امن کی بادشاہی آرہی ہے

ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت یسعیاہ نبی نے “کنواری کے بیٹے” کی پیشن گوئی کی ہے۔ یہ پیشن گوئی سینکڑوں سال بعد حضرت عیسیٰ میں کی پیدائش پر پوری ہوئی۔ تاہم زبور شریف میں مستقبیل میں امن اور سلامتی کے بارے اور بھی پیشن گوئیاں کی گئیں ہیں۔

بنی اسرائیل کی تاریخ میں حضرت داود پہلے بادشاہ اور بنی تھے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر کیا۔ تاکہ وہ یروشلیم سے حکمرانی کریں۔ تاہم حضرت داود اور حضرت سلیمان کی بادشاہی کے بعد اسرائیل کے زیادہ تر بادشاہ شریر ہوئے۔ اُن بادشاہوں کی حکمرانی میں زندہ رہنا۔ ایسا ہی تھا جیسا آج ہم ظالم حکمرانوں کے دور میں رہ رہے ہیں۔ اُس وقت لوگوں اور قوموں کے درمیان جنگ و جدل تھا۔ جس طرح آج ہے۔ اُس وقت امیر غریبوں کا استحصال اور کرپشن کرتے تھے۔ جیسے آج ہوتا ہے۔ لیکن زبور شریف میں انبیاءاکرام نے کہا کہ متستقبیل میں ایک نئی حکومت آئے گی۔ جس میں انصاف، رحم، محبت اور امن قائم ہوگا۔ درج زیل آیات میں پڑھیں کہ حضرت یسعیاہ نبی نے آنے والی زندگی کے بارے میں کیا بتایا ہے۔

 اورقوموں کے درمیان عدالت کریگا اور بہت سی اُمتوں کو ڈانٹے گااور وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھرکبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے۔                                              یسعیاہ 2: 4

 پھر مزید جنگ نہیں ہوگی۔ درحقیقت آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں۔ یہ ہماری دنیا نہیں ہے۔ لیکن آنے والی دنیا میں قوموں کے درمیان امن اختیارکیا جائے گا۔ اور اس کے ساتھ قدرتی ماحولیات میں تبدیلی کے بارے میں پیشن گوئیاں بھی کی گئیں ہیں۔

6  پس بھیڑیا، بّرہ کے ساتھ رہیگا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھے گا اور بچھڑا اور شیر بچہ اور پلا ہوا بیل مل جل کر رہینگے اور ننھا بچہ انکی پیش روی کریگا۔
7 گائے اور ریچھنی ملکر چرینگی ۔ انکے بچے اکٹھے بیٹھیں گے اور شیر ببر بیل کی طرح بھوسا کھائیگے۔
8 اوردودھ پیتا بچہ سانپ کی بل کے پاس کھیلے گا اور وہ لڑکا جسکا دودھ چھڑایا گیا ہو افعی کی بل میں ہاتھ ڈالیگا۔
9  وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضررپہچائینگے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کےعرفان سے معمور ہو گی۔
10 اور اسوقت یوں ہو گا کہ لوگ یسی کی اُس جڑ کےطالب ہونگے جو لوگوں کے لیے ایک نشان ہے اوراسکی آرامگاہ جلالی ہو گی۔
11  اور اسوقت یوں ہو گا کہ خداوند دوسری بار اپنے ہاتھ بڑھائیگا کہ اپنے لوگوں کا بقیہ جو بچ رہا ہو اسور اور مصر اور فتروس اور کوش اور عیلام اورسنعار اور حمات اور سمندر کے اطراف سے واپس لائے ۔                                                                       یسعیاہ 11: 6-9

یقینی طور پر یہ پیشن گوئی ابھی پوری نہیں ہوئی۔ یہ پیشن گوئیاں نہ صرف بہتر ماحولیات کے بارے میں بتاتی ہیں۔ بلکہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ لوگوں کی عمروں میں اضافہ ہوگا اور لوگوں کی ذاتی  سیکورٹی اب سے بہتر ہوگی۔

