موسیٰ کا نشان نمبر 1: فسح

“حضرت موسٰی کی پہلی نشانی “فسح

تقریباً 500 سال حضرت ابراہیم کو گزرے چکے تھے اور 1500 سال مسیح سے پہلے حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی۔ اب اُن کی نسل جو حضرت اسحاق سے ہوئی تھی اسرائیلی کہلائے جاتے تھے۔ جو ایک بڑی قوم بن چکی تھی۔ لیکن وہ مصر میں غلامی کی زندگی گزار رہے تھے۔ یہ اس لیے ہوا کہ حضرت ابراہیم کا پڑپوتا حضرت یوسف غلام کے طور پر مصر میں فروخت کیا گیا تھا۔ پھر کئی سالوں بعد اس کے خاندان نے اُسکی پیروی کرکے مصر میں ہجرت کی۔ جسکا بیان تورات شریف کی پہلی کتاب پیدائش کے ابواب 45-46 میں زکر پایا جاتا ہے۔

تاہم اب ہم ایک اور عظیم نبی کی نشانی پرہیں۔ جسکا ذکر تورات شریف کی دوسری کتاب خروج میں ملتا ہے۔ اس میں بیان ہے کہ کیسے حضرت موسیٰ نے اسرائیلیوں کو مصرکی غلامی سے رہائی میں راہنمائی کی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو حکم تھا کہ وہ مصر کے فرعون سے ملاقات کرے۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان ایک مقابلہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا۔ کہ اس مقابلے سے نو(9) آفات آئیں۔ جو فرعون کے لیے ایک نشان تھا۔ لیکن فرعون اللہ تعالٰی کی مرضی کے آگے نہ جھکا اور اِن نشانوں کی بھی نافرمانی کرتا رہا۔

دسویں آفت

                                                تاہم اللہ تعالٰی دسویں آفت جو سب سے  زیادہ خطرناک اور ڈراونی لانے والا تھا۔ اس سے پہلے 10 دسویں آفت آتی۔ اس  کے بارے میں تورات شریف ہمیں تیار کرتی اور بتاتی ہے۔ اور قرآن شریف بھی ہمیں ذیل کی آیت میں بتا تا ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل 101 – 102: 17

اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں دیں تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھیئے جب (موسٰی علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا: میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے موسٰی! تم سحر زدہ ہو تمہیں جادو کر دیا گیا ہے

موسٰی (علیہ السلام) نے فرمایا: تو (دل سے) جانتا ہے کہ ان نشانیوں کو کسی اور نے نہیں اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے عبرت و بصیرت بنا کر، اور میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے فرعون! تو ہلاکت زدہ ہو تو جلدی ہلاک ہوا چاہتا ہے

تاہم فرعون پر تباہی اور بربادی آتی ہے۔ لیکن یہ کیسے آئیں؟ اللہ تعالیٰ نے آفات کو ماضی میں مختلف طرح سے بھیجا تھا۔ مثال کے طور پر حضرت نوح کے دنوں میں پوری دنیا پر سیلاب لایا۔ حضرت لوط کی بیوی کو نمک کا ستون بن گئی۔ لیک یہ آفت فرق ہے تاکہ سارے لوگوں کے لیے یہ نشان ہو۔ ایک عظیم نشان جیسے قرآن شریف نے فرمایا ہے۔

سورۃ النازعات 79:20

پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اسے بڑی نشانی دکھائی

آپ دسویں آفت کے بارے میں توریت شریف کی دوسری کتاب “خروج” میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہاں کلیک کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس کو یہاں اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہاں پر بہت اچھی طرح اور تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ ذیل کی وضاحت کو سمجھنے میں مدد بھی دے گا۔

منڈھے کی فسح موت سے بچاتی ہے

                                                کلام اللہ ہمیں یہ بتاتا ہے۔ کہ تباہی کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوچکا تھا۔ کہ پہلوٹھا بیٹا اُس رات مارا جائے گا۔ سوائے اُن لوگوں کے جن کے گھروں میں منڈھے کی قربانی کی جائے گی اور اس کا خون اُس گھر کی چوکھٹوں پر لگایا جائے گا۔ اگر فرعون بھی اس حکم کی تابعداری نہیں کرتا تو اُس کا پہلوٹھا اور اُسکے تخت کا وارث بھی مارا جائے گا۔ اور مصر میں ہر ایک گھر کا پہلوٹھا بیٹا مار دیا جائے گا۔ اگر وہ اس حکم کی تابعداری نہیں کرینگے۔ کہ ایک برّہ کو قربان کرکے اُس کے خون کو اپنے گھر کی چوکھٹوں پر نہ لگائیں گے۔ چنانچہ مصر نے ایک قومی آفت کا سامنا کیا۔

