اختیتام: برکات اور لعنتیں

ہم نے پیچھلے سبق میں سیکھا۔ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ اصول دیتا ہے۔ جن سے ہم ایک سچے پیغمبر کو جان سکتے ہیں۔ ایک پیغمبر کی رسالت کے ایک حصے میں پیش گوئی پائی جاتی ہے۔ انہی اصولوں کو حضرت موسیٰ نے اپنایا۔ اُس نے بنی اسرائیل کے لیے مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کیں۔ اگر حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی تھے تو اُن پیغام کو سچا ہونا لازمی تھا۔ ان پیش گوئیوں کا تعلق بنی اسرائیل کی برکات اور لعنتیوں سے تھا۔ آپ ان تمام برکات اور لعنتوں کو مکمل طور پر پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن یہاں میں نے چند ایک کو مثال کے طور پر پیش کی ہیں۔

حضرت موسیٰ کی برکات

                             حضرت موسیٰ کی شاندار برکات کا بیان اس طرح شروع ہوتا ہے۔ کی اگر بنی اسرائیل دس احکام کی پیروی کریں گے۔ تو پھر وہ ان برکات کو حاصل کرسکیں گے۔ یہ برکات دوسری قوموں کے لیے ایک نشان ہوگا۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جان سکیں اور اُس کو قبول کرسکیں۔ جس طرح یہ لکھا ے۔

اور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی۔

                                                                                                استثنا 28: 10

تاہم اگر وہ اُن دس احکام کی پیروی نہیں کریں گے۔ تو وہ برکات کے بدلے لعنتیں حاصل کریں گے۔ لعنت برکات کے برعکس ملیں گی۔ پھر ان لعنتوں سے بھی دوسری قوموں میں نشان ہوگا۔

اور اُن سب قوموں میں جہاں جہاں خداوند تجھ کا پہنچائے گا تو باعث حیرت اور ضربُ المثل اور انگشت نُما بنے گا۔                                                                          استثنا 28: 37

یہ لعنتیں بنی اسرائیل کے لیے ہونگی۔

اور وہ تجھ پر اور تیری اولاد پر سد نشان اور اچنبھے کے طور پر رہیں گی۔

                                                                                                استثنا 28: 47

اور اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ سب سے بُری لعنت یہ ہوگی جو دوسروں کی طرف سے آئیں گی۔

49 خداوند دور سے بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھا لائے گا جیسے عُقاب ٹُوٹ کر آتا ہے۔ اُس قوم کی زبان کو تو نہیں سمجھے گا۔ 50 اُس قوم کے لوگ تُرش رو ہوں گے جو نہ بُڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوانوں پر ترس کھائیں گے۔ 51 اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے اور وہ تیرے لئے اناج یا مے یا تیل یا گائے بیل کی بڑھتی یا تیری بھیڑ بکریوں کے بچے کچھ نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ تجھ کو فنا نہ کر دیں۔ 52 اور وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کئے رہیں گے جب تک تیری اُونچی اُونچی فصیلیں جن پر تیرا بھروسا ہوگا گر نہ جائیں۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی اُس ملک کی سب بستیوں میں کریں گے۔ جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے۔

                                                                                                استثنا 28: 49-52

اور یہ سب سے بدترین ہوگی۔

 63 تب یہ ہوگا کہ جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تم کر بڑھانے سے خداوند خوشنود ہوا ایسے ہی تم کو فنا کرانے اور ہلاک کر ڈالنے سے خداوند خوشنود ہوگا اور تم اُس ملک سے اُکھاڑدئے جاو گے جہاں تو اُس پر قبضہ کرنے کو جا رہا ہے۔ 64 اور خداوند تجھ کوزمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام قوموں میں پراگندہ کرے گا۔ وہاں تو لکڑی اور پتھر کے اور معبودوں کی جن کو تو یا تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا۔ 65 اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام ملے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا۔                            استثنا   28: 63-65

یہ لعنتوں اور برکتوں کے لیے عہد قائم کیا گیا تھا۔

12 تاکہ تو خداوند اپنے خدا کے عہد میں جسے وہ تیرے ساتھ آج باندھتا اور اُس کی قسم میں جسے وہ آج تجھ سے کھاتا ہے شامل ہو۔ 13 اور وہ تجھ کو آج کے دن اپنی قوم قرار دے اور وہ تیرا خدا ہو جیسا اُس نے تجھ سے کہا۔ جیسی اُس نے تیرے باپ دادا ابراہیم اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھائی۔ 14 اور میں اس عہد اور قسم میں فقط تم ہی کو نہیں۔ 15 پر اُس کو بھی جو آج کے دن خداوند ہمارے خدا کے حضور یہاں ہمارے ساتھ کھڑا ہے اور اُس کو بھی جو آج کے دن یہاں ہمارے ساتھ نہیں اُن میں شامل کرتا ہوں۔                                                             استثنا 29: 12-15

دوسرے الفاظ میں اس عہد کا تعلق اسرائیل کے بچوں کے ساتھ اور مستقبل کی نسلوں کے ساتھ ہوگا۔ دراصل یہ عہد برائے راست مستقبل کی نسلوں سے تھا۔ یعنی ان دونوں کے لیے جو اسرائیل اور غیر قومیں میں سے ہونگی۔

21 اور خداوند اس عہد کی اُن سب لعنتوں کے مطابق جو اس شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں اُسے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے بُری سزا کے لیے جُدا کرے گا۔ 22 اور آنے والی پشتوں میں تمہاری نسل کے لوگ جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے اور پردیسی بھی جو دور کے ملک سے آئیں گے جب وہ اس ملک کی بلاوں اور خداوند کی لگائی ہوئی بیماریوں کو دیکھیں گے۔ 23 اور یہ بھی دیکھیں گے کہ سارا ملک گویا گندھک اور نمک بنا پڑا ہے اور ایسا جل گیا ہے کہ اس میں نہ تو کچھ بویا جاتا نہ پیدا ہوتا اور نہ کسی قسم کی گھاس اُگتی ہے اور وہ سدوم اور عمورہ اور ادمہ اور ضبوئیم کی طرح اُجڑگیا جن کو خداوند نے اپنے غضب اور قہر میں تباہ کرڈالا۔ 24 تب وہ بلکہ سب قومیں پوچھیں گی کہ خداوند نے اس ملک سے ایسا کیوں کیا ؟ اور ایسے بڑے قہر کے بھڑکنے کا سبب کیا ہے؟

25 اُس وقت لوگ جواب دیں گے کہ خداوند ان کے باپ دادا کے خدا نے عہد ان کے ساتھ ان کو ملک مصر سے نکالتے وقت باندھا تھا اُسے اِن لوگوں نے چھوڑ دیا۔ 26 اور جا کر اور معبودوں کی عبادت اور پرشتش کی جن سے وہ واقف نہ تھے اور جن کو خداوند نے ان کو دیا بھی نہ تھا۔ 27 اسی لیے اس کتاب کی لکھی ہوئی سب لعنتوں کو اس ملک پر نازل کرنے کے لیے خداوند نے قہر اور غصہ اور بڑے غضب میں ان کو ان کے ملک سے اُکھاڑ کر دوسرے ملک میں پھینکا جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔                                                                   استثنا 29: 21-27

کیا برکات اور لعنتیں آئیں؟

جن برکات کا وعدہ کیا گیا تھا وہ شاندار اور حیران کن تھیں لیکن لعنتوں کی دھمکی شدید قسم کی تھی۔ بہرحال یہاں پر سب سے اہم ترین سوال یہ کہہ سکتے ہیں۔ ” تو کیا یہ سب باتیں ہوئیں ؟ ” اس کا جواب دیتے ہوئے ہم جانیے گے۔ کہ حضرت موسیٰ ایک سچے پیغمبر تھے۔ اور یہ بھی دیکھیں گے کہ آج ہماری زندگی میں اُن باتوں سے کیا راہنمائی ملتی ہے۔ جسکا جواب ہماری مٹھی میں ہے۔ کتاب مقدس کے عہد نامہ عتیق میں سب سے زیادہ بنی اسرائیل کی تاریخ لکھی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے۔ کہ اس تاریخ میں کیا ہوا۔ اس کے علاوہ ہم نے پرانے عہد نامے سے ہٹ کر یہودیوں کے مورخ یوسیفس اور یونانی اور رومی مورخ  Tacitus تاست اور اس کے علاوہ ہمارے پاس آثارِقدیمہ سے بہت سے شواہد پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام زرائع بنی اسرائیل کی تاریخی تصویر کو مل کر پینٹ کرتے ہیں۔ اور یہ ہمارے لیے ایک اور نشان ہے۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا جائزہ ہے۔ جس کو ہم تصویروں اور ٹائم لائن کی مدد سے معلوم کرسکتے ہیں کہ اُن کے ساتھ کیا واقعات پیش آئے۔

ہم نے اس تاریخ میں سے کیا سیکھا؟ جی ہاں! حضرت موسیٰ نے جن لعنتوں کا کیا وہ اُسی طرح وقوع میں آئیں۔ اور یہ بالکل اُس طرح وقوع میں آئیں جس طرح کئی ہزار سال پہلے لکھی گئیں تھیں۔ (یاد رکھیں یہ پشن گوئیاں ان واقعات کے رونما ہونے سے پہلے لکھیں گئیں)

لیکن جن لعنتوں کی بات حضرت موسیٰ نے کی اُن کا اختتام نہیں ہوا تھا۔ ان کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں دیکھیں گے کہ حضرت موسیٰ کیسے ان لعنتوں سے ایک نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔

1 اور جب یہ سب باتیں یعنی برکت اور لعنت جن کو میں نے آج تیرے آگے رکھا ہے تجھ پر آیئں اور تو اُن قوموں کے بیچ جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو ہنکا کر پہنچا دیا ہو اُن کو یاد کرے۔ 2 اور تو اور تیری اولاد دونوں خداوند اپنے خدا کی طرف پھریں اور اُس کی بات اِن سب احکام کے مطابق جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے مانیں۔ 3 تو خداوند تیرا خدا تیری اسِیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا اور پھر کر تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہوجمع کرے گا۔ 4 اگر تیرے آوارہ گرد دنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کرکے لے آئے گا۔ 5 اور خداوند تیرا خدا اُسی ملک میں تجھ کو لائے گا جس پر تیرے باپ دادا نے قبضہ میں لائے گا۔ پھر وہ تجھ سے بھلائی کرے گا اور تیرے باپ دادا سے زیادہ تجھ کو بڑھائے گا۔

                                                                                      استثنا 30: 1-5

یہاں پر ایک بار پھر سے سوال پوچھیں گے۔ کیا واقعی یہ واقعات رونما ہوئے؟ یہاں کلک کریں اور ان کے تسلسل کی تاریخ کو دیکھیں۔

تورات شریف کا اختتام اور زبور شریف کی آمد

                             ان برکات اور لعنتوں کے سنائے جانے کے بعد تورات شریف کا نزول بند ہوجاتا ہے۔ حضرت موسیٰ تورات شریف کے مکمل ہونے کے تھوڑے عرصے بعد انتقال کر جاتے ہیں۔ پھر بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کے شاگرد حضرت یشوع کی راہنمائی میں ملکِ موعودہ میں داخل ہوتی ہے۔ اور وہ وہاں رہنا شروع کرتے ہیں۔ جس طرح بنی اسرائیل کی تاریخ میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ وہ وہاں بغیر بادشاہ اور دارلحکومت کے رہتے۔ جب تک حضرت دواد بادشاہ بن کر سامنے نہ آئے، حضرت دواد پرانے عہد نامے کے ایک اور حصہ کو شروع کرتے ہیں۔ جیسے قرآن شریف زبور شریف کا نام دیتا ہے۔ ہمیں زبور شریف کو بھی پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے کیونکہ جن نشانات کو تورات شریف نے شروع کیا تھا۔ یہ اُن کو اس حصہ میں جاری رکھتا ہے۔ جو ہمیں انجیل شریف کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ ہمارے اگلے سبق میں ہم سیکھیں گے کہ قرآن شریف کیسے حضرت عیسیٰ اور زبور شریف کے بارے میں بیان کرتا ہے۔

تورات شریف میں “نبی” کی نشانی

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے 40 سال تک بنی اسرائیل کی پیشوائی کی۔ اُنہوں نے دس احکام اور قربانیوں کی تعلیم تحریری صورت میں اُن کو دی۔ اُنہوں نے تورات شریف میں بہت ساری نشانیوں کے بارے میں بھی لکھا۔ اس سے پہلے ہم تورات شریف کے مطالعہ کو ختم کریں۔ آئیں ہم اس میں پائے جانے والے نمونوں کا جائزہ لیں۔

تورات شریف کے نمونوں کا جائزہ

                   چنائچہ تورات شریف میں سے ابھر کر سامنے آنے والی نشانیوں کا نمونہ درج ذیل ہے؟

تورات شریف میں قربانیاں کا نمونہ

                   ہمیں اس بات کی اہمیت پر غور کرنا چاہیے کہ کس طرح تورات شریف میں بار بار قربانیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مندرجہ ذیل قربانیوں پر غور کریں۔

یہ تمام قربانیاں پاک جانوروں کی پیش کی جاتیں۔ ان میں بیل، بھیڑ، اور بکرہ، یہ تمام نر جانور تھے۔ سوائے ایک بچھیا جو مادہ تھی۔

یہ قربانیاں لوگوں کے کفارے کے لیے پیش کی جاتیں۔ اس کا مطلب ہے۔ کہ قربانی دینے والے شخص کی شرم اور جرم (گناہ) ڈھانپ دی جاتی۔ یہ قربانیوں کا سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو چمڑے کے کرتوں کے وسیلے سے پایا۔ اُس کو چمڑے کے کُرتے حاصل کرنے کے لیے ایک جانور کی موت درکار تھی۔ تاکہ اُن کا ننگاپن ڈھانپ دیا جاتا۔ یہاں پر ایک بہت ہی اہم سوال پوچھا جاسکتا ہے۔ کہ آج مزید قربانیاں کیوں پیش نہیں کی جاتیں؟ ہم اس کا جواب بعد میں دیں گے۔

تورات شریف میں راستبازی کا نمونہ

                    تورات شریف میں لفظ “راستبازی” مسلسل استعمال ہوا ہے۔ ہم اس لفظ کو سب سے پہلے حضرت آدم کی نشانی میں دیکھتے ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے بتایا۔ کہ یہ “راستبازی کا لباس” بہتر ہے۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم کو داستباز کہا گیا۔ جب انہوں نے اس وعدے پر ایمان لایا کہ اللہ تعالیٰ اُس کو ایک بیٹا دیئے گا۔ قوم بنی اسرائیل کو بتایا گیا۔ کہ وہ راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر وہ تمام شریعت کے احکام کی مکمل طور پر پیروی کریں گے۔

تورات شریف میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کا نمونہ

                   ہم نے اس نمونے کو بھی دیکھا کہ جو کوئی شریعت کی مکمل طور پر پیروی کرنے میں ناکام ہوا۔ اُس کو اللہ تعالیٰ کی عدالت کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس کی شروعات حضرت آدم سے ہوئی۔ جن کو صرف ایک نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی عدالت موت لاتی ہے کیونکہ اُس پاک ذات کے آگے سب ناکام اور ناپاک ہیں۔ یہ موت یا تو قربانی کی صورت میں کسی جانور پر یا پھر کسی انسان پر آتی ہے۔ جو شریعت پر مکمل طور پر عمل کرنے میں ناکام ہوگیا ہو۔ مندرجہ ذیل قربانیوں پر غور کریں۔

  • حضرت آدم کے لیے ایک جانور کی قربانی دی۔ تاکہ اُس کی کھال حاصل کی جاسکے۔
  • حضرت ہابیل نے جانور کی قربانی پیش کی۔ اس طرح ایک جانور کی موت ہوئی۔
  • حضرت نوح نے سیلاب کے بعد قربانی پیش کی۔ اس طرح ایک جانور کی موت ہوئی۔
  • حضرت لوط کے واقعہ میں نافرمانی کے باعث سدوم اور عمورہ کے لوگ مارے گئے۔ اور حضرت لوط کی بیوی نمک کا ستون (موت آئی) بن گئی۔
  • حضرت ابراہیم کی آزمائش میں اُس کے بیٹے کو قربان ہونا تھا۔ لیکن اُس کی جگہ ایک منڈھا ماراگیا۔ اور خدا نے یہ وعدہ کیا “خدا مہیا کرے گا”۔
  • فسح کے موقع پر کہا گیا تھا کہ ایک بکرہ قربان کیا جائے اور اس کا خون چوکھٹوں پر لگایا جائے۔ ورنہ نافرمانی کی صورت میں پہلوٹھا مارا جائے گا۔
  • اللہ تعالیٰ کی شریعت کے احکام کی پیروی مکمل طور پر نہ کرنے کے جرم میں آدمی کو یا پھر بکرے کو کفارے کے دن مرنا تھا۔

ان تمام تر نمونوں کا مطلب کیا ہے۔ ہم اس کے بارے میں جانتے جائیں گے جیسے جیسے ہم مطالعہ کو جاری رکھیں گے۔ لیکن اب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون تورات شریف کے اختتام پرمستقبیل کے بارے اہم پیغام دیتے ہیں، جن کو اُنہوں نے برائے راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کیا تھا۔ جو آج ہمارے لیے بڑے اہم ہیں۔ اُنہوں نے آنے والے “نبی” اور “برکات اور لعنتوں” کے بارے میں بتایا۔ ہم یہاں آنے والے نبی کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

آنے والا “نبی”

                   جب اللہ تعالیٰ نے کوہ سینا پر حضرت موسیٰ کو پتھرکی تختیاں دیں تو اُس وقت خدا نے اپنی آپ کو قادرِمطلق اور اپنی عطمت کو بیان کیا۔ تورات شریف میں پتھر کی تختیاں دی جانے سے پہلے اس واقعے کو یوں بیان کرتی ہے۔

18 اور کوہ سینا اُوپر سے نیچے تک دُھوئیں سے بھر گیا کیونکہ خُداوند شُعلہ میں ہو کر اُس پر اُترا اور دھواں تنُور کے دھوئیں کی طرح اوپر کو اٹھ رہا تھا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا ۔
19 اور جب قرناکی آواز نہایت ہی بلند ہوتی گئی تو مُوسیٰ بولنے لگا اور خُدانے آواز کے ذریعہ سے اُسے جواب دیا ۔                                                            خروج 19: 16-18

جب لوگ ڈرسے گھبراگئے۔ تورات شریف اس کو یوں بیان کرتی ہے۔

18 اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔
19 اور مُوسیٰ سے کہنے لگے تُو ہی ہم سے باتیں کیا کر اور ہم سن لیا کریں گے لیکن خُدا ہم سے باتیں نہ کرے تانہ ہو کہ ہم مر جائے ۔                                     خروج 20: 18-19

یہ واقعہ حضرت موسیٰ کے اسرائیلیوں کی راہنمائی کے 40 سال کے سب سے ابتدائی عرصہ میں پیش آیا۔ اور تورات شریف کے آخر میں اللہ تعالیٰ ماضی کی صورت حال کے بارے میں یاد کرواتا ہے۔ اور لوگوں کو ماضی کے خوف کی یاد دلاتا ہے۔ اور مستقبیل کے بارے میں وعدہ کرتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ نے اس کو تورات شریف میں تحریر کردیا تھا۔

15 خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا ۔ تُم اُسکی سُننا ۔
16  یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہو گا جو تُو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سُننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو تاکہ میں مر نہ جاوں ۔
17 اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں ۔
18  میں اُنکے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرونگا اور اپنا کلام اُسکے منہ میں ڈالونگا اور جو کچھ میں اُسے حکم دونگا وہی وہ اُن سے کہے گا ۔
19 اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جنکو وہ میرا نام لیکر کہے گا نہ سُنے تو میں اُنکا حساب اُس سے لونگا ۔
20  لیکن جو نبی گستا خ بنکر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جسکے کہنے کا میں نے اُسکو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے ۔
21 اور اگر تُو اپنے دل میں کہے کہ جو بات خداوند نے نہیں کہی ہے اُسے ہم کیونکر پہنچانیں ؟
22  تو پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور اُسکے کہے کے مطابق کچھ واقع یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں بلکہ اُس نبی نے وہ بات خود گستاخ بنکر کہی ہے تُو اُسے خوف نہ کرنا ۔                        استثنا 18: 15-22

اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ لوگ اُس کا مکمل طور پر احترام کریں۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ  نے تختیاں پر لکھے دس احکام کو پڑھا۔ تو لوگوں کے درمیان ایک بڑھا خوف چھاگیا۔ لیکن اب وہ مستقبیل میں دیکھتا ہے۔ اور وعدہ کرتا ہےکہ مستقبیل میں بنی اسرائیل میں سے ایک حضرت موسیٰ کی مانند نبی برپا ہوگا۔ اور پھر دو راہنما اصول دیئے جاتے ہیں۔

  1. ۔ اگر لوگ آنے والے نبی کی طرف توجہ نہ دیں گے تو اللہ تعالیٰ لوگوں سے اس کے بارے میں حساب لے گا۔
  2. ۔ اس بات کا فیصلہ یہ ہے کہ جوپیشن گوئی نبی نے کی اگر وہ اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ تو پھر اس کو پورا ہونا لازمی ہے۔

پہلے اصول کے مطابق یہ ضروری نہ تھا۔ کہ حضرت موسیٰ کے فوراً بعد ایک نبی آجاتا۔ لیکن آنے والے نبی کی خاص بات یہ تھی۔ کہ اُس کی سننی ہوگی۔ کیونکہ اُس کے پیغام کے ساتھ اُس کا کردار بھی لاثانی ہوگا۔ اُس کا کلام میرے مُنہ کی باتیں ہونگی۔ چونکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی مستقبیل کے بارے میں جانتا ہے۔ اور یقینی طور پر کوئی بھی مستقبیل کے بارے میں جانتا نہیں۔ دوسرا اصول یہ تھا کی لوگوں کی فیصلہ کرنے میں مدد کی جائے۔ کہ آیا یہ کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نہیں۔ اس راینمائی کی وجہ سے لوگ آنے والے “نبی ” کے بارے میں نبی اسرائیل سے توقع لگائے رکھتے۔ لیکن اس وعدے کو کبھی بھولا نہیں گیا تھا۔ ہم اگلے مضمون میں دیکھیں گے کہ کیسے حضرت موسیٰ دوسرے اصول کی مستقبیل کے بارے میں “برکت اور لعنت” کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔ اور اس طرح تورات کا اختتام ہوتا ہے۔

لیکن آنے والے بنی کے بارے میں کچھ خیالات کہ “وہ کون تھا” ؟ کچھ اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ حضرت محمد  کے بارے حوالہ دیا جاتا ہے۔ لیکن غور طلب بات ہے۔ کہ وہ نبی اسرائیلیوں میں سے ہی ہوگا۔ اس طرح وہ ایک یہودی ہوگا۔ تاہم اُن کے بارے میں یہ حوالہ نہیں دیا جاسکتا۔ کئی اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ حوالہ حضرت عیسی مسیح کے بارے میں ہے کیونکہ وہ اسرائیل میں سے یہودی قبیلہ میں سے تھے۔ اور اور جسطرح فرمایا گیا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اُن کے منہ میں ہوگا۔ وہ اُسی لیے صاحبِ اختیار کی طرح تعلیم دیتے۔ ہم مزید مفاہمت حاصل کرنے کے لیے مقدس کتابوں کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔

حضرت ہارون کی پہلی نشانی “1 گائے 2 بکرے کی قربانی”

ہم نے حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی میں جانا کہ کوہ سینا پر ملنے والے احکام بہت زیادہ دلچسپ تھے۔ اس مضمون کے آخر میں میں نے آپ کو سوال پوچھا۔ (کیونکہ شریف کایہ مقصد تھا) کہ کیا آپ ہر روز شریعت پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ اور میں شریعت پر مکمل طور پر عمل نہیں کرتے۔ تو پھر ہم سنگین مشکل میں ہیں۔ اور قیامت ہم پر لٹک رہی ہے۔ اگر آپ شریعت پر مکمل طور پر پیروی اور عمل کررہے ہیں تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر مکمل طور پر شریعت پر عمل کرنے میں ناکام ہیں۔ تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے؟ حضرت ہارون (حضرت موسیٰ کے بھائی اور ان کو اللہ تعالیٰ کے گھر میں خدمت کے لیے بلایا گیا) اور اُس کی اولاد کو قربانیوں کے انتظام کے لیے مقرر کیا گیا۔ ان قربانیوں سے گناہ کا کفارہ دیا جاتا تھا۔ حضرت ہارون کو دو خاص قربانیوں کی نشانی کی تعلیم دی گئی۔ کہ کیسے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو جو ہم نے شریعت کو توڑ کر کئے۔ اُن پر پردہ ڈال دے گا۔ یہ قربانیاں ایک گائے اور دو بکروں کی تھیں۔ چلیں آئیں ہم بکروں کی قربانی سے شروع کرتے ہیں۔

بکرے کی قربانی اور کفارے کا دن

                   حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی “فسح” میں یہ بتایا گیا۔ کہ اسرائیلی لوگوں نے کیسے فرعون کی غلامی سے رہائی پائی۔ لیکن اس کے ساتھ تورات شریف دوسرے تہواروں کا حکم بھی دیتی ہے۔ لیکن خاص طور پر کفارے کے دن کو اہم کہا گیا۔ (یہاں کلک کریں اور تورات شریف میں سے کفارے کے بارے میں مکمل اقتباس پڑھیں)۔ کہ کیوں کفارے کے بارے میں اتنی محتاط اور تفصیلی ہداہات دی گئی ہیں؟

1 اور ہارون کے دو بیٹوں کی وفات کے بعد وہ جب خداوند کے نزدیک آئے اور مر گئے۔
2 خداوند موسی سے ہمکلام ہوا اور خداوند نے موسی سے کہا اپنے بھائی ہارون سے کہہ کہ وہ ہر وقت پردہ کے اندر کے پاکترین مقام میں سرپوش کے پاس جو صندوق کے اوپر ہے نہ آیا کرے تاکہ وہ مر نہ جائے کیونکہ میں سرپوش پر ابر میں دکھائی دونگا۔

                                                                                                 اخبار 16: 1-2

اُس وقت کیا ہوا جب حضرت ہارون کے دونوں بیٹے مارے گئے۔ جب وہ بڑی تیزی کے ساتھ اُس مقام میں داخل ہوئے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی حضوری موجود تھی۔ لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ کی پاک حضوری میں شریعت پر عمل کرنے میں ناکامی کے باوجود داخل ہوگے۔ تو اس کا نتیجہ اُن کی موت نکلا۔ کیوں ؟ اُس جگہ پر عہد کا صندوق موجود تھا۔ قرآن شریف نے بھی عہد کے صندوق کے بارے ذکر کیا ہے۔ یہ اس طرح ہے۔

 اور ان کے نبی نے ان سے فرمایا: اس کی سلطنت (کے مِن جانِبِ اﷲ ہونے) کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس صندوق آئے گا اس میں تمہارے رب کی طرف سے سکونِ قلب کا سامان ہوگا اور کچھ آلِ موسٰی اور آلِ ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہوں گے اسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہوگا، اگر تم ایمان والے ہو تو بیشک اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے                  سورۃ البقرہ 248

یہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ عہد کا صندوق اللہ تعالیٰ کے اختیار کی نشانی تھا۔ کیونکہ صندوق حضرت موسیٰ کی شریعت کے عہد کی نشانی تھا۔ کوہ سینا پر ملنے والی پتھر کی دو تختیاں جن پر دس احکام تحریر کئے گئے تھے۔ اُس صندوق میں رکھے ہوئے تھے۔ اور اگر کوئی بھی اُس صندوق کے سامنے شریعت کی پیروی کرنے میں ناکام پایا جاتا۔ وہ وہاں ہی مارا جاتا تھا۔ سب سے پہلے حضرت ہارون کے دونوں بیٹے مارے گئے۔ جب وہ اُس خیمہ میں داخل ہوئے۔ اسی لیے محتاط تفصیلات دی گئیں تھیں۔ جن میں یہ بھی شامل تھا کہ سال میں صرف ایک ہی دن حضرت ہارون خیمہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ وہ دن کفارے کا دن ہوتا۔ اگر وہ کسی اور دن خیمہ میں داخل ہو گا ( جسطرح اُس کے بیٹے داخل ہوگے) تو مارا جائے گا۔ لیکن کفارے کے دن خیمہ میں داخل ہونے سے پہلے حضرت ہارون کو کچھ خاص کام کرنا پڑتا۔ پھر وہ عہد کے صندوق کے پاس جاسکتا تھا۔

6 اور ہارون خطا کی قربانی کے بچھڑے کو جو اسکی طرف سے ہے گذران کر اپنے اور اپنے گھر کے لئے کفارہ دے۔ ۔ ۔13  اور اس بخور کو خداوند کے حضور آگ میں ڈالے تاکہ بخور کا دھواں سرپوش کو جو شہادت کے صندوق کے اوپر ہے چھپالے کہ وہ ہلاک نہ ہو۔    اخبار 16: 6،13

چنانچہ ایک بچھڑا ہاورن اور اُسکے خاندان کے لیے قربان کیا جاتا۔ تاکہ اگر اُنہوں نے شریعت کی مکمل طور پر پیروی نہیں کی تو اُن کے گناہوں کا کفارہ ہوسکے۔ اور اس کے فوراً بعد حضرت ہارون بکرے کئ قربانی کی تقریب ادا کرتے۔

7 پھر ان دونوں بکروں کو لیکر انکو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے حضور کھڑا کرے۔
8 اور ہارون ان دونوں بکروں پر چھٹیاں ڈالے۔ایک چھٹی خداوند کے لئے اور دوسری عزازیل کے لئے ہو۔
9 اور جس بکرے پر خداوند کے نام کی چھٹی نکلے اسے ہارون لیکر خطا کی قربانی کے لئے چڑھائے۔                                                                             اخبار16: 7-9

بچھڑے کی قربانی کے بعد حضرت ہارون 2 بکرے لیتے اور اُن کا قرعہ ڈالتے۔ ایک بکرا بیابان میں چھوڑ دینے کے لیے نامزد ہوتا اور دوسرا بکرا خطا کی قربانی کے لیے قربان کردیا جاتا۔ کیوں؟

15 پھر وہ خطا کی قربانی کے اس بکرے کو ذبح کرے جو جماعت کی طرف سے ہے اور اسکے خون کو پردہ کے اندر لاکر جو کچھ اس نے بچھڑے کے خون سے کیا تھا وہی اس سے بھی کرے اور اسے سرپوش کے اوپر اور اسکے سامنے چھڑکے۔
16 اور بنی اسرائیل کی ساری نجاستوں اور گناہوں اور خطاؤں کے سبب سے پاکترین مقام کے لئے کفارہ دے اور ایسا ہی وہ خیمہ اجتماع کے لئے بھی کرے جو انکے ساتھ انکی نجاستوں کے درمیان رہتا ہے۔                                                                           اخبار 16: 15-16

   اور اُس چھوڑے ہوئے بکرے کے ساتھ کیا ہوا؟

20 اور جب وہ پاکترین مقام اور خیمہ اجتماع اور مذبح کے لئے کفارہ دے چکے تو اس زندہ بکرے کو آگے لائے۔
21  اور ہارون اپنے دونوں ہاتھ اس زندہ بکرے کے سر پر رکھ کر اسکے اوپر بنی اسرائیل کی سب بدکاریوں اور انکے سب گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کرے اور انکو اس بکرے کے سرپر دھر کر اسے کسی شخص کے ہاتھ جو اس کام کے لئے تیار ہو بیابان میں بھجوا دے۔
22 اور وہ بکرا ان کی سب بدکاریاں اپنے اوپر لادے ہوئے کسی ویرانہ میں لے جایئگا،سووہاس بکرے کو بیابان میں چھوڑدے۔                                                       اخبار 16: 20-22

بچھڑے کی قربانی اور موت حضرت ہارون کے اپنے گناہوں کے لیے گزرانی جاتی تھی۔ پہلے بکرے کی قربانی اسرائیل کے لوگوں کے گناہ کے لیے گزرانی جاتی۔ پھر حضرت ہارون زندہ بکرے کے سر پراپنے ہاتھ رکھتا۔ اور یہ اس کا نشان ہوتا کہ اس بکرے پر پوری قوم کے گناہ ڈال دیئے گے ہیں۔ اس بکرے کو بیابان میں چھوڑ دیا جاتا۔ جسکا نشان ہوتا کہ قوم کے اُن سے گناہ مٹائے گئے ہیں۔ ان قربانیوں کے ساتھ اُن کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا تھا۔ یہ سب کچھ ہر سال ” کفارے کے دن” ہوتا تھا۔

سورۃ البقرہ اور تورات شریف میں “بچھیا”

                   حضرت ہارون دوسری قربانیوں کے ساتھ “گائے/ بچھیا” کی قربانی کرتے تھے۔ یہ بچھیا ہی ہے جسکی قربانی کی وجہ سے قرآن شریف کی دوسری سورۃ کا نام انگریزی میں ” The Cow ” اور اردو اور عربی میں البقرہ ہے۔ قرآن شریف اس جانور کے بارے میں برائے راست بات کرتا ہے۔ قرآن شریف میں سے مطالعہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ جیسے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ جب یہ حکم دیا گیا تھا۔ کہ بچھیا کی قربانی دی جائے۔ تاکہ ہمیشہ نر جانوروں کو ہی قربانی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ تو لوگ گھبرائے اور پریشان تھے۔

 پھر ہم نے حکم دیا کہ اس (مُردہ) پر اس (گائے) کا ایک ٹکڑا مارو، اسی طرح اللہ مُردوں کو زندہ فرماتا ہے (یا قیامت کے دن مُردوں کو زندہ کرے گا) اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل و شعور سے کام لو.                                                                          سورۃ البقرہ 73

اس لیے ہم کو بھی اس کو ایک نشان تصور کرنا چاہئے۔ اور اسکی طرف توجہ دینی چائے۔ لیکن کس طرح ایک بچھیا ایک نشانی ہوسکتی ہے؟ ہم نے اس کی موت اور زندگی کے بارے میں پڑھا ہے۔ “شاید ہم اس کے بارے میں سمجھ سکیں” جس طرح ہم نے اصل ہدایات تورات شریف میں سے پڑھتے ہیں۔ جو حضرت ہارون کو دئیے گئے تھے۔ تورات شریف سے مکمل حوالہ مطالعہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

5  اورا لیعزر کاہن اپنی انگلی سے اس کا کچھ خون لے کر اسے خیمہ اجتماع کے آگے کی طرف سات بار چھڑکے پھر کوئی اس کی آنکھوں کے سامنے اس گائے کو جلا دے یعنی اس چمڑا اور گوشت اور خون اور گوبر اس سب کو جلا ئے
6 پھر کاہن دیودار کی لکڑی اور زوفا اور سرخ کپڑا لے کر اس آگ میں جس میں گائے جلتی ہو ڈال دے                                                                                           گنتی 19: 5-6

زوفا ایک مخصوص قسم کا درخت تھا۔ جسکی شاخوں سے مصر میں اسرائیلیوں نے بکرے کا خون اپنے دروازں کی چوکھٹوں پر لگایا۔ تاکہ موت کا فرشتہ وہاں سے گزر جائے۔

22  اورتُم زُوفے کا ایک گُچھّا لیکر اُس خُون میں جو باسن میں ہو گا ڈبونا اور اُسی باسن کے خُون میں سے کُچھ اُوپر کی چَوکٹ اور دروازہ کے دونوں بازوؤں پر لگا دینا اور تم میں سے کوئی صبح تک اپنے گھر کے دروازہ سے باہر نہ جائے ۔                                          خروج 12: 22

زوفا دوبارہ بچھیا کے لیے استعمال کیا گیا۔ اور بچھیا ، زوفا، اُون اور دیودار اُس وقت تک جلا دیا جاتا۔ جب تک یہ راکھ نہ بن جائے۔

اور کوئی پاک شخص اس گائے کی راکھ کو بٹورے اور اسے لشکر گاہ کے باہر کسی پاک جگہ میں دھر دے یہ بنی اسرائیل کے لیے ناپاکی دور کرنے کے لیے رکھی ہے کیونکہ یہ خطا کی قربانی ہے                                                                                                               گنتی 19: 9

تو راکھ صاف پانی میں ملادی جاتی۔ اس سے ناپاک شخص کو وضو کروا دیا جائے۔ ( یا غسل) تو اس راکھ ملے پانی سے اُس کی ساری ناپاکی اُس میں سے جاتی رہے گی۔ لیکن یہ راکھ ہرقسم کی ناپاکی کے لیے نہیں تھی۔ لیکن صرف ایک قسم کی ناپاکی دور کرنے کا کام کرتی تھی۔

11 جو کو ئی کسی آدمی کی لاش کو چھوئے وہ سات دن تک ناپاک رہے گا
12  ایسا آدمی تیسرے دن اپنے آپ کو اس راکھ سے پاک کرے تو وہ ساتویں دن پاک ٹھہرے گا پر اگر وہ تیسرے دن اپنے آپ کو صاف نہ کرے تو وہ ساتویں دن پاک نہیں ٹھہرے گا
13  جو کو ئی آدمی لاش کو چھو کر اپنے کو صاف نہ کرے وہ خداوند کے مسکن کو ناپاک کرتا ہے وہ شخص اسرائیل میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ ناپاکی دور کرنے کا پانی اس پر چھڑکا نہیں گیا اس لیے وہ ناپاک ہے اسکی ناپاکی اب تک اس پر ہے   گنتی 19: 11-13

لہذا یہ راکھ ملا پانی وضو کے لیے تھا۔ جب کوئی شخص کسی میت کو ہاتھ لگا دیتا تو وہ اُسے ناپاک کردیتی۔ لیکن ایک مردہ جسم کو ہاتھ لگالینے کے نتیجے میں ایسی سخت ناپاکی کیوں ہوتی۔ اس کے بارے میں زرا سوچیں! آدم اپنی نافرمانی (گناہ) کی وجہ سے فانی بن گیا اور ساتھ میں اُس کے بچے (میں اور آپ) بھی۔ تاہم موت ناپاک ہے کیونکہ یہ گناہ کے نتیجہ میں آئی تھی۔ اس کا تعلق گناہ کی ناپاکی سے جڑا ہوا ہے۔ کسی کی لاش کو چھولینے سے وہ بھی ناپاک ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ راکھ ایک نشانی تھی۔ کہ اس سے نجاست دور ہوجاتی۔ ایک ناپاک شخص اپنی ناپاکی میں مردہ ہے۔ وہ اپنی زندگی کو بچھیا کی راکھ میں سے حاصل کر سکتا ہے۔

 لیکن کیوں ایک مادہ جانور استعمال ہوئی۔ اس کی کوئی براہ راست وجہ بیان نہیں کی گئی۔ لیکن ہم اس کی وجہ کلام اللہ سے تلاس کرسکتے ہیں۔ تمام تورات اور زبور شریف میں اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو نر جنس کے ساتھ واضع کیا۔ اور بنی اسرائیل کو ایک مادہ جنس کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بطور اس ازدواجی مرد اور عورت کے رشتے میں اللہ تعالیٰ راہنمائی کرتا ہے۔ اور اُس کے لوگ اُسکی پیروکاری کرتے ہیں۔ اس طرح ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے کو قربان کر۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہً دس احکام دئیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہی تھا۔ کہ حضرت نوح کی قوم کا حساب کیا گیا۔ اس کے علاوہ اور دیگر مثالیں موجود ہیں۔ یہ کبھی بھی کسی انسان (انبیاءاکرام) کا خیال نہیں تھا۔ اُس کے پیروکار محض اُسکی پیروکاری کرتے تھے۔

بچھیا کی راکھ انسانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تھی۔ اور یہ ضرورت ناپاکی دور کرنا تھی۔ تاہم یہ انسان کے لیے مناسب نشان تھا۔ یہ مادہ جانور تھا جو پیش کی گئی تھی۔ یہ ناپاکی ہمیں شرمندگی کا احساس دلاتی ہے۔ جب ہم گناہ کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف جرم ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے سامنے محسوس کرتے ہیں۔ بلکہ جب میں گناہ کرتا ہوں تو نہ صرف میں شریعت کے قانون کو توڑتا ہوں۔ بلکہ میں خدا کی عدالت کے سامنے مجرم ٹھہرتا ہوں۔ لیکن میں شرم اور افسوس محسوس کرتا ہوں۔ کس طرح اللہ تعالیٰ ہماری شرم کو ہم سے دور کرتا ہے؟ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کپڑے فراہم کرتا ہے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کو چمڑے کے کپڑے فراہم کئے تاکہ اُن کی شرمندگی ڈھانپی جائے۔ اور اُس وقت سے آدم کی اولاد اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپتے ہیں۔ درحقیقت اب یہ فطرتی ہے۔ اور ہم شاذناذر ہی یہ پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ بچھیا کی راکھ سے وضو ایک طریقہ تھا۔ تاکہ ہم اُس آلودگی سے اپنے آپ کو صاف محسوس کر سکیں۔ بچھیا کا مقصد ہمیں صفائی پیش کرتا تھا۔

  تو آؤ ہم سَچّے دِل اور پُورے اِیمان کے ساتھ اور دِل کے اِلزام کو دُور کرنے کے لِئے دِلوں پر چھِینٹے لے کر اور بَدَن کو صاف پانی سے دھُلوا کر خُدا کے پاس چلیں۔ عبرانیوں 10: 22

اس کے برعکس کفارے کے دن نر بکرے کی قربانی بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے تھی۔ اس لیے نر جانور استعمال کیا گیا۔ دس احکام کی نشانی میں ہم نے غور کیا کی نافرمانی کا جرم واضع موت کی ہی وضاحت کرتا ہے۔ (حوالے کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں) اللہ تعالیٰ عدل منصف تھا (اور ہے) اور بطور جج وہ اس گناہ کی وجہ موت مطالبہ کرتا ہے۔ بچھڑے کی قربانی (موت) سے اللہ تعالیٰ کا درکار مطالبہ پورا ہوتا ہے۔ اُسکی موت سے حضرت ہارون کے گناہ کی ادائیگی کی گئی۔ لیکن اس کے فوراً بعد بکرے کی موت سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ پوری قوم کے لیے پورا ہوا۔ کیونکہ اُسکی موت سے قوم بنی اسرائیل کے گناہ کی ادائیگی ہوئی۔ اس کے بعد قوم بنی اسرائیل کے گناہ علامتی طور پر حضرت ہارون کے وسیلے اُس چھوڑے ہوئے بکرے پر منتقل کردئے جاتے۔ اور پھر اُس بکرے کو بیابان میں چھوڑدیا جاتا۔ یہ اس بات کا نشان تھا کی ساری قوم کا گناہ سے چھٹکارا ہو چکا ہے۔

یہ قربانیاں ایک ہزار سال سے زائد حضرت ہارون اور اُسکی اولاد کے وسیلے گزرانی گئی۔ جب قوم بنی اسرائیل کو یہ ساری سرزمین دی گئی۔ اُسی وقت سے حضرت داود اور اُس کے بیٹوں نے اسرائیل پر حکومت کی۔ جہاں بہت سارے نبی انتباہ اور گناہوں سے توبہ کی منادی کرنے آئے۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ مسیح کی زندگی میں بھی یہ قربانیاں ان کی درکار ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ادا کی جاتیں۔

تاہم حضرت موسیٰ اور ہارون کے اس آخری نشانی کے بعد تورات شریف کے پیغامات کا سلسلہ بند ہوگیا۔ اور جلد ہی انبیاءاکرام کا سلسلہ جاری ہوا اور زبور شریف اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچانے لگا۔ لیکن اس تورات شریف کے آخری پیغام حضرت موسیٰ مستقبیل میں آنے والے ایک نبی کے بارے میں دیتا ہے۔ اور اسطرح بنی اسرائیل مستقبیل کی برکات اور لعنتوں کا زکر کرتا ہے۔ یہ تورات شریف میں سے ہمارا آخری مطالعاتی جائزہ ہے۔

موسیٰ کا دوسرا نشان : شریعت

حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی “شریعت”

ہم نے حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی ” فسح ” میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ مصر کے تمام پہلوٹھے مارجائیں گے۔ لیکن جن گھروں میں مینڈھوں کو ذبح کیا جائے گا وہ پہلوٹھے بچ جائیں گے۔ اور اُن گھروں کے دروازے کی چوکھٹوں پر خون لگایا جائے گا۔ فرعون نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی کی۔  اور اس طرح اُس کا پہلوٹھا بیٹا مارا گیا۔ حضرت موسیٰ نے بنی اسرئیل کی مصر سے خروج میں راہنمائی کی اور جب فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کررہا تھا۔ وہ بحیرہ احمر (قلزم) میں غرق ہوگیا تھا۔

لیکن حضرت موسیٰ کا بنی اسرئلیوں کو مصر کی غلامی سے نکلانے کا ہی کردار نہیں تھا۔ بلکہ زندگی کے ایک نئے راستے پر انکی قیادت کرنا تھی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے ایک نئی شریعت قائم کی ۔ چنانچہ مصر سے نکلنے کے تھوڑے عرصے بعد اسرئیلی کوہ سینا کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں سے حضرت موسیٰ 40 دن کے لیے کوہ سینا پر شریعت لینے کے لیے چلا گیا۔ قرآن شریف میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح آیا ہے۔

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر طور کو اونچا کیا لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔             سورۃ البقرہ 2: 63

اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے بائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا۔    سورۃ اعراف 7: 142

چنانچہ حضرت موسیٰ نے کون سی شریعت کو حاصل کیا؟ اگرچہ پوری شریعت کافی لمبی تھی (جن میں 613 ایسے قانون تھے۔ جن میں کچھ چیزوں کی اجازت ملی اور کئی کی نہیں۔ اور بتایا گیا کہ کون سی چیز حلال ہے اور کون سی چیز حرام ہے) یہ تمام احکامات مل کر تورات شریف بناتے ہیں۔ سب سے پہلے حضرت موسیٰ نے پتھر کی بنی تختیاں لیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پاتھوں سے مخصوص احکام لکھے۔ جن کو ہم دس احکام کہتے ہیں۔ جو تمام دوسرے قواعد و ضوابط کی بنیاد بنے۔ یہ دس احکام شریعت کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ جو تمام دوسرے قوانین کے لیے لازمی شرط تھی۔ قرآن شریف اس آیت میں حوالہ دیتا ہے۔

اور ہم نے ان کے لئے (تورات کی) تختیوں میں ہر ایک چیز کی نصیحت اور ہر ایک چیز کی تفصیل لکھ دی (ہے) ، تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو اور اپنی قوم کو (بھی) حکم دو کہ وہ اس کی بہترین باتوں کو اختیار کرلیں۔ میں عنقریب تمہیں نافرمانوں کا مقام دکھاؤں گا

    میں اپنی آیتوں (کے سمجھنے اور قبول کرنے) سے ان لوگوں کو باز رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں (تب بھی) اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ ہدایت کی راہ دیکھ لیں (پھر بھی) اسے (اپنا) راستہ نہیں بنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھ لیں (تو) اسے اپنی راہ کے طور پر اپنالیں گے، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل بنے رہے

           ( 145-146: 7     سورۃ الاعراف)

دس احکام

                        قرآن شریف ہمیں بتاتا ہے۔ کہ ان دس احکام کو اللہ تعالیٰ نے خود پتھر کی تختیوں پر لکھا تھا۔ جو ہمارے لیے ایک نشان تھا۔ لیکن یہ تمام احکام کیا تھے؟ یہ تمام احکام یہاں پر خروج کی کتاب میں سے دیئے گے ہیں۔ جن کو حضرت موسیٰ نے پتھر کی تختیوں سے خود نقل کیا تھا۔ جو درج ذیل ہیں۔

1اور خُدا نے یہ سب باتیں فرمائیں کہ ۔
2 خُداوندتیرا خُدا جو تُجھے مُلِک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہُوں۔
3 میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا ۔
4 تو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مُورت نہ بنا نا ۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔
5 تو اُنکے آگے سجدہ نہ  کرنا اور نہ انکی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیرا خُدا غیور خُدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں انکی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں ۔
6 اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں ۔
7 تو خُداوند اپنے خُدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اسکا نام بے فائدہ لیتا ہے خُداوند اسے بے گناہ نہ ٹھہرائیگا۔
8 یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا ۔
9 چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا ۔
10  لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرابیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔
11 کیونکہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اسلئے خُداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔
12 تو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اس مُلِک میں جو خُداوند تیرا خُدا تُجھے دیتا ہے دراز ہو ۔
13 تو خُون نہ کر ۔
14 تُو زِنانہ نہ کر۔ّ
15 ) تُو چوری نہ کر۔
16 تو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا ۔
17  تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا ۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اسکے غلام اور اسکی لونڈی اور اسکے بیل اور اسکے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا ۔
18 اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔

                                                                                                     خروج 20: 1-18

اکثر ایسا لگتا ہے ہم جو مختلف ممالک میں رہتے ہیں۔ ان احکامات کو بھول گے ہیں۔ کو ئی اُن کا مشورہ نہیں دیتا، ان کی کوئی سفارش نہیں کرتا، اور نہ ہی کوئی ان کو سمجھتا تھا۔ یہ احکام اس لیے دئیےگئے تھے۔ کہ ان کی فرنبرداری کی جائے۔ یہ شریعت تھی اور بنی اسرائیل کو خدا کا خوف اور اُسکی شریعت کو ماننا تھا۔

اطاعت کا معیار

                        لیکن یہ ایک اہم سوال ہے۔ اُن کو کتنے زیادہ احکامات کی ضرورت تھی؟ درجہ ذیل آیت دس احکام کے دئیے جانے سے پہلے کی ہے۔

2   اور جب وہ رفیدیم سے روانہ ہو کر سِینا کے بیابان میں آئے تو بیا بان ہی میں ڈیرے لگالئے ۔ سو وہیں پہاڑ کے سامنے اِسرائیلیوں کے ڈیرے لگے ۔
3  اور مُوسیٰ اُس پر چڑھکر خُدا کے پاس گیا اور خُداوند نے اُسے پہاڑ پر سے پُکار کر کہا کہ تو یعقوب کے خاندان سے یوں کہہ اور بنی اِسرائیل کو سُنا دے ۔
4  کہ تُم نے دیکھا کہ میں نے مصریوں سے کیا کیا کیا اور تُم کو گویا عُقاب کے پروں بیٹھاکر اپنے پاس لے آیا ۔
5  سو اب اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میرےمیری خاص مِلکیت ٹھہرو گے کیو نکہ ساری زمیں میری ہے ۔                      خروج 19: 2-5

اور یہ آیت دس احکام کے دئیے جانے کے فوراً بعد دی گئی۔

پھر اُس نے عہد نامہ لیا اور لو گوں کو پڑھکر سُنا یا ۔ اُنہوں نے کہا کہ جو کُچھ خُداوند نے فرما یا ہے اُس سب کو ہم کر یں گے اور تا بع رہں گے ۔                                          خروج 24: 7

تورات شریف کی آخری کتاب (استثنا) میں حضرت موسیٰ نےآخری پیغام دیا۔ اُس نے اس میں شریعت کی فرمانبرداری کا خلاصہ بیان کیا۔

24  سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔                                               استثنا 6: 24-25

راستبازی کو حاصل کرنا

                                    یہاں پر یہ لفظ “راستبازی” دوبارہ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت اہم لفظ ہے۔ ہم نے اس کو پہلے حضرت آدم کے نشان میں سیکھا تھا۔ جب اللہ تعالٰی نے ہمیں حضرت آدم کی اولاد کہا تھا۔

اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اور (اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک باطنی لباس بھی اتارا ہے اور وہی) تقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں  سورۃ اعراف 7: 26

پھر ہم نے حضرت ابراہیم کے نشان میں سیکھا جب اللہ تعالیٰ نے بیٹا دینے کا وعدہ کیا۔ اور حضرت ابراہیم نے اس وعدہ پر بھروسہ کیا اور پھر یہ کہا گیا۔

 اور وہ خُداوند پر ایمان لایا اور اِسے اُس نے اُسکے حق میں راستبازی شمار کیا ۔

                                                                                                 پیدائش 15: 6

(برائے مہربانی راستبازی کو مکمل طور پر جاننے کے لیے “حضرت ابراہیم کی دوسری نشانی” کا مطالعہ کریں)

  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔     استثنا 6: 25

مگر راستبازی حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔  اس کے لیے ہمیں بتایا جاتا ہے۔ کہ ہمیں شریعت کی کُلی طور پر اطاعت کرنا ہے اور پھر ہم راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے ہمیں حضرت آدم کی نشانی یاد آجاتی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالٰی کی ایک بات کی نافرمانی سے وہ جنت سے نکلا دیئے گے تھے۔ اللہ تعالیٰ اور مختلف نافرمان کاموں کا انتظار نہیں کرتا۔ اسطرح کا کام حضرت لوط کی نشانی میں اُس کی بیوی کے ساتھ ہوا۔ ہمیں یہ ساری صورت حال تورات شریف کی عظمت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ میں یہاں پربہت ساری توارت شریف کی آیت رکھی ہیں (یہاں کلک کریں) جن سے ہم جان سکیں گے کہ راستبازی کو حاصل کرنے کاکیسا معیار ہونا چایئے۔

اب آئیں چند لمحوں کے لیے اس کے مطلب کے بارے میں سوچیں۔ کئی بار یونیورسٹی کے کورس میں ایسا ہوتا ہے۔ پروفیسر ہمیں امتخان میں بہت سے سوال دیتے ہیں۔ (مثال کے طور پر 25 سوالات) اور اُن سے کچھ سوالات جن کو ہم چن لیتے ہیں اُن کا جواب تحریر کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور جسطرح ہم 25 سوالات میں سے 20 کو چن کر اُن کا امتخان میں جواب لکھ دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی ایک طالب علم کو ایک سوال مشکل لگتا ہو اور وہ اُس کو چھوڑ کر دوسرا سوال چُن لے۔ اس طرح دوسرا طالب علم اُس چھوڑے ہوئے کو آسان سمجھ کر اُس کا جواب لکھ دے۔ حقیقت میں ہمیں 25 میں سے 20 سوالوں کا چناو کرنا ہے۔ اس طرح سے پروفیسر امتخان کو ہمارے لیے آسان بنا رہا ہوتا ہے۔

بہت سارے لوگ شریعت کے ان دس احکام کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ دس احکام دیئے۔ تو اسکا مطلب تھا کہ ان دس احکام میں سے کوئی سے پانچ احکام کو چن لیں۔ لیکن یہ ہمیں اس لیے نہیں دئیے گے تھے کہ کچھ کو چن لیں اور کچھ کو چھوڑ دیں۔ یہ ہمیں اس لیے دئیے گے کہ ہمیں ان سب کی فرمانبرداری کرنی ہے اور ان سب حکموں کو تھامے رکھنا ہے۔ ان میں ہم کسی کو چن اور کسی کو  چھوڑ نہیں سکتے۔ صرف شریف کی فرمانبرداری کُلی طور کرنے کی وجہ سے راستباز بن سکتے ہیں۔

لیکن پھر کیوں کچھ لوگ شریعت کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ؟ کیونکہ شریعت پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ خاص طور پر یہ ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ساری زندگی اسکی پیروی کرنا پٹرتی ہے۔ یہ تو بٹرھا آسان ہے کہ یم اپنے آپ کو دھوکہ دیں اور اس معیار پر نہ پہنچ سکیں۔ پرائے مہربانی ان احکامات کو دوبارہ سے دیکھیں اور اپنے آپ سے پوچھیں۔ کیا میں ان احکامات کی فرمانبرداری کر سکوگا؟ تمام کی ؟ ہر روز ؟ بغیر کسی حکم کو توڑے ؟ ہمیں بت پرستی سے، ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، زناکاری ، چوری ، قتل ، جھوٹ بولنا ، وغیرہ سے نمٹنا پٹرتا ہے۔ یہ تمام احکام سدا بہار ہیں اور ہمیں پوچھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان کی اطاعت کر سکتے ہیں؟ کوئی بھی ان سوالوں کا جواب دوسرے کو نہیں دے سکتا۔ وہ صرف اپنے آپ کو ہی جواب دے سکتا ہے۔ اور وہ پھر ان کا جواب روزِ مخشر والے دن اللہ تعالیٰ کو دینا پڑے گا۔

اللہ تعالٰی کے حضور تمام اہم سوالات

                        میں یہاں پر ایک سوال پوچھونگا۔ جس کو استثنا 6 : 25 میں سے لیا گیا ہے۔ یہ ذاتی سوال ہے اور آپ اس کا جواب اپنے آپ کو دیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کا جواب شریعت میں سے کیسے دیتے ہیں۔ شریعت مختلف طریقوں سے لاگو ہوتی ہے۔ لہذا احتیاط کے ساتھ وہ جواب سوچو جو آپ کے بارے میں ٹھیک ہو۔ اُس جواب پر کلیک کریں جو آپ کا جواب ہے۔

24  سو خداوند نے ہمکو اِن سب احکام ہر عمل کرنے اور ہمیشہ اپنی بھلائی کے لیے خداوند اپنے خدا کا خوف ماننے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمکو زندہ رکھے جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔
25  اور اگر ہم احتیاط رکھیں کہ خداوند اپنے خدا کے حضور اِن سب حکموں کو مانیں جیسا اُس نے ہم سے کہا ہے تو اِسی میں ہماری صداقت ہو گی ۔                       استثنا 6: 24-25

 جواب نمبر 1 :             جی ہاں! میں نے سب حکموں کی فرمانبرداری کی ہے یہ میری حقیقت ہے

 جواب نمبر 2 :          جی نہیں! میں نےکسی حکم کی فرمانبرداری نہیں کی اور یہ میری حقیقت ہے۔

موسیٰ کا نشان نمبر 1: فسح

“حضرت موسٰی کی پہلی نشانی “فسح

تقریباً 500 سال حضرت ابراہیم کو گزرے چکے تھے اور 1500 سال مسیح سے پہلے حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی۔ اب اُن کی نسل جو حضرت اسحاق سے ہوئی تھی اسرائیلی کہلائے جاتے تھے۔ جو ایک بڑی قوم بن چکی تھی۔ لیکن وہ مصر میں غلامی کی زندگی گزار رہے تھے۔ یہ اس لیے ہوا کہ حضرت ابراہیم کا پڑپوتا حضرت یوسف غلام کے طور پر مصر میں فروخت کیا گیا تھا۔ پھر کئی سالوں بعد اس کے خاندان نے اُسکی پیروی کرکے مصر میں ہجرت کی۔ جسکا بیان تورات شریف کی پہلی کتاب پیدائش کے ابواب 45-46 میں زکر پایا جاتا ہے۔

تاہم اب ہم ایک اور عظیم نبی کی نشانی پرہیں۔ جسکا ذکر تورات شریف کی دوسری کتاب خروج میں ملتا ہے۔ اس میں بیان ہے کہ کیسے حضرت موسیٰ نے اسرائیلیوں کو مصرکی غلامی سے رہائی میں راہنمائی کی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو حکم تھا کہ وہ مصر کے فرعون سے ملاقات کرے۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان ایک مقابلہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا۔ کہ اس مقابلے سے نو(9) آفات آئیں۔ جو فرعون کے لیے ایک نشان تھا۔ لیکن فرعون اللہ تعالٰی کی مرضی کے آگے نہ جھکا اور اِن نشانوں کی بھی نافرمانی کرتا رہا۔

دسویں آفت

                                                تاہم اللہ تعالٰی دسویں آفت جو سب سے  زیادہ خطرناک اور ڈراونی لانے والا تھا۔ اس سے پہلے 10 دسویں آفت آتی۔ اس  کے بارے میں تورات شریف ہمیں تیار کرتی اور بتاتی ہے۔ اور قرآن شریف بھی ہمیں ذیل کی آیت میں بتا تا ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل 101 – 102: 17

اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو نو روشن نشانیاں دیں تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھیئے جب (موسٰی علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا: میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے موسٰی! تم سحر زدہ ہو تمہیں جادو کر دیا گیا ہے

موسٰی (علیہ السلام) نے فرمایا: تو (دل سے) جانتا ہے کہ ان نشانیوں کو کسی اور نے نہیں اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے رب نے عبرت و بصیرت بنا کر، اور میں تو یہی خیال کرتا ہوں کہ اے فرعون! تو ہلاکت زدہ ہو تو جلدی ہلاک ہوا چاہتا ہے

تاہم فرعون پر تباہی اور بربادی آتی ہے۔ لیکن یہ کیسے آئیں؟ اللہ تعالیٰ نے آفات کو ماضی میں مختلف طرح سے بھیجا تھا۔ مثال کے طور پر حضرت نوح کے دنوں میں پوری دنیا پر سیلاب لایا۔ حضرت لوط کی بیوی کو نمک کا ستون بن گئی۔ لیک یہ آفت فرق ہے تاکہ سارے لوگوں کے لیے یہ نشان ہو۔ ایک عظیم نشان جیسے قرآن شریف نے فرمایا ہے۔

سورۃ النازعات 79:20

پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اسے بڑی نشانی دکھائی

آپ دسویں آفت کے بارے میں توریت شریف کی دوسری کتاب “خروج” میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہاں کلیک کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس کو یہاں اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہاں پر بہت اچھی طرح اور تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ ذیل کی وضاحت کو سمجھنے میں مدد بھی دے گا۔

منڈھے کی فسح موت سے بچاتی ہے

                                                کلام اللہ ہمیں یہ بتاتا ہے۔ کہ تباہی کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوچکا تھا۔ کہ پہلوٹھا بیٹا اُس رات مارا جائے گا۔ سوائے اُن لوگوں کے جن کے گھروں میں منڈھے کی قربانی کی جائے گی اور اس کا خون اُس گھر کی چوکھٹوں پر لگایا جائے گا۔ اگر فرعون بھی اس حکم کی تابعداری نہیں کرتا تو اُس کا پہلوٹھا اور اُسکے تخت کا وارث بھی مارا جائے گا۔ اور مصر میں ہر ایک گھر کا پہلوٹھا بیٹا مار دیا جائے گا۔ اگر وہ اس حکم کی تابعداری نہیں کرینگے۔ کہ ایک برّہ کو قربان کرکے اُس کے خون کو اپنے گھر کی چوکھٹوں پر نہ لگائیں گے۔ چنانچہ مصر نے ایک قومی آفت کا سامنا کیا۔

لیکن وہ گھر جس میں برّہ قربان کیا اور اسکا خون گھر کے دروازے کی چوکھٹوں پر لگیا جا چکا تھا۔ اُن سے وعدہ تھا کہ وہ بچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی آفت اُس گھر کو چھوڑ جائے گی۔ لہذا وہ دن اور نشان “فسح” کہلایا۔ (تاہم موت ان تمام گھروں کو چھوڑتی گئی جن پر برّے کا خون لگا تھا) لیکن جن دروازوں پر خون کا نشان تھا؟ توریت شریف ہمیں بتاتی ہے۔

خروج 12:27

تو ان سے یہ کہو یہ فسح کی قربانی ہے۔ جو ہم رب کو پیش کرتے ہیں کیونکہ جب رب مصریوں کو ہلاک کررہا تھا تو اُس نے ہمارے گھروں کو چھوڑدیا۔ یہ سُن کر اسرائیلیوں نے اللہ کو سجدہ کیا۔

یہودی کیلنڈرفسح سے شروع ہوتا ہے

 چنایچہ بنی اسرائیل کو حکم تھا وہ ہر سال اُسی دن فسح کی عید منائیں۔ یہودی کیلنڈر عیسوی کیلنڈر سے تھوڑا مختلف ہے۔ کیونکہ اس میں ہر سال دن تھوڑا بدل جاتا ہے۔ اگر عیسوی کیلنڈر پر غور کریں۔ تو یہ ماہ رمضان کے ساتھ بہت ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ اس میں سال کی مختلف لمبئی پائی جاتی ہے۔ جو عیسوی کیلنڈر میں ہر سال چلتی ہے۔ لیکن اُس دن (فسح) سے آج تک 3500 سال گزر گے چکے ہیں۔ یہودی لوگ فسح کو ہر سال مناتے ہیں۔ جو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں واقعہ ہوئی تھی۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے تورات شریف میں اُن کو تابعداری کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہاں پر ایک جدید زمانے کی تصویر ہے۔ جس میں یہودی عید فسح پر برّے قربان کر رہے ہیں۔ یہ بالکل عیدالضحی سے ملتی جلتی ہے۔

اگر ہم اس عید پر تاریخی طور پر غور کریں تو یہ ہمیں بہت ہی غیر معمولی بات کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ آپ اس کو انجیل شریف میں پڑھ سکتے ہیں۔ جہاں حضرت عیسیٰ مسیح کی گرفتاری، مقدمے کی سماعت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

یوحنا 18:28

پھر وہ عیسیٰ کو کائفا کے پاس سے قلعہ کو لے گئے اور صبح کا وقت تھا اور وہ خود قلعہ میں نہ گئے تاکہ ناپاک نہ ہوں بلکہ فسح کھا سکیں۔

یوحنا 18: 39-40

مگر تمہارا دستور ہے کہ میں فسح پر تمہاری خاطر ایک آدمی چھوڑدیا کرتا ہوں۔ پس کیا تم کو منظور ہے کہ میں تمہاری خاطر یہودیوں کے بادشاہ کو چھوڑدوں؟۔

اُنہوں نے چلا کر پھر کہا کہ اِس کو نہیں لیکن برابا کو۔ اور برابا ایک ڈاکو تھا۔

دوسرے الفاظ میں حضرت عیسیٰ مسیح کو صحیح یہودی کیلنڈر کے مطابق فسح کے دن گرفتار کیا گیا اور عمل درآمد کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ اب اگر آپ کو یاد ہو حضرت ابراہیم کی تیسری نشانی اور حضرت یحییٰ نے حضرت عیسیٰ کو ایک لقب دیا تھا۔

یوحنا 1: 29-30

دوسرے دن اُس نے عیسیٰ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھویہ “اللہ کا برّہ” ہے جو دنیا کے گناہ اُٹھالے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔

عیسیٰ مسیح نے فسح پر مذمت کرتے ہیں

یہاں ہم اس نشان کی لاثانیت دیکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح ” اللہ کا برّہ” اُسی دن قربانی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ جس دن تمام یہودی ایک برّہ کی قربانی  کرتے ہیں۔ جو عیسیٰ مسیح سے 1500 سال پہلے واقعہ ہوا جس میں فسح کی قربانی ہر ایک منڈھا قربان ہوا۔

یہ ہی وجہ ہے کہ یہودی ہرسال عام طور پر اُسی ہفتے میں مناتے ہیں۔ جس ہفتے میں ایسٹر منایا جاتا ہے۔ کیونکہ عیسیٰ مسیح بھی اُسی دن قربان ہونے کے لیے بھجیے گئے تھے۔ (ایسٹر اور فسح ایک ہی دن نہیں منائی جاتے۔ کیونکہ عیسوی اور یہودی کیلنڈر کے سال کی لمبائی کی مختلف ترتیب ہے۔ لیکن دونوں عام طور پرایک ہی ہفتے میں آتے ہیں

اب تھوڑی دیر کے لیے  ہر نشان پرغور کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کچھ ذیل کی تصویر میں نشان دیکھے ہیں؟

جب ہم کھوپڑی اور ہڈیوں کے نشان کو دیکھتے ہیں تو اس سے مراد ہوتی ہے موت اور خطرے کی۔ جب ہم سنہری مہراب دیکھتے ہیں تو میکڈونلڈ کا خیال آتا ہے۔ جب ہم ٹینس کے کھلاڑی کے سر پر گوڈ کا نشان دیکھتے ہیں۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نائیکی کا نشان ہے۔ جب ہم کسی نشان کو دیکھیں تو اس کے بارے میں سوچتیں ہیں۔ دوسرے الفاظ میں نشان ہمارے زہین اشارہ دیتے ہیں ایک خاص چیز کے بارے میں سوچنے کے لیے۔ حضرت موسیٰ کا یہ نشان اللہ تعالیٰ نے ہم کو دیا۔ اللہ تعالٰی نے یہ نشان کیوں دیا؟ ٹھیک اُسی دن جب منڈھوں کی قربانی ہوئی، اُسی دن عیسیٰ مسیح کی قربانی ہمارے لیے ایک اشارہ ہے۔

یہ اُسی طرح نظر آتا ہے جس طرح ہم نے اُوپر تصویر میں دیکھا۔ یہاں پر نشان حضرت عیسیٰ مسیح کی طرف اشارہ دلاتا ہے۔ پہلی فسح میں برّوں کو قربان اور خون بہایا گیا تاکہ لوگ بچ جائیں۔ اسی طرح حضرت عیسٰی مسیح کا نشان ہمیں اس طرف اشارہ دیتا ہے۔ “اللہ تعالیٰ کا برّہ” قربان ہوا تاکہ ہم زندگی پائیں۔

ہم نے حضرت ابراہم کے تیسرے نشان میں دیکھا۔ کہ جہاں حضرت ابراہیم کے اپنے بیٹے کی قربانی کے لیے آزمایا گیا وہ موریا پہاڑتھا۔ لیکن ایک منڈھا اُس کے بیٹے کی جگہ مہیا کیاگیا تھا۔ ایک برّہ مرگیا تاکہ ابراہیم کا بیٹا بچ جائے۔ موریا کا پہاڑ بالکل وہی پہاڑ ہے۔ جہاں پر حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانی دی گئی۔ یہ ایک نشان تھا کہ ہم حضرت عیسیٰ مسیح کی قربانی پر اُس جگہ کی طرف اشارہ کے بارے میں سوچ سکیں۔ حضرت موسیٰ کے اس نشان میں ہم نے ایک اور اسس طرح کے واقعہ کی تلاش کی ہے۔ حضرت عیسیٰ مسیح کو قربانی کے لیے چھوڑدینا۔ ہمیں کیلنڈر میں موجود اُسی دن ہمیں فسح کی قربانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ برّہ کی قربانی ایک بار پھر اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کیوں؟ ہم اس کو جاری رکھیں گے۔ تاکہ ہم
حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی سے مذید افہام و تہفیم حاصل کرسکیں۔ یہ نشان کوہ سیناہ پر دیا گیا تھا۔

لیکن اس نشان کے آخر پر فرعون کے ساتھ کیا ہوا؟ جس طرح ہم نے تورات شریف میں پڑھا کے اُس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تابعداری نہ کی اور اُس کا پہلوٹھا بیٹا (یعنی اُسکا وارث) اُسی رات مارا گیا۔ اس طرح اُس نے آخر کار اسرائیلیوں کو مصر چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔ لیکن فرعون نے اپنا ارادہ بدل دیا اور اسرائیلیوں کا تعاقب کرنے کے لیے بحرقلزم کی طرف چڑھ دیا۔ اللہ تعالٰی کے نزدیک سمندر پار کرنے کا مقصد تھا کہ فرعون اپنی فوج کے ساتھ سمندر میں غرق ہوجائے۔ نوآفات کے بعد، فسح پراموات ، مصری فوج کا غرق ہونا، مصر کے لیے ایک ایسی عظیم ابری لے کر آیا کہ مصر دوبارہ پھر کھبی دنیا میں سپرپاور کے طور سے نمایاں نہ ہوسکا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے اُن کا انصاف کردیا۔

(حضرت ابراہیم کی تیسری نشانی (قربانی

پچھلی نشانی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک بیٹا عطا کرے گا۔ اور اللہ نے اپنا وعدہ یاد رکھا۔ حقیقت میں تورات اس بات کو جاری رکھتی ہے۔ اور بیان کرتی ہے۔ کہ کس طرح حضرت ابراہیم نے دو بیٹے حاصل کئے۔ تورات کی پہلی کتاب پیدائش کے 16 باب ہمیں بتاتا ہے۔ کہ حضرت ہاجرہ سے حضرت اسمعیل پیدا ہوئے۔ اور پھر پیدائش کے 21 باب ہمیں بتاتا ہے۔ کہ 14 سال بعد حضرت سارہ سے حضرت اضحاق پیدا ہوئے۔ خاندان میں دونوں خواتین کے درمیان جلد جھگڑا شروع ہوگیا۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور اس کے بیٹے کو ایک دوسری جگہ بیج دیا۔ اس واقعہ کا بیان آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ (کلیک کریں) کہ اللہ تعالٰی نے کیسے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل کو برکت دی۔

حضرت ابراہیم کی قربانی بنیادی طور پر عیدالااضٰحی ہے

اب حضرت ابراہیم کے گھرانے میں ایک بیٹا رہ گیا تھا اور حضرت ابراہیم کا سامنا ایک بڑھے امتحان سے ہوا۔ لیکن اس امتحان کے وسیلے ہم اللہ تعالٰی کی سیدھی راہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ آپ قرآن شریف اور تورات شریف سے ان حوالہ جات کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ جن میں حضرت ابراہیم کی قربانی کا ذکر ہے۔ کتاب مقدس میں سے یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ کیوں عیدالاضحی منائی جاتی ہے؟ لیکن یہ ایک تاریخی واقعہ ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بھی ہے۔

ہم حوالہ جات میں پڑھ سکتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے لیے ایک امتحان تھا۔ لیکن یہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا۔ حضرت ابراہیم کا ایک نبی ہونے کی حیثیت سے یہ امتحان ہمارے لیے ایک نشان ہے۔ ہم اس میں سے سیکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہماری فکر کرتا ہے۔ اس نشان کا کیا مطلب ہے؟ برائے مہربانی نوٹ کریں۔ حضرت ابراہیم نے اُس جگہ کا نام کیا رکھا تھا؟ جہاں اُس کا بیٹا قربان ہونا تھا۔ تورات میں سے یہاں حوالہ دیا گیا ہے۔

پیدائش 22: 13-14

اور ابراہیم نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔ تب ابراہیم نے جاکر اُس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قربانی کے طور پر چڑھایا۔

اور ابراہیم نے اُس مقام کا نام یہوواہ یری رکھا چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا جائے گا۔

نوٹ! حضرت ابراہیم نے جو نام اُس جگہ کا رکھا۔ وہ یہ تھا ” خدا مہیا کریں گا ” یہ نام کس زمانہ کو ظاہر کرتا ہے؟ زمانہ حال ، زمانہ ماضی، یا زمانہ مستقبیل کو؟ یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ زمانہ مستقبیل کو ظاہر کرتا ہے۔ اور بھی واضح ہو جاتا ہے جب حضرت موسٰی نے اس کو 500 سال بعد درج کیا۔ تو اس کو اسی طرح لکھا کہ ” مہیا کیا جائے گا ” اس کو زمانہ مستقبیل میں میں ہی لکھا گیا اور یہ مستقبیل کی ہی بات کرتا ہے۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم یہاں مینڈھے کی بات کررہے ہیں۔ جو  ان کے بیٹے کی جگہ قربان ہوا۔ لیکن جب حضرت ابراہیم نے اس جگہ کو نام دیا تو مینڈھا اس سے پہلے قربان ہو چکا تھا۔ اگر حضرت ابراہیم مینڈھے کی بات کر رہے تھے۔ جو قربان ہوا اور نذر کی قربانی کے طور پر جلایا جا چکا تھا۔ تو پھر اس کا یہ نام ہونا چاہیے تھا ” خدا نے مہیا کیا ” زمانہ ماضی استعمال ہونا چاہیے تھا۔ اگر وہ اس مینڈھے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ جو پہلے ہی اُن کے بیٹے کی جگہ قربان ہو چکا۔ توپھر یہ کہاوت اس طرح ہونی چاہیے تھی۔ ” آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا گیا تھا ” لیکن حضرت موسٰی اور حضرت ابراہیم دونوں نے زمانہ مستقبیل ہی کو استعمال کیا۔ اس طرح وہ اس مینڈھے کے بارے میں نہیں سوچتے جو پہاڑ پر قربان ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے تب وہ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اگر اس کے بارے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو شروع میں پہلا نشان دیا تھا۔

پیدائش  22:2

تب اس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاوں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔

یہ واقعہ موریاہ کے پہاڑ پر واقع ہوا۔ یہ پہاڑ کہاں ہے؟ 2000 ق م یعنی حضرت ابراہیم کے وقت میں یہ پہاڑ ایک بیابان تھا۔ ایک ہزار سال بعد 1000 ق م میں حضرت داود نے یروشلیم شہر آباد کیا۔ اور بعد میں حضرت داود کے بیٹے حضرت سلیمان نے ہیکل کی تعمیر کی۔ ہم تورات میں اس کے بارے پڑھ سکتے ہیں۔

2 تواریخ 3:1

اور سلیمان یروشیلم میں کوہ موریاہ پر جہاں اس کے باپ داود نے رویت دیکھی اسی جگہ جسے داود نے تیاری کرکے مقرر کیا یعنی ارنان یبوسی کے کھلیہان میں خداوند کا گھر بنانے لگا۔

دوسرے الفاظ میں ” موریاہ کا پہاڑ ” حضرت ابراہیم اور حضرت موسٰی کے زمانہ میں بیابان تھا لیکن 1000 ق م میں حضرت داود اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں یہ اسرائیلیوں کا دارلحکومت بن گیا تھا۔ جہاں انہوں نے خدا تعالٰی کے لیے ہیکل تعمیر کی اور آج یہ یہودیوں کی پاک ترین جگہ ہے۔

حضرت عیٰسی المسیح کی موریا کے پہاڑ پر مصلوبیت

یہاں پر ہم حضرت عیٰسی المسیح اور انجیل شریف کا برائے راست تعلق پاتے ہیں۔ہم اس تعلق کو اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب ہم حضرت عیٰسی المسیح کے ایک خطاب کو جان جاتے ہیں۔ حضرت عیٰسی المسیح کو بہت سارے خطبات سے نوازا گیا۔ لیکن سب سے مشہور خطاب ” مسیح ” ہے۔ لیکن عیٰسی مسیح کو ایک اور بھی خطاب دیا گیا جو مشہور نہیں ہے۔ لیکن اہم ترین ضرور ہے۔ ہم جب یوحنا کی انجیل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو حضرت یحٰیی ( یوحنا بپتسمہ دینے والا) یہ کہتا ہے۔

یوحنا 1: 29-30

دوسرے دن اس نے یسوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خدا کا برہ ہے جو دنیا کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں نے کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔

ایک اہم لیکن کم مشہور خطاب حضرت عیٰسی کو حضرت یحیٰی نے دیا۔ ” خدا کا برۃ “۔ اب زرا حضرت عیٰسی کی زندگی کے آخری ایام پر غور کریں۔کہاں اُن کو گرفتار  اور مصلوب کیا گیا؟ یہ سارا واقع یروشلیم میں ہوا۔ ( جو موریاہ کے پہاڑ پر واقع ہے)

لوقا 23:7

اور یہ معلوم کرکے کہ ہیرودیس کی عمل داری کو ہے اُسے(حضرت عیٰسی) ہیرودیس کے پاس بھیجا کیونکہ وہ (ہیرودیس) بھی اُن دِنوں یروشلیم میں تھا۔

دوسرے الفاظ میں گرفتاری اور مصلوبیت یروشلیم ہی میں واقع ہوئی (یعنی موریاہ کے پہاڑ پر)۔ زرا واپس حضرت ابراہیم کی کہانی کی طرف آتے ہیں۔ کیوں حضرت ابراہیم نے اُس جگہ کا نام زمانہ مستقبیل میں رکھا؟ ” خدا مہیا کرے گا ” حضرت ابراہیم ایک عظیم نبی تھا اور جانتا تھا کہ مستقبیل میں خدا یہاں مہیا کرے گا۔ اور اس طرح حضرت ابراہیم کا بیٹا قربان ہونے سے بچ جاتا ہے۔ اور اس کی جگہ ایک مینڈھا قربان ہو جاتا ہے۔ 2000 ہزار سال بعد حضرت عیٰسی مسیح کو ” خدا کا برہ ” کہا جاتا ہے۔ اُس کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ٹھیک اُسی جگہ پر مصلوب کیا جاتا ہے۔

قربانی حضرت ابراہیم کے بیٹے کے لیے فدیہ تھا موت سے بچ جانے کا

کیا یہ ہمارے لیے اہم ہے؟ میں غور کرتا ہوں کہ کیسے حضرت ابراہیم کا نہ نشان تکمیل کو پہنچا۔ قرآن شریف کی اس آیت میں حضرت ابراہیم کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

سورة الصَّافات 37:107

  ‏ [جالندھری]‏ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا

فدیہ کا کیا مطلب ہے؟ فدیہ دینے کا مطلب ہے کہ کوئی ایک کسی قیدی کا جرمانہ ادا کردے اور اُس کو اُس قید سے رہائی دلا دے۔ حضرت ابراہیم کے لیے فدیہ کا مطلب ہے کہ وہ کسی کے قیدی تھے۔ بیشک وہ ایک عظیم اوربڑے نبی بھی تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس بات میں قیدی تھے۔ حضرت ابراہیم کی قربانی کا واقعہ ہمیں بتابا ہے۔ کہ وہ موت کے قیدی تھے۔ ہم نے آدم کی نشانی میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو فانی بنایا ہے۔ (انبیااکرام کو بھی) اب وہ موت کے غلام تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم کے اس واقع میں مینڈھا قربان ہوگیا۔ اگر آپ حضرت آدم، حضرت قابیل، حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی پہلی نشانی کا سلسلسے سے مطالعہ کریں۔ تو آپ جانیں گے کہ اِن انبیا اکرام نے جانوروں کی قربانی کی باربار مشق کی۔ وہ جانتے تھے کہ اس قربانی کے باعث ہم بچ جاینں گے۔ اور ہم دیکھ سکتے ہیں یہ عمل ہمیں مستقبیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو حضرت عیٰسی کو خدا کا برہ پیش کرتا ہے۔

قربانی ہمارے لیے برکت

موریاہ کے پہاڑ پر مینڈھے کی قربانی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اور اس کے آخر میں اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو بتایا تھا۔

پیدائش 22:18

اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی کیونکہ تو نے میری بات مانی۔

اگر آپ زمین کی کسی ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ وعدہ آپ کے لیے ہے۔ کیونکہ اس وعدہ کے باعث آپ اللہ تعالٰی سے برکت حاصل کرسکتے ہیں۔ کیا یہ قابلِ قدر بات نہیں؟ کیسے حضرت ابراہیم کی قربانی کا تعلق حضرت عیٰسی مسیح سے اور آج یہ تعلق آپ کے ساتھ ہے؟ اور کیوں ؟ ہم جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے لیے فدیہ دیا گیا اور آج شائد ہمارے لیے یہ ایک نشان ہے۔ لیکن اسکا مکمل جواب ہے ۔ کہ لیے ہم حضرت موسٰی کے نشان میں جاری رکھیں گے ( ان کے دو نشان ہیں) اور یہ ہمارے سوال کا جواب بڑے واضع انداز میں دیں گے۔

لیکن اس وقت یہ بتانا چاہتا ہوں کہ لفظ ” نسل ” یہاں پر واحد ہے۔ یہ نسلیں نہیں ہے۔ جس کا مطلب پشتیں یا قومیں ہے۔ حضرت ابراہیم سے برکت کا وعدہ ایک نسل سے ہے۔ جو واحد ہے۔ واحد کا مطلب ایک ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں بہت سارے لوگ، گروہ ، اور نہ ہی اُنہیں ہے۔ حضرت موسٰی کا فسح کا نشان اس کو سمجھنے میں مدد دے گا۔

(حضرت ابراہیم ؑ کی دوسری نشانی (راستباز

یہ کیا ہے جسکی ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرورت ہے؟ ہم اس سوال کے بہت سارے جواب سوچ سکتے ہیں۔ لیکن حضرت آدم ؑ کی نشانی یاددلاتی ہے۔ کہ سب سے اوّل اور عظیم ترین ضرورت راستبازی کی ہے۔ قرآن شریف میں یہ الفاظ برائے راست ہمارے ساتھ مخاطب ہیں( آدم ؑ کی اولاد

اے آدم کی اولاد ! بیشک ہم نے رتمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔

 (سورة الاعراف 7:26 )

تو پھر راستبازی کیا ہے؟ (تورات شریف کی پانچویں کتاب استثنا 32:3-4 ) ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاتی ہے۔

کیونکہ میں خداوند کے نام کا اشتہار دوں گا۔ تم ہمارے خدا کی تعظیم کرو۔´ وہ ہی چٹان ہے۔ اُس کی صنعت کامِل ہے کیونکہ اُس کی سب راہیں انصاف کی ہیں۔ وہ وفادار خدا اور بدی سے مُبّرا ہے۔ وہ منصف اور بر حق ہے۔ استثنا 32 :3-4

راستبازی کی یہ تصویر اللہ تعالیٰ نے ہمیں تورات شریف میں دی ہے۔ راستبازی کا مطلب ہے وہ جو کامِل ہے۔ وہ جو سب راہوں میں سچا ہے۔ تورات شریف اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس طرح بیان کرتی ہے۔ لیکن ہمیں کیوں ضرورت ہے کہ ہم راستبازی کے بارے میںجانیں ؟ ہم اس کا زبور شریف میںجواب دیکھتے ہیں

زبور 15
۱)اے خداوند تیرے خیمہ میں کون رہے گا؟
تیرے کوہ مقدس پر کون سکونت کرے گا؟
۲) وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔
۳) وہ جو اپنی زبان سے بہتان نہیں باندھتا اور اپنے دوست سے بدی نہیں کرتا اور اپنے ہمسایہ کی بدنامی نہیں سُنتا۔
۴) وہ جس کی نظر میں رذیل آدمی حقیر ہے پر جو خداوند سے ڈرتے ہیں اُن کی عزت کرتا ہے۔ وہ جو قسم کھا کر بدلتا نہیں خواہ نقصان ہی اُٹھائے۔
۵) وہ جو اپنا روپیہ سُود پر نہیں دیتا اور بے گناہ کے خلاف رشوت نہیں لیتا۔ ایسے کام کرنے والا کبھی جنبش نہ کھا ئے گا۔

جب وہ یہ پوچھتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے پہاڑ پر کون رہے گا۔ تو دوسرے معنوں میں وہ یہ پوچھ رہا ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی جنت میں کون رہے گا۔ تو ہم اس کا جواب اس طرح پڑھتے ہیں۔ وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا اور دِل سے سچ بولتا ہے۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی جنت میں اُس کے ساتھ رہے گا۔ اس طرح کی راستبازی کی ہمیں ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنت میں رہنے کے لیے راستبازی ضروری ہے۔

حضرت ابراہیم کے بارے میں سوچو. وہ کس طرح راستبازی حاصل کی بارے مقدس کتابوں میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.

حضرت آدم ؑکی نشانی بھی ہمیں یہی سیکھاتی ہیں کہ ہمیں راستبازی کی ضرورت ہے۔ تاہم یہاں پر سوال یہ ہے۔ کہ حضرت ابراہیم ؑ نے یہ سب کیسے حاصل کیا؟

اکثر میں سوچتا ہوں کہ میں دو میں سے ایک راستہ پر چل کر راستبازی حاصل کرسکتا ہوں۔
پہلا راستہ: میں راستبازی ا س طرح حاصل کر سکتا ہوں ۔ کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاوں اور یقین رکھوں۔ کہ اللہ تعالیٰ وجود رکھتاہے۔ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ کیایہ سوچ اس بات کی حمایت کرتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور وہ راستباز ٹھہرے ۔ لیکن غور و حوض کرنے کے بعد میں اس حقیقت کو جان سکا ۔کہ اس کا صرف یہ مطلب نہیں تھا۔ کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لائے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ سچا وعدہ کیا۔ کہ تیرے ایک بیٹا پیدا ہوگا ۔ اور یہ وہ وعدہ تھا جس پر ابراہیم ؑ کو ایمان لاناتھا ےا ایمان نہیںلانا تھا۔ اسی طرح سوچیں تو ہم جانتے ہیں ۔ کہ ابلیس بھی ایمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ لیکن اس کے باعث وہ راستباز نہیں ہے۔ اس طرح صرف یہ ایمان رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ یہ کافی نہیں ہے۔
دوسراراستہ:میں کئی بار سوچتا ہوں کہ میں نیک کام کرکے راستبازی حاصل کرسکتا ہوں۔ بُرے کاموں کی نسبت زیادہ اچھے کام کرنے سے یا کوئی خاص نیک کام کرنے سے یا کسی حد تک نیک کام کرنے سے راستبازی حاصل کرسکتا ہوں یا کماسکتاہوں۔ لیکن ےاد رکھیں ۔ تورات شریف کا حوالہ کیا کہتا ہے؟ میں نے یہاں تورات شریف کی آیت پھر سے لکھی ہے۔ تاکہ ہم پھر سے اس آیت کو دیکھ سکیں۔

اور وہ (حضرت ابراہیم ؑ ) خداوند پر ایمان لایا اور اسے اُس نے اُس کے حق میں راستبازی شمار کیا۔´  پیدایش 15:6

حضرت ابراہیم ؑ نے راستبازی نیک کاموں کے وسیلے کمائی نہیں تھی ۔ بلکہ یہ اُن کے لیے شمار کیاگیا۔ اس کا کیا فرق ہے؟ ٹھیک اسی طرح! اگر آپ کچھ کماتے ہیں۔ تو اُس کے لیے آپ کو کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ آپ کوئی کام کرتے ہیں اور اُس کی اُجرت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن جب کوئی چیز آپ کو مفت دی جائے ۔ تو اُس کے لیے آپ کو کچھ کمانا یا کام نہیں کرنا پڑتا۔
حضرت ابراہیم ؑ ایک آدمی تھا۔ جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر گہرا ایمان رکھتاتھا۔وہ ایک مردِ دعا، دیندار اور دوسرے لوگوں کی مدد کرتا تھا۔البتہ ہم ان باتوں کو رد نہیں کررہے۔لیکن جو طریقہ یہاں پر بتایا گیا ہے ہم اُس کو آسانی سے نظر انداز کرسکتے ہیں ۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ ابراہیم ؑ راستباز ٹھہرا کیونکہ اُس وعدہ پر ایمان رکھا جو اللہ تعالیٰ نے اُس سے کیا تھا۔ یہ عام فہم بات کے اُلٹ ہے۔ کہ ہم راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ صرف اس سوچ اور ایمان سے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ یا پھر نیک کام کرنے سے ہم راستبازی کے معیار کو حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس طریقہ کو نہیں اپنایا تھا۔ بلکہ اُس نے بڑے سادہ انداز میں اُس وعدہ پر ایمان رکھا۔
اب اس بات کا انتخاب کرنا اور یقین رکھناکہ میں تم کو بیٹا دوں گا۔ شاید یہ سادہ ہے لیکن یہ یقینی طور پر آسان نہیں تھا۔ ابراہیم ؑ آسانی سے اس وعدہ کو نظرانداز کرسکتا تھااس وجہ کو بیان کرکے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ واقعی مجھے بیٹا عطا کرنا چاہتا ہے تو وہ مجھے اس وقت اس کے لیے طاقت بھی عطا فرمائیں۔ کیونکہ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ اور اُس کی بیوی حضرت سارہ ؑ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ وہ بچے پیدا کرنے کی عمر میں سے گزر چکے تھے۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی میں وہ 75 سال کی عمر کے تھے۔ جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا گھر، رشتے دار اور ملک چھوڑ کر ملکِ کنعان کو ہجرت کی۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اُس کو ایک بڑی قوم بنائے گا۔ اور اب کئی سال گزرگئے تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ اور اُس کی بیوی بوڑھے ہو چکے تھے اور پہلے ہی بہت زےادہ انتظار کر چکے تھے۔ اُن کا نہ تو کوئی بچہ تھا اور نہ ہی کوئی قوم۔ وہ اس بات سے حیران ہو سکتاتھا۔ اگر اللہ تعالیٰ بیٹا دے سکتا تھا تو اس نے ابھی تک کیوں نہیں دیا؟ لیکن دوسرے الفاظ میں اُس نے آنے والے بیٹے کے وعدے کا یقین کیا۔ تاہم اُن کو اُس وعدہ کے بارے میں مکمل سمجھ نہیں تھی۔ اس و عدے پر یقین کرناکہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ اور اس کی بیوی کو بیٹا دے گا یہ ایک معجزاہ کے مترادف تھا ۔ اورو عدے پر یقین کرناانتظار کرنے کا مطالبہ تھا۔ وعدہ کئے ہوئے بیٹے کے انتظار میں اور اس کے احساس میں اُس کی ساری عمر ملکِ کنعان کے خیموں میں گزر گئی۔ اُس کے لیے بڑھا آسان تھا کہ وہ اس وعدے کو رد کرے اور واپس اپنے آبائی ملک( جو اس وقت کا ترقی یافتہ ملک تھا) مسوپتامیہ میں چلا جائے۔ جس کو اس نے بہت سال پہلے چھوڑ دیا تھا۔ جہاں اُس کے بھائی اور خاندان رہتا تھا۔ لیکن ابراہیم ؑ وہاں تمام تر مشکلات اور وعدے پر یقین رکھتا رہا۔ ہرایک دن اور بہت سارے سال اس نے وعدہ پورا ہونے کے انتظار میں گزار دئیے۔ اُس نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو اپنی عام زندگی کے کاموں سے بڑھ کر ترجیع دی اور اس میں مطمن تھا۔ حقیقی معنوں میں پورے ہونے والے وعدے پر مکمل طور پر بھروسہ کرنے سے مراد معمول کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ وعدے پر بھروسے سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ۔ حضرت ابراہیم ؑ کا اللہ تعالیٰ پر ایمان اور محبت کس قدر تھی۔
چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ کا وعدے پر ایمان اس کے جذبات اور ذہنی احساسات سے بڑھ کر تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اپنی زندگی، اپنی شہرت، حفاظت اور اس وعدے کے بارے میں حال کی اور مستقبل کی امید وں کو بلکہ سب کچھ داﺅ پر لگانا پڑا۔ کیونکہ اس کو یقین تھاکہ وہ فرمانیرداری کے ساتھ انتظار کر رہا ہے۔ تاہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ہمیں بتاتی ہے۔ کیسے اس نے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر بھروسہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اُسکو ایک بیٹا دے گا۔ اور ایسا کرنے سے حضرت ابراہیم ؑ راستباز قرار دیا گیا۔ حقیقی معنوں میں حضرت ابراہیم ؑ نے وعدے کی مکمل اطاعت کی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس کا انتخاب نہ کیا ۔کہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کا انکار کر دیںاور اپنے آبائی ملک واپس چلیں جائیں۔ لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان رکھا۔ نماز پڑھتے اور دوسرے لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ اس صورت حال میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی مذہبی فرائض کو جاری رکھالیکن یہ کام راستبازی کمانے کے لیے نہیں کرتے تھے۔ جس طرح قرآن شریف حضرت آدم ؑ کی اولاد سے ارشاد فرماتا ہے۔

سب سے بہترین لباس راستبازی کا ہے

یہ حضرت ابراہیم ؑ کا طریقہ کار ہے۔
اب تک ہم بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے۔ کہ ہم اپنے نیک کاموں سے جنت کما نہیں سکتے۔ بلکہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کرنے سے مل جاتی ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ہم تیسری نشانی جاری رہیں گے۔

(حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی (برکات

حضرت ابراہیم ؑ ! آپ ابراہیم اور ابرام کے نامو ں سے جانے جاتے ہیں۔ تینوں وحدانی مذاہب ، یہودیت، عیسائیت اور اسلام آپ کے نمونہ کی پیروی کرتے ہیں۔ عرب اور یہودی اپنے جسمانی نسب نامے کو حضرت اسمعیل ؑ اور حضرت اسحاق ؑ کے ساتھ ملاتے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ نبیوں کی فہرست میں اہم ترین نبی ہیں۔ کیونکہ ان کی نشانی تمام انبیاءکے لیے بنیاد ہے۔لہذا ! انہوں نے ایسا کیا کیا جو اُن کے کردار کو تمام انبیاءاکرام کے لیے اہم کردار بنا دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب انتہای اہم ہے۔ اس کو جاننے کے لیے ہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانیوں میں سے چند ایک پر غور کریں گے۔
یہاں پر کلک کریں۔ قرآن شریف اور تورات شریف میں سے حضرت ابراہیم ؑ کی پہلی نشانی کو پڑھنے کے لیے۔
ہم نے قرآن شریف کی آیات میں سے دیکھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے ’قبائل ‘ آئے ہیں۔ اور ان لوگوں نے بعد میں ایک عظیم بادشاہت حاصل کی تھی۔ لیکن ایک شخص کے پاس ایک بیٹا ہوناضروری ہے۔ اس سے پہلے کہ اُس کے پاس قبیلے ہوں۔ اس سے پہلے کہ لوگ ایک عظیم بادشاہی قائم کریں۔ اور اُن کے پاس جگہ ہو نابھی ضروری ہے۔

 یہ حوالہ تورات شریف میںسے لیا گیا ہے۔ تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش 12 :2-3 ۔ اس میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ سے آنے  والے ’قبائل اور ایک عظیم بادشاہت کی دوہری تکمیل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ وعدہ کرتا ہے۔کہ جو آنے والے مستقبیل کے لیے بنیاد ہے۔ آیئں ہم اسکو تفصیل سے دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑسے فرماتا ہے۔

اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناﺅ نگا اور برکت دونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔ سو تو باعث برکت ہو!۔´ جو تجھے مبارک کہیں اُنکو میں برکت دونگا اور جو تجھ پر لعنت کرے اُس پر میں لعنت کرونگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائینگے۔´ پیدایش 12  :2-3

حضرت ابراہیم ؑ کی عظمت

آج مغرب میں بہت سے لوگ جہاں میں رہتا ہوں تعجب میں رہتے ہیں۔ کہ اگر خدا ہے ۔ تو ایک شخص کیسے جان سکتا ہے ۔ کہ اس نے خود کا انکشاف حقیقی طور پر تورات شریف میں کیا ہے۔ اب ہمارے پاس ایک وعدہ ہے۔ جس کے حصوں کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے برائے راست وعدہ کیا ہے۔ ’میں تیرانام سرفراز کرونگا۔ ‘ آج ہم اکیسو یں صدی میں موجود ہیں اور حضرت ابراہیم ؑابراہامابرام واحد نام ہے جو تاریخی طور پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ یہ وعدہ تاریخی اور لفظی طور پر پورا ہوچکا ہے۔ آج جو تورات شریف کا قدیم ترین نسخہ بخرہ مردار سے ملا جس کی تاریخ 100-200 ق م ہے۔(دیکھیں ہمارا مضمون ”کیا سنت ِرسول اس کی تصدیق کرتی ہے کہ تورات شریف، انجیل شریف اور زبور شریف لاتبدیل ہیں یا نہیں“) اس کا مطلب ہے کہ یہ وعدہ تقریباً تھوڑے ہی عرصے بعد تحریری ہوگیا۔ اُس وقت تک حضرت ابراہیم ؑ کی شخصیت اور نام بہت زیادہ مشہور نہیں ہوا تھا۔ صرف چند یہودی اُس کو جانتے تھے۔ جو توریت کے پیروکار تھے۔ لیکن آج ہم حضرت ابراہیم ؑکے نام کی عظمت جانتے ہیں۔ ہم یہاں دیکھ سکتے ہیںکہ یہ تمام وعدے لکھے جانے سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں پورے ہوئے۔ حضرت ابراہیم ؑکے ساتھ یہ وعدہ یقینی طور پر پورا ہوا۔ یہ غیر ایمانداروں کے لیے بھی واضح ہے۔ اور اس سے ہمیں وعدے کے باقی حصّے کو سمجھنے میں زےادہ اعتماد ملتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ کیا تھا۔ آئےں ہم مطالعہ کو جاری رکھیں۔

ہمارے لیے برکات

ہم ایک بار پھر وعدہ کو دیکھے سکتے ہیں۔ ابراہیم ؑ سے ایک بڑی قوم بناو نگا اور اور اس کو برکت دونگا۔ لیکن یہاں ایک اور خاص بات پائی جاتی ہے۔ کہ یہ برکات صرف ابراہیم ؑ کے لیے نہیں تھی۔ بلکہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ © ’ ’ زمین کے سب قبیلے (لوگ) تیرے وسیلے سے برکت پائینگے“۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کون سے مذہب سے ہیں، ہمارا کون سا نسلی پس منظرہے، کہاں ہم رہتے ہیں، ہماری معاشرے میں کیا حیثیت ہے اور کون سی ہم زبان بولتے ہیں۔ یہ وعدہ آج ہم سب کو اِس میں شامل کرتا ہے۔ اگرچہ ہمارا مذہب، نسلی پس منظر، اور زبان مختلف ہیں۔ لیکن اکثر لوگ تنازعات کی وجہ سے اس کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ یہ ایک وعدہ ہے جسکو ہمیں ان تمام تر تنازعات سے بالا تر ہو کر دیکھنا چاہیے۔
کیسے، کب اور کس قسم کی برکات؟ یہ واضح طور پر ظاہر نہیں ہوئی لیکن یہ وعدہ حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعے ایک نشانی کو ظاہر کرتا ہے جو تمہارے اور میرے لیے معنی خیز ہے۔ہم جانتے ہیں کہ وعدہ کا ایک حصہ پورا ہوگیا ہے۔ ہم اعتماد کر سکتے ہیں کہ وعدے کا اگلا حصّہ جس میں ہم شامل ہیں واضح اور لفظی طور پر پورا ہوگیاہے ۔ صرف اس کو کھولنے کے لیے ہمیں چابی کی ضرورت ہے۔
لیکن یہاں توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہ وعدہ ملا اُس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی ۔
”سو ابراہیم ؑ خداوند کے کہنے کے مطابق چل پڑا (آیت ۴)

map-of-abrahams-trek
حضرت ابراہیم علیہ السلامکے سفر کا نقشہ

ملکِ موعودہ تک یہ کتنی دیر کا سفر تھا؟ یہ نقشہ ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کے سفربارے میں دکھاتا ہے۔کہ حضرت ابراہیم ؑ اُور کا رہنے والا تھا۔ ( آج کا جنوبی عراق) اور پھر حاران چلے آئے(آج کا شمالی عراق) پھر حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا سفراُس وقت جو ملکِ کعنان کہلاتاتھاکی طرف کیا ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ ایک لمبا سفر تھا ۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اونٹ پر یا گھوڑے یا پھر گدھوں پر سفر کرنا تھا۔ اس میں کئی ماہ لگ گے۔ ابراہیم ؑ نے اپنے خاندان کو چھوڑا ، اپنی آرام دہ اور پُر سکون زندگی کو چھوڑا ( میسوپوٹا میا = مسوپتامیہ اُس وقت تہذیب کا مرکز تھا۔ جس کو حضرت ابراہیم ؑ نے چھوڑدیا) اپنے محفوظ ملک کو چھوڑ کر وہ ایک ایسے ملک کے لیے سفر شروع کردیا جس سے وہ واقف نہیں تھا۔ یہ سب کچھ ہم کو تورات شریف بتاتی ہے۔ جب وہ 75 سال کا تھا۔

گذشتہ انبیاءکی طرح جانوروں کی قربانیاںکا طریقہ کار:
تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کی جب حضرت ابراہیم ؑ ملکِ کعنان خیریت سے پہنچ گئے۔ تو
آیت 17 (اُس نے وہاں خداوند کے لیے ایک قربان گاہ بنائی)
حضرت ابراہیم ؑ نے ایک قربان گاہ بنائی ۔ جیسی پہلے حضرت قائن ؑ نے اور بعد میں حضرت نوح ؑ نے بنائی۔ وہاں اُس نے قربان گا ہ پر جا نوروں کی قربانیاں پیش کی۔ ہم یہاں پر ایک نمونہ کو دیکھ سکتے ہیں۔کہ کس طرح انبیاءاکرام نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور عبادت کی۔
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ایک نئی سر زمین پر چلے گے۔ لیکن ایسی فرمانبرداری کرنے کے باعث اللہ تعالیٰ نے دو برکات کا وعدہ کیا۔ اُس کو برکت دی اور دنیا کے قبیلے حضرت ابراہیم ؑ کے وسیلے برکت حاصل کریں گے۔ اسلئے یہ ہمارے لیے بہت زیادہ اہم ہے۔
لیکن ہم حضرت ابراہیم ؑ کی نشانی کو جاری رکھیں گے۔ ہماری اگلی پوسٹ دیکھیں۔

حضرت لوط کی نشانی

حضرت لوط ، حضرت ابراہیم  کے بھتیجا تھا۔ اُس نے بدی سے بھرے شہر میں رہنے کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس حالت کو تمام بنی نوع انسان کے لیے نبوتی نشان کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن یہ نشان کیاہے؟ اس کے جواب کے لیے ہمیں اس موجود تمام لوگوں کو بڑے غور سے جانناہوگا۔

یہاں پر کلیک کریں قرآن شریف اور تورات شریف کے حوالہ جات کو پڑھنے کے لیے) ہم قرآن شریف اور تورات شریف کے اس حوالے میں تین لوگوں کے گروہ دیکھتے ہیں۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فرشتے۔ آئیں ہم باری باری ان کے بارے میں غور سے دیکھیں

:سدوم کے مرد

یہ آدمی انتہای گمراہی کا شکار تھے۔ ہم نے دیکھا کے یہاں آدم دوسرے مردوں کے ساتھ جبراً زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ (یہ حقیقی طور پر فرشتے تھے۔ لیکن سدوم کے آدمیوں نے ان کو آدمی سمجھا اور وہ ان سے اجتماعی زیادتی کرنا چاہتے تھے) اس قسم کا گناہ انتہای بُرا تھا اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس شہر کی عدالت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع میں حضرت آدم  کو انتباہ کردیا تھا۔ کہ اُس کی عدالت میں گناہ کی مزدوری موت ہے۔ دوسری اور کوئی قسم کی سزا کافی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم  سے فرمایا۔

 ((پیدایش 17:2

لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تو نے اُس میں سے کھایا تو مرا۔

اس طرح سدوم کے آدمیوں کے گناہ کی سزاموت ہی تھی۔ در حقیقت آسمان سے آگ نازل ہوئی اور پورے شہر کو اور ہر ایک جاندار کو تباہ و برباد کردیا۔ اس کی مثال بعد میں انجیل شریف میں دی گئی ہے۔

رومیوں 23:6

کیونکہ گناہ کی مزدری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوند مسیح یسوع میںہمیشہ کی زندگی ہے۔

:حضرت لوط  کے داماد

حضرت نوح  کی کہانی میں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی عدالت کی اور حضرت آدم  کے نشان کی مطابقت سے تمام دنیا کو سیلاب سے مار ڈالا۔ ہمیں قرآن شریف اور تورات شریف بتاتی ہیں۔ کہ تمام دنیا میں بدی چھاگئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سدوم کے آدمیوں کی عدالت کی کیونکہ اُن کی بدی بہت بڑھ چکی تھی۔ ان سب باتوں کے بعد میں یہ سوچو کہ میں اللہ تعالیٰ کی عدالت سے اس لیے بچ سکتا ہوں۔ کیونکہ میں اُن جیسی بدی نہیں کرتا اور اس طرح میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے بہت سے نیک کام کئے ہیں۔ اور میں نے اُن جیسے بُرے کام نہیں کئے۔ تو کیا میں محفوظ ہوں؟ حضرت لوط  کی نشانی اُس کے دامادوںکے بارے میں مجھے خبردار کرتی ہے۔ کہ وہ اُس گروہ میں شامل نہیں تھے۔جو اجتماعی زیادتی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم اُنہوں نے آنے والی عدالت کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا تھا۔ دراصل تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ وہ سمجھے تھے کہ حضرت لوط ؑ اُن سے مذاح کر رہا ہے۔ کیا اُن کی قسمت اُس شہر کے آدمیوں سے فرق تھی؟ نہیں! بلکہ انہوں نے ایک طرح کی قسمت پائی۔ حضرت لوط  کے دامادوں اور اُس سدوم کے آدمیوں کے نتائج میں کوئی فرق نہ تھا۔ یہ نشان ہر ایک لیے تھا کہ وہ اس کو سنجیدگی سے لیں۔ یہ صرف اُن جنسی گمراہ آدمیوں کے لیے ہی نہ تھا۔

:حضرت لوط  کی بیوی

حضرت لوط  کی بیوی ہمارے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔ قرآن شریف اور تورات شریف دونوں حوالہ جات بتاتے ہیں کہ اُس نے دوسرے لوگوں کے ساتھ سزا پائی۔ اور یہ ایک نبی کی بیوی تھی۔ لیکن اُس کا قریبی رشتہ بھی اُس کو نہ بچا سکا۔ حتٰی نہ وہ بدی میں گمراہ تھی اور نہ ہی وہ سدوم کے آدمیوں کی طرح اُن کی بدی میں شامل تھی۔ لیکن فرشتوں نے اُن سب کو حکم دیا تھا۔

(سورة ھود11: 81 )
فرشتوں نے کہا کہ لُوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہر گز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت اُن پر پڑے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ اُن کے (عذاب) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟۔

پیدایش17:19

 ۔۔۔ نہ تو پیچھے مُڑ کر دیکھنا ۔۔۔

اور تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش ہمیں بتاتی ہے کہ (آیت 17:19)اُس نے پیچھے مُڑ کردیکھا۔ اس کی وضاحت ہمارے پاس نہیں ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اُس نے یہ سوچا ہوگا۔ کہ کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ کے اس چھوٹے سے حکم کو نظرانداز کر دیتی ہوں۔ لیکن اُس کے لیے یہ ایک چھوٹا گناہ بھی اُس طرح تھا جیسے سدوم کے آدمیوں نے بڑا گناہ کیااور مرگے۔ یہ میرے لیے اہم ترین نشانی ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا گناہ بھی مجھے اللہ تعالیٰ کی عدالت سے چُھپ نہیں سکتا۔ حضرت لوط  کی بیوی کا نشان ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہمیں اس طرح کی غلط سوچ نہیں سوچنی۔

:اللہ تعالیٰ ، حضرت لوط  اور فرشتے

جیسے ہم نے حضرت آدم  کی نشانی میں دیکھا۔ جب بھی اللہ تعالیٰ عدالت کرتا ہے۔ اُس کے ساتھ اپنا رحم بھی نازل فرماتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کی نشانی میں اُس نے اُن کے لیے کپڑے فراہم کئے۔ حضرت نوح  کی نشانی میں جب اللہ تعالیٰ نے عدالت کی تو ایک بار پھر کشتی کی صورت میں اپنا رحم فراہم کیا۔ ہم اس کو ایک بار پھر دیکھتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدالت کی تو اُس کے ساتھ اپنی رحمت بھی فرمائی۔ اسکا بیان تورات شریف میں کیا ہے۔

پیدایش 16:19

مگر اُس نے دیر لگائی تو اُن مردوں نے اُسکا اور اُسکی بیوی اور اُسکی دونو بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا کیونکہ خداوند کی مہر بانی اُس پر ہوئی اور اُسے نکال کر شہر سے باہر کردیا۔

ہم اس میں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ابتدائی نشانیوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت عالمیگری تھی لیکن یہ فراہم صرف ایک ہی راہ سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو شہر سے باہر نکلنے کی راہنمائی نہیں کی تھی۔ مثال کے طور پر رحمت فراہم کرناشہر میں ایک پناہ فراہم کرنے کے مترادف تھا۔ جو آسمان سے آگ کو برداشت کرسکتی تھی۔ لیکن یہاں رحمت حاصل کرنے کا صرف ایک ہی راہ تھا۔ کہ فرشتوں کی راہنمائی میں شہر سے باہر نکل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ رحم اس لیے حضرت لوط  اور اُس کے خاندان پر نازل نہیں کیا تھا کہ وہ کامل تھا۔ سچ یہ ہے۔ کہ ہم نے تورات شریف اور قرآن شریف دونوں میں پڑھا کہ حضرت لوط ؑ اُس گمراہ گروہ کو اپنی بیٹیاں پیش کرنے کو تیار تھے۔ شاید یہی ایک عظیم ترین اشارہ ہے۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت لوط  ہچکچاتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے یہ سب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت فرمائی اور اُن کو اُس گمراہ گروہ سے باہر نکالنے کی راہنمائی بھی کی۔ یہ نشانی ہمارے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت پر نازل کریں گا۔ لیکن یہ ہمارے نیک کاموں کی وجہ سے نہیں ہے۔ لیکن لوط  کی طرح پہلے ہمیں اُسکی رحمت کو قبول کرنا ہے۔ تاکہ ہماری مدد ہوسکے۔ حضرت لوطؑ کے دامادوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا۔ جسکی وجہ سے وہ اس سے فائدہ اُٹھا نہ سکے۔

تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط  پر اپنی رحمت اسلئے نازل کی۔ کیونکہ اُس کا چچا حضرت ابراہیم  جو ایک عظیم نبی تھا۔ اُس نے شفاعت کی تھی۔ (حوالے کو پڑھنے کے لیے کلیک کریں) اور پھر تورات شریف حضرت ابراہیم  کی نشانی اور اُس وعدے کو جو اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔ ’سب زمین کی قومیں تجھ سے برکت پائیں گی۔ کیونکہ تونے میری فرمانبرداری کی ہے۔ ( پیدایش 18:22) یہ وعدہ ہمیں خبردار کرتا ہے۔ کہ اسکا کوئی مطلب نہیں کہ ہم کون سی زبان بولتے ہیں۔ ہمارا کیامذہب ہے، یا ہم کہا رہتے ہیں؟ لیکن یہ ہم جان سکتے ہیں ۔ کہ تم اور میں دونوں زمین کی سب قوموں کا حصہ ہیں۔ تاہم اگر حضرت ابراہیم  کی شفاعت سے اللہ تعالیٰ حضرت لوط  کے لیے اپنی رحمت عطاکر سکتا ہے ۔ جب کہ وہ اُس معیار پر بھی پورا نہیں اُترتا تھا۔ تو پھر حضرت ابراہیم  کی نشانیوں سے کس قدر ہمیں رحمت مل سکتی ہے۔ جو پوری دنیا کی قوموں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سوچ کے ساتھ ہم تورات شریف کے انبیاءاکرام کے بارے میں اپنا سفر جاری دیکھیں گے کہ تورات شریف ہمیں حضرت ابراہیم  کی نشانی کے بارے میں کیا بتاتی ہے۔

حضرت نوح ؑ کی نشانی

یورپ میں بہت سے لوگ حضرت نوح ؑ کے سیلاب کی کہانی کو نا قابلِ یقین قرار دیتے ہیں ۔ لیکن پوری دنیا تلچھٹ پتھروں سے بھری پڑی ہے۔ یہ پتھر سیلاب کے دوران بنتے ہیں اور اُسی مٹی میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس سیلاب کے مادی شواہد موجود ہیں۔ لیکن حضرت نوح ؑ کا ہمارے لیے کیا نشان ہے؟ اورکس طرح یہ توجہ طلب بات ہے؟

تورات شریف اور قرآن شریف کے حوالہ جات کو تلاوت کرنے کے لیے برائے مہربانی یہاں (کلک کریں) ۔

جب کبھی میں  یورپی لوگوں سے قیامت کے دن کی بات کرتا ہو تو اکثر مجھے یہ جواب سننے کو ملتا ہے۔” میں قیامت کے دن کے بارے میں فکر مند نہیںہو کیونکہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ قیامت کے دن میری عدالت کریں گا۔ حضرت نوح ؑکے اس حوالے میں مجھے پھر ایک منظقی سوال کرنے کی وجہ ملتی ہے۔ جی ہاں! اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے۔ اور جب تک وہ گمراہ نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ حضرت نوح ؑکے دور میں رحم کرتا رہا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا ( حضرت نوح ؑاور اُسکے خاندان کو نکال کر) کی عدالت کی اور ان کو تباہ کردیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کا رحم کہا تھا؟ وہ رحم کشتی میں تھا۔

جس طرح سورة ھود 64 آیت میں لکھا ہے۔

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم! خدا کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی (یعنی معجزہ) ہے۔ تو اس کو چھوڑدو کہ خدا کی زمین میں ( جہاں چاہے ) چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

اللہ تعالیٰ حضرت نوح ؑکو اپنی رحمت پیش کرنے میں استعمال کرتا ہے اور اُسکے وسیلے ایک کشتی سب کے لیے فراہم کرتا ہے۔ کوئی بھی اُس کشتی میں داخل ہوسکتا تھا اُسکی رحمت اور حفاظت کو حاصل کرسکتا تھا۔مسلئہ یہ تھا کہ تقریباً سب لوگ اُس پیغام پر ایمان نہ لائے تھے۔ انہوں نے حضرت نوح ؑ کا مذاق اڑایا اور آنے والی قیامت پر یقین نہ کیا۔ صرف وہ اسی صورت میں قیامت سے بچ سکتے تھے کہ وہ کشتی میں داخل ہو جائیں ۔ قرآن شریف کا حوالہ ہمیںبتاتا ہے۔ کہ حضرت نوح ؑ کے ایک بیٹے نے نہ تو اللہ تعالیٰ پر نہ ہی آنے والی قیامت پر ایمان لایا۔ در حقیقت وہ پہاڑ پرچڑھ کر یہ دیکھا رہا تھا کہ وہ اپنی کوشش سے اللہ تعالیٰ کی قیامت سے بچ سکتا ہے۔ ( دراصل اُسکو بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی قیامت پر ایمان لانا ضرور تھا ) لیکن یہاں پھر ایک مسلئہ تھا ۔ کہ اُس نے اپنے عقیدے کو نہ مانا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس قیامت میں سے خود رہائی حاصل کرے گا۔ لیکن اُس کے باپ نے اُس کو بتادیا تھا۔

آج کے دن تمہیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے کو ئی نہیں بچا سکتا لیکن وہی بچ سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے رحم کو حاصل کرے گا۔اس کے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے رحم کو ضرورت تھی نہ کہ وہ اپنی کوششوں سے قیامت سے بچتا۔ اُس کی پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش بیکار گئی۔

 تاہم نتیجہ اُس کے لیے بالکل وہی نکلا جیسا حضرت نوح ؑ پر مذاق کرنے والوں کا ہوا اور وہ ڈوب کر مر گیا۔ اگر صرف وہ کشتی میں داخل ہو جاتا تو وہ قیامت سے بچ سکتا تھا۔

اس سے ہم اس بات کا ےقین کرسکتے ہیں ۔ کہ محض اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان لانا بچنے کے لیے کافی نہیں، درحقیقت ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو قبول کرنا ہے جسکو اُس نے ہمارے لیے فراہم کیا ہے۔ اس کے برعکس کہ ہم اپنے خیالات سے کس طرح رحم حاصل کرسکتے ہیں۔ حضرت نوح ؑ کی کشتی ہمارے لیے نشان ہے۔ یہ ایک بہت بڑی قومی علامت ہے۔ جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی قیامت اور اُس سے بچ جانے کا مطلب بتاتی ہے۔ جب یہ کشتی بن رہی تھی ۔ تو اس کو دیکھنے والوں کے لیے نشان تھا کہ اللہ تعالیٰ کی قیامت اور رحمت دونوں موجود ہیں۔

لیکن یہ ہم پر ظاہر کرتا ہے۔ کہ ہم اُسکی رحمت کو اُسی طرح حاصل کرسکتے ہیں ۔ جس طرح اُس نے ہمارے لیے فراہم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُس وقت سے اس طریقہ کو تبدیل نہیں کیا اور یہ ہم پر اُسی طرح لاگو ہو گا۔

تمام انبیاءاکرام ہمیں آنے والیٰ قیامت کے بارے خبردار کرتے ہیں جو آگ کے ساتھ ہوگی۔ لیکن حضرت نوح ؑ کی نشانی سے اللہ تعالیٰ ہمیں یقین کرواتا ہے کہ اُس آنے والی قیامت کے ساتھ اُسکی رحمت بھی ہوگی۔ لیکن ہمیں اُس کشتی پر نظریں جمائے رکھنا ہے۔ کیونکہ اُس کے وسیلے سے رحمت یا بچ جانے کا وعدہ ہے۔

تورات بھی ہمیں حضرت نوح ؑ کے بارے میں بتاتی ہے۔

تورات کی پہلی کتاب

 پیدائش 20:8

تب نوح نے خداوند کے لیے ایک مذبح بنایا اور سب پاک چوپایوں اور پاک پرندوں میں سے تھوڑے سے لے کر اُس مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھائیں۔

یہ بات حضرت آدم ؑ اور حوا ؑ اور حضرت ہابیل ؑ اور حضرت قابیل ؑ کے قربانی کے نمونے پر ثابت آتی ہے۔ کہ کس طرح ایک جانور کے خون بہانے اور اس کی موت کے و سیلے سے ہمیں اس کا مطلب ملتا ہے۔کہ کس طرح حضرت نو ح ؑ نے قربانی کی اور اللہ تعالیٰ نے اسکو قبول کرلیا۔ یہ کتنی اہم بات ہے؟

 تورات شریف کے اگلے نبی حضرت لوط ؑکے ساتھ ہم اپنے سروے کو جاری رکھیں گے۔