20  پھر کبھی وہاں کوئی ایسا لڑکا نہ ہو گا جو کم عمر رہے اور نہ کوئی ایسا بوڑھا جو اپنی عمر پوری نہ کرے کیونکہ لڑکا سو برس کا ہو کر مرے گا اور جو گنہگار سو برس کا ہوجائے ملعون ہو گا۔
21 وہ گھر بنائیں گے اور ان میں بسیں گے۔تاکہ کستان لگائیں گے اور ان کے میوے کھائیں گے ۔
22  نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرا کھائیں کیونکہ میرے بندوں کے ایام درخت ایام کی مانند ہوں گے اور میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مدتوں تک فائدہ اُ ٹھا ئیں گے۔
23 ان کی محنت بے سود نہ ہو گی اور اُن کی اولاد ناگہان ہلاک نہ ہو گی کیونکہ وہ اپنی اولاد سمیت خداوندا کے مبارک لوگوں کی نسل ہیں۔
24 اور یوں ہوگا کہ میں ان کے پکارنے سے پہلے جواب دوں گا اور وہ ہنوز کہہ نہ چکیں گے کہ میں سن لوں گا۔
25 بھیڑیا اور برہ اکھٹے چریں گے اور شیر ببر بیل کی مانند بھوسا کھائے گا اور سانپ کی خوراک خاک ہوگی۔وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے خداوند فرماتا ہے۔                                                                                             یسعیاہ 65: 20-25

سلامتی، امن اور دعا کا فوری جواب ۔ ۔ ۔ ان میں سے ابھی کوئی بھی پیشن گوئی پوری نہیں ہوئی ہے۔ لیکن یہ بتائی اور لکھی جاچکی ہیں۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں۔ شاید اُمید کی ان پیشن گوئیوں میں کوئی غلطی پائی جاتی ہے۔ لیکن کنواری کے بیٹے کی نشانی ہمیں ان پیشن گوئیوں کے بارے میں سنجیدہ سوچنے اور اُن کی تکمیل کے لیے طلب رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی بادشاہی

اگر ہم اس پر زور ڈالیں۔ تو ہم اس کو سمجھ سکیں گے۔ کہ یہ پیشن گوئیاں ابھی کیوں پوری نہیں ہوئی ہیں۔ یہ پیشن گوئیاں اللہ تعالیٰ کی حکمرانی کے بارے میں واضع کرتی ہیں۔ کہ لوگوں کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی حکمرانی ہوگی۔ زبور شریف میں سے اللہ تعالیٰ کی آنے والی حکمرانی کے بارے میں ایک اور پیشن گوئی درج ذیل ہے۔

10 اَے خُداوند! تیری ساری مخلوق تیرا شُکر کریگی۔ اور تیرے مُقّدس تجھے مُبارِک کہیں گے۔
11 اور تیری سلطنت کے جلال کا بیان اور تیری قُدرت کا چرچا کریں گے۔
12 تاکہ بنی آدم پر اُسکی قُدرت کے کاموں کو اور اُسکی سلطنت کے جلال کی شان کو ظاہر کریں۔
13 تیری سلطنت ابدی سلطنت ہے۔ اور تیری حکومت پُشت در پُشت۔
14 خُداوند گِرتے ہوئے کو سنبھالتا اور جھُکے ہوئے کو اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔

                                                                                                زبور 145: 10-14

یہ پیغام حضرت داود بادشاہ اور جو ایک نبی بھی تھے۔ اُن کو 100 ق م میں دیا گیا تھا۔ (حضرت داود کی حیات کے بارے میں یہاں پر کک کریں) یہ پیشن گوئی اس کے بارے میں واضع کرتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی بادشاہی واضع طور پر قائم ہوجائے گی۔ یہ بادشاہی شاندار اور جلالی ہوگی۔ اور یہ عارضی بادشاہی نہیں ہوگی۔ جیسے ہمارے ہاں عام حکومتوں کی ہوتی ہے۔ یہ ابدی ہوگی۔ اس لیے یہ ابھی واقع نہیں ہوئی۔ اس کے لیے ہم نے دوسری پیشن گوئی کو نہیں دیکھا جو امن اور اطمینان لائیں گی۔ کیونکہ وہ خدا کی بادشاہی میں پوری ہونگی۔

