کے نام سے پکاروگے تو دوزخ کی آ گ کے مستحق ہوگے۔”

23 “اس لئے جب تم اپنی نذر قربان گاہ میں پیش کرنے آؤ اور یہ بھی یاد آجائے کہ تم پر تمہارے بھائی کی ناراضگی ہے تو، 24 تب اپنی نذر قربان گاہ کے نزدیک ہی چھوڑ دواور پہلے جا کر اسکے ساتھ میل ملاپ پیدا کرو اور پھر اسکے بعد آکر اپنی نذر پیش کرو۔

25 “اگر تمہارا دشمن تمہیں عدالت میں کھینچ لے جارہا ہو تو تم جلد اسکے دوست ہو جا ؤ۔اور تم کو عدالت جانے سے پیشتر ہی ایسا کرنا چاہئے۔اگر تم اسکے دوست نہ بنوگے تو وہ تمہیں منصف کے سامنے لےجائیگا منصف تمہیں سپاہی کے حوالے کریگا تاکہ تمہیں قید میں ڈالا جائے۔ 26 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک تم کوڑی کوڑی کو ادا نہ کرو تم قید سے رہا نہ ہوگے۔

جنسی گناہ سے متعلق یسوع کی تعلیم

27 “اس بات کو تم سن چکے ہو کہ یہ کہا گیا ہے ، تم زنا کے مرتکب نہ ہو، [b] 28 میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی غیر عورت کو زنا کی نظر سے دیکھے اور اس سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہے تو گویااس نے اپنے ذہن میں عورت سے زنا کیا۔ 29 اگر تیری داہنی آنکھ تجھے گناہ کے کاموں میں ملوث کردے تو تو اس کو نکا ل کر پھینک دے۔اس لئے کہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کے بجائے بہتر یہی ہوگا کہ بدن کے ایک حصہ کو الگ کر دیا جائے۔ 30 اگر تیرا داہنا ہاتھ تجھے گناہ کا مرتکب کرے تو اس کو کاٹ کر پھینک دے۔ اس لئےکہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کے بجائے بہتر یہی ہوگا کہ بدن کے ایک حصہ کو الگ کردیا جائے۔

طلاق کے بارے میں یسوع کی تعلیم

31 “یہ بات کہی گئی ہے کہ جوکو ئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو اسکو چاہئے کہ وہ اسکو تحریری طلاق نامہ دے۔ [c] 32 لیکن میں تم سے کہتا ہوں ،” کوئی بھی شخص جو اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ اپنی بیوی کو حرام کا ری کر نے کے گناہ کا قصور وار بناتا ہے- کسی بھی شخص کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کا صرف ایک ہی وجہ ہے- وہ یہ کہ اسکی بیوی نے کسی غیر مرد سے جنسی تعلقات قائم کی ہو-اور کو ئی بھی شخص اس طلاق شدہ عورت سے شادی کر تا ہے تو وہ حرام کاری کا گناہ کر نے کا قصور وار ہے-

قسمیں کھانے کے بارے میں یسوع کی تعلیم

33 “دو بارہ تم سن چکے ہو تمہارے اجداد سے کہی ہوئی بات کہ قسموں کو مت توڑو جو تم نے کھائی ہے اور خداوند کے نام پر کھائی ہوئی قسم کو پورا کرو۔ [d] 34 لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ قسم ہر گز نہ کھا ؤ۔جنّت کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤ کیوں کہ جنت خدا کا تخت ہے۔ 35 زمین کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤکیوں کہ زمین خدا کے پیروں کی چوکی ہے یروشلم کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤ کیوں کہ وہ عظیم شہنشاہ کا شہر ہے۔ 36 تم اپنے سروں کی بھی قسمیں نہ کھاؤ کیو ں کہ تمہارے سر کا ایک بال بھی سیاہ یا سفید کرنا تمہارے لئے ممکن نہیں۔ 37 اگر صحیح ہے تو کہو ٹھیک ہے اور اگر صحیح نہیں ہے تو کہو ٹھیک نہیں ہے تم اس سے بڑھ کر جو کہتے ہو تو وہ بدی سے ہے۔

