حضرت موسیٰ کی تورات نے عیسیٰ ال مسیح کی بابت کسطرح نبوت کی ؟

انجیل شریف اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی مصلوبیت اور قیامت یہ دونوں اللہ کے مرکزی منصوبوں میں سے تھا — نبی کی قیامت کے ٹھیک 50 دنوں کے بعد پطرس جو شاگردوں کا رہنما تھا ،عیسیٰ ال مسیح کی بابت اس اعلان کو سرعام لوگوں کی بھیڑ میں اٹھایا :   

 

۲۳ جب وہ خُدا کے مُقررّہ اِنتظام اور عِلِم سِابق کے مُوافِق پکڑوایا گیا تو تُم نے بے شرع لوگوں کے ساتھ سے اُسے مصلُوب کروا کر مار ڈالا ۔ ۲۴ لیکن خُدا نے مَوت کے بندکھول کر اُسے جِلایا کیونکہ مُمکن نہ تھا کہ وہ اُس کے قبضہ میں رہتا ۔

2:23-24 اعمال

پطرس کے پیغام کے بعد ہزاروں لوگ مسیح پر ایمان لے آ ے  اور اس زمانے کی دنیا کے چاروں طرف کے لوگوں نے کلام کو قبول کیا – ان سب پر کسی طرح کا دباؤ یا زبردستی نہیں تھی – اتنی زیادہ تعداد میں کلام کے پھیلنے کا سبب تورات اور زبور کے نبیوں کی کتابیں تھیں جو صدیوں سال پہلے لکھی گیئ تھیں – لوگوں نے ان صحیفوں کی جانچ پڑتال کی کہ نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی آمد ، موت اور قیامت کیا سچ مچ کلام کے مطابق تھے کہ نہیں – یہی لا تبدیل صحیفے (کلام کے حصّے اج بھی دستیاب ہیں تاکہ ہم بھی انکی تحقیقات کریں اور دیکھیں کہ کیا یہ چیزیں خدا کے آزاد منصوبہ اور خدا کے علم پشین کے مطابق تھیں جس طرح پطرس نے        اعلان کیا تھا-–  یہاں ہم ان باتوں کا خلاصہ پیش کر تے ہیں جو انجیل کے پہلے سامعین تورات سے غور طلب فرمایا تھا ، جس میں پیچھے کا بیان حضرت آدم اور چھے دن کی تخلیق شامل تھی ،

      "… وہ  ہر دن کتاب مقدّس میں تحقیق کرتے تھے …    

اعمال 11 :17

وہ بڑ ی ہوشیاری سے کتاب مقدّس کی تحقیق کرتے تھے کیونکہ رسولوں کی طرف سے د یا گیا  پیغام انکے لئے عجیب اور نیا تھا – مگر دوسری طرف وہ لوگ تھے جو مخالف تھے – انہوں نے کہا –ہمارے لئے یہ تعصّب پیدا کرتا ہے کہ ہم اس پیغام کا انکار کریں جو ہمارے کانوں کے لئے نیا اور عجیب ہے – ہم یہ سب کرتے ہیں ، پر اگر یہ پیغام الله کی طرف سے تھا ہوتا ،اور اگر وہ اسکا انکار کرتے تو سورہ ال – غاشیہ (سورہ 8 8 بے پناہ ) کی چتونی ان کے اوپر  آ یگی –      

