امن کی بادشاہی آرہی ہے

ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت یسعیاہ نبی نے “کنواری کے بیٹے” کی پیشن گوئی کی ہے۔ یہ پیشن گوئی سینکڑوں سال بعد حضرت عیسیٰ میں کی پیدائش پر پوری ہوئی۔ تاہم زبور شریف میں مستقبیل میں امن اور سلامتی کے بارے اور بھی پیشن گوئیاں کی گئیں ہیں۔

بنی اسرائیل کی تاریخ میں حضرت داود پہلے بادشاہ اور بنی تھے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر کیا۔ تاکہ وہ یروشلیم سے حکمرانی کریں۔ تاہم حضرت داود اور حضرت سلیمان کی بادشاہی کے بعد اسرائیل کے زیادہ تر بادشاہ شریر ہوئے۔ اُن بادشاہوں کی حکمرانی میں زندہ رہنا۔ ایسا ہی تھا جیسا آج ہم ظالم حکمرانوں کے دور میں رہ رہے ہیں۔ اُس وقت لوگوں اور قوموں کے درمیان جنگ و جدل تھا۔ جس طرح آج ہے۔ اُس وقت امیر غریبوں کا استحصال اور کرپشن کرتے تھے۔ جیسے آج ہوتا ہے۔ لیکن زبور شریف میں انبیاءاکرام نے کہا کہ متستقبیل میں ایک نئی حکومت آئے گی۔ جس میں انصاف، رحم، محبت اور امن قائم ہوگا۔ درج زیل آیات میں پڑھیں کہ حضرت یسعیاہ نبی نے آنے والی زندگی کے بارے میں کیا بتایا ہے۔

 اورقوموں کے درمیان عدالت کریگا اور بہت سی اُمتوں کو ڈانٹے گااور وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھرکبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے۔                                              یسعیاہ 2: 4

 پھر مزید جنگ نہیں ہوگی۔ درحقیقت آج جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں۔ یہ ہماری دنیا نہیں ہے۔ لیکن آنے والی دنیا میں قوموں کے درمیان امن اختیارکیا جائے گا۔ اور اس کے ساتھ قدرتی ماحولیات میں تبدیلی کے بارے میں پیشن گوئیاں بھی کی گئیں ہیں۔

6  پس بھیڑیا، بّرہ کے ساتھ رہیگا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھے گا اور بچھڑا اور شیر بچہ اور پلا ہوا بیل مل جل کر رہینگے اور ننھا بچہ انکی پیش روی کریگا۔
7 گائے اور ریچھنی ملکر چرینگی ۔ انکے بچے اکٹھے بیٹھیں گے اور شیر ببر بیل کی طرح بھوسا کھائیگے۔
8 اوردودھ پیتا بچہ سانپ کی بل کے پاس کھیلے گا اور وہ لڑکا جسکا دودھ چھڑایا گیا ہو افعی کی بل میں ہاتھ ڈالیگا۔
9  وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضررپہچائینگے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کےعرفان سے معمور ہو گی۔
10 اور اسوقت یوں ہو گا کہ لوگ یسی کی اُس جڑ کےطالب ہونگے جو لوگوں کے لیے ایک نشان ہے اوراسکی آرامگاہ جلالی ہو گی۔
11  اور اسوقت یوں ہو گا کہ خداوند دوسری بار اپنے ہاتھ بڑھائیگا کہ اپنے لوگوں کا بقیہ جو بچ رہا ہو اسور اور مصر اور فتروس اور کوش اور عیلام اورسنعار اور حمات اور سمندر کے اطراف سے واپس لائے ۔                                                                       یسعیاہ 11: 6-9

یقینی طور پر یہ پیشن گوئی ابھی پوری نہیں ہوئی۔ یہ پیشن گوئیاں نہ صرف بہتر ماحولیات کے بارے میں بتاتی ہیں۔ بلکہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ لوگوں کی عمروں میں اضافہ ہوگا اور لوگوں کی ذاتی  سیکورٹی اب سے بہتر ہوگی۔

20  پھر کبھی وہاں کوئی ایسا لڑکا نہ ہو گا جو کم عمر رہے اور نہ کوئی ایسا بوڑھا جو اپنی عمر پوری نہ کرے کیونکہ لڑکا سو برس کا ہو کر مرے گا اور جو گنہگار سو برس کا ہوجائے ملعون ہو گا۔
21 وہ گھر بنائیں گے اور ان میں بسیں گے۔تاکہ کستان لگائیں گے اور ان کے میوے کھائیں گے ۔
22  نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرا کھائیں کیونکہ میرے بندوں کے ایام درخت ایام کی مانند ہوں گے اور میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مدتوں تک فائدہ اُ ٹھا ئیں گے۔
23 ان کی محنت بے سود نہ ہو گی اور اُن کی اولاد ناگہان ہلاک نہ ہو گی کیونکہ وہ اپنی اولاد سمیت خداوندا کے مبارک لوگوں کی نسل ہیں۔
24 اور یوں ہوگا کہ میں ان کے پکارنے سے پہلے جواب دوں گا اور وہ ہنوز کہہ نہ چکیں گے کہ میں سن لوں گا۔
25 بھیڑیا اور برہ اکھٹے چریں گے اور شیر ببر بیل کی مانند بھوسا کھائے گا اور سانپ کی خوراک خاک ہوگی۔وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے خداوند فرماتا ہے۔                                                                                             یسعیاہ 65: 20-25

سلامتی، امن اور دعا کا فوری جواب ۔ ۔ ۔ ان میں سے ابھی کوئی بھی پیشن گوئی پوری نہیں ہوئی ہے۔ لیکن یہ بتائی اور لکھی جاچکی ہیں۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں۔ شاید اُمید کی ان پیشن گوئیوں میں کوئی غلطی پائی جاتی ہے۔ لیکن کنواری کے بیٹے کی نشانی ہمیں ان پیشن گوئیوں کے بارے میں سنجیدہ سوچنے اور اُن کی تکمیل کے لیے طلب رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی بادشاہی

اگر ہم اس پر زور ڈالیں۔ تو ہم اس کو سمجھ سکیں گے۔ کہ یہ پیشن گوئیاں ابھی کیوں پوری نہیں ہوئی ہیں۔ یہ پیشن گوئیاں اللہ تعالیٰ کی حکمرانی کے بارے میں واضع کرتی ہیں۔ کہ لوگوں کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی حکمرانی ہوگی۔ زبور شریف میں سے اللہ تعالیٰ کی آنے والی حکمرانی کے بارے میں ایک اور پیشن گوئی درج ذیل ہے۔

10 اَے خُداوند! تیری ساری مخلوق تیرا شُکر کریگی۔ اور تیرے مُقّدس تجھے مُبارِک کہیں گے۔
11 اور تیری سلطنت کے جلال کا بیان اور تیری قُدرت کا چرچا کریں گے۔
12 تاکہ بنی آدم پر اُسکی قُدرت کے کاموں کو اور اُسکی سلطنت کے جلال کی شان کو ظاہر کریں۔
13 تیری سلطنت ابدی سلطنت ہے۔ اور تیری حکومت پُشت در پُشت۔
14 خُداوند گِرتے ہوئے کو سنبھالتا اور جھُکے ہوئے کو اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔

                                                                                                زبور 145: 10-14

یہ پیغام حضرت داود بادشاہ اور جو ایک نبی بھی تھے۔ اُن کو 100 ق م میں دیا گیا تھا۔ (حضرت داود کی حیات کے بارے میں یہاں پر کک کریں) یہ پیشن گوئی اس کے بارے میں واضع کرتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی بادشاہی واضع طور پر قائم ہوجائے گی۔ یہ بادشاہی شاندار اور جلالی ہوگی۔ اور یہ عارضی بادشاہی نہیں ہوگی۔ جیسے ہمارے ہاں عام حکومتوں کی ہوتی ہے۔ یہ ابدی ہوگی۔ اس لیے یہ ابھی واقع نہیں ہوئی۔ اس کے لیے ہم نے دوسری پیشن گوئی کو نہیں دیکھا جو امن اور اطمینان لائیں گی۔ کیونکہ وہ خدا کی بادشاہی میں پوری ہونگی۔

زبور شریف میں ایک اور نبی جن کا نام حضرت دانیال ہے۔ وہ تقریباً 550 سال ق م بابل میں اسرائیلوں کے ساتھ جلاوطن ہوکر چلے گے۔ اُنہوں نے واضع کیا ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کا قیام ہوگا۔

حضرت دانیال کا زمانہ زبور شریف میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ
حضرت دانیال کا زمانہ زبور شریف میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ

حضرت دانیال نبی نے بابلی بادشاہ کے خوابوں کی تعبیر اللہ تعالیٰ کی مدد سے کی۔ اور مستقبیل میں آنے والے بادشاہوں کے بارے میں پیشن گوئی کی۔ یہاں پر بابلی بادشاہ کے سامنے حضرت دانیال خواب کی تعبیر کرتا ہے۔

36 وہ خُواب یہ ہے اور اُس کی تعبیر بادشاہ کے حُضور بیان کرتا ہُوں۔
37 اے بادشاہ تو شہنشاہ ہے جس کو آسمان کے خُدا نے بادشاہی و توانائی اور قدرت و شوکت بخشی ہے۔
38  اور جہاں کہیں بنی آدم سکُونت کرتے ہیں اس نے میدان کے چرندے اور ہوا کے پرندے تیرے حوالہ کر کے تجھ کو اُن سب کا حاکم بنایا ہے۔وہ سونے کا سر تو ہی ہے۔
39  اور تیرے بعد ایک اور سلطنت برپا ہوگی جو تجھ سے چھوٹی ہو گی اور اُس کے بعد ایک اور سلطنت تابنے کی جو تمام زمین پر حکُومت کرے گی۔
40  اور چوتھی سلطنت لوہے کی مانند مضُبوط ہو گی اور جس طرح لوہا توڑڈالتا ہے اور سب چیزیں پر غالب آتا ہے ہاں جس طرح لوہاسب چیزوں کو ٹکڑے ٹکرے کرتا اور کُچلتا ہے اُسی طرح وہ ٹکرے ٹکرے کرے گی اور کُچل ڈالے گی۔
41  اور جُو تونے دیکھا کہ اُس کے پاوں اور اُنگلیاں کُچھ تو کمہار کی مٹی کی اور کُچھ لوہے کی تھیں سو اُس سلطنت میں تفرقہ ہو گا مگر جیسا کہ تونے دیکھا کہ اُس میں لوہا مٹی سے ملا ہوا تھا اُس میں لوہے کی مُضبوطی ہوگی۔
42 اور چُونکہ پاوں کی اُنگلیاں کُچھ لوہے کی اور کُچھ مٹی کی تھیں اس لئے سلطنت کُچھ قوی اور کُچھ ضیعف ہو گئی۔
43  اور جیسا تونے دیکھا کہ لوہا مٹی سے ملا ہُوا تھا وہ بنی آدم سے آمخیتہ ہوں گےلیکن جیسے لوہا مٹی سے میل نہیں کھاتا ویسے ہی وہ بھی باہم میل نہ کھائیں گے۔
44  اور اُن بادشاہوں کے ایّام میں آسمان کا خُدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہو گی بلکہ وہ ان تمام مُملکتوں کو ٹکرے ٹکرے اور نیست کرے گی اور وُہی ابد تک قائم رہے گی۔
45  جیسا تو نے دیکھا کہ وہ پھتر ہاتھ لگائے بغیر ہی پہاڑ سے کاٹا گیا اور اُس نے لوہے اور تابنے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکرے ٹکرے کیا خُدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقنیی ہے اور اس کی تعبیر یقینی۔

                                                                                      دانی ایل 2: 36-45

  1. یہ بادشاہت ابتدا میں چھوٹی ہوگی ( ایک چٹان سے ایک چھوٹا پتھر کاٹا جائے گا) لیکن یہ چھوٹی حکومت ابد تک قائم رہے گی۔ جس طرح حضرت داود کے زبور 145 میں پیشن گوئی میں بیان کیا گیا ہے۔ اور اس بادشاہت کو کیوں اتنی زیادہ دیر لگ رہی ہے؟ اللہ تعالیٰ کیوں اتنی آہستہ آہستہ اپنی بادشاہت کو قائم کرے گا؟ جب ہم اس کے بارے سوچتے ہیں۔ تو چند اجزاء ذہین میں آتے ہیں جو سب بادشاہتوں میں پائے جاتے ہیں۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
  • ایک بادشاہ
  • شہری
  • آئین/ شریعت
  • فطرت/ قدرت

آئیں یہاں مثال کے طور پر کینڈا کو لیتے ہیں۔ جہاں میں اس بادشاہت میں رہتا ہوں۔ کینڈا کا موجودہ حکمران جسٹن ٹروٹو ہے۔ جو کہ ہمارا منتخب وزیرِاعظم ہے۔ کینڈا کے شہری ہیں جن میں سے میں ایک ہوں ۔ کینڈا کا آئین ہے۔ جو شہریوں کو اُن کی زمہ داری اور حقوق کا تعین کرواتا ہے۔ کینڈا کی ایک قدرتی ماحول بھی ہے۔ اس معاملے میں یہ ایک مخصوص جگہ پرواقع ہے۔ جس کا ایک طبعی سائز، آب و ہوا اور قدرتی و سائل ہیں۔ ماضی اور حال کے تمام ممالک کے پاس یہ چار اجزاء ہوتے ہیں۔

مجھے اورآپ کو اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت میں دعوت دیتا ہے

یہ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے۔ جس کو ہم نے ان پیشن گوئیوں کے زریعے جانا ہے۔ کہ اس حکومت کی خاص قسم کی فطرت (قدرتی ماحول) ہے۔ (وہ جلالی اور ابدی ہے) اور ایک آئین (اُس میں سلامتی، امن، قدرت میں ہم آہنگی) ہے۔ اس کے ساتھ دو اور اجزاء ہیں۔ بادشاہ اور شہری جومل کر خدا کی بادشاہی کو بناتے ہیں۔ ہم اگلے مضمون میں بادشاہ کے بارے میں جانیں گے۔ اس لمحے شاید آپ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھ رہے ہونگے۔ کہ میں کیسے خدا کی بادشاہی کا شہری بن سکتا ہوں ؟ شاید یہ آپ اس وقت ایک پیاسے شخص کی مانند بنا رہا ہے۔ جس کو آپ بجھانا چاہتے ہیں۔ یہاں پر حضرت یسعیاہ نبی اس پیغام کے زریعے اُن لوگوں کو دعوت دیتے ہیں جو اُس بادشاہت کے شہری بننا چاہتے ہیں۔

1 اے سب پیاسوں پانی کے پاس آؤ اور وہ بھی جس کے پاس پیسہ نہ ہو۔آؤ مول لو اور کھاؤ۔ہاں آؤ اور دودھ بے زر اور بے قیمت خریدو۔
2 تم کس لئے اپنا روپیہ ٓس چیز کے لئے جو روٹی نہیں اور اپنی محنت اس چیز کے واسطے جو آسودہ نہیں کرتی خرچ کرے ہو؟تم غور سے میری سنو اور وہ چیز جو اچھی ہےکھائو اور تمہاری جان فربہی سے لزت اٹھائے۔
3 کان لگائو اور میرے پاس ائو سُنواور تمہاری جان زندہرہے گی اور مین تم کو ابد عہد یعنی داود کی سچی نعمتیں بخشوں گا۔
4 دیکھو میں نےاُسےامتوں ک لئے گواہ کیا بلکہ امتوں کا پشیوا اور فرما روا۔
5 دیکھ تو ایک ایسی قوم کوجسے تو نہیں جانتا بلائے گااور ایک ایسی قوم جو نہیں جانتی تھی۔ خُداوند تیرے خدا اور اسرایئل کے قدوس کی خاطر تیرے پاس دوڑی آئے گی کیونکہ اُس نے تجھے جلال بخشا ہے۔
6 جب تک خُداوندمل سکتا ہے اس کے طلب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے اس پکارو۔

                                                                             یسعیاہ 55: 1-6

اللہ تعالیٰ اُن سب کو دعوت دیتا ہے جو اُسکی بادشاہت کے پیاسے ہیں۔ قدیم میں جو محبت حضرت داود کے ساتھ کی گئی۔ اُس کو سب کے ساتھ بڑھائی جائے گی۔ اگر ابھی تک آپ اس دعوت نامہ کو حاصل نہیں کیا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ہے کہ یہ دعوت نامہ آپ کے پاس نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دعوت دے رہا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے۔ کہ ہم اُس کی بادشاہت کے شہری بن جائیں۔ تاہم اس لمحے شاید آپ کے پاس سوال ہوں۔ کہ “کیسے” اور “کب “خدا کی بادشاہت آئے گی؟ جس کو زبور شریف میں اگلے مضمون میں پڑھیں گے۔ لیکن یہاں ایک اور سوال ہے۔ اس کا جواب صرف آپ دے سکتے ہیں۔ کیا میں اس آنے والی بادشاہت کا شہری بننا چاہتے ہوں؟

کنواری کے بیٹے کی نشانی

زبور شریف کے تعارف میں یہ بیان کیا تھا کہ حضرت داود بادشاہ اور نبی ہیں۔ اُن پرزبور شریف کی ابتدائی کتاب کو الہام کی قدرت سے نازل ہوئی۔ اس کے بعد دوسرے انبیاء اکرام اس میں مزید الہامی کتابوں کو اپنے اپنے وقت کے ساتھ شامل کرتے گئے۔ حضرت یسعیاہ نبی جو اہم انبیاء اکرام میں سے ایک ہیں۔ (ان پر ایک بڑی کتاب نازل ہوئی) 750 قبل از مسیح میں اُن کی آمد ہوئی۔ اس ٹائم لائن میں اس کے بارے میں واضع کیا گیا ہے۔ کہ حضرت یسعیاہ زبور شریف کے دوسرے انبیاء اکرام کے ہم اثر تھے۔

حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

اگرچہ حضرت یسعیاہ نبی بہت عرصہ پہلے آئے۔ (تقریباً  آج سے2800 سال پہلے آئے) اُنہوں نے بہت ساری نبوتیں کیں۔ جن کا تعلق مستقبل میں ہونے والے واقعات سے تھا۔ جس طرح حضرت موسیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ کہ ایک نبی برپا ہوگا۔ ہم پہلے زبور شریف کے تعارف میں بیان کرچکے ہیں۔ حضرت سلیمان کے بعد آنے والے بادشاہ زیادہ تر شریر تھے۔ یہ حضرت یسعیاہ کے دور کے بادشاہ تھے۔ اسی لیے حضرت یسعیاہ نبی کے صحیفہ میں آنے والی عدالت کے بارے میں زیادہ تر خبردار کیا گیا ہے۔ ( یہ عدالت تقریباً 150 سال بعد واقع ہوئی، جب شاہ بابل نے یروشلیم کو برباد کردیا تھا۔تاریخی ثبوت کے لیے  یہاں کلک کریں) تاہم اُنہوں نے بہت سی پیشن گوئیاں کی اور مستقبیل کی بارے میں بتایا۔ کہ اللہ تعالیٰ ہم کو نشان بخشے گا۔ جو پہلے کبھی بھی انسانیت کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا۔ حضرت یسعیاہ اسرائیل کے بادشاہ سے کہتے ہیں۔ کہ وہ حضرت داود کی نسل سے ہوگا۔ اس لیے یہ نشان حضرت داود کے گھرانے سے منسوب کیا جاتا ہے۔

حضرت یسعیاہ بیان کرتے ہیں۔

13 تب اُن نے کہا اے داؤد کے خاندان اب سنو ! کیا تمہارا انسان کو بیزار کرنا کوئی ہلکی بات ہے کہ میرے خدا کو بھی بیزار کروگے؟۔
14  لیکن خداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور وہ اُس کا نام عمانوائیل رکھے گی۔
15 وہ دہی اورشہد کھائے گا جب تک کہ وہ نیکی اور بدی کےرد و قبول کے قابل نہ ہو جائے۔

                                                                                                یسعیاہ 7: 13-15

یہ یقینی طور پر ایک واضع پیشن گوئی تھی! کیا کبھی ایسا سُنا تھا کہ ایک کنواری حاملہ ہوگی؟ لوگ اس پیشن گوئی کے بارے میں حیران تھے۔ اور کئی سمجھتے تھے کہ شاید اس میں کوئی غلط فہمی پائی جاتی تھی۔  یقینی طور پر ایک آدمی مستقبیل کے بارے میں اندازہ لگاتا ہے جو ابھی واقع نہیں ہوا۔ اور آنے والی نسلوں کے لیے لکھ دیتا ہے تاکہ وہ اُن کو پڑھیں۔ جو بظاہر نامکمن پیشن گوئی لگتی تھی۔ لیکن یہ اُن صحیفوں میں بھی لکھی ہوئی تھی۔ جو بحرہ مردار میں سے برآمد ہوئے تھے۔ جو آج بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس لیے ہم جانتے ہیں کہ یہ پیشن گوئی بہت عرصے پہلے لکھی گئی تھی۔ جو کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے سینکڑوں سال پہلے لکھی گئی تھی۔

حضرت عیسیٰ مسیح کا ایک کنواری سے پیدا ہونے کی پیشن گوئی

آج ہم حضرت عیسیٰ مسیح کے بعد کے وقت میں رہتے ہیں۔ ہم اس بات کو جان سکتے ہیں۔ کہ یہ پیشن گوئی دراصل پوری ہوئی۔ کوئی دوسرا نبی یعنی حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت محمد ﷺ میں کوئی بھی کنواری سے پیدا نہیں ہوا۔ صرف حضرت عیسیٰ دنیا میں واحد ایسی ہستی ہیں جو کنواری کے وسیلے اس دنیا میں آئے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش کے سینکڑوں سال پہلے نشانی دیتا ہے۔ تاکہ ہم کنواری سے پیداہونے والے بیٹے کے لیے تیار ہوسکیں۔(ہم خاص طور پر دو چیزوں کو سکھیں گے

اُس کی ماں کے وسیلے اُسکو “عمانوایل” کہا گیا

سب سے پہلے کنواری سے پیدا ہونے والا بیٹا “عمانوایل” کہلائے گا۔ اس نام کا لفظی مطلب ہے “خدا ہمارے ساتھ” لیکن اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کے شاید کئی مطلب ہیں۔ لیکن جب سے یہ پیشن گوئی کی گئی کہ اللہ تعالیٰ جلدہی شریر بادشاہوں کی عدالت کرنے والا تھا۔ لیکن ایک اہم مطلب یہ بھی ہے۔ کہ جب یہ بیٹا پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ اُن کے خلاف نہیں رہا۔ اب وہ “اُن کے ساتھ” ہے۔ جب حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش ہوئی۔ تو اُس سے پہلے ایسا تھا۔ کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل کو چھوڑ دیا ہوا تھا۔ اور اس لیے اُن کے دشمن اُن پر حکمران تھے۔ کنواری سے پیدا ہونے والے بچے کے نشان سے مراد تھا۔ کہ خدا اُن کے ساتھ تھا نہ کہ اُن کے خلاف تھا۔ انجیل شریف کی کتاب “لوقا کی انجیل” میں لکھا ہے۔ کہ جب حضرت جبرایل نے حضرت مریم کو اُس آنے والے بچے کے بارے میں بتایا۔ تو حضرت مریم نے ایک پاک گیت کہا۔ یہ گیت مندرجہ ذیل ہے۔

46 پھِر مریم نے کہا کہ میری جان خُداوند کی بڑائی کرتی ہے۔
47 اور میری رُوح میرے مُنّجی خُدا سے خُوش ہُوئی۔
48 کِیُونکہ اُس نے اپنی بندی کی پست حالی پر نظر کی اور دیکھ اَب سے لے کر ہر زمانہ کے لوگ مُجھ کو مُبارک کہیں گے۔
49 کِیُونکہ اُس قادِر نے میرے لِئے بڑے بڑے کام کِئے ہیں اور اُس کا نام پاک ہے۔
50 اور اُس کا رحم اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں پُشت در پُشت رہتا ہے۔
51 اُس نے اپنے بازُو سے زور دِکھایا اور جو اپنے تِئیں بڑا سَمَجھتے تھے اُن کو پراگندہ کِیا۔
52 اُس نے اِختیّار والوں کو تخت سے گِرا دِیا اور پست حالوں کو بُلند کِیا۔
53 اُس نے بھُوکوں کو اچھّی چِیزوں سے سیر کردِیا اور دَولتمندوں کو خالی ہاتھ لَوٹا دِیا۔
54 اُس نے اپنے خادِم اِسرائیل کو سنبھال لِیا تاکہ اپنی اُس رحمت کو یاد فرمائے۔
55 جو ابرہام اور اُس کی نسل پر ابد تک رہے گی جَیسا اُس نے ہمارے باپ دادا سے کہا تھا۔

                                                                             لوقا 1: 46-55

جب حضرت مریم کو بتایا گیا تھا کہ اُن کو ایک بیٹا بخشا گیا ہے۔ تو وہ اُس وقت کنواری تھیں۔ تو اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے۔ کہ خدا حضرت ابراہیم اور اُسکی نسل پر اپنی رحمت کو یاد رکھتا ہے۔ عدالت کا مطلب یہ نہیں تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ہمیشہ کے لیے بھول جائے گا۔

کنواری کا بیٹا “بدی کو رد اور نیکی کو چن لیے گا”۔

حضرت یسعیاہ کے بارے میں حیرت انگیز پیشن گوئی یہ ہے۔ کہ وہ بیٹا “دہی اور شہد کھائے گا جب تک کہ وہ نیکی اورر بدی کے رد قبول کرنے کے قابل نہ ہو”۔ یہ حضرت یسعیاہ نبی کے کہنے کا مطلب ہے۔ کہ جب یہ بیٹا فیصلہ کرنے کے قابل ہوگا۔ تو وہ ” برائی کو رد اور نیکی کو چن لے کا” میرا ایک چھوٹا بیٹا ہے۔ میں اُس سے بڑی محبت رکھتا ہوں ۔ لیکن یقینی طور پر اُس نے کبھی بھی برائی کو رد اور نیکی کو چنا نہیں۔ اس کے لیے میں اور میری بیوی کام کرتے ہیں۔ اُس کو سکھاتے ہیں۔ نصحیت کرتے ہیں، اُس کے لیے مثال قائم کرتے ہیں۔ اُس کو نظم و ضبط بتاتے ہیں۔ اور اُس کے لیے اچھے دوستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اور کوشش کرتے ہیں۔ کہ وہ ایک ٹھیک ماڈل اپنی زندگی میں لے سکے۔ اُس کو ہم اس لیے سکھاتے ہیں۔ تاکہ وہ غلط کو چھوڑ کر درست کا انتخاب کرے۔ ہماری اتنی محنت کے باوجود بھی کوئی گارنٹٰی نہیں ہے۔ ایک باپ ہونے کی وجہ جب میں اپنے بیٹے کو سکھاتا ہوں۔ تو مجھے اپنے والدین یاد آجاتے ہیں۔ کہ جب میں چھوٹا تھا۔ تو میرے بچپن میں میرے والدین بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ کہ وہ مجھے سکھاتے کہ غلط چیز کو نہیں بلکہ درست کو چننا ہے۔ اگر والدین یہ سارا کام نہ کریں۔ بلکہ اس کو فطرتی عمل پو چھوڑ دیں۔ تو بچہ ایسا نہیں کرے گا۔ کہ وہ “بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کو تھام لے”۔ یہ اسی طرح ہے۔ اگر ہم “کششِ ثقل” کے خلاف جدوجہد کرنا چھوڑ دیں۔ تو ہم فوراً سے پہلے اس زمین سے نیچے گر جائیں گے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ہم کیوں اپنے گھروں کے دروازوں کو تالا لگاتے ہیں۔ کیوں ہر ایک ملک میں پولیس کی ضرورت ہے۔ کیوں ہم کو بنک میں خفیہ پاس ورڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ ہمیں ایک دوسرے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ “جب تک ہم” برائی کو ترک اور نیکی کو چن نہیں لیتے۔

انبیا بھی ہمیشہ ایسا نہیں کرتے کہ غلط مسترد اور صحیح کا انتخاب کریں

انبیاءاکرام کے بارے میں درست ہے۔ کہ تورات شریف نے دوجگہ پر ہمیں بتایا ہے۔ کہ حضرت ابراہیم نے دو دفعہ یہ جھوٹ بولا ہے کہ اُنکی بیوی صرف اُنکی بہن ہے۔ (پیدائش 12: 18-13 ، 20: 1-2) یہ بھی لکھا ہے۔ کہ حضرت موسیٰ نے ایک مصری کو قتل کیا۔ (خروج 2: 12) ایک بار تو اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرمانبرداری نہ کی جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ (گنتی 20: 6-12) حضرت محمدﷺ سے حکم کیا گیا کہ وہ اپنے گناہوں کے لیے معافی کی دعا کریں۔(سُورة مُحَمَّد 47: 19

 پس جان لیجیے کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ (اظہارِ عبودیت اور تعلیمِ امت کی خاطر ﷲ سے) معافی مانگتے رہا کریں کہ کہیں آپ سے (اپنی شان اقدس اور خصوصی عظمت و رِفعت کے تناظر میں) خلافِ اَولیٰ فعل صادر نہ ہو جائے* اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی طلبِ مغفرت (یعنی ان کی شفاعت) فرماتے رہا کریں (یہی ان کا سامان بخشش ہے)، اور (اے لوگو!) ﷲ (دنیا میں) تمہارے چلنے پھرنے کے ٹھکانے اور (آخرت میں) تمہارے ٹھہرنے کی منزلیں (سب) جانتا ہےo (سُورة مُحَمَّد 47: 19)

اس درج ذیل حدیث میں دیکھا گیا ہے کہ کیسے اُنہوں نے اپنے گناہوں کی مغفرت کے لیے دل سوزی کے ساتھ دعا کی۔

ابو موسی اشعری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان الفاظ میں دعا کیا کرتے تھے

  اے اللہ مجھے میرے گناہ بخش دے،میری جہالت،میرے خدشات میں میری غير معتدل.اورتو نے اپنے آپ مجھ سے کہیں (میرے معاملات کی) بہتر آگاہ ہو.اے اللہ مجھے بخش دے،سنجیدگی سے یا دوسری صورت میں (جو گناہ میں نے ارتکاب کیا) (اور میں نادانستہ طور پر اور جان بوجھ کر مصروف عمل ہیں. یہ تمام (ناکامی) مجھ میں ہیں۔ اے اللہ تمام غلطیاں جن کو میں نے جلد بازی میں کیا مجھے بخش دے۔ جن کو رازداری میں یا لوگوں کے سامنے کیا تو (ان) سے بہتر آگاہ ہے. اے اللہ تو پہلی اور آخری اور ہر چیز پر تو ہی غالب ہو.  مسلم 35: 6563

حضرت داود کی یہ دعا بہت زیادہ مشاہبت رکھتی ہے۔ جب اُنہوں نے اپنے گناہوں کی مغفرت کے کے لیے دعا کی۔

1 اَے خُدا! اپنی شفقت کے ُمُطابق مجھ پر رحم کر۔اپنی رحمت کی کژت کے مطُابق میر ی خطائیں مِٹادے
2 میری بدی کو مجھُ سے دھو ڈال اور میرے گُنا ہ سے مجھُے پاک کر۔
3 کیونکہ مَیں اپنی خطاؤںکو مانتا ہُوں ۔ اور میر ا گُناہ ہمیشہ میر ے سا منے ہے ۔
4 مِیں نے فقط تیر ا ہی گنا ہ کیا ہے ۔ اور وہ کا م کیا ہے جو تیر ی نظر میں برُا ہے ۔ تاکہ تُو اپنی با تو ں میں راست ٹھہرے ۔ اور اپنی عدالت میں بے عیَب رہے ۔
5 دیکھ ! میں نے بدی میں کی صُورت پکڑی اور گناُ ہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا ۔
6 دیکھ تُو باطنِ کی سچائی پسند کرتا ہے ۔ اور باطِن میں مجھے ہی دانائی سکھاِ ئے گا۔
7 زُوفے سے مُجھے صاف کر تُو مُیں ہو نگا۔ مجھے دھو اور بر ف سے زیادہ سفید ہُو گا ۔
8 مُجھے خوشی اور خُر می کی خبر سُنا تاکہ وہ ہڈیاں جو تونے توڑڈالی ہیں شادمان ہو ں ۔
9 میر ے گناہو ں کی طرف سے اپنا منہ پھیر ے ۔ اور میر ی سب بدکاریاں مِٹا ڈال ۔

                                                                                                         زبور 15: 1-9

ہم ان مقدس ہستیوں کو دیکھتے ہیں۔ جو بے شک انبیاء اکرام بھی تھے؛ لیکن اس کے ساتھ وہ انسان بھی تھے۔ جو حضرت آدم سے پیدا ہوئے تھے۔ اسی لیے اُن کو گناہ کے ساتھ جدوجہد کرنی پڑی اور اُن کو معافی کی ضرروت تھی۔ اس کو ہم نسلِ آدم کی عالمگیر حالت کہتے ہیں۔

مقدسہ کنواری کا پاک بیٹا

لیکن اس بیٹے کے بارے میں یسعیاہ نبی نے پیشن گوئی کی تھی۔ کہ وہ قدرتی طور پر اپنی ابتدائی زندگی سے برائی کو رد اور نیکی کو چن لے گا۔ یہ اُس کی جبلت میں ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اُس کا نسب نامہ مختلف ہو۔ دیگر تمام نبیوں کا نسب نامہ اُن کے آباواجداد کے زریعے حضرت آدم سے جاملتا ہے۔ اور ہم نے دیکھا کہ اُنہوں نے “برائی کو در اور نیکی کو نہیں چنا ہے۔ بلکہ جس طرح حضرت آدم کی نسل بڑھ گئی ہے۔ اُسی طرح اُن کی اولاد میں باغی فطرت بھی بڑھتی گئی اور ہم اب اسی کی لِپیٹ میں ہیں۔ اگرچہ انبیاء اکرام بھی اسی کی زد میں آگے۔ لیکن جو بیٹا کنواری سے پیدا ہوا۔ وہ اس خاصیت سے پیدا ہوا ہے۔ کہ اُس کا نسب نامہ اس سے فرق ہوگا۔ جسکی وجہ سے وہ پاک ٹھہرے گا۔ اسی لیے قرآن شریف میں جب فرشتہ حضرت مریم کو پیغام دیتا ہے۔ تو وہ اُس کو ایک “پاک بچے” کی بشارت دیتا ہے۔

  1. (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: میں تو فقط تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروںo

  2. (مریم علیہا السلام نے) کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوںo

  3. (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا: (تعجب نہ کر) ایسے ہی ہوگا، تیرے رب نے فرمایا ہے: یہ (کام) مجھ پر آسان ہے، اور (یہ اس لئے ہوگا) تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنادیں، اور یہ امر (پہلے سے) طے شدہ ہےo

  4. پس مریم نے اسے پیٹ میں لے لیا اور (آبادی سے) الگ ہوکر دور ایک مقام پر جا بیٹھیںo

                                                                                      سورۃ مریم 19: 19-22

حضرت یسعیاہ کی پیشن گوئی بہت زیادہ واضع تھی۔ اور بعد میں دوسری کتابوں نے بھی اس پیشن گوئی سے اتفاق کیا۔ کہ ایک کنواری سے بیٹا پیدا ہوگا۔ جسکا کوئی دنیاوی باپ نہ ہوگا جس طرح ہمارے ہیں۔ اور اُس میں گناہ کی فطرت نہیں ہوگی۔ اس لیے وہ “پاک” ہوگا۔

جنت کے باغ میں بازگشت

لیکن یہ ہی بات نہیں کے بعد میں آنے والی کتابوں نے اتفاق کیا۔ کہ ایک کنواری سے بیٹا پیدا ہوگا۔ بلکہ اس بات کے بارے میں ابتداء میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اہم اس کو حضرت آدم کی نشانی میں پڑھ سکتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ایک وعدہ دیا تھا۔ میں اس کو یہاں دوہرا دیتا ہوں۔

اور میں (اللہ تعالیٰ) تیرے (شیطان) اور عورت (حوا) کے درمیان تیری نسل (شیطان کی نسل) اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تو اُس (عورت کی نسل) کی ایڑی پر کاٹے گا۔                                                                 پیدائش 3: 15

اللہ تعالیٰ شیطان کی نسل اور عورت کی نسل کو تربیت دے گا اور عورت اور ابلیس کی نسل کے درمیان دسشمنی پائی جائے گی۔ شیطان کی نسل ایڑی پر کاٹے گی۔ اور عورت کی نسل اُسکے سر کو کچلے گی۔ اس تعلقات کو یہاں تصویر میں دیکھایا گیا ہے۔

جنت میں اولاد کے لیے دیا گیا وعدہ

برائے مہربانی اس بات پر غور کریں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی یہ نہیں کہا تھا۔ کہ مرد کی نسل بلکہ یہ کہا تھا کہ عورت کی نسل سے۔ یہ بات بہت غیر معمولی ہے۔ خاص طور پر تورات شریف، زبور شریف اور انجیل شریف میں تو بیٹوں پر زور دیا جاتا ہے۔ جو اپنے باپ دادا سے ظاہر کئے جاتے ہیں۔ حقیقت میں جدید مغربی تنقید نگار ان کتابوں کے بارے میں تنقید کرتے ہیں۔ کہ اِن میں خون کے تعلق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ جو عورت کی طرف سے ملتا ہے۔ یہ جنسی امتیاز ہے۔ کیوں کہ اولاد مرد سے پہچانی جاتی ہے۔ لیکن یہ ایک مختلف معاملہ ہے۔ لیکن یہاں یہ وعدہ نہیں ہے کہ وہ نسل (وہ، HE) مرد سے آئے گی۔ یہاں صرف یہ ہی وعدہ کیا جا رہا ہے کہ یہ عورت کی نسل سے آئے گی۔ اور یہاں مرد کا ذکر نہیں کیا گیا۔

حضرت یسعیاہ کی پیشن گوئی “کنواری کا بیٹا” وہ “عورت کی نسل” سے ہے

ابھی کنواری سے ایک بیٹے کی پیشن گوئی بہت زیادہ واضع ہے۔ باغ جنت میں کہی جانے والی پیشن گوئی بڑی واضع تھی کہ نسل (بیٹا) ایک عورت سے آئے گا (کنواری) میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ واپس جائیں اور حضرت آدم کے نشان میں ہونے والی بات چیت کو پڑھیں۔ آپ اس پیشن گوئی کواُس واقع میں درست دیکھیں گے۔ تمام بنی آدم کی تاریخ کے شروع سے لیکر سب ایک ہی مسلے کا شکار ہیں۔ کہ “برائی کو رد اور نیکی کو چن” نہ سکے۔ جس طرح ہمارے جداِامجد نے نافرمانی کو چن لیا۔ اس لیے جب گناہ دنیا میں آیا اور اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ ایک پاک ہستی آئے گی۔ جوآدم کی نسل میں سے نہیں ہوگا۔ وہ شیطان کے سر کو کچلے گا۔

لیکن یہ پاک بیٹا کیسے ایسا کرے گا؟ اگریہ ایک پیغام دینے کا کام ہوتا تو حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ نے پہلے سے بڑی ایمانداری اور کامل طریقے سے پیغام پہنچا دیا تھا۔ لیکن پاکیزہ بیٹے کا کردار مختلف ہوگا۔ لیکن اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہم زبور شریف کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔

زبور شریف کا تعارف

حضرت داود انبیاءاکرام میں سے اہم نبی ہیں۔  اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے ساتھ اولاد کا وعدہ اور ایک عظیم قوم بنانے اور ایک  نئے نظام کو (یعنی یہ نظام اللہ کا اسکے لوگوں کے تعلق کے بارے میں ہے) شروع کیا – اور حضرت ابراہیم نے بڑی قربانی دی.حضرت موسیٰ نے مصر میں فسح کی قربانی کے زریعے بنی اسرائیل کو فرعون سے آزاد کروایا۔ اور پھر اُن کو ایک قانون دیا تاکہ وہ ایک قوم ہوسکیں۔ لیکن کیا خامی تھی کی ایک بادشاہ کی حکمرانی کے دوران لوگوں کو برکات ملنے کی بجائے لعنتیں ملیں۔ حضرت داود ایک بادشاہ اور نبی تھے۔ اُنہوں نے یروشلیم سے بادشاہت کے نظام کو رائج کیا۔

حضرت داود کون تھے؟

                   آپ اسرائیل کی تاریخ کے ٹائم لائن سے معلوم کرسکتے ہیں۔ کہ حضرت داود حضرت ابراہیم سے 1000 (ہزار سال) قبل مسیح اور حضرت موسیٰ کے 500 (پانچ سوسال) بعد نازل ہوئے۔ حضرت داود نے شروع میں اپنے خاندان کی بھیڑوں کی چوپانی کرنے لگے۔ بنی اسرائیل کے دیو ہیکل دشمن جالوت نے اسرائیل کے خلاف فوجی مہم جوئی کی اور اسرائیلی اس وجہ سے پریشان اور گھبرائے۔ تاہم حضرت داود نے جالوت کو للکارا اور اُس کو جنگ میں قتل کر ڈالا۔ یہ بڑی قابلِ فخر بات تھی کہ ایک چھوٹے لڑکے نے جو بھیڑوں کا چرواہا تھا۔ اُس نے ایک دیوہیکل فوجی کو مار ڈالا۔ اس لیے حضرت داود بہت زیادہ مشہور ہوگے۔ تب بنی اسرائیل نے اپنے دشمن کو شکست دی۔ قرآن شریف نے ہمیں اس جنگ کے بارے میں بتایا ہے۔ جو درج ذیل ہے۔

 پھر انہوں نے ان (جالوتی فوجوں) کو اللہ کے امر سے شکست دی، اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کر دیا اور اﷲ نے ان کو (یعنی داؤد علیہ السلام کو) حکومت اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں جو چاہا سکھایا، اور اگر اﷲ (ظلم و جور روا رکھنے والے اَمن دشمن) لوگوں کے ایک گروہ کو (تکریمِ اِنسانیت اور اَمن کا تحفظ کرنے والے) دوسرے گروہ کے ذریعے نہ ہٹاتا رہتا تو زمین (پر انسانی زندگی بعض جابروں کے مسلسل تسلّط اور ظلم کے باعث) برباد ہو جاتی مگر اﷲ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔                                                                           سورۃ البقرہ 251

اس جنگ کے بعد حضرت داود ایک جنگجو کے طور پر بہت مشہور ہوگے۔ اس طرح حضرت داود طویل اور مشکل تجربات کے بعد بادشاہ بن گے۔ کیونکہ اُن کے دشمن کافی تھے۔ حضرت داود کے بنی اسرائیل میں اور باہر دوسری قوموں میں دشمن موجود تھے۔ کتاب مقدس میں پہلا (1) اور دوسرا (2) سموئیل کی کتابوں میں اُن کی مشکلات اور فتوحات کا ذکرپایا جاتا ہے۔ حضرت سموئیل جو بنی اسرائیل کے نبی تھے۔ اُنہوں نے حضرت داود کو مسح (مخصوص) کیا تھا۔

حضرت داود ایک مشہور موسیقار تھے۔  جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں خوبصورت حمد اور نظمیں لکھیں۔ قرآن شریف میں مندرجہ ذیل آیت میں ذکر آیا ہے۔

  1. (اے حبیبِ مکرّم!) جو کچھ وہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر جاری رکھیئے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے۔

  2. بے شک ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِ فرمان کر دیا تھا، جو (اُن کے ساتھ مل کر) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھے۔

  3. اور پرندوں کو بھی جو (اُن کے پاس) جمع رہتے تھے، ہر ایک ان کی طرف (اطاعت کے لئے) رجوع کرنے والا تھا۔

  4. اور ہم نے اُن کے ملک و سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھا۔                                         سُورة ص 17-20

ان آیات میں بنایا گیا کہ حضرت داود ایک مضبوط جنگجو تھے۔ لیکن اُن کی تعریف حمد و گیت بنانے پر بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داود کو ایک بادشاہ ہونے کی حثیت سے حکمت اور بولنے کی عقل بخشی تھی۔ یہ تمام نظمیں اور حمد کے گیت حضرت داود کی کتاب زبور شریف میں درج ہیں۔ جن کو ہم زبورشریف کے طور پر جانتے ہیں۔ کیونکہ ساری حکمت اور کلام سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا۔ اس طرح حضرت داود  پر نازل ہونے والا کلام پاک ہے۔ جس طرح تورات شریف پاک ہے۔  قرآن شریف اس کے بارے میں یوں فرماتا ہے۔

اور آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (آباد) ہیں، اور بیشک ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔    (سورۃ اسرار 55)

حضرت سلیمان زبور شریف کو جاری رکھتے ہیں

                   لیکن اس وحی کا سلسلہ حضرت دواد نبی تک ہی نہیں روکتا۔ اور حضرت داود بزرگ ہو کر مرگے۔ اُن کا جانشین اور وارث حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ سے حکمت اور وحی عطا ہوئی۔ قرآن شریف میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

 اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو (فرزند) سلیمان (علیہ السلام) بخشا، وہ کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ بڑی کثرت سے توبہ کرنے والا ہے۔                                                 سورۃ ص 38: 30

اور

  1. اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام کا قصہ بھی یاد کریں) جب وہ دونوں کھیتی (کے ایک مقدمہ) میں فیصلہ کرنے لگے جب ایک قوم کی بکریاں اس میں رات کے وقت بغیر چرواہے کے گھس گئی تھیں (اور اس کھیتی کو تباہ کر دیا تھا)، اور ہم ان کے فیصلہ کا مشاہدہ فرما رہے تھے۔
  2. چنانچہ ہم ہی نے سلیمان (علیہ السلام) کو وہ (فیصلہ کرنے کا طریقہ) سکھایا تھا اور ہم نے ان سب کو حکمت اور علم سے نوازا تھا اور ہم نے پہاڑوں اور پرندوں (تک) کو داؤد (علیہ السلام) کے (حکم کے) ساتھ پابند کر دیا تھا وہ (سب ان کے ساتھ مل کر) تسبیح پڑھتے تھے، اور ہم ہی (یہ سب کچھ) کرنے والے تھے۔ سُورة الْأَنْبِيَآء 78- 79
  1. اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو (غیر معمولی) علم عطا کیا، اور دونوں نے کہا کہ ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے۔

                                                                                      سُورة النَّمْل 15

لہذا حضرت سلیمان نے الہامی کتابوں کو زبور شریف میں شامل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ حضرت سلیمان کی کتابوں کے نام (امثال، واعظ، اور غزلالغزلات) ہیں۔

زبور شریف اگلے انبیاءاکرام کے ساتھ جاری رکھتا ہے

لیکن حضرت سلیمان کے انتقال کے بعد آنے والے زیادہ تر بادشاہوں نے تورات شریف کی پیروی کرنا ترک کردی۔ اور نہ ہی ان بادشاہوں پر وحی نازل ہوئی۔ صرف حضرت سلیمان اور حضرت داود ہی ان تمام بادشاہوں میں ایسے تھے۔ جن پر وحی نازل ہوتی تھی۔ اور وہ بادشاہ ہونے کے ساتھ نبی بھی تھے۔ لیکن حضرت سلیمان کے بعد آنے والے بادشاہوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو کلام دے کر بھیجا۔ حضرت یونس جن کو ایک بڑی مچھلی نے نگلیا تھا۔ اُن نبیوں میں سے ایک تھے۔

  1. اور یونس (علیہ السلام بھی) واقعی رسولوں میں سے تھے۔

  2. جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف دوڑے۔

  3. پھر (کشتی بھنور میں پھنس گئی تو) انہوں نے قرعہ ڈالا تو وہ (قرعہ میں) مغلوب ہوگئے (یعنی ان کا نام نکل آیا اور کشتی والوں نے انہیں دریا میں پھینک دیا)۔

  4. پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (اپنے آپ پر) نادم رہنے والے تھے۔

  5. پھر اگر وہ (اﷲ کی) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔

  6. تو اس (مچھلی) کے پیٹ میں اُس دن تک رہتے جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔                                       سُورة الصَّافَّات   139-144

اور یہ سلسلہ 300 سال جاری جس میں بہت سارے انبیاءاکرام آتے رہے۔ اُن پر اللہ تعالیٰ وحی کے زریعے لوگوں کو گناہ سے خبردار کرنے کے لیے کلام اللہ نازل کرتا رہا۔ اس طرح یہ نبوتی کلام زبور شریف میں درج ہوتا رہا۔ جس طرح یہاں وضات کی گئی ہے۔ کہ آخر بابلی حکومت نے اسرائیلیوں پر فتح حاصل کی اوراُن کو قید کرکے بابل لے گے۔ اور فارص کے بادشاہ کے زریعے یروشیلم واپس آگئے۔ تاہم اس قید کے وقت بھی نبیوں کو بھیجا گیا۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام دیتے رہے۔ یہ پیغامات زبور شریف کی آخری کتابوں میں لکھا گیا ہے۔

زبور شریف میں حضرت مسیح کے آنے کی اُمید

                             یہ تمام انبیاءاکرام بہت ہی اہم ہیں۔ کیونکہ اُن کے پیغام میں انجیل شریف کی بنیاد پائی جاتی ہے۔ دراصل “مسیح” کا لقب حضرت داود نے زبور شریف میں متعارف کروایا گیا۔ اور بعد میں آنے والوں انبیاء اکرام نے مزید مسیح موعود کے بارے میں پیشین گوئیاں کی۔ یہ خاص اُس وقت پیشن گوئی دی گئی۔ جب اسرائیلی بادشاہ تورات شریف کی عطا میں ناکام ہوگے۔ حضرت مسیح کے آنے کی پیشن گوئی کی اُمید اور وعدہ اُس وقت کیا گیا۔ جب لوگوں نے تورات شریف پر عمل کرنے میں ناکام ہوگے۔ نبیوں نے مستقبیل کے بارے میں بتایا۔ جس طرح حضرت موسیٰ نے بھی تورات شریف میں ذکر کیا۔ اور یہ پیشین گوئیاں آج کے جدید دور میں ہمارے لیے ہیں۔ جو سیدھی راہ پر نہ چل سکے اور ہم اس کے بارے میں جاننا چاہتے۔ کہ حضرت مسیح کا نام نااُمیدی کے درمیان اُمید کا ایک چراغ ہیں۔

حضرت عیسیٰ مسیح نے کیسے زبور شریف کو پیش کیا؟

                   اصل میں حضرت عیسیٰ مسیح نے اپنے حواریوں کو انجیل شریف کی تعلیم کو سیکھانے کے لیے استعمال کیا۔ کہ اُس میں مسیح کا کیا کردار ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے میں یوں بیان ہے۔

27 پھِر مُوسیٰ سے اور سب نبِیوں سے شُرُوع کر کے سب نوِشتوں میں جِتنی باتیں اُس کے حق میں لِکھی ہُوئیں ہیں وہ اُن کو سَمَجھا دیں۔  لوقا 24: 27

اس آیت میں جو جملہ آیا ہے ” اور سب نبیوں” سے مراد ہے۔ وہ تمام نبی جو زبور شریف اور تورات شریف کے پیروکار تھے۔ حضرت عیسیٰ مسیح چاہتے تھے کہ وہ اس بات کو سمجھا دیں کے کیسے زبور شریف اور توریت شریف میں اُن کے بارے میں پیشین گوئیاں کی گئی تھیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح اس تعلیم کو جاری رکھتے ہیں۔ جس طرح

44  پھِر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہے جو مَیں نے تُم سے اُس وقت کہِیں تھِیں جب تُمہارے ساتھ تھا کہ ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی توریت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں۔
45 پھِر اُس نے اُن کا ذہن کھولا تاکہ کِتابِ مُقدّس کو سَمَجھیں۔

                                                                                      لوقا 24: 44-45

جب نبیوں اور زبور کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ تو اس سے مراد ہے۔ زبور شریف کی پہلی کتاب جو حضرت داود نے لکھی ۔ اور پھر بعد میں دوسرے نبیوں پرمکمل ہوئیں۔ حضرت عیسیٰ مسیح چاہتے تھے۔ کہ ” اُن کے ذہین کھول جائیں۔” تاکہ اُن کے پیروکاروں کلام مقدس کو سمجھ سکیں۔ اگلے آنے والے مضامین میں ہمارا مقصد یہ ہوگا کہ ہم زبور شریف کی کتابوں میں اس بات کو سیکھ سکیں۔ کہ ان کتابوں میں حضرت عیسیٰ مسیح نے کیا سیکھایا۔ تاکہ ہمارے زہین بھی کھولیں اور ہم انجیل شریف کو سمجھ سکیں۔

حضرت داود اور دوسرے نبیوں کی تاریخ کا ٹائم لائن

نیچھے دی گئی تصویر میں تقریباً سب انبیاء اکرام شامل ہیں۔ رانگ دار سلاخیں ہر ایک نبی کی زندگی کے عرصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹائم لائن کا رنگ کا کوڈ کی اسی انداز میں اسرائیلیوں کی تاریخ اور اس طور پر ہم نے موسی کی نعمت اور لعنت سے ان کی تاریخ کی پیروی کرتے ہیں.

حضرت داود اور دوسرے نبیوں کی تاریخ کا ئم لائن

نیچھے دی گئی تصویر میں تقریباً سب انبیاء اکرام شامل ہیں۔ رانگ دار سلاخیں ہر ایک نبی کی زندگی کے عرصہ کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹائم لائن کا رنگ کا کوڈ کی اسی انداز میں اسرائیلیوں کی تاریخ اور اس طور پر ہم نے موسی کی نعمت اور لعنت سے ان کی تاریخ کی پیروی کرتے ہیں.

کا تاریخی ٹائم لائن - نبی داود اور دیگر انبیا - زبور
کا تاریخی ٹائم لائن – نبی داود اور دیگر انبیا – زبور

ہم کنواری کے بیٹے کی پیشن گوئی کے ساتھ جاری رکھیں گے

اختیتام: برکات اور لعنتیں

ہم نے پیچھلے سبق میں سیکھا۔ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ اصول دیتا ہے۔ جن سے ہم ایک سچے پیغمبر کو جان سکتے ہیں۔ ایک پیغمبر کی رسالت کے ایک حصے میں پیش گوئی پائی جاتی ہے۔ انہی اصولوں کو حضرت موسیٰ نے اپنایا۔ اُس نے بنی اسرائیل کے لیے مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کیں۔ اگر حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی تھے تو اُن پیغام کو سچا ہونا لازمی تھا۔ ان پیش گوئیوں کا تعلق بنی اسرائیل کی برکات اور لعنتیوں سے تھا۔ آپ ان تمام برکات اور لعنتوں کو مکمل طور پر پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن یہاں میں نے چند ایک کو مثال کے طور پر پیش کی ہیں۔

حضرت موسیٰ کی برکات

                             حضرت موسیٰ کی شاندار برکات کا بیان اس طرح شروع ہوتا ہے۔ کی اگر بنی اسرائیل دس احکام کی پیروی کریں گے۔ تو پھر وہ ان برکات کو حاصل کرسکیں گے۔ یہ برکات دوسری قوموں کے لیے ایک نشان ہوگا۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جان سکیں اور اُس کو قبول کرسکیں۔ جس طرح یہ لکھا ے۔

اور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائیں گی۔

                                                                                                استثنا 28: 10

تاہم اگر وہ اُن دس احکام کی پیروی نہیں کریں گے۔ تو وہ برکات کے بدلے لعنتیں حاصل کریں گے۔ لعنت برکات کے برعکس ملیں گی۔ پھر ان لعنتوں سے بھی دوسری قوموں میں نشان ہوگا۔

اور اُن سب قوموں میں جہاں جہاں خداوند تجھ کا پہنچائے گا تو باعث حیرت اور ضربُ المثل اور انگشت نُما بنے گا۔                                                                          استثنا 28: 37

یہ لعنتیں بنی اسرائیل کے لیے ہونگی۔

اور وہ تجھ پر اور تیری اولاد پر سد نشان اور اچنبھے کے طور پر رہیں گی۔

                                                                                                استثنا 28: 47

اور اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ سب سے بُری لعنت یہ ہوگی جو دوسروں کی طرف سے آئیں گی۔

49 خداوند دور سے بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھا لائے گا جیسے عُقاب ٹُوٹ کر آتا ہے۔ اُس قوم کی زبان کو تو نہیں سمجھے گا۔ 50 اُس قوم کے لوگ تُرش رو ہوں گے جو نہ بُڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوانوں پر ترس کھائیں گے۔ 51 اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے اور وہ تیرے لئے اناج یا مے یا تیل یا گائے بیل کی بڑھتی یا تیری بھیڑ بکریوں کے بچے کچھ نہیں چھوڑیں گے جب تک وہ تجھ کو فنا نہ کر دیں۔ 52 اور وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کئے رہیں گے جب تک تیری اُونچی اُونچی فصیلیں جن پر تیرا بھروسا ہوگا گر نہ جائیں۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی اُس ملک کی سب بستیوں میں کریں گے۔ جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے۔

                                                                                                استثنا 28: 49-52

اور یہ سب سے بدترین ہوگی۔

 63 تب یہ ہوگا کہ جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تم کر بڑھانے سے خداوند خوشنود ہوا ایسے ہی تم کو فنا کرانے اور ہلاک کر ڈالنے سے خداوند خوشنود ہوگا اور تم اُس ملک سے اُکھاڑدئے جاو گے جہاں تو اُس پر قبضہ کرنے کو جا رہا ہے۔ 64 اور خداوند تجھ کوزمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام قوموں میں پراگندہ کرے گا۔ وہاں تو لکڑی اور پتھر کے اور معبودوں کی جن کو تو یا تیرے باپ دادا جانتے بھی نہیں پرستش کرے گا۔ 65 اُن قوموں کے بیچ تجھ کو چین نصیب نہ ہوگا اور نہ تیرے پاوں کے تلوے کو آرام ملے گا بلکہ خداوند تجھ کو وہاں دل لرزان اور آنکھوں کی دھند لاہٹ اور جی کی کُڑھن دے گا۔                            استثنا   28: 63-65

یہ لعنتوں اور برکتوں کے لیے عہد قائم کیا گیا تھا۔

12 تاکہ تو خداوند اپنے خدا کے عہد میں جسے وہ تیرے ساتھ آج باندھتا اور اُس کی قسم میں جسے وہ آج تجھ سے کھاتا ہے شامل ہو۔ 13 اور وہ تجھ کو آج کے دن اپنی قوم قرار دے اور وہ تیرا خدا ہو جیسا اُس نے تجھ سے کہا۔ جیسی اُس نے تیرے باپ دادا ابراہیم اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھائی۔ 14 اور میں اس عہد اور قسم میں فقط تم ہی کو نہیں۔ 15 پر اُس کو بھی جو آج کے دن خداوند ہمارے خدا کے حضور یہاں ہمارے ساتھ کھڑا ہے اور اُس کو بھی جو آج کے دن یہاں ہمارے ساتھ نہیں اُن میں شامل کرتا ہوں۔                                                             استثنا 29: 12-15

دوسرے الفاظ میں اس عہد کا تعلق اسرائیل کے بچوں کے ساتھ اور مستقبل کی نسلوں کے ساتھ ہوگا۔ دراصل یہ عہد برائے راست مستقبل کی نسلوں سے تھا۔ یعنی ان دونوں کے لیے جو اسرائیل اور غیر قومیں میں سے ہونگی۔

21 اور خداوند اس عہد کی اُن سب لعنتوں کے مطابق جو اس شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں اُسے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے بُری سزا کے لیے جُدا کرے گا۔ 22 اور آنے والی پشتوں میں تمہاری نسل کے لوگ جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے اور پردیسی بھی جو دور کے ملک سے آئیں گے جب وہ اس ملک کی بلاوں اور خداوند کی لگائی ہوئی بیماریوں کو دیکھیں گے۔ 23 اور یہ بھی دیکھیں گے کہ سارا ملک گویا گندھک اور نمک بنا پڑا ہے اور ایسا جل گیا ہے کہ اس میں نہ تو کچھ بویا جاتا نہ پیدا ہوتا اور نہ کسی قسم کی گھاس اُگتی ہے اور وہ سدوم اور عمورہ اور ادمہ اور ضبوئیم کی طرح اُجڑگیا جن کو خداوند نے اپنے غضب اور قہر میں تباہ کرڈالا۔ 24 تب وہ بلکہ سب قومیں پوچھیں گی کہ خداوند نے اس ملک سے ایسا کیوں کیا ؟ اور ایسے بڑے قہر کے بھڑکنے کا سبب کیا ہے؟

25 اُس وقت لوگ جواب دیں گے کہ خداوند ان کے باپ دادا کے خدا نے عہد ان کے ساتھ ان کو ملک مصر سے نکالتے وقت باندھا تھا اُسے اِن لوگوں نے چھوڑ دیا۔ 26 اور جا کر اور معبودوں کی عبادت اور پرشتش کی جن سے وہ واقف نہ تھے اور جن کو خداوند نے ان کو دیا بھی نہ تھا۔ 27 اسی لیے اس کتاب کی لکھی ہوئی سب لعنتوں کو اس ملک پر نازل کرنے کے لیے خداوند نے قہر اور غصہ اور بڑے غضب میں ان کو ان کے ملک سے اُکھاڑ کر دوسرے ملک میں پھینکا جیسا آج کے دن ظاہر ہے۔                                                                   استثنا 29: 21-27

کیا برکات اور لعنتیں آئیں؟

جن برکات کا وعدہ کیا گیا تھا وہ شاندار اور حیران کن تھیں لیکن لعنتوں کی دھمکی شدید قسم کی تھی۔ بہرحال یہاں پر سب سے اہم ترین سوال یہ کہہ سکتے ہیں۔ ” تو کیا یہ سب باتیں ہوئیں ؟ ” اس کا جواب دیتے ہوئے ہم جانیے گے۔ کہ حضرت موسیٰ ایک سچے پیغمبر تھے۔ اور یہ بھی دیکھیں گے کہ آج ہماری زندگی میں اُن باتوں سے کیا راہنمائی ملتی ہے۔ جسکا جواب ہماری مٹھی میں ہے۔ کتاب مقدس کے عہد نامہ عتیق میں سب سے زیادہ بنی اسرائیل کی تاریخ لکھی گئی ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے۔ کہ اس تاریخ میں کیا ہوا۔ اس کے علاوہ ہم نے پرانے عہد نامے سے ہٹ کر یہودیوں کے مورخ یوسیفس اور یونانی اور رومی مورخ  Tacitus تاست اور اس کے علاوہ ہمارے پاس آثارِقدیمہ سے بہت سے شواہد پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام زرائع بنی اسرائیل کی تاریخی تصویر کو مل کر پینٹ کرتے ہیں۔ اور یہ ہمارے لیے ایک اور نشان ہے۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا جائزہ ہے۔ جس کو ہم تصویروں اور ٹائم لائن کی مدد سے معلوم کرسکتے ہیں کہ اُن کے ساتھ کیا واقعات پیش آئے۔

ہم نے اس تاریخ میں سے کیا سیکھا؟ جی ہاں! حضرت موسیٰ نے جن لعنتوں کا کیا وہ اُسی طرح وقوع میں آئیں۔ اور یہ بالکل اُس طرح وقوع میں آئیں جس طرح کئی ہزار سال پہلے لکھی گئیں تھیں۔ (یاد رکھیں یہ پشن گوئیاں ان واقعات کے رونما ہونے سے پہلے لکھیں گئیں)

لیکن جن لعنتوں کی بات حضرت موسیٰ نے کی اُن کا اختتام نہیں ہوا تھا۔ ان کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں دیکھیں گے کہ حضرت موسیٰ کیسے ان لعنتوں سے ایک نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔

1 اور جب یہ سب باتیں یعنی برکت اور لعنت جن کو میں نے آج تیرے آگے رکھا ہے تجھ پر آیئں اور تو اُن قوموں کے بیچ جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو ہنکا کر پہنچا دیا ہو اُن کو یاد کرے۔ 2 اور تو اور تیری اولاد دونوں خداوند اپنے خدا کی طرف پھریں اور اُس کی بات اِن سب احکام کے مطابق جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے مانیں۔ 3 تو خداوند تیرا خدا تیری اسِیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا اور پھر کر تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہوجمع کرے گا۔ 4 اگر تیرے آوارہ گرد دنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کرکے لے آئے گا۔ 5 اور خداوند تیرا خدا اُسی ملک میں تجھ کو لائے گا جس پر تیرے باپ دادا نے قبضہ میں لائے گا۔ پھر وہ تجھ سے بھلائی کرے گا اور تیرے باپ دادا سے زیادہ تجھ کو بڑھائے گا۔

                                                                                      استثنا 30: 1-5

یہاں پر ایک بار پھر سے سوال پوچھیں گے۔ کیا واقعی یہ واقعات رونما ہوئے؟ یہاں کلک کریں اور ان کے تسلسل کی تاریخ کو دیکھیں۔

تورات شریف کا اختتام اور زبور شریف کی آمد

                             ان برکات اور لعنتوں کے سنائے جانے کے بعد تورات شریف کا نزول بند ہوجاتا ہے۔ حضرت موسیٰ تورات شریف کے مکمل ہونے کے تھوڑے عرصے بعد انتقال کر جاتے ہیں۔ پھر بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کے شاگرد حضرت یشوع کی راہنمائی میں ملکِ موعودہ میں داخل ہوتی ہے۔ اور وہ وہاں رہنا شروع کرتے ہیں۔ جس طرح بنی اسرائیل کی تاریخ میں بیان کیا گیا ہے۔ کہ وہ وہاں بغیر بادشاہ اور دارلحکومت کے رہتے۔ جب تک حضرت دواد بادشاہ بن کر سامنے نہ آئے، حضرت دواد پرانے عہد نامے کے ایک اور حصہ کو شروع کرتے ہیں۔ جیسے قرآن شریف زبور شریف کا نام دیتا ہے۔ ہمیں زبور شریف کو بھی پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے کیونکہ جن نشانات کو تورات شریف نے شروع کیا تھا۔ یہ اُن کو اس حصہ میں جاری رکھتا ہے۔ جو ہمیں انجیل شریف کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ ہمارے اگلے سبق میں ہم سیکھیں گے کہ قرآن شریف کیسے حضرت عیسیٰ اور زبور شریف کے بارے میں بیان کرتا ہے۔

تورات شریف میں “نبی” کی نشانی

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے 40 سال تک بنی اسرائیل کی پیشوائی کی۔ اُنہوں نے دس احکام اور قربانیوں کی تعلیم تحریری صورت میں اُن کو دی۔ اُنہوں نے تورات شریف میں بہت ساری نشانیوں کے بارے میں بھی لکھا۔ اس سے پہلے ہم تورات شریف کے مطالعہ کو ختم کریں۔ آئیں ہم اس میں پائے جانے والے نمونوں کا جائزہ لیں۔

تورات شریف کے نمونوں کا جائزہ

                   چنائچہ تورات شریف میں سے ابھر کر سامنے آنے والی نشانیوں کا نمونہ درج ذیل ہے؟

تورات شریف میں قربانیاں کا نمونہ

                   ہمیں اس بات کی اہمیت پر غور کرنا چاہیے کہ کس طرح تورات شریف میں بار بار قربانیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مندرجہ ذیل قربانیوں پر غور کریں۔

یہ تمام قربانیاں پاک جانوروں کی پیش کی جاتیں۔ ان میں بیل، بھیڑ، اور بکرہ، یہ تمام نر جانور تھے۔ سوائے ایک بچھیا جو مادہ تھی۔

یہ قربانیاں لوگوں کے کفارے کے لیے پیش کی جاتیں۔ اس کا مطلب ہے۔ کہ قربانی دینے والے شخص کی شرم اور جرم (گناہ) ڈھانپ دی جاتی۔ یہ قربانیوں کا سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو چمڑے کے کرتوں کے وسیلے سے پایا۔ اُس کو چمڑے کے کُرتے حاصل کرنے کے لیے ایک جانور کی موت درکار تھی۔ تاکہ اُن کا ننگاپن ڈھانپ دیا جاتا۔ یہاں پر ایک بہت ہی اہم سوال پوچھا جاسکتا ہے۔ کہ آج مزید قربانیاں کیوں پیش نہیں کی جاتیں؟ ہم اس کا جواب بعد میں دیں گے۔

تورات شریف میں راستبازی کا نمونہ

                    تورات شریف میں لفظ “راستبازی” مسلسل استعمال ہوا ہے۔ ہم اس لفظ کو سب سے پہلے حضرت آدم کی نشانی میں دیکھتے ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے بتایا۔ کہ یہ “راستبازی کا لباس” بہتر ہے۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم کو داستباز کہا گیا۔ جب انہوں نے اس وعدے پر ایمان لایا کہ اللہ تعالیٰ اُس کو ایک بیٹا دیئے گا۔ قوم بنی اسرائیل کو بتایا گیا۔ کہ وہ راستبازی حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر وہ تمام شریعت کے احکام کی مکمل طور پر پیروی کریں گے۔

تورات شریف میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کا نمونہ

                   ہم نے اس نمونے کو بھی دیکھا کہ جو کوئی شریعت کی مکمل طور پر پیروی کرنے میں ناکام ہوا۔ اُس کو اللہ تعالیٰ کی عدالت کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس کی شروعات حضرت آدم سے ہوئی۔ جن کو صرف ایک نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی عدالت موت لاتی ہے کیونکہ اُس پاک ذات کے آگے سب ناکام اور ناپاک ہیں۔ یہ موت یا تو قربانی کی صورت میں کسی جانور پر یا پھر کسی انسان پر آتی ہے۔ جو شریعت پر مکمل طور پر عمل کرنے میں ناکام ہوگیا ہو۔ مندرجہ ذیل قربانیوں پر غور کریں۔

  • حضرت آدم کے لیے ایک جانور کی قربانی دی۔ تاکہ اُس کی کھال حاصل کی جاسکے۔
  • حضرت ہابیل نے جانور کی قربانی پیش کی۔ اس طرح ایک جانور کی موت ہوئی۔
  • حضرت نوح نے سیلاب کے بعد قربانی پیش کی۔ اس طرح ایک جانور کی موت ہوئی۔
  • حضرت لوط کے واقعہ میں نافرمانی کے باعث سدوم اور عمورہ کے لوگ مارے گئے۔ اور حضرت لوط کی بیوی نمک کا ستون (موت آئی) بن گئی۔
  • حضرت ابراہیم کی آزمائش میں اُس کے بیٹے کو قربان ہونا تھا۔ لیکن اُس کی جگہ ایک منڈھا ماراگیا۔ اور خدا نے یہ وعدہ کیا “خدا مہیا کرے گا”۔
  • فسح کے موقع پر کہا گیا تھا کہ ایک بکرہ قربان کیا جائے اور اس کا خون چوکھٹوں پر لگایا جائے۔ ورنہ نافرمانی کی صورت میں پہلوٹھا مارا جائے گا۔
  • اللہ تعالیٰ کی شریعت کے احکام کی پیروی مکمل طور پر نہ کرنے کے جرم میں آدمی کو یا پھر بکرے کو کفارے کے دن مرنا تھا۔

ان تمام تر نمونوں کا مطلب کیا ہے۔ ہم اس کے بارے میں جانتے جائیں گے جیسے جیسے ہم مطالعہ کو جاری رکھیں گے۔ لیکن اب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون تورات شریف کے اختتام پرمستقبیل کے بارے اہم پیغام دیتے ہیں، جن کو اُنہوں نے برائے راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کیا تھا۔ جو آج ہمارے لیے بڑے اہم ہیں۔ اُنہوں نے آنے والے “نبی” اور “برکات اور لعنتوں” کے بارے میں بتایا۔ ہم یہاں آنے والے نبی کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

آنے والا “نبی”

                   جب اللہ تعالیٰ نے کوہ سینا پر حضرت موسیٰ کو پتھرکی تختیاں دیں تو اُس وقت خدا نے اپنی آپ کو قادرِمطلق اور اپنی عطمت کو بیان کیا۔ تورات شریف میں پتھر کی تختیاں دی جانے سے پہلے اس واقعے کو یوں بیان کرتی ہے۔

18 اور کوہ سینا اُوپر سے نیچے تک دُھوئیں سے بھر گیا کیونکہ خُداوند شُعلہ میں ہو کر اُس پر اُترا اور دھواں تنُور کے دھوئیں کی طرح اوپر کو اٹھ رہا تھا اور وہ سارا پہاڑ زور سے ہل رہا تھا ۔
19 اور جب قرناکی آواز نہایت ہی بلند ہوتی گئی تو مُوسیٰ بولنے لگا اور خُدانے آواز کے ذریعہ سے اُسے جواب دیا ۔                                                            خروج 19: 16-18

جب لوگ ڈرسے گھبراگئے۔ تورات شریف اس کو یوں بیان کرتی ہے۔

18 اور سب لوگوں نے بادل گرجتے اور بجلی چمکتے اور قرناکی آواز ہوتے اور پہاڑ سے دھواں اُٹھتے دیکھا اور جب لوگوں نے دِیکھا تو کانپ اُٹھے اور دور کھٹرے ہوگئے ۔
19 اور مُوسیٰ سے کہنے لگے تُو ہی ہم سے باتیں کیا کر اور ہم سن لیا کریں گے لیکن خُدا ہم سے باتیں نہ کرے تانہ ہو کہ ہم مر جائے ۔                                     خروج 20: 18-19

یہ واقعہ حضرت موسیٰ کے اسرائیلیوں کی راہنمائی کے 40 سال کے سب سے ابتدائی عرصہ میں پیش آیا۔ اور تورات شریف کے آخر میں اللہ تعالیٰ ماضی کی صورت حال کے بارے میں یاد کرواتا ہے۔ اور لوگوں کو ماضی کے خوف کی یاد دلاتا ہے۔ اور مستقبیل کے بارے میں وعدہ کرتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ نے اس کو تورات شریف میں تحریر کردیا تھا۔

15 خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا ۔ تُم اُسکی سُننا ۔
16  یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہو گا جو تُو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن حورب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سُننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو تاکہ میں مر نہ جاوں ۔
17 اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں ۔
18  میں اُنکے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرونگا اور اپنا کلام اُسکے منہ میں ڈالونگا اور جو کچھ میں اُسے حکم دونگا وہی وہ اُن سے کہے گا ۔
19 اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جنکو وہ میرا نام لیکر کہے گا نہ سُنے تو میں اُنکا حساب اُس سے لونگا ۔
20  لیکن جو نبی گستا خ بنکر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جسکے کہنے کا میں نے اُسکو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے ۔
21 اور اگر تُو اپنے دل میں کہے کہ جو بات خداوند نے نہیں کہی ہے اُسے ہم کیونکر پہنچانیں ؟
22  تو پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور اُسکے کہے کے مطابق کچھ واقع یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں بلکہ اُس نبی نے وہ بات خود گستاخ بنکر کہی ہے تُو اُسے خوف نہ کرنا ۔                        استثنا 18: 15-22

اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ لوگ اُس کا مکمل طور پر احترام کریں۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ  نے تختیاں پر لکھے دس احکام کو پڑھا۔ تو لوگوں کے درمیان ایک بڑھا خوف چھاگیا۔ لیکن اب وہ مستقبیل میں دیکھتا ہے۔ اور وعدہ کرتا ہےکہ مستقبیل میں بنی اسرائیل میں سے ایک حضرت موسیٰ کی مانند نبی برپا ہوگا۔ اور پھر دو راہنما اصول دیئے جاتے ہیں۔

  1. ۔ اگر لوگ آنے والے نبی کی طرف توجہ نہ دیں گے تو اللہ تعالیٰ لوگوں سے اس کے بارے میں حساب لے گا۔
  2. ۔ اس بات کا فیصلہ یہ ہے کہ جوپیشن گوئی نبی نے کی اگر وہ اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ تو پھر اس کو پورا ہونا لازمی ہے۔

پہلے اصول کے مطابق یہ ضروری نہ تھا۔ کہ حضرت موسیٰ کے فوراً بعد ایک نبی آجاتا۔ لیکن آنے والے نبی کی خاص بات یہ تھی۔ کہ اُس کی سننی ہوگی۔ کیونکہ اُس کے پیغام کے ساتھ اُس کا کردار بھی لاثانی ہوگا۔ اُس کا کلام میرے مُنہ کی باتیں ہونگی۔ چونکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی مستقبیل کے بارے میں جانتا ہے۔ اور یقینی طور پر کوئی بھی مستقبیل کے بارے میں جانتا نہیں۔ دوسرا اصول یہ تھا کی لوگوں کی فیصلہ کرنے میں مدد کی جائے۔ کہ آیا یہ کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نہیں۔ اس راینمائی کی وجہ سے لوگ آنے والے “نبی ” کے بارے میں نبی اسرائیل سے توقع لگائے رکھتے۔ لیکن اس وعدے کو کبھی بھولا نہیں گیا تھا۔ ہم اگلے مضمون میں دیکھیں گے کہ کیسے حضرت موسیٰ دوسرے اصول کی مستقبیل کے بارے میں “برکت اور لعنت” کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔ اور اس طرح تورات کا اختتام ہوتا ہے۔

لیکن آنے والے بنی کے بارے میں کچھ خیالات کہ “وہ کون تھا” ؟ کچھ اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ حضرت محمد  کے بارے حوالہ دیا جاتا ہے۔ لیکن غور طلب بات ہے۔ کہ وہ نبی اسرائیلیوں میں سے ہی ہوگا۔ اس طرح وہ ایک یہودی ہوگا۔ تاہم اُن کے بارے میں یہ حوالہ نہیں دیا جاسکتا۔ کئی اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ حوالہ حضرت عیسی مسیح کے بارے میں ہے کیونکہ وہ اسرائیل میں سے یہودی قبیلہ میں سے تھے۔ اور اور جسطرح فرمایا گیا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اُن کے منہ میں ہوگا۔ وہ اُسی لیے صاحبِ اختیار کی طرح تعلیم دیتے۔ ہم مزید مفاہمت حاصل کرنے کے لیے مقدس کتابوں کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔

حضرت ہارون کی پہلی نشانی “1 گائے 2 بکرے کی قربانی”

ہم نے حضرت موسیٰ کی دوسری نشانی میں جانا کہ کوہ سینا پر ملنے والے احکام بہت زیادہ دلچسپ تھے۔ اس مضمون کے آخر میں میں نے آپ کو سوال پوچھا۔ (کیونکہ شریف کایہ مقصد تھا) کہ کیا آپ ہر روز شریعت پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ اور میں شریعت پر مکمل طور پر عمل نہیں کرتے۔ تو پھر ہم سنگین مشکل میں ہیں۔ اور قیامت ہم پر لٹک رہی ہے۔ اگر آپ شریعت پر مکمل طور پر پیروی اور عمل کررہے ہیں تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر مکمل طور پر شریعت پر عمل کرنے میں ناکام ہیں۔ تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے؟ حضرت ہارون (حضرت موسیٰ کے بھائی اور ان کو اللہ تعالیٰ کے گھر میں خدمت کے لیے بلایا گیا) اور اُس کی اولاد کو قربانیوں کے انتظام کے لیے مقرر کیا گیا۔ ان قربانیوں سے گناہ کا کفارہ دیا جاتا تھا۔ حضرت ہارون کو دو خاص قربانیوں کی نشانی کی تعلیم دی گئی۔ کہ کیسے اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو جو ہم نے شریعت کو توڑ کر کئے۔ اُن پر پردہ ڈال دے گا۔ یہ قربانیاں ایک گائے اور دو بکروں کی تھیں۔ چلیں آئیں ہم بکروں کی قربانی سے شروع کرتے ہیں۔

بکرے کی قربانی اور کفارے کا دن

                   حضرت موسیٰ کی پہلی نشانی “فسح” میں یہ بتایا گیا۔ کہ اسرائیلی لوگوں نے کیسے فرعون کی غلامی سے رہائی پائی۔ لیکن اس کے ساتھ تورات شریف دوسرے تہواروں کا حکم بھی دیتی ہے۔ لیکن خاص طور پر کفارے کے دن کو اہم کہا گیا۔ (یہاں کلک کریں اور تورات شریف میں سے کفارے کے بارے میں مکمل اقتباس پڑھیں)۔ کہ کیوں کفارے کے بارے میں اتنی محتاط اور تفصیلی ہداہات دی گئی ہیں؟

1 اور ہارون کے دو بیٹوں کی وفات کے بعد وہ جب خداوند کے نزدیک آئے اور مر گئے۔
2 خداوند موسی سے ہمکلام ہوا اور خداوند نے موسی سے کہا اپنے بھائی ہارون سے کہہ کہ وہ ہر وقت پردہ کے اندر کے پاکترین مقام میں سرپوش کے پاس جو صندوق کے اوپر ہے نہ آیا کرے تاکہ وہ مر نہ جائے کیونکہ میں سرپوش پر ابر میں دکھائی دونگا۔

                                                                                                 اخبار 16: 1-2

اُس وقت کیا ہوا جب حضرت ہارون کے دونوں بیٹے مارے گئے۔ جب وہ بڑی تیزی کے ساتھ اُس مقام میں داخل ہوئے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی حضوری موجود تھی۔ لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ کی پاک حضوری میں شریعت پر عمل کرنے میں ناکامی کے باوجود داخل ہوگے۔ تو اس کا نتیجہ اُن کی موت نکلا۔ کیوں ؟ اُس جگہ پر عہد کا صندوق موجود تھا۔ قرآن شریف نے بھی عہد کے صندوق کے بارے ذکر کیا ہے۔ یہ اس طرح ہے۔

 اور ان کے نبی نے ان سے فرمایا: اس کی سلطنت (کے مِن جانِبِ اﷲ ہونے) کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس صندوق آئے گا اس میں تمہارے رب کی طرف سے سکونِ قلب کا سامان ہوگا اور کچھ آلِ موسٰی اور آلِ ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہوں گے اسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہوگا، اگر تم ایمان والے ہو تو بیشک اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے                  سورۃ البقرہ 248

یہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ عہد کا صندوق اللہ تعالیٰ کے اختیار کی نشانی تھا۔ کیونکہ صندوق حضرت موسیٰ کی شریعت کے عہد کی نشانی تھا۔ کوہ سینا پر ملنے والی پتھر کی دو تختیاں جن پر دس احکام تحریر کئے گئے تھے۔ اُس صندوق میں رکھے ہوئے تھے۔ اور اگر کوئی بھی اُس صندوق کے سامنے شریعت کی پیروی کرنے میں ناکام پایا جاتا۔ وہ وہاں ہی مارا جاتا تھا۔ سب سے پہلے حضرت ہارون کے دونوں بیٹے مارے گئے۔ جب وہ اُس خیمہ میں داخل ہوئے۔ اسی لیے محتاط تفصیلات دی گئیں تھیں۔ جن میں یہ بھی شامل تھا کہ سال میں صرف ایک ہی دن حضرت ہارون خیمہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ وہ دن کفارے کا دن ہوتا۔ اگر وہ کسی اور دن خیمہ میں داخل ہو گا ( جسطرح اُس کے بیٹے داخل ہوگے) تو مارا جائے گا۔ لیکن کفارے کے دن خیمہ میں داخل ہونے سے پہلے حضرت ہارون کو کچھ خاص کام کرنا پڑتا۔ پھر وہ عہد کے صندوق کے پاس جاسکتا تھا۔

6 اور ہارون خطا کی قربانی کے بچھڑے کو جو اسکی طرف سے ہے گذران کر اپنے اور اپنے گھر کے لئے کفارہ دے۔ ۔ ۔13  اور اس بخور کو خداوند کے حضور آگ میں ڈالے تاکہ بخور کا دھواں سرپوش کو جو شہادت کے صندوق کے اوپر ہے چھپالے کہ وہ ہلاک نہ ہو۔    اخبار 16: 6،13

چنانچہ ایک بچھڑا ہاورن اور اُسکے خاندان کے لیے قربان کیا جاتا۔ تاکہ اگر اُنہوں نے شریعت کی مکمل طور پر پیروی نہیں کی تو اُن کے گناہوں کا کفارہ ہوسکے۔ اور اس کے فوراً بعد حضرت ہارون بکرے کئ قربانی کی تقریب ادا کرتے۔

7 پھر ان دونوں بکروں کو لیکر انکو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر خداوند کے حضور کھڑا کرے۔
8 اور ہارون ان دونوں بکروں پر چھٹیاں ڈالے۔ایک چھٹی خداوند کے لئے اور دوسری عزازیل کے لئے ہو۔
9 اور جس بکرے پر خداوند کے نام کی چھٹی نکلے اسے ہارون لیکر خطا کی قربانی کے لئے چڑھائے۔                                                                             اخبار16: 7-9

بچھڑے کی قربانی کے بعد حضرت ہارون 2 بکرے لیتے اور اُن کا قرعہ ڈالتے۔ ایک بکرا بیابان میں چھوڑ دینے کے لیے نامزد ہوتا اور دوسرا بکرا خطا کی قربانی کے لیے قربان کردیا جاتا۔ کیوں؟

15 پھر وہ خطا کی قربانی کے اس بکرے کو ذبح کرے جو جماعت کی طرف سے ہے اور اسکے خون کو پردہ کے اندر لاکر جو کچھ اس نے بچھڑے کے خون سے کیا تھا وہی اس سے بھی کرے اور اسے سرپوش کے اوپر اور اسکے سامنے چھڑکے۔
16 اور بنی اسرائیل کی ساری نجاستوں اور گناہوں اور خطاؤں کے سبب سے پاکترین مقام کے لئے کفارہ دے اور ایسا ہی وہ خیمہ اجتماع کے لئے بھی کرے جو انکے ساتھ انکی نجاستوں کے درمیان رہتا ہے۔                                                                           اخبار 16: 15-16

   اور اُس چھوڑے ہوئے بکرے کے ساتھ کیا ہوا؟

20 اور جب وہ پاکترین مقام اور خیمہ اجتماع اور مذبح کے لئے کفارہ دے چکے تو اس زندہ بکرے کو آگے لائے۔
21  اور ہارون اپنے دونوں ہاتھ اس زندہ بکرے کے سر پر رکھ کر اسکے اوپر بنی اسرائیل کی سب بدکاریوں اور انکے سب گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کرے اور انکو اس بکرے کے سرپر دھر کر اسے کسی شخص کے ہاتھ جو اس کام کے لئے تیار ہو بیابان میں بھجوا دے۔
22 اور وہ بکرا ان کی سب بدکاریاں اپنے اوپر لادے ہوئے کسی ویرانہ میں لے جایئگا،سووہاس بکرے کو بیابان میں چھوڑدے۔                                                       اخبار 16: 20-22

بچھڑے کی قربانی اور موت حضرت ہارون کے اپنے گناہوں کے لیے گزرانی جاتی تھی۔ پہلے بکرے کی قربانی اسرائیل کے لوگوں کے گناہ کے لیے گزرانی جاتی۔ پھر حضرت ہارون زندہ بکرے کے سر پراپنے ہاتھ رکھتا۔ اور یہ اس کا نشان ہوتا کہ اس بکرے پر پوری قوم کے گناہ ڈال دیئے گے ہیں۔ اس بکرے کو بیابان میں چھوڑ دیا جاتا۔ جسکا نشان ہوتا کہ قوم کے اُن سے گناہ مٹائے گئے ہیں۔ ان قربانیوں کے ساتھ اُن کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا تھا۔ یہ سب کچھ ہر سال ” کفارے کے دن” ہوتا تھا۔

سورۃ البقرہ اور تورات شریف میں “بچھیا”

                   حضرت ہارون دوسری قربانیوں کے ساتھ “گائے/ بچھیا” کی قربانی کرتے تھے۔ یہ بچھیا ہی ہے جسکی قربانی کی وجہ سے قرآن شریف کی دوسری سورۃ کا نام انگریزی میں ” The Cow ” اور اردو اور عربی میں البقرہ ہے۔ قرآن شریف اس جانور کے بارے میں برائے راست بات کرتا ہے۔ قرآن شریف میں سے مطالعہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ جیسے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ جب یہ حکم دیا گیا تھا۔ کہ بچھیا کی قربانی دی جائے۔ تاکہ ہمیشہ نر جانوروں کو ہی قربانی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ تو لوگ گھبرائے اور پریشان تھے۔

 پھر ہم نے حکم دیا کہ اس (مُردہ) پر اس (گائے) کا ایک ٹکڑا مارو، اسی طرح اللہ مُردوں کو زندہ فرماتا ہے (یا قیامت کے دن مُردوں کو زندہ کرے گا) اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل و شعور سے کام لو.                                                                          سورۃ البقرہ 73

اس لیے ہم کو بھی اس کو ایک نشان تصور کرنا چاہئے۔ اور اسکی طرف توجہ دینی چائے۔ لیکن کس طرح ایک بچھیا ایک نشانی ہوسکتی ہے؟ ہم نے اس کی موت اور زندگی کے بارے میں پڑھا ہے۔ “شاید ہم اس کے بارے میں سمجھ سکیں” جس طرح ہم نے اصل ہدایات تورات شریف میں سے پڑھتے ہیں۔ جو حضرت ہارون کو دئیے گئے تھے۔ تورات شریف سے مکمل حوالہ مطالعہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

5  اورا لیعزر کاہن اپنی انگلی سے اس کا کچھ خون لے کر اسے خیمہ اجتماع کے آگے کی طرف سات بار چھڑکے پھر کوئی اس کی آنکھوں کے سامنے اس گائے کو جلا دے یعنی اس چمڑا اور گوشت اور خون اور گوبر اس سب کو جلا ئے
6 پھر کاہن دیودار کی لکڑی اور زوفا اور سرخ کپڑا لے کر اس آگ میں جس میں گائے جلتی ہو ڈال دے                                                                                           گنتی 19: 5-6

زوفا ایک مخصوص قسم کا درخت تھا۔ جسکی شاخوں سے مصر میں اسرائیلیوں نے بکرے کا خون اپنے دروازں کی چوکھٹوں پر لگایا۔ تاکہ موت کا فرشتہ وہاں سے گزر جائے۔

22  اورتُم زُوفے کا ایک گُچھّا لیکر اُس خُون میں جو باسن میں ہو گا ڈبونا اور اُسی باسن کے خُون میں سے کُچھ اُوپر کی چَوکٹ اور دروازہ کے دونوں بازوؤں پر لگا دینا اور تم میں سے کوئی صبح تک اپنے گھر کے دروازہ سے باہر نہ جائے ۔                                          خروج 12: 22

زوفا دوبارہ بچھیا کے لیے استعمال کیا گیا۔ اور بچھیا ، زوفا، اُون اور دیودار اُس وقت تک جلا دیا جاتا۔ جب تک یہ راکھ نہ بن جائے۔

اور کوئی پاک شخص اس گائے کی راکھ کو بٹورے اور اسے لشکر گاہ کے باہر کسی پاک جگہ میں دھر دے یہ بنی اسرائیل کے لیے ناپاکی دور کرنے کے لیے رکھی ہے کیونکہ یہ خطا کی قربانی ہے                                                                                                               گنتی 19: 9

تو راکھ صاف پانی میں ملادی جاتی۔ اس سے ناپاک شخص کو وضو کروا دیا جائے۔ ( یا غسل) تو اس راکھ ملے پانی سے اُس کی ساری ناپاکی اُس میں سے جاتی رہے گی۔ لیکن یہ راکھ ہرقسم کی ناپاکی کے لیے نہیں تھی۔ لیکن صرف ایک قسم کی ناپاکی دور کرنے کا کام کرتی تھی۔

11 جو کو ئی کسی آدمی کی لاش کو چھوئے وہ سات دن تک ناپاک رہے گا
12  ایسا آدمی تیسرے دن اپنے آپ کو اس راکھ سے پاک کرے تو وہ ساتویں دن پاک ٹھہرے گا پر اگر وہ تیسرے دن اپنے آپ کو صاف نہ کرے تو وہ ساتویں دن پاک نہیں ٹھہرے گا
13  جو کو ئی آدمی لاش کو چھو کر اپنے کو صاف نہ کرے وہ خداوند کے مسکن کو ناپاک کرتا ہے وہ شخص اسرائیل میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ ناپاکی دور کرنے کا پانی اس پر چھڑکا نہیں گیا اس لیے وہ ناپاک ہے اسکی ناپاکی اب تک اس پر ہے   گنتی 19: 11-13

لہذا یہ راکھ ملا پانی وضو کے لیے تھا۔ جب کوئی شخص کسی میت کو ہاتھ لگا دیتا تو وہ اُسے ناپاک کردیتی۔ لیکن ایک مردہ جسم کو ہاتھ لگالینے کے نتیجے میں ایسی سخت ناپاکی کیوں ہوتی۔ اس کے بارے میں زرا سوچیں! آدم اپنی نافرمانی (گناہ) کی وجہ سے فانی بن گیا اور ساتھ میں اُس کے بچے (میں اور آپ) بھی۔ تاہم موت ناپاک ہے کیونکہ یہ گناہ کے نتیجہ میں آئی تھی۔ اس کا تعلق گناہ کی ناپاکی سے جڑا ہوا ہے۔ کسی کی لاش کو چھولینے سے وہ بھی ناپاک ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ راکھ ایک نشانی تھی۔ کہ اس سے نجاست دور ہوجاتی۔ ایک ناپاک شخص اپنی ناپاکی میں مردہ ہے۔ وہ اپنی زندگی کو بچھیا کی راکھ میں سے حاصل کر سکتا ہے۔

 لیکن کیوں ایک مادہ جانور استعمال ہوئی۔ اس کی کوئی براہ راست وجہ بیان نہیں کی گئی۔ لیکن ہم اس کی وجہ کلام اللہ سے تلاس کرسکتے ہیں۔ تمام تورات اور زبور شریف میں اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو نر جنس کے ساتھ واضع کیا۔ اور بنی اسرائیل کو ایک مادہ جنس کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بطور اس ازدواجی مرد اور عورت کے رشتے میں اللہ تعالیٰ راہنمائی کرتا ہے۔ اور اُس کے لوگ اُسکی پیروکاری کرتے ہیں۔ اس طرح ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے کو قربان کر۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہً دس احکام دئیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہی تھا۔ کہ حضرت نوح کی قوم کا حساب کیا گیا۔ اس کے علاوہ اور دیگر مثالیں موجود ہیں۔ یہ کبھی بھی کسی انسان (انبیاءاکرام) کا خیال نہیں تھا۔ اُس کے پیروکار محض اُسکی پیروکاری کرتے تھے۔

بچھیا کی راکھ انسانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تھی۔ اور یہ ضرورت ناپاکی دور کرنا تھی۔ تاہم یہ انسان کے لیے مناسب نشان تھا۔ یہ مادہ جانور تھا جو پیش کی گئی تھی۔ یہ ناپاکی ہمیں شرمندگی کا احساس دلاتی ہے۔ جب ہم گناہ کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف جرم ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے سامنے محسوس کرتے ہیں۔ بلکہ جب میں گناہ کرتا ہوں تو نہ صرف میں شریعت کے قانون کو توڑتا ہوں۔ بلکہ میں خدا کی عدالت کے سامنے مجرم ٹھہرتا ہوں۔ لیکن میں شرم اور افسوس محسوس کرتا ہوں۔ کس طرح اللہ تعالیٰ ہماری شرم کو ہم سے دور کرتا ہے؟ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کپڑے فراہم کرتا ہے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کو چمڑے کے کپڑے فراہم کئے تاکہ اُن کی شرمندگی ڈھانپی جائے۔ اور اُس وقت سے آدم کی اولاد اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپتے ہیں۔ درحقیقت اب یہ فطرتی ہے۔ اور ہم شاذناذر ہی یہ پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے؟ بچھیا کی راکھ سے وضو ایک طریقہ تھا۔ تاکہ ہم اُس آلودگی سے اپنے آپ کو صاف محسوس کر سکیں۔ بچھیا کا مقصد ہمیں صفائی پیش کرتا تھا۔

  تو آؤ ہم سَچّے دِل اور پُورے اِیمان کے ساتھ اور دِل کے اِلزام کو دُور کرنے کے لِئے دِلوں پر چھِینٹے لے کر اور بَدَن کو صاف پانی سے دھُلوا کر خُدا کے پاس چلیں۔ عبرانیوں 10: 22

اس کے برعکس کفارے کے دن نر بکرے کی قربانی بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے تھی۔ اس لیے نر جانور استعمال کیا گیا۔ دس احکام کی نشانی میں ہم نے غور کیا کی نافرمانی کا جرم واضع موت کی ہی وضاحت کرتا ہے۔ (حوالے کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں) اللہ تعالیٰ عدل منصف تھا (اور ہے) اور بطور جج وہ اس گناہ کی وجہ موت مطالبہ کرتا ہے۔ بچھڑے کی قربانی (موت) سے اللہ تعالیٰ کا درکار مطالبہ پورا ہوتا ہے۔ اُسکی موت سے حضرت ہارون کے گناہ کی ادائیگی کی گئی۔ لیکن اس کے فوراً بعد بکرے کی موت سے اللہ تعالیٰ کا مطالبہ پوری قوم کے لیے پورا ہوا۔ کیونکہ اُسکی موت سے قوم بنی اسرائیل کے گناہ کی ادائیگی ہوئی۔ اس کے بعد قوم بنی اسرائیل کے گناہ علامتی طور پر حضرت ہارون کے وسیلے اُس چھوڑے ہوئے بکرے پر منتقل کردئے جاتے۔ اور پھر اُس بکرے کو بیابان میں چھوڑدیا جاتا۔ یہ اس بات کا نشان تھا کی ساری قوم کا گناہ سے چھٹکارا ہو چکا ہے۔

یہ قربانیاں ایک ہزار سال سے زائد حضرت ہارون اور اُسکی اولاد کے وسیلے گزرانی گئی۔ جب قوم بنی اسرائیل کو یہ ساری سرزمین دی گئی۔ اُسی وقت سے حضرت داود اور اُس کے بیٹوں نے اسرائیل پر حکومت کی۔ جہاں بہت سارے نبی انتباہ اور گناہوں سے توبہ کی منادی کرنے آئے۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ مسیح کی زندگی میں بھی یہ قربانیاں ان کی درکار ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ادا کی جاتیں۔

تاہم حضرت موسیٰ اور ہارون کے اس آخری نشانی کے بعد تورات شریف کے پیغامات کا سلسلہ بند ہوگیا۔ اور جلد ہی انبیاءاکرام کا سلسلہ جاری ہوا اور زبور شریف اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچانے لگا۔ لیکن اس تورات شریف کے آخری پیغام حضرت موسیٰ مستقبیل میں آنے والے ایک نبی کے بارے میں دیتا ہے۔ اور اسطرح بنی اسرائیل مستقبیل کی برکات اور لعنتوں کا زکر کرتا ہے۔ یہ تورات شریف میں سے ہمارا آخری مطالعاتی جائزہ ہے۔

کیوں ایک انجیل کے لیے چار اناجیل ہیں؟

میں کبھی پوچھتا ہوں کہ کیوں ایک انجیل(بائیبل مقدس) میں چار مختلف اناجیل ہیں جو چار مختلف لوگوں نے تحریر کی ہیں؟ کیا اس میں متضاد پایا جاتا ہے اور کیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے؟

بائیبل مقدس اس کے بارے میں لکھا ہے۔

3:16-17 تیِمُتھِیُس 2

ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لیے فئدہ مند بھی ہے۔ تاکہ مردِ خدا کامِل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لیے بالکل تیار ہو جائے ۔

لہذا بائبل مقدس کا دعوہ کرتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہی کتابِ مقدس کا مصنف ہے انسانوں نے  اللہ تعالیٰ  کے پاک روح کے وسیلے سے اس کو تحریر کیا ہے۔ اس پر قرآن پوری طرح متفق ہے۔ اس پوسٹ میں ہم نے بڑھے غورسے دیکھا ہے۔قرآن شریف تحریفِ بائیبل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟”

لیکن کس طرح ایک انجیل میں چار اناجیل کو سمجھ سکتے ہیں؟ قرآن شریف میں اکثر ایک واقعہ کے لیے کئی حصے مختلف جگہ پر درج ہیں۔ جب ہم ان تمام حصوں کو اکٹھا پڑھتے ہیں تو واقعہ کی مکمل تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔

مثال کے طور پر:حضرت آدم ؑ کا نشان کے بارے میں19-7:26 سورۃ الاعراف جنت کے واقعہ کا ذکر ہوا ہے۔ لیکن اسکا ذکر سورۃ ٰطہٰ میں 121-123: 20 میں بھی ذکر ہوا ہے۔ لیکن اس دوسرے حوالے میں ہم اور زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ کہ حضرت آدم ؑ  کو گمراہ کیا گیا تھا۔ جسکا ذکر سورۃ الاعرف میں نہیں ملتا۔ ان دونوں حوالہ جات کو پڑھنے کے بعد ہم حضرت آدم ؑ کے واقعہ کو بہتر اور مکمل طور پر سمجھ پاتے ہیں۔ اور ان دونوں حوالہ جات کا یہی مقصد تھا کی ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔

اسی طرح چار اناجیل (کتابِ مقدس) بائبل مقدس میں ہمیشہ اور صرف ایک ہی انجیل کو پیش کرتی ہیں۔ جب ہم ان کو اکٹھا پڑھتے ہیں۔ تو یہ ہم کو حضرت عیسی کی انجیل کی مکمل سمجھ بخشتی ہیں۔ ہر چوتھی انجیل میں ایک خاص مواد ملتا ہے جو دوسری تینوں اناجیل میں نہیں ملتا۔ اس طرح جب ہم ان کو اکٹھا پڑھتے ہیں۔ تو یہ ہم کو واضع تصویر پیش کرتی ہیں۔

اس لیے جب ہم انجیل شریف کی بات کی جاتی ہے تو اس کو واحد ہی شمار کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں ایک حوالہ ہے جس میں اسکی مثال پائی جاتی ہے۔ کہ انجیل کا شمار ہمیشہ واحد ہوا ہے۔

گلتیوں 11-1:13

 اے بھا ئیو! میں تمہیں جتائے دیتا ہوں کہ میں نے جس انجیل کی تعلیم تمہیں دی ہے اس کو انسان نے نہیں بنایا۔  اور

کیونکہ وہ (انجیل) مجھے انسان کی طرف سے نہیں پہنچی اور نہ مجھے سیکھائی گئی بلکہ یسوع مسیح کی طرف سے مجھے اُس کا مکاشفہ ہوا۔

۔چنانچہ یہودی طریق میں جو پہلے میرا چال چلن تھا تم سُن چکے ہو کہ میں خدا کی کلیسیا کو ازحد ستاتا اور تباہ کرتا تھا۔

اسی طرح انجیل شریف کا ذکر قرآن شریف میں ہوا ہے۔ آپ ہماری اس پوسٹ کو پڑھ سکتے ہیں۔ قرآن شریف میں انجیل مقدس کا نمونہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے۔ لیکن جب ہم انجیل شریف کے گواہوں یا کتابوں کی بات کرتے ہیں ۔ تو یہ چار ہیں۔ درحقیقت شریعت کے مطابق کسی بات یا معاملے میں صرف ایک گواہ کی گواہی پر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ شریعت کے مطابیق کم از کم دو یا تین گواہوں کی گواہی درکار ہوتی ہے۔(گنتی 19:15) جو ایک خاص واقعہ یا پییغام کی گواہی دیتے ہیں۔ چار گواہوں کو فراہم کرنے کی وجہ سے انجیل شریف شریعت کی درکار ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

کیوں بائبل مقدس کے بہت سارے ورژن / تراجم پائے جاتے ہیں؟

کچھ عرصہ پہلے میں ایک مسجد میں تھا۔ اور وہاں ایک امام صاحب کو سُن رہا تھا۔ امام صاحب نے جو کچھ کہا وہ بالکل غلط اور سچائی سے پر مبنی نہیں تھا۔ جو کچھ میں نے امام صاحب سے سُنا وہ میں نے پہلے ہی اپنے دوستوں نے سُن چکا تھا۔ اور شائد آپ نے بھی اس کو سنا ہو۔ اس سب کچھ نے میرے ذہین میں مختلف سوال پیدا کردیے۔ آیئں ان پر مِل کرغور کرتے ہیں۔

امام صاحب نے کہا کہ بائبل مقدس کے بہت سارے ورژن / تراجم ہیں ۔ انگلش میں آپ کو کنگ جیمز ورژن، نیو انٹرنیشنل ورژن ، دی نیو امریکن سٹنڈرڈ ورژن ، اور دی نیو انگلش ورژن پڑھ سکتے ہیں اور اس طرح کے کئی اور ورژن مل جائیں گے۔ پھر امام صاحب نے کہا بہت سارے مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے بائبل میں تبدیلی ہو چکی ہے۔ تاہم یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کون سا ترجمہ درست ہے۔

جی ہاں! ہمارے بہت سارے تراجم موجود ہیں ۔ لیکن ن کا بائبل مقدس میں تبدیلی کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی یہ مختلف کتابیں ہیں۔ دراصل حقیقت میں ایک ہی بائبل ہے۔

مثال کے طور پر جب کبھی ہم بات کرتے ہیں۔ دی نیو انٹر نیشنل ورژن کی۔ تو ہم دراصل بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک خاص ترجمے کی جو اصل بائبل کے متن یونانی (انجیل) اور عبرانی (تورات، زبور) سے انگلش میں جسکا ترجمہ ہوا۔ دی نیو امریکن سٹینڈرڈ ورژن ایک اور ترجمہ ہے جو اصل بائبل کے متن یونانی اور عبرانی زبان سے انگلش میں ترجمہ ہوا۔

اسی طرح کی صورت حال قرآن شریف کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ عام طور پرمیں یوسف علی کا ترجمہ استعمال کرتا ہوں۔ لیکن کئی بار میں پکٹ ہال کا ترجمہ بھی استعمال کرتا ہوں۔ پکٹ ہال نے وہی قرآن سے ترجمہ کیا جس کو یوسف علی نے ترجمے کے لیے استعمال کیا۔ لیکن اس کی انگلش کے الفاظ کا مجموعہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ لیکن نہ کوئی عیسائی، نہ کوئی یہودی، اور نہ کوئی لادین یہ کہتا ہے۔ کہ انگلش میں قرآن شریف کے دو مختلف تراجم ہیں اس لیے یہ دو قرآن شریف بھی دو ہیں یا قرآن شریف میں تبدیلی ہوگئی ہے۔

اسی طرح یونانی میں انجیل شریف اور عبرانی میں تورات اور زبور شریف ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ ان زبانوں کو نہیں جانتے اور نہ ہی پڑھتے ہیں۔ اس لیے انگلش میں مختلف تراجم موجود ہیں۔ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کا پیغام اپنی اصل زبان میں سمجھ سکیں۔

آج جب بہت سارے لوگ اپنی مادری زبان انگلش اور اردو میں مختلف تراجم یا ورژن پڑھتے ہیں۔ تاکہ وہ بہتر طورپر کلام اللہ کو سمجھ سکیں۔ لیکن کیا تراجم میں غلطیاں پائی جاتی ہیں؟ تو کیا ؐمختلف تراجم ہمیں بتاتے ہیں کہ جو کچھ اصل مصنف نے لکھا اسکا درست ترجمہ کرنا ناممکن ہے؟ لاتعداد یونانی میں پرانا لٹریچر ہونے کی وجہ سے یہ ممکن ہے۔ کہ اصل زبان میں جو کچھ مصنف نے لکھا ہے۔ اُس کا درست ترجمہ ہوسکتا ہے۔ دراصل مختلف جدید تراجم کچھ اس طرح ہیں۔

یہاں ایک آیت نئے عہد نامے سے مثال کے طورپر لی گئی ہے۔

1-تمتھیس2:5

یونانی میں

εις γαρ θεος εις και μεσιτης θεου και ανθρωπων ανθρωπος χριστος ιησους

پہلا ترجمہ

کیونکہ خدا ایک ہے اور خدا اور انسان کے بیچ میں درمیانی بھی ایک ہے یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے۔

دوسرا ترجمہ

کیونکہ خدا ایک ہے اور خدا اورانسانوں کے درمیان ایک صلح کرانے والا بھی موجود ہے یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ دونوں تراجم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ ان میں چند مختلف مترادف الفاظ کا ہی فرق ہے۔ یہ دونوں تراجم ایک ہی بات بات کہہ رہے ہیں۔ لیکن الفاظ کا چُناو مختلف ہے۔ کیونکہ بائبل مقدس ایک ہے اور اس وجہ سے اس کے تراجم بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مختلف بائبلیں ہیں۔ جس طرح میں نہیں شروع میں کہا تھا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے مختلف بائبلیں پائی جاتی ہیں۔

بات کو اور ٹھیک طور پر سمجھنے کے لیے ہم قرآن شریف کے تراجم کی مثال لے سکتے ہیں۔

یہاں پر اردو کے دو تراجم سے مثال لیتے ہیں۔ ایک ترجمہ حضرت مولانا فتح محمد جالندھری کا ہے دوسرا تفہیم القرآن اورتیسرا انٹرنیٹ سے لیا گیا ہے۔

 سورة الفَاتِحَة آیت 1

‏ (جالندھری) سب طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے

(تفہیم القرآن) تعریف اللہ کے لیے جو تمام کائنات کا رب ہے۔

(القران اردو ترجمہ) سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا۔

اب اس کا کیا مطلب ہے کہ ہم یہ کہنا شروع کردیں کہ جناب قرآن شریف میں تبدیلی ہوگئی ہے؟ یا یہ کہنا شروع کردیں کہ مختلف قرآن شریف پائے جاتے ہیں؟ ںہیں! یہ کہنا بالکل عقل کے خلاف ہوگا۔ کہ قرآن شریف کی مختلف تراجم ہونے کی وجہ سے مختلف قرآن شریف ہیں۔ دراصل قرآن شریف کی اصل زبان عربی ہے۔ اور اردو میں قرآن شریف کے تین تراجم ہیں۔ جن میں الفاظ کا چناو مختلف ہے۔ لیکن مطلب ایک ہی ہے۔

اسی طرح بائبل مقدس کی یونانی اور عبرانی اصل زبانیں ہیں۔ جن کا اُردو اور انگلش میں بائبل کے مختلف تراجم ہائے جاتے ہیں۔ جن میں الفاظ کا چناو مختلف ہے لیکن مطلب اور بائبل مقدس ایک ہی ہے۔

(حضرت ابراہیم کی تیسری نشانی (قربانی

پچھلی نشانی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک بیٹا عطا کرے گا۔ اور اللہ نے اپنا وعدہ یاد رکھا۔ حقیقت میں تورات اس بات کو جاری رکھتی ہے۔ اور بیان کرتی ہے۔ کہ کس طرح حضرت ابراہیم نے دو بیٹے حاصل کئے۔ تورات کی پہلی کتاب پیدائش کے 16 باب ہمیں بتاتا ہے۔ کہ حضرت ہاجرہ سے حضرت اسمعیل پیدا ہوئے۔ اور پھر پیدائش کے 21 باب ہمیں بتاتا ہے۔ کہ 14 سال بعد حضرت سارہ سے حضرت اضحاق پیدا ہوئے۔ خاندان میں دونوں خواتین کے درمیان جلد جھگڑا شروع ہوگیا۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور اس کے بیٹے کو ایک دوسری جگہ بیج دیا۔ اس واقعہ کا بیان آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ (کلیک کریں) کہ اللہ تعالٰی نے کیسے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل کو برکت دی۔

حضرت ابراہیم کی قربانی بنیادی طور پر عیدالااضٰحی ہے

اب حضرت ابراہیم کے گھرانے میں ایک بیٹا رہ گیا تھا اور حضرت ابراہیم کا سامنا ایک بڑھے امتحان سے ہوا۔ لیکن اس امتحان کے وسیلے ہم اللہ تعالٰی کی سیدھی راہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ آپ قرآن شریف اور تورات شریف سے ان حوالہ جات کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ جن میں حضرت ابراہیم کی قربانی کا ذکر ہے۔ کتاب مقدس میں سے یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ کیوں عیدالاضحی منائی جاتی ہے؟ لیکن یہ ایک تاریخی واقعہ ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بھی ہے۔

ہم حوالہ جات میں پڑھ سکتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے لیے ایک امتحان تھا۔ لیکن یہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا۔ حضرت ابراہیم کا ایک نبی ہونے کی حیثیت سے یہ امتحان ہمارے لیے ایک نشان ہے۔ ہم اس میں سے سیکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہماری فکر کرتا ہے۔ اس نشان کا کیا مطلب ہے؟ برائے مہربانی نوٹ کریں۔ حضرت ابراہیم نے اُس جگہ کا نام کیا رکھا تھا؟ جہاں اُس کا بیٹا قربان ہونا تھا۔ تورات میں سے یہاں حوالہ دیا گیا ہے۔

پیدائش 22: 13-14

اور ابراہیم نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔ تب ابراہیم نے جاکر اُس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قربانی کے طور پر چڑھایا۔

اور ابراہیم نے اُس مقام کا نام یہوواہ یری رکھا چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا جائے گا۔

نوٹ! حضرت ابراہیم نے جو نام اُس جگہ کا رکھا۔ وہ یہ تھا ” خدا مہیا کریں گا ” یہ نام کس زمانہ کو ظاہر کرتا ہے؟ زمانہ حال ، زمانہ ماضی، یا زمانہ مستقبیل کو؟ یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ زمانہ مستقبیل کو ظاہر کرتا ہے۔ اور بھی واضح ہو جاتا ہے جب حضرت موسٰی نے اس کو 500 سال بعد درج کیا۔ تو اس کو اسی طرح لکھا کہ ” مہیا کیا جائے گا ” اس کو زمانہ مستقبیل میں میں ہی لکھا گیا اور یہ مستقبیل کی ہی بات کرتا ہے۔ بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم یہاں مینڈھے کی بات کررہے ہیں۔ جو  ان کے بیٹے کی جگہ قربان ہوا۔ لیکن جب حضرت ابراہیم نے اس جگہ کو نام دیا تو مینڈھا اس سے پہلے قربان ہو چکا تھا۔ اگر حضرت ابراہیم مینڈھے کی بات کر رہے تھے۔ جو قربان ہوا اور نذر کی قربانی کے طور پر جلایا جا چکا تھا۔ تو پھر اس کا یہ نام ہونا چاہیے تھا ” خدا نے مہیا کیا ” زمانہ ماضی استعمال ہونا چاہیے تھا۔ اگر وہ اس مینڈھے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ جو پہلے ہی اُن کے بیٹے کی جگہ قربان ہو چکا۔ توپھر یہ کہاوت اس طرح ہونی چاہیے تھی۔ ” آج تک یہ کہاوت ہے کہ خداوند کے پہاڑ پر مہیا کیا گیا تھا ” لیکن حضرت موسٰی اور حضرت ابراہیم دونوں نے زمانہ مستقبیل ہی کو استعمال کیا۔ اس طرح وہ اس مینڈھے کے بارے میں نہیں سوچتے جو پہاڑ پر قربان ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے تب وہ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اگر اس کے بارے دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو شروع میں پہلا نشان دیا تھا۔

پیدائش  22:2

تب اس نے کہا کہ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاوں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔

یہ واقعہ موریاہ کے پہاڑ پر واقع ہوا۔ یہ پہاڑ کہاں ہے؟ 2000 ق م یعنی حضرت ابراہیم کے وقت میں یہ پہاڑ ایک بیابان تھا۔ ایک ہزار سال بعد 1000 ق م میں حضرت داود نے یروشلیم شہر آباد کیا۔ اور بعد میں حضرت داود کے بیٹے حضرت سلیمان نے ہیکل کی تعمیر کی۔ ہم تورات میں اس کے بارے پڑھ سکتے ہیں۔

2 تواریخ 3:1

اور سلیمان یروشیلم میں کوہ موریاہ پر جہاں اس کے باپ داود نے رویت دیکھی اسی جگہ جسے داود نے تیاری کرکے مقرر کیا یعنی ارنان یبوسی کے کھلیہان میں خداوند کا گھر بنانے لگا۔

دوسرے الفاظ میں ” موریاہ کا پہاڑ ” حضرت ابراہیم اور حضرت موسٰی کے زمانہ میں بیابان تھا لیکن 1000 ق م میں حضرت داود اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں یہ اسرائیلیوں کا دارلحکومت بن گیا تھا۔ جہاں انہوں نے خدا تعالٰی کے لیے ہیکل تعمیر کی اور آج یہ یہودیوں کی پاک ترین جگہ ہے۔

حضرت عیٰسی المسیح کی موریا کے پہاڑ پر مصلوبیت

یہاں پر ہم حضرت عیٰسی المسیح اور انجیل شریف کا برائے راست تعلق پاتے ہیں۔ہم اس تعلق کو اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب ہم حضرت عیٰسی المسیح کے ایک خطاب کو جان جاتے ہیں۔ حضرت عیٰسی المسیح کو بہت سارے خطبات سے نوازا گیا۔ لیکن سب سے مشہور خطاب ” مسیح ” ہے۔ لیکن عیٰسی مسیح کو ایک اور بھی خطاب دیا گیا جو مشہور نہیں ہے۔ لیکن اہم ترین ضرور ہے۔ ہم جب یوحنا کی انجیل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو حضرت یحٰیی ( یوحنا بپتسمہ دینے والا) یہ کہتا ہے۔

یوحنا 1: 29-30

دوسرے دن اس نے یسوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خدا کا برہ ہے جو دنیا کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں نے کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔

ایک اہم لیکن کم مشہور خطاب حضرت عیٰسی کو حضرت یحیٰی نے دیا۔ ” خدا کا برۃ “۔ اب زرا حضرت عیٰسی کی زندگی کے آخری ایام پر غور کریں۔کہاں اُن کو گرفتار  اور مصلوب کیا گیا؟ یہ سارا واقع یروشلیم میں ہوا۔ ( جو موریاہ کے پہاڑ پر واقع ہے)

لوقا 23:7

اور یہ معلوم کرکے کہ ہیرودیس کی عمل داری کو ہے اُسے(حضرت عیٰسی) ہیرودیس کے پاس بھیجا کیونکہ وہ (ہیرودیس) بھی اُن دِنوں یروشلیم میں تھا۔

دوسرے الفاظ میں گرفتاری اور مصلوبیت یروشلیم ہی میں واقع ہوئی (یعنی موریاہ کے پہاڑ پر)۔ زرا واپس حضرت ابراہیم کی کہانی کی طرف آتے ہیں۔ کیوں حضرت ابراہیم نے اُس جگہ کا نام زمانہ مستقبیل میں رکھا؟ ” خدا مہیا کرے گا ” حضرت ابراہیم ایک عظیم نبی تھا اور جانتا تھا کہ مستقبیل میں خدا یہاں مہیا کرے گا۔ اور اس طرح حضرت ابراہیم کا بیٹا قربان ہونے سے بچ جاتا ہے۔ اور اس کی جگہ ایک مینڈھا قربان ہو جاتا ہے۔ 2000 ہزار سال بعد حضرت عیٰسی مسیح کو ” خدا کا برہ ” کہا جاتا ہے۔ اُس کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ٹھیک اُسی جگہ پر مصلوب کیا جاتا ہے۔

قربانی حضرت ابراہیم کے بیٹے کے لیے فدیہ تھا موت سے بچ جانے کا

کیا یہ ہمارے لیے اہم ہے؟ میں غور کرتا ہوں کہ کیسے حضرت ابراہیم کا نہ نشان تکمیل کو پہنچا۔ قرآن شریف کی اس آیت میں حضرت ابراہیم کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

سورة الصَّافات 37:107

  ‏ [جالندھری]‏ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا

فدیہ کا کیا مطلب ہے؟ فدیہ دینے کا مطلب ہے کہ کوئی ایک کسی قیدی کا جرمانہ ادا کردے اور اُس کو اُس قید سے رہائی دلا دے۔ حضرت ابراہیم کے لیے فدیہ کا مطلب ہے کہ وہ کسی کے قیدی تھے۔ بیشک وہ ایک عظیم اوربڑے نبی بھی تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس بات میں قیدی تھے۔ حضرت ابراہیم کی قربانی کا واقعہ ہمیں بتابا ہے۔ کہ وہ موت کے قیدی تھے۔ ہم نے آدم کی نشانی میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو فانی بنایا ہے۔ (انبیااکرام کو بھی) اب وہ موت کے غلام تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم کے اس واقع میں مینڈھا قربان ہوگیا۔ اگر آپ حضرت آدم، حضرت قابیل، حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی پہلی نشانی کا سلسلسے سے مطالعہ کریں۔ تو آپ جانیں گے کہ اِن انبیا اکرام نے جانوروں کی قربانی کی باربار مشق کی۔ وہ جانتے تھے کہ اس قربانی کے باعث ہم بچ جاینں گے۔ اور ہم دیکھ سکتے ہیں یہ عمل ہمیں مستقبیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو حضرت عیٰسی کو خدا کا برہ پیش کرتا ہے۔

قربانی ہمارے لیے برکت

موریاہ کے پہاڑ پر مینڈھے کی قربانی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اور اس کے آخر میں اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو بتایا تھا۔

پیدائش 22:18

اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی کیونکہ تو نے میری بات مانی۔

اگر آپ زمین کی کسی ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ وعدہ آپ کے لیے ہے۔ کیونکہ اس وعدہ کے باعث آپ اللہ تعالٰی سے برکت حاصل کرسکتے ہیں۔ کیا یہ قابلِ قدر بات نہیں؟ کیسے حضرت ابراہیم کی قربانی کا تعلق حضرت عیٰسی مسیح سے اور آج یہ تعلق آپ کے ساتھ ہے؟ اور کیوں ؟ ہم جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے لیے فدیہ دیا گیا اور آج شائد ہمارے لیے یہ ایک نشان ہے۔ لیکن اسکا مکمل جواب ہے ۔ کہ لیے ہم حضرت موسٰی کے نشان میں جاری رکھیں گے ( ان کے دو نشان ہیں) اور یہ ہمارے سوال کا جواب بڑے واضع انداز میں دیں گے۔

لیکن اس وقت یہ بتانا چاہتا ہوں کہ لفظ ” نسل ” یہاں پر واحد ہے۔ یہ نسلیں نہیں ہے۔ جس کا مطلب پشتیں یا قومیں ہے۔ حضرت ابراہیم سے برکت کا وعدہ ایک نسل سے ہے۔ جو واحد ہے۔ واحد کا مطلب ایک ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں بہت سارے لوگ، گروہ ، اور نہ ہی اُنہیں ہے۔ حضرت موسٰی کا فسح کا نشان اس کو سمجھنے میں مدد دے گا۔

حضرت لوط کی نشانی

حضرت لوط ، حضرت ابراہیم  کے بھتیجا تھا۔ اُس نے بدی سے بھرے شہر میں رہنے کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس حالت کو تمام بنی نوع انسان کے لیے نبوتی نشان کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن یہ نشان کیاہے؟ اس کے جواب کے لیے ہمیں اس موجود تمام لوگوں کو بڑے غور سے جانناہوگا۔

یہاں پر کلیک کریں قرآن شریف اور تورات شریف کے حوالہ جات کو پڑھنے کے لیے) ہم قرآن شریف اور تورات شریف کے اس حوالے میں تین لوگوں کے گروہ دیکھتے ہیں۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فرشتے۔ آئیں ہم باری باری ان کے بارے میں غور سے دیکھیں

:سدوم کے مرد

یہ آدمی انتہای گمراہی کا شکار تھے۔ ہم نے دیکھا کے یہاں آدم دوسرے مردوں کے ساتھ جبراً زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ (یہ حقیقی طور پر فرشتے تھے۔ لیکن سدوم کے آدمیوں نے ان کو آدمی سمجھا اور وہ ان سے اجتماعی زیادتی کرنا چاہتے تھے) اس قسم کا گناہ انتہای بُرا تھا اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس شہر کی عدالت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع میں حضرت آدم  کو انتباہ کردیا تھا۔ کہ اُس کی عدالت میں گناہ کی مزدوری موت ہے۔ دوسری اور کوئی قسم کی سزا کافی نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم  سے فرمایا۔

 ((پیدایش 17:2

لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تو نے اُس میں سے کھایا تو مرا۔

اس طرح سدوم کے آدمیوں کے گناہ کی سزاموت ہی تھی۔ در حقیقت آسمان سے آگ نازل ہوئی اور پورے شہر کو اور ہر ایک جاندار کو تباہ و برباد کردیا۔ اس کی مثال بعد میں انجیل شریف میں دی گئی ہے۔

رومیوں 23:6

کیونکہ گناہ کی مزدری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوند مسیح یسوع میںہمیشہ کی زندگی ہے۔

:حضرت لوط  کے داماد

حضرت نوح  کی کہانی میں اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی عدالت کی اور حضرت آدم  کے نشان کی مطابقت سے تمام دنیا کو سیلاب سے مار ڈالا۔ ہمیں قرآن شریف اور تورات شریف بتاتی ہیں۔ کہ تمام دنیا میں بدی چھاگئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سدوم کے آدمیوں کی عدالت کی کیونکہ اُن کی بدی بہت بڑھ چکی تھی۔ ان سب باتوں کے بعد میں یہ سوچو کہ میں اللہ تعالیٰ کی عدالت سے اس لیے بچ سکتا ہوں۔ کیونکہ میں اُن جیسی بدی نہیں کرتا اور اس طرح میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے بہت سے نیک کام کئے ہیں۔ اور میں نے اُن جیسے بُرے کام نہیں کئے۔ تو کیا میں محفوظ ہوں؟ حضرت لوط  کی نشانی اُس کے دامادوںکے بارے میں مجھے خبردار کرتی ہے۔ کہ وہ اُس گروہ میں شامل نہیں تھے۔جو اجتماعی زیادتی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم اُنہوں نے آنے والی عدالت کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا تھا۔ دراصل تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ وہ سمجھے تھے کہ حضرت لوط ؑ اُن سے مذاح کر رہا ہے۔ کیا اُن کی قسمت اُس شہر کے آدمیوں سے فرق تھی؟ نہیں! بلکہ انہوں نے ایک طرح کی قسمت پائی۔ حضرت لوط  کے دامادوں اور اُس سدوم کے آدمیوں کے نتائج میں کوئی فرق نہ تھا۔ یہ نشان ہر ایک لیے تھا کہ وہ اس کو سنجیدگی سے لیں۔ یہ صرف اُن جنسی گمراہ آدمیوں کے لیے ہی نہ تھا۔

:حضرت لوط  کی بیوی

حضرت لوط  کی بیوی ہمارے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔ قرآن شریف اور تورات شریف دونوں حوالہ جات بتاتے ہیں کہ اُس نے دوسرے لوگوں کے ساتھ سزا پائی۔ اور یہ ایک نبی کی بیوی تھی۔ لیکن اُس کا قریبی رشتہ بھی اُس کو نہ بچا سکا۔ حتٰی نہ وہ بدی میں گمراہ تھی اور نہ ہی وہ سدوم کے آدمیوں کی طرح اُن کی بدی میں شامل تھی۔ لیکن فرشتوں نے اُن سب کو حکم دیا تھا۔

(سورة ھود11: 81 )
فرشتوں نے کہا کہ لُوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہر گز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت اُن پر پڑے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ اُن کے (عذاب) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟۔

پیدایش17:19

 ۔۔۔ نہ تو پیچھے مُڑ کر دیکھنا ۔۔۔

اور تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش ہمیں بتاتی ہے کہ (آیت 17:19)اُس نے پیچھے مُڑ کردیکھا۔ اس کی وضاحت ہمارے پاس نہیں ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اُس نے یہ سوچا ہوگا۔ کہ کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ کے اس چھوٹے سے حکم کو نظرانداز کر دیتی ہوں۔ لیکن اُس کے لیے یہ ایک چھوٹا گناہ بھی اُس طرح تھا جیسے سدوم کے آدمیوں نے بڑا گناہ کیااور مرگے۔ یہ میرے لیے اہم ترین نشانی ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا گناہ بھی مجھے اللہ تعالیٰ کی عدالت سے چُھپ نہیں سکتا۔ حضرت لوط  کی بیوی کا نشان ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہمیں اس طرح کی غلط سوچ نہیں سوچنی۔

:اللہ تعالیٰ ، حضرت لوط  اور فرشتے

جیسے ہم نے حضرت آدم  کی نشانی میں دیکھا۔ جب بھی اللہ تعالیٰ عدالت کرتا ہے۔ اُس کے ساتھ اپنا رحم بھی نازل فرماتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کی نشانی میں اُس نے اُن کے لیے کپڑے فراہم کئے۔ حضرت نوح  کی نشانی میں جب اللہ تعالیٰ نے عدالت کی تو ایک بار پھر کشتی کی صورت میں اپنا رحم فراہم کیا۔ ہم اس کو ایک بار پھر دیکھتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدالت کی تو اُس کے ساتھ اپنی رحمت بھی فرمائی۔ اسکا بیان تورات شریف میں کیا ہے۔

پیدایش 16:19

مگر اُس نے دیر لگائی تو اُن مردوں نے اُسکا اور اُسکی بیوی اور اُسکی دونو بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا کیونکہ خداوند کی مہر بانی اُس پر ہوئی اور اُسے نکال کر شہر سے باہر کردیا۔

ہم اس میں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ابتدائی نشانیوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت عالمیگری تھی لیکن یہ فراہم صرف ایک ہی راہ سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو شہر سے باہر نکلنے کی راہنمائی نہیں کی تھی۔ مثال کے طور پر رحمت فراہم کرناشہر میں ایک پناہ فراہم کرنے کے مترادف تھا۔ جو آسمان سے آگ کو برداشت کرسکتی تھی۔ لیکن یہاں رحمت حاصل کرنے کا صرف ایک ہی راہ تھا۔ کہ فرشتوں کی راہنمائی میں شہر سے باہر نکل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ رحم اس لیے حضرت لوط  اور اُس کے خاندان پر نازل نہیں کیا تھا کہ وہ کامل تھا۔ سچ یہ ہے۔ کہ ہم نے تورات شریف اور قرآن شریف دونوں میں پڑھا کہ حضرت لوط ؑ اُس گمراہ گروہ کو اپنی بیٹیاں پیش کرنے کو تیار تھے۔ شاید یہی ایک عظیم ترین اشارہ ہے۔ تورات شریف ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت لوط  ہچکچاتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے یہ سب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت فرمائی اور اُن کو اُس گمراہ گروہ سے باہر نکالنے کی راہنمائی بھی کی۔ یہ نشانی ہمارے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت پر نازل کریں گا۔ لیکن یہ ہمارے نیک کاموں کی وجہ سے نہیں ہے۔ لیکن لوط  کی طرح پہلے ہمیں اُسکی رحمت کو قبول کرنا ہے۔ تاکہ ہماری مدد ہوسکے۔ حضرت لوطؑ کے دامادوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا۔ جسکی وجہ سے وہ اس سے فائدہ اُٹھا نہ سکے۔

تورات شریف کی پہلی کتاب پیدایش ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط  پر اپنی رحمت اسلئے نازل کی۔ کیونکہ اُس کا چچا حضرت ابراہیم  جو ایک عظیم نبی تھا۔ اُس نے شفاعت کی تھی۔ (حوالے کو پڑھنے کے لیے کلیک کریں) اور پھر تورات شریف حضرت ابراہیم  کی نشانی اور اُس وعدے کو جو اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔ ’سب زمین کی قومیں تجھ سے برکت پائیں گی۔ کیونکہ تونے میری فرمانبرداری کی ہے۔ ( پیدایش 18:22) یہ وعدہ ہمیں خبردار کرتا ہے۔ کہ اسکا کوئی مطلب نہیں کہ ہم کون سی زبان بولتے ہیں۔ ہمارا کیامذہب ہے، یا ہم کہا رہتے ہیں؟ لیکن یہ ہم جان سکتے ہیں ۔ کہ تم اور میں دونوں زمین کی سب قوموں کا حصہ ہیں۔ تاہم اگر حضرت ابراہیم  کی شفاعت سے اللہ تعالیٰ حضرت لوط  کے لیے اپنی رحمت عطاکر سکتا ہے ۔ جب کہ وہ اُس معیار پر بھی پورا نہیں اُترتا تھا۔ تو پھر حضرت ابراہیم  کی نشانیوں سے کس قدر ہمیں رحمت مل سکتی ہے۔ جو پوری دنیا کی قوموں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سوچ کے ساتھ ہم تورات شریف کے انبیاءاکرام کے بارے میں اپنا سفر جاری دیکھیں گے کہ تورات شریف ہمیں حضرت ابراہیم  کی نشانی کے بارے میں کیا بتاتی ہے۔