بدلہ لینے کے بارے میں یسوع کی تعلیم

38 “تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ [e] 39 میں تم سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ برے شخص کے مقابلے میں کھڑے نہ ہو۔اگر کوئی تمہارے دائیں گال پر تھپڑ مارے تو اس کے لئے دوسرا بایاں گال بھی پیش کرو۔ 40 اگر تم سے کوئی کرتا لینے کیلئے تم کو عدالت میں کھینچ لے جائے ،تو تم اسکو اپنا چغّہ بھی دے دو۔ 41 اگر کوئی تم کو زبردستی ایک میل بیکار چلنے کیلئے کہے تو اس کے ساتھ دو میل چلے جاؤ۔ 42 کوئی بھی تم سے اگر کوئی چیز پوچھے جو تمہارے پاس ہے ،تو وہ اسکو دیدو اگر کوئی تم سے قرض لینے کیلئے آئے تو تم اسکو انکار نہ کرو۔

سب سے محبت کرو

43 “تو اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت کر۔ اس کہی ہوئی بات کو تم نے سنا ہے۔ [f]44 لیکن میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ تم اپنے دشمنوں سے محبت کرو اور تمہارا نقصان پہونچانے والے کے لئے تم دعا کرو۔ 45 تب تم آسمان میں رہنے والے تمہارے باپ کے حقیقی بچّے ہوگے۔کیوں کہ تمہارا باپ سورج کو نکالتا اور چمکاتا ہے دونوں کے لئے بروں اور نیکوں دونوں کے لئے بارش بھیجتا ہے دونوں کے لئے راستباز اور غیر راستباز۔ 46 تم سے محبت رکھنے والوں سے اگر تم بھی محبت رکھو گے تو تم کو اس سے کیا صلہ ملیگا ؟اس لئے کہ محصول وصول کرنے والے بھی تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ 47 اگرتم صرف اپنے دوستوں کے حق میں اچھّے بننا چاہتے ہو تو ایسے میں تم دوسروں سے کوئی اتنے اچھے نہیں ہو۔اس لئے کہ خدا کو نہ پہچاننے والے لوگ بھی اپنے دوستوں سے اچھے رہتے ہیں۔ 48 اسلئے جیسا کہ تمہارا باپ آسمانوں میں ہے اسی طرح تم کو بھی کامل بننا چاہئے۔

متّی5:21-48

حضرت عیسیٰ المسیح اور اُن کا پہاڑی وعظ

آپ حضرت عیسیٰ المسیح کے تعلیمی دینے کے انداز کو یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اس طرح بیان کو شروع کرتے ہیں۔ "تم سُن چکے ہو ۔ ۔ ۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں۔ ۔ ۔ ” پھر وہ اپنے سننے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کلام اللہ سے حکم کو مذید واضح کر کے حکم فرمادیتے تھے۔ حضرت عیسیٰ المسیح اُن احکامات کی تعلیم دے رہے تھے جن کو حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو بڑھی سختی سے سیکھایا تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ان کو آسان طریقے سے واضح کیا لیکن ان کو مذید اپنے پیروکاروں کے لیے اور مشکل کرڈالا۔

لیکن یہ قابل ذکر بات ہے کہ اُنہوں نے احکامات میں توسیح کی اور اںہوں نے ایسا اپنے اختیار سے کیا۔ اُنہوں نے بڑھے سادہ سے انداز میں کہا ‘ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ اور پھر اُنہوں نے اس حکم میں توسیع کردی۔ لیکن یہ حضرت عیسیٰ مسیح کی تعلیم کو اور زیادہ اہم اور اُن کے اختیار کو واضح کردیتا ہے۔ جب اُنہوں نے اپنے خطبہ کو ختم کیا۔تو اُس کے بارے میں  انجیل شریف میں یوں بیان آیا ہے

