کتابِ مقدس کا ترجمہ کیسے ہوا؟

الکتاب کو عام طور پر اُسکی اصلی زبان میں (عبرانی اور یونانی) میں نہیں پڑھا جاتا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ زبانیں صفہ ہستی پر سے ناپید ہو جاچکی ہیں۔ اسرائیل اور یونان کی قومی زبانیں ہے۔ لیکن علما اکرام یونیورسٹی میں عبرانی اور یونانی پڑھاتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اُن طالب علم بائبل مقدس کی اصل زبان کو پڑھ اور سمجھ سکیں۔ لیکن عام ایماندار عمومی طور پر ان زبانوں کا مطالعہ نہیں کرسکتے۔ بلکہ اپنی مادری زبانوں میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس لیے اکثر کتاب مقدس اپنی اصل زبانوں میں نہیں دیکھی جاتی ہے۔ اس وجہ سے کئی لوگ یہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ کتاب مقدس کی اصل زبانیں صفہ ہستی سے ناپید ہوچکی ہیں۔ اور کئی لوگ یہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ ان تراجموں میں بہت ساری تبدیلیاں پائی جاتیں ہیں۔ اس سے پہلے ہم کسی نتیجے پر پہنچیں۔ سب سے پہلے ہم بائبل مقدس کے ترجمہ کرنے کے مراحل کو سمجھیں گے۔ یہ ہی کام ہم اس مضمون میں کریں گے۔

ترجمہ بمقابلہ نقلِ حرفی

ہمیں پہلے ترجمے کے کچھ بنیادی اصولوں کے سمجھنے کو ضرورت ہے۔ بعض اوقات مترجمین ترجمہ کرتے وقت ایک جیسی آواز کے الفاظ کا چناوکرلیتے ہیں۔ اس کی بجائے وہ اُس کے معنی کے مطابق ترجمہ کریں۔ یہ کام خاص طور پر نام یا عنوان کا ترجمہ کرتے وقت ہوتا ہے۔ اس کو نقلِ حرفی (دوسری زبان میں الفاظ نقل کرنا) کہتے ہیں۔ نیچے دی گئی عبارت میں ترجمہ اور نقلِ حرفی میں فرق بیان کیا گیا ہے۔

عربی سے انگریزی یا اردو میں لفظ “اللہ” ترجمہ کرنے کے لیے آپ دو طریقوں کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ آپ اس لفظ کا ترجمہ “اللہ” سے “خدا” اور “God” یا پھر “اللہ” ترجمہ کرسکتے ہیں۔

یہاں لفظ "خدا" کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ جس سے یہ دیکھایا گیا ہے۔ کہ ہم کسی زبان سے کسی دوسری زبان میں ترجمہ یا نقلِ حرفی کرسکتے ہیں۔
یہاں لفظ “خدا” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ جس سے یہ دیکھایا گیا ہے۔ کہ ہم کسی زبان سے کسی دوسری زبان میں ترجمہ یا نقلِ حرفی کرسکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں انگریزی اور عربی کے درمیان بڑھتے ہوئے تبادلے کی وجہ سے لفظ “اللہ” کی اصطلاح کو خدا کے معنوں میں انگریزی زبان میں تسلیم کرلیا گیا ہے۔ عنوانات اور کلیدی الفاظ کے ترجمہ یا نقل حرفی کے انتخاب میں قطعی کوئی صحیح یا غلط نہیں پایا جاتا ہے۔ اصطلاح کا چناو اس سے کیا جاتا ہے۔ کہ ترجمہ ہونے والی زبان سے زیادہ سے زیادہ قبول یا سمجھی جاسکے۔

ہفتادی ترجمہ

بائبل مقدس کا پہلا ترجمہ اُس وقت ہوا۔ جب عبرانی زبان کا پرانے عہد نامے (تورات شریف + زبور شریف) کو 250 قبل از مسیح میں یونانی ترجمہ کیا گیا۔ اس ترجمہ کو ہفتادی ترجمہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اور یہ ایک موثر ترجمہ تھا۔ چونکہ نیا عہدنامہ یونانی میں لکھا گیا تو اس میں پرانے عہدنامے کے بہت سے حوالہ جات اسی ہفتادی ترجمے سے لیے گے تھے۔

ہفتادی نقل حرفی اور ترجمہ

                             مندرجہ ذیل تصویر میں دورِجدید میں بائبل مقدس کے ترجمہ کے مراحل کو دیکھایا گیا ہے۔

اس تصویر میں جدید زبانوں میں بائبل مقدس کے ترجمہ کے مراحل کو دیکھایا گیا ہے
اس تصویر میں جدید زبانوں میں بائبل مقدس کے ترجمہ کے مراحل کو دیکھایا گیا ہے

 اصلی زبان عبرانی کے پرانے عہد نامہ (تورات اور زبور شریف) مرحلہ نمبر 1، آج ہماری  موسوی متن پرانے عہد نامہ جو کہ بحرہ مرادار سے ملا۔ اُس تک رسائی حاصل ہے۔ کیونکہ ہفتادی ترجمہ عبرانی سے یونانی میں ہوا۔ اس لیے تیر پہلے مرحلے 1 سے  2 دوسرے مرحلے کی طرف جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ نیا عہد نامہ کی اصلی زبان یونانی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پرانا اور نیا عہد نامہ 2 دوسرے مرحلہ پر مشتمعل ہے۔ اور نیچے مرحلے میں دور جدید کی زبان میں بائبل مقدس ترجمہ موجود ہے۔ (مثال کے طور پر انگریزی زبان میں)۔ پرانا عہد نامہ اصلی زبان عبرانی سے ترجمہ ہوا۔ (1 – < 3 ) اور نیا عہد نامہ کا ترجمہ اصلی زبان یونانی سے (2 < 3 ) حاصل ہوا۔ مترجم عنوانات اور ناموں کے ترجمہ کو پہلے سے فیصلہ کرلیتا ہے۔ کہ اس کو ترجمہ یا نقل حرفی کرنا ہے۔ جس کو پہلے واضع کیا جا چکا ہے۔ اس ترجمہ اور نقل حرفی کو سبز رنگ کے تیر سے واضع کیا گیا ہے۔ یہاں یہ دیکھایا گیا۔ کہ مترجم کسی بھی نقطہ نظر کو لے سکتا ہے۔

بائبل مقدس کا ہفتادی ترجمہ بائبل مقدس پر کئے جانے والے تبدیلی کے سوال پر گواہ ہے

چونکہ ہفتادی ترجمہ عبرانی سے یونانی زبان میں 250 قبل از مسیح میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ تاہم ہم دیکھ سکتے ہیں۔ (اگر یم یونانی کا ترجمہ واپس عبرانی میں کریں) اُس ترجمے کو جس کو ان مترجمین سے عبرانی سے ترجمہ کیا گیا تھا۔ لہذا اس طرح عبرانی متن ایک جیسا نظر آتا ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ بائبل مقدس کا متن 250 سال قبل از مسیح میں تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ ہفتادی ترجمہ پورے مشرقی وسطیٰ اور بحرہ روم میں سینکڑوں سال پہلے یہودیوں ، مسیحیوں ، اور دوسری قومیں اس کو پڑھتی رہیں ہیں۔ بلکہ آج بھی مشرقی وسطیٰ مین بہت سارے ملک اس ہفتادی ترجمہ کو استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی بھی (مسیحی ، یہودی، یا اور کوئی) پرانے عہد نامے میں تبدیلی کرتا۔ تو حقیقت میں ہفتادی ترجمہ اُس تبدیل شدہ عبرانی پرانے عہد نامے سے مختلف ہوتا۔ لیکن یہ بنیادی طور پر ایک جیسے ہی ہیں۔

اس طرح مثال کے طور پر کوئی ایک مصر کے شہر الیگزاینڈریا میں ہفتادی ترجمہ میں تبدیلی کرتا۔ تو جو ہفتادی ترجمہ مشرقی وسطیٰ اور بحرہ روم میں موجود ہفتادی ترجمہ سے مختلف ہوتا۔ لیکن حقیقت میں مصر کے شہر الیگزاینڈریا اور مشرقی وسطیٰ اور بحرہ روم کے ترجمہ ایک جیسے ہی ہیں۔ اس لیے متن ہمیں کسی تضاد کے بغیر یہ بتاتا ہے۔ کہ پرانے عہد نامہ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

ہفتادی ترجمہ سے جدید ترجمہ میں مدد

                   ہفتادی ترجمہ دورِجدید میں ہونے والے تراجم میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ علماء اکرام جو ترجمہ کرتے ہیں۔ اُن کو ہفتادی ترجمہ کی عبرانی پرانے عہدنامے کے مشکل حوالہ جات کا ترجمہ کرنے میں مدد حاصل کرتے ہیں۔ یونکہ اسکی یونانی بڑی اچھی طرح سمجھی جاتی ہے۔ اور کچھ حصوں میں جہاں عبرانی مشکل سے ترجمہ کیا جاتا ہے۔ مترجمین یہاں سے یہ دریافت کرسکتے ہیں۔ کہ ہفتادی ترجمہ کرنے والوں نے 2250 سال پہلے کیسے یہ غیرمعمولی کا سرانجام دیا۔

ترجمہ / نقل حرفی کو سمجھنے کے لیے ہفتادی ترجمہ ہماری مدد کرتا ہے۔ کہ “مسیح” کی اصطلاح جو حضرت عیسیٰ کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ کہاں سے آیا۔ اس کو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ اگر ہم انجیل شریف کو پیغام سے واقف ہیں۔ ہم اگلے مضمون میں اس کے بارے میں دیکھیں گے۔

متنی تنقید کے علم کے مطابق کیا بائبل مقدس تبدیل ہو چکی ہے یا نہیں؟

“مجھے کیوں بائبل مقدس کی کتابوں پر غور کرنا چاہیے؟  جبکہ یہ بہت عرصہ پہلے لکھی گئیں اور اس کے بہت سارے تراجم اور ورژن بن چکے ہیں۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اس کے اصل پیغام کو وقت کے ساتھ تبدیل کردیا گیا تھا”میں نے کئی بار اس قسم کے سوالات اور بیانات سنیں ہیں۔ کہ تورات ، زبور اور انجیل مل کر اس کو بائبل مقدس بناتی ہیں۔

یہ سوال بہت ہی اہم ہے اور یہ اس سب  کی بنیاد پر ہے۔ جو کچھ ہم نے بائبل مقدس کے بارے میں سنا ہے۔ بہر حال یہ کتاب دو ہزار سال پہلے لکھی گئی تھی۔ اُن وقتوں میں پرنٹنگ پریس، فوٹوکاپی مشین، یا کوئی اشاعتی ادارہ موجود نہیں تھا۔ تو اصل مسودات نسل در نسل ہاتھ سے نقل کئے جاتے تھے۔ جس طرح زبانیں ختم ہوتی گئیں اور نئی وجود میں آتی گئیں، سلطنتیں دم توڑتی گئیں اور نئی وجود میں آتی گئیں۔ اب چونکہ اصل مسودات کا وجود نہیں ہے۔ پھر ہم کس طرح جانتے ہیں، کہ موجودہ بائبل (کتاب مقدس) جسکا مطالعہ ہم کرتے ہیں۔ اُسی طرح  ہےجس طرح انبیاءاکرام پر کافی عرصہ پہلےنازل ہوئی تھی؟ مذہب سے ہٹکر کیا کوئی اور بھی سائنسی علم یا منطقی علم موجود ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ جو بائبل مقدس ہم آج پڑھتے ہیں کیا وہ تبدیل ہوچکی ہے یا نہیں؟

متنی تنقید کے بنیادی اصول

بہت سارے جو اس طرح کے سوال پوچھتے ہیں۔ وہ اس بات کا احساس نہیں رکھتے کہ ایک سائنسی نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ جس کو ہم متنی تنقید کہتے ہیں۔ جس کے زریعے  ہم ان سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں۔ یہ ایک سائنسی نظم و ضبط ہے جو ہر ایک قدیمی تحریر پر لاگو ہوسکتا ہے۔ اس مضمون میں ہم متنی تنقید کے دو اہم اصول استعمال کریں گے۔ اور پھر ان کا اطلاق بائبل مقدس پر کریں گے۔ ایسا کرنے کے لیے ہم اس تصویر سے شروع کریں گے۔ جو اس عمل کی وضاحت کرتی ہے۔ جس کے ذریعے ہم کسی بھی قدیمی تحریر کو آج  پڑھ سکتے ہیں۔

time 1
یہ ٹائم لائن ہمیں دیکھتی ہے کہ کس طرح قدیم کتابیں آج ہمارے پاس ہیں

یہ تصویر ہمیں ایک کتاب کی مشال دیتی ہے۔ جو 500 سال قبل از مسیح لکھی گئی۔ اصل کبھی بھی آخر تک نہیں رہتا۔ اس سے پہلے یہ بوسیدہ ہوجائے یا کھو جائے یا تباہ ہوجائے اس اصل سے اس کی ایک نقل بنالی جاتی ہے۔ اس کو پیشہ ورانہ لوگ جن کو کاتب کہتے ہیں انہوں نے اس کو نقل کیا۔ سالوں پہلے نقل کی گئی نقلیں تیار کی گئی۔ (دوسری نقل سے تیسری نقل) اس طرح محفوط نقل سے ایک تیسری نقل بنائی گئی۔ جس کا مطلب ہے کہ اس کتاب کی حالت (500 AD ) تک معلوم کی جاسکتی ہے۔ لہذا 500 BC  سے 500  AD تک کے عرصہ میں ہم کوئی نقل چیک نہیں کرسکتے۔ جب تک تمام مسودات اس عرصہ میں غائب نہ ہو گے ہوں۔ مثال کے طور پراگر تبدیلی اس وقت ہوئی جب اصل سے دوسری نقل ہو رہی تھی۔ ان دستاویزات میں سے ہم اس کی تبدیلی کا پتہ لگا سکیں گے۔ چاہے اس جیسے مسودات موجود ہوں۔ یہ وقت موجودہ نقول ہونے سے پہلے (مدت x  ) ہے۔ لیکن اس متن کا وقفہ غیر یقینی ہے۔ جہاں پر تبدیلی ہو سکتی ہے۔ لہذا متنی تنقید کے پہلا اصول کا دورانیہ x چھوٹا اور زیادہ اعتماد کے قابل ہے ۔ ہم ان دستاویزات کو ہمارے وقت میں صحیح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ چونکہ غیر یقینی صورتحال کی مدت کم ہے۔

                        بے شک آج ایک سے زیادہ نسحہ جات کی نقل موجود ہیں۔ فرض کریں ہمارے پاس دو مسودات کی نقل موجود ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک کے اسی حصے میں مندرجہ زیل فقرہ ہے۔ (بےشک یہ فارسی میں نہیں ہوگا۔ لیکن میں نے اس کی فارسی میں وضاحت کرنے کے لیے استعمال کیا ہے)

error 2

اب ہمارے پاس چار نسحہ جات موجود ہیں۔ اس سے آسانی سے معلوم کرسکتے ہیں کہ کس میں غلطی پائی جاتی ہے۔ اب ہم آسانی سے فصیلہ کرسکیں گے کہ کس نسحہ میں غلطی ہے۔ یہ زیادہ امکان ہے کہ غلطی ایک بار ہوئی ہو۔ جبکہ ایک ہی غلطی تین بار دوہرائی جائے۔ لہذا اس بات کا امکان ہے کہ MSSs  میں نقل کی خامی کا امکان ہے اور مصنف نے اس کو یوان لکھا تھا نہ کہ جان( جان پھر غلطی ہے) یہ سادہ سی مثال متنی نتقید کے دوسرے اصول کی وضاحت کرتی ہے۔ جس طرح آج جتنے زیادہ نسحہ جات موجود ہیں ۔ ان سے اتنا ہی آسان ہے غلطی کو معلوم کرنا اور اس کو ٹھیک کرنا اور یہ جاننا کہ اصل متن کیا ہے۔

MSS3

تاریخی کتابوں کہ متنی تنقید

            اب ہمارے پاس سائنسی متنی تنقید کے 2 اصول موجود ہیں۔ جن سے ہم کسی بھی پرانی کتاب کے متن کی معتبریت کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ 1) اصل تحریر اور قدیم ترین موجود قلمی نسحوں کی نقل کے درمیانی وقت کی پیمائش  2) موجود قلمی نسحوں کی نقل کی تعداد کا حساب۔ جس طرح ہم یہ اصول قدیم کتابوں پر لاگوکرتے ہیں۔ ہم ان اصولوں کو قدیم کتابوں اور بائبل مقدس کے لیے  بھی لاگو کرسکتے ہیں ۔ جس طرح ذیل کے ٹیبل میں کیا گیا ہے۔

(مصنف جوش میکڈول کتاب کا نام منصفانہ فیصلے کے متقاضی)

اس میں تمام لکھاری قدیم دور کی اہم کلاسیکل تصنیفات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تحریروں نے جدید تہذیب کی ترقی میں تشکیل دی ہے۔ اوسطاً یہ ہمیں 10 – 100 مسودات دے کر گزر گے ہیں۔ تقریباً یہ  1000  سال محفوظ رہیں ہیں جو کہ اصل کے بعد  نقل کی گیئں تھیں۔

بائبل مقدس کے متن کی تنقید

                                    مندرجہ ذیل ٹیبل میں بائبلیکل کتابوں میں اوپر دیئے گے، نقاط کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ خاص کر انجیل شریف کا۔ یہ ٹیبل کتاب The Origin of The Bible سے لیا گیا ہے

MSS

تحریری جب

MSS کی تاریخ

وقت کی مدت
John Rylan

90 AD

130 AD

40 yrs

Bodmer Papyrus

90 AD

150-200 AD

110 yrs

Chester Beatty

60 AD

200 AD

140 yrs

Codex Vaticanus

60-90 AD

325 AD

265 yrs

Codex Sinaiticus

60-90 AD

350 AD

290 yrs

بائبل مقدس کے متن کی تنقید کا خلاصہ

     انجیل شریف کے مسودات کی تعداد بہت ہی وسیع ہے۔ اس لیے اس کو ٹیبل کی فہرست میں رکھنا ناممکن ہے۔

“” آج ہمارے پاس انجیل شریف کے 24000 سے ذائد  MSS  کی نقول موجود ہیں۔ ۔۔ قدیم دور کے کسی بھی دستاویزات کے اس قدر زائد نسحوں کی تعداد اور تصدیق حاصل نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں “ILIAD” قدیم ہومر نامی مصنف کی ایک کتاب کی 643 MSS  کی نقل موجود ہیں۔  (مصنف جوش میکڈول کتاب کا نام منصفانہ فیصلے کے متقاضی)

برطانیہ کے میوزیم کےایک معروف عالم اس بات پر متفق ہیں۔

” علمااکرام رومن اور یونانی مصنفین کے متن کے حقیقی اصولوں پر کافی حد تک مطمین ہیں۔ جب کہ ہمارا علم ان کی مٹھی بار تحریرات کی MSS   کی نقول پر ہے۔ جب کہ انجیل شریف کے MSS    کی تعداد ہزاروں میں ہے”

(کینیون ایف جی، برٹش میوذیم کے سابق ڈائریکٹر، کتاب: ہماری بائبل اور قدیم مسودات)

میرے پاس ایک کتاب ہے جو ابتدائی نسخہ جات کے بارے میں ہے۔ یہ کتاب اس طرح شروع ہوتی ہے۔

” یہ کتاب انجیل شریف کے ابتدائی 69 مسودات کی نقل فراہم کرتی ہے۔۔۔ اس کی تاریخ 2 دوسری صدی کے شروع سے 4 چوتھی صدی تک ہے۔ ( 100-300 AD  ) جو 2 سے 3 انجیل شریف کے نسخوں تک محدود ہے۔ “

(مصنف P. Comfort   کتاب “قدیم ترین انجیل شریف کے یونانی نسخہ جات”

دوسرے الفاظ میں یہ مسودات جو موجود ہیں اتنے قدیم ہیں کہ ان میں سے کئی 100 سال کے قریب یا پھر انجیل شریف کی اصل کے پہلی نقل میں سے ہیں۔ یہ مسودات بادشاہ کانسٹنٹائن کی حکومت اور رومی کلیسا کے وجود میں آنے سے پہلے ہیں۔ یہ بحیرہ روم اور اس کے اردگرد کی دنیا میں پھیل چکے تھے۔ اگر ایک علاقے کے نسخے میں تبدیلی ہوئی ہوتی تو دوسرے علاقے کے نسخے سے اس کی تصدیق کی جاسکتی تھی۔ لیکن یہ تما م ایک جیسے ہیں۔

ہم یہاں سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔ یقنی طور پر انجیل شریف کے جتنے نسخہ جات پائے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کسی دوسرے قدیم نسخے کے نہیں ہیں۔ ( موجود MSSs کی تعداد اور اصل قدیم ترین نسخہ جات کے درمیان کے وقت تک پھیلا ہوا ہے) یہ فیصلہ کن ثبوت ہمیں اس درج ذیل خلاصہ تک لے آتے ہیں۔

” انجیل شریف کے متن پر شک کا نتیجہ ہمیں قدیم دور کی تمام پرانی داستاویزات پر ابہام کی طرف لے آتا ہے۔ لیکن قدیم تحریرات میں سے ہمیں کوئی ایسی قابل اعتماد کتابیات نہیں ملتی جیسی انجیل شریف کی ہے۔ ( منٹگمری،  کتاب ، تاریخ اور مسحیت)

جو کچھ اس نے کہا اس کو جاری رکھیں گے۔ اگر ہم بائبل مقدس کے معتبر ہونے پر سوال کرتے ہیں ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس کو تمام قدیم تاریخی علوم سے جدا کر رہے ہیں۔ جو ایسا آج تک کسی مورخ  یا  تاریخ دان نے نہیں کیا۔ ہیروڈوٹس (Herodotus) کی تحریرات کو کوئی تبدیل شدہ نہیں سمجھتا۔ جب کہ ان مسودات کی کل تعداد 8 آٹھ ہے۔ اور ان کی نقل کا وقفہ اصل سے 1300 سال کا ہے۔ اس طرح ہم کیسے سوچ سکتے ہیں کی بائبل مقدس کے متن میں تبدیلی ہوگئی ہے؟ جبکہ اس کے مسودات کی کل تعداد 24000 مسودات ہیں اور ان کی اصل سے نقل کے وقت کا وقفہ 100 سال ہے۔ اس بات کی کوئی سمجھ نہیں آتی کے یہ کیسے لوگوں کہہ دیتے ہیں کہ بائبل مقدس تبدیل ہوگئ ہے۔

            ہم جانتے ہیں کہ زمانے بدلے، زبونیں بدلیں، اور سلطنتیں کو زوال آیا لیکن بائبل مقدس کے متن میں کھبی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان تمام واقعات و حالات میں سے قدیم ترین MSSs ابھی بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کسی پوپ نے اور نہ ہی رومن بادشاہ کانسٹنٹائن نے بائبل مقدس میں تبیلی نہیں کی ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس موجود مسودات پوپ اور بادشاہ کانسٹنٹائن سے پرانے ہیں۔ یہ تمام مسودات آج کی موجودہ بائبل مقدس کے ساتھ بالکل یکساں ہیں۔

درج ذیل ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے۔ کن مسودات سے موجودہ بائبل مقدس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔

slide4
موجودہ دور کی بائبل مقدس کا ترجمہ قدیم ترین یا ابتدائی مسودات سے کیا جاتا ہے۔ جن کا دورانیہ 300- 100 AD ہے ۔ یہ تمام مسودات بادشاہ کانسٹنٹائن اور دوسری مذہبی طاقتوں سے پہلے کے موجود ہیں۔

مختصراً یہ ہے کہ نہ تو وقت نے نہ ہی مسیحی راہنماوں نے اُس پیغام کو تبدیل کیا۔ جو سب سے پہلے بائبل مقدس میں لکھا گیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہزاروں سال پہلے مصنفین نے لکھا تھا ہم اُس کو آج اُسی طرح پڑھتے ہیں جسطرح لکھا گیا تھا۔ متنی تنقید کی یہ سائنس بائبل مقدس کے متن کی تصدیق کرتی ہے۔ کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

یونیورسٹی میں متنی تنقید پر ایک لیکچر

ہے University of Western Ontarioمجھے اس موضوع پر ایک یونیورسٹی جسکا نام

لیکچر دینے کا استحقاق ہوا۔ ذیل میں 17 منٹ کی ویڈیو ہے جس میں اس سوال کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح اب تک ہم نے انجیل شریف کے متن کی تنقید کے بارے میں جانا ہے۔ لیکن زبور شریف، تورات شریف، جن سے پرانہ عہد نامہ بنتا ہے۔ اس کے بارے کیا جانتے ہیں۔ ذیل میں 7 منٹ کی ویڈیو میں اس سوال پر بات کی گئی ہے۔

انجیل بدل چُکی ہے! سنُت کیا فرماتی ہے؟

میری گزشتہ اشاعت میں دیکھ چُکا ہوں کہ قرآن توریت ، زبُور اور انجیل مقُدس کے مکاشفات اور نزول کے بارے کیا کہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ قرآن میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ جو پیغام اللہ کی طرف سے حضرت مُحمد پر 600 قبل از مسیح نازل ہوا، جو کہ انجیل مقُدس کے پیروکار ہیں(وہ تاریخ کے ساتھ تبدیل یا بدل نہیں سکتے)، اسی طرح قرآن میں اِس بات کی تصدیق بھی ملتی ہے کہ انجیل مقُدس اُس کے الفاظ ہیں، اور وہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتے۔ اِن دونوں بیانات سے یہ بات یقین دہانی ہے کہ خُدا کا کلام کبھی بھی تبدل نہیں سکتے جن میں توریت، زبُور اور اناجیل شامل ہیں۔

میں اِس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ مطالعہ کو جاری رکھنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی کتاب سنُت اِن موضوعات پر کیا کہتی ہے۔ حدیث اِس کی بات کی تصدیق کرتی ہے کہ توریت اور انجیل کا اِستعمال  حضرت محمد ؑ کے دور میں ہو چکا ہے۔

خدیجہ (اُس کی بیوی)جوکہ (حضرت محمدؑ کی بیوی ہے)  اُس کا رشتہ دار ورقہ جو کہ اسلام کے پھیلانے سے پہلے مسیحیت کو قبول کر چکا تھا ؛ اُس نے عبرانی زبان میں خط لکھتا ہو تا تھا۔ وہ انجیل میں سے عبرانی زبان میں لکھ سکتا تھا جیسے کہ خُدا اُس سے چاہتا تھا۔  امام بخاری (البخاری) والیم 1 ، کتابچہ 1  ؛ نمبر 3

ابوہریرہ نے بیان کیا: کہ وہ لوگ توریت کو عبرانی زبان میں پڑھتے اور پھر اُس کو مسلمانوں کو عربی زبان میں سمجھاتے تھے۔ تب اللہ کے رسول نے کہا، ‘‘لوگوں کے کلام پر یقین مت کرو، اور نہ ہی اُن کو اِس پر ایمان لانے سے رکھو، لیکن کہو، کہ ہم اللہ کی طرف سے جو نازل ہوچُکا ایما ن رکھتے ہیں۔۔۔۔۔’’ امام بخاری (البخاری) والیم 9 ، کتابچہ 93 ؛ نمبر632

یہودی اللہ کے رسول کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر مرد اور عورت غیر شرعی طور پر آپس میں مبشارت کرتے ہیں ۔ اللہ کے رسول نے اُن سے کہا، ‘‘تمہیں توریت میں اِس جرم کی کیاقانونی سزا ملتی ہے (سنگساری)؟’’ اُنہوں نے جواب میں اُس نے کہا، ‘‘(لیکن) ہم اُن کے جرم کا اعلان کرتے اور اُن کو قید میں ڈالنے کا حکم دیتے ہیں۔’’ تب عبداللہ بن سلام نے کہا، ‘‘تم جھوٹ بول رہے ہو؛ توریت تو کہتی ہے کہ اُن کو سنگسار کرو۔’’۔۔۔۔۔۔۔۔سنگسارکا حوالہ وہاں (توریت) میں موجود ہے۔  اُنہوں نے کہا حضرت محمدؑ (اللہ کا رسول) سچا فرماتا ہے؛ توریت میں سنگسار کرنے کا حوالہ درج ہے۔  امام بخاری (البخاری) والیم 4، کتابچہ  56؛ نمبر 829

عبداللہ ابن ِ عمر بیان فرماتے ہیں۔۔۔۔۔یہودی کا لشکر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ ولی وسلم حضرت محمد کوف کے لئے دعوت دی۔۔۔۔۔ اُنہوں نے کہا،‘ابو القاسم ، کہ اُس نے ایک عورت کے ساتھ زناکاری کی ؛ سو اُس پر بھی عدالت ہوگی۔ اُنہوں نے اللہ کے رسول کے لئے تکیہ دیا اور وہ اُس سے بیٹھے اور کہا؛‘‘ توریت لے کر آؤ’’۔ تب وہ توریت لے کر آئے۔پھر آپ نے تکیہ نکلا اور توریت کو رکھا اور یہ کہا؛‘‘میں اِس پر ایمان رکھتا ہوں اور اُس پر بھی جس نے اِس کا نازل فرمایا۔’’ سنُت ابودادؤ  کتابچہ 38، نمبر 4434

کابیان: اللہ کے رسول فرماتے ہیں؛ جمعہ کے دِن جب سورج طلوع ہوتا ہے وہ مبارک دِن ہے، اِس دِن آدم تخلیق کیا گیا تھا۔۔۔۔۔کیتب نے فرمایا: ہر  ابوہریرہ…سال میں ایک دِن ہوتا ہے۔ تب میں نے کہا: یہ ہر جمعہ ۃ المبارک پر ہوتا ہے۔ کیتب نے توریت کو پڑھا اور کہا: کہ اللہ کے رسول محمدؑ نے  سچافرمایا۔ سنُہ ابو داؤد کتاب 3 نمبر 1041

یہ احمقانہ احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ رسول محمدؑکا رویہ کہ بائبل میںجو اُس دِن کے بارے میں پہلے سے نشاندہی کی جا چُکی ہے۔ پہلی حدیث بیان کرتی ہے کہ انجیل پہلے سے موجود تھی جب اِس نے پہلی آواز کر سُنا۔ دوسری حدیث بتاتی ہے کہ یہودی توریت کو عبرانی زبان میں اُس وقت کے مسلمانوں کے لئے پڑھتے تھے۔ حضرت محمد اُن کے کسی بھی بیان کردہ مجموعے کو رد نہیں کرتا تھا، لیکن فرق  کو ظاہر کرتا تھا  عربی وضاحت اُن کی کرتا تھا۔ اگلی دو احدیث ہمیں بتاتی ہیں کہ محمدؑ نے توریت کو اپنے اُس دِن کے لئے استعمال کی ہے۔ اور آخری حدیث سے نظر آتا ہے کہ توریت، اِس بات کی گواہ ہے کہ جب انسان کو پیدا کیا گیا تب جمعہ کا دِن تھا۔ اِن احدیث میں سے کوئی بھی اِس بات کو ثابت نہیں کر پائی کہ بائبل(کلام ِ مقدس) تبدیل اور اِس میں کوئی ردوبدل ہوا ہے۔ یہ اہم کام کے لئے استعمال ہوئی ہے۔

عہد جدید (انجیل کی اصل کتابیں)

میرے پاس عہدجدید کی اصل کتب جو موجود ہے جو کہ اِس سے شروع ہوتی ہے:

2 عہدجدید /‘‘عہد جدید شروع میں 69 کا مجموعہ پیش کر تا ہے کہ بتاریخ دوسری صدی کے آغاز سے لے کر چوتھی صدی تک (100تا 300 اے ڈی)۔۔۔۔۔3

کا حصہ مشتمل ہے (پی پرُسکون،‘‘آغاز میں عہدجدید یونانی زبان میں موجود ہے’’۔ تعارف پی 17۔2001)۔

یہ اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ تحریریں رومی حکومت کے آنے سے پہلے (325 اے ڈی)۔ اگر اِس میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو ہمیں اِس کی تحقیق کرنی ہے کہ اِس میں محمد کے آنے سے پہلے تبدیل ہوئی ہے کہ اُس کے آنے کے بعد۔ ہمارے پاس مختلف زبانوں میں ترجمہ کی گئی جو کہ آج بھی مکمل طور پر اپنی اصل حالت میں موجود ہے جو کہ محمدؑ کے آنے سے پہلے سے موجود تھی۔ سب سے زیادہ مشہور کوڈ یہ ہیں، سینی ٹیکس(سی اے 350 اے ڈی) اور یہ کوڈ، ویٹی نیکس(سی اے 325 اے ڈی)۔ یہ اور اِس کے علاوہ بہت سارے دوسرے مجموعے جو کہ 600اے ڈی سے پہلے دُنیا کے دوسرے علاقوں میں سے آئے۔ یہ مسیحی خیال اور مسیحی نخسہ جات میں تبدیلی کوئی بھی سمجھ نہیں رکھتا۔ یہ بالکل ناممکن کہ اِس ٹیکٹ میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔ یہاں تک کہ اگر یہ عربی میں ترجمہ کی گئی تو بھی یہ اصل حالت میں موجود ہے اور ایسے ہی ہمیں کہنا چاہیے کہ یورپ اور سیریا میں بھی کوئی تبدیل نہیں آئی، اور یہ یقیناً ایسا ہی ہے۔ پر قرآن اور احدیث دونوں واضع طور پر تصدیق کرتے ہیں کہ بائبل 600 اے ڈی سے پہلے موجود تھی اور بائبل مقدس کے تمام نخسہ جات پہلے سے رقم ہیں، اور اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ نیچے دی گئی ٹائم لائن اِس چیز کی وضاحت کرتا ہے کہ بائبل مقدس 600 اے ڈی کی بنیاد پر ہے۔

آغاز ہی سے توریت اور زبور کی کاپی موجود ہے۔ سکلرولز کا مجموعہ بحرہ ِمردار سے جانا جاتا ہے، یہ بحرہ مردار 1948 کو دریافت کیا گیا۔ یہ سکلرولز توریت اور زبور 200تا100 عیسوی سےلکھی جا چُکی تھی۔ اِس کا مطلب ، مثال کے طور پر حضرت موسیٰ نے توریت تقریباً(1500 عیسوی) کو دے دی تھی، ہمارے پاس توریت کی کاپیاں عیسیٰ المسیح اور محمدؑ کے آنے سے پہلے کی موجود تھیں۔ ہم اِس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ پہلی کتابیں جو رسولوں پر نازل ہوئی اِن کللک کریںمیں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ میں اِس کو واضح طور دیکھا کہ یہ یقینی ہے اگر آپ اِس کو سائنسی نظر سے دیکھنا ہے تو اِس آرٹیکل پر

اِس بات کو شہادت ملتی ہے کہ حضرت محمدؑ نے جو کچھ احدیث میں فرمایا کہ کلام ِ مقدس (بائبل) تمام نخسے آج بھی ویسے کے ویسے ہیں اور قرآن بھی اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بائبل تبدیل نہیں ہوئی۔

آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات - بہت پہلے سے
آج کی بائبل (اللہ تعالی کتاب) کے مسودات – بہت پہلے سے

قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

میرے بہت سارے مسلمان دوست ہیں ۔ اور چونکہ میں بھی اللہ تعالیٰ اور انجیل مقدس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اس لئے روزانہ مسلمان دوستوں کے ساتھ مسیحی ایمان کے بارے میں بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ حقیقی معنوں میں ہمارے درمیان بہت ساری چیزیں مشترک ہیں ۔ اسکی نسبت سیکولر (مادہ پرست)دنیا میں ایسا نہیں ہے۔ سیکولر لوگ اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے۔ ابھی تک ہماری بات چیت میں یہ اعتراض کیا گیا ہے۔ کہ انجیل مقدس ( بائیبل مقدس) میں تحریف یا تبدیلی ہوچکی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر کتاب مقدس نازل کی تھی آج اُس کے الہام کی وہ حالت نہیں رہی۔ بلکہ کتاب مقدس نے الہامی حیثیت کھو دی ہے۔ اس میں بہت سی غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔ اب یہ ایک عام سا دعوی نہیں ہے۔ اسکا مطلب یہ ہو گا۔ بائیبل مقدس جو کچھ ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاتی ہے ہم اس پر بھروسا نہیں رکھ سکتے۔

میں نے دونوں کتابوں قرآن شریف اور بائیبل مقدس اور سُنت کامطالعہ کیا ہے۔ میں نے حیرت انگیز بات دیکھی۔ آج جو باتیں بائیبل مقدس کے بارے میں شک میں ڈالی جا رہی ہیں ۔ اس کے بر عکس حیرت کی بات یہ تھی کہ نہ تو قرآن شریف میں ایسی بات دیکھی بلکہ قرآن شریف ، بائیبل مقدس کے بارے میں بڑی سنجیدگی اور بڑے واضح انداز میں بات کرتا ہے۔

قرآن شریف الکتاب کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

( سورة المائدہ 5:68 )

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔

( اورسورة النساء آیت 136 )

( سورة یونس آیت 94 )
اگر تم کو اِس (کتاب کے ) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہر گز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

جب میں نے ان آیات پر غور کیا تو مجھ پر ظاہر ہوا کہ یہ الہام اللہ تعالی کی طرف سے (اہل کتاب) کو دیاگیا ہے یعنی (عیسائیوں اور اسرائیلیوں) اب میرے مسلمان دوست کہتے ہیں کہ یہ آیات اُس وقت کی ہیں۔ جب کتاب مقدس اپنی اصلی حالت میں تھی۔ جب اس کی اصلی حالت میں تحریف ہو چکی ہے تو آج یہ اس قابل نہیں رہی کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا کلام کہاجائے۔ لیکن دوسرا حوالہ اس بات کے بارے میں تصدیق کرتا ہے۔ جو لوگ اُس وقت کتابِ مقدس پڑھتے تھے۔ ( یہاں فعل حال استعمال ہوا ہے نہ کہ ماضی) یہ حوالہ اُس وقت کی بات نہیں کررہا جب کتاب مقدس نازل ہوئی بلکہ یہ اُس وقت کی بات کررہا ہے جب قرآن شریف نازل ہوا۔ کتاب مقدس حضرت محمد ﷺ سے600 سال پہلے نازل ہوئی تھی ۔ تاہم یہ حوالہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ تورات شریف ، قرآن شریف سے600 سال پہلے نازل ہوئی تھی۔

دوسرے حوالہ جات بھی اس طرح کے ہیں ۔ غور کریں

سورة النحل 16:43

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔

سورة الانبیاء21:7

اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر ) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں اُن سے پوچھ لو۔

یہ حوالہ جات حضرت محمد سے پہلے رسولوں اور پیغمبروں کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے۔ کہ یہ حوالہ جات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ذریعے جو پیغام 600 سال پہلے دیا تھا۔ اُن کے پیروکار اُس وقت بھی اُس پیغام پر عمل پیرا تھے۔ حضرت محمد کے دُور میں کتاب مقدس میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی تھی۔

قرآن شریف فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام تبدیل نہیں ہوسکتا

شائد یہ ایک مضبوط اور عقلی دلیل ہو سکتی ہے کہ کتاب مقدس میں تبدیلی ہوئی ہو۔ لیکن قرآن شریف ، کتاب مقدس میں تحریف کی حمایت نہیں کرتا۔ سورة المائدہ کی یہ آیت زہین میں رکھیں ۔

سورة المائدہ 5:68

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور یہ (قرآن ) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کُفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرنا۔

اور درج ذیل پر غور کریں۔

سورة انعام 6:34

اور تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے۔ تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ اُن کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی۔ اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں ۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال ) کی خبریں پہنچ چکی ہیں ( تو تم بھی صبر سے کام لو)۔

سورة انعام 6:115

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے۔

( سورة یونس 10:64 )

اُن کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں ۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

سورة الکہف 18:27

اور اپنے پروردگار کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اُس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاﺅ گے۔

لہذا اگر ہم اس بات میں متفق ہیں کہ حضرت محمد سے پہلے نبیوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام نازل ہوا۔

 جس طرح سورة المائدہ 5 :68-69 اور یہ حوالہ جات کئی بار واضع الفاظ میں کہہ چکے ہیں۔ کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کو تبدیل نہیں کرسکتاہے۔ تو پھر ہم کس طرح مان لیں کہ کسی آدمی نے تورات شریف، زبور شریف اور انجیل شریف میں تبدیلی یا تحریف کر دی ہے؟ تو یہ کہنے کے لیے کہ بائبل مقدس میں تحریف یا تبدیلی ہو چکی ہے ۔ پہلے اُس شخص کو قرآن شریف کا انکار کرنا پڑے گا۔

سورة البقرہ 2:136

مسلمانو) کہوکہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اُتری اُس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ اور اسحاق ؑاور یعقوب ؑ اور انکی اولاد پر نازل ہوئے اُن پر اور جو (کتابیں) موسیٰ ؑ اور عیسٰی ؑ کو عطا ہوئیں اُن پر اور جو اور پیغمبروں کو اُنکے پروردگار کی طرف سے ملیں اُن پر (سب پر ایمان لائے ) ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اُسی (خدائے واحد ) کے فرمانبردار ہیں۔

(اور دیکھیں ( سورة البقرہ 2:285

تاہم ہمیں الہام کے بارے میں کسی قسم کا فرق نہیں رکھنا چاہے۔ ہمیں ان کا مطالعہ کرنا ہے یا دوسرے الفاظ میں ہمیں تمام آسمانی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہے۔ دراصل میں قرآن شریف کے مطالعہ کے لیے عیسائی دوستوں سے درخواست کرتا ہوں اسی طرح میں مسلمان دوستوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ کتاب مقدس کا مطالعہ کریں۔

ان کتابوں کا مطالعہ کرنے کے لیے وقت اور اہمیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوران مطالعہ بہت سارے سوال اُٹھتے ہیں۔ یقینا اگرچہ ان تمام تر نازل کی ہو ئی کتابوں کو سیکھنے کے لیے زمین پر ہمارے پاس قابلِ قدر وقت ہے۔ میں جانتا ہو ں کے ان کتابوں کا مطالعہ میرے لیے کافی ہمت والا اور مشکل کام تھا۔ اس مطالعہ کے باعث بہت سارے سوال میرے ذہین میں آئے۔ یہ ایک فائدہ مند تجربہ تھا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی برکت کو حاصل کیا۔ میں اُمید کرتا ہو ں کہاآپ اس ویب سائیڈ پر بہت سے مختلف سبق اور مضمون پڑھ سکتے ہیں۔ شائد اس مضمون سے آپکے لیے شروع کرنا اچھا ہوگا۔ کہ حضرت محمد اور احادیث ، تورات شریف، زبور شریف، اور انجیل شریف (ان کتابوں کو الکتاب کہتے ہیں)کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اگر آپ سائنٹیفک مطالعہ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کہ سائنسی نقطہ نظر کے مطابق بائیبل مقدس تحریف شدہ ہے یا غیر تحریف شدہ ہے ؟ اس مضمون کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