حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیمی اختیار کا اظہار

حضرت عیسیٰ امسیح شیطان سے آزمائیں جانیں کے بعد ایک پیغمبر کے طور پر اپنی تعلیمی خدمت کا آغاز کرتے ہیں۔ اُن کا سب سے لمبا تعلیمی سیشن “پہاڑی وعظ/ خطبہ ” کہلاتا ہے۔ آپ اُن کا پہاڑی وعظ / خطبہ یہاں سے پڑھ سکتے ہیں۔ ہم نے یہاں ذیل میں روشنی ڈالی ہے۔ اور پھر ہم نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ کیسے حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم حضرت موسیٰ ؑ سے ملتی ہے جس کی اُنہوں نے تورات شریف میں پہلے سے پیش گوئی فرمادی تھی۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیم درج ذیل ہے

21 “وہ بات ایک عرصہ سے پہلے لوگوں سے کہی گئی تھی جس کو تم نے سنا تھا۔ کسی کا قتل نہیں کرنا چاہئے [a] جو شخص کسی کا قتل کرے اس کا انصاف کیا جائیگا۔ 22 لیکن میں تم سے جو کہتا ہوں کہ تم کسی پر غصّہ نہ کرو ہر ایک تمہارا بھائی ہے اگر تم دوسروں پر غصہ کروگے تو تمہارا فیصلہ ہوگا اور اگر تم کسی کو برا کہوگے تو تم سے یہودیوں کی عدالت میں چارا جوئی ہوگی۔اگر تم کسی کو نادان یا اُجڈ کے نام سے پکاروگے تو دوزخ کی آ گ کے مستحق ہوگے۔”

23 “اس لئے جب تم اپنی نذر قربان گاہ میں پیش کرنے آؤ اور یہ بھی یاد آجائے کہ تم پر تمہارے بھائی کی ناراضگی ہے تو، 24 تب اپنی نذر قربان گاہ کے نزدیک ہی چھوڑ دواور پہلے جا کر اسکے ساتھ میل ملاپ پیدا کرو اور پھر اسکے بعد آکر اپنی نذر پیش کرو۔

25 “اگر تمہارا دشمن تمہیں عدالت میں کھینچ لے جارہا ہو تو تم جلد اسکے دوست ہو جا ؤ۔اور تم کو عدالت جانے سے پیشتر ہی ایسا کرنا چاہئے۔اگر تم اسکے دوست نہ بنوگے تو وہ تمہیں منصف کے سامنے لےجائیگا منصف تمہیں سپاہی کے حوالے کریگا تاکہ تمہیں قید میں ڈالا جائے۔ 26 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک تم کوڑی کوڑی کو ادا نہ کرو تم قید سے رہا نہ ہوگے۔

جنسی گناہ سے متعلق یسوع کی تعلیم

27 “اس بات کو تم سن چکے ہو کہ یہ کہا گیا ہے ، تم زنا کے مرتکب نہ ہو، [b] 28 میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی غیر عورت کو زنا کی نظر سے دیکھے اور اس سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہے تو گویااس نے اپنے ذہن میں عورت سے زنا کیا۔ 29 اگر تیری داہنی آنکھ تجھے گناہ کے کاموں میں ملوث کردے تو تو اس کو نکا ل کر پھینک دے۔اس لئے کہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کے بجائے بہتر یہی ہوگا کہ بدن کے ایک حصہ کو الگ کر دیا جائے۔ 30 اگر تیرا داہنا ہاتھ تجھے گناہ کا مرتکب کرے تو اس کو کاٹ کر پھینک دے۔ اس لئےکہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کے بجائے بہتر یہی ہوگا کہ بدن کے ایک حصہ کو الگ کردیا جائے۔

طلاق کے بارے میں یسوع کی تعلیم

31 “یہ بات کہی گئی ہے کہ جوکو ئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو اسکو چاہئے کہ وہ اسکو تحریری طلاق نامہ دے۔ [c] 32 لیکن میں تم سے کہتا ہوں ،” کوئی بھی شخص جو اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ اپنی بیوی کو حرام کا ری کر نے کے گناہ کا قصور وار بناتا ہے- کسی بھی شخص کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کا صرف ایک ہی وجہ ہے- وہ یہ کہ اسکی بیوی نے کسی غیر مرد سے جنسی تعلقات قائم کی ہو-اور کو ئی بھی شخص اس طلاق شدہ عورت سے شادی کر تا ہے تو وہ حرام کاری کا گناہ کر نے کا قصور وار ہے-

قسمیں کھانے کے بارے میں یسوع کی تعلیم

33 “دو بارہ تم سن چکے ہو تمہارے اجداد سے کہی ہوئی بات کہ قسموں کو مت توڑو جو تم نے کھائی ہے اور خداوند کے نام پر کھائی ہوئی قسم کو پورا کرو۔ [d] 34 لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ قسم ہر گز نہ کھا ؤ۔جنّت کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤ کیوں کہ جنت خدا کا تخت ہے۔ 35 زمین کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤکیوں کہ زمین خدا کے پیروں کی چوکی ہے یروشلم کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤ کیوں کہ وہ عظیم شہنشاہ کا شہر ہے۔ 36 تم اپنے سروں کی بھی قسمیں نہ کھاؤ کیو ں کہ تمہارے سر کا ایک بال بھی سیاہ یا سفید کرنا تمہارے لئے ممکن نہیں۔ 37 اگر صحیح ہے تو کہو ٹھیک ہے اور اگر صحیح نہیں ہے تو کہو ٹھیک نہیں ہے تم اس سے بڑھ کر جو کہتے ہو تو وہ بدی سے ہے۔

بدلہ لینے کے بارے میں یسوع کی تعلیم

38 “تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ [e] 39 میں تم سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ برے شخص کے مقابلے میں کھڑے نہ ہو۔اگر کوئی تمہارے دائیں گال پر تھپڑ مارے تو اس کے لئے دوسرا بایاں گال بھی پیش کرو۔ 40 اگر تم سے کوئی کرتا لینے کیلئے تم کو عدالت میں کھینچ لے جائے ،تو تم اسکو اپنا چغّہ بھی دے دو۔ 41 اگر کوئی تم کو زبردستی ایک میل بیکار چلنے کیلئے کہے تو اس کے ساتھ دو میل چلے جاؤ۔ 42 کوئی بھی تم سے اگر کوئی چیز پوچھے جو تمہارے پاس ہے ،تو وہ اسکو دیدو اگر کوئی تم سے قرض لینے کیلئے آئے تو تم اسکو انکار نہ کرو۔

سب سے محبت کرو

43 “تو اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت کر۔ اس کہی ہوئی بات کو تم نے سنا ہے۔ [f]44 لیکن میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ تم اپنے دشمنوں سے محبت کرو اور تمہارا نقصان پہونچانے والے کے لئے تم دعا کرو۔ 45 تب تم آسمان میں رہنے والے تمہارے باپ کے حقیقی بچّے ہوگے۔کیوں کہ تمہارا باپ سورج کو نکالتا اور چمکاتا ہے دونوں کے لئے بروں اور نیکوں دونوں کے لئے بارش بھیجتا ہے دونوں کے لئے راستباز اور غیر راستباز۔ 46 تم سے محبت رکھنے والوں سے اگر تم بھی محبت رکھو گے تو تم کو اس سے کیا صلہ ملیگا ؟اس لئے کہ محصول وصول کرنے والے بھی تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ 47 اگرتم صرف اپنے دوستوں کے حق میں اچھّے بننا چاہتے ہو تو ایسے میں تم دوسروں سے کوئی اتنے اچھے نہیں ہو۔اس لئے کہ خدا کو نہ پہچاننے والے لوگ بھی اپنے دوستوں سے اچھے رہتے ہیں۔ 48 اسلئے جیسا کہ تمہارا باپ آسمانوں میں ہے اسی طرح تم کو بھی کامل بننا چاہئے۔

متّی5:21-48

حضرت عیسیٰ المسیح اور اُن کا پہاڑی وعظ

آپ حضرت عیسیٰ المسیح کے تعلیمی دینے کے انداز کو یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اس طرح بیان کو شروع کرتے ہیں۔ “تم سُن چکے ہو ۔ ۔ ۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں۔ ۔ ۔ ” پھر وہ اپنے سننے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کلام اللہ سے حکم کو مذید واضح کر کے حکم فرمادیتے تھے۔ حضرت عیسیٰ المسیح اُن احکامات کی تعلیم دے رہے تھے جن کو حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو بڑھی سختی سے سیکھایا تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ان کو آسان طریقے سے واضح کیا لیکن ان کو مذید اپنے پیروکاروں کے لیے اور مشکل کرڈالا۔

لیکن یہ قابل ذکر بات ہے کہ اُنہوں نے احکامات میں توسیح کی اور اںہوں نے ایسا اپنے اختیار سے کیا۔ اُنہوں نے بڑھے سادہ سے انداز میں کہا ‘ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ اور پھر اُنہوں نے اس حکم میں توسیع کردی۔ لیکن یہ حضرت عیسیٰ مسیح کی تعلیم کو اور زیادہ اہم اور اُن کے اختیار کو واضح کردیتا ہے۔ جب اُنہوں نے اپنے خطبہ کو ختم کیا۔تو اُس کے بارے میں  انجیل شریف میں یوں بیان آیا ہے

28 جب یسوع نے ان چیزوں کی تعلیم ختم کی تو لوگ اسکی تعلیم سے بہت حیرت میں پڑ گئے۔ 29 کیوں کہ اس نے ان کو شریعت کے معلِّموں کی طرح تعلیم نہیں دی بلکہ ایک صاحب اقتدار کی طرح تعلیم دی

(متّی7:28-29)

دراصل، حضرت عیسیٰ المسیح ایک صاحبِ اختیار کی طرح تعلیم دیتے تھے۔ دیگر انبیاء اکرام اللہ تعالیٰ کے پیغام کو لوگوں کے ساتھ بیان کردیتے تھے۔ لیکن یہاں آپ کا انداز اور طرح مختلف تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح نے ایسے تعلیم کیوں دی؟ جس طرح ہم زبور شریف میں سے “مسیح” خطاب کے بارے میں جان چکے ہیں۔ کہ “ایک آنے والا” جس کے پاس اختیار ہوگا۔ زبور شریف کے دوسرے (2) زبور میں جہاں ‘مسیح’ پہلی بار بیان کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ وہاں مسیح کے بارے میں یوں بیان فرماتے ہیں۔

مُجھ سے مانگ اور مَیں قَوموں کو تیری مِیراث کے لِئے اور زمِین کے اِنتِہائی حِصّے تیری مِلکِیّت کے لِئے تُجھے بخشُو ں گا ۔      زبور 2: 8

“المسیح” کو قوموں پر اور دنیا کی انتہا تک اختیار دیا گیا تھا۔ اس لیے حضرت عیسیٰ المسیح کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ اختیار کے ساتھ تعلیم دے سکتے تھے۔

وہ نبی اور پہاڑی وعظ

حقیقت میں ہم یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ کہ تورات شریف میں حضرت موسیٰ ؑ نے ‘نبی’ کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔ جس کو ہم اُس کی تعلیم دینے کے طریقے سے جان سکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اُس کے بارے میں یوں لکھا ہے۔

 18 میں تمہا ری طرح ایک نبی اُن کے لئے بھیج دوں گا وہ نبی انہی لوگوں میں سے کو ئی ایک ہو گا۔ میں اسے وہ سب بتا ؤں گا جو اسے کہنا ہو گا اور وہ لوگوں سے وہی کہے گا جو میرا حکم ہو گا۔ 19 یہ نبی میرے نام پر بولے گا اور جب وہ کچھ کہے گا تب اگر کو ئی شخص میرے احکام کو سننے سے انکار کرے گا تو میں اس شخص کو سزا دو ں گا۔‘

(استثناء18:18-19)

اپنی تعلیم دینے کے انداز میں حضرت عیسیٰ مسیح اپنے اخیتار کی مشق کررہے تھے۔ تاکہ وہ اُس پیش گوئی کو پورا کرسکیں جس کے بارے میں حضرت موسیٰ ؑ نے بتایا تھا۔ کہ ایک نبی آئے گا۔ جو صاحبِ اختیار کی طرح تعلیم دے گا۔ حضرت عیسیٰ نبی اور مسیح دونوں ہی تھے۔

آپ اور میں اور پہاڑی وعظ

اگر آپ پہاڑی وعظ کا بڑھے محتاط انداز کے ساتھ مطالعہ کریں اور جاننا چاہیں کہ آپ اس تعلیم کی کس طرح پیروی کرسکتے ہیں۔ تو شاید آپ الجھن میں پڑجائیں۔ کیسے کوئی اس قسم کے احکامات کی اطاعت کرسکتا ہے۔ جو ہمارے دلوں اور نیت کو پورا کرسکتے ہوں؟ حضرت عیسیٰ المسیح کا اس خطبہ میں کیا مقصد تھا؟ ہم اس کو اُن کے ہر حکم  کے اختتام میں دیکھ سکتے ہیں۔

48 اسلئے جیسا کہ تمہارا باپ آسمانوں میں ہے اسی طرح تم کو بھی کامل بننا چاہئے۔ (متّی5:48)

یاد رکھیں! یہ کوئی تجویز نہیں بلکہ حکم ہے۔ اس حکم کا مطلب ہے کہ ہم کامل بنیں! کیوں؟ کیونکہ خدا تعالیٰ کامل ہے اور اگر ہم اُس کے ساتھ جنت میں ہمیں بھی کامل بننا پڑئے گا۔ ہم اکثر یہ سوچتے ہیں۔ کہ نیکی کرنا بُرائی سے بہتر ہے۔ اگر لیکن ایسا معاملہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ تو ہم اُس کی کامل جنت کو تباہ کرڈالیں گے۔ اور اُس کو اپنی دنیا جیسا بنا ڈالیں گے۔ یہ ہماری شہوت، لالچ، اور غصہ ہے جس نے آج اس دنیا کو اور ہم کو برباد کردیا ہے۔ یہ سب مسائل ہم نے خود ہی بنائیں ہیں۔

حقیقت میں حضرت عیسیٰ المسیح کی تعلیمی توجہ دنیا سے ہٹ کر ہمارے دلوں پر تھی۔ غور کریں اُنہوں نے ایک اور تعلیم میں کیسے ہمارے دلوں پر اپنی تعلیم کی توجہ مرکوز کی۔

20 اس کے علاوہ یسوع نے ان سے کہا، “ایک انسان کے اندر آ نے والے ارادے ہی اس کو گندہ اور نا پاک بنا تے ہیں۔ 21 یہ ساری برُی چیزیں ایک انسان کے باطن میں انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہیں ،دماغ میں برے خیالات بد کا ریاں ، چوری اور قتل ،۔ 22 زنا کاری پیسوں کی حرص، برا ئی ،دھوکہ ر یا کاری، حسد، چغل خوری، غرور اور بے وقوفی۔ 23 تمام خراب خصلتیں برے خیالات و خراب باتیں انسان کے اندر سے آ کر آدمی کو گندہ اور نا پا ک بنا تی ہیں۔”

(مرقس7:20-23)

لہذا ہمارے بطن کی پاکیزگی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اور اس کا معیار کاملیت (کامل) ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف کامل لوگوں ہی کو اپنی جنت میں داخل ہونے کی جازت دے گا۔ شاید یہ بات ایک نظریے کی حد تک تو ٹھیک نظر آئے۔ لیکن یہ ایک بڑے مسلئہ کوکھڑا کردیتی ہے۔ ہم کیسے جنت میں داخل ہوسکتے ہیں اگر ہم کامل نہیں ہوسکتے؟ اس طرح خاطرخواہ (کافی) کامل بننا ہمارے لیے نااُمیدی کا سبب بن سکتا ہے۔

لیکن یہ ہی سب کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ جب ہم کافی حد تک کامل نہیں بن پاتے اور نااُمیدی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور ہم اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں رکھ پاتے تو ہم اپنی روح میں غریب (خالی) بن جاتے ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ المسیح اپنے خطبہ کے آغاز میں یوں بیان کرتے ہیں۔

مبارک ہیں وہ لوگ جو دل کے غریب ہیں
    کیونکہ آسمانی بادشاہت ان ہی کے لئےہے۔

(متّی5:3)

 ہمیں حکمت کے شروع میں اس تعلیمات کو یہ کہہ کر رد کردینا نہیں چاہیے کہ یہ ہمارے لیے نہیں ہے۔ کیونکہ معیار “کامل” ہے۔ جس طرح ہم اس معیار میں گر جاتے ہیں اورجان جاتے ہیں ہم اس قابل نہیں کہ اس معیار کو پورا کرسکیں۔ تو پھر ہم اس سیدھے راستے پر چلنا شروع کردیتے ہیں جس میں ہم اس بات کا اندازہ لگا لیتے ہیں کہ ہم اس قابل نہیں کہ ہم کامل بن سکیں۔ اس طرح ہم مدد حاصل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اور ہم اپنی صلاحیتوں (نیک اعمال) پر بھروسہ رکھنا چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے فضل کی طرف اپنا توجہ لگالیتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ مسیح کو شیطان آزماتا ہے

ہم نے دیکھا کہ حضرت یحیٰ نے لوگوں کو المسیح کی آمد کے لیے تیار کیا۔ اُنہوں نے بڑے سادہ اور آسان الفاظ میں توبہ کاخطبہ دیا کہ لوگوں کو اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انجیل مقدس حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے بتاتی ہے کہ اُنہوں نے حضرت یحیٰ سے بپتسمہ لیا۔ یہ حضرت عیسیٰ مسیح کی عوامی خدمت کا اعلان تھا۔ لیکن اس سے پہلے حضرت عیسیٰ مسیح اپنی خدمت کا آغاز کرتے۔ اُنہوں نے اپنا کچھ وقت بیابان میں اللہ تعالیٰ کے حضور گذارا۔ اُسی دوران شیطان نے اُن کو آزمایا۔

انجیلِ مقدس ہمیں بتاتی ہے۔ کہ شیطان نے اُن کو تین مختلف آزمائشیوں سے آزمایا۔ آئیں ہم ان تینوں آزمائشیوں کے بارے میں مل کر جانتے ہیں۔ (ان آزمائشیوں کی معلومات کے دوران ہم دیکھیں گے کہ شیطان کچھ مشکل خطاب سے حضرت عیسیٰ مسیح سے مخاطب ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر “خدا تعالیٰ کا بیٹا” اس کے بارے میں جاننے کے لیے آپ میرے اس مضمون کا مطالعہ کرسکتے ہیں) 

شیطان روٹی سے آزماتا ہے۔

‘اُس وقت رُوح یِسُو ع (عیسیٰ مسیح) کو جنگل میں لے گیا تاکہ اِبلِیس سے آزمایا جائے۔ اور چالِیس دِن اور چالِیس رات فاقہ کر کے آخِر کواُسے بُھوک لگی۔ اور آزمانے والے نے پاس آ کر اُس سے کہا اگر تُو خُداکا بیٹا ہے تو فرما کہ یہ پتّھر روٹِیاں بن جائیں۔ اُس نے جواب میں کہا لِکھا ہے کہ آدمی صِرف روٹی ہی سے جِیتا نہ رہے گابلکہ ہر بات سے جو خُدا کے مُنہ سے نِکلتی ہے۔ ‘

 تب روح یسوع کو جنگل میں شیطان سے آزمانے کیلئے لے گئی۔ یسوع نے چالیس دن اور چالیس رات کچھ نہ کھایا تب اسے بہت بھوک لگی۔ تب اسکا امتحان لینے کیلئے شیطان نے آکر کہا، “اگر تو خداکا بیٹا ہی ہے تو ان پتھروں کو حکم کر کہ وہ روٹیاں بن جائیں۔”

