متنی تنقید کے علم کے مطابق کیا بائبل مقدس تبدیل ہو چکی ہے یا نہیں؟

“مجھے کیوں بائبل مقدس کی کتابوں پر غور کرنا چاہیے؟  جبکہ یہ بہت عرصہ پہلے لکھی گئیں اور اس کے بہت سارے تراجم اور ورژن بن چکے ہیں۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اس کے اصل پیغام کو وقت کے ساتھ تبدیل کردیا گیا تھا”میں نے کئی بار اس قسم کے سوالات اور بیانات سنیں ہیں۔ کہ تورات ، زبور اور انجیل مل کر اس کو بائبل مقدس بناتی ہیں۔

یہ سوال بہت ہی اہم ہے اور یہ اس سب  کی بنیاد پر ہے۔ جو کچھ ہم نے بائبل مقدس کے بارے میں سنا ہے۔ بہر حال یہ کتاب دو ہزار سال پہلے لکھی گئی تھی۔ اُن وقتوں میں پرنٹنگ پریس، فوٹوکاپی مشین، یا کوئی اشاعتی ادارہ موجود نہیں تھا۔ تو اصل مسودات نسل در نسل ہاتھ سے نقل کئے جاتے تھے۔ جس طرح زبانیں ختم ہوتی گئیں اور نئی وجود میں آتی گئیں، سلطنتیں دم توڑتی گئیں اور نئی وجود میں آتی گئیں۔ اب چونکہ اصل مسودات کا وجود نہیں ہے۔ پھر ہم کس طرح جانتے ہیں، کہ موجودہ بائبل (کتاب مقدس) جسکا مطالعہ ہم کرتے ہیں۔ اُسی طرح  ہےجس طرح انبیاءاکرام پر کافی عرصہ پہلےنازل ہوئی تھی؟ مذہب سے ہٹکر کیا کوئی اور بھی سائنسی علم یا منطقی علم موجود ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ جو بائبل مقدس ہم آج پڑھتے ہیں کیا وہ تبدیل ہوچکی ہے یا نہیں؟

متنی تنقید کے بنیادی اصول

بہت سارے جو اس طرح کے سوال پوچھتے ہیں۔ وہ اس بات کا احساس نہیں رکھتے کہ ایک سائنسی نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ جس کو ہم متنی تنقید کہتے ہیں۔ جس کے زریعے  ہم ان سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں۔ یہ ایک سائنسی نظم و ضبط ہے جو ہر ایک قدیمی تحریر پر لاگو ہوسکتا ہے۔ اس مضمون میں ہم متنی تنقید کے دو اہم اصول استعمال کریں گے۔ اور پھر ان کا اطلاق بائبل مقدس پر کریں گے۔ ایسا کرنے کے لیے ہم اس تصویر سے شروع کریں گے۔ جو اس عمل کی وضاحت کرتی ہے۔ جس کے ذریعے ہم کسی بھی قدیمی تحریر کو آج  پڑھ سکتے ہیں۔

time 1
یہ ٹائم لائن ہمیں دیکھتی ہے کہ کس طرح قدیم کتابیں آج ہمارے پاس ہیں

یہ تصویر ہمیں ایک کتاب کی مشال دیتی ہے۔ جو 500 سال قبل از مسیح لکھی گئی۔ اصل کبھی بھی آخر تک نہیں رہتا۔ اس سے پہلے یہ بوسیدہ ہوجائے یا کھو جائے یا تباہ ہوجائے اس اصل سے اس کی ایک نقل بنالی جاتی ہے۔ اس کو پیشہ ورانہ لوگ جن کو کاتب کہتے ہیں انہوں نے اس کو نقل کیا۔ سالوں پہلے نقل کی گئی نقلیں تیار کی گئی۔ (دوسری نقل سے تیسری نقل) اس طرح محفوط نقل سے ایک تیسری نقل بنائی گئی۔ جس کا مطلب ہے کہ اس کتاب کی حالت (500 AD ) تک معلوم کی جاسکتی ہے۔ لہذا 500 BC  سے 500  AD تک کے عرصہ میں ہم کوئی نقل چیک نہیں کرسکتے۔ جب تک تمام مسودات اس عرصہ میں غائب نہ ہو گے ہوں۔ مثال کے طور پراگر تبدیلی اس وقت ہوئی جب اصل سے دوسری نقل ہو رہی تھی۔ ان دستاویزات میں سے ہم اس کی تبدیلی کا پتہ لگا سکیں گے۔ چاہے اس جیسے مسودات موجود ہوں۔ یہ وقت موجودہ نقول ہونے سے پہلے (مدت x  ) ہے۔ لیکن اس متن کا وقفہ غیر یقینی ہے۔ جہاں پر تبدیلی ہو سکتی ہے۔ لہذا متنی تنقید کے پہلا اصول کا دورانیہ x چھوٹا اور زیادہ اعتماد کے قابل ہے ۔ ہم ان دستاویزات کو ہمارے وقت میں صحیح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ چونکہ غیر یقینی صورتحال کی مدت کم ہے۔

