حضرت ہارون کی پہلی نشانی "1 گائے 2 بکرے کی قربانی”

ہم نے حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی میں جانا کہ کوہ سینا پر ملنے والے احکام بہت زیادہ دلچسپ تھے۔ اس مضمون کے آخر میں میں نے آپ کو سوال پوچھا۔ (کیونکہ شریف کایہ مقصد تھا) کہ کیا آپ ہر روز شریعت پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ اور میں شریعت پر مکمل طور پر عمل نہیں کرتے۔ تو پھر ہم سنگین مشکل میں ہیں۔ اور قیامت ہم پر لٹک رہی ہے۔ اگر آپ شریعت پر مکمل طور پر پیروی اور عمل کررہے ہیں تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر مکمل طور پر شریعت پر عمل کرنے میں ناکام ہیں۔ تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے؟ حضرت ہارون (حضرت موسیٰ کے بھائی اور ان کو اللہ تعالیٰ کے گھر میں خدمت کے لیے بلایا گیا) اور اُس کی اولاد کو قربانیوں کے انتظام کے لیے مقرر کیا گیا۔ ان قربانیوں سے گناہ کا کفارہ دیا جاتا تھا۔ حضرت ہارون کو دو خاص قربانیوں کی نشانی کی تعلیم دی گئی۔ کہ کیسے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو جو ہم نے شریعت کو توڑ کر کئے۔ اُن پر پردہ ڈال دے گا۔ یہ قربانیاں ایک گائے اور دو بکروں کی تھیں۔ چلیں آئیں ہم بکروں کی قربانی سے شروع کرتے ہیں۔

بکرے کی قربانی اور کفارے کا دن

                   حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی "فسح” میں یہ بتایا گیا۔ کہ اسرائیلی لوگوں نے کیسے فرعون کی غلامی سے رہائی پائی۔ لیکن اس کے ساتھ تورات شریف دوسرے تہواروں کا حکم بھی دیتی ہے۔ لیکن خاص طور پر کفارے کے دن کو اہم کہا گیا۔ (یہاں کلک کریں اور تورات شریف میں سے کفارے کے بارے میں مکمل اقتباس پڑھیں)۔ کہ کیوں کفارے کے بارے میں اتنی محتاط اور تفصیلی ہداہات دی گئی ہیں؟

1 اور ہارون کے دو بیٹوں کی وفات کے بعد وہ جب خداوند کے نزدیک آئے اور مر گئے۔
2 خداوند موسی سے ہمکلام ہوا اور خداوند نے موسی سے کہا اپنے بھائی ہارون سے کہہ کہ وہ ہر وقت پردہ کے اندر کے پاکترین مقام میں سرپوش کے پاس جو صندوق کے اوپر ہے نہ آیا کرے تاکہ وہ مر نہ جائے کیونکہ میں سرپوش پر ابر میں دکھائی دونگا۔

                                                                                                 اخبار 16: 1-2

اُس وقت کیا ہوا جب حضرت ہارون کے دونوں بیٹے مارے گئے۔ جب وہ بڑی تیزی کے ساتھ اُس مقام میں داخل ہوئے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی حضوری موجود تھی۔ لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ کی پاک حضوری میں شریعت پر عمل کرنے میں ناکامی کے باوجود داخل ہوگے۔ تو اس کا نتیجہ اُن کی موت نکلا۔ کیوں ؟ اُس جگہ پر عہد کا صندوق موجود تھا۔ قرآن شریف نے بھی عہد کے صندوق کے بارے ذکر کیا ہے۔ یہ اس طرح ہے۔

 اور ان کے نبی نے ان سے فرمایا: اس کی سلطنت (کے مِن جانِبِ اﷲ ہونے) کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس صندوق آئے گا اس میں تمہارے رب کی طرف سے سکونِ قلب کا سامان ہوگا اور کچھ آلِ موسٰی اور آلِ ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہوں گے اسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہوگا، اگر تم ایمان والے ہو تو بیشک اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے                  سورۃ البقرہ 248

یہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ عہد کا صندوق اللہ تعالیٰ کے اختیار کی نشانی تھا۔ کیونکہ صندوق حضرت موسیٰ کی شریعت کے عہد کی نشانی تھا۔ کوہ سینا پر ملنے والی پتھر کی دو تختیاں جن پر دس احکام تحریر کئے گئے تھے۔ اُس صندوق میں رکھے ہوئے تھے۔ اور اگر کوئی بھی اُس صندوق کے سامنے شریعت کی پیروی کرنے میں ناکام پایا جاتا۔ وہ وہاں ہی مارا جاتا تھا۔ سب سے پہلے حضرت ہارون کے دونوں بیٹے مارے گئے۔ جب وہ اُس خیمہ میں داخل ہوئے۔ اسی لیے محتاط تفصیلات دی گئیں تھیں۔ جن میں یہ بھی شامل تھا کہ سال میں صرف ایک ہی دن حضرت ہارون خیمہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ وہ دن کفارے کا دن ہوتا۔ اگر وہ کسی اور دن خیمہ میں داخل ہو گا ( جسطرح اُس کے بیٹے داخل ہوگے) تو مارا جائے گا۔ لیکن کفارے کے دن خیمہ میں داخل ہونے سے پہلے حضرت ہارون کو کچھ خاص کام کرنا پڑتا۔ پھر وہ عہد کے صندوق کے پاس جاسکتا تھا۔

6 اور ہارون خطا کی قربانی کے بچھڑے کو جو اسکی طرف سے ہے گذران کر اپنے اور اپنے گھر کے لئے کفارہ دے۔ ۔ ۔13  اور اس بخور کو خداوند کے حضور آگ میں ڈالے تاکہ بخور کا دھواں سرپوش کو جو شہادت کے صندوق کے اوپر ہے چھپالے کہ وہ ہلاک نہ ہو۔    اخبار 16: 6،13

چنانچہ ایک بچھڑا ہاورن اور اُسکے خاندان کے لیے قربان کیا جاتا۔ تاکہ اگر اُنہوں نے شریعت کی مکمل طور پر پیروی نہیں کی تو اُن کے گناہوں کا کفارہ ہوسکے۔ اور اس کے فوراً بعد حضرت ہارون بکرے کئ قربانی کی تقریب ادا کرتے۔

7 پھر ان دونوں بکروں کو لیکر انکو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے حضور کھڑا کرے۔
8 اور ہارون ان دونوں بکروں پر چھٹیاں ڈالے۔ایک چھٹی خداوند کے لئے اور دوسری عزازیل کے لئے ہو۔
9 اور جس بکرے پر خداوند کے نام کی چھٹی نکلے اسے ہارون لیکر خطا کی قربانی کے لئے چڑھائے۔                                                                             اخبار16: 7-9

بچھڑے کی قربانی کے بعد حضرت ہارون 2 بکرے لیتے اور اُن کا قرعہ ڈالتے۔ ایک بکرا بیابان میں چھوڑ دینے کے لیے نامزد ہوتا اور دوسرا بکرا خطا کی قربانی کے لیے قربان کردیا جاتا۔ کیوں؟

15 پھر وہ خطا کی قربانی کے اس بکرے کو ذبح کرے جو جماعت کی طرف سے ہے اور اسکے خون کو پردہ کے اندر لاکر جو کچھ اس نے بچھڑے کے خون سے کیا تھا وہی اس سے بھی کرے اور اسے سرپوش کے اوپر اور اسکے سامنے چھڑکے۔
16 اور بنی اسرائیل کی ساری نجاستوں اور گناہوں اور خطاؤں کے سبب سے پاکترین مقام کے لئے کفارہ دے اور ایسا ہی وہ خیمہ اجتماع کے لئے بھی کرے جو انکے ساتھ انکی نجاستوں کے درمیان رہتا ہے۔                                                                           اخبار 16: 15-16

   اور اُس چھوڑے ہوئے بکرے کے ساتھ کیا ہوا؟

20 اور جب وہ پاکترین مقام اور خیمہ اجتماع اور مذبح کے لئے کفارہ دے چکے تو اس زندہ بکرے کو آگے لائے۔
21  اور ہارون اپنے دونوں ہاتھ اس زندہ بکرے کے سر پر رکھ کر اسکے اوپر بنی اسرائیل کی سب بدکاریوں اور انکے سب گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کرے اور انکو اس بکرے کے سرپر دھر کر اسے کسی شخص کے ہاتھ جو اس کام کے لئے تیار ہو بیابان میں بھجوا دے۔
22 اور وہ بکرا ان کی سب بدکاریاں اپنے اوپر لادے ہوئے کسی ویرانہ میں لے جایئگا،سووہاس بکرے کو بیابان میں چھوڑدے۔                                                       اخبار 16: 20-22