یسوع نے اس کو جواب دیا یہ “صحیفہ میں لکھا ہے:

کہ انسان صرف روٹی ہی سے نہیں جیتا ،
    بلکہ خدا کے ہر ایک کلام سے جو اس نے کہیں۔

متی 4: 1-4

یہاں ہم ایک متوازی صورت حال دیکھتے ہیں جب شیطان نے جنت میں آدم اور حوا کی آزمائش کی. آپ کو یاد ہوگا کہ یہ آزمائش پھل کے ذریعے آئی “۔ ۔ ۔کھانے کے لیے اچھا ۔ ۔ ۔” اور اُس کی آزمائش کی یہی ایک وجہ تھی۔ اسی صورت حال میں حضرت عیسیٰ جب ایک لمبے روزے(اس روزے میں کوئی سحری اور افطار شامل نہیں تھا) کی حالت میں تھے ۔ تو روٹی کے بارے میں خیال ایک آزمائش تھی۔ لیکن اس بار آزمائش کا نتیجہ حضرت آدم ؑ سے مختلف نکلا۔ حضرت عیسیٰ مسیح نے آزمائش پر قابو پالیا جبکہ حضرت آدم ؑ آزمائش پر قابو نہ پاسکے۔

لیکن ان 40 دنوں کے دوران کھانے کی اجازت کیوں نہیں تھی؟انجیل مقدس ہم کو اس کے بارے میں نہیں بتاتی لیکن زبور شریف نے اس کے بارے میں پیش گوئی کردی تھی۔ کہ آںے والا خادم اسرائیل قوم کی نمائندگی کرے گا۔ اسرائیلی قوم 40 سال تک بیابان میں حضرت موسیٰ کی قیادت میں رہی۔ وہاں اُنہوں نے وہی کھانا (مینہ سلوہ) کھایا جو آسمان سے مہیا ہوتا تھا۔ 40 دن کا روزہ اور اللہ تعالیٰ کے کلام پر گیان دھان حضرت عیسیٰ کے لیے روحانی کھانا تھا۔ جس سے مراد تھی کی یہ وہی خادم ہے۔ جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔

خدا کے وعدے پر آزمائش

دوسری آزمائش بھی اپنی نوعیت کی وجہ سے مشکل تھی اور انجیل مقدس اس کے بارے میں ہمیں یوں بتاتی ہے۔

‘تب اِبلِیس اُسے مُقدّس شہر میں لے گیا اور ہَیکل کے کنگُرے پر کھڑا کر کے اُس سے کہا کہ۔ اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو اپنے تئِیں نِیچے گِرا دے کیونکہ لِکھا ہے کہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حُکم دے گا اور وہ تُجھے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے اَیسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتّھرسے ٹھیس لگے۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا یہ بھی لِکھا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کی آزمایش نہ کر۔

متی 4: 5-7

یہاں شیطان نے حضرت عیسیٰ مسیح کو آزمانے کے لیے زبور شریف میں سے حوالہ دیا۔ اس بات کا اندازہ اس طرح لگا سکتے ہیں کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کی اور اس لیے اُس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطالعہ کیا تاکہ وہ اُس کی مخلوق کو گمراہ کرسکے۔ اس لیے وہ الکتاب کو اچھی طرح جانتا تھا اور وہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں ماہر تھا۔

میں نےیہاں آپ کی خدمت میں وہ زبور شریف کا حصہ پیش کیا ہے۔ جس کو شیطان نے حضرت عیسیٰ مسیح کو گمراہ کرنے کی کوشش کے لیے استعمال کیا۔ (میں اُس لائن کو انڈرلائن کیا ہے)

‘تُجھ پر کوئی آفت نہیں آئے گی اور کوئی وبا تیرے خَیمہ کے نزدِیک نہ پُہنچے گی۔ کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرِشتوں کو حُکم دے گا کہ تیری سب راہوں میں تیری حِفاظت کریں ۔ وہ تُجھے اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے تاکہ اَیسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھّر سے ٹھیس لگے ۔ تُو شیرِ بَبر اور افعی کو رَوندے گا۔ تُو جوان شیر اور اژدہا کو پامال کرے گا۔ چُونکہ اُس نے مُجھ سے دِل لگایا ہے اِس لِئے مَیں اُسے چُھڑاؤُں گا۔ مَیں اُسے سرفراز کرُوں گا کیونکہ اُس نے میرا نام پہچاناہے۔ ‘

                زبور 91: 10-14

آپ زبور شریف کے اس حوالہ میں لفظ “وہ” دیکھ سکتے ہیں۔ جس کے بارے میں شیطان یہ ایمان رکھتا ہے کہ یہ “المیسح” کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن یہ حوالہ “المسیح” کے بارے برائے راست اشارہ نہیں کرتا۔ تو پھر شیطان کیسے اس بات کو جانتا ہے؟

آپ اس بات کی طرف توجہ کریں کہ لکھا ہے کہ وہ عظیم شیر اور اژدہا کو روندے گا۔ (13 ویں آیت میں اِس کو سرخ سے لکھا ہے) یہاں پر شیر کی طرف اشارہ دراصل یہوداہ کے قبیلہ کی طرف ہے۔ جس کے بارے میں حضرت یقعوب نے تورات شریف میں پیش گوئی کی تھی۔

اَے یہُوداہ! تیرے بھائی تیری مدح کریں گے تیرا ہاتھ تیرے دُشمنوں کی گردن پر ہو گا ۔ تیرے باپ کی اَولاد تیرے آگے سرنِگُوں ہو گی۔ یہُوداہ شیرِ بَبر کا بچّہ ہے۔ اَے میرے بیٹے! تُو شِکار مار کر چل دِیا ہے۔ وہ شیرِ بَبر بلکہ شیرنی کی طرح دَبک کر بَیٹھ گیا ۔ کَون اُسے چھیڑے؟ یہُوداہ سے سلطنت نہیں چھُوٹے گی اور نہ اُس کی نسل سے حُکومت کا عصا موقُوف ہو گا۔ جب تک شِیلو ہ نہ آئے اورقَومیں اُس کی مُطِیع ہوں گی۔

“اے یہوداہ تیرے بھا ئی تیری تعریف کریں گے۔
    تو اپنے دُشمنوں کو شکست دیگا۔
    اور تیرے بھا ئی تیرے لئے جھک جا ئیں گے۔
یہوداہ ایک شیر کی طرح ہے۔
    اے میرے بیٹے تو ا س شیر کی طرح ہے کہ جس نے ایک جانور کو مار دیا۔ اے میرے بیٹے تو ایک شیر کی طرح شکار کے لئے گھات میں بیٹھا ہوا ہے۔
یہوداہ شیر کی مانند ہے۔ وہ سو کر آرام کر تا ہے
    اور اُسے چھیڑ نے کی کسی میں ہمت نہیں۔
10 وہ شاہی قوت کو اپنے ہاتھ میں رکھے گا
جب تک کہ وہ آ نہیں جاتا
    جو اس کا جانشیں ہو گا۔
دوسری قوموں کے لو گ ان کی فرمانبردار ی کرینگے۔

پیدائش 49: 8-10

حضرت یعقوبؑ نے تورات شریف میں طویل عرصہ پہلے یہ کہا تھا۔ کہ یہوداہ کا قبیلہ شیر کی مانند ہے۔ جس میں سے “وہ” یعنی شیلوہ آئے گا اور وہ ہی حکومت کرے گا۔ زبور شریف اس پیش گوئی کو جاری رکھتا ہے۔ اس کی جگہ کہ وہ “شیرکو روندے گا” کے الفاظ استعمال کرتا ہے ۔ زبور شریف نے فرمایا ہے کہ “وہ” یہوداہ پر حکمرانی کرے گا۔

شیطان نے زبور شریف کا جو حوالہ استعمال کیا تھا۔ اُس کے مطابق “وہ” سانپ کو روندے گا۔ ہ برائے راست اُس پہلے وعدے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کہ “وہ” عورت کی نسل میں سے ہوگا۔ اور سانپ کو کچلے گا۔ جس کا ذکر ہم نے اپنے مضمون “آدم کے نشان میں عورت کی نسل میں سے آنے والے کا ذکر کیا تھا۔ یہاں پر ایک بار پھر تصویر میں واضح کیا ہے۔ کہ اُس کا کرداراور اعمال کیسا ہوگا۔

لہذا اللہ تعالیٰ نے سانپ سے کہا …

‘اور مَیں تیرے اور عَورت کے درمیان اور تیری نسل اور عَورت کی نسل کے درمِیان عداوت ڈالُوں گا ۔ وہ تیرے سر کو کُچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا۔ ‘

پَیدایش 3: 15

یہ وعدہ آدم کی نشانی میں سب سے پہلے دیا گیا تھا، لیکن اس میں تفصیلات  واضح نہیں تھیں. اب ہم جانتے ہیں کہ یہ ‘عورت’ حضرت مریم ہے کیونکہ وہ واحد دنیا میں شخصیت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے بغیراولاد سے نوازا تھا- اور وہ کنواری تھیں۔ جس طرح ایک نسل کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جس کا اشارہ “وہ” تھا۔ اب ہم سب جانتے ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ المسیح ہیں۔ اس لیے میں نے اُوپر دی گئی تصویر میں ان کے نام شامل کردیں ہیں۔ ماضی میں کیا گیا وعدہ کیا تھا۔ کہ “وہ” یعنی حضرت عیسیٰ المسیح سانپ کو کچلے گا۔ زبور شریف میں سے جس حوالے کو شیطان نے استعمال کیا تھا۔ اُس میں یوں لکھا ہے۔

شیطان نے زبور شریف میں سے جس بات کا حوالہ دیا تھا۔ اُس کے بارے میں ماضی میں دو پیش گوئیاں تورات شریف میں سے جوڑی ہوئی ہیں۔ کہ “وہ” آنے وال خادم شیطان کو روندے گا۔ چنانچہ شیطان جس حوالے کو پیش کر رہا تھا۔ اُس کو بڑی اچھی طرح جانتا تھا۔ کہ یہ آنے والے مسیح کے بارے میں ہے۔ شیطان کی کوشش تھی۔ کہ آزمائش کے ذریعے وہ اس پیش گوئی کو جھوٹا ثابت کردے۔ زبور شریف اور تورات شریف میں پیشن گوئیوں کو پورا ہونا ضرور تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا۔ کہ عیسیٰ مسیح اچانک ہیکل میں آئے اور سب باتوں کو ثابت کردیں۔ لیکن وہ سب کچھ پلان کے ساتھ پورا کرنa چاہتے تھے۔ تاکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تورات اور زبور شریف میں نازل کیا تھا اُس کو اُسی طرح پورا کریں۔

عبادت کی آزمائش

پھر شیطان نے حضرت عیسیٰ مسیح کی آزمائش اپنی ساری شان وشوکت جو اُس کے پاس دنیا پر تھی اُس کو دکھائی ۔ اس کا ذکر انجیلِ مقدس میں اس طرح ہے۔

‘پِھراِبلِیس اُسے ایک بُہت اُونچے پہاڑ پر لے گیا اور دُنیا کی سب سلطنتیں اور اُن کی شان و شوکت اُسے دِکھائی۔ اور اُس سے کہا اگر تُو جُھک کر مُجھے سِجدہ کرے تویہ سب کُچھ تُجھے دے دُوں گا۔ یِسُو ع نے اُس سے کہا اَے شَیطان دُور ہو کیونکہ لِکھاہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کو سِجدہ کر اور صِرف اُسی کی عبادت کر۔ تب اِبلِیس اُس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو فرشتے آ کر اُس کی خِدمت کرنے لگے۔ ‘

    متی 4: 8-11

مسیح” کا مطلب ہے “وہ جو حکومت کرنے کے لیے مسح” کیا گیا۔” شیطان نے حضرت عیسیٰ کی آزمائس کی جس طرح وہ کرسکتا تھا۔ لیکن اُس نے حضرت عیسیٰ مسیح کی آزمائش اس طرح کی کہ وہ اپنی حکومت کو شارٹ کٹ طریقے سے حاصل کرلے۔ جو صرف شیطان کو سجدہ (عبادت) کرنے سے حاصل ہوسکتی تھی۔ جو کہ شرک تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے شیطان کی آزمائش کا مقابلہ کیا۔ (ایک بار پھر سے) تورات شریف میں سے حوالہ دیکھیں۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے تورات شریف کوبہت ہی اہم سمجھا اور اسی لیے وہ اس کو بڑی اچھی طرح سے جانتے تھے اور اس پر بھروسہ بھی رکھتے تھے۔

حضرت عیسیٰ المسیح: ہماری صورت حال کو سمجھتے ہیں

حضرت عیسیٰ المسیح کی آزمائش ہمارے لیے بڑی ایمیت رکھتی ہے۔ انجیل شریف میں حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے لکھا ہے۔

‘کیونکہ جِس صُورت میں اُس نے خُود ہی آزمایش کی حالت میں دُکھ اُٹھایا تو وہ اُن کی بھی مدد کر سکتا ہے جِن کی آزمایش ہوتی ہے۔

                                                                عبرانیوں 2: 18

اور

‘کیونکہ ہمارا اَیسا سردار کاہِن نہیں جو ہماری کمزورِیوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تَو بھی بے گُناہ رہا۔ پس آؤ ہم فضل کے تخت کے پاس دِلیری سے چلیں تاکہ ہم پر رَحم ہو اور وہ فضل حاصِل کریں جو ضرُورت کے وقت ہماری مدد کرے۔

عبرانیوں 4: 15-16

 یاد رکھیں حضرت ہارون سردار کاہین ہونے کی وجہ سے قربانی پیش کرتا تھا۔ تاکہ اسرائیلیوں کے گناہ معاف ہوجائیں۔اب حضرت عیسیٰ المسیح کو سردار کاہن ہیں۔ جو ہماری صورتِ حال کو سمجھتے اور ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ ہماری آزمائش میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود آزمایا گیا لیکن پھر بھی گناہ نہ کیا۔ اور اسی لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونی کی دلیری حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ المسیح نے مشکل ترین آزمائشوں کا سامنا کیا لیکن وہ گناہ میں نہ گرے۔ حضرت عیسیٰ المسیح ہی ہیں جو ہماری آزمائشوں اور صورت حال کو سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی ہماری طرح کی آزمائشوں میں پڑا لیکن اُنہوں نے گناہ نہ کیا۔

 سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے: کیا ہم ایسے مدد گاراور ہمددر کو چھوڑ دیں گے؟

حضرت یحییٰ ؑ راہ کا تیار کرنے والا

ہم نے اپنی پچھلے مضمون میں اس بات پر غور کیا تھا۔ کہ زبور شریف کو حضرت ملاکیؑ نبی نے تکمیل کیا اور اُنہوں نے اپنی اس کتاب میں فرمایا تھا۔ کہ ایک شحص آئے گا جو راہ کو تیار کرے گا (ملاکی 3: 1)۔ ہم نے اس بات کو بھی دیکھا ہے کہ جب ہم انجیل شریف کو کھولتے ہیں۔ تو جبرایل فرشتہ حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کی بشارت دیتا ہوا نظر آتا ہے۔

حضرت یحییٰ ؑ حضرت الیاس ؑ کی روح اور طاقت میں

حضرت یحییٰ ؑ کی پیدائش کے بعد انجیلِ مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔ (اُس کو حضرت یوحنا بپتسمہ دینے والے کے طور پر بتایا گیا

‘اور وہ لڑکا بڑھتا اور رُوح میں قُوّت پاتا گیا اور اِسرا ئیل پر ظاہِر ہونے کے دِن تک جنگلوں میں رہا

لُوقا 1:80

جب وہ بیابان میں رہ رہا تھا تو انجیل مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔

‘یہ یُوحنّا اُونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنے اور چمڑے کا پٹکااپنی کمر سے باندھے رہتا تھا اور اِس کی خوراک ٹِڈّیاں اورجنگلی شہد تھا۔ ‘                                                                              متّی 3:4

حضرت یحییٰ ؑ روح سے بھرا ہوا اور اونٹ کے چمڑے کا لباس پہنتا اور جنگلی خوراک کھاتا تھا۔ وہ بیابان میں رہتا تھا۔ لیکن یہ سب اُس کی روح کی وجہ سے نہیں تھا۔ یہ ایک خاص نشان بھی تھا۔ ہم نے زبور شریف کی اختتامی کتاب میں پڑھا ہے۔ کہ راہ کی تیار کرنے والا “حضرت الیاسؑ” کی روح” میں آئے گا ۔ حضرت الیاس ؑ زبور شریف کے ایک نبی ہوئے تھے۔ جو حضرت یحییٰ ؑ سے پہلے نازل ہوئے اور بیابان میں رہتے اور جنگلی خوراک اور حضرت یحییٰ ؑ ی طرح کا لباس پہنتے تھے۔

اُنہوں نے اُسے جواب دیا کہ وہ بہت بالوں والا آدمی تھا اور چمڑے کا کمر بند اپنی کمر پر کسے ہوئے تھا۔ تب اُس نے کہا کہ یہ تو ایلیاہ (الیاس) تشبی ہے۔  2سلاطین 8: 1

لہذا جب حضرت یحییٰ ؑ چمڑے کا لباس پہنے اور بیابان میں رہ رہا تھا۔ تو اس کا مطلب تھا کہ وہ یہ ہی ہے جس کی پیش گوئی ہوئی تھی۔ کہ وہ حضرت الیاس ؑ (حضرت ایلیاہ) کی روح میں آئے گا۔ اُس کا بیابان میں رہنااور جنگلی خوراک کھانا اس بات کا اعلان تھا۔ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا تھا۔ وہ پورا ہورہا ہے۔

انجیل مقدس کی تاریخی تصدیق

پھر انجیل مقدس میں بتاتا گیا ہے کہ:

‘تِبرِ یُس قَیصر کی حُکومت کے پندرھویں برس جب پُنطِیُس پِیلا طُس یہُودیہ کا حاکِم تھا اور ہیرود یس گلِیل کا اور اُس کا بھائی فِلپُّس اِتُور یہِّ اور ترخونی تِس کا اور لِسانیا س اَبِلینے کا حاکِم تھا اور حنّاہ اور کائِفا سردار کاہِن تھے اُس وقت خُدا کا کلام بیابان میں زکریا ہ کے بیٹے یُوحنّا (یحییٰؑ) پر نازِل ہُؤا اور وہ یَرد ن کے سارے گِرد و نواح میں جا کر گُناہوں کی مُعافی کے لِئے تَوبہ کے بپتِسمہ کی مُنادی کرنے لگا۔                    لوقا 3: 1-3

یہ حوالہ حضرت یحییٰ ؑ کی خدمت کے تعلق سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اُن کی خدمت کے آغاز میں ہی سے بہت سے معروف حکمرانوں کا ذکرکیا گیا۔ جس سے ان کی خدمت اور منفرد ہو جاتی ہے۔ توجہ طلب بات یہ ہے۔ کہ ان تاریخی واقعات کا ذکر کرنے کی وجہ سے۔ انجیل مقدس کو تاریخی اور آثارِقدمہ کے حساب سے تصدیق ملتی ہے۔

اگر آپ ان لوگوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہیں۔ تیریسیس سیسر، پونسیس پائلیٹ، ہیرودیس، فلپ، لسیانیاس، اینساس اور کافیفا سب لوگ ہیں جو رومی سیکالر اور یہودی تاریخ دان تھے۔ اس طرح ہم بڑی دلیری سے کہہ سکتے ہیں۔ کہ حضرت یحییٰ کا واقعہ خالص تاریخی اور قابلِ اعتماد ریکارڑ ہے۔

