کیا حضرت موسیٰ کی لعنتیں اسرائیل پر نازل ہوئیں

اسرائیل کی تاریخ میں ہم نے دیکھا کہ سنَ 70 عیسوی میں ان کو دنیا کی تمام قوموں میں پراگندہ (جلاوطن) کردیا گیا تھا۔ اور وہ 2 ہزار سال اس طرح زندگی بسر کرتے رہے۔ اور اس کے ساتھ وہ وقتً فوقتً شدد قسم کی جارحیت کا سامنا کرتے رہے۔ ایسے واقعات خصوصی طور پر یورپ، سپین، اور روس میں ہوتے رہے اور ان کا اکثر قتلِ عام ہوتا رہا۔ اس طرح حضرت موسیٰ کی تورات میں لکھی ہوئی لعنت کی پیشنگوئی پوری ہوئی۔ ذیل میں دیا گیا ٹائم لائن اسرائیل کی 2000 سال بائبل کی تاریخ کے عرصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مدت کو ایک طویل سرخ رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔

65  اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام مِلے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا ۔                                                                                                                                                            استثنا 28: 65

یہودیوں کی تاریخ: موسی - آج
یہودیوں کی تاریخ: موسی – آج

آپ اسرائیل کی تاریخ میں دیکھ سکتے ہیں کہ وہ مختلف جلاوطنی کے دور میں رہے۔ لیکن دوسری جلاوطنی پہلی جلاوطنی سے زیادہ لمبی تھی۔

یہودیوں نے اپنی ثقافتی کو زندہ رکھا

                  یہ میرے لیے بڑھی دلچسپی کی بات ہے۔ کہ بنی اسرائیل نے کبھی بھی اپنی ثقافتی بنیادوں کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔ اوران کی تعداد کبھی بھی کثرت کے ساتھ نہیں بڑی (کیونکہ اموات اور ظلم و ستم کی وجہ سے) لیکن اُن نے اس 2000 ہزار سال کے عرصہ میں اپنی ثقافتی پہچان کو نہ کھویا۔ یہ بڑی قابلِ ستائش بات ہے۔ یہاں پر اُن تمام اقوام کی فہرست ہے۔ جو حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی میں اسرئیل میں رہتی تھیں۔

8  اور میں اُترا ہو ں کے اُن کو مصریوں کے ہاتھ سے چُھڑاوں اور اُس مُلک سے نکال کر اُنکو ایک اچھے اور وسیع مُلک میں جہاں دُودھ اور شہد بہتا ہے یعنی کنعانیوں اور حتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کے مُلک میں پہنچاوں ۔ خروج 3: 8

اور اُس وقت سے برکت اور لعنت دی گئی۔

1 جب خداوند تیرا خدا تُجھ کو اُس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے تُو جا رہا ہے پہنچا دے اور تیرے آگے سے اُن بہت سی قوموں کو یعنی حتیوں اور جرجاسیوں اور کعنانیوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کو جو ساتوں قومیں تجھ سے بڑی اور زور آور ہیں نکال دے

                                                                                                  استثنا 7: 1

کیا کوئی اُن لوگوں میں آج بھی زندہ ہے۔ جہنوں نے اپنی ثقافت اور لسانی پہچان کو برقرار رکھنے کی کوشش کیَ نہیں! وہ طویل عرصہ سے اس دنیا سے کوچ کرچکے ہیں۔ ہم اس قدیم تاریخ میں صرف “جرجاسی” لوگوں کو جانتے ہیں۔ جس طرح بڑی طاقتور کسدیوں ، فارسیوں، یونانیوں، اور رومی شہنشاہوں نے ان قوموں پر فتح حاصل کی۔ اُس کے فوراً بعد وہ اپنی ثقافت اور لسانی پہچان کھوبیٹھے اور اُن قوموں میں گم ہوگے۔

جیسا کہ میں کینیڈا میں رہتا ہوں۔ میں پوری دنیا سے ہجرت کر کے آنے والے تارکینِ وطن کو آتے دیکھتا ہوں۔ جب تارکین وطن کی تیسری نسل یہاں پیدا ہوتی ہے۔ تو وہ اپنی ثقافتی پہچان بول جاتے ہیں۔ جب میں نوجوان تھا۔ تو میں نے سویڈن سے کینیڈا  ہجرت کی۔ اب میرا ایک بیٹا ہے۔ اور وہ سویڈش زبان نہیں بولتا اور نہ ہی میرے بھائی اور بہین کے بچے سویڈیش زبان بولتے ہیں۔ میرے آباواجداد کی سویڈیش زبان، اور ثقافت یہاں کینیڈین ثقافت میں گم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سچائی ہے، کہ مہاجرین چاہے، کوریا، جاپان، ایران، امریکہ، افریقہ اور یورپ سے کیوں نہ ہوں۔ ان کی تیسری نسل اپنی ثقافت اور زبان بول جاتی ہے۔ لہذا یہ قابل ذکر بات ہے کہ اسرائیلیوں نے صدیوں سے اپنی زندگی دشوار اور مشکل میں کاٹی۔ اُنہیں مختلف ممالک سے بھاگنا پڑا۔ اُن کی آبادی دنیا میں 15 ملین سے زیادہ نہیں ہوئی۔ اُنہوں نے اپنی بھی مذہبی ، ثقافتی ، لسانی پہچان ان 2000 ہزار سال میں کبھی نہ کھوئی۔

یہودیوں کی جدید عالمگیر نسل کشی

                             یہودیوں کے خلاف جارحیت اور قتلِ عام اپنی اروج پر تھا۔ یہاں تک دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلر نے نازی جرمن فوج کے وسیلے یورپ میں رہنے والے تمام یہودیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے مشن کو کامیاب بنانے کے لیے گیس کے اوون بنائے۔ اور اُس نظام کے وسیلے نسل کشی کی۔ تاہم وہ اپنے اس مشن میں ناکام ہوگیا اور یہودی باقی بچ گئے۔

دور جدید میں اسرئیل کی تعمیرنو

                   اور پھر 1448 میں اقوام متحدہ کے زریعے اسرائیل جیسے ایک غیر معمولی ملک نے دوبارہ جنم لیا۔ درحقیقت یہ قابل ذکر ہے۔ جس طرح اُوپر ذکر کیا ہے۔ صدیوں بھی بعد وہاں اردگرد لوگ پائے جاتے تھے۔ جو اپنی پہچان “یہودی” کے طور پر کرواتے تھے۔ لیکن موسیٰ کو 3500 سال یہ الفاظ کو لکھے تھے۔ جو سچے ثابت ہوئے کہ وہ “تم” اُس وعدہ کو حاصل کریں گے۔ پس یہ لوگ یہاں پر موجود رہے۔ اتنی طویل یہودیوں کی جلاوطنی کے باوجود۔

3  تو خداوند تیرا خدا تیری اسیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا اورپھر کر تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہو جمع کرے گا ۔
4 اگر تیرے آوارہ گرد دُنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کر کے لے آئے گا ۔                          استثنا 30: 3-4

یہ یقیناً ایک نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام کو پورا کرتا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر بات ہے۔ کہ یہ ریاست حزب اختلاف کے باوجود قائم کی گئی۔ 1948 میں بہت ساری اقوام نے اس دور میں اسرائیل کے ساتھ جنگیں کیں۔ 1956 میں۔ ۔ ۔ 1967 میں اور دوبار 1973 ۔ اسرائیل ایک چھوٹی قوم ہے۔ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے۔ کہ اُنہوں نے پانچ پانچ اقوام کے ساتھ ایک ہی وقت میں جنگ کی۔ اس کے باوجود نہ صرف وہ زندہ رہے بلکہ اُن کے علاقوں میں بھی اضافہ ہوا۔ 1967 کی جنگ میں یہودیوں نے یروشلیم دوبارہ حاصل کرلیا۔ اور اپنا تاریخی دارالحکومت جسکی بنیاد حضرت داود نے رکھی تھی دوبارہ اسرائیل کا دارلحکومت بنا لیا۔

کیوں اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کی تعمیرنو ہونے دی؟

                             آج کے دن تک تمام جدید دور میں متنازعہ پایا جاتا ہے۔ اس دور جدید میں ہونے والے اسرائیل کے دوبارہ جنم پر اور اسرائیلیوں کی واپسی پر سب سے زیادہ تنازعہ پایا جاتا ہے۔ ایسا اب تقریباً پر روز ہو رہا ہے۔ جہاں وہ ساری دنیا میں تمام دوسری قوموں میں ہزاروں سال جلاوطن رہے۔ اور شاید اس کو پڑھ کرآپ پسند نہ کریں۔ یقینی طور پر آج بہت سارے یہودی مذہبی نہیں رہے۔ زیادہ تر سیکولر اور لادین ہوچکے ہیں۔ کیونکہ ہٹلر نے جو کچھ کیا وہ یہودیوں کی تقریباً کامیاب نسل کشی تھی۔ اور یہ ضروری نہیں کی وہ درست ہی ہوں۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے۔ کہ جو کچھ حضرت موسیٰ نے لعنت کے بارے کہا تھا۔ وہ نہ صرف پورا ہوا بلکہ آج بھی ہماری آنکھیوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ کیوں؟ اس کا کیا مطلب ہے؟ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ وہ آج بھی مسیح کو رد کر رہے ہیں۔ یہ تمام اہم ترین سوالات ہیں۔ ان کے جوابات تورات شریف اور زبور شریف میں پائے جاتے ہیں۔ شاید آپ مجھے سے ناراض ہوں۔ لیکن جو کچھ نبیوں نے قیامت کے بارے میں اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ جب تک ہم اُس غیر معمولی واقع کو سمجھ نہ لیں۔ اُس وقت تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اُنہوں نے ہمارے فائدے کے لیے لکھا تھا۔ تاکہ ہمارے لیے قیامت کے بارے میں راہنمائی ہوسکے۔ آئیں ہم انبیاء اکرام کی تحریرات کو پڑھیں۔ تاکہ ہم ان سے فیصلہ کی تشکیل کر سکیں۔ ہم زبور شریف کے مطالعہ کو جاری رکھیں گے۔ تاکہ جان سکیں کہ یہودیوں نے عیسیٰ مسیح کو کیوں رد کیا۔