28 جب یسوع نے ان چیزوں کی تعلیم ختم کی تو لوگ اسکی تعلیم سے بہت حیرت میں پڑ گئے۔ 29 کیوں کہ اس نے ان کو شریعت کے معلِّموں کی طرح تعلیم نہیں دی بلکہ ایک صاحب اقتدار کی طرح تعلیم دی

(متّی7:28-29)

دراصل، حضرت عیسیٰ المسیح ایک صاحبِ اختیار کی طرح تعلیم دیتے تھے۔ دیگر انبیاء اکرام اللہ تعالیٰ کے پیغام کو لوگوں کے ساتھ بیان کردیتے تھے۔ لیکن یہاں آپ کا انداز اور طرح مختلف تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ایسے تعلیم کیوں دی؟ جس طرح ہم زبور شریف میں سے "مسیح” خطاب کے بارے میں جان چکے ہیں۔ کہ "ایک آنے والا” جس کے پاس اختیار ہوگا۔ زبور شریف کے دوسرے (2) زبور میں جہاں ‘مسیح’ پہلی بار بیان کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ وہاں مسیح کے بارے میں یوں بیان فرماتے ہیں۔

مُجھ سے مانگ اور مَیں قَوموں کو تیری مِیراث کے لِئے اور زمِین کے اِنتِہائی حِصّے تیری مِلکِیّت کے لِئے تُجھے بخشُو ں گا ۔      زبور 2: 8

"المسیح” کو قوموں پر اور دنیا کی انتہا تک اختیار دیا گیا تھا۔ اس لیے حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ اختیار کے ساتھ تعلیم دے سکتے تھے۔

وہ نبی اور پہاڑی وعظ

حقیقت میں ہم یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ کہ تورات شریف میں حضرت موسیٰ ؑ نے ‘نبی’ کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔ جس کو ہم اُس کی تعلیم دینے کے طریقے سے جان سکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اُس کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

 18 میں تمہا ری طرح ایک نبی اُن کے لئے بھیج دوں گا وہ نبی انہی لوگوں میں سے کو ئی ایک ہو گا۔ میں اسے وہ سب بتا ؤں گا جو اسے کہنا ہو گا اور وہ لوگوں سے وہی کہے گا جو میرا حکم ہو گا۔ 19 یہ نبی میرے نام پر بولے گا اور جب وہ کچھ کہے گا تب اگر کو ئی شخص میرے احکام کو سننے سے انکار کرے گا تو میں اس شخص کو سزا دو ں گا۔‘

(استثناء18:18-19)

اپنی تعلیم دینے کے انداز میں حضرت عیسیٰ مسیح اپنے اخیتار کی مشق کررہے تھے۔ تاکہ وہ اُس پیش گوئی کو پورا کرسکیں جس کے بارے میں حضرت موسیٰ ؑ نے بتایا تھا۔ کہ ایک نبی آئے گا۔ جو صاحبِ اختیار کی طرح تعلیم دے گا۔ حضرت عیسیٰ نبی اور مسیح دونوں ہی تھے۔

آپ اور میں اور پہاڑی وعظ

اگر آپ پہاڑی وعظ کا بڑھے محتاط انداز کے ساتھ مطالعہ کریں اور جاننا چاہیں کہ آپ اس تعلیم کی کس طرح پیروی کرسکتے ہیں۔ تو شاید آپ الجھن میں پڑجائیں۔ کیسے کوئی اس قسم کے احکامات کی اطاعت کرسکتا ہے۔ جو ہمارے دلوں اور نیت کو پورا کرسکتے ہوں؟ حضرت عیسیٰ المسیح کا اس خطبہ میں کیا مقصد تھا؟ ہم اس کو اُن کے ہر حکم  کے اختتام میں دیکھ سکتے ہیں۔

48 اسلئے جیسا کہ تمہارا باپ آسمانوں میں ہے اسی طرح تم کو بھی کامل بننا چاہئے۔ (متّی5:48)