 مگر جو رُوگردانی کرے اور کفر کرےo

 تو اسے اللہ سب سے بڑا عذاب دے گاo

 بیشک (بالآخر) ہماری ہی طرف ان کا پلٹنا ہےo

 پھر یقیناً ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب (لینا) ہےo

 88:23-26سورہ ال –غاشیہ

 فیصل کرنےکا یقینی راستہ وہ جانتے تھے کہ اگر یہ غیر معروف پیغام اللہ کی جانب سے تھا یا نہیں تھا تاکہ جانچیں کہ پیغام نبیوں کی تحریروں کے خلاف تو نہیں – یہ انھیں الله کی طرف سے پیغام کو انکار کرنے  کے خمیازے سے محفوظ رکھےگا – ہمارے لئے یہ عقلمندی ہوگی کہ انکے نمونے کا پیچھا کریں تاکہ کتاب مقدّس کی جانچ کریں یہ دیکھنے کے لئے کہ اگر نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی موت اور قیامت کا پیغام پہلے کی صحیفوں میں پہلے سے مقرّر تھا کہ  نہیں—ہم تورات کے ساتھ شرو ع کرتے ہیں –   

 الله کی علم پیشین تورات شریف کے شرو ع سے اور قرآ ن شریف میں ظاہر کردی گیئ تھی 

تورات شریف کے پہلے صفحے سے ہی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عیسیٰ ال مسیح کے ایّام اور انکی قربانی الله کے ذرئیے پہلے ہی سے واقفیت میں تھی – تمام مقدّس کتابوں (تورات شریف ، زبور شریف ، انجیل شریف اور قران شریف میں صرف دو ہفتوں کا ذ کر پایا جاتا ہے جس میں ہفتے کے ہر ایک دن کے واقعیات کو مسلسل طریقے سے بیان کیا گیا ہے – ایسا پہلے ہفتے کا بیان کہ کس طرح الله نے ہر ایک چیزکو چھ دنوں میں بنایا اسکو تورات شریف کے پہلے دو ابواب میں پیش کیا گیا ہے – غور کریں کی قران شریف بھی تخلیق کے چھ دنوں کی بابت زور دیتا ہے –   

. بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی کائنات) کو چھ مدتوں (یعنی چھ اَدوار) میں پیدا فرمایا پھ(اپنی شان کے مطابق) عرش پر استواء (یعنی اس کائنات میں اپنے حکم و اقتدار کے نظام کا اجراء) فرمایا۔ وہی رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے (درآنحالیکہ دن رات میں سے) ہر ایک دوسرے کے تعاقب میں تیزی سے لگا رہتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے (سب) اسی کے حکم (سے ایک نظام) کے پابند بنا دیئے گئے ہیں۔ خبردار! (ہر چیز کی) تخلیق اور حکم و تدبیر کا نظام چلانا اسی کا کام ہے۔ اللہ بڑی برکت والا ہے جو تمام جہانوں کی (تدریجاً) پرورش فرمانے والا ہےo

7:54سورہ ال – اعراف

. جس نے آسمانی کرّوں اور زمین کو اور اس (کائنات) کو جو ان دونوں کے درمیان ہے چھ اَدوار میں پیدا فرمایا پھر وہ (حسبِ شان) عرش پر جلوہ افروز ہوا (وہ) رحمان ہے، (اے معرفتِ حق کے طالب!) تو اس کے بارے میں کسی باخبر سے پوچھ (بے خبر اس کا حال نہیں جانتے)o

25:59سورہ ال – فرقان

. اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (اسے) چھ دنوں (یعنی چھ مدتوں) میں پیدا فرمایا پھر (نظام کائنات کے) عرش (اقتدار) پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ افروز ہوا، تمہارے لئے اسے چھوڑ کر نہ کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی سفارشی، سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتےo

32:4سورہ اس – سجدہ

. اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور اُس (کائنات) کو جو دونوں کے درمیان ہے چھ زمانوں میں تخلیق کیا ہے، اور ہمیں کوئی تکان نہیں پہنچیo

50:38سورہ قاف

. وہی ہے جِس نے آسمانوں اور زمین کو چھ اَدوار میں پیدا فرمایا پھر کائنات کی مسند اقتدار پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ افروز ہوا (یعنی پوری کائنات کو اپنے امر کے ساتھ منظم فرمایا)، وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں سے خارج ہوتا ہے اور جو کچھ آسمانی کرّوں سے اترتا (یا نکلتا) ہے یا جو کچھ ان میں چڑھتا (یا داخل ہوتا) ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو (اسے) خوب دیکھنے والا ہےo