                        بے شک آج ایک سے زیادہ نسحہ جات کی نقل موجود ہیں۔ فرض کریں ہمارے پاس دو مسودات کی نقل موجود ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک کے اسی حصے میں مندرجہ زیل فقرہ ہے۔ (بےشک یہ فارسی میں نہیں ہوگا۔ لیکن میں نے اس کی فارسی میں وضاحت کرنے کے لیے استعمال کیا ہے)

error 2

اب ہمارے پاس چار نسحہ جات موجود ہیں۔ اس سے آسانی سے معلوم کرسکتے ہیں کہ کس میں غلطی پائی جاتی ہے۔ اب ہم آسانی سے فصیلہ کرسکیں گے کہ کس نسحہ میں غلطی ہے۔ یہ زیادہ امکان ہے کہ غلطی ایک بار ہوئی ہو۔ جبکہ ایک ہی غلطی تین بار دوہرائی جائے۔ لہذا اس بات کا امکان ہے کہ MSSs  میں نقل کی خامی کا امکان ہے اور مصنف نے اس کو یوان لکھا تھا نہ کہ جان( جان پھر غلطی ہے) یہ سادہ سی مثال متنی نتقید کے دوسرے اصول کی وضاحت کرتی ہے۔ جس طرح آج جتنے زیادہ نسحہ جات موجود ہیں ۔ ان سے اتنا ہی آسان ہے غلطی کو معلوم کرنا اور اس کو ٹھیک کرنا اور یہ جاننا کہ اصل متن کیا ہے۔

MSS3

تاریخی کتابوں کہ متنی تنقید

            اب ہمارے پاس سائنسی متنی تنقید کے 2 اصول موجود ہیں۔ جن سے ہم کسی بھی پرانی کتاب کے متن کی معتبریت کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ 1) اصل تحریر اور قدیم ترین موجود قلمی نسحوں کی نقل کے درمیانی وقت کی پیمائش  2) موجود قلمی نسحوں کی نقل کی تعداد کا حساب۔ جس طرح ہم یہ اصول قدیم کتابوں پر لاگوکرتے ہیں۔ ہم ان اصولوں کو قدیم کتابوں اور بائبل مقدس کے لیے  بھی لاگو کرسکتے ہیں ۔ جس طرح ذیل کے ٹیبل میں کیا گیا ہے۔

(مصنف جوش میکڈول کتاب کا نام منصفانہ فیصلے کے متقاضی)

اس میں تمام لکھاری قدیم دور کی اہم کلاسیکل تصنیفات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تحریروں نے جدید تہذیب کی ترقی میں تشکیل دی ہے۔ اوسطاً یہ ہمیں 10 – 100 مسودات دے کر گزر گے ہیں۔ تقریباً یہ  1000  سال محفوظ رہیں ہیں جو کہ اصل کے بعد  نقل کی گیئں تھیں۔

بائبل مقدس کے متن کی تنقید

                                    مندرجہ ذیل ٹیبل میں بائبلیکل کتابوں میں اوپر دیئے گے، نقاط کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ خاص کر انجیل شریف کا۔ یہ ٹیبل کتاب The Origin of The Bible سے لیا گیا ہے

MSS

تحریری جب

MSS کی تاریخ

وقت کی مدت
John Rylan

90 AD

130 AD

40 yrs

Bodmer Papyrus

90 AD

150-200 AD

110 yrs

Chester Beatty

60 AD

200 AD

140 yrs

Codex Vaticanus

60-90 AD

325 AD

265 yrs

Codex Sinaiticus

60-90 AD

350 AD

290 yrs

بائبل مقدس کے متن کی تنقید کا خلاصہ

     انجیل شریف کے مسودات کی تعداد بہت ہی وسیع ہے۔ اس لیے اس کو ٹیبل کی فہرست میں رکھنا ناممکن ہے۔

“” آج ہمارے پاس انجیل شریف کے 24000 سے ذائد  MSS  کی نقول موجود ہیں۔ ۔۔ قدیم دور کے کسی بھی دستاویزات کے اس قدر زائد نسحوں کی تعداد اور تصدیق حاصل نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں “ILIAD” قدیم ہومر نامی مصنف کی ایک کتاب کی 643 MSS  کی نقل موجود ہیں۔  (مصنف جوش میکڈول کتاب کا نام منصفانہ فیصلے کے متقاضی)

برطانیہ کے میوزیم کےایک معروف عالم اس بات پر متفق ہیں۔

” علمااکرام رومن اور یونانی مصنفین کے متن کے حقیقی اصولوں پر کافی حد تک مطمین ہیں۔ جب کہ ہمارا علم ان کی مٹھی بار تحریرات کی MSS   کی نقول پر ہے۔ جب کہ انجیل شریف کے MSS    کی تعداد ہزاروں میں ہے”

(کینیون ایف جی، برٹش میوذیم کے سابق ڈائریکٹر، کتاب: ہماری بائبل اور قدیم مسودات)

میرے پاس ایک کتاب ہے جو ابتدائی نسخہ جات کے بارے میں ہے۔ یہ کتاب اس طرح شروع ہوتی ہے۔

” یہ کتاب انجیل شریف کے ابتدائی 69 مسودات کی نقل فراہم کرتی ہے۔۔۔ اس کی تاریخ 2 دوسری صدی کے شروع سے 4 چوتھی صدی تک ہے۔ ( 100-300 AD  ) جو 2 سے 3 انجیل شریف کے نسخوں تک محدود ہے۔ “

(مصنف P. Comfort   کتاب “قدیم ترین انجیل شریف کے یونانی نسخہ جات”

دوسرے الفاظ میں یہ مسودات جو موجود ہیں اتنے قدیم ہیں کہ ان میں سے کئی 100 سال کے قریب یا پھر انجیل شریف کی اصل کے پہلی نقل میں سے ہیں۔ یہ مسودات بادشاہ کانسٹنٹائن کی حکومت اور رومی کلیسا کے وجود میں آنے سے پہلے ہیں۔ یہ بحیرہ روم اور اس کے اردگرد کی دنیا میں پھیل چکے تھے۔ اگر ایک علاقے کے نسخے میں تبدیلی ہوئی ہوتی تو دوسرے علاقے کے نسخے سے اس کی تصدیق کی جاسکتی تھی۔ لیکن یہ تما م ایک جیسے ہیں۔

ہم یہاں سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔ یقنی طور پر انجیل شریف کے جتنے نسخہ جات پائے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کسی دوسرے قدیم نسخے کے نہیں ہیں۔ ( موجود MSSs کی تعداد اور اصل قدیم ترین نسخہ جات کے درمیان کے وقت تک پھیلا ہوا ہے) یہ فیصلہ کن ثبوت ہمیں اس درج ذیل خلاصہ تک لے آتے ہیں۔

” انجیل شریف کے متن پر شک کا نتیجہ ہمیں قدیم دور کی تمام پرانی داستاویزات پر ابہام کی طرف لے آتا ہے۔ لیکن قدیم تحریرات میں سے ہمیں کوئی ایسی قابل اعتماد کتابیات نہیں ملتی جیسی انجیل شریف کی ہے۔ ( منٹگمری،  کتاب ، تاریخ اور مسحیت)

جو کچھ اس نے کہا اس کو جاری رکھیں گے۔ اگر ہم بائبل مقدس کے معتبر ہونے پر سوال کرتے ہیں ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس کو تمام قدیم تاریخی علوم سے جدا کر رہے ہیں۔ جو ایسا آج تک کسی مورخ  یا  تاریخ دان نے نہیں کیا۔ ہیروڈوٹس (Herodotus) کی تحریرات کو کوئی تبدیل شدہ نہیں سمجھتا۔ جب کہ ان مسودات کی کل تعداد 8 آٹھ ہے۔ اور ان کی نقل کا وقفہ اصل سے 1300 سال کا ہے۔ اس طرح ہم کیسے سوچ سکتے ہیں کی بائبل مقدس کے متن میں تبدیلی ہوگئی ہے؟ جبکہ اس کے مسودات کی کل تعداد 24000 مسودات ہیں اور ان کی اصل سے نقل کے وقت کا وقفہ 100 سال ہے۔ اس بات کی کوئی سمجھ نہیں آتی کے یہ کیسے لوگوں کہہ دیتے ہیں کہ بائبل مقدس تبدیل ہوگئ ہے۔