یاد رکھیں! یہ کوئی تجویز نہیں بلکہ حکم ہے۔ اس حکم کا مطلب ہے کہ ہم کامل بنیں! کیوں؟ کیونکہ خدا تعالیٰ کامل ہے اور اگر ہم اُس کے ساتھ جنت میں ہمیں بھی کامل بننا پڑئے گا۔ ہم اکثر یہ سوچتے ہیں۔ کہ نیکی کرنا بُرائی سے بہتر ہے۔ اگر لیکن ایسا معاملہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ تو ہم اُس کی کامل جنت کو تباہ کرڈالیں گے۔ اور اُس کو اپنی دنیا جیسا بنا ڈالیں گے۔ یہ ہماری شہوت، لالچ، اور غصہ ہے جس نے آج اس دنیا کو اور ہم کو برباد کردیا ہے۔ یہ سب مسائل ہم نے خود ہی بنائیں ہیں۔

حقیقت میں حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیمی توجہ دنیا سے ہٹ کر ہمارے دلوں پر تھی۔ غور کریں اُنہوں نے ایک اور تعلیم میں کیسے ہمارے دلوں پر اپنی تعلیم کی توجہ مرکوز کی۔

20 اس کے علاوہ یسوع نے ان سے کہا، “ایک انسان کے اندر آ نے والے ارادے ہی اس کو گندہ اور نا پاک بنا تے ہیں۔ 21 یہ ساری برُی چیزیں ایک انسان کے باطن میں انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہیں ،دماغ میں برے خیالات بد کا ریاں ، چوری اور قتل ،۔ 22 زنا کاری پیسوں کی حرص، برا ئی ،دھوکہ ر یا کاری، حسد، چغل خوری، غرور اور بے وقوفی۔ 23 تمام خراب خصلتیں برے خیالات و خراب باتیں انسان کے اندر سے آ کر آدمی کو گندہ اور نا پا ک بنا تی ہیں۔”

(مرقس7:20-23)

لہذا ہمارے بطن کی پاکیزگی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اور اس کا معیار کاملیت (کامل) ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف کامل لوگوں ہی کو اپنی جنت میں داخل ہونے کی جازت دے گا۔ شاید یہ بات ایک نظریے کی حد تک تو ٹھیک نظر آئے۔ لیکن یہ ایک بڑے مسلئہ کوکھڑا کردیتی ہے۔ ہم کیسے جنت میں داخل ہوسکتے ہیں اگر ہم کامل نہیں ہوسکتے؟ اس طرح خاطرخواہ (کافی) کامل بننا ہمارے لیے نااُمیدی کا سبب بن سکتا ہے۔

لیکن یہ ہی سب کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ جب ہم کافی حد تک کامل نہیں بن پاتے اور نااُمیدی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور ہم اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں رکھ پاتے تو ہم اپنی روح میں غریب (خالی) بن جاتے ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ المسیح اپنے خطبہ کے آغاز میں یوں بیان کرتے ہیں۔

مبارک ہیں وہ لوگ جو دل کے غریب ہیں
    کیونکہ آسمانی بادشاہت ان ہی کے لئےہے۔

(متّی5:3)

 ہمیں حکمت کے شروع میں اس تعلیمات کو یہ کہہ کر رد کردینا نہیں چاہیے کہ یہ ہمارے لیے نہیں ہے۔ کیونکہ معیار "کامل” ہے۔ جس طرح ہم اس معیار میں گر جاتے ہیں اورجان جاتے ہیں ہم اس قابل نہیں کہ اس معیار کو پورا کرسکیں۔ تو پھر ہم اس سیدھے راستے پر چلنا شروع کردیتے ہیں جس میں ہم اس بات کا اندازہ لگا لیتے ہیں کہ ہم اس قابل نہیں کہ ہم کامل بن سکیں۔ اس طرح ہم مدد حاصل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اور ہم اپنی صلاحیتوں (نیک اعمال) پر بھروسہ رکھنا چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے فضل کی طرف اپنا توجہ لگالیتے ہیں۔

قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

میرے بہت سارے مسلمان دوست ہیں ۔ اور چونکہ میں بھی اللہ تعالیٰ اور انجیل مقدس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اس لئے روزانہ مسلمان دوستوں کے ساتھ مسیحی ایمان کے بارے میں بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ حقیقی معنوں میں ہمارے درمیان بہت ساری چیزیں مشترک ہیں ۔ اسکی نسبت سیکولر (مادہ پرست)دنیا میں ایسا نہیں ہے۔ سیکولر لوگ اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے۔ ابھی تک ہماری بات چیت میں یہ اعتراض کیا گیا ہے۔ کہ انجیل مقدس ( بائیبل مقدس) میں تحریف یا تبدیلی ہوچکی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر کتاب مقدس نازل کی تھی آج اُس کے الہام کی وہ حالت نہیں رہی۔ بلکہ کتاب مقدس نے الہامی حیثیت کھو دی ہے۔ اس میں بہت سی غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔ اب یہ ایک عام سا دعوی نہیں ہے۔ اسکا مطلب یہ ہو گا۔ بائیبل مقدس جو کچھ ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاتی ہے ہم اس پر بھروسا نہیں رکھ سکتے۔

میں نے دونوں کتابوں قرآن شریف اور بائیبل مقدس اور سُنت کامطالعہ کیا ہے۔ میں نے حیرت انگیز بات دیکھی۔ آج جو باتیں بائیبل مقدس کے بارے میں شک میں ڈالی جا رہی ہیں ۔ اس کے بر عکس حیرت کی بات یہ تھی کہ نہ تو قرآن شریف میں ایسی بات دیکھی بلکہ قرآن شریف ، بائیبل مقدس کے بارے میں بڑی سنجیدگی اور بڑے واضح انداز میں بات کرتا ہے۔

قرآن شریف الکتاب کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

( سورة المائدہ 5:68 )

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔

( اورسورة النساء آیت 136 )

( سورة یونس آیت 94 )
اگر تم کو اِس (کتاب کے ) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہر گز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

جب میں نے ان آیات پر غور کیا تو مجھ پر ظاہر ہوا کہ یہ الہام اللہ تعالی کی طرف سے (اہل کتاب) کو دیاگیا ہے یعنی (عیسائیوں اور اسرائیلیوں) اب میرے مسلمان دوست کہتے ہیں کہ یہ آیات اُس وقت کی ہیں۔ جب کتاب مقدس اپنی اصلی حالت میں تھی۔ جب اس کی اصلی حالت میں تحریف ہو چکی ہے تو آج یہ اس قابل نہیں رہی کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا کلام کہاجائے۔ لیکن دوسرا حوالہ اس بات کے بارے میں تصدیق کرتا ہے۔ جو لوگ اُس وقت کتابِ مقدس پڑھتے تھے۔ ( یہاں فعل حال استعمال ہوا ہے نہ کہ ماضی) یہ حوالہ اُس وقت کی بات نہیں کررہا جب کتاب مقدس نازل ہوئی بلکہ یہ اُس وقت کی بات کررہا ہے جب قرآن شریف نازل ہوا۔ کتاب مقدس حضرت محمد ﷺ سے600 سال پہلے نازل ہوئی تھی ۔ تاہم یہ حوالہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ تورات شریف ، قرآن شریف سے600 سال پہلے نازل ہوئی تھی۔

دوسرے حوالہ جات بھی اس طرح کے ہیں ۔ غور کریں

سورة النحل 16:43

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔

سورة الانبیاء21:7

اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر ) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں اُن سے پوچھ لو۔

یہ حوالہ جات حضرت محمد سے پہلے رسولوں اور پیغمبروں کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے۔ کہ یہ حوالہ جات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ذریعے جو پیغام 600 سال پہلے دیا تھا۔ اُن کے پیروکار اُس وقت بھی اُس پیغام پر عمل پیرا تھے۔ حضرت محمد کے دُور میں کتاب مقدس میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی تھی۔

قرآن شریف فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام تبدیل نہیں ہوسکتا