بچھڑے کی قربانی اور موت حضرت ہارون کے اپنے گناہوں کے لیے گزرانی جاتی تھی۔ پہلے بکرے کی قربانی اسرائیل کے لوگوں کے گناہ کے لیے گزرانی جاتی۔ پھر حضرت ہارون زندہ بکرے کے سر پراپنے ہاتھ رکھتا۔ اور یہ اس کا نشان ہوتا کہ اس بکرے پر پوری قوم کے گناہ ڈال دیئے گے ہیں۔ اس بکرے کو بیابان میں چھوڑ دیا جاتا۔ جسکا نشان ہوتا کہ قوم کے اُن سے گناہ مٹائے گئے ہیں۔ ان قربانیوں کے ساتھ اُن کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا تھا۔ یہ سب کچھ ہر سال ” کفارے کے دن” ہوتا تھا۔

سورۃ البقرہ اور تورات شریف میں "بچھیا”

                   حضرت ہارون دوسری قربانیوں کے ساتھ "گائے/ بچھیا” کی قربانی کرتے تھے۔ یہ بچھیا ہی ہے جسکی قربانی کی وجہ سے قرآن شریف کی دوسری سورۃ کا نام انگریزی میں ” The Cow ” اور اردو اور عربی میں البقرہ ہے۔ قرآن شریف اس جانور کے بارے میں برائے راست بات کرتا ہے۔ قرآن شریف میں سے مطالعہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ جیسے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ جب یہ حکم دیا گیا تھا۔ کہ بچھیا کی قربانی دی جائے۔ تاکہ ہمیشہ نر جانوروں کو ہی قربانی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ تو لوگ گھبرائے اور پریشان تھے۔

 پھر ہم نے حکم دیا کہ اس (مُردہ) پر اس (گائے) کا ایک ٹکڑا مارو، اسی طرح اللہ مُردوں کو زندہ فرماتا ہے (یا قیامت کے دن مُردوں کو زندہ کرے گا) اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل و شعور سے کام لو.                                                                          سورۃ البقرہ 73

اس لیے ہم کو بھی اس کو ایک نشان تصور کرنا چاہئے۔ اور اسکی طرف توجہ دینی چائے۔ لیکن کس طرح ایک بچھیا ایک نشانی ہوسکتی ہے؟ ہم نے اس کی موت اور زندگی کے بارے میں پڑھا ہے۔ "شاید ہم اس کے بارے میں سمجھ سکیں” جس طرح ہم نے اصل ہدایات تورات شریف میں سے پڑھتے ہیں۔ جو حضرت ہارون کو دئیے گئے تھے۔ تورات شریف سے مکمل حوالہ مطالعہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

5  اورا لیعزر کاہن اپنی انگلی سے اس کا کچھ خون لے کر اسے خیمہ اجتماع کے آگے کی طرف سات بار چھڑکے پھر کوئی اس کی آنکھوں کے سامنے اس گائے کو جلا دے یعنی اس چمڑا اور گوشت اور خون اور گوبر اس سب کو جلا ئے
6 پھر کاہن دیودار کی لکڑی اور زوفا اور سرخ کپڑا لے کر اس آگ میں جس میں گائے جلتی ہو ڈال دے                                                                                           گنتی 19: 5-6

زوفا ایک مخصوص قسم کا درخت تھا۔ جسکی شاخوں سے مصر میں اسرائیلیوں نے بکرے کا خون اپنے دروازں کی چوکھٹوں پر لگایا۔ تاکہ موت کا فرشتہ وہاں سے گزر جائے۔

22  اورتُم زُوفے کا ایک گُچھّا لیکر اُس خُون میں جو باسن میں ہو گا ڈبونا اور اُسی باسن کے خُون میں سے کُچھ اُوپر کی چَوکٹ اور دروازہ کے دونوں بازوؤں پر لگا دینا اور تم میں سے کوئی صبح تک اپنے گھر کے دروازہ سے باہر نہ جائے ۔                                          خروج 12: 22

