کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟

الکتاب کو عام طور پر اُسکی اصلی زبان میں (عبرانی اور یونانی) میں نہیں پڑھا جاتا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ زبانیں صفہ ہستی پر سے ناپید ہو جاچکی ہیں۔ اسرائیل اور یونان کی قومی زبانیں ہے۔ لیکن علما اکرام یونیورسٹی میں عبرانی اور یونانی پڑھاتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اُن طالب علم بائبل مقدس کی اصل زبان کو پڑھ اور سمجھ سکیں۔ لیکن عام ایماندار عمومی طور پر ان زبانوں کا مطالعہ نہیں کرسکتے۔ بلکہ اپنی مادری زبانوں میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس لیے اکثر کتاب مقدس اپنی اصل زبانوں میں نہیں دیکھی جاتی ہے۔ اس وجہ سے کئی لوگ یہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ کتاب مقدس کی اصل زبانیں صفہ ہستی سے ناپید ہوچکی ہیں۔ اور کئی لوگ یہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ ان تراجموں میں بہت ساری تبدیلیاں پائی جاتیں ہیں۔ اس سے پہلے ہم کسی نتیجے پر پہنچیں۔ سب سے پہلے ہم بائبل مقدس کے ترجمہ کرنے کے مراحل کو سمجھیں گے۔ یہ ہی کام ہم اس مضمون میں کریں گے۔

ترجمہ بمقابلہ نقلِ حرفی

ہمیں پہلے ترجمے کے کچھ بنیادی اصولوں کے سمجھنے کو ضرورت ہے۔ بعض اوقات مترجمین ترجمہ کرتے وقت ایک جیسی آواز کے الفاظ کا چناوکرلیتے ہیں۔ اس کی بجائے وہ اُس کے معنی کے مطابق ترجمہ کریں۔ یہ کام خاص طور پر نام یا عنوان کا ترجمہ کرتے وقت ہوتا ہے۔ اس کو نقلِ حرفی (دوسری زبان میں الفاظ نقل کرنا) کہتے ہیں۔ نیچے دی گئی عبارت میں ترجمہ اور نقلِ حرفی میں فرق بیان کیا گیا ہے۔

عربی سے انگریزی یا اردو میں لفظ “اللہ” ترجمہ کرنے کے لیے آپ دو طریقوں کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ آپ اس لفظ کا ترجمہ “اللہ” سے “خدا” اور “God” یا پھر “اللہ” ترجمہ کرسکتے ہیں۔

یہاں لفظ "خدا" کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ جس سے یہ دیکھایا گیا ہے۔ کہ ہم کسی زبان سے کسی دوسری زبان میں ترجمہ یا نقلِ حرفی کرسکتے ہیں۔
یہاں لفظ “خدا” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ جس سے یہ دیکھایا گیا ہے۔ کہ ہم کسی زبان سے کسی دوسری زبان میں ترجمہ یا نقلِ حرفی کرسکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں انگریزی اور عربی کے درمیان بڑھتے ہوئے تبادلے کی وجہ سے لفظ “اللہ” کی اصطلاح کو خدا کے معنوں میں انگریزی زبان میں تسلیم کرلیا گیا ہے۔ عنوانات اور کلیدی الفاظ کے ترجمہ یا نقل حرفی کے انتخاب میں قطعی کوئی صحیح یا غلط نہیں پایا جاتا ہے۔ اصطلاح کا چناو اس سے کیا جاتا ہے۔ کہ ترجمہ ہونے والی زبان سے زیادہ سے زیادہ قبول یا سمجھی جاسکے۔

ہفتادی ترجمہ

بائبل مقدس کا پہلا ترجمہ اُس وقت ہوا۔ جب عبرانی زبان کا پرانے عہد نامے (تورات شریف + زبور شریف) کو 250 قبل از مسیح میں یونانی ترجمہ کیا گیا۔ اس ترجمہ کو ہفتادی ترجمہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اور یہ ایک موثر ترجمہ تھا۔ چونکہ نیا عہدنامہ یونانی میں لکھا گیا تو اس میں پرانے عہدنامے کے بہت سے حوالہ جات اسی ہفتادی ترجمے سے لیے گے تھے۔

ہفتادی نقل حرفی اور ترجمہ

                             مندرجہ ذیل تصویر میں دورِجدید میں بائبل مقدس کے ترجمہ کے مراحل کو دیکھایا گیا ہے۔

اس تصویر میں جدید زبانوں میں بائبل مقدس کے ترجمہ کے مراحل کو دیکھایا گیا ہے
اس تصویر میں جدید زبانوں میں بائبل مقدس کے ترجمہ کے مراحل کو دیکھایا گیا ہے