57:4سورہ ال – حدید

روزانہ کے واقعیات کے ساتھ جو دوسرے  ہفتہ کا بیان ہے وہ ہے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی زندگی کا آخری ہفتہ – کوئی دوسرا نبی چاہے وہ حضرت ابراہیم ہو ، حضرت داؤد ہو یا حضرت محمّد صلّم – ان میں سے کسی کا بھی  روزانہ کے سرگرمیوں کا ایک مکمّل ہفتے کے لئے بیان نہیں کیا گیا ہے – مکمّل تخلیقی کا بیان جو تورات کے شرو ع میں ہے اسے یہاں پیش کیا گیا ہے –حضرت عیسیٰ ال مسیح کی زندگی کے آخری ہفتے کے واقعیات کی بابت ہم نے پڑھا اور دیکھا ہے – یہ فہرست  ان دو ہفتوں کے ہر دن کے واقعیات کو ساتھ ساتھ موازنے کے لئے رکھتا ہے – 

ہفتے کا د نتخلیق کا ہفتہعیسیٰ ال مسیح کا آخری ہفتہ
دن 1وہاں پر تاریکی ہے اور اللہ کہتا ہے ، ‘روشنی ہوجا’  اورروشنی ہو گیئ –تاریکی میں روشنی ہے مسیح یروشلیم میں داخل ہوتے اور کہتے ہیں "…میں دنیا میں ایک روشنی بطور ہوکر آیا ہوں…”وہاں تاریکی میں روشنی ہے 
دِن 2الله آسمانوں کو زمیں سے جد ا کرتا ہےعیسیٰ زمیں کی ان چیزوں کو آسمان کی چیزوں سے مقدس کی صفائی کرتے ہوئے الگ کرتے ہیں
دن 3الله کلام کرتا ہے اور سمندر میں سسوکھی زمین نکل آتی ہے – عیسیٰ ایمان کی بات کرتے ہیں کہ  وہ پہاڑوں کو ہلا سکتا اور انھیں سمندر میں ڈبوسکتا ہے –
الله پھر سے کلام کرتا ہے ‘کہ زمینن  پیڑ پودوں کو اگاے’ اور وہ ویسا ہی ہوا عیسیٰ کلام کرتے ہیں اور انجیر کا درخت زمیں سے سوکھ جاتا ہے
دن 4الله کلام کرتا ہے ‘ آسمان میں نیّر ہوں ‘ تب سورج چاند اور ستارے آسمان میں جگمگانے لگتے ہیں –عیسیٰ ہونے زمیں پر لوٹنے کے نشانات کی بات کرتے ہیں کی ان دنوں سورج چاند اور ستارے بے نور ہو جاینگے –
دن 5الله تمام اڑنے والے پرندوں کو بناتا ہے اور رینگنے والے ڈائنا سور = اشدھاؤں کو بھی –    شیطان ، وہ بڑا اشدھا ، یہود ا اسکریوت میں سماتا ہے تاکہ مسیح کو مارے –  
دن 6الله کلام کرتا ہے اور زمیں کے جاندار وجود میں آتے ہیں –فسح کے برے اور دیگر جانور مقدس میں زبح کئے جاتے ہیں –  
 ‘خداوند خدا … نے آدم کے نتھنوں میں دم پھونکا’- اور آدم جیتی جان ہوا  –ایک اونچی آواز کے ساتھ یسوع چللاۓ اور اپنا آخری دم دے دیا ” (مرقس37 :15)
الله آدم کو باغ عدن میں رکھتا ہےعیسیٰ اپنی آزاد مرضی سے گتھسمنی کے باغ  میں داخل ہوتے ہیں –  
آدم کو ایک لعنت کے ساتھ نیک و بد کی پہچان کے درخت سے دور رہنے کے لئے خبردار کیا گیا –  عیسیٰ کو ایک درخت کے تنے پر میخوں سے جڑ دیا گیا –(گلتیوں 13 :3 )
کوئی بھی جانور آدم کے لایق نہیں  پایا گیا کہ اسکا ساتھی بنے –    اسکودوسرے شخص کی ضرورت تھی  –فسح کے جانوروں کی قربانیاں کافی نہیں تھے –ایک شخص کی ضرورت تھی – (عبرانیوں 5-4 :10
الله نے آد م  کو ایک گہری نیند میں سلا دیا –  عیسیٰ موت کی گہری نیند میں سو جاتے ہیں –
الله آدم کی پسلی میں ایک زخم کرتا ہے اور اس سے حوا کو بناتا ہے –اسطرح آدم کی دلہن تییار ہوتی ہے –عیسیٰ کی پسلی میں ایک زخم دیا گیا – اس کی قربانی سے عیسیٰ ایک دلہن کو جیت لیتے ہیں – یعنی کہ اس کے اپنے لوگ – (مکاشفہ 9 :21 )
دن 7الله اپنے کاموں سے فرصت پاکر آرام کرتا ہے – اس دن  کے پاک ہونے کا اعلان کرتا ہے  عیسیٰ ال مسیح موت کی حالت میں آرام فرماتے ہیں –

