اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں بہتوں کو مدعو کیا گیا لیکن ۔ ۔ ۔

ہم نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے الفاظ میں کیسی قدرت پائی جاتی تھی۔ کہ اُن کے حکم سے بیماری چلی جاتی اور یہاں تک کہ فطرت اُن کا حکم مانتی تھی۔ اُنہوں نے خدا کی بادشاہت کے بارے میں بھی تعلیم دی تھی۔ یاد رکھیں کہ زبور شریف کے بہت سے حصوں میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کی آمد کا ذکر ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اُن پیش گوئیوں کی طرف اشارہ کرکے تعلیم دی کہ وہ بادشاہی ‘نزدیک’ ہے۔

سب سے پہلے اُنہوں نے اپنے پہاڑی خطبہ میں یہ سیکھایا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی باردشاہی کے شہری کو دوسروں کے ساتھ کیسا رویہ اور سلوک رکھنا چاہیے۔ اُنہوں نے ایک بہت ہی بنیادی اُصول سیکھایا کہ اپنے ‘دشمن’ سے محبت رکھو۔ ذرا اس بات کے بارے میں سوچیں کہ آج کے اس دور میں کتنی مصیبت، ناانصافی ، موت، اور خوف کا ہم کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (صرف یاد دلانے کے لیے خبرنامہ”نیوذ” ہی کافی ہے) اسکی خاص وجہ ہے کہ بہتوں نے آپ کی محبت کی تعلیم کو نہیں سُنا اور اُس پر عمل نہیں کرتے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ہماری زندگی یہاں کی زندگی سے مختلف ہے۔ تو ہمیں محبت سے ایک دوسرے کے ساتھ رویہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

عظیم ضیافت کی تمثیل

چونکہ حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم پر عمل کرنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ تو آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں بھی تھوڑے لوگ ہی مدعوں کئے گے ہونگے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ایک  ضیافت کی تمثیل دے کر سیکھایا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں دعوت کس قدر وسیع ہے۔ انجیل شریف میں اس طرح درج ہے۔

15 یسوع کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے ان تفصیلات کو سنکر کہا، “خدا کی بادشاہت میں کھانا کھانے والے ہی با فضل ہیں۔

16 تب یسوع نے اس سے کہا کہ کسی نے کھانے کی ایک بہت بڑی دعوت کی اس آدمی نے بے شمار لوگوں کو مدعو کیا۔ 17 جب کھانا کھانے کا وقت آیا تو اس نے اپنے خادم کو بھجواکر مہمانوں کو اطلاع دی اور کہا کہ کھانا تیّار ہے۔ 18 لیکن تمام مہمانوں نے کہا کہ وہ نہیں آسکتے ان میں سے ہر ایک نے نیا بہا نہ تلا شا۔ ان میں سے ایک نے کہا ، “میں نے ابھی ایک کھیت کو خرید لیا ہے۔ اسلئے مجھے جا کر دیکھنا ہے مجھے معاف کر دیں۔ 19 دوسرے نے کہا، “میں نے ابھی پانچ جوڑی بیل خریدا ہے اور مجھے جا کر انکو دیکھنا ہے۔ برائے کرم مجھے معاف کریں۔ 20 تیسرے نے کہا، “میں نے ابھی شادی کی ہے اس لئے میں نہیں آسکتا۔

21 تب وہ نو کر واپس ہوا اور اپنے مالک سے تمام چیزیں بیان کر نے لگا پھر اسکا مالک بہت غضب ناک ہوا اور نوکر سے کہا، “راستوں ، میں گلیوں اور کوچوں میں جا کر غریبوں کو اور معذوروں کو اندھوں کو لنگڑوں کو یہاں بلا کر لے آؤ۔

22 تب اس نو کر نے آکر کہا کہ اے میرے خداوند! میں نے وہی کیا جیسا کہ تم نے کہا تھا لیکن ابھی اور بھی لوگوں کی جگہ کی گنجائش ہے۔ 23 تب اس مالک نے اپنے نوکر سے کہا کہ شاہراہوں پر اور دیگر راستوں پر چلا جا اور وہاں کے رہنے والے تمام لوگوں کو بلا لا اور میری یہ آرزو ہے کہ میرا گھر لوگوں سے بھر جا ئے۔ 24 لیکن میں تجھ سے کہتا ہوں کہ میں نے پہلی مرتبہ جن لوگوں کو کھا نے پر مدعو کیا تھا ان میں سے کو ئی ایک بھی میری دعوت میں کھانا چکھ نے نہ پا ئے گا۔

(لوقا14:15-24)

اس تدریسی عمل میں ہماری عقل کئی بار دہنگ رہ گئی۔ پہلے آپ شاید یہ سوچتے ہونگے۔ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی ضیاف میں مدعو نہیں کرگا(جو کہ ایک گھر میں ضیافت تھی) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس قابل لوگوں کو نہیں پایا کہ وہ مدعو کئے جائیں۔ لیکن ایسا خیال غلط تھا۔ ضیافت میں شامل ہونے کی دعوت بہت سارے لوگوں کو دی گئی۔ ضیافت کا مالک (جو اللہ تعالیٰ اس مثال میں ہے) چاہتا تھا کہ اُسکی ضیافت لوگوں سے بھری ہونی چاہیے۔ جو کہ ایک حوصلہ افزائی کی بات تھی۔

لیکن ہم جلد ہی اس بات کو جانتے ہیں کہ ایک اور غیر متوقع موڑ آتا ہے۔ بہت تھوڑے مدعو کئے ہوئے لوگ اس ضیافت میں آنا چاہتے ہیں۔ اور زیادہ لوگوں نے کئی بہانے بنائے۔ کہ وہ کیوں نہیں آنا چاہتے۔آئیں ان ناقابلِ یقین عذر کو ملاخظہ فرمائیں۔ ایک نے کہا کون سا ایسا شخص ہے جو بیل خریدنے سے پہلے اُس کو آزمائے نہ؟ کون سا ایسا شخص ہے جو کیھت دیکھنے کے بغیر خریدے؟ نہیں، ان تمام بہانوں سے اُن تمام بلائے ہوئے مہمانوں کے دلوں کے حقیقی ارادے کو جانا جاسکتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں شامل ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ دنیاداری کے کاموں میں دلچسپی رکھتے تھے۔

جب ہم سوچتے ہیں کہ شاید مالک کسی کے آنے یا چند مہمانوں کی وجہ سے مایوس نہیں ہوتا۔ بلکہ ہم یہاں ایک اور موڑ کو دیکھتے ہیں۔ ۔ اب ایسے لوگوں کو ضیافت میں بلایا جاتا ہے۔ جن کو ہم اپنے ذہین میں بھی نہیں لاتے کہ وہ ضیافت میں آنے کے قابل ہونگے۔ وہ جو گلیوں کے موڑوں پربیٹھے، غریب، معذور، اندھے، اور لنگڑے۔ بلکل ایسے لوگ جن سے ہم اکثر دور ہی رکھنا پسند کرتے ہیں۔ اُن سب کو اس ضیافت میں آںے کی دعوت دی گئی۔ اس ضیافت کا دعوت نامہ اس قدر وسیع تھا کہ اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ ضیافت کے مالک کی یہ چاہت تھی کہ لوگ اس کی ضیافت میں آئیں۔ مالک نے ایسے لوگوں کو بلانے سے نہ ڈرا جن کو ہم اپنے گھروں میں دعوت دینے سے ڈرتے ہیں۔

اور یہ بلائے ہوئے لوگ آتے ہیں۔ ان کی دوسرے لوگوں کی طرح کسی اورچیز میں دلچسپی نہیں تھی۔ جیسے دوسرے لوگوں کی دلچسپی کھیتوں یا بیلوں میں تھی۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت بھرگئی اور مالک کی مرضی پوری ہوئی گئی۔

حضرت عیسیٰ المسیح کا اس مثال کو دینے کا مقصد یہ تھا۔ کہ وہ ہم سے سوال پوچھ سکیں۔ "اگر مجھے اللہ تعالیٰ کی بارشاہت کی دعوت دی گئی تو اُس کو کیا میں قبول کرونگا؟” یا پھر آپ اس دعوت کو اپنی کسی اور دلچسپی کی وجہ سے رد کردیں گے؟

حقیقت تو یہ ہے۔ کہ آپ اس ضیافت میں شامل ہونے کے لیے بلائے گے ہیں، لیکن سادہ سی حقیقت یہ ہے۔ کہ ہم اپنی دلچسپیوں اور بہانوں کی وجہ سے اس دعوت کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ ہم کبھی بھی براہ راست "نہیں/نہ” نہیں کریں گے۔ لیکن ہمارے بہانوں میں ہماری ‘نہ’ چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ اس مثال میں دعوت کو در کرنے کی وجہ دوسری چیزوں میں زیادہ دلچسپی تھی۔ وہ لوگ جو پہلے بلائے گے تھے۔ اُن کی دلچسپی اس دنیا کی چیزوں میں تھی۔ (جن کو کیھتوں اور بیل سے تشبی دی گئی ہے) اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں دلچسپی ہوتی۔

ایک مذہبی اُستاد کی مثال

ہم میں سے کئی ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کی بجائے اس دنیا کی چیزوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لیے دعوت کو مسترد کردیتے ہیں۔ اس طرح کئی ایسے ہیں جو اپنی راستبازی پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے اسی بات کو ایک اور تمثیل دے کر سیکھایا۔

وہاں پر چند لوگ اپنے آپ کو شریف سمجھتے تھے۔اور یہ لو گ د وسروں کے مقابلے میں اپنے آپ اچھے ہو نے کا ثبوت دینے کی کوشش کر رہے تھے۔یسوع اس کہا نی کے ذریعے انکو تعلیم دینے لگے:10 “ایک مرتبہ دو آدمی جن میں ایک فریسی اور ایک محصول وصول کر نے والا تھا اور دعا کر نے کے لئے ہیکل کو گئے۔ 11 فریسی محصول وصول کر نے والے کو دیکھ کر دور کھڑا ہو گیااور اس طرح فریسی دعا کر نے لگا۔اے میرے خدا میں شکر ادا کرتا ہوں کہ میں دوسروں کی طرح لا لچی نہیں ، بے ایمان نہیں اور نہ ہی محصول وصول کر نے والے کی طرح ہوں۔ 12 میں ہفتہ میں دو مرتبہ روزہ بھی رکھتا ہوں اور کہا کہ جو میں کما تا ہوں اور اس میں سے دسواں حصہ دیتا ہوں،

13 محصول وصول کر نے والا وہاں پر تنہا ہی کھڑا ہوا تھا۔اس نے آسمان کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا بلکہ خدا کے سامنے بہت ہی عاجز ی وانکساری کے ساتھ دعا کر نے لگا اے میرے خدا میرے حال پر رحم فرما ا س لئے کہ میں گنہگار ہوں۔ 14 میں تم سے کہتا ہوں کہ بحیثیت راستباز کے اپنے گھر کو لوٹا۔لیکن وہ فریسی راستباز نہ کہلا سکا ہر ایک جو اپنے آپ کو بڑا اور اونچا تصور کرتا ہے وہ گرا دیا جاتاہے اور جو اپنے آپ کو حقیر و کمتر جانتاہے وہ اونچا اور باعزت کر دیا جا ئے گا۔”

(لوقا18: 9-14)

یہاں ہم ایک فریسی سے ملاقات کرتے ہیں ( فریسی ایک امام کی طرح ایک مذہبی استاد ہوتا ہے) جو اپنی مذہبی معاملات میں کامل نظرآتا ہے۔ وہ روزے اور زکوۃ فرض کئے ہوئے سے زیادہ ادا کرتا تھا۔ لیکن وہ اپنی راستبازی پر بھروسہ رکھتا تھا۔ حضرت ابراہیم نے ایسی کوئی مثال اپنی زندگی میں سے کر کے نہیں دیکھائی تھی۔ کہ اللہ تعالیٰ اُن کو اُن کے کاموں کی وجہ سے راستباز ٹھہراتا۔ بلکہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو راستباز ٹھہرایا تو اُنہوں نے سادہ سے طریقے سے اللہ کے وعدہ پرایمان لایا تھا۔ یہ اُن کے لیے راستبازی گنا گیا۔ دراصل موصول لینے والے نے (موصول لینا اُس وقت ایک غیر اخلاقی پیشہ سمجھا جاتا تھا) بڑی عاجزی سے رحم کے لیے دعا کی۔ اور وہ اس بات پر ایمان لایا کہ اُس کو وہ رحم جس کی اُس نے دعا کی ہے مل گیا ہے۔ اور وہ اپنے گھر اللہ سے "راستباز” ٹھہرکر چلا گیا۔ جبکہ فریسی جو بظاہر راستباز نظر آتا ہے۔ اُس کی دعا کرنے کا رویہ اُس کے لیے گناہ شمار کیا گیا۔

لہذا حضرت عیسیٰ المسیح پھر اخیتار سے آپ سے اور مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔ کیا ہم واقعی اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کو چاہتے ہیں۔ یا پھر ہماری دوسری اور بہت سی چیزوں میں دلچسپی ہے؟ آپ ہم سے پوچھتے ہیں۔ کہ ہم کس چیز پر بھروسہ رکھتے ہیں اپنی راستبازی کے کاموں پر یا اللہ تعالیٰ کی رحمت پر۔

اس لیے ہمیں بڑی ایمانداری سے اپنے آپ کو یہ سوالات پوچھنے ہیں۔ کیونکہ دوسری صورت میں ہم اُس کی تعلیم کو جان نہیں سکیں گے۔ جس کو ہم اگلے اسباق میں سیکھنے جارہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے باطن کی صفائی کی ضرورت ہے۔