وہ خاص دن : ات – طارق ، ال – عادیات اور ال مسیح

سورہ ات طارق (سورہ 86 آنے والی رات) ہمکو آنے انصاف کے دن کے لئے خبردار کرتا ہے جب   

  بیشک خدا اسکے دوبارہ کرنے پر ضرور قدرت رکھتا ہے (پیدا)جس دن دلوں کے بھید جانچے جاینگے – تواس دن  اسکا نہ کچھ زور چلیگا اور نہ کوئی مددگار ہوگا –   

86:8-10سورہ ات – طارق 

سورہ ات – طا رق ہم سے کہتا ہے اس دن الله ہماری پوشیدہ باتوں کا اور شرمناک خیالات اور عمل کی جانچ کریگا اور اس دن اسکے فیصلے کی جانچ سے کوئی بھی شخص روکنے میں مدد نہیں کر سکتا – اسی طرح سورہ ال – عادیات (سورہ 100 — لعنت دینے والا) اس دن کا بیان کرتا ہے جب   

غرض قسم ہے کہ بے شک انسان اپنے پروردگار کا نا شکرا ہے اور یقینی طور سے  خدا بھی اس سے واقف ہے اور وہ بیشک وہ مال کا سخت حریص ہے تو کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ جب مردے قبروں سے نکالے جاینگے اور دلوں کے بھسد ظاہر کر دے جاینگے بیشک اس دن انکا پروردگار انسے خوب واقف ہوگا –  

100:6-11 ال –عادیات

سورہ ال – عادیات  خبردار کرتا ہے کہ اس دن یہاں تک کہ ہماری شرمناک پوشیدہ باتیں جو ہمارے سینے میں دبی ہوئی ہیں وہ بھی آشکارہ ہو جاینگی جبکہ اللہ تعا لا ہمارے تمام کاموں سے خوب واقف ہے –

ہم اس دن کے آنے کے خیال کو ترک کر سکتے ہیں – اور صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے کام کرتا ہے ، مگر سورہ ات طا رق اور سورہ ال- عادیات اس دن کیبابت بہت صفائی سے ہمکو خبردار کرتا ہے –

کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم اسکے لئے تیّار رہیں ؟ مگر کیسے ؟

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح انکے لئے  آ ے جو اس دن کے لئے تیّار رہتے ہیں – انہوں نے انجیل شریف میں اس طرح سے کہا ہے :    

(21)کیونکہ جِس طرح باپ مُردوں کو اُٹھاتا اور زِندہ کرتا ہے اُسی طرح بیٹا بھی جِنہیں چاہتا ہے زِندہ کرتا ہے۔
(22)کیونکہ باپ کِسی کی عدالت بھی نہیں کرتا بلکہ اُس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپُرد کِیا ہے۔
(23)تاکہ سب لوگ بیٹے کی عِزّت کریں جِس طرح باپ کی عِزّت کرتے ہیں ۔ جو بیٹے کی عِزّت نہیں کرتا وہ باپ کی جِس نے اُسے بھیجا عِزّت نہیں کرتا۔
(24)مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو میرا کلام سُنتا اور میرے بھیجنے والے کا یقِین کرتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے اور اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا بلکہ وہ مَوت سے نِکل کر زِندگی میں داخِل ہو گیا ہے۔
(25)مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے کہ مُردے خُدا کے بیٹے کی آواز سُنیں گے اور جو سُنیں گے وہ جِئیں گے۔
(26)کیونکہ جِس طرح باپ اپنے آپ میں زِندگی رکھتا ہے اُسی طرح اُس نے بیٹے کو بھی یہ بخشا کہ اپنے آپ میں زِندگی رکھّے۔
(27)بلکہ اُسے عدالت کرنے کا بھی اِختیار بخشا ۔ اِس لِئے کہ وہ آدم زاد ہے۔

5:21-27یوحننا

نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح بہت بڑے اختیارات کا دعوی کرتے ہیں یہاں تک کہ انصاف کے دن کی نگرانی کرنے کی بابت – ان دعووں کے لئے ان کا اختیارتورات کے نبی حضرت موسیٰ کے زریعے ثابت ہوا کہ کسطرح انہوں نے کاینات کی چھ دنوں کی تخلیق سے انکے اختیارات کی بابت نبوت کی پھر زبور اور آنے والے نبیوں نے اسکے آنے کی بابت تفصیل سے نبوت کی جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انکا آسمان سے آنا الله کے ایک منصوبے کے تحت تھا – نبی کے یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ "جو کوئی میرے کلام کو سنتا اور جس نے مجھے بھیجا اسپر ایمان لاۓ تو ہمیشہ کی زندگی اسکی ہے اور وہ کبھی ہلاک نہیں ہوگا "-اسکے لئے ہم یہاں دیکھتے ہیں –