ان دو ہفتوں کے لئے ہر دن کے واقعیات ایک دوسرے کے آئینے کی عکس کی طرح ہیں – ان میں مناسبت پایا جاتا ہے – ان دونوں ہفتوں کے آخر میں ، نی زندگی کے پہلے پھل پھٹنے اور ایک نیا مخلوق بن کر پھلنے پھولنے کے لئے تییار ہیں – حضرت آدم اور عیسیٰ ال مسیح ایک دوسرے کی برعکس تصویریں ہیں – قران شریف حضرت عیسیٰ ال مسیح اوراور حضرت آدم کی بابت کہتا ہے :

. بیشک عیسٰی (علیہ السلام) کی مثال اللہ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی سی ہے، جسے اس نے مٹی سے بنایا پھر (اسے) فرمایا ’ہو جا‘ وہ ہو گیاo

انجیل شریف آدم کی بابت کہتی ہے

… آد م جو آنے والے کا مثیل تھا –

رومیوں 14 :5

اور —

 

۲۱ کیونکہ جب آدمی کے سبب سے مَوت آئی تو آدمی ہی کے سبب سے مُردوں کی قیامت بھی آئی۔ ۲۲ اور جیسے آدم میں سب مرتے ہیں وَیسے ہی مسِیح میں سب زِندہ کِئے جائیں گے۔

15:21-22 1 کرنتھیوں

ان دو ہفتوں کا موازنہ کرنے کے ذرئیے ہم دیکھتے ہیں کہ آدم حضرت عیسیٰ ال مسیح کا ایک برعکس نمونہ تھا – ا کائنات کی تخلیق کے لئے الله کو چھ دنوں کی ضرورت تھی ؟ کیا وہ ان سب کی تخلیق ایک ہی حکم کے ساتھ نہیں کر سکتا تھا ؟ اسنے اس طریقے سے تخلیق کیوں کی جس طریقے سے ہم کتاب مقدّس میں پڑھتے ہیں ؟ الله نے ساتویں دن آرام کیوں کیا جبکہ وہ تھکا ہوا نہیں تھا ؟ وہ تخلیق کے کاموں کو اس بطور تنظیم و ترتیب سے انجام دیتا ہے کہ نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے آخری ہفتے کی سرگرمیاں تخلیقی ہفتے کے روزانہ کے کاموں میں استعمال میں لایا جا سکے – یہ خاص طور سے چھ دن کے لئے سچ ہے  – ہم نمونے کو براہ راست کلام میں دیکھ سکتے ہیں – مثال کے طور پر یہ کہنا کہ ‘عیسیٰ ال مسیح مر گئے ‘ ، انجیل شریف کہتی ہے ، ‘انہوں نے آخری دم لیا’ – یہ تھا ایک براہ راست حضرت آدم کے برعکس نمونہ جسنے زندگی کا دم حاصل کیا تھا – اس طرح کا نمونہ جو زمانے کے شرو ع سے تھا یہ ‘علم پیشین’ کو ظاہر کرتا ہے  جس طرح سے پطرس نے عیسیٰ ال مسیح کی قیامت کے بعد اپنے خط میں تحریر کیا –      