زبور شریف میں ایک اور نبی جن کا نام حضرت دانیال ہے۔ وہ تقریباً 550 سال ق م بابل میں اسرائیلوں کے ساتھ جلاوطن ہوکر چلے گے۔ اُنہوں نے واضع کیا ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کا قیام ہوگا۔

حضرت دانیال کا زمانہ زبور شریف میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ
حضرت دانیال کا زمانہ زبور شریف میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ

حضرت دانیال نبی نے بابلی بادشاہ کے خوابوں کی تعبیر اللہ تعالیٰ کی مدد سے کی۔ اور مستقبیل میں آنے والے بادشاہوں کے بارے میں پیشن گوئی کی۔ یہاں پر بابلی بادشاہ کے سامنے حضرت دانیال خواب کی تعبیر کرتا ہے۔

36 وہ خُواب یہ ہے اور اُس کی تعبیر بادشاہ کے حُضور بیان کرتا ہُوں۔
37 اے بادشاہ تو شہنشاہ ہے جس کو آسمان کے خُدا نے بادشاہی و توانائی اور قدرت و شوکت بخشی ہے۔
38  اور جہاں کہیں بنی آدم سکُونت کرتے ہیں اس نے میدان کے چرندے اور ہوا کے پرندے تیرے حوالہ کر کے تجھ کو اُن سب کا حاکم بنایا ہے۔وہ سونے کا سر تو ہی ہے۔
39  اور تیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہوگی جو تجھ سے چھوٹی ہو گی اور اُس کے بعد ایک اور سلطنت تابنے کی جو تمام زمین پر حکُومت کرے گی۔
40  اور چوتھی سلطنت لوہے کی مانند مضُبوط ہو گی اور جس طرح لوہا توڑڈالتا ہے اور سب چیزیں پر غالب آتا ہے ہاں جس طرح لوہاسب چیزوں کو ٹکڑے ٹکرے کرتا اور کُچلتا ہے اُسی طرح وہ ٹکرے ٹکرے کرے گی اور کُچل ڈالے گی۔
41  اور جُو تونے دیکھا کہ اُس کے پاوں اور اُنگلیاں کُچھ تو کمہار کی مٹی کی اور کُچھ لوہے کی تھیں سو اُس سلطنت میں تفرقہ ہو گا مگر جیسا کہ تونے دیکھا کہ اُس میں لوہا مٹی سے ملا ہوا تھا اُس میں لوہے کی مُضبوطی ہوگی۔
42 اور چُونکہ پاوں کی اُنگلیاں کُچھ لوہے کی اور کُچھ مٹی کی تھیں اس لئے سلطنت کُچھ قوی اور کُچھ ضیعف ہو گئی۔
43  اور جیسا تونے دیکھا کہ لوہا مٹی سے ملا ہُوا تھا وہ بنی آدم سے آمخیتہ ہوں گےلیکن جیسے لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا ویسے ہی وہ بھی باہم میل نہ کھائیں گے۔
44  اور اُن بادشاہوں کے ایّام میں آسمان کا خُدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہو گی بلکہ وہ ان تمام مُملکتوں کو ٹکرے ٹکرے اور نیست کرے گی اور وُہی ابد تک قائم رہے گی۔
45  جیسا تو نے دیکھا کہ وہ پھتر ہاتھ لگائے بغیر ہی پہاڑ سے کاٹا گیا اور اُس نے لوہے اور تابنے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکرے ٹکرے کیا خُدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقنیی ہے اور اس کی تعبیر یقینی۔

                                                                                      دانی ایل 2: 36-45

  1. یہ بادشاہت ابتدا میں چھوٹی ہوگی ( ایک چٹان سے ایک چھوٹا پتھر کاٹا جائے گا) لیکن یہ چھوٹی حکومت ابد تک قائم رہے گی۔ جس طرح حضرت داود کے زبور 145 میں پیشن گوئی میں بیان کیا گیا ہے۔ اور اس بادشاہت کو کیوں اتنی زیادہ دیر لگ رہی ہے؟ اللہ تعالیٰ کیوں اتنی آہستہ آہستہ اپنی بادشاہت کو قائم کرے گا؟ جب ہم اس کے بارے سوچتے ہیں۔ تو چند اجزاء ذہین میں آتے ہیں جو سب بادشاہتوں میں پائے جاتے ہیں۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
  • ایک بادشاہ
  • شہری
  • آئین/ شریعت
  • فطرت/ قدرت

آئیں یہاں مثال کے طور پر کینڈا کو لیتے ہیں۔ جہاں میں اس بادشاہت میں رہتا ہوں۔ کینڈا کا موجودہ حکمران جسٹن ٹروٹو ہے۔ جو کہ ہمارا منتخب وزیرِاعظم ہے۔ کینڈا کے شہری ہیں جن میں سے میں ایک ہوں ۔ کینڈا کا آئین ہے۔ جو شہریوں کو اُن کی زمہ داری اور حقوق کا تعین کرواتا ہے۔ کینڈا کی ایک قدرتی ماحول بھی ہے۔ اس معاملے میں یہ ایک مخصوص جگہ پرواقع ہے۔ جس کا ایک طبعی سائز، آب و ہوا اور قدرتی و سائل ہیں۔ ماضی اور حال کے تمام ممالک کے پاس یہ چار اجزاء ہوتے ہیں۔

مجھے اورآپ کو اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت میں دعوت دیتا ہے

یہ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے۔ جس کو ہم نے ان پیشن گوئیوں کے زریعے جانا ہے۔ کہ اس حکومت کی خاص قسم کی فطرت (قدرتی ماحول) ہے۔ (وہ جلالی اور ابدی ہے) اور ایک آئین (اُس میں سلامتی، امن، قدرت میں ہم آہنگی) ہے۔ اس کے ساتھ دو اور اجزاء ہیں۔ بادشاہ اور شہری جومل کر خدا کی بادشاہی کو بناتے ہیں۔ ہم اگلے مضمون میں بادشاہ کے بارے میں جانیں گے۔ اس لمحے شاید آپ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھ رہے ہونگے۔ کہ میں کیسے خدا کی بادشاہی کا شہری بن سکتا ہوں ؟ شاید یہ آپ اس وقت ایک پیاسے شخص کی مانند بنا رہا ہے۔ جس کو آپ بجھانا چاہتے ہیں۔ یہاں پر حضرت یسعیاہ نبی اس پیغام کے زریعے اُن لوگوں کو دعوت دیتے ہیں جو اُس بادشاہت کے شہری بننا چاہتے ہیں۔

1 اے سب پیاسوں پانی کے پاس آؤ اور وہ بھی جس کے پاس پیسہ نہ ہو۔آؤ مول لو اور کھاؤ۔ہاں آؤ اور دودھ بے زر اور بے قیمت خریدو۔
2 تم کس لئے اپنا روپیہ ٓس چیز کے لئے جو روٹی نہیں اور اپنی محنت اس چیز کے واسطے جو آسودہ نہیں کرتی خرچ کرے ہو؟تم غور سے میری سنو اور وہ چیز جو اچھی ہےکھائو اور تمہاری جان فربہی سے لزت اٹھائے۔
3 کان لگائو اور میرے پاس ائو سُنواور تمہاری جان زندہرہے گی اور مین تم کو ابد عہد یعنی داود کی سچی نعمتیں بخشوں گا۔
4 دیکھو میں نےاُسےامتوں ک لئے گواہ کیا بلکہ امتوں کا پشیوا اور فرما روا۔
5 دیکھ تو ایک ایسی قوم کوجسے تو نہیں جانتا بلائے گااور ایک ایسی قوم جو نہیں جانتی تھی۔ خُداوند تیرے خدا اور اسرایئل کے قدوس کی خاطر تیرے پاس دوڑی آئے گی کیونکہ اُس نے تجھے جلال بخشا ہے۔
6 جب تک خُداوندمل سکتا ہے اس کے طلب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے اس پکارو۔

                                                                             یسعیاہ 55: 1-6

اللہ تعالیٰ اُن سب کو دعوت دیتا ہے جو اُسکی بادشاہت کے پیاسے ہیں۔ قدیم میں جو محبت حضرت داود کے ساتھ کی گئی۔ اُس کو سب کے ساتھ بڑھائی جائے گی۔ اگر ابھی تک آپ اس دعوت نامہ کو حاصل نہیں کیا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ہے کہ یہ دعوت نامہ آپ کے پاس نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دعوت دے رہا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے۔ کہ ہم اُس کی بادشاہت کے شہری بن جائیں۔ تاہم اس لمحے شاید آپ کے پاس سوال ہوں۔ کہ “کیسے” اور “کب “خدا کی بادشاہت آئے گی؟ جس کو زبور شریف میں اگلے مضمون میں پڑھیں گے۔ لیکن یہاں ایک اور سوال ہے۔ اس کا جواب صرف آپ دے سکتے ہیں۔ کیا میں اس آنے والی بادشاہت کا شہری بننا چاہتے ہوں؟

زبور شریف کا تعارف

حضرت داود انبیاءاکرام میں سے اہم نبی ہیں۔  اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے ساتھ اولاد کا وعدہ اور ایک عظیم قوم بنانے اور ایک  نئے نظام کو (یعنی یہ نظام اللہ کا اسکے لوگوں کے تعلق کے بارے میں ہے) شروع کیا – اور حضرت ابراہیم نے بڑی قربانی دی.حضرت موسیٰ نے مصر میں فسح کی قربانی کے زریعے بنی اسرائیل کو فرعون سے آزاد کروایا۔ اور پھر اُن کو ایک قانون دیا تاکہ وہ ایک قوم ہوسکیں۔ لیکن کیا خامی تھی کی ایک بادشاہ کی حکمرانی کے دوران لوگوں کو برکات ملنے کی بجائے لعنتیں ملیں۔ حضرت داود ایک بادشاہ اور نبی تھے۔ اُنہوں نے یروشلیم سے بادشاہت کے نظام کو رائج کیا۔

حضرت داود کون تھے؟

                   آپ اسرائیل کی تاریخ کے ٹائم لائن سے معلوم کرسکتے ہیں۔ کہ حضرت داود حضرت ابراہیم سے 1000 (ہزار سال) قبل مسیح اور حضرت موسیٰ کے 500 (پانچ سوسال) بعد نازل ہوئے۔ حضرت داود نے شروع میں اپنے خاندان کی بھیڑوں کی چوپانی کرنے لگے۔ بنی اسرائیل کے دیو ہیکل دشمن جالوت نے اسرائیل کے خلاف فوجی مہم جوئی کی اور اسرائیلی اس وجہ سے پریشان اور گھبرائے۔ تاہم حضرت داود نے جالوت کو للکارا اور اُس کو جنگ میں قتل کر ڈالا۔ یہ بڑی قابلِ فخر بات تھی کہ ایک چھوٹے لڑکے نے جو بھیڑوں کا چرواہا تھا۔ اُس نے ایک دیوہیکل فوجی کو مار ڈالا۔ اس لیے حضرت داود بہت زیادہ مشہور ہوگے۔ تب بنی اسرائیل نے اپنے دشمن کو شکست دی۔ قرآن شریف نے ہمیں اس جنگ کے بارے میں بتایا ہے۔ جو درج ذیل ہے۔

 پھر انہوں نے ان (جالوتی فوجوں) کو اللہ کے امر سے شکست دی، اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کر دیا اور اﷲ نے ان کو (یعنی داؤد علیہ السلام کو) حکومت اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں جو چاہا سکھایا، اور اگر اﷲ (ظلم و جور روا رکھنے والے اَمن دشمن) لوگوں کے ایک گروہ کو (تکریمِ اِنسانیت اور اَمن کا تحفظ کرنے والے) دوسرے گروہ کے ذریعے نہ ہٹاتا رہتا تو زمین (پر انسانی زندگی بعض جابروں کے مسلسل تسلّط اور ظلم کے باعث) برباد ہو جاتی مگر اﷲ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔                                                                           سورۃ البقرہ 251

اس جنگ کے بعد حضرت داود ایک جنگجو کے طور پر بہت مشہور ہوگے۔ اس طرح حضرت داود طویل اور مشکل تجربات کے بعد بادشاہ بن گے۔ کیونکہ اُن کے دشمن کافی تھے۔ حضرت داود کے بنی اسرائیل میں اور باہر دوسری قوموں میں دشمن موجود تھے۔ کتاب مقدس میں پہلا (1) اور دوسرا (2) سموئیل کی کتابوں میں اُن کی مشکلات اور فتوحات کا ذکرپایا جاتا ہے۔ حضرت سموئیل جو بنی اسرائیل کے نبی تھے۔ اُنہوں نے حضرت داود کو مسح (مخصوص) کیا تھا۔

حضرت داود ایک مشہور موسیقار تھے۔  جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں خوبصورت حمد اور نظمیں لکھیں۔ قرآن شریف میں مندرجہ ذیل آیت میں ذکر آیا ہے۔

  1. (اے حبیبِ مکرّم!) جو کچھ وہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر جاری رکھیئے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے۔

  2. بے شک ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِ فرمان کر دیا تھا، جو (اُن کے ساتھ مل کر) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھے۔

  3. اور پرندوں کو بھی جو (اُن کے پاس) جمع رہتے تھے، ہر ایک ان کی طرف (اطاعت کے لئے) رجوع کرنے والا تھا۔

  4. اور ہم نے اُن کے ملک و سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھا۔                                         سُورة ص 17-20

ان آیات میں بنایا گیا کہ حضرت داود ایک مضبوط جنگجو تھے۔ لیکن اُن کی تعریف حمد و گیت بنانے پر بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داود کو ایک بادشاہ ہونے کی حثیت سے حکمت اور بولنے کی عقل بخشی تھی۔ یہ تمام نظمیں اور حمد کے گیت حضرت داود کی کتاب زبور شریف میں درج ہیں۔ جن کو ہم زبورشریف کے طور پر جانتے ہیں۔ کیونکہ ساری حکمت اور کلام سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا۔ اس طرح حضرت داود  پر نازل ہونے والا کلام پاک ہے۔ جس طرح تورات شریف پاک ہے۔  قرآن شریف اس کے بارے میں یوں فرماتا ہے۔

اور آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (آباد) ہیں، اور بیشک ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔    (سورۃ اسرار 55)

حضرت سلیمان زبور شریف کو جاری رکھتے ہیں

                   لیکن اس وحی کا سلسلہ حضرت دواد نبی تک ہی نہیں روکتا۔ اور حضرت داود بزرگ ہو کر مرگے۔ اُن کا جانشین اور وارث حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ سے حکمت اور وحی عطا ہوئی۔ قرآن شریف میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

 اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو (فرزند) سلیمان (علیہ السلام) بخشا، وہ کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ بڑی کثرت سے توبہ کرنے والا ہے۔                                                 سورۃ ص 38: 30

اور

  1. اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام کا قصہ بھی یاد کریں) جب وہ دونوں کھیتی (کے ایک مقدمہ) میں فیصلہ کرنے لگے جب ایک قوم کی بکریاں اس میں رات کے وقت بغیر چرواہے کے گھس گئی تھیں (اور اس کھیتی کو تباہ کر دیا تھا)، اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ فرما رہے تھے۔
  2. چنانچہ ہم ہی نے سلیمان (علیہ السلام) کو وہ (فیصلہ کرنے کا طریقہ) سکھایا تھا اور ہم نے ان سب کو حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے پہاڑوں اور پرندوں (تک) کو داؤد (علیہ السلام) کے (حکم کے) ساتھ پابند کر دیا تھا وہ (سب ان کے ساتھ مل کر) تسبیح پڑھتے تھے، اور ہم ہی (یہ سب کچھ) کرنے والے تھے۔ سُورة الْأَنْبِيَآء 78- 79
  1. اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو (غیر معمولی) علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے۔

                                                                                      سُورة النَّمْل 15

لہذا حضرت سلیمان نے الہامی کتابوں کو زبور شریف میں شامل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ حضرت سلیمان کی کتابوں کے نام (امثال، واعظ، اور غزلالغزلات) ہیں۔

زبور شریف اگلے انبیاءاکرام کے ساتھ جاری رکھتا ہے

لیکن حضرت سلیمان کے انتقال کے بعد آنے والے زیادہ تر بادشاہوں نے تورات شریف کی پیروی کرنا ترک کردی۔ اور نہ ہی ان بادشاہوں پر وحی نازل ہوئی۔ صرف حضرت سلیمان اور حضرت داود ہی ان تمام بادشاہوں میں ایسے تھے۔ جن پر وحی نازل ہوتی تھی۔ اور وہ بادشاہ ہونے کے ساتھ نبی بھی تھے۔ لیکن حضرت سلیمان کے بعد آنے والے بادشاہوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو کلام دے کر بھیجا۔ حضرت یونس جن کو ایک بڑی مچھلی نے نگلیا تھا۔ اُن نبیوں میں سے ایک تھے۔

  1. اور یونس (علیہ السلام بھی) واقعی رسولوں میں سے تھے۔

  2. جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف دوڑے۔

  3. پھر (کشتی بھنور میں پھنس گئی تو) انہوں نے قرعہ ڈالا تو وہ (قرعہ میں) مغلوب ہوگئے (یعنی ان کا نام نکل آیا اور کشتی والوں نے انہیں دریا میں پھینک دیا)۔

  4. پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (اپنے آپ پر) نادم رہنے والے تھے۔

  5. پھر اگر وہ (اﷲ کی) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔

  6. تو اس (مچھلی) کے پیٹ میں اُس دن تک رہتے جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔                                       سُورة الصَّافَّات   139-144

اور یہ سلسلہ 300 سال جاری جس میں بہت سارے انبیاءاکرام آتے رہے۔ اُن پر اللہ تعالیٰ وحی کے زریعے لوگوں کو گناہ سے خبردار کرنے کے لیے کلام اللہ نازل کرتا رہا۔ اس طرح یہ نبوتی کلام زبور شریف میں درج ہوتا رہا۔ جس طرح یہاں وضات کی گئی ہے۔ کہ آخر بابلی حکومت نے اسرائیلیوں پر فتح حاصل کی اوراُن کو قید کرکے بابل لے گے۔ اور فارص کے بادشاہ کے زریعے یروشیلم واپس آگئے۔ تاہم اس قید کے وقت بھی نبیوں کو بھیجا گیا۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام دیتے رہے۔ یہ پیغامات زبور شریف کی آخری کتابوں میں لکھا گیا ہے۔

زبور شریف میں حضرت مسیح کے آنے کی اُمید

                             یہ تمام انبیاءاکرام بہت ہی اہم ہیں۔ کیونکہ اُن کے پیغام میں انجیل شریف کی بنیاد پائی جاتی ہے۔ دراصل “مسیح” کا لقب حضرت داود نے زبور شریف میں متعارف کروایا گیا۔ اور بعد میں آنے والوں انبیاء اکرام نے مزید مسیح موعود کے بارے میں پیشین گوئیاں کی۔ یہ خاص اُس وقت پیشن گوئی دی گئی۔ جب اسرائیلی بادشاہ تورات شریف کی عطا میں ناکام ہوگے۔ حضرت مسیح کے آنے کی پیشن گوئی کی اُمید اور وعدہ اُس وقت کیا گیا۔ جب لوگوں نے تورات شریف پر عمل کرنے میں ناکام ہوگے۔ نبیوں نے مستقبیل کے بارے میں بتایا۔ جس طرح حضرت موسیٰ نے بھی تورات شریف میں ذکر کیا۔ اور یہ پیشین گوئیاں آج کے جدید دور میں ہمارے لیے ہیں۔ جو سیدھی راہ پر نہ چل سکے اور ہم اس کے بارے میں جاننا چاہتے۔ کہ حضرت مسیح کا نام نااُمیدی کے درمیان اُمید کا ایک چراغ ہیں۔

حضرت عیسیٰ مسیح نے کیسے زبور شریف کو پیش کیا؟

                   اصل میں حضرت عیسیٰ مسیح نے اپنے حواریوں کو انجیل شریف کی تعلیم کو سیکھانے کے لیے استعمال کیا۔ کہ اُس میں مسیح کا کیا کردار ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے میں یوں بیان ہے۔

27 پھِر مُوسیٰ سے اور سب نبِیوں سے شُرُوع کر کے سب نوِشتوں میں جِتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئیں ہیں وہ اُن کو سَمَجھا دیں۔  لوقا 24: 27

اس آیت میں جو جملہ آیا ہے ” اور سب نبیوں” سے مراد ہے۔ وہ تمام نبی جو زبور شریف اور تورات شریف کے پیروکار تھے۔ حضرت عیسیٰ مسیح چاہتے تھے کہ وہ اس بات کو سمجھا دیں کے کیسے زبور شریف اور توریت شریف میں اُن کے بارے میں پیشین گوئیاں کی گئی تھیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح اس تعلیم کو جاری رکھتے ہیں۔ جس طرح

44  پھِر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہے جو مَیں نے تُم سے اُس وقت کہِیں تھِیں جب تُمہارے ساتھ تھا کہ ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی توریت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں۔
45 پھِر اُس نے اُن کا ذہن کھولا تاکہ کِتابِ مُقدّس کو سَمَجھیں۔

                                                                                      لوقا 24: 44-45

جب نبیوں اور زبور کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ تو اس سے مراد ہے۔ زبور شریف کی پہلی کتاب جو حضرت داود نے لکھی ۔ اور پھر بعد میں دوسرے نبیوں پرمکمل ہوئیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح چاہتے تھے۔ کہ ” اُن کے ذہین کھول جائیں۔” تاکہ اُن کے پیروکاروں کلام مقدس کو سمجھ سکیں۔ اگلے آنے والے مضامین میں ہمارا مقصد یہ ہوگا کہ ہم زبور شریف کی کتابوں میں اس بات کو سیکھ سکیں۔ کہ ان کتابوں میں حضرت عیسیٰ مسیح نے کیا سیکھایا۔ تاکہ ہمارے زہین بھی کھولیں اور ہم انجیل شریف کو سمجھ سکیں۔

حضرت داود اور دوسرے نبیوں کی تاریخ کا ٹائم لائن

نیچھے دی گئی تصویر میں تقریباً سب انبیاء اکرام شامل ہیں۔ رانگ دار سلاخیں ہر ایک نبی کی زندگی کے عرصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹائم لائن کا رنگ کا کوڈ کی اسی انداز میں اسرائیلیوں کی تاریخ اور اس طور پر ہم نے موسی کی نعمت اور لعنت سے ان کی تاریخ کی پیروی کرتے ہیں.

حضرت داود اور دوسرے نبیوں کی تاریخ کا ئم لائن

نیچھے دی گئی تصویر میں تقریباً سب انبیاء اکرام شامل ہیں۔ رانگ دار سلاخیں ہر ایک نبی کی زندگی کے عرصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹائم لائن کا رنگ کا کوڈ کی اسی انداز میں اسرائیلیوں کی تاریخ اور اس طور پر ہم نے موسی کی نعمت اور لعنت سے ان کی تاریخ کی پیروی کرتے ہیں.

کا تاریخی ٹائم لائن - نبی داود اور دیگر انبیا - زبور
کا تاریخی ٹائم لائن – نبی داود اور دیگر انبیا – زبور

ہم کنواری کے بیٹے کی پیشن گوئی کے ساتھ جاری رکھیں گے