زوفا دوبارہ بچھیا کے لیے استعمال کیا گیا۔ اور بچھیا ، زوفا، اُون اور دیودار اُس وقت تک جلا دیا جاتا۔ جب تک یہ راکھ نہ بن جائے۔

اور کوئی پاک شخص اس گائے کی راکھ کو بٹورے اور اسے لشکر گاہ کے باہر کسی پاک جگہ میں دھر دے یہ بنی اسرائیل کے لیے ناپاکی دور کرنے کے لیے رکھی ہے کیونکہ یہ خطا کی قربانی ہے                                                                                                               گنتی 19: 9

تو راکھ صاف پانی میں ملادی جاتی۔ اس سے ناپاک شخص کو وضو کروا دیا جائے۔ ( یا غسل) تو اس راکھ ملے پانی سے اُس کی ساری ناپاکی اُس میں سے جاتی رہے گی۔ لیکن یہ راکھ ہرقسم کی ناپاکی کے لیے نہیں تھی۔ لیکن صرف ایک قسم کی ناپاکی دور کرنے کا کام کرتی تھی۔

11 جو کو ئی کسی آدمی کی لاش کو چھوئے وہ سات دن تک ناپاک رہے گا
12  ایسا آدمی تیسرے دن اپنے آپ کو اس راکھ سے پاک کرے تو وہ ساتویں دن پاک ٹھہرے گا پر اگر وہ تیسرے دن اپنے آپ کو صاف نہ کرے تو وہ ساتویں دن پاک نہیں ٹھہرے گا
13  جو کو ئی آدمی لاش کو چھو کر اپنے کو صاف نہ کرے وہ خداوند کے مسکن کو ناپاک کرتا ہے وہ شخص اسرائیل میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ ناپاکی دور کرنے کا پانی اس پر چھڑکا نہیں گیا اس لیے وہ ناپاک ہے اسکی ناپاکی اب تک اس پر ہے   گنتی 19: 11-13

لہذا یہ راکھ ملا پانی وضو کے لیے تھا۔ جب کوئی شخص کسی میت کو ہاتھ لگا دیتا تو وہ اُسے ناپاک کردیتی۔ لیکن ایک مردہ جسم کو ہاتھ لگالینے کے نتیجے میں ایسی سخت ناپاکی کیوں ہوتی۔ اس کے بارے میں زرا سوچیں! آدم اپنی نافرمانی (گناہ) کی وجہ سے فانی بن گیا اور ساتھ میں اُس کے بچے (میں اور آپ) بھی۔ تاہم موت ناپاک ہے کیونکہ یہ گناہ کے نتیجہ میں آئی تھی۔ اس کا تعلق گناہ کی ناپاکی سے جڑا ہوا ہے۔ کسی کی لاش کو چھولینے سے وہ بھی ناپاک ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ راکھ ایک نشانی تھی۔ کہ اس سے نجاست دور ہوجاتی۔ ایک ناپاک شخص اپنی ناپاکی میں مردہ ہے۔ وہ اپنی زندگی کو بچھیا کی راکھ میں سے حاصل کر سکتا ہے۔

 لیکن کیوں ایک مادہ جانور استعمال ہوئی۔ اس کی کوئی براہ راست وجہ بیان نہیں کی گئی۔ لیکن ہم اس کی وجہ کلام اللہ سے تلاس کرسکتے ہیں۔ تمام تورات اور زبور شریف میں اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو نر جنس کے ساتھ واضع کیا۔ اور بنی اسرائیل کو ایک مادہ جنس کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بطور اس ازدواجی مرد اور عورت کے رشتے میں اللہ تعالیٰ راہنمائی کرتا ہے۔ اور اُس کے لوگ اُسکی پیروکاری کرتے ہیں۔ اس طرح ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے کو قربان کر۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہً دس احکام دئیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہی تھا۔ کہ حضرت نوح کی قوم کا حساب کیا گیا۔ اس کے علاوہ اور دیگر مثالیں موجود ہیں۔ یہ کبھی بھی کسی انسان (انبیاءاکرام) کا خیال نہیں تھا۔ اُس کے پیروکار محض اُسکی پیروکاری کرتے تھے۔