تورات میں بعد کے واقعیات کی تمثیلیں 

تو پھر تورات شریف خاص واقعیات کا بیان کرتی ہے اور دستوریں قائم کرتی ہے جو تصوّر بطور جونبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی آنے والی قربانی کی تصویر پیش کرتی ہے – یہ اس لئے پیش کیں گئے کہ الله کے منصوبہ کے علم پیشین کو سمجھنے میں ہماری مدد ہو سکے – ہم نے ان میں سے کچھ میل کے پتھروں کو دیکھا –ذیل کی فہرست ان کا خلاصہ کرتی ہے جو ان بڑی نشانیوں کو جوڑتی ہے جن کو نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح سے  ایک ہزار سال پہلے لکھا گیا تھا –

تورات سے نشانیآنے والی عیسیٰ ال مسیح کی قربانی کو یہ کس طرح ظاہر کرتی ہے
آدم کی نشانیجب الله نے آدم کی نا فرمانی کے بعد اسکا سامنا کیا تو اسنے ایک نسل مرد کی بات کہی جو (صرف) ایک عورت سے آنے والا تھا (یعنی ایک کنواری سے جنما) یہ نسل شیطان کو کچلیگا مگر وہ خود بھی اس طریق عمل میں مارا جاےگا –  
قابیل اور ہابیل کی نشانیایک موت کی قربانی کی ضرورت تھی – مگرقابیل نے سبزی ترکاریوں کا ہدیہ پیش کیا (جن میں جان نہیں تھی مگر ہابیل ننے ایک جانور کی زندگی کا ہدیہ پیش کیا – اس کو الله نے قبول کیا –یہ نبی عیسیٰ ال مسیح کی قربانی کے لئے ایک منصوبے کی مثال پیش کرتی ہے –  
  حضرت ابراہیم کی قربانی کی نشانی یہ تصویر اور تفصیل کو بتوڑتی ہے جس طرح سے ایک مقرّرہ مقام جہاں نبی حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی دی تھی وہ ہو بہو وہی مقام تھا جہاں ہزاروں سال بعد عیسیٰ ال مسیح قربان ہونے جا رہے تھے  اور حضرت ابراہیم نے اس مستقبل کی قربانی کی بابت پیش بینی کی تھی – حضرت ابراہیم کے بیٹے کو مرنا چاہئے تھا مگر آخری لمحے میں ایک مینڈھا اسکی جگہ پر قربان ہوا تاکی بیٹا زندہ رہ سکے –یہ تصویر پیش کرتی ہے کہ کس طرح عیسیٰ ال مسیح خدا کا برّہ بطور خود کو قربان کیا تاکہ ہم زندہ رہ سکیں    
موسیٰ کے ف سح کی نشانی   الله کے منصوبے کو آگے کی تفصیل میں اس طرح ظاہر کیا گیا ہے جب کسی خاص دن – فسح پر برروں کو قربان کیا جاتا ہے –مصر کے فرعون نے برہ  کی قربانی نہیں دی اور اسنے موت کا تجربہ کیا –مگر بنی اسرائیل جنہوں نے برّہ کی قربانی دی وہ موت سے بچ گئے – صدیوں سال بعد عیسیٰ ال مسیح اسی دن یعنی کلنڈ ر کے مطابق – فسح کے دن کے موقع پر –     
  ہارون کی قربانی کی نشانیحضرت ہارون جانوروں کی ایک خاص رسمی قربانی کو انجام دیتے ہیں –بنی اسرائیل جنہوں نے گناہ کیا تھا وہ اپنے گناہ کے کفا رے کے لئےقربانی کو انجام دیتے تھے کیونکہ اس کے لئے موت کی قربانی کی ضرورت تھی –ان قربانیوں کو صرف سردار کاہن ہی لوگوں کی خاطر انجام دیتا تھا – یہ توقع  صرف عیسیٰ ال مسیح سےکیا جا سکتا تھا کیونکہ وہ اپنے کردار میں کاہن بطور ہوکر ہمارے لئے اپنی جان کی قربانی دی –  