چودھویں عیسوی میں طیبیرس سیسر پر چڑھی کی اور رومن سلطنت کے تختِ کو اُلٹ دیا۔ لہذا یہ اس کے اقتدار کے پندرواے (15) سال کا مطلب یہ ہے کہ حضرت یحییٰ ؑ نے اپنی تبلغ کا آغاز29 سال کی عمرمیں کیا۔

حضرت یحییٰ ؑ کی گناہوں سے توبہ کی تبلیغ اور اعتراف

تو حضرت یحییٰ ؑ نے کون سا تبلیغی خطبہ دیا تھا؟ جس طرح اُن کی زندگی بڑی سادی تھی اُسی طرح اُن کا خطبہ بھی بہت سادہ تھا۔ لیکن بلکل سچائی سے بھرا اور کڑوا لیکن قوت سے بھرپورتھا۔ انجیل شریف میں اس طرح لکھا ہے۔

اُن دِنوں میں یُوحنّا (یحییٰؑ) بپتِسمہ دینے والا آیا اور یہُودیہ کے بیابان میں یہ مُنادی کرنے لگا کہ۔ تَوبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدِیک آ گئی ہے۔

متی 3: 2

لہذا حضرت یحییٰ ؑ کے پیغام کا مقصد تھا کہ وہ اعلان کریں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہی قریب آگئی ہے۔ “ہم جانتے ہیں کیسے زبور شریف میں انبیاءاکرام نے “خدا تعالیٰ کی بادشاہی” کے آںے کے بارے میں پیشن گوئیاں کی تھیں۔ کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہی آںے والی ہے۔ لیکن حضرت یحییٰ ؑ اب کہہ رہا ہے۔ وہ بادشاہی “قریب” آگئی ہے۔

لیکن وہ اُس وقت تک بادشاہی کےلیے تیار نہیں ہوسکیں گے جب تک وہ توبہ نہ کریں گے۔ حقیقت میں اگر وہ ‘توبہ’ نہیں کریں گے۔ تو وہ بادشاہی کو کھودیں گے۔ توبہ کا لفظ یونانی کے ایک لفظ “میٹانوو” “metanoeo” سے لیا گیا ہے۔ جس کا مطلب ہے۔ “اپنے زہین کو تبدیل کرنا” یا مختلف طریقے سے سوچنا ہے۔ لیکن اُن کو اس کے بارے میں مختلف طریقے سے کیا سوچنا ہے؟ حضرت یحییٰ ؑ کے پیغام کا لوگوں نے درعمل دیا اور اس کو دیکھ ہم یہ سیکھتے ہیں۔ کہ اُس نے لوگوں کو توبہ کی تبلیغ کی۔ اس کے بارے میں انجیلِ مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔

‘اور اپنے گُناہوں کا اِقرار کر کے دریایِ یَردن میں اُس سے بپتِسمہ لِیا۔

متی 3: 6

آپ کو حضرت آدم ؑ کی نشانی میں یاد ہو گا۔ کہ کیسے حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ نے منع کیا ہوا پھل کھایا۔

‘اور اُنہوں نے خُداوند خُدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پِھرتا تھا سُنی اور آدم اور اُس کی بِیوی نے آپ کو خُداوند خُدا کے حضُورسے باغ کے درختوں میں چُھپایا۔

پیدائش 3: 8

تب ہی سے اپنے گناہوں کو چھپانے اور دوسرے کے آگے یہ ظاہر کرنا کہ میں تو بے گناہ ہوں۔ ایک قدرتی فطرت بن گئی۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا اور توبہ کرنا ہمارے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ ہم نے دیکھا کنواری کے بیٹے کی نشانی میں کہ حضرت دوادؑ اور حضرت محمد ﷺ نے اپنے گناہوں سے توبہ کی۔ یہ ہمارے لیے کرنا بڑی مشکل ہے کیونکہ یہ ہمیں گنہگار اور شرمندگی سے نمٹنے کے لیے پیش کرتا ہے۔ لیکن حضرت یحییٰ ؑ یہ ہی تبلیغ کر رہے تھے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی بادشاہی کے لیے تیار ہوجائیں۔

مذہبی راہنماوں کے لیے نتباہ جنہوں نے توبہ نہ کی

کچھ لوگوں نے توبہ اور اپنے گناہوں کا اقرار کیا لیکن سب نے ایسا نہ کیا۔ انجیلِ مقدس میں اس طرح لکھا ہے۔

‘مگر جب اُس نے بُہت سے فرِیسیِوں اور صدُوقِیوں کوبپتِسمہ کے لِئے اپنے پاس آتے دیکھا تو اُن سے کہا کہ اَے سانپ کے بچّو! تُم کو کِس نے جتا دِیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟۔ پس تَوبہ کے موافِق پَھل لاؤ۔ اور اپنے دِلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابراہیم ہمارا باپ ہے کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ خُدا اِن پتّھروں سے ابراہیم کے لِئے اَولاد پَیدا کر سکتاہے۔ اور اب درختوں کی جڑ پر کُلہاڑا رکھّا ہُؤا ہے ۔ پس جو درخت اچّھا پَھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالاجاتا ہے۔ ‘

متی 3: 7-10

صدوقی اور فریسی حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کے اُستاد تھے۔ وہ انتاہی مذہبی اور شریعت کی پابندی کے ساتھ فرمابنرداری کررہے تھے۔ وہ (نماز، روزہ، زکوۃ اور قربانی وغیرہ) باقاعدگی سے ادا کرتے۔ ہر کوئی اُن کے بارے میں یہ سوچتا تھا۔ کہ یہ تمام لیڈر شریعت کے احکام کی تکمیل کرنے اور عبادت میں سخت محنت کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے منظورِ نظر ہیں۔ لیکن حضرت یحییٰ ؑ نے اُن کو “سانپ کے بچوں” کہہ کر پکارا اور خدا تعالیٰ کی آںے والی عدالت سے بچنے کے لیے انتباہ کیا۔ کیوں؟ کیونکہ اُنہوں نے اپنی توبہ کے موافق پھل نہیں لاتے تھے۔ اُنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف نہ کیا بلکہ مذبی طریقوں کے زریعے وہ اپنے گناہوں کو چھپاتے رہے۔ اور وہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد ہونے کہ وجہ سے اس بات پر فحر کرتے۔

 حضرت داود ؑ کا اعتراف ہمارے لیے ایک منفرد مثال

تاہم جب ہم حضرت یحییٰ ؑ  نے توبہ کی اور اعتراف کی تبلیغ کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے بہت ہی اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ کہ ہم اس کے بغیر جنت دوسرے لفظوں میں خدا تعالیٰ کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتے۔

جب ہم صدوقیوں اور فریسیوں کے بارے دیکھتے کہ حضرت یحییٰ ؑ اُن کو  گناہ سے توبہ اوراللہ کے حضور اعتراف کرنے کے لیے کہتا ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک مذہبی لیڈر ہوتے ہوئے ہم کتنی آسانی سے اپنے گناہ کو چھپالیتے ہیں۔ تو پھر میرے اور آپ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یہاں اس حوالے میں مجھے اور آپ کو بھی ایسا کرنے لے لیے کہا گیا۔ اس لیے ہمیں ضدی بن کر توبہ کرنے سے کنارہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس کی بجائے ہم اپنے گناہوں کے بارے جھوٹے بہانے بنائیں اور بتائیں کہ ہم بتانے کی کوشش کریں کہ ہم نے تو کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔ بلکہ ہم کو حضرت دوادؑ کی سنت پر عمل کرنا چاہئے۔ جب حضرت داودؑ سے گناہ ہوا تو اُنہوں نے اپنے گناہ سے توبہ کی اور اُس کا اعتراف کیا۔

‘اَے خُدا! اپنی شفقت کے مُطابِق مُجھ پر رحم کر۔ اپنی رحمت کی کثرت کے مُطابِق میری خطائیں مِٹا دے۔ میری بدی کو مُجھ سے دھو ڈال اور میرے گُناہ سے مُجھے پاک کر۔ کیونکہ مَیں اپنی خطاؤں کو مانتا ہُوں اور میرا گُناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔ مَیں نے فقط تیرا ہی گُناہ کِیا ہے اور وہ کام کِیا ہے جو تیری نظر میں بُرا ہے تاکہ تُو اپنی باتوں میں راست ٹھہرے اور اپنی عدالت میں بے عَیب رہے۔ دیکھ! مَیں نے بدی میں صُورت پکڑی اور مَیں گُناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا ۔ دیکھ تُو باطِن کی سچّائی پسند کرتا ہے اور باطِن ہی میں مُجھے دانائی سِکھائے گا۔ زُوفے سے مُجھے صاف کر تو مَیں پاک ہُوں گا۔ مُجھے دھو اور مَیں برف سے زِیادہ سفید ہُوں گا۔ مُجھے خُوشی اور خُرّمی کی خبرسُنا تاکہ وہ ہڈّیاں جو تُو نے توڑ ڈالی ہیں شادمان ہو ں ۔ میرے گُناہوں کی طرف سے اپنا مُنہ پھیرلے اور میری سب بدکاری مِٹا ڈال۔ اَے خُدا! میرے اندر پاک دِل پَیداکر اور میرے باطِن میں از سرِنو مُستقِیم رُوح ڈال ۔ مُجھے اپنے حضُور سے خارِج نہ کر اور اپنی پاک رُوح کو مُجھ سے جُدا نہ کر۔ اپنی نجات کی شادمانی مُجھے پِھر عِنایت کر اور مُستعِد رُوح سے مُجھے سنبھال۔ ‘

زبور 51: 1-12

توبہ کا پھل

جب ہم توبہ اور گناہ کا اعتراف کرلیتے ہیں تو پھر ہم مختلف طریقے سے زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لوگوں نے حضرت یحییٰ ؑ سے کہا کہ وہ کیسے اپنی زندگی میں توبہ کے مطابق پھل لائیں۔ تو اس کے بارے میں انجیلَ مقدس میں اس کے بارے میں اس طرح آیا ہے۔

‘لوگوں نے اُس سے پُوچھا پِھر ہم کیا کریں؟ اُس نے جواب میں اُن سے کہا جِس کے پاس دو کُرتے ہوں وہ اُس کو جِس کے پاس نہ ہو بانٹ دے اور جِس کے پاس کھانا ہو وہ بھی اَیسا ہی کرے اور محصُول لینے والے بھی بپتِسمہ لینے کو آئے اور اُس سے پُوچھا کہ اَے اُستاد ہم کیا کریں؟ اُس نے اُن سے کہا جو تُمہارے لِئے مُقرّرہے اُس سے زِیادہ نہ لینا اور سِپاہیوں نے بھی اُس سے پُوچھا کہ ہم کیا کریں؟ اُس نے اُن سے کہا نہ کِسی پر ظُلم کرو اور نہ کِسی سے ناحق کُچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کِفایت کرو ‘

لوقا 3: 10-14

کیا حضرت یحییٰ ؑ مسیح تھے؟

اُن کی تبلیغ میں خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھ کر لوگ حیران تھے۔ اور یہ خیال کرتے تھے کہ شاید وہ مسیح ہیں۔

انجیل مقدس میں اس کے بارے میں اس طرح آیا ہے۔

‘جب لوگ مُنتظِرتھے اور سب اپنے اپنے دِل میں یُو حنّا کی بابت سوچتے تھے کہ آیا وہ مسِیح ہے یا نہیں تو یُوحنّا نے اُن سب سے جواب میں کہا مَیں تو تُمہیں پانی سے بپتِسمہ دیتا ہُوں مگر جو مُجھ سے زورآور ہے وہ آنے والا ہے  مَیں اُس کی جُوتی کا تسمہ کھولنے کے لائِق نہیں  وہ تُمہیں رُوحُ القُدس اور آگ سے بپتسِمہ دے گا اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے تاکہ وہ اپنے کھلیہان کو خُوب صاف کرے اور گیہُوں کو اپنے کھتّے میں جمع کرے مگر بُھوسی کو اُس آگ میں جلائے گا جو بُجھنے کی نہیں پس وہ اَور بُہت سی نصیحت کر کے لوگوں کو خُوشخبری سُناتا رہا ‘

لوقا 3: 15-18

اختتامیہ

حضرت یحییٰ ؑ اس لیے آئے کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کے لیے تیار کرسکیں جو آنے والی تھی۔

لیکن اُس نے اُن کو شریعت کی تعلیم دے کر تیار نہیں کیا تھا۔ بلکہ اُس نے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے توبہ اور اُسکا اعتراف کرنے کی تعلیم دی۔ دراصل یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے کہ کوئی اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔

یہ اُس وقت کے مذہبی راہنما تھے۔ جنہوں نے اپنے گناہوں کو چھپایا اور نہ توبہ کی اور نہ ہی اُن کا اعتراف کیا۔ اس کی بجائے اُنہوں نے اپنے مذہی کاموں کے وسیلے اپنے گناہوں کو چھپایا۔ لیکن اپنی اس انتخاب کی وجہ سے وہ مسیح کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اور نہ ہی وہ اللہ تعالیٰ کی آںے والے بادشاہی کو سمجھ سکے۔ حضرت یحییٰ ؑ کی انتباہ آج ہمارے لیے بھی اُسی طرح ہے جس طرح یہ اُس وقت تھی۔ حضرت یحییٰ ؑ چاہتا ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اُن کا خدا تعالیٰ کے حضور اعتراف کریں۔

 کیا میں اور آپ ایسا کریں گے؟

حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش: انبیاء اکرام نے پیش گوئی کی اور حضرت جبرائیل نے اعلان کیا

پچھلے اسباق میں ہم نے زبور اور تورات شریف کے سروے کو مکمل کیا ہے۔ ہم نے زبور شریف کے مطالعہ کے دوران مستقبیل میں پورے ہونے والے وعدوں کا اندازہ لگایا۔

لیکن زبور شریف کی تکمیل ہوجانے کے بعد چار سو سال گزرگے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ بہت سے مذہبی اور سیاسی واقعات اسرائیل کی تاریخ میں رونما ہوئے۔ لیکن وہ نبوتوں اور وعدوں کے انتظار میں رہے اور کوئی بھی نبی اس دور(چار سو سال) میں ناذل نہ ہوا۔ تاہم اسرائیل نے ہیرودیس اعظم کی حکمرانی کے دور میں ہیکل کو تعمیر کروایا اور اس کو اس قدر خوبصورت بنایا۔ کہ پوری رومی دنیا میں اس کی شان وشوکت مشہور تھی۔ اور اس میں قربانیاں اور عبادت مسلسل ہورہیں تھیں۔ اگرچہ ابھی اسرائیلی بہت زیادہ مذہبی اور دِلی طور پر بت پرستی کو اپنے درمیان سے ختم کررہے تھے۔ جس بت پرستی کی وجہ سے وہ انبیاء اکرام کے دور میں  پھنس گئے تھے۔  جس طرح آج ہم میں سے اکثر مذہبی سرگرمیوں میں مصروف تو ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے دلوں کو حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔  الہذ! ہیرودیس اعظم کے اختامی دور 5 ق م کے دور میں ایک نبی حیرت انگیز اور زبردست پیغام کے ساتھ۔ نازل ہوا۔

حضرت جبرائیل نے حضرت یحیٰی کی آمد کا اعلان کیا

اس پیغام دینے والا حضرت جبرائیل تھا۔ ا حضرت جبرائیل کو کتابِ مقدس (بائبل) میں مقرب فرشتے کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔ حضرت جبرائیل کتابِ مقدس میں آخری دفعہ حضرت دانیال نبی کو آنے والے مسیح (یہاں دیکھیں) کے بارے میں بتانے کے لیے نازل ہوا تھا۔ اب حضرت جبرائیل حضرت زکریا پر نازل ہوا، جب وہ ہیکل میں بطور کاہین خدمت کر رہا تھا۔ حضرت زکریا اور اُس کی بیوی دونوں بوڑھے تھے اور اُنکی کوئی اولاد نہ تھی۔ لیکن حضرت جبرائیل اس پیغام کے ساتھ نازل ہوا۔ جو انجیل شریف میں موجود ہے۔

 مگر فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے زکریا ہ! خَوف نہ کر کیونکہ تیری دُعا سُن لی گئی اور تیرے لِئے تیری بِیوی اِلیشِبَع کے بیٹا ہو گا O تُو اُس کا نام یُوحنّا رکھنا14اور تُجھے خُوشی و خُرّمی ہو گی اور بُہت سے لوگ اُس کی پَیدایش کے سبب سے خُوش ہوں گے15کیونکہ وہ خُداوندکے حضُور میں بزُرگ ہو گا اور ہرگِز نہ مَے نہ کوئی اَور شراب پِیئے گا اور اپنی ماں کے بَطن ہی سے رُوحُ القُدس سے بھر جائے گا16اور بُہت سے بنی اِسرائیل کو خُداوندکی طرف جو اُن کا خُدا ہے پھیرے گا17اور وہ ایلیّا ہ کی رُوح اور قُوّت میں اُس کے آگے آگے چلے گا کہ والِدوں کے دِل اَولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راست بازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خُداوند کے لِئے ایک مُستعِد قَوم تیّار کرےO

18زکریا ہ نے فرِشتہ سے کہا مَیں اِس بات کو کِس طرح جانُوں؟ کیونکہ مَیں بُوڑھا ہُوں اور میری بِیوی عُمر رسِیدہ ہےO

19فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا مَیں جبرا ئیل ہُوں جو خُدا کے حضُور کھڑا رہتا ہُوں اور اِس لِئے بھیجا گیا ہُوں کہ تُجھ سے کلام کرُوں اور تُجھے اِن باتوں کی خُوشخبری دُوں20اور دیکھ جِس دِن تک یہ باتیں واقِع نہ ہو لیں تُو چُپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا O اِس لِئے کہ تُو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر پُوری ہوں گی یقِین نہ کِیاO                                 لوقا 1: 13-20

 زبور شریف کے اختتام پر یہ بتایا گیا تھا۔ کہ مسیح کی راہ کی تیاری کے لیے آنے والا نبی حضرت ایلیا نبی کی طرح کا ہوگا۔ حضرت جبرائیل نے اس وعدے کو حضرت زکریا کو یاد کروایا۔ کہ وہ ایلیاہ کی رُوح اور قُوّت میں اُس کے آگے آگے چلے گا ۔ وہ اس لیے آرہا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں کو خداوند کے لیے تیار کرے۔ اس اعلان کا مطلب تھا۔ کہ جو نبوتیں اور وعدے کیے گے تھے۔ اُن کو اللہ تعالیٰ نے بھلا نہیں دیا۔ بلکہ ان وعدوں کو حضرت زکریا اور اُسکی بیوی کی زندگی میں اُن کے گھر پیدا ہونے والے بچے کے زریعے پورا ہونے جارہا تھے۔ تاہم، حضرت زکریا نے اس پیغام پر یقین نہ کیا اور اس لیے اُس کا بھولنا حضرت یحیٰی کی پیدائش تک بند کردیا گیا۔

حضرت جبریل ایک کنواری سے پیدا ہونے والے کی پیدائش کا اعلان کرتا ہے

اس تیاری کا مطلب یہ تھا۔ کہ لوگوں کو مسیح / مسیحا/ کرائسٹ کی آمد کے لیے تیار کیا جائے۔ یقینی طور پر چند مہینوں بعد حضرت جبرائیل جلیل کے گاوں کی ایک کنواری کے پاس ایک پیغام کے ساتھ بھیجے گئے۔ اور یہ پیغام انجیل شریف میں موجود ہے۔

