اختیتام: برکات اور لعنتیں

ہم نے پیچھلے سبق میں سیکھا۔ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ اصول دیتا ہے۔ جن سے ہم ایک سچے پیغمبر کو جان سکتے ہیں۔ ایک پیغمبر کی رسالت کے ایک حصے میں پیش گوئی پائی جاتی ہے۔ انہی اصولوں کو حضرت موسیٰ نے اپنایا۔ اُس نے بنی اسرائیل کے لیے مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کیں۔ اگر حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی تھے تو اُن پیغام کو سچا ہونا لازمی تھا۔ ان پیش گوئیوں کا تعلق بنی اسرائیل کی برکات اور لعنتیوں سے تھا۔ آپ ان تمام برکات اور لعنتوں کو مکمل طور پر پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن یہاں میں نے چند ایک کو مثال کے طور پر پیش کی ہیں۔

حضرت موسیٰ کی برکات

                             حضرت موسیٰ کی شاندار برکات کا بیان اس طرح شروع ہوتا ہے۔ کی اگر بنی اسرائیل دس احکام کی پیروی کریں گے۔ تو پھر وہ ان برکات کو حاصل کرسکیں گے۔ یہ برکات دوسری قوموں کے لیے ایک نشان ہوگا۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جان سکیں اور اُس کو قبول کرسکیں۔ جس طرح یہ لکھا ے۔

اور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی۔

                                                                                                استثنا 28: 10

تاہم اگر وہ اُن دس احکام کی پیروی نہیں کریں گے۔ تو وہ برکات کے بدلے لعنتیں حاصل کریں گے۔ لعنت برکات کے برعکس ملیں گی۔ پھر ان لعنتوں سے بھی دوسری قوموں میں نشان ہوگا۔

اور اُن سب قوموں میں جہاں جہاں خداوند تجھ کا پہنچائے گا تو باعث حیرت اور ضربُ المثل اور انگشت نُما بنے گا۔                                                                          استثنا 28: 37

یہ لعنتیں بنی اسرائیل کے لیے ہونگی۔

اور وہ تجھ پر اور تیری اولاد پر سد نشان اور اچنبھے کے طور پر رہیں گی۔

                                                                                                استثنا 28: 47

اور اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ سب سے بُری لعنت یہ ہوگی جو دوسروں کی طرف سے آئیں گی۔

49 خداوند دور سے بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھا لائے گا جیسے عُقاب ٹُوٹ کر آتا ہے۔ اُس قوم کی زبان کو تو نہیں سمجھے گا۔ 50 اُس قوم کے لوگ تُرش رو ہوں گے جو نہ بُڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوانوں پر ترس کھائیں گے۔ 51 اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے اور وہ تیرے لئے اناج یا مے یا تیل یا گائے بیل کی بڑھتی یا تیری بھیڑ بکریوں کے بچے کچھ نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ تجھ کو فنا نہ کر دیں۔ 52 اور وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کئے رہیں گے جب تک تیری اُونچی اُونچی فصیلیں جن پر تیرا بھروسا ہوگا گر نہ جائیں۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی اُس ملک کی سب بستیوں میں کریں گے۔ جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے۔

                                                                                                استثنا 28: 49-52

اور یہ سب سے بدترین ہوگی۔

 63 تب یہ ہوگا کہ جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تم کر بڑھانے سے خداوند خوشنود ہوا ایسے ہی تم کو فنا کرانے اور ہلاک کر ڈالنے سے خداوند خوشنود ہوگا اور تم اُس ملک سے اُکھاڑدئے جاو گے جہاں تو اُس پر قبضہ کرنے کو جا رہا ہے۔ 64 اور خداوند تجھ کوزمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام قوموں میں پراگندہ کرے گا۔ وہاں تو لکڑی اور پتھر کے اور معبودوں کی جن کو تو یا تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا۔ 65 اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام ملے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا۔                            استثنا   28: 63-65

یہ لعنتوں اور برکتوں کے لیے عہد قائم کیا گیا تھا۔

12 تاکہ تو خداوند اپنے خدا کے عہد میں جسے وہ تیرے ساتھ آج باندھتا اور اُس کی قسم میں جسے وہ آج تجھ سے کھاتا ہے شامل ہو۔ 13 اور وہ تجھ کو آج کے دن اپنی قوم قرار دے اور وہ تیرا خدا ہو جیسا اُس نے تجھ سے کہا۔ جیسی اُس نے تیرے باپ دادا ابراہیم اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھائی۔ 14 اور میں اس عہد اور قسم میں فقط تم ہی کو نہیں۔ 15 پر اُس کو بھی جو آج کے دن خداوند ہمارے خدا کے حضور یہاں ہمارے ساتھ کھڑا ہے اور اُس کو بھی جو آج کے دن یہاں ہمارے ساتھ نہیں اُن میں شامل کرتا ہوں۔                                                             استثنا 29: 12-15

دوسرے الفاظ میں اس عہد کا تعلق اسرائیل کے بچوں کے ساتھ اور مستقبل کی نسلوں کے ساتھ ہوگا۔ دراصل یہ عہد برائے راست مستقبل کی نسلوں سے تھا۔ یعنی ان دونوں کے لیے جو اسرائیل اور غیر قومیں میں سے ہونگی۔

21 اور خداوند اس عہد کی اُن سب لعنتوں کے مطابق جو اس شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں اُسے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے بُری سزا کے لیے جُدا کرے گا۔ 22 اور آنے والی پشتوں میں تمہاری نسل کے لوگ جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے اور پردیسی بھی جو دور کے ملک سے آئیں گے جب وہ اس ملک کی بلاوں اور خداوند کی لگائی ہوئی بیماریوں کو دیکھیں گے۔ 23 اور یہ بھی دیکھیں گے کہ سارا ملک گویا گندھک اور نمک بنا پڑا ہے اور ایسا جل گیا ہے کہ اس میں نہ تو کچھ بویا جاتا نہ پیدا ہوتا اور نہ کسی قسم کی گھاس اُگتی ہے اور وہ سدوم اور عمورہ اور ادمہ اور ضبوئیم کی طرح اُجڑگیا جن کو خداوند نے اپنے غضب اور قہر میں تباہ کرڈالا۔ 24 تب وہ بلکہ سب قومیں پوچھیں گی کہ خداوند نے اس ملک سے ایسا کیوں کیا ؟ اور ایسے بڑے قہر کے بھڑکنے کا سبب کیا ہے؟

25 اُس وقت لوگ جواب دیں گے کہ خداوند ان کے باپ دادا کے خدا نے عہد ان کے ساتھ ان کو ملک مصر سے نکالتے وقت باندھا تھا اُسے اِن لوگوں نے چھوڑ دیا۔ 26 اور جا کر اور معبودوں کی عبادت اور پرشتش کی جن سے وہ واقف نہ تھے اور جن کو خداوند نے ان کو دیا بھی نہ تھا۔ 27 اسی لیے اس کتاب کی لکھی ہوئی سب لعنتوں کو اس ملک پر نازل کرنے کے لیے خداوند نے قہر اور غصہ اور بڑے غضب میں ان کو ان کے ملک سے اُکھاڑ کر دوسرے ملک میں پھینکا جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔                                                                   استثنا 29: 21-27

کیا برکات اور لعنتیں آئیں؟

جن برکات کا وعدہ کیا گیا تھا وہ شاندار اور حیران کن تھیں لیکن لعنتوں کی دھمکی شدید قسم کی تھی۔ بہرحال یہاں پر سب سے اہم ترین سوال یہ کہہ سکتے ہیں۔ ” تو کیا یہ سب باتیں ہوئیں ؟ ” اس کا جواب دیتے ہوئے ہم جانیے گے۔ کہ حضرت موسیٰ ایک سچے پیغمبر تھے۔ اور یہ بھی دیکھیں گے کہ آج ہماری زندگی میں اُن باتوں سے کیا راہنمائی ملتی ہے۔ جسکا جواب ہماری مٹھی میں ہے۔ کتاب مقدس کے عہد نامہ عتیق میں سب سے زیادہ بنی اسرائیل کی تاریخ لکھی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے۔ کہ اس تاریخ میں کیا ہوا۔ اس کے علاوہ ہم نے پرانے عہد نامے سے ہٹ کر یہودیوں کے مورخ یوسیفس اور یونانی اور رومی مورخ  Tacitus تاست اور اس کے علاوہ ہمارے پاس آثارِقدیمہ سے بہت سے شواہد پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام زرائع بنی اسرائیل کی تاریخی تصویر کو مل کر پینٹ کرتے ہیں۔ اور یہ ہمارے لیے ایک اور نشان ہے۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا جائزہ ہے۔ جس کو ہم تصویروں اور ٹائم لائن کی مدد سے معلوم کرسکتے ہیں کہ اُن کے ساتھ کیا واقعات پیش آئے۔

ہم نے اس تاریخ میں سے کیا سیکھا؟ جی ہاں! حضرت موسیٰ نے جن لعنتوں کا کیا وہ اُسی طرح وقوع میں آئیں۔ اور یہ بالکل اُس طرح وقوع میں آئیں جس طرح کئی ہزار سال پہلے لکھی گئیں تھیں۔ (یاد رکھیں یہ پشن گوئیاں ان واقعات کے رونما ہونے سے پہلے لکھیں گئیں)

لیکن جن لعنتوں کی بات حضرت موسیٰ نے کی اُن کا اختتام نہیں ہوا تھا۔ ان کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں دیکھیں گے کہ حضرت موسیٰ کیسے ان لعنتوں سے ایک نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔

1 اور جب یہ سب باتیں یعنی برکت اور لعنت جن کو میں نے آج تیرے آگے رکھا ہے تجھ پر آیئں اور تو اُن قوموں کے بیچ جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو ہنکا کر پہنچا دیا ہو اُن کو یاد کرے۔ 2 اور تو اور تیری اولاد دونوں خداوند اپنے خدا کی طرف پھریں اور اُس کی بات اِن سب احکام کے مطابق جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے مانیں۔ 3 تو خداوند تیرا خدا تیری اسِیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا اور پھر کر تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہوجمع کرے گا۔ 4 اگر تیرے آوارہ گرد دنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کرکے لے آئے گا۔ 5 اور خداوند تیرا خدا اُسی ملک میں تجھ کو لائے گا جس پر تیرے باپ دادا نے قبضہ میں لائے گا۔ پھر وہ تجھ سے بھلائی کرے گا اور تیرے باپ دادا سے زیادہ تجھ کو بڑھائے گا۔

                                                                                      استثنا 30: 1-5

یہاں پر ایک بار پھر سے سوال پوچھیں گے۔ کیا واقعی یہ واقعات رونما ہوئے؟ یہاں کلک کریں اور ان کے تسلسل کی تاریخ کو دیکھیں۔

تورات شریف کا اختتام اور زبور شریف کی آمد

                             ان برکات اور لعنتوں کے سنائے جانے کے بعد تورات شریف کا نزول بند ہوجاتا ہے۔ حضرت موسیٰ تورات شریف کے مکمل ہونے کے تھوڑے عرصے بعد انتقال کر جاتے ہیں۔ پھر بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کے شاگرد حضرت یشوع کی راہنمائی میں ملکِ موعودہ میں داخل ہوتی ہے۔ اور وہ وہاں رہنا شروع کرتے ہیں۔ جس طرح بنی اسرائیل کی تاریخ میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ وہ وہاں بغیر بادشاہ اور دارلحکومت کے رہتے۔ جب تک حضرت دواد بادشاہ بن کر سامنے نہ آئے، حضرت دواد پرانے عہد نامے کے ایک اور حصہ کو شروع کرتے ہیں۔ جیسے قرآن شریف زبور شریف کا نام دیتا ہے۔ ہمیں زبور شریف کو بھی پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے کیونکہ جن نشانات کو تورات شریف نے شروع کیا تھا۔ یہ اُن کو اس حصہ میں جاری رکھتا ہے۔ جو ہمیں انجیل شریف کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ ہمارے اگلے سبق میں ہم سیکھیں گے کہ قرآن شریف کیسے حضرت عیسیٰ اور زبور شریف کے بارے میں بیان کرتا ہے۔

بنی اسرائیل کی تاریخ: کیا حضرت موسیٰ کئ نبوتی لعنیں واقعہ ہوئیں؟

بنی اسرائیل کی تاریخ کو آسانی سے سمجھنے کے لیے میں نےاس کی تاریخ کا ٹائم لائن بنایا ہے۔ ہم اس ٹائم لائن میں بنی اسرائیل کے انبیاء اکرام کو حضرت عیسٰی مسیح کی تاریخ تک رکھیں گے۔

بائبل کے معروف ترین انبیاء اکرام
بائبل کے معروف ترین انبیاء اکرام

اس ٹائم لائن میں ویسٹرن کلینڈر استعمال کیا گیا ہے۔ (یادرکھیں کہ اس میں قبل از مسیح یعنی BC کی تاریخ رکھی گئی ہے) رنگ دار سلاخیں بنیوں کی زندگی یا دور کو ظاہر کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ دونوں اپنی نشانیوں کی نسبت بہت ہی اہم ہیں جن کا ہم نے پہلے ہی مطالعہ کرلیا ہے۔ حضرت داود کی یہ پہچان ہے کہ اُن پر زبور شریف نازل ہوا۔ اور وہ بنی اسرائیل کے پہلے نبی تھے۔ جنہوں نے یروشلیم کو اپنا دارلحکومت بنایا۔ حضرت عیسیٰ مسیح بھی اہم نبی ہیں۔ کیونکہ وہ انجیل شریف کا مرکز ہیں۔

ہم سبز رنگ میں دیکھ سکتے ہیں کہ بنی اسرائیل مصر میں غلام تھی۔

اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام
اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام

 اس سبز رنگ کا دور اُس وقت شروع ہوتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم کے پڑپوتے حضرت یوسف نے اپنے لوگوں کو مصر میں بلایا۔ لیکن وہ وہاں غلام بن گئے۔ اور حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے فسح کی نشانی کے زریعے نکالا۔

اس طرح حضرت موسیٰ کے دور کو پیلے رنگ میں دیکھایا گیا ہے

یروشلم میں بادشاہ کے بغیر اسرائیل کی خود مختارحکومت
یروشلم میں بادشاہ کے بغیر اسرائیل کی خود مختارحکومت

 مصر کی غلامی کے بعد وہ اسرائیل (فلسطین) کی سرزمین پر رہنے لگے۔ حضرت موسیٰ نے اپنی زندگی کے آخرمیں اُن پر برکات اور لعنتوں کا اعلان کیا۔ جب ٹائم لائن کی سبز رنگ دار سلاخ پیلے رنگ کی طرف جاتی ہے۔ تو اس عرصے میں کئی سالوں وہ اسی ملک موعودہ کی سرزمین پر رہے۔ جس کا وعدہ حضرت ابراہیم کی پہلی نشانی میں کیا تھا۔ اس دور میں نہ ہی اُن کے پاس کوئی بادشاہ تھا۔ اور نہ ہی یروشلیم اُن کا دارالحکومت تھا۔

تاہم حضرت داود کے (1000) ایک ہزار قبل مسیح آنے سے بنی اسرائیل کے حالات بدل جاتے ہیں۔

حضرت داود اور ان کے بعد دوسرے بادشاہوں کی یروشلیم میں حکومت
حضرت داود اور ان کے بعد دوسرے بادشاہوں کی یروشلیم میں حکومت

حضرت داود نے یروشلیم کو فتح کیا اور اس کو دارلحکومت بنایا۔ جہاں پر بادشاہ کا محل بنایا گیا۔ حضرت داود کو حضرت سموائیل نے مسح کیا تھا اور اُس کا بیٹا سلیمان اپنی عقل، حکمت اور کامیبوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ حضرت سلیمان نے ایک اعلیٰ شان ہیکل کو یروشلیم میں تعمیر کیا۔ حضرت داود کی نسل نے 400 سال تک حکمرانی کی اور اس دور کو پیلے رنگ میں واضع کیا ہے۔ (1000-600 قبل مسیح) یہ دور بنی اسرائیل کے لیے شاندار تھا۔ اُنہوں نے خدا کی برکات اور وعدوں کو دیکھا۔ وہ دنیا کی طاقت وار قوم تھی۔ اُن کا اعلیٰ درجہ کا سماج اور ثقافت تھی۔ یہ اُس وقت کا دور تھا۔ جب انبیاءاکرام اللہ تعالٰی سے پیغام لیتے اور اُس کو حضرت داود کی زبور شریف میں درج کرتے جاتے۔ جس کو خود حضرت داود نے شروع کیا تھا۔ لیکن کیا وجہ تھی کہ بہت زیادہ انبیاءاکرام کو بھیجا گیا؟ تاکہ وہ اُن کو انتباہ کرسکیں اور یاد دلائیں کہ حضرت موسیٰ کی بتائیں ہوئیں لعنتیں نازل ہوسکتیں ہیں۔ لیکن بنی اسرائیل نے اُن انبیاء اکرام کی ایک نہ سُنی۔

آخرکار 600 قبل مسیح میں یہ لعنتیں نازل ہوگیئں۔ بابل سے ایک طاقتور بادشاہ نبوکدنظر آیا۔ اور جس طرح حضرت موسیٰ نے لعنتوں کے بارے میں نبوت کی۔ درج زیل نبوت کا مطالعہ کریں۔

49  خداوند دُور سے بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھالائے گا جیسے عقاب ٹوٹ کر آتا ہے ۔ اُس قوم کی زبان کو تُو نہ سمجھے گا ۔
50 اُس قوم کے لوگ تُرش رو ہونگے جو نہ بڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوانوں پر تر س کھائیں گے ۔
51  اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے اور وہ تیرے لیے اناج یا مَے یا تیل یا گائے بیل کی بڑھتی یا تیری بھیڑ بکریوں کے بچے کچھ نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ تجھ کو فنا نہ کر دیں ۔
52  اور وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کیے رہیں گے جب تک تیری اونچی اونچی فصلیں جن پر تیرا بھروسا ہو گا گِر نہ جائیں ۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی اُس ملک کی سب بستیوں میں کریں گے جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے ۔

                                                                                      استثناء 28: 49-52

نبوکدنظر نے یروشلیم کو فتح کیا اور اُس کو جلادیا اور سیلمانی ہیکل کو تباہ کردیا۔ جس کو خود حضرت سلیمان نے بنوایا تھا۔ اُس نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر پوری بابلی حکومت میں بطوراقلیت پھیلا دیا۔ صرف اُس نے غریب اسرائیلیوں کو پیچھے چھوڑدیا۔ اس طرح حضرت موسٰی کی نبوت پوری ہوئی۔

63  تب یہ ہو گا کہ جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تُم کو بڑھانے سے خداوند خوشنود ہوا ایسے ہی تمکو فنا کرانے اور ہلاک کر ڈالنے سے خداوند خوشنود ہو گا اور تُم اُس ملک سے اُکھاڑ دِئے جاو گے جہاں تُو اُس پر قبضہ کرنے کو جا رہا ہے ۔
64  اور خداوند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرےتک تمام قوموں میں پراگندہ کرے گا ۔ وہاں تُو لکڑی اور پتھر کے اور معبودوں کی جنکو تُو ہا تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا ۔                                                                                   اسثناء 28: 63-64

بابل نے فتح کیا اور بابل میں جلاوطن رہے
بابل نے فتح کیا اور بابل میں جلاوطن رہے

70 سال کا عرصہ سُرخ رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ جس میں بنی اسرائیل نے غلامی کے طور پر ملکِ موعودہ سے باہر زندگی بسر کی۔

اس کے بعد شاہ فارس خورس نے بابل کو فتح کیا اور وہ دنیا کا طاقتور شخص بن گیا۔ اور اُس نے بنی اسرائیل کو واپس ملکِ موعودہ میں جانے دیا۔

اسرائیل میں واپسی لیکن اسرائیل فارسی سلطنت کا صوبہ بن گیا
اسرائیل میں واپسی لیکن اسرائیل فارسی سلطنت کا صوبہ بن گیا

تاہم اب وہ غلامی سے رہائی کے بعد ایک آزاد ریاست کے طور پر نہیں رہتے تھے۔ بلکہ اسرائیل فارسی سلطنت کی حکومت کا ایک صوبہ بن گیا۔ یہ 200 سال تک ایک صوبہ کے طور پر رہا۔ اور اس کو گلابی رنگ میں دیکھایا گیا ہے۔ اس دور میں ہیکل کی تعمیر کی گئی۔ (یعنی دوسری ہیکل ) اور پرانے عہد نامے کے آخری حصہ کے انبیاءاکرام نے اپنے پیغامات اس دور میں تحریر کئے۔

اور پھر سکندرِاعظم نے فارس (موجودہ ایران) کی حکومت کو فتح کیا۔ اُس نے اسرائیل کو اپنی حکومت کا صوبہ بنالیا۔ جو اگلے 200 سال تک ایک صوبہ کے طور پر رہا۔ اس کو گہرے نیلے رنگ میں واضع کیا گیا ہے۔

اسرائیل یونانی سلطنت کا صوبہ بن گیا
اسرائیل یونانی سلطنت کا صوبہ بن گیا

پھر رومی حکومت نے یونانی حکومت کو فتح کر لیا۔ اور اُنہوں نے ایک عظیم رومی سلطنت کو قائم کیا۔ اسرائیل رومی حکومت کا صوبہ بن گیا۔ اس کو ہلکے پیلے رنگ میں واضع کیا گیا ہے۔ یہ حضرت عیسیٰ مسیح کا دور ہے۔ اس دور میں آپ اسرائیل میں موجود تھے۔ اس لیے انجیل شریف میں ہم رومی گورنر اور فوجیوں کو دیکھتے ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ مسیح کے دور میں یہودیوں کی سرزمین پر رومی حکومت کرتے تھے۔

اسرائیل رومی سلطنت کا ایک صوبہ
اسرائیل رومی سلطنت کا ایک صوبہ

تاہم 600 قبل مسیح سے لیکر اسرائیل کبھی بھی آزاد حکومت نہ بن سکا۔ جیسی حضرت داود اور دوسرے اسرائیلی حمکمرانوں نے حکومت کی۔ اُنہوں نے اس بات کو ناپسند کیا اور حضرت عیسیٰ مسیح کے آسمان پر صود فرمانے کے بعد یہودیوں نے رومی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ جنگِ آزادی کا آغاز ہوگیا۔ لیکن یہودیوں نے اس جنگ میں شکست کھائی۔ اس طرح رومیوں نے یروشلیم کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ اور دوسری طرف ہیکل کو آگ سے برباد کردیا۔ اور یہودیوں کو تمام رومی سلطنت میں غلام بنا کر بھیج دیا۔ جبکہ رومی حکومت اتنی بڑی تھی۔ کہ یہودی پوری دنیا میں منتشر ہوگے۔

رومی حکومت نے یروشلیم اور ہیکل کو سن70 ء میں برناد کردیا۔ اور یہودی پوری دنیا میں جلاوطن ہوگئے
رومی حکومت نے یروشلیم اور ہیکل کو سن70 ء میں برناد کردیا۔ اور یہودی پوری دنیا میں جلاوطن ہوگئے

اسی طرح وہ 2000 سال جلاوطنی میں رہے۔ اُن کو منتشر کردیا گیا۔ اور دوسرے ملکوں میں جلاوطن کردیا گیا۔ اور کسی ملک نے ان کو قبول نہ کیا۔ حضرت موسیٰ کے نبوتی کلام جو اُنہوں نے لعنت کے طور پر بیان کئے۔ وہ اُسی طرح پورے ہوئے۔

65  اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام مِلے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا ۔

                                                                                      استثناء 28: 65

تاہم لعنتوں کی نبوت جو حضرت موسیٰ نے کی تھی وہ پوری ہوگی۔ جی ہاں! یہ نہ صرف پوری ہوئیں بلکہ اس کے بارے ہر ایک بات پوری ہوئی۔ یہودیوں کی لعنت ہم غیر یہودیوں کے لیے نشان ٹھہرا۔

24  خداوند مینہ کے بدلے تیری زمین پر خاک اور دھول برسائے گا ۔ یہ آسمان سے تجھ پر پرتی ہی رہے گی جب تک کہ تُو ہلاک نہ ہو جائے ۔
25  خداوند تجھ کو تیرے دُشمنوں کے آگے شکست دلائے گا ۔ تُو اُنکے مقابلہ کے لیے تو ایک راستہ سے جائے گا اور اُنکے سامنے سے سات سات راستوں سے ہو کر بھاگے گا اور سُنیا کی تمام سطنتوں میں تُو مارا مارا ا پھرے گا ۔                         استثناء 28: 24-25

یہ انبیاء اکرام کی تعلیم ہمارے لیے بھی ایک اہم ترین نشان ہے۔ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ کیونکہ یہ ہمیں بھی خبردار کرتا ہے۔ یقینی طور پر یہ تاریخی سروے 2000 سال کا ہے۔

یہاں کلک کریں اور معلوم کریں کہ کیسے حضرت موسیٰ کی برکات اور لعنتوں کی نبوت ہمارے جدید دور میں پوری ہورہی ہے۔