حضرت ابراہیم نے حضرت اضحاق یا حضرت آسماعیل کو قربان کیا؟

میرے بہت سارے دوست، جب کبھی حضرت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ کی بات کرتے ہیں۔ تو ہر بار وہ زور دیتے ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم کا بڑا بیٹا جو حضرت ہاجرہ سے پیدا ہوا۔ جسکا نام حضرت اسماعیل کی قربانی گزرانی گئی۔ تاہم میں نے جب قرآن شریف کی آیت کو پڑھا توحیران ہوگیا۔ جب میں نے اسی آیت کو اپنے دوستوں کو پڑھنے کو کہا تو وہ بھی پڑھ کر حیران سے ہوگئے۔ اس آیت میں ایسا کیا لکھا ہے؟ جو سب حیران ہوگے۔ حضرت ابرہیم کی تیسری نشانی کے اہم واقعہ میں ہم نے پڑھا اور پاک کتابوں میں سے جو حوالہجات پیش کئے گے۔ ان میں سے ایک خاص آیت کو میں نے یہاں پیش کیا ہے۔

سورۃ الصافات 37: 102

پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے۔ کہا میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، اللہ نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔

آپ اس حوالے میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم کی قربانی کے واقعہ میں اس کے بیٹے کا نام بیان نہیں کیا گیا۔ تو اس طرح مسلہ مبہم ہو جاتا ہے۔ جب کوئی مسلہ یا چیز مبہم ہو جاتی ہے۔ تو بہترین حال یہ ہے کہ تحقیق اور مطالعہ کیا جائے۔ جب آپ ہورے قرآن شریف میں حضرت اسماعیل کے نام کی تحقیق کرتے ہیں۔ تو پورے قرآن شریف میں کُل 12 بار حضرت اسماعیل کا نام آیا ہے۔

  • دو بار حضرت اسماعیل کا ذکر اُن کے والد کے ساتھ آیا پے۔  2:125،127
  • پانچ بار حضرت اسماعیل کا ذکر اُن کے بھائی اور والد کے ساتھ آیا ہے۔ 2:140، 2:136، 2:133، 4:163، 3:84
  • پانچ بار ان کا ذکر انبیاء اکرام کے ساتھ ذکرآیا ہے۔ 6:86، 14:39، 19:54، 21:85، 38:48
  • جہاں دو بار حضرت اسماعیل کا ذکر ان کے والد کے ساتھ آیا ہے تو وہاں دعا کا ذکر ہے۔ قربانی کا ذکر نہیں ہے۔

سورۃ البقرہ    2:125،127

اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مربع اور امان بنایا اور ابرہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناوٰ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجدہ والوں لے لیے۔  125

اور جب عرض کی ابراہیم نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کررے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی۔ 127

لہذا قرآن شریف نے کھبی حضرت اسماعیل کا نام لیکر یہ نہیں کہا۔ کہ حضرت اسماعیل ہی قربان ہونے کے لیے آزمائے گے۔ وہاں صرف بیٹا کہا کر ذکر کیا گیا ہے۔ تو پھر کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل ہی قربانی کے لیے آزمائے گے؟

حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کی تفسیر:

یوسف علی کو قابلِ اعتماد قرآن شریف کی تفسیر کرنے والا اور ترجمہ کرنے والا مانا جاتا ہے۔ اس کی تفسیر کے چند نوٹ یہاں پر موجود ہیں۔ جس میں حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کا ذکر ہے۔

4071

یہ شام اور فلسطین کی زرخیز زمین تھی۔ اسلامی روایات کے مطابق پہلا حضرت اسماعیل تھا۔ اس نام کی جڑ سمیاہ سے ہے۔ جسکا مطلب سننا  ہے۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کی دعا سن لی تھی۔ حضرت ابراہیم کی عمر 86 برس کی تھی۔ جب حضرت اسماعیل پیدا ہوئے۔  پیدایش کی کتاب 16:16

4076

ہمارے ترجمہ کا یہودیوں اور عسیائیوں کے پرانے عہدنامے کا ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت اضحاق اس وقت پیدا ہوئے جب حضرت ابراہیم 100 برس کے تھے۔ پیدایش کی کتاب 2:15 اور حضرت اسماعیل کی پیدایش کے وقت حضرت ابراہیم 86 برس کے تھے۔ پیدایش کی کتاب 16:16 تو حضرت اضحاق کی پیدایش پر حضرت اسماعیل 14 برس کے تھے۔ ان 14 برسوں میں صرف حضرت اسماعیل ہی حضرت ابراہیم کے بیٹے تھے۔ اُس وقت حضرت اضحاق حضرت ابراہیم کا بیٹا نہیں تھا۔ پرانے عہد نامے میں قربانی کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

  پیدایش کی کتاب 22:2

تب آس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لیکر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاونگا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔

پہلے نوٹ میں یوسف علی نے صرف اس بات کو بنیاد بنایا ہے کہ یہ ایک اسلامی روایت ہے۔ اُس نے قرآن شریف میں سے کوئی حوالہ نہیں دیا۔

اُس نے اپنے دوسرے نوٹ میں۔ اس بات پر غور کیا کہ ” اپنے اکلوتے بیٹے کو جو تیرا بیٹا ہے۔        پیدایش کی کتاب 22:2 اور اسماعیل 14 برس کا تھا اس لیے حضرت اسماعیل ہی کو قربانی کے لیے پیش کیا ہوگا۔ لیکن یہاں یوسف علی اس بات کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ پچھلے باب میں پیدایش کی کتاب 21 میں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو خاندان میں جھگڑا ہونے کی وجہ سے دور بھیج دیا تھا۔ اس  جھگڑے کے بارے میں یہاں تفصیل سے پڑھیں۔ کلیک کریں

حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کے لیے تورات کی گواہی۔

لہذا قرآن شریف خاص طور پر بیان نہیں کرتا کہ کس بیٹے کو قربانی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ لیکن تورات شریف میں اس کا ذکر بڑھے واضح انداز سے ہوا ہے۔ آپ اس حوالے میں دکھ سکتے ہیں۔ اس ایک باب میں کُل 6 بار حضرت اضحاق کے نام کا ذکر ہوا ہے۔ 22:2،3،7،6 اور 2 بار 9 ویں ایت میں۔

حضرت محمد، توریت شریف کی حمایت کرتے ہیں:

جو تورات شریف آج ہمارے پاس موجود ہے۔ اسی تورات کو حضرت محمد کی حمایت حاصل ہے۔ جسکا ذکر ایک احدیث میں بڑا واضح آیا ہے۔

عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے: یہودیوں کا ایک گروپ آیا اور رسول اللہ کو دعوت دی … انہوں نے کہا کہ: ‘ابو القاسم، ہمارے لوگوں میں سے ایک کسی عورت سے زنا کا ارتکاب کیا ہے. تاکہ ان پر فیصلہ سنیا جائے۔ اللہ کے رسول کے لئے ایک تکیا رکھا گیا۔ وہ اس پر بیٹھ گئے اور آپ نے کہا کہ. “توریت لے آؤ”:. اس کے بعد تورات کو لایا گیا. اس کے بعد انہوں نے اپنے نیچے سے تکیا لیکر اس پر تورات کو رکھ دیا: اور یوں کہا ” میں تجھ پر اور جس نے تجھ کو نازل کیا ہے ایمان رکھتا ہوں”

سنن ابوداود کتاب 38، نمبر 4434

حضرت عیسٰی مسیح، توریت شریف کی حمایت کرتے ہیں

جوتورات شریف آج ہمارے پاس موجود ہے۔ حضرت عیسٰی مسیح نے بھی اسی تورات شریف کی حمایت کی ہے۔ جس کو ہم نے میری ایک پوسٹ میں دیکھا ” کس طرح انہوں نے اعادہ کیا کہ پہلی کتابیں ہمارے لئے سب سے اہم تھیں“اس مضمون میں اس کی طرف سے ایک حوالے میں حضرت عیسٰی کا کہنا ہے کہ

متی 5 : 18-19

کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلیگا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔ پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑیگا اور یہی آدمیوں کو سکھائیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائیگا لیکن جو اُن پر عمل کریگا اور اُنکی تعلیم دیگا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائیگا۔

انتباہ! تورات سے بڑھ کر کوئی روایت نہیں

یہ کبھی بھی روا نہیں ہوگا کہ ایک ہلکی سی روایت کے لیے حضرت موسٰی کی تورات کو برطرف کردیا جائے۔ حقیقت میں حضرت عیسٰی مسیح یہودیوں پر سخت تنقید کرتے ہیں کیوں کہ وہ اپنی روایات کو تورات شریف سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ حضرت عیسٰی مسیح کا یہودی رہنماوں کے ساتھ اختلاف یہاں اسی حوالے میں دیکھ سکتے ہیں۔

متی 15 : 3-8

اس نے جواب میں اُن سے کہا کہ تم اپنی روایت سے خدا کا حکم کیوں ٹال دیتے ہو؟۔ کیونکہ خدا نے فرمایا ہے تو اپنے باپ کی اور اپنی ماں کی عزت کرنا اور جو باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ مگر تم کہتے ہو کہ جو کوئی باپ یا ماں سے کہے کہ جس چیز کے تجھے مجھ سے فائدہ پہنچ سکتا تھا وہ خدا کی نذر ہو چکی۔ تو وہ اپنے باپ کی عزت نہ کرے۔ پس تم نے اپنی روایت سے خدا کا کلام باطل کردیا۔ اے ریاکارو یسعاہ نے تہمارے حق میں کیا خوب نبوت کی کہ۔ یہ امت زبان سے تو میری عزت کرتی ہے مگر انکا دل مجھ سے دور ہے۔

نبی انتباہ یا ورننگ کرنا بڑا واضع ہے کہ روایت کے لیے اللہ لعالیٰ کے پیغام کو بر طرف نہیں کرنا چاہئے۔

آج بحیرہ مردار کے صحیفۓ تورات شریف کی صداقت پیش کرتے ہیں

مندرجہ ذیل تصویر سے ہمیں تورات شریف کے ابتدائی مسودات کی تاریخوں کا پتا چلتا ہے۔ ( اہم اصول میں سے ایک جو متنی تنقید میں استمال کیا جاتا ہے جس سے ہم یہ تعین کرسکتے ہیں کہ ایک کتاب کی معتبریت کیا ہے؟ یہاں پر آپ میری ایک پوسٹ ملاظہ فرمائیں) بحیرہ مردار کے مسودات کی تاریخ 200 ق م ہے۔ جسکا مطلب ہے کہ دونوں انبیاء اکرام یعنی حضرت محمد  اور حضرت عیسٰی مسیح با لکل اسی تورات کا حوالہ دے رہے تھے۔ جس تورات شریف کو آج ہم پڑھتے ہیں۔

یہ ہی ایک معیار ہے کہ ہم واپس مقدس کتابوں کو پڑھیں۔ اس طرح ہم ایک بنیاد قائم کرسکتے ہیں۔ جو کچھ ابنیاء اکرام نے ارشاد فرمایا ہے اس کو جانیں۔ اس کی بجائے ہم اپنی قیاس آرئیوں کے جھگڑے میں نہ پڑھیں۔