بچھیا کی راکھ انسانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تھی۔ اور یہ ضرورت ناپاکی دور کرنا تھی۔ تاہم یہ انسان کے لیے مناسب نشان تھا۔ یہ مادہ جانور تھا جو پیش کی گئی تھی۔ یہ ناپاکی ہمیں شرمندگی کا احساس دلاتی ہے۔ جب ہم گناہ کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف جرم ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے سامنے محسوس کرتے ہیں۔ بلکہ جب میں گناہ کرتا ہوں تو نہ صرف میں شریعت کے قانون کو توڑتا ہوں۔ بلکہ میں خدا کی عدالت کے سامنے مجرم ٹھہرتا ہوں۔ لیکن میں شرم اور افسوس محسوس کرتا ہوں۔ کس طرح اللہ تعالیٰ ہماری شرم کو ہم سے دور کرتا ہے؟ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کپڑے فراہم کرتا ہے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کو چمڑے کے کپڑے فراہم کئے تاکہ اُن کی شرمندگی ڈھانپی جائے۔ اور اُس وقت سے آدم کی اولاد اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپتے ہیں۔ درحقیقت اب یہ فطرتی ہے۔ اور ہم شاذناذر ہی یہ پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ بچھیا کی راکھ سے وضو ایک طریقہ تھا۔ تاکہ ہم اُس آلودگی سے اپنے آپ کو صاف محسوس کر سکیں۔ بچھیا کا مقصد ہمیں صفائی پیش کرتا تھا۔

  تو آؤ ہم سَچّے دِل اور پُورے اِیمان کے ساتھ اور دِل کے اِلزام کو دُور کرنے کے لِئے دِلوں پر چھِینٹے لے کر اور بَدَن کو صاف پانی سے دھُلوا کر خُدا کے پاس چلیں۔ عبرانیوں 10: 22

اس کے برعکس کفارے کے دن نر بکرے کی قربانی بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے تھی۔ اس لیے نر جانور استعمال کیا گیا۔ دس احکام کی نشانی میں ہم نے غور کیا کی نافرمانی کا جرم واضع موت کی ہی وضاحت کرتا ہے۔ (حوالے کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں) اللہ تعالیٰ عدل منصف تھا (اور ہے) اور بطور جج وہ اس گناہ کی وجہ موت مطالبہ کرتا ہے۔ بچھڑے کی قربانی (موت) سے اللہ تعالیٰ کا درکار مطالبہ پورا ہوتا ہے۔ اُسکی موت سے حضرت ہارون کے گناہ کی ادائیگی کی گئی۔ لیکن اس کے فوراً بعد بکرے کی موت سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ پوری قوم کے لیے پورا ہوا۔ کیونکہ اُسکی موت سے قوم بنی اسرائیل کے گناہ کی ادائیگی ہوئی۔ اس کے بعد قوم بنی اسرائیل کے گناہ علامتی طور پر حضرت ہارون کے وسیلے اُس چھوڑے ہوئے بکرے پر منتقل کردئے جاتے۔ اور پھر اُس بکرے کو بیابان میں چھوڑدیا جاتا۔ یہ اس بات کا نشان تھا کی ساری قوم کا گناہ سے چھٹکارا ہو چکا ہے۔

یہ قربانیاں ایک ہزار سال سے زائد حضرت ہارون اور اُسکی اولاد کے وسیلے گزرانی گئی۔ جب قوم بنی اسرائیل کو یہ ساری سرزمین دی گئی۔ اُسی وقت سے حضرت داود اور اُس کے بیٹوں نے اسرائیل پر حکومت کی۔ جہاں بہت سارے نبی انتباہ اور گناہوں سے توبہ کی منادی کرنے آئے۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ مسیح کی زندگی میں بھی یہ قربانیاں ان کی درکار ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ادا کی جاتیں۔

تاہم حضرت موسیٰ اور ہارون کے اس آخری نشانی کے بعد تورات شریف کے پیغامات کا سلسلہ بند ہوگیا۔ اور جلد ہی انبیاءاکرام کا سلسلہ جاری ہوا اور زبور شریف اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچانے لگا۔ لیکن اس تورات شریف کے آخری پیغام حضرت موسیٰ مستقبیل میں آنے والے ایک نبی کے بارے میں دیتا ہے۔ اور اسطرح بنی اسرائیل مستقبیل کی برکات اور لعنتوں کا زکر کرتا ہے۔ یہ تورات شریف میں سے ہمارا آخری مطالعاتی جائزہ ہے۔

قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

میرے بہت سارے مسلمان دوست ہیں ۔ اور چونکہ میں بھی اللہ تعالیٰ اور انجیل مقدس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اس لئے روزانہ مسلمان دوستوں کے ساتھ مسیحی ایمان کے بارے میں بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ حقیقی معنوں میں ہمارے درمیان بہت ساری چیزیں مشترک ہیں ۔ اسکی نسبت سیکولر (مادہ پرست)دنیا میں ایسا نہیں ہے۔ سیکولر لوگ اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے۔ ابھی تک ہماری بات چیت میں یہ اعتراض کیا گیا ہے۔ کہ انجیل مقدس ( بائیبل مقدس) میں تحریف یا تبدیلی ہوچکی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر کتاب مقدس نازل کی تھی آج اُس کے الہام کی وہ حالت نہیں رہی۔ بلکہ کتاب مقدس نے الہامی حیثیت کھو دی ہے۔ اس میں بہت سی غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔ اب یہ ایک عام سا دعوی نہیں ہے۔ اسکا مطلب یہ ہو گا۔ بائیبل مقدس جو کچھ ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاتی ہے ہم اس پر بھروسا نہیں رکھ سکتے۔

میں نے دونوں کتابوں قرآن شریف اور بائیبل مقدس اور سُنت کامطالعہ کیا ہے۔ میں نے حیرت انگیز بات دیکھی۔ آج جو باتیں بائیبل مقدس کے بارے میں شک میں ڈالی جا رہی ہیں ۔ اس کے بر عکس حیرت کی بات یہ تھی کہ نہ تو قرآن شریف میں ایسی بات دیکھی بلکہ قرآن شریف ، بائیبل مقدس کے بارے میں بڑی سنجیدگی اور بڑے واضح انداز میں بات کرتا ہے۔

قرآن شریف الکتاب کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

( سورة المائدہ 5:68 )

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔

( اورسورة النساء آیت 136 )

( سورة یونس آیت 94 )
اگر تم کو اِس (کتاب کے ) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہر گز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

جب میں نے ان آیات پر غور کیا تو مجھ پر ظاہر ہوا کہ یہ الہام اللہ تعالی کی طرف سے (اہل کتاب) کو دیاگیا ہے یعنی (عیسائیوں اور اسرائیلیوں) اب میرے مسلمان دوست کہتے ہیں کہ یہ آیات اُس وقت کی ہیں۔ جب کتاب مقدس اپنی اصلی حالت میں تھی۔ جب اس کی اصلی حالت میں تحریف ہو چکی ہے تو آج یہ اس قابل نہیں رہی کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا کلام کہاجائے۔ لیکن دوسرا حوالہ اس بات کے بارے میں تصدیق کرتا ہے۔ جو لوگ اُس وقت کتابِ مقدس پڑھتے تھے۔ ( یہاں فعل حال استعمال ہوا ہے نہ کہ ماضی) یہ حوالہ اُس وقت کی بات نہیں کررہا جب کتاب مقدس نازل ہوئی بلکہ یہ اُس وقت کی بات کررہا ہے جب قرآن شریف نازل ہوا۔ کتاب مقدس حضرت محمد ﷺ سے600 سال پہلے نازل ہوئی تھی ۔ تاہم یہ حوالہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ تورات شریف ، قرآن شریف سے600 سال پہلے نازل ہوئی تھی۔

دوسرے حوالہ جات بھی اس طرح کے ہیں ۔ غور کریں

سورة النحل 16:43

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔

سورة الانبیاء21:7

اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر ) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں اُن سے پوچھ لو۔

یہ حوالہ جات حضرت محمد سے پہلے رسولوں اور پیغمبروں کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے۔ کہ یہ حوالہ جات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ذریعے جو پیغام 600 سال پہلے دیا تھا۔ اُن کے پیروکار اُس وقت بھی اُس پیغام پر عمل پیرا تھے۔ حضرت محمد کے دُور میں کتاب مقدس میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی تھی۔