شائد یہ ایک مضبوط اور عقلی دلیل ہو سکتی ہے کہ کتاب مقدس میں تبدیلی ہوئی ہو۔ لیکن قرآن شریف ، کتاب مقدس میں تحریف کی حمایت نہیں کرتا۔ سورة المائدہ کی یہ آیت زہین میں رکھیں ۔

سورة المائدہ 5:68

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرنا۔

اور درج ذیل پر غور کریں۔

سورة انعام 6:34

اور تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے۔ تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ اُن کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی۔ اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں ۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال ) کی خبریں پہنچ چکی ہیں ( تو تم بھی صبر سے کام لو)۔

سورة انعام 6:115

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے۔

( سورة یونس 10:64 )

اُن کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں ۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

سورة الکہف 18:27

اور اپنے پروردگار کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اُس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاﺅ گے۔

لہذا اگر ہم اس بات میں متفق ہیں کہ حضرت محمد سے پہلے نبیوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام نازل ہوا۔

 جس طرح سورة المائدہ 5 :68-69 اور یہ حوالہ جات کئی بار واضع الفاظ میں کہہ چکے ہیں۔ کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کو تبدیل نہیں کرسکتاہے۔ تو پھر ہم کس طرح مان لیں کہ کسی آدمی نے تورات شریف، زبور شریف اور انجیل شریف میں تبدیلی یا تحریف کر دی ہے؟ تو یہ کہنے کے لیے کہ بائبل مقدس میں تحریف یا تبدیلی ہو چکی ہے ۔ پہلے اُس شخص کو قرآن شریف کا انکار کرنا پڑے گا۔

سورة البقرہ 2:136

مسلمانو) کہوکہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اُتری اُس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ اور اسحاق ؑاور یعقوب ؑ اور انکی اولاد پر نازل ہوئے اُن پر اور جو (کتابیں) موسیٰ ؑ اور عیسٰی ؑ کو عطا ہوئیں اُن پر اور جو اور پیغمبروں کو اُنکے پروردگار کی طرف سے ملیں اُن پر (سب پر ایمان لائے ) ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اُسی (خدائے واحد ) کے فرمانبردار ہیں۔

(اور دیکھیں ( سورة البقرہ 2:285

تاہم ہمیں الہام کے بارے میں کسی قسم کا فرق نہیں رکھنا چاہے۔ ہمیں ان کا مطالعہ کرنا ہے یا دوسرے الفاظ میں ہمیں تمام آسمانی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہے۔ دراصل میں قرآن شریف کے مطالعہ کے لیے عیسائی دوستوں سے درخواست کرتا ہوں اسی طرح میں مسلمان دوستوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ کتاب مقدس کا مطالعہ کریں۔

ان کتابوں کا مطالعہ کرنے کے لیے وقت اور اہمیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوران مطالعہ بہت سارے سوال اُٹھتے ہیں۔ یقینا اگرچہ ان تمام تر نازل کی ہو ئی کتابوں کو سیکھنے کے لیے زمین پر ہمارے پاس قابلِ قدر وقت ہے۔ میں جانتا ہو ں کے ان کتابوں کا مطالعہ میرے لیے کافی ہمت والا اور مشکل کام تھا۔ اس مطالعہ کے باعث بہت سارے سوال میرے ذہین میں آئے۔ یہ ایک فائدہ مند تجربہ تھا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی برکت کو حاصل کیا۔ میں اُمید کرتا ہو ں کہاآپ اس ویب سائیڈ پر بہت سے مختلف سبق اور مضمون پڑھ سکتے ہیں۔ شائد اس مضمون سے آپکے لیے شروع کرنا اچھا ہوگا۔ کہ حضرت محمد اور احادیث ، تورات شریف، زبور شریف، اور انجیل شریف (ان کتابوں کو الکتاب کہتے ہیں)کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اگر آپ سائنٹیفک مطالعہ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کہ سائنسی نقطہ نظر کے مطابق بائیبل مقدس تحریف شدہ ہے یا غیر تحریف شدہ ہے ؟ اس مضمون کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