زبور شریف کا تعارف

حضرت داود انبیاءاکرام میں سے اہم نبی ہیں۔  اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے ساتھ اولاد کا وعدہ اور ایک عظیم قوم بنانے اور ایک  نئے نظام کو (یعنی یہ نظام اللہ کا اسکے لوگوں کے تعلق کے بارے میں ہے) شروع کیا – اور حضرت ابراہیم نے بڑی قربانی دی.حضرت موسیٰ نے مصر میں فسح کی قربانی کے زریعے بنی اسرائیل کو فرعون سے آزاد کروایا۔ اور پھر اُن کو ایک قانون دیا تاکہ وہ ایک قوم ہوسکیں۔ لیکن کیا خامی تھی کی ایک بادشاہ کی حکمرانی کے دوران لوگوں کو برکات ملنے کی بجائے لعنتیں ملیں۔ حضرت داود ایک بادشاہ اور نبی تھے۔ اُنہوں نے یروشلیم سے بادشاہت کے نظام کو رائج کیا۔

حضرت داود کون تھے؟

                   آپ اسرائیل کی تاریخ کے ٹائم لائن سے معلوم کرسکتے ہیں۔ کہ حضرت داود حضرت ابراہیم سے 1000 (ہزار سال) قبل مسیح اور حضرت موسیٰ کے 500 (پانچ سوسال) بعد نازل ہوئے۔ حضرت داود نے شروع میں اپنے خاندان کی بھیڑوں کی چوپانی کرنے لگے۔ بنی اسرائیل کے دیو ہیکل دشمن جالوت نے اسرائیل کے خلاف فوجی مہم جوئی کی اور اسرائیلی اس وجہ سے پریشان اور گھبرائے۔ تاہم حضرت داود نے جالوت کو للکارا اور اُس کو جنگ میں قتل کر ڈالا۔ یہ بڑی قابلِ فخر بات تھی کہ ایک چھوٹے لڑکے نے جو بھیڑوں کا چرواہا تھا۔ اُس نے ایک دیوہیکل فوجی کو مار ڈالا۔ اس لیے حضرت داود بہت زیادہ مشہور ہوگے۔ تب بنی اسرائیل نے اپنے دشمن کو شکست دی۔ قرآن شریف نے ہمیں اس جنگ کے بارے میں بتایا ہے۔ جو درج ذیل ہے۔

 پھر انہوں نے ان (جالوتی فوجوں) کو اللہ کے امر سے شکست دی، اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کر دیا اور اﷲ نے ان کو (یعنی داؤد علیہ السلام کو) حکومت اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں جو چاہا سکھایا، اور اگر اﷲ (ظلم و جور روا رکھنے والے اَمن دشمن) لوگوں کے ایک گروہ کو (تکریمِ اِنسانیت اور اَمن کا تحفظ کرنے والے) دوسرے گروہ کے ذریعے نہ ہٹاتا رہتا تو زمین (پر انسانی زندگی بعض جابروں کے مسلسل تسلّط اور ظلم کے باعث) برباد ہو جاتی مگر اﷲ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔                                                                           سورۃ البقرہ 251

اس جنگ کے بعد حضرت داود ایک جنگجو کے طور پر بہت مشہور ہوگے۔ اس طرح حضرت داود طویل اور مشکل تجربات کے بعد بادشاہ بن گے۔ کیونکہ اُن کے دشمن کافی تھے۔ حضرت داود کے بنی اسرائیل میں اور باہر دوسری قوموں میں دشمن موجود تھے۔ کتاب مقدس میں پہلا (1) اور دوسرا (2) سموئیل کی کتابوں میں اُن کی مشکلات اور فتوحات کا ذکرپایا جاتا ہے۔ حضرت سموئیل جو بنی اسرائیل کے نبی تھے۔ اُنہوں نے حضرت داود کو مسح (مخصوص) کیا تھا۔

حضرت داود ایک مشہور موسیقار تھے۔  جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں خوبصورت حمد اور نظمیں لکھیں۔ قرآن شریف میں مندرجہ ذیل آیت میں ذکر آیا ہے۔

  1. (اے حبیبِ مکرّم!) جو کچھ وہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر جاری رکھیئے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے۔

  2. بے شک ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِ فرمان کر دیا تھا، جو (اُن کے ساتھ مل کر) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھے۔

  3. اور پرندوں کو بھی جو (اُن کے پاس) جمع رہتے تھے، ہر ایک ان کی طرف (اطاعت کے لئے) رجوع کرنے والا تھا۔

  4. اور ہم نے اُن کے ملک و سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھا۔                                         سُورة ص 17-20

ان آیات میں بنایا گیا کہ حضرت داود ایک مضبوط جنگجو تھے۔ لیکن اُن کی تعریف حمد و گیت بنانے پر بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داود کو ایک بادشاہ ہونے کی حثیت سے حکمت اور بولنے کی عقل بخشی تھی۔ یہ تمام نظمیں اور حمد کے گیت حضرت داود کی کتاب زبور شریف میں درج ہیں۔ جن کو ہم زبورشریف کے طور پر جانتے ہیں۔ کیونکہ ساری حکمت اور کلام سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا۔ اس طرح حضرت داود  پر نازل ہونے والا کلام پاک ہے۔ جس طرح تورات شریف پاک ہے۔  قرآن شریف اس کے بارے میں یوں فرماتا ہے۔

اور آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (آباد) ہیں، اور بیشک ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔    (سورۃ اسرار 55)

حضرت سلیمان زبور شریف کو جاری رکھتے ہیں

                   لیکن اس وحی کا سلسلہ حضرت دواد نبی تک ہی نہیں روکتا۔ اور حضرت داود بزرگ ہو کر مرگے۔ اُن کا جانشین اور وارث حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ سے حکمت اور وحی عطا ہوئی۔ قرآن شریف میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

 اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو (فرزند) سلیمان (علیہ السلام) بخشا، وہ کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ بڑی کثرت سے توبہ کرنے والا ہے۔                                                 سورۃ ص 38: 30

اور

  1. اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام کا قصہ بھی یاد کریں) جب وہ دونوں کھیتی (کے ایک مقدمہ) میں فیصلہ کرنے لگے جب ایک قوم کی بکریاں اس میں رات کے وقت بغیر چرواہے کے گھس گئی تھیں (اور اس کھیتی کو تباہ کر دیا تھا)، اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ فرما رہے تھے۔
  2. چنانچہ ہم ہی نے سلیمان (علیہ السلام) کو وہ (فیصلہ کرنے کا طریقہ) سکھایا تھا اور ہم نے ان سب کو حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے پہاڑوں اور پرندوں (تک) کو داؤد (علیہ السلام) کے (حکم کے) ساتھ پابند کر دیا تھا وہ (سب ان کے ساتھ مل کر) تسبیح پڑھتے تھے، اور ہم ہی (یہ سب کچھ) کرنے والے تھے۔ سُورة الْأَنْبِيَآء 78- 79
  1. اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو (غیر معمولی) علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے۔

                                                                                      سُورة النَّمْل 15

لہذا حضرت سلیمان نے الہامی کتابوں کو زبور شریف میں شامل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ حضرت سلیمان کی کتابوں کے نام (امثال، واعظ، اور غزلالغزلات) ہیں۔

زبور شریف اگلے انبیاءاکرام کے ساتھ جاری رکھتا ہے

لیکن حضرت سلیمان کے انتقال کے بعد آنے والے زیادہ تر بادشاہوں نے تورات شریف کی پیروی کرنا ترک کردی۔ اور نہ ہی ان بادشاہوں پر وحی نازل ہوئی۔ صرف حضرت سلیمان اور حضرت داود ہی ان تمام بادشاہوں میں ایسے تھے۔ جن پر وحی نازل ہوتی تھی۔ اور وہ بادشاہ ہونے کے ساتھ نبی بھی تھے۔ لیکن حضرت سلیمان کے بعد آنے والے بادشاہوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو کلام دے کر بھیجا۔ حضرت یونس جن کو ایک بڑی مچھلی نے نگلیا تھا۔ اُن نبیوں میں سے ایک تھے۔

  1. اور یونس (علیہ السلام بھی) واقعی رسولوں میں سے تھے۔

  2. جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف دوڑے۔

  3. پھر (کشتی بھنور میں پھنس گئی تو) انہوں نے قرعہ ڈالا تو وہ (قرعہ میں) مغلوب ہوگئے (یعنی ان کا نام نکل آیا اور کشتی والوں نے انہیں دریا میں پھینک دیا)۔

  4. پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (اپنے آپ پر) نادم رہنے والے تھے۔

  5. پھر اگر وہ (اﷲ کی) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔

  6. تو اس (مچھلی) کے پیٹ میں اُس دن تک رہتے جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔                                       سُورة الصَّافَّات   139-144

اور یہ سلسلہ 300 سال جاری جس میں بہت سارے انبیاءاکرام آتے رہے۔ اُن پر اللہ تعالیٰ وحی کے زریعے لوگوں کو گناہ سے خبردار کرنے کے لیے کلام اللہ نازل کرتا رہا۔ اس طرح یہ نبوتی کلام زبور شریف میں درج ہوتا رہا۔ جس طرح یہاں وضات کی گئی ہے۔ کہ آخر بابلی حکومت نے اسرائیلیوں پر فتح حاصل کی اوراُن کو قید کرکے بابل لے گے۔ اور فارص کے بادشاہ کے زریعے یروشیلم واپس آگئے۔ تاہم اس قید کے وقت بھی نبیوں کو بھیجا گیا۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام دیتے رہے۔ یہ پیغامات زبور شریف کی آخری کتابوں میں لکھا گیا ہے۔

زبور شریف میں حضرت مسیح کے آنے کی اُمید

                             یہ تمام انبیاءاکرام بہت ہی اہم ہیں۔ کیونکہ اُن کے پیغام میں انجیل شریف کی بنیاد پائی جاتی ہے۔ دراصل "مسیح” کا لقب حضرت داود نے زبور شریف میں متعارف کروایا گیا۔ اور بعد میں آنے والوں انبیاء اکرام نے مزید مسیح موعود کے بارے میں پیشین گوئیاں کی۔ یہ خاص اُس وقت پیشن گوئی دی گئی۔ جب اسرائیلی بادشاہ تورات شریف کی عطا میں ناکام ہوگے۔ حضرت مسیح کے آنے کی پیشن گوئی کی اُمید اور وعدہ اُس وقت کیا گیا۔ جب لوگوں نے تورات شریف پر عمل کرنے میں ناکام ہوگے۔ نبیوں نے مستقبیل کے بارے میں بتایا۔ جس طرح حضرت موسیٰ نے بھی تورات شریف میں ذکر کیا۔ اور یہ پیشین گوئیاں آج کے جدید دور میں ہمارے لیے ہیں۔ جو سیدھی راہ پر نہ چل سکے اور ہم اس کے بارے میں جاننا چاہتے۔ کہ حضرت مسیح کا نام نااُمیدی کے درمیان اُمید کا ایک چراغ ہیں۔

حضرت عیسیٰ مسیح نے کیسے زبور شریف کو پیش کیا؟

                   اصل میں حضرت عیسیٰ مسیح نے اپنے حواریوں کو انجیل شریف کی تعلیم کو سیکھانے کے لیے استعمال کیا۔ کہ اُس میں مسیح کا کیا کردار ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے میں یوں بیان ہے۔