قرآن شریف فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام تبدیل نہیں ہوسکتا

شائد یہ ایک مضبوط اور عقلی دلیل ہو سکتی ہے کہ کتاب مقدس میں تبدیلی ہوئی ہو۔ لیکن قرآن شریف ، کتاب مقدس میں تحریف کی حمایت نہیں کرتا۔ سورة المائدہ کی یہ آیت زہین میں رکھیں ۔

سورة المائدہ 5:68

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرنا۔

اور درج ذیل پر غور کریں۔

سورة انعام 6:34

اور تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے۔ تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ اُن کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی۔ اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں ۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال ) کی خبریں پہنچ چکی ہیں ( تو تم بھی صبر سے کام لو)۔

سورة انعام 6:115

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے۔

( سورة یونس 10:64 )

اُن کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں ۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

سورة الکہف 18:27

اور اپنے پروردگار کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اُس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاﺅ گے۔

لہذا اگر ہم اس بات میں متفق ہیں کہ حضرت محمد سے پہلے نبیوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام نازل ہوا۔

 جس طرح سورة المائدہ 5 :68-69 اور یہ حوالہ جات کئی بار واضع الفاظ میں کہہ چکے ہیں۔ کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کو تبدیل نہیں کرسکتاہے۔ تو پھر ہم کس طرح مان لیں کہ کسی آدمی نے تورات شریف، زبور شریف اور انجیل شریف میں تبدیلی یا تحریف کر دی ہے؟ تو یہ کہنے کے لیے کہ بائبل مقدس میں تحریف یا تبدیلی ہو چکی ہے ۔ پہلے اُس شخص کو قرآن شریف کا انکار کرنا پڑے گا۔

سورة البقرہ 2:136

مسلمانو) کہوکہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اُتری اُس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ اور اسحاق ؑاور یعقوب ؑ اور انکی اولاد پر نازل ہوئے اُن پر اور جو (کتابیں) موسیٰ ؑ اور عیسٰی ؑ کو عطا ہوئیں اُن پر اور جو اور پیغمبروں کو اُنکے پروردگار کی طرف سے ملیں اُن پر (سب پر ایمان لائے ) ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اُسی (خدائے واحد ) کے فرمانبردار ہیں۔

(اور دیکھیں ( سورة البقرہ 2:285

تاہم ہمیں الہام کے بارے میں کسی قسم کا فرق نہیں رکھنا چاہے۔ ہمیں ان کا مطالعہ کرنا ہے یا دوسرے الفاظ میں ہمیں تمام آسمانی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہے۔ دراصل میں قرآن شریف کے مطالعہ کے لیے عیسائی دوستوں سے درخواست کرتا ہوں اسی طرح میں مسلمان دوستوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ کتاب مقدس کا مطالعہ کریں۔

ان کتابوں کا مطالعہ کرنے کے لیے وقت اور اہمیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوران مطالعہ بہت سارے سوال اُٹھتے ہیں۔ یقینا اگرچہ ان تمام تر نازل کی ہو ئی کتابوں کو سیکھنے کے لیے زمین پر ہمارے پاس قابلِ قدر وقت ہے۔ میں جانتا ہو ں کے ان کتابوں کا مطالعہ میرے لیے کافی ہمت والا اور مشکل کام تھا۔ اس مطالعہ کے باعث بہت سارے سوال میرے ذہین میں آئے۔ یہ ایک فائدہ مند تجربہ تھا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی برکت کو حاصل کیا۔ میں اُمید کرتا ہو ں کہاآپ اس ویب سائیڈ پر بہت سے مختلف سبق اور مضمون پڑھ سکتے ہیں۔ شائد اس مضمون سے آپکے لیے شروع کرنا اچھا ہوگا۔ کہ حضرت محمد اور احادیث ، تورات شریف، زبور شریف، اور انجیل شریف (ان کتابوں کو الکتاب کہتے ہیں)کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اگر آپ سائنٹیفک مطالعہ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کہ سائنسی نقطہ نظر کے مطابق بائیبل مقدس تحریف شدہ ہے یا غیر تحریف شدہ ہے ؟ اس مضمون کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