حضرت عیسیٰ المسیح کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے آئے۔

اکثر مذہبی لوگ ان لوگوں سے الگ رہنا پسند کرتے ہیں۔ جو مذہبی نہیں ہوتے۔ تاکہ وہ اُن غیر مذہبی لوگوں کی وجہ سے ناپاک نہ ہوجائیں۔ یہ سچ ہے۔ حضرت عیسیٰ المسیح کے زمانے میں شریعت کے استاد ایسا ہی کرتے تھے۔ وہ ہر وقت کوشش کرتے تھے کہ ناپاک چیزوں سے دور رہیں تاکہ وہ پاک صاف رہ سکیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ المسیح نے سیکھا کہ ہماری پاکیزگی اور صفائی ہمارے دل کا معاملہ ہے۔ اس لیے حضرت عیسیٰ اُن لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا چاہتے تھے۔ جو رسمی طور پر پاک نہیں تھے۔۔ یہاں پر انجیل پاک میں شریعت کے استادوں اور گنہگاروں کے بارے میں یوں بیان کرتی ہے۔

‘سب محصُول لینے والے اور گُنہگار اُس کے پاس آتے تھے تاکہ اُس کی باتیں سُنیں اور فریسی اور فقِیہہ بُڑبُڑا کر کہنے لگے کہ یہ آدمی گُنہگاروں سے مِلتا اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتا ہے  لُوقا 15: 1-2

لہذا حضرت عیسیٰ المسیح کیوں گنہگاروں کا خیر مقدم کرتے اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتے تھے؟ کیا آپ اُن کے گناہ سے لطف اندوز ہوتے تھے؟ نبی اپنے تنقید کرنے والوں کو تین کہانیوں کے زریعے جواب دیتے ہیں۔

کھوئی ہوئی بھیڑ کی مثال

‘اُس نے اُن سے یہ تمثِیل کہی کہ3 تُم میں کَون اَیسا آدمی ہے جِس کے پاس سَو بھیڑیں ہوں اور اُن میں سے ایک کھو جائے تو نِنانوے کو بیابان میں چھوڑ کر اُس کھوئی ہُوئی کو جب تک مِل نہ جائے ڈُھونڈتا نہ رہے؟4 پِھر جب مِل جاتی ہے تو وہ خُوش ہو کر اُسے کندھے پر اُٹھا لیتا ہے5 اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسِیوں کو بُلاتا اورکہتا ہے میرے ساتھ خُوشی کرو کیونکہ میری کھوئی ہُوئی بھیڑ مِل گئی6 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح نِنانوے راست بازوں کی نِسبت جو تَوبہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک تَوبہ کرنے والے گُنہگارکے باعِث آسمان پر زِیادہ خُوشی ہو گی7  لُوقا 15: 3-7

اس کہانی میں حضرت عیسیٰ المسیح ہم کو بھیڑوں سے اور خود کو چرواہے کے طور پر تشبی دیتے ہیں۔ جس طرح ایک چرواہا کھوئی ہوئی بھیٹر کی تلاش میں جاتا ہے۔ اُس طرح آپ کھوئے ہوئے لوگوں کی تلاش کرتے ہیں۔ شاید وہ کسی گناہ کے جرم میں پکڑا گیا ہو۔ حتاکہ وہ گناہ اتنا حفیہ ہو کہ آپ کے خاندان کو بھی پتہ نہ ہو یا آپ کو اپنے آپ کو بھی پتہ نہ ہو۔ اس گناہ کا ایسا احساس کہ آپ خود میں کھوئے معلوم ہوں۔ لیکن اس کہانی میں ایک اُمید پائی جاتی ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ المسیح خود آپ کی تلاش میں ہیں اور آپکی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آپ کو اُس نقصان سے بچانا چاہتے ہیں جو اس گناہ کی وجہ سے درپیش ہے۔