27 پھِر مُوسیٰ سے اور سب نبِیوں سے شُرُوع کر کے سب نوِشتوں میں جِتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئیں ہیں وہ اُن کو سَمَجھا دیں۔  لوقا 24: 27

اس آیت میں جو جملہ آیا ہے ” اور سب نبیوں” سے مراد ہے۔ وہ تمام نبی جو زبور شریف اور تورات شریف کے پیروکار تھے۔ حضرت عیسیٰ مسیح چاہتے تھے کہ وہ اس بات کو سمجھا دیں کے کیسے زبور شریف اور توریت شریف میں اُن کے بارے میں پیشین گوئیاں کی گئی تھیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح اس تعلیم کو جاری رکھتے ہیں۔ جس طرح

44  پھِر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہے جو مَیں نے تُم سے اُس وقت کہِیں تھِیں جب تُمہارے ساتھ تھا کہ ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی توریت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں۔
45 پھِر اُس نے اُن کا ذہن کھولا تاکہ کِتابِ مُقدّس کو سَمَجھیں۔

                                                                                      لوقا 24: 44-45

جب نبیوں اور زبور کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ تو اس سے مراد ہے۔ زبور شریف کی پہلی کتاب جو حضرت داود نے لکھی ۔ اور پھر بعد میں دوسرے نبیوں پرمکمل ہوئیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح چاہتے تھے۔ کہ ” اُن کے ذہین کھول جائیں۔” تاکہ اُن کے پیروکاروں کلام مقدس کو سمجھ سکیں۔ اگلے آنے والے مضامین میں ہمارا مقصد یہ ہوگا کہ ہم زبور شریف کی کتابوں میں اس بات کو سیکھ سکیں۔ کہ ان کتابوں میں حضرت عیسیٰ مسیح نے کیا سیکھایا۔ تاکہ ہمارے زہین بھی کھولیں اور ہم انجیل شریف کو سمجھ سکیں۔

حضرت داود اور دوسرے نبیوں کی تاریخ کا ٹائم لائن

نیچھے دی گئی تصویر میں تقریباً سب انبیاء اکرام شامل ہیں۔ رانگ دار سلاخیں ہر ایک نبی کی زندگی کے عرصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹائم لائن کا رنگ کا کوڈ کی اسی انداز میں اسرائیلیوں کی تاریخ اور اس طور پر ہم نے موسی کی نعمت اور لعنت سے ان کی تاریخ کی پیروی کرتے ہیں.

حضرت داود اور دوسرے نبیوں کی تاریخ کا ئم لائن

نیچھے دی گئی تصویر میں تقریباً سب انبیاء اکرام شامل ہیں۔ رانگ دار سلاخیں ہر ایک نبی کی زندگی کے عرصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹائم لائن کا رنگ کا کوڈ کی اسی انداز میں اسرائیلیوں کی تاریخ اور اس طور پر ہم نے موسی کی نعمت اور لعنت سے ان کی تاریخ کی پیروی کرتے ہیں.

کا تاریخی ٹائم لائن - نبی داود اور دیگر انبیا - زبور
کا تاریخی ٹائم لائن – نبی داود اور دیگر انبیا – زبور

ہم کنواری کے بیٹے کی پیشن گوئی کے ساتھ جاری رکھیں گے

تورات شریف میں "نبی” کی نشانی

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے 40 سال تک بنی اسرائیل کی پیشوائی کی۔ اُنہوں نے دس احکام اور قربانیوں کی تعلیم تحریری صورت میں اُن کو دی۔ اُنہوں نے تورات شریف میں بہت ساری نشانیوں کے بارے میں بھی لکھا۔ اس سے پہلے ہم تورات شریف کے مطالعہ کو ختم کریں۔ آئیں ہم اس میں پائے جانے والے نمونوں کا جائزہ لیں۔

تورات شریف کے نمونوں کا جائزہ

                   چنائچہ تورات شریف میں سے ابھر کر سامنے آنے والی نشانیوں کا نمونہ درج ذیل ہے؟

تورات شریف میں قربانیاں کا نمونہ

                   ہمیں اس بات کی اہمیت پر غور کرنا چاہیے کہ کس طرح تورات شریف میں بار بار قربانیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مندرجہ ذیل قربانیوں پر غور کریں۔

یہ تمام قربانیاں پاک جانوروں کی پیش کی جاتیں۔ ان میں بیل، بھیڑ، اور بکرہ، یہ تمام نر جانور تھے۔ سوائے ایک بچھیا جو مادہ تھی۔

یہ قربانیاں لوگوں کے کفارے کے لیے پیش کی جاتیں۔ اس کا مطلب ہے۔ کہ قربانی دینے والے شخص کی شرم اور جرم (گناہ) ڈھانپ دی جاتی۔ یہ قربانیوں کا سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو چمڑے کے کرتوں کے وسیلے سے پایا۔ اُس کو چمڑے کے کُرتے حاصل کرنے کے لیے ایک جانور کی موت درکار تھی۔ تاکہ اُن کا ننگاپن ڈھانپ دیا جاتا۔ یہاں پر ایک بہت ہی اہم سوال پوچھا جاسکتا ہے۔ کہ آج مزید قربانیاں کیوں پیش نہیں کی جاتیں؟ ہم اس کا جواب بعد میں دیں گے۔

تورات شریف میں راستبازی کا نمونہ

                    تورات شریف میں لفظ "راستبازی” مسلسل استعمال ہوا ہے۔ ہم اس لفظ کو سب سے پہلے حضرت آدم کی نشانی میں دیکھتے ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے بتایا۔ کہ یہ "راستبازی کا لباس” بہتر ہے۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم کو داستباز کہا گیا۔ جب انہوں نے اس وعدے پر ایمان لایا کہ اللہ تعالیٰ اُس کو ایک بیٹا دیئے گا۔ قوم بنی اسرائیل کو بتایا گیا۔ کہ وہ راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر وہ تمام شریعت کے احکام کی مکمل طور پر پیروی کریں گے۔

تورات شریف میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کا نمونہ

                   ہم نے اس نمونے کو بھی دیکھا کہ جو کوئی شریعت کی مکمل طور پر پیروی کرنے میں ناکام ہوا۔ اُس کو اللہ تعالیٰ کی عدالت کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس کی شروعات حضرت آدم سے ہوئی۔ جن کو صرف ایک نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی عدالت موت لاتی ہے کیونکہ اُس پاک ذات کے آگے سب ناکام اور ناپاک ہیں۔ یہ موت یا تو قربانی کی صورت میں کسی جانور پر یا پھر کسی انسان پر آتی ہے۔ جو شریعت پر مکمل طور پر عمل کرنے میں ناکام ہوگیا ہو۔ مندرجہ ذیل قربانیوں پر غور کریں۔

  • حضرت آدم کے لیے ایک جانور کی قربانی دی۔ تاکہ اُس کی کھال حاصل کی جاسکے۔
  • حضرت ہابیل نے جانور کی قربانی پیش کی۔ اس طرح ایک جانور کی موت ہوئی۔
  • حضرت نوح نے سیلاب کے بعد قربانی پیش کی۔ اس طرح ایک جانور کی موت ہوئی۔
  • حضرت لوط کے واقعہ میں نافرمانی کے باعث سدوم اور عمورہ کے لوگ مارے گئے۔ اور حضرت لوط کی بیوی نمک کا ستون (موت آئی) بن گئی۔
  • حضرت ابراہیم کی آزمائش میں اُس کے بیٹے کو قربان ہونا تھا۔ لیکن اُس کی جگہ ایک منڈھا ماراگیا۔ اور خدا نے یہ وعدہ کیا "خدا مہیا کرے گا”۔
  • فسح کے موقع پر کہا گیا تھا کہ ایک بکرہ قربان کیا جائے اور اس کا خون چوکھٹوں پر لگایا جائے۔ ورنہ نافرمانی کی صورت میں پہلوٹھا مارا جائے گا۔
  • اللہ تعالیٰ کی شریعت کے احکام کی پیروی مکمل طور پر نہ کرنے کے جرم میں آدمی کو یا پھر بکرے کو کفارے کے دن مرنا تھا۔

ان تمام تر نمونوں کا مطلب کیا ہے۔ ہم اس کے بارے میں جانتے جائیں گے جیسے جیسے ہم مطالعہ کو جاری رکھیں گے۔ لیکن اب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون تورات شریف کے اختتام پرمستقبیل کے بارے اہم پیغام دیتے ہیں، جن کو اُنہوں نے برائے راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کیا تھا۔ جو آج ہمارے لیے بڑے اہم ہیں۔ اُنہوں نے آنے والے "نبی” اور "برکات اور لعنتوں” کے بارے میں بتایا۔ ہم یہاں آنے والے نبی کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

آنے والا "نبی”

                   جب اللہ تعالیٰ نے کوہ سینا پر حضرت موسیٰ کو پتھرکی تختیاں دیں تو اُس وقت خدا نے اپنی آپ کو قادرِمطلق اور اپنی عطمت کو بیان کیا۔ تورات شریف میں پتھر کی تختیاں دی جانے سے پہلے اس واقعے کو یوں بیان کرتی ہے۔

18 اور کوہ سینا اُوپر سے نیچے تک دُھوئیں سے بھر گیا کیونکہ خُداوند شُعلہ میں ہو کر اُس پر اُترا اور دھواں تنُور کے دھوئیں کی طرح اوپر کو اٹھ رہا تھا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا ۔
19 اور جب قرناکی آواز نہایت ہی بلند ہوتی گئی تو مُوسیٰ بولنے لگا اور خُدانے آواز کے ذریعہ سے اُسے جواب دیا ۔                                                            خروج 19: 16-18

جب لوگ ڈرسے گھبراگئے۔ تورات شریف اس کو یوں بیان کرتی ہے۔

18 اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔
19 اور مُوسیٰ سے کہنے لگے تُو ہی ہم سے باتیں کیا کر اور ہم سن لیا کریں گے لیکن خُدا ہم سے باتیں نہ کرے تانہ ہو کہ ہم مر جائے ۔                                     خروج 20: 18-19

یہ واقعہ حضرت موسیٰ کے اسرائیلیوں کی راہنمائی کے 40 سال کے سب سے ابتدائی عرصہ میں پیش آیا۔ اور تورات شریف کے آخر میں اللہ تعالیٰ ماضی کی صورت حال کے بارے میں یاد کرواتا ہے۔ اور لوگوں کو ماضی کے خوف کی یاد دلاتا ہے۔ اور مستقبیل کے بارے میں وعدہ کرتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ نے اس کو تورات شریف میں تحریر کردیا تھا۔

15 خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا ۔ تُم اُسکی سُننا ۔
16  یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہو گا جو تُو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سُننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو تاکہ میں مر نہ جاوں ۔
17 اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں ۔
18  میں اُنکے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرونگا اور اپنا کلام اُسکے منہ میں ڈالونگا اور جو کچھ میں اُسے حکم دونگا وہی وہ اُن سے کہے گا ۔
19 اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جنکو وہ میرا نام لیکر کہے گا نہ سُنے تو میں اُنکا حساب اُس سے لونگا ۔
20  لیکن جو نبی گستا خ بنکر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جسکے کہنے کا میں نے اُسکو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے ۔
21 اور اگر تُو اپنے دل میں کہے کہ جو بات خداوند نے نہیں کہی ہے اُسے ہم کیونکر پہنچانیں ؟
22  تو پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور اُسکے کہے کے مطابق کچھ واقع یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں بلکہ اُس نبی نے وہ بات خود گستاخ بنکر کہی ہے تُو اُسے خوف نہ کرنا ۔                        استثنا 18: 15-22

اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ لوگ اُس کا مکمل طور پر احترام کریں۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ  نے تختیاں پر لکھے دس احکام کو پڑھا۔ تو لوگوں کے درمیان ایک بڑھا خوف چھاگیا۔ لیکن اب وہ مستقبیل میں دیکھتا ہے۔ اور وعدہ کرتا ہےکہ مستقبیل میں بنی اسرائیل میں سے ایک حضرت موسیٰ کی مانند نبی برپا ہوگا۔ اور پھر دو راہنما اصول دیئے جاتے ہیں۔

  1. ۔ اگر لوگ آنے والے نبی کی طرف توجہ نہ دیں گے تو اللہ تعالیٰ لوگوں سے اس کے بارے میں حساب لے گا۔
  2. ۔ اس بات کا فیصلہ یہ ہے کہ جوپیشن گوئی نبی نے کی اگر وہ اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ تو پھر اس کو پورا ہونا لازمی ہے۔

پہلے اصول کے مطابق یہ ضروری نہ تھا۔ کہ حضرت موسیٰ کے فوراً بعد ایک نبی آجاتا۔ لیکن آنے والے نبی کی خاص بات یہ تھی۔ کہ اُس کی سننی ہوگی۔ کیونکہ اُس کے پیغام کے ساتھ اُس کا کردار بھی لاثانی ہوگا۔ اُس کا کلام میرے مُنہ کی باتیں ہونگی۔ چونکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی مستقبیل کے بارے میں جانتا ہے۔ اور یقینی طور پر کوئی بھی مستقبیل کے بارے میں جانتا نہیں۔ دوسرا اصول یہ تھا کی لوگوں کی فیصلہ کرنے میں مدد کی جائے۔ کہ آیا یہ کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نہیں۔ اس راینمائی کی وجہ سے لوگ آنے والے "نبی ” کے بارے میں نبی اسرائیل سے توقع لگائے رکھتے۔ لیکن اس وعدے کو کبھی بھولا نہیں گیا تھا۔ ہم اگلے مضمون میں دیکھیں گے کہ کیسے حضرت موسیٰ دوسرے اصول کی مستقبیل کے بارے میں "برکت اور لعنت” کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔ اور اس طرح تورات کا اختتام ہوتا ہے۔

لیکن آنے والے بنی کے بارے میں کچھ خیالات کہ "وہ کون تھا” ؟ کچھ اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ حضرت محمد  کے بارے حوالہ دیا جاتا ہے۔ لیکن غور طلب بات ہے۔ کہ وہ نبی اسرائیلیوں میں سے ہی ہوگا۔ اس طرح وہ ایک یہودی ہوگا۔ تاہم اُن کے بارے میں یہ حوالہ نہیں دیا جاسکتا۔ کئی اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ حوالہ حضرت عیسی مسیح کے بارے میں ہے کیونکہ وہ اسرائیل میں سے یہودی قبیلہ میں سے تھے۔ اور اور جسطرح فرمایا گیا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اُن کے منہ میں ہوگا۔ وہ اُسی لیے صاحبِ اختیار کی طرح تعلیم دیتے۔ ہم مزید مفاہمت حاصل کرنے کے لیے مقدس کتابوں کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔

حضرت ابراہیم نے حضرت اضحاق یا حضرت آسماعیل کو قربان کیا؟

میرے بہت سارے دوست، جب کبھی حضرت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ کی بات کرتے ہیں۔ تو ہر بار وہ زور دیتے ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم کا بڑا بیٹا جو حضرت ہاجرہ سے پیدا ہوا۔ جسکا نام حضرت اسماعیل کی قربانی گزرانی گئی۔ تاہم میں نے جب قرآن شریف کی آیت کو پڑھا توحیران ہوگیا۔ جب میں نے اسی آیت کو اپنے دوستوں کو پڑھنے کو کہا تو وہ بھی پڑھ کر حیران سے ہوگئے۔ اس آیت میں ایسا کیا لکھا ہے؟ جو سب حیران ہوگے۔ حضرت ابرہیم کی تیسری نشانی کے اہم واقعہ میں ہم نے پڑھا اور پاک کتابوں میں سے جو حوالہجات پیش کئے گے۔ ان میں سے ایک خاص آیت کو میں نے یہاں پیش کیا ہے۔

سورۃ الصافات 37: 102

پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے۔ کہا میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، اللہ نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔

آپ اس حوالے میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ میں اس کے بیٹے کا نام بیان نہیں کیا گیا۔ تو اس طرح مسلہ مبہم ہو جاتا ہے۔ جب کوئی مسلہ یا چیز مبہم ہو جاتی ہے۔ تو بہترین حال یہ ہے کہ تحقیق اور مطالعہ کیا جائے۔ جب آپ ہورے قرآن شریف میں حضرت اسماعیل کے نام کی تحقیق کرتے ہیں۔ تو پورے قرآن شریف میں کُل 12 بار حضرت اسماعیل کا نام آیا ہے۔

  • دو بار حضرت اسماعیل کا ذکر اُن کے والد کے ساتھ آیا پے۔  2:125،127
  • پانچ بار حضرت اسماعیل کا ذکر اُن کے بھائی اور والد کے ساتھ آیا ہے۔ 2:140، 2:136، 2:133، 4:163، 3:84
  • پانچ بار ان کا ذکر انبیاء اکرام کے ساتھ ذکرآیا ہے۔ 6:86، 14:39، 19:54، 21:85، 38:48
  • جہاں دو بار حضرت اسماعیل کا ذکر ان کے والد کے ساتھ آیا ہے تو وہاں دعا کا ذکر ہے۔ قربانی کا ذکر نہیں ہے۔

سورۃ البقرہ    2:125،127

اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مربع اور امان بنایا اور ابرہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناوٰ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجدہ والوں لے لیے۔  125

اور جب عرض کی ابراہیم نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کررے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی۔ 127

لہذا قرآن شریف نے کھبی حضرت اسماعیل کا نام لیکر یہ نہیں کہا۔ کہ حضرت اسماعیل ہی قربان ہونے کے لیے آزمائے گے۔ وہاں صرف بیٹا کہا کر ذکر کیا گیا ہے۔ تو پھر کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل ہی قربانی کے لیے آزمائے گے؟

حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کی تفسیر:

یوسف علی کو قابلِ اعتماد قرآن شریف کی تفسیر کرنے والا اور ترجمہ کرنے والا مانا جاتا ہے۔ اس کی تفسیر کے چند نوٹ یہاں پر موجود ہیں۔ جس میں حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کا ذکر ہے۔

4071

یہ شام اور فلسطین کی زرخیز زمین تھی۔ اسلامی روایات کے مطابق پہلا حضرت اسماعیل تھا۔ اس نام کی جڑ سمیاہ سے ہے۔ جسکا مطلب سننا  ہے۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کی دعا سن لی تھی۔ حضرت ابراہیم کی عمر 86 برس کی تھی۔ جب حضرت اسماعیل پیدا ہوئے۔  پیدایش کی کتاب 16:16

4076

ہمارے ترجمہ کا یہودیوں اور عسیائیوں کے پرانے عہدنامے کا ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت اضحاق اس وقت پیدا ہوئے جب حضرت ابراہیم 100 برس کے تھے۔ پیدایش کی کتاب 2:15 اور حضرت اسماعیل کی پیدایش کے وقت حضرت ابراہیم 86 برس کے تھے۔ پیدایش کی کتاب 16:16 تو حضرت اضحاق کی پیدایش پر حضرت اسماعیل 14 برس کے تھے۔ ان 14 برسوں میں صرف حضرت اسماعیل ہی حضرت ابراہیم کے بیٹے تھے۔ اُس وقت حضرت اضحاق حضرت ابراہیم کا بیٹا نہیں تھا۔ پرانے عہد نامے میں قربانی کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

  پیدایش کی کتاب 22:2

تب آس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لیکر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاونگا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔

پہلے نوٹ میں یوسف علی نے صرف اس بات کو بنیاد بنایا ہے کہ یہ ایک اسلامی روایت ہے۔ اُس نے قرآن شریف میں سے کوئی حوالہ نہیں دیا۔

اُس نے اپنے دوسرے نوٹ میں۔ اس بات پر غور کیا کہ ” اپنے اکلوتے بیٹے کو جو تیرا بیٹا ہے۔        پیدایش کی کتاب 22:2 اور اسماعیل 14 برس کا تھا اس لیے حضرت اسماعیل ہی کو قربانی کے لیے پیش کیا ہوگا۔ لیکن یہاں یوسف علی اس بات کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ پچھلے باب میں پیدایش کی کتاب 21 میں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو خاندان میں جھگڑا ہونے کی وجہ سے دور بھیج دیا تھا۔ اس  جھگڑے کے بارے میں یہاں تفصیل سے پڑھیں۔ کلیک کریں

حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کے لیے تورات کی گواہی۔

لہذا قرآن شریف خاص طور پر بیان نہیں کرتا کہ کس بیٹے کو قربانی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ لیکن تورات شریف میں اس کا ذکر بڑھے واضح انداز سے ہوا ہے۔ آپ اس حوالے میں دکھ سکتے ہیں۔ اس ایک باب میں کُل 6 بار حضرت اضحاق کے نام کا ذکر ہوا ہے۔ 22:2،3،7،6 اور 2 بار 9 ویں ایت میں۔

حضرت محمد، توریت شریف کی حمایت کرتے ہیں:

جو تورات شریف آج ہمارے پاس موجود ہے۔ اسی تورات کو حضرت محمد کی حمایت حاصل ہے۔ جسکا ذکر ایک احدیث میں بڑا واضح آیا ہے۔

عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے: یہودیوں کا ایک گروپ آیا اور رسول اللہ کو دعوت دی … انہوں نے کہا کہ: ‘ابو القاسم، ہمارے لوگوں میں سے ایک کسی عورت سے زنا کا ارتکاب کیا ہے. تاکہ ان پر فیصلہ سنیا جائے۔ اللہ کے رسول کے لئے ایک تکیا رکھا گیا۔ وہ اس پر بیٹھ گئے اور آپ نے کہا کہ. "توریت لے آؤ”:. اس کے بعد تورات کو لایا گیا. اس کے بعد انہوں نے اپنے نیچے سے تکیا لیکر اس پر تورات کو رکھ دیا: اور یوں کہا ” میں تجھ پر اور جس نے تجھ کو نازل کیا ہے ایمان رکھتا ہوں”

سنن ابوداود کتاب 38، نمبر 4434

حضرت عیسٰی مسیح، توریت شریف کی حمایت کرتے ہیں

جوتورات شریف آج ہمارے پاس موجود ہے۔ حضرت عیسٰی مسیح نے بھی اسی تورات شریف کی حمایت کی ہے۔ جس کو ہم نے میری ایک پوسٹ میں دیکھا ” کس طرح انہوں نے اعادہ کیا کہ پہلی کتابیں ہمارے لئے سب سے اہم تھیں"اس مضمون میں اس کی طرف سے ایک حوالے میں حضرت عیسٰی کا کہنا ہے کہ

متی 5 : 18-19

کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلیگا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔ پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑیگا اور یہی آدمیوں کو سکھائیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائیگا لیکن جو اُن پر عمل کریگا اور اُنکی تعلیم دیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائیگا۔

انتباہ! تورات سے بڑھ کر کوئی روایت نہیں

یہ کبھی بھی روا نہیں ہوگا کہ ایک ہلکی سی روایت کے لیے حضرت موسٰی کی تورات کو برطرف کردیا جائے۔ حقیقت میں حضرت عیسٰی مسیح یہودیوں پر سخت تنقید کرتے ہیں کیوں کہ وہ اپنی روایات کو تورات شریف سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ حضرت عیسٰی مسیح کا یہودی رہنماوں کے ساتھ اختلاف یہاں اسی حوالے میں دیکھ سکتے ہیں۔

متی 15 : 3-8

اس نے جواب میں اُن سے کہا کہ تم اپنی روایت سے خدا کا حکم کیوں ٹال دیتے ہو؟۔ کیونکہ خدا نے فرمایا ہے تو اپنے باپ کی اور اپنی ماں کی عزت کرنا اور جو باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ مگر تم کہتے ہو کہ جو کوئی باپ یا ماں سے کہے کہ جس چیز کے تجھے مجھ سے فائدہ پہنچ سکتا تھا وہ خدا کی نذر ہو چکی۔ تو وہ اپنے باپ کی عزت نہ کرے۔ پس تم نے اپنی روایت سے خدا کا کلام باطل کردیا۔ اے ریاکارو یسعاہ نے تہمارے حق میں کیا خوب نبوت کی کہ۔ یہ امت زبان سے تو میری عزت کرتی ہے مگر انکا دل مجھ سے دور ہے۔

نبی انتباہ یا ورننگ کرنا بڑا واضع ہے کہ روایت کے لیے اللہ لعالیٰ کے پیغام کو بر طرف نہیں کرنا چاہئے۔

آج بحیرہ مردار کے صحیفۓ تورات شریف کی صداقت پیش کرتے ہیں

مندرجہ ذیل تصویر سے ہمیں تورات شریف کے ابتدائی مسودات کی تاریخوں کا پتا چلتا ہے۔ ( اہم اصول میں سے ایک جو متنی تنقید میں استمال کیا جاتا ہے جس سے ہم یہ تعین کرسکتے ہیں کہ ایک کتاب کی معتبریت کیا ہے؟ یہاں پر آپ میری ایک پوسٹ ملاظہ فرمائیں) بحیرہ مردار کے مسودات کی تاریخ 200 ق م ہے۔ جسکا مطلب ہے کہ دونوں انبیاء اکرام یعنی حضرت محمد  اور حضرت عیسٰی مسیح با لکل اسی تورات کا حوالہ دے رہے تھے۔ جس تورات شریف کو آج ہم پڑھتے ہیں۔

یہ ہی ایک معیار ہے کہ ہم واپس مقدس کتابوں کو پڑھیں۔ اس طرح ہم ایک بنیاد قائم کرسکتے ہیں۔ جو کچھ ابنیاء اکرام نے ارشاد فرمایا ہے اس کو جانیں۔ اس کی بجائے ہم اپنی قیاس آرئیوں کے جھگڑے میں نہ پڑھیں۔

حضرت ہابیل اور حضرت قابیل ہمارے لیے نشان

حضرت ہابیل اور حضرت قابیل ہمارے لیے نشان

گذشتہ مضمون میں ہم نے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کی نشانیوں کے بارے میں دیکھا ۔حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے دو بیٹے تھے۔ جنہوں نے ایک دوسرے کا سامنا بڑے تشدد کے ساتھ کیا۔ یہ کہانی ہے انسانی تاریخ کے پہلے قتل کی۔ لیکن ہم اس کہانی سے عالمگیر اصول سیکھنا چاہتے ہیں ۔ چلیں آئیں پڑھیں اور سکھیں ۔

سورہ المائدہ 5 : 28-31

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائیگا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لیے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاونگا۔  مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرئہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔

مگر اس کے نفس نے اُس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اُسنے اُسے قتل کر دیا اور خسارہ اُٹھانیوالوں میں ہوگیا۔

اب اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اُسے دکھا ئے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے، کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپادیتا۔ پھر وہ پشمان ہوا۔

پیدائش 4 : 1-12 

اور آدم اپنی بیوی حوا کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور اسکے قائن پیدا ہوا۔ تب اُس نے کہا مجھے خداوند سے ایک مرد ملا

پھر قائن کا بھائی ہابل پیدا ہوا اور ہابل بھیڑ بکریوں کا چرواہا اور قائن کسان تھا۔

چند روز کے بعد یوں ہوا کہ قائن اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خداوند کے واسطے لایا۔

اور ہابل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں کا اور کچھ اُن کی چربی کا ہدیہ لایا ۔ اور خداوند نے ہابل کو اُس کے ہدیہ کو منظور کیا۔

پر قائن کو اور اُسکے ہدیہ کو منظور نہ کیا اس لیے قائن نہایت غضبناک ہوا اور اُس کا منہ بگڑا۔

اور خداوند نے قائن سے کہا تو کیوں غضبناک ہوا؟ اور تیرا منہ کیوں بگڑا ہوا ہے۔ ؟ ۔

اگر تو بھلا کرے تو کیا تو مقبول نہ ہو گا؟ اور اگر تو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے پر تو اس پر غالب آ۔

اور قائن نے اپنے بھائی ہابل کو کچھ کہا اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یوں ہوا کہ قائن نے اپنے بھائی ہابل  پر حملہ کیا اور اسے قتل کرڈالا۔

تب خداوند نے قائن سے کہا کہ تیرا بھائی ہابل کہا ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں ۔ کیا میں اپنے بھائی کا محافظ ہو؟ ۔

پھر اس نے کہا کہ تو نے یہ کیا کِیا؟ تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھکو پکارتا ہے۔

اور اب تو زمین کی طرف سے لعنتی ہوا۔ جس نے اپنا منہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لے ۔

جب تو زمین کو جوتے گا تو وہ اب تجھے اپنی پیداوار نہ دیگی اور زمین پر تو خانہ خراب اور آوار ہوگا۔

حضرت ہابیل اور قابیل دو بیٹے دو قربانیوں کے ساتھ

تورات شریف میں حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے دو بیٹے ہیں ۔ جن کے نام قائن اور ہابل ہیں ۔ قرآن شریف میں اُن کے نام درج نہیں ۔ لیکن اسلامی روایت میں اُن کے نام قابیل اور ہابیل ہیں ۔ اُن دونوں نے اپنی اپنی قربانی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کی۔ لیکن ہابیل کی قربانی قبول ہوگی اور قابیل کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ اسی حسد میں قابیل نے اپنے بھائی کا قتل کردےا۔ لیکن قابیل اپنی شرمندگی اللہ تعالیٰ سے چھپا نہ سکا۔

یہاں ایک اہم ترین سوال یہ ہے۔ کیوں ہابیل کی قربانی قبول ہوگی اور قابیل کی قربانی نہ قبول ہوئی؟ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سوال کا جواب دونوں بھائیوں میں پوشیدہ ہے۔ لیکن غور سے مطالعہ کرنے سے حوالہ ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ کہ ہم اس سوال کے بارے میں سوچیں ۔ تورات شریف ہمیں یہ بتاتی ہے۔ کہ اُن کی قربانیوں میں فرق تھا۔ قابیل کھیت کا پھلاور سبزیاں لایا، اسطرح ہابیل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں کی چربی قربانی کے طور پر لایا۔ اسکا مطلب ہے کہ ہابیل نے ایک جانور اپنے گلہ سے قربان کیا۔ یہ جانور بھیڑ یا بکری تھی۔

یہاں پر ہم حضرت آدم ؑ کا ایک ظاہری نشان دیکھ سکتے ہیں ۔حضرت آدم ؑ نے کوشش کی کہ وہ اپنی شرمندگی پتوں سے چھپالے، لیکن ایک جانور کی کھال سے (جانور کی موت) اُن کو موثر طریقے سے ڈھانپ دیا۔ پتوں ، پھلوں اور سبزیوں میں خون نہیں ہوتا اور اسی طرح لوگوں اور جانوروں میں اس قسم کی زندگی نہیں ہوتی۔ خون کے بغیر پتے حضرت آدم ؑ کے لیے کافی نہ تھے اسطرح خون کے بغیر پھل اور سبزیاں قابیل کی قربانی بھی قابل ِ قبول نہ تھی۔ ہابیل کا قربانی کے لیے لائی ہوئی چربی سے ظاہر تھا کہ کسی جانور کا خون بہایا گیا تھا۔ جس طرح حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے چمڑے کے کپڑے بنانے کے لیے جانور کا خون بہایا گیا۔

شاید ہم اس نشانی کو اس محاورے کے ساتھ مختصرً کر سکتے ہیں۔ جب میں لڑکا تھا تو میں نے اس محاورے کو سیکھا۔

جہنم کو جانے والا راستہ کھولا ہے اور دلکش

یہ محاورا قابیل پر ثابت آتا ہے ۔وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا اور اُس کے حضور قربانی چڑھتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ تو اُس کی قربانی کو قبول کیا نہ ہی اُس کو قبول کیا۔ لیکن کیوں؟ کیا اُس کا رویہ ٹھیک تھا؟ ہوسکتا ہے قربانی چڑھانے کے لیے اُسکی بہترین کوشش ہو۔

 لیکن یہاں پر حضرت آدم ؑ کی نشانی سے ہمیں سراغ ملتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کو فیصلہ سُنایا۔ تو اُن کو فانی بنادےا۔ اسطرح موت اُن کے گناہ کی ادائیگی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو نشانی دی کہ ایک جانور کی کھال سے اُن کی شرمندگی ڈھانپ دی گئی۔ لیکن اسکا مطلب ہے کہ ایک جانور اُن کے لیے مرگیا۔ اُسکا خون بہایا گیا تاکہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کی شرمندگی ڈھانپی جائے۔ اب اُن کے بیٹوں نے قربانیاں لائیں لیکن ہابیل کی قربان(چربی کے حصہ) سے ظاہر ہے کہ خون بہایا گیا اور موت واقع ہوئی۔ پتے یا پھل اُس وقت تک مر نہیں سکتے جب تک وہ زندہ نہ ہو۔ اس طرح اُس میں خون نہیں بہایا گیا تھا۔

خون کا بہایا جانا ہمارے لیے نشانی ہے

اللہ تعالیٰ ہمیں یہاں ایک سبق سکھا رہے ہیں ۔ ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ اللہ تعالیٰ تک ہم کیسے رسائی حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے معیار مقرر کردیا ہے ۔ اب ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اُس کاحکم مانے یا نہ مانے۔ معیار یہاں پر یہ ہے کہ قربانی دی جائے جس میں خون بہانا اور موت واقع ہو۔ شاید میں کسی دوسرے معیار کو تر جیح دونگا کیونکہ پھر میں اپنے وسائل میں سے دے سکوں گا۔ یعنی میں وقت ، توانائی ، پیسہ اور دُعا کرسکوں گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا معیار ہے قربانی دی جائے جس میں خون بہایا جائے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی کافی نہیں ہے۔ آئیں ہم دیکھیں کہ کس طرح پیشن گوئی پوری ہوتی ہے اور کس طرح سے یہ نشان جاری رہتا ہے۔