 اصلی زبان عبرانی کے پرانے عہد نامہ (تورات اور زبور شریف) مرحلہ نمبر 1، آج ہماری  موسوی متن پرانے عہد نامہ جو کہ بحرہ مرادار سے ملا۔ اُس تک رسائی حاصل ہے۔ کیونکہ ہفتادی ترجمہ عبرانی سے یونانی میں ہوا۔ اس لیے تیر پہلے مرحلے 1 سے  2 دوسرے مرحلے کی طرف جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ نیا عہد نامہ کی اصلی زبان یونانی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پرانا اور نیا عہد نامہ 2 دوسرے مرحلہ پر مشتمعل ہے۔ اور نیچے مرحلے میں دور جدید کی زبان میں بائبل مقدس ترجمہ موجود ہے۔ (مثال کے طور پر انگریزی زبان میں)۔ پرانا عہد نامہ اصلی زبان عبرانی سے ترجمہ ہوا۔ (1 – < 3 ) اور نیا عہد نامہ کا ترجمہ اصلی زبان یونانی سے (2 < 3 ) حاصل ہوا۔ مترجم عنوانات اور ناموں کے ترجمہ کو پہلے سے فیصلہ کرلیتا ہے۔ کہ اس کو ترجمہ یا نقل حرفی کرنا ہے۔ جس کو پہلے واضع کیا جا چکا ہے۔ اس ترجمہ اور نقل حرفی کو سبز رنگ کے تیر سے واضع کیا گیا ہے۔ یہاں یہ دیکھایا گیا۔ کہ مترجم کسی بھی نقطہ نظر کو لے سکتا ہے۔

بائبل مقدس کا ہفتادی ترجمہ بائبل مقدس پر کئے جانے والے تبدیلی کے سوال پر گواہ ہے

چونکہ ہفتادی ترجمہ عبرانی سے یونانی زبان میں 250 قبل از مسیح میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ تاہم ہم دیکھ سکتے ہیں۔ (اگر یم یونانی کا ترجمہ واپس عبرانی میں کریں) اُس ترجمے کو جس کو ان مترجمین سے عبرانی سے ترجمہ کیا گیا تھا۔ لہذا اس طرح عبرانی متن ایک جیسا نظر آتا ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ بائبل مقدس کا متن 250 سال قبل از مسیح میں تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ ہفتادی ترجمہ پورے مشرقی وسطیٰ اور بحرہ روم میں سینکڑوں سال پہلے یہودیوں ، مسیحیوں ، اور دوسری قومیں اس کو پڑھتی رہیں ہیں۔ بلکہ آج بھی مشرقی وسطیٰ مین بہت سارے ملک اس ہفتادی ترجمہ کو استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی بھی (مسیحی ، یہودی، یا اور کوئی) پرانے عہد نامے میں تبدیلی کرتا۔ تو حقیقت میں ہفتادی ترجمہ اُس تبدیل شدہ عبرانی پرانے عہد نامے سے مختلف ہوتا۔ لیکن یہ بنیادی طور پر ایک جیسے ہی ہیں۔

اس طرح مثال کے طور پر کوئی ایک مصر کے شہر الیگزاینڈریا میں ہفتادی ترجمہ میں تبدیلی کرتا۔ تو جو ہفتادی ترجمہ مشرقی وسطیٰ اور بحرہ روم میں موجود ہفتادی ترجمہ سے مختلف ہوتا۔ لیکن حقیقت میں مصر کے شہر الیگزاینڈریا اور مشرقی وسطیٰ اور بحرہ روم کے ترجمہ ایک جیسے ہی ہیں۔ اس لیے متن ہمیں کسی تضاد کے بغیر یہ بتاتا ہے۔ کہ پرانے عہد نامہ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

ہفتادی ترجمہ سے جدید ترجمہ میں مدد

                   ہفتادی ترجمہ دورِجدید میں ہونے والے تراجم میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ علماء اکرام جو ترجمہ کرتے ہیں۔ اُن کو ہفتادی ترجمہ کی عبرانی پرانے عہدنامے کے مشکل حوالہ جات کا ترجمہ کرنے میں مدد حاصل کرتے ہیں۔ یونکہ اسکی یونانی بڑی اچھی طرح سمجھی جاتی ہے۔ اور کچھ حصوں میں جہاں عبرانی مشکل سے ترجمہ کیا جاتا ہے۔ مترجمین یہاں سے یہ دریافت کرسکتے ہیں۔ کہ ہفتادی ترجمہ کرنے والوں نے 2250 سال پہلے کیسے یہ غیرمعمولی کا سرانجام دیا۔

ترجمہ / نقل حرفی کو سمجھنے کے لیے ہفتادی ترجمہ ہماری مدد کرتا ہے۔ کہ “مسیح” کی اصطلاح جو حضرت عیسیٰ کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ کہاں سے آیا۔ اس کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ اگر ہم انجیل شریف کو پیغام سے واقف ہیں۔ ہم اگلے مضمون میں اس کے بارے میں دیکھیں گے۔