 28اور فرِشتہ نے اُس کے پاس اندر آ کر کہا سلام تُجھ کو جِس پر فضل ہُؤا ہے! خُداوند تیرے ساتھ ہے. 29وہ اِس کلام سے بُہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کَیسا سلام ہے

 30فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے مر یم! خَوف نہ کر کیونکہ خُدا کی طرف سے تُجھ پر فضل ہُؤا ہے.31اور دیکھ تُو حامِلہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گااُس کانام یِسُو ع رکھنا. 32وہ بزُرگ ہو گا اور خُدا تعالےٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؤُد کا تخت اُسے دے گا 33اور وہ یعقُو ب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخِر نہ ہو گا

34مریم نے فرِشتہ سے کہا یہ کیوں کر ہو گا جبکہ میں مَرد کو نہیں جانتی؟

35اور فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ رُوحُ القُدس تُجھ پر نازِل ہو گا اور خُدا تعالےٰ کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مَولُودِ مُقدّس خُدا کا بیٹاکہلائے گا36اور دیکھ تیری رِشتہ دار اِلیشِبَع کے بھی بُڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور اب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے 37کیونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہو گا

38مریم نے کہا دیکھ مَیں خُداوندکی بندی ہُوںمیرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہوتب فرِشتہ اُس کے پاس سے چلا گیا                                                            لوقا 1: 28-38

   ۔ حضرت جبرائیل کے اعلان میں ہم ایک حیران کردینے والی بات “خدا کا بیٹا” کو سنتے ہیں۔ میں نے اپنے مضمون میں اس کے بارے میں مزید بحث کی ہے (جو یہاں موجود ہے)۔ لیکن ہم پیدائش کے بارے میں اپنے مضمون کو جاری رکھیں گے۔

حضرت یحیٰی نبی کی پیدائش

جس طرح زبور شریف میں پیش گوئی کی گئی تھی۔ یہ واقع پیش گوئی کے مطابق بلکل اُسی طرح رونما ہوا۔

حضرت ملاکی نبی نے راہ کی تیاری کرنے والے کے بارے بتایا تھا۔ کہ وہ حضرت ایلیا کی روح اور قوت میں چلے گا۔ اب حضرت جبرائیل اُس کی پیدائش کی خبر لیے کر موجود ہوا۔ انجیل شریف اس واقع کو اس طرح بیان کرتی ہے۔

57اور اِلیشِبَع کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچا اور اُس کے بیٹا ہُؤا 58اور اُس کے پڑوسِیوں اور رِشتہ داروں نے یہ سُن کر کہ خُداوندنے اُس پر بڑی رحمت کی اُس کے ساتھ خُوشی منائی

59اور آٹھویں دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ لڑکے کا خَتنہ کرنے آئے اور اُس کا نام اُس کے باپ کے نام پر زکر یاہ رکھنے لگے60مگر اُس کی ماں نے کہا نہیں بلکہ اُس کا نام یُوحنّا رکھّا جائے

61اُنہوں نے اُس سے کہا کہ تیرے کُنبے میں کِسی کا یہ نام نہیں 62اور اُنہوں نے اُس کے باپ کو اِشارہ کِیا کہ تُو اُس کا نام کیا رکھنا چاہتا ہے؟

63اُس نے تختی منگا کر یہ لِکھا کہ اُس کا نام یُوحنّا ہے اور سب نے تعجُّب کِیا64اُسی دَم اُس کا مُنہ اور زُبان کُھل گئی اور وہ بولنے اور خُدا کی حمد کرنے لگا 65اور اُن کے آس پاس کے سب رہنے والوں پر دہشت چھا گئی اور یہُودیہ کے تمام پہاڑی مُلک میں اِن سب باتوں کا چرچا پَھیل گیا 66اور سب سُننے والوں نے اُن کو دِل میں سوچ کر کہا تو یہ لڑکا کَیسا ہونے والا ہے؟ کیونکہ خُداوند کا ہاتھ اُس پر تھا                                            لوقا 1: 57-66

حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش

حضرت یسعیاہ نے ایک بے مثال پیش گوئی (یہاں مکمل وضاحت کے لیے کلک کریں۔) کی تھی۔ جو اس طرح ہے۔

لیکن خُداوند آپ تُم کو ایک نِشان بخشے گا ۔ دیکھو ایک کُنواری حامِلہ ہو گی اور بیٹا پَیدا ہو گا اور وہ اُس کانام عِمّانُوایل رکھّے گی۔                                      یسعیاہ 7: 14

 اب مقرب فرشتہ جبرائیل حضرت مریم کو پیدائش کی خبر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک کنواری خاتون کے پاس آیا۔  جس نبوت کو حضرت یسعیاہ نے لمبے عرصے پہلے بتادیا تھا۔ اور یہ اُسکی تکمل تھی۔ اس کو انجیل شریف میں اس طرح درج کیا گیا ہے۔

4پس یُوسف بھی گلِیل کے شہر ناصرۃ سے داؤُد کے شہر بَیت لحم کو گیا جو یہُودیہ میں ہےاِس لِئے کہ وہ داؤُد کے گھرانے اور اَولاد سے تھا 5تاکہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو حامِلہ تھی نام لِکھوائے 6جب وہ وہاں تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچا 7اور اُس کا پہلوٹابیٹا پَیدا ہُؤا اور اُس نے اُس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھّاکیونکہ اُن کے واسطے سرائے میں جگہ نہ تھی.

8اُسی عِلاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو مَیدان میں رہ کر اپنے گلّہ کی نِگہبانی کر رہے تھے9اور خُداوندکا فرِشتہ اُن کے پاس آ کھڑا ہُؤا اور خُداوندکا جلال اُن کے چَوگِرد چمکا اور وہ نِہایت ڈر گئے10مگر فرِشتہ نے اُن سے کہا ڈرو مت کیونکہ دیکھو مَیں تُمہیں بڑی خُوشی کی بشارت دیتا ہُوں جو ساری اُمّت کے واسطے ہو گی.11کہ آج داؤُد کے شہر میں تُمہارے لِئے ایک مُنجّی پَیدا ہُؤا ہے یعنی مسِیح خُداوند.12اور اِس کا تُمہارے لِئے یہ نِشان ہے کہ تُم ایک بچّہ کو کپڑے میں لِپٹا اور چرنی میں پڑا ہُؤا پاؤ گے.

13اور یکایک اُس فرِشتہ کے ساتھ آسمانی لشکر کی ایک گروہ خُدا کی حمد کرتی اور یہ کہتی ظاہِر ہُوئی کہ.

14عالَمِ بالا پر خُدا کی تمجِید ہو

اور زمِین پر اُن آدَمِیوں میں جِن سے وہ راضی ہے صُلح.

15جب فرِشتے اُن کے پاس سے آسمان پر چلے گئے تو اَیسا ہُؤا کہ چرواہوں نے آپس میں کہا کہ آؤ بَیت لحم تک چلیں اور یہ بات جو ہُوئی ہے اور جِس کی خُداوند نے ہم کو خبر دی ہے دیکھیں

16پس اُنہوں نے جلدی سے جا کر مریم اور یُوسف کو دیکھا اور اُس بچّہ کو چرنی میں پڑا پایا 17اور اُنہیں دیکھ کر وہ بات جو اُس لڑکے کے حق میں اُن سے کہی گئی تھی مشہُور کی18اور سب سُننے والوں نے اِن باتوں پر جو چرواہوں نے اُن سے کہِیں تعجُّب کِیا 19مگر مر یم اِن سب باتوں کو اپنے دِل میں رکھ کر غَور کرتی رہی. 20اور چرواہے جَیسا اُن سے کہا گیا تھا وَیسا ہی سب کُچھ سُن کر اور دیکھ کر خُدا کی تمجِید اور حمد کرتے ہُوئے لَوٹ گئے

21جب آٹھ دِن پُورے ہُوئے اور اُس کے خَتنہ کا وقت آیا تو اُس کا نام یِسُو ع رکھا گیا جو فرِشتہ نے اُس کے رَحِم میںپڑنے سے پہلے رکھّا تھا                  لوقا 2: 4-21

آنے والے دونوں عظیم انبیاء اکرام کا کردار

یہ دونوں عظیم انبیاء اکرام ایک دوسرے سے چند مہینوں کے عرصے کے وقفے میں پیدا ہوئے۔ دونوں کے بارے میں سینکڑوں سال پہلے کی گئیں پیشن گوئیاں پوری ہوئیں۔ اُن کی زندگیوں سے ہمارے لیے کیا پیغام ملتا ہے؟ حضرت یحیٰی کے والد حضرت زکریا نے دونوں کے بارے میں نبوت کی۔

67اور اُس کا باپ زکر یاہ رُوحُ القُدس سے بھر گیا اور نبُوّت کی راہ سے کہنے لگا کہO

68خُداوند اِسرا ئیل کے خُدا کی حمد ہو

کیونکہ اُس نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کر کے اُسے

چُھٹکارا دِیاO

69اور اپنے خادِم داؤُد کے گھرانے میں

ہمارے لِئے نجات کا سِینگ نِکالاO

70(جَیسا اُس نے اپنے پاک نبِیوں کی زُبانی کہا تھا

جو کہ دُنیا کے شرُوع سے ہوتے آئے ہیں)O

71یعنی ہم کو ہمار ے دُشمنوں سے

اور سب کِینہ رکھنے والوں کے ہاتھ سے نجات

بخشیO

72تاکہ ہمارے باپ دادا پر رحم کرے

اور اپنے پاک عہد کو یاد فرمائےO

73یعنی اُس قَسم کو جو اُس نے ہمارے باپ ابرہا م

سے کھائی تھیO

74کہ وہ ہمیں یہ عِنایت کرے گا کہ اپنے دُشمنوں

کے ہاتھ سے چُھوٹ کرO

75اُس کے حضُور پاکِیزگی اور راست بازی سے

عُمر بھر بے خَوف اُس کی عِبادت کریںO

76اور اَے لڑکے تُو خُدا تعالےٰ کا نبی کہلائے گا

کیونکہ تُو خُداوند کی راہیں تیّار کرنے کو اُس

کے آگے آگے چلے گاO

77تاکہ اُس کی اُمّت کو نجات کا عِلم بخشے

جو اُن کو گُناہوں کی مُعافی سے حاصِل ہوO

78یہ ہمارے خُدا کی عَین رحمت سے ہوگا

جِس کے سبب سے عالمِ بالا کا آفتاب ہم پر

طلُوع کرے گاO

79تاکہ اُن کو جو اندھیرے اور مَوت کے سایہ میں

بَیٹھے ہیں رَوشنی بخشے

اور ہمارے قدموں کو سلامتی کی راہ پر ڈالےO      لوقا 1: 67-79

حضرت زکریا نے حضرت عیسیٰ المسیح کی پیدائش کے بارے حضرت داود نبی کی معرفت حوصلہ افزائی کی  پیشن گوئیوں کو دوہرایا۔ جن کا حضرت ابراہیم کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ (یہاں وعدوں کو جاننے کے لیے کلک کریں) اللہ تعالٰی کا منصوبہ جو صدیوں پہلے بیان کیا جا چکا تھا۔ اب اپنے عروج پر تھا۔ لیکن اس منصوبے میں کیا تھا۔ کیا اس رومی حکومت سے نجات حاصل کرنا مراد تھی؟ کیا حضرت موسیٰ کی شریعت کو تبیل کرکے ایک نئی شریعت نافذ کرنا مراد تھی؟ یا کیا کوئی نیا مذہب یا نئی سیاسی نظام متعارف کروانا مراد تھا۔ ان میں سے کوئی (اس میں ہم جیسے انسانوں کی سوچ شامل نہیں تھی)  بھی ایک نہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بجائے اس منصوبے کی وضاحت اس طرح تھی۔

کہ اپنے گناہوں کی معافی کے زریعے نجات حاصل کریں اور تاکہ ہم اُس خدا واحد کی عبادت پاکیزگی اور راستبازی کے ساتھ کریں۔ یہ خدا کی ہم پر رحمت تھی۔ اور اُن پر جو موت کی وادی میں رہتے تھے کامل راہنمائی۔ حضرت آدم سے لیکر ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے موت کی قید میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے منصوبے کا اعلان حضرت آدم، اماں حوا اور ابلیس کے سامنے کردیا تھا۔ کہ ایک شخص عورت کی نسل پیدا ہوگا۔  یقیناً اس قسم کا منصوبہ کسی جنگ، یا نظام سے بہتر تھا کہ ہم اُس پر عمل کرتے۔ اس منصوبے سے ہم اپنی اہم ضروریات کو پورا کرسکتے تھے۔ لیکن یہ کس طرح منصوبہ تیار کیا گیا اور بیان کیا گیا کہ مسیح آئے گا۔ ہم اپنے ان جوابات کے بارے میں معلوم کرتے جائیں گے۔ جیسے جیسے ہم انجیل شریف کے مطالعہ میں بڑھتے جائیں گے۔

حضرت یحیٰی کے آمد کی پیش گوئی

ہم نے “خادم کی نشانی” میں مطالعہ کیا اور یہ جانا کہ خادم کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن اُس کے آںے کا وعدہ کو ایک خاص سوال سے معلوم کیا جاتا ہے۔ جب اُس نے یسعاہ 53 باب کے شروع میں ایک سوال کیا جاتا ہے۔

ہمارے پیغام پر کون ایمان لایا؟   ( یسعیاہ 53: 1 الف)

حضرت یسعیاہ اس بات کی پیش گوئی کررہا تھا کہ آنے والے خادم پر لوگ اتنی جلدی ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں پر مسئلہ یہ نہیں کہ پیغام میں یا پیش گوئی یا نشانی ٹھیک طور پر بیان نہیں ہوئیں۔ اور وہ اُس کے نام کے ساتھ اُس کے وقت  کے“سات چکر” کی بھی بات کرتا ہے کہ اُس کو زندوں کی زمین پر سے کاٹ ڈالا جائے گا۔ مسئلہ یہ بھی نہیں کہ بہت زیادہ پیشن گوئیاں نہیں تھیں۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کہ لوگوں کے دل سخت ہوچکے تھے۔ لہذا کسی شخص کو خادم کی آمد سے پہلے آنے کی ضرورت تھی۔ تاکہ وہ لوگوں کو اُس کی آمد کے لیے تیار کرے۔ اس لیے حضرت یسعیاہ نے یہ پیغام دیا کہ خادم کے آنے سے پہلے ایک شخص آئے گا۔ اُس نے یہ پیش گوئی کو زبور کی کتاب میں لکھ ہوئی ہے۔ جو درج ذیل ہے۔

3پُکارنے والے کی آواز!

بیابان میں خُداوند کی راہ درُست کرو ۔

صحرا (بیابان) میں ہمارے خُدا کے لِئے شاہراہ ہموار کرو۔

4ہر ایک نشیب اُونچا کِیا جائے

اور ہر ایک پہاڑ اورٹِیلا پست کِیا جائے

اور ہر ایک ٹیڑھی چِیز سِیدھی اورہر ایک ناہموار

جگہ ہموار کی جائے۔

5اور خُداوند کا جلال آشکارا ہو گا

اور تمام بشر اُس کودیکھے گا

کیونکہ خُداوند نے اپنے مُنہ سے فرمایا ہے۔              یسعیاہ 40: 3-5

حضرت یسعیاہ نے کسی ایک کے آنے کی پیش گوئی کی۔ جو بیابان (صحرا) میں خداوند کی راہ تیار کرے گا۔ وہ ایک رکاوٹ کو ختم کرے گا۔ تاکہ خداتعالیٰ کا جلال نازل ہو۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ کس طرح ہوگا۔

 حضرت یسعیاہ، حضرت ملاکی، اور حضرت حزقی ایل کا اور کچھ دوسرے انبیاءاکرام کا تاریخی ٹائم لائن

زبور شریف کی کتاب کا آخری نبی حضرت ملاکی ہے۔

حضرت یسعیاہ نبی کے 300 سال بعد حضرت ملاکی نبی آیا۔ جس نے زبور شریف کی آخری کتاب لکھی۔ اُنہوں نے حضرت یسعیاہ نبی کی پیشن گوئی کی وضاحت اپنی کتاب میں بیان کی۔ وہ اس طرح لکھتے ہیں۔

دیکھو مَیں اپنے رسُول کو بھیجُوں گا اور وہ میرے آگے راہ درُست کرے گا اور خُداوند جِس کے تُم طالِب ہو ناگہان اپنی ہَیکل میں آ مَوجُود ہو گا ۔ ہاں عہد کا رسُول جِس کے تُم آرزُومند ہو آئے گا ربُّ الافواج فرماتا ہے۔                                                              ملاکی 3: 1

یہاں پھر خداوند کی راہ تیار کرنے والے کی پیش گوئی ہورہی ہے۔ جب وہ راہ تیار کرچکے گا۔عہد کا رسول (خادم) آموجود ہوگا۔ حضرت ملاکی کس عہد کی یہاں بات کر رہیں ہیں؟ آپ کو یاد ہوگا کہ حضرت یرمیاہ نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ایک نیا عہد باندھے گا، جو تمہارے دلوں پر لکھا جائے گا۔ صرف اُس وقت ہم اپنی پیاس بجھانے کے قابل ہوجائیں گے۔ جو ہمیں ہمیشہ گناہ کی طرف کھیچتی ہے۔ اس عہد کی بات حضرت ملاکی بات کررہا تھا جب وہ آنےوالے کی راہ کی تیاری کی بات کرتا ہے۔ حضرت ملاکی پھر اس کی کتاب کے آخری پیراگراف کو زبور شریف کی کتاب کا اختتام کردیتا ہے۔ اس آخری پیراگراف میں وہ مستقبیل کے بارے میں یوں لکھتا ہے۔

5دیکھو خُداوند کے بزُرگ اور ہَولناک دِن کے آنے سے پیشتر مَیں ایلیّاہ نبی کو تُمہارے پاس بھیجُوں گا۔ 6اور وہ باپ کا دِل بیٹے کی طرف اور بیٹے کا باپ کی طرف مائِل کرے گا ۔ مبادا مَیں آؤُں اور زمِین کو ملعُون کرُوں۔                                                                ملاکی 4: 5-6

حضرت ملاکی کا کیا مطلب تھا کہ  خداوند کے روزِعظیم آنے سے پہلے “ایلیاہ ” آئے گا۔ حضرت ایلیاہ کون ہے؟

حضرت ایلیاہ زبور شریف کی کتاب کا ایک اور نبی ہے جس کے بارے میں ہم نے مطالعہ نہیں کیا۔ ( ہم زبور شریف کے تمام انبیاءاکرام کا مطالعہ نہیں کرسکتے۔ اس طرح یہ حصہ بہت لمبا ہوجائے گا۔ لیکن آپ اس ٹائم لائن میں دیکھ سکتے ہیں) حضرت ایلیاہ 850 ق م کے دور میں نازل ہوئے تھے۔ وہ بیابان میں رہتے اور جانوروں کے چمڑے کا لباس اور جنگلی خوراک کھانے میں مشہور تھا۔ شاید آپ کو تھوڑا عجیب سا لگے۔ حضرت ملاکی نے کچھ اس طرح لکھا کہ جو شخص نئے عہد کی راہ تیار کرے گا۔ وہ حضرت ایلیاہ کی طرح کا ہوگا۔ اور اس بیان کے بعد زبور شریف مکمل ہوجاتا ہے۔ یہ زبور شریف کا آخری حوالہ ہے جو 450 ق م میں لکھا گیا۔ تورات شریف اور زبور شریف آنے والی شخصیت کے ساتھ بھرے پڑے ہیں۔ آئیں ہم اس بات کا جائزہ لیں۔

