موسیٰ کا دوسرا نشان : شریعت

حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی “شریعت”

ہم نے حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی ” فسح ” میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ مصر کے تمام پہلوٹھے مارجائیں گے۔ لیکن جن گھروں میں مینڈھوں کو ذبح کیا جائے گا وہ پہلوٹھے بچ جائیں گے۔ اور اُن گھروں کے دروازے کی چوکھٹوں پر خون لگایا جائے گا۔ فرعون نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی کی۔  اور اس طرح اُس کا پہلوٹھا بیٹا مارا گیا۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرئیل کی مصر سے خروج میں راہنمائی کی اور جب فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کررہا تھا۔ وہ بحیرہ احمر (قلزم) میں غرق ہوگیا تھا۔

لیکن حضرت موسیٰ کا بنی اسرئلیوں کو مصر کی غلامی سے نکلانے کا ہی کردار نہیں تھا۔ بلکہ زندگی کے ایک نئے راستے پر انکی قیادت کرنا تھی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے ایک نئی شریعت قائم کی ۔ چنانچہ مصر سے نکلنے کے تھوڑے عرصے بعد اسرئیلی کوہ سینا کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں سے حضرت موسیٰ 40 دن کے لیے کوہ سینا پر شریعت لینے کے لیے چلا گیا۔ قرآن شریف میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح آیا ہے۔

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر طور کو اونچا کیا لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔             سورۃ البقرہ 2: 63

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے بائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا۔    سورۃ اعراف 7: 142

چنانچہ حضرت موسیٰ نے کون سی شریعت کو حاصل کیا؟ اگرچہ پوری شریعت کافی لمبی تھی (جن میں 613 ایسے قانون تھے۔ جن میں کچھ چیزوں کی اجازت ملی اور کئی کی نہیں۔ اور بتایا گیا کہ کون سی چیز حلال ہے اور کون سی چیز حرام ہے) یہ تمام احکامات مل کر تورات شریف بناتے ہیں۔ سب سے پہلے حضرت موسیٰ نے پتھر کی بنی تختیاں لیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پاتھوں سے مخصوص احکام لکھے۔ جن کو ہم دس احکام کہتے ہیں۔ جو تمام دوسرے قواعد و ضوابط کی بنیاد بنے۔ یہ دس احکام شریعت کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ جو تمام دوسرے قوانین کے لیے لازمی شرط تھی۔ قرآن شریف اس آیت میں حوالہ دیتا ہے۔

اور ہم نے ان کے لئے (تورات کی) تختیوں میں ہر ایک چیز کی نصیحت اور ہر ایک چیز کی تفصیل لکھ دی (ہے) ، تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو اور اپنی قوم کو (بھی) حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں کو اختیار کرلیں۔ میں عنقریب تمہیں نافرمانوں کا مقام دکھاؤں گا

    میں اپنی آیتوں (کے سمجھنے اور قبول کرنے) سے ان لوگوں کو باز رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں (تب بھی) اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھ لیں (پھر بھی) اسے (اپنا) راستہ نہیں بنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھ لیں (تو) اسے اپنی راہ کے طور پر اپنالیں گے، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل بنے رہے

           ( 145-146: 7     سورۃ الاعراف)

دس احکام

                        قرآن شریف ہمیں بتاتا ہے۔ کہ ان دس احکام کو اللہ تعالیٰ نے خود پتھر کی تختیوں پر لکھا تھا۔ جو ہمارے لیے ایک نشان تھا۔ لیکن یہ تمام احکام کیا تھے؟ یہ تمام احکام یہاں پر خروج کی کتاب میں سے دیئے گے ہیں۔ جن کو حضرت موسیٰ نے پتھر کی تختیوں سے خود نقل کیا تھا۔ جو درج ذیل ہیں۔

 1اور خُدا نے یہ سب باتیں فرمائیں کہ ۔
2 خُداوندتیرا خُدا جو تُجھے مُلِک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہُوں۔
3 میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا ۔
4 تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مُورت نہ بنا نا ۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔
5 تو اُنکے آگے سجدہ نہ  کرنا اور نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیرا خُدا غیور خُدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں انکی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں ۔
6 اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں ۔
7 تو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اسکا نام بے فائدہ لیتا ہے خُداوند اسے بے گناہ نہ ٹھہرائیگا۔
8 یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا ۔
9 چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا ۔
10  لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرابیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔
11 کیونکہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اسلئے خُداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔
12 تو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اس مُلِک میں جو خُداوند تیرا خُدا تُجھے دیتا ہے دراز ہو ۔
13 تو خُون نہ کر ۔
14 تُو زِنانہ نہ کر۔ّ
15 ) تُو چوری نہ کر۔
16 تو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا ۔
17  تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا ۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اسکے غلام اور اسکی لونڈی اور اسکے بیل اور اسکے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا ۔
18 اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔

                                                                                                     خروج 20: 1-18

اکثر ایسا لگتا ہے ہم جو مختلف ممالک میں رہتے ہیں۔ ان احکامات کو بھول گے ہیں۔ کو ئی اُن کا مشورہ نہیں دیتا، ان کی کوئی سفارش نہیں کرتا، اور نہ ہی کوئی ان کو سمجھتا تھا۔ یہ احکام اس لیے دئیےگئے تھے۔ کہ ان کی فرنبرداری کی جائے۔ یہ شریعت تھی اور بنی اسرائیل کو خدا کا خوف اور اُسکی شریعت کو ماننا تھا۔

اطاعت کا معیار

                        لیکن یہ ایک اہم سوال ہے۔ اُن کو کتنے زیادہ احکامات کی ضرورت تھی؟ درجہ ذیل آیت دس احکام کے دئیے جانے سے پہلے کی ہے۔

2   اور جب وہ رفیدیم سے روانہ ہو کر سِینا کے بیابان میں آئے تو بیا بان ہی میں ڈیرے لگالئے ۔ سو وہیں پہاڑ کے سامنے اِسرائیلیوں کے ڈیرے لگے ۔
3  اور مُوسیٰ اُس پر چڑھکر خُدا کے پاس گیا اور خُداوند نے اُسے پہاڑ پر سے پُکار کر کہا کہ تو یعقوب کے خاندان سے یوں کہہ اور بنی اِسرائیل کو سُنا دے ۔
4  کہ تُم نے دیکھا کہ میں نے مصریوں سے کیا کیا کیا اور تُم کو گویا عُقاب کے پروں بیٹھاکر اپنے پاس لے آیا ۔
5  سو اب اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میرےمیری خاص مِلکیت ٹھہرو گے کیو نکہ ساری زمیں میری ہے ۔                      خروج 19: 2-5

اور یہ آیت دس احکام کے دئیے جانے کے فوراً بعد دی گئی۔

پھر اُس نے عہد نامہ لیا اور لو گوں کو پڑھکر سُنا یا ۔ اُنہوں نے کہا کہ جو کُچھ خُداوند نے فرما یا ہے اُس سب کو ہم کر یں گے اور تا بع رہں گے ۔                                          خروج 24: 7

تورات شریف کی آخری کتاب (استثنا) میں حضرت موسیٰ نےآخری پیغام دیا۔ اُس نے اس میں شریعت کی فرمانبرداری کا خلاصہ بیان کیا۔

24  سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔                                               استثنا 6: 24-25

راستبازی کو حاصل کرنا

                                    یہاں پر یہ لفظ “راستبازی” دوبارہ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت اہم لفظ ہے۔ ہم نے اس کو پہلے حضرت آدم کے نشان میں سیکھا تھا۔ جب اللہ تعالٰی نے ہمیں حضرت آدم کی اولاد کہا تھا۔

  1. اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اور (اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک باطنی لباس بھی اتارا ہے اور وہی) تقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریںo سورۃ اعراف 7: 26

پھر ہم نے حضرت ابراہیم کے نشان میں سیکھا جب اللہ تعالیٰ نے بیٹا دینے کا وعدہ کیا۔ اور حضرت ابراہیم نے اس وعدہ پر بھروسہ کیا اور پھر یہ کہا گیا۔

 اور وہ خُداوند پر ایمان لایا اور اِسے اُس نے اُسکے حق میں راستبازی شمار کیا ۔

                                                                                                                        پیدائش 15: 6

(برائے مہربانی راستبازی کو مکمل طور پر جاننے کے لیے “حضرت ابراہیم کی دوسری نشانی” کا مطالعہ کریں)

  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔     استثنا 6: 25

مگر راستبازی حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔  اس کے لیے ہمیں بتایا جاتا ہے۔ کہ ہمیں شریعت کی کُلی طور پر اطاعت کرنا ہے اور پھر ہم راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے ہمیں حضرت آدم کی نشانی یاد آجاتی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالٰی کی ایک بات کی نافرمانی سے وہ جنت سے نکلا دیئے گے تھے۔ اللہ تعالیٰ اور مختلف نافرمان کاموں کا انتظار نہیں کرتا۔ اسطرح کا کام حضرت لوط کی نشانی میں اُس کی بیوی کے ساتھ ہوا۔ ہمیں یہ ساری صورت حال تورات شریف کی عظمت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ میں یہاں پربہت ساری توارت شریف کی آیت رکھی ہیں (یہاں کلک کریں) جن سے ہم جان سکیں گے کہ راستبازی کو حاصل کرنے کاکیسا معیار ہونا چایئے۔

اب آئیں چند لمحوں کے لیے اس کے مطلب کے بارے میں سوچیں۔ کئی بار یونیورسٹی کے کورس میں ایسا ہوتا ہے۔ پروفیسر ہمیں امتخان میں بہت سے سوال دیتے ہیں۔ (مثال کے طور پر 25 سوالات) اور اُن سے کچھ سوالات جن کو ہم چن لیتے ہیں اُن کا جواب تحریر کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور جسطرح ہم 25 سوالات میں سے 20 کو چن کر اُن کا امتخان میں جواب لکھ دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی ایک طالب علم کو ایک سوال مشکل لگتا ہو اور وہ اُس کو چھوڑ کر دوسرا سوال چُن لے۔ اس طرح دوسرا طالب علم اُس چھوڑے ہوئے کو آسان سمجھ کر اُس کا جواب لکھ دے۔ حقیقت میں ہمیں 25 میں سے 20 سوالوں کا چناو کرنا ہے۔ اس طرح سے پروفیسر امتخان کو ہمارے لیے آسان بنا رہا ہوتا ہے۔

بہت سارے لوگ شریعت کے ان دس احکام کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ دس احکام دیئے۔ تو اسکا مطلب تھا کہ ان دس احکام میں سے کوئی سے پانچ احکام کو چن لیں۔ لیکن یہ ہمیں اس لیے نہیں دئیے گے تھے کہ کچھ کو چن لیں اور کچھ کو چھوڑ دیں۔ یہ ہمیں اس لیے دئیے گے کہ ہمیں ان سب کی فرمانبرداری کرنی ہے اور ان سب حکموں کو تھامے رکھنا ہے۔ ان میں ہم کسی کو چن اور کسی کو  چھوڑ نہیں سکتے۔ صرف شریف کی فرمانبرداری کُلی طور کرنے کی وجہ سے راستباز بن سکتے ہیں۔

لیکن پھر کیوں کچھ لوگ شریعت کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ؟ کیونکہ شریعت پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ خاص طور پر یہ ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ساری زندگی اسکی پیروی کرنا پٹرتی ہے۔ یہ تو بٹرھا آسان ہے کہ یم اپنے آپ کو دھوکہ دیں اور اس معیار پر نہ پہنچ سکیں۔ پرائے مہربانی ان احکامات کو دوبارہ سے دیکھیں اور اپنے آپ سے پوچھیں۔ کیا میں ان احکامات کی فرمانبرداری کر سکوگا؟ تمام کی ؟ ہر روز ؟ بغیر کسی حکم کو توڑے ؟ ہمیں بت پرستی سے، ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، زناکاری ، چوری ، قتل ، جھوٹ بولنا ، وغیرہ سے نمٹنا پٹرتا ہے۔ یہ تمام احکام سدا بہار ہیں اور ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان کی اطاعت کر سکتے ہیں؟ کوئی بھی ان سوالوں کا جواب دوسرے کو نہیں دے سکتا۔ وہ صرف اپنے آپ کو ہی جواب دے سکتا ہے۔ اور وہ پھر ان کا جواب روزِ مخشر والے دن اللہ تعالیٰ کو دینا پڑے گا۔

اللہ تعالٰی کے حضور تمام اہم سوالات

                        میں یہاں پر ایک سوال پوچھونگا۔ جس کو استثنا 6 : 25 میں سے لیا گیا ہے۔ یہ ذاتی سوال ہے اور آپ اس کا جواب اپنے آپ کو دیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کا جواب شریعت میں سے کیسے دیتے ہیں۔ شریعت مختلف طریقوں سے لاگو ہوتی ہے۔ لہذا احتیاط کے ساتھ وہ جواب سوچو جو آپ کے بارے میں ٹھیک ہو۔ اُس جواب پر کلیک کریں جو آپ کا جواب ہے۔

24  سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔                       استثنا 6: 24-25

 جواب نمبر 1 :             جی ہاں! میں نے سب حکموں کی فرمانبرداری کی ہے یہ میری حقیقت ہے

 جواب نمبر 2 :          جی نہیں! میں نےکسی حکم کی فرمانبرداری نہیں کی اور یہ میری حقیقت ہے۔

 

 

موسیٰ کا نشان نمبر 1: فسح

“حضرت موسٰی کی پہلی نشانی “فسح

تقریباً 500 سال حضرت ابراہیم کو گزرے چکے تھے اور 1500 سال مسیح سے پہلے حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی۔ اب اُن کی نسل جو حضرت اسحاق سے ہوئی تھی اسرائیلی کہلائے جاتے تھے۔ جو ایک بڑی قوم بن چکی تھی۔ لیکن وہ مصر میں غلامی کی زندگی گزار رہے تھے۔ یہ اس لیے ہوا کہ حضرت ابراہیم کا پڑپوتا حضرت یوسف غلام کے طور پر مصر میں فروخت کیا گیا تھا۔ پھر کئی سالوں بعد اس کے خاندان نے اُسکی پیروی کرکے مصر میں ہجرت کی۔ جسکا بیان تورات شریف کی پہلی کتاب پیدائش کے ابواب 45-46 میں زکر پایا جاتا ہے۔

تاہم اب ہم ایک اور عظیم نبی کی نشانی پرہیں۔ جسکا ذکر تورات شریف کی دوسری کتاب خروج میں ملتا ہے۔ اس میں بیان ہے کہ کیسے حضرت موسیٰ نے اسرائیلیوں کو مصرکی غلامی سے رہائی میں راہنمائی کی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو حکم تھا کہ وہ مصر کے فرعون سے ملاقات کرے۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان ایک مقابلہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا۔ کہ اس مقابلے سے نو(9) آفات آئیں۔ جو فرعون کے لیے ایک نشان تھا۔ لیکن فرعون اللہ تعالٰی کی مرضی کے آگے نہ جھکا اور اِن نشانوں کی بھی نافرمانی کرتا رہا۔

دسویں آفت

                                                تاہم اللہ تعالٰی دسویں آفت جو سب سے  زیادہ خطرناک اور ڈراونی لانے والا تھا۔ اس سے پہلے 10 دسویں آفت آتی۔ اس  کے بارے میں تورات شریف ہمیں تیار کرتی اور بتاتی ہے۔ اور قرآن شریف بھی ہمیں ذیل کی آیت میں بتا تا ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل 101 – 102: 17

اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں دیں تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھیئے جب (موسٰی علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا: میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے موسٰی! تم سحر زدہ ہو تمہیں جادو کر دیا گیا ہے

موسٰی (علیہ السلام) نے فرمایا: تو (دل سے) جانتا ہے کہ ان نشانیوں کو کسی اور نے نہیں اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے عبرت و بصیرت بنا کر، اور میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے فرعون! تو ہلاکت زدہ ہو تو جلدی ہلاک ہوا چاہتا ہے

تاہم فرعون پر تباہی اور بربادی آتی ہے۔ لیکن یہ کیسے آئیں؟ اللہ تعالیٰ نے آفات کو ماضی میں مختلف طرح سے بھیجا تھا۔ مثال کے طور پر حضرت نوح کے دنوں میں پوری دنیا پر سیلاب لایا۔ حضرت لوط کی بیوی کو نمک کا ستون بن گئی۔ لیک یہ آفت فرق ہے تاکہ سارے لوگوں کے لیے یہ نشان ہو۔ ایک عظیم نشان جیسے قرآن شریف نے فرمایا ہے۔

سورۃ النازعات 79:20

پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اسے بڑی نشانی دکھائی

آپ دسویں آفت کے بارے میں توریت شریف کی دوسری کتاب “خروج” میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہاں کلیک کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس کو یہاں اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہاں پر بہت اچھی طرح اور تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ ذیل کی وضاحت کو سمجھنے میں مدد بھی دے گا۔

منڈھے کی فسح موت سے بچاتی ہے

                                                کلام اللہ ہمیں یہ بتاتا ہے۔ کہ تباہی کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوچکا تھا۔ کہ پہلوٹھا بیٹا اُس رات مارا جائے گا۔ سوائے اُن لوگوں کے جن کے گھروں میں منڈھے کی قربانی کی جائے گی اور اس کا خون اُس گھر کی چوکھٹوں پر لگایا جائے گا۔ اگر فرعون بھی اس حکم کی تابعداری نہیں کرتا تو اُس کا پہلوٹھا اور اُسکے تخت کا وارث بھی مارا جائے گا۔ اور مصر میں ہر ایک گھر کا پہلوٹھا بیٹا مار دیا جائے گا۔ اگر وہ اس حکم کی تابعداری نہیں کرینگے۔ کہ ایک برّہ کو قربان کرکے اُس کے خون کو اپنے گھر کی چوکھٹوں پر نہ لگائیں گے۔ چنانچہ مصر نے ایک قومی آفت کا سامنا کیا۔

لیکن وہ گھر جس میں برّہ قربان کیا اور اسکا خون گھر کے دروازے کی چوکھٹوں پر لگیا جا چکا تھا۔ اُن سے وعدہ تھا کہ وہ بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی آفت اُس گھر کو چھوڑ جائے گی۔ لہذا وہ دن اور نشان “فسح” کہلایا۔ (تاہم موت ان تمام گھروں کو چھوڑتی گئی جن پر برّے کا خون لگا تھا) لیکن جن دروازوں پر خون کا نشان تھا؟ توریت شریف ہمیں بتاتی ہے۔

خروج 12:27

تو ان سے یہ کہو یہ فسح کی قربانی ہے۔ جو ہم رب کو پیش کرتے ہیں کیونکہ جب رب مصریوں کو ہلاک کررہا تھا تو اُس نے ہمارے گھروں کو چھوڑدیا۔ یہ سُن کر اسرائیلیوں نے اللہ کو سجدہ کیا۔

یہودی کیلنڈرفسح سے شروع ہوتا ہے

 چنایچہ بنی اسرائیل کو حکم تھا وہ ہر سال اُسی دن فسح کی عید منائیں۔ یہودی کیلنڈر عیسوی کیلنڈر سے تھوڑا مختلف ہے۔ کیونکہ اس میں ہر سال دن تھوڑا بدل جاتا ہے۔ اگر عیسوی کیلنڈر پر غور کریں۔ تو یہ ماہ رمضان کے ساتھ بہت ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ اس میں سال کی مختلف لمبئی پائی جاتی ہے۔ جو عیسوی کیلنڈر میں ہر سال چلتی ہے۔ لیکن اُس دن (فسح) سے آج تک 3500 سال گزر گے چکے ہیں۔ یہودی لوگ فسح کو ہر سال مناتے ہیں۔ جو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں واقعہ ہوئی تھی۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے تورات شریف میں اُن کو تابعداری کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہاں پر ایک جدید زمانے کی تصویر ہے۔ جس میں یہودی عید فسح پر برّے قربان کر رہے ہیں۔ یہ بالکل عیدالضحی سے ملتی جلتی ہے۔

اگر ہم اس عید پر تاریخی طور پر غور کریں تو یہ ہمیں بہت ہی غیر معمولی بات کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ آپ اس کو انجیل شریف میں پڑھ سکتے ہیں۔ جہاں حضرت عیسیٰ مسیح کی گرفتاری، مقدمے کی سماعت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

یوحنا 18:28

پھر وہ عیسیٰ کو کائفا کے پاس سے قلعہ کو لے گئے اور صبح کا وقت تھا اور وہ خود قلعہ میں نہ گئے تاکہ ناپاک نہ ہوں بلکہ فسح کھا سکیں۔

یوحنا 18: 39-40

مگر تمہارا دستور ہے کہ میں فسح پر تمہاری خاطر ایک آدمی چھوڑدیا کرتا ہوں۔ پس کیا تم کو منظور ہے کہ میں تمہاری خاطر یہودیوں کے بادشاہ کو چھوڑدوں؟۔

اُنہوں نے چلا کر پھر کہا کہ اِس کو نہیں لیکن برابا کو۔ اور برابا ایک ڈاکو تھا۔

دوسرے الفاظ میں حضرت عیسیٰ مسیح کو صحیح یہودی کیلنڈر کے مطابق فسح کے دن گرفتار کیا گیا اور عمل درآمد کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ اب اگر آپ کو یاد ہو حضرت ابراہیم کی تیسری نشانی اور حضرت یحییٰ نے حضرت عیسیٰ کو ایک لقب دیا تھا۔

یوحنا 1: 29-30

دوسرے دن اُس نے عیسیٰ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھویہ “اللہ کا برّہ” ہے جو دنیا کے گناہ اُٹھالے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔

عیسیٰ مسیح نے فسح پر مذمت کی

یہاں ہم اس نشان کی لاثانیت دیکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح ” اللہ کا برّہ” اُسی دن قربانی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ جس دن تمام یہودی ایک برّہ کی قربانی  کرتے ہیں۔ جو عیسیٰ مسیح سے 1500 سال پہلے واقعہ ہوا جس میں فسح کی قربانی ہر ایک منڈھا قربان ہوا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ یہودی ہرسال عام طور پر اُسی ہفتے میں مناتے ہیں۔ جس ہفتے میں ایسٹر منایا جاتا ہے۔ کیونکہ عیسیٰ مسیح بھی اُسی دن قربان ہونے کے لیے بھجیے گئے تھے۔ (ایسٹر اور فسح ایک ہی دن نہیں منائی جاتے۔ کیونکہ عیسوی اور یہودی کیلنڈر کے سال کی لمبائی کی مختلف ترتیب ہے۔ لیکن دونوں عام طور پرایک ہی ہفتے میں آتے ہیں

اب تھوڑی دیر کے لیے  ہر نشان پرغور کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کچھ ذیل کی تصویر میں نشان دیکھے ہیں؟

جب ہم کھوپڑی اور ہڈیوں کے نشان کو دیکھتے ہیں تو اس سے مراد ہوتی ہے موت اور خطرے کی۔ جب ہم سنہری مہراب دیکھتے ہیں تو میکڈونلڈ کا خیال آتا ہے۔ جب ہم ٹینس کے کھلاڑی کے سر پر گوڈ کا نشان دیکھتے ہیں۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نائیکی کا نشان ہے۔ جب ہم کسی نشان کو دیکھیں تو اس کے بارے میں سوچتیں ہیں۔ دوسرے الفاظ میں نشان ہمارے زہین اشارہ دیتے ہیں ایک خاص چیز کے بارے میں سوچنے کے لیے۔ حضرت موسیٰ کا یہ نشان اللہ تعالیٰ نے ہم کو دیا۔ اللہ تعالٰی نے یہ نشان کیوں دیا؟ ٹھیک اُسی دن جب منڈھوں کی قربانی ہوئی، اُسی دن عیسیٰ مسیح کی قربانی ہمارے لیے ایک اشارہ ہے۔

یہ اُسی طرح نظر آتا ہے جس طرح ہم نے اُوپر تصویر میں دیکھا۔ یہاں پر نشان حضرت عیسیٰ مسیح کی طرف اشارہ دلاتا ہے۔ پہلی فسح میں برّوں کو قربان اور خون بہایا گیا تاکہ لوگ بچ جائیں۔ اسی طرح حضرت عیسٰی مسیح کا نشان ہمیں اس طرف اشارہ دیتا ہے۔ “اللہ تعالیٰ کا برّہ” قربان ہوا تاکہ ہم زندگی پائیں۔

ہم نے حضرت ابراہم کے تیسرے نشان میں دیکھا۔ کہ جہاں حضرت ابراہیم کے اپنے بیٹے کی قربانی کے لیے آزمایا گیا وہ موریا پہاڑتھا۔ لیکن ایک منڈھا اُس کے بیٹے کی جگہ مہیا کیاگیا تھا۔ ایک برّہ مرگیا تاکہ ابراہیم کا بیٹا بچ جائے۔ موریا کا پہاڑ بالکل وہی پہاڑ ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانی دی گئی۔ یہ ایک نشان تھا کہ ہم حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانی پر اُس جگہ کی طرف اشارہ کے بارے میں سوچ سکیں۔ حضرت موسیٰ کے اس نشان میں ہم نے ایک اور اسس طرح کے واقعہ کی تلاش کی ہے۔ حضرت عیسیٰ مسیح کو قربانی کے لیے چھوڑدینا۔ ہمیں کیلنڈر میں موجود اُسی دن ہمیں فسح کی قربانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ برّہ کی قربانی ایک بار پھر اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کیوں؟ ہم اس کو جاری رکھیں گے۔ تاکہ ہم
حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی سے مذید افہام و تہفیم حاصل کرسکیں۔ یہ نشان کوہ سیناہ پر دیا گیا تھا۔

لیکن اس نشان کے آخر پر فرعون کے ساتھ کیا ہوا؟ جس طرح ہم نے تورات شریف میں پڑھا کے اُس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تابعداری نہ کی اور اُس کا پہلوٹھا بیٹا (یعنی اُسکا وارث) اُسی رات مارا گیا۔ اس طرح اُس نے آخر کار اسرائیلیوں کو مصر چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔ لیکن فرعون نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اسرائیلیوں کا تعاقب کرنے کے لیے بحرقلزم کی طرف چڑھ دیا۔ اللہ تعالٰی کے نزدیک سمندر پار کرنے کا مقصد تھا کہ فرعون اپنی فوج کے ساتھ سمندر میں غرق ہوجائے۔ نوآفات کے بعد، فسح پراموات ، مصری فوج کا غرق ہونا، مصر کے لیے ایک ایسی عظیم ابری لے کر آیا کہ مصر دوبارہ پھر کھبی دنیا میں سپرپاور کے طور سے نمایاں نہ ہوسکا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے اُن کا انصاف کردیا۔

(حضرت ابراہیم کی تیسری نشانی (قربانی

پچھلی نشانی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک بیٹا عطا کرے گا۔ اور اللہ نے اپنا وعدہ یاد رکھا۔ حقیقت میں تورات اس بات کو جاری رکھتی ہے۔ اور بیان کرتی ہے۔ کہ کس طرح حضرت ابراہیم نے دو بیٹے حاصل کئے۔ تورات کی پہلی کتاب پیدائش کے 16 باب ہمیں بتاتا ہے۔ کہ حضرت ہاجرہ سے حضرت اسمعیل پیدا ہوئے۔ اور پھر پیدائش کے 21 باب ہمیں بتاتا ہے۔ کہ 14 سال بعد حضرت سارہ سے حضرت اضحاق پیدا ہوئے۔ خاندان میں دونوں خواتین کے درمیان جلد جھگڑا شروع ہوگیا۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور اس کے بیٹے کو ایک دوسری جگہ بیج دیا۔ اس واقعہ کا بیان آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ (کلیک کریں) کہ اللہ تعالٰی نے کیسے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل کو برکت دی۔

حضرت ابراہیم کی قربانی بنیادی طور پر عیدالااضٰحی ہے

اب حضرت ابراہیم کے گھرانے میں ایک بیٹا رہ گیا تھا اور حضرت ابراہیم کا سامنا ایک بڑھے امتحان سے ہوا۔ لیکن اس امتحان کے وسیلے ہم اللہ تعالٰی کی سیدھی راہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ آپ قرآن شریف اور تورات شریف سے ان حوالہ جات کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ جن میں حضرت ابراہیم کی قربانی کا ذکر ہے۔ کتاب مقدس میں سے یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ کیوں عیدالاضحی منائی جاتی ہے؟ لیکن یہ ایک تاریخی واقعہ ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بھی ہے۔

ہم حوالہ جات میں پڑھ سکتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے لیے ایک امتحان تھا۔ لیکن یہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا۔ حضرت ابراہیم کا ایک نبی ہونے کی حیثیت سے یہ امتحان ہمارے لیے ایک نشان ہے۔ ہم اس میں سے سیکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہماری فکر کرتا ہے۔ اس نشان کا کیا مطلب ہے؟ برائے مہربانی نوٹ کریں۔ حضرت ابراہیم نے اُس جگہ کا نام کیا رکھا تھا؟ جہاں اُس کا بیٹا قربان ہونا تھا۔ تورات میں سے یہاں حوالہ دیا گیا ہے۔

پیدائش 22: 13-14

اور ابراہیم نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔ تب ابراہیم نے جاکر اُس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قربانی کے طور پر چڑھایا۔

اور ابراہیم نے اُس مقام کا نام یہوواہ یری رکھا چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا جائے گا۔

نوٹ! حضرت ابراہیم نے جو نام اُس جگہ کا رکھا۔ وہ یہ تھا ” خدا مہیا کریں گا ” یہ نام کس زمانہ کو ظاہر کرتا ہے؟ زمانہ حال ، زمانہ ماضی، یا زمانہ مستقبیل کو؟ یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ زمانہ مستقبیل کو ظاہر کرتا ہے۔ اور بھی واضح ہو جاتا ہے جب حضرت موسٰی نے اس کو 500 سال بعد درج کیا۔ تو اس کو اسی طرح لکھا کہ ” مہیا کیا جائے گا ” اس کو زمانہ مستقبیل میں میں ہی لکھا گیا اور یہ مستقبیل کی ہی بات کرتا ہے۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم یہاں مینڈھے کی بات کررہے ہیں۔ جو  ان کے بیٹے کی جگہ قربان ہوا۔ لیکن جب حضرت ابراہیم نے اس جگہ کو نام دیا تو مینڈھا اس سے پہلے قربان ہو چکا تھا۔ اگر حضرت ابراہیم مینڈھے کی بات کر رہے تھے۔ جو قربان ہوا اور نذر کی قربانی کے طور پر جلایا جا چکا تھا۔ تو پھر اس کا یہ نام ہونا چاہیے تھا ” خدا نے مہیا کیا ” زمانہ ماضی استعمال ہونا چاہیے تھا۔ اگر وہ اس مینڈھے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ جو پہلے ہی اُن کے بیٹے کی جگہ قربان ہو چکا۔ توپھر یہ کہاوت اس طرح ہونی چاہیے تھی۔ ” آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا گیا تھا ” لیکن حضرت موسٰی اور حضرت ابراہیم دونوں نے زمانہ مستقبیل ہی کو استعمال کیا۔ اس طرح وہ اس مینڈھے کے بارے میں نہیں سوچتے جو پہاڑ پر قربان ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے تب وہ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اگر اس کے بارے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو شروع میں پہلا نشان دیا تھا۔

پیدائش  22:2

تب اس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاوں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔

یہ واقعہ موریاہ کے پہاڑ پر واقع ہوا۔ یہ پہاڑ کہاں ہے؟ 2000 ق م یعنی حضرت ابراہیم کے وقت میں یہ پہاڑ ایک بیابان تھا۔ ایک ہزار سال بعد 1000 ق م میں حضرت داود نے یروشلیم شہر آباد کیا۔ اور بعد میں حضرت داود کے بیٹے حضرت سلیمان نے ہیکل کی تعمیر کی۔ ہم تورات میں اس کے بارے پڑھ سکتے ہیں۔

2 تواریخ 3:1

اور سلیمان یروشیلم میں کوہ موریاہ پر جہاں اس کے باپ داود نے رویت دیکھی اسی جگہ جسے داود نے تیاری کرکے مقرر کیا یعنی ارنان یبوسی کے کھلیہان میں خداوند کا گھر بنانے لگا۔

دوسرے الفاظ میں ” موریاہ کا پہاڑ ” حضرت ابراہیم اور حضرت موسٰی کے زمانہ میں بیابان تھا لیکن 1000 ق م میں حضرت داود اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں یہ اسرائیلیوں کا دارلحکومت بن گیا تھا۔ جہاں انہوں نے خدا تعالٰی کے لیے ہیکل تعمیر کی اور آج یہ یہودیوں کی پاک ترین جگہ ہے۔

حضرت عیٰسی المسیح کی موریا کے پہاڑ پر مصلوبیت

یہاں پر ہم حضرت عیٰسی المسیح اور انجیل شریف کا برائے راست تعلق پاتے ہیں۔ہم اس تعلق کو اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب ہم حضرت عیٰسی المسیح کے ایک خطاب کو جان جاتے ہیں۔ حضرت عیٰسی المسیح کو بہت سارے خطبات سے نوازا گیا۔ لیکن سب سے مشہور خطاب ” مسیح ” ہے۔ لیکن عیٰسی مسیح کو ایک اور بھی خطاب دیا گیا جو مشہور نہیں ہے۔ لیکن اہم ترین ضرور ہے۔ ہم جب یوحنا کی انجیل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو حضرت یحٰیی ( یوحنا بپتسمہ دینے والا) یہ کہتا ہے۔

یوحنا 1: 29-30

دوسرے دن اس نے یسوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خدا کا برہ ہے جو دنیا کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں نے کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔

ایک اہم لیکن کم مشہور خطاب حضرت عیٰسی کو حضرت یحیٰی نے دیا۔ ” خدا کا برۃ “۔ اب زرا حضرت عیٰسی کی زندگی کے آخری ایام پر غور کریں۔کہاں اُن کو گرفتار  اور مصلوب کیا گیا؟ یہ سارا واقع یروشلیم میں ہوا۔ ( جو موریاہ کے پہاڑ پر واقع ہے)

لوقا 23:7

اور یہ معلوم کرکے کہ ہیرودیس کی عمل داری کو ہے اُسے(حضرت عیٰسی) ہیرودیس کے پاس بھیجا کیونکہ وہ (ہیرودیس) بھی اُن دِنوں یروشلیم میں تھا۔

دوسرے الفاظ میں گرفتاری اور مصلوبیت یروشلیم ہی میں واقع ہوئی (یعنی موریاہ کے پہاڑ پر)۔ زرا واپس حضرت ابراہیم کی کہانی کی طرف آتے ہیں۔ کیوں حضرت ابراہیم نے اُس جگہ کا نام زمانہ مستقبیل میں رکھا؟ ” خدا مہیا کرے گا ” حضرت ابراہیم ایک عظیم نبی تھا اور جانتا تھا کہ مستقبیل میں خدا یہاں مہیا کرے گا۔ اور اس طرح حضرت ابراہیم کا بیٹا قربان ہونے سے بچ جاتا ہے۔ اور اس کی جگہ ایک مینڈھا قربان ہو جاتا ہے۔ 2000 ہزار سال بعد حضرت عیٰسی مسیح کو ” خدا کا برہ ” کہا جاتا ہے۔ اُس کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ٹھیک اُسی جگہ پر مصلوب کیا جاتا ہے۔

قربانی حضرت ابراہیم کے بیٹے کے لیے فدیہ تھا موت سے بچ جانے کا

کیا یہ ہمارے لیے اہم ہے؟ میں غور کرتا ہوں کہ کیسے حضرت ابراہیم کا نہ نشان تکمیل کو پہنچا۔ قرآن شریف کی اس آیت میں حضرت ابراہیم کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

سورة الصَّافات 37:107

  ‏ [جالندھری]‏ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا

فدیہ کا کیا مطلب ہے؟ فدیہ دینے کا مطلب ہے کہ کوئی ایک کسی قیدی کا جرمانہ ادا کردے اور اُس کو اُس قید سے رہائی دلا دے۔ حضرت ابراہیم کے لیے فدیہ کا مطلب ہے کہ وہ کسی کے قیدی تھے۔ بیشک وہ ایک عظیم اوربڑے نبی بھی تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس بات میں قیدی تھے۔ حضرت ابراہیم کی قربانی کا واقعہ ہمیں بتابا ہے۔ کہ وہ موت کے قیدی تھے۔ ہم نے آدم کی نشانی میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو فانی بنایا ہے۔ (انبیااکرام کو بھی) اب وہ موت کے غلام تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم کے اس واقع میں مینڈھا قربان ہوگیا۔ اگر آپ حضرت آدم، حضرت قابیل، حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی پہلی نشانی کا سلسلسے سے مطالعہ کریں۔ تو آپ جانیں گے کہ اِن انبیا اکرام نے جانوروں کی قربانی کی باربار مشق کی۔ وہ جانتے تھے کہ اس قربانی کے باعث ہم بچ جاینں گے۔ اور ہم دیکھ سکتے ہیں یہ عمل ہمیں مستقبیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو حضرت عیٰسی کو خدا کا برہ پیش کرتا ہے۔

قربانی ہمارے لیے برکت

موریاہ کے پہاڑ پر مینڈھے کی قربانی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اور اس کے آخر میں اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو بتایا تھا۔

پیدائش 22:18

اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی کیونکہ تو نے میری بات مانی۔

اگر آپ زمین کی کسی ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ وعدہ آپ کے لیے ہے۔ کیونکہ اس وعدہ کے باعث آپ اللہ تعالٰی سے برکت حاصل کرسکتے ہیں۔ کیا یہ قابلِ قدر بات نہیں؟ کیسے حضرت ابراہیم کی قربانی کا تعلق حضرت عیٰسی مسیح سے اور آج یہ تعلق آپ کے ساتھ ہے؟ اور کیوں ؟ ہم جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے لیے فدیہ دیا گیا اور آج شائد ہمارے لیے یہ ایک نشان ہے۔ لیکن اسکا مکمل جواب ہے ۔ کہ لیے ہم حضرت موسٰی کے نشان میں جاری رکھیں گے ( ان کے دو نشان ہیں) اور یہ ہمارے سوال کا جواب بڑے واضع انداز میں دیں گے۔

لیکن اس وقت یہ بتانا چاہتا ہوں کہ لفظ ” نسل ” یہاں پر واحد ہے۔ یہ نسلیں نہیں ہے۔ جس کا مطلب پشتیں یا قومیں ہے۔ حضرت ابراہیم سے برکت کا وعدہ ایک نسل سے ہے۔ جو واحد ہے۔ واحد کا مطلب ایک ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں بہت سارے لوگ، گروہ ، اور نہ ہی اُنہیں ہے۔ حضرت موسٰی کا فسح کا نشان اس کو سمجھنے میں مدد دے گا۔

(حضرت ابراہیم ؑ کی دوسری نشانی (راستباز

یہ کیا ہے جسکی ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرورت ہے؟ ہم اس سوال کے بہت سارے جواب سوچ سکتے ہیں۔ لیکن حضرت آدم ؑ کی نشانی یاددلاتی ہے۔ کہ سب سے اوّل اور عظیم ترین ضرورت راستبازی کی ہے۔ قرآن شریف میں یہ الفاظ برائے راست ہمارے ساتھ مخاطب ہیں( آدم ؑ کی اولاد

اے آدم کی اولاد ! بیشک ہم نے رتمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔

 (سورة الاعراف 7:26 )

تو پھر راستبازی کیا ہے؟ (تورات شریف کی پانچویں کتاب استثنا 32:3-4 ) ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاتی ہے۔

کیونکہ میں خداوند کے نام کا اشتہار دوں گا۔ تم ہمارے خدا کی تعظیم کرو۔´ وہ ہی چٹان ہے۔ اُس کی صنعت کامِل ہے کیونکہ اُس کی سب راہیں انصاف کی ہیں۔ وہ وفادار خدا اور بدی سے مُبّرا ہے۔ وہ منصف اور بر حق ہے۔ استثنا 32 :3-4

راستبازی کی یہ تصویر اللہ تعالیٰ نے ہمیں تورات شریف میں دی ہے۔ راستبازی کا مطلب ہے وہ جو کامِل ہے۔ وہ جو سب راہوں میں سچا ہے۔ تورات شریف اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس طرح بیان کرتی ہے۔ لیکن ہمیں کیوں ضرورت ہے کہ ہم راستبازی کے بارے میںجانیں ؟ ہم اس کا زبور شریف میںجواب دیکھتے ہیں

زبور 15
۱)اے خداوند تیرے خیمہ میں کون رہے گا؟
تیرے کوہ مقدس پر کون سکونت کرے گا؟
۲) وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔
۳) وہ جو اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سُنتا۔
۴) وہ جس کی نظر میں رذیل آدمی حقیر ہے پر جو خداوند سے ڈرتے ہیں اُن کی عزت کرتا ہے۔ وہ جو قسم کھا کر بدلتا نہیں خواہ نقصان ہی اُٹھائے۔
۵) وہ جو اپنا روپیہ سُود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھا ئے گا۔

جب وہ یہ پوچھتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے پہاڑ پر کون رہے گا۔ تو دوسرے معنوں میں وہ یہ پوچھ رہا ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی جنت میں کون رہے گا۔ تو ہم اس کا جواب اس طرح پڑھتے ہیں۔ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دِل سے سچ بولتا ہے۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی جنت میں اُس کے ساتھ رہے گا۔ اس طرح کی راستبازی کی ہمیں ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنت میں رہنے کے لیے راستبازی ضروری ہے۔

حضرت ابراہیم کے بارے میں سوچو. وہ کس طرح راستبازی حاصل کی بارے مقدس کتابوں میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.

حضرت آدم ؑکی نشانی بھی ہمیں یہی سیکھاتی ہیں کہ ہمیں راستبازی کی ضرورت ہے۔ تاہم یہاں پر سوال یہ ہے۔ کہ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ سب کیسے حاصل کیا؟

اکثر میں سوچتا ہوں کہ میں دو میں سے ایک راستہ پر چل کر راستبازی حاصل کرسکتا ہوں۔
پہلا راستہ: میں راستبازی ا س طرح حاصل کر سکتا ہوں ۔ کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاوں اور یقین رکھوں۔ کہ اللہ تعالیٰ وجود رکھتاہے۔ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ کیایہ سوچ اس بات کی حمایت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور وہ راستباز ٹھہرے ۔ لیکن غور و حوض کرنے کے بعد میں اس حقیقت کو جان سکا ۔کہ اس کا صرف یہ مطلب نہیں تھا۔ کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لائے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ سچا وعدہ کیا۔ کہ تیرے ایک بیٹا پیدا ہوگا ۔ اور یہ وہ وعدہ تھا جس پر ابراہیم ؑ کو ایمان لاناتھا ےا ایمان نہیںلانا تھا۔ اسی طرح سوچیں تو ہم جانتے ہیں ۔ کہ ابلیس بھی ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ لیکن اس کے باعث وہ راستباز نہیں ہے۔ اس طرح صرف یہ ایمان رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ یہ کافی نہیں ہے۔
دوسراراستہ:میں کئی بار سوچتا ہوں کہ میں نیک کام کرکے راستبازی حاصل کرسکتا ہوں۔ بُرے کاموں کی نسبت زیادہ اچھے کام کرنے سے یا کوئی خاص نیک کام کرنے سے یا کسی حد تک نیک کام کرنے سے راستبازی حاصل کرسکتا ہوں یا کماسکتاہوں۔ لیکن ےاد رکھیں ۔ تورات شریف کا حوالہ کیا کہتا ہے؟ میں نے یہاں تورات شریف کی آیت پھر سے لکھی ہے۔ تاکہ ہم پھر سے اس آیت کو دیکھ سکیں۔

اور وہ (حضرت ابراہیم ؑ ) خداوند پر ایمان لایا اور اسے اُس نے اُس کے حق میں راستبازی شمار کیا۔´  پیدایش 15:6

حضرت ابراہیم ؑ نے راستبازی نیک کاموں کے وسیلے کمائی نہیں تھی ۔ بلکہ یہ اُن کے لیے شمار کیاگیا۔ اس کا کیا فرق ہے؟ ٹھیک اسی طرح! اگر آپ کچھ کماتے ہیں۔ تو اُس کے لیے آپ کو کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ آپ کوئی کام کرتے ہیں اور اُس کی اُجرت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن جب کوئی چیز آپ کو مفت دی جائے ۔ تو اُس کے لیے آپ کو کچھ کمانا یا کام نہیں کرنا پڑتا۔
حضرت ابراہیم ؑ ایک آدمی تھا۔ جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر گہرا ایمان رکھتاتھا۔وہ ایک مردِ دعا، دیندار اور دوسرے لوگوں کی مدد کرتا تھا۔البتہ ہم ان باتوں کو رد نہیں کررہے۔لیکن جو طریقہ یہاں پر بتایا گیا ہے ہم اُس کو آسانی سے نظر انداز کرسکتے ہیں ۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ ابراہیم ؑ راستباز ٹھہرا کیونکہ اُس وعدہ پر ایمان رکھا جو اللہ تعالیٰ نے اُس سے کیا تھا۔ یہ عام فہم بات کے اُلٹ ہے۔ کہ ہم راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ صرف اس سوچ اور ایمان سے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ یا پھر نیک کام کرنے سے ہم راستبازی کے معیار کو حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس طریقہ کو نہیں اپنایا تھا۔ بلکہ اُس نے بڑے سادہ انداز میں اُس وعدہ پر ایمان رکھا۔
اب اس بات کا انتخاب کرنا اور یقین رکھناکہ میں تم کو بیٹا دوں گا۔ شاید یہ سادہ ہے لیکن یہ یقینی طور پر آسان نہیں تھا۔ ابراہیم ؑ آسانی سے اس وعدہ کو نظرانداز کرسکتا تھااس وجہ کو بیان کرکے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ واقعی مجھے بیٹا عطا کرنا چاہتا ہے تو وہ مجھے اس وقت اس کے لیے طاقت بھی عطا فرمائیں۔ کیونکہ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ اور اُس کی بیوی حضرت سارہ ؑ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ وہ بچے پیدا کرنے کی عمر میں سے گزر چکے تھے۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی میں وہ 75 سال کی عمر کے تھے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا گھر، رشتے دار اور ملک چھوڑ کر ملکِ کنعان کو ہجرت کی۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اُس کو ایک بڑی قوم بنائے گا۔ اور اب کئی سال گزرگئے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ اور اُس کی بیوی بوڑھے ہو چکے تھے اور پہلے ہی بہت زےادہ انتظار کر چکے تھے۔ اُن کا نہ تو کوئی بچہ تھا اور نہ ہی کوئی قوم۔ وہ اس بات سے حیران ہو سکتاتھا۔ اگر اللہ تعالیٰ بیٹا دے سکتا تھا تو اس نے ابھی تک کیوں نہیں دیا؟ لیکن دوسرے الفاظ میں اُس نے آنے والے بیٹے کے وعدے کا یقین کیا۔ تاہم اُن کو اُس وعدہ کے بارے میں مکمل سمجھ نہیں تھی۔ اس و عدے پر یقین کرناکہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ اور اس کی بیوی کو بیٹا دے گا یہ ایک معجزاہ کے مترادف تھا ۔ اورو عدے پر یقین کرناانتظار کرنے کا مطالبہ تھا۔ وعدہ کئے ہوئے بیٹے کے انتظار میں اور اس کے احساس میں اُس کی ساری عمر ملکِ کنعان کے خیموں میں گزر گئی۔ اُس کے لیے بڑھا آسان تھا کہ وہ اس وعدے کو رد کرے اور واپس اپنے آبائی ملک( جو اس وقت کا ترقی یافتہ ملک تھا) مسوپتامیہ میں چلا جائے۔ جس کو اس نے بہت سال پہلے چھوڑ دیا تھا۔ جہاں اُس کے بھائی اور خاندان رہتا تھا۔ لیکن ابراہیم ؑ وہاں تمام تر مشکلات اور وعدے پر یقین رکھتا رہا۔ ہرایک دن اور بہت سارے سال اس نے وعدہ پورا ہونے کے انتظار میں گزار دئیے۔ اُس نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو اپنی عام زندگی کے کاموں سے بڑھ کر ترجیع دی اور اس میں مطمن تھا۔ حقیقی معنوں میں پورے ہونے والے وعدے پر مکمل طور پر بھروسہ کرنے سے مراد معمول کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ وعدے پر بھروسے سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ۔ حضرت ابراہیم ؑ کا اللہ تعالیٰ پر ایمان اور محبت کس قدر تھی۔
چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ کا وعدے پر ایمان اس کے جذبات اور ذہنی احساسات سے بڑھ کر تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اپنی زندگی، اپنی شہرت، حفاظت اور اس وعدے کے بارے میں حال کی اور مستقبل کی امید وں کو بلکہ سب کچھ داﺅ پر لگانا پڑا۔ کیونکہ اس کو یقین تھاکہ وہ فرمانیرداری کے ساتھ انتظار کر رہا ہے۔ تاہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ہمیں بتاتی ہے۔ کیسے اس نے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر بھروسہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اُسکو ایک بیٹا دے گا۔ اور ایسا کرنے سے حضرت ابراہیم ؑ راستباز قرار دیا گیا۔ حقیقی معنوں میں حضرت ابراہیم ؑ نے وعدے کی مکمل اطاعت کی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس کا انتخاب نہ کیا ۔کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کا انکار کر دیںاور اپنے آبائی ملک واپس چلیں جائیں۔ لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان رکھا۔ نماز پڑھتے اور دوسرے لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ اس صورت حال میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی مذہبی فرائض کو جاری رکھالیکن یہ کام راستبازی کمانے کے لیے نہیں کرتے تھے۔ جس طرح قرآن شریف حضرت آدم ؑ کی اولاد سے ارشاد فرماتا ہے۔

سب سے بہترین لباس راستبازی کا ہے

یہ حضرت ابراہیم ؑ کا طریقہ کار ہے۔
اب تک ہم بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے۔ کہ ہم اپنے نیک کاموں سے جنت کما نہیں سکتے۔ بلکہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کرنے سے مل جاتی ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ہم تیسری نشانی جاری رہیں گے۔

(حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی (برکات

حضرت ابراہیم ؑ ! آپ ابراہیم اور ابرام کے نامو ں سے جانے جاتے ہیں۔ تینوں وحدانی مذاہب ، یہودیت، عیسائیت اور اسلام آپ کے نمونہ کی پیروی کرتے ہیں۔ عرب اور یہودی اپنے جسمانی نسب نامے کو حضرت اسمعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ کے ساتھ ملاتے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ نبیوں کی فہرست میں اہم ترین نبی ہیں۔ کیونکہ ان کی نشانی تمام انبیاءکے لیے بنیاد ہے۔لہذا ! انہوں نے ایسا کیا کیا جو اُن کے کردار کو تمام انبیاءاکرام کے لیے اہم کردار بنا دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب انتہای اہم ہے۔ اس کو جاننے کے لیے ہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانیوں میں سے چند ایک پر غور کریں گے۔
یہاں پر کلک کریں۔ قرآن شریف اور تورات شریف میں سے حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی کو پڑھنے کے لیے۔
ہم نے قرآن شریف کی آیات میں سے دیکھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے ’قبائل ‘ آئے ہیں۔ اور ان لوگوں نے بعد میں ایک عظیم بادشاہت حاصل کی تھی۔ لیکن ایک شخص کے پاس ایک بیٹا ہوناضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ اُس کے پاس قبیلے ہوں۔ اس سے پہلے کہ لوگ ایک عظیم بادشاہی قائم کریں۔ اور اُن کے پاس جگہ ہو نابھی ضروری ہے۔

 یہ حوالہ تورات شریف میںسے لیا گیا ہے۔ تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش 12 :2-3 ۔ اس میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ سے آنے  والے ’قبائل اور ایک عظیم بادشاہت کی دوہری تکمیل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ وعدہ کرتا ہے۔کہ جو آنے والے مستقبیل کے لیے بنیاد ہے۔ آیئں ہم اسکو تفصیل سے دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑسے فرماتا ہے۔

اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناﺅ نگا اور برکت دونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔ سو تو باعث برکت ہو!۔´ جو تجھے مبارک کہیں اُنکو میں برکت دونگا اور جو تجھ پر لعنت کرے اُس پر میں لعنت کرونگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائینگے۔´ پیدایش 12  :2-3

حضرت ابراہیم ؑ کی عظمت

آج مغرب میں بہت سے لوگ جہاں میں رہتا ہوں تعجب میں رہتے ہیں۔ کہ اگر خدا ہے ۔ تو ایک شخص کیسے جان سکتا ہے ۔ کہ اس نے خود کا انکشاف حقیقی طور پر تورات شریف میں کیا ہے۔ اب ہمارے پاس ایک وعدہ ہے۔ جس کے حصوں کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے برائے راست وعدہ کیا ہے۔ ’میں تیرانام سرفراز کرونگا۔ ‘ آج ہم اکیسو یں صدی میں موجود ہیں اور حضرت ابراہیم ؑابراہامابرام واحد نام ہے جو تاریخی طور پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ یہ وعدہ تاریخی اور لفظی طور پر پورا ہوچکا ہے۔ آج جو تورات شریف کا قدیم ترین نسخہ بخرہ مردار سے ملا جس کی تاریخ 100-200 ق م ہے۔(دیکھیں ہمارا مضمون ”کیا سنت ِرسول اس کی تصدیق کرتی ہے کہ تورات شریف، انجیل شریف اور زبور شریف لاتبدیل ہیں یا نہیں“) اس کا مطلب ہے کہ یہ وعدہ تقریباً تھوڑے ہی عرصے بعد تحریری ہوگیا۔ اُس وقت تک حضرت ابراہیم ؑ کی شخصیت اور نام بہت زیادہ مشہور نہیں ہوا تھا۔ صرف چند یہودی اُس کو جانتے تھے۔ جو توریت کے پیروکار تھے۔ لیکن آج ہم حضرت ابراہیم ؑکے نام کی عظمت جانتے ہیں۔ ہم یہاں دیکھ سکتے ہیںکہ یہ تمام وعدے لکھے جانے سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں پورے ہوئے۔ حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ یہ وعدہ یقینی طور پر پورا ہوا۔ یہ غیر ایمانداروں کے لیے بھی واضح ہے۔ اور اس سے ہمیں وعدے کے باقی حصّے کو سمجھنے میں زےادہ اعتماد ملتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ کیا تھا۔ آئےں ہم مطالعہ کو جاری رکھیں۔

ہمارے لیے برکات

ہم ایک بار پھر وعدہ کو دیکھے سکتے ہیں۔ ابراہیم ؑ سے ایک بڑی قوم بناو نگا اور اور اس کو برکت دونگا۔ لیکن یہاں ایک اور خاص بات پائی جاتی ہے۔ کہ یہ برکات صرف ابراہیم ؑ کے لیے نہیں تھی۔ بلکہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ © ’ ’ زمین کے سب قبیلے (لوگ) تیرے وسیلے سے برکت پائینگے“۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کون سے مذہب سے ہیں، ہمارا کون سا نسلی پس منظرہے، کہاں ہم رہتے ہیں، ہماری معاشرے میں کیا حیثیت ہے اور کون سی ہم زبان بولتے ہیں۔ یہ وعدہ آج ہم سب کو اِس میں شامل کرتا ہے۔ اگرچہ ہمارا مذہب، نسلی پس منظر، اور زبان مختلف ہیں۔ لیکن اکثر لوگ تنازعات کی وجہ سے اس کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ یہ ایک وعدہ ہے جسکو ہمیں ان تمام تر تنازعات سے بالا تر ہو کر دیکھنا چاہیے۔
کیسے، کب اور کس قسم کی برکات؟ یہ واضح طور پر ظاہر نہیں ہوئی لیکن یہ وعدہ حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعے ایک نشانی کو ظاہر کرتا ہے جو تمہارے اور میرے لیے معنی خیز ہے۔ہم جانتے ہیں کہ وعدہ کا ایک حصہ پورا ہوگیا ہے۔ ہم اعتماد کر سکتے ہیں کہ وعدے کا اگلا حصّہ جس میں ہم شامل ہیں واضح اور لفظی طور پر پورا ہوگیاہے ۔ صرف اس کو کھولنے کے لیے ہمیں چابی کی ضرورت ہے۔
لیکن یہاں توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہ وعدہ ملا اُس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی ۔
”سو ابراہیم ؑ خداوند کے کہنے کے مطابق چل پڑا (آیت ۴)

map-of-abrahams-trek
حضرت ابراہیم علیہ السلامکے سفر کا نقشہ

ملکِ موعودہ تک یہ کتنی دیر کا سفر تھا؟ یہ نقشہ ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کے سفربارے میں دکھاتا ہے۔کہ حضرت ابراہیم ؑ اُور کا رہنے والا تھا۔ ( آج کا جنوبی عراق) اور پھر حاران چلے آئے(آج کا شمالی عراق) پھر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا سفراُس وقت جو ملکِ کعنان کہلاتاتھاکی طرف کیا ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ ایک لمبا سفر تھا ۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اونٹ پر یا گھوڑے یا پھر گدھوں پر سفر کرنا تھا۔ اس میں کئی ماہ لگ گے۔ ابراہیم ؑ نے اپنے خاندان کو چھوڑا ، اپنی آرام دہ اور پُر سکون زندگی کو چھوڑا ( میسوپوٹا میا = مسوپتامیہ اُس وقت تہذیب کا مرکز تھا۔ جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے چھوڑدیا) اپنے محفوظ ملک کو چھوڑ کر وہ ایک ایسے ملک کے لیے سفر شروع کردیا جس سے وہ واقف نہیں تھا۔ یہ سب کچھ ہم کو تورات شریف بتاتی ہے۔ جب وہ 75 سال کا تھا۔

گذشتہ انبیاءکی طرح جانوروں کی قربانیاںکا طریقہ کار:
تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کی جب حضرت ابراہیم ؑ ملکِ کعنان خیریت سے پہنچ گئے۔ تو
آیت 17 (اُس نے وہاں خداوند کے لیے ایک قربان گاہ بنائی)
حضرت ابراہیم ؑ نے ایک قربان گاہ بنائی ۔ جیسی پہلے حضرت قائن ؑ نے اور بعد میں حضرت نوح ؑ نے بنائی۔ وہاں اُس نے قربان گا ہ پر جا نوروں کی قربانیاں پیش کی۔ ہم یہاں پر ایک نمونہ کو دیکھ سکتے ہیں۔کہ کس طرح انبیاءاکرام نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور عبادت کی۔
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ایک نئی سر زمین پر چلے گے۔ لیکن ایسی فرمانبرداری کرنے کے باعث اللہ تعالیٰ نے دو برکات کا وعدہ کیا۔ اُس کو برکت دی اور دنیا کے قبیلے حضرت ابراہیم ؑ کے وسیلے برکت حاصل کریں گے۔ اسلئے یہ ہمارے لیے بہت زیادہ اہم ہے۔
لیکن ہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی کو جاری رکھیں گے۔ ہماری اگلی پوسٹ دیکھیں۔

حضرت لوط کی نشانی

حضرت لوط ، حضرت ابراہیم  کے بھتیجا تھا۔ اُس نے بدی سے بھرے شہر میں رہنے کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس حالت کو تمام بنی نوع انسان کے لیے نبوتی نشان کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن یہ نشان کیاہے؟ اس کے جواب کے لیے ہمیں اس موجود تمام لوگوں کو بڑے غور سے جانناہوگا۔

یہاں پر کلیک کریں قرآن شریف اور تورات شریف کے حوالہ جات کو پڑھنے کے لیے) ہم قرآن شریف اور تورات شریف کے اس حوالے میں تین لوگوں کے گروہ دیکھتے ہیں۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فرشتے۔ آئیں ہم باری باری ان کے بارے میں غور سے دیکھیں

:سدوم کے مرد

یہ آدمی انتہای گمراہی کا شکار تھے۔ ہم نے دیکھا کے یہاں آدم دوسرے مردوں کے ساتھ جبراً زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ (یہ حقیقی طور پر فرشتے تھے۔ لیکن سدوم کے آدمیوں نے ان کو آدمی سمجھا اور وہ ان سے اجتماعی زیادتی کرنا چاہتے تھے) اس قسم کا گناہ انتہای بُرا تھا اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس شہر کی عدالت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع میں حضرت آدم  کو انتباہ کردیا تھا۔ کہ اُس کی عدالت میں گناہ کی مزدوری موت ہے۔ دوسری اور کوئی قسم کی سزا کافی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم  سے فرمایا۔

 ((پیدایش 17:2

لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تو نے اُس میں سے کھایا تو مرا۔

اس طرح سدوم کے آدمیوں کے گناہ کی سزاموت ہی تھی۔ در حقیقت آسمان سے آگ نازل ہوئی اور پورے شہر کو اور ہر ایک جاندار کو تباہ و برباد کردیا۔ اس کی مثال بعد میں انجیل شریف میں دی گئی ہے۔

رومیوں 23:6

کیونکہ گناہ کی مزدری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوند مسیح یسوع میںہمیشہ کی زندگی ہے۔

:حضرت لوط  کے داماد

حضرت نوح  کی کہانی میں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی عدالت کی اور حضرت آدم  کے نشان کی مطابقت سے تمام دنیا کو سیلاب سے مار ڈالا۔ ہمیں قرآن شریف اور تورات شریف بتاتی ہیں۔ کہ تمام دنیا میں بدی چھاگئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سدوم کے آدمیوں کی عدالت کی کیونکہ اُن کی بدی بہت بڑھ چکی تھی۔ ان سب باتوں کے بعد میں یہ سوچو کہ میں اللہ تعالیٰ کی عدالت سے اس لیے بچ سکتا ہوں۔ کیونکہ میں اُن جیسی بدی نہیں کرتا اور اس طرح میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے بہت سے نیک کام کئے ہیں۔ اور میں نے اُن جیسے بُرے کام نہیں کئے۔ تو کیا میں محفوظ ہوں؟ حضرت لوط  کی نشانی اُس کے دامادوںکے بارے میں مجھے خبردار کرتی ہے۔ کہ وہ اُس گروہ میں شامل نہیں تھے۔جو اجتماعی زیادتی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم اُنہوں نے آنے والی عدالت کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا تھا۔ دراصل تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ وہ سمجھے تھے کہ حضرت لوط ؑ اُن سے مذاح کر رہا ہے۔ کیا اُن کی قسمت اُس شہر کے آدمیوں سے فرق تھی؟ نہیں! بلکہ انہوں نے ایک طرح کی قسمت پائی۔ حضرت لوط  کے دامادوں اور اُس سدوم کے آدمیوں کے نتائج میں کوئی فرق نہ تھا۔ یہ نشان ہر ایک لیے تھا کہ وہ اس کو سنجیدگی سے لیں۔ یہ صرف اُن جنسی گمراہ آدمیوں کے لیے ہی نہ تھا۔

:حضرت لوط  کی بیوی

حضرت لوط  کی بیوی ہمارے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔ قرآن شریف اور تورات شریف دونوں حوالہ جات بتاتے ہیں کہ اُس نے دوسرے لوگوں کے ساتھ سزا پائی۔ اور یہ ایک نبی کی بیوی تھی۔ لیکن اُس کا قریبی رشتہ بھی اُس کو نہ بچا سکا۔ حتٰی نہ وہ بدی میں گمراہ تھی اور نہ ہی وہ سدوم کے آدمیوں کی طرح اُن کی بدی میں شامل تھی۔ لیکن فرشتوں نے اُن سب کو حکم دیا تھا۔

(سورة ھود11: 81 )
فرشتوں نے کہا کہ لُوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہر گز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت اُن پر پڑے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ اُن کے (عذاب) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟۔

پیدایش17:19

 ۔۔۔ نہ تو پیچھے مُڑ کر دیکھنا ۔۔۔

اور تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش ہمیں بتاتی ہے کہ (آیت 17:19)اُس نے پیچھے مُڑ کردیکھا۔ اس کی وضاحت ہمارے پاس نہیں ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اُس نے یہ سوچا ہوگا۔ کہ کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ کے اس چھوٹے سے حکم کو نظرانداز کر دیتی ہوں۔ لیکن اُس کے لیے یہ ایک چھوٹا گناہ بھی اُس طرح تھا جیسے سدوم کے آدمیوں نے بڑا گناہ کیااور مرگے۔ یہ میرے لیے اہم ترین نشانی ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا گناہ بھی مجھے اللہ تعالیٰ کی عدالت سے چُھپ نہیں سکتا۔ حضرت لوط  کی بیوی کا نشان ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہمیں اس طرح کی غلط سوچ نہیں سوچنی۔

:اللہ تعالیٰ ، حضرت لوط  اور فرشتے

جیسے ہم نے حضرت آدم  کی نشانی میں دیکھا۔ جب بھی اللہ تعالیٰ عدالت کرتا ہے۔ اُس کے ساتھ اپنا رحم بھی نازل فرماتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کی نشانی میں اُس نے اُن کے لیے کپڑے فراہم کئے۔ حضرت نوح  کی نشانی میں جب اللہ تعالیٰ نے عدالت کی تو ایک بار پھر کشتی کی صورت میں اپنا رحم فراہم کیا۔ ہم اس کو ایک بار پھر دیکھتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدالت کی تو اُس کے ساتھ اپنی رحمت بھی فرمائی۔ اسکا بیان تورات شریف میں کیا ہے۔

پیدایش 16:19

مگر اُس نے دیر لگائی تو اُن مردوں نے اُسکا اور اُسکی بیوی اور اُسکی دونو بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا کیونکہ خداوند کی مہر بانی اُس پر ہوئی اور اُسے نکال کر شہر سے باہر کردیا۔

ہم اس میں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ابتدائی نشانیوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت عالمیگری تھی لیکن یہ فراہم صرف ایک ہی راہ سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو شہر سے باہر نکلنے کی راہنمائی نہیں کی تھی۔ مثال کے طور پر رحمت فراہم کرناشہر میں ایک پناہ فراہم کرنے کے مترادف تھا۔ جو آسمان سے آگ کو برداشت کرسکتی تھی۔ لیکن یہاں رحمت حاصل کرنے کا صرف ایک ہی راہ تھا۔ کہ فرشتوں کی راہنمائی میں شہر سے باہر نکل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ رحم اس لیے حضرت لوط  اور اُس کے خاندان پر نازل نہیں کیا تھا کہ وہ کامل تھا۔ سچ یہ ہے۔ کہ ہم نے تورات شریف اور قرآن شریف دونوں میں پڑھا کہ حضرت لوط ؑ اُس گمراہ گروہ کو اپنی بیٹیاں پیش کرنے کو تیار تھے۔ شاید یہی ایک عظیم ترین اشارہ ہے۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت لوط  ہچکچاتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے یہ سب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت فرمائی اور اُن کو اُس گمراہ گروہ سے باہر نکالنے کی راہنمائی بھی کی۔ یہ نشانی ہمارے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت پر نازل کریں گا۔ لیکن یہ ہمارے نیک کاموں کی وجہ سے نہیں ہے۔ لیکن لوط  کی طرح پہلے ہمیں اُسکی رحمت کو قبول کرنا ہے۔ تاکہ ہماری مدد ہوسکے۔ حضرت لوطؑ کے دامادوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا۔ جسکی وجہ سے وہ اس سے فائدہ اُٹھا نہ سکے۔

تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط  پر اپنی رحمت اسلئے نازل کی۔ کیونکہ اُس کا چچا حضرت ابراہیم  جو ایک عظیم نبی تھا۔ اُس نے شفاعت کی تھی۔ (حوالے کو پڑھنے کے لیے کلیک کریں) اور پھر تورات شریف حضرت ابراہیم  کی نشانی اور اُس وعدے کو جو اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔ ’سب زمین کی قومیں تجھ سے برکت پائیں گی۔ کیونکہ تونے میری فرمانبرداری کی ہے۔ ( پیدایش 18:22) یہ وعدہ ہمیں خبردار کرتا ہے۔ کہ اسکا کوئی مطلب نہیں کہ ہم کون سی زبان بولتے ہیں۔ ہمارا کیامذہب ہے، یا ہم کہا رہتے ہیں؟ لیکن یہ ہم جان سکتے ہیں ۔ کہ تم اور میں دونوں زمین کی سب قوموں کا حصہ ہیں۔ تاہم اگر حضرت ابراہیم  کی شفاعت سے اللہ تعالیٰ حضرت لوط  کے لیے اپنی رحمت عطاکر سکتا ہے ۔ جب کہ وہ اُس معیار پر بھی پورا نہیں اُترتا تھا۔ تو پھر حضرت ابراہیم  کی نشانیوں سے کس قدر ہمیں رحمت مل سکتی ہے۔ جو پوری دنیا کی قوموں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سوچ کے ساتھ ہم تورات شریف کے انبیاءاکرام کے بارے میں اپنا سفر جاری دیکھیں گے کہ تورات شریف ہمیں حضرت ابراہیم  کی نشانی کے بارے میں کیا بتاتی ہے۔

حضرت نوح ؑ کی نشانی

یورپ میں بہت سے لوگ حضرت نوح ؑ کے سیلاب کی کہانی کو نا قابلِ یقین قرار دیتے ہیں ۔ لیکن پوری دنیا تلچھٹ پتھروں سے بھری پڑی ہے۔ یہ پتھر سیلاب کے دوران بنتے ہیں اور اُسی مٹی میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس سیلاب کے مادی شواہد موجود ہیں۔ لیکن حضرت نوح ؑ کا ہمارے لیے کیا نشان ہے؟ اورکس طرح یہ توجہ طلب بات ہے؟

تورات شریف اور قرآن شریف کے حوالہ جات کو تلاوت کرنے کے لیے برائے مہربانی یہاں (کلک کریں) ۔

جب کبھی میں  یورپی لوگوں سے قیامت کے دن کی بات کرتا ہو تو اکثر مجھے یہ جواب سننے کو ملتا ہے۔” میں قیامت کے دن کے بارے میں فکر مند نہیںہو کیونکہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ قیامت کے دن میری عدالت کریں گا۔ حضرت نوح ؑکے اس حوالے میں مجھے پھر ایک منظقی سوال کرنے کی وجہ ملتی ہے۔ جی ہاں! اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے۔ اور جب تک وہ گمراہ نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ حضرت نوح ؑکے دور میں رحم کرتا رہا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا ( حضرت نوح ؑاور اُسکے خاندان کو نکال کر) کی عدالت کی اور ان کو تباہ کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا رحم کہا تھا؟ وہ رحم کشتی میں تھا۔

جس طرح سورة ھود 64 آیت میں لکھا ہے۔

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم! خدا کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی (یعنی معجزہ) ہے۔ تو اس کو چھوڑدو کہ خدا کی زمین میں ( جہاں چاہے ) چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

اللہ تعالیٰ حضرت نوح ؑکو اپنی رحمت پیش کرنے میں استعمال کرتا ہے اور اُسکے وسیلے ایک کشتی سب کے لیے فراہم کرتا ہے۔ کوئی بھی اُس کشتی میں داخل ہوسکتا تھا اُسکی رحمت اور حفاظت کو حاصل کرسکتا تھا۔مسلئہ یہ تھا کہ تقریباً سب لوگ اُس پیغام پر ایمان نہ لائے تھے۔ انہوں نے حضرت نوح ؑ کا مذاق اڑایا اور آنے والی قیامت پر یقین نہ کیا۔ صرف وہ اسی صورت میں قیامت سے بچ سکتے تھے کہ وہ کشتی میں داخل ہو جائیں ۔ قرآن شریف کا حوالہ ہمیںبتاتا ہے۔ کہ حضرت نوح ؑ کے ایک بیٹے نے نہ تو اللہ تعالیٰ پر نہ ہی آنے والی قیامت پر ایمان لایا۔ در حقیقت وہ پہاڑ پرچڑھ کر یہ دیکھا رہا تھا کہ وہ اپنی کوشش سے اللہ تعالیٰ کی قیامت سے بچ سکتا ہے۔ ( دراصل اُسکو بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی قیامت پر ایمان لانا ضرور تھا ) لیکن یہاں پھر ایک مسلئہ تھا ۔ کہ اُس نے اپنے عقیدے کو نہ مانا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس قیامت میں سے خود رہائی حاصل کرے گا۔ لیکن اُس کے باپ نے اُس کو بتادیا تھا۔

آج کے دن تمہیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے کو ئی نہیں بچا سکتا لیکن وہی بچ سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے رحم کو حاصل کرے گا۔اس کے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے رحم کو ضرورت تھی نہ کہ وہ اپنی کوششوں سے قیامت سے بچتا۔ اُس کی پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش بیکار گئی۔

 تاہم نتیجہ اُس کے لیے بالکل وہی نکلا جیسا حضرت نوح ؑ پر مذاق کرنے والوں کا ہوا اور وہ ڈوب کر مر گیا۔ اگر صرف وہ کشتی میں داخل ہو جاتا تو وہ قیامت سے بچ سکتا تھا۔

اس سے ہم اس بات کا ےقین کرسکتے ہیں ۔ کہ محض اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان لانا بچنے کے لیے کافی نہیں، درحقیقت ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرنا ہے جسکو اُس نے ہمارے لیے فراہم کیا ہے۔ اس کے برعکس کہ ہم اپنے خیالات سے کس طرح رحم حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت نوح ؑ کی کشتی ہمارے لیے نشان ہے۔ یہ ایک بہت بڑی قومی علامت ہے۔ جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی قیامت اور اُس سے بچ جانے کا مطلب بتاتی ہے۔ جب یہ کشتی بن رہی تھی ۔ تو اس کو دیکھنے والوں کے لیے نشان تھا کہ اللہ تعالیٰ کی قیامت اور رحمت دونوں موجود ہیں۔

لیکن یہ ہم پر ظاہر کرتا ہے۔ کہ ہم اُسکی رحمت کو اُسی طرح حاصل کرسکتے ہیں ۔ جس طرح اُس نے ہمارے لیے فراہم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُس وقت سے اس طریقہ کو تبدیل نہیں کیا اور یہ ہم پر اُسی طرح لاگو ہو گا۔

تمام انبیاءاکرام ہمیں آنے والیٰ قیامت کے بارے خبردار کرتے ہیں جو آگ کے ساتھ ہوگی۔ لیکن حضرت نوح ؑ کی نشانی سے اللہ تعالیٰ ہمیں یقین کرواتا ہے کہ اُس آنے والی قیامت کے ساتھ اُسکی رحمت بھی ہوگی۔ لیکن ہمیں اُس کشتی پر نظریں جمائے رکھنا ہے۔ کیونکہ اُس کے وسیلے سے رحمت یا بچ جانے کا وعدہ ہے۔

تورات بھی ہمیں حضرت نوح ؑ کے بارے میں بتاتی ہے۔

تورات کی پہلی کتاب

 پیدائش 20:8

تب نوح نے خداوند کے لیے ایک مذبح بنایا اور سب پاک چوپایوں اور پاک پرندوں میں سے تھوڑے سے لے کر اُس مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھائیں۔

یہ بات حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ اور حضرت ہابیل ؑ اور حضرت قابیل ؑ کے قربانی کے نمونے پر ثابت آتی ہے۔ کہ کس طرح ایک جانور کے خون بہانے اور اس کی موت کے و سیلے سے ہمیں اس کا مطلب ملتا ہے۔کہ کس طرح حضرت نو ح ؑ نے قربانی کی اور اللہ تعالیٰ نے اسکو قبول کرلیا۔ یہ کتنی اہم بات ہے؟

 تورات شریف کے اگلے نبی حضرت لوط ؑکے ساتھ ہم اپنے سروے کو جاری رکھیں گے۔

 

حضرت ہابیل اور حضرت قابیل ہمارے لیے نشان

حضرت ہابیل اور حضرت قابیل ہمارے لیے نشان

گذشتہ مضمون میں ہم نے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کی نشانیوں کے بارے میں دیکھا ۔حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے دو بیٹے تھے۔ جنہوں نے ایک دوسرے کا سامنا بڑے تشدد کے ساتھ کیا۔ یہ کہانی ہے انسانی تاریخ کے پہلے قتل کی۔ لیکن ہم اس کہانی سے عالمگیر اصول سیکھنا چاہتے ہیں ۔ چلیں آئیں پڑھیں اور سکھیں ۔

سورہ المائدہ 5 : 28-31

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائیگا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لیے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاونگا۔  مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرئہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔

مگر اس کے نفس نے اُس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اُسنے اُسے قتل کر دیا اور خسارہ اُٹھانیوالوں میں ہوگیا۔

اب اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اُسے دکھا ئے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے، کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپادیتا۔ پھر وہ پشمان ہوا۔

پیدائش 4 : 1-12 

اور آدم اپنی بیوی حوا کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور اسکے قائن پیدا ہوا۔ تب اُس نے کہا مجھے خداوند سے ایک مرد ملا

پھر قائن کا بھائی ہابل پیدا ہوا اور ہابل بھیڑ بکریوں کا چرواہا اور قائن کسان تھا۔

چند روز کے بعد یوں ہوا کہ قائن اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خداوند کے واسطے لایا۔

اور ہابل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں کا اور کچھ اُن کی چربی کا ہدیہ لایا ۔ اور خداوند نے ہابل کو اُس کے ہدیہ کو منظور کیا۔

پر قائن کو اور اُسکے ہدیہ کو منظور نہ کیا اس لیے قائن نہایت غضبناک ہوا اور اُس کا منہ بگڑا۔

اور خداوند نے قائن سے کہا تو کیوں غضبناک ہوا؟ اور تیرا منہ کیوں بگڑا ہوا ہے۔ ؟ ۔

اگر تو بھلا کرے تو کیا تو مقبول نہ ہو گا؟ اور اگر تو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے پر تو اس پر غالب آ۔

اور قائن نے اپنے بھائی ہابل کو کچھ کہا اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یوں ہوا کہ قائن نے اپنے بھائی ہابل  پر حملہ کیا اور اسے قتل کرڈالا۔

تب خداوند نے قائن سے کہا کہ تیرا بھائی ہابل کہا ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں ۔ کیا میں اپنے بھائی کا محافظ ہو؟ ۔

پھر اس نے کہا کہ تو نے یہ کیا کِیا؟ تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھکو پکارتا ہے۔

اور اب تو زمین کی طرف سے لعنتی ہوا۔ جس نے اپنا منہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لے ۔

جب تو زمین کو جوتے گا تو وہ اب تجھے اپنی پیداوار نہ دیگی اور زمین پر تو خانہ خراب اور آوار ہوگا۔

حضرت ہابیل اور قابیل دو بیٹے دو قربانیوں کے ساتھ

تورات شریف میں حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے دو بیٹے ہیں ۔ جن کے نام قائن اور ہابل ہیں ۔ قرآن شریف میں اُن کے نام درج نہیں ۔ لیکن اسلامی روایت میں اُن کے نام قابیل اور ہابیل ہیں ۔ اُن دونوں نے اپنی اپنی قربانی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کی۔ لیکن ہابیل کی قربانی قبول ہوگی اور قابیل کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ اسی حسد میں قابیل نے اپنے بھائی کا قتل کردےا۔ لیکن قابیل اپنی شرمندگی اللہ تعالیٰ سے چھپا نہ سکا۔

یہاں ایک اہم ترین سوال یہ ہے۔ کیوں ہابیل کی قربانی قبول ہوگی اور قابیل کی قربانی نہ قبول ہوئی؟ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سوال کا جواب دونوں بھائیوں میں پوشیدہ ہے۔ لیکن غور سے مطالعہ کرنے سے حوالہ ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ کہ ہم اس سوال کے بارے میں سوچیں ۔ تورات شریف ہمیں یہ بتاتی ہے۔ کہ اُن کی قربانیوں میں فرق تھا۔ قابیل کھیت کا پھلاور سبزیاں لایا، اسطرح ہابیل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں کی چربی قربانی کے طور پر لایا۔ اسکا مطلب ہے کہ ہابیل نے ایک جانور اپنے گلہ سے قربان کیا۔ یہ جانور بھیڑ یا بکری تھی۔

یہاں پر ہم حضرت آدم ؑ کا ایک ظاہری نشان دیکھ سکتے ہیں ۔حضرت آدم ؑ نے کوشش کی کہ وہ اپنی شرمندگی پتوں سے چھپالے، لیکن ایک جانور کی کھال سے (جانور کی موت) اُن کو موثر طریقے سے ڈھانپ دیا۔ پتوں ، پھلوں اور سبزیوں میں خون نہیں ہوتا اور اسی طرح لوگوں اور جانوروں میں اس قسم کی زندگی نہیں ہوتی۔ خون کے بغیر پتے حضرت آدم ؑ کے لیے کافی نہ تھے اسطرح خون کے بغیر پھل اور سبزیاں قابیل کی قربانی بھی قابل ِ قبول نہ تھی۔ ہابیل کا قربانی کے لیے لائی ہوئی چربی سے ظاہر تھا کہ کسی جانور کا خون بہایا گیا تھا۔ جس طرح حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے چمڑے کے کپڑے بنانے کے لیے جانور کا خون بہایا گیا۔

شاید ہم اس نشانی کو اس محاورے کے ساتھ مختصرً کر سکتے ہیں۔ جب میں لڑکا تھا تو میں نے اس محاورے کو سیکھا۔

جہنم کو جانے والا راستہ کھولا ہے اور دلکش

یہ محاورا قابیل پر ثابت آتا ہے ۔وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا اور اُس کے حضور قربانی چڑھتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ تو اُس کی قربانی کو قبول کیا نہ ہی اُس کو قبول کیا۔ لیکن کیوں؟ کیا اُس کا رویہ ٹھیک تھا؟ ہوسکتا ہے قربانی چڑھانے کے لیے اُسکی بہترین کوشش ہو۔

 لیکن یہاں پر حضرت آدم ؑ کی نشانی سے ہمیں سراغ ملتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کو فیصلہ سُنایا۔ تو اُن کو فانی بنادےا۔ اسطرح موت اُن کے گناہ کی ادائیگی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو نشانی دی کہ ایک جانور کی کھال سے اُن کی شرمندگی ڈھانپ دی گئی۔ لیکن اسکا مطلب ہے کہ ایک جانور اُن کے لیے مرگیا۔ اُسکا خون بہایا گیا تاکہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کی شرمندگی ڈھانپی جائے۔ اب اُن کے بیٹوں نے قربانیاں لائیں لیکن ہابیل کی قربان(چربی کے حصہ) سے ظاہر ہے کہ خون بہایا گیا اور موت واقع ہوئی۔ پتے یا پھل اُس وقت تک مر نہیں سکتے جب تک وہ زندہ نہ ہو۔ اس طرح اُس میں خون نہیں بہایا گیا تھا۔

خون کا بہایا جانا ہمارے لیے نشانی ہے

اللہ تعالیٰ ہمیں یہاں ایک سبق سکھا رہے ہیں ۔ ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ اللہ تعالیٰ تک ہم کیسے رسائی حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے معیار مقرر کردیا ہے ۔ اب ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اُس کاحکم مانے یا نہ مانے۔ معیار یہاں پر یہ ہے کہ قربانی دی جائے جس میں خون بہانا اور موت واقع ہو۔ شاید میں کسی دوسرے معیار کو تر جیح دونگا کیونکہ پھر میں اپنے وسائل میں سے دے سکوں گا۔ یعنی میں وقت ، توانائی ، پیسہ اور دُعا کرسکوں گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا معیار ہے قربانی دی جائے جس میں خون بہایا جائے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی کافی نہیں ہے۔ آئیں ہم دیکھیں کہ کس طرح پیشن گوئی پوری ہوتی ہے اور کس طرح سے یہ نشان جاری رہتا ہے۔

حضرت آدم ؑ کا نشان

حضرت آدم ؑ اور اُس کی بیوی حضرت حواؑ منفرد(ان دونوں کی مانند کوئی نہ تھا) تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنے ہاتھوں سے خود بنایا تھا اور وہ باغ جنت میں رہتے تھے۔ اصل عبرانی زبان میں آدم کا مطلب ہے ”مٹی“اس کا مظہر یا اظہار ہے کہ وہ زمین یا مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔ باقی تمام تر انسانیت حضرت آدم ؑ اور حواؑ سے ہے۔ وہ انسانی نسل کے ’سر یا جدااِمجد‘ ہیں اور ہمارے لیے ایک اہم نشان ہیں۔ میں نے حضر ت آدم ؑ کے بارے میں دو متوازی حوالہ جات پر غور کیا جو قرآن شریف میں سے ہیں اور ایک پیدائش کی کتاب میں سے جو حضرت موسیٰ کی کتاب تورات شریف کی پہلی کتاب ہے۔

(یہاں پر اِن حوالہ جات کو کھولنے کے لیے کلک کریں)

جب میں نے اِن حوالہ جات کا مطالعہ کیا۔ جو پہلا مشاہدہ میں نے کیا وہ یہ تھا کہ اِ ن حوالہ جات میں مماثلت پائی جاتی تھی۔ اِن دونوں حوالہ جات میں کردار یکساں تھے ( اللہ تعالیٰ ، حضرت آدم ؑ، حواؑ اور شیطان) دونوں حوالہ جات میں (جنت کا باغ) کی جگہ بھی ایک ہی تھی۔ دونوں حوالہ جات میں شیطان نے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ سے جھوٹ بولا اور اُنہیں دھوکا دیا۔ اِن دونوں حوالہ جات میں آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ نے اپنی برہنگی کو چھُپانے کے لیے زیتون کے پتوں سے ڈھانکا۔ اِن دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ نے اِن سے با ت کی اور اُن کی عدالت کر کے فیصلہ سُنایا ۔ اِن دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ اور حواؑ پر کرم کی نظر کرتا ہے اور اُن کو کپڑے فراہم کرتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی برہنگی چھوپا لیں ۔

قرآن شریف ہمیں حضرت آدم ؑ کی اولاد ( جسکا مطلب ہے ہم) کہہ کر متعارف کرواتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ صرف ماضی کے مقدس واقعات کی تاریخ کا سبق نہیں ۔ بلکہ ہمیں غور کرنا چاہیے ۔ کیونکہ یہ حوالہ واضع طور پر بتاتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ہے اور ہمیں پوچھنا اور دریافت کرنا چاہے کہ یہ ہمارے لیے کس طرح نشانی ہے۔ 

(حضرت آدم ؑ ہمیں انتباہ کرتے ہیں)

ہمیں واقعی اس بات کو بڑی سنجیدگی سے لینا چاہے۔ کہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ نے صرف ایک (1)ہی بار سرکشی کی اور اُن کو اللہ تعالیٰ سے اُس کی سزا ملی۔ مثال کے طور پر اُن کے پاس موقعہ نہیں تھا کہ وہ نو (9) بار نافرمانی کرتے اور دسویں(10) بار اللہ تعالیٰ اُن کو سزا دیتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو صرف ایک ہی نافرمانی پر فیصلہ کن سزا دی۔ مغرب میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والو ں کا خیال ہے، کہ اللہ تعالیٰ اُن کو سزا دے گا جب وہ بہت زیادہ گناہ کرلیں گے۔ اس کے لیے وہ یہ وجہ بیان کرتے ہیں۔ کہ اگر اُن کے گناہ دوسروں کی نسبت کم ہوئے یا پھر اُن کے زیادہ کام اچھے ہوئے تو شائد اللہ تعالیٰ اُن کی عدالت نہیں کرے گا۔

لیکن حضرت آدم ؑ اور حواؑ کے معاملے میں ہمارے لیے ایک انتباہ(خبردار کرنا) ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایک ہی گناہ کے بعض عدالت کرے گا۔ اس مثال سے سمجھیں ۔ ہم ایک مُلک کے قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا موازنہ کرتے ہیں ۔میں جس ملک میں رہتا ہوں ۔ اگر میں اس ملک کا قانون توڑوں ۔ (جس طرح اگر میں ٹیکس کی ادائیگی میں دھوکہ دوں ) تو پھر قانون کے پاس یہ کافی وجہ ہوگی کہ وہ میری عدالت کریں ۔ میں یہ دراخواست نہں کرسکتا کہ میں نے صرف ایک قانون کو توڑا ہے اور میں نے قتل، ڈکیتی یا اغوا کے قوانین کو نہیں توڑا ۔ میرے لیے ایک ہی قانون توڑنا کافی ہے کہ میں اپنے ملک کی عدالت کا سامنا کرو۔ یہ ہی حال اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ہے۔

                                حضرت آدمؑ اور حواؑ کی نافرمانی میں ہمارے لیے ایک نشانی ہے۔ اور اِس کے اگلے اقدامات میں انہوں نے شرمندگی کا تجربہ کیا اور اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے اُنہوں نے زیتون کے پتوں سے اپنے آپ کو چھپایا۔ اس طرح جب میں کوئی نافرمانی کا کام کرتا ہوں تو میں شرمندگی محسوس کرتا ہوں اور اس کو دوسرں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہوں۔ حضرت آدم ؑ اور احو ؑ نے بھی کوشش کی لیکن اُن کی کوشش بےکار گئی۔ اللہ تعالیٰ اُن کی ناکامی کو دیکھا سکتا تھا اور اس کے بعد اُن دونوں نے کیا کام کیا اورکیا بولے۔ آئیں دیکھیں!

(اللہ تعالیٰ کی عدالت اور رحمت)

اگر ہم غور سے مطالعہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا ہے تو ہم کو تین چیزیں ملتی ہیں۔

  1.                  اللہ تعالیٰ نے اُن کو فانی بنایا۔ اب وہ مر جائیں گے
  2. اللہ تعالیٰ نے اُن کو جنت کے باغ سے نکال دیا۔ اب اُن کو زمین پر ایک بہت مشکل جگہ پر رہنا پڑے گا
  3.             اللہ تعالیٰ نے اُن کو چمڑے کے کپڑے فراہم کیے

ان تین عوامل کے بارے میں کیا بات اہم ہے۔ یہ تمام تر چیزیں ہمارے لیے ہیں ۔ یہاں تک کہ آج بھی ہم اِن چیزوں سےمتاثر ہو رہے ہیں ۔ ہر کوئی مرتا ہے، کوئی بھی ابھی تک جنت کے باغ میں واپس نہیں گیا ،یہاں تک  کہ کوئی نبی بھی نہیں گیا۔ سب ابھی بھی کپڑے پہنتے ہیں ۔ درحقیقت تینوں باتیں سب کے لے عام ہیں ۔ ہم نے تقریباً اس حقیقت کو بھولا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نےحضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کے ساتھ کیا کیا اور یہ کہ آج بھی ہم کئی ہزاروں سال سے اس کو محسوس کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سے اُس دِن جو ہوا اُس کے نتائج سے ہم آج بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

                            ایک اور بات یہاں پر قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لباس رحمت تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی عدالت کی لیکن اُن پر اپنی رحمت بھی نازل کی۔ اللہ تعالیٰ کو ضرورت نہیں تھی کہ اُن کو یہ چیزیں دیں ۔ یہ کپڑے اُن کو  راستباز کردار کی وجہ سے نہیں ملے  تھے۔ بلکہ اُنہوں نے یہ کپڑے نافرمانی کرنے کی وجہ سے حاصل کیے تھے۔( در حقیقت اُن کا راستبازی کا معیار قرآن شریف اور تورات شریف کے مطابق نہیں تھا)

 یہ راستبازی کا معیارحضرت آدم ؑ اور حوا ؑ کو اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے مل سکتا تھا ۔ نہ تواُ سکے وہ مستحق تھے اور نہ ہی اُسکے لائق تھے۔ لیکن کسی نے اُن کی قمیت کو ادا کیا تھا۔ یہاں تک کسی کی موت ہوئی تھی ۔ لیکن اب کسی جانور نے ( شاید وہ بھیڑ ، بکری یا کسی بھی صورت میں وہ جانور جس کی کھال موزوں تھی کہ اُس کا لباس بنایا جائے) ا پنی زندگی کی قمیت ادا کی۔ ایک جانور مر گیا تاکہ حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کر سکیں ۔ قرآن شریف ہمیں اس کے بارے میں مزید بتاتا ہے کہ کپڑے بھی اُن کی شرمندگی کو ڈھانپ نہ سکے۔ لیکن حقیقت میں اُن کو راستبازی کے کپڑوں کی ضرورت تھی۔ یہ لباس رستبازی کی نشانی تھی یہ ہمارے لیے بھی نشانی ہے۔ اس آیت سے جو مشاہدہ میں نے کیا ہے اُسکو میں نے لکھ دیا ہے۔

سورہ الاعراف26:7

اے بنی آدم ہم نے تم پر پوشاک اُتاری کے تمہارا سر ڈھانکے اور( تمہارے بدن کو) زینت دے اور (جو ) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں ۔ تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔

شاید یہ ایک اہم اور اچھا سوال ہے جس کو ہم اپنے ذہین میں رکھ سکتے ہیں ۔ کہ ہم کو کس طرح سے راستبازی کا لباس مل سکتا ہے؟ بعد میں انبیاء اکرام اس اہم سوال کا جواب دیں گے۔

(کلام اللہ قیامت اور رحمت کے بارے میں)

لیکن یہ نشانی جاری رہتی ہے۔ نہ صرف اللہ تعالیٰ حضرت آدم ؑ ، حوا ؑ اور ہمارے ساتھ اِن تین باتوں کو جاری رکھتا ہے بلکہ وہ اپنے کلام میں فرماتا ہے۔ ان دونوں حوالہ جات میں اللہ تعالیٰ اُن (سانپ اور عورت) کے درمیان عداوت کی بات کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن تورات میں اللہ تعالیٰ اور واضع طور پر کہتا ہے ۔ کہ یہ عداوت شیطان (سانپ) اور عورت کے درمیان ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لفظ کو دو ہرایا گیا ہے۔  درج آیت میں اس کو بریکٹ میں رکھا ہے۔

پیدائش کی کتاب 3:15

اور میں (اللہ تعالیٰ) تیرے (شیطان) اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا ۔ وہ(عورت کی نسل) تیرے سر کو کُچلے گا اور تُو(شیطان) اُسکی ایڑی پر کاٹیگا۔

یہ ایک پہیلی ہے لیکن سمجھ میں آتی ہے۔ اگر ہم غور سے مطالعہ کریں تو یہاں ہمیں پانچ مختلف کردار ملے گے۔ یہ ایک پیشن گوئی ہے جو مستقبل کے بارے میں بات کرتی ہے۔ لفظ” گا“ بار بار استعمال ہوا ہے جو مستقبل کے زمانے کی بات کرتا ہے

کردار یہ ہیں

  1.             اللہ تعالیٰ
  2.               (شیطان (ابلیس
  3.                عورت
  4.              عورت کی نسل
  5.             شیطان کی نسل

یہ پہیلی کا نقشہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں کس طرح یہ کردار ایک دوسرے سے منسلک ہو نگے۔ ذیل میں تصویر میں دیکھایا گیا ہے۔

SIng of Adam Picture
جنت میں اولاد کے لیے دیا گیا وعدہ

 یہ نہیں بتاتا کہ عورت کون ہے۔ آپ متوجہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ شیطان کی نسل اور عورت کی نسل کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ پُر اسرار بھید ہے

لیکن ہم عورت کی نسل کے بارے میں جانتے ہیں ۔

  (مذکر- وہ-He)کیونکہ جب نسل کا حوالہ دیا جاتا ہے تو اس کے لیے لفظ کو جانتے ہیں کہ یہ واحد مرد کے لیے استعمال ہوتا ہے (His- اور ( اس – مذکر

اپنے علم کے ساتھ ہم یہاں کچھ ممکنہ مطلب لے سکتے ہیں ۔جیسا کہ نسل کے ساتھ لفظ (وہ ۔ مذکر) استعمال ہوا ہے نہ کہ(وہ۔ مونث) اسی طرح یہ نسل عورت نہیں ہوسکتی ۔لیکن وہ عورت کی نسل سے پیدا ہوگا۔ اسی طرح نسل کے ساتھ لفظ( وہ۔ مذکر) نہ کہ( انہوں ۔ جمع) ہے لہذا لفظ نسل نہ تو کسی خاص لوگوں کے گرُوہ کو ظاہر کرتا ہے نہ ہی یہ کسی قوم یا مذہب کو ظاہر کرتاہے۔ اسی طرح نسل کے ساتھ لفظ( وہ۔ مذکر) استعمال ہوا ہے
نہ کہ ( یہ -لفظ استعمال نہیں ہوا ) نسل ایک شخص ہے‘ یہ واضع کرتا اور اس امکان کو بھی ختم  کردیتا ہے کہ نسل نہ تو کوئی خاص فلسفہ ، تعلیم یا کوئی مذہب ہے۔اسی لیے نسل نہ تو عیسائیت ہے اور نہ ہی اسلام اگر ایسا ہوتا تو پھر لفظ ( یہ ) کا استعمال ہوتا۔
نہ ہی یہ یہودیت ، عیسائیوں اور مسلمانوں کا کوئی گروہ ہے۔اگر ایسا ہوتا تو لفظ ( اُنہیں) استعمال ہوتا۔
اگرچہ نسل کے بارے میں بھید رہتا ہے ۔ لیکن ہم نے تمام ایسی باتوں کوختم کردیا ہے۔ جو قدرتی طور پر ہمارے ذہین میں آسکتی ہیں۔

ہم آگے چل کر اللہ تعالیٰ کے کلا م کو دیکھ سکتے ہیں ( یہ کلام زمانہ مستقبیل میں ہے اور بار بار”گا” لفظ استعمال ہوا ہے)جوکہ اللہ تعا لیٰ کے ذہین میں ایک الٰہی منصوبے کو بیان کرتا ہے۔ یہ نسل (عورت کی نسل)سانپ (شیطان) کا سر کچلے گی اورسانپ اس کی ایڈی پر کاٹے گا۔اس نقطے پر اس بھید کا کیا مطلب ہے یہ واضع نہیں ہوتا ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک الٰہی منصوبہ ہے جس کو کھولا جارہا ہے۔

یہاں ایک اور دلچسپ اور قابلِ غور بات سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کون سی بات حضرت آدم ؑ سے نہیں کہی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ ؑکے ساتھ کسی مخصوص نسل کا وعدہ نہیں کیا جیسے اللہ تعالیٰ نے عورت کے ساتھ وعدہ کیا۔ تورات شریف، زبور شریف اور انجیل شریف میں بڑی غیر معمولی طور پر باپ دادا سے بچوں کے آنے کے ذکر (نسب نامہ) پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔ کینیڈا میں جدت پسند لوگوں کی طرف سے کتاب ِمقدس پر تنقید کی جاتی ہے۔ کہ عورتوں کے ذریعے ملنے والے خونی رشتے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تورات شریف میں دئیے گئے نسب نامہ تقریباً خصوصی طور پر باپ دادا سے بچوں کے آنے کا  ذکرکرتے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ ، حضرت حو ؑا سے اور شیطان سے کون سے مختلف وعدے کئے تھے۔ یہاں پریہ وعدہ نہیں کیا گیا کہ وہ نسل (وہ شخص )کسی آدمی سے ہوگی۔ تورات شریف میں لکھا ہے کہ وہ نسل عورت میں سے ہوگی۔

اب تک جتنے بھی انسان پیدا ہوئے اُن میں سے (دو 2) ایسے انسان ہیں جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے ۔ پہلا حضرت آدم ؑ جو اللہ تعالیٰ سے برائے راست خلق ہوئے اور دوسرے حضرت عیٰسی ؑ جو ایک کنواری سے پیدا ہوئے۔ ان کا کوئی انسانی باپ نہ تھا۔ یہ مشاہدہ اس طرح ٹھیک ثابت ہوتا ہے۔ کہ یہ نسل ”وہ شخص“ ہے۔ نہ وہ ایک ”عورت“ یا”زیادہ لوگ“اور نہ ہی”یہ“ہے۔ اس نقطہ نظر میں آپ اس پہیلی کو پڑھیں تو یہ سب جگہوں میں بات ثابت آ جاتی ہے۔ کہ حضرت عیسٰی ؑ ہی وہ نسل ہے جو عورت سے ہے۔ لیکن اُسکے دشمن اور شیطان کی نسل کون ہے؟

اگرچہ ہمارے پاس یہاں وقت نہیں کہ اس کے بارے میں تفصیل سے بات کریں ۔ لیکن کتابیں ایک (تباہی کے فرزند، یا شیطان کے فرزند) کی بات کرتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے القاب کہ وہ ایک ایسے آنے والے انسانی حکمران کا (مسیحا) یعنی مسیح کی مخالفت کرے گا۔

بعد میں کتابیں ایک مستقبیل میں ہونے والے تصادم کی بات کرتی ہیں ۔ جو مسیح (مسیحا) اور مخالفِ مسیح کے درمیان ہوگا۔ دنیا کی ابتدائی تاریخ میں پہلی بار اس بات کا ذکر کیا گیا ۔ لیکن یہاں پرمکمل بات نہیں ہے۔

تاریخ کے عروج میں شیطان اور خدا کے درمیان ایک مقابلے کا اختتام (پیشن گوئی)پہلے سے جس کا ذکر باغِ جنت میں ہوا اور جسکا ذکر قدیم ترین کتاب میں بھی ہے۔ انسانی تاریخ کے آغاز ہی میں خدا نے یکے بعد دیگرے اپنے پیغمبروں کے ذریعے آگاہ کروایا۔ تاکہ ہم بہتر طور پر آنے والے وقت کو سمجھ سکیں ۔ جب ہم حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ کے بارے میں اُن کے نشانوں پر غور کرتے ہیں تو ہم بہت کچھ سمجھ جاتے ہیں ۔ قرآن شریف اور تورات شریف میں ہمیں بہت سے سراغ ملتے ہیں ۔ تاہم کئی سوال ابھی بھی موجود ہیں اور کئی سوال ہونگے ۔لیکن اس کو ہم اب جاری رکھیں گے انبیاء اکرام کی تعلیمات میں کہ وہ ہمیں کیا سکھاتے ہیں ۔

قراآن شریف میں آدم کا نشان

تورات شریف میں آدم کا نشان

سورة الاعراف7 :19-26

اور (ہم نے )آدم ؑ ( سے کہا کہ ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چا ہو ) نوش جان کرو اس درخت کے پاس نہ جانا ۔ ورنہ گنہگار جاﺅ گے۔19

تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ اُن کے ستر کی چیزیں جو اُن سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاﺅ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔ 20

اور اُن سے قسم کھاکر کہا کہ میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔ 21

غرض (مردُود نے ) دھوکا دے کر اُنکو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب اُنہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھالیا تو اُنکے ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے ) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے (اور ستر چھپانے ) لگے تب اُن کے پروردگا ر نے اُن کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور بتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ 22

دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردِگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کےا اور اگر تُو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔ 23

(خدانے ) فرمایا (تم سب بہشت سے )اُتر جاﺅ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانا (زندگی کا) سامان (کردیا گیا)ہے۔ 24

(یعنی ) فرمایا کہ اُسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کرکے) نکالے جاﺅ گے۔ 25

اے بنی آدم ؑ ہم نے تم پر پوشاک اُتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت دے اور (جو) پرہیزگار ی کا لباس (ہے) وہ سب اچھاہے یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔ 26

سورة طٰہٰ 20 :121-123

تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو اُن پر اُن کی شرمگاہیں ظاہر ہو گئیں اور وہ اپنے (بدنوں ) پر بہشت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردِگا ر کے حکم کے خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بے راہ ہوگئے۔ 121

پھر اُن کے پروردِگار نے ان کو نوازا تو ا تو اُن پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی۔ 122

فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اُترجاﺅ ۔ تم میں بعض بعض کے دشمن (ہونگے) پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا نہ تکلیف میں پڑے گا۔ 123

پیدائش 2 :15-17

اور خداوند خدا نے آدم کو لیکر باغ عدن میں رکھا کہ اُسکی باغبانی اور نگہبانی کرے۔15

اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے ۔16

لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جِس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔ 17

پیدائش3 :1-23

اور سانپ کُل دشتی جانورں سے جِنکو خُداوند نے بنایا تھا چالاک تھا اور اُس نے عَورت سے کہا کیا واقعی خُدا نے کہا ہے کہ باغ کے کِسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟ ۔1

عَورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں ۔2

پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُسکے پھل کی بابت خُدا نے کہا ہے کہ تم نہ تو اُسے کھانا اور نہ چھونا ورنہ مر جاوگے ۔3

تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ مروگے ۔ 4

بلکہ خُدا جانتا ہے کہ جس دن تم اُسے کھاو گے تمہاری آنکھیں کُھل جائینگی اور تم خُدا کی مانِند نیک و بد کے ناننے والے بن جاوگے ۔ 5

عورت نے جو دِیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لیے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُسکے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اُس نے کھاےا ۔6

تب دونوں کی آنکھیں کُھل گئیں اور اُنکو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں اور اُنہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لُنگیاں بنائےں۔7

اور اُنہوں نے خداوند کی آواز جو ٹھنڈ ے وقت میں باغ میں پھرتا تھا سُنی اور آدم اور اُس کی بیوی نے آپ کو خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درخت میں چھپایا۔ 8

تب خداوند خدا نے آدم کو پُکارا اور اُس سے کہاں کہ تُو کہاں ہے؟ ۔ 9

اُس نے کہاں میں نے باغ میں تیری آواز سُنی اور میں ڈرا کیونکہ میں ننگا تھا اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا۔ 10

اُس نے کہا تجھے کس نے بتایا کہ تو ننگا ہے؟ کیا تو نے اُس درخت کا پھل کھایا جِسکی بابت میں نے تجھکو حکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا؟۔ 11

آدم نے کہا کہ جس عورت کو تُو نے میرے ساتھ کیا ہے اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل دیا اور مےں نے کھاےا۔ 12

تب خداوند خدا نے اُس عورت سے کہا کہ تُو نے یہ کیا کِیا؟ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھکو بہکایا تو میں نے کھایا۔ 13

اور خداوند خدا نے سانپ سے کہا اِسلئے کہ تُو نے یہ کیا تُو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعُون ٹھہرا ۔ تُو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور اپنی عمر بھر خاک چاٹےگا۔14

اور میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کُچلےگا اور تُو اُسکی ایڑی پر کاٹےگا۔ 15

پھر اُس نے عورت سے کہا کہ میں تیرے دردِ حمل کو بہت بڑھاونگا ۔ تُو درد کے ساتھ بچے جنیگی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کریگا۔ 16

اور آدم سے اُس نے کہا چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اُس درخت کو پھل کھایا جِسکی بابت میں نے تجھے حُکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا اِسلئے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی ۔ مشقت کے ساتھ تُو اپنی عُمر بھر اُسکی پیداوار کھائےگا۔17

اور وہ تیرے لئے کانٹے اور اُونٹکٹارے اُگائے گی اور تُو کھیت کی سبزی کھائےگا۔18

تُو اپنے منُہ کو پسینے کی روٹی کھائے گا جب تک کہ زمین میں تُو پھر لَوٹ نہ جائے اسلئے کہ تُو خاک ہے اور خاک میں پھر لَوٹ جائےگا۔19

اور آدم نے اپنی بیوی کا نام حوا رکھا اِسلئے کہ وہ سب زندوں کی ماں ہے۔ 20

اور خداوند خدا نے آدم اور اُسکی بیوی کے واسطے چمڑے کے کُرتے بنا کر اُنکو پہنائے۔21

اور خداوند خدا نے کہا دیکھو اِنسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہوگیا ۔ اب کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کُچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے۔ 22

اِسلئے خداوند خدا نے اُسکو باغ عدن سے باہر کردیا تاکہ وہ اُس زمین کی جس میں سے وہ لیا گیا تھا کھیتی کرے۔23

چنانچہ اُس نے آدم کو نکال دیا اور باغ عدن کے مشرق کی طرف کروبیوں کو اور چوگرد گھومنے والی شعلہ زن تلوار کو رکھا کہ وہ زندگی کے درخت کی راہ کی حفاظت کریں۔ 24

 

قرآن شریف میں انجیل مقدس کا نمونہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے

جب میں نے پہلی بار قرآن شریف کا مطالعہ کیا تو اس دوران میں بُہت سی باتوں کو سمجھ نہ سکا ۔سب سے پہلی بات اس میں انجیل مقدس کے بہت سے براہ راست اور واضح حوالہ جات موجود تھے۔ بلکہ جس طور سے قرآن شریف میں انجیل مقدس کا ذکر ہوا ہے، اس نے حقیقت میں مجھے اُلجھا لیا تھا۔

ذیل میں قرآن شریف کی آیات ہیں جو انجیل مقدس کا براہ راست ذکر کرتی ہیں۔ شاید آپ بھی اسی طریقہ کار کا مشاہدہ کر لیں جس کا مشاہدہ میں نے کیا ۔

سورة العمران 3:3-4

                        اُس نے (اے محمد) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی )کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اُسی نے تورات اور انجیل نازل کی۔ (یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) ور(پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا(ہے)نازل کیا۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور ) بدلہ لینے والا ہے۔

 سورة العمران 3: 48

                        اور وہ انہیں لکھنا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائیگا۔

سورة العمران 3: 65

                        اے اہل کتاب تم ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل اُن کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہو چکے ہیں ) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے ۔

سورةا لمائدہ 5: 46

                        اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسٰی بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیز گاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

سورةا لمائدہ 5: 66

                        اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے(تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ ) اپنے اوپر سے اور پاﺅں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں۔

سورةا لمائدہ 5: 68

                        کہو کہ اے اہلِ کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں)تمہارے پروردِگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردِگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قومِ کفار پر افسوس نہ کرو۔

سورةا لمائدہ 5: 110

                        ۔۔۔اور جب میں نے تم(عیسٰی) کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی ۔۔۔

سورة التوبہ 9: 111

                        ۔۔۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پوُرا کرنا اُسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پُورا کرنے والا کون ہے؟۔۔۔

سورة فتح 48: 29

                        ۔۔۔ (کثرت ) سجود کے اثر سے اُن کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں اُنکے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں ۔اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں ۔۔۔

جب آپ قرآن شریف میں سے انجیل مقدس کے تمام حوالہ جات کو اکٹھا کرتے ہیں تو انجیل مقدس کبھی تنہا نظر نہیں آتی ۔ انجیل مقدس کے ہر ایک حوالے کے ساتھ لفظ شریعت کی اصطلاح جڑی ہوئی ہے۔ شریعت میں وہ کتابیں شامل ہیں جو حضرت موسی ؑ پر نازل ہوئی تھیں۔ جن کو مسلمان عام طور پر تورات شریف اور یہودی(اسرائیل) تورات کہتے ہیں۔ انجیل مقدس تمام مقدس کتابوں میں منفرد ہے۔ اسی لیے اس کا ذکر کبھی تنہا نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر آپ قرآن شریف اور تورات شریف کے تنہا حوالہ جات تلاش کر سکتے ہیں ۔

یہاں کچھ مثالیں ہیں۔

سورة الانعام 6: 154-155

                        ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکو کار ہیں نعمت پوری کر دیں اور( اُس میں )ہر چیز کا بیان (ہے)اور ہدایت (ہے)اور رحمت ہے، تاکہ (انکی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے کا یقین کریں۔ اور (اے کفر کرنے والو) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی ۔ تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے۔

سورة النسآء4: 82

                        بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ۔ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت) اختلاف پاتے۔

دوسرے الفاظ میں ہم جب بھی قرآن شریف میں انجیل مقدس کا ذکر پاتے ہیں ۔ تو ہمیشہ اس کے ساتھ ساتھ تورات کا بھی ذکر کیا جا تا ہے اور یہ منفرد ہے۔ جب بھی قرآن شریف دوسری کتابوں کا حوالہ دیتا ہے تو خود کا الگ ذکر کرتا ہے۔ یہ بھی دیگر مقدس کتابوں کا ذکر کئے بغیر (توریت) کا ذکر کرتا ہے۔

یہ نمونہ برقرار رہتا ہے لیکن اس میں ایک فرق ہے

 اس نمونہ میں صرف ایک ہی فرق بات پائی جاتی ہے۔ زر ا دیکھیں کہ اِس درج آیت میں کس طرح انجیل مقدس کا ذکر کیا جاتا ہے۔

سورة الحدید57:27

پھر اُن کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے(نوح ؑ ، ابراہیم ؑ اور پیغمبروں) اور اُن کے پیچھے مریمؑ کے بیٹے عیسٰیؑ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی اور جن لوگوں نے اُن کی پیروی کی اُن کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔ ۔۔

تاہم یہاں پر ایک ہی مثال ہے۔

جس میں تورات شریف کا ذکر کیے بغیر براہ راست انجیل مقدس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہی آیت اس نمونہ کی تصدیق کرتی ہے۔ آیت 26 (پچھلی آیت) میں نوحؑ ، ابراہیم ؑ اور دوسرے پیغمبروں کا ذکر آیا ہے۔ اِس آیت میں انجیل کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب کہ اس واقعہ کا تعلق تورات میں سے ہے۔ جو موسٰی ؑ پر نازل ہوئی اسی نے حضرت نوح ؑ، ابراہیم ؑ اور دوسرے پیغمبروں کی وضاحت کی ہے۔ یہاں یہ ثابت ہوتی ہے کہ وہ نمونہ قائم رہتا ہے۔ جہاں بھی انجیل کا ذکر ہو گا تو تورات کا بھی ذکر ہوگا۔

انبیاء سے ہمارے لیے ایک نشانی

 

تاہم کیا یہ نمونہ اہم ہے؟ ایسا ہو سکتا ہے کہ صرف اسکی بے ترتیب موجودگی کی وجہ سے یا پھر اسکا انجیل مقدس کا سادہ طریقے سے حوالہ دیتے ہوئے ختم کر دیا جائے۔  میں نے اس کتاب (قرآن شریف) میں اس نمونے کو بڑھی سنجیدگی سے سیکھا ہے۔ شاہد یہ ہمارے لیے ایک اہم نشان ہو سکتا ہے۔ تاکہ ہمارے اُوپر ظاہر کرنے میں مدد ملے کہ جو اصول اللہ تعالیٰ نے خود قائم کئے ہیں ۔ تاکہ ہم تورات شریف کے ذریعے سے انجیل مقدس کو سمجھ سکتے ہیں ۔ انجیل مقدس کو سمجھنے کے لیے پہلے تورات کو سمجھنا پڑے گا۔ یہ قابل قدر ہو سکتا ہے کہ پہلے ہم تورات شریف کا جائزہ لیں اور پھر انجیل مقدس کے بارے بہتر طور پر سیکھ سکیں گے۔

کیا قرآن شریف نے ہمیں بتایا ہے کہ انبیاء اکرام ہمارے لیے نشانی تھے۔ اس آیت میں قرآن شریف کیا کہتا ہے۔ غور کریں

سورة الاعراف 7: 35 -36

اے بنی آدمؑ (ہم تم کو یہ نصیحت ہمشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو اُن پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (اُن پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہونگے ۔ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جُھٹلایا اور اُن سے سر تابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمشہ اُس میں (جلتے ) رہیں گے۔

دوسرے الفاظ میں نبیوں کی زندگیو ں میں نشانیاں ہیں جو کہ حضر ت آدم کی اولاد کے لیے اس میں پیغام ہے۔ کیونکہ جو عقل مند ہو گا وہ ان نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ تو آئیں ہم تورات شریف کے ذریعے انجیل مقدس پر غور کرنا شروع کریں۔ غور کریں کہ نبیوں نے ہمیں کون سی نشانیاں دی ہیں ۔ جن کے وسیلے سے ہم راہِ حق کی تلاش کر سکتے ہیں۔ قیامت کا دن آنے سے پہلے ہمیں اس بات سے با خبر ہونا ہوگا کہ تورات شریف کس طرح راہِ حق کے لیے نشانی ہے۔

ابتدائی طور پر ہم حضرت آدم کی نشانی سے شروع کرتے ہےں ۔ شاےد آپ اسی سوال کاجواب دےنے سے شروع کرنا چاہتے ہوں۔کہ کےا تورات ، زبور، انجےل بدل گئی ہےں؟ قرآن شرےف اور سُنت اس اہم سوال کے بارے مےںہمےں کےا کہتے ہےں ؟ قےامت کا دِن آنے سے پہلے ہمےں اس بات سے با خبر ہونا ہوگا کہ تورات شرےف کس طرح راہِ حق کے لےے نشانی ہے۔

سورة الحدید 57:26

اور ہم نے نوحؑ اور ابراہیم ؑ کو (پیغمبر بنا کر) نھیجا اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب ( کے سلسلے) کو (وقتا ًفوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو اُن میں سے ہدایت پر ہیں ۔اور اکثر اُن میں سے خارج از اطاعت ہیں۔