پھر آپ نے دوسری کہانی بتائی۔

کھوئے ہوئے سکے کی مثال

‘یا کَون اَیسی عَورت ہے جِس کے پاس دس دِرہم ہوں اور ایک کھو جائے تو وہ چراغ جلا کر گھر میں جھاڑُو نہ دے اور جب تک مِل نہ جائے کوشِش سے ڈُھونڈتی نہ رہے؟8 اور جب مِل جائے تو اپنی دوستوں اور پڑوسنوں کو بُلا کر نہ کہے کہ میرے ساتھ خُوشی کرو کیونکہ میرا کھویا ہُؤا دِرہم مِل گیا9 مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِسی طرح ایک تَوبہ کرنے والے گُنہگار کے باعِث خُدا کے فرِشتوں کے سامنے خُوشی ہوتی ہے 10 لُوقا 15: 8-10

اس کہانی میں ہماری قدر بتائی گئی ہے۔ لیکن اس کہانی میں ہم ایک کھوئے ہوئے سکے کی مانند ہیں اور آپ ہم کو تلاش کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سکہ گھر میں ہی کہیں کھویا ہوا ہے۔ اُس سکے کو معلوم نہیں ہے کہ وہ کھویا ہوا ہے۔ یہاں ایک عورت ہے جس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اُس کا سکہ کھوگیا ہےاور وہ اپنے گھر میں سکے کو تلاش کرتی ہے اور اُس وقت تک اطمینان کا سانس نہیں لیتی جب تک وہ اُس سکے کو تلاش نہیں کرلیتی۔ شاید آپ کو اس بات کا ‘احساس’ نہ ہو کہ آپ کھوئے ہوئے ہیں۔ لیکن حقیقت اس بات کی ہے کہ ہم سب کو توبہ کی ضرورت ہے۔ اور اگر آپ نے ابھی تک توبہ نہیں کی تو آپ کھوئے ہوئے ہیں۔ چاہئے آپ کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو۔ اور حضرت عیسیٰ المسیح کی نظر میں آپ قابلِ قدر ہیں۔ لیکن ایک کھوئے ہوئے سکے کی مانند ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آپ اپنی پہچان کو جانیں۔ وہ اس کے لیے کام کررہا ہے تاکہ آپ مکمل طور پر توبہ کریں۔ اور اپنی کھوئی ہوئی پہچان کو حاصل کریں۔

ان کی تیسری کہانی سب سے زیادہ موثر ہے۔

کھوئے ہوئے بیٹے کی مثال

‘پِھراُس نے کہا کہ کِسی شخص کے دو بیٹے تھے اُن میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا اَے باپ! مال کا جو حِصّہ مُجھ کو پہنچتا ہے مُجھے دے دے  اُس نے اپنا مال متاع اُنہیں بانٹ دِیا اور بُہت دِن نہ گُذرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کُچھ جمع کر کے دُور دراز مُلک کو روانہ ہُؤا اور وہاں اپنامال بدچلنی میں اُڑا دِیا اور جب سب خرچ کر چُکا تو اُس مُلک میں سخت کال پڑا اور وہ مُحتاج ہونے لگا پِھر اُس مُلک کے ایک باشِندہ کے ہاں جا پڑا  اُس نے اُس کو اپنے کھیتوں میں سُؤر چرانے بھیجا اور اُسے آرزُو تھی کہ جو پَھلِیاں سُؤر کھاتے تھے اُنہی سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اُسے نہ دیتا تھا پِھراُس نے ہوش میں آ کر کہا میرے باپ کے بُہت سے مزدُوروں کو اِفراط سے روٹی مِلتی ہے اور مَیں یہاں بُھوکا مَر رہا ہُوں! مَیں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اُس سے کہُوں گا اَے باپ! مَیں آسمان کا اور تیری نظر میں گُنہگار ہُؤا اب اِس لائِق نہیں رہا کہ پِھر تیرا بیٹا کہلاؤُں  مُجھے اپنے مزدُوروں جَیسا کر لے پس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا  وہ ابھی دُور ہی تھا کہ اُسے دیکھ کر اُس کے باپ کو ترس آیا اور دَوڑ کر اُس کو گلے لگا لِیا اور چُوما بیٹے نے اُس سے کہا اَے باپ! مَیں آسمان کا اور تیری نظر میں گُنہگار ہُؤا  اَب اِس لائِق نہیں رہا کہ پِھر تیرا بیٹا کہلاؤُں باپ نے اپنے نَوکروں سے کہا اچھّے سے اچّھا لِباس جلد نِکال کر اُسے پہناؤ اور اُس کے ہاتھ میں انگُوٹھی اور پاؤں میں جُوتی پہناؤ اور پَلے ہُوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تاکہ ہم کھا کر خُوشی منائیں کیونکہ میرا یہ بیٹا مُردہ تھا  اب زِندہ ہُؤا  کھو گیا تھا  اب مِلا ہے  پس وہ خُوشی منانے لگے لیکن اُس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا  جب وہ آ کر گھر کے نزدِیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سُنی اور ایک نَوکر کو بُلا کر دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا تیرا بھائی آ گیا ہے اور تیرے باپ نے پَلاہُؤا بچھڑا ذبح کرایا ہے کیونکہ اُسے بھلا چنگا پایا وہ غُصّے ہُؤا اور اندر جانا نہ چاہا مگر اُس کا باپ باہر جا کر اُسے منانے لگا اُس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا دیکھ اِتنے برسوں سے مَیں تیری خِدمت کرتا ہُوں اور کبھی تیری حُکم عدُولی نہیں کی مگر مُجھے تُو نے کبھی ایک بکری کا بچّہ بھی نہ دِیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خُوشی مناتا لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا جِس نے تیرا مال متاع کسبِیوں میں اُڑا دِیا تو اُس کے لِئے تُو نے پَلا ہُؤا بچھڑا ذبح کرایا اُس نے اُس سے کہا بیٹا! تُو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کُچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن خُوشی منانا اور شادمان ہونا مُناسِب تھا کیونکہ تیرا یہ بھائی مُردہ تھا  اب زِندہ ہُؤا کھویا ہُؤا تھا  اب مِلا ہے لُوقا 15:11-32