تورات شریف اور زبور شریف کے وعدوں کا جائزہ

  • حضرت ابراہیم کے ساتھ “قربانی کی نشانی” میں یہ بیان کیا گیا تھا۔ کہ موریاہ کے پہاڑ اُن سے وعدہ کیا گیا تھا۔ “مہیا کیا جائے گا” یہودی زبور شریف کے اختتام تک اس وعدے کی تکمیل کا انتظار کر رہے تھے۔
  • حضرت موسیٰ سے کہا گیا تھا۔ کہ یہ ‘فسح” اسرائیلیوں کے لیے ایک نشانی تھی۔ اسرائیلی اس فسح کو اپنی ساری تاریخ میں مناتے آئے تھے۔ لیکن وہ یہ بھول گے تھے۔ کہ یہ ایک نشانی تھی۔ یہ اُس کی طرف اشارہ تھا جو ابھی تک پورا نہ ہوا تھا۔
  • حضرت موسیٰ نے تورات شریف میں بتایا تھا۔ کہ ایک نبی آئے گا۔ جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ “میں اپنا کلام اُس کے منہ میں رکھو گا” اللہ تعالیٰ نے اُس آنے والے بنی کے بارے میں ایک وعدہ میں بیان کیا تھا۔ “اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جِن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سُنے تو مَیں اُن کا حِساب اُس سے لُوں گا۔”
  • حضرت داود نے آنے والے مسیح کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔ یہودیوں کی طویل تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے۔ کہ آںے والا مسیح کس طرح کا ہوگا۔
  • حضرت یسعیاہ نے پیش گوئی کی ایک کنواری ایک بیٹے کو جنم دے گی۔ اور زبور شریف اختتام تک یہودی اس حیرت انگیز واقع کے رونما ہونے کے منتظر تھے۔
  • حضرت یرمیاہ نے نئے عہد کی پیش گوئی کی تھی۔ جو ہمارے دلوں پر لکھا جانا تھا۔
  • حضرت زکریاہ پیش گوئی کی تھی۔ کہ اُس کا نام “مسیح” ہو گا۔
  • حضرت دانیال پیش گوئی کی تھی۔ کہ جب مسیح آئے گا تو اس کی بجائے وہ بادشاہی کرے وہ قتل کردیا جائے گا۔
  • حضرت یسعیاہ نے پیش گوئی کی کہ وہ”خادم” آئے گا۔ اُس پر بہت زیادہ تشددید کیا جائے گا۔ لیکن وہ “زندوں کی زمین پر سے کاٹ ڈالا جائے گا”۔
  • حضرت ملاکی نے مسیح کے آنے سے پہلے راہ تیار کرنے والے کے بارے میں پیش گوئی کی۔ جو آئے گا اور لوگوں کے دلوں کو تیار کرے گا اور تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بات کو دل سے قبول کریں۔

لہذا 450 ق م میں جب زبور شریف کا اختتام ہو گیا تھا۔ اُس وقت بھی یہودی ان وعدوں کے پورا ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ اور وہ مسلسل نسل در نسل انتظار کررہے تھے۔ کہ کب یہ وعدے پورے ہونگے۔

زبور شریف کے مکمل ہونے کے بعد کیا ہوا

جیسا کہ ہم نے اسرائیلیوں کی تاریخ میں دیکھا، اسکندرِاعظیم نے 330 ق.م. میں دنیا کا زیادہ تر معروف حصہ  فتح کرلیا تھا اور لوگوں نے یونانی تہذیب کو اور یونانی زبان کو اپنا لیا تھا۔ جس طرح آج انگریزی زبان دنیا کی معروف ترین زبان ہے۔ اُسی طرح اُس وقت یونانی دنیا کی غالب ترین زبان تھی۔ یہودی ربیوں نے 250 ق م میں تورات شریف اور زبور شریف کا ترجمہ عبرانی سے یونانی زبان میں کیا تھا۔ اس ترجمہ کو سپٹواجنٹ کا نام دیا گیا تھا۔ جس طرح ہم نے اس بات کا مطالعہ کیا کہ لفظ مسیح اور یسوع بھی اس ترجمہ سے برآمد ہوئے ہیں۔

 حضرت یسعیاہ، حضرت ملاکی، اور حضرت حزقی ایل کا اور کچھ دوسرے انبیاءاکرام کا تاریخی ٹائم لائن

اس عرصے میں (300 ق م کو نیلے رنگ میں دیکھایا گیا ہے) شام اور مصر کے درمیان جنگی کشمکش جاری تھی۔ اور اسرائیلی ان دنوں ریاستوں کے درمیان رہ رہے تھے۔ کئی بار شامی بادشاہ اسرائیلوں پر اپنے یونانی مذہب چسپاں کرنے کی کوشش کرتے۔ تو اُسی وقت کوئی یہودی لیڈر اپنے مذہبی اعقائد کا مقابلہ کرتا اور اسرائیل کی مذہبی روایت کو بحال کرتا۔ جس کو حضرت موسیٰ نے اُن کو دیا تھا۔ کیا ان مذہبی راہنماوں نے اُن تمام وعدوں کو پورا کیا جن کا یہودی بڑی شدید سے انتظار کررہے تھے۔ یہ راہنما بے شک بہت اچھے مذہبی لوگ تھے لیکن وہ زبور شریف اور تورات شریف میں موجود وعدوں اور نشانوں کو پورا نہیں کرسکے۔ دراصل اُنہوں نے خود اس بات کا کبھی دعوہ بھی نہ کیا کہ وہ نبی ہیں۔ اُنہوں نے صرف یہودیوں کو یونانی خداوں کی عبادت کرنے سے بچایا تھا۔

اس عرصے کے بارے میں موجود تاریخی کتابیں بیان کرتی ہیں۔ کہ کیسے یہودیوں نے اپنی مذہبی روایات کو زندہ رکھا۔ یہ کتابیں مذہبی اور تاریخی بصرت فراہم کرتی ہیں اور بہت زیادہ قمیتی ہیں۔

لیکن یہودی لوگ ان کتابوں کو الہامی تصور نہیں کرتے۔ وہ بہت اچھی کتابیں ہیں جن کو مذہبی راہنماوں نے لکھا تھا۔ لیکن ان کو انبیاء اکرام نے نہیں لکھا تھا۔ یہ کتابیں اپاکرفا کے طور پر پہچانی جاتی ہیں ۔

لیکن یہ کتابیں قابلِ استعمال تھیں کیونکہ اکثر ان کو زبور اور تورات کی تاریخوں کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ مسیح پر انجیل شریف کے نازل ہونے کے بعد تورات، زبور اور انجیل شریف کو ایک کتاب کے طور سامنے آئی۔ جس کو ہم الکتاب یا بائبل مقدس کہتے ہیں۔ آج بھی کتھولک فرقہ ان اپاکرفا کتابوں کو اپنی بائبل میں شمار کرتا ہے۔ لیکن یہ تورات اور زبور شریف کا حصہ نہیں ہیں۔

لیکن تورات اور زبور شریف میں موجود وعدے پورے ہورہے تھے۔ کہ رومی حکومت نے یہودیوں پر حملہ کرکے اُن کے ملک پر قبضہ کرلیا اور وہاں پر یونانی زبان کا راج شروع ہوگیا۔ (ٹائم لائن میں اس عرصۓ کو پیلے رنگ میں دیکھایا گیا ہے) رومیوں نے بڑے موثر لیکن سخت طریقے سے حکومت کی۔ ٹیکس بہت زیادہ ادا کرنا پڑتا اور رومی کسی کی برداشت نہیں کرتے تھے۔ یہودی تورات اور زبور شریف میں موجود وعدوں کی تکمیل کا بڑھی شدید کے ساتھ انتظار کرنے لگے۔ اُن کے اس لمبے عرصے کے انتظار کے دوران اُن کی عبادت کے اصول بہت سخت ہوتے گے۔ اور اُنہوں نے انبیاء اکرام کی روایات سے بڑھ کر خود سے کئی رسومات بنالیں۔ یہ اضافی ‘حکم’ اچھے نظریات کی طرح محسوس ہوتے تھے۔ لیکن انہوں نے یہودیوں کے استادوں کے دلوں اور دماغوں میں فوری طور پر تورات اور زبور کے اصل حکموں کو بھولا دیا تھا.

اور پھر آخر کار جب لوگ یہ سمجھنے لگے کہ شاید اللہ تعالیٰ اپنے وعد وں کو  بھول گیا۔ تو اُنہی دنوں میں ایک فرشتہ جبرائیل ایک طویل انتظار کے بعد ایک رسول جو تیاری کے لیے نازل ہونے والا تھا۔ اُس کی پیدائش کی خبر لے کر نازل ہوا۔ آج ہم اُس کو حضرت یحٰیی کے طور پر جانتے ہیں۔ لیکن یہ انجیل شریف کا ابتدائی واقعہ ہے۔ ہم اگلے مضمون میں اس کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔

آنے والے خادم کی نشانی

ہماری گزشتہ پوسٹ میں ہم بات کررہے تھے۔ کہ حضرت دانیال نبی نے پیشن گوئی کی تھی۔ کہ مسیح آئے گا۔ اور اُس کو شہید کردیا جائے گا۔ اس طرح ایسا لگتا ہے۔ کہ حضرت دانیال کا یہ بیان دوسرے انبیاءاکرام سے اختلاف رکھتا ہے۔ کیونکہ اُن کا کہنا ہے کہ مسیح آئے گا اور دنیا پر حکومت کرے گا۔

لیکن یہ اختلاف اُس وقت ختم ہوجاتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں۔ کہ انبیاءاکرام دو مختلف مسیح کے بارے میں بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک مسیح شہید ہونے کے لیے آرہا ہے اور دوسرا بادشاہی کرنے کے لیے۔ یہودی قوم نے کلام مقدس کے ایک حصے کو نظرانداز کردیا ۔ جس کی وجہ سے وہ سارے صحیفوں کو بہتر طور پر نہیں جانتے۔ یہ ہمارے لیے ایک انتباہ بھی ہے۔ کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا ہے۔

ہمارے لیے ذبور شریف کا مطالعہ بہت مفید رہا ہے۔ لیکن ہمیں مزید جاننا ہوگا۔ کہ حضرت یسعیاہ نے مسیح کے بارے میں بھی پیشن گوئی کی ہے۔

 حضرت یسعیاہ اور کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

حضرت یسعاہ نبی نے آنے والے مسیح کے لیے‘شاخ” کی مثال استعمال کی ہے۔ لیکن اُس نے  آنے والے ایک شخص کے بارے میں ایک طویل حوالہ لکھا ہے۔ جس میں وہ ایک آنے والے خادم کی بات کرتا ہے۔ یہ خادم کون ہے؟ یہ کیا کام کرے گا؟ ہم اس کے بارے میں حوالے میں مزید تفصیل دیکھ سکتے ہیں۔ میں اس کو ذیل میں پیش کرتا ہوں اور اس کی وضاحت کے لیے کچھ تبصرے بھی پیش کردیتا ہوں۔

حضرت یسعیاہ آنے والے خادم کے بارے میں پیشگوئی کرتے ہیں

مکمل حوالہ یسعیاہ 52:13-53:12

13دیکھو میرا خادِم اِقبال مند ہو گا ۔

وہ اعلیٰ و برتراور نِہایت بُلند ہو گا۔

14جِس طرح بُہتیرے تُجھ کو دیکھ کر دنگ ہو گئے

(اُس کا چِہرہ ہر ایک بشر سے زائِد اور اُس کا جِسم

بنی آدم سے زِیادہ بِگڑ گیا تھا)۔

15اُسی طرح وہ بُہت سی قَوموں کو پاک (اپنے خون کے چھڑکے جانے سے) کرے گا ۔

اور بادشاہ اُس کے سامنے خاموش ہوں گے

کیونکہ جو کُچھ اُن سے کہا نہ گیا تھا وہ دیکھیں گے

اور جو کُچھ اُنہوں نے سُنا نہ تھاوہ سمجھیں

گے۔                                        یسعیاہ 52: 13-15

ہم جانتے ہیں کہ یہ خادم ایک انسان ہوگا۔ کیونکہ حضرت یسعیاہ نے اُس کے بارے میں “وہ” اُس کا” اور “اُن کا” جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ جب حضرت ہارون بنی اسرائیل کے لیے قربانی گزرانتا تھا۔ تو اُس قربانی کا خون لوگوں کے اُوپر چھڑکتا تھا۔ تاکہ اُن کے گناہ اُن کے خلاف نہ گنے جائیں ۔ جب یہ کہا گیا کہ خادم چھڑکے گا۔ تو حضرت یسعیاہ کا کہنا تھا۔ کہ جس طرح حضرت ہارون لوگوں کے اُوپر خون چھڑکتا تھا۔ اُسی طرح یہ خادم اپنی قربانی کا خون لوگوں پر چھڑکے گا۔ لیکن یہ خادم اپنا خون بہت سی قوموں پر چھڑکے گا۔ اس لیے یہ خادم یہودی قوم کے لیے ہی نہیں آرہا۔ بلکہ ساری قوموں کہ لیے آرہا ہے۔ اس سے ہمیں ایک اہم بات یاد آجاتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ( نشانی 1 اور نشانی 2)  حضرت ابراہیم کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ تجھ سے ساری قومیں برکت پائیں گی۔ لیکن اس خون کے چھڑکنے نے والے خادم کی “ظاہری شکل” اور خدوخال ظلم و ستم کی وجہ سے بگاڑ دی جائے گی۔

اگرچہ یہ واضع نہیں ہے کہ کس طرح اس خادم پر ظلم کیا جائے گا۔ لیکن ایک دن قومیں اس بات کو جان جائیں گی۔

1ہمارے پَیغام پر کَون اِیمان لایا؟

اور خُداوند کابازُو کِس پر ظاہِر ہُؤا؟۔

2پر وہ اُس کے آگے کونپل کی طرح اور خُشک زمِین

سے جڑکی مانِند پُھوٹ نِکلا ہے ۔

نہ اُس کی کوئی شکل و صُورت ہے نہ خُوب صُورتی

اور جب ہم اُس پر نِگاہ کریں

تو کُچھ حُسن و جمال نہیں کہ ہم اُس کے مُشتاق

ہوں۔

3وہ آدمِیوں میں حقِیر و مردُود ۔

مَردِ غم ناک اور رنج کا آشنا تھا ۔

لوگ اُس سے گویا رُوپوش تھے

اُس کی تحقِیرکی گئی اور ہم نے اُس کی کُچھ قدر نہ

جانی۔                                                یسیعیاۃ 53 : 1-3

اگرچہ خادم بہت سی قوموں پر چھڑکے گا۔ لیکن وہ بھی ناپشندیدہ اور مسترد کیا دیا جائے گا۔ اور تکلیف اور درد سے بے حال ہوجائے گا۔

4تَو بھی اُس نے ہماری مشقّتیں اُٹھا لِیں

اور ہمارے غموں کو برداشت کِیا ۔

پر ہم نے اُسے خُدا کا مارا کُوٹااور ستایا ہُؤا سمجھا۔

5حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا

اور ہماری بدکرداری کے باعِث کُچلا گیا ۔

ہماری ہی سلامتی کے لِئے اُس پر سیاست ہُوئی

تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شِفا پائیں۔       یسیعیاۃ 53 : 5-4

یہ خادم ہماری “درد” کو اپنے اُوپر لے لیے گا۔ اس خادم پر غذاب، اور سزائیں لائیں جائیں گی اور اس کو کچلا جائے گا۔ اُس کے مار کھانے (بہت سی قومیں) اطمینان اور شفا پائیں گی۔

ہم سب بھیڑوں کی مانِند بھٹک گئے ۔

ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پِھرا

پر خُداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لادی۔       یسیعیاۃ 53 : 6

ہم نے پیاس کی نشانی میں مطالعہ کیا ہے۔ کہ ہم کیسے اپنے شکستہ حالت میں اطمینان پانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کی بجائے دوسرے راستوں پر چلے جاتے ہیں۔

ہم نے ایک دوسرے کو گمراہ کیا اور اپنے راستوں سے بھٹک گئے۔ دراصل یہ گناہ ہے۔

وہ ستایا گیا تَو بھی اُس نے برداشت کی

اور مُنہ نہ کھولا ۔

جِس طرح برّہ جِسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں

اورجِس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں

کے سامنے بے زُبان ہے

اُسی طرح وہ خاموش رہا۔          یسعیاہ 53: 7

انبیاءاکرام نے یعنی حضرت  ہابیل، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور ہارون نے بکروں کی قربانی دیتے تھے۔ لیکن یہ خادم خود ہی اپنی قربانی دے گا اور یہ اس کے بارے احتجاج نہیں کرے گا یہاں تک کہ اپنا منہ بھی نہ کھولے گا۔

وہ ظُلم کر کے اور فتویٰ لگا کر اُسے لے گئے

پر اُس کے زمانہ کے لوگوں میں سے کِس نے

خیال کِیا

کہ وہ زِندوں کی زمِین سے کاٹ ڈالا گیا؟

میرے لوگوں کی خطاؤں کے سبب سے اُس پر

مار پڑی۔                                  یسعیاہ 53: 8

اس خادم کو زندوں کی زمین پر سے کاٹ ڈالا گیا۔ کیا حضرت دانیال کا یہ مطلب تھا۔ جب اُس نے مسیح کے بارے میں پیشگوئی کی تھی؟ بلکل وہی لفظ یہاں پر استعمال ہوا ہے۔ زندوں کی زمیں سے کاٹ ڈالے جانے سے کیا مطلب ہے؟ اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ شخص مارا جائے گا۔

اُس کی قبر بھی شرِیروں کے درمِیان ٹھہرائی گئی

اوروہ اپنی مَوت میں دَولت مندوں کے ساتھ مُؤا

حالانکہ اُس نے کِسی طرح کا ظُلم نہ کِیا

اور اُس کے مُنہ میں ہرگِزچھل نہ تھا۔     یسعیاۃ 53: 9

اگر اس خادم کو قبر میں اُتار جائے گا تو اس سے پہلے اُس کو مرنا ہوگا۔

اس کو ایک بدکار انسان کی حثیت سے مارا گیا۔ اگرچہ اُس نے کسی پر تشدد نہ کیا اور نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا۔

لیکن خُداوند کو پسند آیا کہ اُسے کُچلے ۔ اُس نے

اُسے غمگِین کِیا ۔

جب اُس کی جان گُناہ کی قُربانی کے لِئے گُذرانی

جائے گی

تو وہ اپنی نسل کو دیکھے گا ۔

اُس کی عُمر دراز ہو گی اور خُداوند کی مرضی اُس

کے ہاتھ کے وسِیلہ سے پُوری ہو گی۔           یسیعاۃ 53: 10

یہ ظالمانہ اورخوفناک موت کوئی حادثہ یا بدقسمتی نہیں تھی۔ یہ واضع طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی کہ “اُسے کچلے” لیکن کیوں؟ حضرت ہارون کی طرح جیسے وہ “گناہ کی قربانی” گزرنتا تھا۔ تاکہ وہ شخص جس کے لیے وہ قربانی چڑھائی گئی۔ اُس کے گناہ معاف ہوجائیں۔ یہاں اس خادم کی “زندگی” بھی گناہ کی خاطر قربان کی جارہی ہے۔ کس کے گناہ کے لیے؟ جس طرح ہم اُوپر بات کرآئیں ہیں۔ کہ “بہت سی قوموں” پر خون چھڑکا جائےگا۔ تو یہ “بہت سی قوموں” کے لوگوں کے گناہوں کے لیے خون چھڑکا جائے گا۔

اپنی جان ہی کا دُکھ اُٹھا کر وہ اُسے دیکھے گا اور

سیر ہو گا ۔

اپنے ہی عِرفان سے میرا صادِق خادِم بُہتوں کو

راست باز ٹھہرائے گا

کیونکہ وہ اُن کی بدکرداری خُوداُٹھا لے گا۔      یسعیاۃ 53: 11

اگرچہ خادم کی پیشن گوئئ لرزہ خیز ہے۔ لیکن یہ پیشگوئی یہاں آکر ایک نیا رخ لیتی ہے اور بہت خوشگوار اور فاتح بن جاتی ہے۔ اس خوفناک “مصیبت” کے بعد (زندوں کی زمین سے کاٹ جانے اور قبر میں اُتر جانے کے بعد) خادم زندگی کا نور دیکھے گا۔ وہ دوبارہ زندہ ہوجائے گا اور بہتوں کو راستباز قرار دے گا۔ یاد رکھیں۔ حضرت موسیٰ کی شریعت کے مطابق آپ اُس وقت راستباز ٹھہرسکتے ہیں۔ جب آپ شریعت کے تمام احکامات پر مکمل طور پر اور ہر وقت عمل کریں گے۔ لیکن حضرت ابراہیم (دوسری نشانی) کو راستباز قرار یا گیا۔ یہ حضرت ابراہیم کو بڑے سادہ سا عمل کرنے کی وجہ سے راستباز قراردیے دیا گیا تھا کہ اُس نے خدا پر ایمان لایا۔ یہ اُس کے لیے راستبازی گنا گیا۔ بلکل اسی طرح یہ خادم بھی بہتوں کو راستباز ٹھہرائے گا۔ کیا راستبازی کی ہم دونوں کو ضرورت نہہں؟

اِس لِئے مَیں اُسے بزُرگوں کے ساتھ حِصّہ دُوں گا

اوروہ لُوٹ کا مال زورآوروں کے ساتھ بانٹ

لے گا

کیونکہ اُس نے اپنی جان مَوت کے لِئے اُنڈیل دی

اور وہ خطاکاروں کے ساتھ شُمار کِیا گیا

تَو بھی اُس نے بُہتوں کے گُناہ اُٹھا لِئے اور

خطاکاروں کی شفاعت کی۔                                 یسعیاہ 53: 12

اس خادم کو بہت سر بلند کیا جائے گا۔ کیونکہ اُس نے اپنی جان بہتوں کے لیے رضاکارانہ طور پر دے دی۔ اور ایک بدکار کے طور پر مارا گیا۔ اس نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ بہت سے بدکاروں کے لیے شفاعت کرسکے۔  ایک شفاعت کار دو لوگوں کا درمیانی ہوتا ہے۔ اور یہاں پر دو لوگوں سے مراد “بہت سی قومیں” اور اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ “خادم” اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری شفاعت کرنے کے لیے کافی ہے۔

یہ خادم کون ہے؟ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا؟ کیا یہ خادم اللہ تعالیٰ کے سامنے ہمارا اور بہت سی قوموں کی شفاعت کرسکتا ہے؟ ہم زبور شریف کی اختتامی پیشگوئی پر غور کریں گے اور پھر ہم انجیل شریف کی طرف بڑھیں گے۔

مسیح حکمرانی کرنے یا مصلوب ہونے آ تھا؟

  • ہمارے پچھلے مضامین میں ہم نے دیکھا ہے کہ نبیوں نےمسیح کے نام اور ان کے نازل ہونے کے وقت کے بارے پیشن گوئیاں کیں۔ یہ حیرت انگیز طور پر مخصوص پیشن گوئیاں ہیں، جو حضرت عیسیٰ مسیح کی آمد کے سینکڑوں سال پہلے لکھی گئیں اور  نبیوں نے اس کے بارے صحیح پیش گوئی کی. یہ پیشن گوئیاں یہودیوں کی مقدس کتاب (تورات شریف + زبور شریف) میں لکھی ہوئی ہیں، لیکن یہ قرآن شریف اور انجیل شریف میں موجود نہیں ہیں. لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں یہودیوں نے ابھی تک حضرت عیسیٰ کو مسیح (مسیح) کے  طور پر قبول نہیں کیا؟ جبکہ ان ہی کی کتابوں میں یہ تمام پیشن گوئیاں لکھی ہوئی ہیں۔

اس سے پہلے ہم اس سوال پر غور کریں۔ مجھے یہاں اس بات کو واضح کرنا ہو گا۔ کہ میں یہ سوال کیوں پوچھ رہا ہوں۔  یوں تو حضرت عیسیٰ مسیح کی زندگی میں بہت سے یہودیوں نے اُنہیں مسیح کے طور پر قبول کرلیا تھا۔ اور آج بھی بہت سے یہودیوں نے انہیں مسیح کے طور پر قبول کرلیا ہے۔ لیکن ایک حقیقت پھر بھی موجود ہے کہ یہودیوں نے عیسیٰ مسیح کو بطور قوم قبول نہیں کیا، کیوں؟

کیوں یہودی حضرت عیسیٰ کو مسیح کے طور پر  قبول نہیں کرتے؟

متی رسول کے مطابق انجیل میں حضرت عیسیٰ کا یہودیوں کے مذہبی اساتذہ (فریسیوں اور صدوسیوں، یہ آج کے امام کا درجہ رکھتے تھے) کے ساتھ آمنا سامنا ہوتا ہے. انہوں نے حضرت عیسیٰ مسیح سے ایک مکر کے ساتھ سوال کیا اور ذیل میں حضرت عیسیٰ کا جواب ہے۔

یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ تُم گُمراہ ہو اِس لِئے کہ نہ کِتابِ مُقدّس کو جانتے ہو نہ خُدا کی قُدرت کو۔  (متی 22: 29

یہ تبادلہ ہمیں ایک اہم بات کی طرف اشارہ دیتا ہے. اگرچہ وہ کتابِ مقدس کے اُستاد تھے۔ اُنہوں نے تورات شریف اور زبور شریف کی تعلیم لوگوں کو دیتے تھے۔ لیکن حضرت عیسیٰ مسیح نے ان کو کہا۔ کہ وہ نہ تو کتابِ مقدس کو جانتے ہیں اور نہ ہی خدا کی قدرت کو۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کتابِ مقدس کے ماہرین اس کو سمجھتے نہ تھے؟

یہودی تمام صحیفوں کو نہیں جانتے تھے

جب آپ اس بات کے لیے مطالعہ کرتے ہیں کہ مذہبی رہنماؤں کی بات چیت کو زبور شریف اور تورات شریف میں سے تلاوت کرتے ہیں۔ تو پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف بعض مخصوص پیشن گوئیوں سے بہت زیادہ واقف تھے لیکن دوسری پیشن گوئیوں کو اُنہوں نے نظرانداز کردیا۔ لہذا ہم مثال کے طور پر دیکھتے ہیں، ، کنواری کے بیٹے کی نشانی میں،کتابِ مقدس کے ماہرین جانتے تھے کہ پیشن گوئیوں کے مطابق “مسیح” بیت لحم میں پیدا ہوگا۔ یہاں وہ آیت درج ہے جس آیت کو کتابِ مقدس کے ماہرین نے بیان کیا۔ جب ہیرودیس بادشاہ کے عہد میں حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش ہوئی۔

لیکن اے بیت لحم افراتاہ

 اگرچہ تو یہُوداہ کے ہزاروں میں شامل ہونے کے لئے چُھوٹا ہے

 تو بھی تجھ میں سے ایک شخص نکلے گا

 اور میرے حُضور اسرائیل کا حاکم ہوگا

 اور اس کا مصدر زمانہ سابق ہاں قدیم الایّام سے ہے۔                  میکاہ 5: 2

آپ اس آیت میں سے یہ جانیں گے کہ یہ آیت مسیح کے بارے میں بیان کرتی ہے۔ جو مسیح (= مسیح کی اصطلاح کے بارے میں یہاں آپ جان سکتے ہیں) اور یہ آیت اُن کو ‘حکمران’ کے طور پر بیان کرتی ہے. یہودی ماہرین کے لیے ایک اور جانا پہچانا حوالہ ہے۔ جو زبور شریف کے دوسرے (2)باب میں حضرت داود نبی پر نازل ہوا۔ جس میں پہلے مسیح کے طور پر تعارف کروایا گیا اور پھر بتایا کہ مسیح یروشلیم (صیون) میں بادشاہی کرے گا۔ جس طرح ہم نے حوالے میں دیکھا۔

خُداوند اور اُس کے مسیح کے خلاف زمیں کے بادشاہ صف آرائی کرکے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں۔ ۔ ۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسیگا۔خُداوند اُن کا مضحکہ اُڑائےگا۔ ۔ ۔ میں تو اپنے بادشاہ کو اپنے کوہ ِمقدس صِیون پر بٹھا چُکا ہوں۔ (زبور شریف باب 2

یہودی اساتذہ زربور کی مندرجہ ذیل آیات سے اچھی طرح سے واقف تھے

 اپنے بندہ داؤد کی خاطر اپنے ممسوح کی دُعا نا منظور نہ کر ۔ خُداوند نے سچّائی کے ساتھ داؤؔد سے قسم کھائی ہے۔ اور اُس سے پھرنے کا نہیں۔ کہ میں تیری اولاد میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاؤنگا، ۔ ۔ ۔ وہیں میَں داؤؔد کے لئے ایک سینگ نکالونگا۔ میَں نے اپنے ممسُوح کے لئے چراغ تیار کیا ہے.                          زبور 132: 10-18

یہودیوں نے خدا تعالیٰ کی قدرت کو اپنی منطقی عقل سے نہ جانا۔

چنانچہ وہ کئی ایسی پشین گوئیوں کو جانتے تھے، جن میں سب ایک طرف اشارہ کرتیں تھی – کہ مسیح اقتدارکے ساتھ حکمرانی کرے گا۔ حضرت عیسیٰ مسیح کے دور میں یہودی رومی حکومت کی غلام تھی۔  اس طرح رومی اسرائیلی ملک پر قبضہ کے تحت رہتے تھے (یہودیوں کی تاریخ کے لئے یہاں ملاحظہ کریں) یہودی صرف اسی قسم کے مسیح کے منتظر تھے۔ کہ مسیح آئے اور آکر رومی حکومت کو تباہ و برباد کردے اور اُسی حکومت کو قائم کردے۔ جس کو حضرت دواد نے 1000 سال پہلے قائم کیا تھا۔ (یہاں حضرت دواد کا پس منظر دیکھیں)۔ وہ اللہ تعالی کی منصوبہ بندی کے بجائے اپنی خواہشات سے مسیح کو ڈھونڈ رہے تھے۔

  اس طرح انہوں نے خدا کی طاقت کو اپنی انسانی سوچ کی وجہ سے محدود کردیا۔ کیونکہ وہ ایسی ہی پیشن گوئیوں کو جاننا پسند کرتے تھے جن میں مسیح یروشلیم پر حکمرانی کرے گا۔ اور حضرت عیسیٰ نے یروشلیم ہر حکمرانی نہ کی۔ اس لیے یہودیوں کے نزدیک وہ مسیح نہ ہوا۔ یہ ایک سادہ سی منطقی بات تھی۔ اُنہوں نے خدا کی طاقت کو اپنی انسانی سوچ، محدود علم اور منطقی عقل کے باعث محدود کردیا۔

اُس وقت یہودی زبور شریف کی پیشن گوئیوں کو بہت زیادہ نہیں جانتے تھے اگرچہ وہ اپنی ساری معلومات کے لیے تناخ = (تورات شریف + زبور شریف) میں سے راہنمائی لیتے تھے جس کو وہ تناخ کہتے ہیں. لیکن وہ کسی بھی راہنمائی کے لیے زیادہ تورات شریف کا ہی مطالعہ کرتے تھے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو جو زبور شریف میں موجود تھا اُس کو نظرانداز کررہے تھے۔ اس طرح پیشن گوئیوں کا زیادہ تر حصہ نظرانداز ہوگیا۔ اور اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طاقت کو اپنی انسانی علم اور منطق کے باعث محدود کردیا۔ اس لیے اُن کے مطابق حضرت عیسیٰ مسیح نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اُنہوں نے حکمرانی نہیں کی تھی۔ اس کہانی کا آخر یہ ہوا کہ یہودی نے حضرت عیسیٰ مسیح کے بارے میں مذید تحقیق کرنی چھوڑدی۔ اور اب بھی وہ مسیح کا انتظار کررہے ہیں۔

مسیح : قربان ہونے کے لیے آئے

لیکن اگر یہودی صحائف کا جائزہ لیں تو وہ جس بات کو ہم سکھنے جارہیں ہیں اُس کو وہ بھی سکھیں سکیں جائیں گے۔ پچھلے مضمون میں ہم نے دیکھا کہ حضرت دانیال نے مسیح کے آنے کے بارے میں ٹھیک پیش گوئی کی تھی۔ لیکن اس بات پر غور کریں۔ کہ اُس نے مسیح کے بارے میں کیا کہا ہے۔ (مسموح = مسیح= کرائسٹ/مسیح

 پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔  اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔                            (دانی ایل 9: 25-26

غور کریں کہ حضرت دانیال نے کیا کہا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو اُس کے ساتھ کیا ہوگا.کیا حضرت دانیال نے کہا کہ مسیح حکمرانی کرے گا؟ کہ وہ اپنے باپ دادا کے تخت پر قنضہ کرے گا اور رومی حکومت کو تباہ و برباد کردے گا؟نہیں! بلکہ حقیقت میں یہ بڑا واضح لکھا ہوا ہے۔ کہ وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا ۔پھر یہ لکھا ہوا ہےکہ غیر قومیں ہیکل مقدس (جو یہودیوں کے لیے پاک مقام ہے) اور یروشلیم شہر کو تباہ کردیں گی۔ اگر آپ یہودیوں کی تاریخ پر نظر لگائے تو آپ جانیں گے کہ تاریخ میں ایسا ہی ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰ مسیح کے چالیس سال بعد رومیوں نے یروشلیم پر حملہ کیا اور ہیکل مقدس اور یروشلیم شہر کو تباہ و برباد کردیا بلکہ حضرت عیسیٰ نے اس کے بارے کہا تھا۔ کہ اس پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا۔ یہ اسی طرح ہوا۔ جیسے حضرت دانیال نے پیش گوئی کی تھی۔ اور یہودیوں کو پوری دنیا میں جلاوطن کردیا گیا۔ تقریبات 70 عیسوی میں ویسے ہی واقع ہوا۔ جیسے  537 ق.م. حضرت دانیال نے پیش گوئی کی  تھی،اور اس کا حضرت موسیٰ نے لعنت کرتے ہوئے پہلے ذکر کیا تھا۔

لہذا حضرت دانیال نے پیشن گوئی کی تھی کہ مسیح حکمرانی نہیں کرنے آرہا بلکہ وہ قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا۔ یہودی راہنماوں نے اس پیشن گوئی کو اپنی ضرورت کے تحت ںظرانداز کردیا۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ نظر آتا ہے۔ کیا حضرت دانیال کی پیشن گوئیوں اور جن پیشن گوئیوں کو یہودی راہنما جانتے تھے۔ ان کے درمیان تضاد پایا جاتا ہے؟اگر تمام پغامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں تو ان کو سچائی کے ساتھ پورا بھی ہونا چاہیے۔ جیسے حضرت موسی کی طرف سے تورات میں لکھا ہے.یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ مسیح قتل بھی کیا جائے اور پھر حکمرانی بھی کرے۔ یہاں اس بات سے ایسا لگتا ہے کہ انسانی منطق نے “خدا کی قدرت” کو ختم کردیا تھا۔

قتل ہونے اور حکمرانی کے تضاد کی وضاحت

لیکن یقینا ان کی منطقی عقل خدا کی قدرت سے زیادہ مستحکم نہیں تھی۔ وہ ہماری طرح کے انسان تھے۔ وہ خود اُن مفروضوں کو نہیں جانتے تھے جن کو وہ بنا رہے تھے۔ اُنہوں نے مفروضہ لگایا تھا کہ شاید مسیح ایک ہی بار آئے گا۔ اگر یہ معاملہ تھا تو اس کی وجہ سے حکمرانی کرنے والی اور قتل ہونے والی پیشن گوئیوں میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اس طرح اُنہوں نے اپنی عقل کے باعث اللہ تعالیٰ کی قدرت کو محدود کردیا تھا۔ لیکن یہ انسانی منطق تھا جو کہ ناقص ہے۔ مسیح کو دوبار آنا تھا۔ پہلی دفعہ وہ آیا تاکہ قربان ہونے والی پیشن گوئیوں کو پورا کرسکے۔ اور دوسری بار وہ حکمرانی والی پیشن گوئیوں کو پورا کرنے آرہا ہے۔ اس نکتہ نظر سے ‘تضاد’ والا مسئلہ آسانی سے حل ہو جاتا ہے.

کیا ہم نے خدا کی قدرت کو محدود اور صحیفوں کو بھلا دیا ہے؟

لیکن اس کا کیا مطلب ہے کہ مسیح قتل کیا جائے گا اور اُ س کا کچھ نہیں رہے گا؟ اس سوال کے بارے میں بعد میں بات کریں گے۔ لیکن اب ہم اس بات کے بارے میں بات کریں گے کہ یہودی کیسے ان نشانیوں کو چھوڑ گے۔ ہم پہلے ہی دو وجوہات کا ذکر کرچکے ہیں کہ یہودیوں نے کیوں مسیح کے نشانوں کو نظرانداز کردیا۔ یہاں ہمارے پاس تیسری وجہ حضرت یوحنا کی معرفت لکھی گئی انجیل میں موجود ہے۔ یہاں پر حضرت عیسیٰ اور یہودیوں کے مذہبی راہنماوں کے درمیان بات چیت ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ مسیح نے فرمایا۔

 تُم کِتابِ مُقدّس میں ڈھُونڈتے ہو کِیُونکہ سَمَجھتے ہو کہ اُس میں ہمیشہ کی زِندگی تُمہیں مِلتی ہے اور یہ وہ ہے جو میری گواہی دیتی ہے۔  پِھر بھی تُم زِندگی پانے کے لِئے میرے پاس آنا نہِیں چاہتے۔  مَیں آدمِیوں سے عِزّت نہِیں چاہتا۔  لیکِن مَیں تُم کو جانتا ہُوں کہ تُم میں خُدا کی محبّت نہِیں۔
مَیں اپنے باپ کے نام سے آیا ہُوں اور تُم مُجھے قُبُول نہِیں کرتے۔ اگر کوئی اَور اپنے ہی نام سے آئے تو اُسے قُبُول کر لو گے۔  تُم جو ایک دُوسرے سے عِزّت چاہتے ہو اور وہ عِزّت جو خُدایِ واحِد کی طرف سے ہوتی ہے نہِیں چاہتے کیونکر اِیمان لاسکتے ہو؟۔                  یوحنا 5: 39-44

دوسرے الفاظ میں تیسری وجہ میں یہودیوں نے مسیح کے نشان کو نظرانداز کردیا کیونکہ اُنہوں نے صرف سادہ سے انداز میں اس کو قبول نہ کیا۔ وہ خدا کی مرضی کو پورا کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی مرضی کو قبول کرنے کی دلچسپی رکھتے تھے۔

یہودی دوسرے لوگوں کی نسبت  غلط  اور گمراہ  نہیں تھے.لیکن یہ آسان ہے کے ہم اُن پر اس بات کے بارے میں الزام لگاسکتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت عیسیٰ کو مسیح ثابت کرنے والی پیشن گوئیوں کو نظرانداز کردیا۔لیکن اس سے پہلے ہم اُن پر اُنگلیاں اُٹھائیں ہمیں اپنے گریبان میں جانکنے کی ضرورت ہے۔کیا ہم ایمانداری کے ساتھ کہا سکتے ہیں کہ ہم کلام مقدس کو مکمل طور پر جانتے ہیں؟کیا ہم یہودیوں کی طرح رویہ نہیں رکھتے ہیں کہ ہم صرف اُن حوالہ جات کو ہی جانتے ہیں جو زیادہ آسان اور آسانی سے سمجھ میں آسکتے ہیں۔ یا کئی بار ہم کلامِ الہی میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کو قبول نہیں کرتے۔ صرف یہ سوچ کر کے دوسرے کیا سوچیں گے؟

یہودیوں کا مسیح کے نشان کو یاد نہ رکھنا ہمارے لیےایک انتباہ ہونا چاہئے. ہمیں صرف اُنہیں آیات تک محدود نہیں رہنا چاہئے جن آیات کو ہم پہلے سے جانتے ہیں۔ ہمیں اپنی عقلی منطقی دللائل کے زریعے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو محدود نہیں کرنا چاہئے۔ اور جب ہمیں کلامِ الہی سکھارہا ہو توہمیں اُس کو رد نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں ان تمام تر انتباہ کو مضبوطی سے تھام لینا چاہیے تاکہ ہم یہودیوں کی طرح کلامِ الہی کو نظرانداز نہ کردیں ۔ جس طرح اُنہوں نے کیا تھا۔ اب ہم ایک اہم آدمی کے بارے میں بات چیت کرنے جارہے ہیں۔ جس کو ہم “خادم” کے طور پر جانیں گے۔

آنے والے مسیح کا سات کا نشان

 جیسا کہ ہم انبیاء اکرام کے بارے میں سیکھ رہے ہیں۔ اور ہم نے اس بات کو جانا ہے کہ ان کے درمیان سینکڑوں سال کے عرصے کا فرق موجود ہے۔ لہذا اس طرح انسان ہوتے ہوئے وہ اپنی پیشن گوئیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا نہیں سکتے تھے۔ لیکن پھر بھی اُن کی یہ پیشن گوئیاں ایک ہی مرکزی موضوع کی طرف بڑھتی گئی کہ “مسیح (کرائسٹ) آرہا ہے”۔ ہم نے دیکھ کہ حضرت یسعیاہ نبی درخت کے ٹنڈ سے شاخ کی نشانی پیش کرتے ہیں۔ اور پھر حضرت یرمیاہ نبی نے اس شاخ کے بارے میں پیشن گوئی کی۔ کہ اس کا نام عبرانی زبان میں یشوع ہوگا۔ جس کا یونانی میں یسوس (Iesous) اور انگلش میں یسوع (Jesus) اور عربی میں عیسیٰ ہے۔ جی ہاں، حضرت عیسیٰ مسیح کے نازل ہونے سے 500 سال پہلے اُن کے نام کی پیشن گوئی ہوچکی تھی۔ یہ پیشن گوئیاں آج بھی یہودیوں کی کتاب عہدِ عتیق میں (انجیل میں نہیں) لکھی ہوئی ہیں۔ جو آج بھی قابلِ قبول ہیں لیکن یہودی اس کو ٹھیک طریقے سے سمجھنے سے قاصر ہیں۔

حضرت دانیال

اب ہم حضرت دانیال کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں۔ وہ ایک اسرائیلی ہونے کی وجہ سے بابل کی جلاوطنی میں رہا اور بابلی اور فارسی حکومتوں کا بڑا خاص ہدے پر فائض رہا۔ نیچھے دیے گے ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے۔ کہ حضرت دانیال تاریخ کے کس دور میں نازل ہوئے۔

حضرت دانیال اور حضرت نحمیاہ ٹائم لائن میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ دکھائے گے ہیں۔

حضرت دانیال اپنی کتاب ( جو اُن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی) میں حضرت جبرایل سے ایک پیغام موصول کرتے ہیں۔ حضرت دانیال اور حضرت مریم یہ دو واحد ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے حضرت جبرایل کے وسیلے پیغامات کو موصول کیا۔ لہذا ہمیں اس پیغام پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ حضرت جبرایل فرماتا ہے۔

 جبرائیل ۔ ۔ ۔ آیا اور شام کی قربانی گُزراننے کے وقت کے قریب مُجھے چُھوا۔  اور اُس نے مُجھے سمجھایا اور مُجھ سے باتیں کیں اور کہا ۔ ۔ ۔  تیرے لوگوں اور تیرے مُقدس شہر کے لے سترّ ہفتے مُقرر کے گے کہ خطا کاری اور گُناہ کا خاتمہ ہو جائے ۔ بدکردای کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راست بازی قائم ہو۔ رویا نبُوت پر مُہر ہو اور پاکترین مقام ممسُوح کیا جائے۔
 پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔  اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔

دانی ایل 9: 21-26

ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں پر ایک “ممسوح” (مسیح) کے بارے میں پیشن گوئی کی گئی ہے۔

حضرت جبرایل نے مسیح کے آںے کے بارے میں ایک ٹائم ٹیبل دیا تھا۔ حضرت جبرایل نے بتایا کہ “اُس دور میں یروشلیم کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کا حکم جاری ہوگا۔ اگرچہ حضرت دانیال کو یہ پیشن گوئی (537 ق م کے قریب دی گئی) کے شروع ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکا۔

یروشلیم کی دوبارہ تعمیر اور بحال کرنے کا حکم جاری

دراصل یہ حضرت نحمیاہ ہی تھا جو حضرت دانیال کے ایک سو سال بعد نازل ہوئے اور اُنہوں نے اس پیشن گوئی کے ابتدا کا وقت دیکھا۔ وہ شہنشاہ فارس کا ساقی تھا اور قصرِ سوسن میں رہتا تھا جو آج کا ایران ہے۔ ملاحظہ کریں جس ٹائم لائن میں رہتا تھا۔ وہ ہمیں اس کتاب میں بتاتا ہے۔

 ارتخششتابادشاہ کے بیسویں برس نیسان کے مہینے میں۔ ۔ ۔ بادشاہ نے مجھ سے فرمایا کِس بات کے لئے تیری درخواست ہے ؟تب میں نے آسمان کے خدا سے دُعا کی ۔  پھِر میں نے بادشاہ سے کہا کہ اگر بادشاہ کی مرضی ہو اور اگر تیرے خادم پر تیرے کرم کی نظر ہے تو تومجھے یہوداہ میں میرے باپ دادا کی قبروں کے شہر کو بھیج دے تاکہ میں اُسے تعمیر کروُ ں ۔

میں نے بادشاہ سے یہ بھی کہا اگر۔ ۔ ۔ ایک شاہی خط ملے کہ وہ ہیکل کے قلعہ کے پھاٹکوں کے لئے اور شہر پناہ اور اُس گھر کے لئے جس میں میں رہونگا کڑیا ں بنانے کومجھے لکڑی دے اور چونکہ میرے خدا کی شفقت کا ہاتھ مجھ پر تھا بادشاہ نے میری عرض قبول کی۔
تب میں نے دریا پار کے حاکموں کے پاس پہنچا کر بادشاہ کے پروانے اُنکو دِئے ۔ ۔ ۔نحمیاہ 2: 1-11

مندرجہ بالا حوالہ “یروشلیم کی تعمیر اور بحالی کے فیصلے کو جاری ” ہونے کے بارے میں بتاتا ہے۔ جس کے بارے حضرت دانیال نے پیشن گوئی کی تھی کہ ایک دن ایسا آئے گا۔ جس میں تعمیر اور بحالی کا کام دوبارہ کیا جائے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شہنشاہ ارتختششتا کی حکومت کے 20 ویں برس واقعہ ہوا۔ اور یہ تاریخ مشہور ہے۔ جس کا آغاز 465 ق م میں ہوا۔اس طرح اُس کے عہد کے 20 ویں سال (44 ق م) میں یہ فرمان جاری ہوا۔ حضرت جبرایل نے حضرت دانیال کو اس پیشن گوئی کے شروع ہونے کے بارے میں کی نشان دیا تھا۔ اس طرح 100 سال بعد شہنشاہ ایران نے حضرت دانیال کی پیشن گوئی کو بغیر جانے اس بات کا فیصلہ دے دیا۔ اس طرح ممسوح فرماروا (مسیح) کے بارے میں پیشن گوئی کا آغاز ہوگیا۔

پراسرار سات

جو پیشن گوئی حضرت دانیال نبی کو حضرت جبرایل نے دی تھی۔ اُس سے یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کہ  7 ہفتے اور 62 ہفتے پھر مسیح نازل ہوگا۔ تو پھر سات سے کیا مراد ہے؟ حضرت موسیٰ کی تورات شریف میں ساتھ سالوں کا ایک چکر ہے۔ جس میں ہر 7 سال بعد کھیتی باڈٰی سے آرام کرنا تھا۔ تاکہ کھیت اپنی مٹی کی قدرتی اجزاء کو بحال کرسکیں۔ اس طرح سے 7 سے مراد ایک چکر ہے۔ اس طرح ہم  کہ اس بحالی کے پروگرام کو دو حصوں میں دیکھتے ہیں۔ پہلا حصہ سات بار سات یا پھر سات سال کی مدت تھی۔ یہ سات٭ سات 7٭7ٓ 49 سال تھا۔ یہ یروشلیم کو دوبارہ تعمیر کرنے کا وقت تھا۔ یہ 62 بار سات کے مطابق بنتا تھا۔ اور کل گنتی اس طرح ہوئی۔ 7٭7 + 7٭ 62=483 سال بنتی تھی۔ دوسرے الفاظ میں شہنشاہ ارتختششتا سے لیکر میں کے آنے تک 483 سال بنتے تھے۔

360 دن کا سال

ہمیں ایڈجسٹمنٹ کے لیے ایک چھوٹا سا کیلنڈر  بنانا ہوگا۔ جس طرح قدیم زمانے میں بہت سی قوموں نے کیا۔ اور نبیوں نے ایک سال کی مدت کو 360 دنوں تک استعمال کیا۔ ایک سال کی مدت کو تعین کرنے کے لیے مختلف طریقے ہیں۔ مغربی طرز کا کیلنڈر (شمسی نظام ہر مبنی) ہے۔ جس میں 365۔24 دن ہوتے ہیں۔ اور اسلامی کیلنڈر( یہ کیلنڈرچاند کے چکر پر مبنی ہے۔) 354 دنوں کا ہوتا ہے۔ اور حضرت دانیال نے 360 دنوں والا کیلنڈر استعمال کیا۔ اس طرح 483 سال اور 360 دن، 483٭360/365۔24= 476 شمسی سالوں کے برابر ہے۔

مسیح کی آمد کا متوقع سال

اس معلومات کے مطابق ہم اس بات کا حساب لگاسکتے ہیں کہ مسیح کب آںے والے تھے۔

ہم “BC” کے دور سے ‘AD” کے دور تک جائیں گے۔ اس حساب کے مطابق 1 سال BC اور 1AD کے درمیان موجود ہے۔ (وہاں “صفر” سال نہیں ہے) اس حساب کی معلومات نیچے دیئے گے ٹیبل میں موجود ہے۔

شروع سال 20th اتختششتا بادشاہ کا سال     444 BC
وقت کی لمبائی 476 شمسی سال
مغربی کیلنڈر میں متوقع آمد (-444 + 476 + 1) (‘+1’ because there is no 0 AD) = 33
متوقع سال 33 AD

حضرت عیسیٰ (یسوع ناصری) یروشلیم میں گدھے کے بچے پر سوار داخل ہوئے۔ اور اس شاندار داخلے کا نام کھجوروں کا اتوار مشہور ہوگیا۔ اُس روز اُنہوں نے خود اعلان کیا اور یروشلیم میں اُنہوں نے مسیح کی حثیت سے مارچ کیا۔ یہ 33 AD کا سال تھا۔

حضرت دانیال اور حضرت نحمیاہ دونوں کا آپس میں ایک سو سال کا فرق ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ لیکن دونوں نے اللہ تعالیٰ سے پیشن گوئیوں کو حاصل کیا اور مسیح کے ظاہر ہونے کے وقت کوظاہر کیا۔ اور تقریباً حضرت دانیال نے ان پیشن گوئیوں کو حضرت جبرایل سے 570 سال پہلے حاصل کیا تھا۔کہ حضرت عیسیٰ ایک مسیح کے طور پر یروشلیم میں داخل ہونے گے۔ یہ ایک انتہائی قابلِ ذکر اور عین مطابق تکمیل ہونے والی پیشن گوئی تھی۔ اس کے ساتھ حضرت زکریا نے مسیح کے نام کی پینش گوئی کی تھی۔ وہ پیشن گوئی بھی اُسی روز تکمیل ہوئی۔ ان انبیاء اکرام نے پیشن گوئیوں کا ایک حقیقی گروہ تشکیل دیا تاکہ اُن سب کو معلوم ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کے منصوبے کو جاننا چاہتے ہیں۔

لیکن اگر یہ پیشن گوئیاں نہائیت قابلِ ذکر ہیں ۔ اور یہ تمام یہودیوں کی مقدس تورات شریف اور زبور شریف میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ تو پھر یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو مسیح کے طور پر قبول کیوں نہیں کیا؟ یہ اُن کی کتاب میں موجود ہے! جو کچھ ہم سوچتے ہیں اُس کو واضع ہونا چاہیے، خاص طور پر اُن قابلِ ذکر اور عین وقت پر پوری ہونے والی پیشن گوئیوں کو۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ یہودی کیوں حضرت عیسیٰ کو بطور مسیح کے قبول نہیں کرتے۔ اس بات کے لیے ہم مزید اگلے سبق میں انبیاء اکرام کی پیشن گوئیوں کو جانیں گے۔

گے۔

مسیح کے نام کے ساتھ شاخ کی نشانی

ہم نے زبور شریف کے حالیہ مضامین میں دیکھا ہے کہ اللہ نے آنے والی بادشاہت  کے بارے وعدہ کیا تھا۔ یہ سلطنت  ہماری عام انسانی حکومتوں سے مختلف ہوگی۔ اگر ہم آج کی نیوز کو دیکھیں اور غور کریں کہ ہماری انسانی حکومتوں میں کیا ہورہا ہے۔ تو آپ لڑائی جھگڑا، کرپشن، ظلم، قتل، غریبوں کا استحصال اور اس طرح کے تمام بدکاریوں سے حکومتں بھری ہوئی ہیں۔ چاہئے وہ مسلم، عیسائی، یہودیوں، بدھ مت، ہندو یا سیکولر مغرب حکومت ہی کیوں نہ ہو۔ ان تمام سلطنتوں میں اس مسئلہ کی ایک ہی جڑ ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ جس میں ہماری نہ بجھنے والی پیاس ہمیں ہرروز گناہ کی طرف لے کر جارہی ہے۔ جیسا کہ ہم نے ان مسائل کو حضرت یرمیاہ کے مضمون میں بھی دیکھا۔ جس کا نتیجہ گناہ ہی ہے۔ (یعنی فساد، قتل، جنسی تشدد)۔ لہذا اللہ تعالیٰ کی اس بادشاہی کے ابھی نہ آنے میں سب سے اہم رکاوٹ ہم ہی ہیں. اگر اللہ نے اپنی نئی سلطنت قائم لی تو ابھی ہم میں سے کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ ہمارا گناہ اس سلطنت کو بھی برباد کردے گا۔ جس طرح اُس نے ہماری اس سلطنت کو بردباد کردیا ہے۔ حضرت یرمیاہ نبی نے پیشن گوئی کرکے بیان کردیا تھا۔ کہ ایک دن اللہ تعالیٰ ایک نیا عہد قائم کرے گا۔ یہ نیا حضرت موسیٰ کی شریعت کی طرح پتھر کی تختیوں پر لکھے ہونے کی بجائے۔ یہ ہمارے دلوں پر لکھا ہوا ہوگا۔ یہ ہمیں اس بادشاہی کے شہری بننے کے لئے اندر ،باہر سے بدل دے گا.

یہ سب کیسے ہونے جارہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کئے منصوبے ایک چھپے ہوئے خزانہ کی مانند ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے زبور شریف کے پیغامات میں اشارے دیئے ہیں۔ تاکہ وہ جو اُسکی کی بادشاہی کی تلاش میں ہیں۔اُس کو پاسکیں۔ لیکن وہ جو دلچسی نہیں رکھتے۔ وہ بے خبر ہیں۔ ہم ان نشانوں کو اب دیکھ سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ آنے والے مسیح پر مبنی ہے۔ (جس کو ہم نے یہاں ـمسیحا- کرائسٹ کے طور پر دیکھا)۔ ہم نے اس کو پہلے ہی سے زبور شریف میں دیکھا ہے۔ آنے والے مسیح کے بارے میں جو پیشن گوئی کی گئی تھی وہ حضرت دواد کی لڑی میں سے ہوگا۔ (دوبارہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)۔

حضرت یسعیاہ نبی درخت کی شاخوں اور تنے کے بارے میں

حضرت یسعیاہ نبی اس منصوبہ کو واضع کرتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ کیسے یہ سب کچھ کریں گے۔ حضرت یسعاہ نبی کی کتاب زبور شریف کی ہی ایک کتاب ہے۔ جو حضرت داود کے شاہی خاندان کی اسرائیل پر حکمرانی کے دوران نازل ہوئی۔ (1000-600 ق م)۔ جن دنوں (750 ق م ) یہ کتاب لکھی جارہی تھی، تو اسرائیل کی ساری سلطنت اپنے دلوں کی پیاس کو ناجائز طریقے سے بجھانے کی وجہ سے جاہلت کا شکار تھی۔

حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت یسعیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت داؤد کا خاندان - ایک درخت کی طرح
حضرت داؤد کا خاندان – ایک درخت کی طرح

حضرت یسعیاہ نبی نے اسرائیلیوں سے ایک الہامی درخواست کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کرنے اور حضرت موسیٰ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں۔ حضرت یسعیاہ جانتے تھے کہ اسرائیلی اُن کی اس توبہ کی درخواست کو نظرانداز کردیں گے۔ اس لیے اُنہوں نے اسرائیل کے بارے میں نبوتی کلام کیا۔ کہ اسرائیلی قوم تباہ ہوجائیں گی اور حضرت دواد کا شاہی خاندان اسی کے ساتھ اپنی بادشاہت کھودے گا۔ ہم نے دیکھا یہ کیسے ہوا۔ اپنی اس نبوتی کلام میں حضرت یسعیاہ نے ایک درخت کی مثال پیش کی۔ جو مکمل طور پر تباہ ہوئے گا۔ لیکن اُس کا ٹنڈ باقی رہ جاتا ہے۔ یہ واقع 600 ق م کے دوران پیش آیا جب بابلیوں نے یروشلیم پر حملہ کرکے۔ مکمل شہر کو تباہ کردیا اور حضرت دواد کی نسل سے حکمرانی یروشلیم سے جاتی رہی۔

کاٹا ہوا درخت
کاٹا ہوا درخت

 لیکن اُن کی کتاب میں آنے والی تباہی کے تمام پیشن گوئیوں کے ساتھ، یہ خاص پیغام جوڑا ہوا تھا۔

1 اور یسی کے تنے سے ایک کونپل نکلیگی اور اسکی جڑوں سے ایک بار آور شاخ پیدا ہوگی۔
2 اور خداوند کی روح اُس پر ٹھہرے گی ۔حکمت اور خرد کی روح مصلحت اور قدرت کی روح معرفت اور خداوند کے خوف کی روح ۔                                                                      یسیعیاہ 11: 1-2

حضرت داود کا خاندان - ایک مردہ تنے میں سے نکلتی ہوئی ایک کونپل
حضرت داود کا خاندان – ایک مردہ تنے میں سے نکلتی ہوئی ایک کونپل

 حضرت یسی، حضرت دواد کے والد تھے اس طرح وہ اُس خاندان کی جڑ ہیں۔ حضرت یسی کے تنے اور جڑ سے مراد وہ پیشن گوئی تھی۔ جس کی وجہ سے حضرت دواد کے خاندان میں تباہی برپا ہوئی۔لیکن حضرت یسعیاہ اس سے آگے بھی دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اُنہیں اس تباہی کی پیشن گوئی کے بعد مستقبیل میں آنے والے منظر کو بتاتے ہیں۔ کیونکہ وہ تنا / جڑ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی تھی۔ایک دن مستقبیل میں اُس میں سے ایک شاخ پھوٹ نکلے گی۔ جو اُسی ایک تنا میں سے ہوگی۔ یہ شاخ حضرت دواد کے خاندان میں سے آنے والے ایک آدمی کی طرف اشارہ ہے۔اس آدم میں بہت سی بیش قیمت خوبیاں ہوگئیں۔ جیسا کہ حکمت، فہم، اور خرد ہوگی جو تمام اللہ تعالیٰ کی روح میں سے ہونگیں۔ اب یاد رکھیں کہ ہم نے کیسے اس بات کو جانا تھا۔ کہ حضرت دواد کی نسل میں سے ایک مسیحا کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔ یہ ایک اہم ترین پیشن گوئی تھی۔حضرت دواد کی نسل میں سے ایک شاخ اور مسیحا ہوسکتا ہے، یہ دونوں ایک ہی شخص کے لقب ہوں۔ آئیں دیکھ زبور شریف میں سے مزید تلاش کرتے ہیں۔

حضرت یرمیاہ نبی درخت کی شاخوں اور تنے کے بارے میں

حضرت یرمیاہ حضرت یسعیاہ نبی کے 150 سال بعد تشریف لائے۔ جب حضرت دواد کا خاندان اُسکی آنکھوں کے سامنے برباد ہورہاتھا۔ جب اُنہوں نے یہ پیشن گوئی لکھی۔

حضرت یرمیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت یرمیاہ اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

5 دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ میں داؤد کے لئے ایک صادق شاخ پیدا کرونگا اور اُسکی بادشاہی ملک میں اقبالمندی اور عدالت اور صداقت کے ساتھ ہوگی۔
اُسکے ایام میں یہوؔ داہ نجات پائیگا اور اِسرؔ ائیل سلامتی سے سُکونت کریگا ور اُسکا نام یہ رکھا جائیگا خداوند ہماری صداقت ۔                                                                    یرمیاہ 23: 5-6

حضرت یرمیاہ نبی نے اُسی پیشن گوئی کو جاری رکھا۔ جس کو حضرت یسعیاہ نبی نے 150 سال پلے بیان کیا تھا۔ یہ شاخ ایک بادشاہ ہوگا۔ ہم نے یکھا تھا اپنی پچھلے اسباق میں کہ مسیح ایک بادشاہ ہوگا۔ اور اس طرح بادشاہ اور شاخ کے درمیان مشابہت بڑتی جاہی ہے۔

حضرت زکریا اُس شاخ کے نام کے بارے بتاتے ہیں

حضرت زکریا نبی ہمارے لئے پیغامات کو جاری رکھتے ہیں۔ اسرائیل بابلی کی غلامی سے واپسی کے دور 520 ق م میں اسرائیل پر نازل ہوئے۔ لیکن اس عرصے کے دوران اسرائیل پر فارس کی حکومت تھی۔

حضرت زکریا اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن
حضرت زکریا اورزبور کے کچھ دوسرے پیغمبروں کا تاریخی ٹائم لائن

( حضرت زکریا کو حضرت یحیٰ نبی کے باپ حضرت زکریا کے ساتھ مت ملائیں۔حضرت زکریا نبی حضرت یحیٰ نبی کے والد زکریا سے 500 سال پہلے نازل ہوئے تھے۔ چونکہ حضرت زکریا جو حضرت یحییٰ کے والد تھے اُن کا نام حضرت زکریا تھا۔ لیکن ان دونوں زکریا کا فرق دور تھا۔ جس طرح آج بہت سے لوگوں کا نام محمد ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نام حضرت محمدؐ کی جگہ لے سکتا ہے) اسی دوران (520ق م) یہودیوں نے اپنی تباہ شدہ ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنا شروع کردیا۔ اور حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون کی قربانیوں کے سلسلے کو دوبارہ شروع کردیا۔ حضرت ہارون چونکہ ہیکل میں سردار کاہین تھے۔(اس لیے اُن کی اولاد ہی میں سے کوئی سردار کاہین مقرر ہوا۔) اس زمانے میں یشوع سردار کاہین تھا۔ اس طرح حضرت زکریا 520 ق م میں نبی تھے اور یشوع سردار کاہین تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ حضرت زکریا کے وسیلے یشوع کو سردار کاہین مقرر کرتے ہیں۔

اب اے یشوع سردار کاہن سُن تُو اور تیرے رفیق جو تیرے سامنے بیٹھے ہیں۔ وہ اس بات کا ایماہیں کہ میں اپنے بندہ یعنی شاخ کو لانے والا ہُوں ۔
کیونکہ اُس پتھر کو جو میں نے یُشوع کے سامنے رکھا ہے دیکھ اُس پر سات آنکھیں ہیں۔ دیکھ میں اس پر کندہ کروں گا ربُ الافواج فرماتا ہے اور میں اس مُلک کی بدکرداری کو ایک ہی دن میں دُور گا۔                                                                                                                                                   زکریاہ 3: 8-9

شاخ ایک بار پھر! لیکن اس بار اس کے لیے لفظ میرے خادم لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور اس طرح سردار کاہین یشوع اس شاخ کی مشابہت ہے۔ سردار کاہین یشوع کیسے ایک نشان ہے؟ اور اس کا کیا مطلب ہے کہ ایک ہی دن میں خداوند تمام گناہوں کو دور کردے گا۔(میں مٹا دونگا۔ ۔ ۔ ) ہم حضرت زکریا کی بات کو جاری رکھیں گے اور حیرت انگیز احقاق جانتے جائیں گے۔

9 پھر خُداوند کا کلام مُجھ پر نازل ہوا۔
10 کہ تُو آج ہی خلدی اور طُوبیاہ اور یدعیاہ کے پاس جا جو بابل کے اسیروں کی طرف سے آ کر یُوسیاہ بن صفنیاہ کے گھر میں اُترےہیں۔
11 اور اُن سے سونا چاندی لے کر تاج بنا اور یشوع بن یہُوصدق سردار کاہن کو پہنا۔
12 اور اُس سے کہہ کہ کہ ربُ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ وہ شخص جس کا نام شاخ ہے اُس کے زیر سایہ خُوش حالی ہو گئی اور وہ خُداوند کی ہیکل کو تعمیر کرے گا۔

                                                                                                                                    زکریا 6: 9-12

یاد رکھیں یہاں یشوع کا نام شاخ ہے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ کو یاد ہوگا جب ہم نے “ترجمہ اور لفظی ترجمہ کے بارے میں سیکھا تھا۔ ہم نے انگریزی ترجمہ پڑھا ہے اس لیے یہاں لفظ “یشوع” آیا ہے۔لیکن اصل زبان عبرانی میں کون سا لفظ یا آیا ہے؟ مندرجہ ذیل تصویر ہمیں بتاتی ہے۔

یشوع = یسوع دونوں عبرانی زبان سے ترجمہ ہوئے ہیں
یشوع = یسوع دونوں عبرانی زبان سے ترجمہ ہوئے ہیں

جب ہم  حصے اول 1 کی طرف سے حصے تیسرے 3 کی طرف جاتے ہیں۔ (تو ہم کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ “مسیحا” یا “مسیح” کہا سے آیا؟) ہم دیکھ سکتے ہیں کہ لفظ  “یشوع” عبرانی لفظ ‘Yhowshuwa’ “یشوع” سے آیا۔ یہ نام  ‘Joshua’ اُس وقت ترجمہ ہوا جب پرانے عہد نامے کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا۔ اس کے علاوہ اس بات کو بھی یاد رکھیں کہ تورات شریف کا یونانی میں ترجمہ 250 ق م میں ہوا تھا۔جب ہم حصہ نمبر 1 سے حصہ نمبر 2 کی طرف جاتے ہیں۔ تو ان مترجمین نے عبرانی سے یونانی میں نام  “Yhowshuwa” کو ترجمہ کیا۔ اُن کا یونانی ترجمہ “عیسوس” Iesous” تھا۔  اس طرح عبرانی کے پرانے عہد نامے کا ترجمہ جب یونانی میں ہوا تو عبرانی کے لفظ “Yhowshuwa” کا ترجمہ یونانی میں Iesous “عیسوس” ہوا۔جب یونانی کے نئے عہد نامے کا ترجمہ انگریزی زبان میں ہوا تو اُس کے یونانی نام Iesous” کا انگریزی میں “Jesus” اور اردو میں یسوع ہوا۔ دوسرے الفاظ میں مسیح =مسیحا =کرائسٹ  / مسیح =ممسوع۔

                                          ( یشوع = عیسوس = جوشوا = یسوع (= عیسیٰ

‘Yhowshuwa’ = Iesous = Joshua = Jesus (= Isa)

اسی طرح یہ تمام نام Muhammad  =محمد ،Joshua  =یسوع کیسی زبردست بات ہے کہ ہر کسی کو اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے 500 سال پہلے حضرت زکریا نے کہ اُس شاخ کا نام یسوع (عربی میں عیسیٰ) ہوگا۔ یسوع (عیسیٰ) شاخ ہے۔ شاخ اور مسیح دو القاب ایک ہی شخص کے ہیں۔ لیکن کیوں اُن کو دو مختلف ناموں کی ضرورت تھی؟ وہ کیا کرنے جارہاتھا۔ جس کی اس قدر اہمیت تھی؟ زبور شریف کے انبیاء اکرام کے بارے میں مزید جاننے کے لیے زبور شریف کے اگلے مضمون کو پڑھیں۔

بنیادی بات

حضرت عیسیٰ مسیح کا نام الکتاب میں عیسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا نام زبور شریف میں “مسیح” پیشن گوئی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

نئے عہد کا نشان

ہم نے حضرت یرمیاہ نبی کے پچھلے مضمون میں دیکھا ہے کہ گناہ، ہماری پیاس کی علامت ہے. اگرچہ ہم کو معلوم ہے کہ گناہ ایک پاپ ہے اور ہمیں شرمندگی کی طرف کھینچتا جاتا ہے۔ اور اسی طرح ہماری پیاس ہمیں مسلسل گناہ کی طرف لیے جاتی ہے۔ حضرت یرمیاہ نبی اللہ تعالیٰ کے فیصلہ (عدالت) سے پہلے اسرائیلی بادشاہوں کی اختتامی دور میں برپا ہوئے۔جس میں گناہ کا دور دورہ تھا

 حضرت یرمیاہ نبی(600 ق م) میں اسرائیل پر نازل ہوئے۔ لیکن ہزار سال پہلے حضرت موسیٰ کے وسیلے سے شریعت کا قانون قوم بنی اسرائیل کو مل چکا تھا

اسرائیلیوں کی زندگی ناکام ہوگئی تھی.اُنہوں نے شریعت کی پیروی نہ کی اور اس لیے اُن کی عدالت قومی سطح پر ہوئی۔ مذہب نے اللہ تعالیٰ اور پیاسے لوگوں دونوں کو نااُمید کیا۔لیکن حضرت یرمیاہ جو خدا کی عدالت سے آگاہ کرنے کے لیے نازل ہوئے تھے۔ اُس کے پاس ایک اور بھی پیغام تھا۔ کہ مستقبیل  میں کسی روز کچھ ہوگا۔ یہ کیا تھا جس جس کے بارے میں نبی نے ہمیں بتایا۔

31 دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے جب میں اِسراؔ ئیل کے گھرانے اور یہوداہؔ کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندھونگا ۔
32 اُس عہد کے مطابق نہیں جو میں نے اُنکے باپ دادا سے کیا جب میں اُنکی دستگیری کی تاکہ اُنکو ملک مصرؔ سے نکال لاؤں اور اُنہوں نے میرے اُس عہد کو توڑا اگرچہ میں اُنکا مالک تھا خداوند فرماتا ہے ۔
33 بلکہ یہ وہ عہد ہے جو میں اُن دنوں کے بعد اِسراؔ ئیل کے گھرانے سے باندھونگا ۔ خداوندفرماتا ہے میں اپنی شریعت اُنکے باطن میں رکھو نگا اور اُنکے دِل پر اُسے لکھونگا اور میں اُنکا خدا ہونگا اور وہ میرے لوگ ہو نگے۔
34 اور وہ پھر اپنے اپنے پڑوسی اور اپنے اپنے بھائی کو یہ کہکر تعلیم نہیں دینگے کہ خداوند کو پہچانو کیونکہ چھوٹے سے بڑے تک وہ سب مجھے جانینگے خداوند فرماتا ہے اِسلئے کہ میں اُنکی بدکرداری کو بخش دونگا اور اُنکے گناہ کو یا د نہ کرونگا ۔                                           یرمیاہ 31: 31-34

پہلا عہد حضرت موسیٰ کے وسیلے دیا گیا۔ یہ شریعت (عہد) ناکام ہوگئی اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ شریعت میں کچھ خرابی تھی۔ بلکہ شریعت تو اچھی تھی۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ قانون صرف پتھر کی تحتیوں پر لکھا تھا.لوگوں اپنے دلوں میں پیاس کی وجہ سے شریعت کی پیروی کرنے میں ناکام رہے۔مسئلہ یہ نہیں تھا کہ شریعت لکھی ہوئی تھی۔ لیکن مسئلہ کی جڑ یہ تھی جہاں یہ شریعت لکھی ہوئی تھی۔ شریعت کو لوگوں کے دلوں پر لکھا جانا چاہیے تھا نہ کہ تختیوں پر تاکہ لوگ اس کی اطاعت کرتے۔ اور لوگوں کی پیاس بجھ جاتی۔

لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے۔کیا وہ شریعت کی فرمانبرادری نہ کرسکے اس لیے کہ وہ یہودی تھے؟بہت سے لوگ بہت سی وجوہات کو لیے کر یہودیوں کو اس ناکامی کا زمہ دار ٹھہراتے ہیں۔لیکن اس نقطہ پر ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیونکہ قیامت کے روز ہم نے اپنی ناکامی اور اپنی کامیابی کا حساب اللہ تعالیٰ کو دینا ہوگا۔ ہم دوسرے لوگوں کے زمہ دار نہیں ہونگے۔ جس طرح آپ اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو کیا آپ اس بات کو جانتے ہیں کہ “کیا آپ نے شریعت کی مکمل طور پر اطاعت کی ہے؟” کیا یہ آپ کے دل پر لکھے ہوئے ہیں۔ تاکہ آپ کے اندر اُسکی اطاعت کی قوت ہو؟ اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آپ اُس ساری شعریعت پر عمل کر رہیں جس کی ضرورت ہے۔ تو اس سلسلے میں آپ کو حضرت عیسیٰ کی تعلیم کی روشنی میں غور کرنا چاہیے۔ یا پھر یہ اسی طرح ہے جیسے حضرت یرمیاہ کے دور میں اسرئیلیوں کی حالت تھی۔ کہ شریعت تو اچھی ہے لیکن یہ پتھر کی تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ جس سے آپ کو کوئی اطاعت کی  قوت نہیں ملتی تھی؟ اس سے مراد یہ نہیں تھا کہ کبھی شریعت کی اطاعت کرلی اور کبھی نہ۔ یاد رکھیں جو معیار ہمیں حضرت موسیٰ سے ملا۔ کہ ہمیں ساری شریعت کی ہر وقت اطاعت کرنی ہے۔

اگر آپ اس بات میں قائل ہو جاتے ہیں کہ آپ نے شریعت کی مکمل طور پر اطاعت نہیں کرسکے۔اور اگر آپ اپنے اعمال کے بارے میں شرم محسوس کرتے ہیں، تو اپنے دل اللہ تعالیٰ کی رحمت میں لے لیں۔مندرجہ بالا آیات میں ایک نئے عہد کا وعدہ کیا گیا ہے۔ حضرت یرمیاہ نے فرمایا کہ ایک دن مستقبل میں یہ عہد کیا جائے گا۔ یہ نیا عہد مختلف ہوگا کیونکہ یہ لوگوں کے دلوں میں لکھا ہوا ہوگا۔ جو اُن کو اس کی اطاعت کرنے کی صلاحیت بخشے گا۔

لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نیا عہد “اسرائیل کے گھرانہ” کے لیے ہے۔ جو یہودی ہیں۔ہم اس کو کیسے سجمھ سکتے ہیں؟ایسا لگتا ہے کہ کئی بار یہودی لوگوں حالت قابلِ رحم اور کئی بار اُنکی حالت بہتر ہوتی ہے۔یہاں پر ایک اور زبور شریف کے عظیم نبی یسعیاہ (جنہوں نے کنواری سے پیدا ہونے والے مسیح کی پیشن گوئی کی ہے۔)یہ اور پیشن گوئی ہے جو حضرت یرمیاہ کی پیشن گوئی سے ملتی ہے۔ یہ دونوں نبییوں کے درمیان 150 سال کا فرق ہے۔ (جس طرح آپ نبیوں کے ٹائم لائن بھی دیکھ سکتے ہیں) یہ دونوں ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ اور نہ ہی اُس پیغام کو جو دیا گیا تھا۔ اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان کو یہ پیغام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا۔

تاریخی ٹائم لائن حضرت یرمیاہ
تاریخی ٹائم لائن حضرت یرمیاہ

حضرت یرمیاہ کو دوسرے زبور شریف کے بنیوں کے ساتھ ٹائم لائن میں دیکھایا گیا ہے۔ حضرت یسعیاہ مستقبیل میں آنے والے خادم کی بارے میں پیشن گوئی کرتے ہیں جو درج ذیل ہے۔

5 چونکہ میں خدا کی نظر میں جلیل القدر ہوں اور وہ میری توانائی ہے اس لیے وہ جس نے مجھے رَحِم سے ہی بنایا تاکہ اسکا خادم ہو کر یعقوب کو اسکے پاس واپس لاؤں اوراسرائیل کو اس کے پاس جمع کروں یوں فرماتا ہے۔
6  ہاں خداوند فرماتا ہے کہ یہ تو ہلکی سی بات ہے کہ تو یعقوب کے قبائل کو برپا کرنے اور محفوظ اسرائیلیوں کو واپس لانے کے لیے میرا خادم ہو

بلکہ میں تجھ کو قوموں کے لیے نور بناونگا کہ تجھ سے میری نجات زمین کے کناروں تک پہنچے۔

                                                                                               یسعیاہ 49: 5-6

دوسرے الفاظ میں یہ آنے والا خادم اللہ تعالیٰ کی نجات کو غیر یہودیوں (یعنی غیر قوموں) تک لے جائے گا۔ تاکہ نجات زمین کے اختتام تک پہنچ جائے۔ یہ آنے والا خادم کون ہے؟ وہ اس کام کو کیسے کرے گا؟ اور کیسے یہ نیاعہد لوگوں کے دلوں پر لکھا جائے گا نہ کہ پتھر کی تختیوں پر جس کی حضرت یرمیاہ نے پیشن گوئی کی تھی۔ہم ان سوالوں کے جواب کے لیے زبور شریف کی پیشن گوئیوں کو جاری رکھیں گے۔