            ہم جانتے ہیں کہ زمانے بدلے، زبونیں بدلیں، اور سلطنتیں کو زوال آیا لیکن بائبل مقدس کے متن میں کھبی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان تمام واقعات و حالات میں سے قدیم ترین MSSs ابھی بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کسی پوپ نے اور نہ ہی رومن بادشاہ کانسٹنٹائن نے بائبل مقدس میں تبیلی نہیں کی ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس موجود مسودات پوپ اور بادشاہ کانسٹنٹائن سے پرانے ہیں۔ یہ تمام مسودات آج کی موجودہ بائبل مقدس کے ساتھ بالکل یکساں ہیں۔

درج ذیل ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے۔ کن مسودات سے موجودہ بائبل مقدس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔

slide4
موجودہ دور کی بائبل مقدس کا ترجمہ قدیم ترین یا ابتدائی مسودات سے کیا جاتا ہے۔ جن کا دورانیہ 300- 100 AD ہے ۔ یہ تمام مسودات بادشاہ کانسٹنٹائن اور دوسری مذہبی طاقتوں سے پہلے کے موجود ہیں۔

مختصراً یہ ہے کہ نہ تو وقت نے نہ ہی مسیحی راہنماوں نے اُس پیغام کو تبدیل کیا۔ جو سب سے پہلے بائبل مقدس میں لکھا گیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہزاروں سال پہلے مصنفین نے لکھا تھا ہم اُس کو آج اُسی طرح پڑھتے ہیں جسطرح لکھا گیا تھا۔ متنی تنقید کی یہ سائنس بائبل مقدس کے متن کی تصدیق کرتی ہے۔ کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

یونیورسٹی میں متنی تنقید پر ایک لیکچر

ہے University of Western Ontarioمجھے اس موضوع پر ایک یونیورسٹی جسکا نام

لیکچر دینے کا استحقاق ہوا۔ ذیل میں 17 منٹ کی ویڈیو ہے جس میں اس سوال کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح اب تک ہم نے انجیل شریف کے متن کی تنقید کے بارے میں جانا ہے۔ لیکن زبور شریف، تورات شریف، جن سے پرانہ عہد نامہ بنتا ہے۔ اس کے بارے کیا جانتے ہیں۔ ذیل میں 7 منٹ کی ویڈیو میں اس سوال پر بات کی گئی ہے۔

انجیل بدل چُکی ہے! سنُت کیا فرماتی ہے؟

میری گزشتہ اشاعت میں دیکھ چُکا ہوں کہ قرآن توریت ، زبُور اور انجیل مقُدس کے مکاشفات اور نزول کے بارے کیا کہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ قرآن میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ جو پیغام اللہ کی طرف سے حضرت مُحمد پر 600 قبل از مسیح نازل ہوا، جو کہ انجیل مقُدس کے پیروکار ہیں(وہ تاریخ کے ساتھ تبدیل یا بدل نہیں سکتے)، اسی طرح قرآن میں اِس بات کی تصدیق بھی ملتی ہے کہ انجیل مقُدس اُس کے الفاظ ہیں، اور وہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتے۔ اِن دونوں بیانات سے یہ بات یقین دہانی ہے کہ خُدا کا کلام کبھی بھی تبدل نہیں سکتے جن میں توریت، زبُور اور اناجیل شامل ہیں۔

میں اِس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ مطالعہ کو جاری رکھنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی کتاب سنُت اِن موضوعات پر کیا کہتی ہے۔ حدیث اِس کی بات کی تصدیق کرتی ہے کہ توریت اور انجیل کا اِستعمال  حضرت محمد ؑ کے دور میں ہو چکا ہے۔

خدیجہ (اُس کی بیوی)جوکہ (حضرت محمدؑ کی بیوی ہے)  اُس کا رشتہ دار ورقہ جو کہ اسلام کے پھیلانے سے پہلے مسیحیت کو قبول کر چکا تھا ؛ اُس نے عبرانی زبان میں خط لکھتا ہو تا تھا۔ وہ انجیل میں سے عبرانی زبان میں لکھ سکتا تھا جیسے کہ خُدا اُس سے چاہتا تھا۔  امام بخاری (البخاری) والیم 1 ، کتابچہ 1  ؛ نمبر 3

ابوہریرہ نے بیان کیا: کہ وہ لوگ توریت کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور پھر اُس کو مسلمانوں کو عربی زبان میں سمجھاتے تھے۔ تب اللہ کے رسول نے کہا، ‘‘لوگوں کے کلام پر یقین مت کرو، اور نہ ہی اُن کو اِس پر ایمان لانے سے رکھو، لیکن کہو، کہ ہم اللہ کی طرف سے جو نازل ہوچُکا ایما ن رکھتے ہیں۔۔۔۔۔’’ امام بخاری (البخاری) والیم 9 ، کتابچہ 93 ؛ نمبر632

یہودی اللہ کے رسول کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر مرد اور عورت غیر شرعی طور پر آپس میں مبشارت کرتے ہیں ۔ اللہ کے رسول نے اُن سے کہا، ‘‘تمہیں توریت میں اِس جرم کی کیاقانونی سزا ملتی ہے (سنگساری)؟’’ اُنہوں نے جواب میں اُس نے کہا، ‘‘(لیکن) ہم اُن کے جرم کا اعلان کرتے اور اُن کو قید میں ڈالنے کا حکم دیتے ہیں۔’’ تب عبداللہ بن سلام نے کہا، ‘‘تم جھوٹ بول رہے ہو؛ توریت تو کہتی ہے کہ اُن کو سنگسار کرو۔’’۔۔۔۔۔۔۔۔سنگسارکا حوالہ وہاں (توریت) میں موجود ہے۔  اُنہوں نے کہا حضرت محمدؑ (اللہ کا رسول) سچا فرماتا ہے؛ توریت میں سنگسار کرنے کا حوالہ درج ہے۔  امام بخاری (البخاری) والیم 4، کتابچہ  56؛ نمبر 829

عبداللہ ابن ِ عمر بیان فرماتے ہیں۔۔۔۔۔یہودی کا لشکر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ ولی وسلم حضرت محمد کوف کے لئے دعوت دی۔۔۔۔۔ اُنہوں نے کہا،‘ابو القاسم ، کہ اُس نے ایک عورت کے ساتھ زناکاری کی ؛ سو اُس پر بھی عدالت ہوگی۔ اُنہوں نے اللہ کے رسول کے لئے تکیہ دیا اور وہ اُس سے بیٹھے اور کہا؛‘‘ توریت لے کر آؤ’’۔ تب وہ توریت لے کر آئے۔پھر آپ نے تکیہ نکلا اور توریت کو رکھا اور یہ کہا؛‘‘میں اِس پر ایمان رکھتا ہوں اور اُس پر بھی جس نے اِس کا نازل فرمایا۔’’ سنُت ابودادؤ  کتابچہ 38، نمبر 4434

کابیان: اللہ کے رسول فرماتے ہیں؛ جمعہ کے دِن جب سورج طلوع ہوتا ہے وہ مبارک دِن ہے، اِس دِن آدم تخلیق کیا گیا تھا۔۔۔۔۔کیتب نے فرمایا: ہر  ابوہریرہ…سال میں ایک دِن ہوتا ہے۔ تب میں نے کہا: یہ ہر جمعہ ۃ المبارک پر ہوتا ہے۔ کیتب نے توریت کو پڑھا اور کہا: کہ اللہ کے رسول محمدؑ نے  سچافرمایا۔ سنُہ ابو داؤد کتاب 3 نمبر 1041

یہ احمقانہ احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ رسول محمدؑکا رویہ کہ بائبل میںجو اُس دِن کے بارے میں پہلے سے نشاندہی کی جا چُکی ہے۔ پہلی حدیث بیان کرتی ہے کہ انجیل پہلے سے موجود تھی جب اِس نے پہلی آواز کر سُنا۔ دوسری حدیث بتاتی ہے کہ یہودی توریت کو عبرانی زبان میں اُس وقت کے مسلمانوں کے لئے پڑھتے تھے۔ حضرت محمد اُن کے کسی بھی بیان کردہ مجموعے کو رد نہیں کرتا تھا، لیکن فرق  کو ظاہر کرتا تھا  عربی وضاحت اُن کی کرتا تھا۔ اگلی دو احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ محمدؑ نے توریت کو اپنے اُس دِن کے لئے استعمال کی ہے۔ اور آخری حدیث سے نظر آتا ہے کہ توریت، اِس بات کی گواہ ہے کہ جب انسان کو پیدا کیا گیا تب جمعہ کا دِن تھا۔ اِن احدیث میں سے کوئی بھی اِس بات کو ثابت نہیں کر پائی کہ بائبل(کلام ِ مقدس) تبدیل اور اِس میں کوئی ردوبدل ہوا ہے۔ یہ اہم کام کے لئے استعمال ہوئی ہے۔

عہد جدید (انجیل کی اصل کتابیں)

میرے پاس عہدجدید کی اصل کتب جو موجود ہے جو کہ اِس سے شروع ہوتی ہے:

2 عہدجدید /‘‘عہد جدید شروع میں 69 کا مجموعہ پیش کر تا ہے کہ بتاریخ دوسری صدی کے آغاز سے لے کر چوتھی صدی تک (100تا 300 اے ڈی)۔۔۔۔۔3

کا حصہ مشتمل ہے (پی پرُسکون،‘‘آغاز میں عہدجدید یونانی زبان میں موجود ہے’’۔ تعارف پی 17۔2001)۔

یہ اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ تحریریں رومی حکومت کے آنے سے پہلے (325 اے ڈی)۔ اگر اِس میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو ہمیں اِس کی تحقیق کرنی ہے کہ اِس میں محمد کے آنے سے پہلے تبدیل ہوئی ہے کہ اُس کے آنے کے بعد۔ ہمارے پاس مختلف زبانوں میں ترجمہ کی گئی جو کہ آج بھی مکمل طور پر اپنی اصل حالت میں موجود ہے جو کہ محمدؑ کے آنے سے پہلے سے موجود تھی۔ سب سے زیادہ مشہور کوڈ یہ ہیں، سینی ٹیکس(سی اے 350 اے ڈی) اور یہ کوڈ، ویٹی نیکس(سی اے 325 اے ڈی)۔ یہ اور اِس کے علاوہ بہت سارے دوسرے مجموعے جو کہ 600اے ڈی سے پہلے دُنیا کے دوسرے علاقوں میں سے آئے۔ یہ مسیحی خیال اور مسیحی نخسہ جات میں تبدیلی کوئی بھی سمجھ نہیں رکھتا۔ یہ بالکل ناممکن کہ اِس ٹیکٹ میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔ یہاں تک کہ اگر یہ عربی میں ترجمہ کی گئی تو بھی یہ اصل حالت میں موجود ہے اور ایسے ہی ہمیں کہنا چاہیے کہ یورپ اور سیریا میں بھی کوئی تبدیل نہیں آئی، اور یہ یقیناً ایسا ہی ہے۔ پر قرآن اور احدیث دونوں واضع طور پر تصدیق کرتے ہیں کہ بائبل 600 اے ڈی سے پہلے موجود تھی اور بائبل مقدس کے تمام نخسہ جات پہلے سے رقم ہیں، اور اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ نیچے دی گئی ٹائم لائن اِس چیز کی وضاحت کرتا ہے کہ بائبل مقدس 600 اے ڈی کی بنیاد پر ہے۔

آغاز ہی سے توریت اور زبور کی کاپی موجود ہے۔ سکلرولز کا مجموعہ بحرہ ِمردار سے جانا جاتا ہے، یہ بحرہ مردار 1948 کو دریافت کیا گیا۔ یہ سکلرولز توریت اور زبور 200تا100 عیسوی سےلکھی جا چُکی تھی۔ اِس کا مطلب ، مثال کے طور پر حضرت موسیٰ نے توریت تقریباً(1500 عیسوی) کو دے دی تھی، ہمارے پاس توریت کی کاپیاں عیسیٰ المسیح اور محمدؑ کے آنے سے پہلے کی موجود تھیں۔ ہم اِس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ پہلی کتابیں جو رسولوں پر نازل ہوئی اِن کللک کریںمیں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ میں اِس کو واضح طور دیکھا کہ یہ یقینی ہے اگر آپ اِس کو سائنسی نظر سے دیکھنا ہے تو اِس آرٹیکل پر

اِس بات کو شہادت ملتی ہے کہ حضرت محمدؑ نے جو کچھ احدیث میں فرمایا کہ کلام ِ مقدس (بائبل) تمام نخسے آج بھی ویسے کے ویسے ہیں اور قرآن بھی اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بائبل تبدیل نہیں ہوئی۔

آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات - بہت پہلے سے
آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات – بہت پہلے سے