اس کہانی میں ہم ایک بڑے بھائی کی مانند ہیں جو ایک مذہبی ہے۔ یا تو چھوٹے بیٹے کی مانند ہیں جو گھر کو چھوڑکر بہت دور چلاگیا تھا۔ تاہم بڑئے بیٹے نے تمام مذہبی رسومات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کی لیکن اُس نے کبھی باپ کو محبت بھرے دل سے ناجانا۔ چھوٹا بیٹا گھر کو چھوڑ کر محسوس کررہا تھا کہ اُس نے آزادی حاصل کرلی ہے۔ لیکن اصل میں اُس نے بھوک اور رسوئی حاصل کی۔ پھر اُس کو اس بات کا احساس ہوا کہ وہ واپس اپنے باپ کے گھر جاسکتا ہے۔ جب وہ واپس گھر جارہا تھا۔ تو اسے اس بات کا احساس ہوا۔ کہ اس نے گھر کو چھوڑکر اُس نے بہت بڑی غلطی کی تھی۔ اور اب غلطی کو قبول کرنے کے لیے اُس کو عاجز ہونے کی ضرورت تھی۔ اس مثال میں ہمیں توبہ کے بارے میں سجھنے کی مدد کی گئی ہے۔ اور حضرت یحییٰ نے اس کے بارے میں واقعی بڑے سچے اور معنی خیز الفاظ کہے ہیں۔

جب اُس نے اپنا تکبر کو اپنے اندر سے نکال باہر پھینکا۔ اور اپنے باپ کے پاس واپس چلاگیا۔ تو اُس نے اپنے باپ کی محبت کو اپنی سوچ سے بڑھ کر پایا۔ اُس کے باپ نے اُس کو پہننے کو لباس، پاوں کے لیے نئے جوتے، انگوٹھی، ضیافت، اور برکات سے قبول کیا۔ یہ سب محبت کی زبان ہے۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہم سے اس قدر محبت رکھتا ہے۔ اور وہ چاہتا ہے کہ ہم واپس اُس کے گھر میں چلیں جائیں۔ اس کی ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم توبہ کریں۔ یہ ہی بات حضرت عیسیٰ المسیح چاہتے ہیں کہ ہم سمجھ جائیں۔ کیا آپ اس کس قسم کی محبت کو قبول کرنا چاہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے