آنے والے مسیح کا سات کا نشان

 جیسا کہ ہم انبیاء اکرام کے بارے میں سیکھ رہے ہیں۔ اور ہم نے اس بات کو جانا ہے کہ ان کے درمیان سینکڑوں سال کے عرصے کا فرق موجود ہے۔ لہذا اس طرح انسان ہوتے ہوئے وہ اپنی پیشن گوئیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا نہیں سکتے تھے۔ لیکن پھر بھی اُن کی یہ پیشن گوئیاں ایک ہی مرکزی موضوع کی طرف بڑھتی گئی کہ “مسیح (کرائسٹ) آرہا ہے”۔ ہم نے دیکھ کہ حضرت یسعیاہ نبی درخت کے ٹنڈ سے شاخ کی نشانی پیش کرتے ہیں۔ اور پھر حضرت یرمیاہ نبی نے اس شاخ کے بارے میں پیشن گوئی کی۔ کہ اس کا نام عبرانی زبان میں یشوع ہوگا۔ جس کا یونانی میں یسوس (Iesous) اور انگلش میں یسوع (Jesus) اور عربی میں عیسیٰ ہے۔ جی ہاں، حضرت عیسیٰ مسیح کے نازل ہونے سے 500 سال پہلے اُن کے نام کی پیشن گوئی ہوچکی تھی۔ یہ پیشن گوئیاں آج بھی یہودیوں کی کتاب عہدِ عتیق میں (انجیل میں نہیں) لکھی ہوئی ہیں۔ جو آج بھی قابلِ قبول ہیں لیکن یہودی اس کو ٹھیک طریقے سے سمجھنے سے قاصر ہیں۔

حضرت دانیال

اب ہم حضرت دانیال کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں۔ وہ ایک اسرائیلی ہونے کی وجہ سے بابل کی جلاوطنی میں رہا اور بابلی اور فارسی حکومتوں کا بڑا خاص ہدے پر فائض رہا۔ نیچھے دیے گے ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے۔ کہ حضرت دانیال تاریخ کے کس دور میں نازل ہوئے۔

حضرت دانیال اور حضرت نحمیاہ ٹائم لائن میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ دکھائے گے ہیں۔

حضرت دانیال اپنی کتاب ( جو اُن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی) میں حضرت جبرایل سے ایک پیغام موصول کرتے ہیں۔ حضرت دانیال اور حضرت مریم یہ دو واحد ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے حضرت جبرایل کے وسیلے پیغامات کو موصول کیا۔ لہذا ہمیں اس پیغام پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ حضرت جبرایل فرماتا ہے۔

 جبرائیل ۔ ۔ ۔ آیا اور شام کی قربانی گُزراننے کے وقت کے قریب مُجھے چُھوا۔  اور اُس نے مُجھے سمجھایا اور مُجھ سے باتیں کیں اور کہا ۔ ۔ ۔  تیرے لوگوں اور تیرے مُقدس شہر کے لے سترّ ہفتے مُقرر کے گے کہ خطا کاری اور گُناہ کا خاتمہ ہو جائے ۔ بدکردای کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راست بازی قائم ہو۔ رویا نبُوت پر مُہر ہو اور پاکترین مقام ممسُوح کیا جائے۔
 پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔  اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔

دانی ایل 9: 21-26

ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں پر ایک “ممسوح” (مسیح) کے بارے میں پیشن گوئی کی گئی ہے۔

حضرت جبرایل نے مسیح کے آںے کے بارے میں ایک ٹائم ٹیبل دیا تھا۔ حضرت جبرایل نے بتایا کہ “اُس دور میں یروشلیم کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کا حکم جاری ہوگا۔ اگرچہ حضرت دانیال کو یہ پیشن گوئی (537 ق م کے قریب دی گئی) کے شروع ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکا۔

یروشلیم کی دوبارہ تعمیر اور بحال کرنے کا حکم جاری

دراصل یہ حضرت نحمیاہ ہی تھا جو حضرت دانیال کے ایک سو سال بعد نازل ہوئے اور اُنہوں نے اس پیشن گوئی کے ابتدا کا وقت دیکھا۔ وہ شہنشاہ فارس کا ساقی تھا اور قصرِ سوسن میں رہتا تھا جو آج کا ایران ہے۔ ملاحظہ کریں جس ٹائم لائن میں رہتا تھا۔ وہ ہمیں اس کتاب میں بتاتا ہے۔

 ارتخششتابادشاہ کے بیسویں برس نیسان کے مہینے میں۔ ۔ ۔ بادشاہ نے مجھ سے فرمایا کِس بات کے لئے تیری درخواست ہے ؟تب میں نے آسمان کے خدا سے دُعا کی ۔  پھِر میں نے بادشاہ سے کہا کہ اگر بادشاہ کی مرضی ہو اور اگر تیرے خادم پر تیرے کرم کی نظر ہے تو تومجھے یہوداہ میں میرے باپ دادا کی قبروں کے شہر کو بھیج دے تاکہ میں اُسے تعمیر کروُ ں ۔

میں نے بادشاہ سے یہ بھی کہا اگر۔ ۔ ۔ ایک شاہی خط ملے کہ وہ ہیکل کے قلعہ کے پھاٹکوں کے لئے اور شہر پناہ اور اُس گھر کے لئے جس میں میں رہونگا کڑیا ں بنانے کومجھے لکڑی دے اور چونکہ میرے خدا کی شفقت کا ہاتھ مجھ پر تھا بادشاہ نے میری عرض قبول کی۔
تب میں نے دریا پار کے حاکموں کے پاس پہنچا کر بادشاہ کے پروانے اُنکو دِئے ۔ ۔ ۔نحمیاہ 2: 1-11

مندرجہ بالا حوالہ “یروشلیم کی تعمیر اور بحالی کے فیصلے کو جاری ” ہونے کے بارے میں بتاتا ہے۔ جس کے بارے حضرت دانیال نے پیشن گوئی کی تھی کہ ایک دن ایسا آئے گا۔ جس میں تعمیر اور بحالی کا کام دوبارہ کیا جائے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شہنشاہ ارتختششتا کی حکومت کے 20 ویں برس واقعہ ہوا۔ اور یہ تاریخ مشہور ہے۔ جس کا آغاز 465 ق م میں ہوا۔اس طرح اُس کے عہد کے 20 ویں سال (44 ق م) میں یہ فرمان جاری ہوا۔ حضرت جبرایل نے حضرت دانیال کو اس پیشن گوئی کے شروع ہونے کے بارے میں کی نشان دیا تھا۔ اس طرح 100 سال بعد شہنشاہ ایران نے حضرت دانیال کی پیشن گوئی کو بغیر جانے اس بات کا فیصلہ دے دیا۔ اس طرح ممسوح فرماروا (مسیح) کے بارے میں پیشن گوئی کا آغاز ہوگیا۔

پراسرار سات

جو پیشن گوئی حضرت دانیال نبی کو حضرت جبرایل نے دی تھی۔ اُس سے یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کہ  7 ہفتے اور 62 ہفتے پھر مسیح نازل ہوگا۔ تو پھر سات سے کیا مراد ہے؟ حضرت موسیٰ کی تورات شریف میں ساتھ سالوں کا ایک چکر ہے۔ جس میں ہر 7 سال بعد کھیتی باڈٰی سے آرام کرنا تھا۔ تاکہ کھیت اپنی مٹی کی قدرتی اجزاء کو بحال کرسکیں۔ اس طرح سے 7 سے مراد ایک چکر ہے۔ اس طرح ہم  کہ اس بحالی کے پروگرام کو دو حصوں میں دیکھتے ہیں۔ پہلا حصہ سات بار سات یا پھر سات سال کی مدت تھی۔ یہ سات٭ سات 7٭7ٓ 49 سال تھا۔ یہ یروشلیم کو دوبارہ تعمیر کرنے کا وقت تھا۔ یہ 62 بار سات کے مطابق بنتا تھا۔ اور کل گنتی اس طرح ہوئی۔ 7٭7 + 7٭ 62=483 سال بنتی تھی۔ دوسرے الفاظ میں شہنشاہ ارتختششتا سے لیکر میں کے آنے تک 483 سال بنتے تھے۔