لیکن وہ گھر جس میں برّہ قربان کیا اور اسکا خون گھر کے دروازے کی چوکھٹوں پر لگیا جا چکا تھا۔ اُن سے وعدہ تھا کہ وہ بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی آفت اُس گھر کو چھوڑ جائے گی۔ لہذا وہ دن اور نشان “فسح” کہلایا۔ (تاہم موت ان تمام گھروں کو چھوڑتی گئی جن پر برّے کا خون لگا تھا) لیکن جن دروازوں پر خون کا نشان تھا؟ توریت شریف ہمیں بتاتی ہے۔

خروج 12:27

تو ان سے یہ کہو یہ فسح کی قربانی ہے۔ جو ہم رب کو پیش کرتے ہیں کیونکہ جب رب مصریوں کو ہلاک کررہا تھا تو اُس نے ہمارے گھروں کو چھوڑدیا۔ یہ سُن کر اسرائیلیوں نے اللہ کو سجدہ کیا۔

یہودی کیلنڈرفسح سے شروع ہوتا ہے

 چنایچہ بنی اسرائیل کو حکم تھا وہ ہر سال اُسی دن فسح کی عید منائیں۔ یہودی کیلنڈر عیسوی کیلنڈر سے تھوڑا مختلف ہے۔ کیونکہ اس میں ہر سال دن تھوڑا بدل جاتا ہے۔ اگر عیسوی کیلنڈر پر غور کریں۔ تو یہ ماہ رمضان کے ساتھ بہت ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ اس میں سال کی مختلف لمبئی پائی جاتی ہے۔ جو عیسوی کیلنڈر میں ہر سال چلتی ہے۔ لیکن اُس دن (فسح) سے آج تک 3500 سال گزر گے چکے ہیں۔ یہودی لوگ فسح کو ہر سال مناتے ہیں۔ جو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں واقعہ ہوئی تھی۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے تورات شریف میں اُن کو تابعداری کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہاں پر ایک جدید زمانے کی تصویر ہے۔ جس میں یہودی عید فسح پر برّے قربان کر رہے ہیں۔ یہ بالکل عیدالضحی سے ملتی جلتی ہے۔

اگر ہم اس عید پر تاریخی طور پر غور کریں تو یہ ہمیں بہت ہی غیر معمولی بات کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ آپ اس کو انجیل شریف میں پڑھ سکتے ہیں۔ جہاں حضرت عیسیٰ مسیح کی گرفتاری، مقدمے کی سماعت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

یوحنا 18:28

پھر وہ عیسیٰ کو کائفا کے پاس سے قلعہ کو لے گئے اور صبح کا وقت تھا اور وہ خود قلعہ میں نہ گئے تاکہ ناپاک نہ ہوں بلکہ فسح کھا سکیں۔

یوحنا 18: 39-40

مگر تمہارا دستور ہے کہ میں فسح پر تمہاری خاطر ایک آدمی چھوڑدیا کرتا ہوں۔ پس کیا تم کو منظور ہے کہ میں تمہاری خاطر یہودیوں کے بادشاہ کو چھوڑدوں؟۔

اُنہوں نے چلا کر پھر کہا کہ اِس کو نہیں لیکن برابا کو۔ اور برابا ایک ڈاکو تھا۔

دوسرے الفاظ میں حضرت عیسیٰ مسیح کو صحیح یہودی کیلنڈر کے مطابق فسح کے دن گرفتار کیا گیا اور عمل درآمد کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ اب اگر آپ کو یاد ہو حضرت ابراہیم کی تیسری نشانی اور حضرت یحییٰ نے حضرت عیسیٰ کو ایک لقب دیا تھا۔

یوحنا 1: 29-30

دوسرے دن اُس نے عیسیٰ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھویہ “اللہ کا برّہ” ہے جو دنیا کے گناہ اُٹھالے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔

عیسیٰ مسیح نے فسح پر مذمت کی

یہاں ہم اس نشان کی لاثانیت دیکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح ” اللہ کا برّہ” اُسی دن قربانی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ جس دن تمام یہودی ایک برّہ کی قربانی  کرتے ہیں۔ جو عیسیٰ مسیح سے 1500 سال پہلے واقعہ ہوا جس میں فسح کی قربانی ہر ایک منڈھا قربان ہوا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ یہودی ہرسال عام طور پر اُسی ہفتے میں مناتے ہیں۔ جس ہفتے میں ایسٹر منایا جاتا ہے۔ کیونکہ عیسیٰ مسیح بھی اُسی دن قربان ہونے کے لیے بھجیے گئے تھے۔ (ایسٹر اور فسح ایک ہی دن نہیں منائی جاتے۔ کیونکہ عیسوی اور یہودی کیلنڈر کے سال کی لمبائی کی مختلف ترتیب ہے۔ لیکن دونوں عام طور پرایک ہی ہفتے میں آتے ہیں

اب تھوڑی دیر کے لیے  ہر نشان پرغور کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کچھ ذیل کی تصویر میں نشان دیکھے ہیں؟

جب ہم کھوپڑی اور ہڈیوں کے نشان کو دیکھتے ہیں تو اس سے مراد ہوتی ہے موت اور خطرے کی۔ جب ہم سنہری مہراب دیکھتے ہیں تو میکڈونلڈ کا خیال آتا ہے۔ جب ہم ٹینس کے کھلاڑی کے سر پر گوڈ کا نشان دیکھتے ہیں۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نائیکی کا نشان ہے۔ جب ہم کسی نشان کو دیکھیں تو اس کے بارے میں سوچتیں ہیں۔ دوسرے الفاظ میں نشان ہمارے زہین اشارہ دیتے ہیں ایک خاص چیز کے بارے میں سوچنے کے لیے۔ حضرت موسیٰ کا یہ نشان اللہ تعالیٰ نے ہم کو دیا۔ اللہ تعالٰی نے یہ نشان کیوں دیا؟ ٹھیک اُسی دن جب منڈھوں کی قربانی ہوئی، اُسی دن عیسیٰ مسیح کی قربانی ہمارے لیے ایک اشارہ ہے۔

یہ اُسی طرح نظر آتا ہے جس طرح ہم نے اُوپر تصویر میں دیکھا۔ یہاں پر نشان حضرت عیسیٰ مسیح کی طرف اشارہ دلاتا ہے۔ پہلی فسح میں برّوں کو قربان اور خون بہایا گیا تاکہ لوگ بچ جائیں۔ اسی طرح حضرت عیسٰی مسیح کا نشان ہمیں اس طرف اشارہ دیتا ہے۔ “اللہ تعالیٰ کا برّہ” قربان ہوا تاکہ ہم زندگی پائیں۔

ہم نے حضرت ابراہم کے تیسرے نشان میں دیکھا۔ کہ جہاں حضرت ابراہیم کے اپنے بیٹے کی قربانی کے لیے آزمایا گیا وہ موریا پہاڑتھا۔ لیکن ایک منڈھا اُس کے بیٹے کی جگہ مہیا کیاگیا تھا۔ ایک برّہ مرگیا تاکہ ابراہیم کا بیٹا بچ جائے۔ موریا کا پہاڑ بالکل وہی پہاڑ ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانی دی گئی۔ یہ ایک نشان تھا کہ ہم حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانی پر اُس جگہ کی طرف اشارہ کے بارے میں سوچ سکیں۔ حضرت موسیٰ کے اس نشان میں ہم نے ایک اور اسس طرح کے واقعہ کی تلاش کی ہے۔ حضرت عیسیٰ مسیح کو قربانی کے لیے چھوڑدینا۔ ہمیں کیلنڈر میں موجود اُسی دن ہمیں فسح کی قربانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ برّہ کی قربانی ایک بار پھر اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کیوں؟ ہم اس کو جاری رکھیں گے۔ تاکہ ہم
حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی سے مذید افہام و تہفیم حاصل کرسکیں۔ یہ نشان کوہ سیناہ پر دیا گیا تھا۔

لیکن اس نشان کے آخر پر فرعون کے ساتھ کیا ہوا؟ جس طرح ہم نے تورات شریف میں پڑھا کے اُس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تابعداری نہ کی اور اُس کا پہلوٹھا بیٹا (یعنی اُسکا وارث) اُسی رات مارا گیا۔ اس طرح اُس نے آخر کار اسرائیلیوں کو مصر چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔ لیکن فرعون نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اسرائیلیوں کا تعاقب کرنے کے لیے بحرقلزم کی طرف چڑھ دیا۔ اللہ تعالٰی کے نزدیک سمندر پار کرنے کا مقصد تھا کہ فرعون اپنی فوج کے ساتھ سمندر میں غرق ہوجائے۔ نوآفات کے بعد، فسح پراموات ، مصری فوج کا غرق ہونا، مصر کے لیے ایک ایسی عظیم ابری لے کر آیا کہ مصر دوبارہ پھر کھبی دنیا میں سپرپاور کے طور سے نمایاں نہ ہوسکا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے اُن کا انصاف کردیا۔