حضرت عیسیٰ کے ساتھ لفظ “مسیح” کہاں سے آیا؟

قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ کو “المسیح” کہا گیا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟  یہ کہاں سے آیا ہے؟ مسیحی کیوں حضرت عیسیٰ کو “مسیح” کہتے ہیں؟ کیا مسیح اور کرائسٹ (Christ) میں کو فرق پایا جاتا ہے؟ زبور شریف ہمیں ان تمام اہم سوالوں کے جوابات فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس مضمون کو سمجھنے سے پہلے ایک مضمون پڑھنا چائیں۔ “ کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟” تاکہ آپ اس میں استعمال ہونے والے معلومات کو سمجھ سکیں۔

مسیح لفظ کی ابتدا

                   درج ذیل تصویر میں ” کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟” میں ترجمہ کرنے کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن خاص طور پر لفظ “مسیح” پر توجہ دی گئی ہے۔ کہ دورِ جدید میں انجیل شریف مین لفظ کیسے ترجمہ ہوا؟

لفط "مسیح" کا عبرانی زبان سے دورِ جدید میں ترجمہ
لفط “مسیح” کا عبرانی زبان سے دورِ جدید میں ترجمہ

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زبور شریف میں جسکی اصل زبان عبرانی ہے۔ اُس کے (مرحلہ نمبر1 ) میں “مسیح” “Mashiyach” استعمال ہوا ہے۔ جس کو عبرانی لغت میں “ایک ممسوح” یا “ایک مقدس” شخص کا مطلب دیا جاتا ہے۔ زبور شریف کے بعض حوالہجات میں ‘مسیح’ (Definite Article “The”  یعنی اُردو میں اسمِ معرفہ کہہ سکتے ہیں) کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ جب 250 ق م میں پفتادی ترجمہ ہوا ( دیکھیں “کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟ ) تو علماء اکرام نے عبرانی کے لفظ “Mashiyach”  “المسیح” کا یونانی میں بھی ایک لفظ “خریستوس” Christos- Χριστός جسکا اصل Chrio ہے۔ جس کا مطلب تیل ملنا ہے۔ لہذا لفظ مسیح (Christos- Χριστός) کا ترجمہ (لفظ کی آواز کے مطابق اس کا ترجمہ نہیں ہوا) ہفتادی ترجمہ میں عبرانی کے لفظ “مسیح” “Mashiyach” کو یونانی میں ایک مخصوص شخص کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دوسرا (مرحلہ نمبر 2) ہے۔ جس میں حضرت رعیسیٰ مسیح کے شاگردوں نے سمجھ لیا۔ کہ یہ وہی شخص ہیں۔ جن کے بارے میں ہفتادی ترجمہ بتایا گیا ہے۔ اور اس لیے اُنہوں نے انجیل شریف میں اس کو جاری رکھا۔

 لیکن دورِجدید کے انگریزی ترجمہ میں دو زبانوں میں “Christos” کا یونانی سے انگریزی (یا دوسری زبانوں میں مسیح یعنی Christ کا ترجمہ ہوا۔ یہ شکل نمبر تین کے نصف حصہ میں پائی جاتی ہے۔ اس طرح مسیح یا Christ زبور شریف میں سے ایک خاص لقب ہے۔ جو عبرانی زبان سے ترجمہ ہوکر یونانی میں آیا اور یونانی سے ترجمہ ہوکر انگریزی زبان میں ترجمہ ہوا۔ عبرانی زبان سے زبورشریف دورِ جدید میں مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ جس میں مترجمین نے لفظ “مشیاح” “Mashiyach” کا مختلف طریقوں سے ترجمہ کیا ہے۔ کچھ نے (جیسے کہ کنگ جمیز) عبرانی لفظ “Mashiyach” “مشیاح” کو انگریزی میں “Messiah” اور اردو میں “مسیحا” ترجمہ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک (جیسے کہ نیو انٹرنیشنل) میں لفظ “Mashiyach” “مشیاح” جو کہ زبورشریف کے اس مخصوص حوالہ میں اس لفظ کا ترجمہ “مسح شدہ” “Anointed one” کہا ہے۔ کسی بھی صورت میں ہم زبور شریف کے اس حوالہ میں لفظ “Christ” میں نہیں دیکھتے ہیں۔  بلکہ اس کی جگہ ” مسح شدہ” جسکا انگریزی میں ترجمہ “Anointed one” کہا جاتا ہے۔ لہذا پرانے عہد نامے کے اس حوالے کا تعلق واضع نہیں ہوتا۔ لیکن اس تجزیہ سے ہم جانتے ہیں۔ کہ بائبل مقدس یہ ہی لفظ پایا جاتا ہے۔

مسیح – مسیحا – مسح شدہ

لہذا قرآن شریف میں لفظ “مسیح” کہا پایا جاتا ہے؟

                             ہم نے دیکھا کہ کرائسٹ “Christ” مسیح “Messiah” مسح شدہ ایک لقب ہے۔ جن کو ہم نے بائبل مقدس میں مختلف حصوں میں پایا ہے۔ لیکن قرآن شریف میں “المسیح” کے بارے میں کیوں ذکرکرتا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے اُوپر دی گئی تصویر میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ بائبل مقدس میں “مشیاح” کومسیح کے لیے ظاہر کیا جاتا ہے۔ درج ذیل تصویر میں قرآن شریف کی عربی زبان میں مزید واضع کیا گیا ہے۔ جو عبرانی اور یونانی میں بائبل کے بعد عربی میں لکھا گیا۔ میں نے ایک حصے کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ حصہ A اُسی طرح ہے۔ جیسے ہم نے اُوپر والی تصویر میں اصل عبرانی متن میں موجود زبور شریف سے “مشیاح” کو بیان کیا ہے۔ اب نمبر B میں اسی اصطلاح کو ہم نے عربی زبان کے ساتھ بیان کیا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اصطلاح “مشیاح” کا ترجمہ قرآن شریف میں بطور “مسیح” کے ہوا ہے۔ اسی طرح قرآن شریف کا عربی زبان میں قرات کرنے والے شخص کو انگریزی زبان کے “Christ” کا متبادل ترجمہ دیتا ہے۔ جو کہ “المسیح” ہے۔

 اس ترجمے کے مراحل میں مسح شدہ – مسیح – مسیحا – کرائسٹ بیان کیا گیا ہے۔ اس علم کے پس منظر میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان سب کا لقب ایک ہی ہے اور سب کا مطلب بھی ایک ہے۔ جس طرح 4= Four  انگریزی میں اور فرانسسی میں “کواٹڑ اور رومن نمبر (IV) 6-2 = 2+2 –

المسیح کو پہلی صدی سے ہی توقع تھی

                                      آئیں اس علم کے ساتھ ہم انجیلِ مقدس پر توجہ لگاتے ہیں۔ ذیل میں بادشاہ ہیرویس کا ردِعمل دیکھیں۔ جب مشرق سے کئی دانشوار مجوسی، یہوددیوں کے بادشاہ کی پیدائش کی تلاش میں اُسکے کے پاس آئے۔  حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش اہم ترین واقع ہے۔ یہاں غور کرنے کی بات اگرچہ لفظ مسیح خصوصی طور پر عیسیٰ مسیح کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔

متی 2: 3-4

  یہ سُن کر ہیرودِیس بادشاہ اور اُس کے ساتھ یروشلِیم کے سب لوگ گھبرا گئے۔
اور اُس نے قَوم کے سب سَردار کاہِنوں اور فقِیہوں کو جمع کر کے اُن سے پُوچھا کہ مسِیح کی پَیدایش کہاں ہونی چاہئے؟

لیکن آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کہ المسیح کو ہیرودیس اور اُس کے مذہبی مشیروں نے پہلے ہی سے المسیح کو قبول کرلیا ہوا تھا۔ حتاکہ حضرت عیسیٰ مسیح پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اور یہاں نہ ہی خصوصی طور پر اُن کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا ہے۔ سینکڑوں سال پہلے حضر ت دواد جو ایک بادشاہ اور نبی تھے۔ اُنہوں نے زبور شریف میں مسیح کا ذکر کیا۔ اور یہ کتاب پہلی صدی میں یہودیوں کے ہاں عام پڑھی جاتی تھی۔ جس کا ترجمہ یونانی میں ہو چکا تھا۔ جس کو ہفتادی ترجمہ کہتے ہیں۔ مسیح ایک لقب تھا۔ (اور اب بھی ہے) نہ کہ ایک نام۔ اس کو اس طرح مضحکہ خیز نظریہ کو مسترد کرسکتے ہیں۔ جس طرح ڈونچی کوڈ فلم جو بہت زیادہ مقبول ہے۔ اس فلم نے نظریہ پیش کیا کہ “مسیح” لفظ ایک مسیحی شخص کی ایجاد ہے۔  جو کسی نے 300ء میں رومی بادشاہ کنٹسٹائن نے پیش کیا۔ لیکن یہ لقب سیکڑوں سال پہلے موجود تھا۔ اس سے کوئی مسیحی یا شہنشاہ کنٹسٹائن کی حکومت ہوتی۔

زبور میں مسیح کے بارے میں پیش گوئی

                   آئیں ہم زبور شریف میں لقب “المسیح” کے بارے میں سب سے پہلے بنوتی پیشن گوئی کو دیکھیں۔ جس کو حضرت داود نے ایک ہزار سال قبل از مسیح لکھا تھا۔ جو کہ حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش سے بہت پہلے لکھی گئی۔

 خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔
آؤ ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں اور اُن کی رسیاں اپنے اُوپر سے اُتار پھینکیں۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔                                                 زبور 2: 2-4

ہفتادی ترجمہ میں زبور شریف کے دوسرے باب میں جو یونانی زبان کا ترجمہ ہے۔ اس طرح پڑھا جاتا ہے۔

( میں یہاں اس کو خرستُس کے طور پر ترجمہ کررہا ہوں۔ تاکہ آپ مسیح کے لقب کو ہفتادی ترجمہ میں دیکھ سکیں)

 خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔
آؤ ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں اور اُن کی رسیاں اپنے اُوپر سے اُتار پھینکیں۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔                                                 زبور 2: 2-4

لیکن زبور شریف میں مسیح کے بارے آنے والے حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں۔ ان تراجیم کا ایک ترتیب کے ساتھ رہا ہے۔ جس میں مسیح، مسیحا، اور مسح شدہ ترجمے کو آپ دیکھ سکیں گے۔

عبرانی لفظی ترجمہ لاطینی ترجمہ عربی ترجمہ
10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر

اپنے (anoint one) ممسوح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔

17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔

10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے(Christ)کرئیسٹ کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔
10 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے(Masih) مسیح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔
11 خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا۔17 وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زبور شریف 132 میں مستقبیل کے زمانے کی طرف اشاہ کرتا ہے۔ (میں حضرت داود کے لیے ایک سینگ بناوگا) اور زبورشریف اور تورات شریف میں بھی اس کے بارے میں حوالہ جات ملتے ہیں۔ پشین گوئی کے بارے مین اندازہ کرتے وقت یہ واضع رہے کہ زبور شریف جو دعوۃ کرتا ہے۔ وہ مستقبیل کے بارے میں کرتا ہے۔ اور یہ انجیل شریف کا ذکر کئے بغیر کرتا ہے۔ بادشاہ ہیرودیس اس بات سے باخوبی واقف تھا کہ پرانے عہدنامے کے ابنیاءاکرام نے آنے والے مسیح کے بارے میں پیشن گوئیاں کی تھیں۔ اسی لیے وہ اس کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اُسے صرف اس بات کی ضرورت تھی۔ کہ اسکے مذہبی اصلاح کار اس پیشن گوئی کی وضاحت کریں وہ زبور شریف سے اچھی طریقہ سے واقف تھے۔ یہودیوں کو اپنے مسیحا کے انتظار کے حوالہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے مسیح کا انتظار کر رہیں ہیں۔ جس سے حضرت عیسیٰ کا اُن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن زبور شریف میں واضع طور پراُن پیشن گوئیوں کا تعلق مستقبیل میں آنے والے مسیحا کے ساتھ ہے۔

تورات شریف اور زبور شریف کی پیشن گوئیاں

حقیقت یہ ہے کہ تورات شریف اور زبور شریف خاص طور پرجو پیشن گوئیاں کرتے ہیں۔ تو وہ مستقبیل کے دروازے کا تالا بن جاتیں ہیں۔ یہ تالا ایک مخصوص شکل میں ترتیب دیا گیا ہے۔ تاکہ یہ ایک مخصوص شکل کی چابی سے کھولا جائے۔ اسی طرح پرانے عہد نامہ ایک تالے کی طرح ہے۔ ہم نے پہلے ہی حضرت ابراہیم کی قربانی کے بارے اور حضرت موسیٰ کی فسح اور کنواری کے بیٹے کے بارے میں جان معلوم کیا ہے۔ جہاں اس آنے والے شخص کے بارے میں مخصوص پیشن گوئیاں پائی جاتیں ہیں۔ زبور شریف کے 32 ویں باب میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے۔ کہ “المسیح” حضرت داود بادشاہ کی نسل سے پیدا ہوگا۔ تاہم جب ہم پرانے عہدنامہ میں سے نبوتی پیشن گوئیاں پڑھتے ہیں تو یہ تالا مزید واضع ہوتا چلا جاتا ہے۔ زبور شریف کی پیشن گوئیوں کا اختتام یہاں ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ ہمیں مزید بتاتیں ہیں کہ مسیح کیا کریں گے۔ اوراس لیے ہم زبور شریف کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