360 دن کا سال

ہمیں ایڈجسٹمنٹ کے لیے ایک چھوٹا سا کیلنڈر  بنانا ہوگا۔ جس طرح قدیم زمانے میں بہت سی قوموں نے کیا۔ اور نبیوں نے ایک سال کی مدت کو 360 دنوں تک استعمال کیا۔ ایک سال کی مدت کو تعین کرنے کے لیے مختلف طریقے ہیں۔ مغربی طرز کا کیلنڈر (شمسی نظام ہر مبنی) ہے۔ جس میں 365۔24 دن ہوتے ہیں۔ اور اسلامی کیلنڈر( یہ کیلنڈرچاند کے چکر پر مبنی ہے۔) 354 دنوں کا ہوتا ہے۔ اور حضرت دانیال نے 360 دنوں والا کیلنڈر استعمال کیا۔ اس طرح 483 سال اور 360 دن، 483٭360/365۔24= 476 شمسی سالوں کے برابر ہے۔

مسیح کی آمد کا متوقع سال

اس معلومات کے مطابق ہم اس بات کا حساب لگاسکتے ہیں کہ مسیح کب آںے والے تھے۔

ہم “BC” کے دور سے ‘AD” کے دور تک جائیں گے۔ اس حساب کے مطابق 1 سال BC اور 1AD کے درمیان موجود ہے۔ (وہاں “صفر” سال نہیں ہے) اس حساب کی معلومات نیچے دیئے گے ٹیبل میں موجود ہے۔

شروع سال 20th اتختششتا بادشاہ کا سال     444 BC
وقت کی لمبائی 476 شمسی سال
مغربی کیلنڈر میں متوقع آمد (-444 + 476 + 1) (‘+1’ because there is no 0 AD) = 33
متوقع سال 33 AD

حضرت عیسیٰ (یسوع ناصری) یروشلیم میں گدھے کے بچے پر سوار داخل ہوئے۔ اور اس شاندار داخلے کا نام کھجوروں کا اتوار مشہور ہوگیا۔ اُس روز اُنہوں نے خود اعلان کیا اور یروشلیم میں اُنہوں نے مسیح کی حثیت سے مارچ کیا۔ یہ 33 AD کا سال تھا۔

حضرت دانیال اور حضرت نحمیاہ دونوں کا آپس میں ایک سو سال کا فرق ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ لیکن دونوں نے اللہ تعالیٰ سے پیشن گوئیوں کو حاصل کیا اور مسیح کے ظاہر ہونے کے وقت کوظاہر کیا۔ اور تقریباً حضرت دانیال نے ان پیشن گوئیوں کو حضرت جبرایل سے 570 سال پہلے حاصل کیا تھا۔کہ حضرت عیسیٰ ایک مسیح کے طور پر یروشلیم میں داخل ہونے گے۔ یہ ایک انتہائی قابلِ ذکر اور عین مطابق تکمیل ہونے والی پیشن گوئی تھی۔ اس کے ساتھ حضرت زکریا نے مسیح کے نام کی پینش گوئی کی تھی۔ وہ پیشن گوئی بھی اُسی روز تکمیل ہوئی۔ ان انبیاء اکرام نے پیشن گوئیوں کا ایک حقیقی گروہ تشکیل دیا تاکہ اُن سب کو معلوم ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کے منصوبے کو جاننا چاہتے ہیں۔

لیکن اگر یہ پیشن گوئیاں نہائیت قابلِ ذکر ہیں ۔ اور یہ تمام یہودیوں کی مقدس تورات شریف اور زبور شریف میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ تو پھر یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو مسیح کے طور پر قبول کیوں نہیں کیا؟ یہ اُن کی کتاب میں موجود ہے! جو کچھ ہم سوچتے ہیں اُس کو واضع ہونا چاہیے، خاص طور پر اُن قابلِ ذکر اور عین وقت پر پوری ہونے والی پیشن گوئیوں کو۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ یہودی کیوں حضرت عیسیٰ کو بطور مسیح کے قبول نہیں کرتے۔ اس بات کے لیے ہم مزید اگلے سبق میں انبیاء اکرام کی پیشن گوئیوں کو جانیں گے۔

گے۔

مسیح کے نام کے ساتھ شاخ کی نشانی

ہم نے زبور شریف کے حالیہ مضامین میں دیکھا ہے کہ اللہ نے آنے والی بادشاہت  کے بارے وعدہ کیا تھا۔ یہ سلطنت  ہماری عام انسانی حکومتوں سے مختلف ہوگی۔ اگر ہم آج کی نیوز کو دیکھیں اور غور کریں کہ ہماری انسانی حکومتوں میں کیا ہورہا ہے۔ تو آپ لڑائی جھگڑا، کرپشن، ظلم، قتل، غریبوں کا استحصال اور اس طرح کے تمام بدکاریوں سے حکومتں بھری ہوئی ہیں۔ چاہئے وہ مسلم، عیسائی، یہودیوں، بدھ مت، ہندو یا سیکولر مغرب حکومت ہی کیوں نہ ہو۔ ان تمام سلطنتوں میں اس مسئلہ کی ایک ہی جڑ ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ جس میں ہماری نہ بجھنے والی پیاس ہمیں ہرروز گناہ کی طرف لے کر جارہی ہے۔ جیسا کہ ہم نے ان مسائل کو حضرت یرمیاہ کے مضمون میں بھی دیکھا۔ جس کا نتیجہ گناہ ہی ہے۔ (یعنی فساد، قتل، جنسی تشدد)۔ لہذا اللہ تعالیٰ کی اس بادشاہی کے ابھی نہ آنے میں سب سے اہم رکاوٹ ہم ہی ہیں. اگر اللہ نے اپنی نئی سلطنت قائم لی تو ابھی ہم میں سے کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ ہمارا گناہ اس سلطنت کو بھی برباد کردے گا۔ جس طرح اُس نے ہماری اس سلطنت کو بردباد کردیا ہے۔ حضرت یرمیاہ نبی نے پیشن گوئی کرکے بیان کردیا تھا۔ کہ ایک دن اللہ تعالیٰ ایک نیا عہد قائم کرے گا۔ یہ نیا حضرت موسیٰ کی شریعت کی طرح پتھر کی تختیوں پر لکھے ہونے کی بجائے۔ یہ ہمارے دلوں پر لکھا ہوا ہوگا۔ یہ ہمیں اس بادشاہی کے شہری بننے کے لئے اندر ،باہر سے بدل دے گا.

یہ سب کیسے ہونے جارہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کئے منصوبے ایک چھپے ہوئے خزانہ کی مانند ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے زبور شریف کے پیغامات میں اشارے دیئے ہیں۔ تاکہ وہ جو اُسکی کی بادشاہی کی تلاش میں ہیں۔اُس کو پاسکیں۔ لیکن وہ جو دلچسی نہیں رکھتے۔ وہ بے خبر ہیں۔ ہم ان نشانوں کو اب دیکھ سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ آنے والے مسیح پر مبنی ہے۔ (جس کو ہم نے یہاں ـمسیحا- کرائسٹ کے طور پر دیکھا)۔ ہم نے اس کو پہلے ہی سے زبور شریف میں دیکھا ہے۔ آنے والے مسیح کے بارے میں جو پیشن گوئی کی گئی تھی وہ حضرت دواد کی لڑی میں سے ہوگا۔ (دوبارہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)۔

حضرت یسعیاہ نبی درخت کی شاخوں اور تنے کے بارے میں

حضرت یسعیاہ نبی اس منصوبہ کو واضع کرتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ کیسے یہ سب کچھ کریں گے۔ حضرت یسعاہ نبی کی کتاب زبور شریف کی ہی ایک کتاب ہے۔ جو حضرت داود کے شاہی خاندان کی اسرائیل پر حکمرانی کے دوران نازل ہوئی۔ (1000-600 ق م)۔ جن دنوں (750 ق م ) یہ کتاب لکھی جارہی تھی، تو اسرائیل کی ساری سلطنت اپنے دلوں کی پیاس کو ناجائز طریقے سے بجھانے کی وجہ سے جاہلت کا شکار تھی۔

حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت داؤد کا خاندان - ایک درخت کی طرح
حضرت داؤد کا خاندان – ایک درخت کی طرح

حضرت یسعیاہ نبی نے اسرائیلیوں سے ایک الہامی درخواست کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کرنے اور حضرت موسیٰ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں۔ حضرت یسعیاہ جانتے تھے کہ اسرائیلی اُن کی اس توبہ کی درخواست کو نظرانداز کردیں گے۔ اس لیے اُنہوں نے اسرائیل کے بارے میں نبوتی کلام کیا۔ کہ اسرائیلی قوم تباہ ہوجائیں گی اور حضرت دواد کا شاہی خاندان اسی کے ساتھ اپنی بادشاہت کھودے گا۔ ہم نے دیکھا یہ کیسے ہوا۔ اپنی اس نبوتی کلام میں حضرت یسعیاہ نے ایک درخت کی مثال پیش کی۔ جو مکمل طور پر تباہ ہوئے گا۔ لیکن اُس کا ٹنڈ باقی رہ جاتا ہے۔ یہ واقع 600 ق م کے دوران پیش آیا جب بابلیوں نے یروشلیم پر حملہ کرکے۔ مکمل شہر کو تباہ کردیا اور حضرت دواد کی نسل سے حکمرانی یروشلیم سے جاتی رہی۔

کاٹا ہوا درخت
کاٹا ہوا درخت

 لیکن اُن کی کتاب میں آنے والی تباہی کے تمام پیشن گوئیوں کے ساتھ، یہ خاص پیغام جوڑا ہوا تھا۔

1 اور یسی کے تنے سے ایک کونپل نکلیگی اور اسکی جڑوں سے ایک بار آور شاخ پیدا ہوگی۔
2 اور خداوند کی روح اُس پر ٹھہرے گی ۔حکمت اور خرد کی روح مصلحت اور قدرت کی روح معرفت اور خداوند کے خوف کی روح ۔                                                                      یسیعیاہ 11: 1-2

حضرت داود کا خاندان - ایک مردہ تنے میں سے نکلتی ہوئی ایک کونپل
حضرت داود کا خاندان – ایک مردہ تنے میں سے نکلتی ہوئی ایک کونپل

 حضرت یسی، حضرت دواد کے والد تھے اس طرح وہ اُس خاندان کی جڑ ہیں۔ حضرت یسی کے تنے اور جڑ سے مراد وہ پیشن گوئی تھی۔ جس کی وجہ سے حضرت دواد کے خاندان میں تباہی برپا ہوئی۔لیکن حضرت یسعیاہ اس سے آگے بھی دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اُنہیں اس تباہی کی پیشن گوئی کے بعد مستقبیل میں آنے والے منظر کو بتاتے ہیں۔ کیونکہ وہ تنا / جڑ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی تھی۔ایک دن مستقبیل میں اُس میں سے ایک شاخ پھوٹ نکلے گی۔ جو اُسی ایک تنا میں سے ہوگی۔ یہ شاخ حضرت دواد کے خاندان میں سے آنے والے ایک آدمی کی طرف اشارہ ہے۔اس آدم میں بہت سی بیش قیمت خوبیاں ہوگئیں۔ جیسا کہ حکمت، فہم، اور خرد ہوگی جو تمام اللہ تعالیٰ کی روح میں سے ہونگیں۔ اب یاد رکھیں کہ ہم نے کیسے اس بات کو جانا تھا۔ کہ حضرت دواد کی نسل میں سے ایک مسیحا کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔ یہ ایک اہم ترین پیشن گوئی تھی۔حضرت دواد کی نسل میں سے ایک شاخ اور مسیحا ہوسکتا ہے، یہ دونوں ایک ہی شخص کے لقب ہوں۔ آئیں دیکھ زبور شریف میں سے مزید تلاش کرتے ہیں۔

حضرت یرمیاہ نبی درخت کی شاخوں اور تنے کے بارے میں

حضرت یرمیاہ حضرت یسعیاہ نبی کے 150 سال بعد تشریف لائے۔ جب حضرت دواد کا خاندان اُسکی آنکھوں کے سامنے برباد ہورہاتھا۔ جب اُنہوں نے یہ پیشن گوئی لکھی۔

حضرت یرمیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت یرمیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

5 دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں داؤد کے لئے ایک صادق شاخ پیدا کرونگا اور اُسکی بادشاہی ملک میں اقبالمندی اور عدالت اور صداقت کے ساتھ ہوگی۔
اُسکے ایام میں یہوؔ داہ نجات پائیگا اور اِسرؔ ائیل سلامتی سے سُکونت کریگا ور اُسکا نام یہ رکھا جائیگا خداوند ہماری صداقت ۔                                                                    یرمیاہ 23: 5-6

حضرت یرمیاہ نبی نے اُسی پیشن گوئی کو جاری رکھا۔ جس کو حضرت یسعیاہ نبی نے 150 سال پلے بیان کیا تھا۔ یہ شاخ ایک بادشاہ ہوگا۔ ہم نے یکھا تھا اپنی پچھلے اسباق میں کہ مسیح ایک بادشاہ ہوگا۔ اور اس طرح بادشاہ اور شاخ کے درمیان مشابہت بڑتی جاہی ہے۔

حضرت زکریا اُس شاخ کے نام کے بارے بتاتے ہیں

حضرت زکریا نبی ہمارے لئے پیغامات کو جاری رکھتے ہیں۔ اسرائیل بابلی کی غلامی سے واپسی کے دور 520 ق م میں اسرائیل پر نازل ہوئے۔ لیکن اس عرصے کے دوران اسرائیل پر فارس کی حکومت تھی۔

حضرت زکریا اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت زکریا اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

( حضرت زکریا کو حضرت یحیٰ نبی کے باپ حضرت زکریا کے ساتھ مت ملائیں۔حضرت زکریا نبی حضرت یحیٰ نبی کے والد زکریا سے 500 سال پہلے نازل ہوئے تھے۔ چونکہ حضرت زکریا جو حضرت یحییٰ کے والد تھے اُن کا نام حضرت زکریا تھا۔ لیکن ان دونوں زکریا کا فرق دور تھا۔ جس طرح آج بہت سے لوگوں کا نام محمد ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نام حضرت محمدؐ کی جگہ لے سکتا ہے) اسی دوران (520ق م) یہودیوں نے اپنی تباہ شدہ ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنا شروع کردیا۔ اور حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون کی قربانیوں کے سلسلے کو دوبارہ شروع کردیا۔ حضرت ہارون چونکہ ہیکل میں سردار کاہین تھے۔(اس لیے اُن کی اولاد ہی میں سے کوئی سردار کاہین مقرر ہوا۔) اس زمانے میں یشوع سردار کاہین تھا۔ اس طرح حضرت زکریا 520 ق م میں نبی تھے اور یشوع سردار کاہین تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ حضرت زکریا کے وسیلے یشوع کو سردار کاہین مقرر کرتے ہیں۔

اب اے یشوع سردار کاہن سُن تُو اور تیرے رفیق جو تیرے سامنے بیٹھے ہیں۔ وہ اس بات کا ایماہیں کہ میں اپنے بندہ یعنی شاخ کو لانے والا ہُوں ۔
کیونکہ اُس پتھر کو جو میں نے یُشوع کے سامنے رکھا ہے دیکھ اُس پر سات آنکھیں ہیں۔ دیکھ میں اس پر کندہ کروں گا ربُ الافواج فرماتا ہے اور میں اس مُلک کی بدکرداری کو ایک ہی دن میں دُور گا۔                                                                                                                                                   زکریاہ 3: 8-9

شاخ ایک بار پھر! لیکن اس بار اس کے لیے لفظ میرے خادم لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور اس طرح سردار کاہین یشوع اس شاخ کی مشابہت ہے۔ سردار کاہین یشوع کیسے ایک نشان ہے؟ اور اس کا کیا مطلب ہے کہ ایک ہی دن میں خداوند تمام گناہوں کو دور کردے گا۔(میں مٹا دونگا۔ ۔ ۔ ) ہم حضرت زکریا کی بات کو جاری رکھیں گے اور حیرت انگیز احقاق جانتے جائیں گے۔

9 پھر خُداوند کا کلام مُجھ پر نازل ہوا۔
10 کہ تُو آج ہی خلدی اور طُوبیاہ اور یدعیاہ کے پاس جا جو بابل کے اسیروں کی طرف سے آ کر یُوسیاہ بن صفنیاہ کے گھر میں اُترےہیں۔
11 اور اُن سے سونا چاندی لے کر تاج بنا اور یشوع بن یہُوصدق سردار کاہن کو پہنا۔
12 اور اُس سے کہہ کہ کہ ربُ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ وہ شخص جس کا نام شاخ ہے اُس کے زیر سایہ خُوش حالی ہو گئی اور وہ خُداوند کی ہیکل کو تعمیر کرے گا۔

                                                                                                                                    زکریا 6: 9-12

یاد رکھیں یہاں یشوع کا نام شاخ ہے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ کو یاد ہوگا جب ہم نے “ترجمہ اور لفظی ترجمہ کے بارے میں سیکھا تھا۔ ہم نے انگریزی ترجمہ پڑھا ہے اس لیے یہاں لفظ “یشوع” آیا ہے۔لیکن اصل زبان عبرانی میں کون سا لفظ یا آیا ہے؟ مندرجہ ذیل تصویر ہمیں بتاتی ہے۔

یشوع = یسوع دونوں عبرانی زبان سے ترجمہ ہوئے ہیں
یشوع = یسوع دونوں عبرانی زبان سے ترجمہ ہوئے ہیں

جب ہم  حصے اول 1 کی طرف سے حصے تیسرے 3 کی طرف جاتے ہیں۔ (تو ہم کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ “مسیحا” یا “مسیح” کہا سے آیا؟) ہم دیکھ سکتے ہیں کہ لفظ  “یشوع” عبرانی لفظ ‘Yhowshuwa’ “یشوع” سے آیا۔ یہ نام  ‘Joshua’ اُس وقت ترجمہ ہوا جب پرانے عہد نامے کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی یاد رکھیں کہ تورات شریف کا یونانی میں ترجمہ 250 ق م میں ہوا تھا۔جب ہم حصہ نمبر 1 سے حصہ نمبر 2 کی طرف جاتے ہیں۔ تو ان مترجمین نے عبرانی سے یونانی میں نام  “Yhowshuwa” کو ترجمہ کیا۔ اُن کا یونانی ترجمہ “عیسوس” Iesous” تھا۔  اس طرح عبرانی کے پرانے عہد نامے کا ترجمہ جب یونانی میں ہوا تو عبرانی کے لفظ “Yhowshuwa” کا ترجمہ یونانی میں Iesous “عیسوس” ہوا۔جب یونانی کے نئے عہد نامے کا ترجمہ انگریزی زبان میں ہوا تو اُس کے یونانی نام Iesous” کا انگریزی میں “Jesus” اور اردو میں یسوع ہوا۔ دوسرے الفاظ میں مسیح =مسیحا =کرائسٹ  / مسیح =ممسوع۔

                                          ( یشوع = عیسوس = جوشوا = یسوع (= عیسیٰ

‘Yhowshuwa’ = Iesous = Joshua = Jesus (= Isa)

اسی طرح یہ تمام نام Muhammad  =محمد ،Joshua  =یسوع کیسی زبردست بات ہے کہ ہر کسی کو اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے 500 سال پہلے حضرت زکریا نے کہ اُس شاخ کا نام یسوع (عربی میں عیسیٰ) ہوگا۔ یسوع (عیسیٰ) شاخ ہے۔ شاخ اور مسیح دو القاب ایک ہی شخص کے ہیں۔ لیکن کیوں اُن کو دو مختلف ناموں کی ضرورت تھی؟ وہ کیا کرنے جارہاتھا۔ جس کی اس قدر اہمیت تھی؟ زبور شریف کے انبیاء اکرام کے بارے میں مزید جاننے کے لیے زبور شریف کے اگلے مضمون کو پڑھیں۔

بنیادی بات

حضرت عیسیٰ مسیح کا نام الکتاب میں عیسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا نام زبور شریف میں “مسیح” پیشن گوئی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