اسلئے کی حضرت موسیٰ نبی کی تورات صاف طور سے حضرت عیسیٰ ال مسیح کے آنے کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ :

 ۱ کیونکہ شرِیعت جِس میں آیندہ کی اچھّی چِیزوں کا عکس ہے اور اُن چِیزوں کی اصلی صُورت نہیں اُن ایک ہی طرح کی قُربانیوں سے جو ہر سال بِلاناغہ گُذرانی جاتی ہیں پاس آنے والوں کو ہرگِز کامِل

نہیں کرسکتی(10:1عبرانیوں

اور حضرت عیسیٰ ال مسیح نے انھیں چتونی دی جنہوں نے انکے آنے کے مقصد پر اعتقاد نہیں کیا –

 

۴۳ میَں اپنے باپ کے نام سے آیا ہُوں اور تُم مجُھے قبُول نہیں کرتے-اگر کوئی اَور اپنے ہی نام سے آئے تو اُسے قبُول کر لو گے- ۴۴ تُم جو ایک دُوسرے سے عِزّت چاہتے ہو اور وہ عِزّت جو خُدایِ واحِد کی طرف سے ہوتی ہے نہیں چاہتے کیونکر اِیمان لاسکتے ہو؟- ۴۵ یہ نہ سمجھو کہ میَں باپ سے تُمہاری شکایت کُرونگا-تُمہاری شکایت کرنے والا تو ہے یعنی مُوسٰی جِس پر تُم نے اُمید لگا رکھّی ہے- ۴۶ کیونکہ اگر تُم مُوسٰی کا یقِین کرتے تو میرا بھی یقِین کرتے-اِس لِئے کہ اُس نے میرے حق میں لِکھّا ہے- ۴۷ لیکن جب تُم اُس کے نِوشتوں کا یقِین نہیں کرتے تو میری باتوں کا کیونکر یقِین کرو گے؟

5:43-47 یوحّنا

عیسیٰ ال مسیح نے اپنے شاگردوں سے یہ بھی کہا کی لوگوں کی مدد کریں کہ وہ انکے مشن کو سمجھیں –

 ۴۴ پھِر اُس نے اُن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہے جو مَیں نے تُم سے اُس وقت کہِیں تھِیں جب تُمہارے ساتھ تھا کہ ضرُور ہے کہ جِتنی باتیں مُوسیٰ کی توریت اور نبِیوں کے صحِیفوں اور زبُور میں میری بابت لِکھی ہیں پُوری ہوں۔

24:44 لوقا

نبی نے صفائی سے کہا کہ نا صرف تورات بلکہ زبور کے انبیاء نے بھی اسکی بابت بہت کچھ لکھ چکے ہیں – اسکو ہمم یہاں دیکھتے ہیں – جس بطور تورات واقعیات کا استعمال کیا جو مسیح کے آنے کی مثالیں تھیں ، ان بعد کے نبیوں نے انکے آنے والی موت اور قیامت کا ذ کرمزامیر بطور کیا –   

یہاں ہم سمجھتے ہیں کہ کسطرح سے ابدی زندگی انعام کو حاصل کیا جاۓ جو نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے ذرئیے ہمارے لئے پیش کیا گیا ہے –

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے