نبی حضرت الیاس کون تھے ؟ آج وہ ہماری رہنمائی کیسے کر سکتے ہیں ؟

نبی حضرت الیاس (یا ایلیا ہ) کے نام کا ذکر تین بار سورہ ال – انعام اور اص – صا ففا ت میں کیا گیا ہے – وہ ہم سے کہتے ہیں :

 اور زکریا اور یحیٰی اور عیسٰی اور الیاس (علیھم السلام کو بھی ہدایت بخشی)۔ یہ سب نیکو کار (قربت اور حضوری والے) لوگ تھےo

6:85 سورہ ال – انعام

اور یقیناً الیاس (علیہ السلام بھی) رسولوں میں سے تھےo

 جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈرتے ہو؟o

 کیا تم بَعل (نامی بُت) کو پوجتے ہو اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟o

 (یعنی) اللہ جو تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہےo

 تو ان لوگوں نے (یعنی قومِ بعلبک نے) الیاس (علیہ السلام) کو جھٹلایا پس وہ (بھی عذابِ جہنم میں) حاضر کردیے جائیں گے

 سوائے اللہ کے چُنے ہوئے بندوں کے

 اور ہم نے ان کا ذکرِ خیر (بھی) پیچھے آنے والوں میں برقرار رکھا

 سلام ہو الیاس پر

 بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صِلہ دیا کرتے ہیں

 بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے

 37:123-132 سورہ ال – صا ففات 

الیاس کا ذکر یوحنا (یحییٰ) اور یسوع (عیسیٰ ال مسیح) کے ساتھ کیا گیا ہے کہ الیاس (ا یلیا ہ) نے بعل دیوتا کے پجاریوں کا سامنا کیا – اس سیاق عبارت کو بڑی  تفصیل کے ساتھ  یہاں بائبل  میں قلمبند کیا گیا ہے – ذیل میں جو برکت ہمارے لئے رکھا گیا ہے اسکی ہم تلاش کرتے ہیں – (آنے والی نسل کے لئے جس طرح سورہ ال ساففات وعدہ کرتا ہے) –     

نبی حضرت الیاس اور بعل کے پجاریوں کے لئے امتحان

ا یلیاہ ایک سخت آدمی تھا جس نے 450 بعل دیوتا کے پجاریوں کا سامنا کیا – اتنے لوگوں کا مقابلہ وہ کیسے کر سکتا تھا ؟ بائبل ہمیں سمجھاتی ہے کہ انہوں نے ایک شاطرانہ امتحاں کا استعمال کیا  – انھیں اور بعل دیوتا کے پجاریوں کو ایک جانور کی قربانی دینی تھی – مگر وہ دونوں ہی اس قربانی کو جلانے کے لئے اسمیں آگ نہیں لگاینگے – (وہ دونوں) ایک طرف ا یلیاہ نبی اکیلے کھڑے ہوئے تھے اور دوسری طرف اس کے مقابلے میں بعل دیوتا کے پجاری تھے – ہر ایک طرف سے اپنے اپنے خدا ، دیوتا کو بلانا تھا تاکہ رکھی ہوئی قربانی میں آگ بھیج کر قربانی کو جلا کر بھسم کردے – جس کسی کا خدا یا دیوتا آسمان سے آگ بھیج کر قربانی کو جلاکر بھسم کر دے وہی سچا دیوتا یا زندہ خدا مانا جاےگا –سو ان 450 بعل دیوتا کے پجاریوں نے پورے دن بھر بعل کو پکارا آسمان سے آگ بھیج کر انکی قربانی کو جلاکر بھسم کردے —مگر آسمان سے کوئی آگ نازل نہیں ہوئی – پھر ایلیاہ نے اپنے خالق کو پکارا کہ آسمان سے آگ نازل ہو اور اسکی قربانی کو جلا کر بھسم کردے – اسکی د عا  فورا سن لی گیئ اور فورا آسمان سے آگ نازل ہوئی اور اسکی تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کر دیا – وہ لوگ جو جنہوں نے اس مقابلے کی گواہی دی تھی انہوں نے معلوم کر لیا کہ کون سچا خدا ہے اور کون جھوٹا – اس طرح ب ع ل دیوتا لوگوں کی نظر میں جھوٹا ثابت ہوا –

ہم اس مقابلے کے گواہ تو نہیں ہیں مگر ہم ایلیا ہ اس حکمت عملی کا پیچھا کر سکتے ہیں یہ جاننے کے لئے کہ اگر ایک پیغام یا ایک نبی خدا کی طرف سےآتا ہے تو اسکی جانچ اس طریقے سے کرنی ہے کہ صرف خدا اور اسکے پیغمبر ہی کامیاب ہو سکے اور وہ لوگ جو محض انسانی قابلیت کے ساتھ ہو بعل دیوتا کے پجاری نہیں ہو سکتے –        

نبی حضرت الیاس کی جانچ آج کے دور میں    

نبی حضرت الیاس کی روح میں ہوکر ایسی کون سی جانچ ہو سکتی ہے ؟

سورہ ان نجم (سورہ  53 –تارا) ہم سے کہتا ہے  

پس آخرت اور دنیا کا مالک تو اللہ ہی ہےo

53:25 سورہ ان – نجم

عاقبت کی ساری چیزیں صرف خدا ہی جانتا ہے یہاں تک کہ خاتمہ جب واقع ہوتا ہے – بنی انسان خاتمے کی ان چیزوں کو ان کے واقع ہونے سے پہلے نہیں جانتا – اسکو تب ہی جانتا ہے جب وہ آکر گزر جاتا ہے – اسلئے جانچ یہ دیکھنے کے لئے ہوتی ہے کہ  اگر پیغام واقع  ہونے کے بہت پہلے مستقبل  کی پیش بینی سہی طریقے سے کی جاۓ –کوئی بھی انسان یا مورت (دیوتا)اسے نہیں کر سکتا – صرف خدا ہی کر سکتا ہے –

کئی ایک عجیب و غریب کام نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے جس طرح انجیل شریف میں ظاہر کئے ایک سچا خدا کا پیغام ہے  یا پھر چالاک لوگوں کے زریعے ایجاد کیا ہوا ہے – تو ہم نبی حضرت الیاس کی جانچ کو اس سوال کے لئے نافذ کر سکتے ہیں –تورات  شریف اور زبور شریف کی کتابیں ، نبیوں کی کتابوں کے ساتھ جن میں نبی حضرت الیاس کا بیان ہے انہیں نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے زمانے سے صدیوں سال پہلے لکھے  گئے تھے – ان سبکو یہودی نبیوں نے لکھا اور اس طرح سے یہ ‘مسیحی’ تحریر نہیں تھے – کیا ان قدیم تحریروں میں ایسی نبوتیں پائی جاتی ہیں جو سہی طور سے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے واقعا ت کی پیش بینی کرتے ہیں ؟ جن نبوتوں کا ذکر توریت میں کیا گیا ہے یھاں اسکا خلاصہ پیش کیا گیا ہے – زبوروں میں اور اس کے بعد کی نبیوں کی کتابوں میں جو نبوتیں پائی جاتی ہیں ان کا خلاصہ یہاں پیش کیا گیا ہے – اب  آ پ نبی حضرت الیاس کی طرح جانچ کر سکتے ہیں یہ دیکھنے کے لئے کہ اگر نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح نے جس طرح انجیل شریف میں بیان کیا کہ وہ خدا کی طرف سے سچے نبی ہیں یا آدمیوں کے ذریعے ایک جھوٹی غلط بیانی ہے –

سورہ ال انعام نے نبی حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ال مسیح کے ساتھ حضرت الیاس کے نام کا ذکر کیا – دلچسپی کی بات یہ ہے کہ پرانے عہد نامے کی آخری کتاب میں نبی حضرت الیاس کی بابت نبوت کی گیئ ہے کہ وہ حضرت مسیح کی آمد کے لئے ہمارے دلوں کو تیار کرنے آ یینگے  – ہم انجیل شریف میں دیکھتے ہیں کہ کس طرح نبی حضرت یحییٰ ، نبی حضرت الیاس کی شکل میں آ ے تاکہ لوگوں کو تسکین اور تسلّی دے اور انھیں نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے کلام کو سننے اور انکی دوبارہ آمد کے لئے دلوں کو تییار کرے –نبی حضرت الیاس کی شخصیت خود ہی یحییٰ نبی اور نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی نبوتوں میں بندھ کر رہ گیئ ہے –